بھارت سے اقلیتی کمیشن کی خبر

0
37

عبادت گاہوں میں داخلے کی اجازت کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں شر انگیز مقدمہ
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ میں کسی سنجیو کمار نے پٹیشن داخل کی ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مسلم، پارسی اور عیسائی عبادت گاہوں میں کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت میں حتی کہ عورتوں کو حالت حیض میں اندر جانے کی اجازت دی جائے۔اس پٹیشن پر اپریل میں سنوائی ہوگی لیکن کسی بھی مخالف پارٹی کو ابھی تک اس پٹیشن کی کاپی نہیں دی گئی ہے۔ اس کی اطلاع ملنے پر دہلی پارسی انجمن نے اس کی کاپی حاصل کی اور انجمن کی صدر مسز آوا کھلر کی قیادت میں دہلی اقلیتی کمیشن سے مدد کے لئے رجوع کیا۔معاملے کی سنگینی کی وجہ سے بمبئی میں واقع قومی پارسی تنظیم ”پارسی پنچایت” کے صدر یزدی ڈیسائی بھی اس پارسی وفد میں شامل تھے۔ پارسی لوگوں کواس سے بڑی پریشانی ہے کیونکہ ان کے مقدس آتشکدے کے اندر صرف پارسی لوگ مخصوص شرطوں کے ساتھ جاسکتے ہیں۔ سب کو اجازت ملنے کے ان کے لئے بڑا مسئلہ پیش آجائے گا۔ کمیشن نے ان کو ہر طرح کی مدد کی یقین دہانی کرائی ، مفید مشورے دئے اور حسب ضرورت مقدمے میں فریق بننے یا کمیشن کی طرف سے کورٹ میں حلفنامہ داخل کرنے کی بھی یقین دہانی دلائی۔
پٹیشن کی فائل سے معلوم ہو اکہ پارسی آتشکدے کے علاوہ دہلی کی جامع مسجد اور کچھ عیسائی عبادت گاہوں کو بھی مذکورہ پیٹیشن میں جوابدہ بنایا گیا ہے۔صدر کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے فوری طورپر اس کی اطلاع اور پٹیشن کی کاپی مولانا سید احمد بخاری امام جامع مسجد اور دہلی کے اعلی عیسائی ذمہ داران کو بھیج دی ہے تا کہ کورٹ میں کوئی یک طرفہ فیصلہ نہ ہو۔
[منسلکہ فوٹو:دہلی اقلیتی کمیشن صدر پارسی پنچایت یزدی ڈیسائی کی تکریم کرتے ہوئے]

حکیم اجمل خان کی قبر کے بارے میں نوٹس
نئی دہلی: خدائی خدمتگار تنظیم کے کچھ ذمہ داران نے دہلی اقلیتی کمیشن کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ عظیم مجاہد آزادی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے چانسلر اورملک و ملت کے محسن حکیم اجمل خاں کی نائی والا، قرول باغ میں واقع قبر انتہائی خستہ حالت میں ہے ،جو پورے ملک اور مسلم قوم کے لئے شرم کی بات ہے۔ مذکورہ قبر آزادی سے قبل قرول باغ میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس کے اندر ہے اور یہ جگہ غالباً اب بھی قانونی طور سے جامعہ کی ملکیت ہے۔ اس سلسلے میں اقلیتی کمیشن نے رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ اور سکریٹری دہلی وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ حکیم اجمل خان کی قبر کی حفاظت اور مرمت کی ذمہ داری کس کی ہے اور اس سلسلے میں کیا کیا جارہاہے۔

درگاہ خواجہ سید ابراہیم
نئی دہلی: راشٹرپتی بھون سے متصل پولو گراؤنڈ میں واقع درگاہ حضرت خواجہ سید ابراہیم کی پانی کی لائن برسوں پہلے کاٹ دی گئی تھی اور درگاہ کے متولی کی کوششوں کے باوجود دوبارہ کنکشن نہیں لگ سکا۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے اس سلسلے میں کافی محنت کی۔ بالآخر نئی دہلی میونسپل کارپوریشن کے سول انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی ہے کہ مذکورہ درگاہ تک ایک صارف کے لئے پانی کا کنکشن کھینچنا ممکن نہیں ہے، البتہ اگر درگاہ کے ذمہ داراگر وہاں سنٹکس ٹنکی لگوالیں تو محکمہ ٹینکر سے وہاں پانی پہنچانے کی ذمہ داری لیتا ہے۔

او بی سی سر ٹیفکیٹ
نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرا ر (اکیڈمک)نے دہلی اقلیتی کمیشن کو اطلاع دی ہے کہ ایک آفس میمورنڈم کے بموجب اس سال داخلے کے وقت او بی سی طلبہ سے کریمی لیئر سے باہر ہونے کا سرٹیفکٹ مانگا گیا تھا لیکن یونیورسٹی نے بتایا کہ کسی بھی درست (valid) او بی سی سرٹیفکٹ کے حامل طالب علم کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔ در حقیقت کمیشن کو شکایت ملی تھی کہ درست او بی سی سرٹیفکٹ کے حامل درخواست کننداں سے نئے او بی سی سرٹیفکٹ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ کمیشن نے اس سلسلے میں دہلی یونیورسٹی کو نوٹس بھیجا تھاجس کے نتیجے میں مذکورہ مطالبہ ختم کردیاگیا جس سے تقریباً ساڑھے چودہ ہزار او بی سی طلبہ کو راحت ملی اور ان کا بر وقت داخلہ ہوگیا ورنہ ان کا تعلیمی سال برباد ہوجاتا۔

فدائی خان مسجد ومدرسہ
نئی دہلی: سرائے روہیلہ میں واقع مسجد فدائی خان ، جس میں میں مدرسہ الجامعۃ الاسلامیۃ العربیۃ قاسم العلوم بھی قائم ہے، کی دیوار کے ساتھ ایک مسلم شخص نے جھگی بنالی تھی ۔ میونسپل کارپوریشن میں شکایت کرنے سے ایم سی ڈی نے پولیس کی مدد سے جھگی توڑدی۔ اس کے بعد اس مسلم شخص نے ضد میں وہاں ایک مندر بنادیا اور مقامی غیر مسلمین کو بلاکر پوجا کرانے لگا۔ اس کی شکایت مسجدو مدرسہ کے ذمہ دار ان نے دہلی اقلیتی کمیشن میں کی کیونکہ مندر کو ہٹوانے میں دقت ہورہی تھی۔کمیشن نے کئی بار نوٹس دے کر اور پھر کیس سماعت کا سمن بھیج کر مقامی ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو طلب کیا، لیکن انہوں نے جواب دھاخل کرنے یاآنے کی زحمت نہیں کی۔ نتیجۃً کمیشن نے مذکورہ پولیس افسران کے خلاف سخت آرڈر پاس کیا اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کے لئے دہلی پولیس کمشنر کو لکھا۔ اس کے بعد مذکورہ افسران بھاگ کر کمیشن کے آفس میں پہنچے، معافی مانگی اور پندرہ دن کے اندر مذکورہ غیر قانونی تعمیر کو ہٹاکر وہاں ایک پولیس بوتھ لگانے کا وعدہ کیا۔ مدت ختم ہونے کے بعد پولیس افسر ان نے دوبارہ کمیشن میں آکر درخواست دی ہے کہ متعلقہ ایم سی ڈی کمشنر کو اس سلسلے میں خط لکھ دیا جائے تاکہ ان کا کام آسان ہو جائے۔اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ ایم سی ڈی کمشنر کو خط لکھ کر مقامی پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔

لال بہادر شاستری اسپتال کو نوٹس
نئی دہلی: مشرقی دہلی میں واقع لال بہادر شاستری اسپتال میں متعین پرائیویٹ گارڈز نے دہلی اقلیتی کمیشن میں شکایت درج کی ہے کہ دیوالی کے موقع پر دہلی گورنمنٹ سے مذکورہ اسپتال کے ملازمین کے لئے بونس آیا تھا، مگر انہیں نہیں دیا گیا اور جب انہوں نے متعلقہ افسران سے مطالبہ کیا تو انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔کمیشن نے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دہلی ہیلتھ سروسز کے ڈائرکٹر کو نوٹس دے کر پوچھا ہے کہ دیوالی کے بعد کتنے گارڈز کو نکالا گیا ہے، کن شرطوں کے ساتھ ان کو ملازمت پر رکھا گیا تھا، کیا ان کو نکالنے سے پہلے کوئی انکوائری کی گئی تھی اور اگرکی گئی تھی تو اس کی کاپی دی جائے نیز دہلی گورنمنٹ سے دیوالی کے موقع پر مذکورہ اسپتال کو کتنا بونس ملا تھا ، کس غرض کے لئے ملا تھا اور کس طرح اس کی تقسیم ہوئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY