ترکی کی فوج اور اس کے حامی شامی جنگجووں نے اتوار کو عفرین کا قبضہ شامی کرد جنگجووں سے چھیننے کا دعویٰ کیا تھا جو شام کے شمال مغرب میں ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔
ترکی کے زیرِ قبضہ شام کے قصبے عفرین میں ہونے والے ایک دھماکے میں سات شہری اور ‘فری سیرین آرمی’ کے چار جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘اناطولیہ’ کے مطابق دھماکہ ایک چار منزلہ عمارت میں اس وقت ہوا جب ترکی کے حمایت یافتہ جنگجو اس کی تلاشی لے رہے تھے۔

خبر رساں ادارے نے الزام لگایا ہے کہ بم “دہشت گردوں” نے عمارت میں نصب کیا تھا جس کے دھماکے سے نزدیکی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

ترکی کی فوج اور اس کے حامی شامی جنگجووں نے اتوار کو عفرین کا قبضہ شامی کرد جنگجووں سے چھیننے کا دعویٰ کیا تھا جو شام کے شمال مغرب میں ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

‘فری سیرین آرمی’ کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ تنظیم کے جنگجو اتوار کو علی الصباح عفرین میں داخل ہوئے اور انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

شام میں تشدد کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم ‘سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس’ کے مطابق کرد جنگجو تنظیم ‘وائی پی جی’ نے کئی ہفتوں سے جاری لڑائی کے بعد اپنے جنگجووں کو عفرین سے نکل جانے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد ترک فوج نے قصبے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ترکی کا الزام ہے کہ ‘وائی پی جی’ ترکی کے کرد اکثریتی علاقوں میں سرگرم باغی تنظیم ‘پی کے کے’ کی اتحادی ہے اور شام کے سرحدی علاقوں میں اس کی موجودگی سے ترکی کے داخلی استحکام اور امن کو خطرہ ہے۔

ترک فوج لگ بھگ دو ماہ قبل ‘وائی پی جی’ کو شام کے سرحدی علاقوں سے پیچھے دھکیلنے کے لیے شام میں داخل ہوئی تھی۔ گزشتہ دو ماہ سے جاری اس کارروائی میں ترک فوج کو شام میں اپنے حامی باغی گروہوں کی مد دبھی حاصل ہے جب کہ انہیں کرد جنگجووں کی شدید مزاحمت کا سامنا بھی رہا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ واقع شامی علاقے میں 30 کلومیٹر چوڑا ایک بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ شامی کرد جنگجووں کی ترکی میں مبینہ مداخلت روکی جاسکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY