چین میں حکام کورونا وائرس کو شکست دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، وہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام جاری ہے

چین کے مشرقی صوبےجیانگ زو کے ماہرین نے ایسی کٹ بنانے کا دعوٰی کیا ہے جو 15 منٹ کے اندر اندر کورونا وائرس کی تشخیص کر سکے گی۔

ہانگ کانگ کا ’کورونا‘ کی ویکسین بنانے کا دعویٰ

منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ انہیں جدید کٹ بنانے کا ہدف 20 جنوری کو دیا گیا تھا، جس کی کامیاب جانچ کے بعد کمپنی روزانہ 4 ہزار لوگوں کے لیے کٹس بنا سکے گیوائرس کی تشخیص کے ساتھ اس کے خاتمے کے لیے بھی ویکسین کی تیاری اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔

ادھر ہانگ کانگ کے ماہرین نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ویکسین بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس ویکسین کی انسانوں پر آزمائش سے قبل کم از کم ایک سال جانوروں پر اس کے تجربات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب چین میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے 14 صوبوں میں چھٹیاں فروری کے دوسرے ہفتے تک بڑھانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

جن صوبوں میں چھٹیاں دی گئی ہیں وہ چین کی معیشت میں 70 فیصد کے قریب حصہ ڈالتے ہیں۔

بلوم برگ سمیت مختلف میڈیا رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ چین کی دو تہائی معیشت اس ہفتے بھی بند رہے گی، کورونا وائرس کے باعث پہلی سہ ماہی میں چینی معیشت کو 60 ارب ڈالر کا خسارہ ہو سکتا ہے۔

ایک امریکی ٹی وی کے مطابق کورونا وائرس سے چین کو پہنچنے والے معاشی نقصان کا درست اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں لیکن ایک تخمینے کے مطابق چین کا گروتھ ریٹ اس سہ ماہی میں 2 فیصد تک گر سکتا ہے۔

صورتِ حال سے نکلنے کے لیے چین کو ٹیکسز اور شرح سود میں کمی کرنا ہو گی۔

…………………………..

عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او اس بات کا حامی نہیں ہے کہ چین سے لوگوں کو نکالا جائے کیونکہ اگر وہاں سے لوگوں کو نکالا جائے گا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم اس بات کا سبب بن جائیں گے کہ یہ بیماری وہاں بھی پہنچ جائے گی جہاں اب تک یہ موجود نہیں ہے۔ یہ بیماری جنگل میں آگ کی طرح پھیل سکتی ہے۔ یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے پھیلاؤ کا سبب نہ بنیں۔

امریکہ کا اپنے لوگوں کو چین سے نکالنے کے معاملے ان کا کہنا تھا کہ وہاں صرف امریکی سفارت کار جو چین کے شہر ووہان میں موجود تھے۔ ان لوگوں کو ویانا کنونشن کے تحت نکالا گیا ہے۔ سفارت کاروں کے لیے میزبان ملک پر ذمہ داری ہے کہ اگر دوسری حکومت کہے تو انہیں واپس بھجوائے تو ان کو بھیج دیا جاتا ہے لیکن ابھی بھی وہاں بہت سے امریکی شہری موجود ہیں۔

پاکستان میں اس مرض کی شناخت کے حوالے سے ظفر مرزا نے کہا کہ ہوائی اڈوں پر تھرمل اسکینرز موجود ہیں جب کہ مزید بھی منگوائے جا رہے ہیں لیکن صرف تھرمل اسکینر ہی نہیں ہمیں مزید اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے جامع منصوبہ بندی کر لی ہے۔ صوبوں کے ساتھ بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ اس بیماری کو پاکستان سے دور رکھا جائے۔

فلائٹ آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں بین الاقوامی ہیلتھ ریگولیشنز کے مطابق اب تک فلائٹس کو بند نہیں کیا گیا تاہم بعض ممالک میں سلو ڈاؤن ہوگیا ہے۔ پابندی نہ ہونے کے باوجود کچھ تعطل آیا ہے جو اس بیماری کے پھیلاؤ کے حوالے سے بہتر ہے۔ چین میں نئے سال کی تقریبات کی وجہ سے بہت کم لوگ ملک سے باہر جاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت فلائٹ آپریشنز پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان ہفتہ وار 41 پروازیں ہیں۔ ان فلائٹس کو جاری رکھا جائے گا۔ ہمارے پاس حکمت عملی موجود ہے کہ جب مسافر آئیں گے تو ان کو دیکھیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY