عالمی اخبار کے تخلیق کاروں کے قافلے میں شامل
*تعارف
_________________________
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد.
مضمون نگار روزنامہ جنگ کراچی،
مضمون نگار روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین کراچی ،
کالم نگار روزنامہ امن کراچی
کالم نگار روزنامہ جرُات کراچی
ڈرامہ نگار، صداکار ، مضمون نگار، براڈکاسٹر ریڈیو پاکستان حیدرآباد،
محقق،موٹیویشنل اسپیکر،ماہر تعلیم، ماہر بین الاقوامی تعلقات عامہ، بیورو چیف حیدرآباد ماہنامہ اطراف کراچی
کو ادارتی بورڈ اور قارئین کی طرف سے خوش آمدید کہ آپ عالمی اخبار میں مختلف موضوعات پر لکھیں گے
صفدر ھمدانی، مدیر اعلیٰ، عالمی اخبار، لندن۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
*تعلیم پر قومی سرمایہ کاری، برین ڈرین اور پاکستان کے مستقبل کا سوال*
برین ڈرین انگریزی زبان کی اصطلاح ہے، جو دو الفاظ سے مل کر بنی ہے۔ Brain کے معنی دماغ، ذہانت یا ذہین افراد، جبکہ Drain کے معنی اخراج یا نکاسی کے ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد کسی ملک کے تعلیم یافتہ، ذہین، ماہر اور ہنرمند افراد کا بہتر مواقع کی تلاش میں دوسرے ممالک منتقل ہونا ہے۔ اردو میں اسے ’’ذہین اور ہنرمند افراد کا بیرونِ ملک اخراج‘‘ یا ’’ملک سے صلاحیتوں کا انخلا‘‘ کہا جاسکتا ہے۔یہ اصطلاح 1950ء کی دہائی کے اواخر اور 1960ء کی دہائی کے آغاز میں معروف ہوئی، خصوصاً برطانیہ کے سائنس دانوں اور ماہرین کی امریکہ منتقلی کے تناظر میں۔ 7 جنوری 1963ء کو برطانوی اخبار ’’ایوننگ اسٹینڈرڈ‘‘ میں اس کا استعمال درج کیا گیا۔ میتھیو گوڈون، جین گریگوری اور برائن بالمر نے اپنے 2009ء کے تحقیقی مقالے میں اس اصطلاح کی تاریخی بحث کا جائزہ لیا۔ اسی دور میں برطانیہ کی رائل سوسائٹی نے بھی سائنس دانوں کی بیرونِ ملک منتقلی پر رپورٹ شائع کی۔پاکستان کے لیے برین ڈرین ایک اہم قومی مسئلہ ہے، کیونکہ ڈاکٹروں، انجینئروں، سائنس دانوں، اساتذہ، محققین اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے ماہرین کی تعلیم و تربیت میں خاندانوں کے ساتھ قومی وسائل بھی صرف ہوتے ہیں۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر جامعات، پیشہ ورانہ تربیت اور اعلیٰ تحقیق تک اس سرمایہ کاری کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو ملک کی معیشت، اداروں اور معاشرتی ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔
تعلیم پر ہونے والے اخراجات کا قومی فائدہ اسی وقت بڑھتا ہے جب تربیت یافتہ افراد اپنی صلاحیتیں ملکی ترقی کے لیے استعمال کریں۔ تاہم بیرونِ ملک ملازمت کو بذاتِ خود قومی نقصان قرار دینا درست نہیں۔ وہاں بہتر آمدنی، جدید تجربہ اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع مل سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پاکستان میں تعلیم یافتہ افراد کو قابلیت کے مطابق روزگار، تحقیق اور ترقی کے مواقع میسر نہ ہوں۔
ماہر افراد کی بیرونِ ملک منتقلی کے اہم اسباب میں کم اجرت، مہنگائی، محدود روزگار، میرٹ کی خلاف ورزی، ادارہ جاتی کمزوریاں، تحقیق کے لیے ناکافی وسائل اور ملازمت کا غیر یقینی ماحول شامل ہیں۔ جدید آلات، تربیتی سہولتوں اور پیشہ ورانہ آزادی کی کمی بھی ماہرین کو دوسرے ممالک میں مواقع تلاش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں بہتر معاوضے، جدید تحقیقی مراکز اور پیشہ ورانہ ترقی کے واضح امکانات موجود ہوتے ہیں۔
اس منتقلی کے اثرات مختلف شعبوں میں محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں تجربہ کار ڈاکٹروں کی کمی طبی سہولتوں اور تربیت کو متاثر کرسکتی ہے۔ جامعات میں قابل اساتذہ اور محققین کی کمی تدریس اور تحقیق کے معیار پر اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ انجینئرنگ، صنعت اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں ماہرین کی کمی جدت اور پیداوار کی رفتار محدود کرسکتی ہے۔
وزارتِ خزانہ پاکستان کے اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق کیلنڈر سال 2025ء میں بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہونے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد 762,499 رہی۔ اس تعداد میں تمام مہارتوں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، اس لیے اسے صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین کی ہجرت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
دوسری طرف بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ مالی سال 2025-26ء میں پاکستان کو تقریباً 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہونے کی اطلاع دی گئی۔ یہ رقوم خاندانوں کی آمدنی، زرمبادلہ اور مقامی معیشت کو سہارا دیتی ہیں، لیکن ترسیلاتِ زر اور برین ڈرین دو الگ معاملات ہیں۔ ترسیلاتِ زر سے ماہر افراد کی کمی یا ان کی خدمات سے محرومی کے تمام اثرات کا ازالہ نہیں ہوتا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بیرونِ ملک جانے والا ہر ماہر اپنے ملک کے لیے نقصان کا باعث نہیں بنتا۔ اگر وہ وہاں حاصل ہونے والا علم، تجربہ اور سرمایہ پاکستان منتقل کرے، مقامی اداروں سے تعاون کرے یا تحقیق اور تعلیم میں حصہ لے تو قومی ترقی میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسے انسانی صلاحیتوں کی گردش کہا جاتا ہے۔ پاکستانی جامعات اور بیرونِ ملک مقیم ماہرین کے درمیان مشترکہ تحقیق، آن لائن تدریس، طلبہ کی رہنمائی اور تربیتی پروگرام اس تعاون کی عملی صورتیں ہوسکتی ہیں۔
برین ڈرین کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے سب سے پہلے ملک میں معیاری روزگار، قابلیت کے مطابق معاوضے اور میرٹ پر ترقی کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔ سرکاری اور نجی اداروں میں بھرتیوں کے نظام کو شفاف بنایا جائے اور جامعات و تحقیقی مراکز کو جدید آلات، مناسب فنڈز اور تحقیق کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ ڈاکٹروں، اساتذہ، انجینئروں اور دیگر ماہرین کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے واضح راستے بھی متعین کیے جائیں۔تعلیمی نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ جامعات، صنعت اور روزگار فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو ایسی تعلیم اور فنی مہارتیں دی جائیں جن کی ملکی اور عالمی منڈی میں ضرورت ہو۔ اس طرح تعلیم محض ڈگری کے حصول تک محدود نہیں رہے گی بلکہ روزگار، تحقیق اور پیداوار میں اضافے کا ذریعہ بن سکے گی۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہرین سے رابطہ برقرار رکھنے کے لیے بھی قومی حکمتِ عملی ضروری ہے۔ انہیں تدریس، تحقیق، تربیت اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں، جبکہ وطن واپس آنے کے خواہش مند افراد کے لیے پیشہ ورانہ ملازمت اور ادارہ جاتی معاونت کا مؤثر نظام بنایا جائے۔
پاکستان کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ اپنے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو کس حد تک قومی ترقی میں استعمال کرتا ہے۔ تعلیم پر سرمایہ کاری کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب ملک میں میرٹ، روزگار، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع موجود ہوں۔ برین ڈرین کی روک تھام کے ساتھ بیرونِ ملک مقیم ماہرین کے علم اور تجربے سے فائدہ اٹھانا بھی قومی ضرورت ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل، معلومات سے تربیت تک کا سفر
تعلیم کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی آمد محض نئی ٹیکنالوجی کا اضافہ نہیں بلکہ تدریس، تحقیق، امتحانی نظام اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں بنیادی تبدیلی ہے۔ جنریٹو مصنوعی ذہانت تحریر، خلاصہ، ترجمہ، سوالات، تصاویر اور دیگر ڈیجیٹل مواد تیار کر سکتی ہے۔ طالب علم مشکل تصورات کی مختلف وضاحتیں حاصل کر سکتا ہے، جبکہ استاد سبق کی منصوبہ بندی، مشقی سوالات اور تعلیمی مواد کی تیاری میں مدد لے سکتا ہے۔ تاہم اس کی اصل قدر رفتار کے بجائے درست استعمال اور حقیقی تعلیمی نتائج میں ہے۔
مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی طریقۂ کار سے واقفیت ضروری ہے۔ بڑے لسانی ماڈلز وسیع متنی مواد سے زبان کے نمونے سیکھتے اور سیاق و سباق کی بنیاد پر اگلے الفاظ یا ٹوکنز کی پیش گوئی کرتے ہوئے جواب تشکیل دیتے ہیں۔ ان کی روانی اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر جواب درست ہوگا۔ یہ نظام غلط معلومات، غیر موجود حوالوں اور گمراہ کن وضاحتوں کو بھی قابلِ اعتماد انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ اسی لیے استاد کو جواب حاصل کرنے کے ساتھ اس کی صحت، دلیل اور ماخذ کی جانچ بھی کرنی چاہیے۔
اس تبدیلی نے استاد کے روایتی کردار کو معلومات فراہم کرنے والے سے بڑھا کر رہنما، محقق، تجزیہ کار اور تربیت کار بنا دیا ہے۔ جب طالب علم چند لمحوں میں جواب حاصل کر سکتا ہے تو تدریس کا مرکز محض معلومات یاد کرانا نہیں رہ سکتا۔ اب اہمیت اس بات کی ہے کہ طالب علم معلومات کو سمجھے، ان کا تنقیدی جائزہ لے، شواہد کا تقابل کرے اور اپنے نتائج کی وضاحت کر سکے۔ استاد کو طلبہ میں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے، تحقیق اور علمی دیانت کی صلاحیتیں پیدا کرنا ہوں گی۔
معاشی تعاون و ترقی کی تنظیم کی رپورٹ ’’او ای سی ڈی ڈیجیٹل ایجوکیشن آؤٹ لک 2026ء‘‘، جو 19 جنوری 2026ء کو شائع ہوئی، مصنوعی ذہانت کے تعلیمی استعمال سے متعلق اہم اعداد فراہم کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2024ء میں زیریں ثانوی سطح کے 37 فیصد اساتذہ نے اپنے کام میں مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کی اطلاع دی۔اسی سروے میں 57 فیصد اساتذہ نے اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت سبق کی منصوبہ بندی لکھنے یا بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ جبکہ 72 فیصد نے تعلیمی دیانت متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے۔ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت تعلیمی عمل میں داخل ہو چکی ہے، لیکن اس کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔رپورٹ کا اہم نتیجہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کام کا بہتر معیار لازماً حقیقی سیکھنے میں اضافے کا ثبوت نہیں۔ اگر طالب علم خود سوچنے کے بجائے ہر جواب تیار شدہ نظام سے حاصل کرے تو اس کی وقتی کارکردگی بہتر دکھائی دے سکتی ہے، لیکن آزادانہ استدلال اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایسے طریقوں کو ترجیح دینی چاہیے جو براہِ راست جواب دینے کے بجائے اشاروں، وضاحتوں اور مرحلہ وار رہنمائی کے ذریعے سیکھنے میں مدد دیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی انفرادی تدریسی نظام اس مقصد کے لیے اہم امکانات رکھتے ہیں۔ یہ طالب علم کی کارکردگی کے مطابق اضافی مشقیں، مختلف وضاحتیں اور مناسب سطح کے سوالات فراہم کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ریاضی میں بار بار ایک جیسی غلطی پر نظام متعلقہ تصور کی مزید وضاحت پیش کر سکتا ہے، جبکہ زبان سیکھنے میں گرامر، الفاظ اور تحریر کی مشق کرائی جا سکتی ہے۔ تاہم خودکار تشخیص ہمیشہ درست نہیں ہوتی، اس لیے استاد کو نتائج کا جائزہ لے کر ضروری اصلاح کرنی چاہیے۔
ڈیجیٹل تعلیمی ماحول میں لرننگ مینجمنٹ سسٹم بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے نصابی مواد، اسائنمنٹس، امتحانات، حاضری اور طلبہ کی پیش رفت منظم کی جا سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت ان معلومات کے تجزیے سے ایسے طلبہ کی نشان دہی کر سکتی ہے جنہیں اضافی معاونت درکار ہو۔ تاہم کم نمبر یا غیر حاضری کو طالب علم کی ذہانت کا پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے پیچھے معاشی، گھریلو، لسانی اور دیگر عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔ حتمی فیصلہ انسانی فہم اور مناسب جانچ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
تحقیق میں مصنوعی ذہانت علمی مواد کی درجہ بندی، دستاویزات کے ابتدائی خلاصے، موضوعات کے درمیان تعلق تلاش کرنے اور تحقیقی سوالات مرتب کرنے میں معاون ہے۔ تاہم اصل تحقیق کے لیے مستند ماخذ پڑھنا، حوالوں کی تصدیق اور شواہد کا آزادانہ تجزیہ ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ حوالہ اس وقت تک قابلِ قبول تحقیقی سند نہیں بنتا جب تک متعلقہ کتاب، مقالے یا دستاویز کی موجودگی اور مواد کی تصدیق نہ ہو۔ خودکار ترجمے اور خلاصوں میں اصطلاحات، تاریخی سیاق اور مصنف کے مؤقف کی غلط ترجمانی بھی ہو سکتی ہے۔امتحانی نظام میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جب مصنوعی ذہانت مضمون، خلاصہ اور اسائنمنٹ تیار کر سکتی ہے تو صرف تحریری کام سے طالب علم کی ذاتی قابلیت کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا حل محض پابندی یا نگرانی بڑھانا نہیں بلکہ جانچ کے طریقے بہتر بنانا ہے۔ زبانی امتحان، جماعت میں سوال و جواب، عملی تجربات اور تحقیقی منصوبوں کی وضاحت سے طالب علم کی حقیقی سمجھ کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ طلبہ کے لیے یہ واضح ہونا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کہاں جائز ہے اور کن کاموں میں آزادانہ محنت لازمی ہے۔ تعلیمی دیانت کا تقاضا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ مواد کو اپنی اصل کاوش ظاہر نہ کیا جائے۔
مصنوعی ذہانت کے استعمال میں ڈیٹا کی رازداری اور سائبر سلامتی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ طلبہ کے نام، پتے، شناختی معلومات، تعلیمی ریکارڈ اور حساس تفصیلات غیر ضروری طور پر عوامی مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں درج نہیں کرنی چاہییں۔ تعلیمی اداروں کو واضح پالیسی بنانی چاہیے کہ کون سا ڈیٹا جمع ہوگا، اسے کون استعمال کرے گا اور کتنی مدت تک محفوظ رکھا جائے گا۔ ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی حفاظت، مضبوط پاس ورڈ، دو مرحلوں پر مبنی تصدیق اور مشکوک روابط سے احتیاط بھی ضروری ہے۔ تعلیمی ٹیکنالوجی کا استعمال طلبہ کی رازداری یا تحفظ کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔
مصنوعی ذہانت کے نتائج میں تعصب کا امکان بھی قابلِ توجہ ہے۔ اگر تربیتی مواد میں بعض زبانوں، معاشروں یا نقطۂ نظر کی نمائندگی ناکافی ہو تو جوابات میں یک طرفہ پن پیدا ہو سکتا ہے۔ کم وسائل والے تعلیمی ماحول اور مقامی زبانوں کے لیے ڈیجیٹل مواد کا معیار بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ استاد کو نتائج کا تنقیدی جائزہ لے کر معتبر ذرائع سے تقابل کرنا چاہیے۔ اردو اور علاقائی زبانوں میں معیاری تعلیمی وسائل کی تیاری پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد صرف انگریزی پر عبور رکھنے والے طلبہ تک محدود نہ رہیں۔
یونیسکو نے 2024ء میں ’’مصنوعی ذہانت کے لیے اساتذہ کی صلاحیتیوں کا فریم ورک‘‘ (AI Competency Framework for Teachers) جاری کیا۔ اس میں پانچ بنیادی جہتیں شامل ہیں: انسان کو مرکزیت دینا، مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اصول، ٹیکنالوجی کی بنیادیں اور استعمال، تدریس میں مصنوعی ذہانت کا انضمام اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی۔ اس فریم ورک میں مجموعی طور پر 15 صلاحیتیں بیان کی گئی ہیں۔ مقصد اساتذہ کو محض ڈیجیٹل اوزار استعمال کرنے کے قابل بنانا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے امکانات، حدود، اخلاقی تقاضوں اور تدریسی اثرات سے بھی آگاہ کرنا ہے۔
پاکستان میں اس مقصد کے لیے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، انٹرنیٹ تک منصفانہ رسائی، بجلی، مناسب ڈیجیٹل آلات اور نصاب سے ہم آہنگ تعلیمی مواد پر توجہ ضروری ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں سہولتوں کا فرق تقاضا کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے منصوبے صرف جدید اداروں تک محدود نہ رہیں۔ سرکاری اسکولوں اور کم وسائل والے تعلیمی اداروں کو بھی قابلِ عمل سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اساتذہ کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل مواد کی تصدیق، طلبہ کی رازداری کا تحفظ اور تدریسی مقاصد کے مطابق ٹیکنالوجی کا انتخاب کیسے کیا جائے۔استاد کا مستقبل مصنوعی ذہانت سے مقابلے میں نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ استعمال میں پوشیدہ ہے۔ مشین معلومات ترتیب دے سکتی ہے، مشقیں تیار کر سکتی ہے اور انتظامی کام آسان بنا سکتی ہے، لیکن تعلیم کے مقاصد، طالب علم کی ضروریات اور تربیت کے بارے میں حتمی ذمہ داری استاد اور تعلیمی ادارے پر عائد ہوتی ہے۔ استاد کی اہمیت معلومات کے ذخیرے کے ساتھ اس صلاحیت میں بھی ہے کہ وہ طلبہ کو درست سوال کرنے، شواہد جانچنے، اختلاف سمجھنے اور علم کو ذمہ داری سے استعمال کرنے کے قابل بنائے۔
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود بعض تعلیمی ادارے ہاتھ سے لکھنے، مطالعے اور روایتی تدریسی مہارتوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ برطانیہ کے ونچسٹر کالج میں پہلے سال کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کا استعمال محدود کیا گیا ہے، جہاں زیادہ تر تعلیمی کام کاغذ پر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات میں ستمبر 202628ء میں چھٹی جماعت کے طلبہ کے لیے اسکول میں لیپ ٹاپ لانے پر پابندی کی اطلاع سامنے آئی۔ ان اقدامات کا مقصد کتابوں، کاپیوں، ہاتھ سے لکھنے اور استاد سے براہِ راست تعامل کو فروغ دینا ہے۔جدید ٹیکنالوجی استاد کی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، مگر اس کی اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب معلومات علم میں، علم شعور میں اور شعور ذمہ دارانہ عمل میں تبدیل ہو۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عالمی توانائی کا بحران، آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز ہے*
دنیا کے نقشے پر کئی ایسے سمندری راستے موجود ہیں جو بظاہر ایک محدود جغرافیائی علاقے میں واقع ہیں، لیکن ان کی اہمیت پوری دنیا کی معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ یہ خلیج فارس کو بحیرہ عمان اور پھر بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔ اس کے ایک طرف ایران اور دوسری طرف عمان واقع ہے۔ اس راستے سے گزرنے والی توانائی کی عالمی تجارت نے اسے دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شامل کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اصل اہمیت اس بات سے سمجھ آتی ہے کہ خلیج فارس کے کئی بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک اپنی عالمی تجارت کے لیے اسی سمندری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین جیسے ممالک کی توانائی کی پیداوار عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے اس علاقے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کوئی بھی بڑی رکاوٹ صرف خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتے ہیں۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران یہاں سے تیل اور گیس کی ترسیل میں نمایاں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس سے واضح ہوا کہ دنیا کی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ ادارے کے مطابق متبادل راستے موجود ہیں، لیکن وہ آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف تیل تک محدود نہیں۔ مائع قدرتی گیس بھی اسی خطے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ خاص طور پر قطر جیسے بڑے گیس پیدا کرنے والے ملک کے لیے سمندری راستوں کی سلامتی انتہائی اہم ہے۔ اگر جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو تو اس کا اثر ان ممالک پر بھی پڑتا ہے جو خلیج سے توانائی درآمد کرتے ہیں۔یہ صورتحال پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرون ملک سے تیل اور گیس درآمد کرتا ہے۔ خلیجی ممالک پاکستان کے لیے توانائی کے اہم ذرائع ہیں۔ اس لیے خلیج میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور سمندری راستوں میں رکاوٹ کا اثر پاکستان کی معیشت، توانائی کی فراہمی، صنعت، ٹرانسپورٹ اور عام صارف تک پہنچ سکتا ہے۔آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا فوری اثر تیل کی عالمی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ جب عالمی منڈی کو یہ خدشہ ہو کہ تیل کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے تو قیمتوں میں اضافہ شروع ہوجاتا ہے۔ رائٹرز کی حالیہ رپورٹس میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی تیل منڈی کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہے۔
تیل کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ تیل مہنگا ہو تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، صنعت کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر بھی دباؤ آتا ہے۔ اس طرح ایک دور دراز سمندری راستے میں پیدا ہونے والی کشیدگی عام آدمی کی زندگی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے آبنائے ہرمز کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے متبادل انتظامات کیے ہیں۔ بعض ممالک نے تیل کی پائپ لائنوں کے ذریعے دوسرے راستے استعمال کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض جگہوں پر جہازوں کے ذریعے متبادل طریقوں سے ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن یہ متبادل راستے آبنائے ہرمز کی جگہ مکمل طور پر نہیں لے سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس راستے کی سلامتی عالمی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔حالیہ حالات نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ سمندری تجارت صرف جہازوں اور بندرگاہوں کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ایک راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے سے جہازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس سے وقت، ایندھن اور بیمہ کے اخراجات بڑھتے ہیں اور سامان کی ترسیل بھی متاثر ہوتی ہے۔رائٹرز کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی بحری سرگرمی میں کشیدگی کے دوران نمایاں کمی دیکھی گئی، اگرچہ بعد میں کچھ بحری آمدورفت میں بہتری کے آثار بھی سامنے آئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر معمول پر آنے کے بجائے اب بھی علاقائی حالات اور سفارتی پیش رفت سے گہری طرح جڑی ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی سلامتی صرف ایک ملک کے اختیار کا مسئلہ نہیں۔ یہ بین الاقوامی تجارت کا راستہ ہے اور اس سے مختلف ممالک کے تجارتی مفادات وابستہ ہیں۔ اس لیے یہاں امن اور محفوظ بحری آمدورفت پورے خطے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے مفاد میں ہے۔
ایسے حالات میں سفارت کاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے سے متعلق سفارتی کوششیں بھی جاری رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی بھی بڑی معیشت عالمی تجارت سے الگ نہیں رہ سکتی۔ ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے خطے کی منڈیوں، صنعتوں اور صارفین کو متاثر کرسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز اس عالمی باہمی انحصار کی ایک واضح مثال ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کی توانائی کی ضروریات اور اقتصادی سرگرمیوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی اس صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ توانائی کے محفوظ اور مسلسل ذرائع کو یقینی بنایا جائے۔ توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے خلیج کی صورتحال پر نظر رکھنا، توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا اور عالمی سطح پر ہونے والی سفارتی کوششوں کو سمجھنا پاکستان کے لیے اہم ہے۔
آبنائے ہرمز ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ عالمی معیشت صرف بڑے صنعتی ممالک، بینکوں اور منڈیوں سے نہیں چلتی بلکہ بعض اوقات ایک نسبتاً چھوٹا سا سمندری راستہ بھی پوری دنیا کی اقتصادی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت جغرافیہ سے کہیں آگے بڑھ کر عالمی تجارت، توانائی اور معاشی استحکام سے جڑ چکی ہے۔آج جب دنیا توانائی کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہے اور شمسی، ہوا اور دیگر متبادل توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے، اس کے باوجود تیل اور گیس عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت فوری طور پر ختم ہونے والی نہیں۔ جب تک عالمی معیشت خلیج فارس کی توانائی پر انحصار کرتی رہے گی، یہ سمندری راستہ عالمی توجہ کا مرکز بنا رہے گا۔
آبنائے ہرمز کا مسئلہ صرف ایران، عمان یا خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن، محفوظ سمندری تجارت اور معاشی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس راستے میں امن اور معمول کی بحری آمدورفت صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے ان تمام ممالک کے لیے ضروری ہے جو توانائی درآمد کرتے ہیں اور عالمی تجارت کا حصہ ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو مستقل راستہ بنایا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی شدید کمی موجود ہے، اس لیے کسی بھی بڑے معاہدے سے پہلے مرحلہ وار اعتماد سازی ضروری ہوگی۔ فوری طور پر فریقین کو ایک دوسرے کے خلاف نئی فوجی کارروائی روکنے، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو تحفظ دینے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔ اس کے بعد براہِ راست یا ثالثی کے ذریعے مذاکرات کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے۔
قطر اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران کی طرف سے پیش کیے گئے سات روزہ اعتماد سازی کے منصوبے پر امریکا کی رائے بھی ایرانی حکام تک پہنچائی گئی ہے، جبکہ دونوں جانب اختلافات میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ مختلف اقدامات کس ترتیب سے کیے جائیں۔ اس پیش رفت سے یہ امکان ضرور پیدا ہوا ہے کہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔تنازع کے خاتمے کے لیے آبنائے ہرمز کی محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہونی چاہیے۔ ایران نے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کو بعض شرائط سے منسلک کیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، پابندیوں اور جوہری پروگرام سمیت متعدد معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ اس لیے ایک جامع سمجھوتے کے بجائے مرحلہ وار معاہدہ زیادہ قابلِ عمل راستہ ہوسکتا ہے، جس میں ہر فریق کی جانب سے ایک قدم کے جواب میں دوسرا فریق بھی عملی قدم اٹھائے۔
بین الاقوامی برادری کو بھی اس عمل میں تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ اور علاقائی ممالک مذاکرات کے لیے محفوظ سفارتی ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، عمان اور دوسرے خلیجی ممالک کے مفادات بھی اس تنازع سے براہِ راست جڑے ہیں، اس لیے علاقائی ممالک کی مشاورت سے کوئی ایسا طریقہ کار بنایا جاسکتا ہے جس میں جنگ کے دوبارہ پھیلنے کے امکانات کم ہوں۔آخرکار اس تنازع کا پائیدار حل فوجی طاقت سے زیادہ سیاسی سمجھوتے میں ہے۔ امریکا اور ایران اگر اپنے اختلافات کو مرحلہ وار مذاکرات، باہمی یقین دہانیوں اور قابلِ عمل معاہدوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے بلکہ آبنائے ہرمز، عالمی توانائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی زیادہ محفوظ ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*نیہا بورا بھارت کی نئی طلبہ سیاست کی ابھرتی ہوئی آواز
مزاحمت کی علامت….. بھارت میں طلبہ سیاست کا بدلتا منظرنامہ کیمپس سے سڑکوں تک ایک طلبہ رہنما کی جدوجہد*
بھارت میں طلبہ سیاست کی تاریخ ہمیشہ سے سیاسی، سماجی اور فکری مباحث کا اہم حصہ رہی ہے۔ مختلف ادوار میں یونیورسٹیوں کے طلبہ نے نہ صرف تعلیمی مسائل بلکہ جمہوری اقدار، انسانی حقوق، سماجی انصاف اور سیاسی پالیسیوں پر بھی اپنا مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سمیت کئی تعلیمی اداروں سے وابستہ طلبہ رہنما قومی سطح پر نمایاں ہوئے ہیں۔ انہی میں ایک نام نیہا بورا کا بھی سامنے آیا ہے، جن کی تقاریر، احتجاجی سرگرمیوں اور طلبہ حقوق سے متعلق مؤقف نے انہیں نوجوان حلقوں میں شناخت دی ہے۔
دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران نیہا بورا کی ایک تقریر سوشل میڈیا پر خاصی گردش میں آئی۔ ان کی گفتگو کا انداز، الفاظ کا انتخاب، آواز کا اتار چڑھاؤ اور مسائل کو تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کرنے کی صلاحیت نے بہت سے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ ان کی تقریر میں تعلیم، سماجی انصاف اور جمہوری اقدار جیسے موضوعات نمایاں تھے۔ سیاسی مباحث میں اختلاف اپنی جگہ، لیکن مقرر کے طور پر ان کی تیاری اور اظہارِ خیال کی صلاحیت کو مختلف حلقوں نے سراہا۔نیہا بورا کی ابتدائی زندگی کے بارے میں دستیاب معلومات کے مطابق ان کا تعلق بنیادی طور پر اتراکھنڈ سے بتایا جاتا ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا بچپن کا کچھ عرصہ مغربی بنگال کے شہر سلی گوڑی میں گزرا، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ رپورٹس میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے دہلی پبلک اسکول، سلی گوڑی سے اسکول کی تعلیم مکمل کی۔اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ دہلی منتقل ہوئیں، جہاں انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے علمِ عمرانیات (سوشیالوجی) میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی دہلی سے ماسٹرز کی تعلیم حاصل کی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے اسکول آف آرٹس اینڈ ایستھیٹکس سے پی ایچ ڈی تحقیق سے وابستہ ہوئیں۔
تعلیمی سفر کے دوران ان کی دلچسپی سماجی موضوعات، طلبہ کے مسائل اور عوامی مباحث میں بڑھی۔ وہ تھیٹر اور ثقافتی سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہیں، جس نے ان کی اظہارِ خیال کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔
اس شعبے کا تعلق فنون، ثقافت اور سماجی مطالعے سے ہے، جس نے ان کی فکری تربیت میں بھی کردار ادا کیا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ تھیٹر سے بھی وابستہ رہی ہیں، جس کی وجہ سے عوامی خطاب، اسٹیج پر اعتماد اور خیالات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔
بعد ازاں وہ طلبہ سیاست میں فعال ہوئیں اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) سے وابستہ رہیں۔
نیہا بورا آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی قومی صدر اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے وابستہ ایک طلبہ رہنما ہیں۔ AISA ایک بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ہے، جسے عام طور پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ–لیننسٹ) لبریشن (CPI-ML Liberation) کی طلبہ تنظیم سمجھا جاتا ہے۔
اس طرح نیہا بورا کی فکری تشکیل میں سماجی علوم کی تعلیم، ثقافتی سرگرمیوں اور کیمپس سیاست کے تجربات کا اہم کردار نظر آتا ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبہ سیاست کی ایک طویل روایت موجود ہے، جہاں مختلف نظریاتی تنظیمیں تعلیمی اور سیاسی معاملات پر اپنا مؤقف پیش کرتی رہی ہیں۔
نیہا بورا کی مقبولیت کی ایک وجہ ان کا خطیبانہ انداز بھی قرار دیا جاتا ہے۔ وہ پیچیدہ سیاسی اور سماجی موضوعات کو عام فہم زبان میں بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں آئینی اقدار، برابری، تعلیم کے حق اور سماجی انصاف جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کے ایک طبقے میں انہیں ایک فعال طلبہ رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارتی طلبہ سیاست میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ ادارہ کئی دہائیوں سے فکری مباحث، سیاسی سرگرمیوں اور سماجی موضوعات پر گفتگو کے حوالے سے معروف رہا ہے۔ یہاں سے تعلق رکھنے والے کئی طلبہ رہنما بعد میں صحافت، سیاست، تحقیق اور سماجی شعبوں میں نمایاں ہوئے۔نیہا بورا کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کی سرگرمیوں کا دائرہ صرف یونیورسٹی مسائل تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ خواتین کے حقوق، سماجی امتیاز، تعلیم کی نجکاری، طلبہ کے مسائل اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر بھی اظہارِ خیال کرتی رہی ہیں۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسی نوجوان آواز کے طور پر دیکھتے ہیں جو سماجی مسائل کو وسیع تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔تاہم بھارت جیسے متنوع ملک میں طلبہ سیاست ہمیشہ بحث کا موضوع بھی رہی ہے۔ بعض حلقے اسے نوجوانوں کی سیاسی تربیت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں کے اثرات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہی اختلاف طلبہ سیاست کو ایک مسلسل بحث کا موضوع بناتا ہے۔
نیہا بورا کا ابھرنا بھی اسی وسیع پس منظر کا حصہ ہے جہاں نوجوان نسل سوشل میڈیا، یونیورسٹی پلیٹ فارمز اور عوامی احتجاج کے ذریعے اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ ان کا سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ دور میں ایک نوجوان رہنما کے لیے صرف تنظیمی وابستگی کافی نہیں بلکہ مؤثر ابلاغ، تاریخی شعور اور عوامی مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بھارت میں طلبہ تحریکوں کی تاریخ صرف یونیورسٹیوں کے مسائل تک محدود نہیں رہی بلکہ مختلف ادوار میں یہ تحریکیں سماجی اصلاح، جمہوری حقوق اور سیاسی شعور کے اظہار کا ذریعہ بھی بنتی رہی ہیں۔ نیہا بورا کا سیاسی سفر بھی اسی روایت کا ایک حصہ ہے جہاں نوجوان طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی معاملات پر اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔
نیہا بورا کو قومی سطح پر زیادہ توجہ اس وقت ملی جب انہوں نے دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے ایک احتجاج کے دوران بھوک ہڑتال میں شرکت کی۔ یہ احتجاج تعلیمی نظام، طلبہ کے مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے متعلق تھا۔ سونم وانگچک کے احتجاج کے دوران نیہا بورا اور دیگر طلبہ رہنماؤں نے بھی بھوک ہڑتال میں حصہ لیا۔ رپورٹس کے مطابق AISA سے تعلق رکھنے والے نیہا بورا، منیش کمار اور امین امیتوج نے جنتر منتر پر 23 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی۔ اس دوران نیہا بورا کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر ہوئیں، جن میں انہیں احتجاجی مقام پر موجود دیکھا گیا۔ احتجاج کے دوران اداکارہ شبانہ اعظمی کی نیہا بورا سے ملاقات کی تصویر بھی سامنے آئی، جس میں وہ بھوک ہڑتال پر موجود طالبہ رہنما کے قریب نظر آئیں۔ اس منظر کو سوشل میڈیا پر مختلف انداز میں سراہا گیا۔
نیہا بورا اور کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ تقابل سامنے آیا۔ ابھیجیت دیپکے نے ایک آن لائن مہم کے ذریعے نوجوانوں کی توجہ حاصل کی، جبکہ نیہا بورا پہلے سے یونیورسٹی سیاست، طلبہ تنظیم اور سماجی تحریکوں سے وابستہ تھیں۔ اسی لیے دونوں کی شناخت کے انداز مختلف رہے۔ دیپکے کی طاقت ڈیجیٹل پلیٹ فارم تھا، جبکہ نیہا بورا کی شناخت تنظیمی تجربے، طلبہ سیاست اور عوامی خطاب کی صلاحیت سے بنی۔یہ فرق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ دور میں نوجوان قیادت کے کئی راستے موجود ہیں۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے مقبول ہوتے ہیں جبکہ کچھ طویل تنظیمی جدوجہد، تعلیمی پس منظر اور عوامی رابطے کے ذریعے اپنی جگہ بناتے ہیں۔ نیہا بورا کا ابھرنا اسی نئے دور کی مثال ہے جہاں یونیورسٹی، سوشل میڈیا اور عوامی احتجاج ایک دوسرے سے جڑ کر نئی قیادت کو سامنے لا رہے ہیں۔نیہا بورا کے حامیوں کے مطابق انہوں نے طویل احتجاج کے دوران جسمانی مشکلات کے باوجود اپنا مؤقف جاری رکھا.
نیہا بورا کی تقریروں میں تاریخی شخصیات کے حوالہ جات نمایاں نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر وہ سماجی اصلاح کی تحریکوں سے وابستہ شخصیات کا ذکر کرتی ہیں جنہوں نے تعلیم، مساوات اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔
جنتر منتر احتجاج کے دوران نیہا بورا کی ایک تقریر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ساوتری بائی پھولے، فاطمہ شیخ، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور بھگت سنگھ جیسی تاریخی شخصیات کا حوالہ دیتی ہیں۔بھارت میں خواتین کی تعلیم، سماجی برابری اور حقوق کی جدوجہد کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی ایک طویل تاریخی روایت موجود ہے۔ ساوتری بائی پھولے (Savitribai Phule) اس جدوجہد کی ایک نمایاں مثال ہیں، جو برصغیر کی تاریخ کی معروف سماجی مصلح، شاعرہ اور خواتین کی تعلیم کی علمبردار تھیں۔ وہ 3 جنوری 1831 کو مہاراشٹر، بھارت میں پیدا ہوئیں اور انہیں بھارت کی پہلی خاتون اساتذہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر جیوتی راؤ پھولے کے ساتھ مل کر خواتین کی تعلیم، سماجی برابری اور ذات پات کے امتیاز کے خلاف جدوجہد کی۔ 1848 میں انہوں نے پونے میں لڑکیوں کے لیے ایک اسکول قائم کیا، جو بھارت میں خواتین کی تعلیم کے ابتدائی مراکز میں شامل تھا۔ اس دور میں لڑکیوں کی تعلیم کو شدید سماجی مخالفت کا سامنا تھا، لیکن ساوتری بائی پھولے نے مشکلات کے باوجود تعلیم کے فروغ کا مشن جاری رکھا۔ انہوں نے بیوہ خواتین اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے بھی کام کیا۔ ان کی جدوجہد نے بھارت میں خواتین کی تعلیم اور سماجی انصاف کی تحریکوں کو مضبوط بنیاد فراہم کی، اسی لیے انہیں آج بھی برابری، تعلیم اور اصلاحِ معاشرہ کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ فاطمہ شیخ 19ویں صدی کی ایک اہم بھارتی مسلم خاتون معلمہ اور سماجی اصلاح کی کارکن تھیں، جنہوں نے خواتین اور محروم طبقات کی تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ وہ ساوتری بائی پھولے اور جیوتی راؤ پھولے کی تعلیمی جدوجہد کی ساتھی تھیں۔ 1848ء میں پونے میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے قائم کیے گئے ابتدائی اسکولوں میں فاطمہ شیخ نے تدریس کے ذریعے حصہ لیا۔ انہوں نے اپنے بھائی عثمان شیخ کے گھر میں ساوتری بائی پھولے اور جیوتی راؤ پھولے کو رہائش اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے جگہ فراہم کی، جہاں سے خواتین کی تعلیم کی اس تاریخی کوشش کو آگے بڑھایا گیا۔ ایسے وقت میں جب لڑکیوں کی تعلیم کو سماجی مخالفت کا سامنا تھا، فاطمہ شیخ نے تعلیم کو سماجی برابری اور ترقی کا ذریعہ بنانے کے لیے کام کیا۔ اگرچہ ان کی زندگی کے بارے میں تاریخی مواد ساوتری بائی پھولے کے مقابلے میں کم دستیاب ہے، تاہم جدید تاریخی تحقیق میں انہیں بھارت کی ابتدائی مسلم خواتین اساتذہ اور خواتین کی تعلیم کی جدوجہد سے وابستہ اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا ذکر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ برصغیر میں خواتین کی تعلیم اور سماجی اصلاح کی تحریک مختلف طبقات اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھی۔
ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر بھارت کے معروف قانون دان، ماہرِ معاشیات، سیاست دان اور سماجی مصلح تھے۔ انہیں عام طور پر بابا صاحب امبیڈکر کہا جاتا ہے۔ وہ 14 اپریل 1891 کو پیدا ہوئے اور 6 دسمبر 1956 کو وفات پائی۔
امبیڈکر کو سب سے زیادہ شہرت اس وجہ سے ملی کہ وہ آزاد بھارت کے پہلے وزیرِ قانون بنے اور بھارت کے آئین کی تیاری کے لیے قائم کردہ آئین ساز اسمبلی کی ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ اسی وجہ سے انہیں جدید بھارت کے آئین کے اہم معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نے اپنی زندگی سماجی مساوات، تعلیم اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے وقف کی۔ وہ بھارت کے ذات پات کے نظام اور سماجی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانے والی نمایاں شخصیات میں شامل تھے اور دلت برادری کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی۔
امبیڈکر نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جن میں امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی اور لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم شامل ہے۔ وہ قانون، معیشت اور سیاست کے میدان میں ایک بڑے دانشور سمجھے جاتے تھے.
بھگت سنگھ برصغیر کی آزادی کی تحریک کے ایک معروف انقلابی رہنما تھا ۔ وہ برطانوی سامراج کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے نوجوان انقلابیوں میں شامل تھا اور اسے برصغیر میں اکثر “شہید بھگت سنگھ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔بھگت سنگھ کی پیدائش 27 ستمبر 1907ء کو بنگا گاوں، ضلع لائل پور (موجودہ فیصل آباد، پاکستان) میں ہوئی۔ اس کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو برطانوی حکومت کے خلاف سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہا تھا۔ نوجوانی میں ہی وہ آزادی کی تحریک سے متاثر ہوا اور بعد میں ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن (HSRA) اور نوجوان بھارت سبھا جیسی انقلابی تنظیموں سے وابستہ ہوا.
بھگت سنگھ کی شہرت کے دو بڑے واقعات 1928ء کا سانڈرز قتل کیس اور 1929ء کا دہلی مرکزی قانون ساز اسمبلی بم واقعہ ہیں، جنہوں نے انہیں برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے نمایاں انقلابیوں میں شامل کر دیا۔
1928ء میں لاہور میں برطانوی پولیس افسر جان پی سانڈرز کے قتل کا واقعہ لالا لاجپت رائے کی موت کے پس منظر میں پیش آیا۔ اکتوبر 1928ء میں سائمن کمیشن کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس لاٹھی چارج میں لالا لاجپت رائے زخمی ہوئے اور بعد میں ان کا انتقال ہو گیا۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے اس کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ان کا ہدف پولیس افسر جیمز اے اسکاٹ تھا، جسے وہ لالا لاجپت رائے پر تشدد کا ذمہ دار سمجھتے تھے، لیکن شناخت کی غلطی کے باعث 17 دسمبر 1928ء کو لاہور میں جان سانڈرز کو قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد برطانوی حکومت نے بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی شروع کی، جو بعد میں لاہور سازش کیس کے نام سے مشہور ہوا۔مقدمے کے دوران بھگت سنگھ نے برطانوی سامراج کی مخالفت، آزادی اور سیاسی نظریات پر اپنے خیالات پیش کیے۔ بعد ازاں لاہور سازش کیس میں اسے راج گرو اور سکھ دیو کے ساتھ سزائے موت سنائی گئی اور 23 مارچ 1931ء کو لاہور جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کی عمر اس وقت 23 سال تھی۔بھارت کے نوجوان جین زی بھگت سنگھ کو اپنا ہیرو مانتے ہیں. سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں نیہا بورا نے سیاسی تاریخ کے مختلف کرداروں کا ذکر کرتے ہوئے ہندوتوا سیاست، ساورکر اور گوڈسے کے نظریات پر بھی تنقید کی۔نیہا بورا اپنی تقریروں میں انہی تاریخی حوالوں کو موجودہ سیاسی اور سماجی حالات سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کو ان شخصیات سے سبق لینا چاہیے جنہوں نے تعلیم، انصاف اور مساوات کے لیے جدوجہد کی۔
بھارت میں طلبہ سیاست کے اندر مختلف نظریات رکھنے والی تنظیمیں موجود ہیں۔ کچھ تنظیمیں بائیں بازو کے نظریات سے متاثر ہیں، کچھ قوم پرستانہ سوچ رکھتی ہیں جبکہ کچھ صرف تعلیمی مسائل پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ جمہوری معاشروں میں یہی نظریاتی اختلاف طلبہ سیاست کا ایک نمایاں پہلو سمجھا جاتا ہے۔
نیہا بورا کے سیاسی مؤقف میں انسانی حقوق کے معاملات بھی نمایاں رہے ہیں۔ وہ غزہ کے انسانی بحران، خواتین کے حقوق اور سماجی ناانصافی جیسے موضوعات پر اظہار خیال کرتی رہی ہیں۔ 29 سالہ نیہا بورا اگرچہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک نمایاں نوجوان آواز کے طور پر ابھری ہیں، تاہم وہ اس سے بہت پہلے بھی مختلف سماجی، تعلیمی اور انسانی حقوق کے مسائل پر سرگرم رہی ہیں۔ انہوں نے تعلیمی نظام کی نجکاری، ہجوم کے ہاتھوں تشدد (ماب لنچنگ) کے واقعات، بلقیس بانو کیس میں انصاف کے مطالبے کے لیے آواز بلند کی. بلقیس بانو بھارت کی ایک مسلم خاتون ہیں، جو 2002 کے گجرات فسادات کے دوران پیش آنے والے ایک نہایت المناک واقعے کی متاثرہ ہیں۔واقعے کے وقت وہ تقریباً 21 سال کی تھیں اور پانچ ماہ کی حاملہ تھیں۔ فسادات کے دوران ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا، ان کے خاندان کے متعدد افراد قتل کر دیے گئے، اور وہ خود بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنیں۔ وہ زندہ بچ گئیں اور بعد میں انصاف کے لیے طویل قانونی جدوجہد کی۔بلقیس بانو کیس کی ابتدائی تحقیقات پر سنگین سوالات اٹھنے کے بعد بھارت کی سپریم کورٹ نے مقدمے کی مزید تفتیش مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی (CBI) کے سپرد کر دی۔ شفاف اور غیر جانبدارانہ سماعت کو یقینی بنانے کے لیے عدالتِ عظمیٰ نے مقدمہ گجرات سے ممبئی منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں ممبئی کی خصوصی عدالت نے مقدمے میں ملوث متعدد ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ اس مقدمے کو بھارت میں انصاف، خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق سے متعلق ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔یہ مقدمہ بھارت میں خواتین کے حقوق، اقلیتی برادریوں کے تحفظ، انصاف کے نظام اور انسانی حقوق سے متعلق ایک نمایاں قانونی و سماجی کیس سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے سماجی کارکن، طلبہ رہنما اور انسانی حقوق کے علمبردار، جن میں نیہا بورا بھی شامل ہیں، بلقیس بانو کے لیے انصاف کی حمایت میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ نیہا بورا غزہ/فلسطین کے انسانی بحران پر عوامی طور پر اظہارِ خیال کرتی رہی ہیں اور فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے.
ان کی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ طلبہ سیاست کو صرف تعلیمی مسائل تک محدود نہیں سمجھتیں بلکہ انسانی حقوق، سماجی انصاف اور جمہوری اقدار کے وسیع تناظر میں بھی اپنی آواز بلند کرتی رہی ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کے ایک حلقے میں ان کی شناخت اور مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔نیہا بورا کی گفتگو کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ تاریخی مثالوں کے ذریعے موجودہ مسائل کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کی تقریروں میں جذبات کے ساتھ ساتھ دلیل اور حوالہ جات کا استعمال بھی نظر آتا ہے۔ یہی انداز انہیں بعض دوسرے احتجاجی مقررین سے مختلف بناتا ہے۔نیہا بورا کی مثال اسی بحث کو آگے بڑھاتی ہے کہ موجودہ دور میں نوجوان قیادت صرف سیاسی جماعتوں سے نہیں بلکہ یونیورسٹیوں، سماجی تحریکوں اور عوامی پلیٹ فارمز سے بھی سامنے آ رہی ہے۔ ان کی مقبولیت اس بات کی علامت ہے کہ نوجوان نسل تعلیم، روزگار، انصاف اور جمہوری اقدار جیسے معاملات پر اپنی آواز کو اہم سمجھتی ہے۔موجودہ دور میں نوجوان تحریکوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان کے پھیلاؤ میں سوشل میڈیا کا کردار غیر معمولی ہو چکا ہے۔ ماضی میں طلبہ تحریکیں زیادہ تر یونیورسٹی کیمپس، جلسوں اور تنظیمی سرگرمیوں تک محدود رہتی تھیں، لیکن آج ایک تقریر، ایک ویڈیو یا ایک احتجاجی منظر چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے کئی کارکن اور طلبہ رہنما ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے قومی سطح پر پہچان حاصل کر رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے شروع ہونے والی آن لائن تحریک بھی اسی نئے رجحان کی ایک مثال کے طور پر سامنے آئی۔ ابتدا میں یہ ایک طنزیہ اور مزاحیہ انداز کی مہم محسوس ہوئی، لیکن وقت کے ساتھ اس نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔ اس تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے تھے، جنہوں نے ایک منفرد انداز میں نوجوانوں کے سیاسی طنز اور سماجی بے چینی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔تاہم کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف اس کے بانی فرد پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ وقت کے ساتھ ایسے چہرے بھی سامنے آتے ہیں جو اپنی گفتگو، فکری تیاری، شخصیت اور عوامی رابطے کی صلاحیت کے باعث زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ نیہا بورا بھی اسی تناظر میں ایک اہم چہرے کے طور پر سامنے آئیں۔نیہا بورا کی گفتگو میں یونیورسٹی کی فکری تربیت، تھیٹر کے تجربے اور طلبہ سیاست کی سرگرمیوں کا اثر نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ کسی بھی موضوع کو صرف جذباتی انداز میں پیش کرنے کے بجائے تاریخی پس منظر، سماجی حالات اور سیاسی تناظر کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تقاریر نے نوجوانوں کے ایک طبقے میں خاص توجہ حاصل کی۔نیہا بورا کے حوالے سے سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا پہلو ان کا خطیبانہ انداز ہے۔ ایک کامیاب مقرر صرف بلند آواز میں بات نہیں کرتا بلکہ الفاظ کے مناسب انتخاب، دلیل کی ترتیب اور سامعین سے جذباتی و فکری تعلق قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیہا بورا کے حامیوں کے مطابق ان کی گفتگو میں یہی خصوصیات نمایاں ہیں۔
نیہا بورا کا سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ آج کے دور میں نوجوان قیادت کے کئی راستے موجود ہیں۔ کوئی شخص سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آ سکتا ہے، کوئی یونیورسٹی سیاست کے ذریعے اپنی شناخت بنا سکتا ہے اور کوئی سماجی تحریکوں میں سرگرم ہو کر عوامی توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن طویل مدت میں وہی آوازیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں جن کے پاس فکری تیاری، مسائل کا شعور اور مسلسل جدوجہد کا تجربہ ہو۔
بھارت میں طلبہ سیاست کا مستقبل بھی اسی سوال سے جڑا ہوا ہے کہ نوجوان اپنی توانائی کو کس سمت استعمال کرتے ہیں۔ اگر طلبہ پلیٹ فارم مکالمے، تحقیق، برداشت اور سماجی شعور کو فروغ دیں تو وہ جمہوری معاشرے کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران بھوک ہڑتال میں شریک طالبہ نیہا بورا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے طلبہ کو بھی “پاکستانی ایجنٹ” قرار دیا گیا۔ان کے مطابق جب ماضی میں کشمیر اور دہلی فسادات کے تناظر میں بعض افراد پر ایسے الزامات لگائے گئے تو عوام نے انہیں درست سمجھا، لیکن جب یہی الزام احتجاج کرنے والے طلبہ پر عائد کیا گیا تو انہیں احساس ہوا کہ ایسے دعوؤں پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک گفتگو میں نوجوان بھارتی طالبہ نیہا بورا نے مودی حکومت، بھارتی پولیس اور گودی میڈیا پر سخت تنقید کی۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی پولیس نے کشمیریوں پر پیلٹ گن سے فائرنگ اتنی عام کردی تھی کہ وہ آج نئی دہلی تک پہنچ گئی جو ظلم و ستم کشمیر میں ہورہے تھے وہ یہاں بھی پہنچ گئے، اس وقت ہم ہم چپ رہے اور کشمیر میں یہ سب ہونے دیا۔انہون نے بتایا کہ اس موقع پر گودی میڈیا انہیں غدار اور پاکستانی ایجنٹ کہا کرتا تھا، آج یہی گودی میڈیا ہمیں بھی غیر ملکی ایجنٹ کہہ رہا ہے تو پتہ چل رہا ہے گودی میڈیا پہلے بھی جھوٹ بول رہا تھا اوراب بھی جھوٹ بول رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اپنی تقریر میں نیہا بورا نے کہا کہ جب کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی خبریں سامنے آتی تھیں تو ملک کے بیشتر لوگ خاموش رہے، لیکن اب وہی صورتحال نئی دہلی میں نظر آ رہی ہے۔نیہا بورا نے اپنی گودی میڈیا اور حکومت کے بیانیے پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ کشمیر میں پیلٹ گن (چھروں) کے استعمال پر خاموش نہ رہتے تو آج وہی طرزِ عمل دہلی کے کناٹ پلیس تک نہ پہنچتا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کشمیر اور دہلی فسادات کے متاثرین کو “پاکستانی ایجنٹ” قرار دیا گیا اور عوام نے اس بیانیے کو قبول کر لیا، لیکن جب اپنے آئینی حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کو بھی اسی الزام کا سامنا کرنا پڑا تو بہت سے لوگوں کو احساس ہوا کہ پہلے پھیلایا گیا یہ بیانیہ بھی حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کے ایک طبقے کو مسلسل “ملک دشمن”، “اینٹی نیشنل” اور “پاکستانی ایجنٹ” قرار دینے کی مہم نے ایسے ماحول کو جنم دیا جہاں ریاستی کارروائیوں پر سوال اٹھانے والوں کو بدنام کرنا معمول بن گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب یہی الزامات اب عام طلبہ پر لگ رہے ہیں تو لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے دعوے درست نہیں تھے۔آخرکار نیہا بورا کی کہانی صرف ایک فرد کی مقبولیت کی داستان نہیں بلکہ بدلتی ہوئی نوجوان سیاست، یونیورسٹیوں کے کردار اور اظہارِ رائے کے نئے ذرائع کی عکاسی بھی ہے۔ موجودہ دور میں نوجوان نسل صرف سیاسی فیصلوں کی ناظر نہیں بلکہ کئی معاملات میں فعال کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔نیہا بورا کا ابھرنا اس بات کی علامت ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان، اگر انہیں اظہار اور مکالمے کے مواقع ملیں، تو وہ سماجی اور سیاسی بحث کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ چاہے ان کے نظریات سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، ان کا سفر جدید طلبہ سیاست، نوجوان قیادت اور عوامی اظہار کے بدلتے ہوئے انداز کو سمجھنے کے لیے ایک اہم مثال ضرور ہے۔
…………………………
*فنِ شکم گوئی(وینٹریلوکوئزم) جب بےجان پُتلے بولنے لگیں، آواز کا وہ فریب جو آنکھوں کو حیران کردے….. حیرت انگیز انکشاف، بولتا کون ہے* ؟
دنیا میں فنونِ لطیفہ کی ایسی بے شمار صورتیں موجود ہیں جنہوں نے انسانی تخیل کو حیرت میں مبتلا کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ اپنی الگ شناخت قائم کی۔ کچھ فن جسمانی مہارت کا امتحان ہیں، کچھ ذہنی صلاحیت اور حاضر جوابی کا، جبکہ کچھ ایسے ہیں جن میں فن کار اپنی غیر معمولی صلاحیت کے ذریعے دیکھنے والوں کے سامنے حقیقت کو ایک نئے انداز میں پیش کرتا ہے۔ ایسے ہی حیرت انگیز فنون میں ایک فن ایسا بھی ہے جس کا تعلق انسانی جسم کی پوشیدہ صلاحیتوں، اداکاری، مشاہدے اور مسلسل مشق سے ہے۔ اس فن نے مختلف ادوار میں کبھی لوگوں کو محظوظ کیا، کبھی حیران کیا اور کبھی اس قدر الجھن میں مبتلا کیا کہ حقیقت اور فن کاری کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوگیا۔ وقت کے ساتھ اس نے مذہبی اور پراسرار تصورات سے نکل کر تفریح، تھیٹر اور اسٹیج کی دنیا میں جگہ بنائی اور پھر جدید دور کے ذرائع ابلاغ تک پہنچ گیا۔ یہی منفرد اور حیرت انگیز فن Ventriloquism یا فنِ شکم گوئی کہلاتا ہے۔
ایک خاموش انسان، ساکت ہونٹ، سامنے رکھا ایک بےجان پُتلا اور اچانک فضا میں گونجتی ایک ایسی آواز جو بظاہر اس شخص کی نہیں ہوتی۔ کبھی پُتلا ہنستا ہے، کبھی غصے میں جواب دیتا ہے، کبھی حاضرین سے باتیں کرتا ہے اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے اندر واقعی کوئی جیتی جاگتی شخصیت موجود ہو۔ یہ منظر بیک وقت حیرت، تجسس اور خوش گوار خوف کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ مگر اس دلچسپ تماشے کے پیچھے محض شعبدہ یا جادو نہیں بلکہ آواز، سانس، زبان، تلفظ، اداکاری اور مسلسل مشق کا ایک غیر معمولی فن پوشیدہ ہے۔ Ventriloquism، جسے اردو میں فنِ شکم گوئی کہا جاتا ہے، انسانی آواز کو اس انداز میں استعمال کرنے کا ہنر ہے کہ آواز کا منبع کسی دوسرے مقام یا کسی بےجان کردار سے آتا ہوا محسوس ہو۔ صدیوں کے سفر میں یہ فن مذہبی رسوم اور پراسرار مظاہر سے نکل کر تھیٹر، سرکس، اسٹیج، ٹیلی ویژن اور جدید تفریحی دنیا تک پہنچا اور آج بھی اپنے اندر وہی حیرت اور تجسس برقرار رکھے ہوئے ہے جو اسے دیکھنے والے کو چند لمحوں کے لیے حقیقت اور فریب کے درمیان کھڑا کر دیتی ہے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، 11ویں اشاعت (1911ء) کے مطابق، Ventriloquism لاطینی زبان کے الفاظ venter، یعنی ’’شکم‘‘ یا ’’پیٹ‘‘، اور loqui، یعنی ’’بولنا‘‘، سے ماخوذ ہے؛ اس اعتبار سے اس کا لفظی مفہوم ’’شکم سے بولنا‘‘ بنتا ہے۔ تاہم ’’شکم سے بولنا‘‘ اس فن کی سائنسی حقیقت نہیں بلکہ اس نام کی تاریخی بنیاد ہے، کیونکہ قدیم تصور یہ تھا کہ فن کار آواز اپنے شکم سے پیدا کرتا ہے۔ برٹانیکا کے مطابق Ventriloquism دراصل آواز کو اس انداز سے ادا کرنے کا فن ہے کہ وہ بولنے والے کے اپنے منہ کے بجائے کسی دوسرے، نسبتاً دور مقام سے آتی ہوئی محسوس ہو۔ اس فن میں آواز عام طریقے سے تشکیل پاتی ہے، جبکہ آواز کی ادائیگی، منہ اور زبان کی محدود حرکت، اور حرکات و تاثرات کے ذریعے ایسا صوتی تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ سننے والے کو آواز کا منبع کوئی دوسرا شخص یا مقام محسوس ہوتا ہے۔ اسی تاریخی نسبت کی وجہ سے اردو میں Ventriloquism کے لیے ’’فنِ شکم گوئی‘‘ کی اصطلاح مستعمل ہے۔
*تاریخی پس منظر*
قدیم یونانی اور رومی تاریخ کے حوالے سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی اسٹیون کونر کی تحقیقی کتاب ’ڈمب اسٹرک: اے کلچرل ہسٹری آف وینٹریلوکوئزم‘ کے مطابق شکم گوئی کی ابتدائی تاریخ کو قدیم دنیا میں ان آوازوں اور صوتی مظاہر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جنہیں انسان مافوق الفطرت قوتوں سے منسوب کرتے تھے۔ قدیم یونان میں ایسی شخصیتوں کا ذکر ملتا ہے جو غیبی آوازوں اور پیش گوئیوں سے وابستہ سمجھی جاتی تھیں، اور ’’انگاسٹری مین تیس‘‘، یعنی ’’شکم سے پیش گوئی کرنے والے‘‘، کا تصور اسی قدیم روایت کا حصہ تھا۔ اس زمانے میں یہ فن آج کے معنوں میں تفریحی فن نہیں تھا بلکہ مذہبی اور غیبی تصورات سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔
1911ء کی انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق فنِ شکم گوئی قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے اور اس کے آثار قدیم مصری اور عبرانی آثارِ قدیمہ میں بھی ملتے ہیں۔ قدیم یونان میں ایتھنز کا یوریکلیس (Eurykles) یونانی شکم گوؤں میں سب سے زیادہ مشہور تھا۔ اس کی نسبت سے شکم گوئی کرنے والوں کو Euryklides کہا جاتا تھا، جبکہ انہیں Engastrimanteis بھی کہا جاتا تھا، جس کے معنی ’’شکم سے پیش گوئی کرنے والے‘‘ (belly-prophets) ہیں۔ برٹانیکا یہ امکان بھی ظاہر کرتی ہے کہ قدیم زمانے کے بعض مذہبی پیشوا اس فن کے ماہر رہے ہوں گے اور ممکن ہے کہ قدیم دنیا کے بعض ’’معجزاتی‘‘ واقعات، مثلاً بولنے والے مجسموں اور بعض یونانی غیبی پیش گوئیوں کے پیچھے بھی اس فن کا استعمال رہا ہو۔1584ء میں ریجنالڈ اسکاٹ کی شائع کردہ کتاب ’دی ڈسکوری آف وِچ کرافٹ‘ کے مطابق اس زمانے میں جادوگری اور ماورائی قوتوں سے منسوب بہت سے مظاہر کو تنقیدی انداز میں دیکھنے کا رجحان پیدا ہو رہا تھا۔ اسکاٹ نے اپنی کتاب میں جادوگری کے دعووں اور مختلف شعبدوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ بہت سے حیرت انگیز مظاہر انسانی فریب، چال یا شعبدے کے ذریعے بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ اگرچہ اس کتاب کو فنِ شکم گوئی کی سائنسی وضاحت کی پہلی کتاب قرار دینا درست نہیں، تاہم یہ اس فکری تبدیلی کی ایک اہم مثال تھی جس میں پراسرار سمجھے جانے والے مظاہر کو انسانی مہارت اور فریب کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش شروع ہوئی۔
کیمبرج یونیورسٹی پریس کے تحقیقی جریدے ’چرچ ہسٹری‘ میں مؤرخ لیگ ایرک شمٹ کے تحقیقی مطالعے کے مطابق سترہویں صدی میں شکم گوئی اور اس نوعیت کے صوتی مظاہر اب بھی مذہبی اور ماورائی تصورات سے وابستہ تھے۔ بعض حلقوں میں غیر معمولی آوازوں کو ارواح، شیطانی اثرات یا جنّاتی قبضے کے تناظر میں سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اسی عرصے میں ایسے مظاہر کو شعبدے اور انسانی کرتب کے طور پر دیکھنے کا رجحان بھی بڑھنے لگا۔ یوں شکم گوئی آہستہ آہستہ مذہبی اسرار کے دائرے سے نکل کر تفریح اور شعبدے کی دنیا کی طرف بڑھنے لگی۔
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی اسٹیون کونر کی کتاب ’ڈمب اسٹرک: اے کلچرل ہسٹری آف وینٹریلوکوئزم‘ کے مطابق اٹھارہویں صدی میں شکم گوئی کے بارے میں فکری رویے میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی۔ اس دور میں انسانی آواز، سماعت اور ادراک کو زیادہ عقلی اور تجرباتی انداز میں سمجھنے کی کوشش کی جانے لگی۔ شکم گوئی کو صرف غیبی یا مذہبی مظہر سمجھنے کے بجائے اس کے صوتی اور نفسیاتی پہلوؤں پر بھی توجہ دی گئی، جس سے یہ فن رفتہ رفتہ مذہبی اسرار سے نکل کر عوامی تفریح اور اسٹیج کے قریب پہنچا۔
1772ء میں شائع ہونے والی ژاں بپتیست دو لا شاپیل کی کتاب ’لے وینٹریلوک، او لَی انگاسٹریمِتھ‘ کے کتابی ریکارڈ کے مطابق اس زمانے تک شکم گوئی باقاعدہ علمی اور ادبی بحث کا موضوع بن چکی تھی۔ اس کتاب میں شکم گوئی کی تعریف، اس سے وابستہ قدیم تصورات اور مختلف شکم گوؤں کے بارے میں گفتگو کی گئی۔ اس تصنیف کی اہمیت یہ ہے کہ یہ اس دور کی نمائندگی کرتی ہے جب شکم گوئی کو محض پراسرار یا مذہبی مظہر کے بجائے ایک قابلِ مطالعہ انسانی فن کے طور پر بھی دیکھا جانے لگا تھا۔
کیمبرج یونیورسٹی پریس میں شائع ہونے والے لیگ ایرک شمٹ کے تحقیقی مطالعے کے مطابق اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے آغاز تک شکم گوئی نے عوامی تفریح میں اپنی جگہ بنانا شروع کردی تھی۔ فن کار اب صرف یہ تاثر پیدا نہیں کرتے تھے کہ آواز کسی پوشیدہ مقام سے آرہی ہے بلکہ اس کے ساتھ مکالمہ، مزاح اور کردار نگاری بھی شامل کرنے لگے۔ اس تبدیلی نے شکم گوئی کو محض صوتی کرتب سے ایک باقاعدہ اسٹیج پرفارمنس میں تبدیل کرنے کی بنیاد فراہم کی۔
انگلش ہیریٹیج کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق انیسویں صدی کے آخر میں برطانوی فن کار فریڈ رسل نے جدید اسٹیج شکم گوئی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ فریڈ رسل، جن کا اصل نام تھامس فریڈرک پارنل تھا، 1862ء میں لندن میں پیدا ہوئے اور بعد میں شکم گوئی کو پیشہ ورانہ اسٹیج تفریح کا حصہ بنانے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ انگلش ہیریٹیج کے مطابق انہیں ’’Father of Modern Ventriloquism‘‘ کہا جاتا ہے۔
انگلش ہیریٹیج کے مطابق فریڈ رسل کی خاص پہچان ان کا پُتلا ’’کوسٹر جو‘‘ (Coster Joe) تھا، جس کے ساتھ وہ برجستہ اور مزاحیہ مکالمے پیش کرتے تھے۔ ان کے ہاں پُتلا محض آواز کا ذریعہ نہیں رہتا تھا بلکہ ایک مستقل کردار بن جاتا تھا۔ فن کار اور پُتلے کے درمیان مکالمے اور کرداروں کے باہمی تضاد نے شکم گوئی کو ایک مکمل مزاحیہ اسٹیج فن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رسل نے شکم گوئی کی پیش کش کے انداز کو نمایاں طور پر تبدیل کیا اور بعد کے فن کاروں کے لیے ایک نیا نمونہ قائم کیا۔اسمتھسونین انسٹی ٹیوشن کے نیشنل میوزیم آف امریکن ہسٹری کے مطابق بیسویں صدی میں ریڈیو کی آمد نے شکم گوئی کے فن کے سامنے ایک بظاہر عجیب صورتِ حال پیدا کردی، کیونکہ ریڈیو کے سامعین فن کار اور پُتلے کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس کے باوجود امریکی شکم گو ایڈگر برجن اور ان کے مشہور پُتلے چارلی میکارتھی نے ثابت کیا کہ اس فن کی کشش صرف بصری فریب تک محدود نہیں بلکہ کردار، مکالمے اور مزاح بھی اس کی مقبولیت کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ برجن اور چارلی میکارتھی نے ریڈیو کے ذریعے شکم گوئی کو وسیع امریکی سامعین تک پہنچایا۔
اسمتھسونین کے مطابق ایڈگر برجن اور چارلی میکارتھی نے 1937ء سے مقبول ریڈیو پروگراموں میں غیر معمولی شہرت حاصل کی اور 1956ء تک ان کی ریڈیو مقبولیت برقرار رہی۔ چارلی میکارتھی کو ایک شوخ، حاضر جواب اور طنزیہ کردار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جبکہ برجن نسبتاً سنجیدہ کردار میں اس کے ساتھ مکالمہ کرتے تھے۔ اس کامیابی نے شکم گوئی کو محض اسٹیج پر دکھائے جانے والے ایک فن سے نکال کر امریکی مقبول ثقافت کا حصہ بنا دیا۔
اسمتھسونین کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق ایڈگر برجن نے چارلی میکارتھی کے ساتھ ریڈیو کے علاوہ فلم اور ٹیلی وژن میں بھی کام کیا۔ اس طرح شکم گوئی نے بیسویں صدی میں تفریح کے بدلتے ہوئے ذرائع کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا۔ ریڈیو نے اسے آواز اور مکالمے کے ذریعے گھر گھر پہنچایا، فلم نے اسے بصری تفریح کا حصہ بنایا اور ٹیلی وژن نے فن کار، پُتلے اور ناظر کے درمیان بصری تعلق دوبارہ قائم کردیا۔
ورلڈ انسائیکلوپیڈیا آف پپٹری آرٹس کے مطابق جدید دور میں فنِ شکم گوئی بنیادی طور پر ایک تفریحی اور پرفارمنگ آرٹ کی حیثیت رکھتا ہے، اگرچہ بعض جگہوں پر اسے تعلیم اور دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید شکم گوئی میں پُتلا صرف ایک مصنوعی کردار نہیں بلکہ فن کار کی تخلیق کردہ ایک مکمل شخصیت ہوتا ہے، جس کی اپنی آواز، انداز، مزاج اور کردار ہوتا ہے۔ اس طرح اس فن میں صوتی مہارت کے ساتھ پپٹری، اداکاری، مکالمہ، مزاح اور کردار نگاری سب ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور جدید پپٹری کے تحقیقی مطالعوں سے سامنے آنے والے تاریخی تسلسل کے مطابق فنِ شکم گوئی نے ایک طویل اور حیرت انگیز سفر طے کیا ہے۔ قدیم دنیا میں یہ مذہبی اور غیبی تصورات سے وابستہ تھا، پھر جادوگری اور ماورائی قوتوں کے مباحث کا حصہ بنا، بعد میں اسے عقلی اور تجرباتی انداز سے سمجھنے کی کوشش کی گئی، اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں یہ عوامی تفریح اور اسٹیج فن میں تبدیل ہوا، جبکہ بیسویں صدی میں ریڈیو، فلم اور ٹیلی وژن نے اسے وسیع پیمانے پر مقبول کردیا۔ آج یہ ایک مکمل پرفارمنگ آرٹ ہے جس میں انسانی آواز کی مہارت، اداکاری، پپٹری، مکالمہ، مزاح اور کردار نگاری باہم مل کر ایک منفرد فن تشکیل دیتے ہیں۔
وینٹ ہیون انٹرنیشنل وینٹریلوکوئسٹس کنونشن کی 2026ء کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق فنِ شکم گوئی آج بھی ایک زندہ اور فعال بین الاقوامی پرفارمنگ آرٹ ہے۔ 15 سے 18 جولائی 2026ء کو امریکا کی ریاست کینٹکی کے شہر ایرلانگر میں منعقد ہونے والے وینٹ ہیون انٹرنیشنل وینٹریلوکوئسٹ کنونشن میں دنیا بھر کے شکم گوؤں اور پرفارمرز کے لیے عالمی اجتماع، پرفارمنسز، لیکچرز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا۔ یہ بین الاقوامی اجتماع اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شکم گوئی آج بھی ایک باقاعدہ اور فعال عالمی فن ہے۔
وینٹ ہیون انٹرنیشنل وینٹریلوکوئسٹس کنونشن کے 2026ء کے سرکاری پروگرام کے مطابق امریکی شکم گو جیف ڈنہم موجودہ دور کے نمایاں فن کاروں میں شامل ہیں۔ 2026ء کے کنونشن میں ان کی شرکت بھی پروگرام کا حصہ تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف تاریخی طور پر معروف فن کار نہیں بلکہ موجودہ دور میں بھی فعال طور پر شکم گوئی کے فن سے وابستہ ہیں۔
جیف ڈنہم کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے کم عمری میں شکم گوئی شروع کی اور بعد میں اپنے مختلف پُتلی کرداروں کے ساتھ عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی۔ ان کی سرکاری سوانح کے مطابق وہ عالمی دورے کرنے والے فن کار ہیں اور ان کے شوز میں ان کے تخلیق کردہ مختلف پُتلی کردار مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ یوں جدید دور میں جیف ڈنہم اس فن کی اس شکل کی نمایاں مثال ہیں جس میں شکم گوئی کو بڑے پیمانے کی کامیڈی اور اسٹیج تفریح کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ڈارسی لین کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق وہ موجودہ دور میں شکم گوئی کے ساتھ گلوکاری اور اداکاری بھی کرتی ہیں۔ انہوں نے 12 سال کی عمر میں این بی سی کے پروگرام ’امریکاز گوٹ ٹیلنٹ‘ میں شکم گوئی کے ذریعے شہرت حاصل کی اور 2017ء میں اس مقابلے کا بارہواں سیزن جیتا۔ بعد میں انہوں نے گلوکاری اور دیگر پرفارمنگ آرٹس میں بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
وینٹ ہیون انٹرنیشنل وینٹریلوکوئسٹس کنونشن کی 2026ء کی سرکاری فن کاروں کی فہرست کے مطابق بھارت کی انڈوشری رویندرا بھی موجودہ عالمی شکم گوئی کے منظرنامے میں شامل ہیں۔ ان کا نام اسی بین الاقوامی فہرست میں دوسرے فن کاروں کے ساتھ درج ہے۔ اس طرح بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں سے موجودہ دور کے شکم گو عالمی سطح کے اس فن کے بین الاقوامی اجتماعات میں شرکت کر رہے ہیں۔
وینٹ ہیون انٹرنیشنل وینٹریلوکوئسٹس کنونشن کے سرکاری پروگرام کے مطابق موجودہ دور میں شکم گوئی صرف اسٹیج پرفارمنس تک محدود نہیں بلکہ اس کی باقاعدہ تربیت اور فنی تعلیم بھی جاری ہے۔ 2026ء کے پروگرام میں لیکچرز، ورکشاپس، ٹیلنٹ شوکیس اور مختلف تربیتی نشستیں شامل تھیں۔ ان میں پُتلے کے ساتھ فنِ شکم گوئی، آواز، کردار سازی، اسٹیج پرفارمنس اور فنی مہارت سے متعلق موضوعات شامل تھے۔
وینٹ ہیون انٹرنیشنل وینٹریلوکوئسٹس کنونشن کے سرکاری تعارف کے مطابق یہ اجتماع پیشہ ور، جزوقتی اور شوقیہ شکم گوؤں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے اور نئے فن کاروں کو سیکھنے اور تجربہ کار فن کاروں سے تربیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس اجتماع کا مقصد مختلف نسلوں کے شکم گوؤں کو ایک عالمی برادری میں جوڑنا اور فن کے تجربات، مہارتوں اور تربیت کا تبادلہ کرنا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید دور میں شکم گوئی صرف چند مشہور فن کاروں تک محدود نہیں بلکہ اس کی ایک باقاعدہ عالمی فنی برادری بھی موجود ہے۔
موجودہ دور کے ان مستند شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ فنِ شکم گوئی نے اپنی قدیم شکلوں سے بہت آگے بڑھ کر جدید اسٹیج، کامیڈی، ٹیلی وژن، عالمی دوروں، بین الاقوامی کنونشنوں اور تربیتی پروگراموں میں جگہ بنا لی ہے۔ امریکا کے جیف ڈنہم اور ڈارسی لین جیسے فن کار، بھارت کی انڈوشری رویندرا اور مختلف دوسرے ممالک کے فن کار اس فن کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح ہزاروں سال پرانا یہ فن جدید ذرائع اور بدلتے ہوئے تفریحی رجحانات کے باوجود اپنی الگ شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
فنِ شکم گوئی میں فن کار اپنی آواز اس مہارت سے ادا کرتا ہے کہ ہونٹوں اور منہ کی حرکات بہت کم دکھائی دیں۔ عموماً اس فن میں ایک پتلے یا گڑیا نما کردار کو استعمال کیا جاتا ہے اور فن کار اپنی آواز، چہرے کے تاثرات، نگاہ اور جسمانی حرکات کو اس انداز سے ہم آہنگ کرتا ہے کہ ناظرین کو محسوس ہوتا ہے جیسے سامنے رکھا ہوا کردار خود گفتگو کر رہا ہو۔ اس فن کی کامیابی کا انحصار آواز پر قابو، الفاظ کی واضح ادائیگی، ہونٹوں کی محدود حرکت اور کردار کو حقیقت کا تاثر دینے والی اداکاری پر ہوتا ہے۔
پاکستان میں بھی فنِ شکم گوئی نے اپنی جگہ بنائی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق فراز سرور کو پاکستان کا پہلا وینٹریلوکسٹ (فنِ شکم گو) قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے 2025ء میں سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جہاں انہوں نے اپنی منفرد صلاحیت سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ فراز سرور کا فنِ شکم گوئی سے وابستہ ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ قدیم فن آج بھی پاکستان میں اپنی کشش اور انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
سائنسی اعتبار سے آواز پیٹ سے نہیں بلکہ انسانی صوتی نظام سے پیدا ہوتی ہے؛ اس لیے فنِ شکم گوئی میں ’’پیٹ سے آواز نکالنے‘‘ کا تصور درست نہیں۔ اس فن کی اصل کمال کاری آواز کے منبع کے بارے میں سامع کے تاثر کو بدلنے میں ہے۔ جدید دور میں یہ فن اسٹیج اور تھیٹر سے آگے بڑھ کر ٹیلی وژن، فلم، بچوں کے پروگرام، کامیڈی اور سوشل میڈیا تک پہنچ چکا ہے۔ یوں ایک زمانے میں پراسرار اور ماورائی تصورات سے وابستہ رہنے والا یہ فن آج آواز، اداکاری اور پرفارمنس کے امتزاج پر مبنی ایک باقاعدہ فن کی صورت اختیار کرچکا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی*
*کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج مودی سرکار کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، نوجوانوں کی تحریک انقلاب اور جمہوری اقدار کا امتحان…..کاکروچ جنتا پارٹی جنتر منتر سے احتجاجی تحریک کا آغاز*
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، تاہم گزشتہ برسوں میں انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے سنگین خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ نریندر مودی نے 26 مئی 2014ء کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں پہلی بار وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا، جس کے بعد ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ بھارت میں مسلمانوں،عیسائیوں، دلتوں اور جموں و کشمیر کے عوام سے متعلق بعض معاملات میں بنیادی حقوق، مساوات اور انصاف کے اصولوں پر سوالات اٹھے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایک جمہوری ریاست کی اصل پہچان صرف انتخابات نہیں بلکہ تمام شہریوں کے حقوق کا یکساں تحفظ، قانون کی بالادستی اور اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ رویہ بھی ہے۔
بھارت میں گزشتہ کئی برسوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سنگین خدشات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافتی اداروں اور مبصرین نے اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں، اور بعض ریاستوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کے استعمال پر بارہا سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اختلافی آوازوں کو دبانے، سیاسی مخالفین پر دباؤ بڑھانے اور شہری آزادیوں کو محدود کرنے کے واقعات نے ملک میں جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے بارے میں تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ بھارتی حکومت ان میں سے متعدد الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اپنے اقدامات کو قانون و امن اور قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر یہ مطالبہ مسلسل کیا جا رہا ہے کہ تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ، قانون کی یکساں عملداری اور انسانی حقوق کے عالمی معیارات کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے۔
انسانی حقوق کا تحفظ کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن بھارت میں بعض واقعات نے شہری آزادیوں، انصاف کے تقاضوں اور ریاستی ذمہ داریوں پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی سے وابستہ افراد کے حوالے سے سامنے آنے والے پرتشدد واقعات انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے. ناقدین کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے بروقت توجہ نہ دینا اور مسائل کے حل میں تاخیر جمہوری اقدار اور شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی بھارت میں 2026 میں سامنے آنے والی ایک طنزیہ سیاسی تحریک ہے، جس نے سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ یہ روایتی سیاسی جماعت کے بجائے ابتدا میں ایک آن لائن احتجاجی اور طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی۔اس تحریک کا آغاز ایک عدالتی تبصرے کے بعد ہوا۔ رپورٹس کے مطابق بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک تبصرے میں بعض لوگوں کو “کاکروچ” سے تشبیہ دی گئی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نوجوانوں کے ایک گروپ نے اسی لفظ کو احتجاجی شناخت کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اسی پس منظر میں (میں بھی کاکروچ ہوں) کا نعرہ سامنے آیا اور بعد میں کاکروچ جنتا پارٹی کا نام اختیار کیا گیا۔اس تحریک کے بانی کے طور پر ابھیجیت ڈپکے کا نام سامنے آتا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق وہ ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ ہیں اور ماضی میں عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں سے بھی منسلک رہے ہیں، تاہم CJP خود کو ایک آزاد نوجوانوں کی تحریک کے طور پر پیش کرتی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بنیادی نکات میں نوجوانوں کے مسائل، روزگار، ادارہ جاتی اصلاحات اور سیاسی احتساب شامل ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا سب سے نمایاں اور اہم مطالبہ نیٹ (NEET-UG) پیپر لیک تنازعے کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا ہے۔ تحریک کا مؤقف ہے کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑے اس حساس معاملے میں وزارتِ تعلیم اخلاقی ذمہ داری قبول کرے، کیونکہ امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں نے نوجوانوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ جب ایک قومی سطح کے امتحان کی شفافیت پر سوالات اٹھیں اور طلبہ سڑکوں پر احتجاج کریں تو ذمہ دار عہدوں پر موجود افراد کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ اسی مطالبے کو بنیاد بنا کر CJP نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کو اپنی مہم کا مرکزی نکتہ بنایا اور اسے تعلیمی نظام میں احتساب اور شفافیت کی جدوجہد قرار دیا۔6 جون 2026ء کو کاکروچ جنتا پارٹی نے نئی دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر اپنے احتجاج کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس احتجاج کا بنیادی مطالبہ نیٹ (NEET) سمیت مختلف قومی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے معاملات کی شفاف تحقیقات کے ساتھ وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا تھا۔ اس احتجاج میں طلبہ، والدین اور سماجی کارکنوں نے بھی شرکت کی۔
(NEET — National Eligibility cum Entrance Test)
بھارت کا قومی میڈیکل داخلہ امتحان ہے، جس میں لاکھوں طلبہ شرکت کرتے ہیں.
بعد ازاں 20 جون 2026ء سے اس احتجاج کو غیر معینہ مدت کے دھرنے کی صورت دے دی گئی، جس کے بعد یہ تحریک مزید وسعت اختیار کر گئی۔کاکروچ جنتا پارٹی کی مہم کو صرف طلبہ اور نوجوانوں تک محدود حمایت ہی حاصل نہیں ہوئی بلکہ متعدد سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، دانشوروں، صحافیوں، ادیبوں اور فلمی شخصیات نے بھی مختلف مواقع پر اس سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ ان شخصیات نے تعلیمی شفافیت، امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک کے خاتمے، احتساب اور طلبہ کے آئینی و جمہوری حقوق کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے مہم کی اخلاقی و عوامی حمایت کی۔ اس وسیع تر حمایت نے اس تحریک کو محض ایک طلبہ احتجاج سے آگے بڑھا کر ایک ایسی عوامی آواز کی شکل دی جس نے ملک بھر میں تعلیمی انصاف، شفاف طرزِ حکمرانی اور جوابدہی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت کرنے والی شخصیات میں سب سے نمایاں نام معروف سائنس دان، انجینئر، اختراع کار، ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچوک کا ہے۔ انہوں نے خود کو “اعزازی کاکروچ” قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس تحریک سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا بلکہ نئی دہلی کے جنتر منتر پر پارٹی کے مطالبات کی حمایت میں مسلسل 21 روز تک علامتی بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا وزن تقریباً نو کلو گرام کم ہو چکا ہے۔ ان کے ساتھ پانچ، چھ دوسرے اسٹوڈنٹس بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ انھوں نے امتحانات میں شفافیت لانے اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں سے تین کی حالت نازک ہونے کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ایک طالبہ کے ساتھ دو اور اسٹوڈنٹس بھوک ہڑتال پر موجود تھے ۔کئی اپوزیشن رہنماؤں، فنکاروں اور ادیبوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے، لیکن وانگچک نے ابھی تک اس سے گریز کیا ہے۔
سونم وانگچوک کی اس جرات مندانہ حمایت نے کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک کو نئی توانائی، اخلاقی قوت اور قومی سطح پر غیر معمولی توجہ دلائی، جس کے نتیجے میں یہ احتجاج طلبہ، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں میں مزید مضبوط اور مؤثر انداز میں ابھر کر سامنے آیا۔سونم وانگچوک لداخ، بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف انجینئر، موجد، ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن ہیں۔ وہ یکم ستمبر 1966ء کو لداخ کے علاقے الچی (Alchi) کے قریب پیدا ہوئے۔ انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سری نگر سے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔
1988ء میں انہوں نے لداخ میں “اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ” (SECMOL) قائم کیا، جس کا مقصد خطے کے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا تھا۔ وہ پائیدار تعمیرات، متبادل تعلیم اور پانی کے تحفظ کے لیے “آئس اسٹوپا” مصنوعی گلیشیئر منصوبے کے باعث عالمی سطح پر مشہور ہوئے۔ان کی تعلیمی اور ماحولیاتی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2018ء میں رامون میگسیسے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
انہوں نے 1988ء میں Students’ Educational and Cultural Movement of Ladakh (SECMOL) قائم کیا، جو لداخ میں تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کرتا ہے.
آئس اسٹوپا تکنیک کو متعارف اور فروغ دینے والے
جو مصنوعی برفانی ذخیرے کی ایک تکنیک ہے۔ اس کا مقصد سردیوں کے پانی کو محفوظ کرکے موسمِ بہار میں زراعت کے لیے استعمال کرنا ہے۔
انہیں رامون میگسیسے ایوارڈ (2018ء)، رولیکس ایوارڈ فار انٹرپرائز (2016ء)، گلوبل ایوارڈ فار سسٹین ایبل آرکیٹیکچر (2017ء) اور دیگر اعزازات مل چکے ہیں۔
زیادہ تر تعلیمی، سماجی اور ماحولیاتی کارکن کے طور پر سرگرم رہے ہیں۔ انہوں نے لداخ جیسے سرد ریگستان میں پانی کی قلت دور کرنے کے لیے مصنوعی گلیشیئر بنائے۔ یہ برف کے مخروطی مینار (Cones) ہوتے ہیں جو سردیوں میں پانی کو ذخیرہ کرتے ہیں اور بہار میں پگھل کر کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرتے ہیں.انہوں نے شمسی توانائی سے گرم رہنے والی عمارتیں
مٹی اور مقامی وسائل سے ایسے ماحول دوست گھر اور اسکول ڈیزائن کیے جو لداخ کی شدید سردی (-15°C) میں بھی بغیر کسی ایندھن (Fossil Fuel) کے اندر سے گرم رہتے ہیں۔
سونم وانگچوک نے لداخ میں “ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹیوز، لداخ” (Himalayan Institute of Alternatives, Ladakh – HIAL) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ ایک منفرد متبادل اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو صرف روایتی نصابی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے عملی تعلیم، اختراع، تحقیق، ذمہ دارانہ کاروباری صلاحیت اور پائیدار ترقی کے اصولوں سے آراستہ کرنا ہے۔ اس ادارے میں طلبہ کو مقامی ضروریات اور عالمی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے عملی منصوبوں پر کام کرایا جاتا ہے جو ماحول دوست، سماجی طور پر مفید اور معاشی طور پر پائیدار ہوں، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کے مسائل کا مؤثر حل پیش کر سکیں۔
سونم وانگچوک کو فلپائن حکومت نے براہِ راست کوئی سرکاری انعام نہیں دیا، بلکہ جس بڑے اعزاز کا تعلق فلپائن سے ہے وہ رامون میگسیسے ایوارڈ (Ramon Magsaysay Award) ہے۔ یہ ایوارڈ فلپائن کے سابق صدر رامون میگسیسے کے نام پر قائم فاؤنڈیشن دیتی ہے، جسے ایشیا کا ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
سونم وانگچوک کو 2018ء میں رامون میگسیسے ایوارڈ دیا گیا۔ انہیں یہ اعزاز لداخ کے دور دراز علاقوں میں تعلیمی نظام میں اصلاحات، طلبہ کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے، مقامی برادری کے ساتھ مل کر تعلیم اور سماجی ترقی کے لیے کام کرنے پر دیا گیا۔ سونم وانگچوک کی تعلیمی اور سماجی خدمات کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا۔ انہیں 2018ء میں فلپائن سے منسوب ایشیا کے معروف ترین اعزازات میں شمار ہونے والا “رامون میگسیسے ایوارڈ” دیا گیا۔ یہ اعزاز انہیں لداخ کے پسماندہ علاقوں میں تعلیمی اصلاحات، طلبہ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور مقامی مسائل کے سائنسی و اجتماعی حل تلاش کرنے کی خدمات پر دیا گیا۔سونم وانگچوک کی شخصیت، اختراعی سوچ اور تعلیمی فلسفے سے متاثر ہو کر بالی ووڈ کی مشہور فلم 3 Idiots میں عامر خان کے کردار “پھنسکھ وانگڈو” (Phunsukh Wangdu) کو تخلیق کیا گیا تھا۔ تاہم، فلم کی مکمل کہانی سونم وانگچوک کی سوانحِ حیات پر مبنی نہیں تھی، بلکہ ان کی شخصیت اور تعلیمی نظریات سے تحریک لے کر اس کردار کو تشکیل دیا گیا تھا۔
سونم وانگچوک نے 28 جون 2026ء کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر تعلیمی نظام میں اصلاحات، امتحانی بے ضابطگیوں اور مبینہ پیپر لیک کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی۔ ان کی اس مہم کو مختلف سماجی کارکنوں، دانشوروں اور طلبہ حلقوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ وہ مسلسل 21 دن تک بھوک ہڑتال پر رہے، جس کے بعد 18 جولائی 2026ء کو دہلی پولیس نے زبردستی جنتر منتر سے اٹھا کر اسپتال منتقل کر دیا۔مودی نے اپنے بھارتی محسن کو بھی نہیں بخشا جنہوں نے بھارتی تعلیمی نظام کے لیے اعلیٰ خدمات انجام دیں. وانگچک شدید گرمی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے اور صرف نمک اور پانی استعمال کر رہے تھے۔ ان کا وزن نو کلوگرام سے زیادہ کم ہو چکا تھا اور وہ شدید تکلیف میں تھے۔
ان کے ساتھ مزید چھ طلبہ طالبات بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں، جو امتحانی نظام میں شفافیت، پیپر لیک جیسے واقعات کے خاتمے اور وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طویل بھوک ہڑتال کے باعث ان میں سے تین طلبہ کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ ایک طالبہ سمیت دو دیگر طلبہ بدستور احتجاجی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے طلبہ کے عزم اور اپنے مطالبات کے لیے ان کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔اس احتجاج کو سیاسی، سماجی اور ثقافتی حلقوں سے خاصی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے متعدد رہنماؤں، جن میں اروند کیجریوال، ممتا بنرجی، ادھو ٹھاکرے اور اکھلیش یادو شامل ہیں، نے وانگچک سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے، اگرچہ ان میں سے اکثر نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
سونم وانگچوک کی گرفتاری کے دوران تقریباً 500 پولیس اہلکاروں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں کئی اہلکار مبینہ طور پر سول لباس میں تھے۔ احتجاجی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ ان اہلکاروں کے ساتھ آر ایس ایس کے غنڈے بھی موجود تھے۔
18 جولائی کو احتجاجی مقام سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 07:30 بجے کے قریب افراتفری پھیل گئی، جب درجنوں پولیس اور نیم فوجی اہلکار اسٹیج پر پہنچ گئے جہاں کارکن لیٹے ہوئے تھے۔ مظاہرین نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو انھیں پیچھے دھکیل دیا گیا۔اس دوران طلبہ پر زبردست لاٹھی چارج کیا گیا.
اہلکاروں نے چادروں کے پردے لگا کر انھیں اسٹیج سے ہٹا دیا۔ چند منٹ بعد ایک ایمبولینس کو تیزی سے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے بعد میں ایکس پر لکھا کہ وہ ’صفدر جنگ ہسپتال میں ہیں جہاں انھیں داخل کر لیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ناقدین کے مطابق کسی پرامن احتجاج کرنے والے رہنما کے ساتھ ایسا طرزِ عمل بنیادی انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے اصولوں کے منافی ہے۔
مودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ سونم وانگچوک کی گرفتاری کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی ایک انقلابی تحریک بن گئی ہے۔ جنتر منتر پر موجود ہزاروں کی تعداد میں جین زی نوجوان انقلابی نعرے لگا رہے ہیں۔ نوجوانوں میں مودی سرکار کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے اور انہوں نے اب ’’مودی ہٹاؤ‘‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے ہیں۔ دوسری طرف سونم وانگچوک کی جگہ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ حالات مودی حکومت کے قابو سے باہر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
وانگچوک نے اپنی احتجاجی مہم کے ذریعے حکومت سے تعلیمی نظام میں شفافیت، جواب دہی اور طلبہ کے مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے 20 جولائی کو انڈین پارلیمان تک مارچ کا منصوبہ بنایا تھا۔20 جولائی 2026 کو کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے اعلان کے مطابق دہلی میں “سنسد ” پارلیمنٹ چلو مارچ کیا، جس میں ہزاروں طلبہ، نوجوانوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ مون سون اجلاس یہ 20 جولائی سے 13 اگست 2026 تک جاری رہنے والا تھا اور اس میں 19 نشستیں رکھی گئی ہیں۔اسی مون سون اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں کارروائی شروع ہوئی، جبکہ اپوزیشن نے امتحانی بے ضابطگیوں اور دیگر معاملات پر احتجاج کیا.
پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے دہلی پولیس نے متعدد مقامات پر بیریکیڈز کھڑے کیے، آنسو گیس کے گولے داغے اور پرتشدد لاٹھی چارج کیا۔ احتجاج میں کم عمر لڑکے اور لڑکیاں، جن کی عمریں تقریباً 14 سال تھیں، بھی شامل تھے، مگر پولیس نے ان پر بھی مبینہ طور پر ظالمانہ تشدد کیا۔ لاٹھی چارج کے نتیجے میں بہت سے نوجوانوں کے سر پھٹ گئے، ہاتھ ٹوٹ گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ 20 جولائی کو بھارت کی تاریخ کا ایک سیاہ دن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد مودی سرکار کے خلاف نوجوانوں میں شدید نفرت اور غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ بہت سے نوجوان، خصوصاً کم عمر لڑکے اور لڑکیاں، چیخ چیخ کر اور رو رو کر آئندہ بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اب بھارت میں ہندو مسلم کی سیاست نہیں چلے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے ہمیشہ گاؤ رکھشا، “ہندو خطرے میں ہے” اور ہندوتوا کے نعروں کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا، مگر اب بھارت کی عوام جاگ گئی ہے۔کئی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا جبکہ مختلف افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں.احتجاج صرف دہلی تک محدود نہیں رہا بلکہ ممبئی، بنگلورو اور گوا سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے اور یکجہتی کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ ممبئی میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ گوا میں شمعیں روشن کر کے احتجاج کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق تحریک کے مطالبات میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، امتحانی نظام میں اصلاحات، سونم وانگچوک کے مطالبات پر پیش رفت، اور امتحانی اسکینڈل سے منسلک خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو معاوضہ شامل ہیں۔
احتجاج کے بعد پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کا اشارہ ملا۔ مرکزی وزیر جے پی نڈا نے تحریک کے نمائندوں سے ملاقات کی، مطالبات پر غور کی یقین دہانی کرائی اور مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی، تاہم تحریک کی قیادت نے واضح کیا کہ عملی اقدامات تک احتجاج جاری رہے گا۔
نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھارت کی کئی معروف شوبز شخصیات، ماحولیاتی اور سیاسی رہنماؤں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے.معروف تجربہ کار بالی ووڈ اداکارہ نے ذاتی طور پر جنتر منتر میں دھرنے کے مقام پر پہنچ کر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج مکمل پرامن اور آئین کے دائرے میں ہے.
پرکاش راج: تمل، تیلگو اور بالی ووڈ فلموں کے مایہ ناز اداکار اور فلم ساز پرکاش راج بھی مظاہرین کے ساتھ زمین پر بیٹھے نظر آئے اور حکومت کے خلاف نوجوانوں کے مطالبات کی حمایت کی۔
شوبز اور ماڈلنگ کی دنیا سے تعلق رکھنے والی پونم پانڈے بھی جنتر منتر پر احتجاج کا حصہ بنیں۔
ادبی اور فنی حلقوں سے بھی حمایت سامنے آئی ہے۔ بکر انعام سے سرفراز معروف ادیبہ اروندھتی رائے جنہیں 1997 میں اپنے ناول The God of Small Things پر بکر پرائز (Booker Prize) ملا تھا۔
معروف بالی وڈ اداکار
نصیرالدین شاہ، ان کی اہلیہ رتنا پاٹھک اور ماہرِ معاشیات جیوتی گھوش سمیت کئی ممتاز شخصیات نے احتجاج کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے وانگچک اور دیگر بھوک ہڑتالی مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی صحت کی خاطر احتجاج ختم کرنے پر غور کریں۔اداکار اومی ویدیا، جو فلم 3 ایڈیٹس میں ‘چتُر’ کے کردار کے لیے مشہور ہوئے، انھوں نے وانگچک کی حمایت کرتے ہوئے ان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ سوارا بھاسکر، ابھے دیول، عائشہ خان، شبانہ اعظمی اور دیگر فنکاروں نے بھی احتجاج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر سپورٹ کرنے والے ستارے: بالی ووڈ اور ساؤتھ انڈسٹری کے دیگر نامور ستاروں جیسے ریتک روشن، سوناکشی سنہا، سنجے دت، زینت امان، دیا مرزا، انوراگ کشیپ اور اداکار وجے (تھلپتی) نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے امتحانی شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔بھارت کے دارالحکومت کے وسطی علاقے میں صبح سویرے ہی طلبہ اور بڑی تعداد میں جین زی نوجوان جمع ہونا شروع ہو گئے، جو حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے.
مظاہرین کے نعرے تھے: “دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو” “مودی استعفیٰ دو”۔ جب جب مودی ڈرتا ہے پولیس کو آگے کرتا ہے.
انقلاب زندہ باد.
چوکیدار چور ہے چور ہے.
مودی ہٹاو دیش بچاو.
اب نہیں بولیں گے تو کب بولیں گے.مودی تیری تانا شاہی نہیں چلے گی نہیں چلے گی.مودی تیری غنڈہ گردی نہیں چلے نہیں چلے گی.گودی میڈیا چور ہے.مودی چائے والا، جبکہ سیکڑوں افراد رات ہی سے احتجاجی مقام پر موجود تھے۔
مرکزی حکومت کے ماتحت دہلی پولیس نے اس مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ شہر میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی، متعدد اہم شاہراہوں پر بیریکیڈز لگا دیے گئے اور وسطی دہلی میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی۔ جب مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
اس کے باوجود ہزاروں افراد احتجاج میں شریک ہوئے۔ مظاہرین کی بڑی تعداد وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید تنقید کر رہی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک کے نوجوانوں کو مایوس کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے اطراف سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے، جبکہ بعض مقامات پر مشتعل افراد کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔
ٹیلی ویژن فوٹیج میں بعض مقامات پر پولیس کو مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے دیکھا گیا
جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج سے سامنے آنے والی تصاویر اور اطلاعات واضح کرتی ہیں کہ بھارت میں پُرامن اختلافِ رائے کو دبایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پُرامن مظاہرین کے خلاف غیر ضروری اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کی اور انہیں پارلیمنٹ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اس کے علاوہ حکام نے میٹرو سروس اور موبائل انٹرنیٹ بھی معطل کر دیا، جس سے پُرامن اجتماع کے بنیادی حق پر مزید قدغن لگائی گئی۔ریاستی اداروں کی ذمہ داری پُرامن احتجاج کو تحفظ فراہم کرنا اور اسے ممکن بنانا ہے، نہ کہ اسے طاقت کے ذریعے دبانا۔ پُرامن اجتماع اور احتجاج کا حق بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور بھارتی آئین دونوں کے تحت تسلیم شدہ بنیادی حق ہے۔
دہلی پولیس کی کارروائیاں اس حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتی ہیں کہ آیا ان کا ردِعمل بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق قانونی حیثیت، ضرورت اور تناسب کے اصولوں پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔
بھارت کے پڑوسی ممالک، جیسے نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکیں حکومتوں کے خاتمے کا سبب بن چکی ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں بھارت میں اس نوعیت کے بڑے عوامی احتجاج کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ 12 برس سے اقتدار میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں بی جے پی نے مرکز اور مختلف ریاستوں میں غیر معمولی سیاسی طاقت حاصل کی، جبکہ حکومت کے ناقدین اور مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن اور قانونی کارروائیوں کے باعث اختلافِ رائے کی گنجائش مسلسل محدود ہوتی گئی ہے۔
دی گارڈین اور وال اسٹریٹ جرنل نے اس احتجاج کو نریندر مودی کی تیسری حکومت کے لیے نوجوانوں کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا عوامی چیلنج قرار دیا ہے، جس کی بنیاد امتحانی بدعنوانی، بے روزگاری اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی ہے۔
جنتر منتر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران مزہب رنگ ونسل سے بالاتر ہو کر مسلمان سکھ دیگر مزاہب کے لوگ سول سوسائٹی کے لوگ کاکروچ جنتا پارٹی کے انقلابی نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے ناشتا، دوپہر اور رات کے کھانے اور پینے کے لیے پانی کا بندوبست کر رہے ہیں خاص طور پر مسلمانوں کا اہم کردار ہے. مسلمان ہمیشہ تعصب سے بالاتر ہو کر سماجی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں.
مودی کی ہٹ دھرمی نے نوجوانوں کو انقلابی بنا دیا اب بات بہت آگے نکل چکی ہے.یہ تحریک انقلاب میں بدل چکی ہے اور مودی کی ہٹ دھرمی
نے نوجوانوں کو انقلابی بنا دیا ان نوجوانوں کے عزم و حوصلے بلند ہیں ان مظاہرین میں نوجوان طالبات لڑکیاں بزرگ بوڑھے ہر عمر کے افراد شامل ہیں.بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج ختم کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے ہیں:مرکزی وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ: NEET اور دیگر امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے اور امتحانی نظام کی ناکامی پر یونین منسٹر دھرمیندر پردھان سے فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سونم وانگچک کی فوری رہائی: بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک، جنہیں پولیس نے زبردستی صفدر جنگ ہسپتال منتقل کیا ہے، انہیں فوری رہا کرنے کا مطالبہ۔متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضہ: امتحانی پیپر لیک اسکینڈل کے بعد مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے NEET کے امیدواروں کے خاندانوں کو 1،1 کروڑ روپے بطور معاوضہ دیا جائے۔
پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کے مطابق، پولیس کے بدترین لاٹھی چارج اور تشدد کے باعث انہوں نے نئی دہلی کی سڑکوں پر پارلیمنٹ کی طرف مارچ فی الحال روک دیا ہے تاکہ مزید نوجوان زخمی نہ ہوں، تاہم نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا اور احتجاج مطالبات کی منظوری تک بدستور جاری رہے گا۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ اب مظاہرین نے مودی حکومت کے خلاف بھی نعرے بازی شروع کر دی ہے۔
سماجی و ماحولیاتی کارکن سونم وانگچوک نے دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال سے اپنے آفیشل اکاؤنٹ (سوشل میڈیا پلیٹ فارم X/ٹویٹر) پر ایک ہاتھ سے لکھا ہوا پیغام جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے ہسپتال میں اپنے داخلے کو “غیر قانونی حراست” قرار دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جاری احتجاج کو کامیاب بنائیں۔سونم وانگچوک نے ہسپتال کے بستر سے بھیجے گئے پیغام میں تعلیمی نظام کی مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیکس کے خلاف جاری احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ (سنسد چلو مارچ) کو “بھارت کی دوسری تحریکِ آزادی” قرار دیا ہے.
انہوں نے اپنے خط میں دو بڑے مطالبات دہرائے:خوف سے آزادی: ان کا کہنا تھا کہ ملک کو خوف کے ماحول سے آزاد ہونا چاہیے۔ناانصافی سے آزادی: تعلیمی نظام کی خرابیوں، پیپر لیکس اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کو روک کر ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے۔انہوں نے اپنی اہلیہ گیتانجلی کے ذریعے عوام اور نوجوانوں تک یہ پیغام پہنچایا کہ ان کی عدم موجودگی میں بھی 20 جولائی کو ہونے والے پارلیمنٹ مارچ کو بھرپور طریقے سے کامیاب بنایا جائے۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ ہسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود ان کی بھوک ہڑتال جاری ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر یہ شرط بھی رکھی کہ وہ اپنی ہڑتال صرف اسی صورت میں ختم کریں گے جب حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرے اور مختلف جماعتوں کے پارلیمنٹ ممبران (MPs) ان کے پاس آ کر یا پارلیمنٹ کے اندر اس مسئلے کو اٹھانے کی یقین دہانی کروائیں۔ سونم وانگچوک نے ہسپتال انتظامیہ کو باقاعدہ خط لکھ کر عارضی طور پر ڈسچارج کرنے کی درخواست بھی کی تھی تاکہ وہ خود مارچ میں شامل ہو سکیں، کیونکہ ان کے مطابق وہ جسمانی طور پر بالکل ٹھیک محسوس کر رہے ہیں۔عالمی میڈیا نے بھرپور کوریج کی جس میں رائٹرز، بی بی سی، الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) امریکہ، دی آسٹریلین آسٹریلیا شامل ہیں.
گودی میڈیا نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو منفی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی اور اسے پاکستان سے جوڑنے کی مہم چلائی۔ بعض میڈیا حلقوں نے یہ الزام عائد کرنے کی کوشش کی کہ اس احتجاج کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے، تاہم مظاہرین نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریک مقامی مسائل اور اپنے مطالبات سے متعلق ہے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے گودی میڈیا کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور الزام لگایا کہ بعض میڈیا ادارے حقائق کو نظر انداز کرکے حکومت کے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔بھارت میں حالات اب مودی حکومت کے قابو سے باہر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پرامن احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف پولیس طاقت کا استعمال، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی کارروائیوں نے بھارتی حکومت کے جمہوری دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متعدد نوجوانوں کے زخمی ہونے اور آنسو گیس کے باعث بے ہوش ہونے کی اطلاعات نے انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ مودی حکومت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، اب اپنے ہی شہریوں کی آواز دبانے کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق اختلافِ رائے کو طاقت کے زور پر کچلنے کی کوشش جمہوری اصولوں کی نفی ہے۔ پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگانے والی بھارتی حکومت کو اب اپنے اندرونی معاملات، شہری آزادیوں اور احتجاج سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر عالمی سوالات کا سامنا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک نے مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج پیدا کر دیا ہے اور اگر یہ عوامی تحریک مزید پھیلتی ہے تو یہ مودی حکومت کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے.
پولیس کی جانب سے کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کے خلاف کارروائی کے ایک روز بعد بھی 21 جولائی منگل کو ہزاروں افراد ایک بار پھر دہلی میں جمع ہوئے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی اور امتحانی نظام سے متعلق اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھیں گے، جبکہ گذشتہ روز ہونے والی پولیس کارروائی نے اس تحریک کے لیے حمایت میں مزید اضافہ کیا ہے۔
سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف مبینہ بے جا طاقت کے استعال کی مذمت کی جا رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں پرامن احتجاج کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور مظاہرین کے خلاف نامناسب طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے بورڈ کے چیئرمین آکار پٹیل کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پرامن مظاہرین کے خلاف غیر متناسب طاقت کا استعمال کیا گیا اور انھیں پارلیمنٹ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں.
تازہ اطلاعات کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک اور جنتر منتر احتجاج کی متعدد اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں نے مختلف انداز میں حمایت کی ہے:
راہول گاندھی (کانگریس) نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیا، حکومت پر پولیس تشدد کا الزام لگایا، دھرنے میں شریک ہوئے اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔
پریانکا گاندھی نے بھی مظاہرین کی حمایت کی اور حکومت پر پُرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کا الزام عائد کیا۔
اکھلیش یادو (سماجوادی پارٹی) نے سونم وانگچوک کی بھوک ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی قیمتی ہے، اور ساتھ ہی تعلیمی نظام میں جوابدہی اور اصلاحات کے مطالبات کی تائید کی۔
چراگ پاسوان نے کہا کہ طلبہ کے غصے کو دبانے کے بجائے حکومت کو ان کی بات سننی چاہیے اور مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کے اندر بھی انڈیا اتحاد سے وابستہ کئی اپوزیشن جماعتوں نے امتحانی بے ضابطگیوں اور احتجاج پر پولیس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا، اگرچہ اتحاد کی بعض جماعتوں کے درمیان حکمتِ عملی پر اختلافات بھی سامنے آئے۔
مجموعی طور پر اپوزیشن کا مؤقف یہ رہا کہ:
طلبہ کے پُرامن احتجاج کا احترام کیا جائے۔
پولیس تشدد کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوں۔
امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کی جائیں۔
…………………………………………
نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا رجحان فیشن بن گیا، خاموش قاتل خوشبو اور رنگوں کے پیچھے چھپا خطرناک زہر۔ نکوٹین کا زہریلا اثر نشے اور بیماریوں کی جڑ
جدید دور میں ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور بدلتے ہوئے طرزِ زندگی نے نوجوان نسل کی عادات،ترجیحات اور صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہی میں ابھرتا ہوا ایک خطرناک رجحان ویپنگ بھی ہے، جو گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر سمیت پاکستان میں تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ ویپنگ کو عام طور پر سگریٹ نوشی کا محفوظ متبادل” یا “کم نقصان دہ طریقہ” قرار دے کر پیش کیا جاتا ہے، مگر طبی ماہرین، عالمی ادارۂ صحت اور تحقیقاتی رپورٹس مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ ویپنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ رنگ برنگی ڈیوائسز، خوشبودار فلیورز، سوشل میڈیا پر تشہیر اور دوستوں کے دباؤ نے نوجوانوں کو اس عادت کی طرف تیزی سے مائل کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک نیا صحت کا بحران جنم لے رہا ہے۔ویپنگ دراصل الیکٹرانک سگریٹ یا ای سگریٹ کے ذریعے نکوٹین اور دیگر کیمیکل والے بخارات کو سانس کے ذریعے جسم میں داخل کرنے کا عمل ہے۔ یہ ڈیوائسز بیٹری سے چلتی ہیں اور ان میں موجود مائع کو گرم کرکے بخارات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ان بخارات میں نکوٹین، مختلف کیمیکل، بھاری دھاتیں اور بعض اوقات زہریلے مرکبات شامل ہوتے ہیں۔ کئی نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ویپنگ میں روایتی سگریٹ کی طرح دھواں پیدا نہیں ہوتا، اس لیے یہ نقصان دہ نہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نوجوان نسل ویپنگ سے شروعات کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ سگریٹ نوشی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں. پاکستان میں تمباکو نوشی ایک سنگین عوامی صحت اور معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ حالیہ سرکاری اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اس کے اثرات نہ صرف انسانی زندگی بلکہ معیشت پر بھی انتہائی بھاری ہیں۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تمباکو نوشی ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 80 لاکھ افراد کی جان لے لیتی ہے۔ اگرچہ ان اموات کی اکثریت بالغ افراد میں ہوتی ہے، تاہم تمباکو نوشی کا آغاز زیادہ تر نوجوانی میں ہونے کے باعث یہ ایک سنگین عالمی صحتی مسئلہ بن چکا ہے۔ تعلیمی اداروں، دفاتر اور دیگر مقامات پر سگریٹ نوشی کا بڑھتا رجحان نوجوان نسل کے لیے ایک دیرپا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (World Health Organization – WHO)، سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (SPDC) اور سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (SPARC) کی حالیہ فیکٹ شیٹس اور رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی ایک سنگین عوامی صحت اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ملک میں تمباکو کے استعمال سے ہونے والی بیماریوں اور اموات کے باعث سالانہ تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار سے 1 لاکھ 90 ہزار افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں تمباکو استعمال کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً 2.5 کروڑ سے 3 کروڑ کے درمیان ہے، جن میں ایک بڑی تعداد باقاعدہ سگریٹ نوشی کرتی ہے۔
SPDC (سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر) ایک معروف تحقیقی ادارہ ہے جس کا مکمل نام Social Policy and Development Centre ہے۔ یہ ادارہ پاکستان میں سماجی و معاشی پالیسیوں، غربت، ٹیکس نظام، صحت، تعلیم اور ترقیاتی امور پر تحقیق کرتا ہے اور حکومت و دیگر اداروں کو پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ SPDC کی رپورٹس اور مطالعات کو پاکستان میں پالیسی مباحث میں اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار پر مبنی تجزیہ پیش کرتی ہیں جو سماجی اور اقتصادی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کی حالیہ فیکٹ شیٹس کے مطابق تمباکو نوشی سے منسلک صحت کے مسائل اور اموات کے باعث ملک کو سالانہ تقریباً 1,835 ارب روپے (GDP کا تقریباً 1.6 فیصد) کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ تمباکو صنعت سے حاصل ہونے والا ٹیکس ریونیو اس کے مقابلے میں تقریباً 266 ارب روپے کے قریب ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں تمباکو کا مجموعی معاشی بوجھ اس کی ٹیکس آمدن سے کئی گنا زیادہ ہے، جو صحت عامہ اور معیشت دونوں پر ایک بڑھتا ہوا دباؤ ظاہر کرتا ہے۔
دنیا بھر میں تقریباً 1.25 ارب (یعنی 125 کروڑ) افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 1.3 ارب (یعنی تقریباً 130 کروڑ) تک پہنچتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (World Health Organization) کے مطابق ان میں بڑی تعداد ایشیائی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ چین میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد 30 کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے، جبکہ انڈونیشیا میں بالغ مردوں میں تمباکو نوشی کی شرح مختلف سرویز میں بلند، یعنی تقریباً 60 فیصد کے آس پاس رپورٹ کی گئی ہے۔ تمباکو نوشی دل کی بیماریوں، مختلف اقسام کے سرطان (کینسر) اور سانس کی مہلک بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جو عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔ پاکستان میں سگریٹ پر نافذ دو سطحی (two-tier) ٹیکس نظام کے تحت مختلف اقسام اور برانڈز پر مختلف شرحوں سے ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سستے اور مہنگے سگریٹ کے درمیان واضح قیمت کا فرق برقرار رہتا ہے۔ Social Policy and Development Centre (SPDC) اور Society for the Protection of the Rights of the Child (SPARC) کے مطابق اس ڈھانچے، نسبتاً سستے برانڈز کی دستیابی اور ٹیکس میں سست رفتار اضافے جیسے عوامل تمباکو مصنوعات کی affordability کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں، جس سے نوجوانوں سمیت بعض کم آمدنی والے طبقات کے لیے سگریٹ تک رسائی محدود کرنے کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ دیکھا گیا ہے کہ مؤثر ٹیکس پالیسیوں اور انسدادِ تمباکو اقدامات کے نتیجے میں کئی ممالک میں تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آئی ہے، جبکہ مختلف خطوں میں اس کمی کی رفتار پالیسیوں اور ان کے نفاذ کے معیار کے مطابق مختلف رہی ہے۔لیکن اصل مہلک اثر تمباکو کے جلنے سے پیدا ہونے والے زہریلے کیمیکلز سے ہوتا ہے. یہی مادے سرطان اور دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ ہیں.
نیکوٹین ایک قدرتی طور پر پایا جانے والا الکلائیڈ (نشہ آور کیمیکل) ہے جو بنیادی طور پر تمباکو کے پودے (Nicotiana tabacum) میں موجود ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر تمباکو کا استعمال قدیم امریکی تہذیبوں، خصوصاً مایا اور ازٹیک معاشروں میں مذہبی اور طبی مقاصد کے لیے کیا جاتا تھا، تاہم اس دور میں اس کے کیمیائی اجزا کے بارے میں سائنسی معلومات موجود نہیں تھیں۔ بعد ازاں جب تمباکو یورپ میں پہنچا اور اس پر سائنسی تحقیق شروع ہوئی تو 1828 میں جرمن کیمیا دان ولیلم ہائنرِش پوسلٹ (Wilhelm Heinrich Posselt) اور کارل لُڈوِگ ریمان (Karl Ludwig Reimann) نے پہلی مرتبہ تمباکو کے پودے سے نکوٹین کو الگ کر کے اسے ایک مخصوص کیمیائی مادے کے طور پر شناخت کیا، جسے نکوٹین کی سائنسی دریافت کا ابتدائی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔یہ سائنسی تاریخ میں نیکوٹین کی ابتدائی کیمیائی شناخت (isolation) کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جس کے بعد اس مادے کی خصوصیات اور اثرات پر مزید تحقیق کا آغاز ہوا۔
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق نیکوٹین ایک طاقتور نشہ آور مادہ ہے جو انسانی اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر وقتی طور پر چوکنا پن اور تسکین کا احساس پیدا کرتا ہے، لیکن اس کے مسلسل استعمال سے اس پر انحصار (نشے کی عادت) پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے نیکوٹین کو تمباکو نوشی کی عادت برقرار رکھنے میں ایک بنیادی عامل سمجھا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت World Health Organization کے مطابق نیکوٹین ایک ایسا مادہ ہے جو انسانی جسم میں نشہ پیدا کرتا ہے اور تمباکو مصنوعات کے استعمال کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مستند عالمی اور مقامی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ پاکستان میں تمباکو نوشی ایک صحت اور معاشی بحران ہے. اس کا نقصان اس سے حاصل ہونے والے ٹیکس سے کئی گنا زیادہ ہے.
اور اگر سخت پالیسی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ بوجھ مزید بڑھتا جائے گا.عالمی ادارۂ صحت World Health Organization کے مطابق ویپنگ کو مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس کے طویل المدتی اثرات پر تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ ادارے کے مطابق خاص طور پر نوجوانوں میں اس کے استعمال سے صحت پر ممکنہ منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ امریکا کے ادارۂ خوراک و ادویات U.S. Food and Drug Administration اور مراکز برائے امراض کنٹرول و روک تھام Centers for Disease Control and Prevention کی رپورٹس کے مطابق ویپنگ نوجوانوں میں نکوٹین کی لت کو فروغ دے سکتی ہے۔ نکوٹین ایک نشہ آور مادہ ہے جو دماغ کی نشوونما کو متاثر کرتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جن کا دماغ ابھی ارتقائی مراحل میں ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یادداشت، توجہ، سیکھنے کی صلاحیت اور فیصلہ سازی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بعض تحقیقات میں نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور مزاج میں تبدیلی جیسے نفسیاتی مسائل کے ساتھ اس کے ممکنہ تعلق کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ویپنگ کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کی جارحانہ مارکیٹنگ ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جدید انداز میں ویپنگ کو “فیشن”، “اسٹیٹس” اور “کول کلچر” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ “کول کلچر” سے مراد ایک ایسا سماجی رجحان اور طرزِ زندگی ہے جس میں افراد، خصوصاً نوجوان، خود کو جدید، متاثرکن اور سماجی طور پر قابلِ قبول ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کلچر میں فیشن، طرزِ گفتگو، موسیقی، سوشل میڈیا پر خود کی پیشکش اور مختلف جدید رجحانات کی پیروی کو نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق کول کلچر بعض اوقات شناخت کے اظہار اور سماجی قبولیت کے حصول میں مدد دیتا ہے، تاہم اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ بعض افراد اپنی اصل شخصیت کے بجائے محض وقتی رجحانات اور سماجی دباؤ کے زیرِ اثر زندگی گزارنے لگتے ہیں۔مختلف ذائقوں جیسے اسٹرابیری، چاکلیٹ، منٹ، آم اور ببل گم وغیرہ نے کم عمر نوجوانوں کو خصوصی طور پر متوجہ کیا ہے۔ متعدد تحقیقات کے مطابق خوشبودار فلیورز نوجوانوں کو ویپنگ کی طرف راغب کرنے کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک نے فلیورڈ ویپس کی فروخت پر پابندیاں عائد کرنا شروع کردی ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق ویپنگ صرف پھیپھڑوں ہی نہیں بلکہ دل، خون کی نالیوں اور دماغ کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ امریکی تحقیقاتی اداروں کے مطابق ویپنگ سے سانس کی بیماریاں، کھانسی، سینے میں جلن اور پھیپھڑوں کی سوزش میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
2019 میں امریکہ میں ای سگریٹ یا ویپنگ مصنوعات سے منسلک پھیپھڑوں کی شدید بیماری EVALI (E-cigarette or Vaping product–associated Lung Injury) کے ہزاروں اسپتال داخل کیسز رپورٹ ہوئے، جس نے بعد ازاں ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر لی۔ امریکی مراکز برائے امراض کنٹرول و روک تھام (Centers for Disease Control and Prevention – CDC) کے مطابق اس بیماری کے باعث متعدد اموات بھی رپورٹ ہوئیں اور اس نے ویپنگ کے ممکنہ خطرات پر عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی۔
جن میں درجنوں اموات بھی شامل تھیں۔ ان واقعات نے عالمی طبی ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کیا اور ویپنگ کے ممکنہ صحت خطرات پر عالمی سطح پر بحث کو مزید تیز کر دیا۔پاکستان میں بھی ویپنگ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، خاص طور پر بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں، کیفیز اور نوجوانوں کے اجتماعات میں ویپنگ عام دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں اس حوالے سے جامع اعداد و شمار محدود ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا، آن لائن خریداری اور کمزور نگرانی کے باعث نوجوان آسانی سے ویپنگ مصنوعات حاصل کر لیتے ہیں۔ کئی نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ ویپنگ سگریٹ نوشی چھوڑنے میں مدد دیتی ہے، مگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اکثر نوجوان پہلے ویپنگ شروع کرتے ہیں اور بعد میں روایتی سگریٹ نوشی کی طرف چلے جاتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں ویپنگ ایک نیا چیلنج بن چکی ہے۔ اساتذہ اور والدین کے لیے یہ جاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ نوجوان ویپنگ کررہے ہیں، بہت سی نئی ڈیوائسز یو ایس بی یا چھوٹے الیکٹرانک آلات جیسی نظر آتی ہیں. بعض نوجوان کلاس رومز، واش رومز یا خفیہ مقامات پر ویپنگ کرتے ہیں، جس سے تعلیمی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق نوجوانوں میں تجسس، دوستوں کا دباؤ، ذہنی دباؤ اور خود کو “ماڈرن” ثابت کرنے کی خواہش انہیں ویپنگ کی طرف لے جاتی ہے۔سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور آن لائن اشتہارات بھی اس رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ مختلف ویڈیوز اور تصاویر میں ویپنگ کو دلکش انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے نوجوان اس کے خطرات کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔ کئی تحقیقات کے مطابق جو نوجوان سوشل میڈیا پر ویپنگ سے متعلق مواد زیادہ دیکھتے ہیں، ان میں ویپنگ آزمانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپنگ کے مائع میں صرف نکوٹین ہی نہیں بلکہ فارملڈیہائیڈ، ایکرولین اور دیگر زہریلے کیمیکل بھی موجود ہوسکتے ہیں۔
فارملڈیہائیڈ (Formaldehyde) اور ایکرولین (Acrolein) زہریلے کیمیائی مرکبات ہیں جو عموماً نامکمل جلنے یا حرارتی عمل کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دونوں مادے انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور سانس کی نالی، آنکھوں اور گلے میں جلن کا سبب بن سکتے ہیں۔بعض غیر معیاری مصنوعات میں بھاری دھاتیں جیسے سیسہ اور نکل بھی پائے گئے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان کیمیکلز کے مسلسل استعمال سے پھیپھڑوں، دل اور اعصابی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔نوجوانوں میں ویپنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک اہم سماجی پہلو بھی ہے جب کسی دوستوں کے گروپ میں ویپنگ عام ہوجائے تو دوسرے نوجوان بھی خود کو اس ماحول کا حصہ بنانے کے لیے اسے اپنانے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض نوجوان ذہنی دباؤ، تعلیمی پریشانیوں یا گھریلو مسائل سے بچنے کے لیے ویپنگ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق ایسی صورتحال میں نوجوان وقتی سکون محسوس کرتے ہیں، مگر بعد میں نکوٹین کی لت ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرسکتی ہے۔
عالمی سطح پر کئی ممالک نے ویپنگ کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔ بعض ممالک میں کم عمر افراد کو ویپنگ مصنوعات فروخت کرنے پر پابندی ہے، جبکہ کچھ ممالک نے فلیورڈ ویپس یا اشتہارات پر بھی سختی کی ہے۔ آسٹریلیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں ویپنگ پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ دوسری جانب بعض ممالک میں اسے سگریٹ نوشی کے متبادل کے طور پر محدود پیمانے پر استعمال کی اجازت دی گئی ہے، مگر وہاں بھی نوجوانوں کے استعمال پر تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے۔میڈیا کو چاہیے کہ وہ ویپنگ کو “فیشن” کے بجائے ایک صحت کے لیے خطرے کے طور پر پیش کرے۔تحقیقی رپورٹس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ویپنگ صرف استعمال کرنے والے فرد ہی نہیں بلکہ اردگرد موجود افراد کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ ویپنگ کے بخارات میں شامل کیمیکل ماحول میں پھیل کر دوسروں کی صحت پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں، خاص طور پر بچوں اور دمے کے مریضوں پر۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین ویپنگ کو بھی پبلک مقامات پر محدود کرنے کا مطالبہ جدید ڈیزائن، خوبصورت پیکنگ اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کیا جاتا ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق اگر اس صنعت پر مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں نکوٹین کی لت نوجوان نسل میں مزید پھیل سکتی ہے۔
عالمی میڈیا اور بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق نوجوانوں میں ویپنگ اور نکوٹین کے استعمال کا رجحان ایک بڑھتا ہوا صحتی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ The Guardian کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ سمیت کئی ممالک کے اسکولوں میں کم عمر طلبہ میں ویپنگ اور نکوٹین کے استعمال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں فلیورڈ مصنوعات، سوشل میڈیا پر تشہیر اور ہم عمروں کا دباؤ شامل بتایا جاتا ہے۔ اسی طرح Reuters کی رپورٹنگ کے مطابق فلیورڈ ای سگریٹس اور ویپنگ مصنوعات کی آسان دستیابی نوجوانوں میں نکوٹین کے استعمال اور ممکنہ لت کے خدشات کو بڑھا رہی ہے، جس کے باعث مختلف ممالک میں ان پر ضوابط مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ویپنگ کو مکمل طور پر محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں کیونکہ اس کے طویل المدتی اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے۔ اسی تناظر میں BBC News کی رپورٹس میں ایسے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے ہیں جن میں کم عمر افراد ویپنگ کے باعث نکوٹین انحصار کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کی تعلیمی کارکردگی اور عمومی صحت متاثر ہوئی۔ مجموعی طور پر عالمی صحتی اداروں اور تحقیقاتی رپورٹس کا مؤقف یہی بتایا جاتا ہے کہ ویپنگ نوجوان نسل میں نکوٹین کے استعمال کے نئے خدشات پیدا کر رہی ہے، جس کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات اور آگاہی مہمات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے Associated Press (AP News) کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی ادارۂ خوراک و ادویات (U.S. Food and Drug Administratio FDA) کے حکام نے طویل اجلاس منعقد کیے، جن میں اس چھ صفحات پر مشتمل یادداشت پر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر غور کیا گیا۔ یہ نئی پالیسی FDA کے اس دیرینہ مؤقف سے مختلف سمجھی جا رہی ہے، جس کے تحت کسی بھی نئی نکوٹین مصنوعات کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے اس کے ممکنہ صحتی فوائد اور عوامی صحت پر اثرات کی سائنسی جانچ ضروری قرار دی جاتی تھی۔
رپورٹس کے مطابق FDA میں نئی پالیسیاں تیار کرتے وقت متعلقہ شعبوں کے ماہر اہلکاروں سے مشاورت نہ کرنا ایک غیر معمولی عمل تصور کیا جاتا ہے۔
FDA کے تمباکو ڈویژن کے سابق ڈائریکٹر Mitch Zeller، جو 2022 میں ریٹائر ہوئے تھے، نے کہا: “یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شاید اصل ماہرینِ موضوع نے اس پالیسی کی مخالفت کی ہو، لیکن اس کے باوجود انہیں اسے نافذ کرنے کا کہا گیا ہو۔ ایسی صورتحال عوام کے FDA جیسے اداروں پر اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے
برطانوی اخبار The Guardian کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ویپنگ (e-cigarettes) استعمال کرنے والے نوجوانوں میں مستقبل میں سگریٹ نوشی شروع کرنے، دمہ (asthma) اور بعض ذہنی صحت کے مسائل کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں ویپنگ اور بعد میں سگریٹ نوشی کے درمیان مسلسل تعلق دیکھا گیا،
“ایک جامع (umbrella) تحقیق، جس سے مراد ایسی اعلیٰ سطح کی تجزیاتی تحقیق ہے جو ایک ہی موضوع پر کی گئی متعدد سائنسی مطالعات اور جائزہ رپورٹس کو اکٹھا کر کے ان کے مجموعی نتائج کا تجزیہ کرتی ہے، میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ ای سگریٹس بعض نوجوانوں میں روایتی سگریٹ نوشی کے آغاز سے منسلک ہو سکتی ہیں، اور بعض مطالعات میں اس رجحان کو “گیٹ وے اثر” (gateway hypothesis) کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مختلف تحقیقی مطالعات نے ویپنگ کے استعمال کو دمہ کی علامات، کھانسی، سر درد، منہ اور مسوڑھوں کے مسائل، اور بعض سانس کی بیماریوں کے ساتھ منسلک کیا ہے، جبکہ ڈیوائس کے استعمال سے چوٹوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض تحقیقات میں ذہنی صحت اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال کے ساتھ تعلق کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ان روابط کی نوعیت اور طویل المدتی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق جاری ہے۔
مجموعی طور پر ویپنگ ایک ایسا بڑھتا ہوا رجحان ہے جو بظاہر جدید طرزِ زندگی اور فیشن کے طور پر سامنے آیا ہے، لیکن اس کے پسِ پردہ نکوٹین کی لت، سانس کی بیماریاں اور دماغی نشوونما پر منفی اثرات جیسے سنگین خطرات موجود ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت اور دیگر بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ کو مکمل طور پر محفوظ متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نوجوان نسل میں اس کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف انفرادی صحت بلکہ اجتماعی صحتِ عامہ کے لیے بھی ایک ابھرتا ہوا چیلنج ہے۔اگر موجودہ رجحان اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے برسوں میں نکوٹین کی لت مزید وسیع ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں صحت کے ساتھ ساتھ معاشی بوجھ میں بھی اضافہ ہوگا۔ لہٰذا اس مسئلے کو محض ایک “فیشن” کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک سنجیدہ عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
*تجاویز اور اقدامات*
*قانون سازی اور سخت نگرانی*
حکومت کو چاہیے کہ ویپنگ مصنوعات کی فروخت، اشتہارات اور خاص طور پر کم عمر افراد کو ان کی دستیابی پر سخت قوانین نافذ کرے اور ان پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے۔
تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات
اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ویپنگ کے نقصانات پر باقاعدہ آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ نوجوان اس کے خطرات سے واقف ہو سکیں۔
سوشل میڈیا ریگولیشن
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویپنگ کی تشہیر، “فیشن” یا “اسٹیٹس” کے طور پر پیش کرنے والے مواد پر نگرانی اور پابندی لگائی جائے۔
والدین اور اساتذہ کا کردار
والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان میں مثبت عادات اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیں۔
نکوٹین کنٹرول پالیسی
تمباکو اور ویپنگ دونوں کے لیے ایک مربوط نکوٹین کنٹرول پالیسی اپنائی جائے تاکہ نوجوان نسل کو لت سے محفوظ رکھا جا سکے۔
نفسیاتی معاونت (Counselling)
تعلیمی اداروں میں کونسلنگ سسٹم مضبوط کیا جائے تاکہ ذہنی دباؤ یا سماجی مسائل کا شکار نوجوان ویپنگ جیسے رجحانات کی طرف نہ جائیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پیٹرول کی آگ میں جلتی عوامی زندگی، لیوی کا وار، غریب بے قرار…… عوام کی چیخیں مہنگائی کا جن قابو سے باہر، آئی ایم ایف کی شرائط اور مشکلات
پیٹرول، ڈیزل اور ایل این جی سمیت توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں 28 فروری 2026 کے بعد خطے اور عالمی سطح پر نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے بعد گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران مختلف ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی دیکھی گئی، تاہم پاکستان میں یہ فرق نسبتاً زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ پاکستان چونکہ اپنی مجموعی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 فیصد درآمد کرتا ہے، اس لیے یہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا انحصار براہِ راست عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر ہوتا ہے۔ اس سے قبل حکومتِ پاکستان دو ہفتوں بعد قیمتوں کا جائزہ لے کر رد و بدل کرتی تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں کے تعین کا عمل زیادہ متحرک ہو گیا ہے اور بعض اوقات وقفے کم بھی ہو جاتے ہیں، اگرچہ اصولی طور پر یہ نظرثانی عموماً ہر پندرہ دن بعد کی جاتی ہے اور نئی قیمتوں کا اعلان وفاقی سطح پر منظوری کے بعد کیا جاتا ہے۔پاکستان میں پیٹرولیم ڈویژن، حکومتِ پاکستان کے حالیہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں پر نظرثانی کے بعد مؤثر تاریخ 16 مئی 2026 سے پیٹرول کی قیمت 409.78 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 409.58 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو سابقہ نرخوں میں کمی کے بعد نافذ کی گئی نئی ریٹیل قیمتیں ہیں۔
پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے مبینہ طور پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت سرکاری نوٹیفکیشن میں مقرر کردہ نرخوں سے زائد قیمت پر وصول کی جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض مقامات پر اوور چارجنگ کے ذریعے حکومت کی طے کردہ قیمتوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ اور عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ ایسے اقدامات کو عوامی سطح پر ناانصافی اور غیر منصفانہ طرزِ عمل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ سخت مانیٹرنگ اور کارروائی کو یقینی بنائیں تاکہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔
جب بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو عوام کی چیخیں نکلنے لگتی ہیں۔ ہر پندرہ دن بعد جیسے ہی حکومتی اعلان سامنے آتا ہے کہ آج رات حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا تعین کرے گی تو اس کے ساتھ ہی مظلوم عوام میں خوف کی لہر دوڑ جاتی ہے، کیونکہ عوام کو پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا یقین نہیں ہوتا ہے اور عوام کی بڑی تعداد پیٹرول پمپ کا رخ کرتی ہے، اور سب سے زیادہ موٹرسائیکل سوار قطاروں میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ کار والے تو اشرافیہ ہیں، انہیں پرواہ نہیں ہے، لہٰذا کاروں کی قطاریں نظر نہیں آتیں۔ اب غریب عوام کو کون سمجھائے کہ ایک دو لیٹر پیٹرول جلدی بھروانے سے معاشی زندگی پر کیا فرق پڑے گا۔عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔ کبھی حکومت آٹے میں نمک کے برابر پیسے کم کرتی ہے، جیسے 40 پیسے، 50 پیسے یا زیادہ سے زیادہ ایک روپیہ، مگر اس کمی سے بھی عوام کی مشکلات میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوتی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کا پیمانہ پیٹرول کی قیمتوں کے اضافے کے ساتھ منسوب ہے، جیسے ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے زندگی کی ہر ضرورت اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد روز مرہ استعمال کی کئی اشیا بھی مہنگی ہوگئیں ہیں ۔گھی، کوکنگ آئل، آٹا، دالیں، مسالے، سبزیاں، پھل اور کھانے پینے کی دیگر چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شہری شدید مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ماہانہ 11 ہزار سے 18 ہزار روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ پیٹرول میں ایک روپے کا اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی میں دس گنا اضافہ ہو جاتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ دکاندار اور تاجر حضرات مصنوعی گرانی کر دیتے ہیں اور مہنگائی کا جواز بھی یہی بتاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب ایک نیا بہانہ بھی مہنگائی کا سامنے آیا ہے کہ امریکا ایران جنگ کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا جواز بنایا جاتا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کا یہ رجحان ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ہر چیز چاہے آٹا ہو، دالیں ہوں، سبزیاں ہوں یا بنیادی سہولیات زندگی کی اشیاء ہوں، اس کے علاوہ الیکٹرونک چیزیں بھی خاص طور پر گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے یو پی ایس، بیٹریوں، چارجرز، سولر سسٹم، پنکھوں اور دیگر چیزوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ جب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو لیوی اور آئی ایم ایف کی گونج ضرور سنائی دیتی ہے۔ حکومت لیوی کی قیمت میں اضافہ کرتی ہے اور اس کی وجہ آئی ایم ایف کی شرائط سے منسوب کرتی ہے۔ عام آدمی خصوصاً محنت کش طبقہ اور عوام کی بڑی تعداد لیوی کے بارے میں جانتی ہی نہیں کہ لیوی کیا ہے؟
لیوی (Levy) انگریزی زبان کا لفظ ہے جو فرانسیسی اور لاطینی زبانوں سے ماخوذ ہے۔ معاشی اور قانونی اصطلاح میں لیوی سے مراد وہ حکومتی محصول یا مالی چارج ہے جو ریاست کسی خاص شے، خدمت یا معاشی سرگرمی پر عائد کرتی ہے تاکہ سرکاری آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے یا کسی مخصوص مالی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ اسے عموماً ایک مخصوص مقصد یا شعبے سے منسلک حکومتی وصولی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جیسے پٹرولیم لیوی، کاربن لیوی یا امپورٹ لیوی۔ سادہ الفاظ میں لیوی ایک ایسا حکومتی مالی بوجھ ہے جو کسی متعین شے یا سرگرمی پر لگایا جاتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ریاستی ضروریات، ترقیاتی منصوبوں، قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی خسارے میں کمی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔لیوی (Levy) معاشیات اور قانون کی اصطلاح میں ایسے مخصوص مالیاتی محصول، سرچارج یا حکومتی چارج کو کہا جاتا ہے جو ریاست کسی خاص شے، خدمت، شعبے یا معاشی سرگرمی پر عائد کرتی ہے تاکہ سرکاری آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے یا کسی مخصوص مالی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ عمومی ٹیکسوں کے برعکس لیوی عموماً کسی خاص شعبے یا مخصوص مقصد سے منسلک ہوتی ہے۔ حکومتیں اسے بجٹ خسارہ کم کرنے، ترقیاتی اخراجات پورے کرنے، توانائی کے شعبے کی معاونت، قرضوں کی ادائیگی یا مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ معاشی اصطلاح میں لیوی کو بالواسطہ محصول (Indirect Taxation) کی ایک شکل بھی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس کا مالی بوجھ بالآخر صارفین تک منتقل ہو جاتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں حکومتیں پیٹرولیم مصنوعات، درآمدی اشیاء، فضائی سفر، تمباکو، کاربن اخراج اور بعض تجارتی سرگرمیوں پر مختلف اقسام کی لیویز عائد کرتی ہیں۔ بعض لیویز عارضی بنیادوں پر نافذ کی جاتی ہیں جبکہ بعض مستقل حکومتی محصولات کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق لیوی کا بنیادی مقصد ریاست کو فوری مالی وسائل فراہم کرنا ہوتا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب حکومت کو بڑھتے ہوئے اخراجات، مالیاتی خسارے یا قرضوں کے دباؤ کا سامنا ہو۔
پاکستان میں “پیٹرولیم لیوی” سب سے اہم اور زیادہ زیرِ بحث رہنے والی لیویز میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک مخصوص حکومتی محصول ہے جو ہر لیٹر پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور بعض دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر وصول کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم لیوی کا قانونی ڈھانچہ “Petroleum Levy Ordinance, 1961” اور بعد ازاں مختلف مالیاتی قوانین اور وفاقی بجٹ اقدامات کے تحت تشکیل پاتا رہا ہے۔
جولائی 1961ء میں صدر ایوب خان کے دورِ حکومت میں ‘پیٹرولیم پروڈکٹس (پیٹرولیم لیوی) آرڈیننس 1961ء’ نافذ کیا گیا، جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر وفاقی حکومت کے لیے لیوی وصول کرنے کا قانونی نظام قائم کیا گیا۔ بعدازاں پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت اور قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ حکومتوں نے اس شعبے کو بڑے ریونیو ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ اندازہ کیا گیا کہ اگر روزانہ فروخت ہونے والے کروڑوں لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر صرف ایک روپے فی لیٹر اضافی لیوی بھی عائد کر دی جائے تو حکومت کو روزانہ کروڑوں روپے اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔
حکومتِ پاکستان کے مطابق پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی وفاقی محصولات کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے اور اسے بجٹ ضروریات، قرضوں کی ادائیگی، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر سرکاری اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں کا تعین محض ایک عنصر سے نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی داخلی اور خارجی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ چونکہ پاکستان خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہِ راست ملکی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر خام تیل مہنگا ہو جائے تو پاکستان میں پیٹرول کی درآمدی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ بین الاقوامی تیل تجارت امریکی کرنسی میں انجام پاتی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی درآمدی لاگت میں اضافے کا سبب بنتی ہے جس کے اثرات مقامی صارفین تک منتقل ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ شپنگ اخراجات، انشورنس، بندرگاہی چارجز، ریفائننگ لاگت، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن، ڈیلرز کمیشن، درآمدی ڈیوٹیز، جنرل سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی بھی پیٹرول کی حتمی قیمت میں شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر قیمتوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آتی، کیونکہ کرنسی کی قدر، ٹیکسز یا حکومتی محصولات قیمت کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔پیٹرولیم لیوی کا براہِ راست اثر عوامی زندگی اور قومی معیشت پر پڑتا ہے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق بالواسطہ ٹیکسوں اور لیویز کا زیادہ بوجھ عموماً متوسط اور کم آمدنی والے طبقات پر پڑتا ہے کیونکہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہوتا ہے۔حکومتِ پاکستان کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ریاستی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹیکس نیٹ محدود ہونے، دستاویزی معیشت کے کمزور ہونے اور براہِ راست ٹیکس وصولی میں مشکلات کے باعث حکومتیں اکثر بالواسطہ محصولات پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ وفاقی بجٹ دستاویزات اور اقتصادی جائزوں کے مطابق پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی حکومت کو مالیاتی خسارہ کم کرنے اور سرکاری اخراجات پورے کرنے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔
اسی تناظر میں International Monetary Fund کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ آئی ایم ایف ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے جس کا قیام 1944 میں بریٹن ووڈز معاہدے کے تحت عالمی مالیاتی استحکام کو فروغ دینے کے لیے عمل میں آیا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد مالی بحران کا شکار ممالک کو قرض اور مالی معاونت فراہم کرنا، زرمبادلہ کے نظام میں استحکام پیدا کرنا اور عالمی مالیاتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کی مالی معاونت عموماً معاشی اصلاحات اور مالیاتی شرائط کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔
پاکستان جب زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، بیرونی قرضوں کے دباؤ، تجارتی خسارے یا مالیاتی بحران کا شکار ہوتا ہے تو وہ آئی ایم ایف پروگرامز سے رجوع کرتا ہے۔ ان پروگرامز کے تحت حکومت سے مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے، بجٹ خسارہ کم کرنے، محصولات بڑھانے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے اور بعض سبسڈیز محدود کرنے جیسے اقدامات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ادوار میں پیٹرولیم لیوی اور توانائی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرامز کے دوران ایک اہم معاشی موضوع بن کر سامنے آتا رہا ہے۔آئی ایم ایف اور حکومتی معاشی ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات کا مقصد ریاستی آمدنی بڑھانا، مالیاتی خسارہ کم کرنا اور قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر بنانا ہوتا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے اور اس کا بوجھ عام شہریوں پر منتقل ہو جاتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق حکومت کو صرف پیٹرولیم لیوی پر انحصار بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا چاہیے، غیر دستاویزی معیشت کو رسمی نظام میں لانا چاہیے، غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرنے چاہییں اور طاقتور طبقوں پر مؤثر براہِ راست ٹیکس عائد کرنے چاہییں تاکہ مالیاتی بوجھ نسبتاً منصفانہ انداز میں تقسیم ہو سکے۔
پیٹرول، پیٹرولیم لیوی اور آئی ایم ایف کے درمیان تعلق پاکستان کی معاشی پالیسی، مالیاتی مجبوریوں اور عالمی مالیاتی نظام کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ ایک طرف حکومت کے لیے پیٹرولیم لیوی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے جبکہ دوسری طرف اس کے اثرات براہِ راست عوامی زندگی، مہنگائی اور معاشی سرگرمیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ پائیدار معاشی استحکام اسی صورت ممکن ہے جب حکومت مالیاتی نظم و ضبط، مؤثر ٹیکس اصلاحات، معاشی شفافیت اور عوامی ریلیف کے درمیان متوازن حکمتِ عملی اختیار کرے تاکہ معاشی اصلاحات کے فوائد صرف سرکاری اعدادوشمار تک محدود نہ رہیں بلکہ عام شہری بھی ان کے عملی ثمرات محسوس کر سکے۔
لیوی ایک ظالمانہ ٹیکس ہے جو حکومت کی مجبوری بن گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمتیں محض عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر طے نہیں ہوتیں بلکہ اس میں حکومتی ٹیکسز، بالخصوص لیوی، اور بین الاقوامی مالیاتی ادارہ International Monetary Fund (IMF) کی پالیسیوں اور شرائط کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ جب حکومت کو مالی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے یا وہ بیرونی قرضوں کے حصول کے لیے IMF پروگرامز میں شامل ہوتی ہے تو اسے اکثر سبسڈیز میں کمی اور محصولات میں اضافے کی شرائط قبول کرنا پڑتی ہیں، جن میں پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل بھی شامل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ لیوی اور IMF کا ذکر بھی سامنے آتا ہے۔
پیٹرول کی قیمت ایک پیچیدہ نظام کے تحت طے ہوتی ہے۔ سب سے اہم عنصر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ہے، کیونکہ پاکستان اپنی زیادہ تر تیل کی ضروریات درآمد کے ذریعے پوری کرتا ہے۔ عالمی قیمتوں میں اضافہ یا کمی براہِ راست مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ڈالر کی قدر بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ درآمدی ادائیگیاں ڈالر میں کی جاتی ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے اور پیٹرول مہنگا ہو جاتا ہے۔
حکومتی ٹیکسز، بالخصوص پیٹرولیم لیوی، قیمت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ حکومت اس کے ذریعے ریونیو حاصل کرتی ہے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مختلف ادوار میں مالی ضروریات کے مطابق اس میں ردوبدل کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مالیاتی چارجز بھی قیمت پر اثر ڈالتے ہیں۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت ایک مربوط معاشی نظام کے تحت طے ہوتی ہے جس میں عالمی منڈی، کرنسی کی قدر، حکومتی ٹیکس پالیسی اور درآمدی اخراجات سب شامل ہوتے ہیں، اور یہی عوامل مل کر عوامی سطح پر اس کے اثرات کو جنم دیتے ہیں۔پاکستان میں اس وقت پیٹرولیم لیوی کی شرح تاریخی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، جہاں پیٹرول پر تقریباً 117.41 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) پر 42.60 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے 9 مئی 2026 سے ان شرحوں میں مزید اضافہ کیا، جسے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقررہ ریونیو اہداف کے حصول کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ کاروباری جریدے “بزنس ریکارڈر” کے مطابق پیٹرولیم لیوی میں حالیہ اضافہ بنیادی طور پر آئی ایم ایف شرائط اور حکومتی محصولات بڑھانے کی پالیسی سے جوڑا جا رہا ہے۔
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ صورتحال میں پیٹرول پر مجموعی ٹیکسوں اور لیویز کا بوجھ تقریباً 140 سے 145 روپے فی لیٹر کے درمیان پہنچ چکا ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سمیت مختلف حکومتی محصولات شامل ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کے لیے پیٹرولیم لیوی آمدن کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے کیونکہ اسے نان ٹیکس ریونیو شمار کیا جاتا ہے اور اس کی وصولی صوبوں کے ساتھ قابلِ تقسیم پول میں شامل نہیں ہوتی۔
بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے متعلق مختلف عالمی اور علاقائی میڈیا اداروں کی رپورٹنگ کو یکجا کیا جائے تو مجموعی تصویر کچھ یوں سامنے آتی ہے. بی بی سی نیوز کے مطابق انڈیا میں چار سال بعد 3 روپے اضافہ ہوا ہے جس پر عوام اور اپوزیشن کافی برہم ہیں.بی بی سی نیوز نے رائٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو لوکل مارکیٹ پر دباو کم کرنا ہے.
دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا میں آخری مرتبہ 2022 میں ہوا تھا. اور اب انڈیا میں ڈیزل کی قیمت 90.67 روپے 97.77 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے. اس سال کے آغاز میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 259.30 روپے تھی.
امریکا ایران جنگ کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 409.78 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے. پاکستان میں مسلسل اضافہ اور انڈیا میں استحکام اس کی کیا وجوہات ہیں؟ تین باتوں کے ذریعے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں.پہلا یہ ہے کہ پاکستانی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے کیا گیا ہے.وفاقی حکومت کے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے انڈیا میں سستے پیٹرول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی اپنی 19 ریفائنریز سرکاری ہیں. وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اس کا الزام ٹیکس نا دینے والوں پر عائد کیا اور کہا جب ملک میں لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو پھر حکومت پیٹرول پر لیوی بڑھا کر دیگر ذرائع سے یہ خسارہ پورا کرنے کی کوشش کرے گی.اب دوسری بات جو ممالک بھی تیل درآمد کرتے ہیں انہیں اس کی قیمت ڈالر میں ادا کرنا پڑتی ہے. گزشتہ چار برسوں میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت بہت زیادہ گری ہے جبکہ انڈین روپیہ مستحکم رہا ہے جس کی وجہ سے انہیں درآمد تیل کی قیمت زیادہ ادا نہیں کرنی پڑی. تیسری وجہ کیونکہ انڈیا میں خام تیل کی ریفائنریز موجود ہیں اس لیے انڈیا خام تیل درآمد کرتا ہے پھر اس سے پیٹرول اور ڈیزل بناتا ہے تاکہ مقامی صارفین کو فروخت کر سکے جبکہ پاکستان میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے.
15 مئی کو رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے چار برس بعد پہلی مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر سے زائد اضافہ کر دیا ہے، تاکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ہونے والے نقصانات کا کچھ ازالہ کیا جا سکے۔
دنیا میں تیل درآمد کرنے اور استعمال کرنے والے تیسرے بڑے ملک بھارت نے یہ اقدام ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی اور عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اس بحران کے بعد بھارت اُن چند بڑی معیشتوں میں شامل تھا جہاں اب تک خوردہ ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئی تھیں۔
سرکاری کمپنیوں Indian Oil Corporation، Hindustan Petroleum Corporation اور Bharat Petroleum Corporation کے زیرِ انتظام ملک کے 90 فیصد سے زائد یعنی تقریباً 1 لاکھ 3 ہزار فیول اسٹیشن ہیں، اور یہ کمپنیاں عموماً پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک ساتھ طے کرتی ہیں۔
بی پی سی ایل کے ترجمان نے قیمتوں میں اضافے کی تصدیق کی، جبکہ انڈین آئل اور ایچ پی سی ایل نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
نئی دہلی میں ڈیزل کی نئی قیمت 90.67 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت 97.77 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل ڈیزل 87.67 روپے اور پیٹرول 94.77 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا، یعنی بالترتیب 3.4 فیصد اور 3.2 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، تاہم بعد ازاں یہ کم ہو کر تقریباً 100 سے 105 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئیں۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد تیل کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی۔ انڈین آئل کے شیئرز 2.4 فیصد، ایچ پی سی ایل 3.3 فیصد اور بی پی سی ایل 3.6 فیصد تک گر گئے۔
ممبئی میں قائم مالیاتی ادارے “ایم کے گلوبل فنانشل سروسز” کی چیف اکانومسٹ مادھوی اروڑا کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر صارفین کی مہنگائی پر محدود یعنی تقریباً 15 بیسس پوائنٹس تک رہے گا، تاہم اس کے بالواسطہ اثرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ اضافہ کمپنیوں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں اور آئندہ مرحلہ وار مزید اضافے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
ایندھن کی کھپت کم کرنے اور درآمدی بل کو قابو میں رکھنے کے لیے بھارتی حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ وزیر اعظم Narendra Modi نے عوام اور اداروں پر زور دیا ہے کہ ایندھن کی بچت، گھر سے کام (ورک فرام ہوم)، غیر ضروری سفر میں کمی اور درآمدات محدود کرنے جیسے اقدامات اختیار کیے جائیں۔
کئی بھارتی ریاستوں نے سرکاری محکموں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ غیر ضروری سفر محدود رکھا جائے، فزیکل تقریبات سے گریز کیا جائے اور اجلاس آن لائن منعقد کیے جائیں۔ بعض دفاتر میں ہفتے میں دو دن گھر سے کام اور نصف عملے کے ساتھ دفاتر چلانے کی پالیسی بھی زیرِ غور ہے۔
صحافت، سماجی خدمت اور تعلیمی شعبوں (ریاضی و کامرس) سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنا مؤقف روزنامہ جرُات کراچی کے لیے پیش کیا.
سینئر صحافی، ایڈیٹر جیو نیوز اور کالم نگار محمد ناصر نے روزنامہ جرُات کراچی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
پاکستان میں پٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ عوام کیلئے شدید معاشی دباؤ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن آئی ایم ایف شرائط، بجٹ خسارے اور ترقیاتی اخراجات پورے کرنے کیلئے ضروری ہے، مگر اس کا براہِ راست بوجھ عام شہری برداشت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے صرف سفری اخراجات نہیں بڑھتے بلکہ اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ، کرایوں اور روزمرہ استعمال کی متعدد چیزوں کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، جس سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لیتی ہے۔ متوسط اور غریب طبقہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماہرین کے مطابق حکومت کو ریونیو بڑھانے کیلئے صرف پٹرولیم لیوی پر انحصار کرنے کے بجائے ٹیکس نظام میں بہتری، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور نئے معاشی ذرائع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود کئی ممالک نے اپنے عوام کو ریلیف دیا، جبکہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی قیمت صرف عالمی خام تیل سے نہیں بلکہ ٹیکسز، پٹرولیم لیوی، درآمدی اخراجات اور روپے کی قدر میں کمی سے بھی متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے پاکستان میں مہنگائی اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
محمد ساجد شیخ
حیدرآباد کے سماجی رہنما
جنرل سیکریٹری، روشن خواب ویلفئر آرگنائزیشن حیدرآباد(این جی او)
نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر ہیں جسکی بنیادی وجہ پٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی کی مد میں لگایا جانے والا اضافی ٹیکس ہیے جسکی وجہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ” جب ٹیکس اکھٹا نہیں ہوگا تو پٹرولیم لیوی بڑھانا پڑیگی ”
المیہ یہ ہیے کہ اس جدید دور میں بھی ہمارے محکمے اپنے ٹیکس ہدف کو پورا نہیں کر پا رہیے جسکی سزا ” لیوی ” کی شکل میں صارفین کو براہِ راست مہنگے پٹرول اور ڈیزل کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہیے ۔ اگر پڑوسی ممالک سے ، پٹرولیم مصنوعات کا تقابلی جائزہ کیا جاۓ تو
تینوں ممالک کی فی کس آمدنی کے حساب سے پٹرولیم مصنوعات کی یہ قیمتیں سب سے زیادہ پاکستانی عوام کے لئے بلند ترین سطح پر ہیں ۔ جمہوری حکومت کو ” جمہور ” کی پریشانی اور مشکلات کو مدِ نظر رکھتے ہوۓ پٹرولییم مصنوعات کی قیمتیں مناسب سطح پر لانا چاہئیے جسکے لئے ضروری ہیے کہ ملک میں ٹیکس کا نظام بہتر اور منصفانہ کیا جاۓ.
ماہرِ تعلیم کامرس پروفیسر نعمان شیخ، گورنمنٹ غزالی کالج لطیف آباد حیدرآباد نے پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف مالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسی معاشی پالیسی کی علامت ہے جس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے۔ اُن کے مطابق ہر پندرہ دن بعد قیمتوں میں رد و بدل نے عوام کی معاشی منصوبہ بندی کو متاثر کر دیا ہے، جبکہ حکومت بجٹ خسارے اور آئی ایم ایف شرائط کو جواز بنا کر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی بظاہر سب پر یکساں لاگو ہوتی ہے مگر حقیقت میں اس کا اثر غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے، کیونکہ موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور اور تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدن کا بڑا حصہ ایندھن اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کرتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ فیول ٹیکس کے باوجود عوام کو بہتر ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم جیسی سہولتیں میسر ہوتی ہیں، جبکہ پاکستان میں ایندھن کو آسان ترین ریونیو ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو صرف پیٹرولیم لیوی پر انحصار کرنے کے بجائے اشرافیہ، لگژری جائیدادوں، بڑے تاجروں اور غیر دستاویزی شعبوں کو مؤثر ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔
*ماہر تعلیم پروفیسر شعبہ کامرس فرحان حسین گورنمنٹ غزالی کالج لطیف آباد حیدرآباد*
نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، اس بحران سے بری طرح متاثر ہوا۔ لیکن جب ہم پاکستان میں قیمتوں کے اضافے کا موازنہ پڑوسی ممالک سے کریں تو ایک تکلیف دہ حقیقت سامنے آتی ہے. پاکستان میں تناسب کے لحاظ سے سب سے زیادہ قیمتیں بڑھائی گئیں۔
اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے کے لیے مسلسل بڑھائی جا رہی ہے اور آج یہ ناقابل یقین حد تک ایک سو روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ نتیجہ یہ کہ ایک عام آدمی کے لیے پیٹرول خریدنا ناقابل برداشت بوجھ بن گیا ہے۔معاشیات میں اسے “Trickle Down Effect” کہتے ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں کا یہ طوفان صرف پمپ تک محدود نہیں رہتا یہ صنعت، زراعت اور ٹرانسپورٹ سمیت زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ آج پاکستان میں کوئی بھی طبقہ اس کے برے اثرات سے محفوظ نہیں۔
صدر شعبۂ ریاضی پروفیسر غلام سرور، گورنمنٹ نیشنل کالج بہادر آباد کراچی نے حالیہ پیٹرولیم بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اب صرف ایندھن تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات روزمرہ زندگی کے ہر شعبے پر نمایاں ہو رہے ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں سبزیوں، پھلوں، دودھ، آٹے، چینی اور دیگر ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت پر ریونیو بڑھانے اور پیٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا دباؤ موجود ہے تاکہ بجٹ خسارہ کم کیا جا سکے۔ اس وقت پیٹرول پر تقریباً 117 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 43 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1.73 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے، جس سے مزید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔حکومت کا اولین فرض ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام لائے اور مہنگائی پر قابو پائے.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پاکستان کا ثالثی اقدام امن قائم کرنے والا نقطہ نظر کامیاب سفارتکاری*
معرکۂ حق بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد پاکستان کی سفارتکاری ایک نئے وقار اور شناخت کے ساتھ عالمی منظرنامے پر نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ موجودہ امریکا ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے نہایت حکمت، تدبر اور متوازن پالیسی کے ذریعے مؤثر سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی پاکستان پر اعتماد کا اظہار اور جنگ بندی جیسے اہم معاملے میں اس کے کردار کو تسلیم کرنا اس کی بڑی مثال ہے۔ اس تمام عمل میں عاصم منیر اور شہباز شریف کی قیادت میں کی جانے والی مسلسل سفارتی کاوشیں عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، جہاں ان کی حکمت عملی، سنجیدہ کوششوں اور امن کے لیے عزم کو بھرپور انداز میں سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ میں ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر نمایاں ہو گیا ہے۔ وہ ملک جو کچھ عرصہ پہلے سفارتی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا، آج علاقائی اور عالمی سیاست میں ایک فعال اور اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ دنیا کے حساس ترین تنازعات میں پاکستان کا نام بطور ممکنہ ثالث سامنے آیا ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور جنگ کے امکانات نے پوری دنیا کو متاثر کر رکھا تھا، اور فوری حل کی کوئی واضح توقع نہیں تھی۔ ایسے موقع پر پیر کے روز پاکستان بین الاقوامی خبروں میں سرخیوں کی زینت بنا، جب معتبر ذرائع نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے اور منظم حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس میں سفارتی تعلقات کی مضبوطی اور سول و عسکری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو یکجا کیا گیا ہے۔ پاکستان کی یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ ملک نے اپنی داخلی و خارجی پالیسیوں کو متوازن کر کے عالمی سطح پر اعتماد اور اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال نے عالمی سیاست میں ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی لہر نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، تجارت، اور سیکورٹی تعلقات پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا ممکنہ ثالثی کردار ایک اہم پہلو کے طور پر سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اقدامات خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا عکاس ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ابھرا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر دی ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے اثرات توانائی کی عالمی منڈی، معیشت، اور خطے میں موجود دیگر طاقتوں کے تعلقات پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں میں میڈیا اور تجزیاتی رپورٹس میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ پاکستان پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ خبر اگرچہ ابتدائی نوعیت کی ہو سکتی ہے، مگر معتبر ذرائع، جیسے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز، نے بھی اس بحث کو تقویت دی ہے۔
پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار کی اہمیت اس حقیقت سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ خطے میں کسی بھی بڑے تنازع کے اثرات براہِ راست پاکستان، خلیجی ممالک اور یہاں تک کہ عالمی توانائی کے وسائل پر پڑ سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ موجودہ رابطے ابتدائی، غیر رسمی اور محتاط نوعیت کے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اعلیٰ سطحی رابطے، ٹیلیفونک ملاقاتیں، اور سیاسی تجزیہ کاروں کی نشاندہی اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ کشیدگی کم کرنے کی ایک محتاط اور ذمہ دارانہ کوشش ہے، نہ کہ فوری حل یا حتمی ثالثی کا اعلان۔
رپورٹس میں اشارہ دیا گیا ہے کہ پاکستان خود کو امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس ضمن میں اعلیٰ سطحی رابطے بھی کیے گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان براہِ راست فون پر بات چیت ہوئی۔ متعدد بین الاقوامی ذرائع نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے کال کے ہونے کی تصدیق کی خبر دی، جس میں قومی سلامتی کے معاملات کے بارے میں حساس گفتگو کا ذکر کیا گیا۔ تاہم، وائٹ ہاؤس نے اس گفتگو کے مکمل مندرجات یا کسی خاص ثالثی عمل کی تصدیق نہیں کی۔ یعنی کال کا وجود تسلیم کیا گیا، مگر اس کے پس منظر اور ممکنہ نتائج کے بارے میں سرکاری تفصیل ابھی جاری نہیں کی گئی۔
ایران کی جانب سے بھی محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی سرکاری حلقوں اور میڈیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس وقت امریکا کے ساتھ کسی براہِ راست مذاکرات کا کوئی عمل جاری نہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پس پردہ رابطے ابتدائی اور غیر رسمی نوعیت کے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک جاری سفارتی عمل کا حصہ ہو سکتے ہیں، نہ کہ کسی حتمی پیش رفت کا ثبوت۔
پاکستان کے کردار کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ ٹیلیفونک رابطے، جیسے کہ شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والا رابطہ، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کم از کم سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں شامل ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات، تحمل اور سفارتکاری کی ضرورت پر زور دینا ایک ذمہ دار ریاست کے رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو خطے میں امن کے قیام کو ترجیح دیتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں، امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کی طویل تاریخ ہے، جس میں براہِ راست مذاکرات کے بجائے اکثر بالواسطہ ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔ ماضی میں عمان اور قطر جیسے ممالک نے خفیہ یا نیم خفیہ سفارتکاری کے ذریعے اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ صورتحال میں اگر پاکستان، ترکی اور مصر جیسے ممالک بھی اسی نوعیت کے رابطوں میں مصروف ہیں تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم اسے حتمی ثالثی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور بعد میں بعض اقدامات کو مؤخر کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ بعض حلقوں نے اسے سفارتی دباؤ یا ممکنہ ثالثی سے جوڑنے کی کوشش کی، لیکن کوئی ٹھوس شواہد نہیں کہ یہ فیصلے براہِ راست پاکستان یا کسی اور ملک کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے فیصلے وسیع تر علاقائی اور عالمی حکمتِ عملی کے تحت کیے جاتے ہیں، جن میں اتحادی ممالک کا دباؤ، توانائی کے مفادات اور سکیورٹی خدشات شامل ہوتے ہیں۔
ایران کی جانب سے سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے، جس میں عندیہ دیا گیا کہ اگر اس کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی خطے میں اہم تنصیبات کو ہدف بنا سکتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صورتحال ابھی بھی انتہائی کشیدہ ہے اور فوری مفاہمت کا امکان کم ہے۔
ترکی اور مصر کی سفارتی سرگرمیاں بھی اس تناظر میں اہم ہیں، جہاں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں۔ یہ تمام کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے کے کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں، لیکن ان اقدامات کو حتمی کامیابی سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔ بین الاقوامی سفارتکاری اکثر ایک طویل، پیچیدہ اور خاموش عمل ہوتا ہے، جس کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آتے۔میڈیا کا کردار بھی اس صورتحال میں نہایت اہم ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ جہاں معلومات فراہم کرتے ہیں، وہیں بعض اوقات غیر مصدقہ یا ابتدائی نوعیت کی اطلاعات بھی منظر عام پر آ جاتی ہیں، خاص طور پر جب وہ “ذرائع” کے حوالے سے ہوں۔ اس لیے کسی بھی خبر یا رپورٹ کو حتمی سچ کے طور پر قبول کرنے سے قبل اس کی تصدیق اور تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے۔
موجودہ صورتحال میں خطے کی کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی عمل کو فروغ دینے کے لیے محتاط اور متوازن اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان کے ممکنہ کردار کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ یہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے کی سہولت فراہم کر رہا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کی ترجیح دینے کی علامت ہے۔ تاہم، اس کردار کو حتمی ثالثی یا کسی بڑے سفارتی حل سے جوڑنا ابھی قبل از وقت ہے، کیونکہ تمام ثالثی اقدامات خاموش، پیچیدہ اور طویل المدتی ہوتے ہیں۔
مزید برآں، خطے میں کشیدگی کے دوران پاکستان کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک ذمہ دار ریاست نہ صرف اپنے قومی مفادات بلکہ عالمی استحکام اور توانائی کی مارکیٹ کے استحکام کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستان کی ثالثی کوششیں، چاہے وہ غیر رسمی یا ابتدائی سطح کی ہوں، خطے میں امن اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے ایک مثبت پیغام ہیں۔ یہ اقدام عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے لیے بھی اہم ہے تاکہ وہ معلومات کو محتاط انداز میں رپورٹ کریں اور غیر مصدقہ دعووں سے گریز کریں۔
اس پس منظر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ پاکستان کی ثالثی کوششیں ایک مثبت اقدام کے طور پر سامنے آئی ہیں، مگر عالمی سیاست میں ہر پیش رفت صبر اور محتاط انداز کا تقاضا کرتی ہے۔ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق ثالثی کے عمل کو بروقت اور شفاف انداز میں فروغ دیں، جبکہ عالمی میڈیا اور تجزیہ کار اپنے جائزہ اور تصدیق کے عمل میں محتاط رہیں۔ یہ ممکنہ ثالثی مستقبل میں خطے میں امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے، لیکن فوری نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
……………………….
ورچوئل آٹزم ایک نیا ابھرتا ہوا تصوراسکرین کلچر اور جدید بچپن بچوں کی ذہنی نشوونما پر اثرات
ڈیجیٹل دور نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو گہرے اور ہمہ گیر انداز میں متاثر کیا ہے، مگر سب سے نمایاں اور حساس تبدیلی بچوں کی نشوونما، تربیت اور سماجی رویوں میں دیکھی جا رہی ہے۔ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں ميں ’ورچوئل آٹزم‘ کا باعث ہو سکتا ہے
اسمارٹ فونز، ٹيبلٹس يا ديگر اسمارٹ ڈيوائسز پر کافی زيادہ وقت گزارنے والے بچوں میں ’ورچوئل آٹزم‘ ميں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہيں۔ يہ ذہنی کيفيت بچوں کو ساری عمر کے لیے دماغی و جذباتی طور پر مفلوج بنا سکتی ہے۔ آج کے بچے کھیل کے کھلے میدانوں، ہم عمر دوستوں کے ساتھ جسمانی سرگرمیوں اور روایتی سماجی میل جول کے بجائے موبائل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر اور ٹیلی ویژن اسکرینوں کے سامنے زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔ یہی تبدیلی ایک ایسے رجحان کو جنم دے رہی ہے جس پر ماہرینِ نفسیات اور ماہرینِ اطفال کے درمیان سنجیدہ بحث جاری ہے، اور اسی تناظر میں ایک اصطلاح “ورچوئل آٹزم” استعمال کی جا رہی ہے۔ تاہم اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ طبی تشخیص نہیں اور نہ ہی اسے عالمی طبی درجہ بندی جیسے DSM-5 یا ICD-11 میں ایک تسلیم شدہ بیماری کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
DSM-5 اور ICD-11
دراصل ذہنی اور جسمانی بیماریوں کی تشخیص اور درجہ بندی کے بین الاقوامی مستند نظام ہیں جو عالمی سطح پر طبّی تحقیق، کلینیکل تشخیص اور صحت کے اعداد و شمار کو یکساں بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
DSM-5 (Diagnostic and Statistical Manual of Mental Disorders) کو امریکی نفسیاتی انجمن
American Psychiatric Association
نے تیار کیا ہے اور یہ بنیادی طور پر ذہنی امراض کی تفصیلی تشخیص کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس میں علامات کو مخصوص طبی معیار کے مطابق پرکھ کر بیماری کی درست شناخت کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ICD-11 (International Classification of Diseases)
کو عالمی ادارۂ صحت
World Health Organization نے مرتب کیا ہے اور یہ ایک جامع عالمی نظام ہے جو تمام جسمانی اور ذہنی بیماریوں کو کوڈز کی صورت میں درجہ بند کرتا ہے تاکہ دنیا بھر میں صحت کے ریکارڈ اور شماریات میں یکسانیت برقرار رکھی جا سکے۔ دونوں نظاموں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ DSM-5 زیادہ تفصیلی طور پر ذہنی امراض کی تشخیص پر توجہ دیتا ہے جبکہ ICD-11 ایک وسیع تر عالمی درجہ بندی کا نظام ہے جو تمام بیماریوں کو ایک مشترکہ معیار کے تحت منظم کرتا ہے۔
“ورچوئل آٹزم” کی اصطلاح بنیادی طور پر ان بچوں کے رویوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو حد سے زیادہ اسکرین استعمال کے باعث ایسے علامات اور طرزِ عمل ظاہر کرتے ہیں جو بظاہر آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان میں سماجی رابطے سے گریز، آنکھوں کے رابطے کی کمی، نام پر فوری ردعمل نہ دینا، بولنے میں تاخیر، اور جذباتی اظہار میں کمی شامل ہو سکتی ہے۔ لیکن اصل اور بنیادی فرق یہ ہے کہ آٹزم ایک نیورو ڈیولپمنٹل (اعصابی نشوونما سے متعلق) کیفیت ہے جس کی وجوہات زیادہ تر جینیاتی اور حیاتیاتی ہوتی ہیں، جبکہ اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے رویے زیادہ تر ماحولیاتی، عارضی اور قابلِ اصلاح ہو سکتے ہیں۔
یہ بات سائنسی طور پر بھی اہم ہے کہ اب تک کوئی مضبوط اور حتمی ثبوت موجود نہیں کہ اسکرین خود آٹزم پیدا کرتی ہے۔ البتہ متعدد تحقیقاتی مطالعات اور مشاہدات سے یہ ضرور واضح ہوا ہے کہ حد سے زیادہ ڈیجیٹل اسکرین کا استعمال بچوں کی زبان سیکھنے، سماجی میل جول، توجہ برقرار رکھنے اور جذباتی اظہار کی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ خاص طور پر جب بچہ طویل وقت تک یک طرفہ ڈیجیٹل مواد دیکھتا رہے اور حقیقی انسانی تعامل بہت کم ہو جائے تو اس کی سماجی نشوونما متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بچوں میں ایسے رویے سامنے آتے ہیں جو آٹزم جیسے محسوس ہوتے ہیں، حالانکہ وہ اصل آٹزم نہیں ہوتے۔آج کے جدید دور میں اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ طرزِ زندگی کی تبدیلیاں اور والدین کی مصروفیات ہیں۔ شہری زندگی کی تیز رفتار روٹین میں اکثر والدین کے پاس بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنے کا مناسب موقع نہیں ہوتا۔ ایسے میں بچوں کو خاموش رکھنے یا انہیں مصروف رکھنے کے لیے موبائل فون یا اسکرین کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ ایک آسان حل محسوس ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ یہی عادت ایک مستقل رویے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً بچہ حقیقی دنیا کے بجائے ڈیجیٹل دنیا میں زیادہ دلچسپی لینے لگتا ہے اور اس کا سماجی دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔اس کے اثرات آہستہ آہستہ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض بچوں میں بولنے میں تاخیر دیکھی جاتی ہے، بعض میں سماجی سرگرمیوں سے گریز، جبکہ کچھ بچے اپنے نام پر بھی فوری ردعمل نہیں دیتے۔ اسی طرح چڑچڑاپن، غصہ، عدم برداشت اور توجہ کی کمی جیسے رویے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ علامات والدین کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہیں کیونکہ یہ بظاہر آٹزم سے مشابہ محسوس ہوتی ہیں۔ تاہم ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جب اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، بچے کو کھلے ماحول میں کھیلنے، لوگوں سے ملنے جلنے اور گفتگو کے مواقع دیے جائیں تو اکثر اوقات ان علامات میں واضح بہتری دیکھی جاتی ہے۔ یہی فرق اسے حقیقی آٹزم سے الگ کرتا ہے، کیونکہ آٹزم ایک مستقل اور پیچیدہ حالت ہے جس میں اس طرح کی فوری اور واضح بہتری عام طور پر نہیں دیکھی جاتی۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر بچہ جو اسکرین استعمال کرتا ہے اس مسئلے کا شکار نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ اسکرین کا وجود نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن، غیر منظم اور حد سے زیادہ استعمال ہے۔ اس میں مواد کا معیار، وقت کی مقدار اور والدین کی نگرانی انتہائی اہم عوامل ہیں۔ اگر اسکرین کا استعمال تعلیمی، محدود اور نگرانی کے ساتھ ہو تو یہ فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے، لیکن بغیر کسی حد کے اس کا استعمال بچوں کی ذہنی اور سماجی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما ایک نہایت حساس اور مرحلہ وار عمل ہے جس میں حقیقی انسانی تعلق بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ زبان سیکھنے کا عمل، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور سماجی رویوں کی تشکیل براہِ راست انسانی تعامل سے جڑی ہوتی ہے۔ جب یہ تعامل کم ہو جائے اور بچہ زیادہ تر وقت اسکرین کے سامنے گزارے تو اس کی شخصیت کی تشکیل متاثر ہو سکتی ہے۔ وہ تخلیقی سرگرمیوں کے بجائے تیار شدہ مواد دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے، جس سے اس کی تخلیقی صلاحیتیں بھی محدود ہو سکتی ہیں۔
اس صورتحال میں والدین کا کردار سب سے اہم اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں، ان کے ساتھ بات چیت کریں، انہیں کہانیاں سنائیں، کھیلوں میں شامل کریں اور انہیں حقیقی دنیا سے جوڑیں۔ اسی طرح والدین کو خود بھی اپنے اسکرین استعمال پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ بچے عموماً بڑوں کے رویے کی نقل کرتے ہیں۔ ایک ایسا گھریلو ماحول جہاں توجہ، محبت اور گفتگو موجود ہو، بچوں کی صحت مند نشوونما کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
تعلیمی ادارے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسکولوں میں ایسی سرگرمیاں متعارف کروانا ضروری ہے جو بچوں کو صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں سماجی، جسمانی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع دیں۔ کھیل، مباحثے، گروپ ورک اور آؤٹ ڈور سرگرمیاں بچوں کی شخصیت کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر نئی نسل کا بڑا حصہ غیر متوازن ڈیجیٹل عادات کا شکار ہو جائے تو اس کے طویل المدت سماجی، نفسیاتی اور تعلیمی اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو “ورچوئل آٹزم” ایک ایسی اصطلاح ہے جسے احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ہر رویے کو اسکرین کے استعمال سے جوڑ دینا سائنسی طور پر درست نہیں، کیونکہ خاندانی ماحول، جینیاتی عوامل، تعلیمی معیار اور نفسیاتی کیفیتیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے اس موضوع پر مزید وسیع اور منظم سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کے حقیقی اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ غیر متوازن اسکرین استعمال بچوں کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن اور غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ ڈیجیٹل آلات جدید دور کی ضرورت ہیں اور ان کے بے شمار فوائد بھی ہیں، لیکن جب یہ ضرورت حد سے بڑھ جائے اور زندگی کے دیگر اہم پہلوؤں پر غالب آ جائے تو مسائل پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر والدین، اساتذہ اور معاشرہ مل کر بچوں کے لیے ایک متوازن، فعال اور سماجی طور پر بھرپور ماحول فراہم کریں تو نہ صرف اس مسئلے کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں بلکہ ایک باشعور، متوازن اور ذہنی طور پر مضبوط نسل کی تربیت بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔
یہ مسئلہ آج کے دور میں تقریباً ہر گھر میں تیزی سے جڑ پکڑتا جا رہا ہے، کیونکہ والدین اپنی مصروف زندگی اور وقتی سکون کے لیے بچوں کو موبائل فون یا اسکرین کے حوالے کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بچے جسمانی سرگرمیوں سے دور اور ذہنی طور پر ایک محدود دائرے میں قید ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ اس آسان مگر خطرناک راستے کے بجائے بچوں کو پارک، کھیل کے میدان اور دیگر فزیکل ایکٹیویٹی کی طرف راغب کریں۔ روزانہ کی بنیاد پر کم از کم دو سے تین گھنٹے بچوں کو باہر کھلی فضا میں کھیلنے کا موقع دینا نہ صرف ان کی جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ ان کی ذہنی نشوونما، سماجی رویوں اور خود اعتمادی میں بھی مثبت کردار ادا کرتا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
امریکا، اسرائیل، ایران کشیدگی پاکستان کا بجلی، گیس اور مہنگائی کا گھمبیر معاشی بحران
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال نے عالمی سیاست کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، مگر اس ساری ہنگامہ خیزی کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری اپنی حکومت اپنی ہی عوام کے بنیادی مسائل سے نظریں چرا رہی ہے۔ بلاشبہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک کے اندر عوام بدترین معاشی اور توانائی بحران کا شکار ہیں۔ بجلی، گیس اور مہنگائی جیسے مسائل نے عام آدمی کی زندگی کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں جینا ایک مسلسل جدوجہد بن چکا ہے۔
پاکستان میں اس وقت بجلی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب تقریباً 18000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ پیداوار محض 13500 میگاواٹ ہے، جس کے نتیجے میں 4500 میگاواٹ کا واضح شارٹ فال سامنے آ رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ توانائی کا نظام نہ صرف دباؤ کا شکار ہے بلکہ اس میں بنیادی اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اپریل جیسے نسبتاً معتدل مہینے میں بھی لوڈشیڈنگ کی شدت اس قدر زیادہ ہے، جب کہ عام طور پر اس مہینے میں بجلی کی طلب گرمیوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
ملک کے مختلف حصوں میں لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ شہری علاقوں میں 15 سے 18 گھنٹے تک بجلی کی بندش معمول بنتی جا رہی ہے، جبکہ دیہی اور نواحی علاقوں میں یہ دورانیہ 20 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری طبقے کے لیے بھی شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہے۔ چھوٹے کاروبار، دکانیں، ورکشاپس اور صنعتیں سب متاثر ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ لوگ بھاری بھرکم بجلی کے بل ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جس سے عوامی غصہ اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ منظرنامہ ماضی کی یاد تازہ کر رہا ہے، خصوصاً 2011 کا وہ دور جب ملک بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار تھا اور روزانہ کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی تھی۔ آج ایک بار پھر وہی حالات سر اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی خاطر خواہ سبق نہیں سیکھا۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے پیک آورز میں محدود دورانیے کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے اور غیر اعلانیہ بندشوں نے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔بجلی کے بحران کی وجوہات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ بجلی چوری اور لائن لاسز اس مسئلے کی سب سے بڑی جڑ ہیں، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بجلی کا ایک بڑا حصہ صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گردشی قرضہ، ایندھن کی مہنگی درآمد، عالمی سطح پر LNG کی فراہمی میں رکاوٹیں، اور ناقص انفراسٹرکچر جیسے عوامل اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ جب تک ان بنیادی مسائل پر سنجیدگی سے قابو نہیں پایا جاتا، محض عارضی اقدامات سے صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔دوسری جانب گیس کا بحران بجلی سے بھی زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک شکل اختیار کر چکا ہے، خصوصاً سندھ اور کراچی میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔ غیر اعلانیہ گیس لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے اور کئی علاقوں میں روزانہ 15 سے 16 گھنٹے تک گیس کی بندش کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ سرکاری دعوؤں کے مطابق مخصوص اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے، مگر عملی طور پر ان اوقات میں بھی صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گھروں میں ناشتہ اور کھانا پکانا ایک چیلنج بن چکا ہے اور لوگ مجبوراﹰ مہنگی ایل پی جی یا بیکریوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر گھریلو نظام پر پڑ رہا ہے، خصوصاً خواتین شدید اذیت کا شکار ہیں جو روزمرہ کے معمولات کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ گیس کی قلت نے نہ صرف گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ چھوٹے کاروبار جیسے ہوٹلز، بیکریاں اور دیگر فوڈ انڈسٹری بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی طلب، LNG سپلائی کے مسائل اور انتظامی ناکامیوں نے اس بحران کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، جبکہ مستقبل قریب میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ادھر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی کے ایک ایسے طوفان کو جنم دیا ہے جس نے معیشت کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ آٹا، چینی، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، اور قوتِ خرید میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
صنعتی شعبہ بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیداواری لاگت میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث صنعتکار اپنی مصنوعات مہنگی کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی اضافی بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ زراعت کا شعبہ بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے کیونکہ زرعی مشینری اور ٹیوب ویلز ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، اور جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو فصلوں کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر براہ راست خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔مہنگائی کے ساتھ مصنوعی گرانی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے. عوام کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے.عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے.
دکاندار تاجر ٹھیلے والے عوام سے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں.جب صارف مہنگی اشیاء کا شکوہ کرتا ہے تو جواب میں یہ سننے کو ملتا ہے پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے لہذا ہر چیز ہمیں بھی مہنگی مل رہی ہیں. سرکاری سطح پر مصنوعی گرانی کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں.
یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے معاشی بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے۔ تنخواہیں جمود کا شکار ہیں جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہیں کیونکہ لوگوں کی خریداری کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ مسائل نئے نہیں بلکہ برسوں سے موجود ہیں، مگر سیاسی عدم استحکام، اقتدار کی کشمکش اور باہمی اختلافات نے ان کے حل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حکومت کی توجہ اکثر سیاسی معاملات اور عالمی امور پر مرکوز نظر آتی ہے، جبکہ عوام کے بنیادی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک مضبوط معیشت اور خوشحال عوام ہی کسی ملک کو عالمی سطح پر باوقار مقام دلا سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرے اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین مقصد بنائے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی چوری کے خاتمے، متبادل توانائی کے فروغ، اور گیس کی منصفانہ تقسیم جیسے اقدامات فوری طور پر کیے جانے چاہئیں۔ اسی طرح مہنگائی پر قابو پانے کے لیے موثر پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور اس کے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ سماجی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ عالمی امن کی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ایک ایسے ملک کے لیے جو اندرونی مسائل میں گھرا ہو، عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت سب سے پہلے اپنے گھر کو سنبھالے، عوام کے مسائل کو ترجیح دے اور ایسے اقدامات کرے جو ملک کو ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکیں۔
………………………..
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے تاریخی مذاکرات کا آغاز پاکستان کا سفارتی کردار اور میزبان کی حیثیت
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی نوعیت کے مذاکرات کا آغاز جنہیں خطے میں امن کے قیام کی ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر مثبت سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ باضابطہ مذاکرات سے قبل دونوں ممالک کے وفود نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں علاقائی اور عالمی امن و استحکام کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا، جس سے اس اہم سفارتی عمل کی سنجیدگی اور اہمیت مزید واضح ہو گئی۔نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ امریکی وفد میں اعلیٰ سطح کے سفارتی نمائندگان شامل تھے، جن میں اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ اسی تناظر میں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جیرڈ کشنر، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سابق مشیر رہ چکے ہیں، ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے، مکالمے کے فروغ اور عالمی امن کے قیام کے لیے اپنے تعمیری کردار اور بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اسلام آباد میں سخت سکیورٹی لاک ڈاؤن رہا، شہر میں ہزاروں فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔ایرانی وفد جمعہ کو پہنچا اور جنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کے سوگ میں سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا۔یہ مذاکرات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان سب سے اعلیٰ سطح کے براہ راست مذاکرات ہیں، اور 2015 کے بعد پہلی بار براہ راست رابطہ ہے۔2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا۔یہ براہِ راست مذاکرات پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کی ثالثی کے بعد شروع ہوئے، جب تہران نے اپنی وہ “ریڈ لائنز” پیش کیں جو اس کے مطابق واشنگٹن کو قبول کرنا ضروری ہیں۔
ایران کی شرائط میں آبنائے ہرمز، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی معاوضوں کی ادائیگی اور خطے میں مکمل جنگ بندی شامل ہیں، جیسا کہ ایرانی سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا۔ایران لبنان میں بھی جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے، جہاں مارچ سے جاری لڑائی میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تقریباً 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔امریکا اور اسرائیل نے کہا ہے کہ لبنان میں کارروائی ایران امریکا جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔
تہران کا وفد لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھی بات چیت جاری رکھے گا، ایرانی سرکاری ٹی وی کے ایک رپورٹر نے بتایا۔ایرانی خبر رساں اداروں کی غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق ایرانی اثاثوں کی رہائی اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کی حد بندی پر رضامندی کو مذاکرات کے آغاز کے لیے کافی سمجھا گیا۔
ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی سے منسوب بیانات میں کہا گیا ہے کہ تہران امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کو مکمل اعتماد کے بجائے محتاط انداز میں دیکھتا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم یہ مذاکرات صرف برابری، باہمی احترام اور عدم دباؤ کی بنیاد پر ہی قابلِ قبول ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران ماضی میں بھی بارہا یہی مؤقف دہراتا رہا ہے کہ طاقت یا پابندیوں کے دباؤ میں کسی قسم کے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے۔تاہم اس کے ساتھ ہی ایران نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ “انگلیاں ٹریگر پر ہی رہیں گی”، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے۔ فاطمہ مہاجرانی کے مطابق تہران اپنی خودمختاری اور قومی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹے گا، جیسا کہ مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ مہر نیوز ایجنسی (Mehr News Agency) ایران کی ایک سرکاری/نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ہے جو تہران، ایران میں قائم ہے جو حکومتی اداروں کے قریبی ذرائع میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ادارہ اکثر ایران کا سرکاری مؤقف، خارجہ پالیسی اور علاقائی امور کو حکومتی نقطۂ نظر سے رپورٹ کرتی ہے، اسی لیے اس کی خبروں کو ایران کے سرکاری بیانیے کی عکاسی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران بات چیت پر یقین رکھتا ہے اور ایک معقول رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، لیکن امریکا پر اعتماد نہیں کرتا، اسی لیے ایرانی وفد ان مذاکرات میں انتہائی احتیاط اور باریک بینی کے ساتھ حصہ لے رہا ہے۔
تہران کے ایجنڈے میں آبنائے ہرمز پر اپنی مکمل اتھارٹی کا اعتراف بھی شامل ہے، جہاں وہ ٹرانزٹ فیس لینے اور رسائی کو کنٹرول کرنے کا خواہاں ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم گزرگاہ ہے۔توانائی کی سپلائی میں خلل نے مہنگائی بڑھائی اور عالمی معیشت کی رفتار سست کی ہے، جس کے اثرات اگرچہ مذاکرات کامیاب بھی ہو جائیں تو مہینوں تک رہ سکتے ہیں۔
جنوبی لبنان میں حملے ہفتے کی صبح بھی جاری رہے۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق بیروت میں اسرائیلی ڈرون کی پروازیں رات بھر جاری رہیں اور جنگی طیاروں نے شہر کے اوپر آواز کی رفتار توڑ دی۔حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہفتے کے روز اسرائیلی اہداف پر کئی کارروائیاں کیں۔لبنان اور اسرائیل کے حکام منگل کو واشنگٹن میں ملاقات کریں گے، تاہم دونوں طرف سے اس ملاقات کے ایجنڈے پر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، علاقائی تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں اور بڑی طاقتوں کے درمیان عدم اعتماد ایک بار پھر گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک سفارتی محاذ پر غیر یقینی صورتحال نے بین الاقوامی نظام کو ایک نئے دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ توانائی کے بحران، جنگی خطرات، معاشی پابندیوں اور علاقائی بلاکس کی نئی صف بندی نے عالمی سیاست کو ایک پیچیدہ دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریف ممالک کا کسی تیسرے ملک میں مذاکرات کی میز پر آنا ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، اور خصوصاً پاکستان جیسے ملک میں ان مذاکرات کا انعقاد عالمی سفارت کاری میں ایک اہم اور تاریخی موڑ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ صورتحال محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ عالمی سیاست کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم اور ممکنہ طور پر دور رس نتائج کا حامل موڑ ہے جس کے اثرات علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح تک پھیل سکتے ہیں۔
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔ خطے میں مختلف محاذوں پر تناؤ، پراکسی تنازعات، اور عالمی طاقتوں کی مداخلت نے صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا تھا۔ ان حالات میں یہ مذاکرات نہ صرف ایک سفارتی پیش رفت ہیں بلکہ خطے میں ممکنہ امن عمل کی ایک نئی امید بھی تصور کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان اس عمل میں میزبان اور سہولت کار کے طور پر سامنے آیا ہے، جو اس کی جغرافیائی اہمیت، سفارتی حیثیت اور عالمی سیاست میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو مزید نمایاں کرتا ہے۔امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی، عدم اعتماد اور وقفے وقفے سے پیدا ہونے والے محدود سفارتی رابطوں پر مشتمل رہے ہیں۔ 1979 کے ایرانی انقلاب نے نہ صرف ایران کے اندر سیاسی نظام کو تبدیل کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی طاقت کے توازن کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل طور پر منقطع ہو گئے۔ اس تاریخی تبدیلی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کبھی بھی مکمل نارملائزیشن کی طرف نہیں جا سکے، اگرچہ مختلف ادوار میں بالواسطہ رابطے، خفیہ سفارت کاری اور محدود مذاکراتی کوششیں جاری رہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام، مشرق وسطیٰ میں اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی و عسکری اثر و رسوخ، اور امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی و مالی پابندیاں ان تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بنتی رہیں۔ 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ (JCPOA)
Joint Comprehensive Plan of Action
ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا،
2015 کے JCPOA معاہدے میں P5+1 ایک سفارتی اصطلاح ہے جو ان چھ ممالک کے گروپ کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں شامل رہے ہیں۔ اس میں “P5” سے مراد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک ہیں، یعنی امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین، جبکہ “+1” سے مراد جرمنی ہے۔ یہ چھ ممالک مل کر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے اور اس سے متعلق سفارتی مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں.
جسے اس وقت عالمی امن اور جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کیا گیا۔ تاہم 2018 میں امریکا کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی نے پوری صورتحال کو دوبارہ غیر یقینی، پیچیدہ اور کشیدہ بنا دیا۔ اس فیصلے کے بعد نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد مزید کم ہوا بلکہ خطے میں سیاسی کشمکش، پابندیوں اور عسکری کشیدگی میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔
2019 میں امریکا نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے کر دباؤ کی پالیسی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔ یہ اقدام نہ صرف علامتی طور پر اہم تھا بلکہ عملی طور پر بھی اس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا اور سفارتی راستے مزید محدود ہو گئے۔ اس کے بعد جنوری 2020 میں بغداد میں ہونے والا امریکی ڈرون حملہ، جس کے نتیجے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوئے، خطے میں ایک بڑے بحران کا باعث بنا۔ اس واقعے نے امریکا اور ایران کو براہِ راست تصادم کے انتہائی قریب پہنچا دیا اور عالمی سطح پر تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی۔
2021 میں امریکا میں جو بائیڈن انتظامیہ کے برسراقتدار آنے کے بعد ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع ہوئیں۔ ویانا میں بالواسطہ مذاکرات کے کئی ادوار منعقد ہوئے جن کا مقصد JCPOA کو دوبارہ فعال بنانا تھا۔ تاہم ان مذاکرات کے دوران متعدد رکاوٹیں سامنے آئیں جن میں اعتماد کی کمی، پابندیوں کا مسئلہ، اور علاقائی سلامتی کے خدشات شامل تھے۔ اسی دوران ایران میں بعض حساس تنصیبات پر حملوں اور تکنیکی مسائل کے واقعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس کے باعث اعتماد سازی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔
بعد ازاں 2023 میں امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور منجمد مالی اثاثوں سے متعلق محدود مگر اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی۔ اس پیش رفت نے یہ واضح کیا کہ اگرچہ باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، لیکن عملی سطح پر بالواسطہ سفارت کاری اور خفیہ رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یہ اقدامات اس بات کا اشارہ تھے کہ دونوں ممالک شدید اختلافات کے باوجود بعض معاملات میں مذاکرات کی گنجائش برقرار رکھتے ہیں۔ایسے پیچیدہ، تاریخی اور حساس پس منظر میں اگر امریکا اور ایران کسی نئے اور باضابطہ سفارتی مرحلے میں داخل ہوتے ہیں اور اس عمل کی میزبانی پاکستان جیسے ملک کے پاس آتی ہے تو یہ پیش رفت عالمی سفارت کاری میں ایک غیر معمولی، اہم اور دور رس اثرات کی حامل حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان جغرافیائی طور پر ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک، معاشی اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے امریکا کے ساتھ طویل المدتی سفارتی تعلقات موجود ہیں جبکہ ایران کے ساتھ اس کی طویل سرحد، تاریخی روابط، مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی اور توانائی و تجارت کے امکانات بھی ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک ممکنہ طور پر مؤثر، قابل قبول اور متوازن سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔
تاہم ایسے کسی بھی سفارتی عمل کی کامیابی پاکستان کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ اس عمل میں غیر جانبداری، سفارتی احتیاط، پالیسی تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ مہارت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی فریق کی طرف معمولی جھکاؤ یا غیر محتاط بیان بازی نہ صرف مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، اس کی غیر جانبداری اور اس کے سفارتی کردار پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا کو صرف ایک روایتی خطہ نہیں بلکہ ایک ابھرتے ہوئے سفارتی، معاشی اور اسٹریٹجک مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ایسے ممالک کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے، مکالمے اور اعتماد سازی کا کردار ادا کر سکیں۔
اگر یہ سفارتی عمل آگے بڑھتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، بین الاقوامی تجارت اور جیوپولیٹیکل توازن پر بھی براہ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی عالمی توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور تجارت میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پیش رفت اس بات کی بھی علامت ہوگی کہ شدید ترین سیاسی اختلافات اور دہائیوں پر محیط دشمنیوں کے باوجود مکالمے اور سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوتے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ مذاکرات عالمی سیاست میں ایک اہم، نازک اور فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ عمل اعتماد سازی، استحکام، اور مستقل مکالمے کی طرف بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت، امید افزا اور تاریخی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، اور پاکستان اس تاریخی موقع پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے عالمی منظرنامے پر اپنی حیثیت کو مزید مضبوط اور مؤثر بنا سکتا ہے۔
اگر اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات واقعی اس سطح اور سنجیدگی کے ساتھ جاری رہتے ہیں تو یہ عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی کشیدگی، معاشی دباؤ اور علاقائی تنازعات سے گزر رہی ہے، کسی بھی بڑی طاقت کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مکالمہ ایک مثبت پیش رفت تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا اس عمل میں ممکنہ ثالث یا میزبان کے طور پر کردار اسے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی ایک اہم مقام دے سکتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نوعیت کے حساس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار شفافیت، اعتماد سازی اور مسلسل مکالمے پر ہوتا ہے۔ اگر فریقین واقعی سنجیدگی کے ساتھ اختلافات کم کرنے کی طرف بڑھتے ہیں تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور جیوپولیٹیکل توازن پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
یوں یہ پیش رفت، اگر اپنی حقیقی روح کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، تو نہ صرف ایک نئی سفارتی امید کو جنم دے سکتی ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی عالمی سطح پر ایک مثبت اور مؤثر کردار کا دروازہ کھول سکتی ہے۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
زیرہ خارگ تاریخی پس منظر جغرافیائی اہمیت ایران کی معاشی شہ رگ اور عالمی توانائی سیاست کا مرکز
کربلا کے شہداء کی پاک زمین ایران قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور عالمی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے پاس وسیع تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو ملک کی معیشت اور توانائی کی عالمی منڈی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر ساؤتھ پارس گیس فیلڈ گیس کی پیداوار میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران کے معدنی وسائل بھی کافی متنوع ہیں، جن میں لوہا، تانبا، زنک، سیسہ، کرومائٹ اور سونا شامل ہیں، جبکہ یورینیم کے ذخائر اس کے جوہری پروگرام کی بنیاد ہیں۔ زرعی پیداوار میں گندم، پستہ اور زعفران نمایاں ہیں، اور پانی کے ذخائر اور جنگلات بھی ملک کی معیشت اور خود کفالت کو مضبوط کرتے ہیں۔ایران کے بڑے دریاوں میں دریائے کارون سب سے اہم ہے جو طویل ترین اور واحد قابلِ جہاز رانی دریا ہے، جبکہ دریائے کرخہ اور دریائے دز زرعی اور آبی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہیں۔ خلیج فارس میں ایران کے اہم جزائر میں جزیرہ خارگ تیل برآمدات کا مرکزی مرکز ہے، جزیرہ قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور تجارت و سیاحت کے لیے اہم ہے، جزیرہ کیش سیاحتی اور فری ٹریڈ زون کے طور پر جانا جاتا ہے، آبنائے ہرمز ایران کی اسٹریٹجک برتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور خلیج فارس میں موجود بارہ جزائر دفاعی اور اقتصادی نقطہ نظر سے اہم ہیں۔
چہاہ بہار ایران کا جنوبی بندرگاہی شہر ہے جو عمان کی خلیج کے کنارے واقع ہے۔ اس کا موسم معتدل اور خوشگوار ہے، خاص طور پر سردیوں میں، جب درجہ حرارت عام طور پر 15 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔ گرمیوں میں بھی شدید حد تک گرم نہیں ہوتا اور بارشیں کبھی کبھار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بہترین مقام ہے۔
یہ تمام قدرتی وسائل، دریا، جزائر اور جغرافیائی خصوصیات ایران کی معیشت، توانائی، زراعت، سیاحت اور عالمی جغرافیائی حیثیت کو مضبوط بناتے ہیں۔
ایران کی طاقت اس کے جغرافیائی محل وقوع اور اس کے جزائر میں مضمر ہے، جو نہ صرف قومی دفاع کا مضبوط حصّہ ہیں بلکہ عالمی توانائی کی روانی پر بھی براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ شمالی خلیج فارس کے اہم جزائر جیسے خارگ اور ہرمز، ایران کے اقتصادی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کا مرکز ہیں، اور ان کی بندش یا کسی بھی طرح کی رکاوٹ سے عالمی تیل کی ترسیل رک سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سپر پاور امریکہ بھی ایران کے خلاف کھلے محاذ پر قدم رکھنے سے گریزاں ہے اور اب ہچکچاہٹ کے عالم میں ہیلے بہانے تلاش کر کے مذاکرات کی بات کر رہا ہے، جو ایران کی اسٹریٹجک طاقت اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔خارگ جزیرہ، شمالی خلیج فارس کا ایک اہم اور اسٹریٹجک نقطہ، ایران کی جغرافیائی اور دفاعی طاقت کی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے.جزیرہ خارگ، جو بنیادی طور پر ایران کے تیل کی برآمد کے لیے ایک اسٹریٹجک مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، فارسی ہرن کا بھی مسکن ہے۔
یہ نایاب جانور تقریباً 60 سال قبل جزیرے پر مصنوعی افزائش کے لیے لائے گئے تاکہ ان کی نسل کے ختم ہونے سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔
اگلے 55 سالوں میں ان کی آبادی میں اضافہ ہوا۔ چار سال قبل، ان میں سے کچھ کو بوشہر صوبے منتقل کیا گیا تاکہ ہرنوں کی آبادی کو منظم کرنے میں مدد ملے۔
جزیرہ خارگ فارسی ہرن کے لیے ایران کا تیسرا یا چوتھا مسکن ہے۔ لہٰذا، تنازعات اور بمباری ان کی جانوں کے لیے بھی خطرہ بنیں گے۔
یہ ایک سیاحتی مقام بھی ہے. خارگ خلیجِ عرب میں چند ایسے جزائر میں سے ایک ہے جہاں تازہ پانی کے ذرائع موجود ہیں اور یہ جنگلی حیات کا گھر بھی ہے، جن میں ہرن، ہاکس بِل سی ٹرٹل، گرین سی ٹرٹل، بکریاں، بڑی سفید سر والی چڑیاں، اوسپری، ہاؤس کرو اور مہاجر پرندے شامل ہیں، جیسا کہ ایرانی ٹورز کے مطابق بتایا گیا ہے۔یہ جزیرہ ایران کے تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات کو ہینڈل کرتا ہے، اور اندازوں کے مطابق اس کی لوڈنگ صلاحیت روزانہ 7 ملین بیرل اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 30 ملین بیرل ہے۔
ایران کے پاس دنیا میں تیسرے سب سے بڑے ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر ہیں، جو تقریباً 208.6 ارب بیرل پر مشتمل ہیں اور عالمی سطح پر تقریباً 12 فیصد بنتے ہیں، Kpler اور دیگر عالمی توانائی مارکیٹ ریسرچ رپورٹس کے مطابق خارگ جزیرہ سے ایران کے خام تیل کی زیادہ تر برآمدات ایشیائی ممالک کو جاتی ہیں، جن میں سب سے بڑی اکثریت تقریباً 80 فیصد چین کو جاتی ہے۔
“کی پلر (Kpler) ایک فرانسیسی کمپنی ہے جو عالمی توانائی مارکیٹ کے ڈیٹا اور تجزیاتی خدمات فراہم کرتی ہے، اور خاص طور پر خام تیل، قدرتی گیس، اور دیگر توانائی کی عالمی برآمدات اور شپمنٹس کو ٹریک کرنے کا کام کرتی ہے۔”
خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا قلب سمجھا جاتا ہے، اور اس کی بندش کے نتیجے میں ملک کی زیادہ تر تیل برآمدات عملاً رک سکتی ہیں۔ جیانکو پراندیلی، بانی دی مرچنٹ نیوز، جو عالمی کموڈیٹیز کی نگرانی کرتا ہے، کے مطابق خارگ نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بھی ایک اہم مرکز ہے۔ جزیرے میں موجود اومڈ خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینک نجی شعبے میں سب سے بڑے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں، جو ایران کی توانائی کی معیشت اور برآمدی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
جزیرے کے مشرق اور مغرب میں خارگ کے دو گھاٹ ہیں۔ سنہ 1955 میں، تیل کنسورشیم کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد خارگ میں لوڈنگ ڈاکس اور خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہوا۔
خارگ میں خام تیل کا معیار جانچنے کے لیے ایک لیبارٹری بھی ہے۔ یہ لیبارٹری بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ ایرانی آئل ٹرمینلز آرگنائزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی بہترین لیبارٹریز میں سے ایک ہے۔
خارگ پیٹرو کیمیکل کمپنی بھی اس جزیرے میں کام کرتی ہے جس کا مقصد تیل نکالنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیسوں کو جلنے سے روکنا اور انہیں قیمتی مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ کمپنی میتھانول، سلفر، پروپین، بیوٹین، اور نیفتھا (پٹرول) بھی بناتی ہے۔
صرف آٹھ ہزار سے زائد آبادی والے خارگ میں اسلامی آزاد یونیورسٹی بھی ہے جو میرین سائنس اور آرٹس کی ایک شاخ ہے۔ اس یونیورسٹی میں مطالعہ کے سب سے اہم شعبوں میں سے ایک پیٹرولیم اور سمندری مطالعہ بھی ہے۔ایران عراق جنگ کے دوران ایران کی تیل کی 90 فیصد سے زیادہ برآمدات خارگ کے راستے ہوتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ عراق نے اس چھوٹے سے جزیرے پر 2800 بار حملہ کیا۔خارگ جزیرے کی اہمیت اس کے منفرد جغرافیے اور بنیادی ڈھانچے میں ہے۔ ایران کے زیادہ تر کم گہرائی والے ساحلوں کے برعکس یہ جزیرہ گہرے پانیوں میں واقع ہے جس کے باعث بڑے سُپر ٹینکر اس جزیرے پر لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس نے وقت کے ساتھ اسے ایران کے لیے تیل کی برآمدات کے لیے پُرکشش ترین مقام بنا دیا ہے۔
یہ جزیرہ ایران کے تیل کے اہم ذخائر سے پائپ لائنوں کے ذریعے منسلک ہے اور یہاں وسیع اسٹوریج کی سہولیات موجود ہیں، جو اسے تہران کے لیے ایک اہم اقتصادی اثاثہ بناتی ہیں، کیونکہ ملک کی ریاستی آمدنی کا انحصار زیادہ تر توانائی کی برآمدات پر ہے۔
ایران کی وزارتِ تیل کے مطابق خارگ جزیرہ خطے کا مرکزی ہب ہے جہاں خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات ذخیرہ کی جاتی ہیں اور پھر برآمد کی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایران نے جزیرے کے بنیادی ڈھانچے میں اضافہ جاری رکھا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق 2025 میں اس ٹرمینل کی لوڈنگ کی صلاحیت روزانہ 70 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی تھی، تاہم موجودہ برآمدات کا تخمینہ کافی کم قریباً 16 لاکھ بیرل روزانہ ہے۔
سنہ 1960 کی دہائی کے دوران جزیرے میں تیل کے ٹرمینل کے قائم ہونے سے قبل بھی یہ جارح افواج کے لیے ایک سمندری انعام رہا ہے۔
پرتگالیوں نے 1700 کی دہائی میں مختصر مدت کے لیے جزیرے پر قبضہ کیا، اس کے بعد یہ ہالینڈ کے زیرِانتظام آیا، تو ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یہاں ایک بڑا قلعہ بنایا لیکن 1766 میں وہ بھی اس جزیرے سے چلے گئے۔
ایران، آبنائے ہرمز، چابہار بندرگاہ اور خارگ جزیرہ کی بدولت عالمی سیاست اور معیشت میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران ان اہم گزرگاہوں اور بندرگاہوں کی بندش نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث نہ صرف توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی شدید دباؤ پڑا۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ایران کا جغرافیائی محلِ وقوع دنیا کی معاشی نبض پر کس قدر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
خارگ دراصل ایک جغرافیائی نام ہے جس کے واضح لفظی معنی اردو یا فارسی میں متعین نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک مخصوص مقام کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ نام زیادہ تر جزیرۂ خارگ کے لیے بولا جاتا ہے، جو ایران کے خلیجِ فارس میں واقع ایک اہم جزیرہ ہے۔ اس جزیرے کو خاص طور پر ایران کے تیل کی برآمدات کے مرکزی مرکز کی حیثیت حاصل ہے، اسی وجہ سے اس کی اقتصادی اور تزویراتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ لہٰذا “خارگ” کا استعمال عام لفظ کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسمِ علم کے طور پر کیا جاتا ہے، جو ایک مخصوص جغرافیائی مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔تاریخی شواہد کے مطابق جزیرہ خارگ صدیوں سے تجارتی اور تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے.
جزیرہ خارگ، ایران کے شمالی خلیجِ فارس میں واقع ایک چھوٹا مرجانی جزیرہ ہے، جو بندرگاہ بوشہر سے تقریباً 34 میل (55 کلومیٹر) شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ جزیرہ ایران کی تقریباً تمام تیل برآمدات کا مرکزی ٹرمینل ہے۔ جزیرہ خارگ کی تیل لوڈنگ صلاحیت تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ ہے، تاہم عملی طور پر یہاں سے یومیہ برآمدات عموماً 15 سے 30 لاکھ بیرل کے درمیان رہتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی صلاحیت مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہی۔
جزیرہ خارگ اپنی جغرافیائی ساخت کے اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تقریباً 8 کلومیٹر لمبا اور 4 سے 5 کلومیٹر چوڑا یہ جزیرہ ایران کے جنوبی ساحل کے قریب واقع ہے، جبکہ اس کے اردگرد سمندر کی گہرائی اسے بڑے آئل ٹینکرز کے لیے موزوں بناتی ہے۔ مزید برآں، یہاں تیل ذخیرہ کرنے کی وسیع سہولیات موجود ہیں، جو اسے صرف برآمدی مرکز ہی نہیں بلکہ ایک اہم توانائی ذخیرہ گاہ بھی بناتی ہیں۔
جزیرہ خارگ خلیجِ فارس کے اُن چند جزائر میں سے ایک ہے جہاں قدرتی میٹھے پانی کے وسائل موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہاں چھوٹی آبادیوں کا قیام ممکن ہوا۔ اس جزیرے پر انسانی سرگرمیوں کے ابتدائی آثار ہخامنشی دور سے ملتے ہیں۔ یہاں دو چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے مقبرے موجود ہیں جن میں تدفینی انداز پالمیرا سے مشابہت رکھتے ہیں، اگرچہ بعض ماہرین نے انہیں نباطیہ یا اشکانی طرزِ تدفین سے بھی جوڑا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ایک عیسائی خانقاہی کمپلیکس کے آثار بھی ملے ہیں، جو غالباً ساتویں صدی کے بعد مشرقی کلیسا سے تعلق رکھتا تھا۔
اسلامی دور میں یہ جزیرہ ایک فعال تجارتی مرکز رہا، جس کے شواہد عباسی دور سے لے کر منگول دور تک ملتے ہیں۔ بعد ازاں 14ویں صدی میں یہ ہرمز کے حکمران کے زیرِ اقتدار آ گیا۔ 18ویں صدی میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے جزیرے پر ایک تجارتی مرکز قائم کیا، مگر 1765 میں مقامی حکمران مہنّا نے انہیں جزیرے سے نکال دیا۔
طویل عرصے تک یہ جزیرہ تقریباً غیر آباد رہا، لیکن 20ویں صدی میں ایران کی معدنی ترقی کے ساتھ ہی یہ خام تیل کے ٹرمینل اور لوڈنگ مرکز میں تبدیل ہو گیا۔ 1970 کی دہائی میں بڑے آئل ٹینکرز نے آبادان کے بجائے یہاں لنگر انداز ہونا شروع کیا، اور 2020 کی دہائی کے وسط تک اس ٹرمینل میں بیک وقت 10 سپر ٹینکرز کو لوڈ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی۔
ایران-عراق جنگ (1980ء تا 1988ء) کے دوران اس جزیرے کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے تیل کے ٹرمینل کو نقصان پہنچا۔ اس دوران ایران نے اپنی ترسیل لاوان اور سیری جیسے متبادل مقامات پر منتقل کی۔ مارچ 2026 میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی فضائی حملوں میں جزیرے پر موجود بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم تیل کی بنیادی تنصیبات محفوظ رہیں۔
خارگ جزیرہ، جو شمالی خلیج فارس میں ایک تنگ کورل کی چٹان ہے، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تصادم میں سب سے زیادہ اسٹریٹجک اہمیت رکھنے والی جگہوں میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے۔اگرچہ یہ جزیرہ صرف تقریباً پانچ میل طویل ہے، یہ ایران کے خام تیل کے برآمدی نظام کا مرکزی ہب ہے اور ہرمز کی تنگی کے ارد گرد فوجی اثاثوں کی میزبانی کرتا ہے۔حالیہ کشیدگی کے دوران خارگ جزیرے کے فوجی انفراسٹرکچر کو ممکنہ ہدف سمجھا جا رہا ہے، جبکہ توانائی کی تنصیبات کو عالمی اثرات کے باعث عموماً محفوظ رکھنے کی حکمت عملی زیرِ بحث رہتی ہے، جو اس جزیرے کی توانائی کی منڈیوں، سمندری سلامتی اور علاقائی فوجی حکمت عملی میں اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
*اقتصادی اہمیت*
خارگ جزیرہ ایران کے خام تیل برآمدی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے تقریباً 90% خام تیل کی برآمدات جزیرے کے ٹرمینلز سے گزرتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اقتصادی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے۔
ٹینکر ٹریکنگ کے ڈیٹا کے حالیہ اندازوں کے مطابق خارگ جزیرہ ایران کی خام تیل برآمدات کے تقریباً 90 سے 95 فیصد حصے کو ہینڈل کرتا ہے.
جو قومی کل تقریباً 1.6 ملین بیرل فی دن میں سے تقریباً 1.54 ملین بیرل کے مساوی ہے۔
خارگ کے انفراسٹرکچر کا دائرہ دیگر ایرانی برآمدی سہولیات کے مقابلے میں بہت وسیع ہے۔ جزیرے کے لوڈنگ ٹرمینلز کو اصل میں روزانہ سات ملین بیرل تک ہینڈل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور یہ ایک وقت میں آٹھ یا نو سپر ٹینکروں کو سروس فراہم کر سکتے ہیں۔ جزیرے پر 50 سے زیادہ خام تیل کے اسٹوریج ٹینک ہیں، جو 34 ملین بیرل سے زیادہ ذخیرہ کر سکتے ہیں۔جزیرے سے بھیجے جانے والا زیادہ تر خام تیل جنوبی ایران کے مین لینڈ کے تیل کے میدانوں سے پائپ لائن کے ذریعے آتا ہے، نہ کہ جزیرے پر پیدا ہوتا ہے۔
دوسری برآمدی سہولیات نسبتاً چھوٹے پیمانے پر کام کرتی ہیں۔ لیوان جزیرہ تقریباً 200,000 بیرل فی دن کی پروسیسنگ کر سکتا ہے، جبکہ اسٹوریج کی گنجائش تقریباً 5.5 ملین بیرل ہے۔ سری جزیرہ تقریباً 4.5 ملین بیرل اسٹوریج فراہم کرتا ہے۔ عسلویہ کا توانائی ہب گیس کونسینیٹ کو ہینڈل کرتا ہے، یعنی یہ خام تیل کے بڑے برآمدی ٹرمینل کے طور پر کام نہیں کرتا۔
ایران نے خلیج فارس کے باہر متبادل برآمدی راستے بنانے کی بھی کوشش کی ہے۔ خلیج عمان میں جاسک (جاسک تیل برآمدی ٹرمینل)پر زیر ترقی ٹرمینل کی منصوبہ بندی کی گئی گنجائش تقریباً ایک ملین بیرل فی دن ہے، لیکن اسٹوریج کی گنجائش صرف دو ملین بیرل ہے، جو خارگ کے پیمانے سے بہت کم ہے۔
اسی وجہ سے خارگ کو ایران کے خام تیل کے برآمدی نظام کا مرکزی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ تجزیات میں بھی سنکشنز اور مالی تجزیہ کار توانائی کے ماہرین کے مطابق یہ انفراسٹرکچر ایران کے برآمدی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
*فوجی اہمیت*
خارگ جزیرہ نہ صرف اقتصادی اثاثہ ہے بلکہ اہم فوجی مقام بھی ہے۔جزیرے تک رسائی سختی سے محدود ہے اور ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC)
Islamic Revolutionary Guard Corps
کی نگرانی میں ہے۔
اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) ایران کی ایک خاص فوجی تنظیم ہے جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد قائم کی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد انقلاب کے اصولوں کی حفاظت، ایران کی داخلی و خارجی سلامتی کو یقینی بنانا، اور ملک کے سیاسی و فوجی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنا ہے۔ IRGC ایران کی عام فوج سے علیحدہ ہے اور اکثر حساس اور مخصوص آپریشنز انجام دیتا ہے۔ اس کی تنظیم میں زمینی فوج، فضائی و خلائی فورس، بحریہ، اور خصوصی آپریشنز کے شعبے شامل ہیں، اور یہ نیوی خلیج فارس میں جزائر کی حفاظت، ساحلی دفاع، اور سمندری حکمت عملی میں سرگرم عمل ہے۔ اس کے پاس تیز رفتار حملہ آور کشتی، ساحلی میزائل، جدید ریڈار سسٹمز، اور ڈرون نیٹ ورک موجود ہیں۔ IRGC انقلاب اور حکومت کے اصولوں کا محافظ ہے، داخلی مخالفت اور بیرونی خطرات سے ملک کو تحفظ فراہم کرتا ہے، اور شمالی خلیج فارس میں ایران کی فوجی حکمت عملی میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
“IRGC نیوی کی تیز رفتار کشتیوں پر مشتمل مختلف یونٹس یہاں تعینات ہیں
جو تیز حملہ آور کشتیوں کے ساتھ کام کرتی ہے اور خلیج فارس میں غیر متوازن سمندری جنگ کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
یہ کشتیاں عام طور پر اینٹی شپ میزائل، راکٹ اور بحری مائنوں سے لیس ہوتی ہیں، جو قریبی تجارتی یا بڑے بحری جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
جزیرے کے ارد گرد فوجی انفراسٹرکچر میں ساحلی میزائل لانچر، ریڈار سسٹمز، نگرانی کے نیٹ ورک اور ڈرون کی سہولیات شامل ہیں، جو شمالی خلیج فارس میں سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہیں۔
ایران کی باقاعدہ بحریہ، جسے آرمی نیوی کہا جاتا ہے، بھی وسیع البشہر خارگ علاقے میں کام کرتی ہے، ہیلکاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے سمندری گشت اور ممکنہ مائن بچھانے کے آپریشن انجام دیتی ہے۔
مجموعی طور پر، IRGC نیوی اور باقاعدہ بحریہ کی موجودگی کشیدہ حالات میں شپنگ لائنز کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں جیسے Reuters اور Al Jazeera کے مطابق خارگ جزیرہ، جو شمالی خلیج فارس میں ایران کا اہم تیل برآمدی مرکز ہے، خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران کی خام تیل کی بڑی مقدار اسی جزیرے کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتی ہے، جس کے باعث اسے ایران کی توانائی معیشت کی اہم شہ رگ قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس جزیرے کی تیل یا توانائی سے متعلق تنصیبات کو کسی بھی ممکنہ تصادم میں نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی روانی عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور سمندری راستوں کی سلامتی ایک اہم عالمی مسئلہ بن چکی ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
سی این این کے مطابق ایران نے ممکنہ امریکی زمینی حملے سے بچاؤ کے لیے جزیرہ خارگ کی دفاعی تیاری میں اضافہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق۔
متعدد افراد جو امریکی انٹیلیجنس رپورٹس سے واقف ہیں، نے بتایا کہ ایران نے جزیرہ خارگ پر جال بچھائے اور اضافی فوجی اہلکار اور فضائی دفاعی نظام منتقل کیے ہیں تاکہ ممکنہ امریکی کارروائی کے دوران جزیرہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا مقابلہ کیا جا سکے۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی تھی کہ امریکی فوجی چھوٹے جزیرے پر قبضہ کریں، جو شمال مشرقی خلیج فارس میں ایران کی معاشی رگ ہے اور ملک کے تقریباً 90٪ خام تیل کی برآمدات کا انتظام کرتی ہے، تاکہ ایرانیوں پر دباؤ ڈال کر انہیں راستہ ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔
تاہم امریکی حکام اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی زمینی کارروائی میں کافی خطرات شامل ہوں گے، جن میں امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد کے ہلاک ہونے کا امکان بھی شامل ہے۔ جزیرہ مضبوط دفاعی تہوں سے مزین ہے، اور ذرائع کے مطابق ایرانیوں نے حال ہی میں وہاں اضافی کندھے سے چلنے والے زمین سے ہوا تک مار کرنے والے راکٹ سسٹمز (MANPADs) بھی منتقل کیے ہیں۔
ریٹائرڈ ایڈمرل جیمز اسٹاورڈیس، جو سابقہ NATO کے سپریم الائیڈ کمانڈر رہ چکے ہیں اور اب سی این این کے عسکری تجزیہ کار کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے کہا:
“میں اس بارے میں بہت فکرمند ہوں۔ ایرانی ہوشیار اور بے رحم ہیں۔ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ امریکی افواج کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائیں، چاہے وہ سمندر میں بحری جہازوں پر ہو، یا خاص طور پر جب زمینی فوجیں ان کی خودمختار سرزمین میں کہیں بھی ہوں۔
خارگ جزیرہ، جو شمالی خلیج فارس میں ایران کا اہم تیل برآمدی مرکز ہے، نہ صرف خطے کی جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی اس کا کردار کلیدی ہے۔
ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت کو شدید توانائی بحران، مہنگائی اور سست روی کے مشترکہ خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جہاں یورپ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک مہنگی توانائی اور درآمدی انحصار کے سبب دباؤ میں ہیں، جبکہ بھارت اور ترکی جیسی ابھرتی معیشتیں تیل کی قیمتوں میں اضافے، کرنسی کمزوری اور مالیاتی سختی سے متاثر ہو رہی ہیں. خلیجی ممالک خود بھی اس لیے نقصان اٹھا رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث تیل و گیس کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ پاکستان، مصر اور سری لنکا جیسے پہلے سے کمزور ممالک کو ایندھن کی مہنگائی، قرضوں کے دباؤ، ترسیلات میں کمی اور حکومتی اخراجات میں کٹوتیوں جیسے سخت اقدامات کے باعث مزید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جس سے مجموعی طور پر یہ تنازع ایک وسیع عالمی معاشی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
جزیرہ خارگ حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے اور اس کی اسٹریٹجک حیثیت کے باعث کسی بھی ممکنہ تنازع میں اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حلقوں میں یہ مؤقف پایا جاتا ہے کہ ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے سے اس کی معیشت پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور صورتحال بدستور حساس ہے۔
دوسری جانب عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران نے جزیرہ خارگ کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اضافی فوجی تعیناتی، فضائی دفاعی نظام اور دیگر حفاظتی انتظامات کے ذریعے اس اہم تنصیب کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق خارگ جزیرہ اگرچہ رقبے کے لحاظ سے محدود ہے، لیکن اس کی معاشی اور اسٹریٹجک اہمیت غیر معمولی ہے کیونکہ ایران کی بڑی مقدار میں تیل کی برآمدات اسی مقام کے ذریعے ہوتی ہیں۔ اسی لیے کسی بھی ممکنہ کشیدگی میں یہ ایک حساس ہدف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی عالمی منڈی پر پڑ سکتے ہیں بلکہ اہم بحری راستوں کی سلامتی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی تجارت میں خلل کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
………………………………….
ایران میں کالی بارش اور موسمیاتی بحران فضائی آلودگی میں اضافہ *
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں شدید تباہی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ تیل کے ذخائر، صنعتی تنصیبات اور حساس مقامات پر بمباری کے باعث آگ کے شعلے، گہرے سیاہ دھوئیں کے بادل اور بارودی مادّوں کے اخراج نے فضا کو شدید آلودہ کر دیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے منفی اثرات ایران کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک تک بھی پہنچنے کا امکان موجود ہے۔ زہریلا دھواں اور ممکنہ تیزابی بارش ماحول، انسانی صحت، زراعت اور آبی وسائل کے لیے طویل المدتی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔حالیہ دنوں میں ایران کے بعض علاقوں میں مبینہ طور پر کالی بارش کی اطلاعات نے ماحولیاتی ماہرین اور عالمی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ سائنسی طور پر کالی بارش ایسی بارش کو کہا جاتا ہے جس میں فضا میں موجود کاربن، راکھ، دھواں یا دیگر آلودہ ذرات شامل ہو کر بارش کے پانی کو سیاہی مائل بنا دیتے ہیں۔ جب فضا میں باریک آلودہ ذرات کی مقدار غیر معمولی حد تک بڑھ جائے تو بارش کے قطرے انہیں اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بارش کا پانی آلودہ شکل اختیار کر لیتا ہے۔کالی بارش کا تصور تاریخ میں بھی دیکھا گیا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے جانے کے بعد جو بارش ہوئی اسے بھی کالی بارش کہا گیا تھا۔ اس بارش میں تابکار ذرات اور راکھ شامل تھی جس کے باعث ہزاروں افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہوئے۔ اسی تاریخی مثال کی وجہ سے ماہرین کسی بھی ایسی بارش کو ماحولیاتی خطرے کی علامت سمجھتے ہیں جس میں آلودہ ذرات شامل ہوں۔ماحولیاتی سائنس کے مطابق جب کسی علاقے میں بڑے پیمانے پر آتشزدگی، صنعتی دھماکے یا تیل کے ذخائر میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے ہیں تو فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ اور دیگر کیمیائی مرکبات کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ ذرات فضا میں معلق رہتے ہیں اور بادلوں کی تشکیل کے دوران بارش کے قطروں کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ نتیجتاً بارش کے ساتھ یہ آلودہ عناصر زمین، پانی اور نباتات تک منتقل ہو جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں یہی عمل تیزابی بارش کا سبب بھی بن سکتا ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود باریک ذرات انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسے ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوں تو سانس کی بیماریاں، دمہ، الرجی، آنکھوں میں جلن اور پھیپھڑوں کے امراض پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح آلودہ بارش کے پانی کے براہِ راست رابطے سے جلدی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے ماہرین ایسی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ماحولیاتی اعتبار سے بھی اس قسم کی بارش کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ آلودہ پانی زمین پر گر کر مٹی کی کیمیائی ساخت کو متاثر کر سکتا ہے اور زرخیزی میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر یہ عناصر زیر زمین پانی تک پہنچ جائیں تو آبی ذخائر بھی آلودہ ہو سکتے ہیں، جبکہ فصلوں اور پودوں پر اس کے اثرات زرعی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق فضائی آلودگی کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی بلکہ ہوا کے بہاؤ کے ذریعے سینکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں کلومیٹر تک منتقل ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اگر کسی خطے میں بڑے پیمانے پر آلودگی پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ایران کے جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کے بادل خطے کے دیگر ممالک کو بھی کسی حد تک متاثر کر سکتے ہیں، تاہم اس کا انحصار موسمی نظام اور ہوا کی سمت پر ہوتا ہے۔اسی تناظر میں پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بھی فضائی آلودگی کی صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فضا میں آلودہ ذرات کی مقدار زیادہ ہو تو بارش کے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کر کے اس کی کیمیائی ساخت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں سب سے اہم اقدام فضائی آلودگی کی مسلسل نگرانی اور سائنسی تحقیق ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فضائی معیار کی پیمائش، بارش کے پانی کے نمونے جمع کرنا اور ماحولیاتی معلومات کا تجزیہ کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ انسانی صحت اور ماحول کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران میں کالی بارش کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنگی حالات اور صنعتی آلودگی ماحول کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر فضائی آلودگی کو بروقت قابو میں نہ لایا جائے تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے خطے کے ماحولیاتی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومتیں، ماہرینِ ماحولیات اور عالمی ادارے مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کریں جو فضائی آلودگی کو کم کرنے، ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے اور انسانی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔ عالمی سطح پر ماحولیاتی تعاون اور سائنسی تحقیق ہی ایسے مسائل کے پائیدار حل کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
رمضان ٹرانسمیشنز کا موجودہ رجحان شوبز، گلیمر، موسیقی، انعامات اور تجارتی مفادات کا غلبہ ٹی وی چینلز زیادہ ریٹنگ، ٹی آر پی اور اشتہارات کے حصول کی دوڑ میں شامل
****************************
میڈیا ہر سماجی تبدیلی کے عمل میں ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں میڈیا کی مثبت آگاہی دینے کی بہت اہم ذمہ داری ہے۔ چاہے وہ ٹی وی ہو، ریڈیو ہو یا انٹرنیٹ، ہر قسم کا میڈیا شعور پیدا کرنے اور عوامی معلومات میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی ٹی وی چینلز پر رمضان ٹرانسمیشنز نے اس مقدس ماہ کی اصل روح کو تقریباً مکمل طور پر پسِ منظر میں دھکیل دیا ہے۔ شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والے میزبان، گلیمر اور میوزک کی بھرمار، اور ہر پروگرام میں ڈانس، انعامات، اور تجارتی مفادات کا غلبہ ناظرین اور علماء کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ روحانیت کی جگہ تفریح نے لے لی ہے اور عبادت، سادگی اور تقویٰ کو ٹرانسمیشنز کے ہلچل بھرے ماحول میں کھو دیا گیا ہے۔
خاص طور پر اداکاروں کو مذہبی پروگراموں کا میزبان بنانے پر سخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ عوامی اور دینی حلقوں کا موقف ہے کہ شوبز کے چمکتے دمکتے فن اداکار چہرے، زرق برق لباس
مذہبی موضوعات کی سنجیدگی اور تقدس کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ ناظرین محسوس کرتے ہیں کہ یہ پروگرام اب عبادت یا اصلاح کے لیے نہیں بلکہ TRP، Ratings
اور تجارتی مفادات کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے کہ ٹی وی چینلز ریٹنگ اور ٹی آر پی بڑھانے پر کیوں زور دیتے ہیں؟
ٹی وی میڈیا کی دنیا میں مقبولیت اور کامیابی کا پیمانہ نہ صرف چینلز کے لیے اہم ہے بلکہ یہ اشتہاری صنعت اور عوامی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ٹی وی چینلز کی مقبولیت ناپنے کے پورے نظام کو عام طور پر ریٹنگ کہا جاتا ہے، اور اسی نظام کے اندر ایک خاص پیمانہ TRP یعنی Television Rating Point بھی شامل ہے۔ ریٹنگ کسی پروگرام یا چینل کی مجموعی مقبولیت، ویورشپ اور آڈینس شیئر کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ TRP ایک مخصوص فیصدی پیمانہ ہے جو بتاتی ہے کہ ہدفی ناظرین میں سے کتنے لوگوں نے وہ پروگرام یا چینل دیکھا ہے۔ٹی وی آڈینس ریٹنگ یا TRP معلوم کرنے کے لیے دنیا بھر میں ریسرچ کمپنیاں نمائندہ نمونے کے طور پر منتخب گھروں میں الیکٹرانک میٹر نصب کرتی ہیں جو یہ ریکارڈ کرتے ہیں کہ کون سا چینل کس وقت اور کتنی دیر تک دیکھا گیا؛ اسی اصول پر BARC India اور Nielsen جیسے ادارے People Meter یا اس سے ملتی جلتی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جہاں گھر کے افراد مخصوص بٹن کے ذریعے اپنی موجودگی بھی درج کرتے ہیں تاکہ دیکھنے والے کی عمر اور جنس جیسی معلومات شامل ہو سکیں، پھر اس محدود مگر سائنسی طور پر منتخب نمونے کے ڈیٹا کو شماریاتی طریقوں سے پوری آبادی پر ہم آہنگ کر کے ریٹنگز بنائی جاتی ہیں؛ پاکستان میں بھی اسی تصور پر مبنی آڈینس میژرمنٹ سسٹم موجود رہا ہے جس کے لیے Pakistan Electronic Media Regulatory Authority نے ضابطے بنائے اور مختلف ادوار میں Medialogic Pakistan اور Gallup BRB جیسی کمپنیوں نے منتخب شہروں کے محدود پینل گھروں سے ڈیٹا اکٹھا کر کے ریٹنگز جاری کیں، تاہم پاکستان میں اس نظام کی کوریج، نمونے کے حجم، شفافیت اور تسلسل کے بارے میں اکثر بحث ہوتی رہی ہے کیونکہ پینل گھروں کی تعداد نسبتاً کم ہونے سے پورے ملک کی نمائندگی پر سوال اٹھتے ہیں، اس کے باوجود بنیادی طریقۂ کار وہی ہے جو بین الاقوامی سطح پر رائج ہے یعنی مخصوص گھروں سے الیکٹرانک پیمائش کے ذریعے دیکھنے کے رجحانات کا ریکارڈ لے کر اسے مجموعی ناظرین کے اندازے میں تبدیل کرنا۔رمضان ٹرانسمیشنز کی کامیابی نہ صرف مواد اور پروگرامنگ پر منحصر ہے بلکہ ناظرین کی دلچسپی اور پسند کو جانچنے کے لیے ویورشپ میٹرکس (Viewership Metrics / ناظرین کے اعدادوشمار) بھی استعمال کی جاتی ہیں۔زیادہ TRP کا مطلب ہے کہ چینل کو زیادہ ناظرین حاصل ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں اشتہارات کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور چینل کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینلز ایسے پروگرام پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو عوام کی توجہ زیادہ سے زیادہ اپنی طرف مبذول کریں۔ عوام کے لیے یہ جاننا کہ کون سا چینل واقعی مقبول ہے، معتبر ریٹنگ رپورٹس، میڈیا تجزیے اور اشتہاری رجحانات کے ذریعے ممکن ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل بھی پروگرام کی حقیقی مقبولیت کا ایک اشارہ فراہم کرتا ہے۔تاہم، ٹی آر پی کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ محدود نمونے پر مبنی پیمائش پورے معاشرے کی درست نمائندگی نہیں کر سکتی، اور بعض اوقات چینلز معیار کے بجائے سنسنی خیز یا غیر معیاری مواد کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے معلوماتی اور تعلیمی پروگرام کم ہوتے ہیں۔ یوں ٹی آر پی میڈیا کی دنیا میں اہم ہے، مگر یہ صرف محدود معلومات کی بنیاد پر مقبولیت کا اندازہ پیش کرتی ہے، اس لیے اسے عوامی رجحان کی مکمل اور حتمی تصویر نہیں سمجھا جا سکتا۔رمضان لائیو ٹرانسمیشن پروگرامز عموماً اسکرپٹڈ یعنی پہلے سے مکمل منصوبہ بندی کے تحت طے شدہ ہوتے ہیں، جہاں ہر لمحہ اور ہر سیکوئنس کی تفصیل پہلے سے طے کر دی جاتی ہے۔ اس منصوبہ بندی میں بعض اوقات ایسے عناصر شامل کیے جاتے ہیں جو اخلاقی حدود سے ہٹ کر ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے غیر اخلاقی یا مبالغہ آمیز کالز کو پروگرام میں شامل کرنا، حالانکہ وہ حقیقی ناظرین کی طرف سے نہیں کی جاتیں۔ کچھ کالز پہلے سے فکس کر کے پروگرام کی روانی اور جذباتی اثر کو یقینی بنایا جاتا ہے، تاکہ ناظرین زیادہ دیر تک دلچسپی کے ساتھ پروگرام دیکھتے رہیں۔ پروگرام کے دوران چیخنا، چلانا اور ہنگامہ خیزی کو لازمی جزو بنایا جاتا ہے، اور کبھی کبھار فرضی افراد کو پروگرام میں شامل کر کے اپنی کہانیاں سنائی جاتی ہیں، جس سے جذباتی ماحول پیدا ہوتا ہے اور ناظرین کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ حقیقی انسانی مسائل دیکھ رہے ہیں، حالانکہ یہ محض دکھاوا اور مصنوعی تاثر ہوتا ہے۔ اس طرح یہ پروگرام مذہبی یا تعلیمی مواد تک محدود نہیں رہتے بلکہ ناظرین کی توجہ حاصل کرنے، جذبات کو ابھارنے اور ریٹنگ بڑھانے کے لیے نفسیاتی اور جذباتی حربوں کا استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً رمضان کے اصل روحانی اور تعلیمی پہلو اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں، اور ناظرین کو مذہبی فوائد کے بجائے تفریح اور جذباتی تجربے تک محدود رکھا جاتا ہے، جس سے ماہ رمضان کی حقیقی روح اور برکات کم تر ہو جاتی ہیں.
گیم شوز میں مہنگے انعامات جیسے کار، موٹر سائیکل اور دیگر قیمتی تحائف، اور شرکاء سے کرائے جانے والے بعض عجیب و غریب کرتب، موسیقی پر رقص انعام کے لالچ میں بچے، نوجوان حتاکہ بوڑھے بزرگ بھی ڈھمکے لگا لگا کر ناچتے ہیں. افسوس ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ہمارا امیج خراب کر کے پیش کیا جا رہا ہے. یہ پروگرامز رمضان کے آداب اور سکون کے تصور کے بالکل برعکس ہیں۔عوام کی بڑی تعداد ان نشریات کو محض ایک “کمرشل تماشہ” قرار دیتی ہے۔ یہ سب پیسوں کا کھیل ہے، ریٹنگ کے لیے عوامی جذبات کو ابھارنے کے لیے جذباتی کہانیوں کے ذریعے نمایاں کیا جا رہا ہے۔ درحقیقت، “یہ سب دھندہ ہے، مگر گندا ہے۔” لیکن اب عوام کو بیوقوف اور گمراہ نہیں بنایا جا سکتا۔ سوشل میڈیا کے دور میں لوگ ان نوٹنکی مسخرے اینکرز کی اوور ایکٹنگ اور مصنوعی جذبات کو بخوبی پہچان چکے ہیں۔
آنکھوں میں دکھ کے آنسو گلیسرین لگا کر دکھانے والے اینکرز کی غیر فطری اداکاری اب عوام کے لیے محض تفریح کا سبب بنی ہے۔
گلیسرین کو بعض صورتوں میں مصنوعی آنسو (Artificial Tears یا Fake Tears) بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر فلم یا تھیٹر میں جب اداکاروں کی آنکھوں میں روشن، نم اور چمکدار اثر پیدا کرنا ہو۔
یہ آنکھوں کے لیے محفوظ قسم کی گلیسرین ہوتی ہے جو آنکھوں میں ڈالنے سے خارش یا نقصان نہیں پہنچاتی، بلکہ صرف آنکھوں کو نمی دیتی ہے اور آنسوؤں کا اثر دیتی ہے۔
لوگ ان کی اوور ایکٹنگ پر مزاق اڑاتے ہیں، میمز بناتے ہیں اور ان پر کھل کر ہنستے ہیں۔ وہ مگرمچھ کے آنسو جو پروگرام میں دکھائے جاتے ہیں، عوام کے لیے ایک لطیفہ بن چکے ہیں، اور سوشل میڈیا پر یہ ویڈیوز وائرل ہو کر اصل جذبات اور سچائی کو بے نقاب کر دیتی ہیں۔یوں رمضان کے مقدس مہینے میں نشر ہونے والے یہ پروگرامز نہ صرف عبادت کے اصل مقصد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ سماجی شعور اور مذہبی تعلیم کے فروغ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ عوام اب جان چکے ہیں کہ یہ سب صرف ایک تجارتی نمائش ہے، جہاں ناظرین کی جذباتی وابستگی کو Ratings کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام مذہبی تعلیم کے بجائے محض ایک تفریحی اور کاروباری عمل بن چکے ہیں، جو عبادت کے پاکیزہ ماحول میں بیچاری ناظرین کو محض ہنسی اور شوخی کا حصہ بناتے ہیں۔کئی پروگرامز میں مذہبی سنجیدگی کے بجائے تفریحی عناصر کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ کھیل، مقابلے، انعامات، جذباتی مناظر اور غیر سنجیدہ گفتگو رمضان ٹرانسمیشن کا نمایاں حصہ بن چکے ہیں۔ بعض پروگرامز میں مخلوط محافل، غیر ضروری نمائشی انداز اور سنسنی خیزی کو فروغ دیا جاتا ہے جس سے نہ صرف رمضان کی روح متاثر ہوتی ہے بلکہ ناظرین کے ذہنوں میں دین کے بارے میں الجھن بھی پیدا ہوتی ہے۔میڈیا ادارے عموماً ریٹنگ اور ناظرین کی تعداد کو کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں۔ رمضان المبارک چونکہ زیادہ ناظرین کا مہینہ ہوتا ہے، اس لیے ٹی وی چینلز اس موقع کو تجارتی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اشتہارات کی کثرت، سپانسرڈ پروگرامز اور انعامی اسکیمیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مذہبی مواد کو بھی مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔ سنجیدہ مذہبی مباحث کے بجائے ایسے موضوعات کو چھیڑا جاتا ہے جو ناظرین کی توجہ حاصل کریں، چاہے وہ متنازع ہی کیوں نہ ہوں۔ مذہب کے نام پر جذباتی فضا پیدا کرنا اور ناظرین کو ہیجان میں مبتلا کرنا ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ اس سے دین کی سنجیدگی متاثر ہوتی ہے اور مذہبی تعلیمات کو سطحی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
رمضان ٹرانسمیشنز میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علما کو مدعو کیا جاتا ہے جو اصولی طور پر ایک مثبت عمل ہو سکتا ہے، مگر جب علمی گفتگو کے بجائے مناظرانہ ماحول پیدا کیا جائے تو یہ اختلافِ رائے کے بجائے فکری انتشار کا سبب بن جاتا ہے۔ بعض پروگرامز میں سنجیدہ مذہبی رہنمائی فراہم کرنے کے بجائے متضاد آرا کو نمایاں کر کے عوام میں الجھن پیدا کی جاتی ہے۔ دین کی اصل روح اعتدال، رواداری اور اتحاد ہے مگر میڈیا میں پیش کیے جانے والے بعض مباحث اس کے برعکس تاثر دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا ہوتے ہیں بلکہ مذہبی ہم آہنگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
رمضان المبارک انسان کو باطن کی اصلاح اور اخلاقی پاکیزگی کی طرف متوجہ کرتا ہے، مگر جب ٹی وی پروگرامز میں غیر سنجیدہ گفتگو، غیر مہذب حرکات اور نمائشی طرزِ عمل کو فروغ دیا جائے تو اس کے معاشرتی اثرات بھی منفی ہوتے ہیں۔ بعض پروگرامز میں میزبانوں کی ظاہری وضع قطع تو مذہبی ہوتی ہے مگر مواد میں تسلسل اور سنجیدگی کا فقدان ہوتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مذہب محض نمائشی تبدیلی کا نام ہے جبکہ حقیقت میں دین کا مقصد انسان کے کردار کی تعمیر اور اخلاقی تربیت ہے۔ اگر میڈیا اس مقصد کو نظر انداز کرے تو معاشرے میں سطحی اور نمائشی رویّے فروغ پاتے ہیں جو اجتماعی اخلاقیات کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ناظرین کی ایک بڑی تعداد رمضان ٹرانسمیشنز سے حقیقی مذہبی رہنمائی کی توقع رکھتی ہے۔ جب انہیں غیر سنجیدہ یا نامناسب مواد دیکھنے کو ملتا ہے تو وہ اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں عوام نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی سے متعدد شکایات بھی درج کرائیں جن میں غیر مہذب زبان، مذہبی جذبات کو مجروح کرنا اور پروگرامز کے غیر سنجیدہ انداز پر اعتراض کیا گیا۔ یہ عوامی ردِعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشرہ اب بھی سنجیدہ اور مستند مذہبی رہنمائی کا خواہاں ہے اور لوگ ایسے پروگرام چاہتے ہیں جو ان کی روحانی اور اخلاقی تربیت میں مددگار ہوں۔
رمضان المبارک اتحاد، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے۔ اگر میڈیا اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے ادا کرے تو وہ اس مہینے میں معاشرتی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ غربت کے خاتمے، تعلیم کی اہمیت، صحت کے مسائل، رواداری اور سماجی خدمت جیسے موضوعات کو اجاگر کر کے مثبت تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ مگر جب توجہ صرف ریٹنگ اور منافع پر مرکوز ہو تو یہ مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ خصوصاً بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی برداشت جیسے موضوعات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ رمضان انسان کو دوسروں کے حقوق کا احترام اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس سکھاتا ہے۔
رمضان ٹرانسمیشنز کو مؤثر اور بامقصد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مستند مذہبی مواد کو ترجیح دی جائے، علمی اور متوازن گفتگو کو فروغ دیا جائے اور تفریح کو اخلاقی حدود کے اندر رکھا جائے۔ میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی سماجی ذمہ داری کو تجارتی مفادات پر فوقیت دیں اور ایسے پروگرام ترتیب دیں جو معاشرے کی اخلاقی تعمیر میں مددگار ہوں۔ نشریاتی مواد کی مؤثر نگرانی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کا نظام بھی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلاحی سرگرمیوں، خیرات، سماجی خدمت اور انسانی ہمدردی کے موضوعات کو نمایاں کرنا چاہیے تاکہ رمضان المبارک کا حقیقی پیغام عام ہو سکے۔
درحقیقت رمضان المبارک محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی اور سماجی تربیتی نظام ہے۔ اس مہینے کی اصل روح ہمدردی، اعتدال اور روحانی اصلاح میں مضمر ہے۔ اگر معاشرہ اور میڈیا اس پیغام کو سمجھ لیں تو رمضان ایک حقیقی اصلاحی قوت بن سکتا ہے۔ جب مقدس مہینے کو تجارتی مفادات کے تابع کر دیا جاتا ہے تو اس کی روح متاثر ہوتی ہے اور معاشرہ اس کے حقیقی فیوض و برکات سے محروم رہ جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ رمضان ٹرانسمیشنز کو سنجیدہ، باوقار اور بامقصد بنایا جائے تاکہ وہ معاشرے کی اخلاقی تعمیر میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ جب میڈیا اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے گا اور عوام مستند علم کی طلب کو برقرار رکھیں گے تب ہی رمضان المبارک کی حقیقی برکتیں اجتماعی سطح پر ظاہر ہوں گی اور معاشرہ اخلاقی اور روحانی طور پر مضبوط ہو سکے گا۔
پیمرا ٹی وی چینلز پر رمضان المبارک کے تقدس کو پامال ہونے سے روکے.پیمرا تمام ٹی وی چینلز کو ایک ضابطہ اخلاق کا پابند بنائے اور صرف ایسے پروگرامز کو نشر کرنے کی اجازت ہو جن میں دینی روح اور وقار کے مطابق مستند مواد پر مبنی گفتگو پیش کی جائے پھر یہ کہ فرقہ وارانہ گفتگو کرنے اور مناظرے کا انداز اپنا کر انتشار پھیلانے والوں پر پابندی عائد کی جائے.پیمرا چینلز کے لیے گائیڈ لائنز جاری کرے جس میں لباس کے انتخاب، نامناسب مناظر سے گریز، اور میزبانوں کے لیے سنجیدگی برقرار رکھنے کی تاکید کی جائے ۔ پمرا ان قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔سحر اور افطار کی مقدس ساعتوں میں غیر اخلاقی پروگراموں پر بھی پابندی عائد کی جائے.ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس ماہ مبارک کے دوران انفرادی اور اجتماعی سطح پر توبہ کریں.
یہ مضمون اس بات کا جائزہ ہے کہ رمضان کے دوران نشر ہونے والی ان ٹرانسمیشنز میں اسلامی اخلاقی اصولوں کی کون سی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔ اس تحقیقی صورتحال کو سمجھنے کے لیے نارمیٹو تھیوری سب سے موزوں طریقۂ کار ہے۔نارمیٹو تھیوری وہ نظریہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ چیزیں کیسی ہونی چاہئیں، یعنی یہ اصولوں، اقدار اور مثالی معیار کی بات کرتی ہے اور ایسے سوالوں کے جواب دیتی ہے جیسے صحیح کیا ہے اور بہتر طریقہ کیا ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر اخلاقیات میں سچ بولنے کی اہمیت، سیاست میں مثالی حکومت کی نوعیت، اور میڈیا میں صحافت کے معاشرتی کردار پر بحث نارمیٹو نقطۂ نظر کہلاتی ہے۔ اس کے برعکس ڈسکرپٹو نظریہ چیزوں کو جیسے وہ حقیقت میں ہیں ویسے ہی بیان کرتا ہے اور یہ وضاحت کرتا ہے کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے یا لوگ حقیقت میں کیسے عمل کرتے ہیں، جیسے سیاست میں عوام کے حقیقی ووٹنگ رجحانات یا معاشرے میں موجود رویے۔ یوں ڈسکرپٹو نظریہ حقیقت کی وضاحت کرتا ہے جبکہ نارمیٹو نظریہ بہتر اور مطلوب حالت کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ رمضان کی ٹرانسمیشنز کی یہ تبدیلی ایک ثقافتی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ایسے پروگراموں میں اندھا دھند دلچسپی نہ لیں، ناظرین کے ذوق اور انتخاب میں شعور پیدا کریں، اور سوشل میڈیا پر ان اینکرز کی اوور ایکٹنگ اور مصنوعی دکھوں کی مزاحیہ تصویر کشی کے ذریعے اصل مقصد کو اجاگر کریں۔ چینلز پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذہبی پروگراموں میں اداکاروں کی غیر موزوں شرکت سے گریز کریں اور عبادت، سادگی، اور روحانی تعلیم کو ترجیح دیں۔ رمضان کے مقدس مہینے کو تجارتی اور گلیمر کی دنیا کا شوقین بنانے کے بجائے، یہ پروگرام ناظرین کو اللہ کی قربت اور روحانی سکون کی طرف راغب کریں، تاکہ یہ مہینہ واقعی برکت، دعا اور تقویٰ کا مظہر بنے۔ٹی وی چینلز یکسانیت پر مبنی پروگرامز نشر نہیں کریں پلانٹڈ پروگرامز کے بجائے حقیقت پر مبنی پروگرامز نشر کریں. ہمارے ٹی وی چینلز پر رمضان دکانیں کھلی ہوئی ہیں. رمضان ٹرانسمیشنز میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا ہمارا مزہب اس کی اجازت دیتا ہے؟ کیا یہ ہمارے معاشرے کی صحیح عکاسی ہے ؟کوئی بھی ٹی وی چینل کھول لیں ایک بازار سجا ہوا ہے ،رمضان کے نام پر دکانیں لگی ہوئی ہیں. کیا یہ سب اسی طرح ہوتا رہے گا؟
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*کراچی کا ٹریفک بحران مسلسل چیلنجز کی داستان شہری زندگی کا عذاب…… افطار کے اوقات میں ٹریفک جام میں شہریوں کی افطاری *
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور مصروف ترین شہر ہے جہاں لاکھوں افراد روزگار، تعلیم اور کاروبار کے سلسلے میں روزانہ سفر کرتے ہیں، مگر گزشتہ کئی برسوں سے یہاں ٹریفک جام ایک مستقل اور سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ خصوصاً رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب دفاتر سے واپسی پر شہری گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں. یہ مسئلہ صرف نقل و حرکت کی سست روی تک محدود نہیں بلکہ شہری زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کر رہا ہے۔ وقت کا ضیاع، ذہنی دباؤ، معاشی نقصان، ایندھن کا ضیاع اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک جام اب ایک عذاب کی شکل اختیار کر چکا ہے جس سے نجات کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
ٹریفک جام کی بنیادی وجوہات میں سب سے نمایاں وجہ شہر میں گاڑیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔کراچی میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد مسلسل تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری اندازوں کے مطابق شہر میں گاڑیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 50 سے 60 لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ہر سال ہزاروں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن اس دباؤ میں مزید اضافہ کر رہی ہے جبکہ سڑکوں کی گنجائش اور شہری انفراسٹرکچر اسی رفتار سے ترقی نہیں کر پا رہا۔ ماہرین کے مطابق نجی گاڑیوں پر بڑھتا ہوا انحصار اور مؤثر عوامی ٹرانسپورٹ کی کمی ٹریفک کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں معمولی دباؤ بھی شدید ٹریفک جام میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس سڑکوں کی گنجائش اور انفراسٹرکچر میں اسی رفتار سے اضافہ نہیں ہو سکا۔ شہر کی متعدد شاہراہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جگہ جگہ گڑھے اور کھدائی کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور معمولی دباؤ بھی شدید ٹریفک جام میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ غیر منصوبہ بندی شہری ترقی بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے جہاں نئی رہائشی اسکیمیں، مارکیٹیں اور کمرشل مراکز تو بن رہے ہیں مگر ان کے لیے مناسب سڑکیں اور پارکنگ کی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے، لیکن اسے اپنی ترقی کے لیے سنگین ڈھانچہ جاتی مسائل کا سامنا ہے۔ عالمی بینک (World Bank) اور وفاقی ادارے اس شہر کی اہمیت اور ضرورتوں کو درج ذیل حقائق سے واضح کرتے ہیں:
سرمایہ کاری کی ناگزیر ضرورت: عالمی بینک کی رپورٹ “Transforming Karachi: A City Diagnostic” کے مطابق، کراچی کے بنیادی ڈھانچے (خصوصاً ٹرانسپورٹ، پانی اور نکاسیِ آب) میں موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے اگلے 10 سالوں میں 9 سے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔
ملکی معیشت کا انجن: کراچی پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی (GDP) میں 25% کا حصہ ڈالتا ہے۔ مزید برآں، ایف بی آر (FBR) کے مالی سال 2023-24 کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف کراچی کے لارج ٹیکس پیئرز آفس (LTO) نے 2.52 ٹریلین روپے ٹیکس جمع کیا، جو ملک کی مجموعی ٹیکس وصولی کا تقریباً 30.7% ہے۔
تجارتی مرکز: پاکستان کی بین الاقوامی تجارت کا 70% سے 95% حصہ کراچی کی دو بندرگاہوں (KPT اور پورٹ قاسم) سے گزرتا ہے، جو اسے ملک کی معاشی شہ رگ بناتا ہے۔
معاشی نقصان کا تخمینہ: ورلڈ بینک کی “Pakistan Urbanization Review” کے مطابق، شہری بدانتظامی اور ٹریفک کی بھیڑ جیسی رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستان اپنی ممکنہ جی ڈی پی گروتھ کا سالانہ 2% سے 3% کھو رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں اور مستقبل کے خطرات: ورلڈ بینک کی “Country Climate and Development Report (CCDR) 2022” خبردار کرتی ہے کہ موسمیاتی آفات، ماحولیاتی تنزلی اور فضائی آلودگی کے باعث پاکستان 2050 تک اپنی سالانہ جی ڈی پی کا 18% سے 20% تک کھو سکتا ہے۔ کراچی، اپنے ساحلی محل وقوع اور نکاسی کے ناقص نظام کی وجہ سے ان خطرات کی زد میں سب سے پہلے ہے۔اگر کراچی کے بنیادی ڈھانچے میں فوری سرمایہ کاری نہ کی گئی تو یہ نہ صرف شہر کی زندگی بلکہ پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے ایک مستقل رکاوٹ بن جائے گا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سندھ میں بین الاضلاعی سفر کرنے والے مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ قومی شاہراہ کی خراب حالت نے سفری نظام کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔ خستہ حال سڑکیں، ناقص مرمت اور سہولیات کی کمی کے باعث ہزاروں گاڑیاں روزانہ پھنس جاتی ہیں جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ ہنگامی حالات میں تاخیر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ کراچی جیسے بڑے اور مصروف شہر میں ٹریفک جام صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر نہیں کرتا بلکہ یہ انسانی جانوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔ ہنگامی حالات میں ایمبولینس کی بروقت رسائی زندگی اور موت کے درمیان فرق طے کرتی ہے، مگر سڑکوں پر گاڑیوں کی سست روانی کی وجہ سے یہ قیمتی گاڑیاں کئی کلومیٹر تک جام میں پھنس جاتی ہیں۔ ہر لمحہ جو ضائع ہوتا ہے، مریض کی زندگی پر بوجھ بن جاتا ہے اور حادثے یا بیماری کا شکار افراد بروقت علاج نہ پا کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ نہ صرف طبی خدمات کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے بلکہ شہریوں کے اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر اور ٹریفک نظم و نسق میں فوری اور مؤثر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
مریض، خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جبکہ ٹول پلازوں پر بھاری فیس وصول کیے جانے کے باوجود سڑکوں کی حالت میں بہتری نظر نہیں آتی۔ عوامی حلقوں کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قومی شاہراہ کی فوری مرمت اور بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ متعدد شہری تنظیمیں اور سماجی کارکن اس مسئلے پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مسئلے کی عدم توجہ نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ صوبے میں معاشی نقصان بھی ہر سال کروڑوں روپے کا ہو رہا ہے۔کراچی کی سڑکیں اکثر سیاسی جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کی وجہ سے جمود کا شکار ہو جاتی ہیں، اور اس کا سب سے زیادہ خمیازہ معصوم شہری بھگتتے ہیں جو اپنے روزمرہ کے کام، تعلیم یا کاروبار کے لیے گھنٹوں ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں۔ اسی طرح وی آئی پی موومنٹس کی وجہ سے بھی اہم شاہراہیں بند ہو جاتی ہیں اور پورا ٹریفک نظام دھرم بھرم ہو جاتا ہے، جس سے شہریوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ ان سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فوری اور بروقت اقدامات کرے، جدید ٹریفک پلاننگ متعارف کرائے، اور مستقبل کے لیے موثر حکمت عملی وضع کرے تاکہ شہری بلاوجہ وقت کے نقصان سے بچ سکیں اور شہر کا ٹریفک نظام منظم اور مستحکم رہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی کام بھی ٹریفک کے دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ جب کسی بڑی شاہراہ پر تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہوتی ہیں تو راستے محدود ہو جاتے ہیں اور متبادل ٹریفک پلان مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح غیر قانونی تجاوزات بھی ٹریفک کی روانی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ سڑکوں کے کنارے قائم دکانیں، ریڑھیاں اور غیر منظم پارکنگ قابلِ استعمال سڑک کو مزید تنگ کر دیتی ہیں جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور ٹریفک جام پیدا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کی غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ جیسے اوور اسپیڈنگ، لائن کی خلاف ورزی اور بیک وقت متعدد گاڑیوں کا ایک ہی لین میں چلنا بھی ٹریفک جام کی شدت بڑھاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی کمی اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔شہر کی متعدد اہم شاہراہیں مستقل طور پر شدید ٹریفک دباؤ کا شکار رہتی ہیں جن میں شاہراہِ فیصل، یونیورسٹی روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، ایم اے جناح روڈ، لیاقت آباد، تین ہٹی، کورنگی روڈ اور صدر شامل ہیں جہاں تجارتی سرگرمیوں، تعلیمی اداروں، وی آئی پی موومنٹ اور تجاوزات کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہتی ہے۔ ان علاقوں میں چند منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے اور طویل انتظار کے باعث روزہ دار افراد کی جسمانی کمزوری میں اضافہ ہوتا ہے۔ مریض اور بزرگ شہری خاص طور پر شدید اذیت محسوس کرتے ہیں اور بعض اوقات ہنگامی طبی امداد تک رسائی بھی ناممکن ہو جاتی ہے۔
ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وقت کا ضیاع سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کے باعث لوگ دفاتر اور تعلیمی اداروں میں تاخیر سے پہنچتے ہیں۔ شدید گرمی، شور اور دھوئیں میں پھنسے رہنے سے ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکن میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایندھن کے اضافی استعمال سے شہریوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جبکہ فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق فضائی آلودگی سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ، دل کے امراض اور آنکھوں میں جلن کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ بعض اوقات ٹریفک جام کے دوران شہری جرائم پیشہ عناصر کا آسان ہدف بھی بن جاتے ہیں جس سے عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے اور شہری خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال روزانہ کے معمولات میں اضطراب پیدا کرتی ہے اور مجموعی طور پر شہری معیارِ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔رمضان المبارک کے دوران صورتحال مزید گھمبیر ہو جاتی ہے۔ افطار کے اوقات کے قریب بازاروں میں رش بڑھ جاتا ہے اور سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ کئی گنا ہو جاتا ہے۔ روزہ دار افراد کے لیے طویل انتظار جسمانی کمزوری اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے اور بہت سے شہری وقت پر گھر نہ پہنچنے کے باعث سڑکوں پر ہی افطار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ رمضان میں مارکیٹوں، مساجد اور اہم شاہراہوں پر رش کی وجہ سے اکثر حادثات کی خبریں بھی سامنے آتی ہیں جو شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ اس طرح رمضان کے مہینے میں ٹریفک جام نہ صرف روزانہ کی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ایک حقیقی انسانی اور سماجی چیلنج بھی بن جاتا ہے۔شہریوں کو روزہ افطار دوران سفر ٹریفک جام میں کرنا پڑتا ہے اور کھجور پانی پی کر اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوجاتے ہیں. شہری اپنے گھر والوں کے ساتھ افطاری سے محروم رہتے ہیں یہ انتہائی دلخراش صورتحال ہوتی ہے. اگرچہ ٹریفک پولیس نظم و ضبط قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے مگر وسائل کی کمی، شہری تعاون کا فقدان اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث مسائل برقرار رہتے ہیں۔ ای-چالان کے نظام کے ذریعے جرمانے تو وصول کیے جا رہے ہیں مگر ٹریفک کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ بھاری جرمانے کے باوجود سڑکوں کی خستہ حالی اور ناقص نظام کی وجہ سے اپنے تحفظ کو یقینی نہیں سمجھ سکتے۔ اس کے نتیجے میں شہریوں میں بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
ٹریفک جام کے معاشرتی اور معاشی اثرات بھی انتہائی سنگین ہیں۔ماہرین شہری منصوبہ بندی اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹریفک جام کے باعث وقت کے ضیاع، ایندھن کے اضافی استعمال، پیداواری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور کاروباری تاخیر جیسے عوامل شہری معیشت پر نمایاں منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تاخیر نہ صرف افراد کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ تجارتی سرگرمیوں کی رفتار بھی سست کر دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹریفک کے مسائل پر بروقت اور مؤثر توجہ نہ دی گئی تو طویل مدت میں معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے اور شہر کی مجموعی اقتصادی کارکردگی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ صحت کے مسائل، ذہنی دباؤ اور حادثات کے خطرات میں اضافہ بھی اس بحران کے اہم پہلو ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف شہریوں کے معیارِ زندگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ شہر کی مجموعی ترقی کی رفتار کو بھی سست کر رہی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔ معیاری اور سستی عوامی ٹرانسپورٹ کی فراہمی نجی گاڑیوں پر انحصار کم کر سکتی ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی فوری مرمت، نکاسی آب کے بہتر نظام اور جدید ٹریفک سگنلز کی تنصیب بھی ناگزیر ہے۔ غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی سڑکوں کی گنجائش میں اضافہ کر سکتی ہے۔ جدید ڈیجیٹل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، سی سی ٹی وی نگرانی اور ریئل ٹائم ٹریفک کنٹرول سے بھی ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پابندی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ شہری خود اپنی حفاظت اور ٹریفک روانی میں معاون بن سکیں۔مجموعی طور پر کراچی میں ٹریفک جام ایک پیچیدہ مگر قابلِ حل مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے حکومت، اداروں اور شہریوں کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ بہتر منصوبہ بندی، مضبوط انفراسٹرکچر اور مؤثر قانون نافذ کرنے کے ذریعے اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو کر شہری زندگی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے اور شہر کی ترقی متاثر ہوتی رہے گی۔ کراچی کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ ٹریفک کے اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی اور فوری ترجیح کے ساتھ حل کیا جائے تاکہ شہریوں کو ایک محفوظ، منظم اور پرسکون ماحول میسر آ سکے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان عوام کے لیے بڑا امتحان قیمتوں میں استحکام کی ضرورت*
رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان واقعی عوام کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے مقدس مہینے کے آغاز سے محض ایک ہفتہ قبل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کو ایک ایسے معاشی دباؤ میں دھکیل دیتا ہے جس کے اثرات زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر مرتب ہوتے ہیں۔ بظاہر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ایک عددی تبدیلی محسوس ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ فیصلہ معیشت کے پورے ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، زرعی لاگت بڑھتی ہے، صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور آخرکار اس کا بوجھ براہ راست عام صارف پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ محض ایک معاشی خبر نہیں بلکہ ایک سماجی حقیقت بن جاتا ہے جس کے اثرات گھروں کے بجٹ سے لے کر قومی معیشت تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر زرعی معیشت کے لیے شدید دھچکا ثابت ہوتا ہے۔ کاشتکاری میں ٹریکٹر، ٹیوب ویل، پانی کی نکاسی اور فصلوں کی نقل و حمل جیسے تمام مراحل توانائی پر منحصر ہوتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو کسان کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گندم، چاول، سبزیاں اور دیگر زرعی اجناس مہنگی ہو جاتی ہیں۔ جب یہی اجناس ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتی ہیں تو ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرائے قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹ یونین کی جانب سے کرایوں میں اضافہ اسی زنجیر کی ایک کڑی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہونے جا رہی ہے۔
رمضان المبارک سے محض ایک ہفتہ قبل قیمتوں میں یہ اضافہ عوامی احساسات پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہ مہینہ روحانی سکون، ہمدردی اور اجتماعی خیر کے پیغام کے ساتھ آتا ہے، مگر جب لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہوں تو عبادت کا سکون بھی متاثر ہوتا ہے۔ آٹا، دالیں، آئل، چینی، فروٹ اور سبزیاں پہلے ہی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی تھیں، اور اب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ایک ایسا مہینہ جسے آسانی اور برکت کا مہینہ کہا جاتا ہے، اس کے استقبال سے قبل مہنگائی کا یہ طوفان معاشرتی حساسیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو بہت سے ممالک مذہبی یا قومی تہواروں کے دوران عوامی سہولت کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں کرسمس کے موقع پر بڑی سپر مارکیٹ چینز بنیادی خوراک اور روزمرہ اشیاء پر نمایاں رعایتیں دیتی ہیں جبکہ مقامی کونسلیں کم آمدنی والے طبقات کے لیے فوڈ واؤچرز اور کمیونٹی سپورٹ پروگرام فعال کرتی ہیں۔
مقامی کونسلیں وہ حکومتی ادارے ہیں جو کسی علاقے یا شہر کی روزمرہ ضروریات اور ترقیاتی امور کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہ عموماً منتخب شدہ ارکان پر مشتمل ہوتی ہیں اور سڑکوں، پانی، بجلی، صحت، تعلیم اور صفائی جیسے مقامی مسائل حل کرنے کے ذمہ دار ہوتی ہیں۔ مقامی کونسلیں عوام کی رائے کو شامل کر کے ترقیاتی منصوبے بناتی ہیں اور مالی وسائل ٹیکس، فیس یا حکومت کی گرانٹس سے حاصل کرتی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں بھی اسی طرح کی کونسلیں شہری سہولیات اور مقامی پالیسیوں کی نگرانی کرتی ہیں، تاکہ عوام کی ضروریات براہِ راست پوری ہوں اور حکومت شفاف اور جوابدہ رہے۔
اسی طرح جاپان میں نئے سال کے تہوار کے دوران سپلائی چین کی پیشگی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تاکہ طلب میں اضافے کے باوجود قیمتیں قابو میں رہیں۔ بھارت میں دیوالی کے دوران ریاستی حکومتیں سستے اناج کی خصوصی اسکیمیں چلاتی ہیں اور عارضی بازار قائم کیے جاتے ہیں۔ کینیڈا میں تھینکس گیونگ کے موقع پر فوڈ باسکٹس اور کمیونٹی سپورٹ پروگرام وسیع پیمانے پر چلائے جاتے ہیں۔
تھینکس گیونگ ایک تہوار ہے جس میں لوگ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور زندگی کی نعمتوں، اچھی فصل اور خاندان کی خوشیوں پر خوشی مناتے ہیں۔ یہ خاص طور پر کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں منایا جاتا ہے، جہاں خاندان اکٹھے ہو کر خصوصی کھانا کھاتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔ کینیڈا میں تھینکس گیونگ کے موقع پر فوڈ باسکٹس اور کمیونٹی سپورٹ پروگرام بڑے پیمانے پر منعقد کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد معاشی طور پر کمزور افراد اور خاندانوں کو خوراک اور سماجی مدد فراہم کرنا ہوتا ہے۔ رضاکار تنظیمیں اور کمیونٹی مراکز بنیادی اشیائے خورونوش پر مشتمل باسکٹس تقسیم کرتے ہیں اور اجتماعی کھانوں یا امدادی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں میں ہمدردی، شراکت اور سماجی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ تہوار کو عوامی سہولت کے موقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ پالیسی سازی مؤثر ہو اور نگرانی مضبوط ہو۔
بازاروں کی موجودہ صورت حال بھی تشویشناک ہے۔ قیمتوں کی نگرانی کا مؤثر نظام نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتا ہے۔ سرکاری نرخ نامے اکثر دیواروں پر آویزاں ضرور ہوتے ہیں مگر عملی طور پر ان پر عمل درآمد کم نظر آتا ہے۔ منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت جیسے مسائل عوامی مشکلات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ صارفین کے پاس شکایت درج کرانے کا ایسا فوری اور قابل اعتماد نظام نہیں ہوتا جس کے ذریعے وہ قیمتوں کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی دیکھ سکیں۔ جب احتساب کمزور ہو تو منڈی میں عدم توازن بڑھ جاتا ہے اور قیمتیں قابو سے باہر ہونے لگتی ہیں۔
مہنگائی کا اثر صرف مالی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی بھی ہوتا ہے۔ جب ایک خاندان بنیادی خوراک خریدنے میں مشکل محسوس کرے تو اس کے اثرات بچوں کی غذائیت، تعلیم اور صحت پر پڑتے ہیں۔ گھریلو بجٹ کا بڑا حصہ خوراک اور ایندھن پر خرچ ہونے لگے تو دیگر ضروریات، جیسے علاج، تعلیم اور رہائش، متاثر ہوتی ہیں۔ مسلسل معاشی دباؤ ذہنی پریشانی، اضطراب اور سماجی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ رمضان جیسے مہینے میں جب سخاوت اور ہمدردی کو فروغ ملنا چاہیے، معاشی تنگی انسان کو اپنی بنیادی ضروریات تک محدود کر دیتی ہے۔
مہنگائی کے اس بڑھتے ہوئے دباؤ میں بیروزگاری اور کم اجرت کا مسئلہ عوامی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ جب روزگار کے مواقع محدود ہوں اور دستیاب ملازمتوں کی اجرتیں بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہوں تو خاندان مسلسل مالی عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں۔ ایک جانب اشیائے خورونوش اور ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں جبکہ دوسری جانب آمدنی جمود کا شکار رہتی ہے۔ اس عدم توازن کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کی قوتِ خرید تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے اور وہ قرض، ادھار اور مالی انحصار کے دائرے میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال غربت کے دائرے کو مزید وسیع کرتی ہے۔ ایسے خاندان جو پہلے ہی محدود وسائل پر گزارا کر رہے ہوتے ہیں، خوراک کے معیار اور مقدار دونوں میں کمی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، علاج معالجہ مؤخر کیا جاتا ہے اور غذائی قلت جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔جب مہنگائی، بیروزگاری اور کم اجرت ایک ساتھ اثر انداز ہوں تو معاشی دباؤ صرف مالی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ انسانی وقار، ذہنی سکون اور سماجی استحکام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ رمضان جیسے مہینے میں جب سخاوت، ہمدردی اور اجتماعی فلاح کا جذبہ فروغ پانا چاہیے، معاشی تنگی انسان کو اپنی بنیادی ضروریات تک محدود کر دیتی ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کم از کم اجرت کو مہنگائی کے تناسب سے ہم آہنگ کرنے اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے مؤثر سماجی تحفظ کا نظام قائم کیا جائے۔ ہنرمندی کی تربیت، چھوٹے کاروباروں کی معاونت اور مزدور طبقے کے لیے پائیدار معاشی سہولتیں ہی وہ اقدامات ہیں جو غربت کے بڑھتے ہوئے دائرے کو محدود کر سکتے ہیں اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا مالی خسارے کا بوجھ ہمیشہ عوام پر ڈالنا ہی واحد حل ہے؟ معاشی نظم و نسق کا تقاضا یہ ہے کہ اخراجات اور وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو۔ اگر غیر ضروری حکومتی اخراجات برقرار رہیں، مراعات یافتہ طبقات کو سہولیات حاصل رہیں اور دوسری طرف عام شہری مہنگائی کا بوجھ اٹھائے تو یہ توازن دیرپا نہیں رہ سکتا۔ پائیدار معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب پالیسی سازی میں عوامی مفاد کو بنیادی حیثیت حاصل ہو اور وسائل کی تقسیم شفاف اور منصفانہ ہو۔
رمضان پیکیجز یا وقتی ریلیف اسکیمیں وقتی سہارا فراہم کر سکتی ہیں، مگر اگر بنیادی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے تو ان اقدامات کا اثر محدود رہ جاتا ہے۔ عوام کو عارضی نہیں بلکہ پائیدار ریلیف درکار ہے۔ قیمتوں کے استحکام، سپلائی چین کی شفافیت اور منڈیوں کی مؤثر نگرانی کے بغیر کوئی بھی معاشی پالیسی مکمل نتائج نہیں دے سکتی۔ ضروری ہے کہ پالیسی سازی میں طویل المدتی حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ خوراک اور ایندھن کی قیمتیں غیر ضروری اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہیں۔
عملی اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے مضبوط اور بااختیار نظام قائم کیا جائے جس کے تحت سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ہدف ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ عوام تک منتقل نہ ہو۔ رمضان کے دوران سستے بازاروں کا شفاف نظام قائم کیا جائے جہاں معیار اور قیمت دونوں کی ضمانت ہو۔ زرعی شعبے کو توانائی اور کھاد پر ہدفی سہولت دی جائے تاکہ خوراک کی پیداواری لاگت میں غیر ضروری اضافہ نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ مالی نظم و نسق میں کفایت شعاری اختیار کرنا بھی ناگزیر ہے۔ غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کمی، وسائل کے مؤثر استعمال اور شفاف احتساب کے بغیر مہنگائی پر قابو پانا مشکل ہے۔ صارفین کے لیے شکایات کے فوری ازالے کا نظام فعال بنایا جائے تاکہ قیمتوں کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی ممکن ہو۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے قیمتوں کی نگرانی، سپلائی چین کی ٹریکنگ اور منڈی کے ڈیٹا کی شفافیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
مہنگائی صرف اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ حکمرانی اور سماجی ذمہ داری کا امتحان بھی ہے۔ رمضان کا پیغام آسانی، اعتدال اور ہمدردی ہے۔ اگر یہی اصول معاشی پالیسیوں میں بھی جھلکیں تو عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے۔ ریاست، تاجر برادری اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو معاشی انصاف، سماجی ہم آہنگی اور انسانی وقار کو مضبوط بنائیں۔
اگر مؤثر اقدامات سنجیدگی سے نافذ کیے جائیں تو نہ صرف رمضان کے دوران عوام کو سکون مل سکتا ہے بلکہ مجموعی معاشی اعتماد بھی بحال ہو سکتا ہے۔ عوام کو صرف وعدوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشی ماحول جہاں بنیادی ضروریات آسانی سے دستیاب ہوں، قیمتیں مستحکم ہوں اور عوام خود کو محفوظ محسوس کریں یہی کسی بھی ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔ رمضان کی آمد دراصل ایک موقع ہے کہ معاشی پالیسیوں میں ہمدردی، اعتدال اور انصاف کو مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ ہر شہری سکون اور وقار کے ساتھ اس مقدس مہینے کا استقبال کر سکے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی
حیدرآباد سندھ پاکستان*
*سندھ میں تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا حل*
سندھ صدیوں تک علم، فہم اور فکری بالیدگی کی علامت رہا ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جہاں درسگاہیں صرف تعلیمی عمارتیں نہیں بلکہ سماجی شعور، تہذیبی تسلسل اور اخلاقی تربیت کے مراکز سمجھی جاتی تھیں۔ یہاں علم کو محض روزگار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان سازی، شعور کی بیداری اور معاشرتی توازن کا بنیادی وسیلہ تصور کیا جاتا تھا۔ موئن جو دڑو سے لے کر بھٹائی کے افکار تک، سندھ کی فکری روایت ہمیشہ سوال، مکالمے اور بصیرت سے جڑی رہی ہے۔ مگر آج کا سندھ ایک ایسے گہرے تعلیمی بحران سے دوچار ہے جس نے نہ صرف تعلیمی معیار کو کمزور کر دیا ہے بلکہ طلبہ، اساتذہ اور اداروں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، اور اس بحران کے اثرات سماج کے ہر شعبے میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی موجودہ صورتِ حال اس بحران کی عملی تصویر ہے۔ بیشتر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ کلاس روم خالی پڑے ہیں، لیبارٹریاں خاموش ہیں، کتب خانے غیر فعال ہو چکے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں محض رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کئی اداروں میں اساتذہ کی تعداد ضرورت سے کہیں زیادہ ہے، مگر اس اضافی تعداد کے باوجود تعلیمی نتائج میں کوئی خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔ یہ تضاد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ناقص انتظام، کمزور نگرانی اور غیر سنجیدہ پالیسی سازی کا ہے، جہاں تعداد کو معیار پر ترجیح دی گئی ہے۔انتظامی ڈھانچے کی کمزوری اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ متعدد اسکولوں اور کالجوں میں اہم انتظامی آسامیاں برسوں سے خالی پڑی ہیں، جس کے باعث روزمرہ امور، نظم و ضبط، حاضری کی نگرانی اور تعلیمی منصوبہ بندی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جب اداروں میں فیصلہ سازی کا نظام ہی مفلوج ہو جائے تو اس کے اثرات براہِ راست تدریسی عمل پر پڑتے ہیں۔ انتظامی خلا نے تعلیمی اداروں کو ایک ایسی کشتی بنا دیا ہے جس کا نہ کوئی واضح رخ ہے اور نہ کوئی مضبوط ناخدا، نتیجتاً احتساب کا تصور بھی کمزور پڑ چکا ہے۔
تعلیم کے زوال کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اسے قومی ترجیح کے بجائے ایک رسمی فریضہ سمجھ لیا گیا ہے۔ امتحان پاس کرنا ہی کامیابی کا واحد معیار بن چکا ہے، جبکہ سیکھنے، سمجھنے، سوال اٹھانے، تحقیق کرنے اور تخلیقی سوچ کو پروان چڑھانے کی حوصلہ افزائی تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ رٹّا سسٹم نے طلبہ کی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث تعلیم ایک بوجھ محسوس ہونے لگی ہے۔ طلبہ اسکول یا کالج آنا اپنی ضرورت کے بجائے ایک مجبوری سمجھتے ہیں، اور یہی احساس رفتہ رفتہ حاضری میں کمی اور تعلیمی لاتعلقی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اساتذہ کسی بھی تعلیمی نظام کی بنیاد اور روح ہوتے ہیں، مگر سندھ میں اساتذہ کے کردار کو بھی غیر جانبداری سے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک غیر ذمہ دار استاد صرف ایک کلاس کو نہیں بلکہ کئی نسلوں کے مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تدریس کو اکثر ایک محفوظ سرکاری ملازمت سمجھ لیا گیا ہے، جہاں حاضری، تیاری اور طلبہ کی فکری نشوونما ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اگر اضافی اساتذہ کی موجودگی کے باوجود طلبہ کی تعلیمی حالت بہتر نہیں ہو رہی تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ تربیت، مسلسل پیشہ ورانہ ترقی، نگرانی اور احتساب کے نظام میں بنیادی خامیاں موجود ہیں۔والدین کے کردار کو نظرانداز کرنا بھی تعلیمی زوال کی ایک اہم وجہ ہے۔ تعلیم کو صرف اسکول یا کالج کی ذمہ داری سمجھ لینا ایک سنگین فکری غلطی ہے۔ بچے کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت میں گھر کا ماحول فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ اس تناظر میں یہ بے حد ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور والدین کے درمیان ماہوار ملاقاتوں کو باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا جائے، جہاں طلبہ کی حاضری، تعلیمی کارکردگی، رویّے اور کمزوریوں پر مبنی جامع جائزہ والدین کے سامنے رکھا جائے۔ والدین کی فعال شمولیت کے بغیر کسی بھی تعلیمی اصلاح کو پائیدار بنانا ممکن نہیں۔
سیاست کی مداخلت نے بھی سندھ کے تعلیمی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تقرریوں، تبادلوں اور پالیسی فیصلوں میں غیر تعلیمی عوامل کا اثر اداروں کی خود مختاری کو کمزور کر دیتا ہے۔ سفارش، دباؤ اور ذاتی مفادات پر مبنی فیصلے تعلیمی معیار کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ جب تعلیم سیاسی مصلحتوں کے تابع ہو جائے تو علمی اقدار پس منظر میں چلی جاتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم کو سیاست سے پاک کیے بغیر کسی بھی اصلاح کی کامیابی ممکن نہیں۔نصاب کا مسئلہ اس پورے منظرنامہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں تعلیم جدید تقاضوں، سائنسی ترقی اور عملی مہارتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکی ہے، جبکہ ہمارا تعلیمی نظام اب بھی کئی حوالوں سے دقیانوسی سوچ کا شکار ہے۔ مصنوعی ذہانت اور اے آئی کے اس دور میں، جہاں ترقی یافتہ ممالک تعلیم کو تحقیق، اختراع، ڈیٹا اینالیسس اور ڈیجیٹل مہارتوں سے جوڑ چکے ہیں، سندھ کا نصاب اب بھی زیادہ تر یادداشت اور امتحان تک محدود ہے۔ طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے بجائے انہیں ماضی کے طریقوں میں الجھائے رکھا جا رہا ہے۔مصنوعی ذہانت آج تعلیم کے شعبے میں ایک انقلابی کردار ادا کر رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اے آئی کی مدد سے ذاتی نوعیت کی تعلیم، طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ، کمزور پہلوؤں کی نشاندہی، اساتذہ کی معاونت اور تحقیق کے نئے دروازے کھل چکے ہیں۔ اگر سندھ کے تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کو دانش مندی کے ساتھ شامل کیا جائے تو نہ صرف تدریسی معیار بہتر ہو سکتا ہے بلکہ طلبہ کی دلچسپی، حاضری اور سیکھنے کا عمل بھی مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اے آئی استاد کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون ذریعہ ہے، جو انسانی فہم اور اخلاقی رہنمائی کے بغیر نامکمل ہے۔
ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اب آسائش نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز، آن لائن کتب خانے، جدید لیبارٹریز اور تحقیق پر مبنی تدریسی طریقے ہی وہ راستے ہیں جو سندھ کے تعلیمی معیار کو عالمی سطح کے قریب لا سکتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت، تنقیدی شعور، مقامی زبان، تاریخ اور تہذیب کو بھی نصاب میں مضبوط مقام دینا ہوگا، تاکہ طلبہ جدید دنیا سے جڑتے ہوئے اپنی شناخت سے کٹے نہیں۔
سندھ میں تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لیے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ طلبہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کے مؤثر نظام، والدین کی شمولیت اور ترغیب پر مبنی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ اساتذہ کی تقرریوں اور تعداد کا ازسرِنو جائزہ لے کر معیار کو ترجیح دینی ہوگی، جبکہ انتظامی آسامیاں فوری طور پر پُر کر کے اداروں کے نظم و نسق کو مستحکم بنانا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو تدریسی عمل کا حصہ بناتے ہوئے اساتذہ کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی، تاکہ وہ بدلتے ہوئے تعلیمی منظرنامے کا مؤثر حصہ بن سکیں۔تعلیم محض ایک سرکاری شعبہ نہیں بلکہ قوم کے فکری، اخلاقی اور معاشی مستقبل کی بنیاد ہے۔ اگر آج ہم نے دیانت، بصیرت اور دور اندیشی کے ساتھ تعلیمی اصلاحات کا آغاز نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ سندھ جیسی فکری طور پر زرخیز سرزمین اس زوال کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم تعلیم کو رسمی فریضے کے بجائے قومی ترجیح بنائیں، اور علم، تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے سندھ کو ایک بار پھر شعور، دانائی اور فکری قیادت کی پہچان بنائیں۔
سندھ کے تعلیمی بحران سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جزوی اصلاحات یا وقتی اعلانات اس گہرے مسئلے کا حل نہیں بن سکتے، بلکہ اس کے لیے ایک ہمہ جہت، دیانت دار اور طویل المدتی حکمتِ عملی درکار ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کے ساتھ ساتھ ترغیبی نظام متعارف کرانا ہوگا، جہاں باقاعدگی سے آنے والے طلبہ کو تعلیمی، سماجی اور مالی سطح پر حوصلہ افزائی ملے، جبکہ غیر حاضری کو سنجیدہ مسئلہ سمجھا جائے۔ اساتذہ کی تقرریوں اور تعیناتیوں کو مکمل طور پر میرٹ اور ضرورت سے مشروط کرنا ہوگا، تاکہ اضافی عملے کے بوجھ کے بجائے معیاری تدریس کو فروغ دیا جا سکے، اور اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی مسلسل تربیت، کارکردگی کی جانچ اور احتساب کو نظام کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ انتظامی آسامیاں فوری طور پر پُر کر کے اسکولوں اور کالجوں میں فیصلہ سازی کا مؤثر نظام قائم کرنا ناگزیر ہے، تاکہ نظم و ضبط، منصوبہ بندی اور تعلیمی اہداف واضح ہو سکیں۔ نصاب میں اصلاحات کے ذریعے رٹّا سسٹم کی حوصلہ شکنی اور تحقیق، سوال، مکالمے اور عملی مہارتوں کو فروغ دینا ہوگا، جبکہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو تدریسی عمل میں اس انداز سے شامل کرنا ہوگا کہ یہ استاد کی معاون بنے، متبادل نہیں۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان باقاعدہ رابطے کو ادارہ جاتی شکل دے کر طلبہ کی تعلیمی اور اخلاقی نشوونما کو مشترکہ ذمہ داری بنایا جائے، اور تعلیم کو سیاست، سفارش اور ذاتی مفادات سے پاک کر کے علمی خود مختاری کو یقینی بنایا جائے۔ اسی تسلسل میں سندھی زبان، تاریخ اور تہذیب کو جدید سائنسی اور تکنیکی تعلیم کے ساتھ ہم آہنگ کر کے نصاب کا حصہ بنانا ہوگا، تاکہ طلبہ عالمی معیار سے جڑتے ہوئے اپنی شناخت اور فکری جڑوں سے وابستہ رہیں، اور یوں تعلیم واقعی سندھ کے مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بن سکے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی* *
*24 جنوری 2026 تعلیم کا عالمی دن نوجوانوں کی شمولیت اور تعلیم کی ہمہ گیر رسائی پاکستان میں تعلیم کا بحران اور عالمی دن کے موقع پر شواہد پر مبنی اقدامات*
تعلیم انسانوں کو اپنے حقوق، ذمہ داریوں، اجتماعی اقدار، اور دنیا میں بدلتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بناتی ہے۔تعلیم کے عالمی دن کی اہمیت اس حقیقت سے جڑی ہوئی ہے کہ تعلیم فرد کی ذاتی ترقی سے لے کر معاشروں کی اجتماعی تشکیل تک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ دن دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ تعلیم محض نصابی کتابوں یا ڈگریوں کا نام نہیں بلکہ شعور، اخلاقی تربیت، سماجی انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کا ذریعہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سطح پر اس دن کا منایا جانا اس بات کا اعتراف ہے کہ تعلیم کے بغیر پائیدار ترقی، جمہوری اقدار، معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کا تصور ادھورا رہتا ہے۔تعلیم کے عالمی دن کی افادیت اس میں ہے کہ یہ دنیا بھر کی حکومتوں، تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین اور طلبہ کو ایک مشترکہ مقصد پر متوجہ کرتا ہے۔ یہ دن تعلیمی عدم مساوات، ناخواندگی، صنفی فرق، غربت اور تنازعات کے باعث تعلیم سے محرومی جیسے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے اور پالیسی سازی پر دباؤ ڈالتا ہے کہ تعلیم کو بنیادی انسانی حق کے طور پر یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ معیاری تعلیم صرف اسکول میں داخلے تک محدود نہیں بلکہ نصاب، اساتذہ کی تربیت، تحقیق، تنقیدی سوچ اور اخلاقی اقدار کی آبیاری تک پھیلی ہوئی ذمہ داری ہے۔
یہ دن اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ تعلیم کو مستقبل کی تعمیر سے جوڑتا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، صحت، معیشت اور ماحولیات جیسے عالمی چیلنجز کا حل صرف تعلیم یافتہ اور باخبر معاشروں میں ہی ممکن ہے۔ تعلیم کے عالمی دن کے ذریعے یہ پیغام مضبوط ہوتا ہے کہ علم کی روشنی ہی انتہا پسندی، تعصب اور جہالت کا مؤثر توڑ ہے، اور یہی روشنی نوجوان نسل کو تخلیقی، ذمہ دار اور بااختیار شہری بناتی ہے۔
یوں تعلیم کا عالمی دن محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ اجتماعی احتساب، فکری بیداری اور عملی عزم کی یاد دہانی ہے۔ یہ دن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم تعلیم کو ترجیحی قومی اور عالمی ایجنڈا بنائیں، وسائل منصفانہ طور پر تقسیم کریں، محروم طبقات تک علم کی رسائی ممکن بنائیں اور تعلیم کو ایسا ذریعہ بنائیں جو انسان کو صرف ہنرمند ہی نہیں بلکہ باکردار اور باشعور بھی بنائے۔
تعلیم کے عالمی دن کو ہر سال 24 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 3 دسمبر 2018 کو اس دن کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا تاکہ تعلیم کے کردار کو امن و ترقی کے لیے عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔ یہ قرار داد متحدہ ریاستوں کے 58 ممالک کی حمایت سے منظور ہوئی تھی اور پہلی بار 24 جنوری 2019 کو منایا گیا۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں تعلیم کے اہم کردار کو اجاگر کرنا، تعلیم تک یکساں رسائی کو فروغ دینا، اور تعلیم کے ذریعے پائیدار ترقی، عدم امتیاز، اور معاشرتی امن کو فروغ دینا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس اقدام کی بنیاد انسانی حقوق میں ہے، جیسا کہ Universal Declaration of Human Rights کے آرٹیکل 26 میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر انسان کو تعلیم کا حق حاصل ہے اور ہر بچے کو مفت اور لازمی ابتدائی تعلیم تک رسائی میسر ہونی چاہیے۔ تعلیم کے عالمی دن 2026 کی تھیم “The power of youth in co-creating education” یعنی “تعلیم کو مشترکہ طور پر تخلیق کرنے میں نوجوانوں کی طاقت” مقرر کی گئی ہے۔ اس تھیم کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم کی تشکیل اور تبدیلی کے فعال شریک کار کے طور پر تسلیم کرنا ہے نہ کہ صرف سیکھنے والے کے طور پر۔ نوجوان نسل دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہے اور وہ جدید دور کے چیلنجز، ٹیکنالوجی، معاشرتی تبدیلی، اور مہارتوں میں تیزی سے تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس تھیم کے تحت زور دیا جاتا ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم کے فوائد حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی پالیسیوں، نصاب کی تیاری، تدریسی طریقوں، اور سیکھنے کے مواقع میں فعال طور پر شامل کیا جائے تاکہ تعلیم ان کی ضروریات، امنگوں اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ یہ تھیم عالمی کمیونٹی کو نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، ان کی رائے اور شمولیت کی اہمیت تسلیم کرنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ ایک مساوی، معیاری، اور ہمہ گیر تعلیمی نظام تشکیل دیا جا سکے جو سماجی، اقتصادی، اور تکنیکی ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ “تعلیم کو مشترکہ طور پر تخلیق کرنے میں نوجوانوں کی طاقت” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی تعلیمی حقیقت کا عکاس تصور ہے۔ یہ تھیم اس خیال کو ابھارتی ہے کہ تعلیم کوئی جامد یا یک طرفہ عمل نہیں، بلکہ ایک زندہ، ارتقائی اور باہمی اشتراک پر مبنی سرگرمی ہے جس میں نوجوان محض سیکھنے والے نہیں بلکہ علم کے خالق، سوال اٹھانے والے اور سمت متعین کرنے والے بھی ہیں۔ آج کا نوجوان ڈیجیٹل ذرائع، سماجی رابطوں اور عالمی آگاہی کے سبب اس قابل ہو چکا ہے کہ وہ نصابی حدود سے باہر نکل کر علم کو اپنے تجربات، مشاہدات اور اجتماعی مسائل سے جوڑ سکے۔ یہی عمل تعلیم کو زندگی سے ہم آہنگ بناتا ہے۔
اس تھیم کی روح میں یہ تصور شامل ہے کہ جب نوجوانوں کو اعتماد، اظہار اور شرکت کا موقع دیا جائے تو تعلیمی عمل یک رخی نہیں رہتا بلکہ مکالمے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ استاد کا کردار محض معلومات فراہم کرنے والا نہیں رہتا بلکہ رہنمائی کرنے والا بن جاتا ہے، جبکہ طالب علم تحقیق، تنقید اور تخلیق کے عمل میں شریک ہو جاتا ہے۔ اس اشتراک سے وہ علم جنم لیتا ہے جو رٹے سے آزاد، شعور سے لبریز اور معاشرتی ضرورتوں سے جڑا ہوتا ہے۔ نوجوان اپنی زبان، ثقافت، ٹیکنالوجی اور سماجی تجربات کے ذریعے تعلیم کو نئے معنی دیتے ہیں۔
مزید یہ کہ مشترکہ تخلیق کا یہ تصور تعلیمی انصاف اور شمولیت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ جب مختلف پس منظر رکھنے والے نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ سیکھتے اور سکھاتے ہیں تو طبقاتی، لسانی اور سماجی فاصلے کم ہوتے ہیں۔ تعلیم طاقت کا آلہ نہیں بلکہ اجتماعی بہتری کا ذریعہ بنتی ہے۔ یوں نوجوانوں کی توانائی، تخیل اور جراتِ سوال تعلیم کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیتی ہے اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے جہاں سیکھنا مشترکہ ذمہ داری اور اجتماعی خواب بن جاتا ہے۔تعلیم کے عالمی دن (24 جنوری 2026) کے موقع پر جاری کیا گیا پیغام میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریش کا کہنا ہے کہ آج بھی دنیا کے کونے کونے میں 27 کروڑ / 20 لاکھ بچے اور نوجوان تعلیم سے محروم ہیں، جنہیں غربت، امتیاز، تنازعات، بے دخلی اور قدرتی آفات کی وجہ سے اسکول کی راہوں تک رسائی حاصل نہیں۔ یہ ایک سنجیدہ چیلنج ہے، کیونکہ ہر بچہ تعلیم کے حق کا مستحق ہے اور اس کا مستقبل اس کی تعلیم پر منحصر ہے۔
تعلیم کے اس عالمی دن پر، وہ تمام حکومتوں، شراکت داروں اور امداد فراہم کرنے والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے پالیسی فیصلوں، بجٹ کے منصوبوں اور بحالی کے اقدامات میں تعلیم کو اولین ترجیح دیں۔ یہ وقت ہے کہ مالی اعانت، رسائی اور تعلیمی معیار کے خلا کو ختم کیا جائے، تاکہ کوئی بھی نوجوان اپنے خوابوں اور امیدوں سے محروم نہ رہے۔
اس سال کے موضوع کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہمیں خاص طور پر نوجوانوں کی آوازیں سننی چاہئیں اور ان کی درخواستوں پر عمل کرنا چاہیے۔ وہ تعلیم یافتہ اساتذہ، جدید مہارتوں کی تربیت، اور ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی چاہتے ہیں تاکہ بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم سب ہم آہنگ ہو سکیں۔آئیے مل کر سب کے لیے ایسے جامع، مضبوط اور جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھیں جو ہر بچے اور نوجوان کو موقع فراہم کرے، تاکہ وہ نہ صرف اپنے خواب پورے کر سکیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا حصہ بھی بنیں۔ تعلیم کی یہ روشنی سب کے لیے امید اور ترقی کی کرنیں لے کر آئے۔
یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اس وقت ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ تمام بچے، خاص طور پر وہ جو معاشرتی یا اقتصادی طور پر کمزور ہیں، اسکول جائیں، تعلیم حاصل کریں اور اپنی تعلیم مکمل کریں۔ اگرچہ داخلہ اور طلباء کے برقرار رہنے کی شرح میں بہتری آ رہی ہے، مگر تعلیمی اشاریوں میں خاطر خواہ پیش رفت بہت سست رہی ہے۔ تخمینہ ہے کہ تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے، جن کی عمر 5 سے 16 سال کے درمیان ہے، اسکول نہیں جاتے۔اس وقت پاکستان میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جو اسکول سے باہر ہیں، اور یہ تعداد تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ ہے، جو اس عمر کے گروپ کی کل آبادی کا تقریباً 35 فیصد بنتی ہے۔ صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو پنجاب میں سب سے زیادہ تعداد ایسے بچوں کی ہے، تقریباً 97 لاکھ بچے (عمر کے اس گروپ کا 27 فیصد) اسکول نہیں جاتے۔ اس کے بعد سندھ آتا ہے، جہاں تقریباً 74 لاکھ بچے (عمر کے اس گروپ کا 44 فیصد) تعلیم سے محروم ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اندازاً 45 لاکھ بچے (34 فیصد) اسکول سے باہر ہیں، جبکہ بلوچستان میں تناسبی اعتبار سے صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، تقریباً 35 لاکھ بچے، یعنی صوبے کے اسکول جانے والے عمر کے بچوں کا تقریباً 69 فیصد تعلیم سے محروم ہے۔ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں تقریباً 9 لاکھ بچے (15 فیصد) اسکول نہیں جاتے۔
لڑکیوں اور لڑکوں میں تعلیمی فرق اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، خاص طور پر سندھ اور خیبر پختونخوا میں، جہاں اسکول سے باہر لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے، جو لڑکیوں کی تعلیم میں موجود سماجی و ثقافتی رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ چیلنجز اس وقت مزید بڑھ گئے ہیں جب پاکستان میں تعلیم پر عوامی سرمایہ کاری انتہائی کم اور مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان نے اپنی جی ڈی پی کا تقریباً 1.5 فیصد تعلیم پر مختص کیا ہے، جو کہ یونیسکو اور ایس ڈی جی 4 کے معیارات 4–6 فیصد سے بہت کم ہے۔ صورتحال اس سے بھی بدتر ہو گئی ہے، اور پاکستان اکنامک سروے 2024–25 کے مطابق تعلیم پر صرف تقریباً 0.8 فیصد جی ڈی پی خرچ ہو رہا ہے، جو کہ ایک ریکارڈ کم سطح ہے اور قومی و بین الاقوامی اہداف سے بہت پیچھے ہے۔
تعلیم کے اخراجات میں تقریباً 90 فیصد صرف مستقل اخراجات، خاص طور پر اساتذہ کی تنخواہوں پر صرف ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی مواد اور نظام کی مضبوطی کے لیے محدود وسائل باقی رہ جاتے ہیں۔ یہ عدم توازن تعلیمی رسائی، سیکھنے کے نتائج اور مساوات، خاص طور پر کمزور طبقوں اور نوعمر لڑکیوں کے لیے ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اگر تعلیم کے لیے مالی وسائل میں اضافہ نہ کیا گیا اور اس کو اسٹریٹجک انداز میں استعمال نہ کیا گیا تو پاکستان اسکول سے باہر بچوں کے بحران اور تعلیمی چیلنجز کا مؤثر حل تلاش کرنے میں مسلسل ناکام رہے گا۔
تعلیم میں پیش رفت کو تیز کرنے اور معیاری تعلیم کے مساوی فروغ کو یقینی بنانے کے لیے، یونیسف پاکستان حکومت کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے تاکہ قبل از پرائمری، پرائمری اور نچلے سیکنڈری سطحوں پر اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔ ہمارا تعلیمی پروگرام ابتدائی بچپن کی تعلیم پر مرکوز ہے تاکہ بچوں کی اسکول میں داخلے کی تیاری بہتر ہو؛ بنیادی تعلیمی سطحوں پر مساوی اور معیاری متبادل سیکھنے کے راستوں کی توسیع؛ اور اسکول و کمیونٹی کے تعلقات کو مضبوط بنایا جائے تاکہ وقت پر داخلہ یقینی بنایا جا سکے، بچوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح کم ہو، اور تمام طلباء کی تعلیم مکمل ہونے اور اگلے تعلیمی درجے میں منتقلی یقینی ہو سکے۔
نظامی سطح پر، ہم صوبائی تعلیمی شعبوں کی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی میں زیادہ مساوات پر مبنی اقدامات کو فروغ دینے، ڈیٹا اور جانچ کے نظام کو مضبوط بنانے، اور شواہد پر مبنی پالیسی وکالت
“شواہد کی بنیاد پر پالیسی کی وکالت”
یہ اصطلاح اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ تعلیمی یا کسی بھی شعبے کی پالیسی بنانے اور اس پر اثر ڈالنے کے لیے مضبوط ڈیٹا، تحقیق اور شواہد کو بنیاد بنایا جاتا ہے، نہ کہ ذاتی رائے یا مفروضوں کو۔معیاری ابتدائی تعلیم یا قبل از پرائمری تعلیم میں سرمایہ کاری اس لیے اہم ہے تاکہ چھوٹے بچے اسکول کے لیے تیار ہوں، اور اس کے مثبت اثرات پرائمری اسکول میں داخلے، طلباء کے برقرار رہنے اور سیکھنے کے نتائج پر انتہائی زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ یہ لاگت کے لحاظ سے بھی مؤثر ہے۔ ابتدائی تعلیم کے سب سے زیادہ فوائد کم آمدنی والے اور کمزور گھروں کے بچوں کے لیے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں قبل از پرائمری تعلیم کی رسائی محدود اور غیر مساوی ہے، اس لیے ملک میں ابتدائی تعلیم کو اب پالیسی کی ترجیح کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، اور کئی صوبوں نے پہلے ہی ابتدائی بچپن کی تعلیم کے لیے پالیسیاں، منصوبے اور معیار وضع کر لیے ہیں۔
اگرچہ متبادل سیکھنے کے راستے کے کئی ماڈل موجود ہیں، مگر یہ ابھی بھی منتشر اور محدود پیمانے پر ہیں۔ یونیسف اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مطالعات کر رہا ہے، صوبائی شعبہ جاتی منصوبہ بندی کی حمایت کر رہا ہے، غیر رسمی تعلیم کی پالیسی کی ترقی یا جائزہ لے رہا ہے اور پروگرام کی براہِ راست عملداری کر رہا ہے۔ یہ وسیع تجربہ اب یونیسف کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مدد کرنے کے قابل بناتا ہے تاکہ وہ تعلیمی نظام میں ابتدائی بچپن کی تعلیم کو بڑھا کر اسکول سے باہر بچوں کو پرائمری تعلیم میں لایا جا سکے، خاص طور پر نوعمر لڑکیوں پر توجہ کے ساتھ۔
پاکستان میں کچھ بچوں، خاص طور پر لڑکیوں، کی تعلیم سے محرومی کے پیچھے سماجی و ثقافتی عوامل اور اقتصادی وجوہات ایک ساتھ کام کرتی ہیں۔ یہ رکاوٹیں اس وقت مزید بڑھ جاتی ہیں جب والدین ابتدائی تعلیم کی اہمیت، وقت پر داخلے، اور سوشل پروٹیکشن اسکیموں سے آگاہ نہیں ہوتے۔ یونیسف اس لیے وقت پر داخلے، برقرار رہنے، تعلیم مکمل کرنے اور اگلے تعلیمی درجے میں منتقلی میں رکاوٹوں پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
حکومت کی مساوات پر مبنی سرمایہ کاری تعلیم کے نظام میں سب سے زیادہ محروم لڑکوں اور لڑکیوں کو شامل کرنے کا کلیدی ذریعہ ہے۔ بجٹ کی ناکافی اور غیر مؤثر تقسیم کے پیشِ نظر، یونیسف شعبہ جاتی منصوبہ بندی میں اسٹریٹجک شمولیت اختیار کرتا ہے تاکہ مساوات کے مسائل پر فیصلہ سازی پر اثر ڈالا جا سکے۔ یونیسف کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت اور سیکھنے کی جانچ پر توجہ، اور بین الاقوامی ماہرین کی معاونت پاکستان کے تعلیمی نظام میں جانچ کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نظامی اصلاحات ذمہ داری کو بہتر بنانے اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سازی کو مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ یونیسف تعلیم کے بجٹ اور عوامی مالی وسائل پر صحت مند مکالمے کی حمایت کرتا ہے تاکہ بہتر منصوبہ بندی اور تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے اصلاحاتی پہلو اجاگر کیے جا سکیں۔
پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی صورتحال بدستور ایک سنگین قومی چیلنج کی صورت موجود ہے، جس کی تصدیق تازہ ترین سرکاری دستاویزات سے ہوتی ہے۔ وفاقی وزارتِ تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت و قومی ورثہ نے 2024 میں قومی اسمبلی کو پیش کی گئی اپنی تحریری رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ ملک میں تقریباً 2 کروڑ 62 لاکھ بچے نظامِ تعلیم سے باہر ہیں، جن میں ابتدائی، مڈل، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تمام تعلیمی درجے شامل ہیں۔ یہ رپورٹ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کا حصہ بنی، بعد ازاں اسے قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں شامل کیا گیا اور قومی اخبارات نے اسے خبر کی صورت میں شائع کیا۔ اس کے بعد پاکستان بیورو آف شماریات کے گھرانوں کے یکجا معاشی سروے 2024–25 کے نتائج، جو 2026 کے آغاز میں منظرِ عام پر آئے، اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسکول سے باہر بچوں کی مجموعی تعداد کم ہو کر تقریباً 2 کروڑ کے قریب آ گئی ہے۔ یہ کمی اگرچہ حکومتی اندراجی مہمات اور تعلیمی معاون پروگراموں کے جزوی اثرات کو ظاہر کرتی ہے، تاہم وفاقی وزارتِ تعلیم اور پاکستان بیورو آف شماریات کے شواہد اس حقیقت پر متفق ہیں کہ تعلیمی محرومی صرف ابتدائی درجے تک محدود نہیں بلکہ مڈل، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح تک پھیلی ہوئی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو داخلے، تعلیمی تسلسل، معیار اور سماجی رکاوٹوں پر مبنی ایک جامع، شواہد پر مبنی قومی تعلیمی حکمتِ عملی کی فوری ضرورت ہے۔
ہمیں نوجوانوں کی اپنی آوازیں غور سے سننی ہوں گی، ان کے خوابوں اور فریادوں کی تہہ میں جھانکنا ہوگا، جہاں اہل اساتذہ کی رہنمائی، بدلتی دنیا کے ہنر، اور ٹیکنالوجی تک برابری کی روشنی ایک ساتھ جل رہی ہے۔
تعلیم کے نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ مالی وسائل بڑھائے جائیں اور اسکولوں کی بنیادی سہولیات، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی مواد پر توجہ دی جائے۔ نوجوانوں کو نصاب، تدریسی طریقوں اور سیکھنے کے مواقع میں شامل کیا جائے تاکہ تعلیم ان کی ضروریات اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ ابتدائی بچپن کی تعلیم میں سرمایہ کاری کی جائے اور متبادل سیکھنے کے راستوں کو وسیع کیا جائے تاکہ اسکول سے باہر بچوں، خاص طور پر نوعمر لڑکیوں، کو تعلیم میں واپس لایا جا سکے۔ نظامی اصلاحات اور شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی کی جائے، اسکول و کمیونٹی تعلقات مضبوط کیے جائیں، اور ڈیٹا اور جانچ کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ فیصلے شواہد کی بنیاد پر ہوں۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ ہو اور نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ذرائع اور تخلیقی صلاحیتوں میں سہولت دی جائے، تاکہ وہ تعلیم میں فعال شریک کار بنیں۔ یہ اقدامات نہ صرف تعلیم کی رسائی اور معیار کو بہتر کریں گے بلکہ نوجوان نسل کو بااختیار، شعور سے بھرپور اور معاشرتی ترقی میں حصہ لینے کے قابل بنائیں گے۔
……………………
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ *
*پاکستان میں سائبر کرائم کا تیز رفتار اضافہ شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے*
سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں روزانہ درجنوں ایسے پیغامات گردش کرتے رہتے ہیں جن میں کسی نامعلوم نمبر کو فراڈ قرار دے کر خبردار کیا جاتا ہے کہ اس کال کو اٹینڈ نہ کریں، اس میسج کا جواب نہ دیں، ورنہ بینک اکاؤنٹ ہیک ہو جائے گا اور جمع پونجی لمحوں میں فراڈیوں کے ہاتھوں منتقل ہو جائے گی۔ اس طرح کے خوف پھیلانے والے پیغامات پڑھ کر عام صارف شدید ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ نہ تو ہر اطلاع جھوٹی ہوتی ہے اور نہ ہی ہر وارننگ درست۔ نتیجتاً لوگ یا تو ہر نامعلوم کال سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں یا پھر مسلسل وارننگز کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں، جو دونوں صورتوں میں نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ فراڈ موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ عام آدمی کو یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ حقیقت کیا ہے، دھوکہ کہاں ہے اور احتیاط کی درست حد کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ یہی ابہام سوشل میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ معلومات کے باعث بڑھتا جا رہا ہے، جسے واضح کرنا اور قارئین کو سادہ، قابلِ فہم اور عملی رہنمائی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا میں ہر لمحہ ہماری زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے، لیکن اسی کے ساتھ ایک ان دیکھے خطرات کا سایہ بھی پھیل رہا ہے۔ ہر کلک، ہر آن لائن لین دین، ہر سوشل میڈیا پروفائل ایک ممکنہ ہدف کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نے ہمیں سہولت دی ہے، لیکن اسی سہولت کے پیچھے آنکھیں کھولنے والے مجرم چھپے ہیں جو ہماری ذاتی معلومات، مالی وسائل اور شناخت کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ جعلی ویب سائٹس، فراڈ کے ای میلز، دھوکہ دینے والے پیغامات اور مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ ویڈیوز و آڈیو میسجز نے صارفین کے اعتماد کو چیلنج کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف تکنیکی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی بھی ہے، کیونکہ ہر فرد کی لاپرواہی مجرموں کے لیے دروازہ کھول دیتی ہے۔ اس پس منظر میں، ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے معاشرتی اور ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے کے طریقے سیکھیں۔ سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یہ وقت شعور، احتیاط اور ادارہ جاتی حمایت کی اہمیت کو سمجھنے کا ہے تاکہ ہم ایک محفوظ اور مستحکم ڈیجیٹل معاشرہ قائم کر سکیں۔پاکستان میں سائبر کرائم میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور شکایات 80,000 سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ محض اعدادوشمار کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر ہے جو تیزی سے ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہوا ہے مگر تحفظ، آگاہی اور ادارہ جاتی تیاری کے بغیر۔ وفاقی حکومت کی تازہ رپورٹ کے مطابق نیشنل کرائم کنٹرول اتھارٹی (NCCIA) کو 112,663 شکایات موصول ہوئیں، جو 2024 میں موصول ہونے والی 108,989 شکایات کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف 26,036 شکایات کی انکوائری ہوئی، 1,955 مقدمات درج ہوئے، 2,445 ملزمان گرفتار کیے گئے، 32 کو سزا دی گئی اور 122 بری ہو گئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ باوجود بڑھتی ہوئی شکایات کے، ادارہ جاتی صلاحیت ابھی بھی محدود ہے، تاہم مراکز کی تعداد 15 سے بڑھا کر 64 کر دی گئی ہے اور تفتیشی افسران کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پی سی ون تیار کیا گیا،
پی سی ون (PC-1) دراصل پاکستان میں سرکاری منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کی ہدایت کے لیے استعمال ہونے والا ایک رسمی دستاویز یا پروجیکٹ فارم ہے۔ یہ وزارت خزانہ اور متعلقہ وزارت ادارہ کے درمیان ایک ابتدائی پروجیکٹ پروپوزل اور فنڈنگ درخواست کی حیثیت رکھتا ہے۔
جس کے لیے وزارت داخلہ نے وزیراعظم سے منظوری حاصل کی۔
سائبر کرائم سے مراد وہ جرائم ہیں جو کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ یا کسی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ ان میں ہیکنگ، شناختی چوری، آن لائن بینکنگ فراڈ، جعلی ویب سائٹس، بلیک میلنگ، جعلی سرمایہ کاری اسکیمیں اور اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیوز و آڈیو میسجز شامل ہیں۔ یہ جرائم اس لیے کیے جاتے ہیں کیونکہ مجرم کم خطرہ اور زیادہ فائدہ کے ساتھ کارروائی کر سکتے ہیں، اور اکثر صارفین کی معلومات کی کمی یا لاپرواہی انہیں آسان ہدف فراہم کرتی ہے۔سوشل میڈیا اس بڑھتے ہوئے خطرے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز نہ صرف رابطے کے ذرائع ہیں بلکہ فراڈ، جعلی پروفائلز اور غلط معلومات کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ جعلی پروموشنز، تحائف کے نام پر لنکس، اور بلیک میلنگ کی صورت میں صارفین مالی نقصان اور شناختی چوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں ہر پانچویں صارف نے کسی نہ کسی حد تک آن لائن فراڈ یا شناختی چوری کا سامنا کیا ہے، جو اس مسئلے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اس خطرے کو اور بڑھا دیا ہے۔ اب جعلی ویڈیوز اور آڈیو میسجز اتنے حقیقی لگتے ہیں کہ پڑھے لکھے صارف بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ جعلی روبوٹک چیٹ بوٹس اور خودکار پیغامات صارفین کو بے خبر کر کے فراڈ کا شکار بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیپ فیک ویڈیوز کی بدولت سیاسی، معاشرتی اور مالی نقصان پہنچانے والے اقدامات میں اضافہ ہوا ہے، اور آن لائن دنیا میں اعتماد کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
اعدادوشمار یہ واضح کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے میں دباؤ میں ہیں۔ مراکز کی تعداد 15 سے بڑھا کر 64 کی گئی ہے، مگر شکایات کی صرف 26,036 انکوائری اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ادارہ جاتی صلاحیت ابھی بھی محدود ہے۔ تفتیشی افسران کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پی سی ون تیار کیا گیا اور وزارت داخلہ نے بھرتیوں کی منظوری حاصل کر لی ہے، جو مستقبل کے لیے امید افزا اقدام ہے۔ تاہم عملی اقدامات اور تربیت یافتہ اسٹاف کی ضرورت بڑھ گئی ہے تاکہ ہر شکایت پر جلد اور مؤثر کارروائی ہو سکے۔
شہریوں کے لیے یہ سمجھنا ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ خود اپنی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، صارفین کو مضبوط اور منفرد پاس ورڈ استعمال کرنے، دوہری تصدیق فعال رکھنے، اور کسی بھی مشکوک لنک پر کلک نہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بینک، سوشل میڈیا یا سرکاری اداروں کے نام پر آئے ہوئے پیغامات کے بارے میں احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ اکثر وہ جعلی ہوتے ہیں۔
صارفین کو اپنی سافٹ ویئر، ایپس اور سسٹمز کو ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رکھنا چاہیے، خاص طور پر عوامی وائی فائی پر احتیاط برتنی چاہیے، اور آن لائن بینکنگ یا لین دین کے دوران محفوظ نیٹ ورک استعمال کرنا چاہیے۔ اگر کوئی مشکوک سرگرمی نظر آئے تو فوراً بینک یا متعلقہ ادارے سے رابطہ کریں اور این سی سی آئی اے میں رپورٹ درج کروائیں۔ یہ بنیادی اقدامات ہر صارف کی ذاتی حفاظت کے لیے ناگزیر ہیں اور مجموعی طور پر سائبر سکیورٹی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتے ہیں۔
ریاستی اقدامات بھی انتہائی ضروری ہیں۔ قوانین کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ نئے نوعیت کے جرائم جیسے اے آئی فراڈ، ڈیپ فیک ویڈیوز اور سوشل میڈیا بلیک میلنگ کو واضح طور پر جرم قرار دیا جا سکے۔ عدالتوں میں سائبر کرائم کے مقدمات کے لیے خصوصی بنچز قائم کیے جائیں تاکہ کیسز تیزی سے نمٹ سکیں۔ علاوہ ازیں، ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیت یافتہ تفتیشی افسران کی بھرتی، جدید تحقیقاتی ٹولز اور بین الاقوامی تجربات کا فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔
تعلیمی نصاب میں ڈیجیٹل سکیورٹی اور آن لائن اخلاقیات کی تعلیم شامل کی جائے تاکہ طلباء مستقبل میں ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنا سیکھ سکیں۔ یہ نہ صرف نوجوان نسل میں شعور پیدا کرے گا بلکہ معاشرے میں مجموعی طور پر سائبر خطرات کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت بھی بڑھائے گا۔ میڈیا اور سماجی قیادت کو عوام میں شعور بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ہر صارف کم از کم بنیادی سائبر سکیورٹی اصول جانتا ہو۔بین الاقوامی تعاون بھی ناگزیر ہے کیونکہ سائبر کرائم سرحدوں سے بالاتر ہوتا ہے۔ بین الاقوامی نیٹ ورک اور سرورز کے ذریعے ہونے والے جرائم کی تحقیقات کے لیے عالمی تعاون لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجی شعبہ، خاص طور پر بینکنگ اور ای کامرس کے ادارے، اپنی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت اور صارفین کے ڈیٹا کی سکیورٹی میں فعال کردار ادا کریں تاکہ مجرموں کے لیے سہولت پیدا نہ ہو۔
شہریوں کو یہ شعور ہونا چاہیے کہ سائبر کرائم صرف کسی اور کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر وہ شخص جس کے پاس موبائل فون، لیپ ٹاپ یا انٹرنیٹ ہے، ممکنہ ہدف ہے۔ اگر صارف اپنی ذاتی، مالی اور شناختی معلومات کے تحفظ کے لیے محتاط رہے، تو مجرموں کے لیے رسائی مشکل ہو جائے گی۔ یہی شعور اور احتیاط کسی بھی معاشرے کو سائبر خطرات سے محفوظ رکھنے کا سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔مزید برآں، عوام میں آگاہی مہمات، ورکشاپس اور سوشل میڈیا پر سائبر سکیورٹی کے بارے میں تعلیمی مواد فراہم کرنے کے اقدامات سے بھی بڑے پیمانے پر تحفظ ممکن ہے۔ حکومت، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر یہ اقدامات کر سکتے ہیں تاکہ ہر شہری ڈیجیٹل دنیا میں خود کو محفوظ سمجھے اور فعال کردار ادا کرے۔اسی طرح پاکستان ایک ایسا محفوظ ڈیجیٹل معاشرہ بنا سکتا ہے جہاں شہری آگاہ، ادارے فعال اور قوانین جدید ہوں، اور ڈیجیٹل ترقی خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے۔ سائبر کرائم کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی بھی ذمہ داری ہے۔ مضبوط قوانین، تربیت یافتہ افسران، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی شعور کے امتزاج کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ ہر شہری کی ذاتی ذمہ داری، اداروں کی استعداد اور بین الاقوامی تعاون مل کر ہی پاکستان کو ایک محفوظ اور مستحکم ڈیجیٹل معاشرہ بنا سکتے ہیں، جہاں ترقی اور تحفظ ساتھ ساتھ چلیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*فنِ تقریر و مباحثہ اصول، فرق اور عملی رہنمائی طلبہ کی شخصیت سازی کا مؤثر ذریعہ*
تعلیم اور ہم نصابی سرگرمیاں دراصل ایک ہی تعمیری عمل کے دو پہلو ہیں، کیونکہ کتابی علم ذہن کو روشنی دیتا ہے تو ہم نصابی سرگرمیاں شخصیت کو اعتماد، نظم و ضبط، تعاون اور قائدانہ صلاحیتوں سے سجاتی ہیں۔ جب طالب علم پڑھائی کے ساتھ اسپورٹس، مباحثہ، تقریری مقابلوں، ڈرامہ یا سائنسی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے تو اس کی سوچ وسیع ہوتی ہے، خود اعتمادی بڑھتی ہے اور عملی زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیمی نظام میں ہم نصابی سرگرمیوں کو محض تفریح نہیں سمجھا جاتا، بلکہ انہیں ایک مکمل، متوازن اور مؤثر تربیت کا لازمی حصہ مانا جاتا ہے۔زمانہ طالب علمی میں تدریسی عمل کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں میں وہ نوجوان ہی آگے بڑھتے نظر آتے ہیں، جن میں غیر معمولی خداداد صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ اسی لئے ماہرین اور اساتذہ کرام کی نگاہیں گوہر شناسی کاکام کرتی ہیں۔فنِ تقریر وہ جادو ہے جو صرف لفظوں سے نہیں، دلوں کی دھڑکنوں سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو بےجان مجمع کو بھی سانس لیتا ہوا احساس بنا دیتی ہے، جو عام انسان کو لیڈر اور لیڈر کو تاریخ کا عنوان بنا دیتی ہے۔ ایک اچھا مقرر صرف بات نہیں کرتا، وہ سامع کے ذہن میں نقش چھوڑتا ہے، اس کی سوچ کو بدلتا ہے، اس کے احساسات کو جھنجھوڑتا ہے۔ فنِ تقریر میں آواز کی گرمجوشی، لفظوں کی ترتیب، اور اندازِ بیان کی تاثیر مل کر وہ تاثر پیدا کرتی ہے جسے صدیوں بعد بھی قومیں یاد رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی تحریکوں، بڑی تبدیلیوں اور بڑے نظریات کے پیچھے ہمیشہ کسی نہ کسی مقرر کی وہ آواز چھپی ہوتی ہے جس نے دلوں کو بیدار کیا، ذہنوں کو روشن کیا اور سچائی کو زبان بخشی۔ فنِ تقریر صرف بولنے کا نام نہیں، سننے والے کے احساس کو اپنی گرفت میں لے لینے کا نام ہے، اور یہی گرفت انسانوں کی تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے۔آج کل تعلیمی اداروں میں مقابلہ تقاریر اور مباحثہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے . طلباء اور طالبات بھرپور طریقے سے ان ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور اساتذہ بھی تیاری میں طلباء اور طالبات کی رہنمائی کر رہے ہیں.طلباء اور طالبات کی رہنمائی کے لیے میں نے یہ علمی اور معلوماتی مضمون تحریر کیا ہے. جس کے مطالعہ سے طلباء اور طالبات مفید معلومات سے استفادہ حاصل کریں گے. سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تقریر، مباحثہ اور خطابت میں کیا فرق ہے؟تقریر، مباحثہ اور خطابت تینوں کا تعلق زبان، اظہار اور سامعین پر اثر ڈالنے کی صلاحیت سے ہے، لیکن ان کی نوعیت، مقصد اور انداز ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں۔یہ تینوں تصورات تقریر، خطابت اور مباحثہ ظاہراً ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کے درمیان واضح فرق بھی ہے اور ایک گہرا تعلق بھی۔ تقریر وہ فن ہے جس میں ایک مقرر یکطرفہ طور پر اپنی بات سامعین تک پہنچاتا ہے، چاہے وہ معلومات دینا چاہتا ہو، کسی خیال کی وضاحت کرنی ہو یا لوگوں کے جذبات کو ابھارنا چاہتا ہو۔ خطابت دراصل اسی تقریر کی روح ہے، یعنی وہ انداز، اسلوب، الفاظ کی چمک، آواز کی تیزی و نرمی، جسمانی اشارے اور جذبات کی شدت جو ایک عام تقریر کو مؤثر، دلکش اور یادگار بنا دیتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہر تقریر میں خطابت لازمی نہیں ہوتی، مگر ہر مؤثر تقریر خطابت کے حسن سے مزین ضرور ہوتی ہے۔ مباحثہ ان دونوں سے الگ مگر ان کا ہمزاد ہے، کیونکہ اس میں بھی زبان اور بیان کا استعمال ہوتا ہے، لیکن مقصد صرف اظہار نہیں بلکہ دلیل، منطق اور ثبوت کے ساتھ کسی مؤقف کو ثابت کرنا ہوتا ہے۔ مباحثے میں بات یکطرفہ نہیں رہتی بلکہ دوسری ٹیم کے اعتراضات کا جواب دینا، ان کی دلیل کو توڑنا اور اپنی بات کو زیادہ مضبوط اور مستند انداز میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یوں تقریر کا مرکز پیغام، خطابت کا جوہر اثر اور مباحثے کا محور دلیل ہے۔ یہ تینوں مل کر زبان کے اس وسیع فن کو تشکیل دیتے ہیں جو نہ صرف خیالات کو ترتیب دیتا ہے بلکہ سامعین کے ذہن، جذبات اور سوچ کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔آسان، جامع اور فائنل انداز میں فرق یوں سمجھ لیجیے:
تقریر( speech )
تقریر کسی موضوع کو سامعین کے سامنے ترتیب، دلیل اور معلومات کے ساتھ پیش کرنے کا عمل ہے۔ یہ عام طور پر لکھی ہوئی،موضوعاتی اور باضابطہ ہوتی ہے۔ کسی تقریب، جلسے، کلاس روم یا سرکاری اجلاس میں جو بات کی جاتی ہے اسے تقریر کہتے ہیں۔ اس کا مقصد معلومات دینا، آگاہی پیدا کرنا یا کسی مؤقف کو واضح کرنا ہوتا ہے
یہ یک طرفہ اظہار ہے۔ ایک مقرر کسی موضوع پر مسلسل گفتگو کرتا ہے، دلائل، مثالیں اور واقعات پیش کرتا ہے، سامعین سنتے ہیں مگر جواب نہیں دیتے۔ اس کا مقصد معلومات دینا، قائل کرنا یا جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ تقریر میں ترتیب، روانی اور موضوع پر مکمل گرفت ضروری ہوتی ہے۔
مقرر کو مکمل آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بات تسلسل، دلیل اور جذبات کے ساتھ پیش کرے۔سامعین خاموش رہتے ہیں، صرف سنتے ہیں۔تقریر وقت کے اعتبار سے منظم ہوتی ہے (مثلاً 3 سے 5 منٹ وغیرہ)۔یہ درسگاہ، جلسے، کانفرنس، اجتماعات اور تقریبات اور مقابلہ تقاریر میں کی جاتی ہے.
مباحثہ(Debate )
مباحثہ ایک دو طرفہ یا کئی فریقوں کے درمیان دلیل پر مبنی مقابلہ ہوتا ہے۔اس میں دو ٹیمیں کسی موضوع کے حق اور مخالفت میں دلائل دیتی ہیں۔
ہر مقرر کے پاس وقت مقررہ ہوتا ہے اور اس دوران وہ صرف دلائل، حوالہ جات، اعدادوشمار اور مثالیں پیش کرتا ہے۔مباحثہ جذبات سے زیادہ منطق، ثبوت اور جوابِ دلیل پر کھڑا ہوتا ہے۔
مخالف ٹیم کی بات کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے، جو تقریر میں نہیں ہوتا۔یہ علمی و تعلیمی ماحول میں کیا جاتا ہے۔مباحثہ سوال و جواب، دلائل کے رد و قبول اور منطقی انداز کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس میں مخالف کی دلیل کا جواب دینا، فوری ذہانت، مضبوط حوالہ جات اور زبان کی درستی بنیادی شرطیں ہیں۔
فنِ خطابت اور اصولِ بلاغت(Oratory / Rhetoric)
خطابت ایک فن ہے، تقریر اس کا حصہ ہے۔خطابت سے مراد بہترین اندازِ بیان، مؤثر زبان، الفاظ کا انتخاب، زورِ خطابت، آواز کی اُتار چڑھاؤ، جسمانی حرکات اور دلوں پر اثر ڈالنے کی صلاحیت ہے۔
خطابت کا مقصد صرف بات پہنچانا نہیں بلکہ لوگوں کے جذبات، رائے اور سوچ پر اثر ڈالنا ہے۔ایک خطیب صرف بات نہیں کرتا، بات کو دل میں اُتارتا ہے۔ خطابت کا دائرہ تقریر سے وسیع اور مؤثر ہوتا ہے۔ یعنی ہر تقریر خطابت نہیں ہوتی، مگر ہر بہترین خطیب جب بولے تو اس کی گفتگو ’خطابت‘ بن جاتی ہے.
مختصراً فرق:-
تقریر مواد کی پیشکش ہے، مباحثہ دلیل کا مقابلہ ہے، اور خطابت فنِ تاثیر ہے جو دل و ذہن کو بیک وقت متاثر کرتی ہے.
*فنِ تقریر اور مباحثہ کے رہنما اصول*
خود اعتمادی، اچھا بولنا اور اپنی الفاظ سے دوسروں کو متاثر کرنا ایک خداداد صلاحیتیں ہیں ، جسے آپ اپنی محنت سے مزید خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ اور اگر لگن ، شوق اور محنت کرنے کے جذبے کے ساتھ خود پر بھروسہ بھی ہو تو اس فن پر عبور حاصل کرنا قطعاً مشکل نہیں۔ تقریر کرنے کے بنیادی لوازمات سے اگر آگاہی حاصل ہے تو پھر ایک اچھا مقرر بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں آسکتی. تقریر اور مباحثہ کرنے سے پہلے چند اہم نکات ذہن نشین کر لئے جائیں ۔
*تعلیمی اداروں میں تقریر یا مباحثہ کے موضوعات ایک باقاعدہ عمل کے تحت دیے جاتے ہیں۔ عام طور پر ادارے کے اساتذہ، مقابلہ منعقد کرنے والی کمیٹی یا شعبۂِ اردو،سندھی یا انگریزی پہلے ہی ایک فہرست تیار کرتے ہیں۔ یہ موضوعات طلباء طالبات کی سطح، مقابلے کی نوعیت، تعلیمی حالات، قومی ایام یا اخلاقی و سماجی شعور کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ کمیٹی یہ بھی دیکھتی ہے کہ موضوع ایسا ہو جو تحقیق کا مطالبہ بھی کرے اور طلباء کی فکری صلاحیت کو پرکھنے میں مدد بھی دے۔ پھر مقابلے سے کچھ دن پہلے یہ موضوعات نوٹس بورڈ، واٹس ایپ گروپ، اعلان یا دعوت نامے میں جاری کر دیے جاتے ہیں، تاکہ تمام طلباء ایک ہی طے شدہ عنوان پر تیاری کریں۔ اسی لئے طلباء کو اختیار نہیں دیا جاتا، بلکہ سب کے لیے ایک مشترکہ تقابلی ماحول قائم رکھا جاتا ہے۔
*کسی بھی تقریر سے پہلے یہ بات واضح ہو جانی چاہیئے کہ آپ کا موضوع کیا ہے اور کیا آپ اس موضوع کے متعلق مکمل معلومات رکھتے ہیں۔ مثلا اگر گریجویشن لیول کی تقریر ہے، تو اس میں زیادہ تر بات مستقبل کے حوالے سے ہو گی اسی طرح اگر کسی ادارے یا تعلیمی انسٹی ٹیوٹ میں الیکشن کے بابت تقریر ہے تو اس میں آپ کے پاس تقریر کی شکل مں ایسے دلائل موجود ہونے چاہئیں، جس سے آپ دوسروں کو یعنی سننے والوں کو قائل کر سکیں۔ اسی طرح کلاس اسائنمنٹ کی تقریر بالکل الگ انداز میں ہو گی ان تمام باتوں کے باوجود اگر آپ کو پھر بھی تقریر کے لئے موضوع کے انتخاب میں دشواری پیش آرہی ہے، تو آپ مختلف کہانیوں کو سرچ کریں اس سے آپ کی مشکل ضرور حل ہو گی.
*فنِ تقریر و مباحثہ کے رہنما اصولوں میں مؤثر گفتگو کے لیے تکنیکی اور موضوعاتی پہلوؤں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ ان میں صرف ابتدائی باتیں جیسے کہ مائیک پکڑنے کا طریقہ یا مائک کے آگے کتنے فاصلے سے بولنا ہے ، لباس کا انتخاب اور اسٹیج پر بیٹھنے کا انداز شامل ہیں،
*اسٹیج پر حاضرین کے سامنے مؤثر انداز میں بات کرنے کے لیے موضوع پر اچھی گرفت اور منفرد تحقیقی مواد ہونا ضروری ہے۔ عام طور پر تعلیمی اداروں کے متعلقہ مضامین اساتذہ تقریر اور مباحثہ کے موضوعات پر تقریر لکھ کر طلباء اور طالبات کو دیتے ہیں جسے ان کو اچھی طرح لفظ بہ لفظ یاد کرایا جاتا ہے بلکہ حفظ کروایا جاتا ہے.
*مضبوط اور دلکش آغاز
آغاز ایسا ہو جو سامعین کو فوراً متوجہ کر لے کسی واقعے، مؤثر جملے یا احساس انگیز بات کے ساتھ. تقریر کا آغاز ہمیشہ دل کو چھونے والا، مؤثر اور توجہ کھینچنے والا ہونا چاہیے تاکہ سامعین فوری طور پر متوجہ ہوں۔
*تقریر میں یہ واضح ہو کہ آپ کس نتیجے یا پیغام تک سامعین کو لے جانا چاہتے ہیں۔
*الفاظ کا چناؤ سادہ، مؤثر اور موقع کے مطابق ہو۔ مشکل الفاظ سے گریز کریں تاکہ ہر سننے والا بات سمجھ سکے۔ مبالغہ سے پرہیز کیا جائے۔
*آواز کا اتار چڑھاؤ
رفتار، لہجہ، وقفے اور آواز کا کنٹرول تقریر کو جان بخشتا ہے۔ ایک ہی آواز میں مسلسل بولنا سامعین کو اُکتا دیتا ہے۔
*جسمانی حرکات
ہاتھوں کے مناسب اشارے، چہرے کے تاثرات اور باوقار اندازِ گفتگو تقریر کو مؤثر بناتے ہیں۔
*دلائل اور مثالیں
تقریر میں مضبوط دلائل، تحقیق شدہ باتیں اور روزمرہ مثالیں شامل ہوں تاکہ بات قابلِ یقین بنے۔
*اختتام مضبوط ہو
آخر میں پیغام کو خوبصورت اور واضح انداز میں سمیٹیں، تاکہ سامعین کے ذہن میں مکمل بات بیٹھ جائے۔
*مباحثے کا مخصوص وقت، اندازِ گفتگو اور اصول پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ ان کی مکمل پابندی ضروری ہے۔
موضوع پر گرفت
مباحثہ “دلائل کا مقابلہ” ہے، اس لیے موضوع پر گہری تحقیق اور مضبوط حوالہ جات ضروری ہوتے ہیں۔
*محاوراتی مگر باادب زبان لہجہ ہمیشہ مؤدبانہ ہو۔ مخالف کے لیے سخت یا ہتک آمیز جملے مباحثے کی روح کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
*دلائل کی ترتیب
اپنی بات کو ترتیب وار پیش کریں:
دعویٰ → دلیل → مثال → نتیجہ
*وقت کا انتظام
ابتدائی دلائل، جوابی دلائل اور اختتامی کلمات ہر حصے میں وقت کے مطابق بات کریں۔ وقت ختم ہونے کے بعد بات مکمل کرنے کی کوشش نہ کریں۔
*مخالف کے دلائل کا جواب صرف اپنی بات کہنا مباحثہ نہیں۔ مخالف کی بات کو سن کر اس کا مؤثر، مدلل اور مہذب جواب دینا اصل مہارت ہے۔
*مضبوط حوالہ جات
مباحثے میں تاریخ، اعداد، شخصیات کے اقوال اور حقائق کا حوالہ گفتگو کو وزنی بناتا ہے۔
*پُراعتماد انداز
جملوں کی روانی، باوقار کھڑے ہونے کا انداز اور پُراعتماد لہجہ مباحثے میں نصف کامیابی ہے۔
*مضبوط اختتام:
اپنی تقریر کا اختتام ایک یادگار اور مؤثر انداز میں کریں جو سامعین کے ذہن میں رہے۔
*لغوی اور لسانی درستی اپنی زبان کو صاف ستھرا، درست اور موثر رکھیں تاکہ سامعین آسانی سے سمجھ سکیں اور آپ کی بات میں کوئی خلل نہ آئے۔
*۔تقریر کے لئے الفاظ اور جملے اس طرح ترتیب دیے جائیں کہ ان میں ایک تسلسل برقرار رہے۔ تقریر میں بہت زیادہ سنجیدہ یا حد سے زیادہ مزاحیہ یا پھر طنزیہ لفاظی استعمال نہ کریں کیونکہ ایسے جملے سننے والوں کی سماعت پر گراں گزرتے ہیں۔ تقریر معتدل مزاج میں لکھے چھوٹے جملوں میں ہو، جس میں بھاری اور ثقیل الفاظ کے استعمال سے گریز کیا جائے۔
صرف قابلیت جھاڑنے یا رعب جمانے کے لئے ایسے الفاظ یا جملوں کا انتخاب نہ کریں جن کے معنوں سے آپ خود بھی واقف نہ ہوں۔ مواد جتنا زیادہ سہل اور آسان ہوگا آپ کی تقریر اتنی ہی متاثر کن ہو گی، کیونکہ بھاری اور پیچیدہ الفاظ سے لکھی گئی تقریر سے حاضرین اکتاہٹ کا شکار ہو سکتے ہیں اور یہ یقینا آپ کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔
تقریر لکھتے اور کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ جو بات آپ بذریعہ تقریر ایک کثیر تعداد کے سامنے بول رہے ہیں، وہ حقائق پر مبنی ہو، خیالی اور تصوراتی جملے اور الفاظ نہ ہوں۔ اپنے نکتہ نظر کی مثالوں اور واقعات کی شہادتوں کے ساتھ وضاحت کریں اور اس کے لئے ایسے الفاظ یا جملوں کا انتخاب کریں، جس سے ہال میں بیٹھے لوگ متاثر ہوں۔ بار بار ایک جیسے جملوں کی تکرار سے گریز کریں۔
تقریر کرنے کے لئے سب سے اہم چیز آپ میں اعتماد کا ہونا ہے اور اس کے لئے آپ کو بہت پہلے سے محنت کرنے کی ضرورت ہو گی۔ اعتماد پیدا کرنے کے لئے سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ گھر میں موجود شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی لکھی ہوئی تقریر کو بار بار اور مختلف انداز سے پڑھیں۔ اس کے علاوہ اپنی شخصیت کو بھی جانچئے۔ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی حرکات وسکنات پر بھی نظر رکھیں۔ اس پریکٹس کے بعد اپنے فیملی ممبرز اور دوستوں کے سامنے تقریر کریں، اس سے آپ کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ آپ اپنی تقریر کو ریکارڈ کر کے اپنے پاس رکھ لیں اور اسے بار بار سنیں۔ اس طر ح تقریر آپ کو زبانی یاد ہو جائے گی۔
زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ سامعین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے تقریر بلند آواز میں کی جانے چاہئے، یہ سراسر غلط تاثر ہے۔ اگر تقریر کے دوران آپ چاہتے ہیں کہ سامعین آپ کی جانب توجہ دیں تو معتدل آواز میں تقریر کیجئے اور چھوٹے جملوں سے تقریر کا آغاز کریں۔جوش خطابت اور جذبات میں ڈائس پر زور سے ہاتھ یامکا نہیں ماریں. تقریر میں صبر برداشت کے پہلو نظر آنے چاہئیں. سنجیدہ تقریر دل پر اثر انداز ہوتی ہے. بعض اوقات دوران تقریر کچھ ایسا ہو جاتا ہے، جس کے بارے میں آپ نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔ مثلاً تقریر کے دوران اچانک بجلی بند ہو جائے، مائک کام کرنا چھوڑدے، بیک اسٹیج سے شور وغل کی بے سروپا آوازیں آنا شروع ہو جائیں یا پھر ہال میں بیٹھے سامعین کو ہی کوئی مسئلہ درپیش آجائے تو ایسی صورت حال میں اپنے اعتماد کو ہر حال میں بحال رکھیں اور کسی بھی قسم کی گھبراہٹ اور بے چینی کا مظاہرہ نہ کریں، پھر حالات نارمل ہوتے ہی اپنی تقریر کا آغاز کر دیں۔ ہال میں اگر سامعین کی تعداد کم ہو تو تقریر کرنے والے کا اعتماد کم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے مقرر اپنا اعتماد کھونے لگتے ہیں۔ وہ اپنی تقریر پر فوکس نہیں کر پاتا اور ذہن میں یہ باتیں ہی گردش کرتی رہتی ہیں کہ سامعین کم کیوں ہیں؟ مجموعی طور پر اس چیز کا بڑا غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔ عمومی طور پر سامعین کی تعداد ایک سو پچاس سے دوسو تک ہونی چاہیے۔ مجمعے کی تعداد ری ایکشن بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تقریر کرنے کے دوران اگر آپ کی توجہ کسی وجہ سے منتشر ہو رہی ہے، تو چند لمحوں کے لئے اپنی توجہ کسی دوسری جانب فوکس کر لیں۔ اس سے آپ کے ذہن پر اچھا اثر پڑے گا، تقریر کی روانی بہتر کرنے کے لئے اس سے بہتر مشق کوئی اور نہیں ہو سکتی ہے۔ تقریر کے دوران آپ ہال میں بیٹھے سامعین میں سے اپنی توجہ کسی ایک شخص کی طرف ہی رکھیں۔ اس کے چہرے کے تاثرات کو غور سے دیکھتے ہو ئے تقریر کرتے جائیں۔ اگر اس شخص کے تاثرات آپ کی تقریر کے دوران اچھے ہیں، تو سمجھ لیں کہ آپ ایک اچھی تقریر کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
*اہم تجاویز مقرر کے لیے*
اپنا تلفظ بہت اچھا اور درست کریں اس کے لیے لغات کا مطالعہ کریں. تقریر میں تلفظ اس کی جان ہوتی ہے.اخبارات و رسائل کا مطالعہ کریں، اچھے کمپیئر نیوز کاسٹر کو غور سے سنیں اور انداز بیاں دیکھیں.
اچھے بامعنی موضوع کی مناسبت سے اشعار کا انتخاب کریں، تقریر کے وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلی بیل پر ہوشیار ہو جائیں وقت زیادہ ہونے پر مارکس منہا ہو جاتے ہیں. باڈی لینگویج اور آئی کنٹریکٹ پر اعتماد ہو. تقریر کو
بھرپور طریقے سے یاد کریں. تقریر کے وقت سانس اور ردھم ٹوٹنا نہیـں چاہیے. تمہید دلائل جاندار ہوں اور اختتامہ پر داد تحسین کے لیے تالیاں بج جائیں.ججز
مواد ،تلفط،ادائی،اعتماد کے مقررہ کردہ نمبر دیتے ہیں. آج کل ہندی زبان نے ہماری اردو زبان پر منفی اثرات مرتب کر دیے ہیں. ک کو خ اور غ کو گ تلفظ میں بولتے ہیں جیسے خدا کو کدا اور غلام کو گلام ایسے بہت سے الفاظ کو غلط تلفظ میں بولتے ہیں. طلباء اور طالبات کتب،ادبی رسائل اور کرنٹ افیر کی کتب کا بغور مطالعہ کریں اور علم میں اضافہ کریں. اچھے خوبصورت الفاظ کا استعمال کریں.الفاظ کے جسمانی زاویوں سے اپنی بات قارئین تک پہنچا کر اپنی توجہ مبذول کروائیں. کتب میلے میں علمی معلوماتی دورہ کریں.
ڈیل کارنیگی اور علامہ اقبال کی شاعری کی کتابوں کا مطالعہ کریں.
اچھا مقرر مستقبل میں اینکر،کمپیئر،اسپیکر،سیاستدان،
صحافی، نیوز کاسٹر بن سکتا ہے.فن تقریر سے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے. تقریر مثبت سوچ میں اضافہ کرتی ہے، وقار بلند ہوتا ہے اور مقابلہ کا رجحان پیدا ہوتا ہے. طلباء اور طالبات شکست پر مایوس دل شکستہ نہیـں ہوں ہر ہار کے بعد سیکھنے کو ملتا ہے اور جیت یقینی ہوتی ہے.طلبا اور *طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے منتخب اشعار*
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہیے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ کبھی گھبرایا نہیں کرتے.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد*
*شادیوں میں نمود و نمائش بھارتی ثقافت کا بڑھتا اثر*
آج کل شادیوں کا سیزن ہے. شادی وہ لمحہ ہے جسے خوشیوں، سادگی اور اللہ کی برکتوں سے معمور ہونا چاہیے تھا، مگر ہمارے معاشرے میں یہ تقریب رفتہ رفتہ نمود و نمائش کی ایسی دوڑ میں بدل گئی ہے جس نے غریب کی جھونپڑی سے لے کر متوسط گھر کے آنگن تک بے شمار دکھ اور دباؤ پھیلا دیے ہیں۔ہمارے معاشرے میں یہ خوشی رفتہ رفتہ ایک ایسے بوجھ میں بدلتی جارہی ہے جو غریب متوسط طبقے کے لیے پریشانی کا باعث ہے.ایک طرف اشرافیہ کی شادیوں کا شاہانہ حسن، بے تحاشا اسراف اور غیر شرعی رسومات کی چمک دمک ہے، اور دوسری طرف وہ گھرانے ہیں جو اپنی بیٹی کی رخصتی کے لیے قرض، ادھار اور معاشرتی دباؤ کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ بھارتی کلچر کی بڑھتی یلغار، اسپیکرز کا شور ، لمبی ڈشوں والی میزیں، اور مقابلے کی اس دوڑ نے سادگی کو جرم اور نمائش کو معیار بنا دیا ہے۔ یہی تضاد وہ آگ ہے جو ہمارے معاشرتی توازن کو کھا رہی ہے اور اگر اب بھی ہم نے اس جلتی آگ پر پانی نہ ڈالا، تو آنے والی نسلیں اس بے اعتدالی کی قیمت بہت بھاری ادا کریں گی۔یہ المیہ اُس وقت مزید شدید ہو جاتا ہے جب اشرافیہ کی شادیوں میں نمود و نمائش، بے تحاشا اسراف، غیر شرعی رسومات اور بھارتی ثقافت سے متاثر فضول رواج ایک نیا معیار طے کر دیتے ہیں۔ پھر یہ معیار پورے معاشرے پر ایسے مسلط ہوتے ہیں کہ ایک عام گھرانے کے لیے اپنی بیٹی کی شادی کرنا عزت کا نہیں، بلکہ مقابلے کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی عدم توازن ہے جس نے ہماری سماجی ساخت کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔

دلہن کے لباس سے لے کر اسٹیج کی سجاوٹ تک، میوزک کی چیختی آوازوں سے لے کر کھانوں کی 10، 12، 20 ڈشوں تک، ہر چیز میں وہ دکھاوا شامل ہو چکا ہے جس نے ہمارے معاشرے کے سکون، اقدار اور دینی حدود کو بے دریغ پامال کیا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں شادیوں میں اسراف کا رجحان خطرناک حد تک بڑھا ہے۔ شادی بیاہ کے تقریباً ہر مرحلے پر بھارتی کلچر کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ مہندی کی متعدد تقریبات، فوٹو شوٹس، ڈانس پرفارمنسز، اسٹیج انٹریز یہ سب وہ رسوم ہیں جن کا ہماری تہذیب سے کوئی تعلق نہیں، مگر انہیں اپناتے ہوئے ہم فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔ یہ وہ ہندوانہ اثرات ہیں جو ہمارے سماجی جسم میں آہستہ آہستہ ناسور کی طرح پھیلتے جا رہے ہیں۔ شعائر اللہ کی تکریم اور اسلامی سادگی کا جو تصور ہمارے دین میں موجود ہے، وہ اس نمود و نمائش میں کہیں کھو جاتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ شادی ایک خوشی کا موقع کیوں ہے، بلکہ اصل زخم یہ ہے کہ ہم نے اس خوشی کو غیر ضروری مسابقت اور دکھاوے کے ساتھ اس قدر باندھ دیا ہے کہ سادگی کو حقارت سمجھا جانے لگا ہے۔آئے دن نئی نئی چیزوں میں اضافہ ہو رہا ہے جسے دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے. غریب اور متوسط طبقے کی مشکل یہ ہے کہ وہ ان فضول رسومات اور مہنگی تقریبات کی تقلید کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر ایک محلے میں کسی شادی میں کھانے کی 15 ڈشیں ہوں، تو دوسرے گھر کی بیٹی کی شادی میں لوگ اُس سے کم کھانے کو ناکامی اور شرمندگی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح فارم ہاؤسز، کھلی فضا کی تقریبات، بے قابو میوزک، لیزر لائٹس، آتش بازی، بے جا خرچ یہ سب دکھاوے کے وہ پہلو ہیں جو غریب گھرانوں کے لیے نفسیاتی اذیت بنتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ون ڈش پالیسی کی ضرورت صرف مالیاتی نظم کے لیے نہیں، بلکہ معاشرتی دباؤ کم کرنے کے لیے سب سے اہم قدم ہے۔ جب ایک شادی میں صرف ایک ڈش ہوگی تو نہ کوئی مقابلہ رہے گا، نہ ہی کوئی احساس کمتری، اور نہ ہی کوئی خاندان قرضوں میں ڈوب کر اپنی بیٹیوں کی رخصتی کرے گا۔
پاکستان میں شادیوں پر ہر سال ان گنت رقم خرچ کی جاتی ہے، جس کا ایک بڑا حصہ اسراف، نمائش اور غیر ضروری تقاریب پر ضائع ہوتا ہے۔ کھانے کی بات کی جائے تو مختلف معاشرتی سروے کے مطابق شادیوں میں تیار ہونے والے کھانے کا تقریباً اندازے کے مطابق پاکستان میں شادیوں میں تیار ہونے والے کھانے کا تقریباً
20–25٪ حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر یہ ضیاع اس وقت ہوتا ہے جب مہمان پوری پلیٹ نہ کھائیں، کھانے کی مقدار ضرورت سے زیادہ تیار کی گئی ہو، یا کچھ حصہ زیادہ پکا ہوا یا بچا ہوا کھانا کی صورت میں رہ جائے۔ چھوٹی شادیوں میں ضیاع نسبتاً کم یعنی تقریباً
15–20٪ ہوتا ہے، درمیانی شادیوں میں یہ 20–25٪ تک پہنچتا ہے، اور بڑی یا شاندار تقریبات میں یہ 25٪ کے قریب یا تھوڑا زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔شادیوں میں بچنے والا کھانا ہوٹلوں اور ریسٹورنٹوں پر فروخت کر دیا جاتا ہے جو کہ دوسرے دن مضر صحت ہو جاتا ہے. اس کھانے کو عام شہری بھی مہنگائی کے دور میں سستے داموں خرید کر کھاتے ہیں. یہی وہ اسراف ہے جس پر قرآن نے سخت تنبیہ فرمائی ہے اور جو سماجی بے حسی کی سب سے بڑی مثال بن چکا ہے۔ کھانوں کی لمبی فہرستیں، متنوع ڈشیں اور بے دریغ خرچ نہ صرف اللہ کی نعمتوں کی توہین ہیں بلکہ ایسے معاشرے میں ایک تلخ طنز بھی ہیں جہاں لاکھوں لوگ دو وقت کے کھانے کو ترستے ہیں۔
پنجاب حکومت نے حالیہ فیصلوں میں جو پالیسی مرتب کی ہے، وہ بظاہر نہایت مثبت قدم ہے۔ ون ڈش پالیسی کی پابندی، اونچی آواز کے میوزک پر پابندی، کھلی فضا اور فارم ہاؤسز کی تقریبات کو مقررہ وقت کے اندر ختم کروانے کی ہدایت، فضول خرچی کے خلاف کارروائی یہ سب فیصلے اگر صرف کاغذ پر نہ رہیں تو پورے معاشرے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مسئلہ ہمیشہ عمل درآمد کا رہا ہے۔ گزشتہ 20 برس میں کئی بار یہی نعرے لگے، یہی پابندیاں لگیں، مگر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے خود ان احکامات کو سنجیدگی سے نہ لیا، نتیجتاً عوام نے بھی انہیں مذاق سمجھا۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک تبدیل نہیں ہوتا جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے یکساں اور بلا امتیاز سختی نہ دکھائیں۔ شادیوں کے نام پر رات گئے تک چلنے والے شور، بے ہنگم ٹریفک، نیند کی کمی، صحت کے مسائل اور سماجی پریشانیوں نے لوگوں کی زندگی مشکل بنائی ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مسلسل بلند آواز انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے، نیند پر برا اثر ڈالتی ہے اور دل کے امراض کا خطرہ 20% تک بڑھا دیتی ہے۔ ہمارے ہاں شادیوں میں آواز کی کوئی حد مقرر نہیں، اسپیکر اور ڈی جے اپنی مرضی سے گھنٹوں شور مچاتے ہیں، اور اسکول جانے والے بچوں سے لے کر دفاتر کے ملازمین تک سب اذیت برداشت کرتے ہیں۔ یہ قدم صرف مذہبی حدود کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ عوام کی جسمانی و ذہنی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
اشرافیہ کی شادیوں نے ایک اور سنگین مسئلہ پیدا کیا ہے: طبقاتی تقسیم کی شدت۔ امیر طبقہ جس شان و شوکت سے اپنی تقریبات مناتا ہے، وہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔ لاکھوں روپے کے لوازمات، لاکھوں کی لائٹنگ، درجنوں کھانے، ہزاروں روپے کا ایک پلیٹ سسٹم، ڈیزائنر ملبوسات، شاہانہ اسٹیجز، ڈرون فوٹوگرافی اور بے شمار دکھاوا یہ سب چیزیں ایک عام شخص کے لیے ذہنی بوجھ، سماجی دباؤ اور ناگواری کا سبب بن جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شادی کی وہ سادگی جو کبھی ہماری پہچان تھی، اب صرف کتابوں میں رہ گئی ہے۔ غریب یہ سب دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہوتا ہے، قرض لیتا ہے، کئی سالوں تک ادائی کرتا ہے، مگر اپنے بچوں کی شادی اشرافیہ جیسی بنانے کی کوشش میں اپنی زندگی کو مشکل بنا لیتا ہے۔اگر یہ حکومتی پالیسی مستقل نفاذ کے ساتھ پورے صوبے اور پھر پورے ملک میں اپنالی جائے تو نہ صرف فضول خرچی کو روکا جا سکے گا بلکہ معاشرے میں اعتدال، سکون اور سادگی کا رجحان فروغ پائے گا۔ شادی کا مقصد دکھاوا نہیں، دو خاندانوں کا ملاپ ہے۔ جب ہم اسراف کو کم کریں گے تو نہ صرف غربت میں کمی آئے گی بلکہ معاشرتی ہم آہنگی بھی پیدا ہوگی۔ سادگی کو ایک مضبوط روایت بنانے کے لیے ضروری ہے کہ قانون بھی مضبوط ہو، انتظامیہ بھی سنجیدہ ہو اور عوام بھی اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔
اقدامات کے طور پر ریاست کو یہ بات مستقل طور پر یقینی بنانی چاہیے کہ ون ڈش پالیسی پر ہر جگہ یکساں عمل ہو، کہیں سیاسی اثر و رسوخ یا پیسہ اس قانون کو توڑنے کا ذریعہ نہ بن سکے، تقریب کے مقررہ اوقات کی واقعی پابندی کروائی جائے تاکہ رات گئے تک شور نہ پھیلے، غیر شرعی اور ہندوانہ رسومات کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ ہماری تہذیب کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے، شادی ہالز، فارم ہاؤسز اور آؤٹ ڈور تقریبات کی کڑی نگرانی ہو، کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوڈ بینکس یا عطیہ مراکز سے مربوط نظام نافذ کیا جائے، اور عوامی سطح پر آگاہی پیدا کی جائے کہ سادگی کمزوری نہیں بلکہ وقار ہے۔ جب اشرافیہ اس سادگی کو اختیار کرے گی تو یہی مثال پورے معاشرے میں ایک نئی مثبت روایت کی بنیاد رکھے گی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*وی لاگنگ تفریح، شناخت فن، شہرت اور آمدنی روزگار کی نئی دنیا*
وی لاگنگ ایک جدید ڈیجیٹل میڈیا کا رجحان ہے جو لفظی طور پر “ویڈیو بلاگنگ” کا مخفف ہے۔
وی لاگنگ کا تاریخی پس منظر 1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل سے جڑا ہوا ہے، جب انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافہ ہوا اور ویڈیو اسٹریمنگ ٹیکنالوجیز نے عام صارفین کے لیے ویڈیوز بنانا اور شیئر کرنا آسان کر دیا۔ اس دور میں آن لائن اظہارِ خیال کے ذرائع محدود تھے، چنانچہ 2003 میں گوگل نے اُن افراد کے لیے بلاگنگ کا آغاز کیا جو لکھنا چاہتے تھے مگر اُن کے پاس اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کے لیے کوئی موزوں پلیٹ فارم موجود نہ تھا، یا وسائل کی کمی کے باعث وہ اپنا مضمون کسی اخبار، رسالے یا کتابی صورت میں شائع نہیں کر سکتے تھے۔ ’’Blogger.com‘‘ کی شکل میں گوگل نے ایسے لکھنے والوں کو ایک آزاد اور عالمی سطح کا فورم فراہم کیا، جہاں وہ اپنی تحریریں بلا معاوضہ شائع کر سکتے تھے۔ بلاگ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے گوگل نے کچھ ہی عرصے بعد بلاگ میں ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا آپشن متعارف کرایا، جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب تحریری بلاگنگ آہستہ آہستہ ویڈیو بلاگنگ یا وی لاگنگ میں تبدیل ہونے لگی، اور انسانی اظہار ایک نئے بصری دور میں داخل ہوا۔
اس کے بعد 2005 میں YouTube کے قیام نے وی لاگنگ کے تصور کو عالمی سطح پر غیر معمولی فروغ دیا۔ یہ پلیٹ فارم اس قدر سہل اور جامع تھا کہ عام صارف بھی چند کلکس کے ذریعے اپنی ویڈیوز دنیا بھر میں شائع کر سکتا تھا۔ ابتدائی وی لاگرز نے اپنی روزمرہ زندگی، مشاہدات، خیالات اور تجربات کو کیمرے میں محفوظ کر کے اپ لوڈ کرنا شروع کیا، جس سے ایک نئی قسم کی ڈیجیٹل ثقافت وجود میں آئی۔ 2006 سے 2010 کے دوران ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل کیمروں کی دستیابی نے اس رجحان کو مزید تقویت بخشی۔ رفتہ رفتہ وی لاگنگ صرف ذاتی اظہار یا تفریح کا ذریعہ نہ رہی بلکہ تعلیم، اشتہارات، صحافت، اور سماجی مہمات کے لیے بھی ایک مؤثر ترین پلیٹ فارم بن گئی۔ یوں چند منٹ کی ویڈیوز نے الفاظ سے زیادہ اثر پیدا کرنا شروع کیا اور دنیا نے اظہار کے ایک نئے، تیز رفتار اور عالمگیر انداز کو اپنایا۔
وی لاگنگ کا آغاز دراصل انٹرنیٹ کے اُس دور میں ہوا جب 2000 کے وسط میں یوٹیوب جیسی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹس عام صارفین کی دسترس میں آئیں۔ اس نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے ہر شخص کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنی آواز، خیالات اور تجربات دنیا کے سامنے پیش کرے۔
وی لاگنگ (Video Blogging) یا ویڈیو بلاگنگ کی ابتدا کا سہرا اُن چند افراد کے سر جاتا ہے جنہوں نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ویڈیو مواد کے ساتھ تجربات کیے۔ ان میں چند اہم نام درج ذیل ہیں:
ایڈم کونٹراس (Adam Kontras): انہیں پہلا وی لاگر قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سال 2000 میں ایک مختصر ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ لاس اینجلس منتقل ہونے کے اپنے سفر کی روداد بیان کر رہے تھے۔
ایڈریان مائلز (Adrian Miles): 2000 میں انہوں نے ایک ویڈیو شائع کی جس میں ایک جامد تصویر پر بدلتا ہوا متن دکھایا گیا۔ انہوں نے ہی “Vog” کی اصطلاح وضع کی، جسے بعد میں ویڈیو بلاگ (Vlog) کہا جانے لگا۔
اسٹیو گارفیلڈ (Steve Garfield): ایک ویڈیو گرافر تھے جنہوں نے 2004 میں اپنے بلاگ پر مختصر ویڈیوز اپ لوڈ کرنا شروع کیں۔ اسی سال کو انہوں نے “The Year of the Video Blog” یعنی “ویڈیو بلاگنگ کا سال” قرار دیا۔ انہیں وی لاگنگ کا باپ (Father of Vlogging) بھی کہا جاتا ہے۔
لوک باؤمین (Luuk Bouwman): انہوں نے 2002 میں “Tropisms” نامی ویب سائٹ شروع کی، جو ان کے گریجویشن کے بعد کے سفر کی ویڈیو ڈائری تھی۔ یہ ان ابتدائی ویب سائٹس میں سے ایک تھی جسے “وی لاگ” یا “ویڈیو لاگ” کہا گیا۔جاوید کریم (Jawed Karim): یوٹیوب کے بانیوں میں سے ایک، جنہوں نے 23 اپریل 2005 کو “Me at the zoo” کے عنوان سے پہلی یوٹیوب وی لاگ ویڈیو اپ لوڈ کی، جس نے عام لوگوں کے ویڈیو مواد بنانے کے رجحان کی بنیاد رکھی۔یہ ابتدائی وی لاگرز وہ رہنما ثابت ہوئے جنہوں نے آج کے مقبول ویڈیو پلیٹ فارمز، خاص طور پر یوٹیوب، کے لیے راہ ہموار کی۔
ابتدائی دور میں وی لاگنگ زیادہ تر “روزمرہ کے بلاگز” یا “ذاتی ڈائری” کے طور پر تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے مختلف صنفیں اختیار کیں، جیسے سفر کے وی لاگز، ٹیکنالوجی کے جائزے، تعلیمی وی لاگز، اور تفریحی وی لاگز۔ ابتدائی ویڈیوز کی مدت عموماً چند منٹ کی ہوتی تھی، مگر ان میں ناظرین کے ساتھ تعلق اور اعتماد پیدا کرنے کی طاقت ہوتی تھی۔ کاروباری افراد اور برانڈز بھی وی لاگنگ کو مارکیٹنگ اور پروموشن کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیونکہ ویڈیو فارمیٹ زیادہ پرکشش اور یادگار ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی دنیا میں وی لاگنگ نے صارفین کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرنے کا موقع فراہم کیا، اور مشغولیت کی شرح کو بڑھایا۔لائیک، ویوز اور کمنٹس حاصل کرنے کے لیے ویڈیوز کو دلچسپ، معلوماتی اور ناظرین کی دلچسپی کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ ویڈیوز کی لمبائی 7 سے 12 منٹ کے درمیان ہونے پر ناظرین زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ویڈیوز کو اپلوڈ کرنے کے لیے سب سے مؤثر پلیٹ فارمز یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک ہیں، کیونکہ یہ پلیٹ فارم الگورتھمز کے لحاظ سے ناظرین کو نئے اور متعلقہ مواد دکھاتے ہیں، جس سے پہنچ بڑھتی ہے۔
دنیا بھر میں وی لاگنگ کے رجحان کو مقبولیت کی بلند ترین سطح تک پہنچانے میں چند نمایاں شخصیات کا کردار بنیادی رہا ہے۔ ان میں PewDiePie (سویڈن)، Casey Neistat (امریکہ)، Zoella (برطانیہ) اور MrBeast (امریکہ) قابلِ ذکر ہیں، جن کے وی لاگز نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل کلچر کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ PewDiePie، جن کا اصل نام Felix Kjellberg ہے، یوٹیوب کے سب سے زیادہ سبسکرائب کیے جانے والے انفرادی کنٹینٹ کری ایٹرز میں شامل ہیں، جن کے سبسکرائبرز کی تعداد 110 million سے زیادہ رہی اور ان کے گیمنگ و لاگز نے انٹرنیٹ انٹرٹینمنٹ کے معیارات کو ازسرِنو متعین کیا۔ Casey Neistat نے 2015 تا 2019 کے دوران روزانہ وی لاگز کے ایک منفرد سلسلے کے ذریعے شہری زندگی، خود انکشاف (self-expression) اور بیانیہ ویڈیو اسٹائل کو نئی شناخت دی، جسے یوٹیوب کلچر کی “creative renaissance” کہا گیا۔ برطانوی وی لاگر Zoella، جن کا اصل نام Zoe Sugg ہے، نے لائف اسٹائل اور بیوٹی بلاگنگ کو وی لاگنگ کے دائرے میں لا کر خواتین ناظرین کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کیا، اور ان کے چینل پر ویڈیوز کے ویوز کی مجموعی تعداد 1 billion سے زیادہ رہی۔ جدید وی لاگنگ کے موجودہ مرحلے میں MrBeast، یعنی Jimmy Donaldson، نے philanthropic اور challenge-based وی لاگز کے ذریعے نہ صرف وی لاگنگ کو ایک اقتصادی ماڈل میں بدلا بلکہ اس کے وائرل اثرات کو نیا معنی دیا۔ ان کے ویڈیوز اکثر 100 million views سے زیادہ حاصل کرتے ہیں، اور ان کی پیش کردہ “giving culture” نے یوٹیوب کمیونٹی میں خیراتی سرگرمیوں کے ایک نئے رجحان کو جنم دیا۔ ان تمام وی لاگرز کے کام نے اجتماعی طور پر وی لاگنگ کو محض ذاتی اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سماجی، معاشی اور ثقافتی مظہر میں تبدیل کر دیا ہے، جو آج کے ڈیجیٹل عہد میں (media influence) کی نئی تعریف طے کرتا ہے۔
پاکستان میں بھی وی لاگنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ وی لاگنگ سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ ملکی سطح پر سیر و سیاحت کو فروغ ملا، معلومات کا تبادلہ تیزی سے بڑھا۔ گاؤں دیہات کے درمیان جو خلا تھا وہ بڑی آسانی سے کم ہوگیا۔آج کے ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد وی لاگنگ میں مصروف دکھائی دیتی ہے، کیوں کہ یہ نہ صرف کمائی کا ایک تیز اور آسان ذریعہ بن چکا ہے بلکہ شہرت حاصل کرنے کا بھی مؤثر وسیلہ ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی تخلیقی صلاحیتیں پیش کر رہے ہیں۔ Statista (2024) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریباً 54% نوجوان (عمر 18 تا 29 سال) ایسے ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں آن لائن ویڈیو مواد تخلیق یا شیئر کرتے ہیں۔ اسی طرح Pew Research Center (2023) کے مطابق امریکہ کے 80% نوجوان صارفین وی لاگرز یا آن لائن ویڈیو کری ایٹرز کو باقاعدگی سے دیکھتے ہیں، جو اس رجحان کے عالمی پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔
یہ رجحان خصوصاً اُن نوجوانوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے جو اداکاری، میڈیا یا پرفارمنس آرٹس سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ماضی میں جنہیں ٹی وی یا فلم انڈسٹری تک رسائی نہیں ملتی تھی، آج وہ صرف ایک اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے اپنی شناخت قائم کر سکتے ہیں۔ وی لاگنگ نے دراصل تفریحی اور صحافتی اظہار کو ایک عوامی تجربے میں بدل دیا ہے۔ کوئی دلچسپ واقعہ، سماجی منظر یا روزمرہ تجربہ اگر اسے تخلیقی انداز میں کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر کے پیش کیا جائے تو وہ لاکھوں ناظرین تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے ’’Citizen Journalism‘‘ کے تصور کو عام کر دیا ہے، جہاں ہر فرد اپنے مشاہدات اور آراء کو ویڈیو کی صورت میں نشر کر سکتا ہے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی تیز رفتار رسائی نے اس شعبے کو مزید فروغ دیا ہے۔ Pakistan Telecommunication Authority (PTA) کے اعدادوشمار کے مطابق 2024 تک ملک میں Broadband Users کی تعداد 130 Million سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل مواد کی تخلیق ایک فعال ذریعہ معاش بنتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیاں اور میڈیا ادارے اب وی لاگنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا جرنلزم جیسے نئے کورسز متعارف کرا رہے ہیں تاکہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو پیشہ ورانہ سمت دی جا سکے۔
وی لاگنگ سے entrepreneurship کے مواقع بھی ملتے ہیں، کیونکہ اسپانسرشپ، برانڈ کولیبریشنز، اور affiliate marketing کے ذریعے آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
وی لاگنگ سے آمدنی مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے: ویوز، سبسکرائبرز، مشغولیت کی شرح، اور اسپانسرشپ ڈیلز۔ یوٹیوب کے مطابق، ایک ویڈیو جس کے پاس تقریباً 100,000 ویوز ہیں، وہ تقریباً 1000 سے 2000 ڈالر تک کمائی کر سکتی ہے، جبکہ برانڈ اسپانسرشپ اور affiliate marketing کے ذریعے یہ رقم کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ TikTok اور Instagram پر بھی وی لاگرز audience size اور engagement کے حساب سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ TikTok پر وائرل ویڈیوز کے ذریعے کم از کم 500 سے 1000 ڈالر فی مہینہ کی آمدنی ممکن ہے، جبکہ انسٹاگرام پر اسپانسر شدہ پوسٹس اور اسٹوریز سے بھی اچھا منافع حاصل ہوتا ہے۔وی لاگنگ کے لیے سب سے زیادہ کامیاب پلیٹ فارم کا انتخاب ویڈیو کی نوعیت، ناظرین کی ترجیحات اور مشغولیت پر منحصر ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر یوٹیوب سب سے زیادہ مستحکم اور کامیاب پلیٹ فارم ہے کیونکہ یہاں وی لاگرز کو اشتہارات، اسپانسرشپ اور مصنوعات کی فروخت کے ذریعے مستقل آمدنی کے مواقع دستیاب ہیں۔ ٹک ٹاک نوجوانوں کے درمیان وائرل ہونے کے لیے زیادہ تیز رفتار پلیٹ فارم ہے، کیونکہ یہاں مختصر ویڈیوز، trending challenges اور وائرل ہیش ٹیگز کے ذریعے ویوز جلد حاصل ہوتے ہیں۔ انسٹاگرام بھی چھوٹے اثر رکھنے والے افراد اور lifestyle، fashion، travel، اور food content کے لیے مؤثر پلیٹ فارم ہے، جہاں اسٹوریز،اور ریلس.
IGTV (Instagram TV)
2018 میں متعارف کرائی گئی انسٹاگرام کی ویڈیو سروس تھی، جو طویل اور عمودی ویڈیوز شیئر کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔
یوٹیوب دنیا کا سب سے بڑا ویڈیو پلیٹ فارم ہے جو اپنے تخلیق کاروں کی خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں انہیں مختلف اعزازات اور مراعات فراہم کرتا ہے۔ یوٹیوب کے Creator Awards کو عموماً ’’پلے بٹن‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اعزازات کسی چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد کے مطابق دیے جاتے ہیں
یوٹیوب پر Silver Play Button حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چینل کو 100,000 سبسکرائبرز (یعنی ایک لاکھ صارفین) کا ہدف مکمل کرنا ہوتا ہے۔ یہ YouTube Creator Awards کا پہلا درجہ ہے اور اس اعزاز کو حاصل کرنا اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ تخلیق کار (Creator) نے محنت، مستقل مزاجی اور اثر انگیزی کے ساتھ اپنا مقام بنایا ہے۔
یوٹیوب کے Play Button Awards کے درجے درج ذیل ہیں:
Silver Play Button — جب چینل کے سبسکرائبرز 100,000 ہوں۔
Gold Play Button — جب سبسکرائبرز کی تعداد 1,000,000 (یعنی دس لاکھ) تک پہنچ جائے۔
Diamond Play Button — جب سبسکرائبرز 10,000,000 (یعنی ایک کروڑ) ہو جائیں۔
Red Diamond Play Button — جب سبسکرائبرز 100,000,000 (یعنی دس کروڑ) سے زیادہ ہوں۔
جب کوئی یوٹیوبر 100,000 سبسکرائبرز کا ہدف حاصل کر لیتا ہے تو یوٹیوب اس کے چینل کا جائزہ لیتا ہے تاکہ یہ یقین کیا جا سکے کہ وہ پلیٹ فارم کے Community Guidelines (کمیونٹی اصولوں) پر پورا اترتا ہے۔
تصدیق کے بعد یوٹیوب کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن موصول ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ تخلیق کار اپنا Silver Play Button Award وصول کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ Red
Diamond Play Button صرف اُن چند یوٹیوبرز کو ملا ہے جن کے سبسکرائبرز 100 Million سے زیادہ ہیں۔ پلے بٹن پر چینل کا نام کندہ ہوتا ہے اور یہ یوٹیوب کی طرف سے تخلیق کار کی شہرت اور تسلسل کی باضابطہ توثیق سمجھا جاتا ہے۔
Social Blade (2024)
کے مطابق دنیا بھر میں اب تک
900 سے زائد چینلز کو Diamond Play Button مل چکا ہے۔
Social Blade
ایک معتبر ڈیجیٹل اینالیٹکس پلیٹ فارم ہے جو YouTube، Instagram، TikTok اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے وی لاگرز کے اعدادوشمار فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ویوز، سبسکرائبرز، اپلوڈ فریکوئنسی، آمدنی کے تخمینے، اور گلوبل و ملکی درجہ بندی جیسے ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تحقیقی اور تجزیاتی مضامین میں Social Blade کا حوالہ استعمال کرکے وی لاگرز کی مقبولیت اور اثرات کو مستند انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ 2008 سے ڈیجیٹل میڈیا ریسرچ میں قابل اعتماد ماخذ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
YPP
YouTube Partner
Program
یہ یوٹیوب کا سرکاری پروگرام ہے جو وی لاگرز کو اپنے چینل پر ویڈیوز سے آمدنی (Monetization) حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے وی لاگرز اپنے ویڈیوز پر اشتہارات چلا سکتے ہیں، ناظرین کی مالی معاونت Memberships یا Super Chat کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں، اور YouTube Premium Revenue کے حصے کے طور پر بھی آمدنی کما سکتے ہیں۔ YPP میں شمولیت کے لیے چینل پر کم از کم 1,000 سبسکرائبرز ہونا اور پچھلے 12 ماہ میں 4,000 گھنٹے واچ ٹائم مکمل ہونا ضروری ہے، نیز یوٹیوب کی Community Guidelines اور AdSense پالیسیاں پر عمل کرنا لازمی ہے۔ یوں YPP وی لاگرز کے لیے اپنے مواد سے آمدنی حاصل کرنے کا ایک مستند اور قانونی ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
یوٹیوب اپنے Partner
Program (YPP)
کے ذریعے وی لاگرز کو اشتہارات کی آمدنی میں سے 55% حصہ دیتا ہے، جب کہ 45% یوٹیوب کے پاس رہتا ہے۔ آمدنی کا تعین ویوز کی تعداد پر نہیں بلکہ CPM (Cost Per Mille) پر ہوتا ہے، جو ہر ملک اور مواد کے نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہے۔ عمومی طور پر ایک وی لاگر 1 Million views سے 100ڈالر تا 1,000ڈالر کماتا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق کامیاب ٹک ٹاکرز اپنی وائرل ویڈیوز، برانڈ اشتہارات اور لائیو گفٹس کے ذریعے اوسطاً 5,000 تا 10,000 ڈالر ماہانہ تک کما لیتے ہیں، جبکہ انسٹاگرام پر زیادہ interactive پوسٹس اور اسپانسرڈ اسٹوریز رکھنے والے انفلوئنسرز بھی ہزاروں ڈالر کی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ شرح نسبتاً کم ہے، جہاں کامیاب وی لاگرز اور ٹک ٹاکرز اوسطاً 200 تا 1,000 ڈالر ماہانہ کماتے ہیں،
پاکستان میں بھی یوٹیوب تیزی سے تخلیقی معیشت کا اہم جزو بن چکا ہے۔ پاکستانی وی لاگر آمنہ ریاض، جن کا چینل Kitchen with Amna کے نام سے معروف ہے، پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہیں یوٹیوب کی جانب سے Gold Play Button سے نوازا گیا۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق 2024 تک ملک میں Broadband Users کی تعداد 130 Million سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے وی لاگنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک پھیل چکا ہے۔ اکثر وڈیوز غیر متوقع طور پر وائرل ہو جاتی ہیں اور یہ وائرل کلچر ہی آج کی ڈیجیٹل دنیا کا اہم رجحان بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر فروری 2021 میں پاکستانی نوجوان دنانیر مبین کی صرف چار سیکنڈ کی ویڈیو ’’یہ ہماری پاری ہو رہی ہے‘‘ نے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ یہ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ اس کے میمز بنے، مختلف ممالک کے چینلز پر نشر ہوئی، اور دنانیر کو بطور ’’کنٹینٹ کری ایٹر‘‘ شناخت ملی۔ اب وہ اپنے بلاگز میں لائف اسٹائل، ذہنی صحت اور خواتین سے متعلق موضوعات پر بات کرتی ہیں۔ غیر ارادی طور پر وائرل ہونے ویڈیو
’’ اوئے۔۔۔پیچھے تو دیکھو‘‘سے مقبولیت حاصل کرنے والا بچہ پاکستان کا کم عمر یوٹیوبر بن گیا.
مواد کی ملکیت کی حفاظت کے لیے ویڈیوز پر کاپی رائٹ کلیم یا واٹرمارک لگانا بھی لازمی ہے تاکہ دوسروں کی جانب سے غیر قانونی اپ لوڈنگ روکی جا سکے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*پری میڈیکل گروپ سے پری لائف سائنسز گروپ نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل کا نیا راستہ*
*حیاتیاتی فکر کی سمت میں ایک انقلابی قدم*
تعلیم کا سفر ہمیشہ اسی حقیقت کے محور پر گھومتا ہے۔ وقت کے ساتھ نصاب، تدریسی طریقے اور تعلیمی تصورات بدلتے رہتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی نوجوان نسل کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا ہے؟ انٹرمیڈیٹ سطح پر زولوجی کے نئے عملی نصاب کی تشکیل اسی سوال کا ایک مثبت جواب ہے۔ اس نصاب نے طلباء کو محض تجرباتی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں مشاہدے، تحقیق اور تجزیے کے قریب لانے کی کوشش کی ہے۔ یہی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے تعلیم صرف کتابی علم نہیں بلکہ عملی بصیرت میں ڈھلتی ہے۔ یہ نصاب اس بات کا اعلان ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی ڈھانچے کو روایتی خول سے نکال کر حقیقی زندگی کے تناظر میں ڈھالیں۔پاکستان میں ہر سال انٹرمیڈیٹ سطح پر ایک بڑا طبقہ ’’پری میڈیکل‘‘ کے شعبے کا انتخاب کرتا ہے۔ مختلف تعلیمی بورڈز اور داخلہ رجحانات کے مطابق ان طلباء کی تعداد ہر سال تقریباً دو سے ڈھائی لاکھ کے درمیان رہتی ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر کے پبلک اور پرائیویٹ میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں مجموعی طور پر تقریباً 17,000 ایم بی بی ایس نشستیں دستیاب ہیں، جب کہ بی ڈی ایس کے لیے محض 3,000 کے لگ بھگ نشستیں ہیں۔ اس تناسب سے دیکھا جائے تو اندازاً صرف 7 فیصد طلباء ہی میڈیکل یا ڈینٹل کالجز میں داخلہ حاصل کر پاتے ہیں، جب کہ باقی 93 فیصد ذہین اور محنتی نوجوان اپنی تعلیمی سمت کے تعین کے مرحلے میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار ہمارے تعلیمی ڈھانچے میں موجود عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں میڈیکل کے محدود مواقع کے مقابلے میں سائنس کے دیگر مضامین میں رہنمائی اور پالیسی کی کمی طلباء کے لیے راستہ مسدود کر دیتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو مستقبل میں ایک جامع تعلیمی اصلاحی منصوبہ، جدید رہنمائی نظام اور مضامین کی متنوع تقسیم کے ذریعے بہتر کیا جا سکتا ہے تاکہ انسانی وسائل کا زیاں رک سکے اور نوجوان اپنی علمی استعداد کے مطابق بہتر شعبوں کی طرف آگے بڑھ سکیں۔باقی وہ ذہین اور محنتی نوجوان ہیں جو محض اس لیے مایوسی، ذہنی دباؤ، اور بے سمتی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ انہیں “ڈاکٹر” بننے کے خواب کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں دکھایا گیا۔ یہ صورتحال نہ صرف ایک تعلیمی بحران ہے بلکہ قومی وسائل اور انسانی سرمائے کا بھی شدید ضیاع ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں زراعت، بائیوٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک، فشریز، اور ماحولیات جیسے شعبے اپنی بقا کے لیے اہل افراد کے منتظر ہوں، وہاں صرف طبی پیشوں پر اصرار کرنا عقل و حکمت سے دوری ہے۔پانچ سو سے چھ سو روپے فی کلو ٹماٹر خریدنے والی قوم اگر یہ نہ سمجھے کہ اسے غذائی تحفظ کے لیے تجربہ کار زراعت دانوں، پلانٹ بایولوجسٹوں، اور مٹی کے سائنسدانوں کی ضرورت ہے، تو یہ محض تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ فکری جمود کی علامت ہے۔طلباء کو اگر میڈیکل میں داخلہ نہیں ملتا تو وہ مایوس نہیں ہوں اور پری سائنسز کے دیگر شعبوں میں قسمت آزمائیں. ہمارے نوجوانوں کا یہ المیہ ہے کہ اگر انہیں پری میڈیکل میں داخلہ نہیں ملتا تو وہ مایوسی اور منفی سوچ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی درست سمت میں رہنمائی نہیـں کی جاتی ہے. انٹرمیڈیٹ تعلیم سے پہلے طلباء کو کونسلنگ کی اشد ضرورت ہوتی ہے.
پاکستان کی معیشت کی بنیاد زراعت پر قائم ہے۔ یہ نہ صرف ملک کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ صنعتی ترقی، برآمدات اور دیہی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔پاکستان کی معیشت میں زراعت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، تاہم اس شعبے سے متعلق درست اور مستند اعداد و شمار پر انحصار ضروری ہے۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی محکمۂ محنت (ILO) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 میں پاکستان کا تقریباً 39.3 فیصد زمینی رقبہ قابلِ کاشت (arable land) کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جو ملک کی مجموعی زمین کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا زرعی انفراسٹرکچر اب بھی معیشت کا اہم ستون ہے۔ اسی طرح ملازمت کے اعتبار سے زرعی شعبے کا حصہ کل روزگار کا تقریباً 36.1 فیصد ہے، یعنی ملک کی ایک تہائی سے زیادہ افرادی قوت کسی نہ کسی درجے میں زراعت سے وابستہ ہے۔ ماضی میں عام طور پر یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی زراعت سے جڑی ہوئی ہے، مگر وہ اندازہ زیادہ تر دیہی آبادی کے تناسب پر مبنی تھا، نہ کہ براہِ راست زرعی روزگار پر۔ مستند بین الاقوامی شماریات سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ وقت میں زرعی مشغولیت نسبتاً کم مگر اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف دیہی معیشت کو سہارا دیتی ہے بلکہ خوراک کی فراہمی، خام مال کی تیاری اور برآمدی استحکام کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔ لہٰذا زراعت سے متعلق بیانات اور تحقیقی تحریروں میں درست اعداد و شمار استعمال کرنا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ ملکی ترقی کی سمت میں پالیسی سازی سائنسی بنیادوں پر استوار ہو سکے۔ گندم، چاول، کپاس، گنا اور مکئی جیسی بنیادی فصلیں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، جبکہ پھل، سبزیاں، دودھ اور مچھلی کی پیداوار برآمدات میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ زراعت نہ صرف خوراک کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے بلکہ کپڑا سازی، خوراک کی تیاری، دواؤں اور چمڑے کی صنعت کو بھی خام مال فراہم کرتی ہے۔تاہم موجودہ دور میں یہ شعبہ کئی چیلنجوں سے دوچار ہے، جیسے پانی کی قلت، موسمی تبدیلیاں، پرانے کاشتکاری کے طریقے، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں کمی۔ ایسے حالات میں نوجوان نسل کا کردار بے حد اہم ہو جاتا ہے۔ آج کے نوجوان تعلیم یافتہ، سائنسی سوچ رکھنے والے اور نئے خیالات کے حامل ہیں۔ اگر وہ زراعت کو روایتی پیشے کے بجائے جدید سائنسی اور کاروباری زاویے سے اپنائیں تو یہ شعبہ دوبارہ ملک کی ترقی کا محور بن سکتا ہے۔
جدید زرعی تحقیق، اسمارٹ کاشتکاری، بغیر مٹی کے پودے اگانے کا نظام (ہائیڈروپونک کاشت)، خودکار نگرانی، مصنوعی ذہانت اور برقی زراعت جیسے نئے رجحانات نوجوانوں کے لیے انقلابی مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈرون کیمروں کے ذریعے کھیتوں کی نگرانی، فصلوں کی بیماریوں کی نشاندہی اور کھاد یا دوا کا درست استعمال ممکن ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز کسانوں کو موسم، آبپاشی اور منڈی کی صورتحال سے بروقت آگاہ کرتی ہیں۔ اس طرح نوجوان اپنے موبائل فون کے ذریعے بھی ایک کامیاب کاشتکار بن سکتے ہیں۔
نوجوان اگر زرعی جامعات سے تعلیم حاصل کر کے زرعی کاروبار کا آغاز کریں تو وہ نہ صرف اپنی روزی کما سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جدید پودے افزائش مراکز، نامیاتی کاشت، یا زرعی برآمدی مراکز کے قیام سے ملک کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت اگر نوجوانوں کو زمین کی لیز، سستے قرضے اور جدید آلات تک رسائی دے تو یہ نسل زراعت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک منافع بخش صنعت میں بدل سکتی ہے۔تعلیمی اداروں میں بھی زراعت کو جدید سائنسی مضامین کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ طلباء یہ سمجھ سکیں کہ زراعت صرف ہل چلانے کا نام نہیں بلکہ حیاتیاتی سائنس، موسمیات، اور معلوماتی تجزیے جیسے جدید علوم سے وابستہ ایک سائنسی اور معاشی میدان ہے۔ نوجوان لڑکیاں بھی اس شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، خصوصاً خوراک کی تیاری، پیکنگ اور فروخت کے شعبوں میں۔پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان زمین سے اپنا رشتہ دوبارہ مضبوط کریں۔ اگر وہ دیہی علاقوں میں جدید فارم، پانی کے بہتر استعمال کے نظام، اور متبادل توانائی کے ذرائع اپنائیں تو نہ صرف خود کفالت حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ دیہی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ اصل زرعی انقلاب کھیتوں میں نہیں بلکہ ذہنوں میں لانا ہوگا جہاں زراعت کو پسماندگی نہیں بلکہ ترقی کی علامت سمجھا جائے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر نوجوانوں کے لیے جدید زرعی تربیت، تحقیق کے مواقع اور سرمایہ کاری کی راہیں کھولیں۔ جب نوجوان علم، ٹیکنالوجی اور محنت کے ساتھ زراعت کو اپنائیں گے تو پاکستان کی خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگاوہ دور جب یہ زمین پھر سے سونا اُگلنے لگے گی، مگر اس بار سائنسی فہم اور نوجوان توانائی کے امتزاج سے۔
قوموں کی ترقی کا دارومدار ان کے ڈاکٹرز، انجینئرز، اور سائنسدانوں کی تعداد پر نہیں بلکہ ان کے تحقیقی وژن اور سائنسی شعور پر ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “پری لائف سائنسز گروپ” ایک نئے فکری انقلاب کی راہ ہموار کرتا ہے۔پری لائف سائنسز گروپ دراصل حیاتیاتی علوم کا ایک جامع تصور ہے جو زندگی کے ہر رخ کو اپنے دائرے میں لاتا ہے۔ یہ گروپ ان نوجوانوں کے لیے ہے جو جانداروں کے نظامِ حیات، جینیاتی ساخت، اعصابی نظام، حیاتی کیمیا، ماحولیاتی توازن، اور حیاتیاتی تنوع کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس نصاب کے ذریعے طلباء کو نہ صرف حیاتیات کے بنیادی اصولوں سے روشناس کرایا جائے گا بلکہ انہیں بائیوانجینئرنگ، کلوننگ، نیوروسائنس، بایوانفارمیٹکس، بایوٹیکنالوجی، اور فارماسیوٹیکل ریسرچ جیسے جدید میدانوں سے بھی متعارف کرایا جائے گا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لائف سائنسز کے گریجویٹس صنعت، زراعت، صحت، ماحولیات، اور بائیو اکنامی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
جدید دور کی معیشت اب “بایو اکنامی” کے گرد گھومتی ہے، جس کی عالمی مالیت چار اعشاریہ چھ ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، اور پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ شعبہ نہ صرف روزگار بلکہ سائنسی خودکفالت کا نیا دروازہ کھول سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیز اور انڈسٹریز کے درمیان تعلقات نے بایوٹیکنالوجی، جینیٹک انجینئرنگ، اور ماحولیات کے شعبوں میں نئی راہیں پیدا کی ہیں۔ ہمارے لیے بھی وقت آ گیا ہے کہ ہم لائف سائنسز کے اس انقلاب میں فعال کردار ادا کریں۔
پری لائف سائنسز گروپ کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ تعلیم کو ایک ہی پیشے تک محدود نہیں کرتا بلکہ علم کو ایک مسلسل ارتقاء کے عمل کے طور پر دیکھتا ہے۔ جہاں پری میڈیکل گروپ کا مقصد صرف طب کے لیے بنیاد رکھنا تھا، وہاں پری لائف سائنسز گروپ طلباء کو تحقیق، اختراع ، اور سائنسی دریافتوں کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس گروپ کے تحت تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم محض حیاتیات نہیں پڑھتا، بلکہ وہ زندگی کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے کا ہنر سیکھتا ہے۔پاکستان کی قومی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تبدیلی وقت کا تقاضا ہے۔ جب ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، آبی قلت، حیاتیاتی تنوع کے خاتمے، اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل کا سامنا ہے تو ایسے ماہرین درکار ہیں جو زندگی کے ہر پہلو کو سائنسی بنیادوں پر سمجھ کر ان کا حل تلاش کر سکیں۔ ایک طرف میڈیکل کے محدود راستے ہیں اور دوسری طرف لائف سائنسز کے لامحدود امکانات انتخاب صرف زاویۂ نظر کا ہے۔
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ عالمی سطح پر حیاتیاتی تحقیق کا دائرہ اب محض طب تک محدود نہیں رہا۔ بایوانجینئرنگ نے مصنوعی اعضاء بنانے سے لے کر بیماریوں کی جینیاتی تشخیص تک سائنسی انقلاب برپا کیا ہے۔ نیوروسائنس نے انسانی دماغ کے اسرار کھولنے میں نئی جہتیں شامل کی ہیں۔ بایوٹیکنالوجی نے زراعت، ماحول اور توانائی کے شعبوں میں حیرت انگیز ترقی کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ایسے میں اگر ہمارا نصاب اب بھی پرانے سانچوں میں قید رہے تو یہ علم کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔”پری لائف سائنسز گروپ” کا مقصد طلباء کو صرف پیشہ ور نہیں بلکہ محقق، مفکر، اور موجد بنانا ہے۔ اس کے ذریعے طلباء میں وہ صلاحیت پروان چڑھے گی جو انہیں سائنسی دنیا میں اپنی پہچان بنانے کے قابل بنائے گی۔ یہ گروپ نوجوانوں کو سکھائے گا کہ علم محض امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے مسائل کے حل کے لیے ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی دراصل فہم اور عمل کے امتزاج کا نام ہے۔اب یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو ماضی کی تقلید میں رکھیں یا مستقبل کی تعمیر میں استعمال کریں۔ دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جینیاتی تحقیق نے علمِ حیات کے مفہوم کو بدل دیا ہے۔ ایسے میں وہی قومیں کامیاب ہوں گی جو تعلیم کو مستقبل کی سمت میں لے جائیں گی۔ “پری لائف سائنسز گروپ” دراصل اسی سمت میں ایک جرات مندانہ قدم ہے ایک ایسا قدم جو پاکستان کے سائنسی خواب کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ نصاب ساز ادارے، تعلیمی بورڈز، اور پالیسی ساز، حیاتیاتی تعلیم کے اس نئے تصور کو اپنائیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں لائف سائنسز کے عملی پہلوؤں کو فروغ دیا جائے، تجربہ گاہوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے، اور طلباء کو محض رٹا سسٹم کے بجائے تحقیق و تجزیے کی تربیت دی جائے۔ اسی طرح والدین اور اساتذہ کو بھی اس فکری تبدیلی کا حصہ بننا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو صرف “ڈاکٹر” بننے کا خواب نہ دکھایا جائے بلکہ انہیں زندگی کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع دیا جائے۔یہ وقت سوچ بدلنے کا ہے۔ وہ سوچ جو “پری میڈیکل” کے محدود دائرے سے نکل کر “پری لائف سائنسز” کے وسیع افق کو قبول کرے۔ کیونکہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو سوال اٹھانے، تحقیق کرنے اور نئے راستے تلاش کرنے کی جرات رکھتی ہیں۔ تبدیلی کے محرک بنیں، علم کے سفر کو زندگی کی حقیقتوں سے جوڑیں، اور اس پرانے تصور “پری میڈیکل گروپ” کو الوداع کہہ کر ایک نئے دور، ایک نئی تعبیر اور ایک نئے علمی انقلاب کا آغاز کریں۔ یہی وہ قدم ہے جو پاکستان کو حیاتیاتی علوم کی دنیا میں مقام دلانے کا ضامن بن سکتا ہے۔ تبدیلی کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، اور اسی تناظر میں انٹرمیڈیٹ زولوجی اور بوٹنی کے نئے عملی نصاب کی تشکیل ایک اہم قدم ہے۔ اس نصاب میں نہ صرف تجرباتی سرگرمیوں کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے بلکہ طلباء کو حیاتیاتی علوم کے عملی پہلوؤں سے قریب تر لانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ نیا نصاب یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ اب تعلیم کا مقصد محض کتابی علم تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے حقیقی مظاہر کو سمجھنا، جانچنا اور ان سے سیکھنا بھی ہے یہی وجہ ہے کہ اسے بدلتے ہوئے سائنسی و ماحولیاتی رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ ایک پیش رفت کہا جا سکتا ہے۔انٹرمیڈیٹ بائیولوجی پڑھنے والے ہزاروں طلبہ کو صرف میڈیکل کی راہ دکھا کر ہم نے قوم کے قیمتی سرمائے کو ضائع کردیا ھے۔ لہذااس امر کی شدید ضرورت ھے کہ قومی معاشی اور اقتصادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کو حیاتیات کے شعبے میں دیگر پیشہ ورانہ شعبوں مثلاً زراعت، وٹنری سائنسز، لائیو سٹاک، فشریز، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیاں، تحفظ جنگلی حیات، بائیو ٹیکنالوجی، بائیو میڈیکل سائنسز، پبلک ہیلتھ، اکنامک زولوجی، ہارٹیکلچر، وغیرہ کی طرف بھی رہنمائی کی جائے اور نصاب تعلیم کو “پاکستان” کے قومی تقاضوں سے مربوط اور ہم آہنگ کیا جائے.
پری میڈیکل اصطلاح نے اکثریت طلباء کو نفسیاتی طور پر متاثر کیا، جس سے انہیں “ناکام” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی طور پر قبول شدہ متبادل نام: “پری لائف سائنس گروپ” جس کا اطلاق کیمبرج جیسے عالمی تعلیمی فریم ورک میں بھی ہوتا ہے۔
اس جدید اقدام کو منظم طور پر آگے بڑھانے کے لئے سندھ کے تمام ریجنل ڈائریکٹوریٹس میں سیمینار منعقد کیے جائیں، پروفیسرز آف بوٹنی کو شامل کیا جائے تاکہ حقیقی لائف سائنسز کا مربوط نقطہ نظر اپنایا جا سکے، اور معلمین کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مہمان پیشکشوں کو سندھ کالج پروفیسروں کے واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا جائے۔
اصطلاح “پری میڈیکل گروپ” اب زندگی کی سائنسز کی تعلیم کے متنوع اور جدید دائرہ کار کی عکاسی نہیں کرتی۔آئیے اس پرانی اصطلاح کو ختم کریں اور مستقبل کے طلباء کے لیے وضاحت اور درستگی کو اپنائیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*وی لاگنگ تفریح، شناخت فن، شہرت اور آمدنی روزگار کی نئی دنیا*
وی لاگنگ ایک جدید ڈیجیٹل میڈیا کا رجحان ہے جو لفظی طور پر “ویڈیو بلاگنگ” کا مخفف ہے۔
وی لاگنگ کا تاریخی پس منظر 1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل سے جڑا ہوا ہے، جب انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافہ ہوا اور ویڈیو اسٹریمنگ ٹیکنالوجیز نے عام صارفین کے لیے ویڈیوز بنانا اور شیئر کرنا آسان کر دیا۔ اس دور میں آن لائن اظہارِ خیال کے ذرائع محدود تھے، چنانچہ 2003 میں گوگل نے اُن افراد کے لیے بلاگنگ کا آغاز کیا جو لکھنا چاہتے تھے مگر اُن کے پاس اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کے لیے کوئی موزوں پلیٹ فارم موجود نہ تھا، یا وسائل کی کمی کے باعث وہ اپنا مضمون کسی اخبار، رسالے یا کتابی صورت میں شائع نہیں کر سکتے تھے۔ ’’Blogger.com‘‘ کی شکل میں گوگل نے ایسے لکھنے والوں کو ایک آزاد اور عالمی سطح کا فورم فراہم کیا، جہاں وہ اپنی تحریریں بلا معاوضہ شائع کر سکتے تھے۔ بلاگ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے گوگل نے کچھ ہی عرصے بعد بلاگ میں ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا آپشن متعارف کرایا، جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب تحریری بلاگنگ آہستہ آہستہ ویڈیو بلاگنگ یا وی لاگنگ میں تبدیل ہونے لگی، اور انسانی اظہار ایک نئے بصری دور میں داخل ہوا۔
اس کے بعد 2005 میں YouTube کے قیام نے وی لاگنگ کے تصور کو عالمی سطح پر غیر معمولی فروغ دیا۔ یہ پلیٹ فارم اس قدر سہل اور جامع تھا کہ عام صارف بھی چند کلکس کے ذریعے اپنی ویڈیوز دنیا بھر میں شائع کر سکتا تھا۔ ابتدائی وی لاگرز نے اپنی روزمرہ زندگی، مشاہدات، خیالات اور تجربات کو کیمرے میں محفوظ کر کے اپ لوڈ کرنا شروع کیا، جس سے ایک نئی قسم کی ڈیجیٹل ثقافت وجود میں آئی۔ 2006 سے 2010 کے دوران ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل کیمروں کی دستیابی نے اس رجحان کو مزید تقویت بخشی۔ رفتہ رفتہ وی لاگنگ صرف ذاتی اظہار یا تفریح کا ذریعہ نہ رہی بلکہ تعلیم، اشتہارات، صحافت، اور سماجی مہمات کے لیے بھی ایک مؤثر ترین پلیٹ فارم بن گئی۔ یوں چند منٹ کی ویڈیوز نے الفاظ سے زیادہ اثر پیدا کرنا شروع کیا اور دنیا نے اظہار کے ایک نئے، تیز رفتار اور عالمگیر انداز کو اپنایا۔ وی لاگنگ کا آغاز دراصل انٹرنیٹ کے اُس دور میں ہوا جب 2000 کے وسط میں یوٹیوب جیسی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹس عام صارفین کی دسترس میں آئیں۔ اس نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے ہر شخص کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنی آواز، خیالات اور تجربات دنیا کے سامنے پیش کرے۔
وی لاگنگ (Video Blogging) یا ویڈیو بلاگنگ کی ابتدا کا سہرا اُن چند افراد کے سر جاتا ہے جنہوں نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ویڈیو مواد کے ساتھ تجربات کیے۔ ان میں چند اہم نام درج ذیل ہیں:
ایڈم کونٹراس (Adam Kontras): انہیں پہلا وی لاگر قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سال 2000 میں ایک مختصر ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ لاس اینجلس منتقل ہونے کے اپنے سفر کی روداد بیان کر رہے تھے۔
ایڈریان مائلز (Adrian Miles): 2000 میں انہوں نے ایک ویڈیو شائع کی جس میں ایک جامد تصویر پر بدلتا ہوا متن دکھایا گیا۔ انہوں نے ہی “Vog” کی اصطلاح وضع کی، جسے بعد میں ویڈیو بلاگ (Vlog) کہا جانے لگا۔
اسٹیو گارفیلڈ (Steve Garfield): ایک ویڈیو گرافر تھے جنہوں نے 2004 میں اپنے بلاگ پر مختصر ویڈیوز اپ لوڈ کرنا شروع کیں۔ اسی سال کو انہوں نے “The Year of the Video Blog” یعنی “ویڈیو بلاگنگ کا سال” قرار دیا۔ انہیں وی لاگنگ کا باپ (Father of Vlogging) بھی کہا جاتا ہے۔
لوک باؤمین (Luuk Bouwman): انہوں نے 2002 میں “Tropisms” نامی ویب سائٹ شروع کی، جو ان کے گریجویشن کے بعد کے سفر کی ویڈیو ڈائری تھی۔ یہ ان ابتدائی ویب سائٹس میں سے ایک تھی جسے “وی لاگ” یا “ویڈیو لاگ” کہا گیا۔جاوید کریم (Jawed Karim): یوٹیوب کے بانیوں میں سے ایک، جنہوں نے 23 اپریل 2005 کو “Me at the zoo” کے عنوان سے پہلی یوٹیوب وی لاگ ویڈیو اپ لوڈ کی، جس نے عام لوگوں کے ویڈیو مواد بنانے کے رجحان کی بنیاد رکھی۔یہ ابتدائی وی لاگرز وہ رہنما ثابت ہوئے جنہوں نے آج کے مقبول ویڈیو پلیٹ فارمز، خاص طور پر یوٹیوب، کے لیے راہ ہموار کی۔
ابتدائی دور میں وی لاگنگ زیادہ تر “روزمرہ کے بلاگز” یا “ذاتی ڈائری” کے طور پر تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے مختلف صنفیں اختیار کیں، جیسے سفر کے وی لاگز، ٹیکنالوجی کے جائزے، تعلیمی وی لاگز، اور تفریحی وی لاگز۔ ابتدائی ویڈیوز کی مدت عموماً چند منٹ کی ہوتی تھی، مگر ان میں ناظرین کے ساتھ تعلق اور اعتماد پیدا کرنے کی طاقت ہوتی تھی۔ کاروباری افراد اور برانڈز بھی وی لاگنگ کو مارکیٹنگ اور پروموشن کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیونکہ ویڈیو فارمیٹ زیادہ پرکشش اور یادگار ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی دنیا میں وی لاگنگ نے صارفین کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرنے کا موقع فراہم کیا، اور مشغولیت کی شرح کو بڑھایا۔لائیک، ویوز اور کمنٹس حاصل کرنے کے لیے ویڈیوز کو دلچسپ، معلوماتی اور ناظرین کی دلچسپی کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ ویڈیوز کی لمبائی 7 سے 12 منٹ کے درمیان ہونے پر ناظرین زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ویڈیوز کو اپلوڈ کرنے کے لیے سب سے مؤثر پلیٹ فارمز یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک ہیں، کیونکہ یہ پلیٹ فارم الگورتھمز کے لحاظ سے ناظرین کو نئے اور متعلقہ مواد دکھاتے ہیں، جس سے پہنچ بڑھتی ہے۔
دنیا بھر میں وی لاگنگ کے رجحان کو مقبولیت کی بلند ترین سطح تک پہنچانے میں چند نمایاں شخصیات کا کردار بنیادی رہا ہے۔ ان میں PewDiePie (سویڈن)، Casey Neistat (امریکہ)، Zoella (برطانیہ) اور MrBeast (امریکہ) قابلِ ذکر ہیں، جن کے وی لاگز نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل کلچر کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ PewDiePie، جن کا اصل نام Felix Kjellberg ہے، یوٹیوب کے سب سے زیادہ سبسکرائب کیے جانے والے انفرادی کنٹینٹ کری ایٹرز میں شامل ہیں، جن کے سبسکرائبرز کی تعداد 110 million سے زیادہ رہی اور ان کے گیمنگ و لاگز نے انٹرنیٹ انٹرٹینمنٹ کے معیارات کو ازسرِنو متعین کیا۔ Casey Neistat نے 2015 تا 2019 کے دوران روزانہ وی لاگز کے ایک منفرد سلسلے کے ذریعے شہری زندگی، خود انکشاف (self-expression) اور بیانیہ ویڈیو اسٹائل کو نئی شناخت دی، جسے یوٹیوب کلچر کی “creative renaissance” کہا گیا۔ برطانوی وی لاگر Zoella، جن کا اصل نام Zoe Sugg ہے، نے لائف اسٹائل اور بیوٹی بلاگنگ کو وی لاگنگ کے دائرے میں لا کر خواتین ناظرین کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کیا، اور ان کے چینل پر ویڈیوز کے ویوز کی مجموعی تعداد 1 billion سے زیادہ رہی۔ جدید وی لاگنگ کے موجودہ مرحلے میں MrBeast، یعنی Jimmy Donaldson، نے philanthropic اور challenge-based وی لاگز کے ذریعے نہ صرف وی لاگنگ کو ایک اقتصادی ماڈل میں بدلا بلکہ اس کے وائرل اثرات کو نیا معنی دیا۔ ان کے ویڈیوز اکثر 100 million views سے زیادہ حاصل کرتے ہیں، اور ان کی پیش کردہ “giving culture” نے یوٹیوب کمیونٹی میں خیراتی سرگرمیوں کے ایک نئے رجحان کو جنم دیا۔ ان تمام وی لاگرز کے کام نے اجتماعی طور پر وی لاگنگ کو محض ذاتی اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سماجی، معاشی اور ثقافتی مظہر میں تبدیل کر دیا ہے، جو آج کے ڈیجیٹل عہد میں (media influence) کی نئی تعریف طے کرتا ہے۔
پاکستان میں بھی وی لاگنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ وی لاگنگ سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ ملکی سطح پر سیر و سیاحت کو فروغ ملا، معلومات کا تبادلہ تیزی سے بڑھا۔ گاؤں دیہات کے درمیان جو خلا تھا وہ بڑی آسانی سے کم ہوگیا۔آج کے ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد وی لاگنگ میں مصروف دکھائی دیتی ہے، کیوں کہ یہ نہ صرف کمائی کا ایک تیز اور آسان ذریعہ بن چکا ہے بلکہ شہرت حاصل کرنے کا بھی مؤثر وسیلہ ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی تخلیقی صلاحیتیں پیش کر رہے ہیں۔ Statista (2024) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریباً 54% نوجوان (عمر 18 تا 29 سال) ایسے ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں آن لائن ویڈیو مواد تخلیق یا شیئر کرتے ہیں۔ اسی طرح Pew Research Center (2023) کے مطابق امریکہ کے 80% نوجوان صارفین وی لاگرز یا آن لائن ویڈیو کری ایٹرز کو باقاعدگی سے دیکھتے ہیں، جو اس رجحان کے عالمی پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔
یہ رجحان خصوصاً اُن نوجوانوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے جو اداکاری، میڈیا یا پرفارمنس آرٹس سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ماضی میں جنہیں ٹی وی یا فلم انڈسٹری تک رسائی نہیں ملتی تھی، آج وہ صرف ایک اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے اپنی شناخت قائم کر سکتے ہیں۔ وی لاگنگ نے دراصل تفریحی اور صحافتی اظہار کو ایک عوامی تجربے میں بدل دیا ہے۔ کوئی دلچسپ واقعہ، سماجی منظر یا روزمرہ تجربہ اگر اسے تخلیقی انداز میں کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر کے پیش کیا جائے تو وہ لاکھوں ناظرین تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے ’’Citizen Journalism‘‘ کے تصور کو عام کر دیا ہے، جہاں ہر فرد اپنے مشاہدات اور آراء کو ویڈیو کی صورت میں نشر کر سکتا ہے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی تیز رفتار رسائی نے اس شعبے کو مزید فروغ دیا ہے۔ Pakistan Telecommunication Authority (PTA) کے اعدادوشمار کے مطابق 2024 تک ملک میں Broadband Users کی تعداد 130 Million سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل مواد کی تخلیق ایک فعال ذریعہ معاش بنتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیاں اور میڈیا ادارے اب وی لاگنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا جرنلزم جیسے نئے کورسز متعارف کرا رہے ہیں تاکہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو پیشہ ورانہ سمت دی جا سکے۔
وی لاگنگ سے entrepreneurship کے مواقع بھی ملتے ہیں، کیونکہ اسپانسرشپ، برانڈ کولیبریشنز، اور affiliate marketing کے ذریعے آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
وی لاگنگ سے آمدنی مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے: ویوز، سبسکرائبرز، مشغولیت کی شرح، اور اسپانسرشپ ڈیلز۔ یوٹیوب کے مطابق، ایک ویڈیو جس کے پاس تقریباً 100,000 ویوز ہیں، وہ تقریباً 1000 سے 2000 ڈالر تک کمائی کر سکتی ہے، جبکہ برانڈ اسپانسرشپ اور affiliate marketing کے ذریعے یہ رقم کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ TikTok اور Instagram پر بھی وی لاگرز audience size اور engagement کے حساب سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ TikTok پر وائرل ویڈیوز کے ذریعے کم از کم 500 سے 1000 ڈالر فی مہینہ کی آمدنی ممکن ہے، جبکہ انسٹاگرام پر اسپانسر شدہ پوسٹس اور اسٹوریز سے بھی اچھا منافع حاصل ہوتا ہے۔وی لاگنگ کے لیے سب سے زیادہ کامیاب پلیٹ فارم کا انتخاب ویڈیو کی نوعیت، ناظرین کی ترجیحات اور مشغولیت پر منحصر ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر یوٹیوب سب سے زیادہ مستحکم اور کامیاب پلیٹ فارم ہے کیونکہ یہاں وی لاگرز کو اشتہارات، اسپانسرشپ اور مصنوعات کی فروخت کے ذریعے مستقل آمدنی کے مواقع دستیاب ہیں۔ ٹک ٹاک نوجوانوں کے درمیان وائرل ہونے کے لیے زیادہ تیز رفتار پلیٹ فارم ہے، کیونکہ یہاں مختصر ویڈیوز، trending challenges اور وائرل ہیش ٹیگز کے ذریعے ویوز جلد حاصل ہوتے ہیں۔ انسٹاگرام بھی چھوٹے اثر رکھنے والے افراد اور lifestyle، fashion، travel، اور food content کے لیے مؤثر پلیٹ فارم ہے، جہاں اسٹوریز،اور ریلس.
IGTV (Instagram TV)
2018 میں متعارف کرائی گئی انسٹاگرام کی ویڈیو سروس تھی، جو طویل اور عمودی ویڈیوز شیئر کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔
یوٹیوب دنیا کا سب سے بڑا ویڈیو پلیٹ فارم ہے جو اپنے تخلیق کاروں کی خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں انہیں مختلف اعزازات اور مراعات فراہم کرتا ہے۔ یوٹیوب کے Creator Awards کو عموماً ’’پلے بٹن‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اعزازات کسی چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد کے مطابق دیے جاتے ہیں
یوٹیوب پر Silver Play Button حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چینل کو 100,000 سبسکرائبرز (یعنی ایک لاکھ صارفین) کا ہدف مکمل کرنا ہوتا ہے۔ یہ YouTube Creator Awards کا پہلا درجہ ہے اور اس اعزاز کو حاصل کرنا اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ تخلیق کار (Creator) نے محنت، مستقل مزاجی اور اثر انگیزی کے ساتھ اپنا مقام بنایا ہے۔
یوٹیوب کے Play Button Awards کے درجے درج ذیل ہیں:
Silver Play Button — جب چینل کے سبسکرائبرز 100,000 ہوں۔
Gold Play Button — جب سبسکرائبرز کی تعداد 1,000,000 (یعنی دس لاکھ) تک پہنچ جائے۔
Diamond Play Button — جب سبسکرائبرز 10,000,000 (یعنی ایک کروڑ) ہو جائیں۔
Red Diamond Play Button — جب سبسکرائبرز 100,000,000 (یعنی دس کروڑ) سے زیادہ ہوں۔
جب کوئی یوٹیوبر 100,000 سبسکرائبرز کا ہدف حاصل کر لیتا ہے تو یوٹیوب اس کے چینل کا جائزہ لیتا ہے تاکہ یہ یقین کیا جا سکے کہ وہ پلیٹ فارم کے Community Guidelines (کمیونٹی اصولوں) پر پورا اترتا ہے۔
تصدیق کے بعد یوٹیوب کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن موصول ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ تخلیق کار اپنا Silver Play Button Award وصول کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ Red
Diamond Play Button صرف اُن چند یوٹیوبرز کو ملا ہے جن کے سبسکرائبرز 100 Million سے زیادہ ہیں۔ پلے بٹن پر چینل کا نام کندہ ہوتا ہے اور یہ یوٹیوب کی طرف سے تخلیق کار کی شہرت اور تسلسل کی باضابطہ توثیق سمجھا جاتا ہے۔
Social Blade (2024)
کے مطابق دنیا بھر میں اب تک
900 سے زائد چینلز کو Diamond Play Button مل چکا ہے۔
Social Blade
ایک معتبر ڈیجیٹل اینالیٹکس پلیٹ فارم ہے جو YouTube، Instagram، TikTok اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے وی لاگرز کے اعدادوشمار فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ویوز، سبسکرائبرز، اپلوڈ فریکوئنسی، آمدنی کے تخمینے، اور گلوبل و ملکی درجہ بندی جیسے ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تحقیقی اور تجزیاتی مضامین میں Social Blade کا حوالہ استعمال کرکے وی لاگرز کی مقبولیت اور اثرات کو مستند انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ 2008 سے ڈیجیٹل میڈیا ریسرچ میں قابل اعتماد ماخذ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
YPP
YouTube Partner
Program
یہ یوٹیوب کا سرکاری پروگرام ہے جو وی لاگرز کو اپنے چینل پر ویڈیوز سے آمدنی (Monetization) حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے وی لاگرز اپنے ویڈیوز پر اشتہارات چلا سکتے ہیں، ناظرین کی مالی معاونت Memberships یا Super Chat کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں، اور YouTube Premium Revenue کے حصے کے طور پر بھی آمدنی کما سکتے ہیں۔ YPP میں شمولیت کے لیے چینل پر کم از کم 1,000 سبسکرائبرز ہونا اور پچھلے 12 ماہ میں 4,000 گھنٹے واچ ٹائم مکمل ہونا ضروری ہے، نیز یوٹیوب کی Community Guidelines اور AdSense پالیسیاں پر عمل کرنا لازمی ہے۔ یوں YPP وی لاگرز کے لیے اپنے مواد سے آمدنی حاصل کرنے کا ایک مستند اور قانونی ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
یوٹیوب اپنے Partner
Program (YPP)
کے ذریعے وی لاگرز کو اشتہارات کی آمدنی میں سے 55% حصہ دیتا ہے، جب کہ 45% یوٹیوب کے پاس رہتا ہے۔ آمدنی کا تعین ویوز کی تعداد پر نہیں بلکہ CPM (Cost Per Mille) پر ہوتا ہے، جو ہر ملک اور مواد کے نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہے۔ عمومی طور پر ایک وی لاگر 1 Million views سے 100ڈالر تا 1,000ڈالر کماتا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق کامیاب ٹک ٹاکرز اپنی وائرل ویڈیوز، برانڈ اشتہارات اور لائیو گفٹس کے ذریعے اوسطاً 5,000 تا 10,000 ڈالر ماہانہ تک کما لیتے ہیں، جبکہ انسٹاگرام پر زیادہ interactive پوسٹس اور اسپانسرڈ اسٹوریز رکھنے والے انفلوئنسرز بھی ہزاروں ڈالر کی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ شرح نسبتاً کم ہے، جہاں کامیاب وی لاگرز اور ٹک ٹاکرز اوسطاً 200 تا 1,000 ڈالر ماہانہ کماتے ہیں،
پاکستان میں بھی یوٹیوب تیزی سے تخلیقی معیشت کا اہم جزو بن چکا ہے۔ پاکستانی وی لاگر آمنہ ریاض، جن کا چینل Kitchen with Amna کے نام سے معروف ہے، پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہیں یوٹیوب کی جانب سے Gold Play Button سے نوازا گیا۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق 2024 تک ملک میں Broadband Users کی تعداد 130 Million سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے وی لاگنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک پھیل چکا ہے۔ اکثر وڈیوز غیر متوقع طور پر وائرل ہو جاتی ہیں اور یہ وائرل کلچر ہی آج کی ڈیجیٹل دنیا کا اہم رجحان بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر فروری 2021 میں پاکستانی نوجوان دنانیر مبین کی صرف چار سیکنڈ کی ویڈیو ’’یہ ہماری پاری ہو رہی ہے‘‘ نے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ یہ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ اس کے میمز بنے، مختلف ممالک کے چینلز پر نشر ہوئی، اور دنانیر کو بطور ’’کنٹینٹ کری ایٹر‘‘ شناخت ملی۔ اب وہ اپنے بلاگز میں لائف اسٹائل، ذہنی صحت اور خواتین سے متعلق موضوعات پر بات کرتی ہیں۔ غیر ارادی طور پر وائرل ہونے ویڈیو
’’ اوئے۔۔۔پیچھے تو دیکھو‘‘سے مقبولیت حاصل کرنے والا بچہ پاکستان کا کم عمر یوٹیوبر بن گیا.
مواد کی ملکیت کی حفاظت کے لیے ویڈیوز پر کاپی رائٹ کلیم یا واٹرمارک لگانا بھی لازمی ہے تاکہ دوسروں کی جانب سے غیر قانونی اپ لوڈنگ روکی جا سکے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ *
*ظلم کے خلاف آزادی قلم صحافت کے مجاہد ہیروز*
صحافت محض پیشہ نہیں، یہ ضمیر کی صدا اور عوام کی امانت ہے جو سچائی کے چراغ کو جلائے رکھے، وہی اصل صحافی ہے۔
اسی جدوجہد میں اُس کا وقار، اُس کا ایمان، اور اُس کی پہچان چھپی ہے۔ “سچ لکھنے والا ہمیشہ طاقت کے مراکز کے نشانے پر ہوتا ہے۔” وہ اکثر طاقتور حلقوں کی ناراضی مول لیتا ہے۔”دنیا میں سچ کہنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ لفظ کبھی تلوار سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے، اور وہ لوگ جو سچ کو حرفوں میں ڈھالتے ہیں، اکثر خود تاریخ کے صفحوں پر خون کے داغ بن کر رہ جاتے ہیں۔ رواں برس 2025ء میں آزادیٔ صحافت کی تاریخ نے ایک نیا باب رقم کیا ہے، جب دو عالمی اداروں انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ (International Press Institute – IPI) اور انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (International Media Support – IMS) نے سات بہادر صحافیوں کو “ورلڈ پریس فریڈم ہیروز” کے عالمی اعزاز سے نوازا۔ ان میں وہ فلسطینی خاتون بھی شامل ہیں جو غزہ کی تباہ شدہ گلیوں میں اپنے کیمرے کے ساتھ شہید ہوئیں۔
یہ اعزاز اُن صحافیوں کو دیا جاتا ہے جو شدید خطرات کے باوجود سچ بولنے سے باز نہیں آتے۔ اس سال کے ایوارڈ یافتگان کا تعلق جارجیا، امریکا، غزہ، پیرو، ہانگ کانگ، یوکرین اور ایتھوپیا سے ہے۔ ان سب نے ظلم، سنسرشپ، قید اور دھمکیوں کے باوجود صحافتی اصولوں کی حفاظت کی اور عوام کے حقِ جاننے کو مقدم رکھا۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ IPI اور IMS کون سے ادارے ہیں اور ان کی حیثیت کیا ہے۔
انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ (IPI) کا قیام 1950ء میں صحافیوں اور مدیران کے ایک عالمی اجتماع کے نتیجے میں ہوا۔ اس کا صدر دفتر آسٹریا کے شہر ویانا میں ہے۔ IPI آزادیٔ اظہار، آزاد میڈیا اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ ہر سال مختلف ممالک میں صحافت پر ہونے والے دباؤ، قتل، قید، سنسرشپ اور جبر کی نگرانی کرتا ہے، اور انہی بنیادوں پر ان صحافیوں کا انتخاب کرتا ہے جنہوں نے جرات کی مثال قائم کی۔ IPI کے “ورلڈ پریس فریڈم ہیروز” ایوارڈ کو صحافت کی دنیا میں سب سے باوقار تمغہ مانا جاتا ہے، جو 1996ء سے ہر سال دیا جا رہا ہے۔
دوسرا ادارہ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (IMS) ہے، جس کا صدر دفتر کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں ہے۔ IMS 2001ء میں قائم ہوا اور اس کا بنیادی مقصد دنیا کے اُن خطوں میں صحافت کا تحفظ کرنا ہے جہاں جنگ، آفات یا سیاسی جبر کے باعث میڈیا خطرے میں ہو۔ IMS صحافیوں کی تربیت، قانونی معاونت، اور آن لائن و فزیکل سکیورٹی پروگرام چلاتا ہے۔ یہ ادارہ آزادیٔ اظہار کو انسانی حق مانتے ہوئے میڈیا اداروں کے لیے پالیسی سطح پر اصلاحات کی حمایت کرتا ہے۔ 2020ء کے بعد سے IMS نے IPI کے ساتھ مل کر یہ عالمی اعزاز مشترکہ طور پر دینا شروع کیا، تاکہ آزادیِ صحافت کے تحفظ کی جدوجہد کو عالمی سطح پر مضبوط کیا جا سکے۔
اب اگر اس سال کے سات ہیروز پر نظر ڈالی جائے تو ہر نام اپنے آپ میں ایک داستان ہے۔
جارجیا سے Mzia Amaglobeli نے روسی دباؤ اور داخلی پابندیوں کے باوجود آزاد میڈیا کو زندہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ خواتین صحافیوں کے لیے جرات اور تحفظ کی علامت بن چکی ہیں۔
امریکا سے Martin Baron نے واشنگٹن پوسٹ اور بوسٹن گلوب کے ادارتی سربراہ کے طور پر تحقیقاتی صحافت کی نئی بنیاد رکھی۔ ان کے دور میں امریکی سیاست اور حکومت میں شفافیت کے کئی نئے در وا ہوئے۔
غزہ کی Mariam Abu Dagga وہ نام ہے جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ سچائی کے راستے میں بمباری بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ فلسطینی فوٹو جرنلسٹ تھیں، جو پناہ گزین کیمپوں میں انسانی المیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہی تھیں۔ اسرائیلی حملے کے دوران وہ رپورٹنگ کر رہی تھیں جب ایک فضائی حملے نے ان کی جان لے لی۔ ان کی شہادت نے دنیا بھر میں آزاد صحافت کے لیے ایک نئے جذبے کو جنم دیا۔ IPI اور IMS نے انہیں بعد از مرگ (Posthumously) یہ اعزاز دیا۔
لفظ “Posthumously” (پوسْتھیومَسلی) ایک انگریزی اصطلاح ہے،جس کا مطلب ہے “وفات کے بعد” یا “مرنے کے بعد”۔
یعنی جب کسی شخص کو ایوارڈ، اعزاز، یا درجہ اُس کے انتقال کے بعد دیا جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ اعزاز اسے posthumously awarded کیا گیا۔
پیرو سے Gustavo Gorriti نے منشیات مافیا اور بدعنوان سیاست دانوں کے خلاف اپنی قلمی جنگ سے حکومتوں کو ہلا دیا۔ کئی بار قید ہوئے، لیکن قلم نہیں چھوڑا۔
ہانگ کانگ کے Jimmy Lai، جو “ایپل ڈیلی” کے بانی ہیں، چین کے دباؤ میں آکر بھی اپنی آزادیِ رائے پر قائم رہے۔ انہیں جیل میں ڈالا گیا، اخبار بند ہوا، لیکن وہ آج بھی دنیا بھر کے صحافیوں کے لیے مثال بنے ہوئے ہیں۔
یوکرین کی Viktoriia Roshchyna نے روسی حملوں کے دوران محاذِ جنگ سے رپورٹنگ کی۔ گرفتار ہوئیں، تشدد کا نشانہ بنیں، مگر جنگ کے بیچ بھی سچ کی خبریں دنیا تک پہنچاتی رہیں۔
ایتھوپیا کے Tesfalem Waldyes نے ایک ایسے نظام میں آزاد میڈیا کے حق میں آواز بلند کی جہاں اظہارِ رائے کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے میڈیا آزادی کے قوانین کے لیے مہم چلائی، جس کے نتیجے میں کئی نئے آزاد ادارے قائم ہوئے۔یہ سب وہ نام ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ملک میں خطرے کے باوجود وہی کیا جس کے لیے صحافت وجود میں آئی سچ بولنا، چاہے اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔ IPI اور IMS کے مطابق ان ہیروز کا انتخاب اُن کے “اخلاقی استقلال، عوامی خدمت کے جذبے، اور آزادیٔ اظہار کے غیر متزلزل یقین” کی بنیاد پر کیا گیا۔
ان اداروں کی مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں پچھلے دو سالوں میں 150 سے زائد صحافی قتل یا لاپتہ ہوئے، جبکہ 1200 سے زیادہ کو قید یا مقدمات کا سامنا ہے۔ ان اعداد و شمار نے یہ ثابت کیا ہے کہ آزادیٔ صحافت اب صرف جمہوری اصول نہیں بلکہ عالمی انسانی حق بن چکی ہے۔
غزہ میں گزشتہ سال اسرائیلی حملوں کے دوران 70 سے زیادہ فلسطینی صحافی شہید ہوئے، جن میں خواتین کی نمایاں تعداد شامل تھی۔ مریم ابو دقہ ان میں ایک چمکتا ہوا نام تھیں، جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ کیمرہ بندوق سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔ ان کی قربانی نے ورلڈ پریس فریڈم ہیروز 2025ء کو ایک تاریخی رنگ دیا۔
یہ ایوارڈ صرف افراد کو نہیں بلکہ ایک نظریے کو دیا گیا ہے وہ نظریہ کہ سچ کبھی نہیں مرتا۔ انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ اور انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کی یہ کوشش انسانیت کے لیے امید کا پیغام ہے کہ اگرچہ جبر بڑھ رہا ہے، مگر سچ لکھنے والے اب بھی زندہ ہیں۔
ضرورت اب اس امر کی ہے کہ عالمی برادری صرف خراجِ تحسین پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر ایک ’’انٹرنیشنل پروٹیکشن چارٹر فار جرنلسٹس‘‘ منظور کرے، جس کے تحت جنگی علاقوں میں صحافیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کو جنگی جرم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی ہر ملک میں ’’پریس فریڈم کمیشن‘‘ قائم کیا جائے جو میڈیا اہلکاروں کی سلامتی، قانونی مدد اور نفسیاتی بحالی کے لیے ذمہ دار ہو۔
یہ ساتوں ہیرو اس بات کا ثبوت ہیں کہ آزادیٔ صحافت کوئی مغربی تصور نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی زبان ہے۔ جب قلم جھکنے سے انکار کرتا ہے تو دنیا بدل جاتی ہے۔ مریم ابو دقہ، جمی لائی، مارٹن بارون، مزیا اماگلوبیلی، گستاوو گوریتی، وکٹوریا روشچینا اور تسفالم ولدیس وہ نام ہیں جو آنے والی نسلوں کو یاد دلاتے رہیں گے کہ اندھیرے جتنے بھی گہرے ہوں، سچائی کی روشنی کبھی بجھ نہیں سکتی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*انسانیت کی کم عمر وکیل گریٹا تھنبرگ کی داستانِ حریت*
صمود فلوٹیلا سے عالمی شہرت حاصل کرنے والی گریٹا تھنبرگ نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے. گریٹا تھنبرگ کی آواز کے ساتھ پوری دنیا آواز بلند کر رہی ہے.
“Free Palestine”
صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف اور امن کا عالمی مطالبہ بن چکا ہے،جو اب ماحولیات، انسانی حقوق اور عالمی شعور کے مکالمے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
گریٹا ٹنٹن ایلونورا ایرن مین تھنبرگ
Greta Tintin Eleonora Ernman Thunberg
3 جنوری 2003 کو سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک تعلیم یافتہ اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ گھرانے میں پلی بڑھیں۔ ان کے والد سوانتے تھنبرگ ایک اداکار اور ماحولیاتی سرگرم کارکن ہیں جبکہ والدہ ملینا ارنمین عالمی شہرت یافتہ اوپرا گلوکارہ ہیں۔ ان کے والدین نے ہمیشہ معاشرتی شعور، فن اور اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا، یہی وہ فضا تھی جس نے گریٹا کی شخصیت کو بیدار اور حساس بنایا۔بچپن ہی سے گریٹا میں ایک غیر معمولی گہرائی اور مشاہدے کی صلاحیت موجود تھی۔ وہ عام بچوں کی طرح دنیا کو سطحی نظر سے نہیں دیکھتی تھیں بلکہ ہر منظر کے پس منظر میں چھپے سچ کو جاننے کی کوشش کرتی تھیں۔ آٹھ برس کی عمر میں جب انہوں نے اسکول میں ماحولیاتی تبدیلی پر ایک فلم دیکھی، تو یہ ان کی زندگی کا اہم موڑ بن گیا۔ فلم ختم ہوئی تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے ٹیچر سے کہا: “اگر یہ سب سچ ہے تو ہم اسکول کیوں جا رہے ہیں؟ ہمیں تو زمین کو بچانا چاہیے۔”
یہی سوال ان کے ذہن میں ایک مستقل اضطراب بن گیا۔ وہ سوچتی رہیں کہ انسان اتنی تباہی کے باوجود کیوں خاموش ہے۔ گریٹا آہستہ آہستہ ڈپریشن میں چلی گئیں، کھانا کم کر دیا، بولنا چھوڑ دیا، اور صرف اسی ایک موضوع پر سوچتی رہیں۔
گریٹا تھنبرگ کو بچپن میں تین نفسیاتی حالتوں کا سامنا رہا جنہوں نے ان کی شخصیت کو خاص انداز میں تراشا۔ انہیں Asperger Syndrome تھا، جو آٹزم کی ایک ہلکی قسم ہے اور اس میں انسان کا دماغ عام لوگوں سے مختلف انداز میں سوچتا اور توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ OCD (Obsessive-Compulsive Disorder) میں مبتلا تھیں، جس کے باعث وہ مخصوص خیالات یا عادتوں پر بار بار عمل کرنے پر مجبور ہو جاتی تھیں۔ علاوہ ازیں، انہیں Selective Mutism بھی تھا، یعنی وہ کچھ خاص مواقع پر بات نہیں کر پاتی تھیں، مگر جب ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر بولنے کا وقت آیا تو وہ خاموشی توڑ کر دنیا کی سب سے توانا آواز بن گئیں۔
گریٹا نے اس کیفیت کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت قرار دیا۔ ان کے الفاظ میں: “میں دنیا کو مختلف زاویے سے دیکھتی ہوں، شاید اسی لیے میں وہ محسوس کرتی ہوں جو دوسروں کو نظر نہیں آتا۔”
2018 میں جب وہ محض پندرہ برس کی تھیں، انہوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا اور سویڈن کی پارلیمنٹ کے باہر ایک بینر کے ساتھ بیٹھی نظر آئیں جس پر سویڈش زبان میں لکھا تھا: “Skolstrejk för klimatet” یعنی “ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اسکول ہڑتال”۔ ابتدا میں کوئی نہیں رکا، چند لوگوں نے تصویریں کھینچیں، لیکن ان کے عزم نے آہستہ آہستہ توجہ حاصل کی۔ ان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور جلد ہی یہ علامتی احتجاج ایک عالمی تحریک میں بدل گیا۔
گریٹا کی تحریک کو “Fridays for Future” کے نام سے شہرت ملی۔ دنیا کے مختلف ممالک کے لاکھوں نوجوان ہر جمعہ کو اسکول چھوڑ کر ماحولیاتی انصاف کے لیے مظاہرے کرنے لگے۔ گریٹا نے نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ زمین ان کی میراث ہے اور اگر انہوں نے خاموشی اختیار کی تو آنے والی نسلیں انہیں معاف نہیں کریں گی۔اسی دوران گریٹا کو مختلف ماحولیاتی کانفرنسوں میں مدعو کیا جانے لگا۔ وہ سائنس دانوں کے ساتھ مباحثوں میں شریک ہوئیں اور اعداد و شمار کے ذریعے دنیا کے رہنماؤں کو آئینہ دکھانے لگیں۔ ان کی گفتگو میں جذبات کے ساتھ سائنسی بنیاد بھی ہوتی تھی، جس نے ان کی بات کو مستند اور ناقابلِ تردید بنا دیا۔2019 میں گریٹا تھنبرگ نے اپنی سب سے تاریخی تقریر اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی اجلاس میں کی۔ وہ غصے، دکھ اور سچائی کے امتزاج کے ساتھ بولیں:
“آپ نے ہمارے خواب چرا لیے۔ خالی وعدے کرتے رہے جبکہ زمین جل رہی ہے۔ لوگ مر رہے ہیں، جانور ناپید ہو رہے ہیں، اور آپ صرف معیشت کی بات کرتے ہیں۔ کیسے جرات ہوئی آپ کو!”
یہ الفاظ عالمی ضمیر پر ضربِ کاری ثابت ہوئے۔ ان کی آواز ایک معصوم مگر پرعزم نسل کی چیخ بن گئی۔
یہ تقریر محض الفاظ نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑ تھی۔ اس کے بعد اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور مختلف ممالک میں ماحولیاتی پالیسیوں پر بحث تیز ہو گئی۔ نوجوانوں نے گریٹا کو اپنا ترجمان مان لیا۔ ان کی تصویر احتجاجی بینروں پر چھپنے لگی، اسکولوں کے نصاب میں ان کے اقتباسات شامل کیے گئے، اور ان کا نام امن و انصاف کی علامت کے طور پر ابھرنے لگا۔
اسی سال ٹائم میگزین نے انہیں “Person of the Year” قرار دیا، اور وہ یہ اعزاز پانے والی سب سے کم عمر شخصیت بنیں۔ انہیں Right Livelihood Award، Amnesty Ambassador of Conscience Award، اور کئی دیگر عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ بین الاقوامی سیاستدانوں کے ساتھ گفتگو کرتی نظر آئیں مگر ہمیشہ عوام کی زبان میں بولیں۔ ان کا کہنا تھا:
“میں سیاست نہیں کرتی، میں سائنس کی بات کرتی ہوں۔ اگر سچ سیاست بن گیا ہے تو یہ دنیا کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔”
گریٹا تھنبرگ کی تحریک نے محض اسکول کے طلبہ تک محدود رہنے کے بجائے عالمی سیاسی نظام کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ ان کے ایک اکیلے احتجاج نے “فرائیڈیز فار فیوچر” کو ایک بین الاقوامی تحریک بنا دیا، جس میں لاکھوں نوجوانوں نے حصہ لیا۔ جرمنی، فرانس، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور جاپان میں طلبہ اسکول چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ وہ نسل تھی جو پہلی بار کہہ رہی تھی کہ مستقبل ہمارا ہے، لہٰذا فیصلے بھی ہمارے ہونے چاہییں۔
گریٹا نے سوشل میڈیا کو ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ان کے ٹوئٹس اور تقاریر چند گھنٹوں میں عالمی سطح پر ٹرینڈ بن جاتے۔ وہ سیاسی لیڈروں، کارپوریٹ کمپنیوں اور اداروں سے براہِ راست سوال کرتی تھیں۔ ان کی یہ بے خوفی ہی ان کا سب سے بڑا ہتھیار تھی۔ انہوں نے واضح کہا:
“ہم وہ نسل ہیں جسے آپ نے مایوس کیا۔ مگر ہم وہ نسل بھی ہیں جو دنیا بدل سکتی ہے۔”
دوسری طرف، گریٹا کو سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بعض ماہرینِ معیشت نے انہیں “ناسمجھ” قرار دیا اور کہا کہ ان کے مطالبات صنعتی ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طنزیہ کہا، “گریٹا کو اپنے غصے پر قابو پانے کی ضرورت ہے، وہ ایک خوش بچی ہونی چاہیے۔” اس پر گریٹا نے اسی طنز کو اپنے ٹوئٹر پروفائل پر درج کر کے اسے مزاحمت کی علامت بنا دیا۔
چین، روس، اور برازیل جیسے ممالک کے حکمرانوں نے بھی انہیں “امپیریل ازم کا نیا چہرہ” کہا، مگر حقیقت یہ تھی کہ گریٹا نے کسی سیاسی طاقت یا سرحد کی پرواہ کیے بغیر انسانیت کی بات کی۔ وہ ہمیشہ کہتی رہیں: “اگر ہم سب اپنے اپنے مفاد کے لیے زمین کاٹتے رہے تو ایک دن یہ زمین ہمیں کاٹ دے گی۔”
گریٹا کی تحریک نے ماحولیاتی شعور کو انسانی اخلاقیات سے جوڑ دیا۔ وہ کہتی تھیں کہ ماحولیاتی انصاف دراصل سماجی انصاف ہے۔ ان کے نزدیک غربت، پناہ گزینی، بھوک اور موسمی تباہی سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ یہی سوچ انہیں فلسطین کے معاملے تک لے آئی۔2024 میں جب غزہ پر اسرائیلی بمباری نے انسانی تاریخ کے ضمیر کو ہلا دیا، تو گریٹا نے کھل کر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔ انہوں نے سویڈن کے شہر مالمو میں مظاہرے کے دوران بینر اٹھایا جس پر لکھا تھا: “Stand with Gaza, Stand for Humanity.” اس لمحے انہوں نے اپنی ماحولیاتی تحریک کو ایک نئے انسانی زاویے سے جوڑ دیا۔
ان کے اس موقف نے مغرب میں شدید ردِعمل پیدا کیا۔ اسرائیلی حکومت نے ان پر “یکطرفہ پروپیگنڈا” پھیلانے کا الزام لگایا، جبکہ کئی مغربی میڈیا اداروں نے ان کے بیانات کو “سیاسی مداخلت” قرار دیا۔ مگر دنیا کے بیشتر نوجوانوں نے گریٹا کے اس قدم کو سچائی کی علامت کے طور پر دیکھا۔ ان کے جلسوں میں اب نہ صرف “Save the Planet” کے نعرے لگتے بلکہ “Save Humanity” کی صدائیں بھی بلند ہوتی تھیں۔
گریٹا نے ایک بیان میں کہا:
“زمین کو بچانا ممکن نہیں جب ہم انسانوں کو مرنے دیتے ہیں۔ اگر ہم واقعی انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں ہر وہ آواز سننی ہوگی جو دبائی جا رہی ہے۔”
یہ الفاظ صرف فلسطین کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھے۔
انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ اشتراک کیا۔ اسکینڈے نیوین ممالک کے کئی کارکنان نے ان کے ساتھ مل کر “Climate and Peace Coalition” بنائی، جس کا مقصد ماحولیاتی اور انسانی بحرانوں کو مشترکہ تناظر میں دیکھنا تھا۔
اس دوران گریٹا کو کئی دھمکیاں بھی ملیں۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نفرت انگیز پیغامات کی بھرمار ہونے لگی۔ لیکن ان کا ردِعمل ہمیشہ پرسکون اور باوقار رہا۔ انہوں نے کہا:
“مجھے خاموش کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ میں اکیلی نہیں، میں وہ آواز ہوں جو ہر نوجوان کے دل میں گونج رہی ہے۔”
یہ وہ وقت تھا جب گریٹا کی شناخت صرف “ماحولیاتی کارکن” کی نہیں رہی بلکہ وہ عالمی ضمیر کی علامت بن چکی تھیں۔ ان کے جلسوں میں ماحول، انصاف، امن اور مساوات کے نعروں کا امتزاج نظر آتا۔ ان کی مقبولیت اب محض ایک تحریک نہیں بلکہ ایک فلسفہ بن چکی تھی وہ فلسفہ جس میں انسان اور فطرت کو ایک ہی زنجیر میں جکڑا ہوا تصور کیا گیا۔
گریٹا کے بارے میں ایک معروف سویڈش اخبار نے لکھا:
“وہ ہمیں بتاتی ہے کہ سچ بولنے کے لیے طاقت کی ضرورت نہیں، صرف نیت کی سچائی کافی ہے۔”
2024 کے اواخر میں جب غزہ پر اسرائیلی حملے جاری تھے اور انسانی امداد روک دی گئی تھی، تب ایک بین الاقوامی تنظیم نے “صمود فلوٹیلا” کے نام سے ایک جہاز تیار کیا جو مختلف ممالک کے امدادی کارکنان کے ساتھ غزہ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ اس قافلے میں انسانی حقوق کے کارکن، ڈاکٹروں، اساتذہ، مذہبی نمائندوں اور امن کے داعیوں کے ساتھ ایک حیران کن نام بھی شامل ہوا. گریٹا تھنبرگ۔
گریٹا نے اس سفر کا اعلان کرتے ہوئے کہا:
“میں زمین کے ساتھ ساتھ انسانیت کے لیے بھی بولتی ہوں۔ اگر سمندر کی لہریں بھی خاموش نہیں تو میں کیسے رہوں؟”
ان کے اس فیصلے نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے اسے “گرین ایجنڈا سے انسانی ضمیر تک کا سفر” قرار دیا۔ ان کے ساتھ ناروے، اسپین، ترکی اور اٹلی کے کارکن بھی شریک تھے۔ ان کا مقصد کسی سیاسی تصادم کے بجائے انسانیت کی خدمت تھا وہ صرف ادویات، پانی اور خوراک لے جا رہے تھے۔
مگر اسرائیلی بحریہ نے بحیرۂ روم میں داخل ہوتے ہی فلوٹیلا کو روک لیا۔ اسرائیلی کمانڈوز نے کشتی پر چڑھائی کی اور تمام کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ دنیا بھر کے نیوز چینلز پر وہ مناظر نشر ہوئے جن میں گریٹا کو ہاتھوں میں زنجیریں ڈالے اسرائیلی فوجیوں کے درمیان لے جایا جا رہا تھا۔ یہ منظر انسانی ضمیر کے لیے ایک سوال بن گیا۔
سویڈن کی حکومت نے فوری طور پر اسرائیل سے وضاحت طلب کی۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق امدادی مشن کو روکنا غیر قانونی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے “Free Greta” کے نعرے کے ساتھ قرارداد پیش کی۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ #FreeGreta گھنٹوں میں دنیا بھر میں ٹرینڈ کرنے لگا۔ لاکھوں لوگوں نے احتجاجی پوسٹس کیں اور فلوٹیلا کے شرکا کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔
قید کے دوران گریٹا نے، جیسا کہ بعد میں بتایا گیا، اپنے رفقا کے ساتھ روزانہ نمازِ خاموشی ادا کی، جس میں وہ تمام جنگ زدہ بچوں کے لیے دعا کرتی تھیں۔ ایک اسرائیلی جریدے نے لکھا کہ “یہ لڑکی فولاد کے حوصلے رکھتی ہے۔ اس نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، حتیٰ کہ قید کی تنہائی میں بھی۔”
تین دن بعد جب بین الاقوامی دباؤ بڑھا تو اسرائیل نے تمام غیر ملکی کارکنان کو رہا کر دیا۔ گریٹا کو رہائی کے بعد ترکی کے شہر انطاکیہ میں میڈیا نے گھیر لیا۔ ان کے چہرے پر تھکن تھی مگر لہجے میں یقین کی حرارت باقی تھی۔ انہوں نے مختصر مگر تاریخی الفاظ میں کہا:
“میں قید میں تھی، مگر میرا ضمیر آزاد رہا۔ اگر ایک بچی کی آواز آپ کو خوفزدہ کر سکتی ہے، تو سمجھ لیں سچائی زندہ ہے۔”
اس بیان نے عالمی میڈیا کو جھنجھوڑ دیا۔ یورپ بھر میں ہزاروں لوگوں نے ان کی حمایت میں مظاہرے کیے۔ امریکی جامعات میں طلبہ نے “From Climate to Conscience” کے عنوان سے پروگرام ترتیب دیے۔ وہیں مشرقِ وسطیٰ میں انہیں “آوازِ حریت” کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ فلسطینی تنظیموں نے ان کے لیے خصوصی پیغام جاری کیا کہ “گریٹا نے ثابت کر دیا کہ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں۔”
رہائی کے بعد گریٹا نے ایک عالمی پریس کانفرنس میں کہا:
“زمین کو درختوں سے نہیں، انسانوں سے خطرہ ہے۔ جب تک ہم ظلم کے خلاف نہیں بولیں گے، ماحولیاتی انصاف ممکن نہیں۔”
یہ الفاظ ان کے نظریے کا نچوڑ تھے۔ انہوں نے ماحولیاتی اور انسانی ضمیر کے درمیان وہ رشتہ جوڑا جو شاید جدید سیاست بھلا چکی تھی۔فلوٹیلا واقعے کے بعد گریٹا نے اپنی تحریک کو نئی سمت دی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب “Fridays for Future” کا دائرہ صرف ماحول نہیں بلکہ امن اور انصاف کے ہر شعبے تک پھیلے گا۔ وہ کہتی ہیں: “ہم صرف کاربن نہیں بلکہ ظلم کے خلاف بھی آواز اٹھائیں گے۔” ان کے اس موقف نے انہیں ایک عالمی اخلاقی اتھارٹی بنا دیا۔
کئی ماہرین نے انہیں “Human Ecology Activist” کہا، یعنی وہ شخصیت جو انسان اور فطرت کے درمیان بگڑتے توازن کو ایک ہی عدسے سے دیکھتی ہے۔ سویڈن، ناروے، اور کینیڈا کی جامعات میں ان کے فلسفے پر تحقیقی مقالات لکھے جانے لگے۔
آج گریٹا تھنبرگ نہ صرف نوجوان نسل کی ترجمان ہیں بلکہ وہ اس دور کی علامت بن چکی ہیں جس میں سچ بولنا ہی سب سے بڑی بغاوت ہے۔ انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ “ضمیر کی طاقت حکومتوں سے بڑی ہوتی ہے۔” ان کی جدوجہد یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک شخص، چاہے وہ ایک اسکول کی بچی ہی کیوں نہ ہو، دنیا کے ضمیر کو جگا سکتا ہے۔
صمود فلوٹیلا کا واقعہ ان کی زندگی میں محض ایک باب نہیں بلکہ ان کے نظریے کی تکمیل تھا۔ وہ بچی جو کبھی اسکول کے باہر ماحولیاتی انصاف کے لیے تنہا کھڑی تھی، اب عالمی طاقتوں کے سامنے انسانیت کی وکیل بن چکی تھی۔ ان کا سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل قوت نہ دولت میں ہے، نہ طاقت میں، بلکہ سچ بولنے کے حوصلے میں ہے۔
یوں گریٹا تھنبرگ کی زندگی ایک مکمل داستان ہے.
پیدائش کی حساسیت سے اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں کی گونج تک،
ماحولیاتی بیداری سے انسانی ضمیر کی قیادت تک،
اور آخرکار فلوٹیلا کی لہروں سے گزر کر عالمی مزاحمت کی علامت بننے تک۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ *
* اکتوبر 5 اساتذہ کا عالمی دن عظمت معلم کو خراجِ تحسین*
اکتوبر5 عالمی یومِ اساتذہ 2025 دنیا بھر کے اساتذہ کی خدمات کو تسلیم کرنے اور ان کی قدردانی کا دن ہے۔ یہ موقع اس بات کا جشن منانے کا ہے کہ اساتذہ کس طرح معاشرے پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، طلبہ کو کامیابی کے لیے ضروری مہارتیں، علم اور اقدار فراہم کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ معیاری تعلیم کس قدر اہم ہے اور اسے یقینی بنانے میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ورلڈ ٹیچرز ڈے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جو اپنی محنت اور لگن سے مستقبل کو سنوارتے ہیں، علم بانٹتے ہیں اور نئی نسل کے ذہنوں کو جِلا بخشتے ہیں۔ یہ عالمی دن اُن انمول خدمات کو تسلیم کرتا ہے جو اساتذہ نسل در نسل ادا کرتے آئے ہیں۔

اس دن کی ابتدا 1994 میں ہوئی جب یونیسکو نے اسے باضابطہ طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ مقصد یہ تھا کہ 1966 میں بین الاقوامی سطح پر طے پانے والے ILO/UNESCO Recommendation کو یاد دلایا جائے، جس میں اساتذہ کے حقوق، فرائض اور پیشہ ورانہ تربیت کے اصول متعین کیے گئے تھے۔ وقت کے ساتھ اس دن کی اہمیت میں اضافہ ہوا کیونکہ دنیا کو یہ احساس ہونے لگا کہ اگر تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہے تو سب سے پہلے استاد کو بااختیار اور باعزت بنانا ہوگا۔ آج یہ دن 100 سے زائد ممالک میں عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
ہر سال اس دن کی ایک تھیم مقرر کی جاتی ہے جو تعلیمی چیلنجز اور اساتذہ کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔ 2025 کے لیے یونیسکو نے جو تھیم منتخب کی ہے وہ ہے: “Recasting teaching as a collaborative profession”۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تدریس کو ایک انفرادی ذمہ داری کے بجائے ایک اجتماعی اور باہمی تعاون پر مبنی پیشہ سمجھا جائے۔ یعنی تعلیم صرف استاد اور شاگرد کے درمیان تعلق نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ کاوش ہے، جس میں والدین، تعلیمی ادارے، حکومتیں اور کمیونٹیز سب شریک ہیں۔ اس تھیم کے ذریعے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے تعلیم میں تنوع، جدت اور اشتراک لازمی ہے۔یونیسکو کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 44 ملین اساتذہ مختلف تعلیمی سطحوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود مزید 69 ملین اساتذہ کی ضرورت ہے تاکہ 2030 تک تعلیم سب کے لیے کے ہدف کو پورا کیا جا سکے۔ اس کمی کی سب سے زیادہ شدت ترقی پذیر ممالک میں ہے جہاں نہ صرف تعلیمی وسائل کم ہیں بلکہ اساتذہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ بھی اکثر مایوس کن ہوتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں استاد کو قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ فن لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا میں استاد کی عزت اتنی زیادہ ہے کہ معاشرہ انہیں قوم کی تعمیر کا ستون مانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کا تعلیمی نظام دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر فن لینڈ میں اساتذہ کو ڈاکٹروں اور وکلاء کے برابر سماجی حیثیت حاصل ہے اور ان کے لیے سخت انتخابی عمل رکھا جاتا ہے تاکہ صرف بہترین اور باصلاحیت افراد ہی تدریس کے شعبے میں داخل ہو سکیں۔ نتیجتاً وہاں کے تعلیمی نتائج دنیا کے دیگر ممالک سے نمایاں ہیں۔اس کے برعکس پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں استاد کو عزت تو دی جاتی ہے لیکن عملی طور پر انہیں وہ مقام اور سہولتیں نہیں ملتیں جن کے وہ مستحق ہیں۔ آج بھی لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور جو بچے اسکول جاتے ہیں وہاں اکثر اساتذہ کی کمی، ناکافی تربیت اور محدود وسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق پاکستان کو اپنے تعلیمی اہداف پورے کرنے کے لیے کم از کم مزید 1.4 ملین اساتذہ درکار ہیں۔ مگر جب موجودہ اساتذہ کو بروقت تنخواہیں نہیں ملتیں، تربیتی پروگرام ناکافی ہیں اور انہیں محض ایک سرکاری ملازم سمجھا جاتا ہے تو نئی نسل کی تعلیم کا معیار کیسے بلند ہو سکتا ہے؟اساتذہ کے مسائل صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کے بڑھتے ہوئے تقاضوں نے استاد کے کردار کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب استاد کو صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ ایک رہنما، محقق، ماہر نفسیات اور ٹیکنالوجی کے ماہر کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہ سب تقاضے تبھی پورے ہو سکتے ہیں جب اساتذہ کو بھرپور تربیت، جدید سہولتیں اور پالیسی سطح پر حمایت فراہم کی جائے۔یہ حقیقت بھی ہے کہ استاد کے بغیر کوئی تحریک یا انقلاب کامیاب نہیں ہوتا۔ استاد کو محض پیشہ ور نہیں بلکہ ایک نظریاتی معمار بھی کہا جاتا ہے۔پاکستان کے تناظر میں مسائل خاصے سنگین ہیں۔ دیہی علاقوں میں اکثر اسکول محض نام کے لیے قائم ہیں جہاں نہ استاد موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی بنیادی سہولتیں۔ شہری علاقوں میں اگرچہ اسکول موجود ہیں لیکن وہاں کلاس رومز کی تعداد کم اور طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک استاد کو بسا اوقات 60 سے 70 طلبہ کو پڑھانا پڑتا ہے جو کسی بھی معیار کے لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے۔ اس کے علاوہ استاد کو اکثر غیر تدریسی کاموں جیسے مردم شماری، الیکشن ڈیوٹی یا دیگر سرکاری امور میں لگا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا اصل مقصد یعنی تعلیم متاثر ہوتا ہے۔اس وقت سندھ میں اساتذہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صوبائی حکومت نے پینشن اصلاحات متعارف کروائی ہیں جن کے تحت سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی پینشن اور مراعات میں کمی کر دی گئی ہے۔اس لیے سندھ کے کئی شہروں میں تدریسی عمل رکا ہوا ہے اور تعلیمی عمل متاثر ہو رہا ہے. اساتذہ نے درس گاہوں کی تالا بندی کر دی ہے. اساتذہ احتجاجی دھرنوں میں شریک ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو رہا ہے اور تعلیم کا حرج ہو رہا ہے مگر حکومت تاحال ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔اساتذہ کے عالمی دن کا اصل پیغام یہی ہے کہ جب تک استاد کو اس کا مقام اور سہولتیں نہیں ملتیں تب تک کسی قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ معاشرتی سطح پر بھی ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ استاد کو صرف ایک سرکاری ملازم یا محدود کردار سمجھنے کے بجائے ایک قومی سرمایہ سمجھا جائے۔ والدین اور طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ استاد کا احترام کریں اور انہیں وہ عزت دیں جو ان کا حق ہے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ استاد کی مثبت مثالوں کو اجاگر کرے تاکہ معاشرے میں استاد کے وقار کو بلند کیا جا سکے۔اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سمیت تمام ممالک اساتذہ کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ سب سے پہلے تو اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شفاف بھرتی کا عمل اپنایا جائے تاکہ بہترین دماغ تدریس کے شعبے میں آئیں۔ دوسرا، اساتذہ کی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ وہ ٹیکنالوجی اور بدلتے نصاب کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ تیسرا، اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ مالی مشکلات کے بجائے پوری توجہ تعلیم پر مرکوز کر سکیں۔ چوتھا، اساتذہ کو غیر تدریسی ذمہ داریوں سے بچایا جائے تاکہ وہ اپنے اصل مقصد یعنی تعلیم و تدریس پر توجہ دے سکیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ معاشرے میں استاد کی عزت کو ایک عملی حقیقت بنایا جائے نہ کہ محض زبانی دعویٰ۔
یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ استاد ایک ایسا چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔ اگر ہم نے استاد کو نظر انداز کیا تو ہماری نسلیں اندھیروں میں بھٹکتی رہیں گی، لیکن اگر ہم نے استاد کو اس کا مقام دے دیا تو کوئی طاقت ہماری ترقی کو روک نہیں سکے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتیں، ادارے، والدین اور طلبہ سب مل کر اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اپنے عظیم مشن کو پورے وقار کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ یہی اس دن کا سب سے بڑا پیغام اور سب سے بڑی ضرورت ہے۔سندھ حکومت اساتذہ کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے پر غور کرے تاکہ تعلیمی تسلسل برقرار رہے.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*سیاحت کا عالمی پاکستان میں سیاحت کے مواقع*
سیاحت روح کی غذا ہے جس کی وجہ سے صحت تندرست اور توانا رہتی ہے. انسان ازل سے اپنی فطرت میں جستجو اور تلاش کا خوگر ہے۔ نئے مناظر دیکھنے، انجان زمینوں پر قدم رکھنے اور اجنبی ثقافتوں کو جاننے کی خواہش نے انسان کو سیاحت کی طرف مائل کیا۔ کبھی یہ سفر ضرورت کے تحت ہوا کرتے تھے، کبھی تجارت اور کبھی فتوحات کی غرض سے، مگر رفتہ رفتہ انسان نے سفر کو محض تفریح اور ذاتی تسکین کے لیے اختیار کرنا شروع کیا۔ یہی شوق رفتہ رفتہ ایک منظم شعبے میں ڈھل گیا جسے ہم آج سیاحت کے نام سے جانتے ہیں۔سیاحت دراصل انسان کے اس سفر کا نام ہے جس میں وہ عارضی طور پر اپنی رہائش گاہ سے نکل کر کسی اور علاقے، شہر یا ملک میں قیام کرتا ہے اور وہاں کے مناظر، ماحول، رسم و رواج، تاریخی ورثے اور ثقافتی اقدار سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس تعریف کے اندر تفریحی سیاحت، تاریخی و ثقافتی مقامات کی سیاحت، مذہبی زیارت، ماحولیاتی یا ایکو ٹورزم، اور طبی سیاحت سب شامل ہیں۔ مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ زندگی کے روزمرہ دباؤ سے نکل کر سکون اور تازگی حاصل کی جائے اور ساتھ ساتھ نئی چیزوں کا تجربہ کیا جائے۔دنیا بھر میں سیاحت کو ایک صنعت کی حیثیت حاصل ہے اور اسی صنعت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 27 ستمبر کو سیاحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس تاریخ کو منتخب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ 1970 میں اسی دن اقوام متحدہ کی عالمی سیاحت تنظیم (UNWTO) کے آئین کی منظوری دی گئی تھی اور پھر 1980 سے باضابطہ طور پر یہ دن منایا جانے لگا۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام، حکومتیں اور عالمی ادارے سب مل کر اس بات پر غور کریں کہ سیاحت کس طرح معیشت، ماحولیات، سماج اور ثقافت کو متاثر کرتی ہے اور کس طرح اسے بہتر انداز میں فروغ دیا جا سکتا ہے۔ہر سال اس دن کے لیے ایک تھیم مقرر کی جاتی ہے۔ 2025 کی تھیم ہے
“Tourism and Sustainable Transformation”
یعنی سیاحت اور پائیدار تبدیلی۔ اس تھیم کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ سیاحت صرف وقتی خوشی یا تفریح کا نام نہیں بلکہ یہ ایسی تبدیلی لا سکتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ماحول دوست، معیشتی طور پر مضبوط اور سماجی اعتبار سے متوازن ہو۔ اگر سیاحت کو ذمہ دارانہ طریقے سے فروغ دیا جائے تو یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے، مقامی لوگوں کی آمدنی بڑھانے، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عالمی امن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان کو قدرت نے ہر قسم کے مناظر سے نوازا ہے اور یہی تنوع اسے دنیا کے بہترین سیاحتی ممالک میں شمار کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ ہیں، ہنزہ اور گلگت بلتستان کی جھیلیں اور وادیاں ہیں، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 اور نانگا پربت جیسے فلک بوس پہاڑ ہیں۔ سوات، ناران، کاغان اور ایوبیہ کی وادیاں اپنی خوبصورتی میں بے مثال ہیں۔ آزاد کشمیر کے حسین مناظر، جھیل نیلم اور پیر چناسی کی دلکش فضائیں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ پنجاب میں لاہور کی بادشاہی مسجد، شالامار باغ، شاہی قلعہ اور کھوڑہ کی نمک کی کانیں تاریخی اور ثقافتی ورثے کی مثالیں ہیں۔ سندھ میں موہنجو داڑو کے آثار قدیمہ، مکلی کا قبرستان اور ٹھٹہ کی شاہجہانی مسجد دنیا کے تاریخی ورثے میں شامل ہیں۔ بلوچستان میں گوادر اور مکران کے ساحل، ہنگول نیشنل پارک اور کوئٹہ کے گرد و نواح قدرتی حسن کے شاہکار ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں سیاحت کی ترقی کا بے پناہ امکان موجود ہے۔

سیاحت کے فوائد بے شمار ہیں۔ معاشی لحاظ سے یہ ایک بڑی صنعت ہے جو ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ لاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور مختلف کاروباروں کو سہارا دیتی ہے۔ ایک سیاح جب کسی علاقے میں جاتا ہے تو وہ ہوٹل، ٹرانسپورٹ، کھانے پینے، خریداری اور دیگر خدمات پر خرچ کرتا ہے، یوں مقامی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ سماجی اور ثقافتی لحاظ سے سیاحت لوگوں کو ایک دوسرے کی تہذیب اور رسوم سے واقف کرتی ہے، برداشت اور ہم آہنگی پیدا کرتی ہے، اور مقامی ورثے کو محفوظ رکھنے کی تحریک دیتی ہے۔ ماحولیاتی حوالے سے اگر سیاحت پائیدار انداز میں کی جائے تو یہ جنگلات اور حیوانات کی حفاظت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، فضلہ اور آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور مقامی کمیونیٹیز کو یہ شعور دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی زمین اور ماحول کو بہتر طور پر محفوظ رکھیں۔پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے تو امن و امان کی صورتحال بہتر ہونی چاہیے تاکہ بیرونی اور اندرونی سیاح بلا خوف و خطر گھوم سکیں۔ اس کے بعد انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جیسے سڑکیں، ہوائی سفر، ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز، کیمپنگ سائٹس اور انٹرنیٹ کی سہولت۔ سیاحتی مقامات پر رہنمائی کے لیے معلوماتی بورڈ، بروشرز اور ایپس فراہم کی جائیں۔ دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے تشہیری مہم چلائی جائے، ڈاکومنٹریز بنائی جائیں اور سفری بلاگرز کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جائے۔ مقامی کمیونٹیز کو سیاحت کے عمل میں شامل کرنا بھی بہت ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف روزگار کما سکیں بلکہ اپنی ثقافت اور روایات پر بھی فخر کریں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ماحولیاتی تحفظ پر خاص توجہ دی جائے تاکہ قدرتی مناظر کو نقصان نہ پہنچے۔سیاحتی مقامات پر جانے کے لیے دن اور موسم کا انتخاب بھی اہم ہے۔ شمالی علاقے گرمیوں میں یعنی جون سے ستمبر تک زیادہ موزوں ہیں جبکہ ساحلی علاقے معتدل موسم میں بہترین تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ عام طور پر ہفتے کے درمیانی دن سیاحت کے لیے بہتر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ چھٹی والے دن رش زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح موسم بہار اور خزاں زیادہ خوشگوار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ البتہ بارش یا برفباری کے دنوں سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ مشکلات سے بچا جا سکے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سیاحت نہ صرف تفریح اور سکون کا ذریعہ ہے بلکہ یہ معیشت کو سہارا دینے، معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرنے اور ماحول کو بہتر رکھنے کا بھی ایک موثر وسیلہ ہے۔ پاکستان کے پاس دنیا کو دکھانے کے لیے ہر وہ چیز موجود ہے جو کسی سیاح کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں، منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کے ذریعے اس شعبے کو منظم کریں۔ اگر حکومت، نجی شعبہ اور عوام سب مل کر کوشش کریں تو پاکستان دنیا کے بڑے سیاحتی ممالک میں شمار ہو سکتا ہے اور یہ صنعت نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر کرے گی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی
حیدرآباد سندھ پاکستان *
*امن کا عالمی دن انسانیت کی بقا اور پائیدار ترقی کا راستہ*
دنیا میں نفرتوں اور جنگوں کے پر آشوب دور اور اندھیروں میں سب سے قیمتی چیز جو انسانیت کو سکون، تحفظ اور خوشحالی دے سکتی ہے وہ امن ہے۔ امن محض جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کے سکون، معاشرتی ہم آہنگی، معاشی استحکام اور انسانی وقار کے احترام کا دوسرا نام ہے۔ جب انسانوں کے درمیان محبت، برداشت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو تو یہی اصل امن کہلاتی ہے۔ امن کے بغیر ترقی ناممکن ہے اور خوشحالی محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں رہنے والا شخص خواہ کسی بھی رنگ، نسل، مذہب یا زبان سے تعلق رکھتا ہو، امن کی خواہش کرتا ہے کیونکہ امن ہی وہ واحد صورت ہے جو زندگی کو جینے کے قابل بناتی ہے۔امن کی تعریف کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے صرف ایک لفظ یا حالت نہ سمجھیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات تسلیم کریں۔ امن کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں افراد کے درمیان تعلقات خوشگوار ہوں، اختلافات کو بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کیا جائے، تشدد، نفرت اور تعصب کو ختم کیا جائے اور انصاف و برابری کو فروغ دیا جائے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص اپنی جان و مال، عزت و آبرو کے حوالے سے مطمئن ہو، جہاں کوئی بھی انسان خوف، جبر اور استحصال کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہو، یہی حقیقی امن ہے۔ امن کا مطلب صرف ریاستوں کے درمیان جنگ بندی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر شخص کو اپنے حقوق ملیں، معاشی اور سماجی انصاف قائم ہو، تعلیم اور صحت کی سہولیات سب کو میسر ہوں اور انسانیت کو بلا امتیاز قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
امن کے عالمی دن کا پس منظر بھی اسی سوچ کا عکاس ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1981 میں منانے کا فیصلہ کیا تاکہ دنیا بھر میں جنگوں کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے شعور اجاگر کیا جا سکے۔ بعدازاں 2001 میں اس دن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے یہ قرار دیا گیا کہ اسے ہر سال 21 ستمبر کو منایا جائے گا اور یہ دن دنیا بھر میں تشدد سے اجتناب اور صلح و آشتی کی کوششوں کے لیے مخصوص ہوگا۔ اس دن کا مقصد حکومتوں، اداروں اور عام انسانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ امن صرف ریاستی پالیسیوں سے نہیں بلکہ ہر شخص کے رویے اور کردار سے جڑا ہوا ہے۔ اگر انفرادی سطح پر برداشت اور رواداری کو اپنایا جائے تو اجتماعی طور پر دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
دنیا کے ہر خطے میں یہ دن نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ ہر سال اقوام متحدہ اس دن کے لیے ایک مخصوص تھیم تجویز کرتی ہے تاکہ امن کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا سکے۔ یہ تھیم نہ صرف عالمی رہنماؤں کے لیے ایک رہنمائی فراہم کرتی ہے بلکہ عام انسانوں کو بھی اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے رویوں میں کس طرح مثبت تبدیلی لا کر امن کے فروغ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 2025 میں اس دن کی تھیم ہے: “Act Now for a Peaceful World”۔ اس تھیم کا مقصد یہ ہے کہ امن کے قیام کے لیے باتوں یا وعدوں سے آگے بڑھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ دنیا کے موجودہ مسائل مثلاً مسلح تنازعات، ماحولیاتی بحران، غربت، دہشت گردی اور معاشرتی ناہمواریوں کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ تھیم اس امر پر زور دیتی ہے کہ امن صرف سرحدوں کی حفاظت یا جنگ کے نہ ہونے سے ممکن نہیں بلکہ یہ تبھی قائم ہو سکتا ہے جب دنیا بھر میں مساوات، انصاف، احترامِ انسانیت اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جائے۔تھیم کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امن کو موجودہ دور میں نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر رہی ہیں، غربت اور بھوک کروڑوں افراد کے لیے زندگی کو اجیرن بنا رہی ہیں، طاقت کے حصول کی جنگیں دنیا کو ایک بار پھر تباہی کی دہلیز پر لا کھڑا کر رہی ہیں۔ ایسے میں امن قائم کرنے کے لیے صرف باتوں پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ تھیم یہ پیغام دیتی ہے کہ دنیا کو یکجہتی، تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے سے سرشار ہو کر امن کے خواب کو حقیقت بنانا ہوگا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے امن کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امن محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے، اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے عالمی برادری کو نفرت انگیز بیانیوں، نسل پرستی، شدت پسندی اور غیر مساوی معاشی نظام کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ امن کے بغیر ترقی کا کوئی راستہ نہیں، امن کے بغیر انصاف ممکن نہیں اور امن کے بغیر انسانی حقوق محض کھوکھلے نعرے ہیں۔ ان کا پیغام دراصل دنیا بھر کے انسانوں کے لیے ایک عہد ہے کہ وہ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر یکجہتی، برداشت اور بھائی چارے کو اپنائیں تاکہ آئندہ نسلوں کو ایک پرامن دنیا وراثت میں مل سکے۔امن قائم کرنے کے لیے دنیا کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر کئی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ تعلیم کو فروغ دیا جائے، کیونکہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو شعور، برداشت، رواداری اور دوسرے کے حقوق کے احترام کا سبق دیتی ہے۔ جب معاشرے کے افراد تعلیم یافتہ ہوں گے تو وہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔ غربت اور بے روزگاری وہ عوامل ہیں جو افراد کو انتہا پسندی اور تشدد کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر معاشرے میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور دولت کی منصفانہ تقسیم ہو تو امن کے قیام کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔عالمی سطح پر ضروری ہے کہ طاقتور ممالک چھوٹے اور کمزور ممالک پر اپنے سیاسی و معاشی دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کے ساتھ تعاون کریں۔ انصاف پر مبنی عالمی نظام کے بغیر امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی کہ وہ نفرت انگیز بیانیوں کو فروغ دینے کے بجائے امن، بھائی چارے اور رواداری کے پیغامات عام کرے۔ مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو شدت پسندی کے بجائے اعتدال پسندی کا درس دیں۔ نوجوانوں کو امن کے سفیر بنایا جائے تاکہ وہ اپنی توانائی مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں اور دنیا میں محبت و بھائی چارے کا پیغام عام کریں۔اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین معاشروں میں امن کے فروغ کے لیے سب سے اہم قوت ہیں کیونکہ وہ نسلوں کی پرورش کرتی ہیں اور گھر کے ماحول کو سکون و محبت سے بھر سکتی ہیں۔ اگر خواتین کو بااختیار بنایا جائے، ان کی تعلیم اور صحت کا خیال رکھا جائے اور ان کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے تو معاشرے میں امن کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح بچے مستقبل کے معمار ہیں، ان کو چھوٹی عمر سے ہی برداشت، رواداری اور امن کی تعلیم دینا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں نفرت اور تشدد سے دور رہیں۔امن کا قیام صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ دنیا میں جاری تنازعات جیسے فلسطین اور کشمیر کی صورت میں ہم دیکھتے ہیں کہ انصاف نہ ہونے کی وجہ سے بدامنی اور جنگیں مسلسل جاری ہیں۔ جب تک مظلوم قوموں کو ان کے جائز حقوق نہیں دیے جاتے، تب تک دنیا حقیقی امن سے محروم رہے گی۔ اس لیے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو انصاف پر مبنی فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ ایسے تنازعات ختم ہوں اور انسانیت کو سکون مل سکے۔بھارت اور اسرائیل خطہ میں دہشت گردی چھوڑیں اور مسئلہ کشمیر اور فلسطین میں امن قائم کرنے اور ان کے حل کے لیے مثبت اقدامات کریں. بھارت اور اسرائیل کھلی جارحیت اور بربریت کر رہے ہیں. معصوم بیگناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں.
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر فرد اپنی سطح پر امن قائم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔ اگر ہر شخص اپنے گھر، اپنے محلے اور اپنے شہر میں نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دے، اگر اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے تو دنیا خود بخود امن کی طرف بڑھنے لگے گی۔ یہ ایک اجتماعی سفر ہے جس میں ہر انسان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
امن کا عالمی دن صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ دراصل ایک مستقل یاد دہانی ہے کہ امن انسانیت کی بقا کے لیے سب سے اہم ہے۔ جب تک دنیا کے ہر کونے میں مساوات، انصاف، برداشت اور بھائی چارے کی فضا قائم نہیں ہوتی تب تک حقیقی امن ممکن نہیں۔ اس لیے یہ دن ہم سب کو اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگیاں امن کے فروغ کے لیے وقف کریں گے اور آنے والی نسلوں کو ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال دنیا وراثت میں دیں گے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*انسانیت کی خوشبو، انصاف کا چراغ، رحم دل جج، انسان دوست شخصیت: فرینک کیپریو کا پاکستان سے رشتہ قانون کے دربار سے دلوں کے دربار تک*
انسانیت کا تعلق اچھے اخلاق، کردار اور رحمدلی سے ہے یہ مذہب، رنگ اور نسل سے بالاتر ہے. تاریخ گواہ ہے کہ جو انسانیت کی بقا اور فلاح وبہبود کے لیے کام کرتے ہیں انہیں ہمیشہ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جاتا ہے . ایسی ہی ہر دلعزیز رحمدل شخصیت قانون کا داعی عدل و انصاف کے علمبردار کروڑوں کی دھڑکن دنیا بھر میں مقبول جج فرینک کیپریو تھے. روزنامہ جرات اپنے معذز قارئین کے لیے ان کی انسان دوست شخصیت اور ان کی پیشہ ورانہ خدمات پر خصوصی خراجِ تحسین پیش کر رہا ہے. ’دُنیا کے سب سے اچھے جج‘ فرینک کیپریو: عدالت میں ’رحمدلی کی علامت‘ جو پاکستان میں بھی مشہور تھے.دنیا بھر میں بہت سی قانونی شخصیات نے شہرت حاصل کی، لیکن چند ہی ایسے نام ہیں جو عدالت کی چار دیواری سے نکل کر عوام کے دلوں میں گھر کر گئے۔ ان میں سے ایک نام ہے ’معزز جج فرینک کیپریو‘ کا۔ وہ صرف ایک جج نہیں تھے بلکہ ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے عدالتی کرسی پر بیٹھ کر قانون کو سختی کے بجائے انسانیت اور رحمت کا روپ دیا۔
جج فرانسیسکو “فرینک” کیپریو کی شخصیت آج کی دنیا میں عدل، رحم اور انسانیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ان کی زندگی کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ غربت اور مشکلات کے باوجود اگر محنت اور اخلاص کو اپنا شعار بنایا جائے تو دنیا میں اپنی پہچان بنائی جا سکتی ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی انتہائی سادہ تھی اور ان کا تعلق ایک محنت کش اطالوی نژاد خاندان سے تھا۔ وہ 24 نومبر 1936 کو پروویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ، امریکہ میں پیدا ہوئے۔
فرانک کیپریو کے والد کا نام
Antonio “Tup” Caprio
تھا، جو ایک اطالوی تارکِ وطن تھے، اور انہوں نے پھل اور دودھ بیچنے کا کام کیا،مزدوری بھی کی.
اور بعد ازاں انہوں نے سائیکولوجی کا مطالعہ بھی کیا، یہاں تک کہ وہ سوشل سائیکولوجی کے شعبے میں شائع شدہ مصنف بھی بن گئے.

جب کہ والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ ان کے خاندان کے حالات مالی طور پر زیادہ مستحکم نہیں تھے اور اسی وجہ سے فرینک کیپریو بچپن ہی سے محنت اور قربانی کے مفہوم کو سمجھنے لگے تھے۔ بچپن کے زمانے میں انہوں نے اپنے والد کے ساتھ مختلف چھوٹے موٹے کام بھی کیے تاکہ گھر کی آمدنی میں حصہ ڈال سکیں۔انہوں نے پروویڈنس کے پبلک اسکولوں میں تعلیم حاصل کی اور ہائی اسکول میں کشتی کے مقابلوں میں ریاستی چیمپئن بھی رہے۔فرینک کیپریو نے 1958 میں پروویڈنس کالج سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد ہوپ ہائی اسکول امریکہ میں استاد کے طور پر کام کیا۔ رات کے اوقات میں انہوں نے سوفولک یونیورسٹی اسکول آف لاء سے 1965 میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 1954 سے 1962 تک رہوڈ آئی لینڈ آرمی نیشنل گارڈ میں بھی خدمات انجام دیں۔پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انہوں نے بطور وکیل کیا اور عوامی مسائل کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے عملی کردار ادا کیا۔ ان کا انداز عام وکلاء سے مختلف تھا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ قانون صرف سزا دینے کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد لوگوں کو انصاف اور زندگی میں توازن دینا ہے۔ اسی سوچ نے ان کو جج بننے کی راہ پر ڈالا۔1985 میں فرینک کیپریو کو پروویڈنس میونسپل کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اپنی عدالتی خدمات کے دوران انسانیت اور ہمدردی کو مقدم رکھا۔ ان کے فیصلوں میں اکثر مدعا علیہ کی ذاتی حالات کو مدنظر رکھا جاتا تھا، جیسے غمزدہ والدین، بزرگ شہری، یا معذور افراد کے مقدمات میں نرمی برتنا۔ ان کی عدالت کی کارروائیوں کو ان کے بھائی جوی نے مقامی ٹیلی ویژن پروگرام کے طور پر ریکارڈ کیا، جو بعد میں
“Caught in Providence”
کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ پروگرام 2018 میں قومی سطح پر نشر ہونا شروع ہوا اور اس نے فرینک کیپریو کو عالمی سطح پر شہرت دلائی۔ یوٹیوب اور فیس بک پر ان کی ویڈیوز کے ویوز 500 ملین سے تجاوز کر چکے ہیں۔فرینک کیپریو نے 1958 میں جویس ای. کیپریو سے شادی کی، اور ان کے پانچ بچے ہیں، جن میں سے ایک، فرینک ٹی. کیپریو، رہوڈ آئی لینڈ کے خزانے کے افسر رہے ہیں۔ ان کے خاندان میں سات پوتے اور دو پڑپوتے بھی ہیں۔ ان کی زندگی کا پیغام ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنا، خاندان کو قریب رکھنا اور انسانیت کی خدمت کرنا تھا۔ ان کے بیٹے ڈیوڈ کیپریو نے ان کے آخری پیغام کو شیئر کیا جس میں انہوں نے کہا: “ایک دوسرے کا خیال رکھو، خاندان کو قریب رکھو، اور اگر تم مدد کر سکتے ہو تو دوسروں کی مدد کرو”۔
فرینک کیپریو 20 اگست 2025 کو 88 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے۔ ان کے انتقال کا اعلان ان کے اہل خانہ نے سوشل میڈیا پر کیا۔ انہوں نے لبلبے کے کینسر کے ساتھ طویل جنگ لڑی اور آخرکار اس بیماری کے باعث ان کی وفات ہوئی۔ ان کی عدالتی خدمات اور انسانیت کے لیے ان کی لگن ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
جج فرانک کیپریو نے اپنے انتقال سے صرف چند گھنٹے پہلے ویڈیو بنائی اس میں وہ بڑے نرم لہجے میں کہتے ہیں:
“پچھلے سال میں نے آپ سب سے دعا کی درخواست کی تھی، اور یہ بالکل واضح ہے کہ آپ نے دعا کی، کیونکہ میں ایک نہایت مشکل وقت سے نکل آیا تھا۔ بدقسمتی سے مجھے دوبارہ ایک مسئلہ لاحق ہو گیا ہے، میں پھر ہسپتال میں ہوں۔ اب میں ایک بار پھر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔”
یہ مختصر سا پیغام ان کی زندگی کے آخری لمحات کی جھلک تھا، جس میں بھی انہوں نے اپنی پوری شخصیت کی طرح عاجزی، محبت اور انسانیت جھلکائی۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
پوری دنیا کی عوام نے ان کے انتقال پر ملال دکھ اور افسوس کا اظہار کیا.جج کیپریو کے انتقال پر رھوڈ آئی لینڈ میں سوگ کی فضا تھی۔ عوامی اور سماجی حلقے اُن کی موت پر رنج و غم کا اظہار کر رہے تھے. رھوڈ آئی لینڈ کے گورنر ڈین میکی کے مطابق کیپریو ایک جیورسٹ سے بڑھ کر تھے۔ وہ ہمدردی اور انسان دوستی کی علامت تھے۔ اُنھوں نے ہمیں بتایا کہ انصاف کو ہمدردی کی بنیاد پر پرکھا جائے تو کیا کچھ ہو سکتا ہے۔
منیبہ مزاری نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ اس دُنیا کو جج کیپریو جیسے مزید افراد کی ضرورت ہے.
سعدیہ مظہر نامی صارف نے لکھا کہ جج کیپریو نے دُنیا کو بتایا کہ کمرہ عدالت قانون کی عمل داری سے بڑھ کر ہمدردی اور انسان دوستی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔فرینک کیپریو کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قانون کو صرف سزا دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا وسیلہ بنانا چاہیے۔ ان کی عدلیہ میں نرم دلی اور انصاف کے امتزاج نے انہیں ایک عالمی سطح پر پسندیدہ شخصیت بنا دیا۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں عدلیہ پر عوام کا اعتماد کم ہے، وہاں فرینک کیپریو کی مثال ایک مشعل راہ ہے۔
ان کے فیصلے دنیا بھر میں مقبول ہوئے کیونکہ ان میں انسانیت کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ ان کے مشہور پروگرام
“Caught in Providence”
نے عالمی سطح پر لاکھوں ناظرین کے دل جیت لیے۔ یہ پروگرام اصل میں ان کی عدالت کی کارروائیوں پر مشتمل تھا جہاں وہ عام شہریوں کے چھوٹے بڑے مقدمات سنتے اور ان پر فیصلہ صادر کرتے۔ ان کا انداز نرم خو، شگفتہ اور ہمدردانہ تھا۔ وہ ہمیشہ مدعا علیہ کی زندگی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے۔ مثلاً اگر کوئی شخص ٹریفک جرمانہ ادا کرنے کے قابل نہ ہوتا تو وہ اکثر جرمانہ کم کر دیتے یا معاف کر دیتے۔ ایک موقع پر انہوں نے ایک غریب شخص کو ٹریفک ٹکٹ سے بری کر دیا کیونکہ وہ اپنی بیمار والدہ کو اسپتال لے جا رہا تھا۔ اس طرح کے فیصلے ان کی شخصیت کو صرف ایک جج سے بڑھا کر ایک انسان دوست رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق ان کا شو
“Caught in Providence”
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کروڑوں بار دیکھا گیا ہے۔ یوٹیوب اور فیس بک پر ان کی ویڈیوز کے ویوز 500 ملین سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔ ان کا یہ اثر و رسوخ محض امریکہ تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں لوگ ان کے فیصلوں اور طرزِ گفتگو سے متاثر ہوئے۔ کئی ممالک میں ان کو عدل اور رحم دلی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں بھی ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ یہاں کے عوام ان کے اندازِ انصاف کو نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت کو اپنی اقدار کے قریب پاتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو ان کی عدالتی مثالوں میں وہ شفافیت اور خلوص دکھائی دیتا ہے جس کی انہیں اپنے معاشرتی نظام میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ان کے فیصلوں پر مبنی ویڈیوز لاکھوں مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں۔ یہاں تک کہ تعلیمی اداروں میں اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ کس طرح ایک جج اپنے منصب کو عوامی خدمت کے ساتھ جوڑ سکتا ہے۔
فرینک کیپریو خود بھی پاکستانی عوام کے جذبات سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے متعدد انٹرویوز میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے لوگ ان کے ساتھ بے حد محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کو ہمیشہ انسانیت کے ساتھ مل کر استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کی نظر میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے عدلیہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اگر عدالتی نظام کو نرم دلی اور انصاف پسندی کے ساتھ چلایا جائے تو عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ان کی عدالتی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کا سیاسی اور سماجی کردار بھی اہم ہے۔ انہوں نے پروویڈنس کی سٹی کونسل کے رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور اس حیثیت میں وہ عوامی بہبود کے منصوبوں میں پیش پیش رہے۔ ان کے کاموں میں تعلیمی اصلاحات اور عوامی سہولیات کی فراہمی نمایاں ہیں۔ وہ ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم ہی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے علاقے میں تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے اقدامات کیے۔انسانی ہمدردی ان کی شخصیت کا سب سے بڑا وصف ہے۔ ایک بار ایک معمر خاتون ان کی عدالت میں پیش ہوئی جس پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ تھا۔ خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کی بیماری کی وجہ سے تیز رفتاری پر مجبور ہوئیں۔ جج کیپریو نے نہ صرف ان کا جرمانہ معاف کیا بلکہ ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ اس طرح کے واقعات نے ان کی عدالت کو صرف قانونی فیصلوں کا مرکز نہیں بلکہ انسانیت کا مظہر بنا دیا۔
ایک کیس کی سماعت کے دوران اپنی والدہ کے ساتھ آنے والی کم سن بچی کو وہ اپنے پاس بلا لیتے ہیں اور اُس سے پوچھتے ہیں کیا کہ آپ کی والدہ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی؟ اس پر بچی جواب ہاں میں جواب دیتی ہے۔۔جس پر کمرہ عدالت میں سب قہقہے لگاتے ہیں۔جج کیپریو بھی بچی کی اس معصومانہ ادا پر فدا ہو کر اُس کی والدہ کا جرمانہ معاف کرتے ہیں۔
ایک اور کیس میں وہ ایک خاتون پر عائد ہونے والا 400 ڈالرز کا جرمانہ معاف کر دیتے ہیں جب اُنھیں یہ پتا چلتا ہے کہ مذکورہ خاتون کا ایک جواں سال بیٹا قتل ہوا تھا۔ایک اور کیس میں ایک 92 سالہ بزرگ شہری کا جرمانہ بھی وہ معاف کر دیتے ہیں، جب اُنھیں یہ علم ہوتا ہے کہ وہ اپنے 65 سالہ بیمار بیٹے کو ہسپتال لے کر جا رہے تھے۔’آپ ہی یہاں میری فیملی ہیں۔۔۔یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے، اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں۔۔ یہی امریکہ کی کہانی ہے کہ یہاں دُنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ خاندان کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں۔‘یہ امریکی ریاست رھوڈ آئی لینڈ کے شہر پراویڈنس کے چیف جج فرینک کیپریو اور امریکہ میں مقیم پاکستانی طالب علم احمد سلمان کے درمیان ہونے 2022 میں ہونے والا مکالمہ تھا جس کی ویڈیو پاکستان میں وائرل ہو گئی تھی۔
احمد سلمان کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 65 ڈالر جرمانہ ہوا، لیکن جج کیپریو نے روایتی رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احمد سلمان کا جرمانہ معاف کر دیا اور اُنھیں اپنے گھر فیملی ڈنر میں آنے کی دعوت بھی دے ڈالی۔
جج کیپریو احمد سلمان سے کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہیں اور ایک ماہ بعد اُنھیں اپنی رہائش گاہ میں فیملی ڈنر میں دعوت دیتے ہیں۔
احمد سلمان اپنے ہمراہ چکن تکہ اور دیگر پاکستانی دیسی کھانے لے کر جاتے ہیں، جنھیں جج کیپریو بہت پسند کرتے ہیں۔
اس موقع پر احمد سلمان یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’یہ ان کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ ہے۔‘
اسی طرح ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک پاکستانی جوڑے کی عدالت پیشی بھی وائرل ہو گئی تھی۔ جج کیپریو حسب روایت اُن کا جرمانہ بھی معاف کر دیتے ہیں۔ شکریے کے طور پر پاکستانی جوڑا جج کیپریو کو چترالی ٹوپی پہناتا ہے۔
رواں برس جنوری میں جج کیپریو نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اس پاکستانی جوڑے سے رابطے میں رہے اور اُنھیں اپنے گھرآنے کی دعوت دی، جہاں اس پاکستانی جوڑے نے انھیں مٹن کڑاہی بنا کر کھلائی۔
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ان کی عدالتی زندگی کے دوران ہزاروں مقدمات ان کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے زیادہ تر میں قانون کے ساتھ نرمی اور انصاف کے امتزاج کو اپنایا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ایک سخت دل اور بے رحم عدلیہ عوام کے لیے مشکلات بڑھا دیتی ہے، جبکہ نرم دلی کے ساتھ انصاف کرنے سے معاشرتی بھلائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
پاکستانی عوام ان کے فیصلوں کو اس وجہ سے بھی پسند کرتے ہیں کہ یہاں کے لوگ اکثر سخت عدالتی رویوں کے عادی ہیں۔ جب وہ جج کیپریو کو دیکھتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ عدلیہ دراصل عوام کی خدمت کا ذریعہ ہے نہ کہ صرف ایک ڈراؤنی طاقت۔ اسی لیے سوشل میڈیا پر پاکستانی ناظرین ان کے لیے محبت اور احترام کے پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔
2019 میں جب ان کی ایک پاکستانی طالبعلم سے ملاقات کی ویڈیو وائرل ہوئی تو انہوں نے کئی لوگوں کے دل جیت لیے، کیپریو نے احمد سلمان نامی امیگرنٹ طالبعلم کے تین پارکنگ ٹکٹس معاف کر دیے تھے۔جج کیپریو نے پاکستان کے لوگوں سے کہا کہ آپ کے دل ہمیشہ فخر سے بھرپور، آپ کی امیدیں بلند اور مستقبل روشن ہو۔‘
’پاکستان زندہ باد۔‘
یہ پیغام صرف سات دن قبل پاکستان کے یوم آزادی کے دن کسی پاکستانی رہنما کی جانب سے نہیں بلکہ ایک سابق امریکی جج کی جانب سے پاکستان کے عوام کے نام جاری کیا گیا تھا۔
یہ جج فرینک کیپریو تھے جنھوں نے 14 اگست کے دن سوشل میڈیا پر جاری اس بیان کے ساتھ ایک تصویر میں پاکستان کا پرچم بھی تھاما ہوا تھا۔ اس پیغام کے جاری ہونے کے چند ہی دن بعد ’دنیا کے سب سے اچھے جج‘ کہلائے جانے والے فرینک کیپرو وفات پا گئے تھے. فرینک کیپریو کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عدل صرف سزا دینے کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرے میں انسانیت، ہمدردی اور محبت کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی غربت اور مشکلات سے عبارت تھی لیکن انہوں نے محنت، تعلیم اور خدمت کو اپنا شعار بنایا اور دنیا بھر کے لیے ایک مثال قائم کی۔ پاکستان جیسے ملکوں میں جہاں عوام عدالتی انصاف کے منتظر رہتے ہیں، وہاں فرینک کیپریو جیسے جج کا تصور لوگوں کو امید دیتا ہے کہ دنیا میں ایسے بھی منصف موجود ہیں جو قانون کو انسانیت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ جج فرینک کیپریو نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے عدل و انصاف کی ایک روشن علامت ہیں۔ ان کی شخصیت یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر قانون کے ساتھ رحم دلی اور انسان دوستی کو ملایا جائے تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نہ صرف منصفانہ بلکہ پرامن بھی ہو۔ یہی وہ پیغام ہے جو پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کے لیے محبت پیدا کرتا ہے اور جسے وہ اپنے ملک کے عدالتی نظام میں دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
سی این این کے مطابق کیپریو اپنی عدالت کو ایک ایسی جگہ قرار دیتے تھے جہاں لوگوں اور مقدمات کو شفقت اور ہمدردی کے ساتھ سنا جاتا تھا۔ان کے آفیشل فیس بک اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے پیغام میں لکھا گیا کہ جج کیپریو نے عدالت اور اس سے باہر لاکھوں افراد کی زندگیاں متاثر کیں، اُن کی گرمجوشی، مزاح اور مہربانی ہر اُس شخص کے دل میں نقش ہو گئی جو ان سے واقف ہوا۔
پوسٹ کے مطابق اُن کی یاد میں ہمیں بھی چاہیے کہ دنیا کو ہمدردی سے تھوڑا سا زیادہ بھرپور بنائیں، بالکل ویسا ہی جیسے وہ ہر روز ہمدردی کا مظاہرہ کرتے تھے۔
یوٹیوب پر شیئر کیے گئے کلپس میں اکثر دیکھا گیا کہ کیپریو اپنی عدالت میں آنے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے تھے۔
انہوں نے اپنی شہرت کو عدالتی نظام میں عدم مساوات جیسے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے بھی استعمال کیا۔عالمی شہرت یافتہ اور ہر دلعزیز امریکی جج فرانسیسکو فرینک کیپریو کی شخصیت پاکستان کے عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر انہوں نے قانون کو محض سزا کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے ہمدردی، رحم اور انسانیت سے جوڑ کر دکھایا۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے ان کو سرحدوں سے ماورا کر کے پاکستانی عوام کے دلوں تک پہنچا دیا۔ ان کی عدالت میں پیش آنے والے وہ لمحات جب کسی بے سہارا شخص کی مشکلات کو سن کر وہ اس کے جرمانے معاف کر دیتے یا رعایت دیتے، پاکستان میں لاکھوں لوگوں کے لیے امید کی کرن بنے۔پاکستانی عوام نے جب سوشل میڈیا پر جج فرینک کی ویڈیوز دیکھی تو ان کے دل چھلنی ہوئے کہ ہمارے ملک میں بھی اگر ایسا نرم دل اور انسان دوست جج ہوتا تو عوام کو انصاف کے لیے برسوں دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت نہ پڑتی.پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں انصاف کا حصول اکثر کٹھن اور طویل عمل سمجھا جاتا ہے، جج فرینک کے یہ واقعات ایک سبق کی مانند ہیں۔ پاکستانی عوام نے ان کو اپنا “انصاف کا ہیرو” قرار دیا اور دعائیں دیں کہ اللہ ایسے لوگوں کو سلامت رکھے۔ یہ بات یقیناً لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر امریکہ کا ایک مقامی عدالت کا جج اپنی نرمی اور شفقت سے دنیا بھر کے دل جیت سکتا ہے تو پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدالتوں کے جج بھی اگر عوامی دکھ درد کو اسی انداز میں سمجھنے لگیں تو انصاف کی فضا میں نئی روح پیدا ہو جائے گی۔ عدلیہ پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور قانون صرف خوف کی علامت نہیں بلکہ سہارا دینے والا ستون بھی بن جائے گا۔
پاکستانی عوام کے لیے جج فرینک کیپریو کے واقعات ایک آئینہ ہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہمارے نظامِ عدل میں بھی آسانیاں کیسے پیدا کی جا سکتی ہیں، انصاف کو سہل اور قابلِ رسائی کیسے بنایا جائے اور عدلیہ کو عوامی ہمدردی کے جذبے سے کیسے جوڑا جائے۔ اگر یہ جذبہ ہمارے اداروں کا حصہ بن جائے تو معاشرہ نہ صرف انصاف یافتہ ہوگا بلکہ محبت، سکون اور اعتماد کی خوشبو سے مہک اٹھے گا۔
اس مقصد کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں:
اول: عدالتوں میں ایسے تربیتی پروگرام ہونے چاہئیں جن میں ججوں کو قانون کے ساتھ ساتھ انسانیت کے تقاضوں سے بھی روشناس کرایا جائے۔
دوم: ماتحت عدالتوں میں فوری اور سہل انصاف کے نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام آدمی برسوں تک فیصلے کا انتظار نہ کرے۔
سوم: کمزور اور غریب طبقے کے لیے قانونی معاونت مفت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے حقوق سے محروم نہ رہیں۔
چہارم: عدالتی فیصلوں میں سختی کے ساتھ ساتھ حالات و واقعات کے مطابق نرمی اور ہمدردی کو بھی جگہ دی جائے تاکہ انصاف حقیقی معنوں میں متوازن ہو۔
پنجم: ججوں کے فیصلے شفاف انداز میں عوام تک پہنچائے جائیں تاکہ عدلیہ پر اعتماد بحال ہو اور معاشرے میں انصاف کے قیام کی فضا پروان چڑھے۔
یہ اقدامات نہ صرف ہمارے نظامِ عدل کو بہتر بنائیں گے بلکہ جج فرینک کیپریو کی طرح انصاف کو انسانیت کا روشن چہرہ بنا کر پیش کریں گے، اور یہی وہ خواب ہے جس کی تعبیر پاکستانی عوام برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔
جج جان کیپریو کی زندگی اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عالی شان عمارتیں، قصیدہ خوانیاں اور پیسے سے کی جانے والی تشہیر کبھی بھی عوامی خدمت کا پیمانہ نہیں ہو سکتیں۔ لوگوں کی خدمت کا موقع دراصل ایک اعزاز اور سعادت ہے۔ اس پر فخر جتانا دراصل اس کی توہین ہے۔
اس خیال کو مارکس گاروی کے یہ الفاظ نہایت خوبصورتی سے سمیٹ دیتے ہیں،مارکس گاروی (Marcus Garvey) دراصل جمیکا کے ایک مشہور سیاسی رہنما، مصنف اور سماجی کارکن تھے. وہ کہتے ہیں
“وہ مقاصد جن کی خدمت آپ صرف اپنے لیے کرتے ہیں، وہ آپ کو آپ سے آگے نہیں لے جا سکتے، لیکن وہ مقاصد جو آپ سب کے لیے مشترکہ بھلائی کے لیے کرتے ہیں، وہ آپ کو ابدیت تک لے جائیں گے۔”
الوداع جج کیپریو، آپ ہمیشہ یاد رہیں گے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*مودی کی آبی دہشتگردی اور فسطائیت*
بھارت دہشتگرد ملک ہے جس کی فطرت میں دہشتگردی، انتشار اور بدامنی پھیلانا ہے.بھارت نے ہر ممکن پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن اسے ہر محاذ پر ناکامی اور ہزیمت اٹھانا پڑی. پاکستان میں تو کئی سالوں سے دہشتگردی کر رہا ہے اور اس کے پاکستان کے پاس واضح ثبوت موجود ہیں. آپریشن سندور کے نام پر پنجہ آزمائی کی اور بنیان مرصوص معرکہ حق کے جواب میں شکست فاش ہوئی اور پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی پھر بھی طاغوتی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا ہے. پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے. یہ کھلی آبی دہشتگردی ہے اور اس شیطان مودی کو اس کا کرارا جواب دیا جائے گا. بھارت نے پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے.

دریائے چناب‘ راوی اور ستلج میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ‘اگلے 48 گھنٹوں کے لیے اونچے سے انتہائی درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری ‘ڈیڑھ لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل ‘بھارت سے آنے والے سیلابی پانی سے ندی نالوں میں شدید طغیانی ‘درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع‘ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں‘ مکانات اور اسکول زیر آب آگئے ‘شکر گڑھ میں خواتین اور بچوں سمیت 20 سے 25 افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے‘ سیالکوٹ میں 24گھنٹوں کےدوران ریکارڈ 405 ملی میٹر طوفانی بارش ‘ 11سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،مرکزی اور گردونواح کے تمام علاقے ڈوب گئے ‘بجلی معطل ‘ شہر میں مکمل تاریکی ‘ نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرنے خبردار کیا ہے کہ اگر گلیئشرزپھٹے توزیادہ تباہی ہوگی ‘پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خطرناک ہیں اور اگلے سال اس کی شدت 22 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے ۔ آنےو الا سال پاکستان کیلئے مزیدتباہ کن ہوگا ۔ این ڈی ایم اے کے مطابق بہاولنگر سے 89,868 اور قصور سے 14,140 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا، اوکاڑہ، بہاولپور، وہاڑی اور پاکپتن سے بھی سینکڑوں افراد کا انخلا کیا گیا ، دریاوں میں پانی کی موجودہ سطح کے مطابق ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 95 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے، جبکہ راوی میں جسڑ کے مقام پر 90 ہزار کیوسک بہاؤ، اور شاہدرہ پر 40 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ احمدیار کی حدودمیں سیلابی پانی سے متعدد بستیاں لپیٹ میں اور سیکڑوں ایکڑ پر تیارفصلیں زیرآب آگئیں‘ زمینی راستے منقطع‘ دیہی علاقے میں پانی داخل ہونے سے علاقہ مکینوں کو ریسکیوکی امدادسے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے جبکہ دریائے ستلج میں مسلسل پانی کے اضافے سے حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔
ستلج کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی‘اب تک ایک لاکھ 74 ہزار 74 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ، ضلع نارووال میں لہری بند کے سیلاب سے متاثرہ علاقے سے مقامی آبادی کے انخلاء کو یقینی بنایا جا رہا ہے،دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی دریائے راوی میں جسٹر اور دریائے چناب میں مرالہ کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے،نالہ ڈیک میں بھی شدید سیلابی صورتحال ہے.
دریاؤں کی بے قابو موجیں جب بستیاں اجاڑتی ہیں تو صرف مکانات، کھیت اور سڑکیں ہی نہیں ڈوبتیں بلکہ امیدیں، خواب اور مستقبل بھی پانی میں بہہ جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں بھارت کی جانب سے بنا اطلاع دئیے اچانک بڑے پیمانے پر پانی چھوڑنے کے باعث پاکستان کے کئی علاقے شدید سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ پنجاب اور جنوبی پنجاب کے دیہات سے لے کر سندھ کے نشیبی علاقوں تک پانی کا ریلا لوگوں کے گھروں اور کھیتوں کو نگل رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ کسانوں کی محنت سے اگائی گئی فصلیں بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔
بھارت کی آبی جارحیت پالیسی نئی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی وہ مختلف مواقع پر یکطرفہ طور پر دریاؤں میں پانی چھوڑ کر پاکستان کو مشکلات میں دھکیل چکا ہے۔ اس مرتبہ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ دریائے ستلج اور دریائے راوی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ بھارتی ریاست ہماچل پردیش اور پنجاب میں شدید بارشوں کے بعد بھارت نے ہریکے بیراج اور بھاکڑا ڈیم سے لاکھوں کیوسک پانی چھوڑا جس کا رخ براہ راست پاکستان کی سرزمین کی طرف ہوا۔ صرف دریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کے بعد اونچے درجے کا سیلاب پیدا ہوا جس نے قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی کے اضلاع میں کھیت کھلیان اور بستیاں ڈبو دیں۔ پاکستانی میڈیا اور عالمی خبر رساں اداروں نے اس صورتحال پر رپورٹ کیا کہ بھارت کی طرف سے کسی پیشگی اطلاع کے بغیر پانی چھوڑا گیا جس کے باعث پاکستان کے محکمہ آبپاشی اور ندی نالوں کے نظام کو بروقت بندوبست کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں لوگ ہنگامی طور پر اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے۔ دریائے راوی اور دریائے ستلج کے کنارے موجود درجنوں دیہات متاثر ہوئے اور سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین ڈوب گئی۔یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ بھارت کئی برسوں سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ جس پر 1960 میں پاکستان اور بھارت نے دستخط کیے تھے، اس معاہدے کے تحت دریائے ستلج، راوی اور بیاس کا پانی بھارت کے استعمال میں جبکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا۔ لیکن بھارت آئے دن اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ کبھی نئے ڈیم بنا کر پانی روکتا ہے اور کبھی بنا اطلاع دئیے پانی چھوڑ دیتا ہے تاکہ پاکستان میں اچانک سیلاب آ جائے۔ یہ طرزعمل کھلی آبی دہشتگردی ہے جو انسانی جانوں اور معاشی نقصانات کا سبب بنتا ہے۔موجودہ صورتحال میں صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ سندھ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے خیرپور، گھوٹکی اور سکھر بیراج کے گردونواح کے علاقے بھی زیر آب آنے لگے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 270,000 کیوسک تک جا پہنچا جس نے قصور اور بہاولنگر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مزید بارشیں ہوئیں تو دریائے راوی اور ستلج کے کنارے آباد بستیاں مکمل طور پر زیر آب آ سکتی ہیں۔
یہ صورتحال صرف ایک قدرتی حادثہ نہیں بلکہ سیاسی کھیل بھی ہے۔ بھارت جانتا ہے کہ پاکستان پہلے ہی معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ ایسے وقت میں اچانک پانی چھوڑ کر سیلاب پیدا کرنا پاکستان کی معیشت کو مزید کمزور کرنے کا حربہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رویہ جاری رہا تو پاکستان کی زرعی پیداوار میں کمی آئے گی، کپاس، گندم اور چاول جیسی بنیادی فصلیں متاثر ہوں گی اور خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
عام آدمی پر اس کا بوجھ سب سے زیادہ پڑ رہا ہے۔ پنجاب کے وہ کسان جنہوں نے سارا سال زمین کو سنبھالا، بیج ڈالا اور محنت کی، آج اپنی فصلیں پانی میں بہتے دیکھ رہے ہیں۔ جن بچوں کی مسکراہٹیں کبھی کھیتوں میں کھیلنے سے وابستہ تھیں، وہ آج خیموں میں بیٹھے اپنی بستیوں کی تباہی دیکھ رہے ہیں۔ بزرگ اور خواتین جو گھروں کے سامان کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے پاس نہ وقت ہے نہ وسائل۔ یہ مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ آبی جارحیت صرف سیاسی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی المیہ بھی ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک ملک بنا اطلاع دئیے اچانک اپنے دریا کا پانی دوسرے ملک کی طرف نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن بھارت اس اصول کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کو آبی جارحیت سے باز رکھنے کے لیے اقدامات کرے۔ پاکستان کی حکومت نے بھی بھارتی اقدام پر شدید احتجاج کیا ہے لیکن صرف احتجاج کافی نہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت عالمی سطح پر اپنا مقدمہ لڑے اور عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو اجاگر کرے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر اپنا ڈھانچہ بھی کمزور ہے۔ سیلاب سے نمٹنے کے لیے مؤثر ڈیم اور ذخائر کی کمی ہے۔ اگر بھارت پانی چھوڑتا ہے تو ہمارے پاس اسے محفوظ کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا اور وہ سیدھا تباہی بن کر زمینوں اور گھروں پر گرتا ہے۔ کالاباغ ڈیم جیسے منصوبوں پر سیاست اور اختلافات نے پاکستان کو کمزور کیا ہے۔ اگر پاکستان کے پاس بڑے ذخائر اور ریزروائرز ہوتے تو یہ پانی زراعت اور بجلی کے لیے استعمال ہوتا، اور آج کسانوں کے کھیت جل تھل ہونے کے بجائے آباد ہوتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر ریلیف آپریشن کو وسعت دے۔ متاثرین کے لیے خیمے، کھانے پینے کا سامان اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ فوج، ریسکیو ادارے اور سول انتظامیہ کو مل کر ایک مربوط حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ صرف وقتی ریلیف نہیں بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ ڈیموں کی تعمیر، حفاظتی بندوں کی مضبوطی اور جدید آبی مینجمنٹ سسٹم ہی پاکستان کو بھارت کی آبی جارحیت سے بچا سکتے ہیں۔
بھارت کی آبی دہشتگردی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پانی آئندہ برسوں میں خطے کا سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے۔ جیسے تیل پر جنگیں لڑی گئیں، ویسے ہی پانی پر بھی جھگڑے ہوں گے۔ پاکستان کو اپنی سفارتکاری، معیشت اور انفراسٹرکچر سب کو ایک ساتھ مضبوط بنانا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہر برس یہی مناظر دہرائے جائیں گے اور ہر سال نئی بستیاں اجڑیں گی۔آخر میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی عزائم بھی چھپے ہیں۔ بھارت نے ہریکے بیراج سے پانی چھوڑا، دریائے ستلج اور راوی میں اونچے درجے کا سیلاب آیا، ہزاروں لوگ متاثر ہوئے، کھیت کھلیان برباد ہوئے۔ یہ سب واقعات کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہیں۔ پاکستان کو اب وقت ضائع کیے بغیر اپنی بقا کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت عالمی عدالت اور اقوام متحدہ میں بھارت کی شکایات درج کروائی جائیں۔ ملک کے اندر نئے ڈیم اور ذخائر تعمیر کیے جائیں تاکہ پانی کو ضائع ہونے کے بجائے محفوظ کیا جا سکے۔متاثرین کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی فنڈز اور ریلیف آپریشنز کو تیز کیا جائے۔
زرعی پالیسی میں ایسی اصلاحات کی جائیں کہ کسانوں کو نقصان کی صورت میں حکومتی مدد فوری مل سکے۔ عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ خطرناک علاقوں میں بروقت انخلا ممکن ہو سکے۔پاکستان کو اس مشکل گھڑی میں اتحاد، حکمت اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں صرف وہی قوم کامیاب ہو سکتی ہے جو اپنے وسائل کو سنبھال کر مستقبل کی ضمانت فراہم کرے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان*
خصوصی تحقیقی مضمون
*کلاوڈ برسٹ بونیر آنسوؤں اور ملبے کا ڈھیر، زندگی موت کی وادی میں بدل گئی*
آج کل میڈیا پر کلاوڈ برسٹ کی اصطلاح بہت سننے میں آ رہی ہے اس کے نتیجے میں کے پی کے اور شمالی علاقہ جات زیادہ متاثر ہو رہے ہیں. ابھی حال ہی میں خیبر پختون خواہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارشوں نے تباہی مچا دی اس کی وجہ خطرناک کلاوڈ برسٹ ہے. عالمی اخبار لندن کے قارئین ضرور جاننا چاہیں گے کہ کلاوڈ برسٹ کیا ہے؟
“کلاؤڈ برسٹ” سے مراد ایسی شدید بارش ہے جو کسی محدود علاقے پر اچانک اور انتہائی قلیل وقت میں برس جائے۔ عالمی موسمیاتی ماہرین کے مطابق اگر ایک گھنٹے کے دوران فی گھنٹہ 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش کسی ایک محدود علاقے میں ہوجائے تو اسے کلاؤڈ برسٹ کہا جاتا ہے۔یہ بارش عام طور پر 10 تا 30 منٹ کے اندر اندر ہوتی ہے لیکن اس کا اثر کئی گھنٹوں یا دنوں تک رہتا ہے۔قدرتی آفات انسانی زندگی اور ماحول پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ ان آفات میں کلاؤڈ برسٹ ایک نہایت خطرناک اور اچانک رونما ہونے والا موسمی واقعہ ہے، جو شدید بارش کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ عام بارش کے برعکس کلاؤڈ برسٹ مختصر وقت میں غیر معمولی مقدار میں بارش برسا دیتا ہے، جس کے باعث سیلاب، زمین کھسکنے (Landslides)، انفراسٹرکچر کو نقصان اور انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ کلاؤڈ برسٹ کو عام طور پر پہاڑی یا نیم پہاڑی علاقوں میں دیکھا گیا ہے، تاہم یہ دیگر خطوں میں بھی رونما ہوسکتا ہے۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے اثر انداز ہونے والے سب سے صف اول کے ممالک میں شامل ہے.بادل پھٹنے کا واقعہ 1 سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹے پیمانے پر موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا اندازہ لگانا مشکل ہے.
2022 کے سیلاب میں 94 اضلاع میں 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے، 1700 اموات ہوئیں، 76 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے جبکہ 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا.
پاکستان کے موسمیاتی تغیر کے سب سے زیادہ خطرے سے دو چار ملک ہونے کی وجہ 2022 میں موسلا دار بارشوں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پانی کے بہہ نکلنے اور دیگر عوامل کی بنیاد پر آنے والا زبردست سیلاب تھا.
بونیر میں کلاوڈ برسٹ: آسمان سے برسنے والی قیامت قدرتی آفات کی زد میں آئی وادی بونیر میں اچانک برسنے والی بارش نے لمحوں میں بستیاں اجاڑ دیں اور انسان کی بے بسی کو عیاں کر دیا۔
قدرت کے نظام میں بعض اوقات ایسی ہولناک آفات جنم لیتی ہیں جن کی پیش گوئی سائنسی آلات کے باوجود آسان نہیں ہوتی۔ انہی آفات میں ایک خطرناک اور تیزی سے وقوع پذیر ہونے والا مظہر “کلاوڈ برسٹ” کہلاتا ہے۔ کلاوڈ برسٹ دراصل بارش کا وہ شدید اور غیر معمولی عمل ہے جس میں چند لمحوں کے اندر ہی بادلوں سے طوفانی بارش اس قدر تیزی سے برستی ہے کہ زمین اور پہاڑی علاقے اسے جذب نہیں کر پاتے۔ پانی کے ریلے سیلابی شکل اختیار کر لیتے ہیں، کھیت کھلیان بہہ جاتے ہیں، مکانات ڈھے جاتے ہیں اور انسانی جانیں لمحوں میں نگل لی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مظہر ہے جس کی شدت اور تباہی کسی زلزلے یا طوفان سے کم نہیں سمجھی جاتی۔کلاوڈ برسٹ کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ جب فضا میں نمی کا تناسب بہت زیادہ بڑھ جائے اور ایک محدود خطے میں بادل شدید دباؤ کے ساتھ جمع ہو جائیں تو ان کے اندر کا پانی ٹوٹ کر تیز بارش کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ بارش عام بارش سے کہیں زیادہ شدید اور مختصر مدت میں کئی گنا زیادہ پانی گرا دیتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں چونکہ زمین کی سطح ڈھلوان ہوتی ہے، اس لیے پانی رکتا نہیں بلکہ ریلے کی صورت میں نیچے کی طرف بہہ نکلتا ہے۔ یہی عمل ندی نالوں میں طغیانی اور قریبی آبادیوں میں قیامت خیز تباہی کا سبب بنتا ہے۔
پاکستان کے شمالی اور پہاڑی خطے گزشتہ برسوں میں کئی بار ایسے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ سب سے حالیہ اور دل دہلا دینے والا واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں پیش آیا، جہاں کلاوڈ برسٹ نے مقامی آبادی کو بڑے سانحے سے دوچار کر دیا۔ بونیر کی وادی قدرتی حسن اور دلکش مناظر سے مالامال ہے، لیکن اس مرتبہ یہی خوبصورتی دردناک المیے میں بدل گئی۔ بارش کا وہ طوفانی ریلہ جسے عام لوگ محض تیز بارش سمجھ رہے تھے، لمحوں میں ندی نالوں کی دیواریں توڑتا ہوا گھروں اور بازاروں میں داخل ہو گیا۔ بستیاں ڈوب گئیں، کچے مکانات زمین بوس ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بیسیوں افراد اس قدرتی غضب کی نذر ہو گئے۔
بونیر سانحے میں متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ درجنوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور سینکڑوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ زراعت اور مال مویشیوں کو پہنچنے والا نقصان بھی کسی المیے سے کم نہیں، کیونکہ پہاڑی علاقوں کے مکینوں کا زیادہ تر انحصار انہی پر ہوتا ہے۔ متاثرین میں بچے، عورتیں اور بزرگ شامل ہیں جن کے لیے امدادی سرگرمیاں تاخیر کا شکار رہیں۔ پہاڑی راستوں کی دشواری، بارش کے بعد مٹی کے تودے گرنے اور ندی نالوں کی تباہ کاری نے ریسکیو آپریشن کو مزید مشکل بنا دیا۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر بونیر جیسے علاقوں میں اس قسم کے کلاوڈ برسٹ کیوں رونما ہو رہے ہیں؟ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو کلائمٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ جب درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے تو فضائی دباؤ اور نمی میں بھی غیر معمولی تغیر آتا ہے۔ یہی تغیر بادلوں کو غیر متوازن انداز میں پھٹنے پر مجبور کرتا ہے۔ بونیر کا علاقہ چونکہ پہاڑی اور وادیوں پر مشتمل ہے، اس لیے وہاں بارش کے شدید ریلے نیچے کی جانب تیزی سے بہتے ہیں اور گاؤں کے گاؤں ڈبو دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ انسانی غفلت بھی ان حادثات کو بڑھانے کا سبب ہے۔ پہاڑی نالوں کے اطراف میں غیر منصوبہ بندی کے ساتھ مکانات اور دکانیں تعمیر کرنا، درختوں کی کٹائی اور جنگلات کی تباہی، پانی کے قدرتی راستوں کو بند کرنا اور نکاسی آب کے مؤثر نظام کا نہ ہونا تباہی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ قدرتی ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر جنگلات کی کٹائی نہ رکی اور پہاڑی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات جاری رہیں تو ایسے حادثات مزید شدت اختیار کریں گے۔
بونیر کے عوام نے اپنی آنکھوں کے سامنے جو منظر دیکھا، وہ محض ایک علاقائی المیہ نہیں بلکہ قومی سانحہ ہے۔ لوگ لمحوں میں اپنے پیاروں کو کھوتے رہے، بچے والدین سے بچھڑ گئے اور کئی خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ متاثرین کی کسمپرسی دیکھ کر یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے کہ ہماری ریاست اور ادارے کہاں ہیں؟ بار بار کی تنبیہات کے باوجود ہم نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی جامع نظام وضع کیوں نہیں کیا؟
ریسکیو ادارے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں بروقت پہنچنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہے۔ یہ امر بھی غور طلب ہے کہ صوبائی حکومتوں کے پاس قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کوئی مستحکم حکمت عملی موجود نہیں۔ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے جیسے ادارے کاغذوں میں تو سرگرم دکھائی دیتے ہیں لیکن جب سانحہ رونما ہوتا ہے تو ان کی موجودگی خال خال نظر آتی ہے۔
کلاوڈ برسٹ کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم فوری طور پر چند اقدامات کریں۔ سب سے پہلے ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ یہ محض سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کے اثرات ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ جنگلات کا تحفظ، پہاڑی ندی نالوں کی صفائی، جدید ٹیکنالوجی سے موسمی پیش گوئی کے نظام کو مضبوط بنانا اور مقامی سطح پر ہنگامی پلان تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ عوام کو آگاہی دینا بھی انتہائی اہم ہے تاکہ وہ ایسی صورتحال میں اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کر سکیں۔
بونیر کا سانحہ ہمارے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ اگر ہم نے اسے محض ایک حادثہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تو آنے والے برسوں میں یہ آفات مزید شدت کے ساتھ لوٹیں گی۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کب تک بے گناہ جانوں کے ضیاع پر صرف افسوس اور تعزیت کے بیانات دیتے رہیں گے۔ اس سانحے نے واضح کر دیا ہے کہ قدرت کے سامنے انسان کتنا بے بس ہے، لیکن انسان اپنی عقل، منصوبہ بندی اور ذمہ داری کے ذریعے ان نقصانات کو کم ضرور کر سکتا ہے۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان جسے دنیا موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ دس بڑے ممالک میں شمار کرتی ہے، وہاں آج بھی عوام قدرتی آفات کے رحم و کرم پر ہیں۔ بونیر کے لوگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک قیامت دیکھی ہے اور ان کی فریاد یہی ہے کہ مستقبل میں کوئی دوسرا بونیر اس کرب سے نہ گزرے۔ اس مقصد کے لیے حکومت، ادارے اور عوام سب کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر کل یہ سانحہ کسی اور وادی، کسی اور شہر یا کسی اور بستی میں دوہرایا جا سکتا ہے۔
آزاد کشمیر، گلگت اور خیبرپختونخوامیں بارشوں ، کلاؤڈ برسٹ ، لینڈ سلائڈنگ اور آسمانی بجلی کے گرنے کے واقعات میں اموات کی تعداد 540ہوگئی ہے، 200سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں ، سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر تباہی کی داستان بنا ہوا ہے، متاثرہ علاقوں میں ہر جگہ ملبے کا ڈھیراورتباہی کے المناک مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں، بونیر کے ڈپٹی کمشنر کاشف قیوم نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تباہی کی شدت بے مثال ہے، اب تک 401 ہلاکتیں، 671 زخمی اور 4 ہزار 54 مویشیوں کے نقصان کی تصدیق ہو چکی ہے، 2300مکانات مکمل ، 413جزوی تباہ، 6سرکاری اسکول ، دو تھانے اور 639گاڑیاں بہہ گئیں، 217دکانیں مکمل ، 824جزوی متاثر ہوئے.جبکہ کے پی کے میں
سیلاب کی تبا ہ کاریاں ، صوبائی
حکو مت کے اعداد وشمار کے مطابق سیلابی صورتحال کے باعث 313 افراد جاں بحق اور 156زخمی ہوئے، 59
مکانات کونقصان ،مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا پختونخوا ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبے میں آنے والے فلش فلڈ نے سب سے زیادہ بونیر کے علاقے کو متاثر کیا ہے۔
اموات کے مختلف اعداد و شمار میڈیا ظاہر کر رہا ہے لیکن قوی امکان ہے کہ بہت زیادہ تعداد میں اموات ہوئی ہے ہیں. ابھی بھی بہت سے جاں بحق افراد پہاڑوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں جن کو ریسکیو کیا جا رہا ہے. آنے والے دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ سکتی ہے.بونیر میں ہر طرف موت کا راج ہے اور فضا سوگوار ہے.
ایسی تباہی 2005 کے زلزلے میں دیکھی گئی تھی، لاشیں برآمد ہو رہی ہیں کئی لوگ لاپتہ ہیں اور انفراسٹرکچر کی تباہی بڑے پیمانے پر ہوئی ہے. بونیر میں خوفناک تباہی آئی ہے علاقے ایک دوسرے سے کٹ گئے ہیں بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہے.
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے حالیہ بارشوں اور سیلاب کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی نے پاکستان کو شدید متاثر کیا ہے، کمیو نی کیشن انفرااسٹرکچر ، سڑکوں اور پلوں کی بحالی اولین ترجیحات میں شامل ہوں گی، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہر سال گزشتہ سال کے مقابلہ میں زیادہ شدت آ رہی ہے ، مون سون ریلیف کی سرگرمیوں کے خاتمہ پر وزارت مواصلات ، ہاؤسنگ اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ہاؤسنگ اور انفراسٹرکچر کی بحالی یقینی بنائیں گے، آگاہی مہم کے ذریعے شہریوں کےلئے پیشگی معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی،جن اضلاع میں زیادہ جانی نقصان ہوا، لوگ بے گھر ہوئے ہیں وہاں کل سے امدادی پیکج پہنچایا جائے گا، مون سون سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنے کےلئے پیشگی اقدامات کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹر میں میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی بریفنگ کا مقصد قومی سطح پر کی جانے والی امدادی اور بحالی کی کاوشوں کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال گرمی کی شدت زیادہ رہی جس کی وجہ سے مون سون 2025 کا پھیلاؤ اور شدت بھی زیادہ ہے، رواں سال مون سون کی بارشوں میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں 50 سے 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔موسمياتی تبدیلی کی اہم وجہ جنگلات کی کٹائی ہے.
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں 18 فیصد کمی ماحول، معیشت اور قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔جنگلات ماحول، معیشت اور قومی سلامتی کی پہلی دفاعی لائن ہیں جو بارش کے پانی کو جذب کر کے فلش فلڈز روکتے ہیں۔ یہ زیر زمین پانی ری چارج کرتے، زرعی اراضی کو کٹاؤ سے بچاتے اور درجہ حرارت کم کرتے ہیں۔ جنگلات کا رقبہ1992 میں 3.78 سے کم ہو کر2025میں 3.09 ملین ہیکٹر ہو چکا، 11ہزار ہیکٹر سالانہ کٹائی کی جاری ہے۔ ارندو گول میں 16 لاکھ مکعب فٹ لکڑی غیر قانونی طور پر کاٹی گئی جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے۔کالام سوات میں 1980 اور 1990 کی دہائی میں بڑے پیمانے پر درخت کاٹنے سے دریائے سوات کے کیچمنٹ ایریا کو شدید نقصان پہنچا ہے، بالائی علاقوں کے واٹر شیڈز ’’سیلابی فیکٹریوں‘‘ میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اور پورا ملک ایک نہایت سنگین ماحولیاتی موڑ پر پہنچ چکا ہے۔جنگلات کی کٹائی، چراگاہوں کی تباہی، جنگلات میں لگنے والی آگ اور ماحولیاتی تبدیلی سے جڑے خطرات براہِ راست تباہ کن سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور کلاؤڈ برسٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ 1992 سے اب تک جنگلات کا رقبہ 18 فیصد کم ہو چکا ہے جبکہ چراگاہیں صرف 20 سے 30 فیصد تک اپنی ممکنہ بایو ماس پیدا کر رہی ہیںجس میں خیبرپختونخوا کا حصہ زیادہ ہے ۔ 1992، 2010 اور 2025 کے تباہ کن سیلاب ثابت کرتے ہیں کہ جنگلات اور چراگاہوں کی تباہی نے بالائی علاقوں کے واٹر شیڈز کو ’’سیلابی فیکٹریوں‘‘ میں بدل دیا ہے۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے جنگلات محض درخت نہیں بلکہ ماحول، معیشت اور قومی سلامتی کی پہلی دفاعی لائن ہیں یہ بارش کے پانی کو جذب کر کے فلش فلڈز روکتے ہیں زیر زمین پانی ری چارج کرتے ہیں زرعی زمین کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں اور معیشت کے لیے پانی اور مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں جنگلات آب و ہوا کا توازن قائم رکھتے ہیں درجہ حرارت کم کرتے ہیں اور کاربن ذخیرہ کر کے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرتے ہیں دیہی آبادی کے لیے چارہ ایندھن پھل دوائیں اور سیاحت کے مواقع فراہم کرتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کرتے ہیں یہ ملک کو سیلاب لینڈ سلائیڈ اور قحط جیسے خطرات سے بھی بچاتے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ اگر فوری طور پر بحالی اور مضبوط اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو بڑے ماحولیاتی اور معاشی خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ مؤثر پالیسی اور عملدرآمد ملک کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے،پاکستان میں جنگلات کا رقبہ1992 میں 3.78ملین ہیکٹر سے کم ہو کر2025میں 3.09 ملین ہیکٹر ہو چکا ہے یعنی جنگلات کے رقبہ میں 18 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سالانہ جنگلات کی کٹائی 1992 میں ریکارڈ تقریباً 40ہزار ہیکٹر تھی لیکن حکومت کی مداخلت اورپابندیوں کے باعث کم ہوکر 2025 میں 11ہزار ہیکٹر سالانہ ہوگئی ہے لیکن صورت حال اب بھی تشویشناک ہے عالمی اداروں کے مطابق پاکستان میں سالانہ اب بھی 11ہزار ہیکٹر کی کٹائی جاری ہے ۔ چراگاہوں کا رقبہ 60 سے کم ہو کر 58 فیصد ہوگیا ہے چراگاہوں کی بایو ماس پیداوار: 100 ممکنہ پیداوار سے کم ہو کر 20فیصد رہ گئی ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق چترال میں 1992 سے 2009 کے درمیان 3700 ہیکٹر سے زائد جنگلات ختم ہو گئے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ 2030 تک مزید 23فیصد کمی متوقع ہے۔ ارندو گول میں لکڑی کی چوری کے دوران 16 لاکھ مکعب فٹ لکڑی غیر قانونی طور پر کاٹی گئی جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے۔ کالام سوات میں 1980 اور 1990 کی دہائی میں بڑے پیمانے پر لکڑی کاٹنے سے دریائے سوات کے کیچمنٹ ایریا کو شدید نقصان پہنچا، جس نے 1992 اور 2010 کے سیلابوں کو مزید تباہ کن بنا دیا۔ جنگلات کی کٹائی اب بھی ڈھلوانوں کو کمزور اور اچانک آنے والے سیلاب کے خطرات کو بڑھا رہی ہے۔ یہ تباہی صرف چند اضلاع تک محدود نہیں۔ بونیر میں اگست 2025 کے کلاؤڈ برسٹ نے اچانک آنے والے سیلاب کو جنم دیا جس نے گھروں، کھیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔ جنگلات سے محروم پہاڑ بارش کے پانی کو روک نہ سکے۔ بٹگرام میں نازک اراضی ڈھانچے اور جنگلات کی کٹائی نے لینڈ سلائیڈز کو جنم دیا جنہوں نے قراقرم ہائی وے بند کر دی اور شمالی پاکستان کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ باجوڑ میں 2025 کے ایک مہلک کلاؤڈ برسٹ سیلاب نے جانی نقصان کے ساتھ ساتھ سڑکیں اور پل بہا دیے۔ مانسہرہ میں بار بار کلاؤڈ برسٹ سے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈز آئے، جبکہ گلگت بلتستان میں جنگلات کا رقبہ 4 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے جس سے یہ خطہ جنگلاتی آگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات کے لیے نہایت حساس ہو گیا ہے۔ڈاکٹر عادل ظریف، کنوینر، سرحد کنزرویشن نیٹ کا کہنا ہے کہ جنگلات بارش کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں، زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرتے ہیں اور ڈھلوانوں کو مستحکم بناتے ہیں۔ جب یہ ختم ہو جائیں تو ننگی پہاڑیاں جنگلوں سے ڈھکے علاقوں کے مقابلے میں 5 سے 8 ڈگری زیادہ گرم ہو جاتی ہیں، جس سے مون سون کی ہوائیں تیزی سے بلند ہو کر اچانک کلاؤڈ برسٹ پیدا کرتی ہیں بجائے اس کے کہ مسلسل بارش ہو۔ جڑوں کے بغیر مٹی کو سہارا نہیں ملتا اور لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے عام ہو جاتے ہیں، جبکہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی تباہی براہِ راست انسانوں کو متاثر کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں تقریباً ایک تہائی گھرانے مویشیوں پر انحصار کرتے ہیں لیکن چراگاہوں کی پیداواریت بے جا چرائی اور بدانتظامی کے باعث صرف 20 سے 30 فیصد رہ گئی ہے۔ جو خاندان پہلے جنگلات سے چارہ اور ایندھن حاصل کرتے تھے وہ اب مزید غیر پائیدار طریقوں پر مجبور ہو گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف شجرکاری مہمات اس بحران کو حل نہیں کر سکتیں جب تک لکڑی کی مافیا کے خلاف سخت کارروائی اور ملوث اہلکاروں کا احتساب نہ کیا جائے۔
جرمن تھنک ٹینک ’’جرمن واچ‘‘ کی جانب سے جاری کردہ کلائمٹ رسک انڈیکس 2025 رپورٹ نے ایک بار پھر دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب کسی ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے وہ ممالک جو سب سے زیادہ موسمیاتی آفات کا شکار ہو رہے ہیں، ان میں پاکستان بھی نمایاں ہے۔ سال 2022 کو بنیاد بنا کر تیار کی گئی اس فہرست میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی نے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی سطح پر سب سے زیادہ منفی اثرات مرتب کیے۔پاکستان گزشتہ ایک دہائی کے دوران بارہا کلائمٹ رسک انڈیکس میں خطرے کے زمرے میں آیا ہے۔ کبھی بدترین سیلابوں نے کروڑوں افراد کو بے گھر کیا، کبھی خشک سالی نے زراعت کو متاثر کیا اور کبھی گلیشیئرز کے پگھلنے سے دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے تو دنیا بھر کو یہ باور کرایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سب سے بڑا شکار ہے۔ اس سیلاب نے تین کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا، ہزاروں دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ پاکستان کی پالیسی سازی میں اب بھی ماحولیاتی پہلو کو مطلوبہ اہمیت حاصل نہیں۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، غیر منصوبہ بند شہری ترقی، جنگلات کی کٹائی اور ناقص نکاسی آب کے نظام نے قدرتی آفات کو اور زیادہ تباہ کن بنا دیا ہے۔ اگر فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
کلائمٹ رسک انڈیکس 2025 میں دیگر متاثرہ ممالک کا بھی ذکر ہے، جن میں فلپائن، بنگلہ دیش، ہیٹی اور نیپال شامل ہیں۔ ان ممالک کی مشترکہ کہانی غربت، کمزور انفراسٹرکچر اور محدود وسائل ہے، جو انہیں موسمیاتی آفات کے سامنے بے بس کر دیتا ہے۔ پاکستان کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے، جہاں وسائل کی کمی اور ناقص حکمرانی مسائل کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔اس رپورٹ کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا عالمی برادری اپنی ذمہ داری نبھائے گی؟ ترقی یافتہ ممالک صنعتی ترقی کے دوران سب سے زیادہ کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں، جبکہ نقصان زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان جیسا ملک جو دنیا کے کل کاربن اخراج میں نہایت معمولی حصہ ڈالتا ہے، بدترین موسمیاتی اثرات کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ’’کلائمٹ جسٹس‘‘ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاکہ وہ ممالک جو سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، انہیں مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کو محض ماحولیاتی مسئلہ نہ سمجھے بلکہ اسے قومی سلامتی، معیشت اور سماجی استحکام سے جوڑ کر دیکھے۔ جنگلات کے تحفظ، متبادل توانائی کے فروغ، پانی کے بہتر انتظام اور شہری منصوبہ بندی میں اصلاحات کے بغیر مستقبل کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔
کلائمٹ رسک انڈیکس 2025 کی رپورٹ ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ وقت بہت کم ہے اور خطرہ بہت بڑا۔ پاکستان سمیت وہ تمام ممالک جو اس فہرست میں شامل ہیں، ان کے لیے اب کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ وہ اپنے عوام کو موسمیاتی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ بصورت دیگر آنے والی نسلوں کو وہ دنیا نہیں ملے گی جس کا وہ خواب دیکھتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی معیشت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے خاص طور پر پانی، زراعت اور کمیونٹی کی مضبوطی جیسے شعبوں کو۔ اس مسئلے پر جنوبی ایشیا کے ممالک کو مختلف سطحوں پر مل بیٹھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
………………………..
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ امریکہ، تعلقات میں پیشرفت بھارت میں تشویش*
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جو اعزاز ملا ہے، وہ ایک اعزازی اور غیر معمولی فوجی رتبہ ہے جو پاکستان کی مسلح افواج میں بہت ہی کم افراد کو دستیاب ہوا ہے۔فیلڈ مارشل پاکستان میں سب سے بلند فوجی رینک ہے، جو صرف غیر معمولی اور شاندار فوجی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی اضافی اختیارات یا مراعات منسلک نہیں ہوتیں. یہ دراصل ایک اعزازی درجے کا رتبہ ہے.

اس تعیناتی کے بعد جنرل منیر کی مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق عوامی رائے میں انہیں اور فوج کو مثبت جائزے ملے—93% لوگوں نے فوج کے بارے میں نیا اعتماد ظاہر کیا۔
یہ قدم ایک سیاسی و عسکری پیغام بھی تھا کہ ادارہ مضبوط ہے، قیادت مستحکم ہے، اور قومی دفاع مظبوط بنیادوں پر کھڑا ہے، خاص طور پر ایسی کشیدگی کے وقت میں۔آپریشن بنیان مرصوص کے دوران جناب منیر کی اعلیٰ حکمت عملی اور دلیری کے اعتراف میں انہیں 20 مئی 2025 کو فیلڈ مارشل کے رتبے پر ترقی دی گئی۔ بنیان مرصوص کی تاریخی فتح کے بعد عاصم منیر نے بین الاقوامی سطح پر میڈیا اور عالمی رہنماؤں کی بھرپور توجہ حاصل کر لی. امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا متعرف ہو گیا. بنیان مرصوص کی کامیابی کی وجہ سے بھارت کی خارجہ پالیسی اور معیشت بری طرح ناکام ہو گئی. فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور جنگی حکمت عملی نے
پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے. فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مودی کی گیارہ سالہ بدمعاشی اور اجارہ داری کو پل میں نیست و نابود کر دیا. مودی دنیا میں تنہا رہ گیا ہے. فیلڈ مارشل آصف منیر نے مودی کی زندگی اجیرن کر دی. فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں مودی کی سازشی حکمت عملی الٹی اس کے گلے پڑ گئی ہے. مودی کو خواب میں بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر نظر آتے ہیں. مودی بھی یہ ضرور سوچتا ہو گا کہ
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا
کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا
پاکستان تو پہلے ہی سے ہرا بھرہ ملک ہے. پاکستان کا ہرا رنگ خوشحالی، ترقی کی پہچان ہے.
معرکہ حق‘‘ میں بھارت کو شکست دے کر پاک فوج کے سپہ سالار حافظ سید عاصم منیر نے اسلامی تاریخ کے عظیم سپہ سالار طارق بن زیاد کی یاد تازہ کردی ہے جنہوں نے تعداد میں کئی گنا بڑی دشمن کی فوج کو ایمان، حوصلے اور حکمت عملی سے شکست دی۔ ہمارے عظیم سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اِسی روح کو زندہ رکھا اور طارق بن زیاد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دشمن کی کئی گنا بڑی فوج کو شکست سے دوچار کرکے پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا، پاکستان آپ پر فخر کرتا ہے، ہم سب آپ پر فخر کرتے ہیں۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈیڑھ ماہ کے دوران اپنے دوسرے دورۂ امریکہ کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں ’ایک نئے دور‘ کی جہت قرار دیا ہے۔ پہلے دورے میں اگر وہ امریکی صدر سے ملے تو دوسرے دورے میں ان کی امریکی عسکری حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نےکہا ہےکہ بھارت فیلڈ مارشل عاصم منیرکے دورہ امریکا پر پاکستان کی وائٹ ہاؤس میں پذیرائی سےناراض ہے۔فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکا میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کیا گیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل مائیکل کوریلا کی ریٹائرمنٹ پر فلوریڈا میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سے قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ امریکا کے بعد پاک امریکا تعلقات میں غیر متوقع پیش رفت آئی ہے اور امریکا فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خطے میں اسٹریٹجک ثالث کے طور پر دیکھ رہا ہے.
فنانشل ٹائمز نے رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ بھارت پاکستان کی وائٹ ہاؤس میں پذیرائی سے ناراض ہے، مودی اور ٹرمپ کے درمیان کشیدگی کی اطلاع ہے جبکہ پاکستان نے جنگ بندی کے سہولت کار کے طور پر امریکی صدر کو پیش کیا۔نشل ٹائمز نے بتایاکہ پاکستان نے امریکا، چین، ایران، خلیجی ممالک اور روس کے ساتھ بیک وقت تعلقات قائم رکھے ہیں. عالمی رہنماؤں نے بھی
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور کامیابیوں کی تعریف کی.فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے آذربائیجان کے چیف آف جنرل سٹاف کی ملاقات،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال،موجودہ عالمی اور علاقائی سلامتی کے منظرنامے پر توجہ دی گئی، دونوں رہنماؤں کا دفاعی تعاون، علاقائی امن و استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں کوفروغ دینے کے عزم کا اظہار ،چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آذربائیجان کیساتھ پاکستان کے گہرے برادرانہ اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے.چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیرسے اول نائب وزیر دفاع اور آذربائیجان کی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف کرنل جنرل کریم ولیوف نےجنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، خاص طور پر موجودہ عالمی اور علاقائی سلامتی کے منظرنامے پر توجہ دی گئی،دونوں عسکری رہنماؤں نے دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔۔آرمی چیف نے آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کے گہرے برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس کے علاوہ چین، سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان، یو اے ای اور ایران نے پاکستانی مؤقف کی کھل کرحمایت کی۔
دوسری جانب بھارتی چیف بند کمرے میں میڈیا کے سامنے جھوٹا بیانیہ پیش کرتا ہے اور آپریشن سندور کی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر اپنی عوام کو بیوقوف بناتا ہے. بھارتی چیف غیر معروف شخصیت ہے.فیلڈ مارشل سید عاصم منیر قوم کا وہ عظیم ہیرو ہیں جس نے بھارت کے جنگی جنون کے خلاف ایسی دلیرانہ اور دانشمندانہ حکمت عملی بنائی جس کا اعتراف دوست اور دشمن سب کرتے ہیں. بھارت کیخلاف معرکہ حق میں تاریخی کامیابی اور جنگی میدان میں دھول چٹانے کے اعتراف میں صدر مملکت نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیراورایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو ہلال جرات سے نواز دیاجبکہ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اورچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کو نشان امتیاز عطا کیا گیا۔قوم ، افواج پاکستان اور سیاست دانوں کا یہ اتحاد ہی ہمارے دشمنوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص ہماری تاریخ کا ایک سنہری باب ہے.فیلڈ مارشل آصف منیر کی جرات مندانہ کاوشوں کی وجہ سے بھارتی مودی میڈیا کی بھی چیخیں نکلنے لگی ہیں. بھارتی میڈیا نے عاصم منیر کو دنیا کا طاقتور جنرل بتایا انڈیا کے میڈیا کے مطابق فیلد مارشل عاصم منیر امریکہ، چین اور روس کے جنرل سے زیادہ چرچے عاصم منیر کے ہیں. اس وقت عالمی میڈیا کی سرخیوں میں عاصم منیر دکھائی دیتے ہیں.عاصم منیر پاکستان کا سب سے بڑا چہرہ بن چکے ہیں.
بھارت کے لیے دکھتی رگ ہیں عاصم منیر جو بھارت کو لگاتار گھائل کرتے آ رہے ہیں اور فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں. عاصم منیر سینہ چوڑا کر کے چل رہے ہیں اور ان کے دیش میں کوئی سوال نہیـں اٹھا رہا ہے یہ فرق ہے پاکستان کی سہنا میں بھارت کی سہنا میں.
تعریف وہ جو دشمن بھی کرے ،
بہادری وہ جو دشمن بھی تسلیم کرے ، اور
دانش وہ جو بڑے سے بڑا مخالف بھی مانے ۔
جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا
دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکہ میں کیے گئے حالیہ خطاب پر بھارت کی تلملاہٹ دیدنی ہے۔بھارتی میڈیا اور مودی سرکار نے ان کے بیان کو مسخ کر کے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش کی، جو ناکام ثابت ہوئی۔ مئی میں جنوبی ایشیا کو جوہری جنگ کی آگ میں دھکیلنے والا بھارت اب پاکستان کو بدنام کرنے کی لاحاصل کوشش کر رہا ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کے تدبر اور حکمتِ عملی کی وجہ سے خطے میں ایٹمی جنگ کے خطرات ٹل گئے۔ بھارت، پاکستان کے سپہ سالار کے دفاعی مؤقف کو مسخ کر کے کشیدگی کو دوبارہ ہوا دینا چاہتا ہے۔
پاکستان ہمیشہ تحمل، بردباری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتا آیا ہے، جبکہ مودی حکومت اپنی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی امن و استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
بھارت کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ خطاب کی جو تشریح کی جا رہی ہے، وہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ حالانکہ ان کا مؤقف نہایت واضح ہے:
“اگر پاکستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔”یہ مؤقف پاکستان کی جوہری حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے، جسے عالمی سطح پر ایک جائز دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔بھارت، پاکستان کے متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف کے خلاف دانستہ طور پر جھوٹی معلومات (ڈس انفارمیشن) کے ذریعے الزام تراشی کر رہا ہے تاکہ خطے میں اشتعال پیدا کیا جا سکے۔ بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیزیوں کے باوجود، پاکستان نے ہمیشہ دانشمندی سے کام لیا اور حالات کو بگاڑنے کے بجائے سنوارنے کو ترجیح دی۔بھارتی سرحدی خلاف ورزیوں پر پاکستان نے ہمیشہ نپی تلی، منظم اور مؤثر جوابی کارروائی کی ہے۔
بھارت کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستان کے جوہری دفاع سے خوف زدہ نہیں اور نہ ہی بلیک میل ہوگا، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار اعتراف کیا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جوہری جنگ کو روکنے کے لیے براہ راست مداخلت کی۔ یہ مودی سرکار کے بے بنیاد بیانیے کی کھلی تردید ہے۔
صاف ظاہر ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد اندازے لگائے، جس کے نتیجے میں وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ کھو بیٹھا ہے۔
آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزیاں نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہیں بلکہ مودی حکومت کو اندرونِ ملک بھی شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
حالیہ پارلیمانی اجلاسوں میں کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کو پاکستان کے ہاتھوں بار بار ہزیمت اٹھانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے انڈین وزارت خارجہ کے بیان کو بچگانہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکہ میں کی گئی تقریر کو انڈیا نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔ پاکستان کو ’تیسرے ملک‘ کے ذکر پر بھی تشویش ہے۔
قبل ازیں، آرمی چیف نے کہا تھا کہ انڈیا خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے اور کسی بھی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انڈین وزارت خارجہ نے جواب میں کہا کہ وہ ’نیوکلیئر بلیک میل‘ سے مرعوب نہیں ہوگا۔
امریکی اخبار دی گارڈین کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورۂ امریکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ کئی سالہ سرد مہری کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل منیر کا پُرجوش استقبال کیا، جس میں وائٹ ہاؤس میں لنچ اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں شامل تھیں۔
میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ فیلڈ مارشل سے ملاقات باعثِ اعزاز ہے اور انہیں جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ ملاقات میں ایران-اسرائیل کشیدگی اور پاک امریکہ تجارتی معاہدے پر بھی بات ہوئی۔
ٹرمپ کا بھارت کے مطالبات کو نظرانداز کرنا نئی دہلی میں تشویش کا باعث بنا، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ اور بھارت کے درمیان حساس تجارتی مذاکرات جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے متوقع سفارتی نتائج کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا جنرل عاصم پاک-بھارت کشیدگی کو پاکستان کی طرف سے روکنے میں انتہائی مؤثر رہا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ *
*ٹرمپ نے بھارتی معیشت میں ضَرْب کاری لگا دی*
پاکستان سے جنگ میں شکست کے بعد بھارت بین الاقوامی سطح پر تنہا رہ گیا.مودی حکومت کو عالمی برادری نے دیوار سے لگا دیا ہے. غرور، تکبر، گھمنڈ اور طاقت کا نشہ مودی کی بربادی بن گیا ہے.پاکستان کے خلاف جنگی جارحیت مسلط کرنا مودی کو مہنگا پڑ گیا. آپریشن سندور نے بھارت کی معیشت کو تباہ کر دیا.

بھارتی اپوزیشن نے مودی کا جینا حرام کر دیا ہے.بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی ناکام خارجہ پالیسی پر اپوزیشن کی طرف سے نکتہ چینی بڑھتی جارہی ہے خصوصا امریکا کے ساتھ بھارت کی دوستی کو کھوکھلا قرار دیا جارہا ہے ۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ اور اثر و رسوخ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے اور ان سب کے پیچھے وہ غلط سفارتی فیصلے ہیں جن کی بنیاد مودی حکومت نے رکھی۔بھارت کے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آخر بھارتی حکومت یہ کیوں سمجھتی ہے کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں۔ کیا حکومت نے ان کی پاکستانی ہونے کی شناخت کی۔ وہ دراصل بھارتی ہیں اور انہوں نے بھارت میں ہی دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔آپریشن سندور کے بعد بھارت کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے. امریکہ کی دوستی کے دعوے کرنے والے بھارت کو اس وقت حزیمت اٹھانا پڑی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات کے ٹیرف پر اضافہ کر دیا.امریکی صدر ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو مردہ معیشت قرار دے دیا۔ٹرمپ نے کہاکہ مجھے اس کی پروا نہیں کہ بھارت روس کے ساتھ کیا کرتا ہے ۔بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے ٹرمپ کے بھارتی معیشت کے مردہ ہونے کے بیان کی تائید کردی۔راہول نے مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ٹرمپ نے ایک حقیقت کو بیان کیا ،حکومت نے معیشت، دفاع اور خارجہ پالیسی کو تباہ کر دیا، حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے ۔ مودی صرف گوتم اڈانی کے مفادات کیلئے کام کرتے ہیں۔ اڈانی کی خاطر معیشت ڈبو دی،مودی نے ٹرمپ کیلئے مہم چلائی تھی، بدلے میں سخت ٹیرف لگے ۔راہول گاندھی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد دعوؤں پر حکومت کی خاموشی پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ اس صورتحال پر ایک طرف بھارتی تجزیہ کاروں نے سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے تو دوسری طرف اپوزیشن رہنمائوں نے اِسے حکومت کی ناکام خارجہ اور معاشی پالیسی قراردیا ہے۔
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا جس کے بعد اب بھارت پر مجموعی امریکی ٹیرف 50 فیصد ہوگیا ہے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق وائٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیا پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنا مناسب اور ضروری ہے، بھارت روس سے بلاواسطہ اور بالواسطہ تیل درآمد کررہا ہے۔خیال رہےکہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا، امریکی صدر نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ بھارت کے موجودہ 25 فیصد ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارت اچھا تجارتی پارٹنر نہیں، بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس طرح وہ یوکرین میں جنگی مشین کو ایندھن فراہم کررہا ہے۔یاد رہےکہ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر عائد ٹیرف مزید بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا تھا کہ بھارت نہ صرف بڑی مقدار میں روسی تیل خرید رہا ہے بلکہ اسے فروخت کرکے منافع بھی کما رہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت کو کوئی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں روسی فوج کے ہاتھوں کتنے لوگ مارے جارہے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے اب بھارت پر ٹیرف میں اور بھی اضافہ کرنے جارہا ہوں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے سبب ٹیرف بڑھانے کے اعلان کے بعد بھارت کی سیاست میں نئی گرما گرمی دیکھنے کو ملی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور رکنِ راجیہ سبھا جے رام رمیش نے مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی برسوں سے ٹرمپ کے ساتھ خاص دوستی کا دعویٰ کرتے آئے ہیں لیکن اب وہی دوستی بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ ایک انٹرویو میں جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ان کی اور ٹرمپ کی ایک خاص یاری ہے لیکن اب وہی ٹرمپ بھارت کو اقتصادی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں مشہور فلمی گانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے وزیر اعظم کو یہ ضرور یاد ہوگا ’دوست دوست نہ رہا، ٹرمپ یار ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر مزید ٹیرف لگانے کی دھمکیوں نے بھارتی کاروباری دنیا میں ہلچل مچادی ہے اور بزنس مین غیریقینی کا شکار ہیں۔امریکی صدر کے مزید ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد بھارت کے اہم ایکویٹی انڈیکس نِفٹی 50اور بی ایس ای سینسیکس میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔آج نِفٹی 73.20 پوائنٹس یا 0.30 فیصد کی کمی سے 24,649.55پر بند ہوا۔ دن کے دوران یہ 24,590.30کی کم ترین سطح تک گر گیا تھا یعنی 132.45 پوائنٹس کی گراوٹ تھی۔اسی طرح بی ایس ای سینسیکس بھی 308.47 پوائنٹس یا 0.38 فیصد کمی کے ساتھ 80,710.25 پر بند ہوئی جو ایک موقع پر 80,554.40 کی کم ترین سطح تک بھی گئی تھی۔جن کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ان میں معروف اڈانی پورٹس، رِیلائنس انڈسٹریز، انفوسس، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایٹرنل، بی ای ایل، ایچ ڈی ایف سی بینک جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔
بھارتی وزات خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت پراضافی ٹیرف عائد کرنے کا امریکی اقدام بےحد افسوسناک ہے، بھارت جو کررہا ہے وہی اقدامات کئی دوسرے ممالک بھی اپنے قومی مفاد میں کررہے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی اقدام ناانصافی پر مبنی، بلاجواز اور غیرمنصفانہ ہیں، بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔بھارتی وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں امریکا نے بھارت کی روس سے تیل درآمدات کو ہدف بنایا ہے، ہم ان معاملات پر اپنا مؤقف واضح کر چکے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ہماری درآمدات مارکیٹ کے تقاضوں کی بنیاد پر ہوتی ہیں، ہمارا مقصد بھارت کی ایک ارب سے زائد عوام کی توانائی کی ضرورت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق وائٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیا پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنا مناسب اور ضروری ہے، بھارت روس سے بلاواسطہ اور بالواسطہ تیل درآمد کررہا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف آئندہ 3 ہفتوں میں نافذالعمل ہوگا جبکہ بھارت پر اس سے پہلے لگایا گیا 25 فیصد ٹیرف کل سے نافذ ہوگا،
جمعرات سےلگائےجانےوالےٹیرف میں اسٹیل، المونیم اور دوا سازی صنعت کی اشیا شامل نہیں.
آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد 25 فیصد ٹیرف میں نمایاں اضافے کے بعد مودی سرکار بوکھلاہٹ کی شکار ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے مشیرِ خاص کو آئندہ چند روز میں روس جانے کا حکم دیا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال رواں ہفتے ہی روس جائیں گے جبکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا دورہ اسی ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔اگرچہ یہ دونوں دورے معمول کی سالانہ مشاورت کا حصہ ہیں تاہم اس وقت امریکا اور بھارت کے درمیان روسی تیل خریدنے کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف کے فیصلے نے سیاسی و معاشی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ ماہرین نےکہا ہے کہ امریکی ٹیرف میں اضافے سےبھارت کی 55فیصد برآمدات متاثر ہوں گی ، ٹیکسٹائل، زیورات، چمڑے اور مشینری کی صنعتوں کو نقصان کا خدشہ ہے،ادویات، گاڑیوں کے پرزہ جات ، زراعت و چھوٹے کاروباروں پر اثرات ہونگے ، 2026 میں بھارت کی جی ڈی پی شرح ترقی 6 فیصد سے کم ہو سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ماہرین نے امریکی ٹیرف کو بھارت کی خودمختاری پر حملہ اور دوطرفہ تجارت کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ سیاسی رہنماؤں نے قومی مفادات کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر تنقید کی۔ راہول گاندھی نے اسے معاشی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی کو اندرا گاندھی کی طرح سخت موقف اپنانا چاہیے۔ آر جے ڈی کے تیزاشوی یادو نے اسے تجارتی دھونس قرار دیا، جبکہ ششی تھرور نے مغربی ممالک کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا اور بھارتی مصنوعات کے امریکی منڈیوں میں نقصان کی نشاندہی کی۔معروف تجارتی ماہر اقتصادیات بسوجیت دھر نے کہا،امریکا-بھارت تعلقات کئی دہائیوں میں سب سے نچلے مقام پر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے پہلے 25 فیصد اور اب اضافی 25 فیصد ٹیرف کا نفاذ بھارت کے لیے غیر متوقع اور غیر منصفانہ ہے۔ماہرین کے مطابق، ٹیرف سے ٹیکسٹائل، زیورات، چمڑے، کیمیکلز اور مشینری کی صنعتوں کو شدید نقصان ہوگا۔ فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کے اجے سہائی نے کہا کہ یہ 55 فیصد برآمدات کو متاثر کرے گا۔ آئی سی آئی سی آئی سیکیورٹیز کے اے پرسانا نے خبردار کیا کہ 2026 میں بھارت کی جی ڈی پی شرح ترقی 6 فیصد سے کم ہو سکتی ہے، جبکہ ایچ ڈی ایف سی بینک کی ساکشی گپتا نے معاشی ترقی کو دگنا نقصان ہونے کا انتباہ جاری کیا ہے۔مہندرا اینڈ مہندرا کے آنند مہندرا نے اسے مقامی معیشت مضبوط کرنے کا موقع قرار دیا۔ ماہر اقتصادیات بسوجیت دھر نے امریکہ-بھارت تعلقات کی خرابی اور زراعت و چھوٹے کاروباروں پر اثرات کی نشاندہی کی۔ سابق سفارت کار انیل ترگنایت نے اسے دباؤ کا حربہ قرار دیا، جبکہ ولسن سینٹر کے مائیکل کگلمین نے بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری پر زور دیا۔
بھارت کی گرتی ہوئی معیشت مودی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*غزہ انسانی حقوق قوانین خلاف ورزی کا مقتل گاہ بنا ہوا ہے*
گذشتہ کئی دہائیوں سے مسئلہ فلسطین نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو کاری ضرب لگائی ہے. اسرائیلی فوج اور ظالم فرعون نیتن یاہو غزہ کے مسلمانوں کو گدھوں کی طرح نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں. فلسطین مقتل گاہ بنا ہوا ہے جہاں بھوک، افلاس، پیاس اور احساس محرومی کا راج ہے. عالم اسلام کے ممالک خاموش تماشائی بنے عیاشی کی زندگی گذار رہے ہیں. غزہ کے مسلمان مایوس ہو کر اب اللہ کو پکار رہے ہیں . ان کی آواز بھوک اور پیاس نے بند کر دی ہے. سانحہ غزہ موجودہ دور کا کربلا ہے، یہ معرکہ حق و باطل کی جنگ ہے. غزہ پٹی کی موجودہ صورتِ حال نہایت تشویشناک ہے. یہ ایک حقیقی انسانی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے، جس میں لاکھوں لوگ گُھٹن زدہ حالات میں جی رہے ہیں۔

غزہ میں جنوری سے اگست 2025 تک کی صورتحال انسانیت کے لیے بحیثیت ایک قحط اور سماجی تباہی کے قریب تر ہے جہاں نہ صرف خوراک، پانی، صحت خدمات، اور رہائش کا شدید فقدان ہے بلکہ بچوں، خواتین اور خاندانوں پر طویل المدتی نفسیاتی اور جسمانی اثرات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ بین الاقوامی توجہ اور حکمتِ عملی فی الوقت ناکافی ہے، اور فوری انسانی وقار کی بحالی اقدامات کے بغیر صورتِ حال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں شہید ہونے والوں کی کم از کم تعداد60 ہزار 34 ہوگئی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق شہدا میں 18 ہزار 592 بچے، 9 ہزار 782 خواتین اور 4 ہزار 412 بزرگ افراد بھی شامل ہیں۔
وزارت صحت کے بیان میں مزید کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک لاکھ 45 ہزار 870 افراد زخمی بھی ہوئے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق یہ تینوں طبقات مجموعی شہادتوں کا 55 فیصد ہیں جو واضح طور پر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جارحیت کا بڑا نشانہ براہِ راست عام شہری بن رہے ہیں۔وزارتِ صحت نے ایک بار پھر عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور طبی تنظیموں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرکے اسرائیلی حملوں کو رکوائیں، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور غزہ تک انسانی و طبی امداد کی ترسیل بحال کریں۔
بحران سنگین تر ہوگیا۔ بھوک سے نڈھال ڈاکٹروں نے عالمی مداخلت کی اپیل کردی۔ ڈاکٹرز خود بھی غذائی قلت کا شکار ، چکر، سر درد ،بے ہوشی کا سامنا ہے. اسرائیل نے چند امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی تو بھوک سے تنگ ہزاروں فلسطینی ان کے گرد جمع ہو گئے، صیہونی فوج نے ان پر گولیاں برسادیں، متعدد شہید و زخمی ہوئے. بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سابق امریکی فوجی، جو غزہ میں بدنام زمانہ گروپ GHF کے ساتھ کام کر چکا ہےنے کہا کہ اس نے بلاشبہ عام شہریوں پر خوراک حاصل کرنے کے دوران حملے ہوتے ہوئے دیکھے، جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے رہنماؤں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر امدادی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیاں ختم کرے تاکہ فاقہ زدہ فلسطینی علاقے میں انسانی بحران کو کم کیا جا سکے۔ جبکہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں میں اسرائیل میں 1,139 افراد ہلاک اور 200 سے زائد یرغمال بنائے گئے تھے۔ چند امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، جس کے بعد اسرائیل کی مسلط کردہ بھوک سے تنگ آئے ہزاروں فلسطینی ان ٹرکوں کے گرد جمع ہو گئے۔الجزیرہ کے سَنَد فیکٹ چیکنگ ادارے سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں جنوبی غزہ کے علاقے موراج کے قریب شدید افراتفری کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔غزہ میں خوراک کا بچا کھچا سامان ملنے پر فلسطینی بچے نے امریکی سیکیورٹی اہل کار کا شکریہ ادا کرکے ہاتھ چوم لیا، لیکن کچھ ہی دیر میں وہ بچہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مارا گیا۔
امداد کے منتظر افراد پر اسرائیلی فوج کے حملوں سے پردہ اٹھانے والا سابق امریکی فوجی انتھونی ایگوئلر اسرائیلی مظالم کا ایک اور واقعہ منظر عام پر لے آیا۔سابق امریکی فوجی انتھونی ایگوئلر نے بچے کے قتل کا دلخراش واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ عامر 12 کلومیٹر دور سے کھانا لینے آیا تھا، بچے نے بچا کھچا سامان ملنے پر میرا ہاتھ چوما، شکریہ کہا، واپس جاتے لوگوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کردی، عامر بھی ان فلسطینیوں میں شامل تھا جن پر گولیاں برسائی گئیں.
حماس نے کہا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے،دارالحکومت بیت المقدس کے ساتھ خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام تک مزاحمت جاری رہے گی ،فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے گلوبل ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے امدادی مرکز کے دورے کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے ان کے بیان پر ردعمل دیا ہے۔اسرائیل کے دورے پر موجود امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے بیان پر حماس نے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ عالمی برادری کے اعلانات کے باوجود غزہ میں قحط کی صورتحال بدستور برقرار ہے ۔ غزہ کے محکمہ شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ امدادی مراکز کی طرف جانے والی تمام سڑکوں پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے بھوک سے نڈھال اور امداد کے منتظر فلسطینیوں پر براہ راست گولیاں چلائیں۔ غزہ شہر کے مغرب میں فلسطینی ہلال احمر کے تحت چلنے والے “القدس اسپتال” نے اطلاع دی ہے کہ نیٹزاریم کے قریب خوراک لینے کی کوشش میں زخمی ہونے والے 14 افراد کو داخل کیا گیا ہے۔ حماس کے زیرانتظام سرکاری اطلاعاتی دفتر نے بتایا ہے کہ غزہ میں 109 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے جن میں سے بیشتر لوٹ مار اور سکیورٹی انتشار کا شکار ہو گئے۔ دفتر نے اس صورتحال کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھوک کے ذریعے امداد کی تقسیم کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کی خواتین ایجنسی کی ڈائریکٹر صوفیہ کالٹورپ نے بتایا ہے کہ غزہ میں خواتین اور لڑکیوں کو ایک ناممکن انتخاب کا سامنا ہے: یا تو وہ اپنے پناہ گاہوں میں بھوک سے مر جائیں، یا پھر خوراک اور پانی کی تلاش میں باہر نکلیں جہاں قتل ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں جزوی امداد کی رسائی عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے، بظاہر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت دے دی گئی ہے، مگر فلسطینی ذرائع اس کی تردید کر رہے ہیں، غزہ میں ابھی تک فاقہ کشی کا عالم ہے، غزہ کے سرکاری اطلاعاتی دفتر کا کہنا ہے کہ انسانی بحران سے نکلنے کے لیے یومیہ چھے سو ٹرکوں کی ضرورت ہے، جس میں خوراک، ادویات، ایندھن، دیگر اشیائے ضرورت اور بچوں کے لیے کم از کم ڈھائی لاکھ دودھ کے ڈبے درکار ہیں، اب تک جس امداد کو پہنچانے کا اعلان کیا گیا ہے وہ اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔
بھوک سے بے حال غزہ میں فاقے زندگیوں کو نگلنے لگے، بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں، روٹی کے ایک ٹکڑے، دال کے ایک قطرے، چاول کے ایک دانے کو ترس گئے، لاکھوں بے بس شہریوں کے لیے کھانے پینے کا سامان نایاب ہوگیا۔
امدادی مراکز کی ویڈیوز نے انسانیت کو شرما دیا، نیتن یاہو کی قابض فوج نے قحط کی صورت حال پیدا کر دی، سمندر میں ناکے لگا دیے، انسانی امداد بند کر دی،خوراک اور دوائیں لے جانے والی کشتی پر دھاوا بول دیا، امدادی سامان پر قبضہ کرلیا۔
غزہ میں بھوک سے اموات پر کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے فوری جنگ بندی اور انسانی حقوق کا احترام کرنے کا مطالبہ کر دیا.
امن کا نوبل انعام حاصل کرنے کے خواہش مند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس جنگ بندی نہیں چاہتی، ان کے لیڈروں کا شکار کرکے نجات حاصل کرنا ہوگی، حماس غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی خواہاں نہیں‘ امریکا نے غزہ سے بہت سے یرغمالیوں کو نکال لیا ہے اور جب آخری یرغمالی بھی نکال لیا جائے گا تو حماس کو معلوم ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا، اسی لیے وہ مذاکرات سے پیچھے ہٹ گئی ہے‘ ایسا لگتا ہے کہ حماس کے لوگ مرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے حماس کے مؤقف کو خود غرض قرار دے کر دھمکی دی ہے کہ قیدیوں کی بازیابی اب دیگر راستوں سے کی جائے گی۔ واضح رہے کہ چند روز قبل حماس نے مصر و قطر کو غزہ میں جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے پر اپنا تفصیلی، مثبت اور لچکدار جواب پیش کیا تھا، جس پر اس مؤقف کو عرب ثالثوں نے سراہا اور اسے فریقین کو قریب لانے کی کوشش قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی کہا تھا کہ امریکا فوری جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا خواہاں ہے۔ مگر اب الٹی زقند بھرتے ہوئے ٹرمپ جس لب ولہجے کا اظہار کر رہے ہیں وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسی کا حصہ ہے،جو قطعاً تعجب خیز نہیں وہ اس نوع کے عزائم کا اظہار پہلے بھی کرتے رہے ہیں.
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اگر اسرائیل کچھ شرائط پوری نہیں کرتا تو اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست تسلیم کی جائے گی۔کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اسرائیلی حکومت غزہ کی صورتحال بہتر کرنے کیلئے اقدامات کرے، اسرائیل غزہ میں فوری جنگ بندی اور طویل مدتی امن کے عزم کا اظہار کرے۔لندن میں کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر نے کہا کہ غزہ کی صورتحال نہ بدلی تو برطانیہ ستمبر میں فلسطین کو ریاست تسلیم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی، مغربی کنارے پر تسلط نہ کرنے کا اعلان اور دو ریاستی حل پر رضامندی نہ دی تو ستمبر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے پہلے فلسطینی ریاست کو مشروط تسلیم کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی برابری نہیں ہے، حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ برقرار ہے۔اس سے پہلے فرانس بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔کولمبیا کے صدر گوستاوو پیترو نے اسرائیل کو کوئلہ برآمد کرنے پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ٹن کوئلہ بھی اسرائیل نہیں جائے گا، دوسری جانب یمن کی انصار اللہ جماعت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی بندرگاہوں کے ساتھ ڈیل کرنے والی کسی بھی کمپنی کے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں شہریوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مصری سفارت خانے کے مرکزی گیٹ کے سامنے مظاہرہ کیا اور مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کی بندش کے خلاف احتجاج کیا، مظاہرین نے نیتن یاہو اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی تصویریں سفارت خانے کے گیٹ کے سامنے زمین پر رکھ کر ان پر سرخ پینٹ انڈیل دیا.
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بھی احتجاج کیا گیا۔ ایک جانب یہ صورتحال ہے کہ پوری دنیا حتیٰ کہ اسرائیلی شہری بھی بلا امیتاز رنگ، نسل، زبان اور مذہب کے اسرائیلی درندگی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں تو دوسری جانب عالمی برادری نے اسرائیلی مظالم پر اپنی آنکھیں مکمل طور پر بند کرلی ہیں.متحدہ عرب امارات نے غزہ میں محصور فلسطینیوں کیلئے پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کا مستقل انتظام کر دیا ہے، 5 سے 7 لاکھ فلسطینی پیاس بجھا سکیں گے۔غزہ اور مصر کی سرحد رفح کے قریب قائم اماراتی ڈیسیلینیشن پلانٹس سے غزہ کے فلسطینیوں کیلئے پینے کے پانی کی فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق، منصوبے کے تحت روزانہ تقریباً 20 لاکھ گیلن صاف پانی غزہ پہنچایا جائے گا، جو لاکھوں متاثرہ افراد کی پیاس بجھانے کیلئے امید کی کرن ہے۔اماراتی حکام کے مطابق، 6.7 کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن کے ذریعے رفح فلسطین سے خان یونس تک پانی پہنچایا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی بمباری اور ناکہ بندی کے باعث غزہ کی 85 فیصد سے زائد پانی کی لائنیں تباہ ہو چکی ہیں۔
گزشتہ چند روز میں رفح سرحد کے نزدیک پانی کی نئی پائپ لائنز ڈالی گئی ہیں اور تباہ شدہ پانی کی لائنوں کو دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔متحدہ عرب امارات کی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ اقدامات متحدہ عرب امارات کی غزہ امدادی مہم “آپریشن الفارس الشہم تھری ” کے تحت کیے جا رہے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے فضائی امدادی سروس “طیور الخیر” بھی دوبارہ شروع کر دی ہے۔
فلسطین میں اسرائیل کا پیدا کردہ بھوک کا بحران قحط کی صورت اختیار کر گیا ہے۔غزہ میں فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ دیگر مسلم ممالک کی طرح مصر کی عوام کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
غزہ میں بھوک سے پیدا ہونے والی قحط کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مصر کے شہریوں نے ’’سمندر سے سمندر‘‘ نامی ایک منفرد مہم شروع کی ہے. غزہ سے موصول ہونے والے فاقہ کشی کے مناظر سے خوفزدہ مصریوں نے بوتلوں میں اناج، چاول سمیت دیگر خشک اشیا خرد و نوش بھرکر اس امید کے ساتھ سمندر میں بہانا شروع کر دیا ہے کہ یہ غزہ کے مظلومین تک پہنچ جائے گا۔گوکہ یہ ایک علامتی اقدام ہے، تاہم اس اقدام میں حصہ لینے والے مصریوں کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل کے ظلم پر قابو پانے کی ایک معمولی کوشش ہے۔
انہوں نے بحیرہ روم سے متصل ممالک لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش سمیت دیگر سے بھی اپیل کی ہے کہ اس اقدام میں اپنا حصہ ڈالیں۔مقامی میڈیا کے مطابق بوتل میں پیغام بھیجنے کے طریقہ کار سے متاثر ہو کر اُٹھایا گیا یہ اقدام قابلِ ستائش ہے۔ سوشل میڈیا صارفین بھی اس کی پذیرائی کر رہے ہیں.بین القوامی امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ غزہ میں 22 لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں، اسرائیل نے کئی ماہ سے غزہ میں امداد کی ترسیل کو روکا ہوا تھا۔
اسرائیل کے اس ہتھکنڈے کے خلاف خود اس کے اپنی شہری بھی سراپا احتجاج ہیں، گزشتہ روز اسرائیل میں سیکڑوں افراد نے تل ابیب میں امریکی سفارت خانے کی طرف مارچ کیا اور حکومت سے غزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا، مظاہرین نے اسرائیل کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج کیا اور ساتھ ہی بھوک کو ہتھیار بنانا جنگی جرم، غزہ اکیلا نہیں کے نعرے لگائے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں غذائی بحران مایوسی کی بے مثال سطح پر پہنچ گیا ہے اور ہر 3 میں سے 1 فرد کئی دنوں سے نہیں کچھ کھا رہا، غذائی قلت مزید بگڑ گئی ہے ، اگلے چند ماہ میں 470,000 فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی میں تباہ کن قحط کا سامنا ہونے کی توقع ہے۔
غزہ میں حماس کے سربراہ خلیل الحیا کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری نسل کشی، بچوں، خواتین اور لوگوں کی شہادتیں، بھوک اور محاصرے کے دوران مذاکرات جاری رکھنا بے معنی ہے۔
حماس نے کہا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے،دارالحکومت بیت المقدس کے ساتھ خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام تک مزاحمت جاری رہے گی ،فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے گلوبل ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے امدادی مرکز کے دورے کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے ان کے بیان پر ردعمل دیا ہے۔اسرائیل کے دورے پر موجود امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے بیان پر حماس نے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
ہمارے مسلم حکمران بھی بے حسی اور بے حمیتی کی کھلی تصویر بنے ہوئے ہیں، اس نسل کشی پر او آئی سی اور عرب لیگ بھی کسی طور حرکت میں آنے پر تیار نہیں ہیں ۔ غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم، بھوک اور قحط پر مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی ان کی مجرم ضمیری کی علامت ہے۔ آج غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ جنگ نہیں صریحاً نسل کشی ہے، اس نسل کشی پر خاموشی اختیار کرنا اجتماعی اور ملی جرم ہے.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد*
*خوفزدہ بھارت کرکٹ کے میدان سے بھی بھاگ نکلا*
پاکستان سے جنگ میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت ہر محاذ پر منہ چھپاتا پھر رہا ہے.
بھارت پہلگام واقعہ اور آپريشن سندور کی ناکامی کے بعد بھی سازشیں کر رہا ہے.
بھارت کی معیشت اور سفارتی شکست کے بعد اب کھیل کے میدان میں بھی شکست فاش ہوئی. بزدل بھارتیوں کے دل میں پاکستان کا ڈر خوف بیٹھ گیا ہے ہر میدان میں منہ چھپاتے پھر رہیں. ناکامی، ذلت اور رسوائی سے بچنے کے لیے کھیل کے میدان سے بھی بھاگ گئے. گذشتہ دنوں ورلڈ چیمپئنز شپ آف لیجنڈز ( ڈبلیو سی ایل) 2025ء کا چوتھا میچ آج پاکستان اور بھارت کے درمیان برمنگھم میں ہونا تھا جسے منسوخ کردیا گیا. اس میچ کی منسوخی کا اعلان ڈبلیو سی ایل کے سوشل میڈیا ایپ ایکس پر موجود آفیشل اکاؤنٹ پر کیا گیا.

سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہم نے ڈبلیو سی ایل میں ہمیشہ کرکٹ کو پسند کیا اور ہمارا واحد مقصد شائقین کو کچھ اچھے اور خوشگوار لمحات دینا ہے۔
واضح رہے کہ میچ منسوخ ہونے کے اعلان سے پہلے بھارتی میڈیا پر کچھ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ 5 بھارتی کرکٹرز نے میچ سے قبل ایک شرط رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سابق پاکستانی آل راؤنڈر شاہد آفریدی کو اسکواڈ میں شامل کیا جاتا ہے یا اسٹیڈیم کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں تو وہ میچ نہیں کھیلیں گے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان، یوسف پٹھان، سریش رائنا، ہربھجن سنگھ اور شیکھر دھون نے شاہد آفریدی کی پاکستانی اسکواڈ میں موجودگی پر سخت اعتراض کیا ہے اور ٹورنامنٹ کے منتظمین کو اپنا مؤقف باضابطہ طور پر بتا دیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہربھجن سنگھ اور یوسف پٹھان سیاسی کشیدگی اور عوامی جذبات کا حوالہ دیتے ہوئے پاک بھارت میچ سے پہلے ہی دستبردار ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ کرکٹر شاہد خان آفریدی پاک فوج اور کشمیر یوں کے حق میں بیان بازی کے لئے دنیا بھر کے میڈیا میں شہرت رکھتے ہیں۔بھارتی کرکٹرز کو حق اور سچ کے لئے ان کا بولنا پسند نہیں آیا اور ماضی میں وہ کرکٹرز جو شاہد آفریدی کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں انہوں نےسابق کپتان اور پاکستانی ٹیم کے ساتھ اتوار کو برمنگھم میں ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈزکا میچ کھیلنے سے انکار کردیا۔بھارتی کھلاڑیوں نے جینٹلمین گیم کو بھی آلودو کر دیا. اس وقت بھارتیوں کی مثال یہ کہ کِھسیانی بِلّی کَھمبا نوچے. یہ تعصب اور نفرت کی آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں گے. بھارتی کھلاڑیوں کا کھیل کے میدان سے بھاگ جانا بزدلی ہے. بہادر لوگ میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں. پاکستانی کھلاڑیوں نے کبھی بھی کھیل کے میدان میں کھیلنے سے انکار نہیں کیا. ہمارے کھاڑی بھارت کی سر زمین پر بھی کھیلنے گئے. وہ یہ میچ کھیلنے کے لیے تیار تھے مگر ڈرپوک بھارتی کھاڑی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اس غیر اخلاقی حرکت سے شائقین کرکٹ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی. پاکستانی شائقین کے علاوہ بھارتی شائقین نے بھارت کے اس اقدام کو غیر سنجیدہ اور ناپسند کیا. تاریخ میں بھارتی کھلاڑی کا یہ ناپسندیدہ فیصلہ ہمیشہ سیاہ الفاظ اور بدترین تصور کیا جائے گا.انڈیا والے جس طرح شاہد آفریدی سے ڈر رہے تھے ، لگتا ہے جیسے شاہد آفریدی نے ان کے پانچ فائٹر طیارے مار گرائے ہوں. انڈین کرکٹرز کی بزدلی نے شاہد آفریدی کو مزید شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا.
کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بوم بوم آفریدی بھارتیوں کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کا میدان میں آنا ہی بھارتی کھلاڑیوں کے لیے نفسیاتی دباؤ کا باعث بن گیا، جس کے باعث ایک اہم مقابلہ کھیلے بغیر ہی ختم کر دیا گیا۔
شاہین تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ
تو قوّت بازو سے اسے اور ہوا دے
بھارت کے مسلمانوں اور سکھوں پر انڈیا نے زمین تنگ کی ہوئی ہے. دو مسلمان ہیں اور دوسرا سکھ اور آپ کو پتہ ہے ان دونوں قوموں کو وہاں پریشانی سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ دونوں ہندو نہیں ہیں تو یہ بچارے اپنی وطن سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے کر رہے ہیں.
کرکٹ میں یہ دونوں بھائی عرفان پٹھان، یوسف پٹھان اور سیاست میں اویسی پاکستان کی مخالفت کرنے میں پہلے نمبر پر ہیں صرف خود کو سچا ہندوستانی ثابت کرنے کی خاطر لیکن ان کی عزت ٹکے کی نہیں ہے
بھارت اور وہاں کی متعصب عوام نے کھیل اور فنون لطیفہ کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں.
بھارتی حکومت نے پاکستانی فنکاروں پر بھی پابندی عائد کر دی.
کھیل اور فنون لطیفہ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی. کھلاڑیوں، اداکاروں، موسیقاروں، لکھاریوں اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد محبت کے سفیر مانے اور سمجھے جاتے ہیں، ان کا کام محبتیں اور امن پھیلانا ہے۔ یہ امن، یکجہتی اور محبت کو فروغ دینے والے سفیر ہوتے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنازع میں کھیل اور فنون لطیفہ سے وابستہ شخصیات کو نہیں گھسیٹا جانا چاہیے۔
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے
کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے.
کھلاڑیوں کو اپنے ملک کا سفیر بننا چاہیے اور انھیں شرمندگی کا باعث نہیں بننا چاہیے۔
پاکستانی عوام اور حکومت نے ہمیشہ کھیل اور فنون لطیفہ کی ترویج میں مثبت کردار ادا کیا ہے. لیکن بھارت نے ہمیشہ راہ فرار اختیار کیا. بھارتی میڈیا آگ لگانے کا کام کرتا ہے ان کے پاس پاکستان کے علاوہ دوسرا موضوع ہرہ سرائی کے لیے نہیں ہے. ہر وقت پاکستان کے داخلی معاملات پر بات کرتے ہیں.
بھارت کھیل میں اپنی بدمعاشی اور اجارہ داری ختم کرے اور دنیا میں اپنائیت تماشا نہیں بنائے. دنیا کے دیگر ممالک بھی بھارتی جارحانہ رویوں کو اچھی طرح سمجھ گئے ہیں. حال ہی میں بھارتی کھلاڑیوں نے آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کے ساتھ میچ کے دوران بدتمیزی کی. مستقبل میں ایشیا کرکٹ کپ ہونے والا ہے بھارتیوں نے ابھی سے رخنہ ڈالنا شروع کر دیا ہے.بھارتی کرکٹ بورڈ مسلسل سازشوں میں مصروف ہے کہ ٹورنامنٹ نہ ہو اور پاکستان کو سوا ارب روپے کابھاری مالی خسارہ ہوسکتا ہے۔پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو ایشین کرکٹ کونسل صدر کی حیثیت سے ناکام بنایا جائے ۔سری لنکا اور افغانستان بھی بھارتی لابی میں شامل ہوکرپاکستان مخالف سازشوں میں متحرک ہیں۔ ایشین کرکٹ کونسل کے چیئر مین ہیں اس لئے بھارت مسلسل کوشش کررہا ہے کہ پاکستان سے جنگ ہارنے کے بعد کرکٹ کے میدان میں پاکستان کو مالی نقصان پہنچائے۔
انہیں پاکستان کے علاوہ بنگلاديش سے بھی مسئلہ ہے. ان کا فرمائشی پروگرام ختم نہیں ہوتا. ہم یہاں نہیں کھلیں گے ہم وہاں نہیں کھلیں گے. پاکستان کو ان کے خلاف سخت موقف اختيار کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو منانا چاہیے. کرکٹ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانا چاہیے. اگر بھارتی کھیلنا نہیـں چاہتے تو ان کی منت سماجت نہیـں کریں. اب وقت آگیا ہے کہ جنگ کی طرح ان کو کھیل میدان میں بھی سبق سکھانا چاہیے.
بھارتی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی کو ایشیا کپ اور دیگر بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹس سے تقریباً 8.8 ارب روپے (264 کروڑ بھارتی روپے)آمدنی متوقع ہے۔پاکستان کوایشیا کپ سے 1.16ارب روپے ( 34.8 کروڑبھارتی روپے )کی آمدنی کی توقع ہے۔بھارتی میڈیا کا دعوی ہے کہ درحقیقت، بورڈ کے ایک معتبر ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ پی سی بی نے اس مالی سال کے دوران آئی سی سی سے اپنے حصے کے طور پر 25.9ملین امریکی ڈالر (تقریبا ساڑھے سات ارب روپے) مختص کیے ہیں۔ان پیسوں کو پی سی بی کے سالانہ اخراجات کے لئے اہم قرار دیا جارہا ہے.
بھارتی میڈیا دعوی کررہا ہے کہ اگر اس سال ایشیا کپ نہ ہوا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھاری مالی نقصان ہوگا۔پی سی بی ترجمان نے بھارتی میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھارتی پر و پیگنڈے کا جواب نہیں دیتے ۔بھارت کا غرور خاک میں مل گیا ویسٹ انڈیز، ساتھ افریقہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا سے عبرتناک شکست کے بعد بھارت ورلڈ چیمپئنز شپ آف لیجنڈز کی دوڑ سے باہر ہو گیا.بھارت کو صرف ایک پوائنٹ ملا وہ بھی پاکستان کی خیرات میں یعنی بھارت نے پاکستان سے میچ نہیں کھیلا.
بے آبرو ذلیل و رسوا ہو کر بھارت کا ٹکٹ کٹوا کر روزانہ ہو گئے. غرور تکبر کا یہی عبرتناک انجام ہوتا ہے.
بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایشیا کپ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ *
*پاکستانی ڈراما عروج سے زوال کی جانب گامزن*
ڈرامے کا تصور قدیم یونان سے وابستہ ہے، ڈرامے کا لفظ یونانی زبان کے لفظ “ڈراؤ”سے بنا ہے جس کے معنی تمثیل، ناٹک یا سوانگ کے ہیں ان سب الفاظ کا مفہوم ہے کچھ کر کے دکھانا. ڈرامے سے انسان کی دلچسپی فطری ہے.
ڈراما ادب کی اہم ترین صنف میں شمار ہوتا ہے. ڈرامے کی تعریف سب سے پہلے یونان کے مشہور فلسفی اور نقاد ارسطو نے اپنی مشہور کتاب بوطیقا میں کی ہے جس میں انہوں نے ڈرامے کو انسانی اعمال کی نقل قرار دیا ہے یہ نقالی دراصل اپنے مخصوص معنیٰ میں زندگی کی عکاسی کا نام ہے. ڈراما خود زندگی نہیں بلکہ انسانی زندگی کو پیش کرنے کا ذریعہ ہے.
اردو کے اولین ڈرامے لکھنؤ میں لکھے گئے اور اسٹیج پر پیش کئے گئے.واجد علی شاہ کو اردو کا پہلا ڈراما نگار مانا جاتا ہے ان کا پہلا ڈراما رادھا کنہیا کا قصہ ہے. ابتدائی ڈراموں میں امانت لکھنوی کا اندر سبھا 1854 اپنے دور کا مقبول ترین ڈراما تھا. اس کی مقبولیت میں منظوم مکالموں، موسیقی اور ناچ گانوں کی کثرت کو دخل تھا.اندر سبھا کو اس کے شاعرانہ حسن، زبان کی صفائی اور شیرینی اور ہندوستانی دیو مالا کے لطیف امتزاج کی وجہ سے کافی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی. پہلے ڈراما شاعری کا ایک جزو سمجھا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس نے ایک مستقل ادبی صنف کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اب اس کے لئے نظم کی شرط نہیں رہی بلکہ نظم میں ڈرامہ لکھنے کا رواج بہت کم ہو گیا ہے۔انگریزی ادب میں شیکسپیئر اور اردو أدب میں آغا حشر کاشمیری نے ڈرامے کی صنف کو فروغ دیا.پی ٹی وی کا ناظر زیادہ دور نہ جائے اور صرف 80ء اور 90ء کی دہائیوں کی طرف دیکھے تو بہترین کہانیوں، بامقصد موضوعات اور شاندار اداکاری سے سجے ڈراموں کی ایک لمبی فہرست نظر آتی ہے.پاکستان ڈراما انڈسٹری کی تاریخ میں کئی ڈرامے ایسے بن چکے ہیں جنہوں نے معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں کی نہ صرف عکاسی کی بلکہ ناظرین کو معاشرتی مسائل سے آگاہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ چاہے وہ بہترین کامیڈی ڈرامے ہوں یا رومانوی، تاریخی روایات سے جڑے ہوں یا کسی خاص واقعہ کے گرد گھومنے والے لانگ پلے۔ یہی وجہ ہے کہ چلتے چلتے 80 کی دہائی میں ڈرامہ ایک ”جمہوری فن ”بن چکا تھا. یہ وہ دور تھا کہ جب ڈرامے کا انتظار ہوا کرتا تھا گھر کے تمام افراد خاص طور پر خواتین مقررہ وقت سے پہلے اپنے کام ختم کرکے ٹی وی کے سامنے آ بیٹھتے تھے۔ 8 سے 9 بجے تک سڑکوں پر ٹریفک بہت کم ہوتا تھا اور انتہائی ضروری کام کے بغیر گھر سے باہر نہیں جایا جاتا تھا۔ ہر شخص ڈراما کا شائق تھا۔ اس وقت اگر چہ ڈراموں کی تعداد کم تھی مگر معیار اور مقبولیت اس مقام پر تھی کہ لوگوں کو نہ صرف کرداروں کے اصل نام یاد تھے بلکہ ان کے مخصوص ڈائیلاگ تک یاد ہوتے تھے.وارث، دھواں، ہوائیں، دھوپ کنارے، اندھیرا اجالا، شمع، انکل عرفی، تنہائیاں، الفابراوچارلی ڈرامہ سیریل ٹیلی وژن پر نشر ہوا کرتے تھے تو ان کی ہر قسط کے موقع پر گلیاں، بازار سنسان ہو جایا کرتے تھے. دکانیں قبل از وقت بند ہو جاتی تھیں. ڈراما دیکھنے کا جنون اور لطف دیدنی تھا. اور پھر 90 کی دہائی میں ہی اسٹار پلس اور سونی ٹی وی کے ڈرامے پاکستان میں بہت مقبول ہونے لگے. ناظرین خاص طور پر خواتین اسٹار پلس کے ڈرامے بہت شوق سے دیکھتی تھیں اور ان ڈراموں کی تہذیب و ثقافت تمدن کے اثرات ہمارے معاشرے میں تیزی سے نظر آنے لگے خاص طور پر شادی کی تقریبات میں بھارتی کلچر آج بھی نمایاں ہے.پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات خراب ہونے کے بعد بھارتی چینلز اور ڈراموں پر پابندی عائد کر دی گئی اس کے نتیجے میں پاکستانی چینلز نے سکھ کا سانس لیا اور پاکستان میں ڈرامے بنانے کے لیے سارے ٹی وی چینلز میدان میں اترے اور مختلف ڈراما پروڈکشن قائم ہو گئیں. ہر چینل پر ڈراموں کی یلغار شروع ہو گئی اور تمام چینلز ریٹنگ کی دوڑ میں شامل ہو گئے. اس ریٹنگ کی وجہ سے ڈراما کمرشل،کاروبار اور کمانے کا ذریعہ بن گیا اور دن بدن ان ڈراموں کا معیار گرنے لگا.
بھارتی چینلز کی بندش کے بعد پاکستان کے ڈراموں میں اسٹار پلس کا رنگ ایسا غالب ہوا کہ کتنے ہی برس گزرنے کے بعد بھی پاکستانی ڈرامے اسٹار پلس کے رنگ سے پیچھا نہیں چھڑا سکے.
دور حاضر میں ٹی وی ڈراما اب لٹریچر کا حصہ نہیں رہا. ڈرامے میں غیر معیاری کہانیاں، بیہودہ ڈائیلاگ، اقساط کی بھر مار 100 اقساط کا ڈراما اپنی انفرادیت اور اہمیت کھو بیٹھتا ہے.
کہانی کا ذکر کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ ڈرامے کے آن ایئر ہونے کے بعد شائقین کی پسندیدگی کو مدنظر رکھ کر کہانی کی سمت طے کی جاتی ہے۔ سادہ لفظوں میں کہا جائے تو ڈراما پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ پر مبنی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ہر ڈرامے میں کہانی کو اتنا غیر ضروری طول دیا جاتا ہے کہ بندہ بیزار ہونے لگتا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً ہر ڈرامے کی اڑتیس منٹ پر مبنی قسط میں کہانی صرف دس منٹ ہی ہوتی ہے۔ بقایا تمام وقت بیک گراؤنڈ میں ڈرامے کا ٹائٹل سانگ، میوزک سنا کر چہرے کے تاثرات دکھا کر پورا کیا جاتا ہے جو کہ کہانی کو آگے بڑھانے میں کسی بھی طرح مددگار ثابت نہیں ہوتا ہے۔آج کل ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے لوگوں کے پاس وقت کی قلتّ کے باعث ہر چیز کو اختصار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ کل کی لمبی لمبی داستانوں نے آج شارٹ اسٹوریز کی شکل لے لی ہے۔ناظرین ڈرامے کے ساتھ وقتی طور پر جڑ تو ضرور جاتے ہیں لیکن ڈرامے کی طوالت کی وجہ سے اکتاہٹ کا شکار ہو کر اسے درمیان میں ہی چھوڑ دیتے ہیں انھیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ نا جانے یہ ڈرامہ کتنا عرصہ چلے اور کب ختم ہوا گا؟
طویل دورانیے کے ڈراموں میں ڈراما رائٹر خود پچھلی اقساط کی کہانی بھول جاتے ہیں. گذشتہ اقساط میں چھوڑے ہوئے واقعات اور سین غائب ہو جاتے ہیں. ہر چینل پر مخصوص یکسانیت کے ڈرامے نشر ہوتے ہیں.
سب ڈراموں میں ایک ہی تھیم مختلف انداز میں دکھائی جاتی ہے۔
اگر گزشتہ کچھ عرصے کے ڈراما سیریلز پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی ڈراموں کی تھیمز طلاق، حلالہ، معاشقہ، بیوفائی اور گھریلو سازشوں پر مبنی ہیں۔ کہیں بھابھی اپنے دیور کو پسند کرتی ہے تو کسی ڈرامے میں سالی کا بہنوئی پر دل آ جاتا ہے۔ کہیں پر نند اپنی بھابھی کی طلاق کرواتی ہوئی نظر آتی ہے۔ امیر لڑکی غریب لڑکے کو پسند کرتی ہے یا پھر اس کے الٹ امیر لڑکا غریب لڑکی کو پسند کرتا ہے۔
آج کل نئی تھیم متعارف کرائی گئی ہے کہ دو خاندانوں میں ذاتی دشمنی کے نتیجے میں بدلہ لینا اور قتل کر دینا اس کے ساتھ قانون کو کمزور دکھانا جبکہ پولیس کا منفی کردار دکھایا جا رہا ہے.
پاکستانی ڈراموں میں رشتوں کے تقدس کی پاسداری کم سے کم محسوس ہوتی ہے۔ڈراموں میں ساس بہو کی جنگ، تھپڑوں کی برسات، دوسری شادی، ماں بیٹی کی آپس میں نفرتیں، بیوی کا شوہر سے بدتمیزی کا انداز، ماں باپ کی بے توقیری، قریبی رشتہ داروں کے جادو ٹونے، باپ بیٹے کی لڑائی جیسے موضوعات نے مقصدیت سے بھرے ڈراموں کی جگہ لے لی ہے۔ 95فیصد ڈرامے ایسے ہیں جن میں صرف رشتوں اور خاندان کو توڑنے والی کہانیاں دکھائی جا رہی ہیں۔ دادی، نانی کو باعث زحمت دکھایا جاتا ہے۔ نندوں کو ڈائن، چڑیل باور کروایا جارہا ہے۔ نتیجتاً رشتوں میں بدگمانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔اکثر اوقات ڈراموں میں یہ سین دیکھنے کو ملتے ہیں کہ عورت، عورت کی دشمن ہے۔ ماں کوخودغرض دکھایا جاتاہے جو بیٹے،بیٹی کی تنخواہ کی شائق ہوتی ہے۔ پیسوں کی خاطر اپنے شوہر، بچوں،گھر کو قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی.
اشتہارات کی بھر مار ہوتی ہے،
طویل ڈائیلاگ، فلیش بیک اور خاموش سین ٹھر جاتا ہے ، ڈرامے میں چربہ سازی ہو رہی ہے. پہلی قسط دیکھ کر پورا ڈراما سمجھ میں آ جاتا ہے

رومینٹک ڈائیلاگ اور جسمانی قربت سے فحاشی عیاں ہوتی ہے.سگریٹ اور شراب نوشی کے سین کھلے عام دکھانا ہمارے معاشرے کی اقدار کو پامال کرنا ہے. ہماری نوجوان نسل میں منفی رجحان پیدا ہو رہا ہے.
بے ربط ڈراموں سے عوام بیزار آ گئے ہیں. ڈراموں کی بھرمار کی وجہ سے عوام میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے.پاکستانی ڈراما ڈرائنگ روم اور گھر تک محدود ہوگیا ہے.
اب ڈرامے فیملی ڈرامے نہیں رہے۔
اب اہل خانہ اکھٹے بیٹھ کر ڈراما دیکھنے سے کتراتے ہیں. پاکستانی ڈراما اب ادب کی قیود سے نکل کر غیردلچسپ اور عامیانہ افسانوی انداز میں تحریر کیا جا رہا ہے اور وہ بھی پھکڑ پن کے ساتھ.
ڈراما نگاروں کی جگہ ڈائجسٹ نگاروں نے لے لی۔
ماضی میں مشہور و معروف ڈراما نگاروں میں حسنیہ معین، فاطمہ
ثریا بجیا، اشفاق احمد، اصغر نديم سید، منو بھائی قابلِ ذکر ہیں.
ڈراما اپنے حقیقی ماحول سے نکل کر خیالی دنیا میں جا بسا، جہاں رومان، جنسی لگاؤ، دکھاوا، منفی کردار اور گانوں نے قدم جمالیے۔پاکستانی ٹی وی چینلز پر ڈراما پاکستانی ثقافت و روایات سے کوسوں دور، بے مقصد ڈراموں کی بھرمار ہے، جن میں صرف یہ دکھایا جا رہا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی محبت کا نتیجہ کیا نکلے گا. پاکستانی ڈراما نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو محبت میں کامیابی اور لڑکی کو اپنی طرف راغب کرنے کے طریقے سکھا رہا ہے۔ ایک ڈرامے میں درجن بھر لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی محبت کو پانے کے لیے جائز و ناجائز طریقہ کار اپناتے دیکھایا جا رہا ہے، جو نہ تو پی ٹی وی کا خاصا رہا اور نہ ہماری روایات کا حصہ۔
ان ڈراموں میں خواتین کے لباس کا ہماری روایات سے دور دور تک تعلق نظر نہیں آتا، اوپر سے ذو معنی جملوں کی بھرمار اور مشرقی اقدار کی نفی نے فیملیز کو پاکستانی ڈراموں سے دور کردیا ہے.
جو چینل لگاؤ، ہر جگہ ایک ہی جیسے ڈرامے نشر ہو رہے ہیں۔ شائقین بھی تنگ آچکے ہیں۔
انسان دماغی تناؤ کو کم کرنے کے لیے اکثر مختلف طرح کے ٹی وی ڈرامے دیکھتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچھ ڈرامے دماغی کیفیت کو بہتر کرنے کے بجائے اس پر منفی اثرات بھی مرتب کرسکتے ہیں۔اگر پاکستانی ڈراموں کی بات کی جائے تو آج کل ہر دوسرا ڈراما اُداسی اور سازشوں کی کہانی بیان کر رہا ہوتا ہے۔ماہرِ نفسیات کے مطابق انسان جو بھی ڈراما دیکھتا ہے اس کے منفی یا مثبت اثرات ہوتے ہیں۔ انسان بے شمار چیزیں انہی ڈراموں سے سیکھتا ہے کیونکہ وہ اُن تمام چیزوں کو حقیقت سمجھتا ہے۔
ڈرامے کسی بھی معاشرے کے عکاس ہوتے ہیں مگر ہمارے ڈراموں میں عورت کا جو روپ دکھایا جا رہا ہے وہ معاشرے میں کہاں ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ معاشرے میں ظلم بڑھ گیا ہے عورت واقعی ظلم کی شکار ہے مگر آج کی عورت پہلے کے مقابلے میں زیادہ با شعور بھی تو ہو گئی ہے۔ وہ شعور ڈراموں میں کیوں نظر نہیں آتا؟ آج کے ڈراموں میں جسمانی قربت تو بڑھ گئی ہے مگر ذہنی اور روحانی قربت کا فقدان ہوگیا ہے جو کسی بھی رشتے کی اساس تصور کی جاتی ہے۔آج کل عورت کو منفی روپ میں دکھایا جا رہا ہے. پڑھی لکھی عورت بھی ظلم و ستم سہہ رہی ہے.ماضی کے ڈراموں میں مرکزی کردار عورت تھی جس کو مثبت انداز میں دکھایا جاتا تھا.
آج کی عورت کو وہ عزت، وہ مقام حاصل نہیں ہے جو اسے ماضی کے ڈراموں میں حاصل تھا۔ اس وقت عورت مرکزی حیثیت رکھنے کے باوجود مار کھا رہی ہے۔ ظلم سہہ رہی ہے۔ سازشیں کر بھی رہی ہے اور ان کا شکار بھی ہوری ہے۔
پاکستان میں ڈرامہ انڈسٹری تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے مگر لوگ آج بھی پرانے دور کے ڈراموں اور پروگرامز کو یاد کرتے ہیں۔
پاکستان میں اچھے کہانی نویس اور ڈرامے کے اداکاراؤں کی شدید حد تک کمی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر ڈرامے میں وہی چہرہ نظر آتا ہے، ایک ڈرامہ میں کوئی اداکار کسی پروفیسر کا رول ادا کرتے ہوے نظر آتا ہے تو ٹھیک اُس کے بعد شروع ہونے والے ڈرامے میں وہی اداکار ڈاکو کے روپ میں نظر آتا ہے.
افسوس کہ آجکل کا نوجوان گہری سوچ اور فکر سے عاری ہے۔ نئی آنے والی نسل نے تفریح کا غلط مفہوم لے لیا ہے۔ ان کو عشق، معاشقہ، فحاشی و عریانی پرمبنی کہانیاں دلفریب لگتی ہیں.
حالیہ برسوں میں ایسے کئی ڈرامے منظر عام پر آئے ہیں جن کے نام اور موضوعات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مقصد صرف وقتی تفریح شہرت یا ریٹنگز کا حصول نہ کہ سنجیدہ معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالنا یا ذہن سازی کرنا. ایسے ڈراموں کے نام ہی چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ ان کے پیچھے کوئی گھیری سوچ نظریہ یا مقصد نہیں ہے، محض جذباتی رومانوی یا سنسنی خیز مناظر دکھا کر ناظرین کو لبھانا مقصود ہے. موجودہ ڈراموں کا عوامی رجحان یوں بنا دیا گیا ہے کہ مثبت ذہن انتشار کا شکار ہو جائیں. ان ڈراموں میں بیشتر میں کرداروں کی سطحی تشکیل خواتین کا استحصال فرد واحد کی جابرانہ حکومت غیر حقیقی، مصنوعی کہانیاں جو زمینی حقائق سے دور ہوتی ہیں جن میں رشتوں کی تصخیک دکھا کر خاندان کی مثبت تصویر کو پامال کیا جا رہا ہے. ذہن سازی کا پہلو پس منظر میں چلایا گیا ہے یا مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے. نتیجتاً معاشرہ محض تفریح پر مبنی، بے سمتی کا شکار ذہنوں سے بھرنے لگا ہے جو سوال نہیں کرتے صرف دیکھتے ہیں اور دہراتے ہیں. کچھ ایسے ڈرامے بھی جو واقعی ذہن سازی کا کام کر رہے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے.
آج کا ڈراما ہمارے معاشرے کی ثقافت اور تمدن کے مطابق نہیں ہے. گلیمر کی بھر مار، لگژری بنگلے اور گاڑیوں کی چکا چوند نظر آتی ہے. اردو ادب کی صنف ڈراما کی شرائط کو ملحوظ خاطر نہیـں رکھا جا رہا ہے. کرداروں میں گہرائی اور سچائی ناپید ہو چکی ہے.
ماضی کے سئنیر ڈراما نگار ڈرامے کی اصلاح اور ترویج میں اپنا اہم کردار ادا کریں. ڈراما نگاروں سے اپیل ہے کہ بامقصد کم از کم اقساط پر مبنی ڈرامے لکھیں جو ہمارے معاشرے کے عکاس اور عین مطابق ہوں. ناظرین اب طوالت پر مبنی ڈرامے دیکھنے سے بیزار ہو گئے ہیں اب عوام کے پاس اتنا وقت نہیں کہ مسلسل ڈراموں کو دیکھا جائے. ڈراموں کے لیے بھی سینسر بورڈ تشکیل دیا جائے جہاں غیر اخلاقی سین جیسے شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور بیہودہ ڈائیلاگ اور سین کو سینسر کیا جائے.اگر ان باتوں پر توجہ نہیـں دی گئی تو ہماری ڈراما انڈسٹری کا حال بھی فلم انڈسٹری کی طرح ہو جائے. عوام بہت باشعور ہو گئ ہے اس کے پاس تفریح حاصل کرنے کے بہت ذرائع ہیں جس میں نیٹ فلیکس بھی شامل ہے جہاں دنیا بھر کی تفریح موجود ہے. عوام کے پاس بیشمار چوائس موجود ہے.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں*
پاکستان میں غریب عوام اور متوسط طبقے کو دیوار سے لگا دیا گیا جبکہ اشرافیہ عیش و عشرت کی زندگی گذار رہے ہیں. پاکستان کی معیشت بہتر بنانے کے لیے سارے ٹیکس غریب متوسط طبقے پر مسلط کر دیے جاتے ہیں اور غریب عوام آہ و بُکا کر کے رہ جاتے ہیں. برق گرتی ہے بیچاری عوام پر، لمحہ فکریہ یہ کہ بے تحاشہ ٹیکس مسلط کرنے کے بعد بھی معیشت مستحکم نہیـں ہوتی ہے. حالیہ دنوں میں حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کے ہوش اڑ دیے. ہائے بیچاری عوام
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
پٹرولیم مصنوعات ڈیڑھ ماہ میں29 روپے71پیسے فی لیٹر تک مہنگی ہو گئی،یکم جون سے لیکر اب تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چار باراضافہ کیا گیا-محض ڈیڑھ ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 19روپے 52 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 29 روپے71 پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی-پیٹرول کی قیمت 31 مئی 2025 کو 252 روپے 63 پیسے فی لیٹر تھی اور اس وقت پیٹرول کی قیمت 272 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 31مئی 2025 کو 254 روپے 64پیسے فی لیٹر تھی اوراس وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 284روپے 35پیسے فی لیٹر ہے-
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ہمیں لوگوں کی تکلیف کا پوری طرح احساس ہے۔
وزیر صاحب کب تک غريب عوام سیاسی بیانات پر لولی پاپ چوسیں گے خون تو آپ چوس رہے ہیں. خدارا اب تو رحم کر دیں.
یاد رہے کہ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی جولائی کے آغاز میں یکم تاریخ کو پیٹرول 8 روپے 36 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 10 روپے 39 پیسے مہنگا کیا گیا تھا۔ مہنگائی کا تسلسل جاری ہے اور اب ماہ کے وسط میں مزید اضافہ عوام کے لیے ایک اور صدمہ بن گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں گراوٹ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی بھی برقرار رکھی گئی ہے، جو کہ بوجھ میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ پیٹرول پر فی لیٹر 75 روپے 52 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 74 روپے 51 پیسے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے، جو کہ مجموعی قیمت کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیا گیا، مگر یہ جواز عوامی ریلیف کے تناظر میں قابل قبول نہیں.
ملک میں سیاسی و معاشی بحران ، بدامنی ،دہشتگردی ، کمرتوڑ مہنگائی حکومتی بیڈگورننس اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل وہوشربااضافے پر تشویش کا باعث ہے.
حکومت نے مشکل حالات میں ریلیف دینے کی بجائے عوام کو مزید مہنگائی کی دلدل میں ڈال دیا ہے۔حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا کوئی ایجنڈا نہیں ٹیکسوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو مزید دبانا ناقابل قبول ہے.حکومت کے حالیہ فیصلے نے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو مزید مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔ حکومت صرف کاغذوں میں کامیاب دکھائی دیتی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے مکمل طور پر ناکام ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پہلے ہی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، اور حالیہ اضافہ عام شہری کو دانے دانے کا محتاج بنا دے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کا مطلب ہے کہ ہر شے مہنگی ہو جائے گی. ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس سب متاثر ہوں گے.
پیٹرول موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے بجٹ پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہےخاص طور جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹر سرکاری کرایہ ناموں کا انتظار کیے بغیر ہی من چاہا کرایہ وصول کرنے لگتے ہیں لیکن جب قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو کرایہ کم نہیں کرتے. حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تناظر میں نظر ثانی شدہ کرایہ نامے جاری کرنے کے ساتھ ساتھ اُن پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا چاہیے۔ جس طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا اثر ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافے کی صورت میں مجموعی مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے، ویسے ہی عوام کو سستی پٹرولیم مصنوعات کا حقیقی ریلیف تبھی مل سکے گا جب ٹرانسپورٹیشن اخراجات میں کمی کے اثرات غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں بھی سامنے آئیں گے۔رواں ماہ کے دوران مسلسل دوسری بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں جس سے عوام پر معاشی بوجھ بڑھا ہے.حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے دعوؤں کے باوجود عام آدمی کی معاشی صورتحال اس وقت مشکلات کا شکار ہے۔حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے متوسط اور غریب عوام کے کاندھوں پر بوجھ ڈال دیتی ہے.عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں یقیناََ بڑھ رہی ہیں، مگر حکومت نے کبھی اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ قیمتوں میں کمی کے دوران ان کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچتا؟
معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، سہولت اور استحکام سے پنپتی ہے۔ اگر مہنگائی کا بوجھ اسی طرح نچلے طبقات پر ڈالا جاتا رہا تو نہ صرف غربت میں اضافہ ہوگا بلکہ معاشرتی اضطراب بھی بڑھتا جائے گا۔وقت آ چکا ہے کہ حکومت صرف محصولات بڑھانے پر توجہ نہ دے بلکہ حقیقی معاشی منصوبہ بندی کرے ۔ ایسی منصوبہ بندی جو عام شہری کی زندگی بہتر بنانے کو ترجیح دے۔ بصورت دیگر ہر اضافہ ایک نئی عوامی بے چینی، اور شاید ایک نئے بحران کا آغاز ہوگا.
ہوتی نہیں جو قوم حق بات پہ یکجا
اُس قوم کا حاکم ہی بس اُس کی سزا ہے.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان*
*بھارت کی ناکام خارجہ پالیسی*
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کو صدارت سونپنے کے بعد بھارت کو ایک اور سفارتی دھچکا لگا ہے۔ چند روز قبل ہی پاکستان کو یو اینUN کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا نائب چیئرمین مقرر کیا گیا تھا، اور اب یہ تازہ پیشرفت پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور عالمی سطح پر مثبت کردار کو بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ بھارت کا پاکستان مخالف پراپیگنڈا مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔بھارت کے اندر بھی اس پیشرفت نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس کے رہنماء پون کھیرا نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار پہلگام حملے کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فوجیوں اور عوام کی قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا، جو افسوسناک ہے۔کانگریس کی رہنما رینیکا چودھری نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو ناکام، غیر مؤثر اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 151 دورے، 72 ممالک، بے شمار ملاقاتیں، مگر کوئی کامیابی نظر نہیں آتی۔ عوام کو وضاحت دی جائے کہ دہشت گردی کے خلاف بی جے پی کی حکمت عملی کیوں ناکام ہو رہی ہے؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ پہلگام حملے میں ملوث چار دہشت گرد اب تک کیوں آزاد ہیں؟ اور انٹیلی جنس کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟آپریشن سندور کو عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف قرار دینے کی بھارتی مہم بھی مکمل طور پر ناکام اور غیر مؤثر ثابت ہوئی۔

پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کا مودی اور بی جے پی کا بیانیہ نیست نابود ہو گیا. گذشتہ کئی سالوں سے مودی اور بی جے پی نے پاکستان کے خلاف اپنی عوام کو گمراہ کیا اور نفرت کی آگ میں جھونک دیا. اگر دہشتگردی کی بات کی جائے تو بھارت میں خود اپنے لوگوں کا قتل عام کیا گیا. مودی کے بھارت میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان انتہائی غیر محفوظ اور خوف میں مبتلا رہتے ہیں،آئے روز بھارت میں انتہا پسند بی جے پی مسلمانوں کیخلاف پرتشددکارروائیوں کیلئے تیار رہتی ہے۔بھارت میں دہشت گردی کے واقعات چشم دید ثبوت بھی نظر آتے ہیں لیکن بھارت پاکستان پر الزامات تو ضرور لگاتا ہے مگر دنیا کی عدالت عالمی قوتوں کے سامنے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کو ثابت نہیں کر سکا. یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا میں سرخرو ہوا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کو صدارت سونپ دی گئی جس کی وجہ سے بھارت میں صف ماتم بچھ گئی اور دہشتگردی کا بیانیہ جل کر راکھ ہو گیا. جنگ کے بعد بھارت کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا ہے.بھارت اب یہ دہشتگردی کا ناٹک بند کرے اور اپنی عوام کے مسائل حل کرنے پر بھرپور توجہ دے. جنگ کے بعد بھارت کی معیشت تباہ ہو گئ ہے. بھارت میں بھوک افلاس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے. عوام مودی کو دہائیاں دے رہے ہیں. عوام میں مایوسی اور اضطراب ہے. بھارت کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں لیکن آر ایس ایس کے دہشت گردوں کے خوف سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں. بھارتی عوام پینے کے صاف پانی،لیٹرین کی سہولیات سے محروم ہیں.اگر پاکستان دہشت گرد ملک ہوتا تو کبھی بھی اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی نہیـں کرتا. دنیا کے دیگر ممالک نے بھی پاکستان کی مخالفت نہیـں کی. پاکستان عالمی سطح پر روزانہ ایک کامیابیاں حاصل کر رہا ہے. جبکہ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیرا نے ناکام خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو آئینہ دکھا دیا۔انڈین نیشنل کانگریس کےچیئرمین برائے میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈپارٹمنٹ پون کھیرا نے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں کا اعتراف کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے اہم سوال پوچھ لیے۔انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما پون کھیرا نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ آپ کی خارجہ پالیسی کہاں ہے؟ پاکستان تو عالمی سطح پر کامیابیاں سمیٹ رہاہے، کویت نے پاکستان پر ویزا پابندیاں ختم کر دیں، کولمبیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، بتائیں کون سا ملک آج بھارت کے ساتھ کھڑا ہے؟
پون کھیرا کا کہنا تھا بھارت کیلئے یہ افسوسناک لمحہ ہے کہ روس بھی اب پاکستان کے ساتھ معاہدے طےکر رہا ہے، بھارت کے قریبی دوست روس نے پاکستان کے ساتھ 2.6 بلین کے معاہدے پر دستخط کیے، کویت، ایران اور دیگر خلیجی ممالک بھی پاکستان کے ساتھ معاہدے طے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور روس، پاکستان کی ساتھ کھڑے ہیں اور امریکابھی بھارت کو دھمکا رہا ہے۔
انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما کا کہنا تھا مودی کی خارجہ پالیسی یا ملکی سکیورٹی پر سوال اٹھاؤ تو غدار قرار دے دیا جاتا ہے، بھارت کی سفارتی اور خارجہ پالیسی پر سوال اٹھ رہے ہیں جو کہ اٹھنے چاہئیں۔آپریشن سندور ایک اور ایسا فوجی منصوبہ تھا، جس نے مودی حکومت کو پریشانیوں کی دلدل میں دھکیل دیا.آج مودی حکومت نے انڈین جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، لیکن آج مودی کے بھارت میں میڈیا، ادارے اور تعلیم سب اس تنگ نظری کے شکار ہو چکے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں پر ظلم بڑھ گیا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو سختی سے کچلا جا رہا ہے۔ آج وہ صحافی، دانشور اور سماجی کارکن جنھیں کبھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا یا تو خاموش کر دیے گئے ہیں یا دباؤ میں آ چکے ہیں.
*اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا*
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان*
*محرم الحرام کے مقدس مہینے میں عزاداری کے جلوسوں کو روک کر مودی حکومت نے انسانیت کا قتل کیا ہے*
پوری دنیا میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے.مسلمان تمام اسلامی تہوار اور یوم عاشورہ عقیدت و احترام سے مناتے ہیں. لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت جو اپنے آپ کو سیکولر کہتا ہے مذہبی آزادی کو پامال کر رہا ہے اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے ظلم اور ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے.ہندوستان کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر پابندی عائد کرکے غیر اعلانیہ طور پر کرفیو فافذ کر دیا گیا۔عاشورہ کے جلوسوں پر کرفیو لگا کر نوجوانوں کو جیلوں میں قید کر کے اور عزاداری کو جرم بنا کر مودی حکومت نےکربلا کی یاد کو دبانے کی کوشش کی ہے۔محرم الحرام کے مقدس مہینے میں عزاداری کے جلوسوں کو روک کر مودی حکومت نے انسانیت کا قتل کیا ہے. بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے.محرم کے جلوسوں پر پابندی اور عاشورہ کے موقع پر کرفیو نافذ کرنا مذہبی آزادی پر کھلا حملہ ہے.

آج مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام بھی شہدائے کربلا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ کشمیری نوجوان ایک بڑے دشمن کے سامنے غیر معمولی حوصلے اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر “رسمِ شبیرؑی” ادا کر رہے ہیں۔ مودی حکومت کشمیری مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر رہی ہے.عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادی پر لگائی جانے والی پابندیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت دلوانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔دوسری جانب فلسطین غزہ پر ماہ محرم الحرام، ایام عاشورہ میں بھی اسرائیلی صہیونی شیطانوں نے بم باری، قتل و غارت گری اور امداد کے حصول کے لیے جمع ہونے والے مظلوم نہتے انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی، جو جنگی جرائم کی انتہا ہے.
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی کوششوں کے دوران اسرائیلی بمباری اور حملوں میں مزید شدت آگئی ہے، اسرائیلی طیاروں کی بمباری اور فورسز کے حملوں میں امداد کے منتظر 9شہریوں سمیت مزید 65فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ میں امداد کی ترسیل شروع کردی ہے تاہم یہ ناکافی ہیں ، غزہ میں ہر تیسرا شخص بھوک کا شکار ہے جس نے کئی دنوں سے کچھ نہیں کھایا ، آٹا تین ہزار گنا مہنگا ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت مزید 65فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ۔ وسطی علاقے دیر البلح میں موجود الجزیرہ کی صحافی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ رات بھر آسمان پر اپاچی ہیلی کاپٹراور کواڈ کاپٹرمنڈلاتے رہے ، جنہوں نے علاقے پر تین بار بمباری کی۔انہوں نے کہا کہ رہائشی اتنے خوفزدہ تھے کہ کوئی بھی روشنی جلانے کی ہمت نہیں کر سکے اور انہوں نے اپنی نقل و حرکت کو زیادہ سے زیادہ محدود کرنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے مسلسل فضائی حملے دن بھر جاری رہے۔ اسرائیلی حملوں میں یہ اضافہ ممکنہ 60 روزہ جنگ بندی کے معاہدے کے لیے ہونے والی بات چیت کی خبروں کے درمیان سامنے آیا ہے۔حماس کے عسکری ونگ بریگیڈز نے ایک بیان میں بتایا کہ ہم نے گزشتہ ہفتے جبالیہ کے مشرق میں، اسرائیلی پیادہ فوج کو آر پی جی گولے سے نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ جھڑپ کی۔گزشتہ پیر کو جبالیہ کے مشرق میں، ہم نے دو شوازہ بموں اور ایک ٹینڈم میزائل کے ذریعے تین صہیونی مرکاوہ ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی ) کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ پٹی میں خوراک کی ترسیل شروع کر دی ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی، وسطی اور جنوبی سرحدی گزرگاہوں سے روزانہ کم از کم 100 امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دیں۔ڈبلیو ایف پی نے ایک بیان میں کہا کہ 21 مئی سے، جب سرحدی گزرگاہیں محدود مقدار میں امداد کے لیے دوبارہ کھولی گئیں۔
طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کو بند گلی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔اسلام کو دہشت گردی سے نتھی کر کے مسلمانوں کودنیا بھر میں تنہا کرنے کی سازش کو تیزی سے پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ایسی صورتحال میں ان عرب ممالک کو اپنا کردار اد کرنا چاہئے تھا ۔ او آئی سی کو اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے اپنے اہداف کا ازسر نو تعین کرنا ہو گا۔ شہدائے کربلا کی قربانی ہمیں کفر کے سامنے کلمہ حق کہنے اور سچ پر ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے۔ حضرت امام حسین ؓ اور ان کے ساتھیوں نے جس طرح یزید کا مقابلہ کیا اور لازوال قربانی دی اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔غزہ اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھی اپنے حقوق اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں. اس وقت کے یزید مودی اور نیتن یاہو کا تن من دھن جرات اور بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں. یہ گذشتہ کئی سال سے باطل اور یزیدیت قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں. ان شاء الله ایک دن حق کی فتح ہو گی اور اسلام کا بول بالا ہو گا. بیشمار شہادتوں کے بعد بھی ان کے حوصلے بلند اور ارادے مضبوط ہیں.
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ کبھی گھبرایا نہیں کرتے،
مظلوم غزہ اور کشمیر کے مسلمانوں کی شہادت کی تمنا کرنا جذبہ ایمانی کا ثبوت ہے . انہوں نے عالمی طاغوتی طاقتوں کے عزائم خاک میں ملا دیے ہیں.
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
شیطانی و طاغوتی طاقتیں فلسطين اور کشمیر کو اپنے قابو میں کرنا چاہتی ہیں. یہ خَوابوں کی جَنَّت میں رہنے کے مترادف ہے.
ظلم کے سامنے سر جھکانا اور خاموشی سے سہ لینا یہ عمل ہمارے اسلام کی تعلیمات کے برخلاف ہیں. ہمیں اپنی بساط کے مطابق باطل قوتوں کے سامنے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور ظلم و شقاوت کے اس نظام کے خلاف برسرپیکار رہنا چاہیے۔آج علما، مفکرین اور دانشوروں کی سب سے اہم ذمہ داری طاغوتی طاقتوں کے گمراہ کن مشن کے سد باب کے لئے حقائق کو بیان کرنا ہی جہاد ہے.
عالم اسلام کی ایک اہم ضرورت بڑی طاقتوں کے وعدوں کے جھانسے میں نہ آنا اور ان کی دھمکیوں سے ہرگز ہراساں نہ ہونا ہے۔ آج بھی مسلمانوں کا یزیدیت کے ہاتھوں خون بہہ رہا ہے، فلسطین کے لوگ کربلا کی یاد کو دہرا رہے ہیں۔ مودی اور نیتن یاہو موجوده دور کے یزید ہیں.
عالم اسلام کو درپیش سنگین مسائل کے حل نہ ہونے کی ذمہ داری او آئی سی پر بھی عائد ہوتی ہے جو کہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے.متحدہ اور او آئی سی سے غزہ پر جنگ بندی کے لیے فوری اقدام کریں.امریکا اسرائیل کی سرپرستی ختم کرے اور فلسطینیوں کی آزادی اور جینے کا حق تسلیم کیا جائے، فلسطین فلسطینیوں کا ہے ان کویہ حق دلانا ہی عالمی برادری کی ذمے داری ہے۔ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان مصلحت کا شکار ہیں. یوم عاشورہ ہمیں صبر، قربانی اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کی عظیم مثال عطا کرتا ہے، میدانِ کربلا کا معرکہ کوئی عام معرکہ نہیں بلکہ رہتی دنیا تک ایک دائمی پیغام ہے۔کربلا باطل کے خلاف ایک ابدی جدوجہد کی علامت ہے. دنيا بھر کے مسلمان دانشور، اديب، شاعر، اور مفکر اپنے قلم سے مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کے لیے آواز حق بلند کریں کیونکہ قلم تیز چلتا ہے تلوار سے. ہر فرد اپنے حصے کا کام انجام دے. علماء کرام خصوصی طور پر مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور امت مسلمہ میں شعور بیدار کریں. یہ وقت کا تقاضا ہے، اپنے حصے کی شمع جلاتے رہیں.
ظلم و جبر کے اندھیرے مٹ کر رہیں گے.
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا…..
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*تعزیہ کا تصور تاریخ کے آئینے میں*
****************************
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
****************************
اسلامی تقویم اور ہجری سال میں محرم الحرام کی عظمت و اہمیت ایک مسلّمہ امر ہے۔ یہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے یعنی محرم الحرام سے ہجری سال کا آغاز اور ذی الحجہ پر ہجری سال کا اختتام ہوتا ہے.واقعہ کربلا تاریخ اسلامی کا وہ اندوہناک سانحہ یا واقعہ عاشورہ سنہ 61 ہجری کو کربلا میں پیش آنے والے اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزیدی فوج کے ہاتھوں امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب شہید ہوگئے۔ واقعہ کربلا مسلمانوں خاص طور پر شیعوں کے نزدیک تاریخ اسلام کا دلخراش ترین اور سیاہ ترین واقعہ ہے۔ شیعہ حضرات اس دن وسیع پیمانے پر عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں۔
سیدنا حضرت حسین ؓ نے اپنے اہل بیتؓ اور رفقاء کے ساتھ دین اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی سب سے بڑی فضیلت یہی ہے کہ آپ نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول اور شیرِخدا ؓ کے لختِ جگر اور رتبہ صحابیت پر فائز ہیں، سیدنا حضرت حسین ؓ اپنے نانا حضرت محبوب ِ رب العالمین کی محبتوں، شفقتوں اور توجہات کے محور و مرکز رہے۔ رسولِ خداؐ کی اپنے ان لاڈلوں سے اُلفت و موانست اور لاڈپیار بے مثال ہے۔ملک بھر میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقا کی کربلا میں بے مثالی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے یوم عاشورہ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے ، تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں اور دیہاتوں میں علم، تعزیے اور ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوتے ہیں اور سخت سکیورٹی حصار میں اپنے اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے پرامن طور پر اختتام پذیر ہوتے ہیں.
یوم عاشورہ ایک عہد نبھانے کا دن ہے اور اسلام کی بقا اور سربلندی کا دن ہے بقول شاعر
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
محرم الحرام میں تعزیہ کو خصوصی حثيت حاصل ہے. تعزیہ کے معنی ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی تربت کی نقل جو کاغذ اور بانس کے قُبّہ میں محرَّم کے دنوں میں دس روز تک ان کا ماتم یا فاتحہ دلانے کے لیے بطور یادگار بناتے ہیں.امام عالی مقام کے روضہ مبارک کی ہو بہو نقل والے تعزیے کو ضریح کہتے ہیں۔ نظام دکن، والی رام پور ، راجا محمود آباد اور کراچی کے بعض عزا ء خانوں میں ایسی ضریحیں موجود ہیں۔حیدرآباد میں ماتمی جلوس میں سونے، چاندی اور ساگوان کی لکڑی سے بنے تعزیے بھی شامل کئے جانے لگے وہاں مختلف نوعیت کے تعزیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا، یہ تعزیے، بھرت پور، اجمیر، جے پور، الور، دہلی، ٹونک، پٹیالہ و دیگر علاقوں کے ماہر کاری گروں کی نگرانی میں تیار کئے جانے لگے، ان تعزیوں کو خوبصورت اور روضہ امام حسینؓ سے مشابہہ بنانے کے لئے مقابلے بازی کا رجحان بھی شامل ہوگیا، جس کی بناء پر یکم محرم الحرام کو یہ تعزیے حیدرآباد کے مختلف علاقوں کے چوراہوں، گلیوں، بازاروں، محلوں میں زیارت کے لئے موجود ہوتے ہیں، عقیدت مند نذر و نیاز کرتے ہیں، ان تعزیوں کو 9؍ اور 7؍محرم الحرام کو گشت کرایا جاتا ہے، بعدازاں 10؍محرم الحرام یوم عاشورہ کو مختلف علاقوں سے برآمد ہونے والے تعزیے نول رائے مارکیٹ کلاک ٹاور کے علاقے سے براستہ تلک چاڑی، اسٹیشن روڈ، کوہ نور پہنچ کر اپنے مطلوبہ مقامات پر روانہ ہوجاتے ہیں، مغرب کے بعد پھلیلی نہر، دریائے سندھ میں ان تعزیوں کو سیراب کردیا جاتا ہے، لیکن سندھ کا قدیم اور پہلا تعزیہ جو کبھی فقیر کاپڑ پر سالہا سال ہر 06؍محرم الحرام کو رکھا جاتا تھا، اب وہ تعزیہ ٹنڈو آغا امام بارگاہ میں موجود ہے اور اسے 7؍محرم کو ٹنڈو آغا سے فقیرکاپڑ لایا جاتا ہے، جس میں ہزاروں عزاداران غم حسینؓ میں زنجیر زنی اور ماتم کرتے ہیں۔تعزیہ سونے، چاندی، لکڑی، بانس، کپڑے، اسٹیل اور کاغذ سے تیار کیا جاتا ہے۔ اہل تشیع تعزیہ کو غم اور سوگ کی علامت کے طور پر جلوس کی شکل میں نکالتے ہیں۔ جلوس تعزیہ امام بارگاہ سے برآمد سے ہو کر مرکزی جلوس میں شامل ہوتا ہے، اہل تشیع کے علاوہ سنی حضرات بھی تعزیہ بناتے ہیں اور اس سے منت مراد مانگتے ہیں اور اس پر میوے، فروٹ اور دیگر اشیاء کے چڑھاوے چڑاتے ہیں. سنی حضرات کا ایک خاص مخصوص انداز ہے کہ تعزیہ کے ساتھ ڈھول تاشے اور نقارے بجاتے ہیں اور عوام کا جم غفیر ساتھ ہوتا ہے.
حيدرآباد میں مشہور تعزیوں میں پھولوں کا تعزیہ، چوڑیوں کا تعزیہ، بتاشوں کا تعزیہ اور دیگر منفرد تعزیے بنائے جاتے ہیں. عراقی اسے شبیہ کہتے ہیں، کیونکہ وہ لوگ حادثہ کربلا کی نقل پیش کرتے ہیں. ایران میں دولت صفویہ کے عہد سے یعنی سولہویں صدی کے شروع سے تعزیہ داری کا رواج ہوا۔
برصغير میں تعزیہ کی شروعات 14ویں صدی میں شیعہ بادشاہ تیمور لنگ نے کی تھی۔ تب سے بھارت میں شیعہ سنی مل جل کر تعزیہ داری کرتے آ رہے ہیں. بھارت میں تعزیہ کی تاریخ اور بادشاہ تیمور لنگ کا گہرا رشتہ رہا ہے.دہلی میں پہنچ کر تیمور نے تغلق سے جنگ لڑی اور دہلی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ تیمور شیعہ تھا اس لیے ہر برس محرم الحرام کے ماہ میں عراق ضرور جاتا تھا لیکن اسے اپنے پیچھے یہ ڈر ستاتا تھا کہ کہیں اس کا تختہ پلٹ نہ ہو جائے اس لیے اس نے بھارت میں رہ کر ہی محرم منانے کا فیصلہ کیا.
تیمور ایک ترک منگول قبیلے برلاس سے تعلق رکھتا تھا۔ چنگیز خان اور امیر تیمور دونوں کا جدِ امجد تومنہ خان تھا۔ تیمور لنگ کا تعلق اپنے وطن کے ایک معمولی خاندان سے تھا۔اس کی ایک ٹانگ میں نقص تھا۔ اسی وجہ سے بالخصوص مفتوحہ علاقوں میں وہ تیمور لنگ کے نام سے مشہور تھا۔
کہتے ہیں کہ جوانی میں تیمور شدید زخمی ہوگیا تھا اور پیر سے لنگڑانے لگا تھا۔ ایک ایسے وقت میں جب سیاسی طاقت کے لیے جنگی صلاحیتیں بہت اہم سمجھی جاتی تھیں، اس طرح کی معذوری کسی بھی منصب دار مرد کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی۔ لیکن یہ معذوری حیرت انگیز طور پر اس کی کمزوری نہیں بنی۔
برصغیر میں تعزیہ داری اور تعزیہ سازی کی تاریخ کا آغاز تیمور لنگ سے منسوب ہے، جسے آہستہ ، آہستہ وسط ایشیاء میں پذیرائی ملی، اور محرم الحرام کی یکم کو پاکستان سمیت انڈیا، بنگلا دیش، افغانستان، ایران، آذربائیجان کی بعض ریاستوں میں کہیں رنگین قیمتی کاغذوں، تازہ گلاب کے پھولوں، گھاس، شیشوں، چوڑیوں، لوہے، سونے، چاندی کے تعزیے تیار ہوتے ہیں، اور کہیں پلاسٹک، سوتی و ریشمی کپڑوں کے تعزیےمرکز عقیدت ہوتے ہیں۔ایک اور روایت کے مطابق تیمور ہر سال عاشورہ کےلئے کربلا جایا کرتا تھااور چودہویں صدی عیسوی میں کربلا سے واپسی پر امام حسینؑ کی ضریح کی شبیہ لیکر آیا۔ لیکن تیمور کی برصغیر پر حملے کے دوران ہندوستان میں محرم کا چاند نمودار ہوا اور یوں سنہ 803 ہجری کو عاشورہ کے لئے تیمور کربلا نہیں پہنچ سکا جس کی وجہ سے وہیں پر امام حسینؑ کے روضے کی شبیہ بنوائی اور عزاداری کی۔اس شبیہ کو بعد میں مغلیہ طرز پر تعمیر کیا گیاجو وقت گزرنے کے ساتھ سائز اور شکل تبدیل ہوتی رہی۔ پہلے پہل مٹی کا تعزیہ بنایا گیا اور پھر لکڑی کے تعزیے بنے اور شاید اسی لئے ایک خاص قسم کے تعزیے کو تیموری تعزیہ کہا جانے لگا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں تعزیوں کی تعمیر کا رواج ہوگیااور آج بھی یہ رسم جاری و ساری ہے۔لکڑی کے ساتھ ساتھ کھجور کے تنے ، گتوّں اور پلاسٹک کین کے ساتھ بھی تعزئے بنائے جانے لگے جن کو عاشور کے دن دریا میں ڈال دیا جاتا تھا اور اسے تعزیہ ٹھنڈا کرنے کی رسم بھی کہتے ہیں۔لکھنو میں کچھ تعزئے دفن بھی ہوتے تھے۔ایک اور روایت کے مطابق ہندستان میں تعزیہ داری کی ابتدا کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ عہد تیمور میں چونکہ بادشاہ، وزراء، بیگمات اور اہل لشکر عموما شیعہ تھے اور ہندستان میں جنگ اور سلطنت کے دیگر انتظامات کی وجہ سے سب لوگ ہر سال کربلائے معلیٰ نہیں جاسکتے تھے اور ان کے دلوں میں اس کی وجہ سے ایک خلش اور شکایت رہتی تھی، پھر یہ مسئلہ بادشاہ کے گوش گذار ہوا، اس کے حل کے لئے امیر تیمور نے کربلا سے حضرت حسین رضي الله عنه کے روضہ کی نقل حاصل کر کے اس کو تعزیہ کی شکل میں تیار کرایا، تاکہ ہندوستان کے شیعہ اس نقل کے ذریعہ کربلائے معلی کی زیارت کاثواب اپنے ملک میں حاصل کر سکیں، چنانچہ یہی ہوا اور لوگ کربلا جانے کے بجائے یہیں اس نقل کی زیارت کرنے لگے، جس نے بہت جلد ہی کم و بیش وہ صورت اختیار کر لی جو آج کل مروج ہے، پھر بتدریج اس میں ترقی ہوئی تو اس کے ساتھ دُلدل اور عَلم وغیرہ بھی نکلنے لگے.حیدرآباد میں کلہوڑوں اور میروں کے دور میں محرم کا مہینہ بڑی عقیدت و احترام سے منایا جاتا تھا کیونکہ یہ دونوں حکمران خاندان شیعہ مسلک کے پیروکار تھے. ایران سے خاص طور پر میران تالپور کے بڑے گہرے مراسم تھے. یہاں سے ان کے امراء اور رشتے دار ایران آتے جاتے رہتے تھے. چنانچہ ان لوگوں نے یہ روایت ایران سے لی. حیدرآباد میں یہ پڑ مشہور لوگوں، صوفیوں اور پیشوں کے نام پر بنائے گئے.سندھی لغت میں پڑ کے معنی ہیں لوگوں کے بیٹھنے یا اجتماع کی جگہ..
فقیر جونیجو جس کے نام پر حیدرآباد میں ایک محلہ اور گلی فقیر کے پڑ کے نام سے مشہور ہے کسی زمانے میں ہر سال ایک تعزیہ پڑ کے سامنے رکھا جاتا جس کی زیارت کے لیے فاتح سندھ میر فتح علی خان تالپور ننگے پاؤں پکا قلعے سے نکل کر فقیر کے پڑ تک آتا پھر عصر کے بعد اس کی اور لواحقین کی فاقہ کشی کرائی جاتی اور یہیں شام غریباں کا اہتمام کیا جاتا تھا.سندھ کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو کے خدمت گار فقیر محمد جونیجو نے سندھ کا پہلا تعزیہ ساگوان کی لکڑی سے بنوایا، اور اسے فقیر کاپڑ بازار میں زیارت کے لئے ہر سال رکھوایا جاتا تھا،
پڑ عام طور پر عَلمَ کو کہا جاتا ہے جسے زمین میں نصب کر کے اس پر ایک کالا جھنڈا لگا دیا جاتا ہے. محرم کے مہینے میں شیعہ حضرات یہاں آکر اپنی عقیدت مندی کا اظہار کرتے ہیں. دوسرے صوبوں کی بانسبت محرم کا مہینہ صوبہ سندھ میں نہایت جوش و خروش اور عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے. ذوالحج کے آخری عشرے میں ان پڑوں پر رنگ اور روغن کرایا جاتا ہے. بلب روشن کرتے ہیں، لیکن پہلے موم بتیوں، لالٹینوں، چراغ اور گیس کی بتیوں سے جگمگایا جاتا تھا. محرم کا چاند نظر آتے ہی یہ پڑ عقیدت و محبت کا پیغام بن جاتے ہیں. روزانہ مرثیہ خوانی اور نذر و نیاز کا اہتمام ہوتا ہے.تالپوروں کے دور میں یوم عاشورہ پر حکمران ، وزراء، معززین شہر پکا قلعہ سے فقیر کاپڑ ننگے پاؤں درود و سلام پڑھتے ہوئے آتے تھے۔ اسی طرح یہ ماتمی جلوس دوبارہ قلعہ کی جانب روانہ ہوجاتا تھا، تالپوروں کے دور میں جب آبادی کو پکا قلعہ سے باہر منتقل کیا گیا تو دربار سے وابستہ وزراء، معاونین، خدمت گاروں اور معززین کے ناموں سے منسوب علاقے قائم کئے گئے، گوکہ ان علاقوں کی آبادی اتنی زیادہ نہیں تھی، لیکن یوم عاشورہ کو فقیر محمد جونیجو کے تعزیے کی زیادرت کے لئے پورا شہر امڈ آتا، جب اس تعزیے کی شہرت زبان زدعام ہوئی تو میرپور خاص، شکارپور، جیکب آباد، بدین، ٹھٹھہ، خیرپور سمیت متعدد شہروں میں بھی تعزیے بنائے جانے لگے، مگر ان تعزیوں میں حیدرآباد کے تعزیے کو انفرادیت حاصل رہی۔ فقیر کا پڑ یہ فقیر جونیجو نے بنوایا تھا جو میروں کا مصاحب اور سردار تھا کہتے ہیں کہ اس کی قبر مکی شاہ بابا کے قلعہ کے پاس ہے. اس کا بنایا ہوا تعزیہ سرہندی مسجد کے قریب فقیر کے پڑ میں رکھا جاتا یہ سندھ کا پہلا تعزیہ تھا جو کہ اب بھی ٹنڈو آغا میں موجود ہے. بدین ضلع کا شہر تلہار بھی شامل ہے جہاں بھی عزاداری کی تاریخ صدیوں قدیمی بتائی جاتی ہے ۔آٹھویں محرم الحرام کی شام مرکزی امام بارگاہ تلہار میں ایک سو پچیس سالہ قدیم تاریخی تعزیہ امام حسینؓ برآمد کیا جاتا ہے اس تعزیے کے بارے میں بزرگوں کا کہنا ہے کہ ہمارے آبا واجداد کے دور سے یہ تعزیہ برآمد ہورہا ہے.
تعزیہ تیار کرنے کے لئے اس کی لکڑی نہر کے ذریعے تلہار لائی گئی تھی اور اس وقت کے لکڑی پر کندہ کاری اور چوپ کاری کے ماہر کاریگر کومذکورہ تعزیہ کی بناوٹ اور سجاوٹ میں 8 ماہ کا عرصہ لگا تھا۔ اس تعزیئے کی بناوٹ اور سجاوٹ بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کیل کا بالکل استعمال نہیں کیا گیا اور ماہر کاریگر نے لکڑیوں کو آپس میں جوڑ کر اس تعزیہ کو تیار کیاتھا۔
ہندوستان میں لکھنو اور پاکستان میں ملتان کے تعزیے مشہور ہیں.
برصغیر میں تعزیہ کا پہلا لائسنس برطانوی حکومت کی طرف سے 1860ء میں جاری کیا اور یہ لائسنس ملتان میں استاد کے تعزیے کو جاری ہوا تھا.ملتان میں دو تعزیے استاد اور شاگرد کے تعزئے سے مشہور ہیں۔ استاد اور شاگرد دونوں کا تعلق سنی مذہب سے تھا۔ استاد کا نام پیر بخش بتایا جاتا ہے۔ لکڑی پر کندہ کاری اور چوب کاری کے ماہر اُستاد پیر بخش نے حضرت امام حسین سے عقیدت کے اظہار کے لیے 1812ء میں بنانا شروع کیا اور 22 ساتھیوں کی مدد سے 13 سال کے عرصے میں 1825ء میں مکمل ہوا ۔استاد کا تعزیہ 27 فٹ لمبا، 8 فٹ چوڑا اور سات منزلوں پر مشتمل ہے۔ ہر منزل کئی چھوٹے بڑے ساگوان کی لکڑی کے ایسے ٹکڑوں سے بنی ہے جو محرابوں، جھروکوں، گنبدوں اور میناروں پر مشتمل ہوتے ہیں اور اسے بنانے میں کوئی میخ استعمال نہیں ہوئی۔یہ تعزیہ آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اس کو 150 افراد اٹھاتے ہیں۔شاگرد کا تعزیہ تیار کرنے والے ہنرمند کا نام اِلہی بخش بتایا جاتا ہے. الہی بخش اپنے استاد کا تعزیہ بنانے والے گروہ کا حصہ تھے جو دن کو استاد کے پاس کام کرتا تھا اور رات میں ایک خفیہ جگہ اپنا الگ تعزیہ بنانے مشغول رہا۔ اور 1854ء میں اسے مکمل کردیا۔ شاگرد کا تعزیہ 32 فٹ لمبا تھا۔ شاگرد کا موجودہ تعزیہ مشین کی مدد سے تیار کردہ ہے جو انُیس سو چوالیس میں اُس وقت بنایا گیا جب شاگرد کے تعزّیے کو آگ لگی اور ملتان کے گردیزی خاندان نے اس کی مرمت کرائی۔ شاگر کا تعزیہ اٹھانے کے لئے 200 افراد درکار ہوتے ہیں۔ ہر سال دس محرم کواستاد کا تعزیہ ملتان میں محلّہ پیر قاضی جلال اندرون پاک گیٹ سے جبکہ شاگرد کا تعزیہ خونی برج ملتان سے برآمد ہوتا ہے۔استاد کا تعزیہ جلوس کے آگے اور شاگرد کا تعزیہ جلوس کے پیچھے رکھا جاتا ہے۔استاد اور شاگرد دونوں کے تعزیہ کا لائسنس سنّی بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کےنام ہے۔تعزیے بنانے میں شیعہ سنی کے علاوہ ہندو، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں.عاشورہ سے ایک یا دو رات قبل تعزیئے کو گلیوں، چوراہوں، سڑک کے کنارے یا امام بارگاہوں کے قریب رکھ دیا جاتا ہے جہاں تمام لوگ خاص کر اہل محلہ اس کی نہایت عقیدت کے ساتھ زیارت کرتے ہیں.دس محرم کو تعزئیے کو ٹھیلوں اور مختلف گاڑیوں پر رکھ کر مرکزی جلوس میں لے جائے جاتے ہیں۔ جلوس کے اختتام پر انہیں ’ٹھنڈا ‘ کیا جاتا ہے، یعنی اس کے کچھ حصوں کو زمین میں دفن یا سمندر برد یا دریا میں بہا دیا جاتا ہے۔ تعزیہ ٹھنڈا کرنے کے بعد باقی تبرکات کو اگلے سال کے لیے محفوظ کرلیا جاتا ہے.
علاوہ ازیں، تعزیئے سے متعلق کچھ رسومات بھی اداکی جاتی ہیں مثلاً ً تعزیئے کے نیچے سے بچوں کو گزارنا، منتیں ماننا، چڑھاوے چڑھانا ،سبز، سرخ اور زرد رنگ کے کپڑے پہن کر امام حسین کا فقیر (منگتا) بننا، عَلم چڑھانا، نذر و نیاز کرنا،تعزئیے کو بوسہ دینا، تعزیے کے نیچے بچوں کے ناک، کان
چِھدوانا اور عرضیاں باندھنا وغیرہ۔ہر دور کے یزید کو مٹانے کیلئے ایک ہی حل ہے کہ رسمِ شبیری کا راستہ اپنایا جائے۔ خانقاہوں سے نکلنا اور رسمِ شبیری ادا کرنا ہر دور کی ضرورت ہے۔
لہذا اب ہمیں رسمِ شبیری کے زیر تحت دو کام کرنے ہیں۔ ایک یہ کہ مومنین میں، شیعہ سنی میں اتحاد قائم کرنا ہے، آپس میں متحد رہنا ہے، ایک دوسرے کے عقائد پر کیچڑ نہیں اچھالنا۔ ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین نہیں کرنی۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہے، عفو و درگزر سے کام لینا ہے۔ دوسرا کام کہ یزیدی کردار، یزیدی آئیڈیالوجی، یزیدی حاکموں کے خلاف عملی قیام کرنا ہے نہ کہ سکوت اختیار کرنا ہے۔ اگر یہ دو کام کر لئے تو یہی لبیک یاحسین ہے، یہی لبیک یا زہراء ہے، یہی لبیک یامہدی ہے اور جو یہ صدا سیکھ لیتا ہے تو اس کی گردن تو کٹ جاتی ہے، لیکن وہ ان مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ لہذا ہر دور کے یزید کو مٹانے کے لئے ایک ہی حل ہے کہ رسمِ شبیری کا راستہ اپنایا جائے۔ خانقاہوں سے نکلنا اور رسمِ شبیری ادا کرنا ہر دور کی ضرورت ہے۔
بقول علامہ اقبال
نکل کر خانقاہوں سے اَدا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
سیدنا امام حسین نے میدان کربلا میں ثابت قدمی کے ذریعے باطل کو شکست دے کر دین اسلام کو زندہ وجاوید کیا، امام عالی مقامؓ کی سیر ت و کر دار سے امت مسلمہ کے قلوب قیامت تک منور ہو تے رہیں گے، وا قعہ کر بلا ہمیں باطل قوتوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا درس دیتا ہے،شہداء کربلا کی
قربانی صبر و تحمل اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے، نیو جنریشن مشن حسینیت پر گامزن ہوکر ملک کو جہالت کے اندھیروں اور عوام کے حقوق دلانے کی کاوشیں کرئے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*محرم الحرام کی آمد پر را کے ایجنٹوں کی گرفتاری تشویش کا باعث ہے*
کراچی اور پنجاب سے ’را‘ کے 10 سہولت کار گرفتار، حملوں کی منصوبہ بندی بھی بے نقاب کی گئی۔ کراچی سے بھارتی ایجنسی را کے4 دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد سی ٹی ڈی پنجاب نے بھی مختلف اضلاع سے را کے 6 سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔ پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کے سینئر افسران نے مشترکہ پریس کانفرنس میں میڈیا کے نمائندوں کو دشمن ملک کی سازش کی تفصیلات اور سی ٹی ڈی کی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی نے چھاپے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے دھماکا خیز مواد اور ڈیٹونیٹرز برآمد کرلیے، بہاولپور میں دبئی سے فنڈنگ کرنے والا ’’را‘‘ کا سہولت کار رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا، بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس بی ایس ایف سے براہ راست آئی ای ڈی حاصل کرنے والے 2 افراد بہاولنگر سے گرفتار کرلیے گئے۔سی ٹی ڈی نے بہاولپور میں مسجد اور ریلوے اسٹیشن پر حملے کی منصوبہ بندی بے نقاب کر دی۔ ’’را‘‘ افسران میجر رویندرا راٹھور اور انسپکٹر سنگھ کی آڈیو انٹرسیپٹس حاصل کرلی گئیں۔دہشت گردوں سے آئی ای ڈی
حفاظتی فیوز اور خفیہ نقشے برآمد ہوئے۔ بھارت سے ملنے والی ہدایات میں ٹارگٹ کلنگ اور حساس مقامات پر حملے شامل تھے۔ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب شہزادہ سلطان نے بتایا کہ انڈین دہشت گرد ایجنسی ’’را‘‘ کے گرفتار 6 سہولت کار پاکستانی شہری ہیں، یہ سہولت کار پاکستان میں رہ کر بھارتی ایجنسی را کے لیے کام کرتے تھے، را اپنی فنڈنگ دبئی سے کرپٹو کرنسی اور برانچ لیس کے ذریعے بھیجتی ہے۔علاوہ ازیںکراچی سے حساس ادارے اوراسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے خفیہ اطلاع پر ملیر قائد آباد کے علاقے میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ملک دشمن بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کرنے والے 4 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار مرکزی ملزم 20 مرتبہ اورایک ملزم 6 مرتبہ بھارت جا چکا ہے، گرفتار ملزمان بی ایس ایف کے کیمپ نمبر 59 میں ایک بھارتی کرنل سے رابطے میں تھے، گرفتار ملزمان شہر کی حساس تنصیبات کی تصاویر جیو ٹیگ لوکیشن اور وڈیو بھارتی خفیہ ایجنسی کو فراہم کر رہے تھے. ایس ایس پی نے بتایا کہ ملک کے موجودہ تناظر میں یہ اس لیے اہم ہے کہ بھارت ہمارے ساتھ ایک جنگ لڑچکا ہے اور ہماری تنصیبات پر حملہ کرچکا ہے، اس لحاظ سے جیو ٹیگ لوکیشن بھیجنا ملک دشمن عمل ہے۔

محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی دہشتگردی کے امکانات بڑھ گئے ہیں. محرم الحرام میں را کے ایجنٹوں کی گرفتاری لمحہ فکریہ اور تشویش کا باعث ہے. بھارت سرکار اور مودی اپنی جنگ میں شکست کا بدلہ لینے کے لیے را دہشت گرد تنظیم جو ہندوتوا نظریہ کی حامی ہے اس کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی چاہتا ہے.
محرم الحرام کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس ماہ میں دہشت گردی کے خدشات موجود ہوتے ہیں. را نے پچھلے کئی سالوں سے جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ یہ بھارتی تنظیم خصوصاً پاکستان میں سرگرم عمل ہے۔ پاکستان کے اینٹلی جنس ادارے را ، موساد اور دیگر دشمن خفیہ ایجنسیوں کے مذموم منصوبے ناکام بنانے کی خاطر متحرک ہیں۔ اداروں کے دلیر ارکان جان پہ کھیل کر پاکستانی قوم اور سول وعسکری تنصیبات کی حفاظت کرتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ پاکستانی اینٹلی جنس اداروں کے مابین جامع و مربوط نیٹ ورک بنایا جائے تاکہ وہ زیادہ موثر انداز میں دشمن خفیہ ایجنسیوں کی چالوں، سازشوں اور حیلوں کا مقابلہ کر سکیں۔ ہر پاکستانی کا بھی فرض ہے کہ وہ قومی اینٹلی جنس اداروں کی ہر ممکن مدد کرے تاکہ پاکستان کو دشمنوں سے پاک کیا جا سکے۔اس طرح وطن عزیز امن وشانتی کا گہوارہ بن کر معاشی و سیاسی لحاظ سے مستحکم ومضبوط ہو سکے گا۔ محرم الحرام میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ مہینہ اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے اور اسے انتہائی مقدس مانا جاتا ہے۔ محرم کے دوران، خاص طور پر یوم عاشورہ (10 محرم) کے موقع پر، لوگوں کو امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے محتاط رہنا چاہیے۔محرم الحرام اسلامی تاریخ میں ایک اہم مہینہ ہے، خاص طور پر یوم عاشورہ کے حوالے سے۔ اس دن حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کی شہادت ہوئی تھی، جو مسلمانوں کے لیے ایک بڑا غم کا دن ہے۔ وطن عزیز اس وقت شدید اندرونی اور بیرو نی دباؤ کا شکار ہے.
موجودہ حالات میں اتحاد امت کی سب سے زیا دہ ضرورت ہے اتحاد امت کے حوالے سے اہم کردار تمام مسالک کو ادا کر نا ہو گا ۔ایک طرف بین الاقوامی سازشیں ہیں اور دوسری طرف وطن عزیز میں نئے سے نیا بحران مو جود ہے.
عالمی منظرنامہ کے پیش نظر زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں پولیس سے رابطہ کریں۔ تفرقہ پھیلانے اور امن و امان کے حالات کو سبوتاژ کرنیوالے عناصر پر کڑی نگاہ رکھی جائے ۔علما،ذاکرین اپنے اجتماعی کردار سے محرم سال 2025 کو پرامن اور محفوظ بنائیں۔پاکستان علماء کونسل نے گزشتہ 10برسوں میں ملک میں امن و سلامتی کے لیے بین المسالک رواداری و ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالموں کو فروغ دیا۔ امن و امان کی صورتحال یقینی بنانے کیلئے حکومت کو اپنی رٹ قائم اور ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر محرم کے جلوس وقت پر شروع اور مقررہ وقت پر ختم ہونے چاہئیں تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ ماضی میں ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کو جگہ دی جاتی تھی، سبیلیں لگائی جاتی تھیں اور سب کا احترام کیا جاتا تھا، ہمیں اب بھی وہی طرز عمل اپنانا ہوگا۔ پاکستان میں کلبھوشن کی پلاننگ ابھی بھی موجود ہے ، دشمن سمجھتا ہے کہ پاکستان کو فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے کمزور کیا جاسکتا ہے لہٰذا ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ محرم الحرام کے ایام میں مجالس اور جلوس زیادہ ہوتے ہیں جن میں تخریب کاری کرنا دشمن کیلئے قدرے آسان ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ ایام حساس ہیں.
آج بھی عالمی حالات اور سازشوں کے پیش نظر علماء کو پہلے سے زیادہ متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے علماء اور سیاستدانوں کو محتاط رہنا ہوگا تاکہ دشمن کو تخریب کاری کا کوئی بھی موقع نہ مل سکے۔محرم الحرام میں دشمن فساد پھیلا کر اسے شیعہ سنی
فسادات کا نام دینا چاہتا ہے حالانکہ شیعہ سنی کا آپس میں کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ بارہا ایسا دیکھا گیا ہے کہ امام بارگاہ پر حملے کے متاثرین کو خون دینے والے سنی ہیں جبکہ کسی مسجد پر حملے کے متاثرین کو خون دینے والے شیعہ نوجوان تھے۔ سیاسی و دینی جماعتوں کے تمام بڑے لیڈران آپس میں مل بیٹھ کر پالیسیاں بناتے ہیں جبکہ نفرتوں و دوریوں کا دور اب ختم ہوچکا ہے۔ حکمرانوں کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ”را” کے ایجنٹ بلوچستان، کراچی و دیگر جگہ موجود ہیں اور ایسا حکومتی سطح پر بھی کہا جاچکا ہے لہٰذا انتظامیہ اور ہمیں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ محرم میں کوئی بھی تخریب کاری کاواقعہ نہ ہو کیونکہ ان ایام میں ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے اثرات خطرناک ہوتے ہیں۔اسلام ہمیں امن سے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ امام حسین علیہ اسلام نے حق اور باطل کو واضح کرنے کیلئے پنی اوراپنے خاندان کی قربانی دے کر رہتی دنیا تک مثال قائم کی۔محرم الحرام کا مہینہ امن،بھائی چارے اور باہمی اتفاق و اتحاد کا درس دیتا ہے،اس مہینے کے تقدس کے پیش نظر ہمیں فرقہ واریت،مذہبی وسیاسی منافرت کی بجائے مذہبی ہم آہنگی،سیاسی رواداری اور اخوت و محبت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،اس ماہ میں اہل بیت نے دین اسلام کی خاطر عظیم قربانیاں دیں۔ محرم الحرام میں ہمیں انتظامیہ کے ساتھ بھی ہر قسم کا تعاون کرنا چاہیے،مشکوک افراد پر کڑی نگاہ رکھ کر فوری انتظامیہ کو آگاہ کریں۔محرم الحرام میں سب پر لازم ہے کہ وہ بھائی چارے کی فضا کو قائم ر کھنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے ہمیں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔ حب الوطنی کے تقاضے ہمارے سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان اور اسلام کیلئے اپنے اپنے جذبات اور مسلکی نعروں و مفادات کی قربانی دیں، فرقہ واریت یا فساد پھیلانے والوں کا خاتمہ اور تخریب کاروں کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔میرے نزدیک اس مرتبہ ریڈ الرٹ والی صورتحال ہے کیونکہ ماضی کی نسبت خطرہ زیادہ ہے اور دشمن قوتیں موجودہ حالات کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں.ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہیے، قانون کی بالادستی قائم کرنی چاہیے اور انتظامیہ کی بات سننی چاہیے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان*
*فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ٹرمپ سے تاریخی ملاقات*
امریکی صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کی اور بتایا کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت ہورہی ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ کہ وہ جنگ کی طرف نہیں گئے۔امریکی صدر نے کہا کہ آج فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا، میں نے انہیں جنگ روکنے پر شکریہ کیلئے مدعو کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں سے تجارتی معاہدے پر بات ہورہی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایران کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے، پاکستان ایران کو دیگر لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر جانتا ہے، وہ اس صورتحال پر خوش نہیں ہیں۔75 سالوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امریکہ کے صدر نے کسی ملک کے چیف مارشل کو سرکاری مہمان بنایا اور مکمل پروٹوکول دیا.
ٹرمپ طاقتور لوگوں کو پسند کرتا ہے. پاکستان نے جنگ جیتی تو ٹرمپ سوچنے پر مجبور ہو گیا جبکہ ٹرمپ نے مودی کو فون

پر ٹرخا دیا. صدر ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے جی 7 کی میٹنگ چھوڑ کر آ گئے.
بھارت میں صف ماتم بچھ گئی. بھارت کی ہر محاذ پر ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت عالمی سطح پر تنہا رہ گیا ہے اب مودی کو کوئی بھی سربراہ مملکت گھاس نہیں ڈال رہا ہے. بھارت کو فوجی شکست پاکستان نے دی اور سفارتی دھچکا امریکا نے دیا ہے، بھارتی مخالفت کے باوجود ٹرمپ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ضروری ہے، جیو پولیٹیکل حالات میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے.امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات برِصغیر اور مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے پیشِ نظر اس وقت سبھی کے لیے خاصا اہم موضوعِ گفتگو ہے۔
یہ ملاقات اس اعتبار سے کافی اہم تھی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر وہ پہلی سرکاری شخصیت تھے جنھوں نے گذشتہ ماہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے چار روزہ تنازع کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔صرف یہی نہیں اس ملاقات کو اس اعتبار سے بھی اہم سمجھا جا رہا تھا کیونکہ اس وقت اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ہے اور پاکستانی فوج کے سربراہ اس تنازع کی شروعات سے قبل گذشتہ مہینے کے آخر میں ایران کے دورے پر گئے تھے اور انھوں نے ایران کی فوجی قیادت سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے آرمی چیف سے ملاقات سے قبل اور ملاقات کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے نظر آئے۔ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس کے باغیچے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس شخص (جنرل عاصم منیر) نے پاکستان کی جانب سے (انڈیا کے ساتھ) جنگ روکنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔مودی نے پہلگام میں جھوٹا آپريشن کروایا اور دہشت گردی کا نام دیے کر اپنے ہی لوگوں کو مروا دیا اور بہت جلدی فوری طور پر بنا تحقیق کے سارا الزام دہشت گردی کا پاکستان پر ہمیشہ کی طرح فخریہ لگا دیا. مودی سمجھتا تھا کہ پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کر دے گا اور خطہ میں اپنی اجار داری بلکہ دادگیری قائم کر لے گا. مگر دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے. پہلگام واقعہ کے بعد بھارت کی متواتر ناکامیوں کا سلسلہ جاری ہے. جنگ میں عبرتناک شکست، بھارتی فوج اور فضائیہ کی مکمل طور پر ناکامی اور بدنامی، سفارتکاری میں ہزیمت اٹھانا پڑی، بھارت میں جہاز کا حادثہ اور فیلڈ مارشل آصف منیر کی امریکہ کے صدر ٹرمپ سے کھانے پر دوستانہ ملاقات نے تو بھارت اور مودی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی.بھارتی میڈیا اور مبصرین کی چیخیں نکل رہی ہیں. مودی نے تو پاکستان اور عاصم منیر کو دہشت گرد ثابت کرنا تھا لیکن بھارت کا جھوٹا بیانیہ جل کر راکھ ہو گیا. فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سحرانگیزشخصیت اور صلاحیتوں نے دنیا کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے. امریکہ میں شاندار استقبال اور سرکاری مکمل پروٹوکول نے پاکستان کا وقار بلند کیا ہے. ٹرم نے تو یہ تک کہہ دیا آئی لو پاکستان
مودی سوچتا ہو گا کہ
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا
کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا
پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے منسلک دو اہم کمیٹیوں میں کلیدی عہدے ملنے پر جہاں ملک میں اسے بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تو وہیں انڈیا میں تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔انڈیا کی اپنے ناپاک مذموم مقاصد میں ناکامی ہے
رواں ہفتے پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسدادِ دہشتگردی کمیٹی کا نائب چیئرمین اور طالبان پر پابندیوں کے نفاذ کے لیے قائم نگران کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا. اقوامِ متحدہ میں یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ مہینے انڈیا اور پاکستان نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ انڈیا کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں. امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف سے ملاقات کے بعد نا تو پہلگام حملے کا ذکر کیا اور نہ ہی انڈیا کے خدشات کو اہمیت دی بلکہ انہوں نے جنگ سے گریز پر پاکستانی فوج کی تعریف کی. ٹرمپ نے کہا میں ان سے ملاقات کو اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتا ہوں. بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مودی بغلیں بجا رہا ہے. انڈیا میں سوگ طاری ہو گیا ہے. انڈین اینکر کے منہ سے نکل گیا کہ اصل بندے کی اصل بندے سے ملاقات ہو گئی.سب سے زیادہ قابلِ ذکر اَمر یہ ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے آرمی چیف کو باقاعدہ سرکاری دعوت پر مدعو کیا گیا۔ اس سے قبل جتنے بھی فوجی سربراہان امریکہ کے دورے پر گئے اور انکی امریکی صدر سے ملاقاتیں ہوئیں وہ خود صدور بھی تھے، لہٰذا انہیں صدر ہونے کا پروٹوکول ملتا رہا۔ جنرل سید عاصم منیر پاکستان کے دوسرے فیلڈ مارشل ہیں۔ قبل اَزیں جنرل ایوب خان فیلڈ مارشل رہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ ایوب خان کو فیلڈ مارشل کا اعزاز ان کی صدارتی کابینہ نے 27 اکتوبر 1959ءکو ”انقلاب“ کی پہلی سالگرہ کے موقع پر تفویض کیا تھالیکن سید عاصم منیر کو حکومتِ پاکستان نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں شاندار کارکردگی کی بنیاد پر فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا۔ آرمی چیف کے طور پر سید عاصم منیر نے حالیہ چار روزہ پاک بھارت جنگ میں مثالی جرات و عزم کے ساتھ افواجِ پاکستان کی قیادت کی اور مسلح افواج کی جنگی حکمتِ عملی اور کاوشوں کو بھرپور طریقے سے ہم آہنگ کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی۔ فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ملک کو معاشی اور اقتصادی لحاظ سے مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں ہی آج ملک معاشی لحاظ سے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مستحکم ہو چکا ہے۔امریکہ کے صدر سے ملاقات کرنے والے آرمی چیف بھی تھے اور صدر بھی تھے یا پھر پاکستانی سربراہ مملکت کے ساتھ ہوتے تھے. جو لوگ یہ کہتے تھے کہ پاکستان امریکہ کے لئے غیر اہم ہو گیا ہے وہ اب یہ ضرور تسلیم کریں گے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بدولت پاکستان اب اہم ترین ملک بن گیا ہے.فیلڈ مارشل آصف منیر کی پاکستانی کمیونٹیز سے ملاقات، عشائیہ میں شرکت، سوالات کے تسلی بخش جوابات، پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے نعرے، پینٹاگون اور امریکی خفیہ اداروں سے ملاقاتیں پاکستانی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا. ہماری سفارتی تنہائی آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے.پہلگم واقعہ اب قصہ پارینہ بن گیا. فیلڈ مارشل آصف منیر کی ٹرمپ سے ملاقات کے بعد بھارت میں ڈر خوف بیٹھ گیا ہے اور گودی میڈیا کو تجسس پیدا ہو گیا ہے کہ اس ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں ہوں گی. بھارتیوں ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے. فیلڈ مارشل آصف منیر کا خوف تمہیں زندہ رہنے نہیں دے گا. وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل آصف منیر کے درمیان دونوں میں اس ملاقات کا باہمی رابط ہے.ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات کی منصوبہ بندی، اس کے مندرجات اور بعد ازاں سفارتی روابط وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے اور باہمی پالیسی فیصلوں کی روشنی میں انجام پائے۔ذرائع کے مطابق، اگرچہ کچھ حلقے اس حوالے سے غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، لیکن درحقیقت وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کے درمیان قریبی اور مسلسل رابطہ پایا جاتا ہے جبکہ حکمت عملی اور علمدرآمد کی سطح پر سیاسی اور عسکری قیادت متحد و متفق ہے۔ یہ ہم آہنگی کوئی نئی بات نہیں ہے. فیلڈ مارشل آصف منیر اس وقت جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ طاقتور شخصیت ہیں وہ امریکہ کے کسی بھی ایسے موقف کی حمایت نہیں کریں گے جس سے جنوبی ایشیا خطہ میں عدم توازن پیدا ہو.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
*بلاول بھٹو زرداری نے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی یاد تازہ کر دی*
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سفارتی محاذ پر تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے مودی کے جھوٹ اور بھارتی اشتعال انگیزیوں کی شکل میں ہندتوا کے پیروکاوروں کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کرنا کامیاب سفارتکاری کی اعلیٰ مثال قائم کر دی. چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ قیادت پاکستانی وفد نے بھارت کو سفارتی محاذ پر بھی شکست دے دی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کامیاب سفارتکاری نے قائدِ عوام شہید ذوالفقار بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے سفارتی تدبر اور عالمی امور پر عبور کی یاد تازہ کردی۔ بلاول بھٹو زرداری کی سیاست پر والدہ کی جھلک زیادہ ہے۔ اِن کے کئی برس دبئی میں والدہ کے ساتھ گزرے ہیں، تربیت وہیں سے ہوئی.
باقاعدہ سیاست کے آغاز سے قبل بلاول بھٹو زرداری پاکستانی سیاست کی سختیوں سے نبرد آزما ہو چکے تھے۔ وہ اپنی والدہ کی انگلی تھامے پاکستان کی جیلوں میں اپنے والد آصف علی زرداری سے ملاقاتوں کے لیے جایا کرتے تھے۔1999 سے 2007 کے دوران انھوں نے اپنی والدہ کے ساتھ جلا وطنی بھی کاٹی اور اس دروان بیشتر عرصہ وہ اپنے والد سے بھی دور رہے۔بی بی شہید اِن سے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی باتیں کیا کرتی تھیں۔ اسی طرح آصف علی زرداری اِن کو اپنے اور خاندان کے تجربات سے آگاہ کرتے رہے۔ لیکن بلاول کا سیاسی انحصار اپنی ذات پر ہوگا، ان کی انفرادی شخصیت آگے بڑھے گی۔ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو دونوں سفارت کاری کے میدان میں ماہر تھے.
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اب صرف پاکستان نہیں، عالمی سطح پر بھی تسلیم شدہ لیڈر ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی عالمی پذیرائی جمہوریت کی کامیابی اور پاکستان کی فتح ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا پر بلاول بھٹو زرداری کو زبردست کوریج اور پذیرائی مل رہی ہے. پاکستان کے سفارتی مشن کے سربراہ و چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم اس وقت نہ کسی سیاسی جماعت اور نہ ہی کسی ذاتی مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، بلکہ ہماری یہ جدوجہد ملک کے لیے ہے۔ بلاول بھٹو کی قیادت میں دورہ اقوام متحدہ،موثر اور مدلل تر جمانی ،بلاول بھٹو نے لکھی ہوئی تقریروں اور بیانات کی بجائے برجستہ انداز اختیار کرکے پاکستان موقف اور زمینی حقائق کو موثر انداز میں بیان کیا.بلاول بھٹو نے بھارت کو لاجواب کردیا ، انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ باہمی تعاون سے دہشت گردی کے خلاف کام کریں.پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کا وفد انڈیا کی کانگریس پارٹی کے رہنما ششی تھر ور کی قیادت میں پاکستان مخالف موقف کے ساتھ واشنگٹن میں سر گرم ہے لیکن اگر پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ کے دو روزہ دورے کا
بامقصد تجزیہ کیا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستانی وفد کے قائد بلاول بھٹو کی
کار کردی نے منطق دلیل پر مبنی حکمت عملی اور موقف کو بہتر انداز میں بیان کیا ہے ۔
بلاول بھٹو کا جملہ “مودی نیتن یاہو کا ٹیمو ورژن اور خراب کاپی ہے” سفارتی دنیا میں جرات مندانہ طنز کی مثال بن گیا ہے۔ مختصر، مؤثر اور یادگار، یہ ایک سطر عالمی بیانیے میں دیر تک گونجے گی۔
پاکستانی وفد کے سربراہ اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مودی اور نیتن یاہو کی امن کو تباہ کرنے اور نفرت کو فروغ دینے کی پالیسی ایک جیسی ہے اور دونوں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد حملے ہورہے ہیں اور ہم دہشت گردی کے خاتمے کیلیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ میری والدہ بھی دہشت گردی میں شہید ہوئیں۔بلاول نے کہا کہ دہشت گردی کو سیاسی مقاصد کیلیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے بنا تحقیق پہلگام حملے کا پاکستان پر الزام لگا کر پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کی اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جبکہ وزیراعظم پاکستان نے غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیش کش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آج بھی خطے کے پُرامن حل کا خواہاں ہے اور ابھی تک بھارت کے خلاف ہم نے کوئی بھی جارحانہ قدم نہیں اٹھایا پھر بھی بھارت سندھ طاس معاہدے سمیت دیگر چیزوں پر جارحیت کررہا ہے۔
بلاول نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب عالمی برادری کو پائیدار امن اور جنگ بندی کیلئے بھی آگے آنا ہوگا، عالمی برادری کو کسی بھی بڑے تصادم سے پہلے مداخلت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارتی جارحیت کا نوٹس لے، پاکستان ہر فورم پر دہشت گردی کی مذمت کرتا آیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا ایک بہترین انداز اور پر اثر لہجہ اپنے نانا اور ماں کی طرح جرات مند بلاول جس نے ناقدین کو بھی اپنا گرویدہ کر لیا ہے. جس کے بارے میں جہلا کہا کرتے تھے کہ اسے بولنا نہیں آتا اب وہی بلاول پاکستان کی طرف سے ساری دنیا سے مخاطب ہے اور مودی اینڈ کمپنی کی بولتی بند ہے۔ بلاول بھٹو نے پاکستان کی کیا خوب نمائندگی کی آج بھٹو صاحب کا حقیقی ترجمان دیکھنے کو ملا.
بہت عمدہ الفاظ اور ہر لحاظ سے بہترین تقریر سوالوں کے مختصر جامع جوابات دیئے.
بلاول بھٹو زرداری نے سفارتکاری کا حق ادا کر دیا ہے. بلاول بھٹو نڈر لیڈر ہیں اور انٹرنیشنل لیول پر جس طرح گذشتہ کئی سالوں سے یہ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ بہت ہی قابل تحسین ہے اور دلائل سے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا.بلاول بھٹو نے کہا کہ مودی پہلے گجرات کا قصائی بنا اب کشمیرکا قصائی بن گیا ہے، مودی اب پانی بند کرکے وادی سندھ کی تہذیب کا قصاب بننا چاہتا ہے، ہم پانی کوبطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن شرائط پر نہیں، بھارت کی جانب سے پانی روکنا بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، اگر پاکستان کا پانی روک دیا جائے توہم خاموش کیسے بیٹھیں؟ ہم چاہتے توبھارت کے 20 طیارے گراسکتے تھے مگر ہم نے 6 گرائے، کشیدگی کے دوران اور بعد میں بھی بھارت نے غلط معلومات اور فیک نیوز پھیلائیں، بھارتی حکومت اپنے ملک میں دہشت گردی کو مسلمانوں کے تشخص کو مسخ کرنے کےلیے استعمال کرتی ہے۔
بلاول کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے امریکا اور چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کے معاہدے ہیں،صدر ٹرمپ اب پاکستان کے ساتھ جامع تجارتی معاہدے چاہتے ہیں۔بلاول بھٹو نے سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی اور پاکستان و بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے آغاز کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر مسئلہ جموں و کشمیر کے حل پر، جو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
بلاول بھٹو نے سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی اور پاکستان و بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے آغاز کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر مسئلہ جموں و کشمیر کے حل پر، جو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
بلاول بھٹو کی سفارتکاری سے بھارت میں صف ماتم بچھ گیا ہے.بلاول زرداری نے پاکستانیوں کے دل جیت لیے ہیں. بلاول بھٹو کو بین الاقوامی سطح پر مزید کانفرنسز کرنی چاہیں وہ دنیا کے سامنے پاکستان کا موقف بہتر انداز میں پیش کر سکتے ہیں. یہ تجربہ آگے جا کر انہیں ملک کا وزیراعظم بنانے اور اس عہدے پر بہتر کام کرنے میں مدد دے گا.
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ملکی تاریخ کا کم عمر ترین وزیر خارجہ بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا موجودہ سفارتکاری دورہ ان کے روشن اور تابناک مستقبل کی نوید ہے.مودی، نیتن یاہو ، فلسطین، جموں کشمیر اور سندھ طاس معاہد عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر پوری پاکستانی عوام ان کی گرویدہ ہو گئی ہے. پاکستان کی پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
*انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند*
*********************
بھارتی فوج نفسیاتی طور پر ناکام ہو گئ ہے اور ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں. آپس میں لڑ رہے ہیں.انیل چوہان بدحواسی میں سچائی سامنے لے آئے ہیں.بھارتی جرنیل انیل چوہان کے بیان پر بھارت میں بہت لے دے ہو رہی اور ایک نیا پنڈورا بکس کھل گیا ہے.بھارتی فوج نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ مئی میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں اس کے کچھ جنگی طیاروں کا نقصان ہوا ہے ، تاہم تعداد کی وضاحت نہیں کی گئی۔

ہندوستانی چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان نے بلومبرگ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جھڑپوں میں تکنیکی غلطیاں ہوئیں. چوہان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ امریکا نے جوہری جنگ کو روکا، لیکن کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ بعید از قیاس تھا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی آپریشنز اور جوہری دہلیز کے درمیان کافی فاصلہ موجود ہے۔ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جانب سے طیارے گرنے کے اعتراف کے بعد بھارت میں شدید اشتعال کا سامنا ہے. اپوزیشن اور کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی نے قوم کو گمراہ کیا، کانگریس نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرنے اور شفافیت تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے مودی سرکار پر شدید تنقید کی کہا کہ مودی حکومت نے قوم کو گمراہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایسے سنجیدہ سوالات صرف پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ہی اٹھائے جا سکتے ہیں، ایکس پر اپنے پیغام میں ملک ارجن کھرگے نے مزید لکھا کہ کانگریس پارٹی، کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر ملک کی دفاعی تیاریوں کا جامع جائزہ لینے کیلئے آزاد ماہرین کی کمیٹی کا مطالبہ کرتی ہے۔ تلنگانہ کے آبپاشی وزیر اور بھارتی فضائیہ کے سابق پائلٹ کیپٹن این اُتّم کمار ریڈی نے ہفتہ کو مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ رپورٹ ہونے والے نقصانات، بشمول رافیل لڑاکا طیاروں کے گرائے جانے کے بارے میں مکمل شفافیت دکھائے۔ ریڈی نے کہا کہ قوم کو یہ بھی جاننے کا حق ہے کہ ہمارے کیا نقصانات ہوئے۔ ریڈی نے بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرن کی کم ہوتی ہوئی تعداد پر بھی تشویش ظاہر کی، جو اس وقت 31 اسکواڈرن ہیں، جبکہ منظور شدہ تعداد 42 اسکواڈرن ہے۔قبل ازیں کانگریس نے مطالبہ کیا کہ انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے بیان کے بعد کچھ ایسے سوال پیدا ہوتے ہیں، جن کے جواب جاننا ضروری ہیں۔بھارت میں ہندو انتہا پسندی فوج میں بھی سرائیت کرگئی،بھارت کی پاکستان سے عبرتناک شکست اور مایوس ہو کر
بھارتی آرمی چیف مندر پہنچ گئے،پیشوا سے ملاقات، آذار کشمیر پر قبضے کی پراتھنا(دعا) کی گئی،ہندوپیشوا نے بھارتی آرمی چیف سے نذرانے میں آزاد کشمیر مانگ لیا،
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند
کیسی انوکھی بات رے
بھارتی آرمی چیف کی وردی میں ہندوؤں کے روحانی پیشواکے آشرم میں حاضری پر میڈیا میں تنقید، بھارتی آرمی چیف کی مکمل فوجی وردی میں مذہبی لیڈر کے آشرم میں حاضری پر ملک کے اندر سے ہی تنقید شروع ہو گئی ہے۔جس پر بھارتی میڈیا میں اس حوالے سےنہ صرف سوالات اٹھائے جارہے ہیں بلکہ وہ سیاسی و دیگر حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کی زد میں ہیں۔اس ملاقات کے بعد جگت گرو رام بھدر آچاریہ نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب اُن سے پوچھا گیا کہ آرمی چیف بطور “دکشِنا” (روحانی نذرانہ) کیا پیش کر سکتے ہیں، تو انہوں نے آزادکشمیر کا مطالبہ کردیا جسے بھارتی آرمی چیف نے قبول بھی کر لیا۔انہوں نے کہا: “بھارتی فوج کے سربراہ میرے پاس آئے۔ میں نے اُنہیں رام منتر بتایا وہی منتر جو ہنومان جی کو سیتا جی سے ملا تھا اور جس کی برکت سے انہوں نے لنکا پر فتح حاصل کی۔بعد ازاں جب دکشِنا کی بات آئی، تو میں نے کہا کہ میں ایسی دکشِنا مانگوں گا جو آج تک کسی گرو نے نہیں مانگی۔ میں نے کہا، ʼمجھے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر چاہیے، یہی میری دکشِنا ہے۔ʼ انہوں نے میری درخواست قبول کی۔
بھارتی چیف نے اس طرح آزاد کشمیر دینے کی حامی بھر لی جیسے لولی پاپ ہے. آزاد کشمیر کا حصول ڈراؤنا خواب ہے. کشمیر کی طرف میلی آنکھ کر کے بھی دیکھا تو آنکھیں نوچ لیں گے. جنتر منتر سے جنگ نہیں جیتی جاسکتی.
بھارتی میڈیا کے مطابق رام بھدراچاریہ نے کہا کہ انہوں نے بھارتی آرمی چیف پر ویسی ہی مذہبی ذمہ داری ڈالی ہے جیسی راون کے قبضے سے سیتا کو چھڑانے کے لیے ہنومان کو دی گئی تھی۔ بھارتی آرمی چیف کے اس اقدام پر دفاعی تجزیہ کار سشانت سنگھ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی فوجی سربراہ کی وردی میں کسی خاص مذہبی رہنما سے اس نوعیت کی ملاقات بھارت کی غیر سیاسی اور سیکولر افواج کے نظریے کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اس کے مقابلے میں پاکستانی افواج صرف اللہ سے مدد مانگتی ہے اور نعرہ تکبیر لگا کر شہادت کی آرزو کرتی ہے.جنگ جذبہ ایمانی سے جیتی جاتی ہے.ہر فوجی جوان شہادت کی تمنا لے کر کافروں سے ڈٹ کر لڑتا ہے.
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف ملکی سلامتی کو مضبوط بنایا بلکہ قوم کو ایک واضح اور پرعزم قیادت فراہم کی جو ہر بحران میں ثابت قدم رہی۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے دشمن کو موثر پیغام دیا اور اندرونی و بیرونی خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔
عاصم منیر ایک نڈر بہادر اور حوصلہ مند سپہ سالار ہے انہوں نے بہترین منصوبہ بندی ، حکمت عملی سے ایک بدمست، متکبر دشمن کو دن کی روشنی میں تارے دکھائے ہیں. پاک فوج نے وہ کام کر دکھایا جس کی تعریف بیرونی میڈیا نے بھی کی ہے- پاک فوج کی اس کامیابی کا سہرا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے سر جاتا ہے. پاکستانی فوج دنیا کی طاقتور فوج ہے جو ہر طرح کے حالات میں دشمن کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے-
فیلڈ مارشل جنرل محمد عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز حکومت نے نہیں پاکستان کی 25 کروڑ عوام نے دیا۔ جتنی بہادرانہ اور دلیرانہ قیادت کا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مظاہرہ کیا، تاریخ میں نہیں دیکھا۔
افواج پاکستان نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا، کشیدہ صورتحال کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جذبہ اور عزم مثالی تھا، وطن عزیز کے لیے فیلڈ مارشل کی خدمات کو خراچ تحسین پیش کرتے ہیں۔
پاکستان میں بھارت کی طرح کا خوف و ہراس اور مایوسی نہیں حکومت اور فوج ملکی سلامتی دفاع اور معاشی ترقی پر یکجا ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
*جوکر مودی*
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گجرات انڈیا کے شہر بھوج میں بھوج پوری زبان میں پاکستان کو گیدڑ بھبھکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ زندگی جیو،روٹی کھاؤورنہ میری گولی تو ہے”آپریشن سندور صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ بھارت کی اقدار اور جذبات کی عکاسی تھی۔” اس نے مزید کہا کہ پہلگام کے بیہمانہ قتل کے بعد “بھارت اور مودی کسی صورت خاموش نہیں بیٹھ سکتے تھے۔
بھارت کی ذلت آمیز شکست کے بعد مودی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے اور بدحواسی میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے.اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے اپنی انتہا پسند جنتا کو جھوٹے دلاسے دے رہا ہے. مودی پاکستان کی غیور بہادر عوام کو گولی سے ڈرا رہا ہے جبکہ اس کے میزائل اور بارود بھی حوصلہ کم نہیـں کر سکے. مودی احمقوں کی جنت میں رہتا ہے.
پاکستان کے ہاتھوں رافیل سمیت 6 طیارے اور 26 دفاعی تنصیبات تباہ کرانے اور ذلتیں سمیٹنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بدحواس ہو گیا ہے. عوامی اجتماعات میں مودی فلمی ڈائیلاگ اور لطیفے سنا کر اپنی بیوقوف عوام کو محظوظ کر رہا ہے جبکہ پاکستانی عوام نے اس عمل کو غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی کہہ کر نظر انداز کر دیا ہے.

اپنی آبائی ریاست گجرات کے شہر بھوج میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی کی وہ جھنجھلاہٹ باہر آگئی جو بھارتی فوج کو پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست پر انہیں لاحق ہو چکی ہے اور بھارتی وزیراعظم نے وہ الفاظ استعمال کر دیئے جو کسی بھی ملک کا سربراہ حکومت دوسرے ملک کے شہریوں کے لیے استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ جنگ میں بھی دشمن ملک کے شہریوں کو نقصان پہنچانا عالمی قوانین کے تحت جرم ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بھارت کے مقابلہ میں عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر غیر معمولی فتح دی اور آج پوری دنیا پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور عسکری طاقت کو تسلیم کررہی ہے۔ معرکہ حق بُنیان مرصوص میں بھارت کی تاریخی شکست پر کانگریس رہنما نے عبرتناک انجام کا اعتراف کرتے ہوئے مودی سرکار کی پالیسیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
پاک فوج کے آپریشن بُنیان مرصوص میں بھارتی افواج کی تاریخی شکست کے بعد وہاں کی سیاست میں بھی بھونچال آ چکا ہے۔ بھارت کی ذلت آمیز شکست پر کانگریس ایم ایل اے وجے واڈیٹیوار نے مودی اور بھارتی فوج پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔
کانگریس کے ایم ایل اے وجے واڈیٹیوار نے مہنگی دفاعی خریداری اور بوسیدہ حکمت عملی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مودی سرکار پر زوردار وار کیا ہے اور انہوں نے مودی کی جنگی سوچ کو ناکام قرار دے دیا۔
کانگریس ایم ایل اے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سستے ڈرونز بھارت بھیجے، بھارت نے اربوں جھونک دیے۔ چین نے پاکستان کو 5 ہزار ڈرونز دے کر بھارت کی کمزوری بے نقاب کر دی جب کہ مودی سرکار اربوں جھونکتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے 15 ہزار کے ڈرون گرانے کے لیے 15 لاکھ کا میزائل فائر کیا۔ مودی سرکار کی جنگی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام اور 5 ہزار سستے پاکستانی ڈرونز کے سامنے بھارتی دفاع بےبس ثابت ہوگیا۔
کانگریس رہنما نے بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست کو مودی سرکار کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کم لاگت میں حملہ کیا جب کہ بھارت نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ بےدریغ ضائع کیا. کانگریس ایم ایل اے نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے 3 سے 4 رافیل طیارے تباہ کر دیے، مگر مودی سرکار کی مجرمانہ خاموشی بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ رافیل سودے پر نعرے تھے، اب نقصان چھپایا کیوں جا رہا ہے؟۔
دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی خود پسندی نے قومی سلامتی داؤ پر لگا دی ہے۔ صرف مہنگے ہتھیار کافی نہیں، بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ مودی سرکار کو پاکستان سے شکست پر ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تجزیہ کار کہتے ہیں مودی نے دنیا بھر میں بھارت کی ناک کٹوادی، جنگ کے وقت بھی بھارت کے ساتھ کوئی ملک کھڑا نہیں تھا، مودی کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے مسلمان مخالف بیانیہ بھی اب دم توڑنے لگا ہے۔پاکستان سے مبینہ جنگی شکست کے بعد نریندر مودی سرکار کو بھارت میں شدید عوامی ردعمل اور تجزیہ کاروں کی تنقید کا سامنا ہے۔
بھارتی میڈیا، عوام اور سیاسی حلقے مودی کی پالیسیوں اور قیادت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ایک معروف بھارتی تجزیہ کار نے کہا، پاکستان کے سامنے ہماری ناک کٹ گئی، مودی جنگ سے ڈرتے ہیں، اسی لیے ٹرمپ نے انہیں جنگ سے روک دیا۔ مودی کو ڈرپوک وزیراعظم قرار دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ انہوں نے بھارت کو سفارتی تنہائی میں دھکیل دیا، جنگ کے وقت بھی بھارت کے ساتھ کوئی بڑا ملک کھڑا نہیں تھا، جب کہ پاکستان کے ساتھ چین، ترکیہ، آذربائیجان جیسے ممالک نے حمایت کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ مودی جیسے کمزور اور گرے ہوئے وزیراعظم کی بھارت نے پہلے کبھی مثال نہیں دیکھی۔ ادھر گودی میڈیا پر بھی پاکستان کے ساتھ جنگی شکست کا ماتم جاری ہے. مودی نے انڈیا اور ہندوؤں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان نے اس بندے کو ذہنی طور پر مفلوج بنا دیا ہے۔ اصل میں مودی کو رافیل کا غم اندر ہی اندر سے کھائے جا رہا ہے۔ مودی کو ہندوستانیوں سے معافی مانگنی چاہئے کیونکہ وہ انکو جنگ میں دھکیل کر مارنا چاہتا ہے.
بی جے پی اور مودی کی سیاست انتشار اور نفرت پر مبنی ہے. اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے کبھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا ہے تو کبھی ہندو مسلم فسادات 90ء کی دہائی تک ہندوستان ایک سیکولر ریاست مانا جاتا تھا لیکن بی جے پی کیوجہ سے اب ایک جنونی اور متشدد ہندو ریاست بن چکا ہے جس میں کوئی اقلیت محفوظ نہیں ہے.
مودی سمجھ رہا تھا پاکستان کے پاس کھانے کے پیسے نہیں یہ بھوکے ننگے ہیں تو ان کو جنگ سے ختم کردو مگر یہ بھول گیا ہم وہ مسلمان قوم ہیں جن کی تاریخ یہ ہے کہ پیٹ پر پتھر باندھتے ہیں مگر تلوار کی دھار تیز اور ہمیشہ تیار رکھتے ہیں، ہمیں شہادت اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں زندگی سے محبت ہے.مودی پاکستان کو دہشت گرد کہتا ہے جبکہ اس کا گولی مارنے کا بیان کھلی دہشتگردی ہے.
مودی اور گودی میڈیا کی فلم “سندور” پوری دنیا میں فلاپ ہوگئی ہے ۔اب مودی اور گودی میڈیا ذہنی دباؤ کا مریض بن گیا ہے اور ہر وقت بکواس کرتا ہے.اقوام عالم مودی کی دھمکی کا سنجیدگی سے نوٹس لے. ویسے بھی پاکستانی نوجوان پاکستان کی شہ رگ اور سیسہ پلائی دیوار ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی میں ایک سیاستدان کی خصوصیات نہیں ہیں۔ وہ مغرور اور غیر مہذب ہے اور پاکستانی عوام کو براہ راست دھمکیاں دے رہا ہے۔ اب اسے احساس ہوا کہ پاکستان اور خاص طور پر نوجوان پاکستانی اس کے اوچھے عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
پاکستان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نفرت انگیز بیان کو علاقائی امن و استحکام کےلیے خطرہ قرار دیدیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے نریندر مودی کی دھمکی پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی خطرے کا منہ توڑ جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ جوہری ریاست کےسربراہ کے نفرت انگیز بیانات قابل افسوس اور خطرناک رجحان ہیں، بھارت کو انتہا پسندی کی فکر ہے تو اندرون ملک ہندوتوا اور اقلیت دشمنی پر توجہ دے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
(پریس رپورٹ)
**********
تنظیم جلیسان ادب
********
پاکستان کی معروف افسانہ نگار و ڈرامہ نگار نورالہدی شاہ نے کہا ہے کہ جہاں تاریخ دانوں اور محقیقین کے قلم ٹھہر جاتے ہیں افسانہ وہاں سے شروع ہوتا ہے۔افسانہ اور کہانی دھرتی سے پھوٹتی ہے ،میرا خواب ہے کہ اردو اور سندھی ادیبوں،دانشوروں اور شاعروں کو ساتھ بیٹھا دیکھوں،کیونکہ ہمار ی جڑیں مشترکہ ہیں۔ہمارے آنسو،دکھ درد،خوشیاں،مسائل اور پانی مشترکہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز نمل یونیورسٹی آڈیٹوریم میں معروف ادبی تنظیم جلیسان ادب کے زیراہتمام “شام افسانہ” بیاد پروفیسر انوار احمد زئی کی تقریب سے خطاب اور اپنا افسانہ پیش کرتے ہوۓ کیا۔شام افسانہ میں حیدرآباد کےمعروف افسانہ نگاروں پروفیسر انوار احمدزئی، ڈاکٹرشمیم انصاری، ظفر محمد قریشی،پروفیسر فیاض صابرکے افسانے پیش کئے گئے،جبکہ عمران محمود شیخ نے حیدرآباد کے افسانہ نگاروں کی تاریخ پر اپنی تحقیق پیش کی۔تقریب میں جلیسان ادب کے روح رواں قمر مشتاق نے خطبہ استقالیہ پیش کرتے ہوۓ مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور جلیسان ادب کی ادبی خدمات سے آگاہ کیا۔جبکہ سرپرست قدیر الااسلام راشد نے اختتامی کلمات کہے۔تقریب میں حیدرآباد کی معروف شخصیت، ماہر تعلیم پروفیسر انوار احمد زئی کا افسانہ “سنیچر کا دن”ان کے بھتیجے محمد احمد زئی نے پیش کیا،ڈاکٹر شمیم انصاری نے اپنا افسانہ “اپنا گھر پرایا” کے عنوان سے،ظفر محمد قریشی نے “میرا بچپن،میرا جگنو میری گڑیا لادے”کے عنوان سےاپنا افسانہ پیش کیا۔پروفیسر صابر فیاض نے فلسطین کے حالات کے حوالے سے “زیتون کا باغ”کے عنوان پر افسانہ پیش کیا۔آخر میں مہمان خصوصی معرف افسانہ نگار وڈرامہ نگار نورالہدی شاہ نے اپنے افسانے”سات آسمانوں تلے” کا خلاصہ پیش کیاجس میں شہری اور دیہی زندگی کے حوالے سے مسائل اور حالات اور انجام کا تذکرہ پراثر طور پر پیش کیا گیا تھا۔اس موقع پر نورالہدی شاہ نے خطاب میں کہا کہ طویل عرصہ بعد حیدرآباد میں افسانے کے حوالے سے اپنی نوعیت کی شاندار اور منفرد تقریب منعقد کی گئی ہے جس میں بڑی تعداد میں افسانہ نگاروں،ادیبوں اور بڑی تعداد میں اہل علم کی شرکت پر انہیں بے خوشی ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ میں نے بچپن سے لکھنا شروع کیا،اردو میں بھی تحریریں لکھیں،لیکن شہرت سندھی افسانوں اور ڈراموں سے ملی،انہوں نے کہا کہ میرا تعلق زمین پر کھڑے انسان سے ہے۔نورالہدی شاہ نے کہا کہ میرا خواب ہے کہ اردو اور سندھی ادیبوں شاعروں اور اہل قلم کو ساتھ بیٹھا دیکھوں کیونکہ سندھ کے اردو اور سندھی میں لکھنے والے ادیب اور شاعرجس مٹی میں پیدا ہوۓ ہیں اسی میں ان کی جڑیں ہیں،ہمارے آنسو،دکھ درد،خوشیاں، غم،پانی مشترکہ ہیں،ہمارا خون بھی ساتھ ساتھ بہتا ہے۔ہم نے بڑے دکھ دیکھے ہیں،اس دھرتی کوروتے اور سسکتے دیکھا ہے۔انہوں نے کیا کہ سیاست اور جنگیں بڑی ظالم چیز ہیں،ہمارا میرا خواب ابھی سفر میں ہے کہ سندھ کے ادیبوں،شاعروں اور دانشوروں کو ساتھ بیٹھا دیکھوں۔انہوں نے کہا کہ جہاں تاریخ دانوں اور تحقیق کرنے والوں کے قلم جہاں ٹھہر جاتے ہیں وہیں سے افسانہ شروع ہوتا ہے۔افسانہ عام آدمی کے دکھ درد اس کے مسائل،جنگوں کے آلام ومصائب بیان کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افسانہ اور کہانی اس زمین سے پھوٹتی ہیں جہاں میں اور آپ کھڑے ہیں،کہانی جب بنتی ہے جب لکھنے والا گہرائیوں میں اترتا ہے،کہانیاں اور داستانیں ہماری زمین میں موجود ہیں۔مشترکہ کہانیاں قوموں کو اور زمین کے لوگوں کو زندہ رکھتی ہیں۔تقریب میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں جلیسان ادب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سید عتیق احمد جیلانی، جلیسان ادب کراچی چیپٹر کے صدر پروفیسر صفدر علی خان انشا، امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد انجینئر حافظ طاہر مجید راجپوت، سائٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین وسابق ایم پی اے عبدالرحمٰن راجپوت، براڈ کاسٹر، ڈراما رائٹر عشرت علی خان،ناظم امتحانات تعلیمی بورڈ حیدرآباد ڈاکٹر مسرور احمد زئی، افسانہ نگار پروفیسر وثیق الرحمان صابر، یونس عظیم سعیدی، ڈاکٹر رفیق احمد خان، پروفیسر وقار احمد وقار، پروفیسر محمد انیس خان،ندیم خاور، پروفیسر فرحت سعیدی،رشید سارب، محسن سلیم، ظہر شمس،کنیز فاطمہ،محمد حنیف شیخ، حافظ سفیانناصر، پروفیسر عبد اللطیف انصاری، محمد اکرم چھیپا، عبدالحفیظ عابد، تجمل حسین خان، ڈاکٹر فصیح الدین ہاشمی، عبد الغنی انصاری، پروفیسر المینہ شیخ، مسرور انور بٹ، ضیاء الدین،عمر خان کاکا،پروفیسر سعید قریشی ، پروفیسر نعیم شامل،جاوید اخلاق، ڈاکٹر رضوانہ انصاری، ڈاکٹر عامر نیاز چنا، سید عمران عسکری،حافظ محمد عرفان قائم خانی، احسن معید شیخ ایڈوکیٹ،شاہد مقبول، پروفیسر نیئر امین، عبدالواحید شیخ، شجاع الدین ودیگر شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض جیمس ٹی وی کی منیرہ خان، اورمعصومہ زہرہ نے انجام دیے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
*یوم تکبیر اور معرکہ حق بنیان مرصوص*
پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن جب بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیے۔بلوچستان کےعلاقے چاغی میں ارتعاش پیدا ہوا اور چاغی کےایک سنگلاخ پہاڑ سے ریت دھواں بن کر اڑنے لگی، ارتعاش دراصل پاکستان کے ناقابل تسخیر ہونے کا اعلان تھا، پاکستان کےایٹمی دھماکوں سےخطےمیں طاقت کاتوازن برقرارہوگیا اور پاکستان کو دنیا کی ساتویں، پہلی اسلامی ایٹمی ریاست ہونےکااعزازحاصل ہوا اور پاکستان نے بھارت کا خطے میں بالادستی کا خواب چکناچورکردیا۔ پاکستان نے ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔
اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے موسوم کیا گیا.
بھارت کے تکبر اور غرور کا یہ عالم تھا کہ اس کے سائنسدانوں کی طرف سے یہاں تک کہا گیا کہ کمپری ہینسو ٹیسٹ بین ٹریٹی CTBT بھارت کے لئے نہیں کمزور ممالک کے لئے ہے مگر خدا کو اس ارض وطن پر دشمنان اسلام کے عزائم کی کامیابی کسی صورت گوارا نہ تھی جسکے چپے چپے پر ابھی تک پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ جسے روکنے کے لئے پاکستانی عوام کے علاوہ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں کی طرف سے سخت ترین دبا ڈالا جارہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹمی تجربہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے ۔
پاکستان کے اس اقدام کو امریکہ اور یورپ کی تائید حاصل نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر کلنٹن، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی وزیراعظم موتو نے پاکستان پر دبا ڈالا کہ پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرے ورنہ اس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ دوسری طرف بھارت کی معاندانہ سرگرمیوں کی صورتحال یہ تھی کہ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کر دی تھی۔ اس طرح پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ اور امور کشمیر کے انچارج ایل کے ایڈوانی نے بھارتی فوج کو حکم دیا کہ وہ مجاہدین کے کیمپ تباہ کرنے کے لئے آزاد کشمیر میں داخل ہو جائے جبکہ بھارتی وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے تو یہاں تک ہرزہ سرائی کی تھی کہ بھارتی فوج کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر دیا جائے گا۔ یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کی تیاریاں تھیں۔یہ درست ہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے اپنے حق کا استعمال کیا مگر یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا واضح مقصد صرف اور صرف پاکستان کو خوفزدہ کرنا تھا اور ایک طاقتور ملک ہونے کا ثبوت دے کر پاکستان سمیت پورے خطے کے ممالک پر اپنی برتری جتانا تھا۔ اس کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا پاکستان کے بارے میں لہجہ ہی بدل گیا تھا.
َ”تکبیر” کا مطلب ہے “اللہ اکبر”، اور یہ دن اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا اعلان کر دیا۔
ایٹمی تجربات نے ثابت کیا کہ پاکستان خودمختاری پرسمجھوتہ نہیں کرے گا اور یوم تکبیر پیغام ہے کہ پاکستان کیخلاف جارحیت کا انجام عبرتناک ہوگا۔
وطنِ عزیز کے دفاع اور سلامتی کا تقاضہ تھا کہ تمام تر مصلحتوں اور دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفاد کے پیش نظر مشکل فیصلے کئے جائیں.
عالمی دباؤ کے باوجود 28 مئی کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور پاکستانی فوج کے قومی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن بھی ہے۔
ہم ایٹمی پروگرام شروع کرنے پر ذوالفقار علی بھٹو اور ان سائنسدانوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اسے جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ولولہ انگیز شخصیت نے پاکستان کو دنیا میں وہ مقام دلایا جسے تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا.
ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی اور روحِ رواں تھے اور ڈاکٹر ثمر مبارک تجرباتی ٹیم کے سربراہ سائنسدان تھے.
کیسا عجیب اتفاق ہے کہ مئی کے مہینے میں ہی بھارت نے اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کیلئے پہلگام واقعے کو جوازبنا کر طاقت کے نشے میں پاکستان پر دھاوا بول دیا۔ پاکستان کی معاشی سیاسی اور سفارتی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اس بار بھی بھارت کا خیال تھا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیگا اور خطے میں ایک ناقابلِ تسخیر معاشی و فوجی قوت کے طور پر بہ آسانی تسلیم کر لیا جائیگا۔ لیکن جدید ترین ٹیکنالوجی، جدید ترین ہتھیاروں، عددی فوجی برتری اور اسرائیل کی کھلی امداد کے باوجود بھارت کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ بھارت کو ایسے دندان شکن جواب کی ہرگز توقع نہ تھی۔ اسے اسرائیل کی پشت پناہی، امریکی آشیر باد، فرانس کے فراہم کردہ رفال طیاروں اور روسی جدید ترین دفاعی آلات کا کچھ زیادہ ہی گھمنڈ تھا۔ بدلے میں پاکستان کے شاہینوں نے اسکی توقعات کے برعکس شدید ترین اور منہ توڑ جواب دے کر اسکے غرور کو خاک میں ملا دیا تو اسے راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔ہمارے سپوتوں نے دشمن پر جس دلیرانہ انداز میں اپنی دہاک بٹھائی ہے اْسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ مئی کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رہے گا.ہندوستان کو وہ سبق سکھایا ہے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ اگر آج ہم ایٹمی قوت کے حامل نہ ہوتے تو صورتِ حال ایسی نہ ہوتی جیسی آج ہے۔پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے 10 مئی 2025 کو آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کا آغاز بھارتی فوج کی بزدلانہ جارحیت کے ردعمل میں کیا گیا، جو 6 اور 7 مئی 2025 کو شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی شہادت ہوئی جس میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔پاکستان نے حملوں کا بدلہ لینے اور انصاف کی فراہمی کا عزم کیا تھا، الحمداللہ، پاکستانی فوج نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا.

دنیا نے دیکھا کہ کئی گنا بڑے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے میں چند گھنٹے لگے، جو طیارے بھارت کا غرور تھے اب راکھ اور نشان عبرت بن چکے ہیں۔ ہمارے شاہینوں نے دشمن پر کاری ضربیں لگائیں ، یہ ہمارا دندان شکن جواب تھا۔
پاکستان کی بہادر اور پیشہ وارانہ مسلح افواج نے دشمن کو اسی کی زبان میں مؤثر اور بھرپور جواب دے کر عسکری تاریخ کا سنہرا باب رقم کیا ہے اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
دشمن کے فوجی اڈے ، اسلحہ کے انبار اور ایئر بیسز دیکھتے ہی دیکھتے سب کھنڈرات بن گئے، ان کے رافیل ہمارے شاہینوں کے نشانے پر آئے اور اللہ کے فضل سے ناکام ہو گئے۔
ہماری یہ کارروائی اس بوسیدہ نظریہ کے خلاف تھی جو انسان دشمنی ، جارحیت ، مذہبی جنون اور تعصب پر قائم ہے، یہ ہماری غیرت اور اصولوں کی فتح ہے، یہ افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ خوددار، غیرت مند اور باوقار پاکستانی قوم کی کامیابی ہے۔
پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ہم پاک افواج کے ان تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے معرکۂ حق کی تکمیل میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اس معرکہ حق کے موقع پر جنرل عاصم منیر نے بے مثال شجاعت، بہادری، واضح سوچ اور عزم کے ساتھ ملک کے دفاع کی قیادت کی۔ ان کی کمان میں مسلح افواج نے تیز، مربوط اور مستعدی سے جواب دیا، دشمن کے مقاصد کو موثر انداز سے ناکام بنایا اور پاکستان کی علاقائی سالمیت کے دفاع کو یقینی بنایا.
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی ایک تاریخی سنگِ میل ہے، جو قوم کے دفاع اور سلامتی کے لیے ان کی شاندار خدمات کا اعتراف ہے۔ یہ اعلیٰ ترین اعزاز جنرل عاصم منیر کی فرض شناسی، جرات مندانہ قیادت اور دور اندیشی کا مظہر ہے، جس نے مسلح افواج کو بھارتی جارحیت کا موثر اور موزوں جواب دینے کے لیے متحرک کیا۔پاکستان کی عوام ان کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کرتی ہے.
آئیے اس دن یہ عہد کریں کہ اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف بیرونی دشمنوں بلکہ مقامی عناصر کے ان تمام مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گے.
یوم تکبیر یہ یاد دلاتا ہے کہ کس طرح پوری پاکستانی قوم اس روز ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے متحد ہوئی۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان *
*پہلگام واقعہ دو قومی نظریہ کے تناظر میں*
************************
*مودی کا اکھنڈ بھارت کا خواب دفن ہو گیا*
***********************
قسط نمبر 2
بھارت کو آئینہ دکھا دیا ہے کہ اصل میں آپ دہشت گردی کرتے ہیں.پاکستان نے معاملے پر مثبت جواب دیا اور تحقیقات کی پیشکش کی، بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکتا یہ پاکستان کی ریڈ لائن ہے۔
بھارت کے تمام اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جیسے کہ بھارت کی کشمیر پر پالیسی دیکھ لیں، عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، پلوامہ واقعے کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کی۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل قراردادوں کی پرواہ نہیں کی، پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کردیا، سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کر دیا
سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان بھارت میں کس کا رویہ ذمہ دارانہ ہے، دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت کا رویہ بالکل غیرذمہ دارنہ ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی پاکستان کی فوج اور ائیر فورس کو نمبر ون قرار دیا. فضائیہ کی دھاک اور برتری پوری دنیا نے دیکھی اور تسلیم کی۔
یہ وہ جنگ تھی جو پاکستانیوں کی اکثریت نے سوشل میڈیا پر اپنی فوج اور حکومت کے شانہ بشانہ لڑی۔ شاید ہی کوئی لمحہ ہو جب ہم صورتحال سے بے خبر رہے ہوں۔ فوج کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے اور حکومتی موقف اور کاوشوں کو دنیا بھر میں پہنچا رہے تھے. بھارت نے پاک فوج کی صلاحیتوں کے بارے میں غلط اندازہ لگایا حالانکہ پاک فوج نے پہلے ہی اُنہیں خبردار کیا تھا جب ہم حملہ کریں گے تو دنیا دیکھے گی تو اب جب ہم نے جواب دیا تو پوری دنیا کو پتہ چلا ہے لیکن میں پھر بھی بھارتی حکّام سے کہوں گا کہ ہم لوگ امن اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کا جغرافیائی سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو گیا ہے اور یہ پاک فوج کا ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ میں یقین تھا جس نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بدل تھا۔ فوج اور حکومت عوام میں اپنا مورال بحال کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
پاک افواج دنیا کی بہترین اور باصلاحیت افواج میں سے ایک ہے جو عزم و ہمت کے ساتھ جذبہ شہادت لیکر میدان میں اترتی ہے جن کے سامنے موت بھی کو ئی معنٰی نہیں رکھتی.اب یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ نریندر مودی کی سیاست کا بنیادی نکتہ بھارت کو عملی او رآئینی طو رپر سیکولر ریاست کے مقابلے میں ہندوتوا پر مبنی ریاست میں تبدیل کرنا ہے اور وہ اس ایجنڈے کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی سیاست میں نریندر مودی کی ہندوتوا سیاست کا جادو پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔
مودی اور آرایس ایس کی سیاسی فکر یہ ہے کہ دیگر مذاہب کے جن لوگوں نے بھی بھارت میں رہنا ہے انہیں ہندوتوا کی بالادستی کو قبول کرنا ہوگا ۔ سخت گیر ہندوتوا کی سیاست سے جڑے سیاست دان واشگاف انداز میں دیگر اقلیتوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اگر ان کو ہندوتوا کی بالادستی قبول نہیں تو وہ بھارت چھوڑ سکتے ہیں۔
آج مودی سرکار ملک بھر میں ہندو انتہا پسندی پر مبنی ہندوتوا پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، جس نے سیکولر بھارت کے دعوے خاک میں ملا دیے ہیں.
ہر ہندو کے دل میں پاکستان کا زخم ناسور بن گیا ہے. جہاں تک ہار جیت کا سوال ہے تو جیت پاکستان کی امن کی سوچ کی ہوئی ہے جیو اور جینے دو کی پالیسی کو کامیابی ملی ہے انڈیا بالخصوص مودی کی جنگ کی سوچ کو شکست ہوئی ہے، مہم جوئی،انتہا پسندی اور جنونیت کی ہار ہوئی ہے،جنگ میں دفاعی ، سفارتی، نفسیاتی اور میڈیا کے محاذ پرپاکستان کو سبقت اور فتح حاصل ہوئی ہےبھارت کو ہر محاذ پر شکست ہوئی ہےجنگ کے نتیجے میں پا کستانی قوم کا مورال بلند ہوا ہے شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشیاں منائیں مٹھائیاں بانٹیں آتشبازی کی پاکستان کے پرچم لہرائےسوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیں،پاک فوج اور فضائیہ کے جوانوں کو ہار پہنائےآرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ہیرو بن کرابھرے ہیں. پاکستان پُرامن ملک ہے، اگر ہمارے کسی حق کو دبانے کی کوشش کی گئی تو یہ پورے 24 کروڑ لوگ آخری دم تک لڑیں گے۔
پاکستان امن، استحکام کے لیے پُرعزم ہے، لیکن ہم اپنی خودمختاری پو کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
اس ڈرامے کو بے نقاب کیا جائے اور اصل حقائق سامنے آئیں، اور دنیا کے سامنے جو جھوٹا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، اس کو ختم کیا جائے، اب گیند بھارت کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس پر کیا کرتا ہے۔ پاکستان مضبوط ملک ہے، کسی کو غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے، ہمیں ترقی کرنا ہے تو پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا۔بھارت مئی کے مہینے کو ہمیشہ یاد رکھے گا.پاکستان نے ایٹمی دھماکے بھی مئی میں کیے تھے. بھارت 65 اور 71 کی جنگ کو بھول جائے. 2025 میں پاکستان نے نئی تاریخ رقم کر دی ہے. پاکستان نے اکھنڈ بھارت کے خواب کو دفن کر دیا ہے. موجوده حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ دو قومی نظریہ درست فیصلہ تھا.
اختتام
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
قسط نمبر 1
1947ء میں برِصغیر کی تقسیم اس اصول پر ہوئی کہ وہ علاقے جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے وہ علاقے بھارت کا حصہ ہوں گے اور وہ علاقے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ پاکستان کا حصہ بنیں گے۔
تقریباً ایک صدی قبل ہندوستان کے گلی کوچوں سے دو قومی نظریہ کی صدا بلند ہوئی۔ ان الفاظ کے حقیقی خا لق سر سید احمد خان تھے کہ جنہوں نے ہندوستان میں پہلی مرتبہ دو قوموں کا تصور پیش کیا، مگرحقیقی معنوں میں ان الفاط کو سنہری حروف میں علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا خواب دیکھ کر لکھااور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اس خواب کی عملی تصویر میں شبانہ روز کی جہدوجہد سے نہ صرف خو بصورت رنگ بھرے، بلکہ ان کے بے جان جسم میں روح پھونک دی۔ کئی خاک اور خون کی ندیا ں عبور کر کے مسلمانوں نے اس وطن عزیز کی طرف ہجرت کی اور ایک اسلامی فلاحی ریاست کی داغ بیل ڈال.
قائد اعظم نے ان کے تصورات کو عملی جامہ پہنایا اور تحریک پاکستان کی اس بنیاد میں، دو قومی نظریے کے تحت ہندوستان کے بٹوارے کو قبول کیا۔دوقومی نظریے کو عام مسلمانوں اور ہندؤوں میں اس طرح متعارف کرایا گیا کہ متحدہ ہندوستان میں دوقومیں آباد ہیں ،ایک ہندو اور دوسری مسلمان، دونوں کی تہذیب ، ثقافت،رہن سہن اور طرز معاشرت ایک دوسرے سے جداگانہ اور الگ ہیں۔

23مارچ 1940ءصرف مسلمانان ہند کے لئے ہی سنگ میل کی حیثیت نہیں رکھتا ،بلکہ تمام عالم اسلام کے لئے بڑی اہمیت کا باعث تھا، کیونکہ اس عظیم قرارداد کی منظوری کے سات سال بعد ایک ایسی ریاست دنیا کے نقشے پر ابھری ،جسے اسلامی دنیا کے فلک پر مہتاب بن کر چمکنا تھا۔ پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جو نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی ،جسے حاصل کرنے کے لئے برصغیر کے مسلمانوں کے پاس ایک مضبوط دلیل تھی کہ وہ مسلمان ہیں اور مذہبی آزادی چاہتے ہیں۔ گو یا اس عظیم مملکت کی بنیاد اسلامی نظریہ تھی….23 مارچ 1940ءکو منظور ہونے والی قرارداد لاہور برطانوی تسلط اور ہندو اکثریت کے منہ پر طمانچہ تھا، جس کے نشان وہ آج بھی اپنے ناکام ارادوں کے چہروں پر محسوس کرتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے خود کو ایک قوم منوالیا تھا اور انگریز پرست ہندوؤں کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا تھا کہ یہ قرارداد لاہور نہیں، بلکہ قرارداد پاکستان ہے۔ ہندو اکثریت اور برطانوی سامراج یہ ماننے پرمجبور ہو گئے تھے کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے اور مسلم لیگ ہی ان کی نمائندہ جماعت ہے۔
پہلگام فالس فلیگ آپریشن نے دوقومی نظریہ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ، اس واقعے کے بعد ثابت ہو گیا کہ دو قومی نظریہ کس قدر اہم تھا، دو قومی نظریہ ہمیشہ سے پاکستان کے وجود کی بنیاد رہا ہے۔
مسلمانوں اور ہندوؤں کے مذہب، تہذیب، زبان، ثقافت اور تاریخ یکسر مختلف ہیں.
بھارت نے اپنی الیکش مہم کامیاب کرنے کے لیے پہلگام میں جھوٹا ڈرامہ رچایا اور اپنے ہی شہریوں کے خون سے ہولی کھیلی اور سارا الزام ہمیشہ کی طرح پاکستان پر لگا دیا.
1857 سے 2025 تک بھارتی انتہا پسندو ہندوؤں نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا. ہمیشہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے عالمی سازشیں کیں. مودی خطہ میں اپنی بدمعاشی قائم کرنا چاہتا ہے. جب سے بھارت میں ہندوتوا اور آر ایس ایس کی حکومت قائم ہوئی ہے انہوں نے بھارتی مسلمانوں کا جینا حرام تو کیا ہی لیکن پاکستان ان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے. انتہا پسند ہندوؤں نے مساجد شہید کیں، گاؤ ماتا کے نام پر بھارتی مسلمانوں کا قتل عام کیا. پاکستان پر دہشتگردی کے بنا ثبوت الزام لگانے والے خود غنڈے دہشت گرد ہیں.پاکستان کا مذاق اڑانے والے آج خود دنیا میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں. بھارت کو اپنی افواج، ہتھیار، ٹیکنالوجی، جھوٹا میڈیا اور معیشت پر بہت ناز تھا. پاکستان نے سارا غرور خاک میں ملا دیا. پچھلے 25 سالوں میں بھارت میں جو دہشت گردی ہوئی اس میں وہاں کے مقامی لوگ ملوث تھے اور بھارت الزام پاکستان پر لگاتا رہا۔ بھارت ہندوتوا کی سوچ کی وجہ سے اپنے تعلقات خراب کر رہا ہے، نفرت اور جانبداری پر مبنی موجودہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے چمکتے دمکتے بھارت کی نام نہاد ساکھ کا بیڑا غرق ہو گیا ہے۔
اب یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ نریندر مودی کی سیاست کا بنیادی نکتہ بھارت کو عملی او رآئینی طو رپر سیکولر ریاست کے مقابلے میں ہندوتوا پر مبنی ریاست میں تبدیل کرنا ہے اور وہ اس ایجنڈے کا برملا اعتراف کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی سیاست میں نریندر مودی کی ہندوتوا سیاست کا جادو پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔
ضدی ہندو مودی بڑے مزے سے اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہا تھا مگر پاک فوج کے شاہینوں نے اس ہٹ دھرم بیوقوف کی نیند حرام کر کے ہمیشہ کیلئے سبق آموز نصیحت کردی. بھارت کا اکھنڈ بھارت کا خواب چکنا چور ہو گیا.
22اپریل2025 کی سہ پہر یہ خونریز سانحہ اُس وقت پیش آیا جب(1)وزیر اعظم پاکستان ، شہباز شریف ، ترکیہ کے دو روزہ دَورے پر تھے (2) جب نائب امریکی صدر ،جے ڈی وانس، اپنی ہندو اور بھارتی نژاد اہلیہ (اُوشا) کے ساتھ بھارت کا تین روزہ دَورہ کر رہے تھے (3) جب بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، سعودی عرب میں اپنے دو روزہ دَورے پر تھے (4) جب پاکستان کے وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب، ورلڈ بینک کے بعض ذمے داروں کے ساتھ مذاکرات کررہے تھے. بھارت کسی خاص موقع پر دہشت گردی کے حملے کرواتا ہے ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہو چکے ہیں.
یہ مبینہ خونریز سانحہ جنوبی مقبوضہ کشمیرکے مشہور سیاحتی مقام ’’پہلگام‘‘ میں پیش آیا ۔پہلگام کو بھارت میں( مقبوضہ) کشمیر کا ’’سوئٹزر لینڈ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
پہلگام واقعہ کے بعد ہندوستان کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے باوجود پاکستان کا ردعمل ذمہ دارانہ رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی ہے.
گذشتہ کئی برس سے پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے جس میں بھارت ملوث ہے اور پاکستان کے پاس ان واقعات کے ثبوت بھی ہیں.
بھارت پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کسی بھی قسم کا ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے اور وہ پاکستان کو پہلگام واقعہ سے جوڑنے کی سازش کر رہا ہے.

بھارت کی جانب سے 7 مئی کی رات پاکستان پر فضائی حملہ کیا گیا تھا جس کا پاکستان نے بروقت اور موثر جواب دیا اور رات کی تاریکی میں میزائل حملوں میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے بھارت کے 5 جنگی طیارے پاک فضائیہ نے مار گرائے، جس میں جدید طرز کا فرانسیسی جنگی طیارہ بھی شامل ہے۔
ان طیاروں کے گرنے کی تصدیق بین الاقوامی میڈیا اور خود طیارہ بنانے والی فرانسیسی کمپنی نے بھی کر دی.
پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے مسلسل جارحانہ اقدامات کا منہ توڑ جواب آپریشن ’’ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ سے دے دیا ، پاکستان نے بھارتی فوجی اڈے، ائیر فیلڈز ، براہموس اسٹوریج سائٹ اور ایس 400نظام تباہ کردیا ، بھارت پر فتح ون میزائل فائر کرکے آپریشن کا آغاز کیا گیا جس نے انڈیا کو ہلا کر رکھ دیا، بھارت میں 10سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آدم پور، ادھم پور، بھٹنڈا، سورت گڑھ، مامون، اکھنور، جموں، سرسہ اور برنالہ کی ایئر بیسز اورائیر فیلڈز کو تباہ کردیا گیا ،بھارتی اڑی فیلڈ سپلائی ڈپو اور ہلوارا ایئر فیلڈ بھی تباہ کر دی گئی،سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان تمام بیسز سے جہاں سے پاکستان کے عوام، مساجد و دیگر مقامات پر حملے کئے گئے تھے، ان کو ٹارگٹ کیا گیا، سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر نے ہائپر سونک میزائلوں سے آدم پور میں بھارت کا دفاعی نظام S-400 سسٹم تباہ کردیا، ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی مالیت لگ بھگ ڈیڑھ ارب ڈالر ہے، پاکستان میں دہشت گردی کروانے والا راجوڑی میں بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کا تربیتی مرکز بھی تباہ کردیا گیا، سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے بیاس کے علاقے میں براہموس اسٹوریج سائٹ تباہ کر دی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے بھارتی فوج کا سیٹلائٹ جام کردیا، پاک فضائیہ کی کارروائی کے بعد بھارتی فوجی سیٹلائٹ نے کام چھوڑ دیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فتح میزائل کی لانچ شہید پاکستانی بچوں کے نام کردی گئی، پاکستان ان معصوم بچوں کی شہادت کو بھولا ہے نہ کبھی بھولے گا، یہ پاکستانی معصوم بچے بھارت کی پاکستان میں جارحیت میں شہید کئےگئے تھے۔بھارتی فوج کے مطابق پاکستان نے 26 مقامات پر فضائی دراندازیاں کرنے کی کوشش کی۔بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پنجاب میں فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کے لیے تیز رفتار میزائل کا استعمال کیا۔اعترافی بیان میں بھارتی فوج نے کہا کہ بھارتی فوجی اڈوں پر ساز و سامان اور عملے کو نقصان پہنچا ہے۔بھارتی محکمۂ خارجہ اور محکمۂ دفاع نے مشترکاء بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے پنجاب میں فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لئے تیز رفتار میزائل کا استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اُدھم پور، بھوج، بھٹنڈا اور پٹھان کوٹ میں بھارتی ایئرفورس بیسز کو نشانہ بنایا۔سرسہ ایئر فیلڈ کی تباہی کی تصدیق انڈین میڈیا نے خود کردی، بھارتی میڈیا نے پٹھان کوٹ، پونچھ اور جموں ایئر بیسز پر پاکستانی حملوں کا اعتراف کر لیا۔ بھارتی فوج نے ائیر بیسز اور ائیر فیلڈز کی تباہی کی تردید کی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے نوشہرہ میں بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کا تربیتی مرکز تباہ کردیا گیا، تباہ کیا گیا بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کا تربیتی مرکز پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا تھا۔ایل او سی پر ربتانوالی پوسٹ، ڈنہ پوسٹ، خواجہ بھیک کمپلیکس اور رنگ کنٹوئر بالمقابل سنکھ، کافر مہری، شاہپر 3 اور غدر ٹاپ کو مکمل تباہ کر دیا گیا، افواج پاکستان کی توپوں نے بھارتی توپوں کو خاموش کروا دیا۔
اگرچہ بھارت کو اپنے ہائی ٹیک رافیل طیاروں اور ڈیڑھ ارب ڈالر کے جدید ترین ایس 400؍ ایئر ڈیفنس سسٹم پر ناز تھا، جبکہ پاکستان کی دفاعی افواج کی تربیت، نظم و ضبط اور ایمان کی وجہ سے دشمن کی چالیں ناکام ہوگئیں۔
پورا انڈیا رافیل کی پوجا کرتا رہا اور پھر رافیل نے بھارتی غرور تباہ کر دیا.آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ میں الفتح میزائل کی حیرت انگیز کارکردگی 5 مئی کو الفتح میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا، ایک ہفتے بعد ہی کامیابیوں نے دشمن پر لرزہ طاری کردیا،دشمن کو چکمہ دینا اور دوران پرواز میزائل اپنے ہدف کی جانب سمت تبدیل کرنیکی صلاحیت رکھتا ہے،پاک فوج نے بھارت کے آپریشن سندور کے جواب میں ہفتہ کی صبح ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کا آغاز کیا جس نے ابتدا ہی میں الفتح ون میزائل سسٹم کے ذریعے جوابی کارروائی کے دوران دشمن کو روایتی محاذ سے لیکر سائبر محاذ پر زبردست نقصان پہنچایا ، الفتح ون میزائل پاکستان کا مقامی طور پر زمین سے زمین پر مار کرنے والا جدید ترین میزائل ہے، یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے 5 مئی کو الفتح میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا ، عسکری ذرائع اور ماہرین کے مطابق آج الفتح نے اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد یہ ثابت کردیا کہ الفتح میزائل نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ پاکستان کے اس وژن کا عملی تصور ہے جس کے تحت دفاعی میدان میں خود انحصاری حاصل کرنے کا عزم کیا گیا ہے، الفتح مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیا گیا رہنمائی یافتہ (گائیڈڈ) میزائل نظام ہے جس کی مختلف اقسام ہیں اور دشمن کے علاقوں میں اہم اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بھارت کو سب سے غیر متوقع دھچکا پاکستان کی سائبر وار سے لگا۔ آئی ٹی کا چیمپئن سمجھے جانے والے بھارت کو پاکستان کے ایک ایسے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا جسے ماہرین پاکستان کی طرف سے کیا جانے والا تاریخ کا سب سے بڑا سائبر اٹیک قرار دے رہے ہیں، حالانکہ آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کو بھارت کا مد مقابل ہی نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان نے مواصلاتی لائنوں، ایئر ٹریفک سسٹم اور بھارت کے ڈیجیٹل ڈیفنس کنٹرول کو بھی غیر موثر کر دیا۔ بھارت کی بیشتر دفاعی اور سرکاری ویب سائٹس بھی ہیک کر لی گئیں۔ بھارت کے 70؍ فیصد علاقوں کو بجلی کی بندش کا سامنا رہا۔ سائبر اٹیک کے میدان میں یہ واقعتاً ناقابل یقین بات لگتی ہے۔ تجزیہ کاروں کو پاکستان کی کامیابی اور بھارت کو پہنچنے والے نقصان کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں.آپریشن بنیان مرصوص نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا.آپریشن بنیان المرصوص نے “فالس فلیگ آپریشن ” کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے..…. (جاری ہے)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
صحافت کا عالمی دن
یوم عالمی آزادی صحافت
صحافیوں نے خون دے کر جمہوریت اور اداروں کو مستحکم کیا
صحافت ہر سال 3 مئی کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن پوری دنیا میں میڈیا یعنی صحافت کی خدمات کو یاد کرنے کے لیے وقف ہے۔ یہ دن ہمیں میڈیا کی آزادی کی اہمیت کے بارے میں بتاتا ہے اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے کا جذبہ دیتا ہے۔ صحافت ایک بہت حساس پرُ خطر پیشہ ہے۔ دنیا بھر میں آئے روز صحافیوں پر جان لیوا حملے ہوتے ہیں۔ میڈیا کی اہمیت اور اس پیشے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال 3 مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد آزادی صحافت کے اصولوں کو منانا، میڈیا کا جائزہ لینا اور اسے حملوں سے بچانا اور فرائض کی ادائیگی میں اپنی جانیں گنوانے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔
کسی بھی عمارت کی طاقت کا انحصار اس عمارت کے ستونوں پر ہوتا ہے۔ اگر عمارت کا ایک ستون بھی کمزور ہو تو پوری عمارت کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایک مضبوط ریاست کا انحصار اس کے مضبوط ستونوں پر ہوتا ہے۔ ریاست کے ستونوں کا پہلا ستون پارلیمنٹ دوسری بیوروکریسی تیسری عدلیہ ہے جبکہ چوتھا ستون میڈیا یا صحافت ہے۔ دیگر تمام ستونوں کی طرح ریاست کی مضبوطی میں بھی میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا جہاں حکومت اور عوام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے وہیں حکومت کے غلط رویے اور منصوبوں پر بھی تنقید کرتا ہے۔
لیکن ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی تنقید کو مثبت انداز میں لینے اور خود کو درست کرنے کی بجائے منفی انداز میں دیکھنے کی روایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر دور میں صحافت کو زیر کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں صحافت کا پیشہ سب سے مشکل پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ ماضی کی طرح تمام نشریاتی اداروں اور صحافیوں کو مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔ پاکستان میں حکومتیں، طاقتور ادارے اور بڑی سیاسی جماعتیں اس تنقید کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے نتیجے میں براڈ کاسٹرز پر پابندی عائد ہے جبکہ صحافیوں کو ایف آئی آر اور ہراساں کرنے کا سامنا ہے۔
صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہی نہیں بلکہ معاشرے کا عکس بھی ہے صحافی معاشرے کی آنکھ ہیں مگر افسوس آج ریاست کے چوتھے ستون اور صحافیوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیاجارہاہے حکومت کی بے حسی سے ہزاروں صحافیوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوچکے ہیں کوئی پرسان حال نہیں ہے.
یونیسکو نے اپنے جنرل کانفرنس کے چھبیسویں اجلاس منعقدہ 15 اکتوبر – 7 نومبر 1991ء پیرس کی قرارداد نمبر 4.3 / C 26 کے ذریعے اس دن کو منانے کی سفارشات پیش کیں جس کے تحت اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے اس دن کو منانے کی باقاعدہ منظوری دی۔ یوں اس دن کو منانے کی ابتدا 1993ء میں ہوئی.
آزادی صحافت کے عالمی دن 2025 پر، صحافیوں کی عالمی آواز، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) صحافیوں کی یونینوں اور میڈیا کے درمیان سماجی مکالمے میں مصنوعی ذہانت (AI) کو ایجنڈے میں سرفہرست رکھنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
World Press Freedom Day 2025 Signature Event: Reporting in the Brave New World – The Impact of Artificial Intelligence on Press Freedom and the Media | UNESC
عالمی یوم صحافت 2025 کے اہم پہلوؤں میں شامل ہیں:
– میڈیا کی آزادی کو فروغ دینا: حکومت کو پریس کی آزادی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے لیے اپنے عزم کا احترام کرنے کی ترغیب دینا۔
– پریس کی آزادی کا اندازہ: عالمی سطح پر آزادی صحافت کی حالت کا جائزہ لینا اور صحافیوں کے تحفظ کو بڑھانے کی وکالت کرنا۔
– صحافیوں کا دفاع: ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنا جنہوں نے ڈیوٹی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں اور چیلنجوں، سنسرشپ اور تشدد کا سامنا کرنے والوں کی حمایت کی۔
– آزاد صحافت کو فروغ دینا: میڈیا میں اخلاقی صحافت، شفافیت اور جوابدہی کی حوصلہ افزائی کرنا۔
– دنیا بھر میں صحافیوں کو چیلنجوں کا سامنا ہے، صحافیوں کو ڈر، خوف یا ہراسیت سے پاک ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے.
– میڈیا بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے، صحافتی اخلاقیات کی پابندی کرے،قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ اور درست رپورٹنگ کرے. صحافت اور اظہار کی آزادی جمہوریت کی بنیاد، شہری حقوق کے تحفظ کی دیوار اور معاشرے میں سچائی کی پکار ہے، دنیا بھر میں سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں، اہل ِ قلم، کیمرہ مینوں اور دیگر میڈیا ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں. صحافت کے عالمی دن پر صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو سلام جبکہ حریت ِ فکر کے محافظوں کو خراج ِتحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں کوریج کے دوران جان قربان کرنے والے مرد و خواتین صحافی انسانیت کے ہیروز ہیں۔
عالمی یوم صحافت2025 منانے کے طریقے..
اپنی کمیونٹی میں آزادی صحافت کے واقعات میں شرکت کریں۔آزادی صحافت کے بارے میں کوئی کتاب یا مضمون پڑھیں۔پریس کی آزادی کی اہمیت کے بارے میں اپنے مقامی اخبار یا سرکاری اہلکار کو خط لکھیں۔مقامی آزاد میڈیا آؤٹ لیٹ کی حمایت کریں۔سوشل میڈیا پر صحافی کی پیروی کریں اور ان کے کام کے بارے میں مزید جانیں۔ایک صحافی کے بارے میں ایک کہانی شیئر کریں جسے ان کے کام کی وجہ سے دھمکی دی گئی تھی یا حملہ کیا گیا تھا۔ایسی تنظیم کو عطیہ کریں جو آزادی صحافت کی حمایت کرتی ہو۔
صحافی معاشرے کا آئینہ دار ہوتا ہے جو موسم کی سختیوں اور اپنی سماجی زندگی کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہر مظلوم کی آواز بنتا ہے، مگر ایسا کوئی نہیں جو صحافی کے حقوق کی بھی بات کرے۔
صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کئی سالوں سے کیا جا رہا ہے اور اس کے وعدے بھی مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔صحافیوں کو حکومت کی سطح پر معاشی اقدامات کیے جائیں.
پاکستان میں گذشتہ چند برسوں سے صحافتی شعبہ تنزلی کا شکار ہے، ہزاروں صحافی کارکن نوکریوں سے فارغ کئے گئے ہیں، معاشی سکیورٹی صحافیوں کے لئے اہم مسئلہ بن چکی ہے.
نوکریوں سے نکالے جانے والے صحافیوں کی بڑی تعداد شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے اور وہ ایسے پیشے اختیار کرنے پر مجبور ہیں جنہیں روزگار کا ذریعہ بنانے کے بارے میں انھوں نے سوچا تک نہیں تھا جبکہ دوسری طرف میڈیا انڈسٹری میں جن لوگوں کا روزگار برقرار ہے وہ بھی بے یقینی کا شکار ہیں اور روزگار چھن جانے کا خوف ہر وقت ان کے سروں پر سوار رہتا ہے۔
صحافیوں کی انشورنش وقت کی اہم ضرورت ہے ۔حکومت اور میڈیا ہاؤسز کے مالکا ن کو صحافیوں کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ جان کا تحفظ بھی یقینی بنانا چاہیے۔جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے صحافیوں کر کردار ادا کرنا چاہیے۔صحافیوں نے خون دے کر جمہوریت اور اداروں کا تحفظ کیا ہے ،حکمرانوں کو بھی صحافیوں کی فلاح کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
………………………….
*پروفیسر شاداب احمد صدیقی *حیدرآباد*
*مزدوروں کا عالمی دن اور مزدور بے خبر*
پاکستان سمیت دنیا بھر میں محنت کشوں کا عالمی دن 1 مئی کو ہر سال منایا جاتا ہے. آج مزدوروں کا دن تو منایا جارہا ہے لیکن اکثریت مزدوروں کو یہ علم ہی نہیں کہ یوم مزدور کیا ہوتا ہے۔ہر سال یوم مزدور کے مناسبت سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور مزدور طبقے کی حالت بہتر بنانے کےلیے بڑے بڑے دعوے اور وعدے کئے جاتے ہیں لیکن اس دن کے گزرنے کے ساتھ ہی پھر ایک سال تک خاموشی چھا جاتی ہے ۔اس دن کو منانے کا مقصد امریکا کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کو یاد کرنا ہے. اس دن کو عالمی یوم مزدور کے نام سے منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں محنت کشوں کی تاریخی جدوجہد اور کامیابیوں کو یاد کیا جا سکے۔
یوم مئی کا آغاز 1886ء میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا۔ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں اور دیگر سوشلسٹک ادارے، کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا۔
آٹھ گھنٹے کام کرنے کا خیال دن کو تین حصوں میں تقسیم کرنے یعنی ’آٹھ گھنٹے محنت، آٹھ گھنٹے تفریح، آٹھ گھنٹے آرام‘ کے نعرے کے ساتھ وضع کیا تھا جبکہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کارخانوں میں کام کے اوقات یا چھٹی کا دن مقرر کیے بغیر سخت محنت مزدوری کرنا معمول تھا۔

اس سلسلے میں سب سے بڑی ہڑتال یکم مئی کو شکاگو میں کی گئی اور ایک اندازے کے مطابق اس دن احتجاج کے لیے وہاں 40 ہزار کارکن جمع ہوئے۔ اس وقت شکاگو امریکی صنعت کا مرکز اور یونین آرگنائزیشن کا مرکز تھا۔
اس احتجاج کو کاروباری اور سیاسی حلقوں کی طرف سے پسندیدگی سے نہیں دیکھا گیا لیکن آنے والے دنوں میں اس میں اوقاتِ کار سے تنگ ہزاروں غیر مطمئن کارکنوں کے علاوہ ’انارکسٹس‘ بھی شامل ہو گئے۔ یہ ’انارکسٹ‘ وہ لوگ تھے جو قوانین کے نفاذ اور حکمرانی کے ارد گرد تشکیل پانے والے معاشرے کے مخالف تھے۔
کشیدگی عروج پر پہنچ گئی اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
پولیس کی سختی سے مشتعل مزدور رہنماؤں اور ہڑتال کرنے والے مظاہرین نے چار مئی کو شکاگو کے مشہور
ہے مارکیٹ اسکوائر
Haymarket Square (Chicago)
پر مظاہروں کا اہتمام کیا۔ اس دن ایک نامعلوم حملہ آور نے پولیس اہلکاروں پر بم پھینک دیا اور دھماکے اور اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کی وجہ سے سات پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ہے مارکیٹ اسکوائر قتل عام کے نام سے مشہور ہونے والے اس واقعے کے بعد، آٹھ انارکسٹس پر قتل کا الزام عائد کیا گیا اور ان میں سے کچھ کو موت کی سزا سنائی گئی حالانکہ ان کا جرم کبھی بھی صحیح طور پر ثابت نہیں ہوا تھا۔
1889 میں 20 ممالک کی سوشلسٹ اور مزدور جماعتوں اور ٹریڈ یونینز کے نمائندوں کے اجلاس میں یکم مئی کو ان واقعات کی یاد میں یومِ مزدور منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
یکم مئی کو ہر سال یہ دن اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ مزدوروں کے معاشی حالات تبدیل کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔
مزدوروں کا عالمی دن کارخانوں، کھتیوں کھلیانوں، کوئلے کی کانوں اور دیگر
کارگاہوں میں سرمائے کی بھٹی میں جلنے والے لاتعداد محنت کشوں کا دن ہے اور یہ محنت کش انسانی ترقی اور تمدن کی تاریخی بنیاد ہیں۔
لیکن محنت کشوں کے لیے منائے جانے والے دن بھی مزدور اس دن کی اہمیت سے بے خبر اپنے بچوں کی روٹی کے لیے کام میں جتا ہوا ہے۔
اس دن کا فائدہ صرف چھٹی کی صورت میں سرکاری اور نجی ملازمین کو ہی ہوتا ہے کیونکہ مزدور کی یومیہ اجرت سے زندگی وابستہ ہے جبکہ سرکاری اور نجی ملازمین کو ماہانہ تنخواہ مل جاتی ہے. مزدور سے مراد اجرت پر محنت و مشقت کا کام کرنے والا، تجارت اور صنعت کے شعبوں میں جسمانی محنت کا کام کرنے والا، دوسروں کے کھیتوں میں اجرت پر کام کرنے والا، محنت فروش …وہ شخص جو معمار کو اینٹ، گارا لا لا کر دیتا ہے …بوجھ ڈھونے والا، پلے دار، قلی….
مزدور کی تعریف عام طور پر جسمانی محنت اور مشقت کرنے والے انسان کے طور پر کی جاتی ہے۔ لیکن جدید دنیا میں اب جسمانی محنت کے ساتھ ساتھ ذہنی محنت کو بھی بعض حلقوں میں مزدوری شمار کیا جاتا ہے جیسے کہ صحافت کو قلم مزدوری، دفتروں میں کام کرنے والے چھوٹے ملازمین بھی مزدور کہلاتے ہیں۔ مزدور کا استحصال اگرچہ پوری دنیا میں ہوتا ہے لیکن بدقسمتی پاکستان میں اس کی شرح بہت زیادہ ہے
عالمی سطح پر قانون سازی کی گئی جس کے تحت مزدور کے حقوق کا خیال رکھنا کسی بھی آجر کے لیے ضروری قرار دیا گیا، جس میں بنیادی انسانی حقوق سر فہرست رہے جب کہ دیگر حقوق بھی طے کیے گئے۔ترقی یافتہ ممالک میں تو ایک مزدور کے حق کا خیال رکھا گیا، مگر ترقی پذیرممالک میں چونکہ مزدور اپنے حق ہی سے نابلد رہا اور فکر معاش کے باعث اپنے آجر سے ہمیشہ بلیک میل ہوتا رہا، روزگارکے مواقعے کم ہونے کے باعث وہ کم اجرت پر زیادہ کام کرتا رہا۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، مزدوروں کا جسمانی، جنسی، معاشی استحصال ایک عام سی بات تصور کی جاتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً تمام قائم بھٹوں پر چائلڈ لیبر لا کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ چودہ سال سے کم عمر کو بچہ تصور کیا جاتا ہے۔ آپ کو یہ بچے بھٹوں، ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کرتے یا بازاروں میں بھیک مانگتے عام نظر آئیں گے۔ چھوٹے یہ ٹیبل صاف کردو چھوٹے پانی کا گلاس لے آؤ اور یہ وہ چھوٹے ہیں جو اپنے گھروں کے بڑے ہوتے۔سارا دن گاہکوں کی جھڑکیاں سننے کے بعد انتہائی قلیل مزدوری کے ساتھ شام کو اپنے گھر تھک کر پہنچتے ہیں.
غربت،بیروزگاری ،
مہنگائی اور کم اجرت آج کے دور میں مزدوروں کے بڑے مسائل ہیں۔
لیبر ڈے پر گوگل کا ڈوڈل بھی بدل جاتا ہے جبکہ ملک بھر میں آج عام تعطیل ہوتی ہے۔
1889 میں 20 ممالک کی سوشلسٹ اور مزدور جماعتوں اور ٹریڈ یونینز کے نمائندوں کے اجلاس میں یکم مئی کو ان واقعات کی یاد میں یومِ مزدور منانے کا فیصلہ کیا گیا۔آج 80 سے زائد ممالک میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، عالمی سطح پر مختلف تقریبات، ریلیاں اور تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
حکومت پاکستان نے پاکستان میں قومی سطح پر یوم مزدور منانے کا آغاز 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا، اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات، سیمینارز،کانفرنسز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ملک میں 5 کروڑ 50 ہزار افراد مزدور پیشہ ہیں جن میں 80 فی صد مرد اور 20 فی صد خواتین شامل ہیں جب کہ ملک کی 33 فی صد آبادی محنت کشوں پر مشتمل ہے۔ فیکٹریوں اورکارخانوں میں کام کرنے والے افراد کے بنیادی حقوق کی جو خلاف ورزیاں آج دستور بن چکی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی صنعتوں، فیکٹریوں میں محنت کش جبری مشقّت کر رہے ہیں اور انھیں جنسی اور جسمانی تشدد سمیت مختلف طرح کے استحصال کا سامنا ہے۔مزدوروں کے حوالے سے عالمی لیبر قوانین پر عملداری نظرنہیں آتی۔ فیکٹریوں ،کمپنیوں ،ملوں میں کئی کئی ماہ تک تنخواہیں نہیں ملتیں مزدور ہمیشہ اپنے ظالم وڈیروں و مالکان کے عتاب کا نشانہ بنے رہتے ہیں۔حکومت کی جانب سے محنت کش مزدوروں کیلئے علاج معالجہ ،بچوں کی تعلیم و تربیت اور بنیادی ضروریات کی اطمینان بخش سہولت میسر نہیں ہے. معاشرے کا غریب طبقہ اپنے حق سے محروم، پارلیمنٹ سے قانون منظور ہونے کے باوجود مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت پر عمل درآمد نہیں ہو سکا،درجنوں ادارے ملازمین کو ماہانہ 37000 روپے سے کم اجرت ادا کر رہے ہیں. امیراور پہلے سے مراعات یافتہ طبقے پر نوازشات کی برسات کی گئی مگر غریب طبقہ قانون پاس ہونے کے بعد بھی کم ازکم ماہانہ اجرت 37 ہزار روپے کے حق سے محروم ہے۔ ماہانہ 37 ہزار کے بجائے 18 سے 20 ہزار روپے پر کام لیا جارہا ہے۔
اگر مزدور اپنے حقوق ،بنیادی سہولیات اور حکومت کی جانب سے مقررہ کردہ تنخواہ کی بات کرتے ہیں تو انہیں بلاجواز فوری طور پر نوکری سے برطرف کر دیا جاتا ہے. بیروزگاری کے خوف سے مظلوم مزدور کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں محنت کشوں کو آج بھی صحت کی سہولتوں سمیت سوشل سکیورٹی تک دستیاب نہیں۔ حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت کے اعلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ محنت کشوں کو (EOBI) کی مراعات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے جس کی بنا پر بوڑھے ہو جانے والے محنت کشوں کے خواب آنکھوں میں چکنا چور ہو جاتے ہیں اور ان کے اچھے دنوں کی خواہشیں سسک سسک کے جان دے دیتی ہیں۔
مزدوروں کے حقوق اور فلاح و بہبود کو لیبر قوانین اور ضوابط کو نافذ کر کے اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام مزدوروں کو باعزت کام، سماجی تحفظ اور صحت کی رسائی حاصل ہو۔ان کا مطالبہ ہے کہ قومی ، صوبائی اسمبلیوں سمیت سینیٹ میں محنت کشوں کی نمائندگی کے بغیر مزدوروں کے مفاد میں قانون سازی نہیں کی جا سکتی اور تمام سیاسی جماعتوں کو مزدوروں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کرنا ہوں گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اور بالخصوص مزدور کو اس کے حقوق سے آگہی کے لیے مہمات چلائی جائیں اور ہر طبقے کے افراد اس کام کو قومی ہی نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھ کر بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالیں۔
افسوس پاکستان میں مزدور یونین سازی کے عمل میں فیکٹری مالکان کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فیکٹری مالکان خسارہ تو برداشت کر لیتے ہیں مگر ٹریڈ یونین ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ مزدور جب حقوق کی بات کرتے ہیں تو ان سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں انہیں نوکری سے فارغ کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے اس کے علاوہ اجرت کم دینا، پولیس کے ساتھ ساز باز کر کے جھوٹے مقدمات میں الجھا دینا، ڈرانا، دھمکانا جیسے حربے عام ہیں۔ مزدور طبقہ کسی بھی ملک یا قوم کی معاشی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ ملک بھر میں مزدور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں.
مزدوروں کی جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے، ملک کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی محنت کشوں اور ہنرمندوں کی انتھک کوششوں کے بغیر ممکن نہیں ہے.
ہمارا عظیم مذہب اسلام سماجی انصاف، مساوات اور انسانی حقوق کے احترام کے اصولوں پر زور دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مزدوروں کے حقوق کو انتہائی اہمیت دیں اور ان حقوق کو اپنا بنیادی فریضہ سمجھتے ہوئے ان کی انجام دہی میں کوتاہی نہ برتیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں محنت کی عظمت اور محنت کش طبقے کے حقوق کے احترام کی بے شمار متاثر کن مثالیں ملتی ہیں۔
اسلام نے عالمی لیبر قوانین کے نفاذ سے بہت پہلے ہی مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے رہنما اصول طے کر دیے تھے، اسی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ مزدور اور آجر پیداواری عمل میں شراکت دار ہیں اور ان کا تعاون اور دوستانہ تعلق ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔آج کے دن ہم سب انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر محنت کشوں کے حقوق کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کریں تاکہ محنت کش طبقے کی سماجی، معاشی اور سماجی بہبود میں سرمایہ کاری کرکے ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکے۔
مزدور خوشحال تو پاکستان خوشحال ہوگا، مزدوروں و کسانوں کو اسمبلیوں میں نمائندگی دی جائے.
اُٹھّو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ اُمَرا کے در و دیوار ہِلا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسرّ نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
چاند رات اسپیشل🌙🌙🌙⭐⭐
***************************
حیدرآباد کی سوغات رنگ برنگی چوڑیاں اور صنف نازک کی کلائیاں
****************************
تحریر اور عکاسی : پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
___________________________
حيدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر اپنی تہذیب و ثقافت تمدن کی وجہ شہرت رکھتا ہے. حیدرآباد کو سرمئی شاموں، ہوادانوں اور تاریخی شہر کہا جاتا ہے. اس کے علاوہ اس کی وجہ شہرت یہاں کی سوغاتیں ہیں جو دنیا بھر میں مشہور ہیں. بمبئی بیکری کا کیک، حاجی ربڑی ،دلہن پراٹھا، حیدرآباد کی مشہور بریانی کے علاوہ حیدرآباد کی چوڑیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں.
چاند رات اور چوڑیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے جبکہ خواتین چاند رات کو خصوصی طور پر اپنی نازک کلائیوں کو خوبصورت چوڑیوں سے زیب تن نہیـں کرلیں تو عید کی روایات اور خوشیاں پھیکی پڑنے لگ جاتی ہیں.ہری، لال ، نیلی پیلی کھنکتی چوڑیاں جس کلائی میں سج جائیں اس کا حسن دوبالا کر دیتی ہیں. عید کا چاند نظر آتے ہی خواتین چاند رات کو بازاروں کا رخ کرتی ہیں ۔چاند رات کو چوڑیوں کی دکانوں پر رش دیدنی ہوتا ہے. حیدرآباد کی سوغاتوں میں ایک سوغات حیدر آباد کی مشہور چوڑیاں ہیں۔ کانچ کی رنگ برنگی چوڑیاں خواتین کی سجاوٹ کا ایک اہم ترین زیور ہیں۔ کانچ کی چوڑیاں مشرقی ثقافت کی آئینہ دار ہیں۔ سستا زیور ہونے کی وجہ سے یہ عورت کا پسندیدہ زیور کانچ کی باریک اور نازک چوڑیاں ہوتی ہیں. چوڑیوں کی تاریخ قدیم ہے۔ سب سے پہلے چوڑیوں کے آثار 2600 قبل مسیح میں موئن جو دڑو کی کھدائی میں برآمد ہونے والی مورتیوں سے ملتے ہیں۔ موئن جو دڑو سے جو مورتیاں ملی ہیں ان کے ہاتھوں میں مٹی، گھونگھے، پتھر، دھات سے بنی ہوئی چوڑیاں ہیں۔ موئن جو دڑو میں کھدائی کے دوران ایک ناچتی لڑکی کی بھی مورتی ملی ہے یہ ایک کم سن فنکارہ ہے جو خوشی سے زیورات میں لدی المعروف ڈانسنگ گرل رقص کررہی ہے۔ اس کا بایاں ہاتھ کندھوں تک چوڑیوں میں چھپا ہوا ہے اور دائیں بازو میں اس نے چند کنگن پہنے ہوئے ہیں۔ کانسی سے بنا رقاصہ کا مجسمہ دنیا بھر میں وادی سندھ کی تہذیب کی پہچان ہے۔ موئن جو دڑو کی رقاصہ کی طرح آج بھی چولستان اور تھر کی خواتین پورے بازو میں چوڑیاں پہنتی ہیں۔ بعد ازاں چوڑیاں جنوبی ایشیا کی روایتی ثقافت کا حصہ بنیں. ایشیا میں بھارت کے شہر فیروز آباد کو چوڑی کا قدیم اور عظیم مرکز ہونے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ ایشیا میں فیروز آباد کے بعد حیدر آباد چوڑی کی صنعت سازی کا دوسرا بڑا مرکز ہے۔ اس کی بنیاد بھی فیروز آباد سے آنے والی چوڑی برادری کے افراد نے رکھی. 1947 میں بھارت فیروز آباد سے ہجرت کر کے یہ لوگ حیدر آباد میں رہائش پزیر ہوئےاور باقاعدہ طور پر کانچ کی صنعتیں قائم کیں.
پاکستان گلاس میں چوڑیاں اور انڈس گلاس میں کانچ کے برتن اورگھریلور ڈیکوریشن کی اشیاء بنتی تھیں.اب یہ تاریخ کا حصہ بن گئیں ہیں.

فیروز آباد اور حیدر آباد کا موسم چوڑی اور کانچ سازی کے حوالے سے یکسانیت رکھتا ہے۔ چوڑی کی صنعت اور اس سے وابستہ محنت کشوں کے حالات جاننے اور چوڑیوں کے بننے کا عمل قلمبند کرنے کے لیے میں نے مقامی چوڑی فیکٹری کا تحقیقی دورہ کیا ۔ اندر داخل ہوتے ہوئے سب سے پہلے کچھ خواتین کو کانچ کے ڈھیر کے پاس کام کرتے دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ اس کام کی ابتدا خواتین سے ہوتی ہے اور چوڑیوں کی شکل میں پایہ تکمیل خواتین کے ہاتھوں پر ہوتی ہے، چوڑی کی صنعت سازی میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا بہت اہم کردار ہے ۔ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں ۔ چوڑی فیکٹری میں داخل ہوتے ہوئے ایک طلسماتی منظر میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ میں نے کانچ کے ڈھیر کے پاس خواتین سے اس کام کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ۔
کانچ کی چوڑیوں کی تیاری میں پرانے ٹوٹے کانچ کی بوتلیں اور شیشے کی اشیاء کباڑیوں اور
تھر کے علاقے سے تعلق رکھنے والی غیر مسلم کولہی ،بھیل برادری سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین کچرا کنڈیوں۔ قریہ قریہ گاﺅں گاﺅں کوڑے کے ڈھیر سے شیشے کی ٹوٹی ہوئی بوتلیں اور کانچ کا سامان کاندھے پر لادی ہوئی اکٹھا کر کے کارخانے کے مالک ، ٹھیکیدار یا ڈیلر کے حوالے کرتی ہیں جو
انہیں بہت قلیل رقم ادا کرتے ہیں ۔ خواتین اس کانچ اور شیشے کے ڈھیر میں سے چھانٹی کر کے صاف کانچ الگ کرتی ہیں اور اسے توڑتی بھی جاتی ہیں۔ اس کام کو ”بھنگار“کہتے ہیں ۔ یہ انتہائی خطرناک کام ہے۔ یہاں کام کرنے والی ایک خاتون شمونے بتایا اسے صرف اس کام کے 600 روپے ملتے ہیں کسی بھی قسم کی کوئی سہولت نہیں ملتی نا بونس اور نا میڈیکل کی سہولیات ہیں۔ اس کام کے دوران کانچ ہاتھ آنکھ اور جسم پر لگنے سے خواتین زخمی ہو جاتی ہیں جبکہ بعض ہلاک بھی ہو جاتی ہیں ۔ یہ خواتین سخت دھوپ میں کھلے آسمان کے نیچے اپنی روزی روٹی کے لیے سخت مشقت کرتی ہیں۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ چوڑی سازی کا عمل دو طریقوں سے کیا جاتا ہے۔
1۔ آٹو میٹک۔ 2. بیلن (پرانا طریقہ) بیلن کا کام تقریباً ختم ہو گیا ہے. اب آٹومیٹک
چوڑی سازی میں جدید مشینوں سے کام ہوتا ہے۔ اس کام میں ملازمین کی تعداد مختصر ہوتی ہے۔ اور اس کام میں مالی لاگت اور اخراجات بھی کم ہوتے ہیں ۔ آٹو میٹک چوڑی سازی کا دوسرا مرحلہ فیئرمین Fairman صاف کانچ کو آگ کی بھٹی میں ڈالتا ہے۔ چوڑیوں کی مضبوطی کے لیے کانچ کے ساتھ سوڈا ایش ، ریتیلی مٹی (Salice Sand) کو بھٹی پر سے 1400 ڈگری فارن ہائٹ کے درجے حرارت پر پگھلایا جاتا ہے جس سے انتہائی پتلا اورچپچپامحلول تیار کیا جاتا ہے۔ پھر آٹو میٹک یہ محلول ایک رولر مشین میں ڈال کر چوڑیوں کے رول میں بدلا جاتا ہے۔ یہ محلول رولر پر گول گول گھوم رہا ہوتا ہے۔ کانچ کی چوڑیاں پہننے والی کلائیوں کا سائز مختلف ہوتا ہے۔ یہ لوہے کے گول رولر اسے بیلن بھی کہتے ہیں۔ خواتین کی کلائیوں کے مختلف سائز کے ہوتے ہیں۔ ہر سائز کی چوڑیاں بناتے وقت یہ تبدیل کیے جاتے ہیں۔پھندا لگانے والے کا کام گرم پتلے کانچ کے محلول کا
تار بنا کر گھومتے بیلن پر پھندا لگاتا ہے اس کو پھندا والا کہتے ہیں ۔ پھندا لگتے ہی پتلا محلول چوڑیوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے ساتھ برابر میں بیٹھا مٹھے والا مٹھے ملاتا ہے یعنی رولر پر گھومتی ہوئی چوڑیوں کو بیلنس کرتا ہے اور ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کو توڑتا جاتا ہے۔ اس کے بعد رولر پر گھومنے والی چوڑیاں مقررہ وقت پر باہر کی طرف آتی ہیں جیسے مٹھے اتارنے والا ایک لوہے کی پتلی سی راڈ سے اتار کر لوہے کے ڈمپر پر رکھ دیتا ہے۔ یہاں مٹھے سے مراد چوڑیوں کا بنا ہوا پورا اسپرنگ ہے ۔ یہ کام انتہائی مہارت سے اور جلدی کیا جاتا ہے ۔ یہ کام انتہائی محنت طلب کام ہوتا ہے اس مشقت طلب کام میں جو محنت کش حصہ لیتے ہیں ان کے پھیپھڑوں کی عمر کم ہو جاتی ہے اور وہ ٹی بی(تپ دق)جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور یوں موت کا خونی پنجہ اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اب چوڑیوں کو الگ کرنے کا مرحلہ آتا ہے جسے ہیرہ سے ایک لمباکٹ لگا کر کٹائی کرنے والا الگ کرتا ہے اور 365 چوڑیاں گن کر چارپائی کابان رسی کی طرح ہوتا ہے اس میں ڈالتا ہے یہ توڑا کہلاتا ہے۔ چوڑی سازی کی صنعت کی لینگویج ہی الگ ہوتی ہے۔ ہر لفظ میں “ئی” آتا ہے۔ چوڑیوں کے توڑے ٹھیکیدار گھروں میں کام کرنے والی خواتین مزدور کو دیتے ہیں ۔ فیکٹری سے چوڑیاں نکلنے کے بعد خواتین کا بہت اہم کردار ہے ۔ حیدر آباد کی تنگ و تاریک کچے گھروں میں خواتین چوڑیوں کے مختلف کام کرتی ہیں۔ جن میں
سدائی۔ گنائی، جڑائی ، کٹائی ، ڈیزائنگ ، فنیشنگ، رنگائی ، چکلائی ، چٹک وغیرہ شامل ہیں ۔ چوڑیوں کی صدائی اور جڑائی کے لیے مٹی کے تیل کے دیئے اور گیس کی لو استعمال کی جاتی ہے.
*سدائی*
سدائی کا مرحلہ بھی صبر آزما ہوتا ہے۔ اس مرحلہ میں بھی خواتین ہی کی مشقت کا عمل دخل ہوتا ہے۔ چوڑیوں کے ٹوٹے ہوئے سروں کو آپس میں مٹی کے تیل دیے کے آگے متوازن برابر کیا جاتا ہے۔ اس کام میں بہت مہارت پھرتی کرنا پڑتی ہے ۔
*جڑائی*
جڑائی کے عمل میں تیز آگ کے شعلوں میں چوڑی کے متضاد سروں کو آپس میں جوڑا جاتا ہے یہ ایک تھکا دینے اور اکتا دینے والا عمل ہے کیونکہ کام کرنے والی عورتیں ایک ایک چوڑی کے کناروں کو آپس میں جوڑنے کا مشکل ترین مرحلے سے گزر کر اپنی محنت کا صلہ پاتی ہیں۔ اس مرحلہ میں یہ محنت کش خواتین تحفظ دینے والے میکنیزم سے محروم ہوتی ہیں جن کے پاس ہیلمیٹ ، دستانے اور چشمے تک نہیں ہوتے۔ جڑائی کے عمل میں بہت سی خواتین کی نظر کمزور ہو جاتی ہے۔
*ہل لگانا*
خواتین گھروں میں ایک مخصوص کیمیاوی مادہ جو کہ سونے کا پانی ہوتا ہے ہل کہلاتا ہے۔ ہل چوڑیوں پر بنے ڈیرائن پر لگتی ہے ۔ اس ہل سے چوڑیوں کو گولڈن رنگ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد چوڑیوں کو مزید آگ کی بھٹی میں پکایا جاتا ہے جس سے گولڈن رنگ نکھر جاتا ہے۔ اور چوڑیاں سنہری اور چمکدار ہو جاتی ہے۔ آج کل سونا مہنگا ہونے کی وجہ سے چوڑیاں ہل کے کام سے محروم ہوگئی ہیں ۔ ہل والی چوڑیاں بہت مہنگی ہوتی ہے یہ صرف شادی بیاہ پر خاص طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ آٹومیٹک چوڑیوں پر سنہری پالش کی جاتی ہے.
*چکلائی*
یہ کام کوالٹی کنٹرول کا کام ہے جن میں چوڑیوں کی سطح ہموار اور ترتیب وار کر کے توڑہ تیار کیا جاتا ہے۔
*میناکاری*
مینا کاری بھی ایک فن اور ہنر ہے، خواتین اس کام میں بھی مہارت رکھتی ہیں ۔ ہنر مند خواتین چوڑیوں پر پینٹنگ کے عمل سے ان پر نقش نگاری، ڈیزائننگ اور مینا کاری کا کام کرتی ہیں ۔ اس کام کے لیے انتہائی مہارت درکار ہوتی ہے۔ تاہم گولڈ، چمک دمک اور متعدد رنگوں کے کرسٹلز چوڑیوں کی خوبصورتی کے لیے مینا کاری کے عمل میں شامل ہیں۔
حیدر آباد میں چوڑیوں پر نام لکھنے والے سینکڑوں کاریگر موجود ہیں جو شیشے کی رنگین تیلیوں اور آگ کی مدد سے انتہائی نفاست سے چوڑیوں پر نام کندہ کرتے ہیں سادہ چوڑیوں پر مختلف ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔ چوڑیوں پر سو سے زائد دیدہ زیب ڈیزائن بنائے جاتے ہیں جس کے نام بھی دلچسپ ہیں ۔ مثلاً بندش، موشن بچی، بیل بچی ،دلہن ، نور جہاں ، سادی ثریا اور طوفان شامل ہیں۔ مختلف ڈیزائنوں میں ڈھلنے کے بعد یہ چوڑیاں اور بھی زیادہ خوب صورت نظر آتی ہیں۔ ان مراحل کے بعد چوڑیوں کی فنشنگ کے بعد انہیں ڈبوں میں پیک کیا جاتا ہے۔ ڈبوں میں پیک ہونے کے بعد انہیں ہول سیلرز اور ڈیلرز کے حوالے کیا جاتا ہے جو انہیں ملک کے طول و عرض میں فروخت کے لیے بھیجتے ہیں. حیدرآباد میں چوڑیوں کا کام مختلف علاقوں میں ہوتا ہے جہاں خواتین اور بچے اس گھر یلو صنعت سے وابستہ ہیں جس میں مہر علی۔لطیف آباد نمبر 8۔12،فتح چوک، لیاقت آباد ،گجراتی پاڑہ، حالی روڈ، ملت آباد، اسلام آباد، الیاس آباد، نور انی بستی ، فردوس کالونی ، اور چوڑی پاڑہ قابل ذکر ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق حیدر آباد میں تقریبا پانچ لاکھ افراد اس چوڑی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ ان میں سے اسی فیصد خواتین اپنے گھروں میں چوڑیاں بنا رہی ہیں اور ان کے محنت کش ہاتھ سادہ سے شیشے کو نازک سی چوڑیوں میں بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں. ۔ پورے پاکستان میں چوڑیاں حیدر آباد سے سپلائی کی جاتی ہیں۔
خواتین کے ہاتھوں کو رنگوں سے سجانے والی چوڑیاں 80 ہاتھوں سے گزر کر تیار ہوتی ہیں ۔ جب کانچ کی چوڑیوں کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں ایک ایسی سہاگن کا تصور ابھرتا ہے جس کی کلائیاں کانچ کی ان چوڑیوں سے بھری ہوتی ہیں اور کلائیوں میں ان چوڑیوں کی چھنک ہی ایک سہاگن کا سہاگ سمجھا جاتا ہے۔ مہندی کے موقع پر متوقع سہاگن پیلے رنگ کی چوڑیاں پہنتی ہیں جبکہ شادی کے موقع پر سرخ رنگ کی چوڑیاں اس کی کلائی کی زینت بنتی ہیں نوجوان لڑکیاں باقاعدہ اسٹینڈ میں چوڑیاں لگا کر رکھتی ہیں اور جب بھی دل چاہا کسی بھی سوٹ کے ساتھ میچنگ کرکے چوڑیاں پہن لیتی ہیں ۔ اگر کسی نئی نویلی دلہن کی چوڑیاں کسی بنا پر ٹوٹ جاتی ہیں تو بدشگون سمجھا جاتا ہے اور دلہن کے ذہن پر ایک انجانا خوف سوار ہو جاتا ہے۔ ایک دلہن کو مکمل سہاگن نہیں سمجھا جاتا جب تک اس کی کلائیوں میں کانچ کی چوڑیاں نہ ہوں۔ شادی ہو یا کوئی بھی تہوار چوڑیاں پہننا خواتین پسند کرتی ہیں اقلیتی برادری کے تہواروں کے موقع پر خواتین خصوصی طور پر رنگ برنگی، خوش نما ڈیزائنوں کی چوڑیاں پہننا پسند کرتی ہیں۔ 14 اگست کے دن لڑکیاں ہری اور سفید کانچ کی چوڑیاں پہن کر جشن آزادی مناتی ہیں. حیدرآباد میں ریشم گلی،جامع کلاتھ مارکیٹ لطيف آباد نمبر 8 میں چوڑی کی بڑی بڑی دکانیں ہیں اس کے علاوہ چوڑی ہولسیل مارکیٹ حیدرآباد شہر کلاتھ مارکیٹ سے ملحقہ ہے. اندرون سندھ سے بھی خواتین چوڑیوں کی خریداری کے لیے ان بازاروں کا رخ کرتی ہیں. کچھ منچلے نوجوان جگہ جگہ شوقیہ چوڑیوں کے اسٹالز لگاتے ہیں.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
تحریر :- پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
*گداگر مافیا اور انٹرنیشنل گدا گر*
پاکستان میں گداگری کا پیشہ ایک مافیا میں بدل چکا ہے اور ایک منظم مضبوط نیٹ ورک ان گداگروں کے پیچھے کام کر رہا ہے۔اس نیٹ ورک کے افراد اپنے لوگوں کو مختلف جگہوں پہ کھڑے کرتے ہیں اور بھیک منگواتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی بھی کی جا رہی ہوتی ہے،اور تو اور یہ جگہیں کرائے پہ دی جاتی ہیں اور ہر بھکاری کی جگہ مخصوص ہوتی ہے۔ اس کی جگہ پہ دوسرا بھکاری نہیں کھڑا ہوسکتا اور ساتھ ساتھ بھیک مانگنے کے اوقات کار بھی متعین ہوتے ہیں۔اس گداگر مافیا کے گروپ میں جو بھکاری سب سے زیادہ کما کر دیتا ہے اس کو اتنے ہی پوش علاقے میں تعینات کیا جاتا ہے۔ پیشہ ور بھکاری مختلف حربے اپناتے ہوئے اپنی معذوری ، محتاجی یا بیماری کا راگ الاپتے اور اللہ رسول کے واسطے دیتے ہوئے کمال اداکاری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور لوگوں(خاص طور پر خواتین کیوں کہ وہ نرم دل ہوتی ہیں)کوجذباتی کرتے ہوئے ان سے زیادہ سے زیادہ رقم نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ رمضان المبارک سے قبل 70 ہزار سے زائد پیشہ ور گداگر ملک کے دیگر شہروں سے سیزن لگانے کے لئے کراچی اور دیگر شہروں میں پہنچ گئے ہیں ۔ ان پیشہ ور گداگروں میں نومولود شیر خوار بچے ، بزرگ ، نوجوان لڑکے و لڑکیاں اور خواجہ سرا شامل ہیں ۔ پیشہ ور گداگر لوگوں کی نفسیات سے کھیلنا بخوبی جانتے ہیں۔شہر کے تمام سگنلز ، مساجد ، مزارات ، شاپنگ سینٹرز اور اہم مقامات گداگر مافیا میں تقسیم ہوچکے ہیں ۔ ہر علاقے کا ٹھیکدار ہوتا ہے ۔ جو پیشہ ور گداگروں کو کھانا ، رہائش اور پک اینڈ ڈراپ کے علاوہ یومیہ اجرت دیتا ہے ۔ کوئی گداگر اپنے علاقے کے علاوہ کسی دوسرے علاقے میں بھیک نہیں مانگ سکتا.وی آئی پی علاقوں میں معذوروں اور شعبدے بازوں کو بٹھایا جاتا ہے ۔ گداگر مافیا فقیروں کو ان کی “اہلیت “دیکھ کر ان کی مزدوری طے کرتی ہے۔ جو لوگ پیدائشی طور پر معذور ہوتے ہیں انہیں سب سے زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور پیشہ ور بھکاری مکروہ دھندے میں بچوں کا استعمال بھی کر رہے ہیں جن کی بیماری کے بہانے بھی پیسے بٹورے جارہے ہیں جبکہ بعض بھکاریوں نے بچوں کو پھٹے ہوئے کپڑے پہناکر ان کے لئے کپڑوں کی بھی بھیک مانگنا شروع کر دی ہے ۔ نشہ کرنے والے افراد بس اڈوں،ہسپتالوں اور مساجد کے باہر بچوں کو اٹھا کے ان کے نام پر بھیک مانگ رہے ہیں.
بازاروں میں خریدار کم جبکہ بھکاریوں کی تعداد زیادہ ہے جنہوں نے صدقات اور خیرات کیلئے شہریوں کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل بنا رکھا ہے جبکہ گھروں پر بھی دستک دے کر بھیک مانگ رہے ہیں.گداگروں نے شہریوں کو بھی سخت ذہنی اذیت اورکوفت میں مبتلا کردیا ہے. شہریوں کا کہنا ہے کے یہ ایسے تنگ کرتے ہیں جیسے ان کا قرضہ ہو.
آپ فیملی کے ہمراہ کھانا کھانے جائیں یا شاپنگ پر، پارک میں ہوں یا کسی اور مقام پر یہ گداگر پیچھا نہیں چھوڑتے۔پیشہ ور بھکاریوں نے اسلام آباد ایئر پورٹ کو بھی نہیں چھوڑا.
انہوں نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا رخ کر لیا، ایئرپورٹ پر مسافروں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا۔ویجلنس ٹیموں کے مطابق یہ گداگر وزیٹرز کا روپ دھار کر ایئرپورٹ میں داخل ہوتے ہیں اور خاص طور پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو نشانہ بناتے ہیں۔پارکنگ ایریا اور انٹرنیشنل ارائیول arrival لاؤنج کے باہر خواتین گداگروں کی بڑی تعداد دن رات موجود رہتی ہے، جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے. ایئرپورٹ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور پچھلے ایک ہفتے میں 30 سے زائد گداگروں کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔انتظامیہ نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گداگروں کو بھیک نہ دیں اور مشکوک افراد کی فوری اطلاع سیکیورٹی حکام کو دیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ائیر پورٹ پر سخت سیکورٹی اور چیکنگ کے باوجود یہ گداگر کس طرح ائیر پورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں. اس کا مطلب ہے کہ ان کی پشت پناہی اور ملی بھگت میں ائیر پورٹ کا عملہ شامل ہے. یہ افراد دہشت گردی اور ڈکیتی کی وارداتیں بھی کر سکتے ہیں.بیرون ممالک سے آنے والے مسافر عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ان میں تشویش پائی جاتی ہے.
پاکستان میں بڑے بڑے لنگر خانے قائم ہیں، جگہ جگہ دستر خوان کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ کرنے کے باوجود غربت و افلاس اور بھکاریوں کی تعداد میں کمی کے بجائےروز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں 3 کروڑ 80 لاکھ بھکاری ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے پچاس فیصد بھکاری کراچی میں ہیں، جہاں فی بھکاری یومیہ دو ہزار روپے وصول کرتا ہے۔
بعض پیشہ ور گداگر بطور ملازمت گداگری کر رہے ہیں جنہیں روز کی دہاڑی دی جاتی ہے.
ذرائع نے آگاہی دی ہے کہ ان گداگروں کا کوئی بھی ڈیٹا کسی کے پاس نہیں ہے کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں جاتے ہیں ،ان گداگروں کے بھیس میں دہشت گردوں کے داخلے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
کراچی میں اتنی فیکٹریاں نہیں جتنے دسترخوان کھل چکے ہیں، لوگوں کو بھیک مانگنا نہیں، ہنر مند بنائیں اور کام کرنا سکھائیں.
پولیس کی غفلت ولاپرواہی اورکریک ڈاؤن سے گریز کی پالیسی نے گداگروں کے روپ میں دہشت گردوں کے داخلے کی راہیں ہموار کر دیں.
مجبوری کےڈھونگ میں
پیشہ ور گداگر جرائم کی وارداتیں کرتے ہیں.
غریب متوسط طبقہ اس مہنگائی میں اپنے چند ہزار روپے کی محنت کی کمائی پر گھر کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں.
ایسے لوگوں کی مدد کریں جن کا چہرہ سوال ہوتا ھے اور زبان بے سوال ہوتی ہے_اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب ، محلے داروں اور اپنے ملازمین میں مستحق اور سفید پوش لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کی مدد کریں جو اس مہنگائی میں بامشکل اب اپنا گزارا کر پاتے ہیں۔ ان کی امداد بھی کچھ اس طرح سے کریں کہ آپ کی نیکی کا گواہ اللہ کی سوا کوئی اور نہ ہو تاکہ ان کی سفید پوشی اور عزت نفس کا بھرم بھی قائم رہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے انسداد انسانی اسمگلنگ سے متعلق ایک ترمیمی بل سینٹ میں پیش کیا گیا ہے، جس میں منظم بھیگ مانگنے کی تعریف بیان کی گئی ہے. مجوزہ ترمیم کے تحت فراڈ، زور زبردستی، دھوکہ دہی، ورغلا کر، لالچ دے کر پیسے یا خیرات لینا منظم بھیک کے زمرے میں آتا ہے. بل کے متن کے مطابق کسی عوامی مقام پر قسمت کا حل بتا کر، کرتب دکھا کر پیسے مانگنا، بہانے سے اشیاء فروخت کرنا، گاڑیوں کی کھڑکیوں پر دستک دینا، زبردستی گاڑی کے شیشے صاف کرنا، روزگار کے بغیر گھومتے رہنا اور یہ تاثر دینا کہ اس کا گزارا اسی پر ہے، بھی منظم بھیک ہے. اس کے علاوہ کسی نجی احاطے میں داخل ہو کر پیسے مانگنا، خیرات لینا، کسی زخم، چوٹ، بیماری، معذوری یا نقص دکھا کر خود کو بطور نمائش استعمال کر کے خیرات لینا بھی منظم بھیک کے زمرے میں آتا ہے. ترمیمی بل کے مطابق اس کام میں ملوث یا پناہ دینے والے افراد کو سات سال قید اور 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوگا. وزارت داخلہ کے ترمیمی بل میں کہا گیا ہےکہ پاکستانی سفارتی مشنوں میں بھی بھکاریوں کا ذکر ہے، بعض پاکستانی حج، عمرہ، زیارت یا ذاتی دوروں پر جاتے ہیں اور وہاں گداگر بن کے لوگوں سے پیسے اینٹھتے ہیں. اس حوالے سے شکایت کرنے والے ممالک نے زور دیا ہے کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے. ترمیم کی وجوہات پیش کرتے ہوئے بل میں کہا گیا کہ ملوث ایجنٹ اور گینگ آسانی سے قانونی کاروائی سے اس لیے بچ جاتے ہیں کیونکہ بھیک مانگنا قانونی طور پر جرم نہیں ہے، حساسیت کے پیش نظر اس کو جرم قرار دینا ضروری ہے. انسداد انسانی اسمگلنگ کے تحت منظم بھیک کی تعریف پر مشتمل ترمیمی بل کی منظوری کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) ایسے افراد کو نہ صرف بیرون ملک جانے سے روک سکے گا بلکہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا بھی دلوا سکے گا.گداگری ایک لعنت ہے جسے ختم کرنے کے لیے سخت قوانین پر عملدرآمد اور سزاؤں کی اشد ضرورت ہے. اگر اس لعنت کو ختم کر دیا جائے تو اس کی آڑ میں جنم لینے والی تمام تربرائیاں ختم ہو جائیں گی ایک مہذب معاشرے میں ان ہی لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے جو محنت مزدوری کر کے اپنی ضروریات زندگی پورے کرتے ہیں غریب ہونا جرم نہیں لیکن اپنے آ پ کو دوسروں کا محتاج بنانا سب سے بڑا جرم ہے.
گداگروں نے پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک خاص طور پر سعودی عرب میں بھی بھیک مانگنا شروع کر دی جس وجہ سے پاکستان کا نام بدنام ہو رہا ہے.
ملک کی عزت و وقار کا بھی انھیں خیال نہیں ہے ۔حج و عمرہ پر جانے اور زائرین کا لبادہ اوڑھ کر حجاز مقدس ، عراق اور دوسرے ممالک میں بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویزے کا حصول، وہاں پہنچ کر شرعی حیلے بہانوں اور رودھوکر اپنی غرض و غایت گھڑ کر لوگوں کو بھیک دینے پر مجبور کیاجاتا ہے۔
کچھ عرب ممالک میں گرفتار کیے جانے والے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔
سعودی عرب جانے والے پاکستانی گداگروں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد پاکستان نے اپنی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں 4300 بھکاریوں کے نام شامل کر لیے ہیں۔
سخت ترین قوانین کے حامل سعودی عرب اور عراق کے حکام بھی ان سے عاجز آچکے ہیں.
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں پاکستانی بھکاریوں کے خلاف سختی، پکڑ دھکڑ اور بے دخلی کے بعد پاکستانی بھکاریوں کی اکثریت نے ملائیشیا کا رخ کرلیا، جہاں سے 3 ماہ کے دوران 26 خواتین سمیت 41 بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ جن کے خلاف ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی میں انکوائری نمبر 304/25 درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں اے ایچ ٹی سی لاہور میں بھی 3 کی ویریفکیشن اور 6 انکوائریز درج کی گئیں تاہم کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تین ماہ کے دوران ملائشیا سے ڈی پورٹ بھکاریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔بھیک مافیا کیخلاف سخت سے سخت اقدام اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
گداگروں اور ان کے سہولتکاروں کو گرفتارکرکے قانونی کارروائی کی جائے۔
گداگری کا خاتمہ کرنے کے لیے فوری طور پر دفعہ 144نافذ کرکے گداگری کو سنگین جرم قرار دیا جائے.
مذہب اسلام بھی بھیک مانگنے والوں کی مذمت کرتا ہے اور اسے جائز قرار نہیں دیتا۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس لعنت کا خاتمہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہمارے نبیﷺ نے اس فعل سے کراہت محسوس کی ہے اور فرمایا کہ سوال کرنے سے کہیں بہتر ہے کام کرنا۔ ہمیں چاہئے کہ ہم گداگری کی حوصلہ شکنی اور محنت و مشقت سے کام کاج کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں. محنت کش افراد جو کسی کے آگے ہاتھ نہیـں پھیلاتے اور اپنے معاشی حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں،یہی معاشرے کے سفید پوش ہیں جن کی ہمیں قدر کرنا چاہیے.سفید پوش ان گداگروں کی صف میں شامل نہیں ہیں. گدا گر عادی بھکاری اور سوال کرنے والے ہیں.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
تحریر. پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
****************************
*one wheeling جنونی موت کا کھیل ہے*
**************************
عیدالفطر کے مبارک تہوار کی آمد کے ساتھ ہی نوجوانوں کی بڑی تعداد رمضان المبارک کے مقدس مہینے ہی میں ایک پہیے پر بائیک خونی کھیل کے ذریعے اپنی زندگی سے کھیل رہے ہیں. حیران کن بات یہ ہے کہ صنف نازک کہلانے والی لڑکیاں منچلے لڑکوں کے ساتھ ایک پہیے پر بائیک کر رہی ہیں.
نوجوانوں میں ون وی نگ کا بڑھتا ہوا رجحان تشویش کا باعث ہے، یہ شوق تیزی سے نوجوانوں میں سرایت کر چکا ہے۔
ایک پہیے پر بائیک کرنے والی نوجوان نسل ویوز، لائیک، کمنٹس اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کرتب دکھاتے ہیں. ان نوجوانوں میں شعور کا فقدان ہے. یہ پیدائشی طور پر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں.
منچلے نوجوان مختلف علاقوں میں ٹولیوں کی صورت میں اکھٹے ہوتے ہیں ان منچلے نوجوانوں میں با اثر امیر اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بچے شامل ہوتے ہیں.

نوجوان ایک پہیے پر بائیک کو ایک کھیل تصور کرتے ہیں جو کہ میرے ناقص علم کے مطابق انسانیت سے ایک سنگین مذاق ہے ایک ایسا مذاق جس سے صرف ایک فرد کی جان نہیں جاتی بلکہ اس سے وابستہ تمام افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے. قسمت سے بچ گیا تو خود کو معذوری کے حوالے کر دیا اور اگر موت کے منہ میں چلا گیا تو اپنے خاندان کو تلخ یادوں کے حوالے کر گیا۔ ایک پہیے پر بائیک کرنے والے
اپنے انجام سے بے خبر ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے شوق میں اکثر اپنے ہنستے بستے خاندان کو غمناک المیے سے دو چار کر دیتے ہیں۔ یہی نوجوان شعور کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور لا شعوری میں زندگی کے ہاتھوں کھیل کر موت یا معذوری کی آغوش میں سو جاتے ہیں۔ ایک پہیے پر بائیک کے دوران نوجوان مختلف کرتب کا مظاہرہ کرتے، موٹر سائیکل کو تیز رفتاری سے چلاتے ہیں، سیٹ اور پیٹرول ٹنکی پر لیٹ جانا، ایک پاؤں سیٹ پر رکھ کر ایک ٹانگ ہوا میں رکھنا اور جھک کر ہینڈل پکڑنا، موٹر سائیکل ٹیڑھی کرکے چلانا، زگ زیگ بنانا، ہینڈل سے دونوں ہاتھ چھوڑنے سمیت دیگر خطرناک طریقے معمول بن گئے ہیں، خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کے باعث یہ نوجوان نہ صرف اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ دوسروں کی زندگی کو بھی داؤ پر لگادیتے ہیں۔ اگر موٹر سائیکل قابو سے باہر ہوجائے یا سلپ ہوجائے تو سر کی چوٹ جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو بہادر دکھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں، جب کہ بعض نوجوان شرطیں بھی لگاتے ہیں۔ اس شرط کے چکر میں زندگی کی بازی بھی ہار جاتے ہیں. ایک پہیے پر بائیک ، موٹر سائیکل ریس محض جان لیوا کھیل ہی نہیں بلکہ بعض مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد نے اسے ناجائز کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔ ایسے افراد نہ صرف ایسے ریس لگواتے ہیں بلکہ اس ریس پر جوا بھی کھیلتے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے کے لئے وہ اس کے جنون میں مبتلا نوجوان لڑکوں کا استعمال کرتے ہیں، ان موٹر سائیکلوں کی چین گراریاں بدل کر موٹر سائیکل کووزن میں ہلکا اور مزید خطرناک بنایا جاتا ہے.
موٹر سائیکل میکنک اچھی خاصی رقم کے عوض موٹر سائیکل کی ازسر نو مرمت کرتے ہیں اور اس میں خطرناک پرزے نصب کر کے اس کی رفتار کو بڑھا دیتے ہیں.
آلٹرموٹر سائیکل میکینکس کا کہنا ہے کہ انکے پاس موٹر سائیکل کا کام کروانے کیلئے بچے ، بڑے اور نوجوان سب ہی آتے ہیں، جو ریسیں لگائی جاتی ہیں یا ون ویلنگ کی جاتی ہے ان ریسوں میں اصل کردار میکینک کا ہوتا ہے ، میکینک کی طرف سے ریس کی موٹر سائیکل تیار کی جاتی ہے اور پھر اسے چلانے کے لیے جسے مقرر کیا جاتا ہے اسے رائیڈر کہتے ہیں وہ رائیڈر اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر اپنے گروپ اوراپنے میکینک کا نام روشن کرنے کے لیے ریس لگاتا ہے جوبعض اوقات جان لیوابھی ثابت ہوجاتاہے ، موٹر سائیکل کی ریس کے لیے مختلف شاہراہوں کا انتخاب کیا جاتا ہے. موٹر سائیکل کی ریس پر گروپس کے درمیان شرطیں بھی لگائی جاتی ہیں، ریس کے بعد جب فیصلے کا وقت آتا ہے تو بعض اوقات ان گروپوں کے درمیان تصادم بھی ہوجاتا ہے اور فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے. ایسے مستریوں کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چایئے جو موٹر سائیکل اس لیے تیار کرکے دیتے ہیں۔والدین اپنے بچوں کو ایسے خونی کھیل کا حصہ بننے سے روکیں.
جو والدین اپنے بچوں کو موٹر سائیکل خرید کر دےدیتے ہیں، مگر ان کی سرگرمیوں پرنظر نہیں رکھتے وہ بھی قابل گرفت ہیں۔ والدین کئی جتن کرکے اپنے بچوں کو موٹر سائیکل دلاتے ہیں کہ ان کے بچے کو تعلیمی ادارے تک جانے میں پریشانی کا سامنا نہیں ہو، مگر بچے اپنے والدین کی طرف سے دی جانے والی اس سہولت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ موٹر سائیکل کے ساتھ ہیلمیٹ بھی دلائیں کیوں کہ ہیلمیٹ سے سر محفوظ رہتا ہے۔ کسی حادثے کی صورت میں ہیڈ انجری نہیں ہوتی اور بچنے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں۔ عموماً نوجوان ہیلمیٹ کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔ ہر والدین کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اچھے مقام پر فائز ہو اور والدین کا نام روشن کریں، لیکن اس کے دوران زخمی ہونے یا معذور ہوجانے کے سبب وہ، والدین پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ جوان اولاد کی معذوری والدین کی موت ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ گھر کے ماحول میں مثبت سوچ کو فروغ دیں کیونکہ اگر منفی سوچ کا شکار ہو کر بچے نے آزاد سانس لینے کا سوچ لیا تو وہ ایک پہیے پر بائیک سمیت کسی بھی جرم میں ملوث ہو سکتا ہے۔گھر کے بعد کسی کی بھی انسان کی دوسری تربیت گاہ اس کی درس گاہ ہوتی ہے جہاں آپ کے پاس بہت سے آپشن ہوتے ہیں اگر مثبت سوچ کے حامل اساتذہ کی شاگردگی میسر ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ خود ہر برائی سے بچ سکتے ہیں۔ وقت ہم سے یہ تقاضا چاہتا ہے کہ اس کے مضمر اثرات کے بارے میں نئی نسل کو آگاہ کیا جائے ان کو بتایا جائے کہ یہ کھیل ہر گز نہیں یہ جرم کا راستہ ہے. نوجوانی میں قدم رکھتے ہوئے بچوں کو گھر سے لے کر درس گاہ تک کے سفر میں اس کے نقصانات سے آگاہی کے لیے معلومات دینا والدین سے لے کر اساتذہ تک سب پر لازم ہے.ایسے افراد کی ذہنی حالت کی بہتری کے لیے ماہر نفسیات کے لیکچرز دیے جایں تا کہ ون ویلر نوجوان کی سوچ میں تبدیلی رونما ہو سکے۔
اس کے تدارک کے لیے سوسائٹی کا بھی اہم رول ہے لوگ سڑکوں پر دوڑتے ہوئے ون ویلروں کو دیکھتے ہیں برا بھلا بھی کہتے ہیں لیکن ان کو روکتے نہیں بلکہ اپنی انکھوں کے سامنے مرتا ہوا بھی دیکھنا منظور کر لیتے ہیں یہاں بھی حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے والدین سوسائٹی کے معززین اور اساتذہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلی افسران پر مشتمل افراد کی ٹیم تشکیل دینی چاہیے جو ون ویلنگ کو بھی روکے اور ون ویلر کے جنم کو بھی۔
والدین بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔۔غیر ضروری باہر موٹرسائیکل لے جانے سے گریز کریں۔۔۔ اپنے بچوں کو تمام حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایئں کہ ان کی اور دوسروں کی زندگی کتنی قیمتی ہے ،آپ کی تھوڑی سی لاپرواہی کتنے بڑے حادثے کا شکار ہو سکتی ہے ۔۔خدارا بیٹوں کو خودمختار بنانے سے پہلے ان کو بتائیں کہ زندگی کے اصول وضوابط کیا ہیں اگر، بچہ ڈرائیونگ کے قابل ہو گیا ہے تو ٹریفک کے قوانین سکھائیں ،احساس ، تحمل مزاجی اور بردباری کو شعار بنائیں ۔۔اورٹیکنگ سے روکیں۔۔۔غرض ٹریفک کے اصول و قوانین کی باقاعدہ ٹریننگ دیں ۔۔۔
بہت سے نوجوانوں کو ہائی اسپیڈ بائیک کی عادت سی ہو گئی ہے ۔۔۔کوئی ان کو روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔۔۔سڑکوں پہ جھولتے بائیک پہ اپنی دھن پہ سوار ،لوگوں کو روندتے ،رواں دواں ہیں ۔۔۔جب والدین ہی نہیں روکیں گے تو کوئی دوسرا کیسے روکے گا ۔۔۔ایسی اولاد دوسروں کو کیا اہمیت دے گی۔۔۔یقینا بات لڑائی جھگڑے تک پہنچے گی۔۔۔ سماجی و معاشرتی مسائل کی وجہ سے والدین اور بچوں کے صبر و برداشت کے پیمانے لبریز ہوتے جارہے ہیں۔ زیادہ تر نوجوان والدین کی عدم توجہی کی بنا پر نفسیاتی دباؤ میں ایسی منفی سرگرمیوں کے ذریعے دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔
ایک پہیے پر بائیک چلانا نشے سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ، ایسا کرنے والوں میں احساس کمتری اور معاشرتی مسائل جیسے والدین کی عدم توجہ، گھریلو ماحول، غربت، جہالت، بے روزگاری، بے راہ روی اور بری صحبت وغیرہ عوامل شامل ہیں۔ نوجوان اپنے آپ میں تنہا، عدم تحفظ اور عدم توجہی کا شکار ہو رہے ہیں، اس طرح کے نفسیاتی دباؤ اور غصہ کی حالت میں اس سمیت دیگر منفی سرگرمیوں کے ذریعے توجہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں، کچھ نوجوان تھرلنگ کا شوق ون ویلنگ کے ذریعے پورا کرتے ہیں.
علمائے کرام نے اس کو غیر شرعی قرار دے دیا اور کہا کہ ہر وہ عمل جو جان کو خطرے میں ڈالے غیر شرعی ہے۔
علمائے کرام کا کہنا ہے کہ اسلام انسانی جان کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے.ایسے جان لیوا کھیل اسلام میں سخت ممنوع ہیں، ”یہ اعمال خودکشی کے مترادف ہیں“،اسلام خود کو ہلاکت میں ڈالنے سے روکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کے خلاف ہونے والے مقدمے میں باآسانی ضمانت ہوجاتی ہے۔ اگر سزا ہو بھی جائے (جس پر عملدرآمد کم وبیش ہی دیکھنے کو ملتا ہے) تو 3 ہزار روپے تک جرمانہ اور 2 سال تک قید کی سزا ہوتی ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنی ذمے داری کا ادراک کرتے ہوئے نہ صرف ایک پہیے پر بائیک چلانے پر پابندی کے حوالے سے سخت ترین قانون سازی کرے بلکہ اس پر عمل کو بھی یقینی بنائے. جب نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع نہیں فراہم کیے جائیں گے، تو ان کا غیر صحتمندانہ اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونا لازم ہے.نوجوانوں کے منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی ایک بڑی وجہ کھیلوں کے میدان، پارک، اور اسٹیڈیمز کی کمی بھی ہے۔کہتے ہیں ناں کہ ’’جس ملک کے میدان ویران ہونگے، وہاں کے اسپتال آباد ہوتے ہیں‘‘۔ ہمیں چاہے کہ اپنے میدانوں کو آباد کریں، کھیل کے میدانوں کی تعمیر حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا بے حد ضروری ہے۔ مہذب ممالک کی طرح اگر نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی نشو و نما کے لیے نت نئے طریقے اور جدید کھیل دریافت کیے جاتے تو آج ہم سماجی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ انتہا پسند معاشرے کی بنیاد نہیں رکھتے۔ اگر کھیلوں کے میدان ہوں گے تو یہ نوجوان اپنے شوق کی تسکین کے ساتھ صحت مند سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں.
نوجوانوں سے اپیل ہے کہ عیدالفطر کی خوشیوں کو اپنے پیاروں کے ساتھ منائیں. کسی بھی قسم کی منفی غیر اخلاقی حرکت سے اجتناب کریں جو کہ گھر والوں کے لیے تکلیف کا باعث بن سکے.اپنے والدین پر رحم کریں.جوان اولاد کا غم والدین کو جیتے جی مار دیتا ہے. زندگی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیـں ہے. جان ہے تو جہان ہے ورنہ دنیا ویران ہے.
نوجوان ہمارا مستقبل اور معمار ہیں۔ انہیں اگر اپنی پروا نہیں تو ہم سب افراد کو مل کر ان کی تربیت اور حفاظت کرنی ہے۔ ضرورت اب صرف اس بات کی ہے کہ ہمارے سامنے ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی ہو کہ ہمارے نوجوان درست نصب العین پر گامزن ہوں۔ یہ کام حکومت، والدین، اساتذہ اور خود نوجوانوں نے مل کر کرنا ہے۔ اپنے اپنے محلوں میں بزرگ اور با اثر شخصیات نوجوانوں کی بے راہ روی اور ان کے ناپسندیدہ حرکات سے چھٹکارا دلانے کے لیے نصیحت کریں اور ان کو مختلف فن سیکھنے کی ترغیب دیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موت کے کھیل کو روکنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کیے جائیں۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
تحریر… پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد
خواتین کا عالمی دن صنفی امتیاز کے تناظر میں
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے.
خواتین کے عالمی دن پر پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ریلیوں، تقریبات اور سیمنارز کےذریعے خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے اور ان کے مسائل اجاگر کیے جاتے ہیں.
یہ دن صنفی مساوات ، تولیدی حقوق اور خواتین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی جیسے مسائل پر توجہ دلانے اور معاشرے میں خواتین کی اہمیت اور احترام کا تصور پیش کرتا ہے.
اس دن کی جڑیں 20ویں صدی کے اوائل کی امریکی سوشلسٹ اور مزدور تحریکوں میں پنہاں ہیں، خصوصا اس وقت جب خواتین کام کرنے کے لیے بہتر حالات اور ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔
خواتین کا عالمی دن ایک مزدور تحریک کے طور پر شروع ہوا تھا اور اب یہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ ایک سالانہ دن ہے۔ خواتین کا عالمی دن ایک مزدور تحریک کے طور پر شروع ہوا تھا اور اب یہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ ایک سالانہ دن ہے۔

اس دن کا آغاز 1908 میں نیویارک شہر سے ہوا جب 15000 خواتین نے کم گھنٹے کام، بہتر تنخواہوں اور ووٹ کے حق کے لیے مارچ کیا۔ اس سال بعد سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے پہلا قومی یومِ نسواں منایا۔
ایک سال بعد، سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے خواتین کے پہلے قومی دن کا اعلان کیا تاہم اسے بین الاقوامی بنانے کا خیال سب سے پہلے کلارا زیٹکن نامی خاتون کے ذہن میں آیا جو کہ ایک کمیونسٹ اور خواتین کے حقوق کی کارکن تھیں۔
انھوں نے 1910 میں کوپن ہیگن میں انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن میں یہ خیال پیش کیا۔ وہاں 17 ممالک سے 100 خواتین موجود تھیں جنھوں نے متفقہ طور پر اس کی تائید کی۔
یہ پہلی مرتبہ آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں 1911 میں منایا گیا۔ اس کی صد سالہ تقریب 2011 میں منائی گئی.
1970 اور 1980 کی دہائیوں میں، خواتین کے گروپوں کو بائیں بازو اور مزدور تنظیموں نے مساوی تنخواہ، مساوی معاشی مواقع، مساوی قانونی حقوق، تولیدی حقوق ، سبسڈی والے بچوں کی دیکھ بھال اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے مطالبات میں شامل کیا تھا۔خواتین کے عالمی دن کو باقاعدہ طور پر 1975 میں تسلیم کیا گیا جب اقوام متحدہ نے بھی اسے منانا شروع کیا۔
کلارا نے خواتین کے عالمی دن کے لیے کوئی خاص تاریخ منتخب نہیں تھی۔
یہ تاریخ 1917 تک متعین بھی نہیں ہوئی تھی جب پہلی عالمی جنگ کے دوران روسی خواتین نے ‘روٹی اور امن‘ کے مطالبات کے ساتھ ہڑتال کر دی اور چار دن کے بعد روسی سربراہ کو حکومت چھوڑنی پڑی اور خواتین کو ووٹ کا عبوری حق مل گیا۔
جس دن روس میں خواتین کی ہڑتال شروع ہوئی تھی وہ جولیئن کیلنڈر میں 23 فروری تھی جو موجودہ کیلنڈر میں 8 مارچ ہے اور اسی لیے یہ آج کی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔
عالمی یومِ خواتین کے رنگوں میں جامنی، ہرا اور سفید شامل ہیں۔
جامنی رنگ انصاف اور وقار کی علامت ہے۔ ہرا رنگ امید ظاہر کرتا ہے۔
سفید پاکیزگی کے لیے رکھا گیا ہے تاہم یہ قدرے متنازع ہے۔ یہ رنگ برطانیہ میں 1908 میں ویمنز سوشل این پولیٹیکل یونین سے نکلے ہیں۔
1977 میں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رکن ممالک کو دعوت دی کہ وہ 8 مارچ کو خواتین کے حقوق اور عالمی امن کے لیے اقوام متحدہ کی سرکاری چھٹی کے طور پر اعلان کریں۔ اس کے بعد سے ہر سال اقوام متحدہ اور پوری دنیا کی طرف سے اس کی یاد منائی جاتی ہے، ہر سال اس کی تقریب خواتین کے حقوق کے اندر کسی خاص موضوع یا مسئلے پر مرکوز ہوتی ہے۔
ہر سال خواتین کا عالمی دن ایک منفرد تھیم کے ساتھ منایا جاتا ہے جو خواتین کو بااختیار بنانے کے ایک خاص پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ IWD 2025 کا تھیم “Accelerate Action” اور “For All Women and Girls: Rights. Equality. Empowerment” ہے جس میں دنیا بھر میں صنفی مساوات کے حصول اور خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کی جانب کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
خواتین کا عالمی دن کئی ممالک میں قومی تعطیل کا دن ہے، بشمول روس کے جہاں 8 مارچ کے آس پاس تین چار دنوں میں پھولوں کی فروخت دگنی ہو جاتی ہے۔
چین میں حکومت کی جانب سے خواتین کو آدھے دن کی چھٹی دی جاتی ہے مگر بہت سی کمپنیاں یہ چھٹی اپنے ملازموں کو نہیں دیتیں۔اٹلی میں اس دن میموسا بلوسمز پھول دیے جاتے ہیں۔ اس روایات کا آغاز کیسے ہوا یہ تو کسی کو معلوم نہیں مگر کہا جاتا ہے کہ یہ روم میں دوسری عالمی جنگ کے بعد شروع ہوا۔
امریکہ میں مارچ کا مہینہ تاریخِ نسواں کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک صدارتی اعلان بھی کیا جاتا ہے جس میں سال بھر کی خواتین کی کامیابیوں کو اعزاز دیا جاتا ہے۔
میموسا پھول خواتین کے دن کی تقریبات میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، جو طاقت اور نسائیت کی علامت ہے۔ اس کے پیلے پھول دھوپ کا ایک لمس شامل کرتے ہیں، جو اسے 8 مارچ کے لیے ایک معنی خیز تحفہ بناتے ہیں۔
خواتین کا عالمی دن دراصل میدانِ عمل میں اترنے کا دن ہے…
اُن خواتین کا ساتھ دینے کے لئے، جو اپنا سب کچھ قربان کر کے اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں…
جنسی استحصال، بدسلوکی اور زیادتی سے تحفظ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے
زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی بھرپور شمولیت یقینی بنانے اور انہیں قیادت کے منصب تک لانے کے لئے میدانِ عمل میں اترنے کا دن ہے.قدرت نے عورت کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اگر وہ اپنی ان صلاحیتوں کا درست استعمال کرے تو بڑے سے بڑا پہاڑ سر کرسکتی ہے۔ عورت کئی روپ میں ہمارے سامنے ہے اور ہر روپ میں اس نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ اگر وہ ماں ہے تو اپنے بچوں کے لیے جنت ہے، وہ ان کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دے کر انھیں قابل انسان بناتی ہے۔عورت اگر بیٹی کے روپ میں ہے تو رحمت ہے، جو اپنے ماں باپ کی خدمت کرتی اور ان کا سہارا بنتی ہے۔ اگر بہن کے روپ میں ہے تو محبت کی بہترین مثال ہے۔ بیوی کے روپ میں ہے تو زندگی بھر اپنے شوہر کا ساتھ نبھاتی ہے، ہر سکھ دکھ میں اس کا ساتھ دیتی ہے اور ہر اونچ نیچ میں قدم سے قدم ملاکر چلتی ہے۔ غرضیکہ عورت کا ہر روپ مثالی ہے۔پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو، جن میں مردوں کے ساتھ پاکستانی خواتین بھی شامل ہیں‘ برابری کا حق دیتا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا آدھا حصہ خواتین ہیں۔ جب تک خواتین کو برابر کا حق نہیں ملتا، خاص طور پر تعلیم، صحت، معاشی اور معاشرتی زندگی میں انہیں مردوں کے برابر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا، اس وقت تک قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کے مطابق ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ ’’دنیا کا کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ قوم کے مردوں کے ساتھ خواتین بھی ملکی ترقی میں شانہ بشانہ حصہ نہ لیں‘‘.
ہمارے ملک میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے ناصرف ملک کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روش کیا۔ پاکستانی عوام کے دلوں پر راج کرنے والی خاتون محترمہ فاطمہ جناحؒ کے نام گرامی کے بغیر ہماری تاریخ نا مکمل ہے، آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ اور تحریک پاکستان کی سرگرم رہنما تھیں، اس ملک کیلئے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
رعنا لیاقت علی خان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آپ نے محنت کش خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کی اور ان کیلئے ’’اپوا ‘‘ تنظیم قائم کی۔ اسے اس قدر جامع خطوط پر استوار کیا کہ بد انتظامی کے دور میں بھی یہ ایک منظم تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ بنگال کی شائستہ سہروردی اکرام اللہ کا نام گرامی بھی بھولنے والا نہیں ہے، آپ پاکستان کی لیجسلیٹو اسمبلی کی رکن (10 اگست 1947ء تا 24 اکتوبر 1954ء) منتخب ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
محترمہ فاطمہ جناح اور شائستہ اکرام اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے سیاست میں قدم رکھا اور دو مرتبہ وزیر اعظم کے منصب تک پہنچیں۔ فہمیدہ مرزا پاکستان کی پہلی خاتون اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ حنا ربانی کھر نے وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالا اور 2011ء سے 2013ء تک ملک کی کم عمر ترین اور پہلی خاتون وزیر خارجہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
شوبز کی ہی فیلڈ میں پروڈیوسر و ڈائریکٹر شرمین عبید چنائے کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ اپنی تخلیقات پر دو بار آسکر ایوارڈز اپنے نام کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔ لاریب عطا جو کہ گلوکار عطا اللہ کی صاحبزادی ہیں، کم عمری میں ہی ہالی وڈ میں ان کے نام کا ڈنکا بج رہا ہے، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی صاحبزادی لاریب عطا عیسیٰ خیلوی جو بصری اثرات (Visual effects) میں مہارت رکھنے والی پاکستان کی پہلی نوجوان لڑکی ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہالی ووڈ میں اداکاری ہی نہیں بلکہ کسی بھی شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانا بے حد مشکل امر ہے۔ ایسے میں لاریب عطا کا ایک نہیں کئی ہالی ووڈ فلموں میں پہلی پاکستانی اورکم عمر ویژول ایفیکٹس (VFX) آرٹسٹ کے طور پر کام کرنا کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں۔
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کا نام بھی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ 2014ء میں وہ نوبل انعام حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت ہیں۔ مرحومہ ارفع کریم (آئی ٹی کی کم عمر ترین ماہر )، عائشہ فاروق (لڑاکا طیارے کی پہلی پائلٹ )، تبسم عدنان (جرگہ کی پہلی خاتون سربراہ)،پاکستانی خواتین کے حقوق کے تحفظ کی فعال کارکن ہیں۔ انھیں پاکستانی خواتین کے لیے انصاف کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں پر امریکی محکمہ خارجہ کا 2015ء کا بین الاقوامی خواتین کی جرات کا ایوارڈ بھی ملا.
ثمینہ خیال بیگ (مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون )، شمیم اختر (پاکستان میں پہلی خاتون ٹرک ڈرائیور)،شمیم اختر کو نہ صرف پاکستان میں پہلی خاتون ٹرک ڈرائیور کا اعزاز حاصل ہے، بلکہ یہ ہمارے معاشرے میں ایسی لاتعداد خواتین کے لئے ایک مثال بھی ہیں جو غربت سے نکلنے اور اپنے کنبے کی باعزت طریقے سے کفالت کر سکتی ہیں.
طاہرہ قاضی (اے پی ایس اسکول پشاور میں دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ جانے والی باہمت پرنسپل )،طاہرہ قاضی (ستارۂ شجاعت) ایک ماہر تعلیم اور آرمی پبلک اسکول پشاور کی پرنسپل تھیں جو 16 دسمبر 2016 کو آرمی پبلک اسکول پشاور حملے میں شہید ہوئیں۔
بلقیس ایدھی کے نام کبھی اپنے ذہن سے محو نہیں ہوسکتے۔ یہ تمام شخصیات ہمارے لئے رول ماڈل ہیں، ہم زندہ قوم ہیں اور یہی ہماری ’’زندگی ‘‘ کی پہچان ہیں۔ غرض زندگی کا کوئی بھی شعبہ دیکھ لیں اس میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔خواتین کا عالمی دن خواتین کو بااختیار بنانے کا جشن ہے اور خواتین کی مساوات کو تیز کرنے کے لیے ایکشن کا مطالبہ ہے۔ جیسا کہ ہم دنیا بھر میں خواتین کی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں، ہمیں ان چیلنجوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے جن کا خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایک زیادہ مساوی معاشرے کی تشکیل کے لیے کام کرتے ہیں۔ عمل کو تیز کرنے اور مل کر کام کرنے سے، ہم ہر جگہ خواتین اور لڑکیوں کا روشن مستقبل بنا سکتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد موجود خواتین کی عزت اور ان کا احترام کریں، ساتھ ہی صنفی امتیاز سے بالاتر معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کریں۔ ترقی کی دوڑ میں جیت کے خواہشمند ملکوں کو خواتین کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے صنفی امتیاز کا خاتمہ کرتے ہوئے انھیں وہ تمام حقوق اور مراعات دینا ہونگے جو ان کا حق ہے۔ تمام شعبہ جات میں تقرری صنفی بنیادوں کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر کرنا ہوگی، ساتھ ہی خواتین کو ہراساں کرنے کے مسئلے پر بھی قابو پانا ہوگا۔ معیشت اور معاشروں کی ترقی کے لیے صنفی مساوات ضروری ہے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان میں خواتین اب ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کررہی ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کے اس سال اس دن کو پرتپاک طریقے سے منایا جائے گا اور زندگی کے ہر شعبے میں عورتوں کی لازوال محنت اور جفاکشی کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔ اگرزندگی کی کسی راہ یا میدان میں کچھ کٹھن پہلو ہوں تو انھیں پار کرنے میں ان کا ساتھ نبھایا جائے گا. کسی صورت گھٹیا اور فحش پوسٹر کارڈ اٹھا کر عورت کی تذلیل نہیں کی جائے گی. خواتین کو مزید با اختیار، انکے تحفظ اور منصفانہ حقوق کو یقینی بنانے کیلئے پورے معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا. اس میں سول سوسائٹی، میڈیا اور حکومت سب کو تعاون سے نہ صرف خواتین کے حقوق اور انکے تحفظ کا عہد کرنا ہوگا بلکہ اس حوالے سے آگاہی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا. ہماری حکومت کو خواتین کے منصفانہ حقوق، انکے تحفظ اور انکو یکساں تعلیم و ترقی کے لئے بھرپور کوشش کرنا چاہیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد.
مضمون نگار روزنامہ جنگ کراچی،
مضمون نگار روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین کراچی ، مضمون نگار روزنامہ جرات کراچی ،
ڈرامہ نگار، صداکار اور مضمون نگار ریڈیو پاکستان حیدرآباد،
محقق،موٹیویشنل اسپیکر،بیورو چیف حیدرآباد ماہنامہ اطراف
بابائے تعلیم سندھ پیر الہی بخش
*پیر الہی بخش سندھ کی عہد ساز شخصیت تھے*
تحریک پاکستان میں سندھ کے مسلم دانشوروں اور رہنماؤں کا بہت اہم کردار تھا، جنہوں نے دن رات انتھک محنت کرکے پاکستان کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ پاکستان کی تاریخ میں آج بھی ان رہنماؤں کا مقام بلند ہے۔ انہی اہم شخصیات میں ایک تاریخ ساز شخصیت پیر الٰہی بخش کی ہے۔
پیر الٰہی بخش 9 جولائی 1890ء کو ضلع دادو کی تحصیل بھان سعید آباد میں واقع پیر جو گوٹھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا کا نام پیر غلام حسین تھا۔ وہ ایک روحانی اور دینی شخصیت تھے۔ ان کے خاندان کے مرید کاٹھیا واڑ ریاست میں زیادہ تھے۔ پیر الٰہی بخش کے والد پیر نواز علی اس دنیا سے رخصت ہوگئے، جس کے بعد انہوں نے اپنے ماموں پیر لعل محمد کے زیرسایہ ترتیب حاصل کی۔
پیر الٰہی بخش نے ابتدائی تعلیم بھان سعید آباد میں حاصل کی جس کے بعد وہ خیرپور میرس چلے گئے۔ 1919ء میں ناز ہائی اسکول خیرپور سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ علی گڑھ یونیورسٹی چلے گئے۔ وہ اپنے خاندان کے پہلے ممبر تھے جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ پیر الٰہی بخش مولانا محمد علی جوہر کی زیر قیادت چلنے والی خلافت تحریک سے بہت متاثر ہوئے۔

مولانا محمد علی جوہر کے حکم کی بنا پر جن طلبہ نے 1920ء میں علی گڑھ کالج کو چھوڑا، ان میں سے ایک وہ بھی تھے۔ انہوں نے علی گڑھ کالج کو چھوڑ کر دہلی میں واقع مولانا محمد علی جوہر کی زیرسرپرستی چلنے والی جامعہ ملیہ دہلی میں داخلہ لیا۔ اس درس گاہ کا سنگ بنیاد حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے رکھا تھا، جس کے چانسلر حکیم اجمل خان مرحوم تھے۔
یہاں سے بی اے کی سند حاصل کی اور اپنی مزید تعلیم چھوڑ کر اپنے وطن لاڑکانہ سندھ واپس آگئے اور یہاں تحریک خلافت کی قیادت سنبھال لی۔ جب سندھ میں خلافت تحریک شروع ہوئی تو پیر الٰہی بخش8 سے 10جولائی1921ء کو صوبہ سندھ خلافت کانفرنس کراچی میں شریک ہوئے جس کی صدارت مولانا محمد علی جوہر نے کی تھی۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں کراچی کے مشہور مقدمہ بغاوت میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، پیر غلام مجدد سرہندی کو دو دو سال کی سزا دی گئی تھی۔ پیر الٰہی بخش آل انڈیا کانگریس کمیٹی اور آل انڈیا خلافت کمیٹی کے بھی کچھ عرصہ ممبر رہے۔ تحریک خلافت زیادہ عرصہ زور نہ پکڑ سکی اور بالآخر برطانوی حکومت نے اسے دبادیا۔
حالات و واقعات نے پیر الٰہی بخش کو سیاستداں بنادیا تھا۔ تحریک خلافت کے ختم ہونے کے بعد حالات بدلنے لگے اور اس وقت کے ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ لاڑکانہ کے صدر مرحوم سرشاہنواز بھٹو نے پیر الٰہی بخش کو مشورہ دیا کہ واپس علی گڑھ جائیں اور اپنی منقطع تعلیم کی تکمیل کریں۔
سرشاہنواز بھٹو نے اس مقصد کے لیے ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کی جانب سے انہیں وظیفہ عطا کیا اور اس طرح پیر الٰہی بخش ایک مرتبہ پھر تعلیم حاصل کرنے کے لیے علی گڑھ یونیورسٹی چلے گئے جہاں سے انہوں نے 1929ء میں ایم اے کیا، پھر ایل ایل بی کی ڈگری لی اور واپس آکر لاڑکانہ میں وکالت شروع کردی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا۔ پاکستان کے قیام میں 23 مارچ 1940ء کی قرارداد پاکستان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ قرارداد آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل اجلاس منعقدہ لاہور میں شیربنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی تھی۔
اس قرارداد میں کہا گیا کہ برصغیر میں موجود مسلم اکثریتی علاقوں پر مبنی ریاستوں اور صوبوں کی پاکستان میں شمولیت کی جائے۔ اگر 1937ء تک سندھ کو ایک علیحدہ صوبے کی حیثیت حاصل نہ ہوئی اور وہ ہمیں ریزیڈنسی سے الگ کرکے ایک خود مختار اور علیحدہ صوبے کی حیثیت حاصل نہ کرتا تو قرارداد پاکستان میں اسے ایک مسلم اکثریتی صوبے کا درجہ نہ دیا جاسکتا۔ اس عظیم کارنامے کے پیچھے پیر الٰہی بخش مرحوم کی کاوشیں کار فرما تھیں۔ پیر الٰہی بخش اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی اس بات سے پریشان تھے کہ لاڑکانہ کے طلباء کو میٹرک کے امتحان دینے کے لیے بمبئی جانا پڑتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ وہ سوچتے تھے کہ کچھ ایسا کریں جس سے سندھ کو برصغیر کے جغرافیے میں اپنا صحیح، آزاد اور علیحدہ مقام حاصل ہوسکے۔بعد ازاں 1932 تا 1937 تک سر شاہنواز بھٹو کے ساتھ سندھ کو صوبہ بمبئی سے علیحدہ کرانے کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کے لیے ” سندھ یونائیٹڈ فرنٹ” قائم کیا جس کے صدر سر شاہنواز بھٹو تھے اور اس کے سرکردہ ارکان میں پیر الہی بخش، محمد ایوب کھوڑو، الله بخش گبول اور محمد ہاشم گذدر شامل تھے..
سندھ کے بمبئی سے علیحدہ ہونے کے بعد 1937ء میں سندھ اسمبلی کے لیے جو انتخاب ہوا، اس میں پیر الٰہی بخش دادو کے خان بہادر یار محمد خان جونیجو اور پاٹ کے ایک بااثر وکیل کو شکست دے کر سندھ اسمبلی کی ممبری کے لیے منتخب ہوئے۔ اس وقت پیر الٰہی بخش سندھ اتحاد پارٹی کے ممبر تھے۔ سر غلام حسین ہدایت ﷲ کی وزارت بننے کے بعد اتحاد پارٹی کے ممبر جن کی تعداد شروع میں 24 تھی، آہستہ آہستہ پارٹی چھوڑنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد 8یا 9 رہ گئی۔
اتحاد پارٹی کے لیڈر خان بہادر ﷲ بخش مرحوم تھے اور انہوں نے ہی یہ جماعت بنائی تھی لیکن پیر الٰہی بخش اتحاد پارٹی کے اس حال میں بھی وفادار رہے۔ سندھ کی پہلی کابینہ صرف تین افراد یعنی سرغلام حسین ہدایت ﷲ بطور وزیراعلیٰ جبکہ میر بندے علی خان تالپور اور مکھی گوبند داس پریتم داس بطور وزراء پر مشتمل تھی۔ اس وزارت کا خاتمہ 22 مارچ 1938ء کو ہوا۔ 23 مارچ 1938ء کو خان بہادر ﷲ بخش سومرو بطور وزیراعلیٰ، پیر الٰہی بخش بطور وزیر ریوینیو اور نیچلداس وزیرانی وزیر پی ڈبلیو ڈی اور پبلک ہیلتھ شامل تھے۔
18مارچ 1940ء کو ﷲ بخش سومرو کی حکومت بھی مستعفی ہوگئی جس کے بعد میر بندے علی خان تالپور سندھ کے نئے وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے آئے تو پیر الٰہی بخش وزارت سے علیحدہ ہوگئے۔ صرف ایک سال بعد 6 مارچ 1941ء کو ایک بار پھر کابینہ میں تبدیلی آئی جس کا سبب 3 وزراء کا استعفیٰ تھا۔ نئی کابینہ جو دوسری مرتبہ 1941ء میں خان بہادرﷲ بخش سومرو کی سربراہی میں سندھ کے اقتدار پر فائز ہوئی اس میں پیر الٰہی بخش بھی شامل تھے اور اس مرتبہ انہیں بیک وقت تعلیم، صنعت، محنت، آبکاری و جنگلات اور دیہی ترقیات کے اہم قلمدان سونپے گئے۔
پیر الٰہی بخش آخر تک محکموں کے وزیر کے طور پر برقرار رہے۔ تعلیم کے شعبے میں آپ کو خصوصی دل چسپی تھی۔ آپ نے پورے سندھ میں پرائمری تعلیم کا حصول لازمی قرار دینے کی غرض سے941ء میں پرائمری ایجوکیشن بل ان کی سربراہی میں پیش ہوا جسے اسمبلی نے منظور کرلیا۔ 1943ء میں گورنر نے ﷲبخش کی وزارت اعلیٰ کو ختم کردیا اور غلام حسین ہدایت ﷲ کو وزارت بنانے کی دعوت دی ۔ پیر الٰہی بخش مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ 1937ء میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے باوجود میٹرک سندھی طلباء کو امتحان دینے کے لیے بمبئی جانا پڑتا تھا۔یہ وہ موقع تھا کہ انہوں نے سندھ اسمبلی کے 22 ویں اجلاس منعقدہ 12مارچ 1945ء میں یونیورسٹی بل 1945ء پیش کیا جسے پیر الٰہی بخش نے صرف 2 ووٹوں کی سادہ اکثریت سے منظور کروانے میں کام یاب ہوگئے اور اس طرح سندھ کی پہلی یونیورسٹی یعنی سندھ یونیورسٹی کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔
تعلیم کے مقصد سے گہری وابستگی رکھتے ہوئے، انہوں نے سندھ اسمبلی میں سندھ یونیورسٹی ایکٹ پیش کیا اور اسے پاس کیا۔ پیر الٰہی بخش کے اس فعل سے قائداعظم بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے ذاتی طور 150,000روپے کا عطیہ سندھ یونیورسٹی کے قیام کے لیے دیا –
پیر الٰہی بخش نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ابوبکر احمد حلیم کو سندھ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر کا عہدہ قبول کرنے پر آمادہ کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے پیر الٰہی بخش کی اس کاوش کو بھرپور انداز میں سراہا۔
1946ء میں پیر الٰہی بخش مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ممبر منتخب ہوئے۔ اسی سال ستمبر کے مہینے میں گورنر نے اسمبلی ختم کردی اور دسمبر میں نئے چناؤ ہوئے۔ 14اگست 1947ء کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ سرغلام حسین ہدایت ﷲ سندھ کے گورنر مقرر ہوئے۔ صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ کھوڑو صاحب منتخب ہوئے۔ 1948ء میں کھوڑو صاحب کا کراچی کے سوال پر مرکزی حکومت سے اختلاف پیدا ہوا۔ انہوں نے کراچی کو مرکزی حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ مرکزی حکومت نے انہیں ڈس مس کردیا۔ پیر الٰہی بخش کو کھوڑو صاحب کی جگہ صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ بنایاگیا۔
1950ء میں جی ایم سید کی دائر کردہ اپیل کے فیصلے میں پیر الٰہی بخش کو ڈس کوالیفائڈ کرنے کی سفارش کی گئی۔ اس وقت پیر الٰہی بخش وزارت اعلیٰ اور اسمبلی سے علیحدہ ہوگئے۔ پیر الٰہی بخش 3مئی 1948ء سے 4 فروری1949ء تک صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ رہے تھے۔ ان کا تعلق سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ سے تھا۔ قیام پاکستان کے بعد پیر الٰہی بخش سندھ کے دوسرے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کی تقرری کی سب سے اہم اور خاص بات یہ تھی کہ ان کی بطور وزیراعلیٰ تقرری براہ راست قائداعظم کی جانب سے نامزدگی پر عمل میں آئی تھی۔ آپ قائداعظم محمد علی جناح کے اعتماد پر پورے اترے۔
پیر الٰہی بخش تحریک پاکستان کے مجاہد، قائداعظم کے رفیق کار تھے۔ قائد اعظم نے جب گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا اور حلف برداری کی تقریب ہوئی تو تلاوت قرآن پاک کی سعادت پیر الٰہی بخش کو حاصل ہوئی۔
قیام پاکستان کے بعد جب قائد اعظم اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے تو یہ پیر الہٰی بخش ہی تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ 22 اگست 1947 کو پیر الہٰی بخش کالونی میں واقع جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے اس میں محمد علی جناح کے لئے قائد اعظم کا لقب استعمال کیا گیا.
وہ نہ صرف بابائے تعلیم تھے بلکہ 1947ء میں مہاجروں کی آبادکاری کے سلسلے میں ہراول دستے میں شامل تھے۔انہوں نے اس سلسلے میں پیر الٰہی بخش ہاؤسنگ سوسائٹی 1948ء میں رجسٹرڈ کروائی۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد مسلمان مہاجرین پاکستان کے اس وقت دارلحکومت کراچی میں منتقل ہوگئے۔ پیر الٰہی بخش کالونی اس وقت تعمیر کی گئی تھی جب مہاجروں کو کالونی کے لیے اراضی کا عطیہ ایک بڑے ماہر زراعت نے دیا تھا۔ اس کے بعد ایک نجی ٹھیکے دار مسٹر حسن کو مکانات بنانے کا ہدف دیا گیا۔ حسن نے 1800 روپے کی لاگت سے 150مربع گز کے مکانات بنائے۔ مہاجر برادری سے تعلق رکھنے والے بہت سے مشہور افراد اس کالونی میں رہتے تھے جو بعد میں دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔
اس علاقے میں سب سے مشہور مساجد میں ہاشمی مسجد، جامع مسجد، فیضان عطار، احمد رضا، کھتری مسجد، مکی اور مدنی مسجدیں ہیں۔ دہلی کالونی، پیر آباد اور بعض دیگر آبادیاں ان کی مرہون منت ہیں۔ پیر الٰہی بخش کی کوششوں سے سندھ میں مختلف تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آیا، جن میں سندھ یونیورسٹی اور ایس ایم کالج سرفہرست ہیں۔ وہ سالوں تک سندھ مدرستہ بورڈ کے صدر کی حیثیت سے رہے۔ پیر صاحب کا اردو کالج کے قیام میں بھی اہم کردار تھا۔ پیر صاحب نے مولوی عبدالحق کو ایک عمارت مہیا کی تھی، جہاں انجمن ترقی اردو کی بنیاد رکھی گئی تھی اور بعد میں وہاں اردو کالج کھولا گیا۔ کراچی یونیورسٹی میں دیگر تعلیمی اداروں کا سنگ بنیاد رکھا۔
پیر الٰہی بخش ٹاور (علمی ٹاور) اسٹیٹ بینک آف پاکستان سکھر کے قریب ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ یہ 110فٹ اونچائی اور 66 فٹ چوڑا ہے۔ اس ٹاور کا سنگ بنیاد مئی 1939ء میں اس وقت کے وزیرتعلیم سندھ پیر الٰہی بخش کے ہاتھوں رکھا گیا اور 1940ء میں تعمیر مکمل ہوئی۔
110 فٹ اونچا یہ ٹاور دوسری عمارتوں سے بھی اونچا لگتا ہے کیونکہ یہ ایک چھوٹی پہاڑی پر بنایا گیا ہے۔ اب تک اس کی چار گھڑیاں باقی ہیں لیکن اس کی سوئیاں بہت پہلے چلنا بند ہو گئ تھیں ۔ تعمیر کے وقت ٹاور کا نام ’’تعلیمی ٹاور‘‘ رکھا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ اسے پیر الٰہی بخش ٹاور کہنے لگے.
جب پیپلزپارٹی کا قیام عمل میں آیا تو پیر الٰہی بخش اس میں شامل ہوگئے۔جب پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس میں شامل ہو گئے اور اس کے بعد سابق سینئر صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کو ذوالفقار علی بھٹو کے پاس لے گئے اور ان سے کہا اس نوجوان میں سیاست کی صلاحیتیں موجود ہیں اسے عوام کی خدمت کے لیے اپنی پارٹی میں شامل کر لیں ذوالفقار علی بھٹو نے دست شفقت رکھا اور انہیں خوش آمدید کہا.
پیر الٰہی بخش نہایت کریم النفس، خوش اخلاق اور صوم و صلوٰۃ کے بے حد پابند تھے۔ پیر الٰہی بخش کی وصیت تھی کہ میرے انتقال کے بعد میری تدفین پیر الٰہی بخش کالونی جامع مسجد کے صدر دروازے کے ساتھ کی جائے۔ پیر صاحب جب تک زندہ رہے ان کے گھر کے دروازے کبھی بند نہ ہوئے۔ ہمیشہ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر خود بھی بچوں کو پڑھاتے تھے۔ بے شمار بچے ان کے خرچ پر تعلیم حاصل کرتے تھے۔
انہیں تعلیم سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔ آپ نے مفت تعلیم بالغاں کا اہتمام کیا۔ پیر صاحب درویش صفت انسان تھے۔ پیر الٰہی بخش8اکتوبر 1975ء کو 5 بیٹے اور 2بیٹیوں کو سوگوار چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے۔ بیٹوں کے نام پیر محمد نواز، پیر شاہنواز، پیر عبدالمجید، پیر عبدالحمید اور پیر عبدالرشید ہیں۔ ان کے پوتے ایڈووکیٹ پیر مظہر الحق نے سیاست میں کام یابی حاصل کی اور وہ سندھ کی صوبائی اسمبلی کے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی سندھ اور وزیر بھی رہے۔پیر مظہر الحق پاکستان پیپلزپارٹی کے انتہائی وفادار ممبروں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ پیر مظہر الحق نے جنرل ضیاء کے دور میں اس وقت پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی جب دوسرے پارٹی چھوڑ کر جارہے تھے یا پھر متبادل کی تلاش میں تھے۔ پیر مظہر الحق کی بیٹی ماروی مظہر بھی رکن سندھ اسمبلی ہیں۔ وہ سندھ کے ضلع دادو سے صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ پیر الٰہی بخش جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ آپ کی سیاسی اور سماجی خدمات بے مثال ہیں۔
کاشانہ پیر الہی بخش کو اعزاز حاصل ہے کہ وہاں شیخ مجیب الرحمن مولانا بھاشانی بھارت کے سابق صدر ذاکر حسین سمیت بے شمار تاریخ ساز شخصیات تشریف لا چکی ہیں پیر صاحب ایک درویش صفت انسان تھے وزیراعلی ہونے کے باوجود بغیر پروٹوکول کے پیدل لوگوں کے حال و احوال معلوم کرنے نکل جاتے تھے….. آپ کو تعلیم سے عشق اور جنون کی حد تک لگاؤ تھا…..
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان*
*وتایو فقیر سندھ کے لوک ادب کے صوفی درویش لازوال کردار*
****************************
وتایو فقیر سندھ کا ملا نصرالدين
*****************
صوبہ سندھ کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ پاکستان کے نقشے پر سندھ وہ مردم خیز زمین ہے جس نے نامور، قدآور اور عہدساز شخصیات کو جنم دیا ہے، جنھوں نے علمی، تحقیقی، دینی اور روحانی اعتبار سے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں جو نیل گوں آسمان پر آفتاب و ماہتاب کی طرح رہتی دنیا تک روشن رہیں گے۔
کتنے مجاہدین، دانش وروں، سیاست دانوں اور اولیائے کرام نے سندھ دھرتی پر جنم لیا ہے… پاکستان ایک کثیرالثقافتی ملک ہے۔ یہاں کے ہر خطے کا اپنا ایک الگ رنگ اور ثقافت ہے۔ اگر بات ہو سندھ کی تو اس صوبے کی ثقافت اپنی مثال آپ ہے۔ سندھ صوفیا کرام اور امن و محبت کی دھرتی ہے۔ سندھ میں صوفیا کرام کی تعلیمات کا واضح کردار نظر آتا ہے۔حضرت لعل شہباز قلندر، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور دیگر صوفیاء نے اپنی تعلیمات اور شاعری سے سندھ میں امن و محبت کا پیغام پھیلایا ہے۔ ان عظیم ہستیوں نے ہمیشہ اپنی کرامات، خدمات، کارناموں اور کردار سے دکھی انسانیت کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیری۔ سندھ اپنے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی تعلق بھی رکھتی ہے۔ صدیوں پرانے تہذیبی ورثے کے ذریعے صدیوں کی کہانیاں آج بھی مل رہی ہیں۔ سندھ میں کئی صدیوں پہلے ایسا لوک کردار گزرا ہے جو آج سندھ لوک ادب کا اہم حصہ ہے اور اس کی حکایتیں، کہاوتیں اور قصے کہانیاں سندھی معاشرے میں ضرب الامثال بن چکی ہیں۔ اس میں اپنا ایک الگ مزاج رکھنے والا وتایو فقیر ہے، جن کی ظرافت کے چرچے سندھ کے کونے کونے میں آج بھی لوگ دل چسپی سے سنتے ہیں.
وتایو فقیر ایک لازوال کردار ہے، جس نے اپنی ظرافت اور محبت کی خوشبو سے سندھ کے کونے کونے کو معطر کیا ہے۔وتایو فقیر سندھ کے لوک ورثے پر ایک گہری چھاپ رکھنے والی شخصیت تھے۔ یہ وہ فقیرانہ شخصیت ہے جس نے لوگوں کو اپنی مجذوب کیفیت میں بھی لوگوں کو محبت، امن اور عقلمندی کا درس دیا۔ وتایو فقیر نے اپنی روز مرہ زندگی میں اپنی کہانیوں اور قصوں سے سندھ کے لوگوں کو فیض پہنچایا۔ خاص طور پر سندھ کے بڑے اہل علم اور دانشور وتایو فقیر کی کہانیوں سے مستفید ہوئے۔ وتایو فقیر کوئی بھکاری نہیں تھے۔ یہاں فقیر سے مراد ہے صوفی، درویش، دنیا داری سے بے نیاز شخص۔ نفس کو نیچا دکھانے کے لیے وہ طرح طرح کی تدابیر اپناتے تھے۔ سندھ کے کسی بھی کونے میں بسنے والے شخص سے چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، ہندو ہو یا مسلم، اگر وتایو فقیر سے متعلق اس سے پوچھا جائے تو شاید اسے وتایو فقیر کے حسب و نسب کا پتا نہ بھی ہو تب بھی اسے ان کا کوئی قصہ ضرور یاد ہوگا۔
وتایو فقیر نے بارہویں صدی ہجری میں ایک ہندو خاندان میں جنم لیا۔ ان کی ولادت ٹنڈوالٰہ یار کے قریب واقع نصرپور کے گاؤں تاج پور میں ہوئی۔ ان کے آباؤ اجداد عمرکوٹ کے رہنے والے تھے، بعد میں نصرپور میں آکر آباد ہوگئے۔ وتایو کا نام وتومل تھا۔ ان کے والد میلھورام اپنی بیوی بچوں سمیت مسلمان ہوگئے۔ میلھو رام نے اپنا نام شیخ غلام محمد رکھا اور وتایو کا نام شیخ طاہر رکھا. اس کا اصل نام ” وتو” تھا. لیکن جوں جوں وتومل کی شہرت پھیلتی گئی، ان کا نام وتو بگڑتا چلا گیا. وتو بگڑ کر وتایو ہوا اور پھر اس کی درویش صفت عادتوں کے باعث لوگ اسے وتایو فقیر کہہ کر پکارنے لگے.
وتایو فقیر کی شخصیت اس کی حکایتوں میں پوشیدہ ہے. کہا جاتا ہے کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا. اس کی حکایتوں میں باپ کا ذکر نہ ہونے کے برابر ملتا ہے. کہتے ہیں کہ وتایو فقیر کا باپ اس کے بچپن میں ہی فوت ہو گیا تھا. اس کی پرورش ماں نے کی تھی. اس گھرانے کے پاس ایک گائے اور ایک گدھا تھا اور ان کا گزارہ محنت مزدوری، عطیے میں دیے گئے پیسوں اور اناج وغیرہ سے ہوتا تھا. کچھ مصنفین کے حوالے سے پتہ چلتا ہے کہ اس صوفی منش درویش کے کچھ معتقدین بھی تھے. ممکن ہے کہ جس دور کی یہ بات ہے، وہ وتایو فقیر کی زندگی کا آخری حصہ ہو.دوسری روایت میں یہ ہے کہ وہ اپنے والد کی وفات کے بعد اپنی والدہ کے ساتھ مسلمان ہوئے۔ وتایو فقیر پیشے کے لحاظ سے رنگ ساز تھے۔
وتایو فقیر کی طبیعت سیاحت کی طرف مائل تھی. سیاحت کا یہ شوق ان کی حکایتوں میں نظر آتا ہے. کہتے ہیں کہ انہوں نے پورے سندھ کے گاؤں دیہاتوں، قصبوں اور شہروں کی سیاحت کی ہوئی تھی. وہ سندھ کے معاشرے کے نبض شناس تھے . یہ سندھی معاشرے اور نفسیات کو اچھی طرح سمجھتے تھے . یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی حکایتیں معاشرے پر پوری طرح صادق آتی ہیں. ان کی باتوں میں صوفی بزرگوں سے محبت کی مہک موجود ہے. وہ بظاہر جتنا سادہ لوح شخص تھے ، اندر سے وہ اس سے زیادہ ذہین شخص تھے .

وتایو فقیر سندھ کی عام زندگی میں اسی طرز کا ایک کردار ہے جس طرح ترکی کا ملا نصیر الدین اپنے گدھے پر سفر کرتے کرتے لطیف پیرائے سے حکمت اور رمز کے موتی لٹاتا تھا۔ اسی طرح سندھ کا وتایو فقیر بھی گاؤں گاؤں گدھے پر گھومنے والا ایک جیتا جاگتا کردار تھا۔ ایسا کردار جو خدا سے لاڈ بھی کرتا ہے اور جھگڑتا بھی ہے۔اس کے علاوہ وتایو فقیر کو شیخ چلی اور بیربل سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچھ لوگ وتایوفقیر کے وجود کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک وتایو فقیر ایک خیالی کردار ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وتایو فقیر کا وجود تھا۔ اس کی مثال اس کی باتیں، حرکات و سکنات، حکایتیں اور قصہ کہانیاں آج تک زبان زد خاص و عام ہیں۔سندھ کی تاریخ کا ایک مستند حوالہ تحفۃ الکرام ہے. یہ کتاب 1181 ہجری میں مکمل ہوئی اس کے مصنف میر علی شیر قانع تھے. اس کتاب میں تین چار جگہوں پر وتایو فقیر کا ذکر ملتا ہے. حالیہ سندھی تاریخ میں سندھ کے مشہور دانشور مرزا قلیچ بیگ سمیت مختلف محققین اور لکھاریوں نے بھی وتایو فقیر کا تذکرہ کیا ہے. یوں یہ ایک طے شدہ حقیقت قرار پاتی ہے کہ وتایو فقیر نہ کوئی دیو مالائی کردار تھا اور نہ ہی افسانوی… سندھ کے لوک ادب سے لے کر جدید ادب تک ان سب پر وتایو فقیر کے اثرات نمایاں طور پر جھلکتے ہیں. یہ ممکن ہے کہ صدیوں سے جو قصے وتایو فقیر سے منسوب ہو کر سینہ بہ سینہ چلے آ رہے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں دوسرے لوگوں کی کہی ہوئی باتیں بھی شامل ہوتی رہی ہوں مگر ایک بات طے ہے اور وہ یہ کہ وتایو سے منسوب باتوں میں جہاں مزاح ہے، وہیں اس میں نصیحت بھی پوشیدہ ہے اور عقل و دانش بھی موجود ہے.
اگرچہ بعض لوگوں کا تاثر ہے کہ وتایو فقیر اپنی باتوں سے مزاح پیدا کرنے والا ایک چرچائی تھا. سندھی زبان میں چرچائی کا مطلب ہنسانے والا تاہم غالب اکثریت اسے صوفی درویش اور اس کے قصوں کو دانا بزرگ کی حکایتوں کا درجہ بخشتی ہے..
وتایو فقیر کے قصے کہانیوں نے نصیحت کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں خوف خدا، تزکیہ نفس اور انصاف کی جو تعلیمات دی ہیں وہ صدیوں زندہ رہیں گی۔ وتایو فقیر مذاق مذاق میں بہت گہری بات کہہ جاتے تھے، جس کے پیچھے سچائی اور دیانت داری کا فلسفہ پوشیدہ ہوتا تھا۔ وتایو اپنے وقت کے دانشور تھے۔ وہ اپنے ٹوٹکوں اور حکایتوں سے سماجی برائیوں کی نشان دہی کرتے تھے۔ سندھی ادب میں ان کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔
وتایو فقیر کی کہاوتیں آج بھی لوگ اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں۔ لوگ آج تک ان کی کہی ہوئی مزاحیہ باتوں کو بھول نہیں پائے ہیں۔ کوئی بھی شخص جب بھی ان کے قصے سناتا ہے تو فوری طور پر چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوجاتی ہے۔ ان کی باتیں عقل، علم و دانش کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کی شخصیت اور وجود سے اختلاف رکھنے والے ان کی حکایتوں، کہاوتوں، فکاہیہ جملوں، مزے مزے کے چٹکلوں، دل چسپ قصوں اور نصیحت آموز باتوں سے کس طرح انکار کرسکتے ہیں جو کہ آج بھی کتابوں کی شکل میں موجود ہیں۔ حتیٰ کہ وتایو فقیر کے قصے کہانیاں بچوں کی درسی کتب میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اداروں نے ان کے قصوں اور کہانیوں کو جمع کرکے کتاب کی شکل میں شایع کیا ہے۔ ان کی حقیقت اور وجود کو آج کے دانشور بھی مانتے ہیں۔
وتایو فقیر ایک داستان رقم کرگئے ہیں، لیکن انھیں وہ مقام نہیں حاصل ہوا جس کے وہ حق دار ہیں۔ بہت سے لوگ وتایو فقیر کے افکار سے ناواقف ہیں۔ ضروری امر یہ ہے کہ ان کی شخصیت کو اجاگر کرنے کے لیے سیمینار منعقد کیے جائیں، کیوں کہ وہ سندھ کا لوک ورثہ ہیں۔ وتایو فقیر کا مزار میرپور خاص روڈ پر ضلع ٹنڈوالٰہ یار میں بکیرا شریف نام کے قصبے کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے کا نام قبا اسٹاپ بھی ہے، جو ان کے مزار کے گنبد کی وجہ سے پڑا۔ ان کے مزار پر سندھی زبان میں لکھا انہی کا ایک شعر نظر آئے گا، جس کا مطلب ہے ’’کبھی میں بھی ایسا ہی تھا، جیسے آپ ہیں اور کبھی آپ بھی ایسے ہی ہونگے جیسا کہ میں آج ہوں۔‘‘ وتایو فقیر کے مزار کے عقب میں صوفی بزرگ سید عالی شاہ سرکار المعروف شیخ لونھیڑو فقیر کا مزار بھی واقع ہے۔ ایک روایت ہے کہ شیخ لونھیڑو فقیر جب کلام پاک کی تلاوت کرتے تھے تو درختوں کے پتے بھی ساکت ہوجاتے تھے۔ ان کی آواز میں ایسی مٹھاس تھی کہ لوگوں پر وجد طاری ہوجاتا تھا۔ عربی میں لحن کا مطلب میٹھی آواز ہے۔ اس لیے سید عالی شاہ سرکار کو لوگ لونھیڑو فقیر کے نام سے بھی پکارتے تھے۔ روایات کے مطابق شیخ لونھیڑو فقیر، وتایو فقیر کے بڑے بھائی تھے۔ تاہم چند روایات میں لونھیڑو فقیر کو وتایو فقیر کے مرشد کے طور پر بھی لکھا گیا ہے۔
وتایو فقیر کے چند قصے قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں:
اب وتایو فقیر صوفی، درویش تھے، نفس کو نیچا دکھانے کے لیے وہ طرح طرح کی تدابیر اپناتے تھے۔ ایک دفعہ دسترخوان پر مختلف اقسام کے طعام سجائے گئے۔ مشروب، مٹھائیاں، پھل وغیرہ۔ وتایو فقیر اپنے نفس سے مخاطب ہوئے بتا نفس تجھے کیا کھانا ہے۔ تجھے کیا پینا ہے؟ دیکھ لے دنیا بھر کے طعام تیرے آگے سجے ہوئے ہیں۔ مشروب، پھل اور مٹھائیاں ہیں، بتا تجھے کیا چاہیے۔ وتایو فقیر نے جیب سے سوکھی روٹی کا ٹکڑا نکالتے، پانی میں بھگوکر نوالہ منہ میں ڈالتے اور کہتے جاتے’’کھا میرے نفس کھا، اس سے لذیذ کھانا تو نے آج تک نہیں کھایا ہوگا، کھا سوکھی روٹی کھا۔‘‘ ایک روز نفس نے وتایو فقیر سے کہا ’’عید آنے والی ہے، تو مجھے قیمتی کپڑے پہنا۔‘‘ وتایو فقیر قیمتی ملبوسات لے آئے اور ویرانے کی طرف نکل گئے۔راستے میں انہیں ایک مسکین چرواہا ملا، وتایو فقیر نے ایک لباس چرواہے کو دے دیا، نفس چیخ پڑا ’’یہ کیا کررہے ہو وتایو!‘‘ وتایو نے اسے جواب نہیں دیا۔ ویرانے کی طرف جاتے ہوئے انہیں جو بھی خستہ حال ملا اسے ایک جوڑا لباس دیتے گئے۔ حتیٰ کہ وتایو فقیر کے پاس کپڑے کا صرف ایک جوڑا رہ گیا جو انہوں نے نے پہن لیا۔ نفس نے ہنس کر کہا ’’میں سمجھ رہا تھا کہ تم کپڑوں کا آخری جوڑا بھی کسی غریب کو دے دوگے، چلو تم نے میری ایک خواہش تو پوری کی ہے۔‘‘ نفس کی بات سن کر وتایو فقیر رک گئے۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا۔ انہیں پھٹے پرانے کپڑوں میں ایک مجذوب دکھائی دیا۔ وتایو نے اپنے تن سے قیمتی لباس اتارا اور مجذوب کو پہنا دیا اور مجذوب کے پھٹے پرانے کپڑے خود پہن لیے۔وتایو فقیر کے ان قصوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن نفس ہی ہے… کہتے ہیں کہ جس نے نفس کو مارا اس نے اپنے رب کو پہچانا… الله کے ولی اور درویش اللہ کی راہ میں اپنے نفس سے جہاد کرتے ہیں اور اسے قابو کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں. انسان اپنے نفس کا تابع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے انسان گمراہ اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گیا ہے…. وتایو فقیر کی نفس سے لڑائی ہمارے لیے مشعل راہ ہے…
” وتایو فقیر کے گاؤں میں شادی کی تقریب تھی۔ وہ بھی شادی کی دعوت میں جا پہنچے۔ انہیں دیکھ کر میزبانوں نے کہا فقیر آپ باہر بیٹھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وتایو فقیر پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میزبانوں نے انہیں اندر جانے سے روکتے ہوئے کہا کہ اندر خاص مہمان ہیں۔ وتایو فقیر نے کہا کہ مجھے دعوت دی گئی ہے، میں کیوں اندر نہ جاؤں، مگر انہیں اندر نہیں جانے دیا گیا۔ وتایو فقیر واپس آئے اور دھوبی کے پاس پہنچے، اس سے کہا، ’’آج کوئی نئے صاف کپڑوں کا جوڑا تو دو، مجھے ایک دعوت میں جانا ہے۔‘‘دھوبی نے ایک اچھا نیا جوڑا نکال کر انہیں دے دیا۔ اب وتایو فقیر نیا جوڑا اور پگڑی پہن کر اسی شادی دوبارہ پہنچ گئے۔ سب نے استقبال کیا۔ اب جب کھانا لگا تو تب سب لوگ کھانا کھارہے تھے مگر وتایو فقیر نے سارا کھانا کپڑوں پر گرادیا اور ساتھ کہتے گئے،’’میرے کپڑوں کھانا کھاؤ اور کھاؤ۔‘‘ یہ منظر سب لوگ حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ وہ وتایو کے پاس آئے اور کہا کہ جناب! آپ کپڑوں کو کیوں کھانا کھلارہے ہیں؟ یہ کپڑے کھانا نہیں کھاتے۔ تب وتایو فقیر زور زور سے ہنسے اور کہنے لگے،’’میں تو پہلے بھی آیا تھا لیکن آپ لوگوں نے مجھے اندر نہیں آنے دیا اور واپس بھیج دیا۔ اب میں انہی کپڑوں کی وجہ سے تو اندر آیا ہوں اسی لیے ان کپڑوں کو کھانا کھلارہا ہوں۔ مگر یہ کھانے کھاتے ہی نہیں اب انسان کی عزت تو نہیں ہے عزت ان کپڑوں کی ہے۔‘‘
ایک بار وتایو فقیر مسجد میں وعظ کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ مولوی صاحب کہہ رہے تھے کہ رزق کا وعدہ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے، وہ اپنے مخلوق کو ہر حالت میں روزی پہنچاتا ہے۔ وتایو اچانک اٹھے اور جنگل کی جانب چل دیے۔ بڑے سے درخت پر چڑھ کر بیٹھ گئے اور سوچا کہ میرے نصیب میں جو رزق ہے وہ تو یہیں مل جائے گا۔ دو دن اور ایک رات گزر گئی،دوسرے دن شام کو وہ حوصلہ ہار گئے اور سوچنے لگے کہ یہاں تو رزق ملا نہیں. اس لیے گھر چلنا چاہیے. وہاں ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا مل جائے گا.ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ دوسری رات ہونے کو آئی تو درخت کے نیچے شکاریوں کے ایک گروہ نے آکر ڈیرا لگایا، کھانا پکایا اور کھانے سے قبل انھوں نے اپنے نوکر سے کہا کہ ایک پلیٹ قریبی گاؤں میں جاکر کسی مسکین کو دے کر آؤ، پھر سب کھانا کھاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر وتایو سے رہا نہ گیا اور انہوں نے کھانسنا شروع کردیا۔ شکاریوں نے وتایو کو نیچے بلایا اور پوچھا کہ کیا بھوکے ہو؟ اس پر وتایو نے کہا کہ دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔ شکاریوں نے مسکین والی پلیٹ وتایو کو دی اور وتایو نے اپنا پیٹ بھرا۔ واپس اپنے گاؤں پہنچے تو ماں نے پوچھا تم کہاں غائب تھے؟ بولے، دیکھنے گیا تھا کہ مولوی صاحب سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ؟ ماں نے پوچھا پھر کیا دیکھا؟ وتایو فقیر بولے بول تو سچ رہا تھا لیکن کھانسنا پڑا۔ تب جاکر پیٹ کی آگ بجھی۔اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے لیے کچھ کرنا ضروری ہے.
ایک مرتبہ خربوزے بیچنے والا آواز لگاکر لوگوں کو متوجہ کررہا تھا۔ وتایو کا بھی دل خربوزہ کھانے کو چاہا۔ انہوں نے ﷲ کے نام پر خربوزہ مانگا تو بیچنے والے نے ایک چھوٹا سا خراب اور پُھسپھُسا خربوزہ دے دیا۔ وتایو نے پھر جیب سے ایک پیسے کا سکہ نکال کر دیا تو اس نے دوسرا اچھا سا بڑا اور میٹھا خربوزہ اٹھاکر دیا۔ وتایو نے دونوں دانے ہتھیلیوں پر رکھ کر ہاتھ اوپر اٹھائے اور آسمان کی طرف منہ کرکے بولے،’’اپنے نام پر ملا ہوا خربوزہ دیکھ اور ایک پیسے میں خریدا ہوا خربوزہ بھی دیکھ۔ ایک پیسے کی قدر دیکھ اور اپنے نام کی بھی قدر دیکھ۔‘‘بتا کون بڑا تو یا پیسہ..
گاؤں میں کسی کے گھر چوری ہوگئی، شور مچا تو لوگ لالٹین اور لاٹھیاں لے کر چور کو پکڑنے نکلے۔ ماں نے وتایو فقیر کو جگایا تو وتایو بھی گھر سے نکل پڑے۔ وہ چور کو تلاش کرنے کے بجائے قبرستان جا پہنچے اور بیٹھ کر چور کا انتظار کرنے لگے۔ چور کی تلاش میں جانے والے کچھ لوگوں کے پوچھنے پر کہ یہاں بیٹھے کیا کررہے ہو بولے،’’چور کا انتظار کررہا ہوں، کتنا بھاگے گا، وہ کہیں بھی جائے آخرکار آنا تو اسے یہیں پر ہے۔ اس لیے چور کو پکڑنے کے لیے یہاں بیٹھا ہوں۔‘انسان کا آخری ٹھکانہ مرنے کے بعد قبرستان ہی ہے..
وتایو فقیر ایک مقام سے گزر رہے تھے جہاں کسی دولت مند نے ضرورت مندوں کے لیے بڑے پیمانے پر طعام کا بندوبست کر رکھا تھا۔ میزبان نے فقیر کے فقر، درویشی کو دیکھ کر فیصلہ کیا کہ کھانے کی تقسیم اسی بزرگ کے ہاتھوں سے ہو۔ وتایو نے لوگوں سے پوچھا کہ کھانا خدا کے طریقے سے بانٹوں یا انسانوں کی طرح؟ لوگوں نے فوراً جواب دیا ’’خدا کے طریقے سے بانٹو۔‘‘ سیکڑوں لوگ مجمع میں کھانے کے منتظر تھے۔ وتایو نے کھانا بانٹنا شروع کیا۔ انہوں نے کھانے سے بھری ایک پلیٹ ایک شخص کو تھمائی، چند کو آدھی پلیٹ کھانا دیا، ایک کے حوالے باقی تمام دیگیں کردیں۔ کسی کو دھکے دیے تو کسی کو ڈانٹا بھی اور کسی کو تو کھانا دینے سے صاف انکار کردیا۔ جب کھانا ختم ہوگیا تو لوگوں نے ان سے شکایت کی کہ یہ کیا طریقہ ہے یہ کیسی تقسیم ہے لوگ بھوکے رہ گئے ہیں۔ وتایو مسکرائے اور بولے ’’میں نے پوچھا تو تھا تقسیم انسانی طریقے سے کروں یا خدا کے طریقے سے؟ میں نے وہی کیا جو آپ لوگوں نے کہا تھا۔ آپ لوگوں نے کہا تھا خدا کے طریقے سے۔ مجھے تو خدا کا یہی طریقہ نظر آتا ہے۔ یعنی خدا کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کسی کو دھکے ملتے ہیں تو کسی کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ اب مجھ سے کیسی شکایت۔‘‘ یہ کہا اور مسکراتے ہوئے اپنے راستے پر چل دیے۔
سردیوں کی ایک رات وتایو کی ماں نے کہا کہ کہیں سے آگ کا بندوبست کرو۔ ماں کی بات سن کر وہ پریشان ہوگئے کہ رات کے وقت آگ کا انتظام کیسے کروں۔ انہوں نے ماں سے کہا،’’اماں! رات کے وقت آگ لانا بہت مشکل ہے۔ اس وقت میں آگ کہاں سے لاؤں‘‘ مگر ماں نے ضد کرتے ہوئے کہا، ’’بیٹا! مجھے ہر حال میں آگ چاہیے۔ چاہے تم جہنم سے لاؤ۔‘‘ وتایو نے کہا،’’ماں! جہنم میں آگ نہیں ہوتی۔‘‘ ماں نے جواب دیا،’’مگر گناہ گار تو جہنم کی آگ میں جلیں گے۔‘‘ وتایو بولے،’’اماں! جہنم میں آگ نہیں ہے ہر کوئی اپنی آگ خود ساتھ لے کر جاتا ہے۔‘‘الله تعاليٰ کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ آگ جلائے اور پھر اس میں جلانے کے لیے گنہگاروں کا انتظار کرے کہ وہ کب آئیں گے اور وہ ان کو جلائے گا. حقیقت یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی جہنم اور اپنی جنت اس جہاں میں خود بناتا ہے. جو گنہگار ہے وہ یہاں سے ہی اپنی جلائی ہوئی آگ ساتھ لے کر جہنم میں جاتا ہے. بقول اقبال
عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی، جہنّم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نُوری ہے نہ ناری ہے…..
ایک مرتبہ گرمیوں میں دریائے سندھ میں بہت شدید سیلاب آیا. وتایو فقیر کا گاؤں بھی سیلاب سے متاثر ہوا. ڈوبنے سے بچنے کے لیے لوگ گاؤں چھوڑنے لگے. انہوں نے اپنے گھروں سے سامان نکالا اور بیل گاڑیوں، اونٹوں اور گھوڑوں وغیرہ پر لادنے لگے. وہ سب سیلاب کو کوسنے دیے جا رہے تھےاور سامان لادے جا رہے تھے. وتایو فقیر غریب آدمی تھا. اس کے پاس مختصر سا سامان تھا جو اس نے اپنی پوٹلی میں باندھ کر چھڑی کے سہارے کاندھے پہ لٹکا لیا اور لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا. ” کبھی کبھی غریبی بھی بہت کام آتی ہے” – – –
وتایو فقیر اللہ تعالی کے حضور دعا مانگنے کے لیے کھڑے ہوئے. وہ ہاتھ اٹھا کر خدا سے سلامتی اور رزق میں برکت کی دعا مانگ رہے تھے اور الٹے قدموں پیچھے کی طرف کھسکتے چلے جا رہے تھے. یوں پیچھے کی طرف دیکھے بنا چلتے ہوئے وہ اچانک ایک گڑھے میں جا گرے. کراہتے ہوئے انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگے
” میرے مالک دعا سنو نہ سنو پر دھکا تو مت دو”….
وتایو فقیر کو کسی دوسرے گاؤں میں جانا تھا لیکن اس کا گدھا اچانک بیمار ہو گیا. اس نے گاؤں کے ایک شخص سے گدھا مانگا اور اس پر سوار ہو کر روانہ ہو گیا. راستے میں گدھا رک گیا اور آگے جانے کے بجائے پیچھے کی طرف چلنے لگا. یہ صورتحال دیکھ کر وتایو فقیر نے اس پر ڈنڈے برسائے. مار پڑی تو گدھا بدک گیا، جس کی وجہ سے وتایو نیچے گر پڑے. وتایو زمین پر سے اٹھے، کپڑے جھاڑے اور گدھے کو غصے کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگے ” اب تمہیں کیا کہوں تمہیں جو کہوں گا وہ تو تم پہلے سے ہی ہو”
ہوا یوں کہ وتایو اپنی گائے کے لیے جو چارہ اکٹھا کرتا اسے ہمسائے کا گدھا کھا جاتا۔ ایک دن وتایو نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر گدھے کے مرنے کی دعا مانگی۔ اگلی صبح وتایو نے دیکھا کہ اس کی گائے مری پڑی ہے اور ہمسائے کا گدھا آس پاس ٹہل رہا ہے۔
وتایو ایک نابینا کو پکڑ لایا اور اس کا ہاتھ گائے کی لاش پر رکھ کے پوچھا بتا یہ گدھا ہے کہ گائے۔ نابینا نے لاش کو تفصیل سے ٹٹول کر کہا سائیں یہ تو گائے ہے۔ وتایو نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا میں نے گدھے کے مرنے کی دعا مانگی تو نے میری گائے مار دی۔ اندھے کو بھی گائے اور گدھے کا فرق پتا ہے۔
وتایوفقیر کے واقعات بے شمار ہیں تمام واقعات کو قلم بند کرنا مشکل ہے۔
وتایو فقیر سندھ کے لوک مزاحیہ ادب کا زندہ عہد ہے. بارہویں صدی ہجری والا وتایو فقیر بعد کی ہر صدی اور ہر دور میں ملتا ہے. وہ عمرکوٹ میں ہے تو نصرپور میں بھی… اس کا تذکرہ حیدرآباد کے گاؤں تاج پور میں ہوتا ہے تو ٹنڈوالہیار کی محفلوں میں بھی اس کی حکایتیں کہی جاتی ہیں. غرضیکہ سندھ کا کوئی گوٹھ گاؤں، قصبہ اور شہر ہو، وتایو ہر جگہ موجود ہے. وتایو فقیر صدیوں پہلے تھا، صدیوں بعد بھی ہے اور آنے والی صدیوں میں بھی موجود رہے گا.ہمیں وتایو فقیر کے واقعات سے سبق حاصل کرنا چاہیے، خاص طور پر وتایو فقیر کی نفس سے لڑائی، ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔وتایو فقیر پر زیادہ تحقیقی کام نہیں ہوا. وتایو فقیر پر اگر صحیح طرح تحقیق کی جائے تو بہت سارے حقائق منظر عام پر آئیں گے. ایسی شخصیت کو تاریخ میں زندہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے. نوجوانوں کو وتایو فقیر کے افکار اور کردار سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ عملی زندگی میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکیں اور صراط مستقیم پر چلنے پر عمل پیرا ہوں……
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پروفیسر شاداب احمد صدیقی حیدرآباد سندھ پاکستان
*****************************
*انسانی اسمگلرز موت کے سودا گر ہیں*.
****************************
ََانسانی اسمگلنگ سنگین جرم ہے
****************************
انسانی اسمگلنگ جدید غلامی کی ایک بدنما شکل ہے. یہ وہ جرم ہے جس میں ایک شخص اپنے مفاد کے لیے پیسے حاصل کر کے دوسرے شخص کا استحصال کرتا ہے. انسانی اسمگلنگ انسانیت کا قتل اور ایک گھناؤنا عمل ہے. انسانی اسمگلرز متاثرین پر قابو پانے کے لیے ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں. انسانی اسمگلنگ ایک جرم ہے، جس میں لوگوں کو غیر قانونی طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچایا جاتا ہے. یہ جرم نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے. انسانی اسمگلرز اپنے شکار اور معصوم گمراہ شہریوں کو یورپ لے جانے کے سنہری خواب دکھا کر موت کی آغوش میں سلا دیتے ہیں. انسانی اسمگلنگ کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں جس میں جنسی استحصال، مزدوری کا استحصال، جبری جرم، بھیک مانگنے کا استحصال اور اعضا کا غیر قانونی نکالنا شامل ہیں، لیکن سب میں نمایاں صورت دولت کے لالچ میں ملک کو چھوڑ کر جانے والوں کی ہے. یہ افراد اپنی مرضی سے غیر قانونی طریقوں سے یورپ اور بیرون ملک بھاری رقم کی ادائی کر کے جاتے ہیں لیکن ان کی بڑی تعداد موت کی وادیوں میں کھو جاتی ہے. ہمارے یہاں رواج بن چکا ہے کہ ہم اپنے ملک میں محنت سے جی چراتے ہیں ہر کوئی بہت جلد بڑا آدمی بننا چاہتا ہے ہر کسی کی خواہش کوٹھی کار سے آگے کی ہو چکی ہے قناعت کے لفظ سے اب کوئی سروکار نہیں

ہماری نوجوان نسل دولت کے پیچھے بھاگ رہی ہے اور وہ شارٹ کٹ کے چکر میں انسانی اسمگلروں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں. انسانی اسمگلنگ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں کئی عوامل کا عمل دخل ہے اور پاکستان میں اس کی بنیادی وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، معاشی سست روی اور غیر محفوظ سرحد ہے جس سے انسانی اسمگلر کا کام کافی آسان ہو جاتا ہے. پاکستان کئی دہائیوں سے معاشی عدم استحکام کا شکار ہے جبکہ غربت کی شرح زیادہ اور انسانی معیار زندگی کے لحاظ سے بھی اس کا شمار دنیا کے پست ممالک میں ہوتا ہے. غربت زدہ علاقوں سے نوجوانوں کو بہتر مستقبل کا لالچ دے کر ملک سے باہر بھیجا جاتا ہے اور یہیں سے اس مکروہ کاروبار کا آغاز ہوتا ہے. منظم گروہ لوگوں سے ان کی جمع پونجی حاصل کر کے غیر قانونی راستوں کے ذریعے پاکستان سے ایران اور پھر وہاں سے ترکی کے راستے یورپ میں داخل کراتے ہیں اگر کوئی قسمت سے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچ بھی جائے تو وہاں قانون کے ہتھے چڑھ جاتا ہے. انسانی اسمگلرز کے گروہ اتنے منظم طریقے سے کام کرتے ہیں کہ وہ پاکستان سے یورپ تک زمینی راستے کے سفر میں آنے والے ممالک میں قانون نافذ کرنے والے اکثر اداروں کے اہلکاروں سے ساز باز کر کے انہیں یورپ تک بھیجنے میں بآسانی کامیاب ہو جاتے ہیں. غیر قانونی طور پر ممالک کی سرحدیں عبور کرنے کے دوران راستے میں ویران اور پہاڑی راستوں پر بھوک پیاس چوٹ لگنے اور کشتیاں الٹنے سے اموات ہونا معمول ہے. کئی افراد تو سرحد عبور کرتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بن جاتے ہیں. کسی مرحلے پر بھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں. بڑھتی ہوئی انسانی اسمگلنگ کی بنیادی وجوہات میں بے روزگاری، روزگار کے ذرائع کی شدید کمی، مہنگائی نے نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر یورپی ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے. ایجنٹ انہیں کنٹینرز میں بند کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا دم گھٹ جاتا ہے یا گنجائش سے زیادہ افراد کشتیوں میں سوار کر دیتے ہیں. ایف ائی اے کے اعداد و شمار کے مطابق مرد، خواتین، بچے اور خواجہ سرا بھی انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوئے ہیں. ایف ائی اے کے مطابق بیشتر انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز گجرات، گجرانوالہ، سیالکوٹ، راولپنڈی، منڈی بہاؤدین اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں. یہ ایجنٹ لوگوں کو تھوڑی رقم میں دوسرے ممالک بھیجنے کا جھانسہ دیتے ہیں اور ان سے پیسے لے کر انہیں کسی دوسرے ایجنٹوں کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں. محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان میں سرگرم عمل انسانی اسمگلرز اس غیر قانونی کاروبار سے تقریبا 15 کروڑ ڈالرز تک سالانہ کماتے ہیں. پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان انسانی اسمگلنگ کے لیے ایک ذریعہ راہداری اور منزل کے طور پر استعمال ہو رہا ہے. پاکستان میں 2023 تک چار برسوں میں ملک بھر سے انسانی اسمگلنگ کے 80 ہزار سے زائد واقعات سامنے آئے ہیں. یہاں سے انسانی اسمگلنگ میں اضافے کی ایک وجہ پاکستان کا جغرافیہ اور کئی ممالک سے منسلک اس کی طویل سرحدیں بھی ہیں. ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد نو سو کلومیٹر طویل ہے جہاں سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ صرف تافتان بلوچستان کے مقام پر دونوں ملکوں کے درمیان ایمیگریشن کا مرکز ہے اور وہاں بھی سہولیات کا فقدان ہے. پاکستان میں بلوچستان سے ایران پھر ترکی اور وہاں سے یونان یہ ایک روایتی راستہ رہا ہے. ایران سے سالانہ تقریبا 15 ہزار اور عمان سے لگ بھگ 8 ہزار پاکستانیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ملک بدر کر کے پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا ہے. پاکستان سے خواتین، بچوں اور مردوں کو غیر قانونی طور پر خلیجی ممالک ترکی، ایران اور یورپ میں اونٹوں کی دوڑ، جسم فروشی اور جبری مشقت کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے. پاکستان نے مسئلے کی سنگینی کے پیش نظر 2018 میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے دو نئے قوانین متعارف کرائے تھے جن میں سے ایک انسداد مہاجرین ایکٹ 2018 جبکہ دوسرا انسداد انسانی اسمگلنگ ایکٹ 2018 ہے ان دو قوانین کے علاوہ پاسپورٹ ایکٹ 1974، ایمیگریشن آرڈیننس 1979، فارنرز ایکٹ 1946، انسداد انسانی اسمگلنگ ایکٹ 2002 اور دیگر متعلقہ قوانین بھی اس ضمن میں موجود ہیں. ان قوانین کی روشنی میں ملک سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید تک کی سزائیں رکھی گئی ہیں، جبکہ انسانی اسمگلنگ پر نظر رکھنے اور اس جرم کی سرکوبی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے.
گزشتہ دنوں ایک اور المناک دلخراش واقع رونما ہوا. ہمیشہ کی طرح مغربی افریقہ کے راستے غیر قانونی طور پر اسپین جانے والے تارکین وطن کی کشتی مراکش میں حادثے کا شکار ہو گئی جس کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے جن میں 44 پاکستانی بھی شامل تھے. مراکشی حکام کے مطابق کشتی سے 36 افراد کو بچایا گیا ہے جو دو جنوری کو افریقی ملک موریطانیہ سے روانہ ہوئی تھی اور اس میں 86 تارکین وطن سوار تھے جن میں 66 پاکستانی بھی شامل تھے. وزیراعظم شہباز شریف نے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی. وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متاثرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی. وزارت خارجہ میں کرائس مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا گیا ہے اور سفارت خانے کی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے. ورثا نے انسانی اسمگلرز پر قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ مرنے والے 12 نوجوان گجرات کے رہائشی تھے. چار ماہ قبل یورپ کے لیے روانہ ہوئے، کشتی دو جنوری کو روانہ ہوئی، پیسے نہ ملنے پر کشتی کو سمندر میں کھڑا کر دیا گیا اور انسانی اسمگلروں نے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا. 2024 کے دوران اسپین پہنچنے کی کوشش میں 10 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں. مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم ہسپانوی گروپ کے مطابق رواں برس سمندری راستے سے اسپین پہنچنے کی کوشش میں 10 ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک ہوئے.
2023 کے مقابلے میں 2024 میں مجموعی طور پر اموات میں 58 فیصد اضافہ ہوا ہے. 2024 میں مغربی افریقہ سے ہزاروں تارکین وطن افریقی ساحل کے قریب واقع ہسپانوی جزائر کناری پہنچے ان جزائر کو یورپ کی مرکزی سرزمین تک پہنچنے کے لیے پہلا پڑاؤ سمجھا جاتا ہے. حکومت پاکستان کی جانب سے انسانی اسمگلروں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور کئی اسمگلروں کو گرفتار کر کے سزائیں دی گئی ہیں. دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان طبقہ جان بوجھ کر اپنی زندگی کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں. اس سفر میں ناکامی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے. جان اور پیسے دونوں ہی انسانی اسمگلروں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں. شرعی طور پر بھی یہ کام غلط اور حرام ہے کیونکہ یہ خود کشی کے مترادف ہے. والدین بھی اس کام میں ملوث ہیں. والدین کو ہر حال میں اپنی اولاد کو روکنا چاہیے.
انسانی اسمگلنگ جسے عام زبان میں ڈنکی کہا جاتا ہے. وفاقی حکومت انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہی ہے. قومی اسمبلی کے اجلاس میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف مناسب اقدامات نہ ہونے پر توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش کیا گیا، جس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگی بنیادوں پہ اقدامات کر رہے ہیں 2024 میں انسانی اسمگلنگ کے 3456 مقدمات رجسٹرڈ اور 1638 انسانی اسمگلرز گرفتار کیے گئے. اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ 2024 میں ریڈ بک میں شامل 38 انسانی اسمگلرز گرفتار ہوئے جبکہ انسانی اسمگلنگ کے 15 ماسٹر مائنڈ حراست میں لیے گئے. 68 اعشاریہ 81 ملین مالیت کے اثاثے بھی منجمد کیے گئے. وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا ہے کہ دسمبر 2024 میں 42 واقعات ہوئے. یونان کشتی حادثے پر 38 افسران کو نوکریوں سے برخاست کیا گیا. اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف انسانی اسمگلنگ کے معاملے پر ہفتہ وار بریفنگ لے رہے ہیں اس حوالے سے ایک بل بھی لا رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطی کے لیے فوری قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے. یونان اور لیبیا میں کشتی حادثوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے متعدد پاکستانی جاں بحق ہو گئے تھے. وزیراعظم نے کہا ہے کہ دفتر خارجہ بیرون ملک سے انسانی اسمگلنگ کا مکروہ دہندہ چلانے والے پاکستانیوں کے لیے متعلقہ ممالک سے رابطہ کرے اور ان کی پاکستان حوالگی کے حوالے سے جلد از جلد اقدامات اٹھائے جائیں. غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کے اہل خانہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی غیر قانونی غیر طریقے سے بیرون ملک جانے کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ وہ ان کی موت کا ذمہ دار خود کو نہ ٹھہرا سکیں. بیرون ممالک جانے کا سوچنے والے نوجوانوں کو کئی نقصانات ہو سکتے ہیں جیسے گھر والوں سے دوری، ثقافتی چیلنجز اور ناکامی کے خطرات ان نوجوانوں کی زندگی متاثر کر سکتے ہیں. بیرون ملک جا کر بھی کم تنخواہوں پہ کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جس سے ان کی مالی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے. ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے یہ نوجوان مختلف قسم کے ذہنی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں. حکومت باصلاحیت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے، یوتھ منسٹری کو فعال بنائے اور طویل المعیاد معاشی پالیسیوں پر سنجیدگی سے غور و فکر کرے، نئی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جائے.
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
*تعلیم کا عالمی دن 2025 مصنوعی ذہانت کا سال ہے*
****************************
تین دسمبر 2018 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی جس میں 24 جنوری کو تعلیم کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا. تعلیم کا عالمی دن کی منظوری نائجیریا اور 58 دیگر رکن ممالک کے تعاون سے سب کے لیے جامع، مساوی اور معیاری تعلیم کے لیے تبدیلی کے اقدامات کی حمایت کرنے کے لیے غیر متزلزل سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتی ہے. ایسا کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تعلیم مستحکم معاشروں کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور دیگر تمام ترقی کے اہداف کے حصول میں اپنا حصہ ڈالتی ہے. ترقی کے اہداف کے حصول کی کوششوں کی حمایت میں بین الاقوامی تعاون کو بڑھانے کے مقصد سے قرارداد میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول رکن ممالک اقوام متحدہ کے نظام کی تنظیموں اور سول سوسائٹی، غیر سرکاری تنظیموں، تعلیمی اداروں، نجی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ تعلیم کا عالمی دن منائیں. یونیسکو تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے طور پر شعبہ تعلیم کے اہم افراد کے ساتھ مل کر اس دن کو سالانہ منانے کی سہولت فراہم کرتا ہے. 24 جنوری 2019 کو تعلیم کا پہلا عالمی دن منایا گیا. اقوام متحدہ کا پیغام پوری دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کی مخلصانہ کوششوں نے ایک ایسے تعلیم یافتہ فرد کی بہتری کے لیے امید افزا نتائج ظاہر کیے ہیں جو ایک مہذب معاشرے کی تشکیل کرتا ہے. تعلیم ایک انسانی حق، عوامی بھلائی اور اجتماعی ذمہ داری ہے. تعلیم کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کا سائنسی ثقافتی اور تعلیمی ادارہ یونسکو دنیا بھر میں نفرت پر مبنی اظہار کے پھیلاؤ کو روکنے میں اساتذہ کے بنیادی کردار کو اجاگر کر رہا ہے. اس دن پر یونیسکو نے کہا ہے کہ تعصب تفریق اور تشدد کو ہوا دینے والے بیانیوں کا مقابلہ کرنے میں تعلیم کی خاص اہمیت ہے. تعلیم کے عالمی دن پر یونسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈرے آزولے Audrey Azoulay نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ تعلیم کو انسانی وقار اور امن کی اقدار کے فروغ کا ترجیح ذریعہ بنانے کی اشد ضرورت ہے. اگر نفرت الفاظ سے شروع ہوتی ہے تو امن کا آغاز تعلیم سے ہوتا ہے. انسان جو کچھ سیکھتا ہے اس سے دنیا کے بارے میں اس کا نقطہ نظر تبدیل ہو جاتا ہے اور تعلیم سے ہی یہ تعین ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ کیسا طرز عمل روا رکھتے ہیں.

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے یونسکو کے مطابق تعلیم کے میدان میں کئی دہائیوں سے ہونے والی ترقی کے باوجود 25 کروڑ سے زیادہ بچے اور نو عمر افراد اسکول کی تعلیم سے محروم ہیں. بین الاقوامی یوم تعلیم 2025 کا تھیم ہے AI اور تعلیم: آٹومیشن کی دنیا میں انسانی ایجنسی کا تحفظ
“A I and Education :
Preserving Human Agency in a world of automation”
مصنوعی ذہانت اور تعلیم چیلنجز اور مواقع یہ تھیم تعلیم کی اہمیت پر توجہ مرکوز کرتی ہے تاکہ لوگوں کو مہارتوں اور علم سے آراستہ کیا جا سکے شعبہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت وہ موضوع ہے جو اس وقت پوری دنیا میں زیر بحث ہے. مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ایسے ڈیجیٹل پروگرام مرتب کیے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے طالب علم کی تعلیمی استطاعت مہارت حصول علم کی رفتار اہداف تک رسائی وغیرہ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے. مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم استاد کے بغیر بھی طلبہ کی مشکلات کو دور کر سکتا ہے. اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ فوری طور پر جواب دے سکتا ہے. تعلیمی ادارے مواد کی ترقی، نصاب کی ڈیزائننگ آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اور انتظامی کاموں کے لیے اے ائی کی مہارتوں کو استعمال کر رہے ہیں. اے ائی تحقیقی مقالے ترتیب دینے میں پریزنٹیشن اور نوٹس بنانے اور دیگر انتظامی کاموں کے لیے کار آمد ہے. اے ائی ایک
کثیر الضابطہ فیلڈ ہے جو کمپیوٹر سائنس، ریاضی، انجینیئرنگ اور علمی سائنس کو یکجا کر کے ایسی ذہین مشین بناتی ہے جو انسانوں اور ماحول کے ساتھ تعامل کر سکیں. یونیسکو کا قیام 16 نومبر 1945 کو عمل میں آیا. اس کا صدر دفتر پیرس فرانس میں ہے یونیسکو کا بنیادی مقصد تعلیم، سائنس اور ثقافت میں بین الاقوامی تعاون کے ذریعے دنیا میں امن و سلامتی کو فروغ دینا ہے. مصنوعی ذہانت نے دنیا بھر میں ہر شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے. خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے. AI کی وجہ سے دنیا بھر میں ترقی کے نئے دروازے کھلے ہیں. کوئی ملک سائنسی اور فنی علوم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا. اے آئی کے فائدے اور نقصانات دونوں ہیں یہ استعمال کرنے والے پر مبنی ہے کہ وہ اس کا مثبت یا منفی استعمال کرتا ہے. AI کی مدد سے ہر طالب علم اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق تعلیمی مواد تیار کر سکتا ہے. طلبہ کسی بھی کانسپٹ کو سمجھ کر نمایاں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اے آئی کی مدد سے وقت کی بچت کرنا ممکن ہو گیا ہے. طلبہ کو اپنی کارکردگی کے لیے فوری رائے میسر آ جاتی ہے. اس طرح طلبہ کو اپنی غلطیاں سمجھنے اور انہیں سدھارنے کا موقع ملتا ہے اور ان کے سیکھنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے. انہیں نتائج کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑتا. اگر کسی طالب علم کو ہوم ورک کرتے وقت کوئی کانسپٹ سمجھ میں نہیں آئے اور استاد موجود نہ ہو تو اے آئی کی مدد لے سکتا ہے. اے آئی ٹولز فوری مدد فراہم کرتے ہیں مثال کے طور پر طالب علم اے آئی ٹول سے پوچھ سکتا ہے کہ یہ مساوت کیسے حل کی جائے؟ اپنی مضمون نگاری کو بہتر بنانے کے لیے مدد لے سکتے ہیں. کوئی ترجمہ کرنے کے لیے اے آئی فوری طور پر آپ کی مدد کرتا ہے. اس کی مدد سے طلبہ مختلف زبانوں میں مواد تیار کر کے اسے پوری دنیا کے طلبہ تک پہنچا سکتے ہیں اور غیر ملکی زبانوں کے مواد سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں. تعلیمی نصاب کو اپڈیٹ اور بہتر بنایا جا سکتا ہے. جس سے تعلیمی معیار میں اضافہ ہوتا ہے یہ اے ائی نظام معذور طلبہ کے لیے بھی بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں. مثلا نابینا طلبہ کے لیے اے ائی پر مبنی ٹیکسٹ ٹو اسپیک ٹولز اور بہرے طلبہ کے لیے اے آئی پر مبنی سائن لینگویج ٹرانسلیشن ٹولز مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوئی بھی زبان سیکھنا ماضی کے مقابلے میں زیادہ آسان ہو گیا ہے. طلبہ کے ساتھ اساتذہ بھی مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں. ایک کامیاب معلم بننے کے لیے جدید رجحانات تکنیکوں اور ذرائع کا علم ہونا ضروری ہے جنہیں استعمال کر کے وہ طلبہ کو بہترین انداز میں پڑھا سکتے ہیں اور انہیں مستقبل میں کامیاب بنا سکتے ہیں. اساتذہ کو مصنوعی ذہانت اور اس کے استعمال کی مہارتوں سے آراستہ کرنا انتہائی ضروری ہے. تعلیمی روبوٹ کی ایجاد نے سب کو حیران کر دیا ہے یہ روبوٹ کسی بھی سوال کا جواب فوری طور پر دیتے ہیں. پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پہلی اے آئی ٹیچر جو تمام مضامین پر مہارت رکھتی ہے. ایک نجی تعلیمی ادارے میں متعارف کرا دیا گیا ہے اس کو مس عینی کے نام سے پکارا جاتا ہے. مس عینی مصنوعی ذہانت کی مدد سے تخلیق کردہ ایک روبوٹک ٹیچر ہے، وہ طلبہ کے سوالات کا بروقت جواب دیتی ہے وہ تقریباً تمام مضامین بڑی مہارت سے پڑھاتی ہے. مس عینی پاکستان کی پہلی اے آئی ٹیچر ہے جو کراچی کے علاقے ابو الحسن اصفانی میں واقع نجی اسکول میں مونٹیسوری سے لے کر میٹرک تک کے طلبہ کو پڑھاتی ہے. بچے بھی مس عینی سے بہت متاثر ہیں اور پڑھائی میں ان کی دلچسپی مزید بڑھ گئی ہے. اس طرح کے اے آئی ٹیچرز سرکاری اسکولوں میں بھی متعارف کرائیں تو تعلیمی معیار کو بہتر کرنے اور دیگر درپیش مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے. طلبہ کے مطابق روبوٹک کلاسز میں پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہے پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں روایتی ناقص طریقہ تعلیم نافذ ہے. پاکستان کے تعلیمی نظام کو محدود وسائل عدم مساوات اور
رجحانات تکنیکوں اور ذرائع کا علم ہونا ضروری ہے جنہیں استعمال کر کے وہ طلبہ کو بہترین انداز میں پڑھا سکتے ہیں اور انہیں مستقبل میں کامیاب بنا سکتے ہیں.
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،پاکستان کو تعلیمی بحران کا سامنا ہے،2کروڑ 60لاکھ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں، جن کی اکثریت دیہی علاقوں میں ہے،جو دنیا میں سب سے زیادہ شرحوں میں سے ایک ہے۔
مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق، اگرچہ پانچ سے 16 سال کی عمر کے اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح 2016 میں 44 فیصد سے کم ہو کر 2023 میں 36 فیصد رہ گئی،آبادی کے بڑھنے کے تناسب سے اس تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے پاک الائنس فار میتھس اینڈ سائنس کے مطابق، ملک بھرمیں لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کا رجحان کم ہے، جبکہ غریب ترین صوبے بلوچستان میں نصف لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔مالی تنگی کے شکار ملک پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا، اور کہا تھا کہ وہ آئندہ پانچ سال میں تعلیمی بجٹ کو جی ڈی پی کے 1.7 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دیں گے۔رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان نے مسلم ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم کی وکالت کے لیے دو روزہ بین الاقوامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کی، جس میں امن کی نوبل انعام یافتہ اور تعلیمی کارکن ملالہ یوسفزئی بھی شریک ہوئیں۔پاکستان میں غربت بچوں کو اسکول سے دور رکھنے میں سب سے بڑا عنصر ہے، لیکن یہ مسئلہ ناکافی انفراسٹرکچر اور نا اہل اساتذہ، ثقافتی رکاوٹوں کی وجہ سے اور بھی بڑھ گیا ہے.
اساتذہ کو مصنوعی ذہانت اور اس کے استعمال کی مہارتوں سے آراستہ کرنا انتہائی ضروری ہے. تعلیمی روبوٹ کی ایجاد نے سب کو حیران کر دیا ہے یہ روبوٹ کسی بھی سوال کا جواب فوری طور پر دیتے ہیں. مستقبل قریب میں پورا عالمی ڈھانچہ اے آئی پر منتقل ہو جائے گا تعلیمی میدان میں مصنوعی ذہانت کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل اور
انفراسٹرکچر کی ضرورت نہیں صرف ایک موبائل یا لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے گھر بیٹھے آپ دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں اور ماہرین سے کسی بھی مضمون کو سیکھ سکتے ہیں. تعلیم کی ترقی میں رکاوٹ کی ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ کی سست رفتار بھی ہے. سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے اے آئی کا استعمال بھی متاثر ہو رہا ہے. طلبہ بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے پہلے ہی بدحال ہیں جبکہ دوسری جانب انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے باعث طلبہ امتحانات کی تیاری میں پریشان نظر آتے ہیں. تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر حکومت انٹرنیٹ تک معیاری اور سستی رسائی کو یقینی بنائے.
بلا شبہ 2025 مصنوعی ذہانت میں زیادہ سرمایہ کاری اور تعلیمی ترجیحات کا سال ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں جہاں طالب علم کو عملی تعلیم و تحقیق پر زور دیا جائے تعلیمی بجٹ کو دگنا کیا جائے. ٹیوشن کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے تو بہتر نتائج حاصل ہوں گے. یکساں جدید نصاب تعلیم رائج کیا جائے اب وقت آگیا ہے کہ یہ سسٹم تبدیل کیا جائے ترقی یافتہ معاشرے کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*حیدرآباد کی مشہور سوغات شیریں منفرد کیکس*
*دی بمبئی بیکری اپنی مثال آپ ہے*
*The Bombay Bakery*
********************************************************

وادی سندھ کے مختلف شہروں کی اپنی خاص روایات ہیں۔ یہاں کی تہذیب و ثقافت اور سوغاتیں بھی ملک و بیرون ملک میں بڑی شہرت کی حامل ہیں ۔ خوشگوار اور دلفریب شاموں سے معروف شہر حیدر آباد اپنی منفرد سوغاتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ پاکستان کے مختلف شہر متعدد اقسام کے تحفوں کی پیشکش کرتے ہیں اور ان تحفوں کو اردو زبان میں سوغات کہا جاتا ہے ۔ ہر شہر اپنی ایک مخصوص سوغات کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور یہی تحفے کے طور پر دی جاتی ہے۔ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کی خصوصیات میں یہاں کی چوڑیاں ، ربڑی تو ہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہاں کی بمبئی بیکری کا کیک بھی ہے جو پاکستان کے علاوہ بیرون ملک بہت پسند کیا جاتا ہے ۔’’بمبئی بیکری‘‘ کے بارے میں قارئین کی آگاہی کے لیے میں نے تحقیقی دورہ کیا ۔
*محل وقوع*
********************************************************
’’بمبئی بیکری‘‘جیم خانہ حیدر آباد سے چند قدموں کے فاصلے پر گل سینٹر کے عقب حیدر آباد کے قلب کنٹونمنٹ بورڈ صدر میں واقع ہے جبکہ اس کی دیوار سے ملحقہ پی اے ایف (PAF) سلیکشن اینڈ انفارمیشن سینٹر واقع ہے۔
*’’عمارت کے خدوخال ‘‘*
********************************************************
’’بمبئی بیکری‘‘ کی عمارت سرخ اینٹوں کی چنائی سے تعمیر کی گئی ہے ۔ اس عمارت میں تقسیم سے پہلے کے دنوں کی ایک پر سکون جھلک نظر آتی ہے۔ جس میں حیدر آباد کی ثقافت واضح طور پر ہر اینٹ میں سرایت کرتی ہے ۔ پہلے اس کی چار دیواری چھوٹی تھی جس کو 1980 کی دہائی میں حیدر آباد دمیں ہونے والے لسانی ہنگامہ آرائی کے بعد اونچا کیا گیا۔
اس بیکری کی سب سے پہلے شروعات صدر کے علاقے میں ہوئی تاہم کنٹونمنٹ بورڈ حیدرآباد کے اصرار پر بیکری موجودہ جگہ پر قائم ہو گئی.مین دروازہ سے اندر داخل ہونے کے بعد بیکری کا داخلی دروازہ ہے.
اب دو کھڑکیوں کو بھی دروازوں کی شکل دی گئی ہے۔ عمارت میں کیکس سجانے کے لیے موجود شیشے کے شوکیس ساگوان کی لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور قدیم دروازے ہیں۔ بیکری کے اندر کا فرنیچر اور کاؤنٹر ساگوان کی لکڑی سے بنے ہوئے ہیں۔کیک شوکیس میں بہت نفاست سے سجے ہوئے رکھے ہوتے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے۔ اس عمارت کی اپنی ہی منفرد خوشبو ہے۔ لمبی قطار بیکری کے اندر کاؤنٹر سے شروع ہوتی ہے اورحیدر آباد کنٹونمنٹ بورڈ کے سامنے مرکزی سڑک پر باہر کہیں ختم ہوتی ہے۔ یہاں خواتین کسٹمرز کوترجیح دی جاتی ہے۔ بیکری سے رہائش گاہ تک صحن ایک ہی ہے۔ سوا ایکڑ رقبے میں ایک بڑا لان اور رہائشی کمروں کے ساتھ ایک چھوٹا باغیچہ ہے ۔ اس عمارت کی چھت گاڈرز اور ٹیئرز پر پکی اینٹ کے چوکے لگا کر بنائی گئی ہے۔
کاونٹر پر رقم دی جاتی ہے اور دوسری طرف ٹوکن دے کر کیک خریدے جا رہے ہوتے ہیں ۔ لمبی قطاروں میں لگے کیک کے شوقین افراد اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور واپسی میں ایک یا دو ڈبے کیک اٹھائے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ باہر نکلتے ہیں ۔ کیک حاصل کرنے کے لیے صبر اور برداشت کی ضرورت ہے ۔ یہ عمارت برٹش دور کی یاد دلاتی ہے جو قدیم آثار کی شناخت ہے۔ حکومت سندھ نے ’’بمبئی بیکری‘‘ کی تاریخ اور روایت کے پیش نظر اس کو قومی ورثہ قرار دیا ہے ۔
*’’بمبئی بیکری‘‘ کا تاریخی پس منظر*
********************************************************
ہر معاشرہ اپنی مخصوص روایات، تہذیب و تمدن اور ثقافت رکھتا ہے اور کسی بھی معاشرے، خطے، قوم یا ملک کی تہذیب و ثقافت نہ صرف اس کی تاریخ کی ترجمان ہوتی ہے بلکہ یہ اس کے تاریخی طرز تعمیر اور معاشرے کی بود و باش کی بھی عکاس ہوتی ہے۔ یقیناً کوئی بھی معاشرہ اپنی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے بغیر اپنی تاریخ سے منسلک نہیں رہ سکتا زندہ قومیں اپنا تاریخی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے برقرار رکھتی ہیں ۔’’بمبئی بیکری‘‘ کی تاریخ بھی تقریبا سوا صدی پر محیط ہے۔ اس عمارت پر’’بمبئی بیکری‘‘ لکھا ہے اور ساتھ میں قیام کا سال 1911 بھی تحریر ہے۔بنگلے میں قائم’’بمبئی بیکری‘‘ پہلاج رائے گنگا رام تھدانیThadani نے1911 میں حیدر آباد میں قائم کی ۔ تقریباً 113 برس سے اپنی اسی اصلی آب و تاب سے قائم ہے۔ پہلاج رائے اپنے تینوں بیٹوں شیام داس ، کشن چند ، اور گوپی چند کے ہمراہ یہاں رہتے تھے ۔ بمبئی بیکری کے پانی پہلاج رائے نے ایک سوئس خاتون سے شادی کی تھی جو اپنے گھر میں بیکری مصنوعات بناتی تھیں۔ ان کی مقبولیت کے بعد انہوں نے بیکری کا کاروبار شروع کیا۔ جب کلہوڑا حکمرانوں نے حیدر آباد کو اپنا تخت گاہ بنایا تو تھدانی خاندان بھی دادو سے نقل مکانی کر کے یہاں آباد ہوئے ۔ حیدر آباد کے گدو مل سے بھی ان کا خاندانی تعلق تھا ۔ جن کے نام سے گدو بندر موجود ہے۔پہلاج رائے گنگا رام کے خاندان کا تعلق تو سندھ کے شہر دادو سے تھا لیکن وہ بمبئی سے بہت زیادہ متاثر تھے ۔بمبئی سے محبت ان کی اس تعمیر میں بھی نظر آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس کا نام بھی دی بمبئی بیکری رکھا ۔ حیدر آباد میں تقسیم سے پہلے زیادہ تر ہندو کمیونٹی کاروبار سے منسلک تھی لیکن تقسیم کے بعد بمبئی بیکری وہ واحد بزنس ہے جو آج تک جاری ہے۔ اس کے بانی پہلاج رائے بھی قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں چل بسے ۔ ان کے بعد ان کے بیٹے کشن چند نے اس کاروبار کو جاری رکھا اور مزید کیک اور بسکٹ کے ذائقے میں اضافہ کیا جو آج بھی اسی انداز میں انہیں خالص اجزا سے تیار کیے جا رہے ہیں ۔ شری کشن چند بھی 1960 میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔کشن چند کے بعد ان کے بھائی گوپی چند اور ان کے بھتیجے کرش چند کے بیٹے کمہار تھدانی نے بیکری سنبھالی بلکہ انتھک محنت اور نئے ارادوں سے اس کو آگے بڑھایا ۔ پہلاج رائے کے پوتے اور بمبئی بیکری کے مالک کمار تھدانی نے ریڈیو حیدر آباد پر ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں نقل مکانی کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کیونکہ تقسیم کے وقت جب سندھ میں خونی فسادات ہوئے اس وقت حیدر آباد میں فسادات کم رہے ۔ انہوں نے حیدر آباد کے اس علاقے میں ایک لاش بھی گرتے نہیں دیکھی تھی اس لیے انہوں نے اپنی دھرتی نہیں چھوڑی ۔ کمار تھدانی ہندو مذہبی کتابوں ، گروگرنتھ کے ساتھ ساتھ قرآن کا بھی مطالعہ کرتے تھے ۔ وہ خود کو گرو نانک اور سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کا چیلا قرار دیتے تھے۔ بمبئی بیکری کے مالکان کی درویشی اور سخاوت بھی مشہور ہے۔ کمار تھدانی کی زندگی میں ایک خریدنے والوں کے علاوہ مستحقین کی بھی قطار لگی ہوئی ہوتی تھی، وہ نہ صرف لوگوں کی انفرادی طور پر مدد کرتے بلکہ شمشان گھاٹ سے لے کر دل کے ہسپتال، ریڈیو پاکستان حیدر آباد میں میوزک کو محفوظ کرنے تک کے لیے عطیات دیتے تھے ۔کمار تھدانی گوشہ نشین شخصیت تھے اور انہوں نے زندگی میں صرف ایک بار ہی ریڈیو پاکستان حیدر آباد کو انٹر ویو دیا تھا۔ کمار تھدانی کی2010 میں وفات کے بعد ان کے لے پالک بیٹے سونو نے سنبھالا جن کو کمار تھدانی نے گود لیا اور بعد میں وہ مسلمان ہوئے ۔ یہ بیکری آج بھی اس خاندان کے کنٹرول میں ہے۔ کمار تھدانی زندگی بھر غیر شادی شدہ رہے ۔
*کیک کی ترکیب صیغۂ راز*
**************************** ****************************
گزشتہ سوا صدی سے بمبئی بیکری کا کیک قدیم طریقے سے ہی تیار کیا جاتا ہے جس میں کسی بھی مشین کا استعمال نہیں ہوتا بلکہ ہاتھوں کا کمال ہوتا ہے، مشین صرف بادام پیسنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جبکہ مکسنگ و غیرہ روایتی طریقے سے کی جاتی ہے۔ اس کیک کی تیاری کا فارمولا صیغۂ راز میں رکھا جاتا تھا، یہ بات عام تھی کہ گھر کی کسی بزرگ خاتون کے پاس اس کی ترکیب ہے ۔ اِن کیکس کی ترکیب آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکی اور یہی وجہ ہے کہ یہ کیک بمبئی بیکری کے علاوہ کہیں نہیں ملتے اس بیکری کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس کی کوئی اور برانچ نہیں ہے ، ورنہ اکثر جب کوئی کاروبار خصوصی طور پر کھانے کا مشہور ہو جائے تو مالکان اس کی دیگر شاخیں کھول لیتے ہیں لیکن بمبئی بیکری کا ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے ۔ کمار تھدانی کو پیسوں کا لالچ نہیں تھا۔ ان کو متعدد بار پیشکش کی گئی کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اپنی بیکری کی برانچ کھولیں لیکن انہوں نے کبھی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ محدود کام کروں گا لیکن معیار برقرار رکھوں گا ۔ وہ مقدار کی بجائے معیار پر یقین رکھتے تھے ۔
’’ کمار تھدانی بمبئی بیکری کے مالک انسان دوست شخصیت تھے‘‘
کمار تھدانی نے ریڈ کریسنٹ ہسپتال ، لطیف آباد یونٹ نمبر 2 کے ایمر جنسی وارڈ کی تعمیر پر لاکھوں روپے خرچ کیے، جس میں کارڈ یک کی سہولتیں ان کے دادا پہلاج رائے کے نام سے منسوب ہیں۔ انہوں نے انجیو گرافی یونٹ کے لیے بھی روپوں کا عطیہ دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہسپتال کی دیکھ بھال کے لیے ماہانہ روپے کا عطیہ دیا، اس کے علاوہ جب بھی ضرورت پڑی دل کھول کر مالی امداددی ۔ وہ ہمیشہ مستحق مریضوں کی مدد کرتے تھے ۔ کمار نے سینکڑوں غریب خاندانوں کی بھی کفالت کی ۔
بمبئی بیکری کے کیک کی اقسام انفرادیت
****************************
بمبئی بیکری صرف ایک بیکری نہیں ہے ، یہ ایک پرانی یادوں کا نشان ہے جہاں نسلیں آپ کے منہ میں پگھلنے والے کیک میں شامل ہوتی ہیں ۔ ان کے افسانوی کافی کیک کا ہر ایک ٹکڑا، کشمش اور اخروٹ سے جڑا بڑی شاہکار آپ کو بھر پور لذت اور تازگی فراہم کرتا ہے۔ میکرون،چاکلیٹ، کافی، لیمن ، فروٹ کیک اور بسکٹ تیار کیے جاتے ہیں ۔ ان کا کافی اور چاکلیٹ کیک سب سے زیادہ پسند اور فروخت ہوتے ہیں۔ ان کیکس پر نہ تو ڈیزائن بنے ہوتے ہیں اور نہ ہی کسٹمرز کی فرمائش پر کیک بنائے جاتے ہیں ۔ کیک کی طرح پیکنگ کا ڈبہ بھی سادہ ہے۔ سفید رنگ کے ڈبے پر سرخ اور سبز رنگ چھپائی ہے جس پر ’’ شاپ ان دی بینگلو‘‘ (بنگلے میں قائم دکان)تحریر ہے۔ کیک کے ڈبے کی جب سبز رنگ کی ربن کھولتے ہیں تو اندر سے مکھن سے تیار گئے کیک کی مہک آتی ہے ۔ عید، بقر عید، شب برات، برتھ ڈے،کر سمس ، ہولی ، دیوالی یا کوئی اور تہوار کیک یہاں سے ہی خرید کر اپنی تقریبات کو یاد گار بنایا جاتا ہے-
بمبئی بیکری کے اوقات کار
****************************
اس بیکری کے ابتدائی دنوں میں 20 کیک بنتے تھے لیکن اس تعداد میں اب 100 گنا اضافہ ہو گیا ہے ۔ یہاں کیک خریدنے کے لیے وقت مقرر ہے کیونکہ ہر وقت کیک دستیاب نہیں ۔ صبح آٹھ بجے بیکری کھلتی ہے لیکن گاہکوں کی قطار اس سے پہلے لگ جاتی ہے پھر بھی ہر کسی کے حصے میں یہ کیک نہیں آتا ۔ اگردرمیان کے اوقات میں کیکس ختم ہو جاتے ہیں تو وقفے کے بعد دوبارہ کیک کی فراہمی شروع ہو جاتی ہے۔ بیکری رات 9 بجے تک کھلی رہتی ہے۔ دن بدن بمبئی بیکری کے کیک کی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایک شہری کو مخصوص تعداد میں کیک فراہم کیے جاتے ہیں ۔ ایک شہری کو 3 سے 4 کیک دیے جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ تعداد میں کیک نہیں ملتے۔ بیکری کے کئی خریدار بچپن سے بزرگی تک یہاں کے
ہی کیک پسند کرتے آئے ہیں اور آج بھی کہیں اور جانے کے لیے تیار نہیں۔ بیکری کے کیک لینے والوں کی قطار میں حیدر آباد کے علاوہ کراچی، لاہور ، اسلام آباد اور اندرون سندھ اور پاکستان کے دیگر افراد کیک کی خواہش اورتڑپ میں صبر و تحمل سے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ یہاں کے اصول بہت سخت ہیں۔ میڈیا کوریج کی ممانعت ہے۔ بمبئی بیکری والے مقدار سے زیادہ معیار پر یقین رکھتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بیکری بڑی مانگ کو پورا کرنے کے لے کیک کا ذخیرہ کیوں نہیں کرتی ہے ؟ یہاں کام کرنے والے ملازم کا کہنا تھا کہ ہماری انتظامیہ معیار کو یقینی بنانے کے لیے محدود اسٹاک رکھتی ہے، لیکن گاہک واضح طور پر اسے نہیں سمجھتے۔ بمبئی بیکری ہمارے لیے ایک گھریلو نام ہے، ہمیں وہاں سے کیک خریدنے کے لیے کسی خاص موقع کی ضرورت نہیں ہے۔ بمبئی بیکری کا کیک ایک برانڈ ہے۔ یہ بطور تحفہ اور حیدر آباد کی سوغات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر اس کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کیک کا تصور جشن کو ابھارتا ہے۔ کیک ہمیشہ ہمارے ثقافتی پیار کو میٹھے کھانوں اور تہواروں کو ایک دوسرے کے ساتھ منانے کی خواہش کو پورا کرتا ہے خاص طور پر سالگرہ کا ایونٹ کیک اور وہ بھی بمبئی بیکری کا ہو تو لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ کیک کے بغیر سالگرہ ادھوری ہے۔ قارئین! یاد رکھیں، ان کی محدود پیداوار اور زیادہ مانگ کے ساتھ کیک اکثر جلدی فروخت ہوجاتے ہیں۔ مایوسی سے بچنے اور تاریخی کیک کا مزہ لینے کے لیے اپنے دورے کی جلد منصوبہ بندی کریں اور مقررہ وقت سے پہلے پہنچ کر کیک حاصل کریں ۔ چاہے آپ مقامی ہیں یا شوقین مسافر بمبئی بیکری آپ کی منتظر ہے۔ اس کی پرانی تاریخی عمارت کی دلکشی سے بھر پور لطف اندوز ہوں جو کہ آپ کو ماضی کے ادوار میں لے جاتی ہے۔ اور سب سے اہم بات ہر کیک میں ماضی سے حال تک روایتی ذائقے کا مزہ چکھیں ۔ بمبئی بیکری کے منیجر محمد عزیز صاحب حیدر آباد کی موسیقی کے حوالے سے مشہور جانی پہچانی شخصیت ہیں ۔ آپ نے کمار تھدانی کے دور میں 1960 میں دس سال کی عمر میں ملازمت اختیار کی اس وقت آپ کو چار آنے روزانہ ملتے تھے۔ کمار تھدانی بمبئی بیکری کے مالک سے آپ کی گہری قربت تھی۔ اس وقت عزیز صاحب کی عمر 71 برس ہے اور آج تک اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی آپ بمبئی بیکری سے وابستہ ہیں۔ آپ بھی بیکری کی پہچان اور شناخت ہیں۔ ہر فرد آپ کے قریب ہونے اور دوستی کرنے کی خواہش رکھتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ سے دوستی کی صورت میں کیک کا حصول آسان ہو جائے گا۔ میری خوش نصیبی ہے کہ عزیز صاحب نے اپنے قیمتی وقت سے مجھے نوازا۔ محمد عزیز اوائل عرصے سے ہی بینجو بجارہے ہیں ، اور بینجو سننے اور سمجھنے والے شائقین میں بہت مشہور ہیں ۔ انہوں نے یہ فن بلاول بیلجیم سے سیکھا جو اس ساز کو بچانے کے انتہائی ماہر تھے۔ محمد عزیز نے اپنے فن کا مظاہرہ انتہائی اہم شخصیات کے سامنے کیا ہے۔ محمد عزیز کو ان کی اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر صوبائی حکومت سندھ کی جانب سے حضرت لعل شہباز قلندر ایوارڈ سے نوازاگیا ۔ اس کے علاوہ کئی سماجی اور ثقافتی تنظیموں کی جانب سے بھی انہیں مختلف اعزازات دیے گئے۔ محمد عزیز نے حیدر آباد میں موسیقی کے فروغ کے لیے ایک ادارہ قائم کیا ہے ، جہاں موسیقی سے دلچسپی رکھنے والے یہ فن سیکھتے ہیں ۔ یہ ادارہ بلا معاوضہ خدمات انجام دے رہا ہے ۔ محمد عزیز ایک سماجی شخصیت بھی ہیں۔ آپ نے ریڈیو پاکستان حیدر آباد پر بھی اپنے فن کا مظاہرہ بہت مرتبہ کیا ہے ، خاص طور پر چودہ اگست حوالے سے منعقدہ تقریبات کے موقع پر ۔ اس دور میں محمد عزیز بینجو کے شعبے میں یکتا ہیں اور اس کے فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ محمد عزیز بے مثال انسان دوست شخصیت ہیں ۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
حیدر آباد سوغات شیریں
– مشہور حاجی ربڑی
************************
حیدر آباد کے مشہور بمبئی بیکری کیک کے علاوہ حاجی کی ربڑی بیحد مشہور اور مقبول ہے ۔ جب بات ہو رہی ہو ربڑی کی تو حیدر آباد کا ذکر سر فہرست ہو تا ہے ۔ سندھ کے دارلحکومت کراچی کے بعد صوبے کا دوسرا بڑا شہر حیدر آباد اپنی بے مثال سوغاتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے حیدر آباد کی رنگ برنگ چوڑیوں اور بمبئی بیکری کے ساتھ حاجی ربڑی کے بھی بڑے چرچے ہیں۔ میں نے قارئین کے لیے حاجی ربڑی کا تحقیقی دورہ کیا تا کہ ربڑی کے ذائقہ سے لطف اندوز ہوں۔ میری ملاقات یہاں پہنچ کر حاجی ربڑی کے مالک نوید شیخ سے ہوئی ۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے کاروبار کے’’ ریواڑی والے حاجی ربڑی‘‘ کے کاروبار کی چوتھی نسل کے وارث ہیں، جو 1948 میں شروع ہوا ۔ یہ ان کے پردادا حاجی بشیر الدین تھے ۔ جنہوں نے اسے پاکستان کی نوزائیدہ ریاست کے تاریخی شہر حید ر آباد میں 1948ء میں قائم کیا ۔ ان تمام سالوں میں حاجی ربڑی نے خود کو حیدر آباد کی شناخت میں ضم کر لیا ہے ۔ جب انہوں نے کاروبار شروع کیا تو وہ صرف چند کلو خالص دودھ بیچتے تھے ۔ حاجی بشیر الدین صاحب 95 برس کی عمر میں 1990 میں انتقال فرما گئے۔ آپ کے صاحبزادے اور پوتوں نے اس کاروبار کو جاری رکھا ہوا ہے ۔

*********************
حیدر آباد کی مشہور حاجی ربڑی کا تاریخی پس منظر
**********************
سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کا پکا قلعہ وسطی شہر میں موجود ہے جس کے سامنے یہاں کا قدیم شاہی بازار کئی کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اسے 18 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا ۔ حاجی بشیر الدین کا تعلق ریواڑی سے تھا جو ریاست ہریانہ کا ایک ہندوستانی شہر ہے ۔ تقسیم کے بعد حاجی بشیر الدین اور ان کا خاندان ریواڑی سے ہجرت کر کے حیدر آباد آگئے جہاں انہوں نے تاریخی شاہی بازار میں دکان قائم کی ۔ انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف اس کے نئے شہر حیدر آباد بلکہ پاکستان اور پوری دنیا میں ایک برانڈ نام بن جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ حیدر آباد کا شاہی بازار ایشیا کا سب سے لمبا بازار ہے۔ اور اس کے سامنے تاریخی پکا قلعہ ہے جسے 18 ویں صدی میں کلہوڑو خاندان کے نگران غلام شاہ کلہوڑونے تعمیر کیا تھا۔ حیدر آباد کے دیگر حصوں کے علا وہ تقسیم کے فورا بعد حاجی بشیر الدین جیسے خاندان پکا قلعہ اور اس کے آس پاس بڑی تعداد میں آباد ہو گئے تھے ۔ زیادہ تر میٹھے تیار کرنے والے اور بیچنے والے اصل میں ریواڑی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ حاجی بشیر الدین کے زمانے سے لے کر آج تک یہ دکان ایک خاندانی کاروبار بنی ہوئی ہے جو کہ گراونڈ پر موجود ہے اس کے علاوہ دو منزلہ عمارت پر مشتمل ہے ۔ حاجی بشیر الدین ہجرت کے بعد اسی عمارت میں آباد ہوئے۔ حاجی بشیر الدین نے یہ عمارت ایک ہندو سے 350 روپے میں خریدی تھی ریونیو ریکارڈ میں یہ پراپرٹی پر گگومل کا نام نمایاں ہے۔ 1 فروری 1975 کو 15000 روپے کی رقم کے ساتھ یہ بشیر الدین کے نام منتقل ہوئی ۔ مزید جائیدادیں خریدنے کے باوجود حاجی بشیر الدین نے اپنے کاروبار کو یہاں سے شہر کے زیادہ ترقی یافتہ اور شہری علاقوں میں منتقل نہیں کیا۔ جب حاجی بشیر الدین بہت ضعیف ہو گئے تو نوید شیخ کی والدہ نسیم بانو نے کاروبار کی دیکھ بھال شروع کردی ۔ ابھی بھی نسیم بانو اس عمر میں پرجوش انداز سے ربڑی بنانے کے عمل کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ نسیم بانو کے مطابق نوید شیخ کے والد نور الدین اور پھر نور الدین کے والد حکیم الدین نوید شیخ کے دادا کے انتقال کے بعد ہمارا خاندان بہت مشکلات اور اتار چڑھاؤ سے گزرا ۔ نوید شیخ کی بیوہ ماں نے مسائل کا سامنا کیا لیکن ہمت نہیں ہاری ۔نسیم بانو نے کہا کہ کاروبار میں کامیابی کو بابا صلاح الدین(ایک روحانی شخصیت جو کوٹری میں مدفون ہیں) کی خصوصی دعاؤں سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بابا ہماری دکان پر بیٹھا کرتے تھے اور ہمیشہ ہدایت دیتے تھے کہ ملاوٹ کا سہارا نہ لیں‘‘ نسیم بانو کاروبار میں اتنی تیزی سے ترقی پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں اور کہتی ہیں وہ معیار پر سمجھوتہ ہرگز نہیں کریں گی اور آباؤ اجداد کے ذائقہ اور معیار کو برقرار رکھیں گی۔حاجی ربڑی کی شروعات اور معیار
ربڑی در حقیقت دودھ سے بنی کھیر کی ایک قسم ہے ۔ نوید شیخ نے ربڑی کی شروعات اور بناوٹ کے بارے میں بتایا کہ میرے پردادا’’کھیر‘‘(چاول کی کھیر) تیار کرنے کے لیے دودھ ابال رہے تھے کہ جب اس نے وہ شکل اختیار کرلی جسے آج ہم ربڑی کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ربڑی کی حتمی ترکیب سامنے لانے سے پہلے دو تین بار اس کاتجربہ کیا۔ اور اس طرح ربڑی کی باقاعدہ شروعات ہوگئی۔ اس زمانے میں کوئی ریفریجریٹرز نہیں تھے لہذاململ کا ایک ٹکڑا ربڑی پر ٹھنڈا رکھنے کے لیے رکھتے تھے، اس زمانے میں گھروں میں ہوا دان ہوتے تھے جن کے لیے حیدر آباد شہر جانا جاتا ہے ۔ نوید شیخ کی والدہ نے بتایا کہ ان کے شوہر نور الدین کی بہنیں اور میں اپنی ساس کی نگرانی میں مل کر کام کرتے تھے ۔ لیکن کاروبار پھیلنے لگا تو ہم نے مزدوروں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ شاید صدر ایوب کے دور میں تھا جب مزدوروں نے زیادہ تر کام کو سنبھالنا شروع کر دیا تھا۔ اُس وقت میرے دونوں بیٹے چھوٹے اور نابالغ تھے ۔ لہذا میرے سسرال کے گھر والوں نے کام کی دیکھ بھال شروع کردی۔ پھر وہ وقت آیا اور آخر کار میرے بیٹوں نے کاروبار کی باگ ڈور سنبھال لی۔نسیم با نو نوید شیخ کی والدہ نے مزید بتایا کہ شروع میں 40 کلو دودھ ہر ایک کڑاہی میں پانچ پانچ کلو سے 13 کلو ربڑی تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جس میں ابتدائی طور پر ٹھنڈک کی مناسب سہولت نہیں تھی ۔ ہمارے پاس ربڑی کے نیچے کافی مقدار میں پانی ہوتا تھا جس میں دستی ٹھنڈک کے لیے ٹرے ہوتے تھے ۔ ربڑی بنانے کی ترکیب بتاتے ہوئے محمد نوید شیخ نے کہا اب ہم 30 من سے 50 من تک دودھ کی ربڑی بناتے ہیں ۔ ربڑی خالص دودھ سے بناتے ہیں۔ اگر دودھ خالص نہیں ہوگا تو ربڑی کا ذائقہ اچھا نہیں بن سکتا ۔ ایک کڑھاؤ کے اندر10کلو دودھ ڈالتے ہیں۔ اس کو پندرہ سے بیس منٹ تک پکایا جاتا ہے جب دودھ پک جاتا ہے تو اس میں دو سو گرام چینی ڈالتے ہیں ۔ ایک من دودھ میں آٹھ سو گرام چینی ڈالتے ہیں ۔ دودھ کو 80 سے 100 ڈگری تک اُبالتے ہیں۔ یہاں تک کہ تقریبا دس کلو دودھ تین کلو تک ہو جاتا ہے۔ ایک من میں 10 کلو ربڑی تیار ہوتی ہے اسے پھر کولڈ اسٹوریج میں 2 سینٹی گریڈ سے 5 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر رکھتے ہیں۔ ربڑی تیار کرنے کا دورانیہ 30 منٹ ہوتا ہے۔ ربڑی کو پانچ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد فروخت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اس بعد گاہکوں کو دینے کے لیے دکان پر ربڑی لائی جاتی ہے۔ تین اقسام کی ربڑی بنتی ہے ۔ سادہ ربڑی ، پستے والی ربڑی اور شوگر فری ربڑی۔ شوگر فری ربڑی میں شکر نہیں ملاتے ۔ خالص دودھ خود میٹھا ہوتا ہے ۔ پہلے لوگ ربڑی روائتی مٹی کے برتن جسے حرف عام میں ’’کلڑھ‘‘ بھی کہتے ہیں، میں لے جاتے تھے مگر اب جدید دور میں پلاسٹک کے برتن میں دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اپنے پیاروں کے لیے بیرون ملک ربڑی لے جانا چاہتا ہے تو ’’ٹن پیک‘‘ میں دیتے ہیں جس میں ربڑی 15 دن تک خراب نہیں ہوتی ہے۔ نوید شیخ نے بتایا ذائقہ ، صفائی اور معیار ہماری پہچان ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ ہم معیار کے ساتھ محدود مقدار میں ربڑی تیار کرتے ہیں ۔ کلڑھ میں ربڑی کا معیار منفرد، تازہ اور خوشبو کو برقرار رکھتا ہے۔ دور دراز علاقوں میں لے جانے والے افراد کلڑھ کو ترجیح دیتے ہیں، یہ ربڑی کی پہچان ہے اور بہت حفاظت سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کے منہ پر کاغذ رکھ کر سختی سے باندھ دیتے ہیں ۔ حاجی ربڑی کی دیگر مٹھائیاں بھی لاجواب ذائقہ دار ہیں جس میں اخروٹ کا حلوہ ‘سوہن حلوہ ، دودھ دلہاری ، لب شیریں‘رس ملائی، گاجر کا حلوہ اور مختلف مٹھائیاں بہت زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ حاجی ربڑی اب ایک رجسٹرڈ برانڈ ہے۔ بہت سے لوگوں نے ہماری ترکیب ربڑی کی کاپی کرنے اور صارفین کو راغب کرنے کے لیے حاجی ربڑی برانڈ کا نام استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لیکن جن لوگوں نے اصلی حاجی ربڑی کا مزہ چکھ لیا ہے تو وہ نقلی ربڑی کو آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔ اس کے با وجود نوید شیخ نے چند سال قبل ’’ ریواڑی والے حاجی ربڑی‘‘ کا نام رجسٹر اور ٹریڈ مارک حاصل کیا ہے ۔ وہ اب بھی اسی بازار میں “حاجی” کے نام کے استعمال کے خلاف قانونی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ جس میں انہیں جلدی کامیابی حاصل ہونے کی قوی امید ہے۔ انہوں نے “حاجی ربڑی والے” کے نشان کے ساتھ ایک ویب سائٹ بھی لانچ کی ہے ۔ نوید شیخ کو بیرون ملک سے واٹس ایپ پر آرڈر ز با قاعدہ موصول ہوتے ہیں۔ ٹیکساس ، لندن، اور امریکہ کے دیگر شہروں سے لوگ مجھ سے رابطہ کرتے ہیں اس کے علاوہ فیس بک پر بھی ہمارا حاجی ربڑی والے کے نام سے پیج بنا ہوا ہے۔ نوید شیخ پڑھے لکھے با صلاحیت کاروباری شخص ہیں ۔ کیڈٹ کالج سانگھڑ سے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے (Szabist) شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی دبئی سے MBA by Major (Finance and Accounting)میں پاس کیا اور اس کے بعد اپنے بزنس کو فروغ دینے میں مصروف عمل ہیں ۔ نوید شیخ ان دکانداروں کے خلاف مقدمہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اس کے خاندان کا برانڈ نام استعمال کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ریلوے اسٹیشن پر ہمارے نام سے ربڑی بیچتے ہیں حالانکہ کراچی کے علاوہ ہماری کوئی دوسری برانچ نہیں ہے۔ ہماری برانچ حسین آباد فیڈرل بی ایریا فوڈ اسٹریٹ پر واقع ہے جہاں پر روزانہ تازہ ربڑی حیدر آباد سے ہی پہنچائی جاتی ہے۔ میں خود اپنی نگرانی میں ربڑی تیار کرواتا ہوں تاکہ ربڑی کا معیار اور ذائقہ برقرار رہے۔ ہمارا پروڈکشن ہاؤس
حیدر آباد میں ہی ہے۔ ہمارے یہاں جو دودھ کی کوالٹی ہے وہاں ہمیں نہیں ملے گا تو اس لیے ہم یہیں سے بنا کر کراچی بھیجتے ہیں ۔ ربڑی کے لیے سب سے اہم چیز خالص دودھ ہے۔ جعلی حاجی نام سے ربڑی بیچنے والوں کے خلاف میں نے حکام بالا کو اپنی شکایت درج کرائی ہے۔ نوید شیخ اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملنے والے کاروبار میں نئی جہتیں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ کاروبار کی نگرانی شروع کرنے کے ساتھ وہ نئے رجحانات برقرار رکھنے کے لیے روایتی انداز سے (E-commerce ) ای – تجارت کے ذریعے اپنے برانڈ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مارکیٹوں میں متعارف کرا رہے ہیں ۔ نوید شیخ خالص دودھ حاصل کرنے کے لیے سرگرم رہتے ہیں ۔ ربڑی کی فوری سپلائی کے لیے اپنے پاس وافر مقدار میں موجود دودھ ہونے کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی دودھ حاصل کرتے ہیں۔ وہ دودھ والوں سے نمٹنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ۔ ہم نے بلا تعطل دودھ کی سپلائی حاصل کرنے کے لیے دوسرے سپلائرز کے ساتھ معاہدےکیے ہیں ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خالص دودھ مانگتے ہیں ، ملاوٹ والا نہیں۔ اگر 40 کلوگرام دودھ سے 9.5 کلو گرام ربڑی نکلتی ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دودھ میں ملاوٹ ہے ۔ دوسری طرف اگر 40 کلوگرام دودھ سے 10 کلو گرام ربڑی نکلتی ہے تو وہ خالص ہے ۔ عام لوگوں کے علاوہ صارفین میں افسران سیاستدان، تاجر وغیرہ شامل ہیں ۔ حاجی ربڑی کی مقبولیت گزشتہ قومی اسمبلی کے پار لیمنٹ میں بھی گونج اٹھی جب حیدر آباد کے ایک ایم این اے حال ہی میں منتخب ہونے والے MNA سید وسیم حسین نے اپنے ارکان اسمبلی کو حیدر آباد کی حاجی ربڑی اور بمبئی بیکری کی پیشکش کی ۔ سید وسیم حسین نے احسن اقبال اور خورشید شاہ کو ایک پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے قیام کے موقع پر حیدر آباد آنے کی دعوت کے ساتھ حاجی ربڑی پیش کرنے کے لیے کہا ۔ عید الفطر جیسے مواقع پر مانگ چھ سے آٹھ گنا بڑھ جاتی ہے۔
عید الا ضحی ، ربيع الاول ، يوم آزادی یا دیگر تہواروں کے موقع پر بھی صورتحال مختلف نہیں ربڑی عید کی صبح سے رات گئے تک فروخت ہوتی ہے۔ عید کے موقع پر 80 من دودھ کی 800 کلو ربڑی بنتی ہے ۔ نوید شیخ نے کہا کہ عید جیسے موقع اور دیگر تہواروں پر مختلف وجوہات کی بناء پر مانگ پوری نہیں کر سکتا ۔ پریشانی سے بچنے کے لیے دکان کاشٹر گرا دیتے ہیں ۔ عید کے موقع پر صارفین کی ڈیمانڈ پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ دودھ کی فراہمی کے مسائل سے لے کر قدرتی گیس کی لوڈ شیڈ نگ اور کم پریشر جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجھے تازہ معیاری ربڑی کی فراہمی لا زمی کرنی ہے ۔ آج کل ربڑی شادیوں کے مینو میں لازمی سمجھی جاتی ہے۔ نوید شیخ کا مقصد اپنے برانڈ کو عالمی سطح پر مشہور کرنا ہے ۔ وہ بیرون ملک کاروبار کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اپنے بیٹے کو اس منصوبے کے لیے تیار کر رہے ہیں جب وہ کاروباری تعلیم بزنس ایجوکیشن مکمل کر کے ڈگری حاصل کرلے۔ حاجی ربڑی کی پہچان اور شناخت داڑھی والے حاجی بشیر الدین کی پگڑی پہنے تصویر دکان کے ایک کونے میں لٹکی ہوئی ہے۔ حاجی ربڑی نے اپنی پلاٹینم جوبلی مکمل کرلی ہے۔ جو کچھ 1948 میں ایک چھوٹے سے سیٹ اپ کے طور پر شروع ہوا تھا وہ تمام ذائقوں کے ذریعے حیدر آباد کی ایک پہچان بن گیا۔
امید ہے کہ عالمی اخبار لندن کے قارئین میری اس تحقیقی کاوش سے لطف اندوز ہوں گے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

*ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے،*
*کہتے ہیں کہ، غالب کا ہے انداز بیاں اور.*
*تمام اہلِ علم و دانش کو مرزا اسداللہ خاں غالب کا یومِ پیدائش مبارک.*
————————————-آج دنیا بھر میں نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ کا یوم پیدائش جوش وہ خروش سے منایا جا رہا ہے. اس موقع پر پاکستان میں بھی مرزا غالب کے اعزاز میں مختلف تقریبات اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا ہے… مرزا غالب کا پورا نام اسد اللہ خاں غالب ہے۔ ان کی پیدائش 27 دسمبر سنہ 1797 آگرہ میں ہوئی۔ 13 برس کی عمر میں غالب کی شادی امراؤ بیگم سے ہوئی۔ شادی کے بعد غالب دہلی میں ہمیشہ کے لیے منتقل ہوگئے.
شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا.
غالب کا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا دوسرے نسلی برتری اور خاندانی عظمت کا پیدا کردہ احساس فخر تھا. مکان کرائے کا تھا مگر ٹھاٹ رئیسانہ تھے.
غالب نے ایک ڈومنی سے بھی عشق کیا اور جوا کھیلنے کے الزام میں 25 مئی 1847 میں چھ ماہ کی سزا میں سے تین ماہ کی قید بھی کاٹی.
غالب کی مغلیہ دربار سے بھی وابستگی رہی اور 1854 کے بعد بہادر شاہ ظفر کے استاد بھی رہے. انگریزی دربار صاحب لوگوں سے بھی تعلق رکھا، چنانچہ ملکہ وکٹوریہ، وائسرائے وغیرہ کی مدح میں ایک قصیدہ سینکڑوں اشعار پر مشتمل ہے. یہی نہیں بلکہ 1865 میں یہ درخواست دی کہ مجھے ملکہ وکٹوریہ کا درباری شاعر مقرر کر کے دربار میں بلند مقام پر متمکن کیا جائے. انہیں ملکہ کا تو نہیں البتہ وائس رائے کا درباری شاعر بنانے کی سفارش کی گئی. الغرض اسد اللہ خان کی زندگی محرومیوں پژمردگیوں اور کچھ کامیابیوں کی داستان ہے، لیکن ہوا یہ کہ ان ہی چکروں میں الجھا ہوا اسد اللہ خاں محض اسد نہ رہا بلکہ غالب بن گیا.
مرزا اسد اللہ خان غالب کا شمار اردو زبان کے ان خوش نصیب شاعروں میں ہوتا ہے، جن کی تصانیف نظم و نثر، ان کی زندگی میں متعدد بار شائع ہوئیں. تصانیف کی اشاعت سے قطع نظر، ان کے فکر و فن کے بارے میں ان کی وفات سے اب تک اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ غالبیات ہمارے ادب کا ایک مستقل موضوع قرار پاتا ہے. مرزا نے دوستوں کے مشورہ کی روشنی میں اپنے اصل دیوان سے ایک انتخاب کیا جو پہلی بار 1841 میں دہلی سے شائع ہوا. اس دیوان میں شعروں کی تعداد1070 تھی. 1841 سے1863 تک دیوان غالب کے جو پانچ ایڈیشن، غالب کی زندگی میں شائع ہوئے، ان میں شعروں کی تعداد، انتخاب اول کے مقابلے میں بتدریج بڑھتی گئی. پانچویں ایڈیشن میں شعروں کی تعداد 1800 کے لگ بھگ ہے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ غالب اپنے اولین انتخاب سے مطمئن نہیں تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اصل دیوان سے منتخب اشعار شامل اشاعت کرتے رہے.
غالب کا اصل دیوان مخطوطہ ریاست بھوپال کے کتب خانے میں موجود تھا جو نسخہ حمیدہ کے نام سے شائع ہو چکا ہے. غالب نے اپنے شعر کو گنجینہ معنی کا طلسم کہا ہے. غالب کے اس دعویٰ میں صداقت موجود ہے.
رشید احمد صدیقی تحریر کرتے ہیں، مجھ سے اگر یہ پوچھا جائے کہ ہندوستان کو مغلیہ سلطنت نے کیا دیا تو میں بے تکلف تین نام لوں گا غالب اردو اور تاج محل.
غالب کی شہرت کی بنیادی وجہ ان کی اردو شاعری ہے. ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کے مطابق، ہندوستان کی الحامی کتابیں دو ہیں، مقدس وید اور دیوان غالب. یہ حقیقت ہے کہ دیوان غالب سے زیادہ نہ کوئی دیوان پڑھا گیا اور نہ چھاپا گیا.
ڈاکٹر یوسف حسین کے خیال میں، اردو غزل میں غالب جدت کا امام ہے میر اور مومن بھی لفظوں پر قدرت رکھتے تھے لیکن غالب انہیں فاتحانہ انداز میں برتتا ہے. ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ جن لفظوں کو برت رہا ہے وہ اسی کے لیے بنے ہیں.
غالب نے 11 سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ ان کی پہلے زبان اردو تھی لیکن گھر میں فارسی اور ترکی بھی بولی جاتی تھی۔ انہوں نے چھوٹی عمر میں ہی فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ غالب کے دور میں، “ہندی” اور اردو” کے الفاظ مترادف تھے.
غالب کی شخصیت جامع الصفات تھی وہ ایک شاعر کی حیثیت سے معروف تو ہیں ہی، ایک نثر نگار کی حیثیت سے بھی ان کا پایہ بلند ہے۔ ان کے خطوط اردو میں جد ید نثر کا سنگ بنیاد ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کی چند ایک کتابیں ہیں۔ شاعری میں غالب نے قصیدے لکھے اور مثنویاں وغیرہ بھی لیکن جس صنف کی وجہ سے غالب، غالب ہیں وہ ان کی غزل ہے۔ دیوان غالب کا زیادہ تر حصہ غزلوں پرمشتمل ہے. غالب کو فارسی اور اردو، دونوں زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ انھیں اردو سے زیادہ اپنی فارسی دانی پر فخر تھا۔
ابتدا میں وہ فارسی شاعر بیدل کی پیروی کرتے تھے۔
طرز بیدل میں ریختہ کہنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے.
طرز بیدل میں ریختہ کہنے کے باعث ان کے کلام میں فارسی کی آمیزش زیادہ ہوئی.غالب کی کامیابی کا باعث ان کی صرف عام فہم الفاظ، تراکیب اور سیدھے سادھے طرز کی شاعری نہیں بلکہ مجموعی طور پر ان کا ڈکشن ہے جو پڑھنے والوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
غالب اُردو ادب میں غزل کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ ان کی شعری فکر اور جمالیاتی اظہار کی اعلیٰ سطح کے ساتھ ساتھ ان کی سدا بہار شخصیت بھی ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
غالب وہ شاعر ہے جو اپنے عہد سے زیادہ بعد کے زمانے میں نظر آتے ہیں۔
غالب کی شاعری کو تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا دور مشکل پسندی کا دور ہے جس میں فارسی رنگ غالب ہے اور وہ طرز بیدل میں ریختہ کہتے نظر آتے ہیں۔
اس مشکل پسندی میں جہاں ان کا فارسی سے قدرتی لگاؤ اور اس کی وجہ افتخار سمجھنا ہے وہاں اپنے خاندانی حسب نسب پر فخر ، برتری کا احساس اور عوام سے علیحدگی کی خواہش ہے تاکہ ان کی انفرادیت قائم رہے اس دور میں ان کے یہاں انوکھی تشبیہات اور غیر مانوس الفاظ ، فارسی اندازِ بیان ، نازک خیالی اور خیال بندی ملتی ہے۔
دوسرے دور میں فارسیت کا غلبہ کم ہو جاتا ہے وہ نازک خیالی نہیں جو پہلے دور میں پائی جاتی ہے.
ان کا تیسرا دور جس میں غالب کی شاعری کے کمال کا ہے۔
اس دور میں ان کے یہاں سادگی، روانی، سلاست اور ندرت خیال پیدا ہو جاتی ہے۔غالب فلسفی بے شک نہیں اور ان کے پاس کوئی ایسا منظم فلسفہ نہیں جیسا مثلا اقبالؔ کے پاس ہے لیکن وہ ایک حکیمانہ نظر رکھتے ہیں.
غالب کی وفات
15 فروری 1869ء (72 سال) کی عمر میں ہوئی.غالب سوسائٹی کے زیر اہتمام 15 فروری 1955 کو مشہور فلم ساز سہراب مودی کے خرچ سے غالب کے مقبرے کی تعمیر ہوئی. سہراب مودی کی فلم غالب ایک کامیاب فلم تھی اس میں غالب کا کردار بھارت بھوشن اور ڈومنی کا کردار ثريا نے ادا کیا تھا. غالب کے مقبرے کی تعمیر فلم کی کامیابی کے باعث ہوئی. اس فلم کو صدارتی ایوارڈ بھی ملا تھا.غالب کی شاعری پر اب تک لاتعداد پی ایچ ڈی اور ایم فل کے مقالہ جات لکھے جاچکے ہیں۔ وہیں پاکستان میں غالب پر زیادہ تر تحقیقی کام اُردو زبان میں ہُوا ہے۔

…………………,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*علامہ اقبال کی بانگ درا نے ایک صدی مکمل کرلی*
*علامہ اقبال کو خراج عقیدت*
اقوام عالم میں یہ اعزاز اور انفرادیت صرف پاکستان کو حاصل ہے کہ اس کا قومی شاعر نہ صرف اپنے دور اور اپنی زبان کا سب سے عظیم شاعر ہے بلکہ تصور پاکستان کے خالق کی حیثیت سے بھی اسے ملک کے فکری اکابر میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے.
میں جب بھی علامہ اقبال کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھ پر ایک نیا اقبال منکشف ہوتا ہے افکار کا ایک نیا زاویہ نگاہ، خیالات کا ایک منفرد سلسلہ اور سوچوں کا ایک انوکھا آہنگ، اقبال اپنی شاعری اور فکر و فلسفہ کی وسعتوں میں ایک بحر بے کنار کی طرح گذشتہ کئی سالوں سے ہمارے سامنے آئے ہیں. وہ ایک ایسے خوش بخت فلسفی اور شاعر ہیں جن کی زندگی میں ہی مشاہیر اور اہل علم نے ان پر لکھنا شروع کر دیا. علامہ اقبال کا فکر و فلسفہ، شاعری، مسلمانوں کے لیے سچی تڑپ، اسلام کی نشاة ثانیہ کے لیے جدوجہد برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی، پاکستان کے نظریاتی تشخص اور عملی قیام میں کردار مثالی تھا کہ خود بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے ان کی خدمات کا شاندار الفاظ میں متعدد مواقع پر تذکرہ فرمایا.
اقبال کی بلند اقبالی کا دائرہ صرف پاکستان، بھارت، کشمیر یا مسلمانوں تک ہی محدود نہیں اقبال نے برصغیر کی سیاست پر نظریاتی اور عملی سطح پر جو انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اس نے عالمی سطح پر بھی دانشوروں کو متاثر کیا چنانچہ اقبال وہ واحد شخصیت ہیں جن پر گزشتہ نصف صدی میں سب سے زیادہ پڑھا اور لکھا گیا ہے.. کتابوں، رسائل اخبارات میں، تصاویر میں، پینٹنگس میں اقبال کی جھلک ہمیں ہر آن ملتی ہے اور اقبال کا نقش دوام پر جریدہ عالم ثبت نظر آتا ہے.علامہ محمد اقبال کے اردو کلام کا پہلا مجموعہ “بانگ درا” کے نام سے ستمبر 1924 میں شائع ہوا ۔ آج ایک صدی ہونے کو ہے مگر اسکی مقبولیت اور اہمیت وہی ہے جو پہلے روز تھی ۔ فکرِ اقبال کے ارتقائی مدراج کا مکمل اور جامع اندازہ “بانگ درا” سے ہوسکتا ہے ۔حب الوطنی، قومی وملی درد سے لبریز جو خصوصیات اس مجموعہ کلام کی زینت ہیں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ۔ مشرق کے اس مفکر اعظم کی نوکِ قلم سے نکلی ہوئی وہ پکار جس نے وقت کی مردہ روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ یہ کتاب اردو ادب اور اردو زبان کے تاج میں ایک بیش قیمتی ہیرا ہے ۔ بانگ درا” اردو ادب میں ایسا گراں قدر مجموعہ ہے جسے قیامت تک فراموش نہیں کیا جائے گا ۔ اس میں اقبال کی بلند آہنگ آواز ہے جس نے قوم کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر بیدار کرنے کی کوشش کی.بانگ درا کا مطلب اگر معانی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو لفظی معانی گھنٹے (بڑی گھنٹی) کی آواز ہے۔ اگر تشریحی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کے معانی گھنٹے وغیرہ کی آواز جو قافلے کی روانگی سے پہلے مسافروں کوہوشیارکرنے کے لیے بجایا جاتا ہے، اس گھنٹے کی آواز جو قافلےکے ساتھ بجتا رہتا ہے تاکہ بھولے بھٹکے مسافروں کی رہنمائی ہوجائے۔شاید اسی لیے اقبال نے اپنے اس مجموعے کا نام بھی بانگ درا رکھا۔ جس سے مراد مسلمانوں کو روحانی اور شعوری طور پر بیدار کرنے کے لیے کی گئی شاعری ہے۔ اور یہی ایسا مجموعہ ہے جو سب سے طویل عرصہ میں لکھا گیا ہے۔
اس مجموعے کى شاعرى گویا سوئى ہوئى قوم کو جگانے کے لیے گھنٹى کى آواز کا کام دیتى ہے…
یہ لفظ اس دور میں استعمال ہوتاتھا جب قافلوں میں سفر ہوتے تھے، سب سے پہلے اونٹ کے گلے میں ایک گھنٹی بندھی ہوتی تھی۔ جب تک قافلہ رواں دواں رہتا تب تک گھنٹی بجتی رہتی اور جب کہیں قیام کرنا ہوتا تو سب سے پہلے اونٹ کو روک دیا جاتا۔ قافلہ دوبارہ روانہ کرنے کے لیے سب سے پہلے اونٹ کو دوبارہ چلایا جاتا اور بکھرے ہوئے لوگ اس گھنٹی کی آواز سن کر جوق در جوق واپس قافلے میں شامل ہوتے اور قافلہ رواں دواں ہو جاتا۔ بانگ درا” علامہ اقبال کا شعری مجموعہ ہے۔ جسے ایک خوبصورت گلدستہ کہا جا سکتا ہے ۔جس میں سینکڑوں قسم کے رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو اور ان کی رعنائی جلوہ افروز ہے۔ اس مجموعہ میں جہاں ایک طرف حب الوطنی سے لبریز ترانے شامل ہیں جن میں سارے جہاں سے اچھا اور ہمالہ جیسی نظمیں بطور خاص دیکھی جا سکتی ہیں ،وہیں بچوں کی نفسیات کے اعتبار سے دعائیں اور دیگر نظمیں جو مکالمہ اور مناظرہ کی شکل میں لکھی گئی ہیں شامل ہیں ۔۔ اس کے علاوہ شکوہ اور جواب شکوہ جیسی لازوال مسدس بھی اسی مجموعہ کلام میں شامل ہے اور نیا شوالہ جیسی نظمیں بھی شامل ہیں، کچھ نامور حضرات کی یاد میں بھی نظمیں ہیں اور علامہ کی غزلیات کا بہت ہی خوبصورت اجتماع ہے اگرچہ علامہ اقبال کو ان کی نظموں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ علامہ کی شاعری ایک خوبصورت ہدیہ ہے ہم اہل مشرق کے لئے، علامہ کو آج بھی اس آن با ن کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور علامہ کی شاعری ان لوگوں میں شمار ہے جن پر بہت زیادہ لوگوں نے لکھا۔
بانگ درا کی شاعری علامہ محمد اقبال نے 20 سال کے عرصے میں اِرقام کی تھی اور اس مجموعے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
بانگ درا کی ترتیب یوں ہے کہ تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے پہلا دور 1905ء تک کے کلام پر محیط ہے دوسرا دور 1905 سے 1908 تک اور تیسرا دور 1908ء سے کتاب کی اشاعت تک پھیلا ہوا ہے ہر دور میں پہلے نظمیں دی گئی ہیں اور آخر میں غزلیں بعض نظموں پر سال تخلیق بھی درج ہے مگر اکثر نظموں کے لیے یہ اہتمام نہیں کیا گیا پوری کتاب میں زمانی ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے یعنی پہلے لکھی جانے والی نظم پہلے اور بعد میں لکھی جانے والی نظم بعد میں کتاب کے آخر میں ظریفانہ کے عنوان سے کچھ اشعار ،قطعات وغیرہ درج کیے گئے ہیں جو اکبر الہ آبادی کی پیروی میں علامہ اقبال نے لکھے تھے ان اشعار پر سال تحریر درج نہیں مگر قیاس یہ ہے کہ تمام اشعار 1910ء سے 1914ء تک لکھے گئے ہیں۔
بانگ درا کے شروع میں ان کے دوست سر شیخ عبدالقادر کا دیباچہ ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ بانگ درا کا مطالعہ کرنے سے پہلے یہ دیباچہ ضرور پڑھیں جس میں مختصراً ان کے آباؤ اجداد، تعلیم، ابتدائی شاعری، فارسی کی طرف رغبت کی وجہ اور لندن میں اقبال سے ان کی ملاقاتیں شامل ہیں.سر شیخ عبد القادر کا نام اردو دیباچہ نگاری میں بے حد اہمیت کا حامل ہے ۔یہ دیباچہ محض کتاب یا صاحب کتاب کا سرسری تعارف نہیں بلکہ شیخ عبدالقادر
صاحب کے وسیع المطالعہ ہونے اور ان کی تنقیدی و تحقیقی بصیرت کے آئینہ دار ہے.
دیباچہ بانگ درا کے لیے علامہ اقبال نے شیخ عبدالقادر صاحب ہی کا انتخاب کیا. ان کا تحریر کردہ دیباچہ اقبال کے اشعار کی تفہیم و تعبیر میں، ان کے ذہنی وہ فکری ارتقا کو سمجھنے میں وہ فضا جو ان تخلیقات کا محرک بنی، وہ مسائل جو امت مسلمہ کو اور بنی نوع انسان کو درپیش تھے، سب ہی کا احاطہ کرتا ہے. بانگ درا کا دیباچہ شیخ عبدالقادر کی شاہکار تخلیقات میں سے ایک ہے، جس کی وجہ یقیناً یہی ہے کہ کتاب اور صاحب کتاب دونوں سے ہی شیخ عبد القادر صاحب کی دلی وابستگی، محبت اور احترام کا رشتہ ہے. اہم بات یہ ہے شیخ عبدالقادر صاحب ہی نہیں بلکہ عوام و خاص بھی صاحب کتاب سے عقیدت و محبت کا رشتہ رکھتے ہیں. شیخ عبدالقادر صاحب کا تحریر کردہ دیباچہ علامہ اقبال اور ان کے قارئین کے درمیان مزید یگانت کا سبب ہے. دیباچے کے آخر میں شیخ عبدالقادر صاحب اقبال سے ملتمس ہیں کہ وہ فارسی کے ساتھ ساتھ اردو شاعری کی طرف متوجہ ہوں. ان کی خواہش پوری ہوئی اور علامہ اقبال کے اردو شعری مجموعے بال جبرئیل، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز کے عنوان سے شاعر مشرق، ترجمان حقیقت، حکیم الامت کی قدر و منزلت میں مزید اضافے کا سبب ہوئے.
انجمن حمایت الاسلام لاہور 24 ستمبر 1884 کو قائم ہوئی.شاعرِ مشرق، علاّمہ محمد اقبال کی انجمن حمایت الاسلام سے وابستگی نہ صرف اس ادارے بلکہ پاکستان کی تاریخ کا بھی ایک اہم باب ہے.
علاّمہ اقبال، انجمنِ حمایتِ اسلام، لاہور کو مسلمانوں کی تعلیم و تنظیم اور اشاعتِ دین کا موزوں پلیٹ فارم اور ذریعہ سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کے ساتھ ایک بار جو تعلق قائم ہوا، اُسے مَرتے دم تک منقطع نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے پہلی بار انجمن کے جلسے میں اپنی مشہور نظم، ’’نالۂ یتیم‘‘ پڑھی۔ پہلے انجمن کے جنرل سیکریٹری کے طورپر فرائض انجام دیے۔
شیخ عبدالقادر بانگِ درا کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ ابتدائی مشق کے دنوں کو چھوڑ کر اقبال کا اردو کلام بیسویں صدی کے آغاز سے کچھ پہلے شروع ہوتا ہے. 1901 سے غالباً دو تین سال پہلے میں نے انہیں پہلی مرتبہ لاہور کے ایک مشاعرے میں دیکھا. اس بزم میں ان کو ان کے چند ہم جماعت کھینچ کر لے آئے اور انہوں نے کہہ سن کر ایک غزل بھی پڑھائی. اس وقت تک لاہور میں لوگ اقبال سے واقف نہ تھے. چھوٹی سی غزل تھی. سادہ سے الفاظ اور زمین بھی مشکل نہ تھی، مگر کلام میں شوخی اور بے ساختہ پن موجود تھا. بہت پسند کی گئی. اس کے بعد وہ دو تین مرتبہ پھر اسی مشاعرے میں انہوں نے غزلیں پڑھیں اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ ایک ہونہار شاعر میدان میں آیا ہے. مگر یہ شہرت پہلے پہلے لاہور کے کالجوں کے طلبہ اور بعض ایسے لوگوں تک محدود رہی جو تعلیمی مشاغل سے تعلق رکھتے تھے. اتنے میں ایک ادبی مجلس قائم ہوئی جس میں مشاہیر شریک ہونے لگے اور نظم و نثر کے مضامین کی اس میں مانگ ہوئی.علامہ اقبال نے اس کے ایک جلسے میں اپنی وہ نظم جس میں کوہ ہمالہ سے خطاب ہے، پڑھ کر سنائی. اس میں انگریزی خیالات تھے اور فارسی بندشیں. اس پر خوبی یہ کہ وطن پرستی کی چاشنی اس میں موجود تھی. مذاق زمانہ اور ضرورت وقت کے موافق ہونے کے سبب بہت مقبول ہوئی اور کئی طرف سے فرمائشیں ہونے لگیں کہ اسے شائع کیا جائے، مگر علامہ اقبال نے یہ عزر کر کے ابھی نظر ثانی کی ضرورت ہے، اسے اپنے ساتھ لے گئے اور اس وقت چھپنے نہ پائی.اس بات کو تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ میں نے ادب اردو کی ترقی کے لیے رسالہ مخزن جاری کرنے کا ارادہ کیا. اس اثنا میں علامہ اقبال سے میری دوستانہ ملاقات پیدا ہو چکی تھی. میں نے ان سے وعدہ لیا کہ اس رسالے کے حصہ نظم کے لیے وہ نئے رنگ کی نظمیں مجھے دیا کریں گے. پہلا رسالہ شائع ہونے کو تھا کہ میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان سے کوئی نظم مانگی! انہوں نے کہا ابھی کوئی نظم تیار نہیں. میں نے کہا ہمالہ والی نظم دے دیجیئے اور دوسرے مہینے کے لیے کوئی اور لکھیے. انہوں نے اس نظم کے دینے میں پس و پیش کی کیونکہ انہیں یہ خیال تھا کہ اس میں کچھ خامیاں ہیں مگر میں دیکھ چکا تھا کہ وہ بہت مقبول ہوئی، اس لیے میں نے زبردستی وہ نظم ان سے لے لی اور مخزن کی پہلی جلد کے پہلے نمبر میں جو اپریل 1901 میں نکلا، شائع کر دی.
یہاں سے گویا اقبال کی اردو شاعری کا پبلک طور پر آغاز ہوا اور 1905 تک جب وہ ولایت گئے یہ سلسلہ جاری رہا. اس عرصے میں وہ عموماً مخزن کے ہر نمبر کے لیے کوئی نہ کوئی نظم لکھتے تھے اور جوں جوں لوگوں کو ان کی شاعری کا حال معلوم ہوتا گیا، جا بجا مختلف رسالوں اور
اخباروں سے فرمائشیں آنے لگیں اور انجمنیں اور مجالس درخواستیں کرنے لگیں کہ ان کے سالانہ جلسوں میں لوگوں کو وہ اپنے کلام سے محظوظ کریں. اقبال کا اردو کلام جو وقتاً فوقتاً 1901 سے لے کر آج تک رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوا اور انجمنوں میں پڑھا گیا، اس کے مجموعے کی اشاعت کے بہت لوگ خواہاں تھے. علامہ اقبال کے احباب بارہا تقاضا کرتے تھے کہ اردو کلام کا مجموعہ شائع کیا جائے مگر کئی وجوہات سے آج تک مجموعہ اردو شائع نہیں ہو سکا تھا. خدا کا شکر ہے کہ آخر اب شائقین کلام اردو کی یہ دیرینہ آرزو بر آئی اور اقبال کی اردو نظموں کا مجموعہ بانگ درا شائع ہوا.
نظم “ہمالہ” اقبالؒ کے پہلے شعری مجموعے “بانگِ درا” کی پہلی نظم ہے.
علامہ اقبال نے بانگ درا پیش کر کے کوشش کی کہ آؤ دوبارہ ایک ہو جائیں اور صفت سیل رواں چلیں اور ایک بار پھر اسی عروج پر واپس چلیں، جہاں خدا ہم سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
اقبال نوجوانوں کے سامنے اسلاف کی مثال رکھتے ہیں، تدبر اور کھوج کے لیے ان پر زور دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ تم ایسی قوم کے فرد ہو جس نے پوری دنیا کو بہترین نظام دیا۔ آج بھی اس نظام کی جڑیں باقی ہیں، تمہیں فقط ایک بار اس زرخیز مٹی کو نرم کرنا ہے۔ اس کام کے لیے اقبال نے نوجوانوں کو شاہین بننے کا درس دیا۔
علامہ اقبال کے پورے فکری نظام اور اس میں ہونے والی اردو و فارسی شاعری میں شاہین ایک بنیادی اور مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ شاہین کی درویشانہ خصوصیات ہیں۔
اقبال نے ’’بانگ درا‘‘ میں بچوں کے لیے بڑی خوبصورت اور سبق آموز نظمیں لکھیں۔ اس اولین مجموعے میں ایسی جاذبیت، کشش اور سحر انگیزی ہے جو دوسرے مجموعوں میں ناپید ہے۔’’ضرب کلیم‘‘ اور ’’بال جبریل‘‘ میں وہ فلسفی اور مفکر نظر آتے ہیں جب کہ ’’بانگ درا‘‘ میں وہ شاعر فطرت ہیں۔ تشبیہات کے حوالے سے اقبال کی بعض نظمیں جیسے ماہ نو، ہمالہ، بزم انجم، گل رنگیں، تصویر درد، ابر کوہسار، انسان اور بزم قدرت، ابر، اور پھول، تشبیہات کی قدرت کے حوالے سے نہایت پرتاثر، سادہ اور منفرد نظمیں ہیں.بچوں کے اقبال، جنھوں نے تقریباً نو نظمیں لکھی ہیں، جن میں سے بیشتر ماخوذ ہیں غالباً انگریزی سے، کیونکہ صرف دو نظموں ’’ہمدردی‘‘ اور ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ میں ولیم کوپر اور ایمرسن کے نام دیے گئے ہیں، بقیہ میں صرف ’’ماخوذ‘‘ لکھا گیا ہے. سب سے پہلی نظم ہے ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ اس میں جو کہانی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مکڑا جو کئی دنوں سے بھوکا تھا، اس کے جال کے پاس سے ایک مکھی کا گزر ہوا، مکڑے نے مکھی کی بہت خوشامد کی کہ وہ کچھ دیر کے لیے اس کے گھر میں مہمان بن کر آئے اور آرام کرے، لیکن مکھی بہت ہوشیار تھی، وہ جانتی تھی کہ مکڑے کے جال میں قدم رکھنے کا مطلب کیا ہے، یعنی وہ اسے بہلا پھسلا کر پھنسانا چاہتا ہے.اس نظم میں اقبال بچوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ خوشامد اور جھوٹی تعریف سے چالباز لوگ اپنا کام نکالنے کے ماہر ہوتے ہیں۔دوسری اہم نظم ہے ’’ہمدردی‘‘ اس نظم میں اقبال نے بچوں کو دوسروں کے کام آنے کی تلقین کی ہے اور کہا ہے کہ آدمی تو سب ہی ہوتے ہیں لیکن انسان وہ ہے جو دوسروں کے واسطے زندہ رہے، ہوتا یوں ہے کہ ایک بلبل دن بھر دانہ دنکا چگنے میں مصروف رہا، رات کب سر پہ آئی اسے پتہ ہی نہ چلا، جب چاروں طرف اندھیرا چھا گیا تو پریشانی نے اسے آ گھیرا کہ یا الٰہی اب میں اپنے آشیانے تک کیسے پہنچوں؟ ابھی بلبل آہ و زاری کر ہی رہا تھا کہ کہیں پاس ہی ایک جگنو اس کی آواز سن رہا تھا، اس نے بلبل کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ وہ پریشان نہ ہو۔ جگنو نے اسے کہا کہ اللہ نے اسے ایک ننھی سی مشعل دی ہے، وہ اس مشعل سے بلبل کو راستہ دکھائے گا تا کہ وہ اپنے آشیانے تک پہنچ سکے، جگنو نے اندھیری رات میں بلبل کے آگے اڑ کر اسے راستہ دکھایا اور اس طرح وہ اپنے گھونسلے تک آرام سے پہنچ گیا.
ایک گائے اور بکری‘‘ میں گائے کا شکوہ انسان سے ہے کہ وہ اس کا دودھ اپنے لیے استعمال کرتا ہے، لیکن بکری دوسرا رخ دیکھتی ہے، وہ گائے کو احساس دلاتی ہے کہ انسان نے تمہارے لیے چراگاہ بنائی ہے، جہاں تمہیں کسی جنگلی جانور کا ڈر نہیں، وہ تمہیں چارہ دیتا ہے، حفاظت کرتا ہے، دراصل اس نظم میں اقبال یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ زندگی کا روشن پہلو دیکھنا چاہیے، ہمیشہ منفی پہلوئوں کو سامنے نہیں رکھنا چاہیے، کیونکہ منفی سوچ انسان کو بیمار ڈال دیتی ہے، گائے بکری کی بات سن کر سوچتی ہے۔پرندے کی فریاد‘‘ میں آزادی کی اہمیت بتائی ہے، پرندوں کو قید کرنا اور انھیں پنجروں میں بند کرنا بڑا ہی غیر انسانی فعل ہے، پرندوں کی دنیا تو فضا کی وسعتیں ہیں نہ کہ قید تنہائی۔اقبال نے اس نظم میں آزادی کی نعمت کو اجاگر کیا ہے.
وہ نظم جسے ہم میں سے اکثریت نے اپنے اپنے اسکولوں میں اسمبلی کے وقت سنی اور پڑھی ہو گی۔ اس کا عنوان ہے… ’’بچے کی دعا‘‘
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
کتنے دلنشیں ہیں اس نظم کے بول، کانوں میں گھنٹیاں سی بجنے لگتی ہیں، اپنا اسکول، اساتذہ، دوست، اسکول کی زندگی ، اس میں کھلے پھول، بہت کچھ نظروں کے سامنے بکھر جاتا ہے..
اقبال نے مشہور نظم خطاب بہ جوانان میں نوجوانوں کو درس دیا اور سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ تم اپنے اسلاف کے طریقوں کو چھوڑ کر کامیابی حاصل کبھی نہیں کرسکتے، تمہیں ان کی پیروی کرنی چاہیے..
اس دور کی مشہور نظمیں خضر راہ، مسلم، شعاع آفتاب، نوید صبح،مسلمان اور تعلیم جدید، مذہب،شمع اور شاعر ، شکوہ، جواب شکوہ اور طلوع اسلام، شاعر کے ایسے ہی ولولہ انگیز جذبات سے لبریز ہیں۔ یہ ایسی غیر فانی اور لاجواب نظمیں ہیں کہ ان کا جواب اردو ادب تو کیا دنیا کی کسی زبان کی شاعری میں نہیں مل سکتا۔
بانگ درا کی یہی ولولہ انگیز شاعری تھی کہ جس نے قوم کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔یہی وہ کتاب ہے کہ جس کی تعلیمات نے برصغیر کی پژمردہ مسلم قوم کو اس کے وجود کا احساس دلایا.
یہ دعویٰ سے کہا جا سکتا ہے کہ اردو میں آج تک کوئی ایسی کتاب اشعار کی موجود نہیں ہے، جس میں خیالات کی یہ فراوانی ہو اور اس قدر مطالب و معانی یکجا ہوں، اور کیوں نہ ہو، ایک صدی کے چہارم حصے کے مطالعے اور تجربے اور مشاہدے کا نچوڑ اور سیر و سیاحت کا نتیجہ ہے۔ بعض نظموں میں ایک ایک شعر اور ایک ایک مصرعہ ایسا ہے کہ اس پر ایک مستقل مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ اقبال فطرت کے نظاروں سے آخری حد تک لطف اندوز ہونے کے قائل تھے۔ انھیں شہروں سے زیادہ بن اچھے لگتے تھے، وہ دریائے نیکر سے لے کے کنارِ راوی تک اسی حسن سے تسکین کا سامان دھونڈتے رہے۔ ’بانگِ درا‘ میں، ہمالہ، گلِ رنگیں، عہدِ طفلی، ابرِ کوہسار، اخترِ صبح، حسن و عشق، ایک شام، رات اور شاعر، تنہائی، جگنو، صبح کا ستارہ، محبت، فراق، ایک آرزو، شبنم اور ستارے اور کنار ِراوی جیسی بے شمار نظموں اور متعدد غزلوں میں ہمیں فطرت پرست، ماضی میں مست اور رومانیت میں پور پور بھیگا اقبال دکھائی دیتا ہے. انگریزی اور اُردو کے کلاسیکی ادب سے اقبال کے گہرے شغف سے تو سب لوگ آگاہ ہیں۔ ان کا نہ صرف مطالعہ غضب کا تھا بلکہ وہ اپنے اشعار میں پسندیدہ و محترم شخصیات کو باقاعدہ خراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں، جو ان کی عظمت کا ایک اور ثبوت ہے۔ ’بانگِ درا‘ میں مرزا غالب، سید کی لوحِ تُربت، داغ، شبلی و حالی، عرفی، شیکسپیئر وغیرہ جیسی نظموں میں ہمارا ایک حقیقی سخن شناس اقبال سے سامنا ہوتا ہے.
اقبال کی شاعری میں مقصد کو اوّلیت حاصل ہے۔ وہ اپنے کلام سے اقوام مشرق پر چھائی کاہلی اور جمود کو توڑنا چاہتے تھے اور اس کے لئے وہ عشق،عقل، مذہب، زندگی اور فن کو اک مخصوص زاویہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے یہاں دل کے ساتھ دماغ کی کارفرمائی نمایاں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا کلام محض فلسفیانہ اور حکیمانہ ہے اور اس میں شعریت کی کوئی کمی ہے۔ ان کے مفکرانہ کلام میں بھی سوز اور جذبہ کا گہرا گداز شامل ہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں اردو کے کلاسکی سرمایہ سے استفادہ کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ اردو شاعری کو نئی نئی اصطلاحات، تشبیہوں اور رموز و علائم کا اک خوبصورت ذخیرہ بھی عطا کیا۔ انھوں نے زبان کو حسب ضرورت برتا، کہیں روایت کا اتباع کیا تو کہیں اس سے انحراف۔ اقبال نے اردو شاعری سے حزن و قنوطیت کے عناصر ختم کر کے اس میں رجائیت، جوش اور نشاط آفرینی پیدا کی۔ اقبال کے یہاں فکر اور جذبہ کی ایسی آمیزش ہے کہ ان کے فلسفیانہ افکار ان کی داخلی کیفیات و واردات کا آئینہ بن گئے ہیں۔ اسی لئے ان کے فلسفہ میں کشش اور جاذبیت ہے۔ اقبال نے اپنے عہد اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کو ایسی زبان دی جو ہر طرح کے جذبات اور خیالات کو خوبصورتی کے ساتھ ادا کر سکے۔ ان کے بعد شروع ہونے والی ادبی تحریکیں کسی نہ کسی عنوان سے ان کے سحر میں گرفتار رہی ہیں۔ اردو کے تین عظیم شاعروں میں میرؔ کی شاعری اپنے قاری کو ان کا معتقد بناتی ہے، غالبؔ کی شاعری مرعوب و مسحور کرتی ہے اور اقبالؔ کی شاعری قاری کو ان کا گرویدہ اور شیدائی بناتی ہے۔
اقبال اک عہد شناس اور عہد ساز شاعر تھے۔ ان کی شاعری اک مخصوص نظام فکر سے روشنی حاصل کرتی ہے، جو انھوں نے مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کا گہرا مشاہدہ کرنے کے بعد مرتب کیا تھا اور محسوس کیا تھا کہ اعلیٰ انسانی قدروں کا جو زوال دونوں جگہ مختلف انداز میں انسانیت کو جکڑے ہوئے ہے اس کا حل ضروری ہے۔ خصوصاً مشرق کی بدحالی ان کو مضطرب رکھتی تھی اور وہ اس کے اسباب سے بھی واقف تھے لہٰذا انھوں نے انسانی زندگی کو سدھارنے اور اسے ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے اپنی شاعری کو وسیلہ بنایا۔ اقبال عظمت آدم کے علمبردار تھے۔ اور وہ کسی بخشی ہوئی جنت کی بجائے اپنے خون جگر سے خود اپنی جنت بنانے کے عمل کو زیادہ امکان پرور اور زیادہ حیات آفریں سمجھے تھے۔ اس کے لئے اس کا نسخہ تجویز کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا ’’اقوام مشرق کو یہ محسوس کر لینا چاہئے کہ زندگی اپنی حویلی میں کسی قسم کا انقلاب نہیں پیدا کر سکتی جب تک اس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب نہ پیدا ہو اور کوئی نئی دنیا اک خارجی وجود نہیں حاصل کر سکتی، جب تک اس کا وجود انسانوں کے ضمیر میں متشکّل نہ ہو۔‘‘ وہ مغرب کو روحانی طور پر بیمار تصور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس کی اصلاح اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس کی عقل ہوا و ہوس کی غلامی سے نجات حاصل کرکے ’’ادب خوردۂ دل‘‘ نہ ہو جائے۔ اور اس کے لئے سوز عشق ضروری ہے۔ اقبال کا عشق اردو شاعری اور تصوف کے روایتی عشق سے مختلف ہے۔ وہ ایسے عشق کے قائل تھے جو آرزوؤں میں وسعت پیدا کر کے حیات و کائنات کو مسخر کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عشق کو عمل سے استحکام ملتا ہے جبکہ عمل کے لئے یقین کا ہونا ضروری ہے اور یقین علم سے نہیں عشق سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ عشق، علم اورعقل کو لازم و ملزوم اور ایک کے بغیر دوسرے کو ادھورا سمجھتے تھے۔ عشق کے علاوہ اقبال کی دوسری اہم شعری اصطلاح ’’خودی‘‘ ہے۔ خودی سے اقبال کی مراد وہ اعلیٰ ترین انسانی صفات ہیں جن کی بدولت انسان کو اشرف المخلوقات کے بلند درجہ پر فائز کیا گیا ہے۔ اس خودی کو پیدا کرنے کے لئے جذبۂ عشق ضروری ہے کیونکہ عشق ہی خودی کی تکمیل کرتا ہے اور دونوں اک دوسرے سے قوت حاصل کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق اورعلم کی آمیزش سے فرد کی اصلاح اور معاشرہ کی تعمیر کا کام مکمل ہوتا ہے۔
علم و ادب کا ایسا شاہکار اب شاید ہی کوئی صدی پیدا کر پائے۔ اقبال کی دور اندیشی سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا، اقبال وہ سمندر ہیں جس میں جتنا ڈوب کر دیکھا جائے اتنا ہی اور ڈوبنے کا دل کرتا ہے۔ اقبال وہ ہیرا ہے جس کی آب و تاب آج بھی کئی دلوں میں تپش پیدا کر رہی ہے۔ کہیں کسی چنگاری کی بنیاد رکھ رہی ہے تو کہیں کسی دہکتے لاوے کو مزید دہکا رہی ہے۔ اقبال کو جب ہم پڑھتے ہیں تو ان کے الفاظ کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور اکثر وہ بات نظر انداز کرجاتے ہیں جو اقبال اصل میں کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،















