ظلم کیا ہے اور ظالم کون ہے۔۔ شمس جیلانی

0
2135

ہمارے یہاں اردو میں الفاظ کے معنی کچھ ہیں! جبکہ عربی میں معنی کچھ اور ہوتے ہیں؟ مثال کے طور پرظلم کے معنی کسی کمزور کے مال یا جائیداکودبا لینا پھر ہضم کرنا ظلم کہلاتا ہے؟ لیکن اللہ سبحانہ تعالیٰ خود اپنے نافرمان بندوں کی لیئے یہ ہی لفظ استعمال فرماتا ہے تو معنی کچھ اور ہوتے ہیں؟ جبکہ وہ ہر طرح سے صاحب ِقدرت ہے اور نافرمانوں کو قیامت کے لئیے چھوٹ دے رکھی ہے؟ ورنہ وہ اگر چاہے توایک پل میں اپنے تمام حقوق وصول کرنے پر پوری طرح قادر ہے مگر اس نے اپنے اوپر اپنی رحمت کو غلبہ عطا فرما رکھا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ دنیا ایک پل میں ختم ہوجاتی بلکہ بننے سے پہلے تباہی کا شکارہوجاتی بچت اس میں اس لئیے ہوئی کہ انسان اور شیطان میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرق یہ رکھا کہ انسان اگر غلطی کرتا ہے تو وہ اپنی غلطی فوراً تسلیم کر لیتا ہے جب تک انسان ،انسان ہے، جبکہ شیطان اپنی غلطیوں پر اڑا رہتا ہے؟ انسان کی انسانیت اس کے اول دور میں ہی دنیا کے سامنے آگئی کہ شیطان منے اپنی ضد اللہ کے سامنے باقی رکھی، مگر آدم ؑ اس درخت پاس کر جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نافر مانی کی تو فوراً “ظلمتو نفسی“ فرماکر تسلیم کرلیا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ معاف فرمادیا۔ جبکہ یہاں و ہ جنہیں ظالم فرمارہاہے اس میں وہ سب شامل ہیں جواس کے یا کسی اورکے حقوق ادا نہ کریں یا ٹال مٹول سے کام لیں پھر یہ بھی ہے کے وہ تاکید اًفرمارہا ہے۔ میں کسی مظلوم کی فریاد فوراً سنتا ہوں لہذا ہوشیارر ہو اور اس سے بچو کہ بات مجھ تک پہنچنے ؟
اس لئیے حضور ﷺ نے سب سے زیادہ حقوق العباد پر زور دیا ہے یہ فرماکر کے ً“ اسلام دین ِ معاملات اور عبادات دونوں ہے ً“ اس سلسلہ میں ہمارے ایک دوست نے جو بہت اچھی مذہبی معلومات کے حامل ہیں ایک بات کہی جو ہمیں بہت پسند آئی کہ “ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم پہاڑ کے برابر بھی گناہ لے کر میرے پاس آجاؤ اور توبہ کرلو میں وہ معاف کردونگا؟لیکن اگر کسی کے ساتھ تم نے زیادتی کی ہے تو اسے میں معاف نہیں کرونگا اور تمہیں معاف کرانے کے لیئے بھی اسی کے پاس جانا پڑیگا یااس کا سامنا کرنا پڑیگا جس کو تم نے کسی قسم کا نقصان پہنچا یا ہو وہ میں معاف نہیں کرونگا؟اس پر دلیل انہوں نے یہ دی کہ جن قوموں کوا للہ سبحانہ تعالیٰ نے عذا ب نازل کر کے تباہ کیا اس میں ایک بھی ایسی نہیں ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عبادت نہ کرنے یعنی نماز نہ پڑھنے اور روزہ نہ رکھنے پر تباہ ہوئی ہو؟ وہ سب تباہ ہوئے جوانسانوں پر یا انسانیت پر ظم کر رہے تھے اور ان کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا؟
حضور ﷺ نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا ہے کہ “ جو کچھ کسی کی طرف دنیا میں کسی کالینا دینا ہے تو اس کے لئیے بہتر یہ ہی ہے کہ یہیں اس سے لے دے کر یا معاف کراکر جان چھڑا لے۔ اسے وہاں کے لیئے نہ چھوڑے؟ کیونکہ وہاں یہ کام سب سے مشکل ہے جبکہ کے ہر ایک اکیلا ہوگا اور اس کے پاس وہاں کا سکہِ رائج الوقت بھی نہیں ہوگا یعنی نیک اعمال کا خزانہ بھی نہیں ہوگا،یا جو تھوڑا بہت لے کر آیا ہوگا تو وہ ادائیگیویوں میں ختم ہوجا ئے گااور وہ ً“ مفلس “ہوچکا ہوگا۔ اس کی جو وضاحت حضور ﷺ نے اایک حددیثث میں فرمائی ہے اس کا مفہومی ترجمہ ارو میں یہ تھا کہ ایک روز صحابہؓ کرام سے فرمایا کہ جانتے ہو! مفلس کے معنی کیا ہیں تو سب نے جواب وہی دیا جو وہ ہمیشہ دیا کرتے تھے؟ کہ“ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں“ فرما یا وہ جس کے پاس وہ سارا خزانہ ختم ہوگیا ہو ان ادا ئیگی میں جو کہ اس کے طرف واجب الادا تھیں اور کچھ بھی نہ بچا ہو؟
اس میں بھی میرے نزدیک بد ترین خیانت بیت المال میں خیانت ہے، یا کسی اورتجارتی ادا رے کے ساتھ کسی قسم کا ہیر پھیر ہے۔جس کے مالکان کو دنیا میں بھی تلاش کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے؟ کیونکہ بہت سے لوگ لاپتہ ہو جا تے، ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں یا دنیا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جبکہ ان میں بیت المال کے بعد سب سے زیادہ حصہ دار، یعنی لاکھوں کروڑوں اربوں میں لوگ ہوتے ہیں۔ جنکی تلاش کرنا سب سے مشکل کام ہے؟یہاں وہ قانون نہیں چلے گا جو اکثر لوگ کہہ کر خود کو دھوکا دیتے ہیں“ وہ تو قادر ِ مطلق ہے وہ رحیم ہے وہ کریم ہے لہذا وہ معاف کر دے گا“بے شک اس میں کوئی کافر ہی شبہ کر سکتا ہے؟ لیکن وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ میں اپنی سنت کو تبدیل نہیں کرتا؟ یعنی جو فرما دیاوہ اٹل ہے جو کہہ دیا وہ اٹل ہے اور ویسا ہی ہو گا جواس نے فرمادیا ہے یاجو قرآن میں لکھا؟ جبکہ ان کے لیئے اس نے پہلے ہی فر مادیا سورہ البقرۃ کی پہلی آیت میں ہے کہ“ یہ کتاب ان لوگوں کے لیئے ہے جس میں شک اور شکیوں کے لیئے کوئی گنجا ئش نہیں ہے جو غیب پر ایمان لائے۔یہ کتاب ہدایت ان کے لیئے ہے جو کے متقی ہیں اوراپنے مزید درجات بلند کر کے اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

SHARE

LEAVE A REPLY