سب سے پہلے تو جشنِ آزادی سب کو مبارک،پھر نئی پارلیمنٹ کی مبارکباد اور عیدالا ضحیٰ کی مبارکباد ۔کہ یہ جشنِ آزادی ایک با برکت اور قربانی دینے کے مہینے میں ہم سب منا رہے ہیں ۔وہ قربانی جو اللہ کی راہ میں ہے بغیر کسی نمود و نمائش کے ۔ ساتھ ساتھ حاجیوں کو حج مبارک اس دعا کے ساتھ کہ اللہ اُنکی تمام عبادات اور قربانی کو قبول فرمائے ۔آمین
اس ماہِ اگست میں ہمیں نہ جانے کیوں خود بہ خود اپنے اندر ایک جوش اور ولولہ نظر آتا ہے ۔ہمیں اپنے بزرگوں کی سُنائی داستانیں بھی یاد آتی ہیں جو ہمیں لمحہ بھر کو دکھی ضرور کرتی ہیں لیکن ہم سوچتے ہیں کہ صلہ قربانیوں ہی کا ملتا ہے، جو ہمیں ایک پاک وطن ایک آزاد وطن کی صورت نصیب ہوا ۔ایک ایسے قائد کے ہاتھوں جو ظلم کے خلاف جبر کے خلاف کھڑا ہوا جو اپنے عقائد کے لئے کھڑا ہوا جو ایک شاعر کے خواب کو تعبیر دینے کا وصیلہ بنا اللہ کی رحمت اور با برکت مہینے میں ۔ اللہ اس ارضِ پاک کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور اس سے محبت کرنے والے اس کی حفاظت کی زمے داری نبھاتے رہیں آمین
ہمیں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد بہت سوں کو ہضم نہیں ہوا وہ پاکستان آتو گئے مگر اُن کے اندر کہیں غلامی ابھی تک موجود بھی ہے اور پنپ بھی رہی ہے کیونکہ ہمارے دشمن صرف باہر نہیں اندر بھی موجود ہیں جو ہمارے ملک کا کھا کھا کر باہر گئے وہاں بسَ گئے اور اب وہاں بیٹھ کر اُن ممالک کا بیانیہ بیچ رہے ہیں جو ہماری ترقی چاہتے ہیں نہ ہماری بقاء ۔یہ سارے وہ ہیں جو اس ملک سے نہیں اپنے مفادات سے غرض رکھتے ہیں ۔ہمیں ان سب کو آشکارا کرنا چاہئے ۔ہم نے اپنے ایک سابقہ سفیر کی تھنک ٹینک میں باتیں سنیں اور سوچ میں پڑ گئے کہ یہ پاکستانی ہیں جو پاکستان ہی میں بنے پروان چڑھے اور اس جگہ پہنچے جہاں آج بیٹھے ہیں اور پاکستان ہی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ۔ایسے لوگ ہمارے ملک میں بھی ہیں چاہے مولوی ہوں یا عام ۔بہت پڑھے لکھے ہوں یا جاہل لیکن اکثر یہ ناسور پھٹتے اور اپنا مواد نکالتے رہتے ہیں ۔
لیکن ہمیں خوشی ہے کہ ایک جوانوں کا ٹولہ نکلا ہے نئی امید کے ساتھ کہ نمٹینگے ان سب سے ،اور اپنے ملک کو آزادی دلائین گے ان فرسودہ سوچوں سے جنہوں نے اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا ۔اسمبلی میں جو مناظر نظر آئے وہ بہت خوش آئیند بھی تھے اور اطمینان کا باعث بھی کہ وزیرِ اعظم بننے والی شخصیت سب کی ہوگی کسی ایک پارٹی کی نہیں ،یہ ایک امید کی کرن ہے جو بڑے عرصے بعد محسوس ہوئی ہے ۔جس وقار کے ساتھ سب نے حلف لیا اور اسمبلی کو عزت بخشی اس معیار کو قائم رکھنا حذبِ اقتدار اور حزب۔ مخالف دونوں کا کردار ہوگا ۔یہ سب ہمارے ہیں ہمیں ان کی مدد بھی کرنی ہوگی کہ ان کی اچھی باتوں کو بڑھاوا دیں اور غلطیوں کی نشاندہی کریں تاکہ ایک فعال اور سر گرم اسمبلی نصیب ہو ۔یہ پوری قوم کی خواہش ہے کہ زبان کا خیال رکھا جائے ۔تہزیب کے دائروں سے باہر نہ نکلا جائے ۔ملک کے لئے کام کیا جائے اور قانون سازی پر زور دیا جائے ملک ہم سب کا ہے ۔
راہ میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کی جائینگی کیونکہ پیر دُم پر پڑا ہے لیکن اب جو کوئی بھی ملک کے کسی بھی مفاد کا مخالف ھوگا کُھل کر سامنے آجائیگا ۔جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنہوں نے کہا تھا حلف نہیں اُٹھانے دینگے ،اسمبلی میں نہیں جانے دینگے وہ سب ہی دہائیوں بعد اسمبلی میں نہیں ہیں ورنہ تو سب نے سیٹوں پر اجارہ داری کر رکھی تھی ۔اب تو ہمیں لگتا ہے کہ ایک اور راہ بھی دکھائی جائیگی کہ جو کام نہیں کرے گا وہ نکل جائیگا ایوانوں سے ۔
اب میڈیا کو بھی تھوڑا اپنا معیار بدلنا چاہئے ۔بجائے پچھلی باتیں دکھا نے کے اب نئی باتیں کرنی چاہئیں ۔یہ دو ہزار اٹھارہ ہے توانائی کا دور ٹیکنالوجی کا دور ۔اب اس میں آگے بڑھنے کے لئے اپنے پروگراموں میں سیاست کے علاوہ بھی موضوعات کو جگہ دینی چاہئے ۔ہفتے میں ایک پروگرام طالبعلموں کے معاملات پر ۔اُنکی مشکلوں پر ۔اور اُنکی کمزوریوں پر کرنے چاہئیں ۔نصاب پر بات کرنی چاہئے کہاں کیا تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔کون سے شعبے تعلیمی نظام میں شامل کئے جانے چاہئیں تاکہ بچوں میں کچھ سماجی شعور بھی اُجاگر ہو اور جو بچے تعلیم میں آگے نہ جاسکیں وہ کسی نہ کسی مہارت کو حاصل کر کے اپنی روزی روٹی کمانے کے قابل ہو سکیں ۔ہم نے یہاں دیکھا کہ بڑھئی سے لے کرا ینجینئر تک کی تعلیم کے لئے گیارہویں جماعت ہی سے بچے کو بھانپ لیا جاتا ہے اور پھر وہ جس شعبے میں جانا چاہے اُس کو حق ہے ۔ایلیکٹرشن بننا چاہے تو بن سکتا ہے ۔ایکٹنگ کرنا چاہے تو اس میں اپنا کیرئیر بنا سکتا ہے ۔لیکن ہم نے بچوں کو اپنی سوچ کے نیچے دبا کر بھی مشکل میں ڈال رکھا ہے ہم اُسے صرف اور صرف ڈاکٹر اور انجینئر وکیل اور جج دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے بچوں کی قدرتی صلاحیتوں کو ہم دبا دیتے ہیں اور وہ پانچ سال یا اُس سے زیادہ بھی ڈاکٹری پڑھنے کے بعد یا تو شو بز میں نظر آتا ہے یا اینکر بن جاتا ہے ۔لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ اگر اُس سیٹ پر کوئی واقعئی ڈاکٹر بننے والا داخلہ لیتا تو ایک ڈاکٹر کی کمی نہ ہوتی ۔۔۔۔
ہمیں غلط بالکل نہ سمجھا جائے ڈاکٹر اس لئےمثال کے طور پر سامنے آگیا کہ ہم آج کل ٹی وی ٹاک شوز زیادہ دیکھ رہے ہیں ۔ہمارا خیال صرف اتنا ہے کہ اگر ہم تعلیم کے معیار پر توجہ کر لیں تو ہمیں ہر شعبے میں اچھے اور مہارت رکھنے والے لوگ مئیسر آجائینگے ۔تھوڑی سی توجہ دی جائے اور اپنی سوچ کو لگے بندھے ماحول سے نکالا جائے تو بہت کچھ بہتری کی جاسکتی ہے ۔با شعور قومیں اپنے شہریوں کے ہر ہر معاملے کی زمے دار ہوتی ہیں لیکن سب کچھ حکومت پر ہی نہیں چھوڑنا چاہئے جن شعبوں میں ہم بہتری لا سکتے ہیں ان میں ہمیں اپنا حسہ ڈالنا چاہئے کہ سب پاکستانی ہیں اور پاکستان ہم سب کی جان ہے ۔
اللہ موقعہ دیتا ہے لیکن اگر اُسے ضائع کردیا جائے تو قصور وار ہم سب ہونگے ۔اس سے بہتر ماحول شاید پھر نہ ملے جب سارے ہی کُھل کر سامنے آرہے ہیں کہ کون ملک کے لئے سوچ رہا ہے اور کون اپنے لئے ۔اگر ملک ہے تو ہم سب بھی ہیں اس لئے پہلے ملک کو سامنے رکھیں پھر اپنا فائدہ دیکھیں ۔اسی میں بھلائی ہے ۔
ہم سب کو اجتماعی طور پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ایلیکشن خیریت سے ہوئے اور اب اسمبلی بھی وجود میں آگئی ۔ اور اپنی غلظیوں کی معافی بھی مانگنی چاہئے ساتھ ہی عبرت بھی پکڑنی چاہئے کہ سب کچھ دنیا میں ہی رہ جانا ہے اس لئے جواب دہی کے خوف کو خود سے الگ نہیں کرنا چاہئے یہ بے خوفی ہی ہمیں بد دیانتی اور برائی کی طرف کھینچ لے جاتی ہے اور ہم وہ مناظر دیکھتے ہیں جو ہمیں انتہائی دکھ میں مبتلا کرتے ہیں کل نواز شریف کو بکتر بند گاڑی میں دیکھ کر صرف ایک سوچ دماغ میں آئی کہ اگر سچ بولتے تو شاید اس مشکل میں نہ ہوتے ۔جب اپنے اوپر عوام کا قرضہ ہو تو بچ نکلنا ہر دفعہ آسان نہیں ہوتا ۔کیا کام آرہی ہے وہ دولت جس کے لئے آپ نے جھوٹ بولے ۔کیا سہپارا دے رہے ہیں وہ فلیٹ جنہیں آپ نے نہ جانے کس طرح بنایا ۔ کیا ساتھ دے رہے ہیں وہ بیٹے جن کے لئے آپ نے یہ دولت جمع کی ۔اس تمام معاملے میں ہم سب کے لئے عبرت ہے کہ اللہ کا خوف دل میں رکھیں اور ہر معاملے میں اپنی زات کو پیچھے اور ملک کو آگے رکھیں ۔خالی ہاتھ جانا ہے سب کچھ یہیں رہ جانا جو ساتھ جائیگا وہ ہیں اچھے اعمال جب تک مہلت ہے اچھائی کما لو کہ وقت کا پتہ نہیں ۔۔۔سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارہ
اللہ ہم سب کو نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY