بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی قیادت میں وفد اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اس بات پر اتفاق ہوا ہےکہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائےگی۔
عہدیدار کے مطابق معاہدے کے تحت حماس کے تمام چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ اس کی سرنگوں کو بھی ختم کیا جائےگا تاکہ انہیں دوبارہ استعمال نہ کیا جاسکے۔
عہدیدار نے مزید کہاکہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا اور اگر حماس دوبارہ تشدد یا اسلحہ جمع کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسرائیل اس کیخلاف کارروائی کرے گا۔
نیتن یاہو کا حماس کے غیر مسلح ہونے سے پہلے غزہ سے اسرائیلی فوج نکالنے سے انکار
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کو ناں کردی، اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے حماس کے غیر مسلح ہونے سے پہلے غزہ سے اسرائیلی فوج کو نکالنے سے انکار کردیا۔
اس سے پہلے حماس جیرڈ کُشنر کو باور کراچکا ہےکہ وہ غیر مسلح ہونے کو تیار ہے لیکن پہلے اسرائیل کو غزہ سے فوج نکالنی ہوگی، اسرائیل کی طرف سے غزہ امن معاہدہ مسترد کیے جانےکے بعد جیرڈ کُشنر معاہدے کی بحالی کے مشن پر ہیں۔
نیتن یاہو کے پاس آنے سے پہلے جیرڈ کُشنر نے حماس کے خلیل الحیہ سے ملاقات کی تھی













