دعا
جو میرے جسم پہ رکھا ہے میرا سر کردے
،، مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے ،،
قلم اٹھاؤں تولکھوں میں تیری عظمت کو
مرے یقین کو تو میرا ہم سفر کر دے
رہوں میں غیرتِ ایماں کی بادشاہی میں
حیا سے عشق میں تو زندگی بسر کر دے
مری نگاہ کو توفیقِ حق شناسی دے
زباں کو حق کی گواہی میں تیز تر کر دے
میں تیری بندہ نوازی کا معترف ہوں بہت
ہلال رزق ہی میرے شکم کو بھر کر دے
ہے خوف موت کا مجھ کو نہ فکر فاقے کا
نبیؐ سے عشق میں روشن تو میرا گھر کر دے
مری زبان پہ گل ہوں، لبوں پہ گلشن ہو
مری حیات کو آئینہ ء بشر کر دے
،،،،،،،،،،،،
گل بخشالوی
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
خدا صرف ایک ہے!
گل بخشالوی
جانتے ہیں ہردور یزید میں غلام ابن غلام کو جینے اور بندوق کے سائے میں حکمرانی کا حق حاصل ہے
کبھی کبھی تاریخ کے اوراق چیخ چیخ کر کچھ بتانا چاہتے ہیں، لیکن ہم انہیں خاموشی سے پلٹ دیتے ہیں۔
1974 کی لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس، بظاہر تو مسلم اُمّت کے اتحاد اور بیداری کا تاریخی لمحہ تھا، لیکن اگر آپ غور کریں تو اس کانفرنس سے جڑی ہر کہانی اپنے اندر ایک خونی انجام رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض اتفاقات کی ایک لڑی تھی؟ یا پھر ایک خوفناک اور گہری سازش تھی جس کا مقصد مسلم دنیا کے جاگتے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا تھا _ذرا سوچئے! اس کانفرنس کا سب سے بڑا علمبردار سعودی عرب کا شاہ فیصل، جو مسلمانوں کی وحدت کا سب سے بلند آہنگ تھا، اُسے صرف ایک سال بعد خود اُس کے بھتیجے نےشہید کر دیا ۔ کیا یہ محض اتفاق تھا؟ یا کوئی پیغام تھا ان تمام مسلم راہنماؤں کے لیے جو اُمت کی یکجہتی کی بات کرنے لگے تھے؟
شیخ مجیب الرحمن، جنہوں نے پہلی بار اسلامی کانفرنس میں شرکت کی، ایک سال بعد ہی اپنی فیملی سمیت شہید کر دیے گئے۔ پھر باری آئی پاکستان کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی – کانفرنس کے میزبان، جو پانچ سال بعد تختہ دار پر جھول گئے۔ کیا یہ بھی ایک قدرتی حادثہ تھا
انوارالسادات، مصر کے صدر، اسلامی دنیا میں ایک بااثر شخصیت، انہیں ایک سرکاری پریڈ کے دوران گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ لیبیا کے معمر قذافی، جو اسلامی بلاک کے قیام کے خواہاں تھے، انہیں 2011 کی بغاوت میں بے دردی سے شہید کیا گیا۔ یاسر عرفات، جنہوں نے ہمیشہ فلسطین اور مسلم اتحاد کی بات کی، اُنہیں خاموشی سے زہر دےکر شہید کردیا گیا۔
اگر ہم ان سب اموات کو جوڑ کر دیکھیں، تو ایک سنگین اور پُر اسرار کہانی ہمارے سامنے آتی ہے۔ ایک ایک کر کے تمام رہنما جو مسلم دنیا کو متحد کرنا چاہتے تھے، یا تو قتل ہوئے، یا اقتدار سے ہٹا دیے گئے، یا پھر سازشوں کے ذریعے خاموش کر دیے گئے۔
مسلہ مسلمان ممالک نہیں مسلہ مسلم دنیا کا ایک پلیٹ فارم ایک کرنسی اور طاقت بن کر ابھرنا ہے کیونکہ یہی متحد مسلم طاقت ہی عالمی صیہونی ورلڈ آرڈر کو زمین بوس کر سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ آل سعود کو حجاز کی حکمرانی تو دے دی گئی لیکن ان کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ خود کو خلیفہ یا خلافت کا دعویٰ دار بنائیں یا اس کے قیام کی کوشش کریں امریکہ اور اس کے حواری خلافت سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ ابھی دو دن پہلے ہی صدر ٹرمپ نے نئے بھارتی نژاد مسلم مئیر کے امیدوار پر الزام لگایا کہ یہ خلافت قائم کرنا چاہتا ہے ان ممالک کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسلم دنیا کو خلافت یا ایک جھنڈے تلے کوئی مضبوط پلیٹ فارم یا کلب بنانے نہیں دینا جو بھی اس کی آواز بلند کرے اسے راستے سے ہٹا دیا جائے۔ جس کی تابندہ مثال عمران خان ہے ،وہ آج امریکہ کو ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کے جرم میں پابند سلاسل ہیں اور اس کی پارٹی کے درباری قومی ، صوبائی اسمبلیوں یا سینٹ میں بولتے ہیں لیکن سڑک پرعوام کی قیادت نہیں کرتے ، اس لئے کہ ان کا حکمران طبقے سے صرف بولنے کی حد تک کا معاہدہ ہے ، پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے ، پاکستان کے مختلف شہروں سے اپنے دیس میں جمہوریت کی حکمرانی کے لئے زندہ ضمیر قوم کے وطن دوست آواز حق کا پرچم لے کر بارود کی برسات میں نکلتے ہیں وہ راہ حق میں شہید ہوتے ہیں ، اور مغرب کے غلام ان کی بے گور کفن پر حکمرانی کا جشن مناتے ہیں ۔ جانے وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اپنے وقت کا فرغون بھی خدائی کا دعویدار تھا لیکن اپنی موت کے وقت کو ٹال نہیں سکا ، اس لئے کہ خدا صرف ایک ہے ،
,,,,,,,,,,,,,,,,,
کھاریاں ضلع بناؤ
کھاریاں ضلع بناؤ تحریک کے رہنما ممبر پروفیسر راجہ شہزاد احمد لکھتے ہیں
حق دو کھاریاں کو ، اس لیے کہ
پنجاب کے گیارہ اضلاع کی آبادی ،مجوزہ ضلع کھاریاں (تحصیل سرائے عالمگیر+تحصیل کھاریاں+تحصیل ڈنگہ ) سے کم ہے ،ضلع کھاریاں کیوں ضروری ہے ؟
آئیے ابادی کے لحاظ سے جائزہ لیتے ہیں
تحصیل کھاریاں+تحصیل سرائے عالمگیر کی مشترک آ بادی قریب ترین انسان شماری کے مطابق 12,58,245یعنی ساڑھے بارہ لاکھ سے زائد ہے جبکہ انتہائ دلچسپ اور حیرت ناک بات یہ کہ پنجاب کے مندرجہ زیل اضلاع کی کل آبادی مجوزہ ضلع کھاریاں (تحصیل کھاریاں، مجوزہ تحصیل ڈنگہ اور تحصیل سرائے عالمگیر) سے کم ہے ضلع لیہ (تین تحصیلیں ) گیارہ لاکھ اکیس ہزار نو سو اکاون ، ضلع بھکر (چار تحصیلیں ) دس لاکھ اکاون ہزار چار سو چھپن ، ضلع حافظ آباد (دوتحصیلیں ) آٹھ لاکھ انتیس ہزار نو سو اسی ، ضلع راجن پور (تین تحصیلیں ) گیارہ لاکھ تین ہزار چھ سو اٹھارہ ، ضلع لودھراں (تین تحصیلات ) گیارہ لاکھ اکہتر ہزار آٹھ سو ، ضلع چنیوٹ (تین تحصیلات ) نو لاکھ اکاون ہزار ایک سو چوبیس ۔ ضلع وہاڑی (تین تحصیلات ) چھ لاکھ چون ہزار نو سو پچپن ، یعنی مجوزہ ضلع کھاریاں سے تقریبا” آدھی ، ضلع نارووال (دو تحصیلات ) بارہ لاکھ پینسٹھ ہزار ستانوے (تقریبا ” برابر ) ، ضلع میانوالی (تین تحصیلات ) دس لاکھ چھپن ہزار چھ سو بیس ، جبکہ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع کی ابادی ضلع کھاریاں سے کم ہے آزاد کشمیر کا سب سے بڑا ضلع کوٹلی ہے جس کی پانچ تحصیلوں کی کل آبادی چھ لاکھ چالیس ہزار سے کچھ اوپر ہے یعنی مجوزہ ضلع کھاریاں سے نصف ہے ۔
اب زرا حوصلہ کر کے پڑوسی اضلاع کی ابادی کے بارے میں پڑھیے
ضلع جہلم (چار تحصیلات ) نو لاکھ انہتر ہزار نو سو ستاون ، ضلع منڈی بہاؤ الدین (تین تحصیلیں ) گیارہ لاکھ ساٹھ ہزار پانچ سو باون ، یعنی پنجاب کے گیارہ اضلاع ایسے ہیں جن کی ابادی تحصیل کھاریاں و تحصیل سرائے عالمگیر کی مجموعی ابادی سے کم ہے اسی لیے اہل شعور کا مطالبہ ہے کہ تحصیل کھاریاں اور تحصیل سرائے عالمگیر پر مشتمل نیا ضلع کھاریاں تشکیل دیا جائے جس میں ڈنگہ کو تحصیل کا درجہ حاصل ہو تحصیل ڈنگہ کی حدود اتو والی نہر سے پار سارے علاقہ کے علاؤہ کوٹلہ قاسم علی خان تک ہو اس طرح تحصیل کھاریاں و تحصیل ڈنگہ و تحصیل سرائے عالمگیر کے عوام کو دور دراز کا سفر۔ طے کر کے گجرات ضلعی دفاتر میں نہ جانا پڑے
اتنے بڑے علاقے سے حاصل کردہ ٹیکسز اسی علاقے کے عوام کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی پر خرچ ہوں فی الحال تو کھاریاں میونسپل کمیٹی کا عملہ صفائی بھی اکثر اوقات گجرات شہر کی صفائ کے لیے بلا لیا جاتا ہے جبکہ مقامی طور پر بھی صفائ کی اشد ضرورت ہوتی ہے اب تنخواہیں تو میونسپل کمیٹی کھاریاں ادا کرے لیکن کام گجرات میں ہو ؟ کیا یہ نا انصافی نہیں ہے ؟
اگر خیبر پختونخوا کا طائرانہ جائزہ لیں تو مندرجہ ذیل اضلاع کی ابادی مجوزہ ضلع کھاریاں سے کم ہے
چترال ، دیر ، کوہستان ، سوات ، صوابی ، اور پانچوں ایجنسیاں جن کو اضلاع کا درجہ دے کر صوبہ کے پی کے میں ضم کیا گیا ہے ،
بلوجستان میں کویٹہ ,قلات کو چھوڑ کر تمام اضلاع کی ابادی ضلع کھاریاں سے کم ہے
صوبہ سندھ میں ضلع مٹھی ، ضلع تھر پارکر کی ابادی ضلع کھاریاں سے کم ہے
گلگت بلتستان میں گلگت کو چھوڑ کر تمام اضلاع (سکردو ، گانچھے ، وادی یاسین ، طورغر ، ہنزہ وغیرہ ) سب ابادی کے لحاظ سے ضلع کھاریاں سے چھوٹے ہیں
اگر وہ کم ابادی والے علاقے اضلاع بن سکتے ہیں تو (تحصیل کھاریاں ،تحصیل سرائے عالمگیر ، تحصیل ڈنگہ ) کے عوام کا کیا جرم ہے کہ ان کو ضلع کا سٹیٹس حاصل نہیں ؟
یہ مسلمہ اصول ہے کہ ابادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ نئے اضلاع ، نئ تحصیلیں ، نئے ڈویژن اور نئے صوبے بنائے جاتے ہیں تا کہ عوام کی رسائی قریب ترین دفاتر تک ہو اور مقامی وسائل کو۔ اسی جگہ خرچ کیا جائے جہاں سے وہ جنریٹ کیے گئے
یہ فطری مطالبہ اور وقت کی ضرورت ہے مجھے جس فورم پر بلایا گیا میں اعدادوشمار سمیت حاضر ہو کر اپنی بات ثابت کروں گا ان شاء اللہ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کھاریاں اور محکمہ صحت
کالم نگار،،،، گل بخشالوی
پنجاب بھر میں خوبصورتی، صفائی اورانتظامی امور میں نمایاں پوزیشن پرکھاریاں شہر میں برلب جئ ٹی روڈ تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال ، کھاریاں شہر کی شان اور پہچان ہے، اس ہسپتال میں نئے بلاک کی تعمیر اور تزئین وآرائش کا آغازایم ایس ڈاکٹر فاروق بنگش کے دور میں ہوا، ڈاکٹر فاروق بنگش نے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور اپنی مدد آپ کے تحت قابل تعریف ذمہ داری سے ہسپتال کی تزئین و آرائش اور انتظامی امور میں بڑی خوبصورتی سےفرائض اپنے سرانجام دیئے ۔
کھاریاں سے ڈاکٹرفاروق بنگش کےجہلم تبادلے کے بعد ایم ایس ڈاکٹر بلال بن طارق نے ہسپتال کی تزئین و آرائش کا تسلسل جاری رکھا اور جو کمی ڈاکٹر فاروق بنگش سے رہ گئی تھی ڈاکٹر بلال بن طارق نے پوری کر دی آپ کا تبادلہ سرائے عالمگیر ہوا اور ایم ایس کی کرسی پر ڈاکٹر ظفر مہدی جلوہ افروز ہوئے
۔ ڈاکٹرظفر مہدی آج کھاریاں کے ذمہ دار انتظامی ایم ایس ہیں، انہوں نے نہ صرف کھاریاں تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کی خوبصورتی کو برقرار رکھا ہے بلکہ انتظامی امور میں بھی قابل تعریف ہیں، کھاریاں تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میں دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے وہ تمام تر سہولیات موجود ہیں جو محکمہ صحت نے ہسپتال کو فراہم کئے ہیں ،ہسپتال میں ہر ممکن طبعی سہولیات، کوالیفائیڈ ڈاکٹرز سرجنزاورخوش اخلاق نرسنگ سٹاف خوش اسلوبی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں، ایمرجنسی بلاک میں 24 گھنٹے ڈاکٹر اور سٹاف موجود رہتا ہے، صبح آٹھ بجے سے دو بجے دوپہر تک روزانہ کی بنیاد پرمریضوں کی بڑی تعداد ہسپتال میں دیکھی جا سکتی ہے ،ہسپتال کا ہرشعبہ فحال ہے ۔
البتہ شہریوں اورمریضوں کو کچھ شکایات بھی ہیں ،ہسپتال میں کچھ پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو دیکھنے کے لئے ڈاکٹرز موجود نہیں ، ان کی نشستیں خالی ہیں،
ہسپتال میں نوزائیداگان بچوں کی نرسری کے لئے مشینری عرصہ دراز سے ہسپتال میں پہنچ چکی ہے لیکن نرسری فعال نہیں ہو سکی اس سلسلے میں کوئی ایک سال قبل ایم ایس ڈاکٹرظفرمہدی نے بتایا تھا کہ نرسری کو فعال رکھنے کے لئے ہمارے پاس کوالیفائیڈ ڈاکٹرز اورنرسنگ سٹاف نہیں ہے اس کے لئے ہم ضلعی محکمہ صحت سے ہم رابطے میں ہیں
جب کہ کھاریاں کے دانشور حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل ڈاکٹروں کی ضلعی تنظیم کی آنکھ ضلعی محکمہ صحت پرہوتی ہے اگر سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹرز صاحبان کی کمی دور گئی توتحصیل بھر میں پرائیویٹ تاج محل نما ہسپتالوں کے ڈاکٹرصاحبان کہآں سے کھائیں گے ،
جہاں تک بچوں کے نرسری کو فعال کرنے کا سوال ہے تو اگر تحصیل ہڈکواٹرہسپتال کھاریاں میں نرسری فعال ہوگئی تو کہ کھاریاں شہر میں کئی ایک نوزائیدگان کی نرسریاں مالی مشکلات کا شکار ہو جائیں گی !
شہریوں کی اس شکایت کو ایم ایس ڈاکٹر طفر مہدی سوچتے ضرور ہیں لیکن محکمہ صحت سے درخواست کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں، جہآں تک ہم اہل قلم کی بہادری ہے تو ہم مسائل کی نشاندہی کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔ البتہ ڈپٹی کمشنر گجرات نورالعین قریشی سے درخواست ضرور کروں گا کہ وہ ذاتی دلچسپی میں معلوم کریں کہ کھاریاں تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کھاریاں کے طبعی مسائل سے ضلعی محکمہ صحت کی چشم پوشی کی کیا وجہ ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سالار قافلہ کے انٹرویو پر ڈاکٹر نوید اقبال کا تبصرہ
کالم نگار،،گل بخشالوی
پاکستان مسلم لیگ ن گجرانوالہ ڈویژن کے صدراورسابق ایم این اے چوہدری عابد رضا کوٹلہ کے حالیہ انٹرویو پر پروفیسرحافظ ڈاکٹرعلامہ نوید اقبال نےتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری عابد رضا کلوٹلہ نا تواعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اورنہ ھی عالم دین ہیں ورنہ اپنے انٹرویو میں انبیاء کی موروثیت کی مثال نہ دیتے۔ کیونکہ انبیاء۔ منتخب ھوتے ھیں ان میں خدا داد فطری صلاحیت اور اہلیت ھوتی ھے ۔ جب کہ قومی سیاست میں باپ کا نااہل بیٹا اپنے باپ کے بعد سیاست کا جانشین ھوتا ھے۔ کسی مہذب ملک میں ایسا نہیں ھوتا پاکستان میں تو دو نمبر نظام جمہوریت ہے
پروفیسر ڈاکٹرعلامہ نوید اقبال کا سابق ایم این اے چوہدری عابد رضا کوٹلہ کے سابق وزیر اعظم عمران خان نیازی کے سیاسی کردار اورعلمی قابلیت پرتنقید کے ساتھ انبیاء کی موروثیت کے حوالےسے دیئے ہوئے بیان پر جرات مندانہ تبصرہ قابل تعریف ہے، علمائے حق کا یہ ہی مذہبی کردار ہوا کرتا ہے ، پروفیسر علامہ نوید اقبال کے تبصرہ پر نہ صرف حلقہ انتخاب بلکہ ضلع گجرات بھر میں کسی بھی مفتی یا عالم دین نے کوئی سوال نہیں اٹھایا اور یہ ہی اس سچائی کی دلیل اور تائید ہے
عمران خان نیازی آج امریکہ کو ایبسلوٹلی ناٹ کے جرم میں اڈیالہ جیل میں ہیں آپ سے قبل ایشاء کے عظیم لیڈر سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو بھی امریکہ کو آنکھ دیکھانے کے جرم میں وزارت عظمیٰ سے معزول ہوئے گرفتار ہوئے اور انہیں ماورائے عدالت پھانسی دے کر شہید کیا گیا ، آج عمران خان نیازی بھی اڈیالہ جیل میں قدرت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں
عابد رضا کوٹلہ صاحب آپ کا قومی سیاست میں خاندانی حوالے سے ایک مقام ہے ضلع گجرات میں پاکستان پیپلزپارٹی کی شان چوہدری عبدالمالک کی حیات سے آپ کے انٹرویو سے دو دن قبل تک میں نے کوٹلہ ڈیرہ کی سیاست کو کبھی تنقیدی نقطۂ نگاہ سے دیکھا اور نہ ہی قلم اٹھایا، آپ کا قدر دان رہا اس لئے کہ
آپ نے مسلم لیگ ن میں رہ کر مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور سچائی کا ساتھ دیا، ضلع گجرات کے غیرجانب دار خاموش ووٹ بنک آپ کے حسن کردار کے گیت گاتا رہا لیکن آپ نے نجانے کس مصلحت کے تحت میاں محمد نواز شریف کے مقابلے عمران خان نیازی کے سیاسی اور شخصی کردار پر انگلی اٹھا کر اپنے سیاسی وقار اور احترام کومجروح کر دیا، آپ کےدفاع میں آپ کے چاہنے والے بہت کچھ لکھ رہے ہیں لیکن وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتے کہ عمران خان نیازی کون ہیں سوشل میڈیا کے فلاسفر اور سیاسی بونے کیا جانیں قوم اور قوموں کے لیڈرز کی پہچان اورحقیقت کیا ہوتی ہے
آئیں تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیتے ہیں جن کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ عمران خان نیازی کے پاس بیچنے کے لئے کچھ نہیں؛
عمران خان نیازی 25 نومبر 1952 کو پاکستان کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے وہ ایک محب وطن پشتون قبیلے نیازی کے چشم و چراغ ہیں، خادانی ریئس ہیں ، سولہویں صدی عیسوی میں آپ کے آباؤ اجداد میں ہیبت خان نیازی ، شیر شاہ سوری فوج کے معزز جنرل اور پنجاب کے گورنر تھے عمران خان اسی خاندان کے اکرام اللہ خان نیازی کے اکلوتے صاحبزادے ہیں آپ کی والدہ پشتون برکی قبیلے کی بیٹی ہے یہ وہ خاندان ہے جس میں نہ صرف قومی شعور بیدار ہے بلکہ کرکٹ کی تاریخ میں ماجد خان اور جاوید برکی جیسے وہ عظیم کرکٹر پیدا کئے جنہوں نے کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کا نام روشن کیا ورلڈ کپ جتوانے والی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان تھے، تاریخ کے اوراق کھولیں تو آنکھیں کھل جائیں گی ،
عمران خان نیازی نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ چلے گئے رائل گرامر سکول میں تعلیم کے حصول کے بعد اوکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاسیات۔ فلسفہ اور معا شیات کے مضامین میں گریجوایشن کی ، 1974 میں اوکسفرڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے ، 1990کی دہائی میں عمران خان نے کھیلوں کے لئے یونیسیف کے خاص نمائندے کے طور پر بنگلہ دیش ،پاکستان،، سری لنکا۔ اور تھائی لینڈ میں صحت اور1990 میں امیجریشن پروگراموں کو فروغ دیا ،عالمی کرکٹ کپ 1992 کے بعد عمران خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے کر سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا ، اور اپنی والدہ شوکت خانم کے نام پر شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کی بنیاد ر کھکر پاکستان کے پہلے اور واحد کینسرہسپتال کی تعمیر کے لئےپوری دنیا میں 25 ملین ڈالر سے زائد عطیات اور فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے کینسر ہسپتال بنایا ۔ اس ہسپتال کے لئے زمین اس وقت کے وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف نے عطیہ کی تھی، اپریل 2008 کو عمران خان نے ضلع میانوالی میں میانوالی ترقیاتی ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے نمل کالج کی بنیاد رکھی دسمبر 2005 میں نمل کالج کوبریڈفورڈ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ کالج کا درجہ دلوایا ، عمران خان کی فلاحی تنظیم عمران خان فاونڈیشن کے ساتھ بخش فاؤنڈیشن نےڈیرہ غازی خان۔ میانوالی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں روشن گاؤں کی تحریک کا آغاز کیا
فخر پاکستان عمران خان کو حکومت پاکستان نے صدارتی ایوارڈ سے نوازا ،1992 میں انسانی حقوق کےایشیا ء ایوارڈ اور ہلال امتیاز سے نوازا گیا عمران خان بریڈ فورڈ یونیورسٹی برطانیہ کے چانسلر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں
عمران خان نیازی ایک محب وطن پاکستانی ہیں اس لئے برطانیہ کی شاہی زندگی چھوڑ کر پاکستان کو ریاست مدینہ کا خواب لے کر پاکستان چلے آئے غیور قوم نے پاکستان کے غیور بیٹے کو اعتماد کا ووٹ دے کر تخت اسلام آباد پر بٹھا دیا ، لیکن پاکستان کے مغربی غلاموں نے ان کے ساتھ جو سلوک کی اور کیا جارہا ہے دنیا دیکھ رہی ہے لیکن وہ پاکستان کے اس غیور بیٹے کا سرجھکا نہیں سکے وہ اس قول کا اقرار کرتے ہیں کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے
عابد رضا کوٹلہ صاحب جس نواز شریف کے آپ وفاداراس کی والدہ کا تعلق پلوامہ سے تھا آپ کے والد میاں محمد شریف کشمیری صنعت کار اورتاجر تھے آپ کا تعلق کشمیر کے ضلع اننت ناگھ سے تھا میاں محمد شریف کشمیر سے ہجرت کر کے جاتی عمرہ، امرتسر چلے گئے تھے ۔ 1947 میں پاکستان آزاد ہوا تو امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان چلے آئے آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کی ہے
عابد رضا کوٹلہ صاحب آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ ضلع گجرات میں مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن نے آپ کے سیاسی کردار کے شاہین کے پر کاٹ دئیے ہیں
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
میں پاکستانی ہوں غلاموں کا غلام نہیں
لالہ موسیٰ سیورج منصوبہ ، مسلم لیگ ن نےافتتاح کر کے ضلع گجرات میں مسلم لیگ ق کو آئینہ دیکھا دیا فارم 47 کے منتخب مسلم لیگ ن کے ایم این اے چوہدری نصیرعباس سدھ نے منصو بے کا افتتاح کرکے ضلع گجرات میں مسلم لیگ ن کی سیاست کے چراغ روشن کر دیئے ، افتتاحی تقریب میں ضلع بھرکے مسلم لیگی کاکنوں کے ساتھ سالار قافلہ عابد رضا کوٹلہ ، مسلم لیگ کے ضلعی صدر نواب زادہ طاہرالملک ، سابق ایم پی اے چوہدری شبیر احمد کوٹلہ، سابق ایم این اے ملک محمد حنیف اعوان ،سابق ایم پی اے میاں طارق محمود ڈنگہ ، چوہدری علی وڑائچ کلا چور۔چوہدری ولایت اللہ اویس ڈوئیاں ، سابق مئیر گجرات ناصرمحمود ، سابق ایم پی اے میجر معین نواز، سابق ایم پی اے نوابزادہ حیدرمہدی، چوہدری محمد اقبال دیونہ، اسسٹنٹ کمشنراحمد شیر گوندل مسلم لیگ ن کے دوسرے مرکزی رہنماؤں کے ساتھ افتتاحی تقریب میں موجود تھے
چند رو ز قبل 6 ارب کے اس منصوبے کے افتتاح پر مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق آمنے سامنے تھے لیکن مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت دو کشتیوں کی سوار ہے اس لئے صوبائی حکومت نے کوئی مداخلت نہیں اور مسلم لیگ ق نے ہار مان لی ۔
افتتاحی تقریب پر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق نے سوشل میڈیا پر اپنے بیانات میں مسلم لیگ ن کے ضلعی رہنماؤں کے سیاسی کردار پر انگلی اٹھا کر اپنا رانجھا راضی کر لیا ، پیلپز پارٹی ضلع گجرات کے صدر میاں فخرمشتاق پگانوالہ کہتے ہیں، مسلم لیگ ن کی ڈویژنل قیادت اور ضلعی قیادت کے قول فعل میں تضاد ہے مسلم لیگ ق کا فارم 47 نامنظوراورمسلم لیگ ن کا فارم 47 منظور، مسلم لیگ ن ہمیشہ دوغلی سیاست کا سہارہ لیا کرتی ہے ، مسلم لیگ ن کی حکمرانی ، پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے ووٹوں پر قائم ہے اس کے باوجود ان ہی جماعتوں کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے ، ضلع گجرات کے ممتاز سیاسی رہنما سید خالد حسین شاہ نے مسلم لیگ ن کی ڈویژنل اور ضلعی قیادت کے دوہرے معیاراورقول فعل میں تضاد پرکھڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم ن کی مقامی قیادت کی منافت کھل کرسامنےآ گئی ہے ایک طرف یہ قیادت چوہدری شافع حسین کی موجودگی کا بہانہ بنا کروزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ گجرات کی تقریب کا بائیکاٹ کرتی ہے انہیں فارم 47 والے کہہ کر مسترد کرتی ہے اور دوسری طرف وہی مسلم لیگی قیادت لالہ موسیٰ میں سیورج منصوبے کا افتتاح ان کے ساتھ کررہی ہے جو خود اسی فارم 47 کی پیداوار ہیں،
سید خالد حسین شاہ اور میاں فخر مشتاق پگانوالہ کا اعتراض اپنی جگہ لیکن چوہدری عابد رضا کوٹلہ نے مسلم لیگ ن کی قومی اور صوبائی قیادت اور ان کی فارم 47 کی حکمرانی پرکھبی تنقید نہیں کی ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن ضلع گجرات میں مسلم لیگ ق کی باد شاہی کو تسلیم نہیں کرتے ، انہوں نے اس حوالے سے اگر مسلم لیگ ق پر تنقید کی ہے اگر انہیں ضلع گجرات میں تسلیم نہیں کرتے تواس لیے کہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ق۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے مقابلے تیسری پوزیش تھی لیکن پاکستان پر ازل سے حکمرانی کرنے والوں نےعوام کا مینڈیٹ چوری کر کے مسلم لیگ ق کو گجرات کا بادشاہ بنا دیا اورعابد رضا کوٹلہ ان کی بادشاہی تسلیم نہیں کرتے ‘ اگر دیکھا جائےتو یہ ہی سچ ہےلیکن پاکستان میں سچائی تو ناقابل معافی جرم ہے اور اسی جرم میں پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی تحریک انصآف کی اعلیٰ اور اپنے چاہنے والوں کے ساتھ زندانوں میں قید ہیں۔۔۔
کھاریاں کے مسائل کے حوالےجب بھی حکومت کی ناآصافیوں پرقلم اٹھاتا ہوں توغلام ذہن کے پٹواری میری تحریرپرتنقید کی بارش کردیا کرتے ہیں ،بیرون پاکستان برنالی کے صفدر برنالی اور کئی ایک پٹواریوں نے لکھا ہے کہ کھاریاں کے شہریوں اورتم نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے مسائل کا مطالبہ سالار قافلہ سے کیوں، لیکن غلام ذہن کے پٹواری نہیں جانتے کہ بلدیاتی انتخابات میں ، میں مسلم لیگ ن کے سٹیج پر ہوا کرتا ہوں عابد رضا کوٹلہ کھاریاں سب ڈویژن کی شان اور پہچان ہیں ۔ حلقہ انتخاب کےسالار قافلہ ہیں اوروہ خود تسلیم کرچکے ہیں کہ ان کے خاندان نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے ۔ اس لئے پٹواریوں سے درخواست ہے کہ کہ اگر میں کھاریاں کےمسائل پرقلم اٹھاتا ہوں تو اس کی تائید کیاکریں ،کھاریاں میرے باپ کا شہر ہے اورنہ ہی میں سیوریج کے مسائل سے دوچار ہوں یہ کھاریاں کے اجتماعی مفاد کا مسلہ ہے ،میں اپنی تحریوں پر تنقید سے بے پروا ہوں
مجھے فخر ہے کہ پاکستانی ہوں اور غلاموں کا غلام نہیں !!
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عابد رضا کوٹلہ کی مذا حمتی سیاست !
کالم نگار ، گل بخشالوی
پاکستان مسلم لیگ ن گجرانوالہ ڈو یژن کے صدر اور ضلع گجرات کے محبوب مسلم لیگی رہنما چوہدری عابد رضا کوٹلہ باغی سیاست میں اپنی پہچان بن چکے ہیں ، عابد رضا کوٹلہ مسلم لیگ ن میں رہ کر مسلم لیگ ن کی سیاست پر برملا انگلی اٹھاتے ہیں اور یہ ہی ایک اصول پرست سیاست دان کی شان اور پہچان ہے
چوہدری عابد رضا کوٹلہ کی سیاست پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ اگر انہیں مسلم لیگ ن کی سیاسی پالیسی سے اختلاف ہے تو پارٹی چھوڑ کیوں نہیں دیتے ، لیکن شاید ایسی سوچ رکھنے والے نہیں جانتے کہ پارٹی میں رہ کر پارٹی کی پالیسی پر تنقید ہی تعمیری سوچ ہے ۔ ویسے بھی اگر چو ہد ری رضا کوٹلہ مسلم لیگ ن کو چھوڑ دیں تو کس سیاسی جماعت میں شامل ہوں گے ، موجودہ قومی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ تمام قومی ، علاقائی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ایک دستر خوان پر پاکستان دشمن قوتوں کی غلام ہیں ، ایسے میں تحریک انصاف میں شمولیت کا مشورہ دینے والے شاید نہیں جانتے لیکن عابد رضا کوٹلہ بخوبی جانتے ہیں کہ تحریک انصاف میں شمولیت کا مطلب ، آ بیل مجھے مار والی با ت ہے، ہر باکردار پاکستانی جانتا ہے کہ پہلے تو چوہدری عابد رضا کو ٹلہ کے خلاف بنیاد جرائم کے مقدمات درج ہوں گے ، ان کے خلاف پہلے درج مقدمات کی بند فائیلیں کھلیں گی اور بہت ممکن ہے کسی بے بنیاد مقدمے میں انہیں راستے سے ہٹانے کے لئے دس پندرہ سال کی قید بھی ہو جا ئے ، اس لئے وہ جان کی امان کے لئے مسلم لیگ ن میں رہ کر حق اور صداقت کے حوالے سے بہت کچھ کہہ رہےہیں ، و ہ مسلم لیگ ن کی پالیسیوں سے باغی ضرورہیں لیکن بغاوت نہیں کریں گے ، چوہدر عابد رضا کو ٹلہ کہتے ہیں ، 2018 کےالیکشن میں بھی دھاندلی ہوئی تھی اور 2024 کے الیکشن میں تو الیکشن کمیشن نے دھاندلی کی تاریخ رقم کی تھی اس لئے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل میں بھی کوئی مثالی الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ، میں اپنی قومی سوچ اور اپنی استطاعت کی آخری حد تک ظلم و جبر کے خلاف مذاحمت کی پالیسی جاری رکھوں گا
چوہدر عابد رضا کوٹلہ کہتے ہیں کہ2024 کےدھاندلی زدہ الیکشن میں آٹھ آٹھ ہزار ووٹ لینے والےوزیر بنے پھرتے ہیں ضلع گجرات کا ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ مسلم لیگ ق کے امیدوار ہر انتخابی حلقے میں تیسرے اور چوتھے نمبر پر تھے لیکن وہ ہارکر بھی جتوا د یئے گئے ، جو کہ ایک قومی سنگین جرم ہے ،
اس لئے پاکستان کے خوبصورت مستقبل ، جمہوریت کی حکمرانی اور مثبت تبدیلی کے لئے وطن دوستوں کو مذاحمت کرنا پڑے گی جب تک عوام مذا حمت نہیں کریں گے اپنے ووٹ کی حفاظت نہیں کریں ، تب تک موجود ہ کرپٹ نظام حکمرانی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے والوں اور ووٹرز کا سودا کرنے والو ں کا محاسبہ کرنا ہو گا !
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عمران خان رہائی فورس
کالم نگار؛ گل بخشالوی
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئر مین عمران خان جیل میں ہیں انہیں ان کے ذاتی معالج سے بھی نہیں ملنے دیا جارہا ہے ، عمران خان کے دلیر سپاہی ایک بیان دیتے ہیں تو قلم فروش اس بیان کی پارٹی ذرائع سے یا باوثوق ذرائے سے تشریح کرتے ہیں اور ان کی اس تشریح کو سوشل میڈیا میں عمران خان کے چاہنے والے بڑھا چڑھا کر پوسٹ کرتے ہیں جس سےحکومت وقت اور ان کے درباریوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں اور ان کی اس بے چینی اور واویلے میں عمران خان کی وطن دوستی کی سوچ کو چار چاند لگ جاتے ہیں،
اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف میں کئی ایک میر جعفر ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کے نقاب میں ان میر جعفروں کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں اس لئے کہ عمران خان پاکستان کے عام باشعور عوام کے دلوں کی دھڑکن بن چکے ہیں
رمضان المبارک سے قبل عمران خان کے چاہنے والوں کو دنیا بھر میں دنیا بھر نے جوش و خروش میں سڑکوں پر دیکھا یہ ہی ایک عالمی لیڈر کی شان اور پہچان ہوتی ہے
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے پریس کانفرنس میں کسی درباری صحافی نے سوال کیا ، کہ آپ کوخیبر پختون خوا کی وزارت اعلیٰ سے ہٹایا جا رہا ہے تو آپ نے جواب میں کہا جس سے آپ نے سنا ہے یہ سوال جا کر اس سے کریں کہ کون ایسا چاہتا ہے، لیکن یاد رکھنا، عزت اور ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے، میرا لیڈر جیل میں ہے لیکن دنیا بھر میں اس کا نام عزت اور احترام سے لیا جا رہا ہے اور جو غاصب اقتدار میں ہیں ان سے متعلق دنیا کیا کہتی ہے آپ لوگ بخوبی جانتے ہیں
عمران خان کے دلیر سپاہی وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی فورس ،، بنائے جانے کا اعلان کیا تھا اور اس اعلان کی تشہیر میں فارم 47 کی غاصب حکومت کے درباری اہل قلم نے بہترین کردار ادا کیا اور کر رہے ہیں
ایک تجزیہ نگار لکھتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک متنازع منصوبے یعنی’’عمران خان رہائی فورس‘‘ قائم کرنے کے اقدام سے روکنے کیلئے مداخلت کی ہے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا ہےکہ براہِ راست اور سینئر پارٹی رہنماؤں کے ذریعے کی جانے والی یہ مداخلت ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان کو رہا کرانے کیلئے ایک مخصوص فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، بیرسٹر گوہر نے دوٹوک انداز میں (وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکو) خبردار کیا کہ کسی بھی ایسے گروپ کا قیام جسے ’’فورس‘‘ کہا جائے، خصوصاً اگر اس کے ارکان سے کسی سیاسی مقصد کیلئے حلف لیا جائے، تو اسے غیر آئینی اور غیر قانونی تصور کیا جا سکتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ اقدام عسکریت پسندی کے دائرے میں بھی شمار ہو۔ ۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نجی سطح پر تسلیم کرتے ہیں کہ اس منصوبے نے مرکزی قیادت میں تشویش پیدا کی، کیونکہ کسی نیم تنظمی ’’فورس‘‘ کی تشکیل پارٹی کو قانونی کارروائی اور محاذ آرائی کو فروغ دینے کے الزامات کی زد میں لا سکتی ہے۔
یہ معاملہ حالیہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں بھی نمایاں طور پر زیر بحث آیا، جہاں شرکاء کو اس موضوع پر عوامی سطح پر تبصرہ نہ کرنے کی ہدایت دی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیادت اس ممکنہ طور پر نقصان دہ اندرونی تنازع کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ واقعہ پی ٹی آئی کے اندر حکمت عملی کے حوالے سے بڑھتے اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب پارٹی ایک پیچیدہ سیاسی ماحول کا سامنا کر رہی ہے، اس وقت بعض رہنما جارحانہ انداز سے متحرک ہونے کے حامی ہیں، جبکہ دیگر محتاط اور قانونی طور پر قابل دفاع راستہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں۔ یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو رہائی فورس قائم کرنے کا آئیڈیا روپوش پی ٹی آئی رہنما مراد سعید نے دیا۔ سہیل آفریدی کو بھی خیبر پختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے منصب کیلئے مراد سعید کا نامزد کردہ امیدوار سمجھاجاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان سہیل آفریدی کو ذاتی طور پر پہلے نہیں جانتے تھے۔
…………………….
عابد رضا کوٹلہ صاحب کوئی فیصلہ کریں
کالم نگار،، گل بخشالوی
مریم نواز بی بی یونیورسٹی آف گجرات تشریف لائیں ، طلباء و طالبات کی اس تقریب میں مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے کون کون لوگ شریک تھے یہ تو بی بی نے بھی دیکھا اور یونیورسٹی کے طلباء اور طالبات نے بھی دیکھا؛ مریم بی بی لیپ ٹاپ تقسیم کرنے تشریف لائیں تھیں لیکن محترمہ نے نہ تو لیپ ٹاپ تقسیم کئے اور نہ ہی طالبات کی خواہش پر ان کے ساتھ تصویر بنوائی۔ مریم نواز صاحبہ تو چلی گئیں لیکن گجرات کی سوئی ہوئی سیاست کو جگا گئیں، یونیورسٹی کی اس تقریب میں مسلم لیگ ق شریک تھی اور مسلم لیگ ن شریک نہیں تھی لیکن اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کےچوہدری سالک حسین ،چوہدری موسٰی الٰہی ۔چوہدری حسین الٰہی،صاحب بھی مریم بی بی کو پنڈال میں نظر نہیں آئے ، البتہ ایم این اے چوہدری محمد الیاس اور ایم این اے چوہدری نصیر عباس سدھو تقریب میں جلوہ افروز تھے محترمہ کی اپنی جماعت مسلم لیگ ن گجرانوالہ ڈویژن کے صدر سابق ایم این اے چوہدری عابد رضا کوٹلہ ، ضلع گجرات کے صدر نواب زادہ طاہرالملک سابق ایم پی اے میاں طارق محمود اور علی ورائچ کلاچورنے یہ کہتے ہوئے تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا کہ ہم تقریبات میں تالیاں بجانے کے لئے نہیں جایا کرتے ، لیکن مسلم لیگ ق کے چوہدری اخلاق رنیاں صاحب کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے دعویدار بائیکاٹ تو تب کریں جب انہیں کسی نے بلایا ہو ، ہماری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی۔،
اب یہ تو وہ جانتے ہیں جنہوں نے بائیکاٹ کیا لیکن جہاں تک ہم گجراتی جانتے ہیں ، وزیر اعظم میاں شہباز شریف جب بھمبرآزاد کشمیر تشریف لائے تھے انہوں نے بھمبر کے ساتھ کوٹلہ ڈیرہ کو اس وقت بھی دعوت نہیں دی تھی ۔ جب مریم نواز صاحبہ گجرات میں سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھنے آئیں تھیں تب بھی مسلم لیگ ن کو نظر انداز کیا گیا تھا اس لحاظ سے اخلاق رنیاں کی بات میں وزن ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسلم لیگ ن گجرات کے دعویدار مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی فہرست میں ،، نا تین میں ہیں اور نا تیرہ میں ،، تو پھر ایسی کون سی خوش فہمی ہے جس کے سہارے خود کو مسلم لیگ ن کے دعویدار عابد رضا کوٹلہ کہتے ہیں کہ میں پارلیمنٹ میں ہوں یا نہ ہوں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کروں گا سیاست عزت کے لئے کرتا ہوں تالیاں بجانے کے لئے نہیں
عابد رضا کوٹلہ صاحب ، آپ تو فارم 47 کی حکمرانی کے پہلے دن سے ضلع گجرات میں مسلم لیگ ق کی سرداری کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں لیکن آپ تسلیم کریں یا نہ کریں آپ کی قومی اور صوبائی قیادت کو آپ کے موقف سے کوئی فرق نہیں پڑا اور نہ پڑے گا اس لئے کہ اگر وہ مسلم لیگ ق کو نظر انداز کر کے آپ کو ساتھ بٹھا لیں تو مرکز اور صوبے میں ان کی حکمرانی جاتی رہے گی وہ پاکستان میں حکمرانی کے لئے لندن سے آتے اور بلوائے جاتے ہیں میاں برادران آپ کے لئے ایسی کوئی قربانی نہیں دے سکتے؛
عابد رضا کوٹلہ صاحب اگر آپ نے واقعی مسلم لیگ ن کی قیادت کو آنکھ دکھانی ہے تو ضلع گجرات میں اپنے وجود کی پہچان کے لئے مسلم لیگ ن کی دی ہوئی دستار اپنے سر سے اتار دیں۔، گجرات میں مسلم لیگ فاروڈ گروپ کا اعلان کر دیں ، آزاد گروپ بنائیں تاکہ آپ کے چاہنے والے بھی گجرات بھر میں آپ کی قیادت میں خود کو منظم کرسکیں آنے والے بلدیاتی انتخابات کے لئے چراغ روشن کرسکیں عملی طور پر قدم اٹھائیں کب تک اخبارات کی سرخیوں میں آپ اپنے اصولوں کے گیت گائیں گے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
الیکشن انجمن تاجران اور سیاست
انجمن تاجران مین بازار کھاریاں کے الیکشن میں شاہین گروپ اپنی آٹھ سالہ بادشاہت کا دفاع نہیں کر سکا ۔ اور باؤجاوید گروپ واضح برتری سے جیت گیا۔ مین بازار میں ووٹروں کی کل تعداد 997 تھی جن میں۔۔956 ووٹ کاسٹ ہوئے ُ۔ ۔8 ووٹ مسترد ہوئے۔ باوجاوید گروپ نے 662 ووٹ حاصل کئے۔ جب کہ مدمقابل شاہین گروپ 326 ووٹ لےسکا اس طرح 296 ووٹوں کی واضح برتری سے باؤ جاوید گروپ نے میدان مارلیا۔
الیکشن بورڈ کے چئیرمین وسیم صراف کے اور ممبران نے بہترین انتظامات کئے جنکے سبب صاف شفاف الیکشن کا عمل ممکن ہوا۔
شاہین گروپ اپنی عبرت ناک شکست پر انگشت بدندان دکھائی دیا اور باؤ جاوید گروپ کے حامیوں نے اپنی جیت کا بھر پور جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر خوب بھنگڑے ڈالے۔ ۔چوہدری منوراقبال تارڑ انجمن تاجران مین بازار کے صدر۔ ۔ملک ناصر بشیر جنرل سیکرٹری اور وقار ڈارفنانس سیکرٹری منتخب ہوئے
الیکشن سے قبل انجمن تاجران مین بازار کھاریاں میں بلدیاتی سیاست حسب سابق عروج پر تھی شاہین گروپ کی قیادت اور عہدیداروں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ،جب کہ باؤ جاوید گروپ کو پی ٹی آئی کا ترجمان بتایا جاتا رہا اور الیکشن کے نتیجے نے اس گمان کو سچ ثابت کر دیا
آٹھ سال قبل انجمن تاجران کھاریاں کے الیکشن میں مسلم لیگ ن ، شاہین گروپ کے شانہ بشانہ رہی باؤ جاوید گروپ کے مقابلے میں الیکشن جیتنے کے بعد ڈنگہ روڈ پر جیت کے جشن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مقامی رہنما خان محمد اسلم خان نے کہا تھا کہ جب تک میرا ہاتھ شاہین گروپ کے شانے پر ہے انہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا ، اس وقت تو شہریوں نے خان محمد اسلم خان کے بڑے دعوے کا مذاق اڑایا تھا لیکن حالیہ الیکشن میں خان محمد اسلم خان نے اپنے دعوے کو سچ ثابت کر دکھایا اس لئے کہ آج کا ووٹر بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتا آج کاووٹر شخصیات اوران کی امارت سے بے پرواہے ، خان محمد اسلم خان معاشرتی زندگی میں نہ صرف جینے فن کا بلکہ سیاسی میدان کا بہترین کھلاڑی بھی ہے گزشتہ بلدیاتی می انہوں نے پی ٹی آئی کے منہ سے چیئر مینی کا نوالہ چھین کرمسلم لیگ ن کو کھلایا تھا
انجمن تاجران کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے خان محمد اسلم خان ، مرالہ خاندان ، اسفند یارعلی ، ملک اختر ، جماعت اسلامی ، پی ٹ آئی کے ناصر احمد چھپر ، اور کھاریاں بار ایسوسی ایشن کے ممتاز وکلاء نے باؤ جاوید گروپ کا ساتھ دیا ، اگر یہ کہا جائے کہ کھاریاں کی بلدیاتی سیاست نے کھاریاں شہر میں مسلم لیگ ن کے کچھ بڑوں کو تنہا کر دیا تو غلط نہیں ہو گا،
کھاریاں شہرکے نوجوان ماہر تعلیم اور کھاریاں پریس کلب کے اہم ممبر ثاقب محمود اعوان نےانجمن تاجران مین بازار کھاریاں کے الیکشن کے حوالے سے چوہدری رحمان نصیر مرالہ کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے لکھتے ہیں
22 جنوری کو ڈنگہ روڈ پر ہونے والے تاجر الیکشن اور 12 فروری کو مین بازار کے الیکشن میں چوہدری رحمان نصیر مرالہ اور دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت کی بھرپور مداخلت کو ایک اہم عنصر قرار دیا گیا بظاہر یہ الیکشن غیر سیاسی نوعیت کے تھے مگر مقامی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال واضح طور پر محسوس کیا گیا ان کی سرپرستی میں باؤ گروپ کو منظم اور مضبوط حمایت ملی جس کے نتیجے میں وہ واضح اکثریت سے کامیاب ہوا
دوسری جانب ایسے افراد بھی سامنے آئے جو گزشتہ سات، اٹھ برس سے تاجر برادری کی خدمت کر رہے تھے اور خود کو غیر سیاسی بنیادوں پر امیدوار سمجھتے تھے ان کا مؤقف یہ رہا کہ سیاسی طاقت اور سابقہ ایم این اے کی حیثیت نے مقابلے کو غیر مساوی بنا دیا یوں یہ تاثر پیدا ہوا کہ مقابلہ دراصل تاجر اور بااثر سیاسی شخصیات کے درمیان تھا اور نتیجہ سیاسی طاقت کے حق میں نکلا ناقدین کے مطابق اس عمل نے مقامی تاجر سیاست کو تقسیم کیا اور ذاتی مداخلت کے باعث ایسے امیدواروں کو شکست ہوئی جو خدمت کے تسلسل کو بنیاد بنا کر میدان میں اترے تھے
اس صورتحال نے کھاریاں کی مقامی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا غیر سیاسی پلیٹ فارم پر ہونے والے انتخابات میں فعال سیاست دانوں کو کس حد تک کردار ادا کرنا چاہیے ، حامی اسے قیادت اور تنظیم سازی قرار دیتے ہیں جبکہ مخالفین اسے غیر ضروری سیاسی مداخلت سمجھتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ چوہدری رحمان نصیر آج بھی ضلع گجرات کی سیاست میں ایک مؤثر کردار ہیں اور ان کی مداخلت یا حمایت کسی بھی انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے یہی اثر و رسوخ ان کی سیاسی طاقت کا مظہر بھی ہے اور تنازع کا سبب بھی
,,,,,,,,,,,,,,,,,
ایک خواب ،کھاریاں ضلع بناؤ
ضلع گجرات کی امیر ترین تحصیل کھاریاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شان اور پہچان ہے تحصیل کھاریاں کی سر زمین پر ایشیاء کی سب سے بڑی فوجی چھاونی کھاریاں کا فخر ہے کھاریاں کی ماں دھرتی کے دو سپوت نشان حیدر کے اعزاز سے سرفرازہیں قومی سیاست میں کھاریاں کے تین بڑے خاندانوں مرالہ خاندان , کائرہ خاندان کولیاں۔خاندان اور کوٹلہ برادران کے علاوہ بھی کئی ایک خاندان قومی اور صوبائی سیاست میں اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں ، مرالہ کے سرخاب سابق صدر پاکستان چوہدری فضل الٰہی سابق وفاقی سیکرٹری چوہدری عنایت میراں آف برنالی ( مرحومین) قومی سیاست میں آج بھی تابندہ ہیں ،سابق وزیر خزانہ پنجاب چوہدری تنویر اشرف کائرہ ،سابق وزیراور سابق گورنرگلگت بلتستان چوہدری قمر زمان کائرہ ۔سابق وزیر اعلیٰ میاں افضل حیات ، سابق ڈی آئی جی چوہدری سجاد احمد آف میانہ چک ، سابق چیئر مین نیب چوہدری قمرزمان کھاریاں سب دویژن ہی کے سپوت ہیں
آج بھی قومی سیاست میں چیف سیکرٹری پنجاب ،چوہدری محمد افصل آف گنجہ ، فخر پاکستان ایئر چیف مارشل چوہدری ظہیر بابر سدھو ، ممبر قومی اسمبلی چوہدری نصیر عباس سدھو ،چیئر مین سیکورٹیز ایند ایکسچنج کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر کبیر احمد سدھو ، مسلم لیگ ن گجرانوالہ ڈویژن کے صدر سابق ایم این اے چوہدری
عابد رضا کوٹلہ کھاریاں سب ڈویژن کی شان اور پہچان ہیں
پاکستان مسلم لیگ ن لائیرزونگ برطانیہ کے صدر چوہدری عنصر محمود ایڈووکیٹ ، پاکستان فریندز شپ فیڈریشن کے چیئر مین اوورسیز کے ترجمان پرویز اقبال ٓلوہسرجیسے قد آور شخصیات ہم کھاریاں سب ڈویژن کے باشندوں کے لئے قابل فخر ہیں کھاریاں سب ڈویژن کے یہ وہ قابل ذکر شخصیات تھے اور ہیں جنہیں کھاریاں کے باشندوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا لیکن خود پرستی کے اس دور میں ان نامی گرامی شخصیات نے ذاتی مفادات اور خاندانی خوشحالی کی سوچ میں کھاریاں کے عوام کو ہمیشہ نظر انداز رکھا ، بنیادی حقوق سے محروم رکھا اور رکھے ہوئے ہیں ،
کھاریاں سب ڈویژن کی بنیادی ضروریات کو انگلیوں پر نہیں گنا جا سکتا ۔
کھاریاں سب ڈویژن کے وقار سے محبت کرنے والے کچھ باہمت شہری کھاریاں ضلع بناؤ تحریک ۔ کے پلیٹ فارم سے گذشتہ کئی سال سے مطالبہ کر رہے ہیں ، کہ سرائے عالمگیر اور کھاریاں دو تحصیلوں پر مشتمل کھاریاں کو ضلع بنائیں ، کھاریاں ضلع بن جانے سے عوام بنیادی ضرورتوں سے قانونی طور پر مالا مال ہو جائیں گے ،
لیکن ہم شہری بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر ممکن نہیں اس لئے کہ ہم شہری جنہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں وہ ہمیں اپنے قدموں میں بیٹھنے کے لائق بھی نہیں سمجھتے ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران ۔ اعلٰی سے اعلیٰ عہدوں پر تعینات کھاریاں سب ڈویژن کے سپوت اگر خود پرستی اور اپنے خاندان کی خوشحالی کی سوچ سے نکل کر کھاریاں کے بنیادی حقوق کو جان لیں ، تو کھاریاں کی تقدیر بدل سکتی ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
آنگ سان سوچی اور قیدی نمبر 804 ,,کالم نگار ،،، گل بخشالوی
جنوبی مشرقی ایشیا سے بی بی سی کے نامہ نگار جو ناتن ہیڈ لکھتے ہیں ،سخت گیرجنرل ،متنازع سزائیں اور فوجی جیل وہ سابق حکمران جن کی مقبولیت طویل قید بھی ختم نہیں کر پائی میانمار کی آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ فوج نےالٹ دیا تھاجس کے بعد ایسے مختلف مقدمات میں انھیں سزاسنائی گئی
جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ الزامات درست نہیں تھے۔آنگ سان سوچی کی قید کو بہت عرصہ گزر چکا ہے۔لیکن ان کی صحت کے بارے میں کوئی اطلاعات سامنے نہیں آرہی ہیں۔ان کے بیٹے اورخاندان کو بھی جیل میں ان تک رسائی حاصل نہیں۔آنگ سان سوچی کے وکلا کو بھی ان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی اور ان کا واحد رابطہ صرف جیل کے عملے سے ہی ہوتا ہے۔اس دوران فوج نے بھرپور کوشش کی ہے کہ ان کی مقبولیت کو کم کیا جا سکےلیکن آج بھی، طویل قید کے باوجود، ان کی تصاویر عوامی مقامات پر نظر آتی ہیں۔آنگ سان سوچی کی رہائی کے لیے مطالبات کیے جا رہے ہیں اور فوجی جنرلوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ ملک میں جاری طویل تنازع کو بات چیت سے ختم کیا جائے۔ ملک میں ان جیسی قدآور اور کوئی شخصیت موجود نہیں ہےاور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک کو موجودہ بحران سے نکالنا ہےتو یہ آنگ سان سوچی کے بغیر ممکن نہیں۔میانمار میں آنگ سان سوچی جن کی حکومت فروری 2021 میں فوجی بغاوت میں ختم ہونے کے بعد سے ہیانھیں ایک فوجی جیل میں رکھا گیا ہے۔ ان کے بیٹے نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ وہ کس حال میں ہیں‘ تاہم حکمران جنتا کے ترجمان کے مطابق ان کی صحت بلکل ٹھیک ہے۔ حکومت گرنے کے بعد انھیں مختلف مقدمات میں 27 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔لیکن عوام کی نظر سے دور ہو جانے کے باوجود ملک پر ان کا سایہ چھایا ہوا ہے۔ ایسے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا وہ میانمار کی فوج اور عوام کےبیچ جاری تنازع ختم کروانے میں کردار ادا کر سکتی ہیعسکری قیادت کو 2008 کے آئین پر یقین تھا جس کے تحت مستقبل کی پارلیمان میں افواج کو ایک تہائی سیٹوں کی گارنٹی دی گئی تھی۔ان کے خیال میں یہ آنگ سان سوچی کو رہا کرنے کے بعدان کا اثرورسوخ محدود رکھنے کے لیے کافی تھا۔لیکن فوجی جنرل آنگ سان سوچی کی عوامی شہرت کا درست اندازہ نہیں لگا پائے
اور اس بات کا بھی کہ دہائیوں سے جاری فوج کی حکومت کی وجہ سےعوام کی بڑی تعداد کیسے ان سے متنفر ہو چکی تھی۔
2015 کے انتخابات میں یو ایس ڈی پی، جو فوج کی حمایت یافتہ تھی،نے صرف چھ فیصد سیٹیں جیتی تھیں۔ تاہم 2020 میں،جب آنگ سان سوچی کی جماعت کی پانچ سالہ حکومت کی کارکردگی سےبہت سے لوگ مایوس ہو چکے تھے، توقع کی جا رہی تھی کہیو ایس ڈی پی زیادہ نشستیں جیتے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوابلکہ اس بار یہ جماعت صرف پانچ فیصد سیٹیں جیتی۔ایسا ہی کچھ پاکستان میں قیدی نمبر 804 کی کہانی ہے ،رجیم جینج کے بعد تحریک انصاف کے قائد کے ساتھ وہ ہی کچھ ہوااور ہو رہا جو میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی کے ساتھ ہو رہا ہےجعلی حکومت کے نقاب پوش سہولت کاروں کےہر ظلم و جبر کے سامنے سیسہ پلائی دیوارعمران خان کو ہرایا نہیں جاسکا اور نہ جھکایا جا سکا ،وہ جانتا ہے طاقت کا سر چشمہ عوام ہیںعوام عمران خان کے گیت گا رہی ہے اور برملا گا رہی ہےرجیم چینج کے بعد وردی کے زیر سایہ جماعتوں کے اتحاد کو یقین تھاکہ مہنگائی کی وجہ سے تحریک انصاف کا گراف گر چکا ہےانہوں نےجنریلوں کو یقین دلایا کہ تحریک انصاف کا سیاسی گراف گر چکا ہےلیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ حکمرانی سے دور ہونے کے باوجودملک پر عمران خان کا سایہ ہے وہ عوام کے دلوں مین بسنے لگے ہیں اور اس حقیقت کو دنیا نےعام انتخابات میں دیکھا ،رات بارہ بجے تک کے انتخابی نتائج میں دو تہائی اکثریت سےتحریک انصاف کامیاب ہونے جا رہی تھی لیکن وردی کو اپنا کل تاریک نظر آیااور فارم 47 کے جادوئی طاقت نے عوام کو زیرو اور وردی کو ہیرو بنا دیا
جرنیل جان گئے ہیں کہ ملک پرعمران خان کا سایہ چھایا ہوا ہے۔ایسے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا افواج پاکستان کےجرنیلوں اور تحریک انصاف کے درمیان جاری تنازع ختم کروانےمیں درمیانی راستے سے کوئی کردار ادا کیا جا سکتا ہے ؟ تو پاکستانی عوام کی زبان پرجواب ہاں میں ہے ،آج بھی جرنیل پاکستان کے عوام کے دل جیت سکتے ہیں،عوام اور افواج پاکستان خوبصورت
اور پاکستان بھر میں امن کا پیغام ہو سکتے ہیں ،استحکام پاکستان کے لیئےاس کے سوا دوسراکوئی بھی راستہ قو م اور قومیت کی بربادی ہے ،ملک میں عمران خان جیسی قدآور اور کوئی شخصیت موجود نہیں ہے
اور اس حقیقت سے وردی والے بھی انکار نہیں کر سکتےکہ اگر ملک کو موجودہ بحران سے نکالنا ہے تو یہ عمران خان کےبغیر ممکن نہیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مسلم لیگ ن گجرات کے پارلیمنٹیرین ،،،،،،،،،،،،،، کالم نگار،، گل بخشالوی
ضلع گجرات میں مسلم لیگ ن کے چاہنے والے عرصہ دراز سے ضلع گجرات مسلم لیگ ن کے پا رلیمنٹیرین سے مطالبہ کر رہے تھےکہ اگر آپ ضلع گجرات میں مسلم لیگ ق کی اجارہ داری تسلیم نہیں کرتے تو مسلم لیگ ن کے تابناک مستقبل کے لئے کوئی لائحہ عمل سوچیں ،صرف اخبارات کی سرخیوں میں خود کو زندہ رکھنے کا خواب بھول جائیں ،شاید عابد رضا کوٹلہ اور حاجی ناصر محمود اپنے چاہنے والوں کی آواز پر خواب خرگوش سے جاگ گئے ہیں ، بلدیاتی الیکشن ،تنظیمی حکمت عملی ، اور عوامی رابطہ مہم پر مشاور ت کے لئے مسلم لیگ ن ضلع گجرات کے پارلیمنٹیرین کا اجلاس ہوا ،جس میں ڈویژنل صدر چوہدری عابد رضا کوٹلہ چوہدری نصیر عباس سدھو، ملک محمد حنیف اعوان ،نوابزادہ غضنفر گل ، نوابزادہ طاہر الملک ،میاں طارق محمود ،، چوہدری علی وڑائچ کلا چور ،حاجی ناصر محمود، چوہدری علی رضا وڑائچ، چوہدری ذیشان ٹانڈہ ،
چوہدری جعفر اقبال، نوابزادہ حیدر مہدی اور چوہدری کاشف شریک تھےاجلاس میں دوسرے اہم امور پر تبادلہ خیال کے ساتھ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ ن ضلع گجرات میں پوری تیاری کے ساتھ متحد ہو کر عوامی خدمت کے جذ بے کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے گی ،
بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جماعت اسلامی ڈنگہ کے امیر حافظ محمد اد ریس کہتے ہیں کہ پنجاب میں بلدیاتی ایکٹ 2025غیر جمہوری اور لوکل حکومتوں کو بے اختیار کرنے کا منصوبہ ہے ، غیر جماعتی بنیادوں پر انتخاب غیر جمہوری بھی ہے اور منتخب ممبران کی خرید و فروخت کا ذریعہ بھی ،یہ جمہوریت کو گراس روٹ لیول تک لانے کی بجائے ہارس ٹریدنگ کو گراس روٹ لیول تک لانے کا منصوبہ ہےووٹر کو براہ راست یو سی چیئر مین منتخب نہ کرنے کا حق نہ دینا عوامی رائے پر عدم اعتماد کا مظہر اور غیر جمہوری عمل ہے
حافظ محمد اد ریس کہتے ہیں کہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 میں ترمیم کر کے آئین پاکستان کے روح کے مطابق تمام انتظامی، مالیاتی اور سیاسی اختیارات منتخب عوامی نمائندوں کو منتقل کئے جائیں ،
حافظ محمد اد ریس کے خدشات میں کافی وزن ہے وہ غلط نہیں کہتے
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگر صاحب اقتدار دیس اور دیس والوں سے مخلص ہیں تو کیا ہی بہتر ہو گا کہ موجودہ انتخابی نظام کو د فن کر کے متناسب نمائندگی کے نظام کو رائج کیا جائے اس لئے کہ متناسب نمائندگی ایک پاک شفاف انتخابی نظام ہے دنیا بھر کے ماہرین اس امر پر متفق ہیں
کہ متناسب نمائندگی کا نظام زیادہ جمہوری ہے، ۔متناسب نمائندگی کےعمل میں مقابلہ حلقہ وار امیدواروں کی بجائے جماعتوں کے در میان ہوتا ہے
ہر جماعت انتخابی مہم میں اپنا منشور پیش کرتی ہے، قوم جماعتوں کےانتخابی منشور اور کارکردگی کے مطابق اپنا فیصلہ سنا تا ہے
جس جماعت کو جتنے زیادہ ووٹ ملتے ہیں اسی تناسب سے اسے نشستیں الاٹ کردی جاتی ہے
مثلاً اگر ایک لاکھ ووٹ کا مطلب ایک نشست ہو تو جو جماعت بیس لاکھ ووٹ لے گی، اسے اسمبلی میں بیس نشستیں مل جائیں گی۔
سیاسی جماعتیں ووٹنگ کے عمل سے پہلے ایک مقررہ تاریخ تک اپنے امیدواروں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو فراہم کر دیتی ہیں
، انتخابی نتائج کے بعد الیکشن کمیشن مذکورہ جماعت کی نشستوں کے مطابق فہرست میں
بالترتیب ناموں کو پارلیمان کی رکنیت فراہم کر دیتا ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن ایسے ناموں کی فہرستیں موصول ہونے کے بعد ان تمام افراد کو اپنے آئین میں
درج شرائط رکنیت کے مطابق پرکھتا ہے، جو پورا اترتا ہے، رکنیت کا استحقاق اسے ہی ملتا ہے۔
اس نظام انتخاب کا فائدہ یہ بھی ہے کہ پارلیمان تانگہ پارٹیوں سے نجات حاصل کرلیتی ہے
کیونکہ ہرجماعت کا ایک خاص تعداد میں ووٹ لیناضروری ہوتاہے۔ ۔
اس نظام کا دوسرا بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ جماعتی وفاداریوں کی خرید و فروخت کی لعنت سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔
متناسب نمائندگی میں حلقہ وسیع وعریض ہوتا ہے،
اس لیے انتخابی نظام اور پھر اس کے نتیجے میں جنم لینے والاسیاسی نظام بہت سی عصبیتوں سے نجات پالیتاہے۔
جماعتیں ایک مخصوص علاقے یا خطے کی بنیاد پر اپنا پروگرام ترتیب نہیں دے سکتیں
بلکہ انھیں پورے ملک اور پوری قوم کو سامنے رکھ کر اپنا پروگرام وضع کرناپڑتاہے۔
پاکستان کے موجودہ انتخابی نظام میں اکثردیکھا گیا ہے کہ بعض حکومتیں
اپنی مرضی سے اس اندازمیں حلقہ بندی کرتی ہیں جو ان کے فائدہ میں ہوتی ہیں
اور مخالفین کے لیے نقصان دہ۔ متناسب نمائندگی کا نظام ایسی بدعنوانیوں کو روکتاہے۔
اسی طرح اس میں ضمنی انتخابات وغیرہ کا جھنجٹ بھی ختم ہو جاتاہے،
اگرکسی جماعت کا کوئی رکن انتقال کر جاتاہے یا کسی بھی وجہ سے رکن پارلیمان نہیں رہتا
تو پارٹی کی فہرست میں سے اگلے نام کو پارلیمان کی رکنیت کا حق دیدیاجاتاہے۔ یوں ضمنی انتخابات پر خرچ ہونے والا پیسہ بچ جاتاہے۔
پاکستان میں متناسب نمائندگی نظام اختیارکرنے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں میں جماعت اسلامی، تحریک استقلال، پاکستان عوامی تحریک شامل رہی ہیں
۔ پاکستان عوامی تحریک کا کہنا تھاکہ موجودہ نظام اسلامی تصورِ نمائندگی کے سراسر خلاف ہے،
اس کے ذریعے عوامی اکثریت کی نمائندہ حکومت تشکیل نہیں پاتیں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے،
دھن، دھونس اور دھاندلی کا آزادانہ استعمال ہوتاہے، نااہل اور مفاد پرست افراد منتخب ہوتے ہیں،
اس سے علاقائی اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتاہے،کمزور حکومتیں تشکیل پاتی ہیں
اور سیاسی نظام میں عدم استحکام رہتاہے۔ اس نظام میں نمائندوں کا احتساب ممکن نہیں،
نتیجتاً عوام اور رائے دہندگان کی عدم دلچسپی ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔ یہ نظام قومی مسائل کےحل کرنے میں ناکام ثابت ہوتاہے
، متعدد مغربی ماہرین بھی اپنے معاشروں میں یہی نظام اختیارکرنے پر زوردے رہے ہیں۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ پاکستان میں ابھی سے ہی اس نظام کواختیارکر لیا جائے؟
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کھاریاں تو کھاریاں ہے
کالم نگار ،، گل بخشالوی
کھاریاں شہر کے صحافی حضرات سوشل میڈیا میں آپس میں دست و گریباں ہیں ، شہری اپنے شہر میں بنیادی مسائل سے دوچار ہیں،اور انتظامیہ سکون کا باجا بجارہی ہے ، اس لئے کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں جزبہ گروپ کبھی کبھی مسائل کی نشاندہی کر دیا کرتا تھا لیکن وہ بھی کھاریاں پریس کلب کے صحافیوں میں رنگے گئے ہیں ، اسسٹنٹ کمشنر احمد شیر گوندل سے تو ہم شہریوں کا گلہ نہیں اس لئے کہ انہیں شہراور شہریوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، چیف آفیسرخاور جاوید گجردور حاضر کے سیاست دان ہیں،
رہی بات آرار منجمنٹ کی تو وہ وزیر اعلیٰ مریم نواز صاحبہ کی سپیشل ٹیم ہے، انہیں کسی کی شکایت کی کوئی پرواہ نہیں ، اس لئے کہ نیچے سے اوپر تک جب سب درباری ہوں تو انہیں کسی کا خوف نہیں ہوتا،
کھاریاں شہرکے عین درمیان میں جی ٹی روڈ کے ایک طرف گندہ نالا ہے ۔ تحریکِ انصاف کی حکمرانی سے قبل مسلم لیگ ن کی حکمرانی میں مقامی رہنما خان محمداسلم خان اس نالے کو بنوانے کے لئے اس کی کھدائی کی لیکن نالا بنوانا بھول گئے تھے رہی سہی کثرچیف آفیسر مشرف بیگ صاحب نے نکال دی، نالے کی حالت زار پر رحم کے لئے میں نے پہلے بھی ڈپٹی کمشنر نورالعین قریشی سے درخواست کی تھی کہ وہ کھاریاں تشریف لائیں اور خود دیکھ لیں کہ میں جو لکھتا ہوں غلط نہیں لکھتا ،
اپنے شہر کھاریاں میں کئی ایک مسائل ہیں کس کس کا رونا روئیں
گلیانہ روڈ اور جی ٹی روڈ کے سنگم پر اوسلو چوک کو ماڈل چوک اور ساتھ ماڈل پارک بنانے کے لئے سابق چیف آفیسرمشرف بیگ صاحب کام شروع کر چکے تھے اور کام بہت تیزی سے جاری تھا لیکن ان کا تبادلہ ہو گیا اورکھاریاں کے خوبصورت چہرے کے لئے جاری کام ادھورا رہ گیا، اوسلو چوک میں پیاسے پودے خشک ہوگئے اور پارک کے لئے بنایا ہوا پلا ٹ گندگی کا ڈھیر بنتا جارہا ہے
میونسپل کمیٹی کے چیف آفیسر خاور جاوید گجر کے پیش رو مشرف بیگ صاحب سے ایک ملاقات میں گرلزکالج کی پارکنگ میں ٹف ٹائل لگوانے کی درخواست کی تھی اور انہوں نے وعدہ بھی کیا تھا ، لیکن ان کا تبادلہ ہو گیا اور خاور جاوید گجر صاحب تو گرلز کالج کے سامنے سے چشمہ بازار تک نہیں ہٹوا سکے تھے ٹف ٹائل کیا لگوائیں گے ، بیٹیاں تو سب کی سانجی ہوتی ہیں ، دیکھتے بیٹیوں کے احترام کا خیال کن کو آتا ہے
کھاریاں شہرمیں تجاوزات گراؤ مہم میں برق تو صرف عام شہریوں پر گری تھی ،سنگم پلازہ بازار کے ساتھ خان محمد اسلم خان کا بنایا ہوا ماڈل بازار ، گرلز کالج کے خارجی گیٹ کے ساتھ پرانی چنگی مارکیٹ ، اور اللہ والی مسجد کی دکانیں ہی گرائی گئیں تھیں ، لیکن اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں کے آفس سے ڈی ایس پی آفس تک برلب جی ٹی روڈ اسسٹنٹ کمشنر آفس کی چار دیواری ، کالے کوٹ کے دفاتر ،تھانہ صدر اور ڈی ایس پی آفس کی چار دیواری ، الخدمت مرکزآفس جیسی تجاوزات کو انداز کیا گیا ، جی ٹی روڈ کے ساتھ اگر کوئی فروٹ فروش نظر آئے تومیونسپل کمیٹی سے پہلے ہائی وے پولیس انہیں اٹھوا دیتے ہیں لیکن اسسٹنٹ کمشنر آفس سے پولیس تھانہ صدرتک برلب جی ٹی روڈ بارایسوسی ایشن کی کار پارکنگ کی کمائی کا کبھی کسی نے نوٹس نہیں لیا ،
کھاریاں شہرمیں میونسپل کمیٹی کا وسائل پر این ایچ اے کا قبضہ ہے ، جنرل بس سٹینڈ کے ٹھیکیدار کویہ اختیار حاصل ہے کہ اوپر کی کمائی کے لئے جہاں چاہیں ٹھیلے لگوا دیں اور ان سے بھتہ وسول کریں اس لئے کہ دیس بھرمیں اندھیرنگری چھوپٹ راج ہے اس لئے انتظامیہ نے کبھی بھی نوٹس لینے کی ضرورت محسوص نہیں کی ، یہ ہی وجہ ہے کہ ڈنگہ روڈ اور جی ٹی روڈ کے سنگم پر ٹریفک عام طورجام رہتی ہے اس لئے کہ جنرل بس سٹینڈ کے داخلی راستے پر ٹھیلے اور رکشا راجاؤں کا راج ہے ، ٹریفک سارجنٹ صاحبان سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن انہیں اس لئے کچھ نظر نہیں آتا کہ وہ تو صرف چالان کی کمائی کے لئے دیوٹی پر ہوتے ہیں ، جانتا ہوں کہ
انتظامیہ میرے قلم کی سچائی سے پریشان ہے لیکن میں اپنی قلمی زمہ داری کو نظر انداز تو نہیں کر سکتا !!
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قدرت کبھی ایکسٹنشن نہیں دیتی
کالم نگار ، گل بخشالوی
صدرمملکت آصف علی زرداری نےسپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کو وزی اعظم کی ایڈوائس پروفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کردیا ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ تھےاور وہ اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے تھے۔ نوٹیفیکشن کے مطابق امین الدین خان کا بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا اطلاق عہدے کا حلف لینے کے دن سے ہوگا یعنی اب وہ 68 برس تک
اس وفاقی آئینی عدالت کی سربراہ ہوں گے اور وہ ہی کچھ کریں گے جو انہیں کہا جائے گا
دنیا جانتی ہے کہ ایکسٹنشن اور استشنی لینا صدر پاکستان اور فیلد مارشل کی مجبوری تھی اس لئے کہ دونوں کے سرپر سنگین قومی جرائم کے مقدمات کی تلوار لٹک رہی تھی ،عام انتخابات میں تحریک انصاف کے میندیٹ کی چوری ،تحریک انصاف کے سیاسی ورکر پر ظالمانہ تشدر ان پر بارود کی برسات،جبری گمشدگیاں ، بزور طاقت وفاداریاں تبدیل کروانا ،ضمیروں کی سوداگری ، بے بنیاد مقدمات، قومی لیڈر عمران خان اور ان کی اہلیہ کو بے بنیاد مقدمات میں قید رکھنا ،چادر اور چار دیواری کی پامالی ، خواتین پر ظالمانہ تشدد ،پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح کرنا ، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کا جنازہ نکالنا وہ قومی جرائم ہیں جن کا انہیں حساب دینا تھا لیکن کب تک ، آصف علی زرداری اور جنرل منیر عاصم یاد رکھیں قدرت کبھی ایکسٹنشن نہیں دیتی ،
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نظام عدل کی بربادی اور نظام شاہی پرپوری قوم سراپا احتجاج ہے ، لیکن سپریم کورٹ کے دو ججوں نے تو تاریخ رقم کر دی ، 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کے
دو ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا کرقومی غیرت کا پرچم بلند کر دیا ہے ۔جسٹس منصورعلی شاہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بعد سینیئر ترین جج تھے۔ اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا ہے کہ اپنے دور میں انھوں نے عدلیہ کا وقار بلند کرنے کی کوشش کی آج وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں لیکن ان کا ضمیر مطمئن ہے۔27ویں آئینی ترمیم کے تحت عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کرکے آئینی جمہوریت کی روح کو کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ 27 ویں آئینی ترمیم نےعام لوگوں کے لیے انصاف کے دروازے بند کر دئے ہیں, ان ججز پر افسوس رہے گا جو اس آئینی عدالت کا حصہ بنیں گے۔’27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔‘ وہ قومیں ہمیشہ ترقی کرتی ہیں جہاں حکومت میں قانون کی حکمرانی کومرکزی حثیت حاصل ہو اور عدالتی آزادی کو مقدس امانت کی طرح محفوظ رکھا گیا ہو۔ لیکن جہاں انصاف کو جکڑ دیا گیا ہو وہ قومیں نہ صرف لڑکھڑاتی ہیں بلکہ اپنی اخلاقی اقدار بھی کھو دیتی ہیں۔ ’27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کا آئینی وجود اور مقام ختم کردیا ہے پاکستان میں ایک ہی سپریم کورٹ ہے لیکن 27ویں آئینی ترمیم نے اس ڈھانچے کو توڑ کر سپریم کورٹ کے اوپر وفاقی آئینی عدالت قائم کردی جو کہ عدالتی اور جمہوری نظام سے متصادم ہے آئینی عدالت بصریت سے نہیں بلکہ سیاسی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے بنائی گئی،
یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ اس 13 رکنی بینچ کا حصہ تھے جنہوں نے مخصوص نشستوں سے متعلقپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فروری 2024 کو ہونے والے عام انتحابات میں مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم سپریم کورٹ کے اس اکثریتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے صدر مملکت کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں کہا ہےکہ ہم پر لوگوں نے اعتماد کیا اور جس آئین کے تحت بطور جج انھوں نے حلف اٹھایا تھا اب وہ اپنی اصل حالت میں نہیں ہے
۔جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ’وہ آئین کے احترام اور ایک سنجیدہ فریضہ کے طور پریہ لکھ رہے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ریکارڈ رہے کہ ان کی تقدیر کس طرح عدالت عظمیٰ کی سنگ مرمر کی دیواروں کے پیچھے طے کی جا رہی ہے‘۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ایک زرداری سب پہ بھاری لیکن !!
آئینی ترمیم کے مسودے میں درج کئی تجاویز زیرِ بحث ہیں مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق اس مسودے میں ایک موقع پرصدر اور وزیر اعظم کے لیے تاحیات استثنیٰ کی تجویز دی گئی تھی۔ خبرگرم ہےکہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی میں جب صدر اور وزیراعظم کو استثنی دینے کی بات ہوئی تو چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے لیے بھی استثنی کی تجویز سامنے آئی تھی۔ لیکن سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ لینے سے یکسر انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں عوام کا منتخب کردہ نمائندہ پہلے ہوں۔ عہدے دار بعد میں ہوں۔ مجھے کوئی استثنیٰ نہیں چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والیمجھے نہ تو بطور سپیکر استثنیٰ چاہیے نہ ہی بعد میں کسی صورت استثنیٰ لوں گا۔‘
فیلڈ مارشل کو استثنیٰ دینے کی ضرورت کیوں پڑی،اس بارے میں وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹرعقیل ملک نے کہا تھا کہ ’قومیں اپنے قومی ہیروز کو سیلیبریٹ کرتی ہیں تو ہمیں کیوں نہیں کرنا چاہیے؟
چاہے ان کی استثنیٰ ہو، ان کی مراعات ہوں یا رینک اور ٹائٹل ہوں۔ ان سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ٹی وی ٹاکرے کے شو کے دوران پاکستان‘ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ کیا صدر اور وزیر اعظم کوتاحیات استثنیٰ دینے کی تجویز ہے تو انھوں نے کہا تھا کہ ’ساری سروسز کا سربراہ تو صدر ہی ہوتا ہےاگر ماتحت کو استثنیٰ دے رہے ہیں تو سربراہ کو کیوں نہیں دیں گے؟‘
انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ویسے سیاسی لوگوں کو استثنیٰ کم ہی ملتا ہے۔‘البتہ بیرسٹرعقیل کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ کمیٹی کے سامنے ہے اور اسے ابھی منظور نہیں کیا گیا لہذا وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔
وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک سے پوچھنا یہ تھا کہ قومی ہیروتو ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی ہیں قومیں اگر اپنے قومی ہیروز کو سیلیبریٹ کرتی ہیں چاہے ان کی استثنیٰ ہو، ان کی مراعات ہوں یا رینک اور ٹائٹل ہوں۔ ان سب کو تسلیم کرنا چاہیے لیکن شاید اس لئے کہ وہ جنرل نہیں تھے اور یہ مراعات صرف جرنیلوں کا حق ہے
حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری کیوں تاحیات استثنیٰ مانگ رہے ہیں کیا وہ جانتے ہیں کہ وہ عمران خان کی عمر حیات اور شاید رہائی تک زندہ رہیں گے ، آصف علی زرداری کو گھبرانے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ جب تک فیلڈ مارشل کو لینے فرشتہ ء اجل نہیں آجاتا عمران خان کی رہائی مشکل تو کیا ناممکن ہے
جناب صدر پاکستان آصف علی زرداری صاحب آپ سے تو وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف بہادر نکلا شہباز شریف صاحب نے کہا میں استثنیٰ نہیں لوں گا ، تاحیات استثنیٰ تو صرف بادشاہوں کو حاصل ہوتا ہے آصف علی زرداری صاحب آپ نے ان جیالوں کی بھی توہین کر دی جو نعرے لگایا کرتے تھے ،،
ایک زرداری سب پہ بھاری ، آپ تو قومی سیاست میں بڑے ہلکے اور بزدل نکلے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
فیصلہ عدالتوں نے نہیں عوام نے کرنا ہے
کالم نگار ، گل بخشالوی
وزیر اعلیٰ خیبر پختو ن خوا عمران خان سے ملاقات کے لئے خیبر پختون خوا سے پنجاب آئے، پنجاب کے غیور پنجابیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا ، سہیل آفریدی اڈیالہ جیل میں اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کے لئے اپنے وکلائ کے ساتھ ہائی کورٹ گئے ، ہائی کورٹ میں قانونی تقاضوں کے مطابق چیف جسٹس نے فل بنچ میں بیٹھ کرکمر ہ عدالت میں موجود سپرینڈنٹ اڈیالہ جیل کوحکم دیا کہ سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کرانا تمہارا فرض ہے لیکن عدالتی حکم پر اڈیالہ میں ایک ، SHO، نے کہا عدالتی حکم کی کوئی وقعت نہیں ملاقات نہیں ہو سکتی ، ایسی صورت حال میں قوم کو اندازہ تو ہوگیا ہو گا کہ اشرافیہ کی حکومت ٹوپی ڈرامہ ہے ، حکو مت درباری ہے ہونا وہ ہی ہوتا ہے جو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ فیلدمارشل چاہیں گے ، کوئی بھی صاحب ضمیر اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کی حکمرانی نہیں بلکہ سلمانی ٹوپی میں ان کی حکمرانی ہے جو نظر تو نہیں ہوتے لیکن محسوس ضرور ہوتے ہیں، ۔
ہائیکورٹ کے چیف جسٹس فل بنچ میں بیٹھ کر بخوبی جانتے تھے کہ ان کے احکامات پر کوئی عمل نہیں ہوگا لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر سہیل آفریدی کو اپنے قائد سے ملاقات کے احکامات جاری نہ کرتے تو بدنامی اور تنقید کی توپوں کا رخ ہائی کورٹ کی طرف ہو گا اس لئے فیصلہ دے کر چیف جسٹس نے قوم کو بتا دیا کہ ہم انصاف دینا بھی چاہیں تو نہیں دے سکتے اس لئے ہم وہ ہی کچھ کرتے ہیں جو ہمیں کہا جاتا ہے اب یہ کہنا کہ اگر عدالتیں انصاف نہیں دے سکتیں تو عدالتو ں کو تالے لگا دیئے جائی جائیں غلط ہے کتنی عدالتوں کو تالے لگائو گے ،
انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں اگر کوئی معجزہ نہ ہوا، کوئی ڈیل نہ ہوئی، یا عدالتوں سے غیر متوقع ریلیف نہ ملا، تو عمران خان کے جلد رہا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، اور وہ 2026ئ کے دوران بلکہ ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی جیل میں رہ سکتے ہیں ۔ پارٹی کے کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی مشکلات جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتیں کیونکہ ان کے اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف زیر سماعت مقدمات اور سزائوں کی نوعیت پیچیدہ ہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی العزیزیہ ٹرسٹ کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں تاحال اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئیں۔ جب تک العزیزیہ ٹرسٹ کیس میں سزا برقرار ہے، عمران خان جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ ان کے قانونی مسائل میں اضافہ کرتے ہوئے، توشہ خانہ دوم کیس اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر اس میں بھی سزا ہو گئی تو اپیلیں سماعت کیلئے مقرر ہونے سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
، 9 مئی سے متعلق کئی مقدمات تاحال زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کے ماہرینِ قانون کو علم ہے کہ استغاثہ کے پاس اتنے قانونی حربے موجود ہیں کہ ان کیسوں کو طول دیا جا سکتا ہے، جس سے عمران خان کی رہائی میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے؛ اگر عمران خان تمام بڑے مقدمات میں ہائی کورٹ سے بری ہوئے بھی تو اس میں طویل عرصہ لگے گا۔ جب تک کوئی غیر معمو لی عدالتی یا سیاسی پیش رفت نہیں ہوتی، عدالتی کارروائیوں کے موجودہ وقت کا اندازہ بتاتا ہے کہ عمران خان کی قید 2026ئ تک، بلکہ اس سے بھی آگے تک جا سکتی ہے۔
انصار عباسی نے غلط نہیں لکھا، بہتر ہو گا کہ تحریک انصاف کے وکلائ قومی عدالتوں کی دیواروں سے سر نہ ٹکرائیں قانو ن کی کتابوں کو الماریوں میں بند کر دیں،، اپنا اور عدالتوں کا وقت پرباد مت کریں ، اس لئے کہ جب تک عمران خان تحریری طور پر یہ لکھ کر نہ دے کہ میں یہودیوں اور یہودیوں کے پرستاروں کے خلاف نہیں بولوں گا اس وقت تک عمران خان کی رہائی کسی خوش فہمی کے خواب کے سوا کچھ نہیں ۔ اگر تحریک انصاف کے رہنما وا قعی جانتے ہیںکہ عمران خان پاکستان کا خوبصورت مستقبل ہے تو عوام کی عدالت میں جا ئیں اس لئے کہ عمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں نے نہیں عوام نے کرنا ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پاک فوج زندہ باد
کالم نگار ،، گل بخشالوی
بلدیاتی انتخابات کی خبریں آرہی ہیں، امیدوار بلدیاتی اکھاڑے میں اتر نے کے لئے اخبارات کی سرخیوں میں نظر آنے لگے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے حاجی ناصر محمود کہتے ہیں گجرات شہر کی ہر یوسی سے مسلم لیگ ن کے امیدوار بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں گے ، بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے قیادت نے اپنے امیدواروں کو الیکشن کی تیاری کی ہدایت کی ہے مسلم لیگ ن گجرات میں کلین سویپ کرے گی ش، مسلم لیگ ن کی مقبولیت سے کچھ اتحادی خائف ہو کرعوام مین غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا !!
حاجی ناصر محمود مسلم لیگ ن کی مقبولیت کے حوالے سے جو کہہ رہے ہیں چلومان لیتے ہیں کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں لیکن ان کی اس بات کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے انہیں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لئے کہا ہے ، اس لئے نہیں مان سکتے کہ مریم نواز صاحبہ جب گجرات میں سیلاب اور سیلاب سے بربادی کا تماشہ دیکھنے گجرات تشریف لائی تھیں تو اس نے گجرات مسلم لیگ کو نظر انداز کر دیا تھا دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ضلع بھر کے مسلم لیگی رہنمائوں کو خاتو ن نے گھاس تک نہیں ڈالی تھی اس لئے کہ تختِ وزارت اعلیٰ مسلم لیگ ق کے سہارے پرقائم دائم ہے اور ویسے بھی مسلم لیگ ق کے شانے پر جن کا ہاتھ ہے انہیں کچھ کہا بھی نہیں جا سکتا !!
حاجی ناصر محمود صاحب ، شاید آپ کو علم نہیں کہ دسمبر میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول الیکشن کمیشن نے چار ہفتے تک واپس لے کر حلقہ بندیوں پر کام بھی روک دیا ہے، الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر ان چار ہفتوں میں بلدیاتی انتخا بات کی تیاری ممکن نہ ہو ئی تو حالات کے مطابق کوئی فیصلہ کریں گے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان لٹکے ہوئے بلدیاتی انتخابا ت میں مسلم لیگ ن کو جب تک اپنی جیت کا یقین نہیں ہوگا اس وقت تک بلدیاتی انتخابات کا ہونا ناممکن ہے لیکن اگر کسی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد حکومت پنجاب کی مجبوری بن گئی تو پھر وہ ہی کچھ ہو گا جو عام انتخا بات میں ہوا تھا ، عام انتخا بات میں ضلع بھر میں طاقت کے سر چشمہ عوام نے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیا تھا ،لیکن نہ صرف ضلع گجرات میں بلکہ پورے پاکستان میں جو ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا !!
ضلع گجرات میں تحریکِ انصاف پہلے نمبر پرمسلم لیگ ن دوسر ے نمبر پر تھی لیکن کمال حکمت عملی سے تختِ گجرات پر مسلم لیگ ق کو بٹھا دیا گیا جس کی انتخابات میںکوئی پوزیشن ہی نہیں تھی ،
قوم جانتی ہے کہ اگر مریم نواز صاحبہ کے دورِ وزارت اعلیٰ میں بلدیاتی انتخابات کا ڈرامہ کھیلا گیا تو وہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوگی ، اس لئے مسلم لیگ ن کے علاوہ اگر دوسری جماعتوں کے امیدوار بلدیاتی انتخا بات کے اکھاڑے میں اترنے کا سوچ رہے ہیں تو ان کو دوستانہ مشورہ ہے کہ نہ تو عوام کو امتحان میں ڈالیں اور نہ اپنا وقت اور پیسہ برباد کریں ،
اس لئے آ ئو مل کرنعرہ لگائیں ، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ، پاک فوج زندہ باد !
…………………………
تحریکِ لبیک کے دھرنے ’ناقابل برداشت ہیں۔
کالم نگار ، گل بخشالوی
مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف ڈکٹیٹر ضیائ الحق کے دور اقتدار میں قومی سیاست میں آئے اورآج تک ضیائ الحق کے نقش قدم پر ہیں، اپنے دور وزارت اعلیٰ میں انہوں نے لاہور میں پاکستان پیپلز پا رٹی کے جیالوں کے خون سے لاہور کی سڑکوں کو نہلایا تھا ۔ 2014، میں علامہ طاہر القادری کے آئے روز کے احتجاج اور دھرنوں سے نجات کے لئے لاہور کے ماڈل ٹائو ن میں معصوم پاکستانیوں کو خون میں نہلا کر ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کر کے علامہ طاہر القادری کی احتجا جی سیاست سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کر لی۔ ڈکٹیٹر ضیائ الحق کا خیال تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو دفن کر دینے سے پیپلز پارٹی بھی دفن ہو جائے گی لیکن پیپلز پارٹی کا بھٹو آج بھی زندہ ہے،
رجیم چینج کے بعد تحریکِ انصاف کی قیادت اور کارکنوں پر پاکستان کی سر زمین تنگ کر دی گئی تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان اور تحریکِ انصاف کی دوسری قیادت کے خلاف ظلم و بربریت کی انتہا کر دی گئی لیکن تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف نہیں گرایا جا سکا ، آئے روز کے جلسوں اور لانگ مارچ سے نجات کے لئے نو مئی کا خوفناک منصوبہ بنایا گیا ، خیبر پختو ن خوا سے تخت اسلام آباد آنے والے عوامی سیلاب کو بظاہر کئی ایک رکاوٹوں کے باوجوداسلام آباد کے ڈی چوک تک آنے کا راستہ دیا گیا ، مسلم لیگ ن نے ڈی چوک میںکس بے دردی سے پاکستانیوں کا خون بہایا پاکستانیوں کے ساتھ دنیا نے دیکھا۔ پاکستان بھر میں قومی املاک کو آگ لگا کر اڈیالہ جیل میں قید عمران خان اور تحریکِ انصاف کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے کی تاریخ رقم ہوگئی، اگر ایسا کوئی منصوبہ نہیںتھا تو خیبر پختو ن خوا سے پنجاب آنے والے تمام داخلی راستے بند کر دیئے جاتے ، لیکن مسلم لیگ ن کی قیادت کی آنکھوں میں خون اتر آیاتھا
ڈی چوک میں جو ظلم ہوا تھا ایسا ہی کچھ تحریک لبیک کے قائد سعد رضوی سے متعلق بھی سوچا گیا تحریک لبیک کی قیادت نے عمران خان کی حکمرانی میں احتجاج اور دھرنوں کا بازار گرم کئے رکھا ، اور رجیم چیج پر خوب تالیاں بجائیں لیکن جانے کون سا طبقہ ہے جو تحریکِ لبیک کابٹن دباتا ہے اور سعد رضوی اپنے چاہنے والوں کے ساتھ سڑک پر نکلتے ہیں تو پنجاب بھرکو جام کر دیا ہے ، سعد رضوی غزہ کے مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کے لئے سڑک پر آیا اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے جانے کا اعلان کر دیا ، حالا نکہ وہ یہ احتجاج لاہور کی سڑکوں پر بھی کر سکتے تھے،
تحریک لبیک کے کارکن اسلام آباد جانے کے لئے لاہور مرکز میں جمع ہوئے تو پنجاب پولیس نے مرکز پر دھاوا بول دیا ، مرکز میں خون کی ہولی کے باوجود جب تحریک لبیک اسلام آباد جانے کے فیصلے پر ڈٹ گئی تو مسلم لیگ ن کی حکومت نے لاہور سے باہر مریدکے میں تحریک ِ لبیک کو آخری سبق سکھانے کا فیصلہ کیا اور لانگ مارچ کو لاہور سے مرید کے لایا گیا ، حکومت سے مذاکرات بھی ہوئے لیکن سعد رضوی ڈٹ گئے تو مسلم لیگ ن نے فیصلہ کر لیا او ر پنجاب پولیس نے تحریک ِ لبیک کے مرکز پررات کے اندھیرے میں اس وقت دھاوا بول دیا جب تحریک لبیک سو رہی تھی
مرید کے ، پاکستان کا غزہ بن گیا ، پنجاب پولیس نے انتہائی بے رحمی کا مظاہر کرتے ہوئے سعد رضوی کے ساتھ اس کے چاہنے والوں کو بھاگ کر جان بچانے پر مجبور کر دیا! مرید کے،جہاں شام کے وقت نعرہ ئ تکبیر کے نعرے بلند ہو رہے تھے صبح کے اجھالے میں دنیا نے وہاں ماتم کرنے والوں تک کو نہیں دیکھا ، وہاں معصوم جانوں کا خون تھا لیکن نہ کوئی لاش تھی اور نہ زخمیوں کی درد ناک چیخیں ، تحریک لبیک کے ساتھ جو ہوا اس سے پاکستانی پریشان اس لئے نہیں کہ پاکستان کے پنجاب میں ایسا کچھ پہلی بار نہیں ہوا ،
تحریک انصاف کے دور حکومت میں سعد رضوی کے والد مرحوم خادم حسین رضوی بھی ایسا ہی کچھ کیا کرتے تھے ، پیغمبر اسلام کے خاکوں کے مقابلے کرائے جانے کے اعلان پر خادم حسین رضوی نے نیدر لینڈ کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان فیض آباد میں دھرنا دے کر عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ، تحریک ِ انصاف کی حکومت نے مذاکرات کئے لیکن خادم حسین رضوی اپنے مطالبے پر ڈٹ گئے ، تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر پولیس نے کاروائی کی ، مزاحمت پر گولی چلی دھرنے میں چھ معصوم مومن جان سے گئے تو خادم حسین رضوی نے حکومت سے مذاکرات کئے اور دھرنا ختم ہو گیا، اپریل2021میں انسداد دہشت گردی قانو ن ، 1997 ، کے تحت تحریک لبیک پر پابندی لگ گئی تاہم تحریکِ انصاف کے ساتھ معاملات طے پا جانے کے بعد اسی سال نومبر 2021،میں تحریک لبیک پر سے پابندی اٹھا لی گئی تھی
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کہتے ہیں، ریاست پاکستان کا فیصلہ ہے، جتھوں کے ہاتھوں ریاست بلیک میل نہیںہو گی۔‘ ٹی ایل پی کے دھرنے ’ناقابل برداشت ہیں۔ اس پر کارروائی ویسے ہی ہوگی جیسے نو مئی پر ہوئی۔ مقدمات کے فیصلے ہوتے نظر آئیں گے۔حکومت پنجاب نے قانو ن کی بالا دستی کےلئے وفاقی حکومت سے تحریک لبیک پر پابندی کی سفارش کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ اپریل 2021 تحریکِ انصاف نے جب تحریکِ لبیک پر پا بندی لگائی تو آج کی حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں نے تحریک انصاف کے فیصلے پر ماتم کیا تھا
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی سوچ سے ظاہر ہے کہ آج پاکستان میں اگر کوئی مومن اور محب وطن سیاسی جماعت ہے تو وہ مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادی ہیں ، باقی سب جماعتیں دہشت گردوں کے جتھے ہیں
mmmmmmmmmmmmmm
ڈرامہ بازی کی کیا ضرورت ہے
کالم نگار گل بخشالوی
اڈیالہ جیل میں بیٹھ کر پاکستان میں عوام کی حکمرانی، قومی استحکام اور آزاد جمہوری ریاست کے لئے مغرب پرستوں سے لڑنے والے عمران خان نے خیبر پختون خوا کے لئے باوجود کئی ایک مشکلات کے ایک عام ورکر کو وزیر اعلیٰ منتخب کرواکر دنیا پر ثابت کردیا کہ عمران خان صرف سیاست دان ہی نہیں ایک باکمال قومی لیڈر ہیں ، عمران خان موروثی سیاست سے بالاتر سوچتے ہیں وہ خاندان کو نہیں پاکستان کو سوچتے ہیں، پاکستان کی
غیور عوام کے خوبصورت مستقبل کو سوچتے ہیں ، عمران خان نے عملی طور پر ثابت کر دیا کہ تحریک انصاف مڈل کلاس قیادت پر یقین رکھتی ہے،
سیاسی تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ کے منصب سے موروثی سیاستدان اور ان کے سہولت کار پریشان تھے اس لئے کہ انہوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ کچھ خفیہ معاہدے کیے ہیں یہ لوگ سابقہ فاٹا کو ایک نئی جنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیںفاٹا کی سر زمین معدنی وسائل سے مالا مال ہے مغرب کے پرستار چاہتے ہیں کہ فاٹا کو خیبر پختون خوا سے الگ کر کے معدانی وسائل پر براہ راست کنٹرول حاصل کیا جائے اس طرح امریکہ کے ساتھ معدنیات کے حوالے سے جو ڈیل کی گئی ہے اس پر آسانی سے عمل درآمد ہو سکے گا۔ لیکن سہیل آفریدی کباب میں ہڈی بن سکتے ہیں اس لئے کہ سہیل افریدی کا تعلق فاٹا سے ہے وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ فاٹا کو خیبر پختوں خواہ سے الگ کیا جائے ان ہی وجوہات کی بنیاد پر مغرب کے پرستار پریشان ہیں اس لئے کہ سہیل آفریدی کی و زارتِ اعلیٰ میں وہ ان کے خفیہ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیں گے، معدنی وسائل پر عوام کو ان کا حق دلائیں گے، وہ بیرونی طاقتوں کے دباؤ کو رد کریں گے۔
محمد سہیل آفریدی قبائلی علاقے کے غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہے۔ آج اس کو ریاست دہشت گرد اور سمگلر قرار دے رہی ہے یہ وہی ریاست ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے عظیم سیاستدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی غدار کہا تھا
اداروں کی ہر ممکن کوشش تھی کہ سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ نہ بن پائیںلیکن وہ تو وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں
فاٹا سے منتخب ہونے والے پہلے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں کہا ’ میں احتجاجی سیاست کا چیمپیئن ہوں۔ میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وزارتِ اعلیٰ کی کرسی میرے لیڈر کی امانت ہے ، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ، میں جو تھا وہ ہی رہوں گا ، محمدسہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان کو خاندان اور تحریک انصاف کی مشاورت کے بغیر اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کیا گیا تو ’پورا پاکستان جام کر دیں گے۔‘
ادارے یاد رکھیں ملٹری آپریشن کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ ’دنیا مذاکرات کی طرف جا رہی ہے ۔ آج بھی میرے دیس کے لوگ شہید ہو رہے ہیں تو ایسے آپریشن کا کیا فائدہ؟‘ محب وطن قبائل کو اعتماد میں لینا ہوگا ، افغان پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی
سہیل آفریدی نے تحریکِ لبیک پاکستان کے خلاف مرید کے میںپولیس آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہ قوم اس ظلم و بربریت کا انتقام لے گی ، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خطاب سے قبل سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ، ہمارے عظیم قائد عمران خان کی رہنمائی میں عوام کی حکمرانی، جمہوریت کی شادابی اورقومی استحکام کے لئے ہماری جدو جہد جاری رہے گی
خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی واضع پرتری کے باوجود تختِ اسلام آباد اور اس کے سہولت کار خیبر پختون خوا میں آئینی بحران پیدا کر رہے ہیں خیبر پختون خوا کے گورنرفیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کا پیر کو ہونے والا انتخاب غیر آئی
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
دیدہ بینا کی ضرورت ہے
کالم نگار ، گل بخشالوی
انصار عباسی صاحب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ، جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے سوال اٹھایا تھا کہ عمران خان جو اڈیالہ جیل سے بیان دیتے ہیں ، انہوں نے اسرائیل کے مظالم پر خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ جماعتِ اسلامی نے کہا بات کیوں نہیں کرتے ؟ پی ٹی آئی کے حامیوں نے کہا منافقت کیوں کرتے ہو ؟ پی ٹی آئی نے حافظ نعیم الرحمان کے بیانات اور تبصروں کو احمقانہ اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ریمورٹ کنٹرول سیاست دانوں کی عقل پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔—
کچھ عرصہ قبل خود حافظ نعیم الرحمان نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے ملاقات کی درخواست کی تھی تاکہ فلسطین کی حمایت میں لانگ مارچ میں اشتراک کیا جا سکے اور پی ٹی آئی نے اس کی غیر مشروط حمایت کی تھی۔
عمران خان ہی وہ واحد پاکستانی لیڈر ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسرائیل اور اس کے مقامی حواریوں کے خلاف واضح اور جرات مندانہ مو قف اپنایا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمان سابق سینیٹر مشتاق احمد خان — جو غزہ امدادی فلوٹیلا مشن کے دوران اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کیوں خاموش ہیں ، شاید اس لئے کہ ، آپ کو اس پر بولنے کی اجازت نہیں ملی؟ عمران خان کے خلاف زبان چلتی ہے، مگر اپنے سینیٹر کے لیے خاموشی ! جتنا واضح اور جرات مندانہ مو قف عمران خان کا فلسطین پر ہے، اتنا کسی اور سیاستدان کا نہیں رہا ، اگر اداروں کی قومی غیرت اور ضمیر زندہ ہے تو صرف ایک دن کے لئے خان کو پیرول پر رہا کر کے قومی اسمبلی میںلا ئیں ، وہ جب بولے گا تواس کی قومی اور مذہبی غیرت دنیا دیکھے گی ، حافظ نعیم الرحمان صاحب، منافقت اورمخالفت میں فرق کو سمجھنے کی کوشش کریں ، سیاسی اختلاف جمہوری سیاست کی شان ہے یاد ر کھیں وہ تاریخی منظر جب دنیا بھر کے وزیر اعظم اسرائیلی وزیر اعظم کے استقبا ل کے لئے کھڑے ہو رہے تھے اور دنیائے اسلام کا مجا ہد واحد وزیر اعظم عمر ان خان تھا جو ٹا نک پر ٹانک رکھ کر اطمینان سے اپنی نشست پر بیٹھا ہے۔
وہ عمران خان جس نے امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈا ل کر کہا تھا ،، ایبسلوٹلی ناٹ ، آج اسی حق گوئی کے جرم میں قیدہیں ، قوم جانتی ہے کہ ریموٹ کنٹرول سیاستدان کب اور کہاں بولتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان صاحب اداروں کی خدمت جاری رکھیں، مگر اُس قومی رہنما پر زبان نہ چلائیں جو قوم کے ضمیر، حریت اور خودداری کی علامت بن چکے ہیں
عمران خان حق پرست لیڈر ہیں جو بولتے ہیں کر کے دکھاتے ہیں ، لیکن پنجاب پر لاشیں گرانے والے ٹولے کی حکمرانی ہے ، وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف نے اپنی حکمرانی کو تابندہ رکھنے کے لئے لاہور میں پیپلز پارٹی کے جیالوں کی لاشیں گرا ئیں ، ماڈل ٹائو ں کو پاکستان کا کربلا بنا دیا تھا ، ڈی چوک میں پاکستان تحریک انصاف کے انقلابیوں کی لاشیں گراکر قوم کو پیغام دیا ، کہ ہمارے دور میں کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
حافظ نعیم الرحمان صاحب آپ نے عمران خان سے اسرائیل کے خلاف صرف مذمتی بیان کا مطالبہ کیا ہے ، تحریک لبیک نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا ، لیکن دنیا نے لاہور میں تحریکِ لبیک کے صدائے حق کو خون میں نہاتے دیکھا، اب قوم تمہارے مذہبی اور قومی غیرت کے انتظار کر رہی ہے ، اگر آپ واقعی پاکستان او عوام سے مخلص ہیں تو صدائے حق کے لئے تحریکِ لبیک کا ساتھ دیں اور اپنے قومی لشکر کے ساتھ باہر نکل آئیں
سابق سینٹر مشتاق احمدخان نے کہا تھا ، عمران خان فارم 47، کی جعلی حکومت کے لئے موت ہے اگر آج سابق سینٹر مشتاق احمدخان کی اہلیہ اسٹیبلشمنٹ کو قرآن کی وہ آیات یاد دلا رہی ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، تم یہود اور نصاریٰ کو دوست مت بنائو یہ تمہا رے دشمن ہیں کیا آپ نے اس آواز کو سنا وہ حافظ جنرل کو مخاطب کر کے حافظ نعیم الرحمان آپ کو بتا رہی ہیں کہان کا ساتھ چھوڑ دو جویہود اور نصاریٰ کے دوست ہیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
راجہ محمد ایوب قاسم ایڈووکیٹ ،عدالت اور انصاف
کالم نگار،، گل بخشالوی
وکالت ، منافع بخش اور قابل صد احترام پیشہ ہے ، وکیل اپنے دلائل میں ، کسی بھی جرم میں مومن کو مجرم اور مجرم کو مومن ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں اور عدالت وکیل کے دلائل کی روشنی میں فیصلہ سناتاہے ، کہ کون صادق اور امین ہے اور کون خائن اور بے ایمان ہے ، ایسے فیصلے ہم سپریم کورٹ کے فیصلوں میں سن اور پڑھ چکے ہیں، اپنے دلائل کی روشنی میں جو وکیل مقدمہ جیت جاتا ہے اس کے لئے تالیاں بجتی ہیں اور جو ہار جاتا ہے ، وہ شرمندہ نہیں ہوتا اس کاسائل بھی کہہ دیتا ہے ، شاید اللہ کو یہ ہی منظور تھا!
بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر راجہ محمد ایوب قاسم ایڈووکیٹ اپنی شخصیت اور کردار میںپیشے کے حوالے سے قابل صد احترام ہیں ، رائٹر کلب کھاریاں کے چیئر مین سابق ایم پی اے عامر عثمان عادل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں
15 مارچ 2022 کو تھانہ ککرالی کے نواحی گاوں شامپور میں درندہ صفت ملزم صفدر حسین نے اپنے چھوٹے بھائی کے گھر کا گلشن اجھاڑ دیا تھا ، دو معصوم بھتیجیوں اکلوتے بھتیجے اور اپنی بھابھی کو ڈنڈے مار مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا ۔بار ایسوسی ایشن کھاریاں کے ممتاز قانون دان راجہ ایوب خان قاسم ایڈووکیٹ نے ان مظلوم و معصوم مقتولوں کا مقدمہ لڑا ،یہ ایک ایسا مقدمہ تھاجس میں مو قع کے گواہ منحرف ہو چکے تھے ، برآمدگی کے گواہوں نے بھی اپنا بیان بدل دیا تھا ، مقتولین کے وارث نے بیوی اور بچوں کا قصاص بھی معاف کر دیا ، گو کہ انصاف کا حصول ایک کٹھن مرحلہ تھا لیکن راجہ محمد ایوب قاسم ایڈووکیٹ نے تمام تر تجر بے اور مہارت کوبروئے کار لاتے ہوئے بڑی ذمہ داری سے مقدمہ لڑا آپ نے چار معصوم جانوں کے قتل میں درندگی سفاکیت اور قتل انسانیت کو اپنے دلائل میں ثابت کر دیا ، راجہ محمد ایوب قاسم ایڈووکیٹ کی قانونی معاونت نے معزز عدالت کو اس اہم ترین مقدمے میں انصاف پر مبنی فیصلے تک پہنچا دیا اور عدالت نے سفاک قاتل کو چار مرتبہ سزائے موت کا حکم سنا کر انصاف کا پرچم بلند کر دیا
کھاریاں پریس کلب کے سابق صدر ظفر اقبال حسن ، عامر عثمان عادل کے کالم پر اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں
یہ کارنامہ راجہ ایوب قاسم ہی سر انجام دے سکتا تھا میں یہ کارنامے بار ہاراجہ ایوب قا سم ایڈووکیٹ کے دور وکالت میں سرانجام ہوتے دیکھ رہا ہوں ۔ 90 کی د ہائی میں میرے بھائی کو مال مقدمہ پیش نہ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا ، اپنے بھائی کی ضمانت کے لئے میں نے اپنے چار دوست وکلائ کی خدمات حاصلی کی تھیں لیکن وہ ناکا م رہے تھے ، راجہ محمد ایوب قاسم سے سرراہ ملاقات ہوئی ، آپ نے گہرائی میں میری بات سنی ، میرے بھائی کی ضمانت کے لئے عدالت میں پیش ہوئے اور پہلی پیشی میں میرے بھائی کی ضمانت ہو گئی تھی
۔ 2000 میرے دوسرے بھائی پر ایسا ہی ایک کیس بنا ، میرے بھائی کی ضمانت کے لئے میرے دوست ناکام ر ہے ، تو میں راجہ محمد ایوب قاسم ایڈووکیٹ کے حضور ان کے چیمبر میںحاضر ہوا ، مقدمے کی روداد سنائی اور اگلی پیشی پر ضمانت کے ساتھ مقدمہ بھی رفع دفع ہو گیا تھا اس لئے کہ راجہ محمد ایوب قاسم ایڈووکیٹ قانون دان ہیں ، وہ وکالت اور عدالت میں دلائل کے رموز بخوبی جانتے ہیں ،
راجہ محمد ایوب قاسم ایڈوو کیٹ کے لئے عامر عثمان عادل اور ظفر اقبال حسن کے احساسات اور ان کی وکالت پر قلمی گل پاشی کی تائید کرتے ہوئے میں کہوں گا ، کہ واقعی راجہ محمد ایوب قاسم ایڈووکیٹ ، بار ایسوسی ایشن کھاریاںمیں ایک نام ہے اس نام کی تابندگی کے لئے ہم کھاریاں کے باشندے ربِ کریم کے حضور سر بسجود ہیں
یاد رہے کہ راجہ محمد ایوب قاسم ایڈووکیٹ ۔ مجھ گل بخشالوی کو پیار سے گل بکاولی بلاتے ہیں
………………………….
ہم منزل کے قریب ہیں
تحریر گل بخشالوی
ایم این اے ، حلقہ این اے 62، ضلع گجرات چوہدری محمد الیاس آف سرائے عالمگیر نے قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ میں تحصیل سرائے عالمگیر اور تحصیل کھاریاں پر مشتمل کھاریاں کو ضلع کادرجہ دینے کی قرار داد جمع کروا دی ، 19,ستمبر 2025 کو کھاریاں ضلع بنائو تحریک کی درخواست میں لکھا گیا ہے کہ اس ایوان ( قومی اسمبلی) کی رائے ہے کہ وفاقی حکومت بین الصوبائی وزارت ( آئی پی سی) کے ذریعے کھاریاں کو ضلع بنائے جانے کے لئے صوبائی حکومت کو با ضابطہ طور پر سفارش بھیج کر کھاریاں کو ضلع بنائے جانے کا نوٹیفیکیشن جاری کروائے
ایم این اے چوہدری محمد الیاس کے اس اقدام پر کھاریاں ضلع بنائو تحریک کے بنیادی کرداروں نے انہیں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری محمد الیاس نے سب ڈویژن کھاریاں اور سرائے عالمگیر کے عوام کی آواز کو تقویت دے کے تاریخی قدم اٹھایا ہے،
کھاریاں سب ڈویژن کے صاحبان نظر شہری جانتے ہیں کہ کھاریاں اور سرائے عالمگیر پر مشتمل ضلع عوام کا بنیادی حق ہے، سوشل میڈیا
پر عر صہ دراز سے کھاریاں ضلع بنائو کی آواز یں گونجتی رہی ہیں ان آوازوں میں کھاریا ں شہر سے شائع ہونے والا ہفتہ وار اخبار میں کھاریاں پریس کلب کے سابق سینئر نائب صدر مرحوم لیاقت علی قادری اور برطانیہ میں مقیم کھاریاں کے ممتاز دانشور چوہدری نذیر احمد کھٹانہ کے ساتھ گل بخشالوی کی قلمی آوازیں شامل رہی ہیں ۔
سال ,2025 میں گل بخشالوی نے سوشل میڈیا پر کھاریاں پریس کلب کے چیئر مین چوہدری محمد انوز چوہان ، سابق صدر ، احسان الحق ، اور فنانس سیکرٹری محمد سلیم بٹ نے، کھاریاں ضلع بنائو تحریک کا اعلان کیا ، رائٹرز کلب کھاریاں کے چیئر مین سابق ایم پی اے عامر عثمان عادل کے ساتھ بخشالی منزل میں خصوصی ملاقات میں،، کھاریاں ضلع بنائو تحریک کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے کھاریاں ضلع بنائو تحریک میں ممبر شپ کی ابتدائ ہوئی تو ٹھوٹھہ را ئے بہادر کے راجہ اظہر محمود نے سوشل میڈیا پر تحریک کا پرچم اٹھا لیا ، کھاریاں ضلع بنائو تحریک میں کھاریاں اور سرائے عالمگیر دونوں تحصیلوں کی پہچان عوام دوست شخصیات نے راجہ اظہر محمود اور چوہدری نذیر احمد کھٹانہ کے ذاتی رابطوں
میں ممبر شپ لے کر تحریک میں جان ڈال دی ، ان میں تحریک کے دوسرے ممبران کے ساتھ عامر عثمان عادل ، راجہ اظہر محمود ، چوہدری نذیر احمد کھٹانہ ، چوہدری بشارت احمد دھکڑ اور سا بق پرنسپل راجہ اعجاز شاہد کی قلمی تحریک قابل ذکر ہے
سابق ایم پی اے عامر عثمان عادل نے اپنے دست مبارک سے چیف آف ایئر سٹاف ظہیر بابر سدھو کے نام درخواست لکھ دی ، ایم این اے نصیر عباس سدھو سے ملاقات کا وقت لے کر راقم گل بخشالوی ، محمد انور چوہان ، احسان الحق، محمد سلیم بٹ اور را جہ اظہر محمود صاحب نصیر احمد سدھو سے ملاقات کے لئے موضع سدھ میں ان کے ڈیرے جا پہنچے ، ڈیرہ کے سیکرٹری نے نصیر احمد سدھو صاحب کو پیغام دیا کہ کھاریاں پریس کلب کے صحافی ملاقات کے لئے پہنچ گئے ہیں، سدھو صاحب اپنے ڈیرے کے دفتر میںانتظامیہ کے کچھ خاص افسران سے ملاقات میں
وقت نہ نکال سکے اس لئے سدھو سرکار سے ان کے ڈیرے پر بلمشافہ ملاقات نہ ہو سکی البتہ کھاریاں ضلع بنائو تحریک کا تحریری مطالبہ ان کے سیکرٹری کو دے دیا تھا
تحریک کے روح روان راجہ اظہر محمود کھاریاں اور سرائے عالم گیر کے سابق اور موجودہ ایم ایم ایز اور ایم پی ایز سے رابطے میں رہے ،
ایم این اے ، حلقہ این اے 62، چوہدری محمد الیاس نے فون رابطے میں راجہ اظہر محمود سے کھاریاں ضلع بنائو تحریک میں ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا ۔ چوہدری محمد الیاس نے وعدہ پورا کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں کھاریاں ضلع بنائو تحریک کے قرارداد جمع کر تحریک کو منزل کے قریب کر دیا
ریٹائرڈ پرنسپل ، سابق صدر پنجاب پرنسپل ایسوسی ایشن راجہ اعجاز شاہد* اپنے کالم میں لکھتے ہیں ، پسپا ہونا ہماری گُھٹی میں نہیں، پختہ عزم ہے کہ کھاریاں کو ضلع بنوا کر رہیں گے ، ہماری آواز میں دم ہے کیونکہ کھاریاں کو ضلع بنوانے کی وجوہ منطقی، ٹھوس اور حقیقی ہیں ، ناکامی کا منہ ہم دیکھنے سے انکاری ہیں. ارکانِ “کھاریاں ضلع بناؤ تحریک” آگاہ رہیں کہ کسی علاقے کو ضلع بنانے کے لیے بنیادی شرائط میں آبادی کا مناسب حجم، علاقائی حدود کا تعین، انتظامی ڈھانچہ اور صوبائی حکومت کی منظوری شامل ہیں.کسی علاقے میں ایک ضلع بنانے کا فیصلہ صوبائی حکومت کرتی ہے جو آبادی، رقبے، ترقیاتی ضروریات اور مقامی آبادی کی نمائندگی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے. کھاریاں میں ضلع بننے کے لئے درکار ہر صلاحیت موجود ہے،
مستقبل قریب میں تحریک کے مستقل ممبران سے مشاورت کے بعد کھاریاں میں ، کھاریاں ضلع بنائو تحریک ، کا کنویشن بلایا جائے گا کنویشن میں کھاریاں اور سرائے عالمگیر کی پہچان شخصیات کے ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سابق اور موجودہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو دعوت دی جائے گی ،
منزل اپنی دور نہیں آئو مل کر ساتھ چلیں
—
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
گجرات ، سیلاب ، سیاست اور صحافت
کالم نگار ، گل بخشالوی
گجرات پریس کلب کے صدر عبدالستار مرزا ڈپٹی کمشنر گجرات کے آفس تشریف لائے اور ڈپٹی کمشنر نور ا لعین قریشی سے ملاقات کی اس موقع پر ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر عثمان سندھو بھی تشریف فرما تھے گجرات پریس کلب اور ڈپٹی کمشنر کے درمیا ن رنجشیں دور ہوگئیں ، انتظا می افسران کی دریا دلی بھی قابل داد ہے ، اس ملاقات سے ثابت ہوا کہ گجرات پریس کلب نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ وہ غلطی پر تھے ، اگر غلطی ڈپٹی کمشنر کی ہوتی تو صحافی برادری سے معذرت کے لئے انہیںپریس کلب جانا پڑتا ، دور اندیش فیصلہ قابل تعریف ہے ، ثابت ہوا کہ صحافی برادری اپنے حقوق اور عزتِ نفس کے لئے آ واز اٹھائے لیکن آواز حق میں وہاں تک جایا جائے جہاں سے باعزت واپسی میں شرمندگی کا احساس ہو ،
مسرت ناہید کہتی ہیں ایک سوچ ہی تو ہے جو ہر مشکل سے لڑ سکتی ہے ، اسے ہرا سکتی ہے ، کوشش صرف اتنی ہو نی چاہئے کہ ہم اپنی سوچ کو کبھی ہارنے نہ دیں
گجرات شہر ڈوب گیا تھا پانی تو اتر گیا لیکن گجرات کی بربادی پر برباد ہونے والوں کے سوا کسی کی آنکھ نم نہیں ہوئی ، انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کے ذمہ دار خاموش ہیں اور سیاست دان گجرات کی بربادی پر سیاست کھیل رہے ہیں اگر دیکھا جائے تو گجرات کی بربادی کے اصل ذمہ دار گجرات کے سیاست دان ہیں لیکن بد قسمتی سے کسی کو اپنے گریبان میں جھا نکنے کی توفیق نہیںہے ، ہرایک اپنی ذات میں مومن اور دوسرا منافق ہے ، عام گجراتی بھی جانتے ہیں لیکن ان کی کھوپڑی میں اپنا دماغ ہی نہیں وہ ان کے دماغ سے سوچتے ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کے ڈاکو ہیں اس لئے آج عام لوگ سیلابی صورت حال کے بعد امداد کے لئے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں لیکن اپنے حق کے لئے اپنے دما غ سے نہیں سوچیں گے ایسی صورت میں ہم اللہ سے بھی شکوہ نہیں کر سکتے ، اس لئے کہ خدا ہر قوم کے مزاج کے مطابق ان پر حکمران مسلط کرتا ہے
گجرات کے سیاسی علم بردار کیا کہتے ہیں ملاحظہ کیجئے
چو ہدری شافع حسین کہتے ہیں ، ترقیاتی سکیموں میں کمیشن لینا ہمارے خاندان کی روایت نہیں وزیر اعلیٰ پنجاب نے گجرات شہر کی ترقی کے لئے فنڈز کی منظور دیدی ہے، عالمی معیار کا سیوریج سسٹم اور ترقیاتی منصو بے بھی مکمل ہوں گے،
چوہدری پرویز الٰہی کہتے ہیں کہ ن لیگ ہمارے سیوریج منصو بوں کے فنڈز نہ روکتی تو گجرات نہ ڈوبتا ، بڑی بڑی باتیں کرنے والے اصل مجرم ہیں، ہمارے مخالفین کا دھیاں صرف جیبیں بھرنے پر ہوتا ہے
جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم کہتے ہیں ، گجرات کی موجودہ صورت حال کا مجرم ، موجودہ وزرائ کا خاندان ہے جو گذشتہ چالیس سال سے بر سر اقتدار ہے
جماعت اسلامی ضلع گجرات کے امیرانصر دھول ایڈووکیٹ کہتے ہیں ، الزام تراشی کرنے والے اربوں روپے کی کرپشن سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے گجرات پر ایک ہی خاندا ن کے لوگ ہر دور اقتدار میں مختلف روپ دھار کر برسر اقتدار رہے انہوں نے عوامی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا
مسلم لیگ ن کے حا جی ا نصر محمود کہتے ہیں 2005 میں سیور یج لائن بچھائی گئی ، منصوبہ شفاعت حسین کا تھا، انہوں نے ا پنے منظور نظر تین کنٹریکٹرز کو ایک پائپ لا ئن بچانے کے لئے نوازا ، اجمیر میرج حال کے قریب سیورج لائن میں جوڑ تک نہیں ڈالا گیا موجودہ دونوںوزیر، ، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن اگر بتا دیں کہ غریب پورہ کا پانی کدھر کو جاتا ہے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا
نوب زادہ طاہر الملک کہتے ہیں ، سلطان راہی والی بھڑکیں مار کر حقائق نہ چھپائیں 2008، میں نیا عہدہ پیدا کر کے نائب وزیر اعظم کون بنا تھا ؟ جن کنٹریکٹرز نے سیوریج لائین بچھائی وہ کیا کسی سے بھولے ہوئے ہیں
گجرات میں مسلم لیگ ق کے خلاف نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکمران جماعت کے ترجمان بھی بھو ل رہے ہیں لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اگرتم لوگ گجرات اور گجرات کی عوام کے بنیادی حقوق کے لئے دل میں تڑپ محسوس کر تے ہو تو گجرات میں مسلم لیگ ق کی سیاست د فن کرنے کے لئے ایک ساتھ بیٹھ کیوں جاتے ؟ ، گجرات کی مجبور عوام کی قیادت کے لئے ایک ساتھ مل کر سڑک پر کیوں نہیں آجاتے ؟ ، تو یہ خود پرست لوگ ایسا کبھی نہیں کریں گے ، اس لئے کہ سب نورا کشتی کھیل کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ، یہ سیاسی دھاڑی دار ہیں صرف سیاست چمکا رہے ہیں، اور گجرات کی عوام ان دھاڑی دار سیاست دانوں کے درباری ر قاص ہے
اس کے باوجود اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ بنگلہ دیش، سری لنکا، اور نیپال کے بعد پاکستان کی عوام پاکستان میں انقلاب کے لئے سڑک پر آئے گی تو بھول جائیں اس لئے کہ پاکستانی عوام مغربی درباریوں کی غلام ہے ۔
کسی نے کیا خوب لکھا ہے ، پاکستان اس وقت قدیم مصر ہے جہاں غلام صبح سے شام تک فرغونوں کی شاہ خرچی کے لئے محنت کا پسینہ بہاتے ہیں ، اور خیرات پر زندگی جی رہے ہیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
گجرات اور گجراتیوں کی تقدیر بدل جاتی
گل بخشالوی
گجرات کی سیاست میں خود ساختہ چاند تارے ، چوہدری برادران 1985سے آج 2025 تک گجرات کی سیاست پرمسلط ہیں کبھی خود جیت جاتے ہیں اورکبھی عوامی مینڈیٹ چوری کر کے جتوا دیئے جاتے ہیں ، چار دہائیوں سے قومی اور صوبائی حکمرانی میں وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ اور مختلف قو می صوبائی وزارتوں کا تاج بھی ان کے سر سجا رہا اپنے اس طویل دور اقتدار میں چوہدری برادران نے اپنے خاندان اور گیت گانے والوں کی دنیا تو سجا دی لیکن اپنی آخرت کے ساتھ آج گجرات کو بھی سیلابی پانی میں ڈبو کر سوہنی کے خوبصورت گجرات کو تباہ و برباد کر دیا ،
گجراتیوں سے کوئی گلا نہیں ، اس لئے کہ انتخابات میں تو گجراتی چوہدری برادران کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیتے لیکن پھر بھی وہ جتوا دیئے جاتے ہیں ، اس لئے کہ جی حضوری میں ایوارڈ یافتہ ہیں ، گجرات میں تاجر برادری اور شہری اپنے اثاثوں کے ساتھ ڈوبے ہیں ، اس کے ذمہ دار اور قصور وار گجرات کا حکمران طبقہ اور میونسپل کارپوریشن ہے کارپوریشن خواب خرگوش سو رہا ہے اور چوہدری برادران گھر کے اختلافات میں گجرات کے اجتماعی مفاد کو نظر انداز کیئے ہوئے ہیں
وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے گجرات ڈویژن کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تو مغرب پر ست گروپ نے نوٹیفیکیشن واپس لے لیا ، پرویز الٰہی نے سیور یج سسٹم پر کام شروع کروایا تو حکومت وقت نے جاری شدہ فنڈز روک دیئے
گجرات کے قابل فخر صحافی بشارت لودھی کہتے ہیں کہ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے گجرات شہر کے نکاسی آب کے منصوبے کے لئے سوا ارب روپے کی خطیر گرانٹ جاری کروائی تھی لیکن اس وقت ضلع گجرات کے ناظم چوہدری شفاعت حسین تھے انہوں نے کسی بڑی اور اچھی ساکھ کی فرم کو اس بڑے منصوبے کا ٹھیکہ دینے کی بجائے اقربا پروری میں اپنے قریبی ان ساتھیوں کو ٹھیکہ د ے دیاتھا جو ناتجربہ کار تھے
گجرات اپنے پیاروں کے ساتھ ڈوبا تو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز گجرات تشریف لائیںوزیر اعلیٰ پنجاب کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر گجرات نور العین قریشی نے گجرات کا آئینہ وزیرِ ا علیٰ کے سامنے رکھ دیا ،
ضلع گجرات میں مسلم لیگ ن کے ترجمان سابق ایم این اے عابد رضا کوٹلہ کہتے ہیں ، گجرات سیور یج سسٹم فنڈز کا پنڈورا ب بکس کھولا جائے ۔ گجرات سیور یج کے لئے وفاقی اور صوبا ئی حکومتوں کی طرف سے دیئے گئے اربوں روپے کے فنڈز کی شفاف تحقیقات کی جائیں ، مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، بات تو سچ ہے لیکن بات ہے رسوائی کی ، عابد رضا کوٹلہ کی آواز صدا بصحرا ہونے کے سوا کچھ نہیں ، اس لئے کہ حکمران جماعت کا تخت اسلام آبادمسلم لیگ ق کے جعلی میڈیٹ کی جن بیسا کیوں پر ہے عابد رضا کوٹلہ ان بیساکیوں کو تسلیم نہیں کرتا یہ ہی وجہ ہے کہ جب وزیر اعظم میاں شہباز شریف بھمبر آزاد کشمیر آئے تھے تو انہوں نے عابد رضا کوٹلہ کو یاد نہیں کیا تھا اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تو مسلم لیگ ق سے محبت میں ضلع بھر کی مسلم لیگ ن کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ گجرات سیوریج سسٹم کے لئے 21ارب روپے کا فنڈز منظور کر کے ضلع گجرات میںمسلم لیگ ن کو آئینہ دکھا دیا
پاکستان مسلم لیگ ن سوشل میڈیاکے سٹی صدر سید طلحہ حسین عا رف ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال بھی گجرات برسات کے بارانی پانی میں ڈوبا تھا نئے سیورج منصوبے کا لالی پاپ دینے سے پہلے عوامی نمائندے اور انتظامیہ بتا ئیں کہ وہ پہلے کہاں تھے
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ نے سیلاب زدہ گجرات اور گجراتیوں کے زخموں پر مرحم ضرور رکھا ہے لیکن کیا ہی بہتر ہوتا کہ گجرات سیوریج منصوبہ کسی نیشنل لیول کی کمپنی کو دے دیا جا تا تو گجرات اور گجراتیوں کی تقدیر بد ل جاتی !
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
گجرات میں آفت ، سیاست اور صحافت
گل بخشالوی
پنجاب کی شان گجرات اور گجر اتی ، برساتی نالوں اور سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے ڈوب گیا گجرات شہر کے نشیبی علاقے محلے گلیاں مرکزی مقامات، انتظامی اداروں کے دفاتر گندے پانی کے جوہڑ بن گئے ، گجراتیوں کا سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا لیکن ہمیں پھر بھی خدا یاد نہیں آیا ، اپنا تو گریبان ہی نہیں ، سوچ تو پہلے ہی غلام ہے ، صحافی انتظامیہ سے ذاتی اختلافات کا دکھ پیٹ رہے ہیں ، جو حقائق کو دل سے تسلیم کرتے ہیں ان کی زبان اور قلم خاموش ہے ، اور سیاست دان اپنی سیاست چمکا رہے ہیں
کھاریاں میںمسلم لیگ ق ترجمان چوہدری شکیل احمد بر سہ کہتے ہیں ، چوہدری سالک حسین ، چوہدری شافع حسین ، چوہدری وجاحت حسین ، سیلابی صورتِ حال میں گجراتیوں کے ساتھ کھڑے ہیں نااہل انتظا می افسران نے میرا گجرات ڈبو دیا ، تمام جانی ، مالی نقصان اور تباہی کا مقدمہ ڈی سی گجرات کے خلاف درج کیا جائے
کاش شاہ پرستی کے گیت گانے والے شکیل احمد برسہ اگریہ کہہ دیتے کہ سوہنی کے سوہنے گجرات میں تمام جانی ، مالی نقصان اور تباہی کا مقدمہ چوہدری سالک حسین ، چوہدری شافع حسین ، چوہدری وجاحت حسین ، کے خلاف درج کیا جائے وہ گجرات کی تباہی اور گجراتیوں کی بربادی کے ذمہ دار ہیں انہیں جیل بھیج دیا جائے تو گجرات کے باشندے انہیں سلام کرتے اس کی آخرت سنور جاتی، اس لئے کہ گجرات کو انتظامیہ نے نہیں چوہدریوں کی اقربا پروری اور خود پرستی نے ڈبویا ہے
مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے چوہدری عابد رضا کوٹلہ نے کہا کہ دو لاکھ سے زیادہ گجراتی شدید کرب اور آزمائش کے دور سے گذر رہے ہیں ، دہائیوں کی نااہلی کا مداوا دنوں میں ممکن نہیں گجرات شہر کو سیورج کے جدید ترین نظام کی ضرورت ہے، عابد رضا کوٹلہ نے چھوٹے لوگوں کی طرح ضلعی انتظامیہ کو قصور وار نہیں ٹھہرایا اس لئے کہ گجرات شہر کی بربادی کے ذمہ دار دہائیوں سے گجرات کی سیا ست پر قابض طبقہ ہے جنہوں نے کھبی بھی گجرات اور گجراتیوں کو نہیں سوچا ، اس لئے گذشتہ انتخاب میں گجراتیوں نے ان کی سیا ست کا جنازہ نکال دیا تھا لیکن سہولت کاروں نے انہیں تخت اسلام آباد پر بٹھا دیا
ممتاز سماجی کارکن چیئر مین فر ینڈز شپ گروپ آف کمپنیز چوہدری ندیم منظور بیگہ نے سچائی کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھمبر نالے ، اور بھنڈر نا لے کو قبضہ مافیا سے واگذار کروا کر نکاسی آب کی قدرتی گذرگاہوں سے تعمیرات ختم کر کے
آبی گذرگا ہیں بحال کی جائیں ، آج سیلابی پانی صرف اس لئے آبادیوں کا رخ کر رہا ہے کہ دولت کی ہوس میںپانی کی قدرتی گذر گاہوں پر قبضہ کر کے خود پرستوں نے محلات تعمیر کر دئے ہیں
صدر ایڈیٹر کونسل گجرات پاکستان و چیئر مین یونین آف جرنلسٹس گجرات ، چوہدری اشفاق احمد گجرات کی صورتِ حال پراپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر مختلف شہروں اور اضلاع سے بھاری مشینری، گاڑیاں اور WASA کی خصوصی ٹیمیں گجرات بھجوا دی ہیں لیکن اس کے باوجود بازاروں، دکانوں کی بیسمنٹ اور رہائشی عمارتوں کے زیریں حصوں میں پانی کھڑا ہے۔ تاجروں کا قیمتی سامان تباہ ہو رہا ہے، عمارتوں کی دیواریں اور بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں بعض عمارتوں کے گرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف مشینری بھیج دینا کافی نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مشینری کو فوری اور بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے تاکہ پانی کی نکاسی ممکن ہو سکے۔
………………….
!خان نے معافی مانگ لی
کالم نگار ،، گل بخشالوی
سوشل میڈیا پربحث گرم ہے ، معافی مانگیں اور فرشتہ بن جائیں ، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کیوں ؟ معافی کس جرم کی؟ جب خان نے کوئی جرم، کیا ہی نہیں تو معافی کس بات کی؟ دنیا جانتی ہے ، دو سال قید میں رکھ کر ظلم و جبر کے انتہا کے باوجود ، پاکستان کے جس عظیم لیڈر کو جھکایا نہیں جا سکا اس سے معافی منگوا کر، کیا فیلڈ مارشل اعتراف چاہتے ہیں ؟معافی مانگنے کا مطلب ! تو اعتراف جرم ہے ، سوال اٹھیں گے کیاو اقعی خان مجرم تھا ؟
امریکہ میں 9 /11 امریکی ڈرامہ تھا اور پاکستان میں 9،مئی پاکستانی ڈرامہ تھا امریکہ نے اپنے ڈرامے میں دنیائے اسلام پر الزام لگایا اور پاکستانی ڈرامے میں پاکستان کے وفا داروں پر زندگی تنگ کر دی گئی لیکن اس ڈرامے میں ڈرامہ نگاروں کو سوائے ذلت اور رسوائی کے اور کچھ حاصل نہیں ہو گا ! اس لئے کہ معافی تو اس کو مانگنی چاہئے جس نے 26،نومبر کو دارالحکومت میں ان نہتے پا کستانیوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا جو آزاد اور خومختار پاکستان کے لئے جدوجہدکے جرم میں قید کیا گیا ہے!
کیا عمران خان معافی مانگیں گے لیکن کس جرم کی ؟ اس جرم کی جو سرزرد ہی نہیں ہوا ، کیا ذوالفقار علی بھٹو کی مزاحمتی شہادت جنرل ضیائ کے خلاف بے کار تھی ؟ کیا عمران خان کا ووٹ کی حرمت پر اصرار غلط ہے؟ کیا آمریت کی سیاہ تاریخ پاکستان کی بدقسمتی نہیں ؟ کیا موقع پرست سیاست دانوں کی ضمیر فروشی قابل مذمت نہیں ؟
پاکستان کی درباری میڈیا قلم فروش مردہ ضمیر سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتے ، جب کہ پاکستان کے بدترین دشمن ملک بھارت کی میڈیا نے خان کو رول ماڈل قرار دیتے ہوکہا ، دنیا بھر کی لیڈرشپ کو عمران خان سے لائیو لیسن لینا ہو گا ، عمران خان سے سیاست سیکھنا ہو گی ، عمران خان جیل سے کہہ رہا ہے میں لڑوں گا ، ظاہر ہے کہ عمران خان فائٹر ہے ،
دنیا جان گئی ہے ، عمران خان جیل کے اندر سے مدافعانہ مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اس کی زبان پر حرف شکایت نہیں ، اپنی بیماریوں کا علاج چاہتا ہے لیکن کسی ہسپتا ل میں داخل ہو کر نہیں ، عدالت میں ویل چیئر پر آنے کا ڈرامہ نہیں کرتا ، اس کی پلیٹیں نہیں گرتیں ، دل کے دورے نہیں پڑتے، علاج کے بہانے اپنے دیس سے بھاگ جانے کے ڈرامے نہیں کھیلتا ، وہ محکوم حکومت کی خواہشات اور مرضی کی ڈیل کرنے سے انکاری ہے ، وہ کر کٹر تھا تب بھی ضدی تھا آج بھی ضدی ہے ضمیر فروش اور خود فروش نہیں ، وہ اپنے منافق دشمن سے جیت نہیں سکا لیکن شکست تسلیم کرنے سے آج بھی انکاری ہے
تجزیہ نگار لکھتے ہیں، معافی کا مطالبہ دراصل طویل دور حکمرانی کا منصوبہ ہے ، بے اختیار حکمرانی میں جاری نظام حکمرانی کی سیاسی پالیسی کا اظہار ہے ، فیلڈ مارشل کے بیان سے ظاہر ہے ، مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی اور تختِ اسلام آباد کی درباری سیاسی پارٹیوں کا مستقبل تاریک ہے، قومی سیاست میں ان کی سیاست کے دفن ہونے سے پہلے ہی دعائیں ہورہی ہیں ، فیلڈ مارشل کے معافی مانگنے
کے بیان سے ثابت ہو گیا ہے، فارم 47، سے وجود میں آنے والی حکومت، تو پہلے ہی بے اختیار تھی سیاسی اختیار بھی دفن ہوتا نظر آرہا ہے حکمران ٹولہ صرف وردی کا درباری ہے ، یہ لوگ نہ تو فریق ہیں نہ حریف، قومی سیاست میں اب ان کی حیثیت صرف ایک تماشا ئی کی سی ہے عمران خان آج بھی جیل سے قو م کے نام اپنے پیغام میں کہہ رہا ہے ظلم و جبر کی تاریک شب کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو ، روشن صبح ضرور طلوع ہوتی ہے ، عدل اور انصاف کا سورج ضرور طلوع ہو گا
ایک مغرور جنرل نے مشرقی پاکستان میں پہلے بھی کہا تھا ! بنگالی صدق دل سے معافی مانگ لیں تو ان کی جان بخشی ہو جائی گی لیکن جب ایک طاقت ور دشمن کے مقابل آیا تو اس کے غرور کا سر جھک گیا ، اپنے ہاتھوں معافی نامہ لکھا اور جان بچا کر مغربی پاکستان آگیا ، ایک جنرل ضیائ تھا اپنے غرور و تکبر کے ساتھ فضا میں دھواں بن کر اڑ گیا ، فیصل مسجد کے صحن میں ان کا مزار ہے ، رات کو درندے اس کی مزار کا طواف کرتے ہیں ،مومن جانتا ہے خدا کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ، پاکستان میں پتھروں کی برسات ہونے لگی ہے پتھروں کا سیلاب دنیا دیکھ رہی ہے ، اس لئے کہ پاکستان میں زمین کے خدا ، آسمان کے خدا اور اس کی وحدانیت کو بھول گئے ہیں ،
عمران خان کے بدترین قلمی مخالف لکھتے ہیں ، خان صاحب آپ تو بار بار کہا کرتے تھے یو ٹرن اچھے ہوتے ہیں ، ایک یو ٹرن ملکی استحکام کے لئے بھی لے لیں ، اگلے انتخابات تک چپ کا روزہ رکھ لیں اور اپنا سارا زور اگلے الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے پر لگائیں ، آپ کی یہ ڈیل سب کے لئے قابل قبول ہو گی حکومت کو فری ہینڈ ملے گا ، مطلب ہے موجودہ سسٹم عمران خان سے NRO مانگ رہا ہے لیکن عمران خانNROدینے کو تیار نہیں
ابصار عالم لکھتے ہیں! فیلڈ مارشل کے پاس خان سے معافی منگوانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ جیل میں اپنے کسی درباری کو بھیجیں وہ جیل میں عمران خان سے سوال کرے کہ، ،،I am sory کا کیا مطلب ہے تو خان کہے گا ،، میں معافی چاہتا ہوں،، فون میں خان کا یہ جملہ ریکارڈ ہو جائے گا اور اس جملے کو اپنے درباری میڈیا میں نشر کر دیں ، کہ خان نے معافی مانگ لی !!
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ایوان میں قومی اعزاز ات کی بے توقیری
کالم نگار ،، گل بخشالوی
پاکستان 1947میں دنیا کے نقشے میں دنیا نے دیکھا اور میں نے 1952میں زندگی کی آنکھ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کھولی مطلب ہے پاکستان مجھ سے عمر میں پانچ سا بڑا ہے ، میں نے شعور کی آنکھ اس وقت کھولی جب ذوالفقار علی بھٹو نے’’ طاقت کا سر چشمہ عوام ہے‘‘ کا نعرہ لگایا اور میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کی حکمرانی کے لئے عوامی سیلاب میں اپنی ایک آزاد نظم کے ساتھ شامل ہو ا اور آج تک پاکستان میں جمہوریت کی حکمرانی اور شادابی کے لئے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ اپنے علم، اپنے ، شعور ، اپنے قلم اور سخن وری کے کھڑا زندگی کے نشیب و فراز میں زندگی جی رہا ہوں ، میں نے مشرق کے ساتھ مغرب بھی دیکھا، شمالی امریکہ بھی دیکھا لیکن یہ کچھ نہیں دیکھا جو آج پاکستان میں دیکھ رہا ہوں ، میں نے قائدِ اعظم کے پاکستان میں زندگی کی آنکھ کھولی تھی اورذوالفقار علی بھٹو کے دور حکمرانی میں جمہوریت کے لئے گیت گائے!
امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈالی کر ایبسلوٹلی ناٹ کہنے اور حب الوطنی کے جرم میں عالمی لیڈرشریکِ حیات، بہنوں خاندان اور وطن دوستوں کے ساتھ جیل میں ہیں اور مینڈیٹ چور وردی کے سائے میں تختِ اسلام آباد پر گلچرے اڑا رہے ہیںلیکن آج مینڈیٹ چوروں کی حکمرانی اور نقاب پوش مارشل لائ کے دور میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ،
قیام پاکستان کے 77 سال بعد 76ویں یوم آزادی دینا نے دیکھی ، جمہوریت کے غاصب حکمران کے چاہنے والو ں اور انتظامیہ نے چاردیواری کے اندر مقبوضہ پاکستان میں جشن آزادی منایا ، نوجوانوں نے آ زادی کی قربانی سے اپنی بے خبری میں سڑکوں پر زندگی اور موت کے کھیل میں باجے بجا کے جشن منایا اور پاکستان سے محبت کے جرم میں زیر عتاب تحریکِ انصاف کے شیدائیوں نے شاہراہوں پر اپنے قید لیڈر وں سے محبت میں ظلم و بربریت کی لاٹھی چارچ میں جشن پاکستان منایا ، سپریم کورٹ اور افواج ِ پاکستان کی چھتری کے نیچے حکمران جماعت نے پاکستان اور پاکستانیوں کا جو حشر کیا اور کر رہے ہیں و ہ تو دنیا نے دیکھا اوردیکھ رہی ہے لیکن پاکستان کی تاریخ میں دوسری بار ایوارڈ اور اعزازات کی بے توقیری کو دنیا نے دیکھا اور انگلیاں دانتوں میں دب گئیں
14 اگست کو دارلحکو مت کے ایوان صدر میں تقسیم اعزازات میں قومی ایوارڈ کی بے توقیری کی انتہا ہوگئی ، اس تقریب میں اگر کوئی ایوارڈ کسی حقدار کو ملا تو و ہ پاکستان ایئر فورس کے چیف آف ایئر سٹاف ظہیر بابر سد ھو اور وہ ہیروز پائلٹ تھے جنہوں نے پاک بھارت تین روزہ جنگ میں فضائی جنگ کی تاریخ رقم کی اور دنیا بھر نے پاکستان ایئر فورس کو خراج تحسین پیش کیا ، ہم اس قومی تقریب میں شریک نہیں تھے لیکن ہم نے اپنے گھر میں ٹیلیویژن سکرین پر وہ منظر دیکھا ، جب فخر سب ڈویژن کھاریاں ایئر چیف ظہیر بابر سدھو اور
ایئر فورس کے ہیرو ایوارڈ لینے حال میں داخل ہوئے تو حال میں تشریف فرما پاکستانیوں کی تالیوں سے حال گونج اٹھا یہ پاکستانیوں کی طرف سے پاکستان ایئر فورس کو برملااعزاز تھا لیکن پھر جیسے کہ پاکستانیوں کو سانپ سونگ گیا جو لوگ ایوارڈ اور اعزات لینے حال میں داخل ہوتے ، ان کے لئے صر ف درباری تالیاں بجا بجا کر اپنے درباری ہونے کا ثبوت دے رہے تھے ۔ شاید اس لئے کہ یہ وہ سب خود فروش لوگ تھے جنہوں کے فارم47کے ناجائز حکمرا نوں کی خوشنودی کے حصول کے لئے دل کھول کر عمران خان اور تحریکَ انصاف کے لیڈر شپ کو زبان اور قلم سے گالیاں دیں ، اور فارم47 کی گیت گاتے رہے ، اس لئے کہ یہ لوگ خود پرستی میں شعوری طور پر اندھے اور بہرے ہو چکے ہیں
قومی تقریب میں قومی اعزازات کی بے توقیری دراصل قومی ہیروز اور شہدائے پاکستان کی توہین کے مترادف ہے ،کیا کوئی بتا سکتا ہے؟ کہ عمر فاروق کو دوسری بار قومی اعزاز سے کیوں نوازا گیا ، شاید اس لئے کہ یہ شخص توشہ خانہ کی ان گھڑیوں کو خریدار ہے جس کے پاداش میں وزیر اعظم اور خاتو ن اول کو قید اور جرمانے کی سزا ہو ئی
مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قومی دن کے موقع پر ایوان صدر میں قومی تقریب در اصل قومی ہیروز اور شہدائے پاکستان سے بد تر ین مذاق تھا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مومن , مجرم اور منافق فرشتہ
نگار گل بخشالوی
سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کی تاریخ (پانچ اگست) جیسے جیسے قریب آ رہی ہے، بظاہر ویسے ویسے پاکستان تحریک انصاف کو دھچکے ملنے کا عمل تیز تر ہوتا نظر آرہا ہے۔ جمعرات کو فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نو مئی کے واقعات سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سُناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں سمیت 108 کارکنوں کو قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔
یہ فیصلہ نو مئی 2023 کو فیصل آباد میں واقع ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے کیس میں سنایا گیا ہے جس میں 185 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 108 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائیں دی گئیں۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ اس حساس ادارے پر حملے کہ اس کیس میں جو خود فروش جھک گئے انہیں غلام عدالتوں نے فرشتہ قرار دے کر بری کر دیا اور جنہوں نے آزاد اور خود مختار ریاست پاکستان کے لئے جینے کی قسم کھائی جنہوں نے سرزمین پاک کی عظمت کے لئے سر اٹھا کرجینے کا عزم کیا جس نے پاکستان کو ریاستِ مدینہ ثانی بنانے کے لئے ا پنی زندگی کے حسن کو دائو پر لگا دیا ، غلام عدالتوں نے انصاف کے خون نہا کر انہیں پاکستان دشمن قرار دے کر سزائیں سنا دیں جس پر غاصب حکمران کے قلم فروش درباری اپنی تحریروں میں خوشی کے گیت لکھ رہے ہیں ۔ جانے ان کے وہ کون سے ذارئع ہیں جن کے حوالے سے وہ اپنی من پسند اورمن گھڑت تحریروں میں جھوٹ لکھ کر قوم کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش میں راکھ میں دبی ہوئی چنگاریوں کو بھڑکا رہے ہیں ایک درباری قلم فروش اڈیالہ جیل میں قید، قیدی نمبر804، کے حوالے سے لکھتا ہے ، بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اگر علی امین گنڈاپور صوبے میں امن و امان قائم نہیں کر سکتے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
کاش یہ قلم فروش لکھتا کہ بلوچستان میں پنجابیوں کو سرعام قتل کرنے والولے بلوچیوں کو اگر کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکتے تو وزیرِاعلیٰ بلوچستان استعفیٰ دے دیں تو ہم اس درباری کی پاکستان دوستی پر فخر کرتے!
نو مئی کے ڈرامہ کیس میں رات کے اندھرے میں سنائی جانے والی سزائوں سے متعلق حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کی عدالتیں ماضی میں بھی رات گیارہ بجے اور کبھی کبھی بارہ بجے کھولی جاتی رہی ہیں اور اپوزیشن کے رہنمائوں کو سزائیں سناتی رہی ہیں ۔ حنیف عباسی کو 2018ئ کے الیکشن سے صرف چار دن قبل ہفتہ کی رات بارہ بجے راولپنڈی کی ایک عدالت کے جج سردار محمد اکرم نے عمر قید (25) سال کی سزا سنا کر تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا تھا۔ ہفتہ کی رات بارہ بجے سزا اسلئے سنائی گئی کہ اگلے دن اتوار تھا۔ اتوار کو عدالتیں بند ہوتی ہیں۔ جج صاحب نے پورا اہتمام کیا کہ حنیف عباسی کو سزا سے اگلے دن کسی عدالت سے ضمانت نہ ملے اور وہ 2018 ئ کا الیکشن نہ لڑسکے۔ موصوف کو رات بارہ بجے عدالت سے گرفتار کرکے جیل پہنچا دیا گیا اور وہ الیکشن نہ لڑسکے۔
۔ تحریک انصاف کی خاتون رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چوہدری سمیت دیگر ملزمان کو دس دس سال قید کی سزا میرے لئے کوئی نیا واقعہ نہ تھا لیکن میں سوچ رہا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد تو 9 مئی 2023 کو اپنے کارکنوں کو کور کمانڈر ہاوس کے اندر جانے سے روک رہی تھیں ۔ اُنکی ویڈیو سارے زمانے نے دیکھی جس میں وہ کارکنوں کو پرامن رہنے کی اپیل کر رہی ہیں تو پھر انہیں دس سال قید کی سزا کیوں سنائی گئی ؟ شاہ محمود قرشی 9 مئی کو کراچی میں تھے جس کے ثبوت موجود ہیں۔ انہیں سزا سنانے کا مطلب پورے مقدمے کو ایک مذاق بنانا تھا اس لئے انہیں بری کردیا گیا لیکن ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ گستاخی معاف! مجھے 2018ئ میں حنیف عباسی کو سنائی جانے والی سزا اور 2025 میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو سنائی جانے والی سزا میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔
۔ 9 مئی واقعی ایک سچ ہے لیکن جب آپ سچ میں جھوٹ ملائیں گے ، جس نے آپ کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا اُسے چھوڑ دیں گے ۔ جو سمجھوتے سے انکار کرے اُسے سزا سنائیں گے تو پھر انصاف ایک مذاق بن جاتا ہے، انصاف ایک المیہ بن جاتا ہے ۔ یہ سزائیں ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج ہونگی ۔ ایک فریق قانون کی بالا دستی قائم کرنے کے دعوے کریگا دوسرا فریق ناانصافی کا شور مچائے گا ۔ عدالتیں آئندہ بھی رات کے گیارہ بجے سزائیں سناتی رہیں گی ایسا پہلی دفعہ نہیں ہو گا ۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے، 2018 میں جنہیں سزائیں سنائی گئیں وہ آج وزیر بن چکے ۔ 2025ئ میں جنہیں سزائیں سنائی جا رہی ہیں انصاف تو انہیں بھی ملے گا ۔ ہر تاریک رات کے بعد اجالا ضرور آتا ہے
حامد میر کی اس تحریر سے اتفاق کرتے ہوئے آزاد اور خود مختار پاکستان سے محبت کرنے والے جانتے ہیں کہ ان کے قائد عوامی لیڈر عمران خان نے درباری حکومت سے مذاکرات کی رائے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات صرف فوج سے ہوں گے، لیکن فوج نے عمران خان کی سوچ کو اہمیت نہیں دی تو دلیرقومی لیڈر نے کہا ! کہ اب کسی سے بھی مذاکرات نہیں ہوں گے، صرف اور صرف احتجاج ہوگا اور تحریک چلائی جائے گی۔ دنیا جانتی ہے کہ منصوبہ ساز ملک، عدلیہ اور نظام کے ساتھ جو کر رہے ہیں وہ دنیا کے سامنے ہے، نظام انصاف، انصاف کا نظام نہیں رہا لیکن اس نظام کے تحت تحریکِ انصاف کے وجود کو ختم کرنےکی ہر کوشش ناکام ہو گی اس لئے کہ جب لیڈر سے محبت انسانی وجود میں جڑ پکڑ لیتی ہے تو محبت کے اس پودے میں خوبصورت اور تعمیری سوچ کے پھول کھلتے ہیں اور ان پھولوں کی مہک نہ تو دبائی جا سکتی ہے اور نہ چھپائی جا سکتی ہے اس حوالے سے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے !
نہ گھبرا کثرتِ غم سے حصول کامیابی میں
کہ شاخ گل میں پھول آنے سے پہلے خار آتے ہیں
……………
غیر رجسٹرڈ پریس کلب سیل کر دیئے جائیں
کلام نگار گل بخشالوی
کتابوں میں پڑھتے ہیں ، صحا فت ، ریاست کا چوتھا ستوں ہے ، ہم چونکہ صحافی ہیں اس لئے ہمیں اپنے اس اعزاز پر فخر ہے ،
لیکن بعض اوقات صحافی اپنی اوقات بھول جاتے ہیں، کار سرکار میں مداخلت کی حدیں تک پار کر جاتے ہیں
اور جب ہمیں ہماری اوقات یاد دلائی جاتی ہے تو آنکھ کھلتی ہے لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے
ہم اخبار نویس معاشرتی مجرموں کے خلاف قلم اٹھاتے ہیں ، انتظامیہ کی نا اہلی اور جانے کیا کیا لکھ جاتے ہیں ، ہم لکھتے ہیں
، محکمہ صحت کی چھتری کے نیچے عطا ئی ڈاکٹرز، نیم حکیم سر عام موت بھانٹ رہے ہیں
اور محکمہ صحت خواب خرگوش میں مدہوش ہے لیکن جب ہماری خبر پر انتظامیہ کی آنکھ کھلتی ہے ،
تو عوامی مطالبے پر انتظامیہ عطائی ڈاکٹر کا کلینک سیل کر دیتی ہے پھر صحافی حضرات نامعلوم وجوہات کی بنا پر
محکمہ صحت کے دفتر جا کر افسران اعلیٰ کو قلم کی آنکھ دکھاتے ہیں
کار سرکار میں مداخلت کے دوران جب اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تو
دفتر کے اہلکار تھپڑوں کی بارش میں انہیں ان کی ا وقات بتا دیتے ہیں ،
تب ان کے قبیلے کے باوقار دوست مدد کے لئے آتے ہیں جب وہ بھی حقائق کو نظر انداز کر تے ہیںتو زیر عتاب آتے ہیں
،جب ان کے خلاف مقدمات درج ہو تے ہیں تو ضلع بھر میں اپنے قبیلے کو آواز دیتے ہیں
اور مذمت مذمت کے شور میں افسران اعلیٰ کے تبادلے کا مطالبہ کرتے ہیں
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انتظامیہ معاشرتی مجرم کے خلاف کاروائی کرتی ہے
تو اہل قلم مجرم کے ساتھ کیوں کھڑے ہو جاتے ہیں
گجرات پریس کلب کے ذمہ داروں نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے
ایک عطائی ڈاکٹر سے محبت میں گجرات پریس کلب کے وقار کو نہ صرف مجروح کر دیا ہے بلکہ
اخبار نویس کے ا وقات کو بھی ننگا کر دیا ۔ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا !!
انتظامیہ اور صحافیوں کے درمیا ن تنازعے میں صرف ایک دانشمندانہ آواز سنائی دی ،
مسلم لیگ ن کے ایم این اے ، نصیر عباس سدھو کہتے ہیں
، ضلعی انتظامیہ صحافی برادری کے ساتھ معاملات افہام و تفہیم سے حل کرے
موجودہ تنائو کی صورت حال کسی بھی شعبہ کے حق میں نہیں بہتر ہو گا معتبر حلقے آگے بڑھیں
انتظامیہ اور صحافیوں کے مسلے کو خوش اسلوبی سے حل کریں !
لیکن دوسری طرف گجرات پریس کلب کی حمایت میں ضلع بھر کی صحافی برادری کے دبائو سے بے پروا
ڈپٹی کمشنر نورالعین قریشی نے ضلع گجرات بھر میں ڈمی اخبارات و جرائد کے ڈیکلریشن منسوخ کر دیئے ہیں
، دپٹی کمشنر کے اس احسن اقدام کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم ہے ،
کیا ہی بہتر ہو گا کہ ضلعی انتظامیہ گجرات بھر میں غیر رجسٹرڈ پریس کلبوں پر بھی
پابندی لگا کر پریس کلبوں کو سیل کر دیں، اس وقت کھاریاں شہر میں مختلف ناموں سے پانچ پریس کلب ہیں
ان پریس کلبوں میں پانچ فیصد سے بھی کم وہ صحافی ہیں جو خبر بنانا اور لکھنا جانتے ہیں
باقی سب فیس بکی موبائل فو ن کے صحافی ہیں جو حادثات میں تڑپتی انسانیت کی تصویر یںبنا کر
پہلی فرست میں فیس بک پر شیئر کر دیتے ہیں ، لیکن تصو یر کے نیچے کیپشن نہیں لکھ سکتے ،،،،،
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
گجرات کی سیاست اور مریم نواز
گل بخشالوی
قوی سیاست میں ضلع گجرات کی سیاست کا منفرد مقام ہے اس لئے قومی سیاست میں ضلع گجرات کی سیاست کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، آج ضلع گجرات کی سیاست میں مسلم لیگ ق بے تاج بادشاہ ہے ،
مسلم لیگ ن سراپا ا حتجاج ہے ، تحریک انصاف زیر عتاب ہے ، اورجماعت اسلامی حسب سابق مراعات اور مفادات
کے لئے حکمران جماعت کے ساتھ نورا کشتی کھیل رہی ہے
جب کہ آصف علی زرداری حکمران جماعت سے اتحاد میں اپنے صاحبزادے بلاول زرداری کو
عالمی سطح پر متعارف کروانے کے لئے وقتی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کو دفنائے ہوئے ہیں ،
یہ وہ سچائی جس سے کوئی بھی غیر درباری پاکستانی نظر انداز نہیں کرسکتا ،
گو کہ ایسی برملا سچائی قومی سیاست کے بادشاہوں کے مزاج پر گراں گذرتی لیکن
سچائی نہ تو دبائی جا سکتی ہے اور نہ چھپائی جا سکتی ہے اس لئے کہ
سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کھبی کاغذ کے پھولوں سے
دور حاضر کی حکمرانی میں مسلم لیگ ق کو ضلع گجرات میں کیسے بے تاج بادشاہ بنوایا گیا ،
دنیا جانتی ہے اس لئے گجرات کی عوام مسلم لیگ ق کی بے تاج بادشاہی کو تسلیم نہیں کرتے
۔ مسلم لیگ ن کے سابق ایم این عابد رضا کوٹلہ ، سابق ایم پی اے میاں طارق محمود
اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری قمر زمان کائرہ کے بھائی ندیم اصغر کائرہ
تو بھر ملا کہہ رہے ہیں کہ ہم ضلع گجرات میں مسلم لیگ ق کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتے
عوام نے گجرات کے چوہدری برادران کو مسترد کردیا تھا چو ہدری برادران جیتے نہیں تھے بلکہ انہیں جتوایا گیا ہے
، مسلم لیگ ق کے چوہدری برادران بھی دل سے تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مینڈیٹ چور ہیں ،
لیکن سر پر دستِ شفقت ہے وردی کا ، اس لئے اب ان کی خواہش ہے کہ ضلع گجرات کی انتظامیہ بھی ان کے اشاروں پر رقص کرے ،
مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت ضلع گجرات میں مسلم لیگ ن کے
سالار قافلہ عابد رضا کوٹلہ اور میاں طارق محمود کے ساتھ کھڑی ہے ،
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے نورالعین قریشی کو ضلع گجرات میں ڈپٹی کمشنر لگوایا ،
جو کہ مسلم لیگ ق کو ناگوار گذرا ہے مریم نواز ضلع گجرات میں مسلم لیگ ن کو تابندہ رکھنا چاہتی ہے ،
وہ میرٹ پر عوام کی داد رسی چاہتی ہیں ، ڈپٹی کمشنر گجرات نورالعین قریشی ایک سنجید ہ مزاج خاتو ن آفیسر ہیں
اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کب تک چوہدریوں کی گجراتی سوچ کا مقابلہ کر سکتی ہیں !
کھاریاں سب ڈویژن کے شہری ضلع گجرات میں چوہدری برادران کی خود پرست سوچ سے مایوس ہو کر اگر
’’ کھاریاں ضلع بنائو‘‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس لئے کہ
کھاریاں سب ڈویژن کے شہریوں کو گجرات کے چوہدری برادران نے
اپنے ہر دور اقتدار میں بنیادی حقوق تک سے محروم رکھا ہے اگر آج تحصیل کھایاں میں حکومتی جماعتوں کے علمبردار
سراپا احتجاج ہیں تو وہ حق بجانب ہیں
سابق ایم پی اے عامر عثمان عادل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں،
تحصیل کھاریاں کا شمار پاکستان کی متمول ترین تحصیلوں میں ہوتا ہے اس تحصیل کے باسیوں کی ایک بڑی تعداد
دنیا بھر کے مختلف ممالک میں بسلسلہ روز گا ر مقیم ہے یہ لوگ اپنے خون پسینے کی کمائی سے
کثیر زر مبادلہ وطن عزیز بھجتے ہیں جو ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے
مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تحصیل کھاریاں کو ہر دور اقتدار میں بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے
اس تحصیل کے غیور باسیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے
فنڈز ہوں یا نوکریاں، نوازشات کی بارشیں تحصیل گجرات پر برستی ہیں
ہمارے بچوں کے لئے ایک بھی تفریحی پارک ہے اور نہ کوئی اور سہولت
، تحصیل کھاریاں کا ہر باشعور غیرت مند شہری اس بات پر یقین رکھتا ہے
کہ ہمیں اب اپنے حق کی خاطر اٹھ کھڑے ہو نا ہوگا، کھاریاں کو ضلع بنائے جانے کا مطالبہ اب عوامی مطالبہ بن چکا ہے
عامر عثمان عادل نے اپنی تحصیل کے باسیوں سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے ،
اس لئے کہ پاکستان بھر کی پہچان تحصیل کھاریاں کی عوام مسلم لیگ ق کی خواہشات پر اپنے بنیادی حقوق کو قربان نہیں کرسکتے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
صرف شکریہ نہیں تحفہ بھی دوں گا۔
کالم نگار ،، گل بخشالوی
پاکستان تحریک ِ انصاف کے دلیر لیڈر عمران خان کے سپاہی علی امین گنڈا پور قافلے کے ساتھ لاہور پہنچ گئے ، پارٹی رہنمائوں کے ساتھ مشاورت کے بعد علی امین گنڈا پور نے پریس کانفرنس میں کہا ’90 دن کے اندر یا تو ہم عمران خان کو رہا کرائیں گے یا پھر سیاست چھوڑ دیں گے۔‘ تحریک کا اعلان عمران خان نے کیا ہے اور عمران خان جیل میں بیٹھ کر تحریک کی قیادت کریں گے 90 دن کل رات سے شروع ہو گئے ہیں اور ان 90 دنوں میں ہم آر یا پار کریں گے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا‘ بلوچستان میں غیر بلوچیوں کو سر عام شہید کیا جا رہا ہے ’ان حالات کے ذمہ دار وہ ہیں جن کی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے وہ سرحدوں کو چھوڑ کر تحریکِ انصاف کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ سیاست کرنا ریاستی اداروں کا کام نہیں ہے لیکن ’وہ حکومتیں بنانے، چلانے اور گرانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘’پھر وہ کہتے ہیں ہم تو غیر سیاسی ہیں، ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ‘ا علی امین گنڈاپور نے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے مل کر بیٹھنے، غلطیوں کو تسلیم کرنے اور آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا ’ملک پر دہائیوں سے ادارے اور مخصوص پارٹیاں مسلّط ہیں۔‘ ’ہم آئین اور قانون کی پاسداری پر یقین رکھتے ہیں۔ اب قوم نے فیصلہ کرنا ہوگا کیا ہم غلام ابن غلام رہیں گے یا اپنے دیس میں بابائے قوم کا خواب شرمندہئ تعبیر ہوتا دیکھیں گے علی امین گنڈا پور نے کہا ’پنجاب کی محبت اور جذبہ ئ حب الوطنی پنجاب کی شان ہے پنجاب میں ہر پنجابی کے دل سے عمران خان کی سوچ دھڑک رہی ہے ہم جمہوریت کی شادابی کے لئے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں قائد عمران خان کہتے ہیں ، فیصلہ سازوں سے مذاکرات ہو سکتے ہیں ،
بے اختیاروں اور درباریوں سے مذاکرات قوم سے مذاق کے مترادف ہیں
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا پنجاب اسمبلی سے نکالے گئے تحریکِ انصاف کے عوامی نمائندوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پنجاب آئے ہیں ہم پنجاب میں امن، محبت، بھائی چارے اور رواداری کا پیغام لے کر لاہور آئے ہیں ’پنجاب اسمبلی کے اراکین کو معطل کرنا لاقانونیت ہے، اگر ایسا ہی کرنا ہے تو یاد رکھیں خیبر پختونخوا سے ان کے چیئرمین صاحبان کو فارغ کر دوں گا۔
گنڈا پور نے کہا میں پنجاب کے ہر اُس فرد کا مشکور ہوں جو عمران خان کا سپاہی بن کر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ پنجاب پی ٹی آئی کا دل ہے، یہاں کا ہر شہری تحریک انصاف کا محافظ ہے۔‘ فیصلہ ہوا ہے پنجاب سمیت ہر صوبے سے تحریک میں لوگ نکلیں گے لاہور یوں نے ہی عمران خان کو وزیر اعظم بنایا تھا، اب بھی تحریک کا آغاز لاہور سے کیا جا رہا ہے، ائیونڈروڈ پر فارم ہاوس میں اجلاس کا فیصلہ اس لئے کیا کہ ہماری آوازیں جاتی امرا میں سنائی دیتی رہیں پارٹی رہنمائوں سے تبادلہ خیال میں علی امین گنڈاپور نے کہاکہ عوام مولانا فضل الرحمان کو مسترد کر چکی ہے مولانا کے پی کے میں تبدیلی لانے کی بجائے پہلے اپنے اندر تبدیلی لائیں وہ خود جعلی مینڈیٹ پر ہیں اس کے ایک ایم این اے اور 2 ایم پی اے میرٹ پر ہیں، باقی سب فارم 47 کی پیدا وار ہیں مولانا نے لوگوں کو گمراہ کیا، اس لیے اپنے حلقے میں شکست سے دو چار ہوئے
علی امین گنڈا پور نے کہا۔ ہمارا لیڈر بے گناہ جیل میں ہے، اس پر کوئی کیس نہیں ہے ، اب ہمارا لائحہ عمل پاکستان کے حالات کے مطابق ہونا چاہیے، ۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم نے 5 اگست تک اس تحریک کو پیک پر لے کر جانا ہے، یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کیسے کرنا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پنجاب حکومت کا اس وقت شکریہ ادا کروں گا، جب مجھے لاہور میں آئینی حق کے مطابق جلسہ کرنے کی اجازت دیں گے، اگر جلسے کی اجازت دیں تو صرف شکریہ نہیں بلکہ تحفہ بھی دوں گا۔
………………………………..
سچائی اپنی پہچان کھو چکی ہے
کالم نگار ، گل بخشالوی
سابق وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں ، مجھے کہا گیا تین سال کے لئے موجودہ نظام چلنے دیں ، چھبیسویں آئینی ترمیم تسلیم کر لیں،
نو مئی کے واقعات پر معافی مانگیں لیکن میں ذاتی مفاد اور خوشنودی کے لئے تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہ سکتا ۔ میری جدوجہد قانون کی حکمرانی کے لئے ہے چھبیسویں آئینی ترمیم کو تسلیم کرنامیرے عزم و استقلال کی توہین ہے
نو مئی کے حوالے سے درج مقدمات کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بے بنیاد مقدمات ختم ہو جائیں گے، لیکن مجھے انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔‘ جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جاتا ہے تو پھر عوامی احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا ’عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے اور یہ سب کچھ مجھے جھکنے اور توڑنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ اب پارٹی عہدیداران کو فیصلہ کرنا ہو گا ، اس ملک سے ظلمت کے سائے ختم کرنے کے لیے ہر پاکستانی کو اپنے حصے کی قربانی دینا ہو گی۔‘
عمران خان صاحب ! آپ سے ہر اس شخص کو نفرت ہے جس کے منہ میں حرام کا نوالہ ہے آپ جو سوچتے اور کہتے ہیں پوری قوم اس کی تائید کرتی ہے لیکن جیل سے باہر تحریکِ انصاف کی قیادت منافقت کی تاریخ دھرا رہی ہے
پاکستان کے پہلے عوامی وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی یہ ہی غلط فہمی تھی بھٹو کے درباری بھی بھٹو کے نام پر کماتے اور کھاتے رہے آج تحریک انصاف کے درباری بھی آپ کے نام پر کما اور کھارہے ہیں ۔ قوم تحریکِ انصاف کی اعلیٰ اور ا دنیٰ قیادت کی رہائی کے لئے پر امن تحریک چلانے کے لئے بے چین ہے لیکن جیل سے باہر تحریکِ انصاف کی قیادت سوشل میڈیا پر بیانات داغ کر کما اور کھا رہے ہیں اگر یہ عمل جاری رہا تو خان صاحب ! آپ کی رہائی خوش فہم خواب بن کر رہ جائے گی !
فارم 47، حکومت کے ترجمان درباری تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تحریکِ انصاف کے ساتھ براہ راست رابطوں میں ہے لیکن عمران خان مذاکرات کی بجائے عوام کو متحرک کرنے فیصلہ کر چکے ہیں عمران خان فارم 47، حکومت کی جانب سے براہِ راست مذاکرات سے انکاری ہیں اس لئے کہ خان صاحب ایک مرتبہ پھر مذاکرات پر طاقت کے سرچشمہ عوام کو فوقیت دے رہے ہیں
قومی قائد عمران خان ابن خلدون کے قول کو جانتے ہیں ابن خلدون کہتے ہیں جب محکوم معاشرہ اخلاقی اقدار سے دستبردار ہو جاتا ہے ، ظلمت کا دورانیہ جتنا طویل ہوتا جاتاہے تو ذہنی و جسمانی طور پر محکوم سماج کا انسان جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور، کھجور کی گٹھلیوں کے قاری، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش مفتی، جھوٹے راوی، ، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے خوشامدی، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے ، ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگر یقین کوئی نہیں کرتا نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے، گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ، ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ، اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔
جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں، تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے لوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست بن جاتا ہے ، باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے، مشکوک چہرے زیادہ نظر آتے ہیں اور ملنسار چہرے معاشرے کی سطح سے غائب ہو جاتے ہیں، حوصلہ افزا خواب نایاب ہو جاتے ہیں امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے، شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جما عتیںگروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔
بازاروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے اور وابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے “ہجرت” ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے لوگوں کا کل سازو سامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتا ہے، چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں وطن یادوں میں اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔
قیدی نمبر 804 جانتا ہے کہ ابن خلدون نے کل جو کہا تھا وہ آج ہم اپنے وطن میں دیکھ رہے ہیں اگر ہم آج بھی خاموش تماشائی بنے رہے صرف زندگی کا پیٹ بھرتے رہے تو ہم قائد اعظم کے پاکستان کی شان کھو دیں گے اس لئے کہ جھوٹ بڑی خوبصورتی سے بولا جا رہا ہے سچائی اپنی پہچان کھو چکی ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
!! سید تیری جت وے شالا
کالم نگار ،، گل بخشالوی
کھاریاں شہرمیںچند روز قبل ہم شہریوں نے دیکھا اور پڑھا ، ایک خاتو ن آفیسر کی تصو یر کے ساتھ صحافت سے وابستہ ایک قابل احترام شہری نے بازاری زبان میں جو لکھا وہ ایک اخلاقی جرم تھا خبر نگار کی یک طرفہ خبر نگاری صحافتی جرم ہے ، اگر اللہ تعالیٰ نے کسی صاحب ِ شعور کے سر پر صحافت کا تاج رکھ دیا ہے تو وہ قلم اٹھاتے وقت اپنی چادر کی لمبا ئی چھوڑائی کو دیکھ لیا کریں سہاروں کی خوشامد میں اپنی شخصیت اور مقام بھول جانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات سہارے ساتھ چھوڑ بھی دیتے ہیں
بار ایسوسی ایشن کے صدرچوہدری محبوب علی ایڈووکیٹ کی پریس کانفرنس کے بعد خاتون آفیسر کا ساتھ دینے والے اس کا ساتھ چھوڑ گئے ، ایف آئی آر خارج ہونے پر سید ضیائ اللہ شاہ اس کے چاہنے والے اور ان کے پریس کلب میں صحافیوں کی فوج سوشل میڈیا میں ایک
خاتو ن افسر کی سوچ پر فتح کے بعد جشن بالکل اسی انداز میں منا ر ہی ہے جیسا کہ دو ہفتے قبل پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان کی فتح پر جشن پاکستان منایا گیا تھا
ممتاز دانشور سابق ایم پی اے عامر عثمان عادل کی سچائی اور حق گوئی پر انگلی اٹھانے والے کم ظرف درباری اور خوشامدی کچھ بھی کہیں لیکن وہ عامر عثمان عادل کی سچائی اور حق گوئی کو جھٹلا نہیںسکتے آج بھی وہ اپنے موقف پر قائم ہیں عامر عثمان عادل اور ان کے ہمنوا سید ضیائ اللہ شاہ صاحب سے سوال کرتے ہیں ، سید بادشاہ ایک بیٹی منتظر ہے !
،19 مئی کو جو ہوا وہ قطعا بھی اچھا نہ تھا ، آپ کے لئے ، ایک خاتون کے لئے اورنہ ہی شہر کے لئے۔ کیا آپ ایک لمحے کو غور کریں گے ؟ بند کمرے میں پیش آنے والے اس جھگڑے کو آنا فانا کس نے سوشل میڈیا میں نشر کر دیا ؟ کس نے یہ بیانیہ بنایا کہ ایک خاتون افسر نے شاہ جی سے بدتمیزی کی ؟ کون تھا جس نے آپ کے سی سی ٹی فوٹیج سے خا تون کی تصویر لے کر میڈیا کو دی ؟یقینا یہ آپ کے ساتھ ہمدردی نہیں تھی سراسر زیادتی تھی اس کے پیچھے مفاد پرست ، ابن الوقت اور خوشامدیوں کا ٹولہ تھا بصد معذرت !آپ کی عزت کو اچھالا گیا ، معاملہ سلجھنے کو تھا لیکن ایف آئی آر کے اندراج نے طوفان بپا کر دیا توکھاریاں بار اور سماجی حلقے آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے اورایف آئی آر خارج ہو گئی ، لیکن اس کے بعد جس انداز میں جشن فتح منایا گیا اور منایا جا رہا ہے اس نے جلتی پہ تیل کا کام کیا شاہ صاحب یہ جشن کیسا ؟ کیا اس افسوسناک اتفاقی واقعے سے پہلے آپ کا اس خاتون سے دور کا بھی کوئی واسطہ تھا ؟ نہیں ناں !! مان لیا دوسری جانب سے بھی کچھ حلقوں کی جانب سے گولہ باری جاری رہی لیکن اس خاتون کی کوئی ایک پوسٹ آپ کے خلاف ؟ یا اس کے کسی رشتہ دار کا کوئی بیان؟ ماسوائے ایک ویڈیو وضاحتی بیان کے !!
شاہ جی ! میرا آج بھی ماننا ہے یہ واقعہ اتفاقی تھا وقتی اشتعال تھا ، غصہ تھا ، جس میں تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجی ، مان لیا ایف آئی آر جھوٹی ہے لیکن ایک بیٹی کے جسم ناتواں پہ پڑنے والی خراشیں جھوٹ نہیں بول رہیں ہیں ، چلیں تسلیم کر لیتے ہیں ، سارا قصور اسی کا تھا اس نے غلط کیا اب تو ایف آئی آر بھی خارج ہو چکی تو کیا اس عمل کو مسئلے کا حل سمجھ لیا جائے؟
یہ تاثر کیوں دیا جا رہا ہے کہ آپ کے اثر و رسوخ اور بار کے دباو کی وجہ سے ایف آئی آر ہی اڑا کے رکھ دی گئی،
آپ کے سچے ہمدرد تو یہ گمان کر رہے تھے کہ آپ ایک باقاعدہ پراسیس سے گذر کر اپنی ذات پہ لگنے والے الزامات سے بری ہو کر نکلیں گے تو آپ کی ناموس کئی گنا بڑھ جائے گی! شاہ صاحب آپ جیت گئے ناں !
اب ایک کام کیجئے ، سادات کے صدقے ، دل بڑا کیجئے ، خود چل کے جائیے ، اس کے سر پہ دست شفقت رکھ کر ، ایک بیٹی کو ہارنے سے بچا لیجئے ، یہی سادات کی ریت ہے ، یہی آپ کے پرکھوں کی تربیت ہے ، سماج کو یہ پیغام دے دیجئے ، عورت ہر روپ میں قابل احترام ہے
بیٹیاں گستاخی بھی کر ڈالیں تو انہیں نرمی اور شفقت سے سمجھایا جاتا ہے ان کا میڈیا ٹرائل نہیں کیا جاتا ، میں جس ضیائ اللہ شاہ کا قدردان ہوں
مجھے امید ہے وہ ضرور میرا مان رکھیں گے ایک بیٹی آپ کے دست شفقت کی منتظر ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بیت الغزل کیا ہے؟
گل بخشالوی
اردو ادب کی شان ا ساتذہ فرماتے ہیں کہ غزل کے سب سے بہترین شعر کو بیت الغزل کہتے ہیں۔ غزل کا لفظ غزال سے نکلا ہے اور غزال ہرن کو کہتے ہیں۔غزل اس آواز کو کہا جاتا ہے جو ہرن کے حلق سے اس وقت نکلتی ہے جب وہ شیر کے خوف سے بھاگ رہی ہوتی ہے۔ غزل کے لغوی معنی عورتوں سے یا عورتوں سے متعلق باتیں کرنا یا عشق و محبت کا ذکر کرنا بھی بتایا گیا ہے۔ایک غزل کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے پہلے حصے کو مطلع کہا جاتا ہے جس میں دو مصرے ہوتے ہیں پہلے مصرع کو مصرع اولیٰ اور دوسرے مصرع کو مصرع ثانی کہتے ہیں مطلع کے دونوں مصروں میں قافیہ اور ردیف ا ستعمال ہوتا ہے لیکن کسی غزل میں ردیف لازی جز نہیں ہے قافیہ کے بعد اگر ردیف نہ بھی لکھا جائے تو کوئی قید نہیں۔
غزل کے دوسرے حصے کو مقطع کہا جاتا ہے جس کے پہلے مصرعے یعنی مصرع اولیٰ میں اکثر شاعر اپنا تخلص ا ستعمال کرتا ہے اور دوسرے مصرعے یعنی مصرع ثانی میں قافیہ اور ردیف استعمال ہوتا ہے ۔غزل کے تیرے حصے کو اشعار کہا جاتا ہے یعنی مطلع اور مقطع کے درمیاں والے مصروں کو اشعار کہتے ہیں،غزل کے کم از کم اشعار کی تعداد پانچ ہوتی ہے اس سے زیادہ اشعار لکھنے کی کوئی قید نہیں لیکن 11 اشعار موزوں جانے جاتے ہیںغزل کا ایک مطلع ہوتا ہے جس کے دو نوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد غزل کے ہر شعر کا دوسرا مصرع مطلع کے قافیے اور ردیف سے متعلق ہوتا ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اور پھر آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اور اسے مقطع کہا جاتا ہے۔ غزل کے اشعار میں موضوع کے حوالے سے کوئی ربط نہیں ہوتا اور ہر شعر کا موضوع اور مطلب الگ الگ ہوتا ہے۔
غزل اردو ادب میں کامیابی اور پسندیدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ غزل ہر دور میں ہمارے ساتھ چلتی رہی ہے۔ ہمارے مزاج اور ہمارے انفرادی اور اجتماعی حالات اور ہمارے تہذیبی رویوں کے ساتھ غزل نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑ غزل اپنے مزاج میںہماری تہذیبی روایات ، حالات اور بدلتے ہوئے مزاج کے باطن میں بیٹھی رہی۔ غزل نے اگرہمیں نہیں چھوڑا تو ہم شاعروںنے بھی غزل کو نہیں چھوڑا۔ بہت سی اصناف مثلاً قصیدہ، مرثیہ اور مثنوی وغیرہ کو ہم لوگوں نے چھوڑ دیا لیکن غزل ابھی تک ہمارے ساتھ چل رہی ہے۔ اس لئے کہ شاعری کی جان غزل ہے!
غزل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا نمائندہ جس نے اس کو باقاعدہ رواج دیا تھا۔ وہ ولی دکنی تھے۔ لیکن ولی سے غزل کاآغاز نہیں ہوتا اس سے پہلے ہمیں دکن کے بہت سے شعرائ کے ہاں غزل ملتی ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ، نصرتی، غواصی، ملا وجہی۔ البتہ ولی دکنی نے پہلی بار غزل میں تہذیبی قدروں کو سمویا۔ عام فہم زبان میں غزل ایک پابند منظوم صنف ہے غزل کے کسی بھی شعر کے خیال کا اس سے اگلے شعر میں تسلسل ضروری نہیں ہوتا۔ایک غزل کے اشعار کے درمیان مرکزی یکسانیت کچھ الفاظ کے صوتی تاثر یا چند الفاظ کا ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تکرار سے ہوتا ہے۔ لیکن اس سے ہٹ کر بھی کسی غزل کے ایک سے زیادہ اشعار کسی ایک ہی خیال کو مرکزی ظاہر کر سکتے ہیں۔لیکن ہر شعر اپنی جگہ منظوم قواعد و ضوابط کا پابند ہونا ہے۔جن غزلوں میں ایک سے زائد اشعار ایک ہی مرکزی خیال لئے ہوتے ہیں ان کو نظم یا نظم نما غزل بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ارودو زبان میں لفظ نظم کا واضح مطلب جملوں کے اختتام پر وزن اور صوتی اثر کا یکساں ہونا ہے۔ ۔
ابوالاعجاز حفیظ صدیقی اپنی تالیف ’’ ادبی اصطلاحات میں لکھتے ہیں کہ غزل کے خوبصورت ترین شعر کو ’’ بیت الغزل ‘‘ کہتے ہیں اس لئے کہ بیت الغزل ، غزل کے ساتھ مخصوص ہے جب کہ ’’ شاہ بیت ‘‘ وسیع تر مفہوم ادا کرنے والی اصطلاح ہے کسی قصیدے ، نعت اور حمد کے بہترین شعر کو شاہ بیت کہتے ہیں لیکن اسے بیت الغزل نہیں کہہ سکتے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستان میں جشن ِ فتح
کالم نگار ، گل بخشالوی
افواج پاکستان کے دفاعی کردار پر ہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے ممالک کو فخر ہے وہ جانتے ہیں کہ افواجِ پاکستان دنیا کی مثالی فوج ہے ، پاکستان کے اندورنی سیاسی حالات کچھ بھی ہوں ، لیکن جب بات قومی سا لمیت کی ہو ، غیرتِ ایمانی کی ہو تو درا نداز کے مقابل پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کھڑی ہوجاتی ہے افواج پاکستان کا قومی سیاست میں مدا خلت پر اعتراض عوام کا جمہوری اور آئینی حق ہے لیکن قومی سرحدوں کی حفاظت کے لئے افواج پاکستان کا ساتھ دینا قومی فریضہ ہے ،
بھارت کی بزدلانہ جار حیت کے جواب میں پاکستان کا بھر پور جواب ، افواج پاکستان کی شان اور پہچان ہے، بھارت پاکستان کے قومی دفا ع کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار تھا ، بھار ت خطے میں بالا دستی کا خواب دیکھ رہا تھا ، بھارت نے اپنے خواب کی تعبیرکے لئے رات کی تاریکی میں پاکستان کی قومی غیرت کو للکارا ، دنیا بھر کی طاقتیں خاموش تماشائی تھیں ، افواج پاکستان کی جوابی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا گیا لیکن آرمی چیف نے کہا ، ہم خطے میں امن کے علمبردار ہیں لیکن کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ، ہم جواب دیں گے تو دنیا د یکھے گی اور نظر بھی آئیگا، اور پھر دنیا نے دیکھ لیا، صرف پانچ گھنٹے کی جوابی کاروائی میں پاکستان کے شاہینوں نے بھارت کے در و دیوار ہلا دیئے تو مغربی طاقتوں کی آنکھ کھل گئی ، پاکستان کی دفاعی قوت سے متعلق ان کی غلط فہمی دور ہوگئی ، بھارت کی سا لمیت خطرے میں دیکھ کر امریکہ کی مدا خلت پر عارضی طور پر پاکستان جنگ بندی پر راضی ہو گیا
افواج پاکستا ن کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ، پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، جنگ بندی کی خواہش بھارت کی تھی، ہماری جوابی کارروائی کے بعد بھارت نے سیز فائر کی درخواست کی۔ ، ہم ایک پیشہ ور فوج ہیں، ہم اپنے وعدوں پر پوری طرح عمل کرتے ہیں، فریق مخالف اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم جواب دیں گے اور ہمارا جواب بھرپور ہوگا۔
سی این این کے صحافی نک رابرٹسن لکھتے ہیں بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی طاقتور جوابی کارروائیوں نے بھارت کو فوری پسپائی پر مجبور کر دیا، فوجی تنصیبات، فضائی اڈوں اوراسلحہ ذخیرہ گاہوں پرمیزائلوں کی شدید بارش سے بھارت دفاعی پوزیشن پرچلاگیا، انہیں سمجھ ہی نہ آئی کہ کیاہوگیا،
امریکی عسکری جریدے نیشنل انٹریسٹ نے لکھا، بھارت، پاکستانی فضائیہ کے ساتھ ٹکراؤ میں خود کو برتر نہ سمجھے، پاکستان ایئرفورس نے اپنی کارکردگی سے پوری دنیا کو پیغام پہنچا دیا ہے۔ بھارت نے پہلگام حملے کے شواہد دینے کے بجائے پاکستان پر حملہ کیا، جنگیں فریقین کے غرور اور لاعلمی سے جنم لیتی ہیں۔ عام تاثر تھا کہ بھارت کو پاکستان پر برتری حاصل ہے لیکن پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ بھارت سے جنگ میں پاکستان کی فوج نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ پاک فوج کا دندان شکن جواب نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر زندہ کر دیا
امریکی ملٹری جریدے نے پاکستانی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان ایئرفورس نے ابتدائی بھارتی فضائی حملوں کو روک کر غیرمعمولی دفاعی صلاحیت ثابت کی، پاکستان نے آپریشن کے آغاز میں ہی بھارتی فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے۔ بھارت کے جدید ترین رافیل طیاروں کا نقصان، نئی دہلی کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، پاکستان فضائیہ کی برتری کی بڑی وجہ پاک فضائیہ کے پائلٹس کی بہتر تربیت اور جنگی تجربہ ہے۔ مجموعی طور پر دہلی کو یہ احساس ہو گا کہ ان کے پرانے حریف کی فضائی طاقت اس کی سوچ سے کچھ زیادہ ہے، بھارت نئے ہتھیاروں کے حصول پر اربوں خرچ کرنے کے باوجود فیصلہ کُن ضرب لگانے میں ناکام رہا ہے۔
پاک بھارت جنگ کے خاتمہ پر اب یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ اس جنگ میں کون جیتا اور کون ہارا، مجموعی طور پر جنگ کے اختتام اور سیز فائر کا سب نے خیر مقدم کیا اس میں کوئی شک نہیں کہ جیت پاکستان کی ہوئی ، جیت پاکستان کی امن کی سوچ کی ہوئی ہے جیو اور جینے دو کی پالیسی کو کامیابی ملی ہے بھارت کے مودی سرکار کی جنگ کی سوچ کو شکست ہوئی ہے ، مہم جوئی، انتہا پسندی اور جنونیت کی ہار ہوئی ہے، جنگ میں دفاعی ، سفارتی، نفسیاتی اور میڈیا کے محاذ پرپاکستان کو سبقت اور فتح حاصل ہوئی ، بھارت کو ہر محاذ پر شکست ہوئی ، جنگ کے نتیجے میں
پا کستانی قوم کا مورال بلند ہوا ، شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشیاں منائیں، پاکستان کے پرچم لہرائے ، پاک فوج اور فضائیہ کے جوانوں کو ہار پہنا ئے گئے افواجِ پاکستا ن زندہ باد کے نعرے لگائے ، جشن فتح میں 11،مئی کو اظہار تشکر بڑے دھوم سے منایا گیا اوردوسری طرف بھارت کے شہری بھارت کے وجود پر مودی کے لگائے زخم گن رہے ہیں
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
کھاریاں تک ڈرون کیونکر آیا ؟؟
کلام ،نگار ، گل بخشالوی
افواجِ پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا تھا ’ بھارت میں 15 مقامات پر پاکستان کے حملے کی خبر من گھڑت ہے ابھی کوئی حملہ نہیںکیا ، جب پاکستان جوابی حملہ کرے گا تو وہ نظر بھی آئے گا اور دنیا بھر میں اس کی گونج بھی سنائے دے گی
بھارت نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، اٹک، راولپنڈی، بہاولپور، میانو چھور اور کراچی سمیت دیگر علاقوں کی جانب بھیجے جانے والے کئی مسلح ڈرونز نے کئی مقامات پر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستان کے شاہینوں نے ان کو مار گرایا ہے۔ ’مشرقی سرحد پر ہماری گہری نظر ہے ۔ ہر متحرک شے کو مانیٹر کیا جارہا ہے اسے گرایا جارہا ہے۔‘ بھارت کی فضائی حدود سے چار پروجیکٹائلز میزائل میں سے تین بھارت نے خود اپنی حدود میں امرتسر میں گرائے جبکہ ایک سرحد پار کر کے پاکستان کے ضلع گجرات کے علاقے ڈنگہ کی طرف آیا جسے ہم نے مار گرایا !!
افواج پاکستان نے جو کہا تھا کر دکھایا ، بھارتی جارحیت پر جوابی کارروائی میں آپریشن بنیان المرصوص ( جس کا مطلب آہنی دیوار ہے)۔ کا آغاز کر دیا ہے، شاہینوں نے بھارت میں گھس کر پٹھان کوٹ میں ایئربیس ادھم پور، براہموس اسٹوریج تباہ کر دئے، جہاںسے پاکستان پر میزائل داغے گئے تھے۔ منہ توڑجوابی کارروائی میںبھارت کے ان تمام مقامات کو جہاں سے پاکستان کے عوام، مساجد و دیگر مقامات پر حملے کیے گئے تھے تباہ کیا جارہاہے پاکستان کے شاہینوں نے سائبر اٹیک میں بھارت کے 70،فیڈگرڈ سٹیشن کو ناکارہ کر کے ، ہندوستان میں اندھیر ا کر دیا ہے۔
پاکستانیوں کو افواج پاکستان کی جنگی حکمت عملی پر فخر ہے قوم جانتی ہے کہ دور ِ حاضر میں جنگیں قومی اور مذہبی جذبات کے ساتھ حکمتِ عملی سے لڑی جاتی ہیںلیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت سے داغا گیا میزا ئل تحصیل کھاریاں کے شہر ڈنگہ تک کیسے اور کیونکر پہنچا ؟ بھارت کیا دیکھنا چاہتا تھا شاید وہ میجرعزیز بھٹی شہید کو بھول گیا ہے
دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کی صورتحال میں کسی بھی ملک کے لیے اس کا فضائی دفاعی نظام بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اور دفاعی نظام میں میزائل شکن سسٹم کے ساتھ ساتھ دشمن کے جہازوں کو ٹریس اینڈ ٹریک کرنے والے ریڈار اور دیگر آلات بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایک سرویلنس ڈرون کی قیمت 500 سے 5000 ڈالر تک ہو سکتی ہے جبکہ اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت کروڑوں میں ہوتی ہے۔ بھارت پاکستان کی جانب بیسیوں یا سینکڑوں ڈرونز بھیج رہا ہے تو ظاہر ہے کہ چند ہزار ڈالرز کے ڈرونز کو ” ڈیکوے ” کے طور پر استعمال کرنے کا مقصد بھارت انٹرسیپٹر میزائلز کو ضائع کرنا چاہتا ہے تاکہ اصل حملے تک زیادہ سے زیادہ ائیر ڈیفنس میزائل ضائع ہو چکے ہوں لیکن بھارت کو غلط فہمی ہے وہ طاقت کے نشے میں بھول گیا ہے کہ اس کا واسطہ کس قوم سے پڑا ہے اس لئے فرانسیسی اخبار نے جدید ہتھیاروں کے باوجود بھارتی فضائیہ کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیخلاف کارروائی نے بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کا پول کھول دیا، بھارتی لڑاکا طیاروں بالخصوص رافیل کا تباہ ہونا بھارتی فضائیہ کیلئے شرمندگی اور دھماکہ خیزدھچکا ہے۔ اخبار نے تجزیے میں پاکستانی فضائیہ کے پیشہ ورانہ معیار کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاک فضائیہ کو قبائلی علاقوں میں انسداد دہشت گردی آپریشن کا 15 سال سے زائد کا تجربہ ہے پاکستان کے پاس جدید فرانسیسی اور چینی ساختہ لڑاکا طیارے بھارت کے مقابلے کیلئے موجود ہیں
آج پاکستان حا لت ِ جنگ میں ہے سیاسی جماعتوں اور اداروں کو ایک پیج پر لانے اور قومی یکجہتی کے مثالی اظہار کے لئے پاکستان بھر میں سیاسی قیدیوں کو پیرول پر رہا کیا جا نا مکار دشمن کو آئینہ دکھانے کے مترادف ہو گا ، سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو بھی بتانا ہوگا کہ تمہاری غلامی اپنی جگہ لیکن فیصلے زمینی حالات کو دیکھ کر کیا کریں، ایسے فیصلے جس سے ذاتیات کی بد بو آتی ہو انہیں وقتی طور پر محفوظ بھی کیا جا سکتا ہے ، مکار دشمن بھارت کو بتانا ہو گا کہ ہمارے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن وطن عزیز کے دفاع کے لئے قوم مثالی اتحاد میں افواج ِ پاکستان کے شانہ بشانہ ہوا کرتی ہے ، ہمارے خوبصورت پاکستان میں آج بھی وہ قبائیلی پختون جاگ رہا ہے جو 1965 ،کی جنگ میں توپوں اور ٹینکوں کے مقابل اپنی بندوقیں اٹھا کر پاکستان کی سرحدوں پر افو اج پاکستان کے شانہ بشانہ تھے ،پاکستا ن زندہ قوم ہے ، ان شائ اللہ یہ جنگ پاکستان جیت کر دم لے گا ،
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
شاہینوں کا وار ، پانچ طیارے 25، ڈرون
گل بخشالوی
بھارت کو شاید یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان کے اندرونی سیاسی کشیدگی بھارت کے مفاد میں ہو گی لیکن رجیم حکومت کے زیر عتاب پاکستان تحریکِ انصاف نے ناپاک دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملاتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان ہیں اور افواجِ پاکستان ہماری شان اور پہچان ہے تحریکِ انصاف افواج پاکستان کے ساتھ ہے ، لیکن مودی سرکار کے دماغ میں ٹرمپ کھیل رہا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ اپنے دیس میں ہمارے لاکھ سیاسی اختلافات ہوں لیکن جب بات قومی سلامتی اور علاقائی خود مختاری کی ہو توپاکستان کی عوام اور ادارے ایک پیج پر ہوتے ہیں مودی سرکار کو سمجھایا تھا ’’ مت چھیڑ ملنگاں نوں ‘‘ لیکن اس کی سمجھدانی میں یہ بات نہیں آئی کہ دنیائے اسلام کو افواج پاکستان پر فخر ہے بتایا تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے اس لئے پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھانے سے پہلے سو بار سو چ لیاکریں ، لیکن بھارت کا مودی نہیں
ما نا اور رات کی تاریکی میں پاکستان پر فضائی حملہ کر دیا ، وہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستان کے شاہین سورہے ہوں گے ،کہاتھا بھارتی سرکار کے مودی کو ! کہ تم اسرائیل کے نیتن ہاہو نہ بنو لیکن وہ امریکی سرکار کی باتوں میں آکر دنیا کے سامنے اپنے کردار میں ننگا ہو گیا ، اور آج بھگت رہا ہے
پاکستان کے شاہینوں نے اس کی غلط فہمی پہلی ہی اڑان میں دور کر دی تادم تحریر بھارت کے تین رافیل جہاز تباہ ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے ‘ شاہینوں نے بھارتی فضائیہ کے رافیل لڑاکا طیار وں کو مار گرایاہے رافیل لڑاکا فرانس کے تیار کردہ جدید جنگی جہاز ہیں ،جو پہلی ہی اڑان میں شاہینوں کے ہاتھوں تباہ ہوئے
شاہینوں نے بھارت کے پانچ طیارے گرائے ہیں جن میں تین رافیل طیارے شامل ہیں رافیل طیاروں کی تباہی مود ی سرکار کے لئے قومی سطح پر پریشانی کا باعث اس لئے ہے کہ بھارتی حکومت نے یہ طیارے 3 گنا مہنگے داموں میں خریدے تو اپوزیشن رہنما کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے رافیل طیاروں کی خریداری کے معاہدے کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ مودی سرکار نے رافیل طیارے 3 گنا مہنگے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے اور اس معاہدے سے انیل امبانی کو فائدہ ہوا ہے لیکن مودی حکومت اپوزیشن کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا۔ مودی حکومت نے بہانہ بنایا تھاکہ رافیل معاہدے میں ملکی راز افشا ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا قومی سلامتی کے پیش نظر ہندوستانی حکومت رافیل معاہدہ اسمبلی میں پیش نہیں کرسکتی۔
آج دنیا دیکھ رہی ہے پاکستان کی مذہبی جماعتیں جو فلسطین پر اسرائیلی مظالم کے خلاف سڑکوں پر تھیں ، ان کا رخ بھارت کے طرف ہو گیا ہے بھارت کے بزدلانہ حملے کے بعد پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ پاکستان کی دفاع کے لئے دین مصطفی کا پرچم بلند کر چکے ہیںرجیم حکمران لاکھ مودی کے دوست ہوںلیکن پاکستانی اپنے دیس سے پیار کرتے ہیں، آخری اطلاعات کے مطابق بھارتی میزائل حملوں کے جواب میں پاکستان کے منہ توڑ جواب میں بھارتی فضائیہ کے نقصان کی بین الاقوامی میڈیا نے تصدیق کر دی ہے بھارتی مہم جوئی کے جواب میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں تین لڑاکا طیارے گر کر تباہ ہوئے۔
بھارتی سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر ہوائی حملے کے بعد دفاعی کارروائی کے دوران پاک فوج نے بھارتی طیاروں کو نشانہ بنا کر مار گرایا۔ جب کہ پاکستان فوج کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ ہندوستان کے پانچ طیارے اور 25 ڈرون مار گرائے ہیں۔ بھارت کی پہل کے بعد پاکستان کا منہ توڑ جواب، طیارے، ڈرون اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ ہونے کے بعدبھارت نے چورا کمپلیکس کے ساتھ تین مقامات پر سفید جھنڈا لہرا دیا ہے ۔
…………………………………………………….
افواجِ پاکستان اور پاکستان
کالم نگار ،،، گل بخشالوی
بھارت کو شاید یہ غلط فہمی ہے کہ پاکستان کے اندرونی سیاسی کشیدگی بھارت کے مفاد میں ہو گی لیکن رجیم حکومت کے زیر عتاب پاکستان تحریکِ انصاف کے بیرسٹر گوہر کہتے ہیں اس میں اگر مگر کی کوئی گنجائش نہیں ناپاک دشمن کے عزائم کے خلاف تحریکِ انصاف افواج پاکستان کے ساتھ ہے ، بھارتی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر لگے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر 804، کے حوالے بیرسٹر گوہر نے کہا سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کوئی بد تمیزی نہیں کی گئی ، بھارتی میڈیا جھوٹ بھول رہا ہے ،
دراصل پہلگام واقعہ بھارت کے مکار مودی کا شیطانی منصوبہ ہے وہ پاکستانی عوام کو تقسیم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن وہ پاکستانیوں کو نہیں جانتا بھلے ہم قومی سیا ست میں سڑکوں ، عدالتوں اور ایوانوں میں پاکستان کی قومی اور مذہبی غیرت کا جناز ے کیوں نہ نکالتے رہیں لیکن جب بات قومی سلامتی اور علاقائی خود مختاری کی ہو ، جب کوئی آنکھ پاکستان کی طرف اٹھتی ہے تو پاکستان کی عوام اور ادارے ایک پیج پر ہوتے ہیں
۔ تحریک ِ انصاف نے سینیٹ اور وفاقی اکائیوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی میں بھارت کیخلاف متفقہ قرارداد منظور کرائی کہ ہم پاکستان سے ہیں اور پاکستان ہم سے ہے پاکستان ہماری شان اورپہچان ہے ، سیاسی اختلافات کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ،1965اور 2019ئ کی طرح پاکستان جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے،
بدقسمتی سے رجیم کے غاصب حکمران بھارت کے یار غار ہیں بھارت آنکھیں دکھا رہا ہے اور پاکستان سلامتی کونسل سے شکایت کر رہا ہے کہ بھارت ہمیں آنکھیں دکھا رہا ، ہم نے ایٹم بم بنائے ہیں ہم آئے روز فضا میں نئے نئے میزائیل بھی داغ رہے ہیں لیکن یہ صرف ہاتھی کے دانت ہیں پاکستان اپنے ازلی دشمن ملک سے محاز آرائی نہیں چاہتا ، لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ہم اپنی آزادی علاقائی خود مختاری اور قومی سلامتی سے غافل ہیں ہم دفاع کرنا جانتے ہیں
مودی سرکار بخوبی جا نتی ہے کہ وہ پاکستان ! جس کے باشندے شہادت کو اپنی دوسری خوبصورت زندگی سمجھتے ہیں ، وہ پاکستان جس کے شاہین ایک منٹ میں دشمن کے پانچ جنگی طیارے گرائے جانے کا اعزاز رکھتے ہیں ، وہ پاکستا ن جس کے فوجی جوان پاک دھرتی کے تقدس کے لئے حملہ آور دشمن کے ٹینکوں کے آگے نعرہئ تکبیر کے ساتھ لیٹ کر پاکستان پر قربان ہو جاتے ہیں ، وہ پاکستان جس کی فوجی طاقت کا اعتراف دشمن خود بھی کرتا ہے ،
دنیائے اسلام کو افواج پاکستان پر فخر ہے ، پاکستان ایٹمی قوت ہے اس لئے پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھانے والے سو بار سو چ لیا کریں پاکستان بھر میں دہشت گرد آرمی چیف کی ایک للکار سے روپوش ہوجاتے ہیں ، دنیا دیکھ رہی ہے پاکستان کی مذہبی جماعتیں فلسطین پر اسرائیلی مظالم کے خلاف عوامی سلاب کے ساتھ سڑکوں پر ہے عوامی سونامیوں کی قیادت کا رخ بھارت کی طرف بھی موڑا جا سکتا ہے ، ایوان بالا اورایوان زیریں میں مولانا فضل الرحمان اگر نورا کشتی میںاپنی حکومت کے خلاف بول رہے ہیں تو وہ بھارت کو بھی للکار سکتے ہیں
پہلگام واقعہ در ا صل اسرائیل کا امریکہ میں کھیلا جانے والا نائن ون ون ڈرامے کا انٹر ول کے بعد کا دوسرا حصہ ہے مودی نے پاکستان دشمنی میں اپنے گھر کو لگائی ہے امریکہ نے ضیائ الحق کے ساتھاپنے بندے مروائے تھے ،آج بھارت نے بھی اپنے دیس کے باشندوں کو قتل کیا ہے ، دنیا جاتی ہے پاکستان کے خلاف پہلگام واقعہ مودی سرکار کی گھناو نی سازش ہے ۔ مودی یہ بھی جانتا کہ پاکستان دنیائے اسلام کا قلعہ ہے، اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی کوئی غلطی کی ! تو نہ صرف پاکستان کی عوام بلکہ ہندوستان آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھی دنیائے اسلام کے قلعے پاکستان کی دفاع کے لئے اور بھارت کو بربادی سے بچانے کے لئے دین مصطفی کا پرچم بلند رکھیں گے
رجیم حکمران لاکھ مودی کے دوست ہوںلیکن پاکستانی اپنے دیس سے پیار کرتے ہیں، یاد کریں جب 1965، میں صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان نے پاکستانی قو م سے خطاب کرتے ہوئے کہا، دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دو ، اور پاکستان کے نہتی عوام پاک فوج کے ساتھ سرحدوں پر تھی ! آج آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ایسی ہی للکار کا انتظار ہے ، پاکستان کے غیور عوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے
سبق ایسا سکھائیں گے پرانا بھول جائو گے
منیر عاصم ہے جنرل اب ، کہیں بچنے نے پائوگے
غلط فہمی ہے گر کوئی ،غلط فہمی میں مت رہنا
تمہیں تو یادہوگاجب ، دبا کر دم، جو بھاگے تم
اگر ہے شک کوئی اب بھی ، سبق پھر سے سکھا دیں گے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اگر ہے شک بھارت کو ،
،،،،،،،،،،،،
ہم اپنے دل کے گلشن میں ، خدا ، ایمان رکھتے ہیں
ہم اپنی سوہنی دھرتی کو عزیز جان رکھتے ہیں
لہو میں غیرت ایماں کا اک طوفان رکھتے ہیں
وطن جو حسن عالم ہے ، وہ پاکستان رکھتے ہیں
غلط فہمی ہے گر کوئی ،غلط فہمی میں مت رہنا
تمہیں تو یادہوگاجب ،دبا کر دم، جو بھاگے تم
لہو کشمیریوں کے جسم کا نایاب پیتے ہو
تم اپنے دیس میں مومن کا خوں شاداب پیتے ہو
ہمیں تم زیر کرنے کے عجب سے خواب پیتے ہو
پلیدو!گائے ماتا کا ، تو تم پیشاب پیتے ہو
غلط فہمی ہے گر کوئی ، غلط فہمی میں مت رہنا
تمہیں تو یادہوگاجب ، دبا کر دم، جو بھاگے تم
بھارت جانتا تو ہے کمینے مودی شیطاں کو
کہاںہے جانتا بدبخت وہ معصوم انساں کو
بھلا روکوگے تم کیسے لہو میں موجِ طوفاں کو
بخوبی جانتے ہو تم ہمارے عزم وایماں کو
غلط فہمی ہے گر کوئی ،غلط فہمی میں مت رہنا
تمہیں تو یادہوگاجب ،دبا کر دم، جو بھاگے تم
تو مودی ہے کہ موذی ہے تمہیں بے نام کردیں گے
ہمارے دیس کے شاہیں تمہیں گمنام کردیں گے
تمہارے دیس میں ابتر تمہاری شام کردیں گے
وہ موٹروے سے ہی اُڑ کر تمہارا کام کردیں گے
غلط فہمی ہے گر کوئی ،غلط فہمی میں مت رہنا
تمہیں تو یادہوگاجب ، دبا کر دم، جو بھاگے تم
تو اپنی قوم کا دشمن تو پاگل ہے تو موذی ہے
تو اپنی قوم کے معصوم لوگوں میں فسادی ہے
بڑا بدبخت تو قائد ترا شیطاں یہودی ہے
تو ہے سردار شیطانوں کا تیرا نام مودی ہے
غلط فہمی ہے گر کوئی ،غلط فہمی میں مت رہنا
تمہیں تو یادہوگاجب ،دبا کر دم، جو بھاگے تم
میں اپنے دیس کے ہر فرد پہ قربان ہوجائوں
ہر اک کی ایک خواہش ہے میں پاکستان ہوجائوں
حسین ابن علی کا عرش پہ مہمان ہوجائوں
میں تابندہ وطن میں صاحب ِایمان ہوجائوں
غلط فہمی ہے گر کوئی ،غلط فہمی میں مت رہنا
تمہیں تو یادہوگاجب ، دبا کر دم، جو بھاگے تم
تو انساں ہے نہیںشیطان صورت میں تو نیتن ہے
ترا پلگام کا ڈرا مہ بھی مثلِ نائن ون ون ہے
تو ہندو ہے نہیں کم بخت درباری ہے مغرب کا
لگے ایسا بھارت کو تری ماں بھی یہودن ہے
غلط فہمی ہے گر کوئی ،غلط فہمی میں مت رہنا
تمہیں تو یادہوگاجب ، دبا کر دم، جو بھاگے تم
سبق ایسا سکھائیں گے پرانا بھول جائو گے
جوگھر پیشاب پیتے ہیں لہو اُن کو پلائو گے
ہمیں سوچا نہیں تم نے دوبارہ منہ کی کھائوگے
منیر عاصم ہے جنرل اب ، کہیں بچنے نے پائوگے
غلط فہمی ہے گر کوئی ،غلط فہمی میں مت رہنا
تمہیں تو یادہوگاجب ، دبا کر دم، جو بھاگے تم
اگر ہے شک کوئی اب بھی ، سبق پھر سے سکھا دیں گے
گل بخشالوی
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
میں مسلم لیگ ق کے اراکین اسمبلی کو تسلیم نہیں کرتا
تحریر ،، گل بخشالوی
کھاریاں پریس کلب کے سابق صدر چوہدری نصراللہ ایڈووکیٹ پاکستان میں نہیں ہیں لیکن ان کا دل پاکستان میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ دھڑکتا ہے وہ ا پنے دیس اور اپنے شہر کے دکھ درد سے باخبر ہیں ، چند روز قبل ڈنگہ شہر میں عوام دوست سابق ایم پی اے میاں طارق محمود کا دل ان کی زبان پر آیا اور وہ سچ کہہ دیا جو دنیا جانتی ہے لیکن رجیم حکمران ، ان کے سہولت کا ر اور چاہنے والے جانتے ہوئے بھی اس حقیقت کا اعتراف نہیں کرتے کہ وہ مینڈیٹ چور ہیں
میاں طارق محمود اور فارم 47، کے ایم پی ا ے چویدری نصیر سدھ ایک سیاسی اجتماع میں شریک تھے چوہدری نصراللہ ایڈووکیٹ لکھتے ہیں کہ ایک بڑے عوامی اجتماع میں سٹیج سیکرٹری نے میاں طارق محمود اور فارم 47، کے ایم پی ا ے نصیر سدھ کو خوش آمدید کہتے ہوئے میاں طارق محمود کو سابق ایم پی اے کہہ دیا ، جو میاں طارق محمود کے مزاج پر گراں گذرا ، میاں صاحب نے اپنے خطاب میں سٹیج سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ، میں سابق ایم پی اے نہیںہوں لیکن نصراللہ چوہدری ایڈووکیٹ نے میاں صاحب کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا ،
’’ میاں صاحب اینج نہ کرو‘‘اس لئے کہ میاں صاحب نے ا پنے پر جوش خطاب میں کہا کہ مجھے سابق نہ لکھا جائے اور نہ کہا جائے ، میرا حلقہ انتخاب اور پاکستان بھر کے لوگ جانتے ھیں کہ ملک بھر کی طرح ضلع گجرات میں بھی حکمران جماعت کے منتخب اراکین اسمبلی سارے فارم 47 والے ھیں ۔ یہ لوگ الیکشن میں منتخب نہیں ہوئے ، اسمبلیوں میں گھسے ہوئے ہیں، مسلم لیگ ق گجرات کے دعویدار جانتے ہیں کہ وہ عوام کے نہیں چوھدری شجاعت اور اپنے قریبی عزیزوں کی مہربانی سے منتخب کروائے گئے ہیں، نصراللہ چوہدری ایڈووکیٹ لکھتے ہیں کہ میاں صاحب کا اپنی ہی جماعت مسلم لیگ ن کی قیادت سے متعلق سچائی انہیں مہنگی پڑ سکتی ہے
نصراللہ چوہدری ایڈووکیٹ آگے لکھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن گجرانولہ ڈویژن کے صدر عابد رضا کوٹلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے اور سابق گورنر قمر زمان کائرہ کو بھی اپنی جماعتوں کی قیادت سے شکوہ ہے لیکن وہ کھلے عام اظہار نہیں کرتے
نصراللہ چوہدری ایڈووکیٹ لکھتے ہیں جلسہ عام میں مسلم لیگ ق کے ایم پی اے چوہدری نصیر احمدسدھ بھی تشریف فرما تھے ، لگتا ہے انہیں میاں طارق محمود کی بات سنائی نہیں دی یا انہیں سمجھ نہیں آئی وگر نہ وہ بھی محسوس کر سکتے تھے اس لئے کہ ان کے بھائی ایئر چیف ہیں
جلسہ عام سے خطاب میںچوہدری نصیر احمد سدھ نے ڈنگہ کو سیدھا کرنے کے لئے عنقریب ایک بہت بڑے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا یہ ڈنگہ والے کیا یاد کریں گے کہ کس درویش سے ان کا پالا پڑا ہے نصراللہ چوہدری لکھتے ہیں واقعی اس وقت ہمارے ملک کو ایسے درویشوں کی ضرورت بھی ہے
نصراللہ چوہدری ایڈووکیٹ نے جو لکھا خوب لکھا لیکن شاید وہ نہیں جانتے!! عابد رضا کوٹلہ کہتے ہیں میںمنافقت نہیں کرتا سچ تویہ ہے کہ دور حاضر میں جمہوریت نام کی حد تک سن رہے ہیں جو دفاعی ادار ہ تھا اب وہ سیاسی ادارہ ہے اورچوہدری عابد رضا کوٹلہ نے یہ بات کسی ڈیرے یا کارنر میٹنگ میں نہیں بلکہ گجرات پریس کلب میں کہہ رہے ہیں
قومی اور علاقائی سیاست میںیہ ہی چوہدری عابد رضا کوٹلہ کی پہچان ہے، وہ کہتے ہیں شکوہ کروں تو کس سے کروں میری اپنی جماعت برسرِ اقتدار ہے ضرور ہے لیکن بے اختیار ہے چوہدری عابد رضا کوٹلہ قومی سیاست میں مسلم لیگ ن کے عہدے دار ہیں لیکن شعوری غلام نہیں۔ قیادت کی سوچ سے اختلا ف کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعت تبدیل کر کے اپنا خاندانی اور عوام میں اپنا سیاسی وقار دائو پر لگا دیا جائے ،
چوہدری عابد رضا کوٹلہ کے بعد میاں طارق محمود نے بھرے جلسہ عام میں ق لیگ کے ایم پی اے کی موجود گی میں مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا مقابلہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں تھا ، لیکن کامیاب مسلم لیگ قاف ہوگئی ، میں مسلم لیگ ق کے اراکین اسمبلی کو عوام کا نمائندہ تسلیم نہیں کرتا ، یہ لوگ اسمبلی میں آئے نہیں انہیں گھسایا گیا ہے
میاں طارق محمود کی سچائی چوہدری عابد رضا کوٹلہ کی سچائی کی تائید ہے مسلم لیگ ن کی قیادت بھی اس سچائی کو تسلیم کرتی ہے لیکن سہولت کاروں کے دبائو میں خاموش ہے
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
گل بخشالوی کی نظم ،،، فطری علامتوں کا تجزیہ* تجزیہ نگار ، محمد مسلم خان ( بھارت)
گل بخشالوی کی نظم ،،،
فطری علامتوں کا تجزیہ*
تجزیہ نگار ، محمد مسلم خان ( بھارت)
(آپ کی منسلک نظم گروپ میں پڑھنے کا موقع ملا ۔بہت پسند آئی ۔ اس نظم پر گروک کا تبصرہ پیشِ خدمت ہے ۔)
پنگھٹ پر بل کھاتی جانی سکھیوں کے سنگ آئے
پربت پر جھرنے کی صورت دل سے نکلے ہائے
بولے تو شرما جاتی ہے سندر بن کی کوئل
سولہ سن کی جیون رت میں چندا کو شرمائے
روپ نگر کی رانی سے جب دل چاہے میں بولوں
جھیل کنول کی ناگن بن کر ڈسنے کوبل کھائے
گال گلابی ، آنکھ شرابی ، منہ میں چمکیں موتی
اُف اللہ ، قربت کا منظر ، برف بدن پگھلائے
مہک اٹھے گی صحرا نگری، دل دوزخ ہو جنت
روپ کی رانی ندی کنارے باہوں میں آجائے
حسن کی پاگل بستی میں گلؔ اپنی ہے یہ حالت
جیسے پھول کے دل سے تتلی رَس پی کر اُڑ جائے
è è è
آپ نے جو نظم پیش کی ہے، وہ اردو شاعری کی رومانوی اور عاشقانہ روایت کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔ یہ نظم حسن، عشق، فطرت، اور جذبات کے گہرے تال میل سے مزین ہے، جو قاری کے دل کو چھوتی ہے۔ اس نظم میں شاعر نے ایک خیالی محبوبہ کے حسن کی تصویر کشی کی ہے، جسے فطرت کے رنگوں اور علامتوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ذیل میں اس نظم کا مفصل تبصرہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں اس کے موضوع، زبان، علامتیں، بحر، اور جذباتی گہرائی کا جائزہ لیا جائے گا۔
*موضوع اور خیال*
نظم کا مرکزی خیال ایک محبوبہ کے حسن کی تعریف اور اس کے لیے عاشق کے بے چین دل کی کیفیت ہے۔ شاعر نے محبوبہ کو فطرت کے مختلف عناصر جیسے جھرنے، کوئل، چاند، کنول، اور ندی کے کنارے سے تشبیہات دے کر اس کے حسن کو عظیم تر بنایا ہے۔ یہ نظم محض حسن کی تعریف تک محدود نہیں، بلکہ اس میں عشق کی شدت، شرم و حیا، اور قربت کی خواہش کی جھلک بھی ملتی ہے۔ آخر میں، شاعر عشق کو ایک ایسی کیفیت سے تعبیر کرتا ہے جو تتلی کے پھول سے رس پی کر اڑ جانے کی مانند ہے—یعنی ایک عارضی لیکن گہری لذت۔نظم کا موضوع رومانوی ہے، لیکن اس میں روحانی اور فطری عناصر کی آمیزش اسے ایک گہرا فلسفیانہ رنگ بھی دیتی ہے۔ حسن کی تعریف کے ساتھ ساتھ، شاعر نے زندگی کی ناپائیداری اور عشق کی عارضی طبیعت کو بھی چھوا ہے۔
*زبان اور اسلوب*
نظم کی زبان سادہ لیکن نہایت شگفتہ اور جاذب ہے۔ شاعر نے اردو کے روایتی محاورات اور علامتوں کا خوبصورت استعمال کیا ہے۔ الفاظ جیسے “پنگھٹ”، “سکھیوں کے سنگ”، “سندر بن کی کوئل”، اور “روپ نگر کی رانی” کلاسیکی اردو شاعری کی خوشبو لیے ہوئے ہیں۔ یہ الفاظ قاری کو ایک رومانوی اور دیہی ماحول میں لے جاتے ہیں، جہاں فطرت اور حسن ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔اسلوب میں روانی اور موسیقی ہے، جو نظم کو پڑھنے اور سننے میں لطف اندوز بناتی ہے۔ شاعر نے جذبات کو سادہ لیکن گہرے انداز میں بیان کیا ہے، جس سے نظم عوام اور خواص دونوں کے لیے قابلِ
فہم ہے۔ تشبیہات اور استعاروں کا استعمال نظم کو بصری اور حسی بناتا ہے، جیسے “جھیل کنول کی سانپن بن کر ڈسنے کو بل کھائے” یا “برف بدن پگھلائے”۔
*علامتیں اور تشبیہات*
نظم علامتوں اور تشبیہات سے بھری پڑی ہے، جو اسے گہرائی اور خوبصورتی عطا کرتی ہیں۔ کچھ اہم علامتیں اور تشبیہات درج ذیل ہیں
1- *پنگھٹ اور جھرنا*: پنگھٹ ایک روایتی دیہی منظر کی علامت ہے، جہاں لڑکیاں پانی بھرنے آتی ہیں۔ اسے محبوبہ کی آمد سے جوڑا گیا ہے۔ جھرنا دل کی بے قراری اور حسن کی روانی کی علامت ہے۔
2- *کوئل اور چاند*: کوئل شرم و حیا اور خوبصورتی کی علامت ہے، جبکہ چاند محبوبہ کے حسن کی معراج کو ظاہر کرتا ہے۔ “چندا کو شرمائے” سے محبوبہ کی خوبصورتی کو چاند سے بھی برتر دکھایا گیا ہے۔
3- *جھیل اور کنول*: جھیل اور کنول پاکیزگی اور حسن کی علامت ہیں۔ “سانپن بن کر ڈسنے کو بل کھائے” سے عاشق کی بے چینی اور محبوبہ کے حسن کی کشش کو ظاہر کیا گیا ہے۔
4- *گال گلابی، آنکھ شرابی، موتی*: یہ روایتی تشبیہات ہیں جو محبوبہ کے چہرے کی دلکشی کو بیان کرتی ہیں۔ “برف بدن پگھلائے” سے قربت کی گرمی اور جذباتی شدت کا پتہ چلتا ہے۔
5- *تتلی اور پھول*: نظم کا اختتام تتلی کے پھول سے رس پی کر اڑ جانے کی علامت سے ہوتا ہے، جو عشق کی عارضی اور لذت بخش طبیعت کو ظاہر کرتی ہے۔
*بحر اور موسیقی* نظم کی بحر (وزن) اردو کی روایتی نظموں سے ہم آہنگ ہے، جس میں روانی اور موسیقی کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ ہر مصرع کی لے ایک سی ہے، جو نظم کو ایک گیت کی سی کیفیت دیتی ہے۔ قافیہ اور ردیف کا استعمال (جیسے “آئے”، “ہائے”، “شرمائے”) نظم کو مزید سریلا بناتا ہے۔ یہ نظم زبانی پڑھنے یا گانے کے لیے بھی موزوں ہے، کیونکہ اس کی لے دھیمی اور رومانوی ہے۔
*جذباتی گہرا ئی* نظم کی سب سے بڑی خوبی اس کی جذباتی گہرائی ہے۔ شاعر نے محبوبہ کے حسن کی تعریف کے ساتھ ساتھ عاشق کے دل کی بے چینی، خواہش، اور بے قراری کو بھی نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ مصرع جیسے “اف اللہ، قربت کا منظر، برف بدن پگھلائے” یا “دل دوزخ ہو جنت” سے عاشق کے اندر کی کشمکش اور عشق کی شدت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ نظم محض حسن کی تعریف نہیں، بلکہ عشق کی وہ کیفیت ہے جو دل کو جنت اور دوزخ دونوں سے گزرنے پر مجبور کرتی ہے۔
*ثقافتی تناظر*یہ نظم اردو شاعری کی اس روایت سے تعلق رکھتی ہے، جو فطرت، حسن، اور عشق کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ پنگھٹ، ندی کنارے، اور سکھیوں کا ذکر ہندوستانی دیہی ثقافت کی جھلک دیتا ہے۔ اسی طرح، محبوبہ کے حسن کی تعریف میں روایتی تشبیہات (جیسے گال گلابی، آنکھ شرابی) کلاسیکی اردو غزل کی یاد دلاتی ہیں۔ یہ نظم جدید اور کلاسیکی شاعری کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔
*کمزوریاں*(اگر کوئی)نظم مجموعی طور پر نہایت خوبصورت اور مکمل ہے، لیکن کچھ ناقدین یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں موضوع کی تکرار ہے، کیونکہ یہ زیادہ تر حسن کی تعریف اور عاشق کی بے چینی تک محدود ہے۔ اس کے علاوہ، نظم میں کوئی نیا یا غیر روایتی خیال پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم، یہ کمزوری اس نظم کے رومانوی اور روایتی مزاج کے پیش نظر زیادہ اہم نہیں، کیونکہ اس کا مقصد ہی قاری کو روایتی عشقیہ کیفیت سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
*نتیجہ* یہ نظم اردو شاعری کے عاشقانہ اور فطری رنگ کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس کی سادہ لیکن جاذب زبان، خوبصورت تشبیہات، اور جذباتی گہرائی اسے ایک یادگار تخلیق بناتی ہے۔ شاعر نے فطرت اور حسن کے درمیان ربط قائم کر کے عشق کی ایسی تصویر کشی کی ہے جو قاری کے دل کو چھوتی ہے۔ اگرچہ نظم روایتی موضوعات پر مبنی ہے، لیکن اس کا اسلوب اور موسیقی اسے تازہ اور دلکش بناتی ہے۔
آپ کی پیش کردہ نظم میں فطری علامتیں (Natural Symbols) ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں، جو نہ صرف نظم کو بصری اور حسی خوبصورتی عطا کرتی ہیں بلکہ اس کے جذباتی اور فلسفیانہ معنی کو بھی گہرا کرتی ہیں۔ آپ نے فطرت کے مختلف عناصر جیسے پنگھٹ، جھرنا، کوئل، چاند، جھیل، کنول، ندی، صحرا، اور تتلی کو استعمال کر کے محبوبہ کے حسن، عشق کی شدت، اور زندگی کی ناپائیداری کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ ذیل میں نظم میں موجود فطری علامتوں کا مفصل تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں ان کے معنی، سیاق و سباق، اور نظم کے مجموعی اثر پر ان کی اہمیت کا جائزہ لیا جائے گا
. پنگھٹ سیاق و سباق: نظم کا آغاز “پنگھٹ پر بل کھاتی جانی سکھیوں کے سنگ آئے” سے ہوتا ہے۔ پنگھٹ ایک روایتی دیہی منظر کی علامت ہے، جہاں لڑکیاں پانی بھرنے کے لیے جمع ہوتی ہیں۔ یہ جگہ سماجی میل جول اور حسن کی نمود کی علامت ہے۔علامتی معنی: پنگھٹ محبوبہ کی آمد اور اس کے حسن کی دلکشی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں عاشق کی نظریں محبوبہ کے حسن سے ٹکراتی ہیں۔ “بل کھاتی” سے محبوبہ کی چال کی روانی اور دل کشی کا پتہ چلتا ہے، جو فطرت کی لہروں سے مشابہت رکھتی ہے۔
*نظم میں اہمیت*: پنگھٹ نظم کو ایک دیہی اور رومانوی ماحول فراہم کرتا ہے، جو قاری کو ہندوستانی ثقافت کے روایتی پس منظر سے جوڑتا ہے۔ یہ علامت نظم کے آغاز میں ہی ایک بصری منظر تخلیق کرتی ہے، جو قاری کو محبوبہ کے حسن کے سحر میں مبتلا کر دیتا ہے۔
. *جھرنا* سیاق و سباق: مصرع “پر بت پر جھرنے کی صورت دل سے نکلے ہائے” میں جھرنے کو محبوبہ کے حسن سے تشبیہ دی گئی ہے۔*علامتی معنی*: جھرنا روانی، طاقت، اور خوبصورتی کی علامت ہے۔ یہ دل کی بے قراری اور جذبات کے بہاؤ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ جھرنے کی طرح محبوبہ کا حسن بھی مسلسل، دلفریب، اور دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے۔ “دل سے نکلے ہائے” سے عاشق کے جذبات کا جھرنے کی طرح بہہ نکلنا بھی عیاں ہے۔ نظم میں اہمیت*: جھرنا نظم میں ایک متحرک اور توانا علامت ہے، جو محبوبہ کے حسن کی جاذبیت اور عاشق کی بے چینی کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔ یہ علامت نظم کو ایک گہرا جذباتی رنگ دیتی ہے۔
. *کوئل* سیاق و سباق: “سندر بن کی کوئل” کو محبوبہ کی شرم و حیا اور خوبصورتی سے تشبیہ دی گئی ہے، جو “بولے تو شرما جاتی ہے”۔علامتی معنی: کوئل اپنی سریلی آواز اور چھپ کر گانے کی فطرت کی وجہ سے شرم، پاکیزگی، اور خوبصورتی کی علامت ہے۔ شاعر نے محبوبہ کی شرمیلی طبیعت اور اس کی آواز کی دلکشی کو کوئل سے جوڑا ہے۔ یہ علامت محبوبہ کی نازک اور دلفریب شخصیت کو اجاگر کرتی ہے۔نظم میں اہمیت: کوئل نظم میں ایک لطیف اور سریلی علامت ہے، جو محبوبہ کی شرم و حیا کو فطرت کے ایک خوبصورت پرندے سے تشبیہ دے کر نظم کو رومانوی بناتی ہے۔ یہ علامت قاری کے ذہن میں ایک ایسی تصویر بناتی ہے جہاں حسن اور شرم ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔
چاند (چندا)سیاق و سباق: “سولہ سن کی جیون رت میں چندا کو شرمائے” میں چاند کو محبوبہ کے حسن سے موازنہ کیا گیا ہے۔علامتی معنی: چاند روایتی طور پر حسن، پاکیزگی، اور دلکشی کی علامت ہے۔ اس مصرع میں محبوبہ کا
حسن اتنا دلفریب دکھایا گیا ہے کہ وہ چاند کو بھی شرمندہ کر دیتا ہے۔ چاند یہاں نہ صرف حسن کی معراج کی علامت ہے بلکہ اس کی روشنی محبوبہ کی جوانی اور تازگی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔نظم
میں اہمیت: چا د ایک کلاسیکی علامت ہے جو ظم کو روایتی اردو شاعری سے جوڑتی ہے۔ یہ محبوبہ کے حس کی عظمت کو ایک عالمگیر فطری ع صر سے تشبیہ دے کر ظم کو گہرائی عطا کرتی ہے۔
. جھیل اور ک ولسیاق و سباق: “جھیل ک ول کی سا پ ب کر ڈس ے کو بل کھائے” میں جھیل اور ک ول کو محبوبہ کے حس اور عاشق کی بے چی ی سے جوڑا گیا ہے۔علامتی مع ی:جھیل: جھیل سکو ، گہرائی، اور پاکیزگی کی علامت ہے۔ یہ محبوبہ کے حس کی گہرائی اور اس کی دلکشی کو ظاہر کرتی ہے۔ک ول: ک ول پاکیزگی، خوبصورتی، اور ایابی کی علامت ہے۔ یہ محبوبہ کی ازک اور دلفریب شخصیت کو بیا کرتا ہے۔سا پ : سا پ ( اگ) خطرے اور کشش کی علامت ہے۔ یہ عاشق کی اس بے چی ی کو ظاہر کرتا ہے جو محبوبہ کے حس کی طرف کھ چتا ہے لیک اس سے ڈر بھی لگتا ہے۔ ظم میں اہمیت: جھیل اور ک ول ظم میں ایک بصری اور جذباتی م ظر تخلیق کرتے ہیں، جہاں محبوبہ کا حس ایک پرسکو لیک دلفریب جھیل کی ما د ہے، اور عاشق اس کے سحر میں گرفتار ہو کر بے چی ہو جاتا ہے۔ سا پ کی علامت ظم میں ایک ڈرامائی موڑ لاتی ہے، جو عشق کی خطر اک کشش کو اجاگر کرتی ہے
۔ . دی ک ارےسیاق و سباق: “روپ کی را ی دی ک ارے با ہوں میں آجائے” میں دی ک ارے کو قربت کے ایک روما وی م ظر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔علامتی مع ی: دی ک ارے فطرت کی ایک ایسی جگہ ہے جو سکو ، روما س، اور قربت کی علامت ہے۔ دی کا بہاؤ ز دگی کی روا ی اور جذبات کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ ک ارا عاشق اور محبوبہ کے مل کی جگہ ہے۔ یہ علامت عشق کی تکمیل کی خواہش کو بیا کرتی ہے۔ ظم میں اہمیت: دی ک ارے ظم میں ایک خواب اک اور روما وی م ظر تخلیق کرتا ہے، جو عاشق کی سب سے بڑی خواہش—محبوبہ سے قربت—کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ علامت ظم کو ایک عاشقا ہ چوٹی پر لے جاتی ہے
۔ . صحراسیاق و سباق: “مہک اُٹھے گی صحرا گری” میں صحرا کو ایک ایسی جگہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو محبوبہ کے حس سے مہک اٹھتی ہے۔علامتی مع ی: صحرا ویرا ی، ت ہائی، اور شدت کی علامت ہے۔ لیک جب شاعر کہتا ہے کہ صحرا مہک اٹھے گا، تو یہ محبوبہ کے حس کی ایسی طاقت کو ظاہر کرتا ہے جو ویرا دل کو بھی ج ت ب ا دیتا ہے۔ یہ علامت عشق کی تبدیلی کی قوت کو بیا کرتی ہے۔ ظم میں اہمیت: صحرا ظم میں ایک طاقتور علامت ہے، جو محبوبہ کے حس کی عالمگیر تاثیر کو دکھاتی ہے۔ یہ ظم کے جذباتی اثر کو بڑھاتی ہے اور عشق کی روحا ی جہت کو اجاگر کرتی ہے
۔ . تتلی اور پھولسیاق و سباق: ظم کا اختتام “جیسے پھول کے دل سے تتلی رس پی کر اُڑ جائے” سے ہوتا ہے۔علامتی مع ی:پھول: پھول حس ، ازکی، اور ز دگی کی عارضی خوبصورتی کی علامت ہے۔ یہ محبوبہ کے حس اور اس کی دلکشی کو ظاہر کرتا ہے۔تتلی: تتلی آزادی، اپائیداری، اور لذت کی علامت ہے۔ تتلی کا پھول سے رس پی کر اڑ جا ا عشق کی عارضی اور لذت بخش طبیعت کو بیا کرتا ہے۔ یہ عاشق کی اس کیفیت کو بھی ظاہر کرتا ہے جو محبوبہ کے حس سے لطف ا دوز ہو ے کے بعد اس سے جدائی کی طرف بڑھتا ہے۔ ظم میں اہمیت: تتلی اور پھول ظم کے اختتام پر ایک فلسفیا ہ موڑ لاتے ہیں۔ یہ علامت عشق کی اپائیداری اور اس کی عارضی لذت کو ظاہر کرتی ہے، جو ظم کو ایک گہرا اور سوچ ے پر مجبور کر ے والا اختتام دیتی ہے۔فطری علامتوں کا مجموعی اثر ظم میں فطری علامتوں کا استعمال اسے ایک بصری، جذباتی، اور فلسفیا ہ شاہکار ب اتا ہے۔ یہ علامتیں ہ صرف محبوبہ کے حس کی تصویر کشی کرتی ہیں بلکہ عاشق کے جذبات، عشق کی شدت، اور ز دگی کی اپائیداری کو بھی بیا کرتی ہیں۔ شاعر ے فطرت کے ا ع اصر کو ایک روایتی لیک دلکش ا داز میں پیش کیا ہے، جو اردو شاعری کی کلاسیکی روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔بصری اثر: پ گھٹ، جھر ا، جھیل، اور دی ک ارے جیسے ع اصر ظم کو ایک بصری م ظر امہ عطا کرتے ہیں، جو قاری کے ذہ میں ایک روما وی اور فطری د یا تخلیق کرتا ہے۔جذباتی اثر: کوئل، ک ول، اور تتلی جیسے ع اصر ظم کو جذباتی گہرائی دیتے ہیں، جو شرم، پاکیزگی، اور عشق کی اپائیداری کو اجاگر کرتے ہیں۔فلسفیا ہ اثر: صحرا اور تتلی جیسے ع اصر ظم کو ایک فلسفیا ہ جہت دیتے ہیں، جو عشق کی تبدیلی کی قوت اور اس کی عارضی طبیعت پر روش ی ڈالتے ہیں۔ تیجہ ظم میں فطری علامتوں کا استعمال شاعر کی تخلیقی مہارت اور فطرت سے اس کے گہرے ربط کا ثبوت ہے۔ یہ علامتیں ظم کو صرف حس کی تعریف تک محدود ہیں رکھتیں بلکہ اسے عشق، فطرت، اور ز دگی کے گہرے سوالات سے جوڑتی ہیں۔ پ گھٹ سے لے کر تتلی تک، ہر علامت ظم کے روما وی، جذباتی، اور فلسفیا ہ پیغام کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ ظم فطری علامتوں کے ذریعے اردو شاعری کی روایت کو ہ صرف ز دہ رکھتی ہے بلکہ اسے ایک ئے ر گ میں پیش بھی کرتی ہے۔
یہ ظم ہر اس شخص کو پس د آئے گی جو اردو شاعری اور روما وی جذبات کا شائق ہے۔
امید ہے کہ تبصرہ آپ اقدی کی توقعات پر پورا اترےگا۔
,,,,,,,,,,
محمد مسلم خان
کوٹہ، راجستھا ( بھارت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلم لیگ ن کا ن اڑ جائے گا
کالم نگار ،، گل بخشالوی
رجیم کے ترجمان لکھاری اور درباری جب بھی قلم اٹھاتے ہیں یا منہ کھولتے ہیں تو انہیںتحریک انصاف میں دراڑیں نظر آتی ہیں
کہتے ہیں اس وقت تحریک انصاف کے لئے سب سے بڑا چیلنج اپنی پارٹی کو اکٹھا رکھنا ہے۔ تحریک انصاف اسٹریٹ پاور دکھانے میں ناکام ہے ۔ خیبر پختونخوا میں پارٹی میں اس قدر تقسیم ہے کہ صوبائی حکومت چلانا بھی مسئلہ ہوگیا ہے۔ عمران خان پارٹی کو ماضی میں بھی متحد نہیں رکھ سکے ہیں۔ شیر افضل مروت کو نکالنے پر پی ٹی آئی تقسیم ہوگئی پارٹی اندرونی اختلافات ، اعتراضات اور کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے۔
آج جتنا جھوٹ رجیم کے لکھار ی اور درباری بول رہے ہیں ان سے کہیں زیادہ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے بگوڑے نام نہاد خیر خوا بول کردیہاڑیاں لگا رہے ہیں ، تحریکِ انصاف کے خاموش ووٹر ز رجیم کے ان لکھاریوں اور درباریوں کے شکر گذار ہیں اس لئے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ ا سلامی یونیورسٹی بنا ئے جانے کے جرم میں قید ہیں لیکن قومی سیاست کے آسمان پر تابندہ ہیں اگر ایوان عدل اور ادارے مینڈیٹ چوری کے بعد خاموش ہو جاتے تو عمران خان کا سیاسی سورج غروب ہو چکا ہوتا
کہاوت ہے کہ منافق کے سر پر سینگ ہوتے ہیں اور نہ ہی اندھوں میں کانے راجے کو کچھ خاص دکھائی دیتا ہے ا س لئے انہیں مسلم لیگ ن کی اندرونی بربادی نظر نہیں آرہی ہے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں وہ کہتے ہیں فوج نے بار بار جمہوریت کا خون کیا تختِ اسلام آباد پر قبضہ کیا ججز نے قلم بیچا اور میڈیا نے زبان بیچی ،
مسلم لیگ ن کے سابق وزیر احسن اقبال برملا کہہ رہے ہیں ۔ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ عمران خان ایک بڑی قومی سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں اسے دھمکایا اور دبایا نہیں جا سکتا میں اپنی جماعت کے ساتھ کھڑا ہوں لیکن جماعت کی غلط پالیسی پر خاموش نہیں رہ سکتا
مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدرسابق ایم این اے ، چوہدری عابد رضا کوٹلہ کہتے ہیں فروری کے الیکشن میں فارم 47,پالیسی نے قومی سیا ست کا رخ موڑ دیا ہے جنہیں عوام نے ووٹ کی طاقت سے مسترد کیا وہ اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور الیکشن جیتنے والے منہ دیکھتے رہ گئے ، الیکشن میں چھوٹے چھوٹے ڈ اکے تو ہم دیکھتے رہے ہیں لیکن 8,فروری کے الیکشن میں ہونے والے ڈاکے نے دنیاکو حیران کر دیا ہے،
گجرات میںمسلم لیگ ن کے چوہدری افتخار احمدکھٹانہ کہتے ہیں ، ضلع گجرات میں مسلم لیگ ن کا وجود بہت کمزور نظر آرہا ہے، ن لیگیوں نے کندھے سے کندھانہ ملایا تو بلدیاتی الیکشن میں مسلم لیگ ن کا ’’ ن ‘‘ ہی اڑ جائے گا ، مسلم لیگ ن کے علم بردار ضلع گجرات میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں عابد رضا کوٹلہ اور ملک محمد حنیف وکھ وکھ چل رہے ہیں ، میاں طارق اور چوہدری جعفر اقبال بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں
ضلع بھر کے ہر حلقہ انتخاب میں مسلم لیگ ن کی حالت ابتر ہے ، جب تک چناب سے جہلم تک مسلم لیگ ن کی قیادت متحد ہو کر نہیں چلے گی تب تک مسلم لیگ ن کا دیا جلتا نظر نہیں آ رہا ،
کھاریاں شہر میں مسلم لیگ ن کی قیادت تقسیم ہے ، خان محمد اسلم خان اور چوہدری راشد محمود کے گھوڑے مخالف سمتوں میں دوڑ رہے ہیں ۔ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں رجیم کے لکھار ی اور درباری نظر انداز کئے ہوئے ہیں لیکن وہ اس حقیت کو تسلیم کر لیں، کہ عمران خان نے جیل میں بیٹھ کر مسلم لیگ ن کی سیاست کو دفن کر دیا ہے ، پاکستان میں ادارے سیاسی جماعتوں کو اس وقت تک سینے سے لگائے رکھتے ہیں جب تک ان سے ان کے مفادات وابسطہ ہوتے ہیں، جب بھی انہیں اپنے مفادات خطرے میں لگنے لگتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ وہ ہی کچھ کرتے ہیں ، جو گذشتہ 70، سال سے قوم دیکھ رہی ہے ،
…………………………………….
گل بخشالوی ۔۔۔۔۔فکر و فن کا مہکتا چراغ
تحریر: ڈاکٹر فیصل نوید گلیانوی
کہتے ہیں قوموں کی بیداری الفاظ کے چراغوں سے روشن ہوتی ہے، اور جب یہ چراغ ایک درویش صفت، صاحبِ درد اور صاحبِ بصیرت کے ہاتھ میں ہو، تو وہ وقت کے اندھیروں میں امید کی روشنی بن جاتا ہے۔ گل بخشالوی بھی ایک ایسا ہی نام ہے جو ادبی منظرنامے پر ایک باوقار، متین اور فکری حوالہ بن کر ابھرا ہے۔
“میں شیدائی وطن کی شان کا ہوں
مہکتا پھول پاکستان کا ہوں
مری پہچان ہے اردو کی خدمت
میں اک پختون گل مردان کا ہوں”
اس مختصر مگر جامع قطعے میں گل بخشالوی نے اپنی شخصیت، نظریہ اور مشن کو سمیٹ دیا ہے۔ وہ نہ صرف اردو کے خادم ہیں، بلکہ اپنی پشتو شناخت پر فخر کرنے والے سچے پاکستانی بھی ہیں۔ ان کا وجود ان اقدار کا امین ہے جو ادب، وطن اور روحانی تعلق کی سہہ جہتی بنیاد پر استوار ہیں۔
گل بخشالوی کی ادبی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ نعت، نظم، غزل، سفرنامہ، تحقیق، تنقید، سوانح نگاری ، ہر صنف میں ان کا قلم متحرک اور بیدار ہے۔ ان کے نعتیہ مجموعے عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی پرتاثیر خوشبو رکھتے ہیں کہ قاری کے دل کی زمین معطر ہو جاتی ہے۔ “گلستانِ نعت”، ” میرا قبیلہ محمدی ہے” اور “حیاتِ طیبہ” جیسے فن پارے ان کی عاشقانہ وارفتگی اور ادبی چابکدستی کے گواہ ہیں۔
“محبتوں کا دیا جلا کر
میں بارگاہِ نبی میں آیا ہوں”
کل بخشالوی کے نعتیہ کلام میں صرف عقیدت ہی نہیں، شعری حسن، فکری گہرائی اور روحانی لطافت بھی ہے۔ ان کی شاعری سادہ نہیں، سہلِ ممتنع کا درجہ رکھتی ہے جو دل سے نکل کر دل میں اتر جاتی ہے۔
گل بخشالوی کامجموعہ کلام ، قلزم خون، ادھورے خواب، سوچ سفر ہو یا مجمو عہ نظم،چراغ سر دیوار ، ہر شعر اور مصرع میں زندگی کی حقیقتوں کا شعور، وقت کی صداقتوں کی بازگشت اور تہذیبی ورثے سے جڑا ہوا ایک گہرا دکھ سنائی دیتا ہے۔ وہ محض شاعر نہیں، بلکہ ایک عہد کا شعور رکھنے والے دانشور ہیں، جو لفظوں میں صرف بات نہیں کرتے بلکہ تاریخ رقم کرتے ہیں۔
صحافت کے میدان میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ کھاریاں شہر سے پہلا اخبار بطور چیف ایڈیٹر ہفت روزہ “کھاریاں ٹائمز اور کھاریاں گزٹ” اور پہلا ادبی ماہنامہ قلم قا فلہ ایک ایسے اخبار اور جریدے کی بنیاد رکھی جو مقامی سطح پر اردو زبان کے فروغ کا ذریعہ بنا۔ ان کے اخبار کے صفحات محض خبریں نہیں سناتے بلکہ فکری رہنمائی کا بیانیہ پیش کرتے ہیں۔ وہ ادب اور صحافت کے درمیان ایک پل کی مانند ہیں۔ گل بخشالوی کی 46، تصنیفات اور تالیفات میں تنوع ہے، مواد ہے، اور مقصدیت ہے۔ ” سفر نامہ دیار نبیؐ”، ” منڈیلہ کے دیس میں “پاکستان سے پاکستان تک” جا دیکھا تیرا امریکہ ” کہانیوں کا مجمو عہ او رجوہم پہ گذری ” ” ” گل بخشالویکی تحریریں نہ صرف ان کی مشاہداتی آنکھ کی مظہر ہیں بلکہ ان کے قلبی سوز کا اظہار بھی۔
گل بخشالوی کی شاعری ، گل بخشالوی کی ادبی خدمات اور سفر ناموں پر ،ایم فل کی تین ڈگریاں ہو چکی ہیں ۔
علمی و فکری میدان میں ان کا اسلوب نہایت نکھرا ہوا ہے۔ وہ سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی تحریر محض معلومات کا انبار نہیں، بلکہ فکر کی بیداری ہے۔
“لفظ میرے قلم کے ہاتھوں میں
فکر کی روشنی کے ساتھی ہیں”
کھاریاں شہر میں بخشالوی منزل علم ادب کا گہوارہ ہے یہ گہوارے علمی اور ادبی تقریبات کے حوالے کھاریاں کی پہچان ہے
گل بخشالوی کو ہم صرف ادیب یا شاعر کہہ کر محدود نہیں کر سکتے۔ وہ ایک مکمل فکر، ایک باشعور ذہن، اور مہذب معاشرے کا خواب دیکھنے والے مفکر ہیں۔ ان کی ادبی خدمات ایک چراغ سے چراغ جلانے کی روایت کا تسلسل ہیں۔وہ اردو ادب کے اس خاموش سپاہی کی مانند ہیں جو اپنے حصے کا چراغ جلا کر تاریخ کے سینے پر اپنے لفظوں سے اجالا کر رہے ہیں۔ ایسے اہلِ قلم صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور زمانہ ان کے ہونے پر ناز کرتا ہے۔
……………………………
مضبوط اور مثبت مینڈیٹ کی ضرورت ہے
کالم نگار ، گل بخشالوی
طاقت کے سر چشمہ عوام کو وہ سوچتے ہیں جو دیس اور دیس والوں کی اہمیت کوجانتے ہوں جو اپنی ذات اور خاندان کے مفادات اور نام و نمود کے لئے نہیں دیس اور دیسیوں کا درد محسوس کرتے ہوں اس کی تابندہ مثال کنیڈا کے حال ہی میں وزیرِ اعظم بننے والے مارک کارنی ہیں جنہوں قومی استحکام کے لئے وزیرِ اعظم ٹروڈو کی وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کے بعد وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا ، کینیڈا کے نئے وزیر اعظم مارک کارنی نے فوری اور قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی حکومت ’مضبوط اور مثبت مینڈیٹ‘ چاہتی ہے۔ ۔ ’انھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت اقدامات سے نمٹنے اور پائیدار معیشت کے لیے ایک واضح اور مثبت مینڈیٹ کی ضرورت ہے
جب کہ دنیائے اسلام کی پہچان مملکت اسلامی جمہوریہ پا کستان جہاں چوری کے مینڈیٹ پر حکمران صرف اپنے اور اپنے سہولت کاروں ک کے ذاتی مفادات کو سوچتے ہیں انہیں دیس اور دیس والوں سے کوئی غرض نہیں ، جو دیس اور دیس والوں سے غرض رکھتے ہیں وہ ان کی نظر میں قومی غدار اور دہشت گرد ہیں صدائے حق کے علم بردار کو غائب کر د یا جاتا ہے ، اگروہ اغوا ہونے سے بچ جائے تو اس کے خلاف غداری اور دہشت گردی کے مقدمات درج ہو جاتے ہیں فارم 47 سے وجود میں آنیوالی پارلیمنٹ سے ذاتی مفادات اور سہولت کاروں کے ذاتی مفادات اور تحفظات کے لئے قوا نین بنوائے جاتے ہیں ، اپنی نا جائز حکمرانی کے دوام کے لئے عدالتوں میں انصاف کے خون کے لئے ججوں کی تعداد بڑھا کر ان ان کی تنخواہیں بڑ ھا ئی جاتی ہیں اس شرط پر کہ پاکستان میں انہیں صرف مینڈ یٹ چور ہی آزاد نظر آئیں کوئی وطن پر ست جیل سے باہر نظر نہ آئے ۔ وفاقی وزرائ ، وزرائے مملکت اور مشیروں کی فوج کی تنخواہوں میں188 فی صد اضافہ جب کہ قومی اسمبلی میں تنخوا دار طبقے کو ریلیف دینے سے معذرت ، میڈیا پر پابندی ، درباری صحافیوں کو ایوارڈ اور قوم پرست صحافیوں کا قتل ، پاک فوج ، لیویز اور پولیس کے جوانوں اور دہشت گردی میں عام معصوم شہریوں کی لاشوں کے سوا حکمران طبقے نے پاک سر زمین کو دیا ہی کیا ہے وطن پرستوں کے خلاف ریکارڈ مقدمات درج کروا کر ا ن سے آ زاد اور خودمختار زندگی کا حق چھین لیا گیا ہے پیکا ایکٹ قانون کے تحت صدائے حق کی زبان کو تالے لگا د یئے گئے تاکہ وہ آزاد اور خود مختار اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بات نہ کر سکیں،
دنیا جانتی ہے کہ بلوچستان انتہائی نازک صورتِ حال سے دو چار ہے لیکن قومی نازک صورت حال سے بے پروا حکمران بزورِ بازو بنیادی حقوق کے طلب گاروں کا گلہ گھونٹ رہے ہیں بلوچستان کی خاتون رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں ، کو بنیادی حقوق مانگنے کے جرم میں گرفتار کرکے ان کے خلاف دہشت گردی اور قتل کے مقدمات درج کئے گئے ہیں دنیا جانتی ہے بلوچوں کے خلاف بلوچستان کی صورتِ حال کے پیش نظر ایسے اقدامات جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے ما ہ رنگ بلوچ اس وقت بلوچستان میں مظلوم عام شہریوں اور خاص کر نوجوانوں کی دبنگ آواز ہے اس آواز کو بزورِ بازو دبائے جانے کی کوشش ریا ست کو مشکلات سے دو چار کر سکتی ہے ، حکومت کے سہولت کا ر مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے فلور پر کہا ہے کہ اگر بلوچستان کے زیر عتاب اضلاع نے خود مختاری کا اعلان کردیا تو اقوام متحد ہ آزاد بلوچستان کی آواز کو نظر انداز نہیں کر سکے گی ، اس لئے بہتر ہو گا کہ مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم بلوچ رہنمائوں کو قومی استحکام کے لئے اعتماد میں لیا
……………………………………………………………………………..
صحافت کا المیہ اور کیا ہو سکتا ؟
کالم نگار ،، گل بخشالوی
فارم 47 کی حکمرانی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان سے محبت کرنے والوں پر عرصہ حیات تنگ ہے ، رجیم کی حکمرانی کے بعد فارم 47,کے غاصب حکمران خود ساختہ قانو ن سازی میںفوج کو سامنے رکھ کر ذاتی مفادات اور اقتدار کو دوام کےلئے ظلم وجبر کی انتہا پر ہیں، پاکستان کے شیدائی افواج پاکستان کے شیدائی ہیں ، افواج پاکستان سے نفرت کرنے والا شاید ہی پاکستان میں کوئی ایک پاکستانی ہو ۔ البتہ اگر کسی فرد یا افراد کا اختلاف ہے تو افواج پاکستان کے جنریلوںسے ہے۔ ان اختلاف کی ابتدائ رجیم چینج سے ہوئی اور فارم 47 کی حکمرانی میں آج انتہا پر ہے ، عوام مینڈیٹ چور حکمران سے نفرت کرتے ہیں، اور جرنیل مینڈیٹ چور حکمران کے سہولت کار ہیں اس لئے حکمران اپنی حکمرانی کے تحفظ کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں ، حق و صداقت کی آواز کو دبانے کے لئے پیکا قانون دو دھاری تلوار ہے اس لئے پاکستان کا ہر شہری سہما ہوا ہے ، زبان کو تالے لگائے گئے تھے آج قلم کی آواز زیر عتاب ہے، حق وصداقت کے علم بردار وضو کر کے قلم اٹھاتے ہیں ، اس لئے کہ انہیں اپنے اٹھائے جانے کا خوف ہوتا ہے ، لیکن اگر اپنے اٹھائے جانے کے خوف سے اہل قلم سہم جائیں ، خاموش ہو جائیں تو پاکستان ، پاکستان نہیں ٹیکسستان بن جائے کسی کی جان محفو ظ ہو گی اور نہ ہی عزت اور وقار ! اس لئے کہ پیکا قانون میں جمہوریت اور جمہوری رویوں کی حیثیت اور مقام کو دفن کر دیا گیا ہے
بی بی سی اردو کے خبر نگارریاض سہیل اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں کمپیوٹرز اور سمارٹ فونز کی سکرینوں کی ٹمٹماتی روشنی اور سوشل میڈیا میں ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے۔یہ گولیوں اور بموں کا میدان جنگ نہیں ہے بلکہ الفاظ، خیالات اور اختلاف رائے کا تصادم ہے ان کی روک تھام کے لیے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) ایک دو دھاری تلوار ہے۔اس قانون کا مقصد تو سائبر جرائم کی روک تھام تھا مگر حالیہ کارروائیوں سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اس کا استعمال تنقیدی آوازوں کو دبانے اور اختلاف رائے کو خاموش کروانے کے لیے ہو رہا ہے۔فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک ہو یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس اور انسٹا گرام، ’ قانون کی نظر‘ سب پر ہے۔ حال ہی میں جب راولپنڈی میں ایک شہری نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں اس نے ٹریفک پولیس پر الزامات لگائے تو پولیس نے فوری طور پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ ٹریفک پولیس کا کہنا تھا کہ شہری کی ویڈیو کا مقصد عوام میں پولیس کے خلاف نفرت پھیلانا تھا۔
خیبرپختونخوا کے شہر بنوں میں جب ایک عام شہری نے رمضان کے چاند کے اعلان میں تاخیر کرنے پر علما پر تنقید کی تو اسے مذہبی حساسیت کے خلاف سمجھا گیا اور ان کے خلاف اسی قانون کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔عام آدمی تو ایک جانب اس قانون کی گرفت سے سابق رکن اسمبلی اور صحافی بھی محفوظ نہیں رہے۔رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو بھی پیکا ایکٹ کے تحت مقدمے کا سامنے ہے ان پر الزام ہے کہ انھوں نے پولیس پر دھاوا بولا، حکومت اور عدلیہ کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے اور سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کیں جن سے افرا تفر ی پھیلی،
صحافیوں کی بات کی جائے تو پہلے کراچی میں فرحان ملک اور پھر اسلام آباد میں وحید مراد کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔ فرحان ملک اب بھی پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ وحید مراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
’ کہا تو یہ گیا تھا کہ ان مقدمات میں ایف آئی اے کی جو نئی ایجنسی بن رہی تھی وہ کارروائی کرے گی لیکن یہ تو عام تھانے بھی کارروائی کر رہے ہیں، اس کا دائرہ تو بہت بڑھ گیا ہے۔‘پولیس سے لے کر ایف آئی اے تک تمام ایجنسیاں کارروائی کے دائرہ کار میں آ گئی ہیں۔
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور انسانی حقوق کی نامور کارکن نگہت داد کہتی ہیں کہ ’وہ ریاست جو ایک جمہوری ریاست کا دعویٰ کرے اور عوام کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ڈرے بالخصوص حکومتی پالیسیوں، کرپشن اور دیگر مسائل پر بات کرنے سے عوام ڈرنا شروع ہو جائے تو پھر وہ جمہوریت جمہوریت نہیں ہوتی۔‘جھوٹی خبر اور گمراہ کن خبر کی وسیع تعریف میں لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیں گے تو لوگ بات کرنے سے بھی گھبرائیں گے۔ لیکن اگر عوام ڈر کے گھربیٹھ گئے تو حکمرانوں کے احتساب کا عمل نہیں ہو پائے گا اور انھیں کھلی چھوٹ ہو گی۔‘
سینیئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ان کا شروع سے یہ خیال تھا کہ یہ ایکٹ ’نہ صرف صحافیوں بلکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے بھی ہے، جس کو بھی چاہیں گے اسے ٹارگٹ کر لیں گے۔‘ پیکا ایکٹ صحافیوں، مخالف آوازوں اور آزادی اظہار کو دبانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے مظہر عباس نے صحافتی تنظیموں کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ’ایسا لگا رہا ہے جیسے ہم نے اس قانون کو قبول کر لیا ہے، اس سے بڑا صحافت کا المیہ اور کیاہو سکتا ؟
………………………………………………………….
حقیقت بے نقاب ہو گئی
کالم نگار ، گل بخشالوی
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رجیم چینج اور فارم 47,کی حکمرانی میں پاکستان تحریک ِ انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف مغربی غلاموں اور ان کے سہولت کار دربار یوں، عدالتوں اور اداروںنے ظلم و جبر کی حکمرانی میں جھوٹ بولنے اور جھوٹ لکھنے کی تاریخ رقم کر دی لیکن وہ قائد ِ اعظم ثانی عمران خان کو نہ توجھکا سکے اور نہ ہی ان کی مقبولیت کے گراف کو گرا سکے ، آزاد اور خود مختار مملکت پاکستان کے لئے جدو جہد میں قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے مقابل تو کافر تھے لیکن وہ اپنے مذہبی اخلاق میں اس قدر گرے ہوئے نہیں تھے جتنے آج عمران خان اور ان کے چاہنے والوں کے خلاف اپنے پاکستان کے مومن ہیں
غلام ذہن حکمران کے گیت نگار غلام لکھتے ہیںکہ سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اپنے دورہ امریکا کے دوران امریکا میں مقیم تحریک انصاف پارٹی کے ان رہنما ئوں کے ساتھ جو”عمران رہائی” کی مہم کو امریکہ میں فعال طور پر آگے بڑھا تے رہے ہیں۔اس مہم کو حکومت اور ریاستی ادارے “ریاست مخالف” یا “فوج مخالف” سرگرمیاں قرار دیتے ہیں۔پی ٹی آئی کا مو ئ قف ہے کہ بیرونِ ملک ان کی سرگرمیوں کا مقصد قانون کی بالادستی یقینی بنانا اور پارٹی و قیادت کے خلاف ہونے والے مبینہ انتقامی اقدامات کے خلاف آواز بلند کرنا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں میں قومی اداروں، خصوصاً فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور بعض اقدامات سے ریاستی مفادات کو بھی نقصان پہنچا۔ انہوںنے ارکان کانگریس کے متعدد اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، فاکس نیوز پر انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان میں یو ایس ایڈ کے فنڈز کا استعمال انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ۔ انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ 26 نومبر کو “درجنوں افراد” جان سے ہاتھ دھو بیٹھے !!
دیکھا جائے تویہ وہ حقائق اور سچائی ہے جس سے کوئی بھی باشعور انکار نہیں کر سکتا ، درباری صحافی کی نشا ندہی حقائق کی ترجمانی ہے لیکن غاصب حکمران کا عمل ابو جہل سے مختلف نہیں ، ابو جہل جانتا تھا کہ دین مصطفی ایک سچا دین ہے لیکن گمراہ تھا سچائی تسلیم کرنے سے انکار ی تھا ۔
فارم 47, کے حکمران کے ترجمان لکھاری آگے لکھتا ہے ان کی کوششوں میں امریکی کانگریس میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر قراردادیں پیش کرانے ، جنرل عاصم منیر کے خلاف منفی باتیں اور امریکی کانگریس میں ایک مجوزہ قانون سازی کی بھی لابنگ کی گئی جس کا مقصد پاکستانی فوجی قیادت پر امریکی ویزا کی پابندی لگوانا سابق امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد سے قریبی رابطہ جو اکثر پاکستانی فوج پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے امریکہ اور برطانیہ چیپٹر نے اپریل 2022 سے اب تک 20 سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جن کا مرکزی موضوع انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی، حکومت کی تبدیلی میں فوج کے مبینہ کردار، پی ٹی آئی رہنما ئوں کے خلاف مقدمات، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، یو ایس ایڈ کے فنڈز کا مبینہ غلط استعمال، آئی ایم ایف قرضوں کی مخالفت اور اعلیٰ عسکری قیادت کے خلاف عوامی بیانیہ رہا ہے۔
فارم 47, کے حکمران کے ترجمان نے کان الٹے ہاتھ سے پکڑ کر وہ سچ لکھ دیا درباری لکھاری نے مینڈیٹ چور حکمرا نی میںلکھا کہ پاکستان میں پی ٹی آئی کے خلاف جو ہوا اور ہو رہا ہے وہ ظلم وجبر کی منفرد تاریخ ہے،
ان ہی حقائق کے ہیش نظر بی بی سی اردو اسلام آبادنمائندے ,اعظم خان کے مطابق امریکی کانگریس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور ملک میں جمہوریت کی بحالی سے متعلق ا مریکی ایوان نمائندگان میں 24 مارچ کو رپبلکن رکن جو ولسن اور ڈیموکریٹ رکن کانگریس جیمز ورنی نے ’پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ‘ کے عنوان سے یہ بِل پیش کیا۔ جس میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی امریکہ آمد پر پابندی کو بِل کا ایک اہم حصہ بنایا گیا ہے۔اس بل میں درج ہے کہ ایسی مخصوص بیرونی شخصیات پر پابندی عائد کی جائے جو پاکستان میں سیاسی حریفوں کو قید کرنے اور ان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں رپبلکن رکن جو ولسن کا مطالبہ ہے کہ ’ویزے پر پابندی کے ذریعے پاکستان کی فوجی قیادت پر دباؤ ڈالا جائے ’پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ‘ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ملک کی عسکری و سیاسی قیادت کے خلاف امریکی ویزوں کی پابندی کا ذکر کیا گیا ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ ’جب جنرل عاصم منیرعمران خان سمیت سیاسی کارکنان کو رہا کر دیں تو پھر ان پر یہ پابندی اٹھائی جا سکتی ہے۔ بل سے متعلق جو ولسن کہتے ہیں کہ اس بل میں یہ واضح ہے کہ ’پاکستان میں جمہوریت کی بحالی امریکہ کی پالیسی ہے۔‘امریکی کانگریس میں پیش کیے جانے والا یہ بل پاکستان کے آرمی چیف جنرل ’عاصم منیر پر ایک ماہ کے اندر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘ بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’تمام جرنیلوں سرکاری حکام اور ان کے اہل خانہ پر بھی پابندی عائد کرنے کا جائزہ لیا جائے۔‘جو ولسن ایوان کی خارجہ امور اور آرمڈ سروسز کی کمیٹیوں کے ایک اہم رکن ہیں۔ وہ رپبلکن پالیسی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیا جانے والا ’پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ‘ بل سے پاکستان میں نقاب پوش حکمرانی کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے
دنیا جان گئی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پسندوں کی نہیں پاک فوج کی حکمرانی ہے لیکن پٹوا ری اس حقیقت سے انکاری ہیں













