امریکہ بدھ کو کرونا وائرس کےخلاف ویکسی نیشن مہم کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس مرحلے میں اب پرائمری اسکول جانے کی عمر کے بچوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 18 ماہ سے زیادہ عرصے تک وائرس کے پھیلاؤ، اسپتالوں میں داخلے، اموات، لاک ڈاؤن اور دوسری پابندیوں سمیت تعلیمی اداروں کی بندشوں کے بعد صحت کے حکام کا یہ فیصلہ اس عالمی وبا پر قابو پانے اور روزمرہ زندگی کے معمولات بحال کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ پانچ سے گیارہ سال کی عمروں کے دو کروڑ 80 لاکھ بچوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے لیے تیار ہے۔

شکاگو کے پبلک ہیلتھ کمشنر، ڈاکٹر ایلی سن اروادی نے بتایا کہ شکاگو کے پاس اسکول جانے والے اپنے لگ بھگ دو لاکھ 10 ہزار بچوں میں سے تقریباً نصف کے لیے کافی ویکسین موجود ہے، جب کہ مزید ویکسین جلد آنے کی توقع ہے۔

ریاست ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا کے 40 سالہ برائن اپنے 8 سالہ بیٹے کو ویکسین لگوانے بدھ کی صبح واشنگٹن ڈی سی کے چلڈرن نیشنل ہاسپیٹل گئے۔ ان کا بیٹا ذیابیطس کا مریض ہے اور کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی صورت میں اس میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

انہوں نے بیٹے کو ویکسین لگنے کے بعد مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے لیے بہت خوشی کا دن ہے۔ اب ہمارے گھر میں ہر ایک کو ویکسین لگ چکی ہے اور ہم سب محفوظ ہو چکے ہیں۔ آج میں بہت آزادی محسوس کر رہا ہوں۔

بدھ کے روز ویکسین لگانے کے مراکز میں بچوں کو لایا گیا۔ بہت سے بچے ویکسین لگوانے کے بعد خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک 10 سالہ بچی کیٹ کا کہنا تھا کہ میں بے حد خوش ہوں۔ اب میں اپنے دوستوں کی سالگرہ میں جا سکوں گی۔ ان سے ہاتھ ملا سکوں گی۔ ان کے گلے مل سکوں گی۔ میں بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں۔

صحت کے حکام نے بچوں کو فائزر بائیو این ٹیک ویکسین لگانے کی منظوری دی ہے۔ بچوں کے لیے فائزر نے خصوصی خوراکیں تیار کی ہیں جن کی قوت بالغوں کو دی جانے والی ویکسین کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY