یمن کی سرکاری فوج نے عوامی مزاحمت کاروں کے ساتھ مل کر مغربی شہر الحدیدہ اور اس کی مرکزی بندرگاہ کو آزاد کرانے کے لیے بدھ کو علی الصبح “گولڈن وکٹری” کے نام سے عسکری آپریشن کا آغاز کیا۔ العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق یمنی فوج عرب اتحاد کی معاونت سے الحدیدہ ایئرپورٹ کے اطراف پہنچ چکی ہے جہاں اس کی حوثی باغیوں کے ساتھ شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

اس سے قبل یمنی مشترکہ فورسز نے معرکے کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد الحدیدہ شہر کے جنوب میں واقع علاقے النخیلہ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

زمینی ذرائع کے مطابق یمنی مشترکہ فورسز کا مورال بلند ہے اور وہ حوثی ملیشیا کی جانب سے کمزور مزاحمت کے بیچ پیش قدمی کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اتحادی افواج کے جنگی بحری جہازوں اور طیاروں نے الحدیدہ شہر اور اس کے اطراف باغیوں کے مختلف ٹھکانوں ، جتھوں اور کمک کو حملوں اور شدید بم باری کا نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق عرب اتحاد نے الحدیدہ شہر کے شمال میں گزر گاہیں کھول دی ہیں تا کہ لڑائی کے آغاز کے ساتھ ہی حوثی باغی وہاں سے باہر جا سکیں۔

عینی شاہدین کے مطابق الحدیدہ میں حوثی نگرانوں کے اہل خانہ فرار ہو کر صنعاء کا رخ کر رہے ہیں۔ الحوک ضلعے میں مقامی نوجوانوں نے حوثیوں کی جانب سے مقرر ضلعے کے نگراں کو اس کے محافظین کے گروپ سمیت پکڑ لیا۔

یمن میں سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے بدھ کو علی الصبح مغربی شہر الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ کو آزاد کرانے کے لیے معرکے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ فوجی آپریشن میں عرب اتحاد کی معاونت بھی حاصل ہے۔ یہ اقدام حوثی ملیشیا کی جانب سے پر امن حلوں کو قبول کرنے سے انکار کے بعد سامنے آیا۔

ایک عسکری ذریعے کے مطابق زمینی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع ہے جس میں عرب اتحاد کی جانب سے فضائی اور بحری سپورٹ شامل ہے۔ الحدیدہ شہر کی جانب ایک سے زیادہ سمت سے پیش قدمی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ شہر کے مضافات میں زور دھماکے سنے گئے ہیں۔

عسکری آپریشن کے آغاز کے ساتھ یمنی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ “الحدیدہ کی بندرگاہ سے حوثی ملیشیا کو باہر لانے کے لیے تمام تر پُر امن اور سیاسی وسائل بروئے کار لائے گئے”۔ حکومت کا کہنا ہے کہ “الحدیدہ کی آزادی حوثیوں کے سقوط کا آغاز ہو گا اور اس کے نتیجے میں آبنائے باب المندب میں بحری جہاز رانی محفوظ ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ایران کے ہاتھ بھی کٹ جائیں گے جس نے یمن کو ہتھیاروں میں غرق کر دیا اور یمنیوں کی قیمتی جانیں خون ریزی کا شکار ہوئیں”۔

یمنی فوج نے الحدیدہ شہر کے بیرونی اطراف بڑے پیمانے پر عسکری کُمک جمع کی تا کہ شہر کو آزاد کرانے کے لیے فیصلہ کن معرکہ شروع کیا جا سکے۔

ادھر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ الحدیدہ کو آزادی کرانے کے معرکے کے سلسلے میں عسکری حکمت عملی میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ کسی طور بھی شہریوں اور انفرا اسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچے۔

SHARE

LEAVE A REPLY