(عالمی مشاعرے میں مقامی شاعروں کے نام کی نئی ایجاد)

کبھی کبھی بہت کچھ لکھنے کو دل کرتا ہے۔جب کہ کافی عرصے سے قلم ایک طرف رکھ چکی ہوں بہت کم کم کسی موضوع پر قلم اٹھاتی ہوں۔اس سال بھی برطانیہ میں عالمی مشاعرے کا ایک اشتہار نظر سے گزرہ تو حیرت ہر گز نہیں ہوئی یہ سلسلہ بہت سالوں سے ایسا ہی چل رہا ہے۔جینوئن قلمکار کان و آنکھیں بند کیے ہر ایسی محفل کا خیر مقدم آسانی سے کرتے ہیں۔جس کو دعوت ملی وہ خوش جسے نہیں دعوت ملی وہ پچھلیکرسیوں پر براجمان مگر خوش۔کیا عالمی مشاعروں میں نمائندگی واقعی صرف شاعری کے معیار کی بنیاد پر ہوتی ہے؟شہرت،تعلقات،حلقہ بندی،سوشل میڈیا اور منتظمین کے ذاتی انتحاب بھی اِس میں کردار ادا کرتے ہیںمقامی شاعر آخر مقامی کیوں رہ جاتا ہے۔

ضروری نہیں کہ اس کی صلاحیت عالمی سطح کے شاعرسے کم ہو مسٗلہ کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ نام اورکلام کا فرق کہاں پَر؟معروف شاعر کو سامعین پہلے سے جانتے ہیں اس لئے منتظمین کے لیے بلانا نسبتََا محفوظ انتحاب ہوتا ہے یوں نئے یا مقامی شعرا کیلئےدائرہ تنگ ہوتا جاتا ہے۔حلقہ بندی اور ادبی تعلقات،مشاعروں کی دنیا بھی ادبی گروہ بندیوں سے آزاد ہے کیا؟بیرون ِ ملک رہنے والے مقامی شعرٗا کی صورت حال بھی عجیب سی ہے وہ بھی اردو کی خدمت جابجا کرتا نظر آتے ہیں۔مگر جب عالمی مشاعرہ منعقد ہوتا ہے تو صرف مقامی شاعر سمجھ کر نظر اندااز کر دیا جاتا ہے کیا اس کی نمائندگی صرف چند معروف ناموں سے مکمل ہو جاتی ہےمقامی سطح پر اردو کو زندہ رکھنے والے شعرا نمائندگی کرتے ہیںجب کہ دوسرے ممالک سے ادیبوں، شاعروں کی تمام فرمائشیں چائے سے لیکر کھانے پھر رہنے کی سہولیات اور جیب میں رقم۔

اس کے برعکس مقامی شاعر اپنی جیب سے خرچ کر کے پہنچتا ہے اسے نا اسٹیج نا اشتہار میں جگہ نا اچھا پلیٹ فارم۔دیکھا جائے شعر کی کوئی قومیت نہیں ہوتی مصرعہ پاسپورٹ نہیں مانگتا،غزل امیگریشن کاونٹر پر جا کر یہ نہیں بتاتی کہ اسکا شاعر شہر کےکس محلے یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ میں آج تک نا جان پائی کہ مشاعروں کی دنیا میں شاید کچھ اور ہی اصول چلتے ہیں پہلے ہی داد کا ایک حصہ محفوظ ہو جاتا ہے،االلہ معاف کرے،، نام نیا ہو تو شاعر کو پہلے اپنا تعارف پھر کب آغازِشاعری اور آخر میں اپنی قابلیت ثابت کرنی پڑتی ہے۔منتظمین خوشی سے پھولے نہیں سماتے گفتگو کرتے سمے سُرخی گالوں پر،ہونٹوں کی مسکرہٹ مائیک پر تخاطب کچھ یوں کہ فلاں ملک و شہر سے مقبول و معروف شاعر تشریف لا رہے ہیں،اتنے میں مقامی شاعر ایک طرف لگے اشتہار پر نظریں گاڑے اپنا نام تلاش کرتے ہوئے حیرت زدہ اسکا ذہن ماؤف اسکا نام تک پوسٹر میں نہیں صرف شاید دعاؤں میں ہی رہ جاتا ہے۔۔جو شاعر عالمی مشاعرے میں آجائے وہ عالمی جو نہ آ سکے وہ مقامی،مشہور شاعر کو صرف اس لئے بُلایا جاتا ہے کہ وہ مشہور ہے اور غیر معروف نہیں

پھر انہیں پلیٹ فارم پر مائیک سنبھالنے والے حضرت پھر کہتے ہیں۔اب نئے شاعر کہاں ہیں؟خیال تو کچھ کہتا ہے ادب صرف محفوظ سرمایہ کاری کا نام،نئی آوازوں کو کچل دیا جاتا ہے ہر بڑا شاعر پہلے نیا ہی ہوتا ہے اصل مسئلہ مقامی اورعالمی کی تقسیم سے بھی آگے کا ہے ادبی معیار کے ساتھ ادبی رسائی کو بھی معیار سمجھ لیا ہے،جس کے تعلقات زیادہ اس کی رسائی زیادہ۔جس کی رسائی زیادہ اس کے مواقع زیادہ پھر شہرت تو بنتی ہے۔شہر ت کو ہی قابلیت سمجھ لیا جاتا ہے۔

مشاعروں میں شاعر نہیں نام آتا ہے اور نام کے ساتھ داد بھی پہلے بک کر آتی ہے۔میرے خیال میں ہر شاعر و ادیب کے لیے لمحہ فکریہ یہی ہر ادیب و قلمکار کو سوچنا پڑے گا کہ اس کے قلم و لفظوں کی حُرمت کیا ہے؟خیالات کی جنگ و لفظوں کا پَرچار اتنا ہی سستا ہے تو اس قلم کو توڑ دینا اور خوبصورت خیالات پر پہرے بیٹھانے لازم ہیں۔شاعروںااور ادیبوں کی بے قدری اچھے قلمکاروں کو زیب نہیں دیتی۔میں اچھی ادیبہ و شاعرخود کو کبھی نہیں سمجھتی مگر مجھے آداب محفل و قلم کی حُرمت و پاسداری کا ساتھ دینا آتا ہے۔میں بن بُلائے یا جسدعوت نامے پر میرا نام اور تعارف شامل نہ ہو کبھی شرکت نہیں کرتی۔کوئی ایوارڈ ایسا نہیں لیتی جو میرے تعارف کے بغیر ہو۔میرے خیال یں بہت ے مقامی شعئرا کا کلام کسی عالمی شاعر سے کم عالمی نہیں ہوتا۔ان کے بھی وہی ڈُکھ،وہی محبت وہی ہجر و صالزمانے کی بیوفائی،فرق صرف اتنا کہ ایک شاعر کا نام منتظمین کے موبائل فون میں محفوظ اور دوسرے کا شاید فہرست کے آخر کونے پَر۔تحریر لکھنے کا مقصد صرف یہ کہ ہر قلمکار لائق تحسین ہوتا ہے۔

عالمی مشاعرے کے کرتا دھرتا کو پوسٹر پَر جگہ کم پڑ جائے تو ایک کام یہ کریںتصویریں ذرا چھوٹی کر دیں مقامی شعراؤں کے نام کو بھی جگہ دی جائے۔ایک ادھ کُرسی ان کے لئے بھی رکھ دیں۔ممکن ہے انہی کرسیوں سے اگلا بڑا شاعر اٹھے اور تب وہ صرف مقامی شاعر نا رہے۔اب ہمیں لوکل شاعر کہنے کے لیے کوئی نیا لفظ ایجادکرنا پڑے گا۔۔آخر میں یہی کہ مشاعروں کی تقریبات کی کامیابی اچھے شاعروں کی مرہون منت ہی ہوتی ہے۔۔میری تحریری کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب تک ایک قلمکار خود کی عزت نہیں کرے گا دوسرے صرف اپنا پلیٹ فارم سجائیں گےپھر آپکی جگہ کل کوئی اور جسے یہی منتظمین معروف و مقبول کہہ کر دعوت کلام دے رہے ہوں گے۔مقامی شاعر کے نام کی نئی ایجادہونی چاہیے

فرخندہ رضوی خندہ ریڈنگ (برطانیہ)

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

فرخندہ رضوی کا تازہ مجموعہ کلام،خوشبوئے خندہ، شائع ہو گیا

خواجہ شامیر علی بہت فخر محسوس کر رہا ہے کہ سب سے پہلے کتاب پکڑنے کا شرف حاصل ہوا یہ میری بھانجی کا ہونہار پوتا ہے ۔کتنی خوشی محسوس کر رہا ہے کہ میری دادو کی کتاب ہے آج میرا شعری مجموعہ خوشبوئے خندہ ، تمام سفر طے کرتا ہوا سیالکوٹ میرے گھر تک آخرکار پہنچ ہی گیا ۔میری تین سالوں کی محنت میرے استائذہ میرے مہر بان دوستوں کی رائے اور محبت کا پھل ۔۔ سب سے پہلے اپنے استاد محترم جناب صفدر ہمدانی صاحب کی احسان مند جنہوں نے میرے لکھے ہوئے ایک ایک حرف کو پڑھا ، دیکھا اور حوصلہ افزائی کی مہرثبت کی ۔ میری خوشی قسمتی یہی کہ مجھے ان سے سیکھنے کا موقع ملا میرے غلط لکھے پر کبھی واہ واہ نہیں کی مجھے راستہ دیکھایا جس سے میرا اعتماد بڑھا ۔۔قلم کی طاقت خیالات کی سچائی سے ہی بنتی ہے ۔لہذا میرا اتنا کہنا کہ مفادات سے ہٹ کر کبھی رشتوں کو چاہ کر دیکھیئے تو پھر حُسن ہی حُسن ہوگا ۔ادب خواہ کسی بھی خطہ سرزمین سے تعلق رکھتا ہو زندگی کے تجربات ، مشاہدات،واقعات اور جستجو کے نشیب و فراز کو کبھی نثر اور کبھی شاعری میں بیان کرتا چلا جاتا ہے ۔اس تمام کاوشیوں میں میری محنت تو ہے ہی مگر جب تک استاد نہیں ہو تب تک آپ مطمئن نہیں ہو سکتے ۔ بلکل اسی طرح جس طرح ماں باپ کے بینا اولاد ۔۔ میری خوشی قسمتی یہی اور فخر یہی کہ میرے استاد خالد یوسف (مرحوم) کے بعد میرے استاد محترم صفدر ہمدانی ہیں ۔۔میں ان کے احسان کی چھتری کُھلی رکھنا چاہوں گی اس کے سائے میں رہ کر مِستفید ہونا چاہتی ہوں ۔بہت سی دعائیں ان کے لیئے ۔۔میری پہلی پانچ کتابوں کو دوستوں سے پزیرائی ملی تو پھر سے میرا قلم چل نکلا ۔ امید ہے جن جن دوستوں تک یہ کتاب پہنچے گئی ۔میری اچھی تحریر کے ساتھ ساتھ میری کمزوریوں کی نشاندہی کریں گے ۔تاکہ میرے قلم کا سفر جاری رہے ۔مجھے کسی ایوارڈ کی ، کسی مشاعرے میں ہاتھ بلند کر کے کہنے کی ضرورت نہیں کہ میں شاعر ہوں ۔میں ایک لکھاری ہوں ۔مجھے اپنی عزت کرنی آتی ہے ۔بس اتنی ہی سوچ اتنا ہی خیال کہ مجھے اردو سے محبت ہے ، اردو سے محبت ہے(خوشبوئے خندہ کی اشاعت میں محترم معراج جامی صاحب )نے مکمل تعاون کیا بے حد ممنون ہوں ان کی ۔ میری پہلے بھی دو کتابیں شائع کر چکے ہیں ۔ بہت سی دعائیں سلامت رہیں

فرخندہ رضوی

…………………….

عمر بھر کی دوستی کا ہاں بھرم رکھا نہ تھا

بعد مدت کے کھلا مجھ پہ کہ وہ میرا نہ تھا

یوں جلائے زندگی بھر میں نے یادوں کے چراغ

سامنے جن کے چراغِ دیگراں جلتا نہ تھا

کل میں اُسکی گفتگو سُنتی رہی سُنتی رہی

اس محبت سے وہ پہلے تو کبھی بولا نہ تھا

کچھ تو اندازہ تھا مجھکو اسکی آنکھوں کا مگر

دل کی حالت کا یہ اس نے باب یوں کھولا نہ تھا

سوچتی ہوں کیوں میں جیسے گُنگ ہو کر رہ گئی

اس طرح سینے میں دل پہلے کبھی دھڑکا نہ تھا

اعتراف عشق نے نمناک کی آنکھیں مری

آنکھ میں کاجل قسم ہے اس طرح پھیلا نہ تھا

اُسکی خواہش تھی سو فرخندہ میں قائل ہو گئی

وہ پیام عشق بھیجے گا کبھی سوچا نہ تھا

فرخندہ رضوی

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

اکیس اکتوبر2016 میری زندگی کا خوبصورت دن طلوع ہوامیں بہت پیارے پیارے نواسے کی نانو بن گئیتیرے آنے سے محبتوں کے رفاقتوں کے ہر طرف چراغ جل اُٹھےتیرا مسکرانا میرے ننھے فرشتے میری پیاری بیٹی جیسا ہی تو ہےتیری خوشبو سے معطر ہو گیا آنگن اُس کا ۔۔۔۔۔اِک پَل میں سارا منظر بدل گیاتیرے وجود کی تخلیق ہوئی میرا رشتہ بدل گیاآج کا دن میرے لئیے بہت خاص ہے ۔سارے عزیز و اقارب سارے دوست ہماری اِس خوشی کے موقعہ پرہمارے ساتھ خوشی منا رہے ہیں ۔مگر ایک بہت عظیم شخصیت کی کمی اور دوری مجھے افسردہ کر رہی ہےہاں وہ ہستی ہے میری ماں ۔۔اماں سے جدائی اور انکے اور ہمارے بیچ حائل فاصلے کبھی کبھی مجھ کو آبدیدہ کر جاتے ہیں ۔آج اماںّ جی ہوتیں تو کتنی خوش ہوتیں ۔۔جب مجھکوپُرجوش و پُر مسرت دیکھتیں تو خوش ہوکر بے ساختہ دعا کے لیے ہاتھ بلند کرتیں ۔ماں کی دعا مستجاب ہوتی ہے ۔میں ماں بنی تو اماں کتنی خوش تھیں ۔ماں کا بس نہیں چلتا تھا کہ مجھے کس طرح اپنی ممتا کی دل آویز مہک سے سرشاد کر دیتیںمیرا ماتھا چوم کر عرش کو چھونے والی دعاؤں سے میرا دامن بھر دیتیں ،اُن کی دعا اور محبت میں بڑی تاثیر تھی ،قدم قدم پَر انکی شفقت و محبت و ممتا بھری چھاؤں بڑی ڈھارس دیتی جو میرے دل میں اطمینان و سکون بھرنے کے لیے کافی ہوتا ۔۔۔ اس گھر کے ہر کونے سے ابھی بھی مجھے ان کی مہک آتی ہے ۔سخت راتوں میں میرا سفر آسان رہا ۔جب بھی میں دعا کرتی ہوں میرے ہاتھوں میں اماں کا چہرہ اُتر آتا ہے ۔میں دعا مانگتے مانگتے مُسکرا اُٹھتی ہوں ۔ایے میرے مولا تیری شان یہی ہے آج میں نے جب اپنے نواسے کو اپنی گود میں لیا تو اُس کی مسکراہٹ مجھے جنت کی فضاؤں میں لے گی ۔میرا دل ان گنت خواہشات سے بلکل خالی تھا۔ہم نے اس کا نام زَکریا علی رکھا ہے۔میری آنکھوں کی تلاش ختم ہو کر رہ گئی ۔میں سر بسجود ہو گی ۔یااللہ تو ہمیں ہماری بساط سے بڑ ھ کر دیتا ہے ۔ہم ہمیشہ گلہ ہی کرتے ہیں اُن چیزوں کے کھو جانے کا جو ہماری زندگی سے تُو بہت دور لے جاتا ہے۔مگر یہ سوچے بینا کہ تو بہتر سے بہتر نوازتا بھی تو ہے ۔۔ماں کی ممتا کی مہک یا د آئیدل میں بے ساختہ ایک نام آیاماں کا پُر نور سا مشفق چہرہیاد ہر رو ز سر ِ شام آیا

فرخندہ رضوی (ریڈنگ)انگلینڈ

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

میری ماں میرا عشق ۔ فرخندہ رضوی

انسان کا مقدر ازل سے ابد تک ایک ہی دائرے میں گھومتے رہنا ہے ،دائروں ،نقطوں اور لکیروں ،دھند کی چادر ،اُجلی اُجلی چاندی کے گرد کہانیاں بُننا ،رشتوں کی ڈوریاں احساس میں باندھ لیناانہیں مضبوط کرنا ۔۔ایساہی ایک رشتہ مجھے عشق تھا اُس رشتے سے ۔لفظ ماں ؔ کے ساتھ میرے ذہن میں وہ سب لمحے جس کی بس دو آنکھیں دو ہاتھ ۔۔آنکھوں سے محبت چھلکتی اور ہاتھوں میں پتھر کے بنے موتیوں کی تسبی ۔۔میں نے ہمیشہ یہی روپ اپنی ماں کا دیکھا جب وہ میرے اباّ کے ساتھ تھیں یعنی اُن کی وفات سے پہلے تو بچوں کو بڑا اور نیک ہونے کی دعائیں کرتے اور جائے نماز پر سجدے کرتے دیکھا اور چپکے چپکے آنسو بہاتے اور کبھی کبھی تو ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز سُنا کرتی تھی یہ وہ زمانہ تھا جب ہم سب بہن بھائی ایک ہی گھر میں جس کی چھتیں اور دیواریں بہت کمزور سی تھیں ۔۔میری ماں ؔ ایک منظم شخصیت ،الفاظ کا انتخاب دُرست ،ادب آداب کی نصیحت ۔نماز و قرآن کی تلقین ،ہر کام کی نوعیت وقت و حالات کے مطابق۔نا شکوہ نا شکایت ۔۔اتنی صابر کہ کبھی اباجی سے گلہ نا کیا ،غریبی کی چادر اُوڑھے دین کا درس دیتی رہتیں ۔۔ہمہ وقت حالتِ تشکر میں رہیں ۔اپنی اماں ؔ کی کون کون سی صفت بیان کروں ،مجھے لگتالکھتے لکھتے صُبح سے شام بھی ہو جائے تو اُس کے خلوص محبت اور اُن کے سچے موتیوں جیسے جذبوں کو سرِورق اُتارنا سکوں میں سمجھتی ہوں اُس کی محبت کو لفظوں مین پرونا آسان نہیں ۔ابھی تک دنیا میں کوئی ایسا پیمانہ نہیں بنا کہ ماں کی محبت کو ماپا جاسکے ۔۔کبھی کبھی ہمارے پیارے رشتوں کو آزمائش میں قدرت بھی ڈال دیتی ہےوالد محترم کی وفات کے بعد وہ ایک ایسی چھت کے نیچے آ بسیں جہاں چودہ سال گزارنے کے باوجو جو اُن کی نا تھیں بے شک میں نے انہیں پھولوں کی طرح سنبھال کر رکھا،محبت و عزت سے سَر ماتھے پر بیٹھائے رکھا ۔۔ان کی ایک مسکراہٹ پر اپنی ساری محبت قربان کر ڈالی ۔مگر انہیں اکثر راتوں کو اُٹھ اُ ٹھ کر روتے دیکھا ۔ہر عورت کی ایک ننھی سی خواہش یہی کہ اُسکا اپنا گھر بھی کہیں ہو ۔۔میں سمجھتی ہوں بدنصیب ہوتی ہے وہ اولاد جو زندگی میں ماں باپ کی قدر نہیں کرتی ماں تو ایسی ہستی کہ جو محبت کا ایک سمندر جو کبھی خشک نہیں ہوتا ۔میری زندگی کی خوبصورت تصویر ایک یہی تو تھی ۔جب بھی خود سے سوال کرتی ہوں شاید میں بہت کچھ ایسا نا کر سکی جو مجھے کرنا چاہیے تھا ۔دوراہے پر چلنا اتنا آسان تو نہیں ہوتا مجھے اکثر ہی لگتا وہ میری ماں نہیں بلکے میں اُن کی ماں ہوں ۔۔اپنے آنچل سے جب بھی اُن کی آنسوؤں بھری آنکھوں کو صاف کرتی ،نہلانے کے بعد بالوں میں کنگھی کرتی تو بہت سی سوچیں ذہن میں اُبھر آتیں ۔خداتعالی نے یہ کائنات تو بہت حسین تخلیق کی ہے ۔۔عبادتوں ،چاہتوں ،وفاؤں ،دعاؤں کے بے شمار رنگ ماں میں منتقل کر ڈالے میرے پروردیگار نے ۔۔میری خوش نصیبی یہ رہی کہ میں نے تمام نعمتوں سے اپنی جھولی بھری میں نے اُن کے اُٹھے ہوئے ہاتھوں میں اپنے لیے دعاؤں کے خزانے دیکھے وہ محبتیں قدم قدم میری رہنمائی کرتی رہیں ۔آج بھی ماں ؔ کے قدموں کی آہٹ میرے کانوں میں جلترنگ کی طرح بج اُٹھتی ہے ،اُس کی آنکھوں کی ہر عبارت پڑھی ہے میں نے ،کہتے ہیں رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے احساس کی گرمی انہیں مضبوطی دیتی ہے ،مجھے لگتا ہے چودہ سال کا عرصہ اتنی رفتار سے ایسے گزرہ کہ ہر پَل میرے دل و دماغ پر نقش چھوڑتا گیا ۔باقی سبرشتے ریت کی مانند ہاتھ کی انگلیوں سے نکلتے ہی چلے گے ۔۔َمَیں اپنا وہ گھر جس کے صحن کی ایک نُکر میں تین چار مٹی کے گھڑے پانی سے بھرے پڑے اور ایک کونے میں مٹی کا بنا چولہا جس پر میری اماں ؔ صُبح و شام کھانا بناتی ،کبھی کبھی گیلی لکڑیاں سلگاتے سلگاتے آنکھیں آنسو ؤں سے بھر جاتیں دھواں جب آنکھوں کو چُبنے لگتا تو اپنے ڈوپٹے اور کبھی کبھی قمیض کے گھیرے سے دھواںِ بھری آنکھوں کو صاف کرتیں وہ منظر کبھی دھندلاتا نہیں ۔۔۔بچھڑے ہوئے سالوں کی روشن یادیں مجھے لگا میں نے وقت کی کشتی کے سپرد کر رکھی تھیں جو ابھی تک پانی پر تیر رہی ہیں میری ہر سانس میں اُن یادوں کی تپش بسی مجھے روز اول کی طرح بے چین کئے رکھتی ہے ۔۔۔وہ بس آخری لمحہ کہیں ٹھہر سا گیا ہے میری زندگی کی ہر سانس میں، ڈوبتے سورج کا سا منظر دل کی دھڑکنیں مدھم مدھم ہوتی جا رہی تھیںاُن آنکھوں سے زندگی کی روشنی موت کے اندھروں میں بدلتی جا رہی تھی ،بہت سے سوال تھے اُن آنکھوں میں میں چاہ کر بھی کوئی جواب نا دے پائی ۔۔میں جاتے ہوئے لمحے اور بے حرارت جسم سے لرز رہی تھی ،میرے آنسو پلکوں سے ڈھلتے ہوئے اماں کے بے جان وجود میں سما رہے تھے ،میری سسکیاں میری آئیں پکارتی رہ گیں مگر وہ وقت مقرر تھا ۔میں تہہ داماں تہہ دَست قدرت کا تماشہ دیکھی رہ گئی ۔۔۔بس سوچتی ہوں میری محبت کا دوسرا نام ہی تو ہے میری ماں

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

زکرِ اعلیٰ ذکرِ شاہ کربلا

اِس سے بڑھ کر اور کیا ہو تزکرہ

رُتبہ اعلیٰ ہے سب سے آپکا

آپ نے اسلام کو ذندہ کیا

ہے سٓر فہرست عظمت آپ کی

کی شجاعت آپکو رَب نے عطا

آپ ہیں شانِ علی ،ابن ِ بتول

آپ ہیں جان ِ رسول ِ مصطفیٰ

آپ پر لاکھوں کروڑوں ہیں سلام

اے مجاہد اے شہید کربلا

فرخندہ رضوی

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

فرخندہ رضوی خندہؔ

قابل فخر بیٹی‘ بہن‘ جیون ساتھی‘ ماں‘

شاعرہ و ادیبہ قلم کار ۔۔۔۔۔۔نظم گو‘ غزل گو شاعرہ‘ افسانہ نگار‘ تجزیہ نگار‘ کالم نویس‘ کہانی کار ۔۔۔۔۔۔ آخر ان کا تعارف کس حیثیت سے کرواؤں ۔۔۔۔۔۔ کہ ہر ادبی صنف میں ہی وہ ہستی ہر فن مولا ۔۔۔۔۔۔ ہے لیکن مجھے ان کا جو تعارف بھاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ ایک حساس‘ نرم دل‘ خوبصورت مسکان‘ آواز میں چڑیوں کی سی چہچہاہٹ‘ لب و لہجہ باوقار‘ پراثر شخصیت‘ گہری نظر اور حس رکھنے والی وہ ماں‘ بہن‘ بیٹی اور جیون ساتھی جو ایک آنگن میں ’’تلسی‘‘ کی طرح کھلیں اور اپنے ماں باپ کے آنگن کو مہکاتے مہکاتے سسرال گھر آئیں تو ساری بہاروں کی رعنائیاں اس گھر کی زینت بن گئیں ۔۔۔۔۔۔ ہر رشتہ نہایت خوبی‘ پیار‘ چاہت کی شیرینی سے نبھایا اور اپنی گود میں پروان چڑھنے والی اولاد کو بھی وہ گن دیئے کہ اولاد بھی ماں کی شخصیت کا عکس نظر آنے لگی ۔۔۔۔۔۔ جی ۔۔۔۔۔۔ یہ تمام خصوصیات جس مجسم میں پنہاں ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ شہر اقبال ۔۔۔۔۔۔ شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال ؒ ۔۔۔۔۔۔ یعنی سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور اب یو کے میں رہائش پذیر ہیں۔دنیا میں آپ کو ایسے لوگ تو نظر آئیں گے جو تمام دنیا کی خوبیاں خامیاں تلاش کرکے اپنا قد کاٹھ نکالتے ہیں لیکن خود کو کہاں ٹٹولتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن میری یہ دوست ہر وقت اپنی ہی کھوج میں سربستہ رہتی ہیں اور اپنی تلاش ہی میں اپنے گردوبیش کی خواتین ۔۔۔۔۔۔ نشیب و فراز اور اتار چڑھاؤ من و عن بیان کرتی نظر آتی ہیں۔ کبھی نظم نثر‘ غزل‘ افسانے کی صورت اور کبھی کالم و مضمون نویسی کی شکل میں ۔۔۔۔۔۔ ان کی سب سے پہلی کھوج ۔۔۔۔۔۔ اپنی کھوج تھی ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے سب سے پہلا تجزیہ اپنے نام کا کیا ۔۔۔۔۔۔ ان کے والدین نے خوبصورت ترین نام ’’فرخندہ رضوی‘‘ کا انہیں جو تحفہ دیا اسی میں سے انہوں نے اپنا تخلص دریافت کیا اور یوں ان کا تخلص ’’خندہ‘‘ ہوگیا۔ اب شعری‘ علمی‘ ادبی حلقے انہیں فرخندہ رضوی خندہؔ کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کی اب تک 5 تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں جن میں ’’سنو خاموشی کی داستان‘ فاصلے ستا رہے ہیں‘‘ زیر لب خندہ‘ شعری مجموعے ہیں جبکہ ’’پھر وہ صبح کہاں‘‘ افسانوی مجموعہ اور ’’قلم خندہ‘‘ تنقیدی مضامین‘ تجزیوں‘ تبصروں‘ مضامین‘ پذیرائی اور سفر نامچہ کا مجموعہ ہے۔ان کی شاعری کو بغور پڑھنے اور جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجہ میں پہنچی ہوں کہ وہ ہر رشتہ‘ احساس اور کیفیت کو من و عن بیان کرنے کے تجربات بلکہ کامیاب تجربات کررہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ جس کا ثبوت ان کی یہ غزل ہے۔راکھ ہونے کی گھڑی ہو جیسےآگ سینے میں لگی ہو جیسےگھر کے آنگن میں دھواں ہے ایسامیری دنیا ہی جلی ہو جیسےبند مٹھی کو ہیں تکتے ہر پلاپنی قسمت میں یہی ہو جیسےرات دن پھرتی ہوں تنہا تنہاشکل وہ دور ہوئی ہو جیسےدیکھ کر لگتا ہے اس کو ایساوہ نہیں اور کوئی ہو جیسےہوئی بے چین کچھ ایسی خندہؔاس کے آنے کی خوشی ہو جیسےتمام تر کیفیات کو اپنی غزل میں سمونے والی فرخندہ رضوی خندہؔ دراصل بطور شاعر خود کو بخوبی منوا چکی ہیں لیکن وہ اپنی ذات میں چھپی اس عورت‘ ماں‘ بہن‘ بیٹی‘ جیون ساتھی کو منوانا چاہتی ہیں جو ’’عورت ذات‘‘ کہلاتی ہے۔ وہ اپنی ایک نظم میں اس طرح بیان کرتی ہیں۔رات ہے یا سمندر کوئیکیوں اس میں ڈوب رہی ہوںتیری دید سے نہیں ڈرتیمگر جدائی سے ڈرتی ہوںوقت کا ظلم سہہ نہیں سکتیذرا ذرا بکھر جاتی ہوںآنکھوں میں وہی لمحیابھی تک ٹھہرے ہیںآج بھی ڈوبتے سورج کےمنظر کی طرح ہوںتاریکی سےجب آنگن بھرنے لگتا ہےتب تجھے رات کے پچھلے پہرڈھونڈنے نکلتی ہوںمیری ہر ادا سے واقف ہو تممیں تو سیپ کےاک گوہر کی طرح ہوںانتہائی سادہ بیان کے ساتھ فرخندہ رضوی خندہؔ جس طرح ’’جذبات و ذات‘‘ کو ایک وقار کے دائرے میں بیان کرتی ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اپنی ذات کی قدر شناس شاعرہ ہی خود کو اور اپنی ذات کو ’’سیپ کے موتی کی طرح‘‘ منوائے گا۔ اور فرخندہ رضوی خندہ کی شاعری ہی نہیں ان کی افسانہ نگاری بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عورت ذات کے دکھ محض اپنے قلم کی لذت کے لئے بیان نہیں کرتیں بلکہ وہ اس عورت جو دکھوں‘ پریشانیوں اور حالات میں گھری ہوئی ہے کا ہاتھ تھام کر اسے آزادی کی فضاؤں میں لے جانا چاہتی ہیں۔ وہ اپنے ایک افسانہ ’’بس صحن بدل گئے‘‘ میں کپڑے سینے والی ’’چھیمی‘‘ جو اپنی مشین کا ہینڈل گھماتے ہوئے اپنی قسمت کی خرابی کا رونا بھی رو رہی ہے۔ اور پھر ۔۔۔ ثریا ۔۔۔ جو اس کی ہاتھوں میں شریک ہوکر اپنی جاننے والی عورتوں کی قسمتوں پر کبھی رشک کرتے نظر آتی ہے اور کبھی ملال کرتے ۔۔۔۔۔۔ اسی دوران نجمہ کا ذکر چل پڑا۔ ساتھ ہی اس کی تین بیٹیوں کی کہانی اس انداز سے بیان کی کہ ان کے سسرالی خاندانی حالات بھی کچھ اس طرح کے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔ میکہ گھر سے دکھوں کا بستر لے جانے والی بیٹیوں کا مقدر اگلے گھروں میں لعن طعن‘ لڑائی جھگڑوں‘ کسی کا طلاق اور کسی کا بیوہ ہونا ٹھہرا۔ فرخندہ رضوی خندہ نے اپنے اس ایک افسانہ جو کئی لڑکیوں اور ان کی ماؤں کی تقدیر کی ایک جیسی کتھا کا اختتام ان الفاظ میں کیا۔’’تقدیر اپنی جگہ براجمان تھی ۔۔۔۔۔۔ بس ایسا ہوا صحن بدل گئے تھے ۔۔۔۔۔۔کسی بھی قلم کار کا طرہ امتیاز بھی یہی ہے کہ وہ خارجی حالات کو داخلی محسوسات میں لاتے ہوئے الفاظ میں ڈھالے اور وہ لفظ بولنے لگیں۔یہ مہارت فرخندہ رضوی خندہ میں مکمل طور پر موجود ہے۔ وہ اپنی پُرتعیش زندگی کو بالکل الگ اور اپنی محسوسات کی زندگی کو اس قلم کار کی حساسیت کی ذات میں پوری طرح منتقل رکھتی ہے۔ جہاں وہ خود ادبی اصناف کی خدمات پر سرگرم عمل ہیں وہ اپنے عہد کی شعری و ادبی شخصیات اور ان کے کام پر بھی بھرپور تنقیدی جائزہ کاری کرتی ہیں۔ ان کے تنقیدی مضامین‘ تجزیوں‘ تبصروں سفر نامچہ کے مجموعہ ’’قلم خندہ‘‘ میں 38 ادبی شخصیات کے کلام و ادبی حیثیت پر بھرپور تبصرے ملتے ہیں۔ جن میں نرگس جمال سحر‘ شمع چوہدری‘ امجد مرزا امجد‘ خالد یوسف مرحوم‘ جاوید اختر چوہدری و دیگر شامل ہیں جبکہ دنیا بھر کے اردو تنقید نگاروں جن میں رئیس الدین رئیس‘ ڈاکٹر نگہت نسیم‘ اکبر حیدر آبادی‘ ساحرشیوی‘ بانو ارشد‘ راحت زاہد‘محمد اشفاق ایاز سمیت 24 معروف ادبی شخصیات نے فرخندہ رضوی خندہ یو کے میں اردو ادب کی شمع گردانتے ہوئے ان کے فن پر اظہار خیال کیا اور انہیں ادبی منظر نامہ کا ایک حسین اضافہ قرار دیا۔ ان کی اسی تصنیف ’’قلم خندہ‘‘ کے آخر میں ان کا ’’لندن سے سیالکوٹ براستہ دبئی‘‘ کا سفر نامچہ شامل ہے یہ وہ سفر ہے جو انہوں نے 10 سال بعد اپنے وطن تشریف لائیں اور اس سفر کی یاد داشتوں کو لندن واپسی پر سفر نامچہ کی شکل میں تحریر کیا۔ اپنے سفر کے ارادہ‘ سفر کی تیاریوں سے لے کر ہر ایک غزل کو بخوبی بیان کرنے اور تمام رشتہ داروں اور احباب سے ملاقات بڑے خوبصورت انداز سے بیان کی کہ پڑھنے والا اب ان کے تمام احباب سے بخوبی متعارف اور ان کی طبیعت و عادات سے بھی واقف نظر آتا ہے۔گجرات کی شیشم کی لکڑی کے فرنیچر‘ ہاتھ سے تیار شدہ کھسے‘ مٹی کے برتن سب ان کے سفر نامہ میں موجود ہے جبکہ ان کی دوست ثمینہ بیگ کے ہمراہ لاہور کی سیر سب ہی قارئین نے ان کے ہمراہ کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے اسلام آباد‘ شکر پڑیاں اور دیگر تفریحی مقامات کی سیر سے لگتا ہے کہ اپنی لندن کی مصروفیات کی تمام تھکان انہوں نے اپنے وطن اپنے گھر ہی میں آکراتاری ۔ وہ پاکستان سے لندن واپسی پر آخری بار اپنوں کو الوداع کہنے کے مناظر اس طرح بیان کرتی ہیں کہ پڑھنے والے کی آنکھیں بھی بھیک جاتی ہیں۔فرخندہ رضوی خندہ اپنے اس سفر نامچہ کا اختتام جن الفاظ میں کرتی ہیں وہ کچھ یوں ہے۔سوچ رہی تھی کیا ہر سفر کا انجام یہی ہوتا ہے دل کی دھڑکنیں رکنے لگیں احساس کی آگ سینے کو جھلسانے لگی۔ ان جلتے بجھتے شعلوں کی روشنی بجھے بجھے چہروں پر دکھائی دینے لگی۔ کیا یہ سب میرے اپنے ہیں جو نظریں نہیں ملا رہے یا میں ہی انہیں ایسے اداس اداس دیکھ رہی ہوں۔ میرے ہونٹ پر مہر لگ چکی تھی اور فرط جذبات سے زبان گنگ‘ پھر سے ملنے کی آس بندھائی سب کے گلے مل کر پلکوں پر آنسو سجائے‘ میں اور میری بیٹی سونیا گیراج میں پارک اسی گاڑی میں آ بیٹھیں جس میں روز آوارہ گردی کے لئے نکلتی تھیں۔ میرے ڈرائیور بنے یاسر اور بابر ہر وقت ہمیں ہنساتے ہوئے سفر پر لے کر نکلتے تھے۔ کیا یہ میرے اپنے تھے؟ یا پھر وہ جنہیں لندن میں ہمارا انتظار ہے۔ یہ بھی ایک فلسفہ ہے شاید یا کوئی ایسا معمہ جسے میں حل نہیں کر پا رہی۔ کوئی ہے جو اس حقیقت کی وضاحت کرسکے۔ مگر اتنا جانتی ہوں اس حقیقت کو کہ محبت کا ایک لمحہ نفرت کی تمام عمر پر بھاری ہوتا ہے۔ مجھے نفرت کرنی کبھی آئی ہی نہیں میں تو محبت کی علمبردار ہوں ہمیشہ سے۔ آج صبح سے تو بچے بھی ہم سے نظریں نہیں ملا رہے تھے انہیں بھی ہمارا جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔آخری بار گاڑی کے شیشے نیچے کئے الوداعی سلام کیا ہاتھ ہلاتے ہوئے چل دیئے۔ یاسر اور بابر نے راستے میں بچوں کو سکول ڈراپ کیا۔ بچوں نے گاڑی سے اترتے ہوئے ایک نظر پلٹ کر پیچھے بھی نہ دیکھا۔ ایک ہوک سی دل سے اٹھی کاش ہم کبھی اپنوں سے بچھڑا ہی نہ کریں۔ دس دن پہلے یاسر اور بابر ہمیں اسی ائیر پورٹ سے جب لینے آئے تو چہرے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے مگر آج چہرے کی خاموشی‘ ویران آنکھیں دیکھ کر لگا کہ ہم بہت سی محبتیں سمیٹ کر لئے جارہی ہیں۔ میں نے انہیں پیار کیا۔ میں اور سونیا خدا حافظ کہتے ہوئے ائیر پورٹ کی عمارت کے اندر داخل ہوگئیں۔ قدم من من کے بھاری لگ رہے تھے‘ زندگی ملنے اور بچھڑنے کا نام ہی تو ہے۔ اچھی سوچ کے ساتھ پھر ہم آگے ہی بڑھتی گئیں۔ اس خوشی کے ساتھ کہ کچھ اپنے ہمارے انتظار میں ہونگے۔آخر میں میں اپنی بھانجی ماہ جبیں‘ اس کے خاوند شفقت بھائی صاحب‘ بابر‘ یاسر‘ شمائلہ یاسر‘ ہما بابر کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے قدم قدم پر میرے اس سفر کو کامیاب بنایا او بہت سی خوشیوں سے نوازا۔ میں ان کی مہمان نوازی‘ ان کی باتوں‘ ان کے خلوص اور بے پناہ محبت کے تمام لمحات کو ہمیشہ یاد رکھوں گی۔انہوں نے اس سفر نامچہ میں جس طرح اپنوں کی آؤ بھگت‘ رشتہ داروں سے میل ملاقات‘ سیر و تفریح بیان کی اسی طرح لندن واپسی سے قبل کی دلگزاری نے انہیں جذباتی کیا بلکہ قارئین کا بھی دل بھر آیا۔قارئین بھی سوچ رہے ہونگے کہ اپنی بات جہاں سے شروع کی گئی تھی وہ کہیں ادھوری ہی رہ گئی‘ واقعی ۔۔۔۔۔۔ فرخندہ رضوی خندہ کا جو تعارف مجھے بھاتا ہے وہ ایک بہت ہی پیاری اور پیار کرنے والی بیٹی کا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ بہت ہی چاہنے والی اور چاہے جانے والی بہن کا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ بہت سی قدر دان اور اپنی مسکراہٹوں سے اپنے گھر کو جنت نظیر بنانے والی شریک حیات کا ہے اور بہت ہی شگفتہ مزاج ماں کا ہے ۔۔۔۔۔۔ میں بڑے وثوق سے دعویٰ کرسکتی ہوں کہ ان کے تمام جاننے والے ساتھی سہیلیاں‘ رشتہ دار‘ دوست احباب میں ایک قدر مشترک ہے کہ وہ سب ہی ایک بات سمجھتے ہیں کہ وہ ’’فرخندہ رضوی خندہؔ ‘‘ کے سب سے قریبی ساتھی ہیں اور فرخندہ ان کی سب سے بہترین دوست ہیں۔۔۔ کیونکہ فرخندہ کا سب کے ساتھ ملنا جلنا اور ان کا انفرادی سطح پر خیال کرنا ان کی خوشی غمی‘ دکھوں تکلیفوں کو اپنا سمجھنا ایک جیسا ہے ۔۔۔۔۔۔ شائد اس لئے کہ وہ رشتے جو انسان خود سے کبھی جدا ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ماں باپ بہن جب چھوڑ کر اس جہاں چلے جاتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں تو اپنے دل پر لگے درد اور دوسروں کے غم مل کر ایک عجیب سا ’’احساس‘‘ بیدار کرتا ہے اور وہ ’’احساس‘‘ اپنائیت‘ ایثار اور ایک دوسرے کی دعویٰ کا ہے جو ’’فرخندہ رضوی خندہ ؔ ‘‘ کی شخصیت کا ’’طرہ امتیاز‘‘ بن چکا ہے۔فرخندہ رضوی خندہ کا دنیا کے حسین ترین رشتہ ’’باپ‘‘ کے لئے لکھی جانے والی نظم ملاحظہ فرمائیں۔باپ(نظم)باپ کا رتبہ بڑا ہے باپ بھی ہے باوقارباپ ہے گھر کا محافظ‘ رحمت پروردگاراہل خانہ کے سروں پر باپ ہے اک سائباناس کے دم سے کوئی مشکل ہے نہ کوئی امتحاناہل خانہ کی حفاظت کا وہ ذمے دار ہےبیوی بچوں کی کفالت کا وہ ذمے دار ہےغم زمانے بھر کے کاندھوں پر اٹھا لیتا ہے باپاپنے بچوں کو مصیبت سے بچا لیتا ہے باپپرورش کرتا ہے بچوں کی وہ جی سے جان سےلڑتا ہے ان کے لئے آندھی سے طوفان سےخود ہے جاہل پھر بھی بچوں کو پڑھا لیتا ہے باپڈاکٹر‘ انجینئر بچے بنا دیتا ہے باپاس کے اس کردار سے ہے اس کا رتبہ اس کا نامباپ آخر باپ ہے‘ ہے باپ کا اعلیٰ مقامباپ کا جو دل دکھائے چین پاسکتا نہیںواضح ہے وہ جنت میں جاسکتا نہیںدنیا کے کسی بھی فکر و عمل و تخلیق سے وابستہ فن کار تخلیق کار‘ شاعر و ادیب کی تخلیقات و تصنیفات اور اس کی شخصیت کو کبھی الگ الگ پیمانے سے نہیں پرکھا جاتا بلکہ ہر تخلیق کار کی تخلیق کا حسن ہی یہی ہوتا ہے کہ اس میں اس کی اپنی ذات کاوش‘ فکر اور حساسیت کا عمل دخل ہو ۔۔۔۔۔۔ فرخندہ رضوی خندہؔ کی یہی فکر و حساسیت ان کے کلام کو دلگزار بناتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ان کی نظم باپ جو کسی تشریح و تعبیر کی محتاج نہیں ایسی ہی ایک خوبصورت کاوش ہے ۔۔۔۔۔۔ اس طرح ان کی یہ نظم ملاحظہ فرمائیں۔میری ماں مجھ سے جدا ہےپرورش میں اپنی ہستی تک مٹا دیتی ہے ماںاپنے بچوں کی مگر قسمت بنا دیتی ہے ماںسوچ کر بچوں کے پاؤں میں نہ چبھ جائیں کہیںسنگریزے جھک کے رستے سے ہٹا دیتی ہے ماںہائے صد افسوساب میں اپنی ماں سے ہوں جدانیند کی پریاں نہ جب بچوں کو لیں آغوش میںلوریاں بچوں کو گاگا کر سلا دیتی ہے ماںپھول جیسے بچے گرمی میں نہ مرجھائیں کہیںلیکے پنکھا ہاتھ میں ان کو ہوا دیتی ہے ماںہائے صد افسوساب میں اپنی ماں سے ہوں جداگھر بڑا ہو یا کہ چھوٹا فرق کچھ پڑتا نہیںاپنے دل میں اپنے بچوں کو جگہ دیتی ہے ماںرات میں تکلیف سے ہوں جب کہ بچے بیقراررات ساری آنکھوں آنکھوں میں بیتا دیتی ہے ماںہائے صد افسوساب میں اپنی ماں سے ہوں جداماں کی ممتا ایسا چشمہ ہے کہ جس سے سینچ کرتپتے صحراؤں کو بھی گلشن بنا دیتی ہے ماںدور ہوجاتی ہیں اکثر ساری ان کی مشکلیںہاتھ اٹھا کر جب بھی بچوں کو دعا دیتی ہے ماںہائے صد افسوساب میں اپنی ماں سے ہوں جداحقیقت تو یہ ہے کہ فرخندہ رضوی خندہ ؔ جیسی بیٹی‘ بہن‘ ماں بیوی‘ سہیلی اور درد دل رکھنے والی شخصیت اللہ پاک کی خاص کرم نوازی سے تمام اوصاف لے کر پیدا ہوتی ہیں او ر فرخندہ رضوی خندہؔ کے کلام و فکر پر غور کریں تو ان کی حمد و نعتؐ کے نذرانے ان کی اس بے کیف کیفیت سے بھی ہمیں متعارف کروائی ہے جو ان پر کرم خداوندی کی صورت میں موجود ہے۔ اس طرح حمد ملاحظہ فرمائیں۔حمدالتجا ہے میری بس یہ رب سےحمد منسوب ہو میرے رب سے ہو میسر مجھے بھی یہ سلیقہنام لوں میں تیرا پر ادب سےہو ازل سے جو تیری ثنا خواںکیا غرض ہو اسے روز و شب سےتیرے اوصاف کا ہو بیاں کیاذات پوشیدہ ہے تیری سب سےبے زبان کرسکے ذکر تیرایہ دعا مانگتی ہوں میں کب سےرحم ہو مجھ پہ بھی میرے مولامجھ کو نسبت ہے شاہ عرب سےبڑی ہی سادگی سے اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کرنے والی فرخندہ رضوی خندہؔ کی نعت شریف بھی ملاحظہ فرمائیں۔نعت شریفہے اعلیٰ و ارفع مقام محمد ﷺدل و جان صدقے بنام محمد ﷺمزہ آئے گا حشر میں میکشی کاملے گا جو پینے کو جام محمد ﷺرہو چین سے امن و محبت سیہے لازم ہمیں احترام محمد ﷺکئے جاؤ تقلید ان کی رفیقوہے رہنا اگر شاد کام محمد ﷺتھے مصروف خندہؔ وہ یاد خدا میںگزرتے یونہی صبح و شام محمد ﷺسبحان اللہ ماشاء اللہ نہایت ہی خوبصورت کلام ۔۔۔۔۔۔ دل میں اپنوں غیروں کے احساس کی لو رکھنے اور چہرے پر مسکراہٹ رکھنے والی فرخندہ رضوی خندہؔ جو بنیادی طور پر ایک عورت اور وہ عورت جو خود سے وابستہ ہر رشتہ کا حق ادا کرنے کے لئے ہر وقت صرف فکر مند ہی نہیں بلکہ باعمل رہتی ہیں۔ اپنے بنگلے کو گھر بنانے اور اس کی دہلیز سے لے کر ہر کمرے ہر کونے کو اپنی سلیقہ شعاری کی خوبصورتی سے سجانے اور ہر رشتہ کا مان بڑھانے والی فرخندہ رضوی خندہؔ جب اپنی بیٹی کی اولاد پیدا ہوتی ہے تو ان کا قلم بھی خوشی سے جھوم اٹھتا ہے وہ ’’قلم خندہ‘‘ کے عنوان سے اپنے کالم میں اپنے جذبات کچھ یوں بیان کرتی ہیں۔21 اکتوبر 2016ء میری زندگی کا خوبصورت دن طلوع ہوا۔ میں بہت ہی پیارے نواسے کی نانی بن گئی۔تیرے آنے سے محبتوں کےرفاقتوں کے ہر طرف چراغ جل اٹھےتیرا مسکرانا میرے ننھے فرشتےمیری پیاری بیٹی جیسا ہی تو ہےتیری خوشبو سے معطر ہوگیا آنگن اس کا ۔۔۔۔۔۔اک پل میں سارا منظر بدل گیاتیرے وجود کی تخلیق ہوئی میرا رشتہ بدل گیااسی طرح اس کالم میں انہوں نے اپنے اس ننھے فرشتے کی آمد پر خوبصورت مالا جیسے الفاظ پروتے ہوئے اختتام ان الفاظ میں کیا ہے۔آج میں نے جب اپنے نواسے کو اپنی گود میں لیا تو اس کی مسکراہٹ مجھے جنت کی فضاؤں میں لے گئی۔ میرا دل ان گنت خواہشات سے بالکل خالی تھا۔ ہم نے اس کا نام زکریا رکھا ہے۔میری آنکھوں کی تلاش ختم ہوکر رہ گئی میں سربجود ہوگئی‘ یااللہ تو ہمیں ہماری بساط سے بڑھ کر دیتا ہے۔ ہم ہمیشہ گلہ کرتے ہیں ان چیزوں کے کھو جانے کا جو ہماری زندگی سے تو بہت دور لے جاتا ہے۔ مگر یہ سوچے بنا کہ تو بہتر سے بہتر نوازتا بھی تو ہے ۔۔۔۔۔۔یہ دیتا ہے معنی پیام محمد ﷺرفیق خدا ہیں وہ شافی محشرماں کی ممتا کی مہک یاد آئی ہےدل میں بے ساختہ ایک نام آیاماں کا پُرنور سا مشفقچہرہ‘ یاد ہر روز سرشام آیافرخندہ رضوی خندہؔ گود میں اپنے نومولود نواسے کو لئے جہاں شکر گزاری کررہی ہیں وہاں ان کو اپنی والدہ کی یاد بھی اس خوشی ے لمحہ پرستا رہی ہے۔ بلاشبہ ’’ماں‘‘ کی ہستی اللہ کے بعد وہ ہستی ہے جو ہر سکھ اور دکھ کی گھڑی میں ’’شکر و صبر‘‘ دونوں کیفیات میں لازم و ملزوم ہے۔فرخندہ رضوی خندہؔ کی یہی رشتوں بھری مٹھاس جو ایک بیٹی‘ ماں اور ننھی سی نانو کی صورت میں موجود ہے ان کے اطراف میں موجود عزیز و اقارب کے رشتوں میں بھی رس گھولتے نظر آتے ہیں۔ اور سب سے خوبصورت یہ احساس کہ وہ جب اپنی بیٹی میں وہی خواص دیکھتی ہیں تو ان کا قلم اپنے ہی لئے اپنے جذبات کی کیفیت کچھ یوں بیان کرتا ہے۔میں خوش نصیب سمجھتی ہوں خود کو میری بیٹی نے اپنے سسرال کو ماں باپ کے گھر جیسا بنا دیا ہوا ہے ہر رشتہ کو دل و جان سے اپنایا اور عزت دی ہے۔ اس نے اپنی ساس ماں کی سالگرہ کی سرپرائز پارٹی اپنے گھر منعقد کی جس میں دیور جیٹھ‘ نند کے علاوہ اپنے جیون ساتھی کے تمام کزنوں کو دعوت دی۔میں سمجھتی ہوں کہ ماں باپ اگر اولاد کواچھی تربیت دیتے ہوئے اس بات کا احاطہ بھی کریں کہ جب بیٹی کی شادی کریں تمام رشتوں کو اپنانے اور ان کے تقدس کا خیال و احترام بھی اولین فرض ہے تو کوئی بھی رشتہ خراب نہیں ہوسکتا۔سبحان اللہ۔ ایک عورت ہونے کے ناطے فرخندہ رضوی خندہؔ نے اپنی زندگی کے وہ تمام تجربات‘ مشاہدات و نظریات جو انہوں نے اپنی والدہ سے تربیت کی صورت میں حاصل کئے ان پر عمل پیرا ہوکر اپنی زندگی کو جنت بنایا اور اپنی بیٹی میں وہ تمام خواص ان کی دلی تسکین کا باعث بنے ۔۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ میں ان کو بحیثیت شاعرہ‘ ادیبہ‘ قلم کر کسی ادبی کنبہ‘ قبیل دری سے مماثلت و تضاد کے سانچے میں لے جاکر ان کا ادبی وقار کتابوں‘ دیوانوں اور جرائد میں نہیں بلکہ گھر ہستی کی اس سلیقہ شعار عورت میں دیکھتی ہوں جو گھر‘ ادب اور ہر شعبہ کو اپنے سچے کھرے ایمانی نسوانی جذبات سے چار چاند لگا دیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔خوش رہیئے فرخندہ رضوی خندہؔ صاحبہ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو!عمرانہ کومل(ملتان)پاکستان

;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;

شاعر ، ادیب ،محقق ،صحافی ،مرثیہ گو،صفدر ہمدانی

میرے استاد صفدر ہمدانی کا نام کسی کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں ۔معروف شاعر،مرثیہ نگار ،ادیب ،صحافی ،ریڈیو براڈ کاسٹر، عالمی اخبار آن لائن کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی صاحب لاہور کے ایک علمی ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ایف سی کالج سے گریجوئشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم ایے کیا اور 1973میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہوئے ۔لاہور ریڈیو اور ریڈیو اسلام آباد کے علاوہ پانچ برس تک پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈیمی میں نئے آنے والے پروڈیوسروں کی تربیت بھی کی ۔ چار سال تک ریڈیو جاپان سے وابستہ رہے،ریڈیو ہالینڈ میں بحی کچھ وقت گزارا لیکن بائیس برس کا طویل عرصہ بی بی سی لندن کی اردو سروس میں گزارےایک شخص ایک نام اور کئی کام ۔۔۔ہزاروں کی تعداد میں شاگر د ایک ایسے مدرسے کا نام صفدر ھمدانی ہے ۔لفظ بے شمار مگر قلم کی نوک پر دَم توڑتے ہوئے مجھے کبھی بھی کسی کے لیئے اظہار خیال کرتے مشکل نہیں لگی مگر آج اِس معتبر شخصیت کے لیے کچھ کچھ گھبراہٹ سی ہے کیا میں یا میرا قلم انصاف کر پائے گا ۔ادبی سفر کے پچاس سے ذائد عرصہ اور طویل سفر ۔۔۔پچاس یا ساٹھ کا ہندسہ چھوٹا مگر سفر طویل اور تھکا دینے والا ۔صفدر ھمدانی صاحب بہت پیاری شخصیت کا نام دنیائے ادب میں تعارف کی ضرورت تو نہیں میں سب سے پہلے انکے ادبی سفر پر نگاہ ڈالنے اور اسکا ذکر کرنے سے پہلے چند لفظ ان سے اپنی ملاقات کے بارے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں ۔میری اور ان کی ملاقات کا سفر زیادہ طویل تو نہیں اٹھ دس سال تو پلک جھپکتے ہی گزر جاتے ہیں ۔جب تک میں ان سے ملی نا تھی اس وقت تک تو ایک خوف ساتھ تھا ،انٹر نیٹ کی دنیا سوشل میڈیاکے پلیٹ فارم سے پہلے تھوڑی سی معلومات ان کے بارے میں تھی ۔باضابطہ روبرو ملاقات ایک پیاری دوست ،شاعرہ افسانہ نگار ،کالم نگار جو کہ اسٹریلیا میں مقیم ہیں ڈاکٹر نگہت نسیم اُن کی دو کتابوں کی رسم اجرا لندن میں منعقد ہو رہی تھی میں وہاں مدعو تھی ۔۔صفدر ھمدانی صاحب وہاں موجود اس تقریب کی صدارت کر رہے تھے ۔۔ان کا کلام اور روبرو باتیں سننے کا اتفاق پہلی بار ہوا ۔ان کی بارعب ،گونج دار آواز کا ذکر تو سُنا تھا جب انہیں دیکھا اور سُنا تو کچھ حد تک میرا ڈر ختم ہو گیا ۔میں نے انہیں بہت پیار کرنے والی شخصیت پایا ۔اسی دوران میرے روحانی استاد خالد یوسف صاحب کا انتقال ہوا تھا ۔ایسے میں خدا تعالیٰ نے مجھے ان کے بدلے بہت پیاری شخصیت سے متعارف کروایا ،میرے قلم کی آواز جو مدہم پڑنے لگی تھی ان کی حوصلہ افزائی سے پھر سے طاقتوار ہونے لگی ۔۔پھر میں نے انہیں اپنا استاد تسلیم کیا اِن کی پیاری شخصیت کاہر پہلو میں نے بخوبی دیکھا ۔ان کی قابلیت میرے قلم میں کبھی سما نہیں سکتی لاکھ کوشش بھی کروں ۔یہ ایسے تخلیقی لوگ ہوتے ہیں کائنات کو حسین سے حسین بناتے ہی چلے جاتے ہیں ۔۔۔ایک ایسے ہی مدرسے کا نام صفدر ھمدانی ہے جن کے لاتعداد شاگرد جنہوں نے ان سے استفہادہ اور مستفید ہوئے ۔مجھے پہلے عالم و عارف کا مطلب معلوم نا تھا ،مجھے اپنے قلم کی طاقت بہت کمزور لگتی تھی پھر میری اکثر ان سے گفتگو ہونے لگی میں نے استاد اور شاگر د کا مطلب جانا جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ان دو رشتوں میں ڈر ہوتا ہے میں نے غلط ثابت کیا ۔یہ تو نہایت پُرخلوص و عزت و احترام کا رشتہ ہے ۔۔دائروں ،نقطوں اور تلاش کی پکڈنڈیوں پر نکلنے کے لیئے کسی راہبر کی ضرورت پڑتی ہے مجھے ان میں یہ تمام صفتیں ملیں ۔میں نے اپنی شاعری کی اصلاح لیتے فخر محسوس کیا میرا سیکھنے کا عمل پھر سے تروتازہ ہو گیا۔ان کی شخصیت کے پہلو سے نظر ہٹاؤں تو ان کے ادبی سفر پر نگاہیں ٹھہر سی جاتی ہیں ۔براڈ کاسٹر، صحافی تو ابھی جگہ مگر انکا شمار مرثیہ نگاروں میں بہت بلند مقام پر ہے ،بے شمار رباعیاں ،منقبت ، سلام اور غزل گو کمال کے ہیں ۔ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ 1974میں کفن پر تحریریں لاہور سے شائع ہوا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت (فرات کے آنسو) مرثیوں کا مجموعہ ،نور کربلا ،سفرنامہ تہران گرعالمِ مشرق کا جنیوا ، عطائے رضا شائع ہوا ۔انہوں نے ابتدا غزل سے کی مگر مرثیہ گوہی کو ہی چُن لیا ۔یوں تو ان کی ساری شاعری مولائے کائنات کے ذکر کرتے ہوئے قلبی گوشوں کو سکون و تقویت بخشتی ہے ۔وہ غزلیں ،سلام ،رباعیات بھی بے انتہا اچھی اور خوبصورت لکھتے ہیں ۔ہر مشکل صنف کا انتخاب کرنے میں کمال رکھتے ہیں ۔ان کی کچھ تصانیف پڑھنے کی سعادت مجھے نصیب ہوئی ہر بار ایک نئی فکر اور نئے زاویےکے ساتھ اِس سے مستفید اور محظوظ ہوتی گئی ۔بلاشبہ پرانے اور جدید مرثیہ نگاروں میں صفدر ھمدانی کا مقام بلند ہے ۔شاہد ہی کوئی انکے کلام کا صحیح احاطہ کر پایا ہو ۔میں بطور شاگر د جتنا جان پائی اتناہی عرض کرنے کی جسارت کروں گی ،شاعری ان کو ورثے میں ملی ۔میرا مشاہدہ یہی ہوا کہ ان کی شاعری باکمال اور عمدہ لفظوں کے انتخاب سے لبریز ،آسان تراکیب ۔تشبہات سے کام لیتے ہوئے گہرے معانی کو باآسانی بیان کرنا ،پڑھنے اور سننے والوں کی سماعتوں سے ٹکراتے ہوئے دل میں اُترجاتے ہیں ۔۔مثلاَ ایک رباعی میں استعمال کی گئی تشبیہات۔۔خونِ اصغر سے فلک آج بھی رخشندہ ہےصورتِ رنگ شفق خون بھی تابندہ ہےکوئی بھی لیتا نہیں آج کہیں نام ِ یزیدککو بکُو نام ِ حُسین ابن ِ علی زندہ ہےان کی اعلیٰ ظرفی یہ کہ شہرت پرستی سے ہمیشہ دور اور سچے تخلیق کار کی طرح خیالات میں مستغرق رہے انہوں نے بہت سے ایسے جذبوں اور احساسات کو شاعری کی زبان عطا کی جنہیں اِن سے قبل اِس قدر خوبصورتی سے کم ہی بیان کیا گیا ہے ،انکا ہر کلام خاص طو ر پر ادب کا سرمایہ ہے ۔فکری سوچ سے لبریز شاعری میں خیال اور سوچ کا مختلف انداز منفرد تراکیب کے ساتھ یکجا ہو کر احساس کی شدت پیدا کرتا ہے ۔ایک بڑا شاعر انسان اور اسکے حالات کے ساتھ صرف ہمدردی کا اظہار نہیں کرتا بلکے وہ اپنی شاعری سے ہمارے دلوں میں ایسا پاکیزہ ہیجان پیدا کرتا ہے جو ہمیں بنی نوع انسان کے ساتھ مہر و محبت کے رشتوں کو اور بھی استوار کرنے لیئے آمادہ اور مستور کر دیتا ہے ۔۔۔میں اپنے استاد محترم صفدر ہمدانی کو ایک شاعر ہی نہیں ایک مصور ،بڑا مجسمہ ساز پایا جو درد و احساس کو یک جا کرنے کی مہارت رکھتا ہے ۔۔ان کا اردو زبان وادب کے کئی دھاروں اور رویوں کا قربت سے مشاہدہ کیا ہے ،مشاعروں میں نہیں جاتے انکا کہنا ہے وقت کا زیاں ہے اس کے باوجود شعرو ادب کے لیئے اپنے ذہن کے دریچوں کو ہمیشہ کھلا رکھا اور زمانے کے حالات و معاملات سے نہ صرف واقف رہے ۔سرد و گرم حالات کا مقابلہ اپنے قلم سے نکلے لفظوں میں اِس کی تپش محسوس کی ۔انکے کلام سے قدم قدم پر تازہ امکانات کا سراغ ملتا ہے ،لفظوں میں بے پناہ گہرائی ،ہر رنگ میں ڈھالنے کا ہُنر رکھتے ہیں ۔میں کافی عرصے سے چاہتی تھی ان کے اور اپنے رشتے جو کہ محبت عزت میں بندھا معتبر سا رشتہ ان کی شخصیت اور انکے ادبی سفر کی کچھ نا کچھ روداد لکھوں ۔اکثر دیکھا گیا ہے جب ہمارے رشتے ہمارے ساتھ نہیں رہتے ۔داغ مفارقت دے جاتے ہیں تب ہم ان کی شان میں پُل باندھتے ہیں ۔ان کی زندگی میں چند لفظ ان کے لیئے لکھتے نہیں بعد میں صفحے کالے کرتے ہیں وہ کس کام کے ۔۔۔ایسا میرا سوچنا ہے ۔میں اپنے فرض میں پوری اُتری یا نہیں مگر اپنے دل سے کیا وعدہ ضرور پورا کر ڈالا ہے ۔۔۔ان کے لفظ شاعری کے سمندر میں زندگی کی حقیقت بن کر ہمیشہ تیرتے ،کبھی گوہر اور امید کی کرنوں میں روشن رہیں گے۔۔انشااللہ ۔بہت سی دعا کے ساتھ اللہ پاک انہیں صحت و تندرستی والی زندگی سے نوارے رکھے ۔۔

فرخندہ رضوی

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

مصنفہ (فرح ملک )گلاسگو اظہار خیال ( فرخندہ رضوی) ریڈنگ (انگلینڈ )

اِک لمبی جدائی کا بہاؤ سمندر جیساکہتے ہیں خیالات جب بکھرنے اور دل بے چین ہونے لگے تو کتاب کا مطالعہ خیالات کے مدوجزر پر قابو پا لیتا ہے ۔پھر کسی اور دنیا کے دروازے کھلنے اور ایسی کہاوتیں سو فیصد خود پر پوری اُترنے لگتی ہیں میرے جیسے تخلیق کار ہمیشہ پرواز میں رہتے ہیں ۔قلم کی طاقت کو آزمانا ،آرٹ کی تکمیل سے بُرش سے کھیلنا اور انگلیوں کی جُنبش سے سارا وقت کمپوٹر سے کھیلنا ،یہ شوق پرانے ہیں لکھنے کا عمل اچھی سوچ کو جنم دیتا ہے ،کتابوں سے محبت تو بچپن و لڑکپن کی حدیں پھلانگتی ہوئی جوانی سے بڑھاپے کی سٹرھیوں پر قدم رکھ چکی ہے ۔کہتے ہیں بڑھاپے میں انسان کمزور ہوجاتا ہے مگر قلم و سوچ کا تجربہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اور طاقتوار و مضبوط ہونے لگتا ہے ۔ایسی ہی محبت میں کتابوں سے کرتی ہوں پہلے وہ کتابیں جنہیں میں خریدتی ہوں انکا مطالعہ مجھ پر فرض ہو جاتا ہے ۔دوسری اُن کتابوں کا جو بہت محبت و احترام سے میرے قریبی دوست پوسٹل ایڈریس سے مجھے ارسال کرتے ہیں میرا ایمان ہے میں شکریے کی ادائیگی میں اُن کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد چند لفظ اپنے خیالات کے جو تحریر کرتی ہوں انہیں ہدیہ تشکر کے ساتھ پیش کرتی ہوں ۔۔۔۔کچھ عرصے سے ویسے یہ سلسلہ میں نے منقطع کر رکھا تھا کیونکہ چند ادیب و شاعر اس محنت کا حق چند لفظ شکریے میں کہنے کی بجائے احسان سمجھ کر پڑھتے ۔ایک ہفتے پہلے بہت پیاری دوست جو کہ گلاسگو (سکاٹ لینڈ ) میں مقیم ہیں انہوں نے اپنا پہلا شعری مجموعہ(اِک لمبی جدائی ) بہت محبت سے مجھے ارسال کیا،حالانکہ اس سے پہلے پاکستان پر طویل سفر نامہ کتابی صورت میں شائع کروا چکی ہیں ،میں بھی اپنی کتاب کی اشاعت میں مصروف ہونے کی وجہ سے اُس کتاب پر اظہار خیال نا لکھ سکیکافی عرصہ گزرجانے کے بعد مجھے مناسب نا لگا اور دل و ذہن نے اجازت ہی نا دی کہ اُس پر کچھ لکھوں ۔فرح ملک پاکستان میں ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئیں اپنے ملک میں ہی ماسٹر بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم۔بی۔اے) تک تعلیم حاصل کی ۔ہومیوپیتھک ڈاکٹرہونے کے ساتھ ساتھ فلپائن اور سری لنکا کے سرٹیفکیٹ کورسز کئے۔پچھلے بیس سال سے یوکے میں مقیم ہیں ۔میرا اور ان کا تعارف ۲۰۰۹ میں کمپوٹر کی دنیا سے شروع ہوا ۔فون پر کبھی کبھی بات بھی ہونے لگی ۔پھر ۲۰۱۲ میں مجھے گلاسگو (سکاٹ لینڈ )میں عالمی مشاعرے میں شرکت کرنے کا موقع ملا تو وہیں فرح ملک سے میری پہلی روبرو ملاقات ہوئی ۔لگا فون سے نکل کر ہم آمنے سامنے آکھڑی ہوئی ہیں بہت اچھا لگا ان سے مل کر ۔مشاعرے کے بعد میرا دو دن کا مزید وہاں ہوٹل میں قیام تھا ۔۔۔پھر وہ دن ہمارے ایک ساتھ گلاسگو کی سیر میں گزرے ۔اس خوبصورت سفر اور گلاسگو کی سیر میں وہاں کے بہت اچھے شاعر امتیاز گوہر اور صفدر جعفری اہم شخصیت کا نام نا لینا نا لکھنا سب سے بڑی ناانصافی ہو گی ۔۔اس خوبصورت گزرے وقت کا لمس ابھی تک ذہن کے ہر گوشے کو معطر کرتا ہے ،فرح ملک اور گوہر امتیاز کے ساتھ بڑا اچھا وقت گزرہ جس میں زیادہ تر ہماری گفتگو ادبی حوالے سے رہی ساتھ ساتھ ہم نے گلاسگو کی خوب سیر کی ۔فرح ملک ؔ کی شخصیت کو سمجھنے کا جتنا وقت میسر آیا میں نے اسے پُرخلوص و محبت کرنے والی نہایت مخلص،مسکرالمزاج دوست پایا ۔سو فیصد تو کسی کی شخصیت کی عکاسی تو نہیں کی جا سکتی مگر جتنا وقت گزرہ اُس کی یادیں آج بھی مسرور کرتی ہیں ۔۔۔ٓآج میرے سامنے فرح ملک کا پہلا شعری مجموعہ اِک لمبی جدائی موجود ہے کتاب کا سرورق نام کی مناسبت سے اچھا ہے ۔دریا پر تعمیر ایک لمبا پُل اس بات کی گواہی دیتا ہوا کہ اپنے دیس سے پردیس کی مسافتوں کا منظر کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔اس کتاب کی اشاعت کس پبلیشرکے تعاون سے تکمیل تک پہنچی کیونکہ عموماََ کتاب کے سرورق یا اختتامی صفحات پر مکمل تفصیل درج ہوتی ہے ۔مصنفہ کی زبانی کلامی معلوم ہوا کہ ان کے دونوں بیٹوں نے اِس شعری مجموعے کو شائع کروانے میں تعاون کیا مگر اشاعت کے سلسلے میں بلکل انجان تھے ،خیر اس شعری مجموعے 249249 اِک لمبی جدائی ،، کا انتساب فرح ملک جو کہ کتاب کی مصنفہ ہیں نے اپنے محترم والد صاحب کرم شاہ علوی اور والدہ محترمہ رحمت بی بی کے نا م کیا ہے ۔اِس سے پہلے کہ کتاب کے اندر جھانکتی یہ بہت اچھا لگا کہ والدین کی محبتوں کو کس کس تحفے سے نواز سکتے ہیں ۔ٓزیادہ لوگوں سے فرح ملک نے کتاب میں رائے لینے سے اجتناب کیا ہے ۔ آرا میں پروفیسر قیصرہ علوی صاحبہ اورانجم خلیق نے اظہار خیال کیا ہے ،پیش لفظ میں فرح ملک کہتی ہیں ایک بہت اچھے بزرگ شاعر نے میرا کلام پڑھنے کے بعد داد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب پڑھنے والوں میں مقبول و گھر کرے گئی اللہ کرے ایسا ہی ہو آجکل ناقدری دنیا میں یہ صیغے کار آمد ہو جائیں تو ادیب و شاعر اور زیادہ محنت کریں لگیں گے ۔۔۔حمد باری تعالیٰ سے بقاعدہ اِک لمبی جدائی کا آغاز کیا گیا ہے سبحان اللہ !دامن میرا خالی دیکھاپھول دو اُس میں ڈالےچاندنی بن کر ٹھنڈک بخشیمَن کے ہیں یہ اُجالےخوبصورت عقیدت ،دل کش لب و لہجے میں شاعرہ نے خداِ برتر کا شُکر ادا کیا ،منقبت میں سیون لال شہباز قلندر سے یوں مخاطب ہیں ۔عرش پہ نوبت کے بجنے کی سنے جہاں آوازلال علی جب مانگے رب سے برسے نور پھوارآل نبی اولاد علی ہے حسنؓ ،حسین کے روپلاج رکھے تُو سب کا سائیں سب کا تُو غم خوارلکھاری کی بات سے مکمل اتفاق کرنا اس لیئے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ لکھنے کا عمل کوئی آسان کام نہیں اکثر ہی لفظوں کا کمال آسانی سے حیرت میں ڈال دیتا ہےبے ساختگی اور سلسلہ بدرجہ اُتم موجود ہو تو اشعار خودبخود داد کے طلب گار ہونے لگتے ہیں ۔اسی طرح فرح ملک صاحبہ کی شاعری کو پڑھنے کا بے شک پہلا موقع ہے نا کبھی باضابطہ طور پر مشاعرے میں سُنا نا ہی دیکھا ،کبھی کبھار فیس بک میں کسی مشاعرے میں کلام پڑھتے ہوئے کلِپ دیکھنے اور سُننے کا اتفاق ہوا ۔ایک خوبصورت غزل کے اشعار میں اپنے جذبوں اور احساسات کو شاعری کی زبان عطا کچھ یوں کی ہے ۔۔دِل کو خیال ِ یار سے بہلا کے رو پڑےہم اپنے دِل کو آپ ہی سمجھا کے رو پڑےجانے کو کوئے یار کو بیتاب تھے بہتاُس بُت کدے کو سامنے ہم پاکے روپڑےجب تھے برہنہ پا تو یہ پتھر بھی گرم تھےیکدم مِلا جو سایہ تو گھبرا کے رو پڑےاِن کے خیالات اور سوچ کا مختلف انداز منفرد تراکیب کے ساتھ یکجا احساس شدت پیدا ہی کرتا چلا گیا ۔غزلیں ،نظمیں شاعر کی داخلی کیفیات کا ایک خوبصورت آئینہ ہوتی ہیں ،شاعر اسی آئینے میں خود کو بار بار دیکھتا ہے لکھتے ہوئے جس اذیت سے وہ گزرتا ہے وہی جانتا ہے تب غزل کی تخلیق ہوتی ہے ۔ایسی ہی تیس غزلیں ،سترہ نظمیں اور حمد و نعت کا خزانہ اس کتاب میں موجود ہے ۔شاعر کو اپنا ہر کلام بچوں جیسابے حد عزیز ہوتا ہے ،میں نے سرورق سے اختتامی صفحے تک پڑھنے کا سفر جاری رکھا میں نے آج تک کسی کتاب پر بینا پڑھے کچھ نہیں لکھا میں سمجھتی ہوں ایک مصنف کے ساتھ سرا سر بے ایمانی ہوتی ہے کہ دوستی کی آڑھ میں تعریف و تنقید کا سلسلہ باندھا جائے ۔۔فرح ملک کی اِس کتاب اِک لمبی جدائی کا مطالعہ دل سے کیا مجھے لگا مصنفہ کو اپنی سَر زمین سے دیار غیر میں بسنے میں کتنا کھٹن فاصلہ طے کرناپڑا،ایک زمین جہاں اُس کی شاخیں زمیں میں پیوست اور دوسری وہ زمین جہاں کئی بہاریں سالوں کی چادر میں لپٹی ہوئیں ۔؂جس طرح اس غزل میں کچھ یوں کہتی ہیںپرندوں کی اُڑانوں میں سبق آزادی کا پہناںزمیں و آسماں اپنے ، ہے گھر اپنا جہاں اپناجہاں چاہیں قدم رکھ دیں جہاں چاہیں نظر رکھ لیںفلک اپنا زمیں اپنی ہے زر اپنا زماں اپنافرح ملک ؔ نے اپنی غزلوں میں جو اخلاقی اور معاشرتی سچائیاں بیاں کی ہیں وہ فکرو خیال کے مختلف زاویوں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کے شعری منصب کو بھی احاط�ۂ واقفیت میں لا کھڑا کرتی ہیں ۔۔اسی طرح ایک غزل کے اشعار اپنی طرف متوجہ کرتے ہی چلے جاتے ہیں ۔۔نظر آیا کرو ہم کو خدا کیوں بن کے بیٹھے ہویہ زیبا تو نہیں تجھ کو ہمیں ناشاد کر کے یوںاگر تُم جا رہے تھے یاد اپنی ساتھ لے جاتےملا ہے تُم کو کیا جانم ہمیں برباد کر کے یوںدعائیں روز کرتی ہوں ترے آباد رہنے کیتمہیں حاصل بھی کیا ہو گا ہمیں آزاد کر کے یوںغزلوں کے بعد میرا سفر نظموں کے شہر سے بھی ہوا ،بلاشبہ مجھے غزل سے زیادہ خود بھی نظم لکھنا زیادہ پسند ہے ۔۔فرح کی نظمیں بھی اپنی اپنی جگہ ایک مقام رکھتی ہیں مگر ایک نظم بے حد اچھی لگی ۔جدید نظم کی طرح محض الفاظ کے انبار نہیں مثلاََ ۔۔وہ خواب تھایا کوئی حقیقتکہ ماں کو دیکھاخوشی خوشی وہ کہہ رہی تھییہ گھر ہے میراسجا سجایاآڑھائی گز کا ۔۔۔ہے اِس کو میں نے ہیخود سجایا ۔۔۔۔۔۔نہ باپ ،شوہریا بیٹے کا گھریہ گھر ہے میرا ۔۔۔۔۔کہ اِس پہ لکھا ہے نام میراقبر کا گھر ہے مقام میرابس پھر اِس نظم کے بعد میرے قلم کی رفتار خودبخود آہستہ ہی ہوتی چلی گئیاِس کتاب میں کچھ پنچابی کا بھی کلام شامل کیا گیا ہے ۔اِک لمبی جدائی فرح ملک جو کہ اس کتاب کی مصنفہ ہیں اِس تخلیق کار کا سرمایہ ہے یہ کتاب ،اللہ کرے اُس بزرگ کی دعا سچی ہو جائے ،فرح ملک کی اس کتاب کو بہت پذیرائی ملے قلم کی طاقت میں اضافہ ہو ۔غزل کا مزاج اپنا اور نظم کی خوبصورتی اپنا انداز رکھتی ہے ۔۔جس طرح میرا اظہارخیال کا طریقہ و انداز اپنا ہے ،میں سمجھتی ہوں قلم کا بہاؤ سمندر جیسا ہو تو سفر جاری و ساری رہتا ہے۔اجازت کے کلمات ادا کرنے سے پہلے میری بہت سی دعائیں فرح ملک صاحبہ کے لیئے کہ وہ اور خوبصورت غزلیں اور نظمیں تخلیق کرتی رہیں ادب کی دنیا میں ان کی روشنی چاند ستاروں سی ہو ۔کامیابی و کامرانی کی بیشمار دعاؤں کے ساتھ ۔۔مجھے اپنی دعا میں یاد رکھیے گا میری اس تحریر کا ہر لفظ ایمانداری کی ضمانت ہے ۔۔اللہ نگہبان خیر اندیش فرخندہ رضوی (ریڈنگ) انگلینڈ

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

SHARE

LEAVE A REPLY