عالمی اخبار کے لیئے صفدر ھمدانی کی تحاریر

1
2029

امریکی مڈٹرم انتخابات

امریکہ کے 3 نومبر 2026ء کے مڈٹرم انتخابات نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن جماعت کے لیے یہ نتائج ایک بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہوئے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ یہ محض چند نشستوں کی تبدیلی نہیں بلکہ امریکی عوام کی جانب سے موجودہ حکومتی پالیسیوں کے بارے میں ایک اہم سیاسی پیغام ہے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر دو سال قبل بھاری سیاسی اعتماد کے ساتھ اقتدار میں آنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو مڈٹرم انتخابات میں اس صورتِ حال کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟

اس کی پہلی اور اہم وجہ امریکی عوام کی معاشی مشکلات ہیں۔ انتخابی سیاست میں بڑے بڑے نعرے اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، لیکن عام شہری کے لیے روزمرہ زندگی کے مسائل زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ مہنگائی، اشیائے ضرورت کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، رہائش کے اخراجات اور متوسط طبقے پر بڑھتا ہوا مالی دباؤ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ امریکی ووٹر صرف وعدوں کے بجائے اپنی عملی زندگی میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔

دوسری بڑی وجہ خارجہ پالیسی اور ایران کے ساتھ جنگ ہے۔ امریکہ کے اندر جنگی معاملات، ان کے اخراجات اور قومی سلامتی کے بارے میں انتخابات: ٹرمپ کی سیاسی پسپائی کی بنیادی وجوہاتعوامی تشویش نے انتخابی ماحول کو متاثر کیا۔ ایک بڑی تعداد کے لیے سوال یہ تھا کہ جب ملک کو اندرونی معاشی مسائل درپیش ہیں تو بیرونی محاذوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی امریکی مفادات کو کس حد تک فائدہ پہنچا رہی ہے؟

تیسری وجہ سیاسی تقسیم اور حکومتی طرزِ عمل کے بارے میں عوامی بے چینی ہے۔ امریکی سیاست پہلے ہی نظریاتی اور جماعتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں جب سیاسی محاذ آرائی حکومتی ترجیحات پر غالب آنے لگے تو عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ بدعنوانی اور حکومتی شفافیت سے متعلق خدشات بھی انتخابی بحث کا حصہ رہے۔

ان انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ٹرمپ نے خود کو ریپبلکن انتخابی مہم کا مرکزی کردار بنایا تھا۔ اس لیے نتائج کو صرف مقامی امیدواروں کی شکست یا کامیابی تک محدود رکھنا مشکل ہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی نے ریپبلکن قیادت کے سامنے یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ کیا موجودہ سیاسی حکمت عملی امریکی ووٹرز کی بدلتی ترجیحات سے مطابقت رکھتی ہے؟

اب صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی چیلنج مزید بڑھ گیا ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ان کی قانون سازی، نامزدگیوں اور حکومتی اقدامات کی نگرانی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تحقیقات اور سیاسی احتساب کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ یوں صدر کے لیے باقی ماندہ مدتِ صدارت پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

تاہم ان نتائج کو امریکی سیاست میں کسی ایک جماعت کی مستقل فتح یا دوسری جماعت کے مستقل زوال کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ امریکہ کا انتخابی نظام عوام کو ہر دو سال بعد اپنے نمائندوں کے بارے میں رائے دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے کہ اقتدار میں موجود جماعت کو بھی عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا جواب دینا پڑتا ہے۔

ٹرمپ کے لیے ان انتخابات کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ سیاسی مقبولیت صرف انتخابی نعروں، جلسوں اور سخت بیانات سے برقرار نہیں رہتی۔ عوام کو معاشی استحکام، بہتر طرزِ حکمرانی اور قومی ترجیحات کے حوالے سے عملی نتائج درکار ہوتے ہیں۔

امریکی مڈٹرم انتخابات نے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح کر دی ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت میں بھی ووٹر کا فیصلہ کسی صدر یا سیاسی جماعت کے لیے غیر متوقع پیغام بن سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اس انتخابی پیغام کو کس طرح سمجھتے ہیں اور اپنی باقی مدتِ صدارت میں ملک کو سیاسی تقسیم سے نکال کر معاشی اور حکومتی استحکام کی طرف لے جانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔

جمہوریت میں اقتدار ایک ذمہ داری ہے، مستقل اختیار نہیں؛ اور ووٹ کے ذریعے عوام کسی بھی حکمران کو اس کی کارکردگی کا آئینہ دکھا سکتے ہیں۔

  • ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
  • کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی: استحکام کی کوشش یا نئے سیاسی بحران کا آغاز؟
  • ایک سیاسی تجزیہ

  • پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ریاستی سلامتی، جمہوری روایات، صوبائی خودمختاری اور سیاسی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ 11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے فیصلے نے ملک کی سیاسی فضا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کے لیے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں اور امن و امان کی صورت حال کو بنیاد بنایا ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اسے صوبائی مینڈیٹ اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کو استحکام ملے گا یا سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا؟

    گورنر راج کا فیصلہ منظراور اس کے پس منظر

    خیبر پختونخوا محض پاکستان کا ایک صوبہ نہیں، بلکہ جغرافیائی، دفاعی اور سیاسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد، دہشت گردی کے مسلسل خطرات، معاشی مشکلات اور مختلف سیاسی قوتوں کی سرگرمیوں نے اس صوبے کو ہمیشہ قومی پالیسی کے مرکز میں رکھا ہے۔

    وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور امن و امان کے معاملے پر صوبائی حکومت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرنا مسائل کا حل نہیں، بلکہ اس سے سیاسی تصادم اور عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

    یہاں ایک بنیادی اصول کو سمجھنا ضروری ہے: وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ وجوہات اور اپوزیشن کے اعتراضات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کی کامیابی کا فیصلہ اس کی قانونی بنیاد، شفافیت اور عملی نتائج سے ہوگا، نہ کہ صرف سیاسی بیانات سے۔

    ایمرجنسی اور گورنر راج: آئینی اختیار یا سیاسی آزمائش؟

    پاکستان کے آئین میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مخصوص اختیارات موجود ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت مخصوص سنگین حالات میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں گورنر راج سے متعلق ہے۔ تاہم ان دونوں دفعات کے مقاصد اور قانونی شرائط الگ ہیں۔

    آئین میں ان اختیارات کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں کسی بھی سیاسی اختلاف یا حکومتی تنازعے کے حل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا اطلاق متعلقہ آئینی شرائط، مقررہ طریقۂ کار اور پارلیمانی نگرانی کے تابع ہے۔ بالخصوص آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے لیے آئینی نظام کی ناکامی کی بنیاد موجود ہونا ضروری ہے۔

    اس لیے موجودہ فیصلے کی قانونی حیثیت اور آئندہ پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ متعلقہ آئینی تقاضے کس حد تک پورے کیے گئے ہیں اور پارلیمان و عدلیہ اپنا آئینی کردار کیسے ادا کرتی ہیں۔

    اگر مقصد واقعی امن و امان کی بحالی ہو

    اس فیصلے کے حامیوں کی نظر میں اس کا بنیادی مقصد صوبے میں امن و امان بہتر بنانا اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ اگر وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان اختلافات سکیورٹی پالیسی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے، تو انتظامی ہم آہنگی پیدا کرنے سے بعض مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    اول، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی: وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے، انٹیلی جنس رابطوں اور کارروائیوں میں بہتر ہم آہنگی سے سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔

    دوم، انتظامی فیصلوں میں تیزی: اگر انتظامی سطح پر رکاوٹیں موجود ہوں تو واضح اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم کے ذریعے بعض فیصلے جلد کیے جا سکتے ہیں۔

    سوم، ریاستی عمل داری کی بحالی: شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر غیر معمولی اقدامات واقعی شہریوں کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے، پولیس کو مؤثر وسائل فراہم کرنے اور قانون کی عمل داری بہتر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو عوام کو ان سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    چہارم، ادارہ جاتی تعاون: اس موقع کو وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ، پولیس اور سکیورٹی اداروں کے درمیان مستقل تعاون کا نظام بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    تاہم ان فوائد کا حصول خودکار نہیں۔ صرف انتظامی کنٹرول تبدیل کرنے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، تربیت یافتہ پولیس، مقامی آبادی کا اعتماد، معاشی مواقع اور قانون کی منصفانہ عمل داری بھی ضروری ہیں۔

    سیاسی تصادم اور جمہوری اعتماد کا بحران

    جس طرح اس فیصلے کے ممکنہ فوائد ہیں، اسی طرح اس کے خطرات بھی کم اہم نہیں۔

    اول، جمہوری مینڈیٹ پر سوالات: صوبائی حکومت عوام کے ووٹوں سے قائم ہوتی ہے۔ اگر غیر معمولی آئینی اختیارات کے ذریعے اس کے اختیارات محدود کیے جائیں تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آیا ایسا کرنا واقعی ناگزیر تھا۔ اگر عوام کے ایک بڑے طبقے کو محسوس ہو کہ ان کے ووٹ کی اہمیت کم کر دی گئی ہے تو جمہوری اداروں پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

    دوم، سیاسی احتجاج میں اضافہ: پی ٹی آئی پہلے ہی اس فیصلے پر اعتراض کر چکی ہے۔ ایسے میں احتجاج، جلسوں، گرفتاریوں یا وفاق اور صوبے کے حامیوں کے درمیان تصادم کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر سیاسی اختلافات مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال سے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو بحران مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

    سوم، صوبائی خودمختاری پر اثرات: پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، جہاں صوبائی خودمختاری آئینی نظام کا اہم حصہ ہے۔ اگر گورنر راج کو معمول کا سیاسی ہتھیار سمجھا جانے لگا تو وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔ اس کا اثر صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ دوسرے صوبوں میں بھی سیاسی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    چہارم، معیشت کو نقصان: سیاسی بے یقینی سرمایہ کاری، کاروبار، سیاحت اور روزگار کے مواقع کو متاثر کر سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے کاروباری حلقوں اور عام شہریوں کے لیے پہلے ہی سکیورٹی اور معاشی مسائل اہم چیلنج ہیں۔ اگر سیاسی کشیدگی کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں تو اس کا بوجھ بالآخر عام آدمی کو اٹھانا پڑے گا۔

    پنجم، دہشت گردی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات: اگر مقامی آبادی یہ محسوس کرے کہ اس کی منتخب قیادت اور سیاسی آواز کو نظرانداز کیا جا رہا ہے تو ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کا اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مستقل امن محض انتظامی احکامات سے قائم نہیں ہوتا۔

    پاکستان کی مجموعی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟

    خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی صورت حال کو صرف ایک صوبے کا انتظامی مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے اثرات وفاقی سیاست، پارلیمانی نظام، عدلیہ، سیاسی جماعتوں کے تعلقات اور قومی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔

    اگر یہ اقدام آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے امن و امان کی بہتری کا ذریعہ بنتا ہے، تو اس سے ریاستی اداروں کے درمیان تعاون کی نئی صورتیں سامنے آ سکتی ہیں۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں، احتجاجی تصادم اور آئینی تنازعات میں اضافہ ہوتا ہے تو قومی سیاست مزید تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے۔

    اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان کسی بڑے سیاسی تصادم کی طرف جا رہا ہے یا حالات جلد معمول پر آ جائیں گے۔ اس کا انحصار آنے والے دنوں میں وفاقی حکومت کے طرزِ عمل، پی ٹی آئی کے ردعمل، پارلیمان کی کارروائی، عدالتی جائزے اور سکیورٹی صورت حال پر ہوگا۔

    یہ بھی اہم ہے کہ سیاسی اختلافات کو دہشت گردی کے مسئلے سے الگ رکھتے ہوئے دیکھا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے، لیکن اس مقصد کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کرنا لازمی نہیں۔

    عوام کو کیا کرنا چاہیے؟

    اس پورے معاملے میں سب سے اہم فریق عام شہری ہیں۔ ایک شہری کو امن، روزگار، تعلیم، صحت، انصاف اور باعزت زندگی درکار ہے۔ اسے اس بات سے غرض نہیں ہونی چاہیے کہ انتظامی اختیار کس سیاسی جماعت کے پاس ہے، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ریاست اسے تحفظ اور بنیادی سہولتیں فراہم کر رہی ہے یا نہیں۔

    حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فیصلے کی وجوہات اور قانونی بنیاد عوام کے سامنے واضح کرے۔ پارلیمان کو نگرانی اور بحث کا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ عدلیہ کو کسی بھی قانونی چیلنج کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے، جبکہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کے آئینی حق اور امن و امان کی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہیے۔

    میڈیا اور شہریوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات، اشتعال انگیز بیانات اور افواہوں کے بجائے مستند معلومات پر انحصار کریں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی اور شہریوں کی جان کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    موجودہ صورت حال میں وفاقی حکومت کے سامنے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ غیر معمولی آئینی اقدامات کو واضح مقاصد، قابلِ پیمائش نتائج اور مؤثر نگرانی کے ساتھ جوڑے۔ اسے یہ بتانا ہوگا کہ امن و امان بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے، ان کے نتائج کیسے جانچے جائیں گے اور معمول کا منتخب نظام کب اور کن آئینی شرائط کے تحت بحال ہوگا۔

    اسی طرح پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو بھی قومی سلامتی، آئینی عمل اور سیاسی مکالمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی محاذ آرائی کا یرغمال نہیں بننا چاہیے۔

    پارلیمان میں سنجیدہ بحث، وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطے، عدالتی نگرانی اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو سیاسی اختلافات کو مزید بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔

    نتیجہ

    خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ پاکستان کے لیے ایک اہم آئینی اور سیاسی امتحان ہے۔ اس فیصلے سے امن و امان بہتر ہونے، انتظامی ہم آہنگی پیدا ہونے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آنے کے امکانات موجود ہیں، لیکن اس کے ساتھ جمہوری مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری، سیاسی استحکام اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کے خدشات بھی وابستہ ہیں۔

    اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ وفاقی حکومت کتنے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ شہریوں کی جان محفوظ ہوتی ہے یا نہیں، دہشت گردی میں کمی آتی ہے یا نہیں، کاروبار اور روزگار بہتر ہوتے ہیں یا نہیں، اور آئینی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رہتا ہے یا نہیں۔

    پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاسی بحرانوں کا دیرپا حل محض انتظامی فیصلوں میں نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، جمہوری تسلسل، ادارہ جاتی توازن اور سیاسی مفاہمت میں پوشیدہ ہے۔

    خیبر پختونخوا میں امن قائم کرنا ناگزیر ہے، مگر اس امن کی بنیاد قانون، انصاف اور عوامی اعتماد پر ہونی چاہیے۔ اگر موجودہ اقدام ان اصولوں کو مضبوط کرتا ہے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں؛ لیکن اگر یہ سیاسی کشمکش کو بڑھاتا ہے تو اس کی قیمت صرف ایک صوبہ نہیں، پورا پاکستان ادا کر سکتا ہے۔

  • ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
  • معاہدۂ ابراہیمی 2020 میں امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے سفارتی معاہدوں کا سلسلہ ہے
  • اس کا مقصد اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔
  • اب تک اس سے منسلک ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان شامل ہیں (سوڈان کا عمل مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا)۔
  • قازقستان نے اب تک اس معاہدے میں باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی۔

معاہدۂ ابراہیمی 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران ہونے والے سفارتی معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور بعض عرب و مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا، سفارتی روابط قائم کرنا، تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔

اسے “ابراہیمی” اس لیے کہا گیا کیونکہ اسلام، عیسائیت اور یہودیت تینوں حضرت ابراہیمؑ کو مشترکہ عظیم شخصیت مانتے ہیں۔ تاہم یہ معاہدہ تین مذاہب کے درمیان مذہبی صلح کا معاہدہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر ریاستوں کے درمیان سفارتی اور سیاسی معاہدوں کا مجموعہ ہے۔

اب تک کن ممالک نے شمولیت اختیار کی؟

  درج ذیل ممالک نے2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے معاہدے کیے

متحدہ عرب امارات
بحرین
سوڈان (اعلان کیا، تاہم مکمل معمول کے سفارتی تعلقات کا عمل مختلف سیاسی وجوہات کی بنا پر مکمل طور پر آگے نہیں بڑھ سکا)
مراکش

اس کے علاوہ بعد کے برسوں میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی مذاکرات کی خبریں سامنے آتی رہیں، تاہم وہ باضابطہ طور پر معاہدے کا حصہ نہیں بنے۔

کیا قازقستان ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو چکا ہے؟

آپ کے متن کا یہ حصہ درست نہیں ہے۔

قازقستان نے اب تک ابراہیمی معاہدے  میں باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔ اگرچہ قازقستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات پہلے سے موجود ہیں، لیکن اسے ابراہیمی معاہدوں میں شامل ملک قرار نہیں دیا جاتا۔

معاہدۂ ابراہیمی 2020 میں امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے سفارتی معاہدوں کا سلسلہ ہے۔
اس کا مقصد اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔
اب تک اس سے منسلک ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان شامل ہیں (سوڈان کا عمل مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا)۔
قازقستان نے اب تک اس معاہدے میں باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

گیرِی سوبرز: ایک عہد کا اختتام

ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری آل راونڈر گیری سوبرز انتقال کر گئے۔

ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری آل راؤنڈر اور دنیا کے عظیم ترین کرکٹرز میں شمار کیے جانے والے سر گیری سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

سر گیری سوبرز نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے 93 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن میں 8 ہزار سے زائد رنز اسکور کیے اور 235 وکٹیں حاصل کیں۔

انہوں نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں 383 میچز کھیلتے ہوئے 28 ہزار سے زائد رنز بنائے اور ایک ہزار سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔

سر گیری سوبرز کرکٹ کی تاریخ کے وہ پہلے بیٹسمین تھے جنہوں نے ایک اوور میں 6 چھکے مارے تھے۔

کرکٹ کی دنیا آج سوگوار ہے۔ عظیم آل راؤنڈر گیرِی سوبرز کی وفات صرف ایک کھلاڑی کی جدائی نہیں بلکہ کرکٹ کے ایک سنہری دور کے اختتام کا اعلان ہے۔ وہ ان نابغۂ روزگار شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنے غیر معمولی کھیل، کردار اور قیادت سے دنیا بھر کے شائقین کے دل جیتے۔

گیرِی سوبرز کو تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ بلے بازی میں بے مثال، گیند بازی میں ہمہ جہت اور فیلڈنگ میں غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان کی ہمہ گیر صلاحیت نے کرکٹ کو ایک نئی جہت دی۔ میدان میں ان کی موجودگی مخالف ٹیم کے لیے چیلنج اور اپنے ساتھیوں کے لیے اعتماد کی علامت ہوتی تھی۔

ان کا نام اس تاریخی کارنامے سے بھی ہمیشہ وابستہ رہے گا جب انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک اوور میں مسلسل چھ چھکے لگا کر نئی تاریخ رقم کی۔ ان کی شاندار بیٹنگ، جارحانہ انداز اور کھیل کے لیے بے مثال جذبہ آج بھی نوجوان کرکٹرز کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

گیرِی سوبرز صرف ایک عظیم کھلاڑی ہی نہیں بلکہ کھیل کی اعلیٰ اقدار کے علمبردار بھی تھے۔ عاجزی، وقار اور کھیل کے احترام نے انہیں دنیا بھر میں عزت اور محبت دلائی۔ ان کی کامیابیاں آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی رہیں گی کہ حقیقی عظمت صرف ریکارڈ بنانے میں نہیں بلکہ کردار، محنت اور کھیل کے احترام میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔

آج جب کرکٹ کا یہ روشن ستارہ ہم سے جدا ہوا ہے تو دنیا بھر کے شائقین، سابق اور موجودہ کھلاڑی، اور کھیل سے محبت کرنے والے سب ایک عظیم شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ ان کی یادیں، ان کے ریکارڈ اور ان کا لازوال انداز ہمیشہ کرکٹ کی تاریخ کا روشن باب رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

عالمی یومِ آبادی: بڑھتی دنیا، گھٹتے وسائل

ہر سال 11 جولائی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ آبادی منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف آبادی کی تعداد گننا نہیں بلکہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ انسانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ خوراک، پانی، صحت، تعلیم، روزگار اور ماحول جیسے بنیادی مسائل بھی تیزی سے سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی صرف آبادی میں اضافے کا نام نہیں بلکہ ایسی منصوبہ بندی کا نام ہے جس میں ہر انسان کو باوقار زندگی کے مواقع میسر ہوں۔

دنیا کی آبادی گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی رفتار سے بڑھی ہے۔ جدید طب، بہتر صحت کی سہولیات اور اوسط عمر میں اضافے نے کروڑوں لوگوں کو زندگی کا بہتر موقع دیا، مگر دوسری طرف وسائل کی تقسیم کا مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا۔ بہت سے ممالک میں شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ، رہائش کا بحران، بے روزگاری، ٹریفک، آلودگی اور صاف پانی کی قلت اسی بڑھتی ہوئی آبادی کے نمایاں اثرات ہیں۔

تاہم آبادی میں اضافہ ہر جگہ یکساں مسئلہ نہیں۔ بعض ترقی یافتہ ممالک کم شرحِ پیدائش اور تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی کے باعث افرادی قوت کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کئی ترقی پذیر ممالک میں نوجوان آبادی کی بہتات موجود ہے۔ اگر اس نوجوان نسل کو معیاری تعلیم، ہنر، صحت اور روزگار فراہم کیا جائے تو یہی آبادی قومی ترقی کا سب سے بڑا سرمایہ بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہی قوت معاشی اور سماجی دباؤ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی میں مسلسل اضافہ قومی منصوبہ بندی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسکولوں، اسپتالوں، رہائشی سہولیات، پینے کے صاف پانی، توانائی اور روزگار کی بڑھتی ہوئی ضرورت حکومت اور معاشرے دونوں کے لیے امتحان بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں صرف حکومتی پالیسیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ عوامی شعور، تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے، ماں اور بچے کی صحت، اور ذمہ دارانہ خاندانی منصوبہ بندی پر بھی بھرپور توجہ دینا ضروری ہے۔

عالمی یومِ آبادی اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ پائیدار ترقی کا تعلق صرف معیشت سے نہیں بلکہ انسان سے ہے۔ جب تک ہر فرد کو صحت، تعلیم، مساوی مواقع اور بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے، ترقی کے اعداد و شمار اپنی اصل معنویت کھو دیں گے۔ ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت آبادی کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔

آج موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، خوراک کا تحفظ اور قدرتی وسائل کے تحفظ جیسے عالمی مسائل بڑھتی آبادی کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ترقی کے ہر منصوبے میں آبادی کے رجحانات کو مدنظر رکھا جائے اور آنے والی نسلوں کے لیے وسائل کا دانشمندانہ استعمال یقینی بنایا جائے۔

عالمی یومِ آبادی ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل کامیابی صرف زیادہ آبادی نہیں بلکہ بہتر آبادی ہے۔ ایسی آبادی جو تعلیم یافتہ، صحت مند، ہنرمند، بااختیار اور ذمہ دار ہو۔ اگر ہم آج درست فیصلے کریں، انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کریں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو ترجیح دیں تو بڑھتی ہوئی آبادی بوجھ نہیں بلکہ ترقی، خوشحالی اور قومی استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

محرم الحرام اور فلسفۂ قربانی

اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ یہ مہینہ صرف نئے سال کی ابتدا نہیں بلکہ ایمان، صبر، استقامت، ایثار اور قربانی کی عظیم یادوں کا امین بھی ہے۔ محرم الحرام ہمیں اس لازوال قربانی کی یاد دلاتا ہے جو نواسۂ رسول حضرت امام حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں پیش کی۔ یہ قربانی کسی اقتدار، حکومت یا دنیاوی مفاد کے لیے نہیں تھی بلکہ دینِ اسلام کی بقا، انسانی اقدار کے تحفظ اور حق و صداقت کی سربلندی کے لیے تھی۔

اسلام میں قربانی کا تصور صرف جانور ذبح کرنے تک محدود نہیں بلکہ اپنی خواہشات، مفادات اور ذاتی آسائشوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرنا بھی قربانی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کا عزم کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس اخلاص کو قیامت تک کے لیے قربانی کی سنت بنا دیا۔ اسی طرح کربلا میں حضرت امام حسینؑ نے اپنے اہلِ بیت، عزیزوں اور جانثار ساتھیوں سمیت اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے قربانی کے مفہوم کو ایک نئی وسعت عطا کی۔

واقعۂ کربلا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو خاموشی اختیار کرنا مؤمن کی شان نہیں۔ امام حسینؑ نے یزیدی ظلم، جبر، ناانصافی اور دین میں تحریف کے خلاف آواز بلند کی اور یہ ثابت کیا کہ حق کی خاطر جان دینا تو آسان ہے مگر حق کا سودا کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی فکر، ایک زندہ پیغام اور ایک ہمہ گیر تحریک ہے۔

محرم الحرام ہمیں صبر و تحمل، برداشت، اتحاد، عدل و انصاف اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم دیتا ہے۔ آج کے دور میں جبکہ معاشرہ نفرت، تعصب، ظلم اور خود غرضی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمیں کربلا کے پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ اگر ہم امام حسینؑ کی سیرت سے سچائی، دیانت، عدل، حوصلہ، ایثار اور خدمتِ خلق کا سبق حاصل کرلیں تو بہت سے سماجی مسائل کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔

فلسفۂ قربانی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انسان اپنی ذات سے بلند ہو کر معاشرے اور انسانیت کے مفاد کو ترجیح دے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جاتا، خواہ اس کی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ یہی وہ فکر ہے جو ہر دور میں مظلوم کو حوصلہ، حق پرست کو استقامت اور ظالم کے خلاف مزاحمت کا جذبہ عطا کرتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ محرم الحرام کو صرف غم اور ماتم تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو سمجھا جائے۔ اگر ہماری مجالس، جلوس، تحریریں اور تقاریر ہمیں اخلاق، کردار، دیانت، عدل اور انسان دوستی کی طرف لے جائیں تو یہی امام حسینؑ کی قربانی کا حقیقی احترام ہوگا۔

محرم الحرام ہمیں یہ عہد کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے، حق کا ساتھ دیں گے، انسانیت کی خدمت کریں گے اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔ یہی فلسفۂ قربانی ہے اور یہی واقعۂ کربلا کا وہ عظیم پیغام ہے جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

قیام پاکستان سے 2025 تک 77 بجٹ پیش ہوچکے ہیں

جون 12 کو وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب شہباز حکومت کا تیسرا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر رہے ہیں۔ بجٹ وہ مالی منصوبہ ہے جس میں حکومت سالانہ طے کرتی ہے کہ آئندہ مالی سال ریاست کی آمدنی اور اخراجات کیا ہوں گے اور کیسے استعمال ہوں گے۔

کبھی ملک میں سالانہ بجٹ ایک مرتبہ آتا تھا، لیکن 90 کی دہائی کے بعد حکومتی معاشی مشیروں نے آمدنی میں اضافے اور اخراجات کے فرق سے نمٹنے کے لیے منی بجٹ کی روایت بھی ڈال دی ہے۔

قیام پاکستان سے 2025 تک 77 بجٹ پیش ہوچکے ہیں، جس میں 45 بجٹ سیاسی اور 32 غیرسیاسی حکومت میں پیش ہوئے، ایوب حکومت میں 10 یحییٰ خان نے 3، ضیاالحق حکومت میں 11 اور مشرف حکومت میں 8 بجٹ پیش ہوئے۔

یہ بجٹ اس دور کی سیاسی اور غیر سیاسی حکومتوں کے21 مختلف وزرائے خزانہ نے پیش کیے جب کہ دو بجٹ مشیر خزانہ نے 1971 میں ایم ایم احمد اور 2018 میں مفتاح اسماعیل نے پیش کیے۔

چھ بجٹ تین وزیر مملکت برائے خزانہ جس میں ایک خاتون بھی شامل ہیں نے پیش کیے، جس میں عمر ایوب نے 2005 سے 2007 تک تین مرتبہ، حنا ربانی کھر نے 2009 میں اور حماد اظہر وزیر مملکت برائے ریونیو نے 2019 اور 2020 میں پیش کیے تھے۔

ایک بجٹ 1969 میں وائس ایڈمرل ایس ایم احسن نے جب کہ ایک بجٹ چیف مارشل لا ایڈمسٹریٹر سابق آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے 1978 میں پیش کیا، اس بجٹ کی خاص بات یہ تھی کہ بجٹ پہلی مرتبہ قومی زبان اردو میں پیش کیا گیا۔

پاکستان کی تاریخ میں وفاقی بجٹ پیش کرنے والے پہلے وزیر خزانہ غلام محمد نے مسلسل چار سال 28 فروری 1948 سے 1951 تک، دوسرے چودھری محمد علی نے مسلسل اگلے چار سال تک، سید امجد علی نے تین سال، محمد شعیب نے سات سال، عبدالقادر نے ایک سال، این ایم عقیلی نے دو سال، نواب مظفر علی قزلباش نے ایک مرتبہ، ڈاکٹر مبشر حسن نے تین بار، محمد حنیف نے دو بار، عبدالحفیظ پیر زادہ نے ایک مرتبہ، غلام اسحق خان نے چھ مرتبہ، ڈاکٹر محبوب الحق نے دو بار، محمد یاسین خان وٹو نے دو بار، احسان الحق پراچہ نے دو بار، سرتاج عزیز نے پانچ مرتبہ، اسحق ڈار نے سات بار، شوکت عزیز نے پانچ مرتبہ، نوید قمر نے ایک مرتبہ، عبدالحفیظ شیخ نے تین بار، مفتاح اسماعیل اور شوکت ترین نے ایک ایک مرتبہ بجٹ پیش کیا ۔

پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ غلام محمد ملک کے تیسرے گورنر جنرل بنے جبکہ دوسرے وزیر خزانہ چودھری محمد علی اور مشرف دور میں شوکت عزیز وزیراعظم بھی بنے تھے۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

یکم جون ریاض الرحمٰن ساغر کی برسی

فلمی دنیا کے معروف شاعر ریاض الرحمان ساغر اردو اور پنجابی فلمی نغمہ نگاری کا ایک معتبر نام تھے۔ یکم دسمبر 1941ء کو بھٹنڈہ میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان آ گئے۔ انہوں نے صحافت، شاعری، فلمی کہانی نویسی اور نغمہ نگاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ریاض ساغر نے تقریباً پچھتر فلموں کی کہانیاں اور سیکڑوں نغمے تحریر کیے جنہوں نے عوامی مقبولیت حاصل کی۔

ان کے کلام کی سب سے بڑی خوبی سادگی، موسیقیت اور جذبات کی دل نشین ترجمانی تھی۔ محبت، جدائی، یاد اور زندگی کے احساسات کو انہوں نے ایسے دلکش انداز میں پیش کیا کہ ان کے گیت زبان زدِ عام ہو گئے۔ ان کے مشہور نغموں میں ’’دیکھا جو چہرہ تیرا موسم بھی پیارا لگا‘‘، ’’مینوں یاداں تیریاں آؤندیاں نیں‘‘، ’’کبھی تو نظر ملاؤ‘‘، ’’ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو‘‘ اور ’’ہو سکے تو میرا ایک کام کرو‘‘ شامل ہیں۔

فلم ’’شریکِ حیات‘‘ کا نغمہ ’’مرے دل کے صنم خانے میں ایک تصویر ایسی ہے‘‘ ان کی ابتدائی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ بعد ازاں ’’سماج‘‘، ’’سرگم‘‘، ’’گھونگھٹ‘‘ اور ’’انتہا‘‘ جیسی فلموں کے گیتوں نے ان کی شہرت کو دوام بخشا۔ ان کے لکھے ہوئے نغمے مہدی حسن، نور جہاں، ناہید اختر، نصرت فتح علی خان، عدنان سمیع اور دیگر عظیم گلوکاروں نے گائے۔

ریاض ساغر کو نگار ایوارڈ، نیشنل فلم ایوارڈ اور متعدد ثقافتی اعزازات سے نوازا گیا۔ یکم جون 2013ء کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کے گیت آج بھی پاکستانی فلمی موسیقی کے سنہری دور کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ٹرمپ کے بعد روسی صدر چین کے دورے پر

روسی صدر ولادی میر پوتین امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے فوراً بعد بیجنگ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ چینی صدر شی جی پنگ سے اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس دورے میں روس اور چین کے درمیان:

اسٹریٹجک شراکت داری،
توانائی تعاون،
گیس پائپ لائن منصوبوں،
اور عالمی سیاسی صورتحال خصوصاً یوکرین اور تائیوان سے متعلق امور پر گفتگو متوقع ہے۔

کریملن نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ اور پوٹن کے دوروں کا آپس میں براہِ راست تعلق نہیں، تاہم عالمی مبصرین اسے چین کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

ایران امریکہ کے تناظر میں اسکی اہمیت ہے خصوصاً صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے فوراً بعدایران اور امریکہ کے تناظر میں کئی اہم اشارے رکھتا ہے۔چین، روس اور ایران گزشتہ چند برسوں میں ایک غیر رسمی اسٹریٹجک بلاک کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ یہ تینوں ممالک امریکی دباؤ، پابندیوں اور مغربی اثرورسوخ کے مقابل متبادل عالمی توازن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دوبارہ “زیادہ دباؤ”کی پالیسی سخت کرتی ہے تو روس اور چین، ایران کے لیے سفارتی اور معاشی سہارا بن سکتے ہیں۔

خاص طور پر
روس عسکری و سیاسی تعاون بڑھا سکتا ہے۔
چین ایرانی تیل کی بڑی خریدار طاقت بنا رہ سکتا ہے۔پوٹن کا بیجنگ جانا اس بات کا اشارہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ امریکی سفارتی سرگرمیوں کے بعد اپنی پوزیشن ہم آہنگ کر رہے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر کو محدود رکھا جا سکے۔
ایران کے لیے اس اتحاد کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ:
وہ عالمی تنہائی سے مکمل طور پر نہیں کٹتا،
اس کے پاس متبادل تجارتی و دفاعی راستے موجود رہتے ہیں،
اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی فورمز پر اسے روس و چین کی سیاسی حمایت ملتی ہے۔

امریکہ کے زاویے سے دیکھا جائے تو واشنگٹن کے لیے اصل چیلنج صرف ایران نہیں بلکہ چین-روس-ایران کی بڑھتی ہوئی قربت ہے، کیونکہ یہ اتحاد:
ڈالر کی بالادستی،
امریکی پابندیوں،
اور امریکی جغرافیائی اثرورسوخ کو چیلنج کر سکتا ہے۔

اسی لیے عالمی مبصرین اس دورے کو محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ نئی عالمی صف بندی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

برطانیہ کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں بادشاہ یا ملکہ کا پارلیمان سے خطاب ایک نہایت اہم روایت سمجھی جاتی ہے۔ اس خطاب کو عموماً “کنگ سپیچ ” یا “کوئین سپیچ” کہا جاتا ہے۔ جب بادشاہ مرد ہو تو اسے  کنگ سپیچ اور جب تاج پر ملکہ ہو تو “کوئین سپیچ” کہا جاتا ہے۔ یہ خطاب ہر سال پارلیمنٹ کے افتتاح کے موقع پر کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے حکومت آنے والے سال کی قانون سازی، پالیسیوں اور قومی ترجیحات کا اعلان کرتی ہے۔

یہ روایت کئی صدیوں پرانی ہے۔ برطانیہ میں بادشاہت اور پارلیمان کے تعلقات وقت کے ساتھ بدلتے رہے، مگر پارلیمان سے شاہی خطاب ہمیشہ ریاستی اہمیت کا حامل رہا۔ ابتدائی زمانوں میں بادشاہ خود حکومتی فیصلے کرتے تھے، لیکن جمہوری ارتقا کے بعد بادشاہ یا ملکہ آئینی سربراہ کی حیثیت اختیار کر گئے۔ اب یہ خطاب دراصل منتخب حکومت کی پالیسیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جسے بادشاہ رسمی انداز میں پارلیمان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

اس تقریب کا انعقاد عموماً ہاوس آف لارڈز میں ہوتا ہے جہاں برطانیہ کی پارلیمان قائم ہے۔ بادشاہ خصوصی شاہی لباس پہن کر ایک شاندار جلوس کے ساتھ ایوانِ بالا، یعنی ہاؤس آف لارڈز، پہنچتے ہیں۔ اس موقع پر تاریخی روایات کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ شاہی تاج، مخصوص لباس، قدیم رسومات اور سیکیورٹی کے انتظامات اس تقریب کو منفرد بنا دیتے ہیں۔

تقریب کی ایک اہم روایت “بلیک راڈ” سے متعلق ہے۔ جب بادشاہ خطاب کے لیے تیار ہوتے ہیں تو شاہی نمائندہ ہاؤس آف کامنز کو طلب کرنے جاتا ہے۔ روایت کے مطابق ہاؤس آف کامنز کا دروازہ اس کے منہ پر بند کر دیا جاتا ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ پارلیمان آزاد ہے اور شاہی اختیار سے بالا تر ہو چکی ہے۔ اس کے بعد  دروازے پر دستک دیتا ہے اور ارکانِ پارلیمان کو ہاؤس آف لارڈز میں مدعو کیا جاتا ہے۔

برطانیہ کی تاریخ میں بعض خطابات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر دوسری جنگِ عظیم کے دوران شاہی خطابات نے قوم کے حوصلے بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح جدید دور میں بھی یہ خطاب ملکی معیشت، خارجہ پالیسی، صحت، تعلیم اور سلامتی جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔

ستمبر 2022 میں ملکہ الزبتھ کے انتقال کے بعد شاہ چارلس سوئم برطانیہ کے بادشاہ بنے۔ ان کے دور میں پہلا شاہی خطاب نومبر 2023 میں ہوا، جس میں حکومت کی آئندہ پالیسیوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔ یہ خطاب اس لیے بھی تاریخی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ تقریباً سات دہائیوں بعد کسی بادشاہ نے پارلیمان سے خطاب کیا تھا۔

برطانیہ کے شاہی خطاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اگرچہ بادشاہ یا ملکہ یہ تقریر پڑھتے ہیں، لیکن اس کا متن حکومت تیار کرتی ہے۔ اس طرح یہ خطاب دراصل حکومت کے سیاسی ایجنڈے کا سرکاری اعلان سمجھا جاتا ہے۔ خطاب کے بعد پارلیمان میں اس پر کئی دن تک بحث جاری رہتی ہے، جس میں حکومت اور اپوزیشن اپنی آراء پیش کرتے ہیں۔

مختصراً، برطانیہ میں بادشاہ کا پارلیمان سے خطاب صرف ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ جمہوری نظام، آئینی روایت اور قومی وحدت کی علامت ہے۔ یہ روایت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ برطانیہ میں بادشاہت اور جمہوریت ایک متوازن آئینی ڈھانچے کے تحت ساتھ ساتھ چل رہی ہیں

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

عالمی یوم کُتب ۲۳ اپریل

صفدر ھمدانی

کتب بینی: بدلتی دنیا میں علم کا چراغ

انسانی تہذیب کی بنیاد علم پر استوار ہے، اور علم کا سب سے معتبر وسیلہ کتاب رہی ہے۔ کتاب نہ صرف معلومات کا خزانہ ہے بلکہ یہ شعور، فکر اور بصیرت کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔ مگر آج کے تیز رفتار اور ڈیجیٹل دور میں کتب بینی کا رجحان کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جو ایک فکری المیہ ہے۔

ماضی میں کتاب انسان کی بہترین دوست سمجھی جاتی تھی۔ لوگ گھنٹوں مطالعے میں گزار دیتے اور علم کے نئے جہان دریافت کرتے۔ آج صورتحال مختلف ہے؛ سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز اور فوری معلومات نے توجہ کے دورانیے کو محدود کر دیا ہے۔ نتیجتاً گہرائی کے ساتھ پڑھنے کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔ حالانکہ کتاب کا مطالعہ انسان کو نہ صرف معلومات دیتا ہے بلکہ اس کی سوچ کو وسعت، زبان کو نکھار اور شخصیت کو توازن بھی عطا کرتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آج بھی کتب بینی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ وہاں لائبریریاں آباد ہیں، کتاب میلے سجتے ہیں اور بچوں کو کم عمری سے مطالعے کی عادت ڈالی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قومیں فکری، سائنسی اور معاشی میدان میں آگے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں کتاب سے دوری بڑھتی ہے، وہاں سطحی سوچ، عدم برداشت اور فکری جمود جنم لیتا ہے۔

یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کتاب کی دشمن نہیں بلکہ معاون بن سکتی ہے۔ ای بکس، آڈیو بکس اور آن لائن لائبریریاں مطالعے کو مزید آسان بنا رہی ہیں۔ اصل مسئلہ ذریعہ نہیں بلکہ ترجیح کا ہے۔ اگر ہم سنجیدگی سے مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یہی ٹیکنالوجی علم کے فروغ کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فرد اور معاشرے کی سطح پر کتب بینی کو فروغ دیں۔ والدین بچوں کو کہانیاں سنائیں، تعلیمی ادارے مطالعہ کو نصاب کا لازمی جز بنائیں، اور حکومتیں لائبریریوں کے قیام اور کتابی سرگرمیوں کی سرپرستی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر فرد کو خود بھی یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ روزانہ کچھ وقت کتاب کے لیے مختص کرے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کتاب صرف کاغذ کے اوراق کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ روشنی کا وہ مینار ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم نے کتب بینی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تو نہ صرف ہماری انفرادی شخصیت نکھرے گی بلکہ معاشرہ بھی علم و شعور کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

زندہ ہونے کا ثبوت — ایک کاغذ نہیں، ایک اذیت

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی زندگی ویسے ہی دو دنیاؤں کے درمیان معلق رہتی ہے—ایک دل کی، ایک ضرورت کی۔ مگر اس معلق زندگی میں اگر ہر چھ ماہ بعد “زندہ ہونے کا ثبوت” بھی دینا پڑے، تو یہ صرف ایک انتظامی تقاضا نہیں رہتا، ایک اذیت بن جاتا ہے۔ اس اذیت کا نام ہے: لائف سرٹیفکیٹ۔

پاکستان کا اسٹیٹ بینک اور متعلقہ مالیاتی ادارے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ جن لوگوں سے وہ یہ سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں، وہ کوئی فرضی کردار نہیں بلکہ وہی پاکستانی ہیں جنہوں نے اپنی جوانیاں ملک کے نام کیں، اور اب بڑھاپے میں دیارِ غیر میں بیٹھ کر اپنی پنشن کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ضعیف العمر پنشنر کے لیے ہر چھ ماہ بعد کاغذی کارروائی کے اس پیچیدہ عمل سے گزرنا واقعی ضروری ہے؟

دلچسپ—اور کسی حد تک تکلیف دہ—بات یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر بیرونی ممالک، خاص طور پر مغربی ممالک میں، پنشنرز کے لیے “لائف سرٹیفکیٹ” جیسی کوئی شرط موجود نہیں۔ وہاں ریاست اپنے شہریوں پر اعتماد کرتی ہے اور جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے خود ہی تصدیق کا عمل مکمل کر لیتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں ایک بزرگ شخص کو اپنی زندگی کا ثبوت دینے کے لیے بار بار دربدر ہونا پڑتا ہے۔

مزید ستم یہ کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے اکثر پاکستانی سفارتخانوں یا قونصل خانوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ فیس بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہر شہر میں قونصل خانے موجود نہیں ہوتے، جس کے باعث بزرگ پنشنرز کو طویل سفر کرنا پڑتا ہے—کبھی گھنٹوں، کبھی پورا دن۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو عمر کے آخری حصے میں سہولت چاہتا ہے، یہ مرحلہ کسی امتحان سے کم نہیں۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں، جب ایک بٹن کے دبانے سے بینک ٹرانزیکشنز مکمل ہو جاتی ہیں، جب شناختی تصدیق کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل سسٹمز موجود ہیں، تو پھر لائف سرٹیفکیٹ جیسے معاملے میں پرانے، فرسودہ طریقہ کار پر اصرار کیوں؟

یہ نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ غیر انسانی بھی۔

بیرون ملک مقیم پنشنرز کو اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس عمل کو آسان، قابلِ رسائی اور جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے۔ اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ تمام بینکوں کو واضح ہدایات جاری کرے کہ وہ اپنے پنشنر اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے مخصوص ای میل ایڈریس فراہم کریں، جہاں لائف سرٹیفکیٹ بآسانی بھیجا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، واٹس ایپ جیسے عام اور قابلِ استعمال پلیٹ فارمز کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جائے تاکہ بزرگ افراد بغیر کسی دقت کے اپنی دستاویزات ارسال کر سکیں۔

آج کل کے لائف سرٹیفکیٹس پر کیو آر کوڈ موجود ہوتا ہے، جو تصدیق کے لیے کافی ہے۔ اس کو اسکین کر کے چند لمحوں میں تصدیق کی جا سکتی ہے، تو پھر اصل دستاویز کی جسمانی موجودگی پر اصرار کیوں؟ کیا یہ صرف ایک روایتی ضد ہے یا سسٹم کی سستی؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف سہولت کا نہیں، عزتِ نفس کا بھی ہے۔ ایک بزرگ شخص، جو اپنی زندگی کی آخری دہائیوں میں سکون کا متلاشی ہے، اسے یہ باور کرانا کہ “آپ زندہ ہیں، اس کا ثبوت دیں”، ایک غیر محسوس مگر گہری اذیت ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست کا کام اپنے شہریوں کو سہولت دینا ہے، نہ کہ انہیں غیر ضروری پیچیدگیوں میں الجھانا۔ خاص طور پر وہ شہری جو ملک سے دور بیٹھ کر بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں، انہیں مزید مشکلات میں دھکیلنا کسی طور مناسب نہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایک جامع، ڈیجیٹل اور انسانی بنیادوں پر مبنی پالیسی متعارف کروائے۔ ایک ایسی پالیسی جو نہ صرف پنشنرز کے لیے آسانی پیدا کرے بلکہ پاکستان کے مالیاتی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرے۔

آخر میں سوال صرف اتنا ہے:

کیا ہم اپنے بزرگوں سے یہ بھی آسانی چھین لینا چاہتے ہیں؟

 یا پھر ہم ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں زندہ ہونے کا ثبوت دینا، زندگی سے بڑا مسئلہ نہ بن جائے

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY