امریکی صدر باراک اوباما کا الوداعی خطاب

0
306

عنقریب اپنے عہدے سے رخصت ہونے والے امریکی صدر باراک اوباما نے آٹھ سال تک اس عہدے پر فائز رہنے کے بعد شکاگو میں اپنا الوداعی خطاب کیا ہے۔ اس موقع پر اُن کے ہزارہا حامیوں نے پُر جوش تالیوں سے اُن کا خیر مقدم کیا۔ اوباما نے کہا، اب آپ کا شکریہ ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے، آپ نے مجھے ایک بہتر صدر اور ایک بہتر انسان بنایا ہے۔

انہوں نے امریکی شہریوں پر متحد رہنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت تبھی چل سکتی ہے، جب تمام شہری اپنی جماعتی وابستگی اور مفادات سے بالاتر ہو کر آپس میں یک جہتی کا اظہار کریں۔ اوباما کے مطابق اُن کے دورِ صدارت کے بعد بھی نسل پرستی ایک ایسی قوت ہے، جو قوم کو تقسیم کر رہی ہے۔ امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر اوباما کی جگہ بیس جنوری کو نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ عہدہٴ صدارت سنبھالیں گے۔

اپنی تقریر کے دوران اوباما نے کہا کہ جلد ہی ان کی جگہ ری پبلکنز آجائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ قوم کی مضبوطی ‘اقتدار کی ایک صدر سے دوسرے صدر میں پر امن منتقلی’ میں پنہاں ہے۔

اس سے قبل جب مجمعے نے ‘چار مزید سال’ کے نعرے لگانے شروع کیے تو اوباما نے کہا، ‘میں یہ نہیں کرسکتا’۔

خطاب کے دوران صدر اوباما کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں ہزاروں دہشت گردوں کا خاتمہ کیا، جن میں نائن الیون کا ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن بھی شامل تھا۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ داعش سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔

صدر اوباما نے اپنے خطاب میں مسلمان مخالف پالیسیوں کو بھی مسترد کیا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کا خاتمہ بھی کیا۔

اوباما نے امریکا میں مسلمانوں کےخلاف تعصب کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ باہر سے لوگ آئیں گے تو امریکا مضبوط ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کی بہتری کے لیے سماجی رویوں کو بدلنا ہوگا، جمہوریت کے ذریعے ہی کامل اتحاد قائم کیا جاسکتا ہے، عام آدمی کی شمولیت کے بغیر تبدیلی نہیں آتی۔

SHARE

LEAVE A REPLY