کیا آج کے علماء میں ایسی جرأت باقی ہے؟ ایک سوال
مسدس:
کیا آج کے علماء میں ایسی جرأت باقی ہے؟
(بند 1)
وہ علم کا سورج، وہ شرافت کا منارہ
وہ امتِ احمدؐ کے دل و جاں کا سہارا
وہ کھیت کا دہقاں، وہ ہر اک دل کا پیارا
جس نے کبھی ظلمت میں دکھایا تھا ستارا
اک ہاتھ میں تھی لکڑی تو اک ہاتھ میں کتاب
پھیلایا زمانے میں محبت کا گلاب
(بند 2)
منشی کا وہ بیٹا جو زمیں دارِ چمن تھا
پر ذوقِ تلاطم سے بھرا اس کا بدن تھا
علمِ نبویؐ اس کے لیے دیدہ و فن تھا
باطل کی صفوں کے لیے وہ شکوہِ فتن تھا
فیصل آباد کی مٹی کا وہ انمول نگیں تھا
حق بات پہ ڈٹ جائے، وہ ایسا ہی مکیں تھا
(بند 3)
عربی ہو یا فارسی، اردو ہو یا انگریز
ہر علم میں تھا اس کا قلم معرکہ انگیز
اسماءِ رجال اس کی نظر میں تھے سحر خیز
تحقیق کی دنیا میں وہ اک مردِ جگر خیز
محدث بھی، محقق بھی، وہ تاریخ کا غازی
مٹتی نہ تھی تاریخ سے اس مرد کی بازی
(بند 4)
جب ملک میں بارود کی اک آگ لگی تھی
فرقوں کی سیاست سے فضا کانپ رہی تھی
ہر سمت تعصب کی وبا ناچ رہی تھی
امت کی رگِ جاں سے قبا کھینچ رہی تھی
اس دورِ تلاطم میں وہ فولاد بنا تھا
مسلک کی فصیلوں کے لیے نادِ رسا تھا
(بند 5)
شیعہ ہو یا سنی، وہ ہر اک دل کا مکیں تھا
منبر پہ سجا حق کا وہ سلطانِ مبیں تھا
تفریق کے طوفاں میں وہ اک حصنِ حصیں تھا
محفل میں ہر اک مسلک کا انسان نشیں تھا
کہتا تھا کہ مذہب تو محبت کا پیاسا
فرقوں کی دکاں داری تو ہے محض تماشا
(بند 6)
الفتِ اہلِ بیتؑ کا وہ سچا سفیر تھا
حق گوئی کی دنیا میں وہ اک مردِ دلیر تھا
تھا عجز کا پیکر، مگر اسلاف کا شیر تھا
باطل کی دکاں کے لیے وہ نعرۂ تکبیر تھا
تاریخ کے ابواب کو جو اس نے کھنگالا
سچائی کا ہر سمت سے اک نور اچھالا
(بند 7)
جب ذکرِ علیؑ، ذکرِ حسنؑ و حسینؑ آیا
رویا وہ تڑپ کر، اسے تب چین نہ آیا
باطل کا کبھی سامنے وہ جھک نہ پایا
مخالفتوں کا اسے کچھ خوف نہ آیا
سچ بولنے کی قیمتِ جاں اس نے چکائی
پر حق کے بیانہ میں کبھی لچک نہ آئی
(بند 8)
مسجدِ کریمیہ کی وہ پرنور فضائیں
تھیں سنتی ادب سے جو خطیبوں کی صدائیں
دیتے تھے سبھی اس کو محبت سے دعائیں
عشاق چلے آتے تھے، طوفان اٹھائیں
عقلی و نقلی دلائل کا وہ انبار لگا تھا
ہر سننے والا قائلِ کردار ہوا تھا
(بند 9)
تنقید کے تیروں کو ہنس کر ہی جھیلا
حق بات پہ وہ مردِ خدا اکیلا کھیلا
دنیا کی ملامت کا نہ دیکھا کبھی میلا
تھا علم کا، عرفان کا وہ سچا سہیلا
تاریخ کے حساس ترین باب پہ بولا
ایمان کی ترازو میں ہر اک لفظ کو تولا
(بند 10)
اسی برس کی عمر میں وہ چراغ بجھ گیا
امت کو مگر ایک نیا راستہ دے گیا
محبت کا، اخلاص کا وہ فلسفہ دے گیا
بیمارِ تعصب کو وہ اک شفا دے گیا
اٹھّائیس اگست دو ہزار تیرہ کی وہ شام
روتی تھی زمیں، روتا تھا منبر کا مقام
(بند 11)
اب سوچتا ہوں بیٹھ کے میں دورِ مکرر
کیا آج کے منبر پہ ہے وہ جرأتِ حیدرؑ؟
کیا آج کا عالم ہے زمانے میں ابوذرؓ؟
یا بک گیا دینار پہ منبر کا سخن ور؟
سچائی کی خوشبو سے چمن خالی ہوا ہے
ہر شخص یہاں اپنے ہی مسلک کا گدا ہے
(بند 12)
آج کے علماء میں وہ تڑپ کیوں نہیں ملتی؟
فرقوں کی فصیلوں میں دراڑ کیوں نہیں پڑتی؟
امت کی رگِ جاں میں حیات کیوں نہیں دوڑتی؟
باطل سے کوئی جنگ و جدال کیوں نہیں کرتی؟
منبر سے تو بس نفرت کے پیغام اٹھتے ہیں
ریاکاری کے، شہرت کے یہ انعام اٹھتے ہیں
(بند 13)
مسلک کی دکاں چمکانے میں سب مست ہوئے ہیں
حق بات سے، تحقیق سے سب پست ہوئے ہیں
جذبات کے طوفان میں سب سست ہوئے ہیں
انصاف کے، اخلاص کے بت دست ہوئے ہیں
کوئی اسحاق مدنی سا محقق نہیں ملتا
بگڑے ہوئے دل کو جو بدل دے، نہیں ملتا
(بند 14)
کیا آج کے ملا میں ہے وہ جرأتِ اظہار؟
جو حق کے لیے کر دے کھڑا خود کو سرِ دار
یا بن گیا ہے مال و زر کا ہی وہ طلب گار؟
کیا خوفِ ملامت سے ہے وہ سہم کا شکار؟
مخالفتِ خلق سے جو ڈرنے لگے ہیں
وہ دین کی تبلیغ کہاں کرنے لگے ہیں!
(بند 15)
وہ کھیت کا لڑکا تو بڑا نام کر گیا
مٹی سے اٹھا، عرش کا پیغام کر گیا
دلوں کو جوڑنے کا وہ بڑا کام کر گیا
ہر مسلک کے انساں کو وہ رام کر گیا
آج کے پڑھے لکھے ہیں پر علم سے خالی
منبر پہ سجی بیٹھی ہے بس ایک قوالی
(بند 16)
اسلاف کی تاریخ کو تم یاد کرو اب
اسحاق مدنی کے مشن کو آباد کرو اب
امت کو تعصب سے تم آزاد کرو اب
اجاڑ چمن کو پھر سے شاداب کرو اب
جرأت ہو اگر دل میں تو سچ بول کے دیکھو
مسلک کے نہیں، حق کے ترازو کو تولو
(بند 17)
رندوں کی طرح محفلِ رنداں کو سجاؤ
شیعہ ہو یا سنی، سبھی کو پاس بٹھاؤ
دشمن کی سیاست کو خاک میں ملاؤ
الفت کے، اخوت کے ذرا دیپ جلاؤ
کیا آج کا عالم یہ فریضہ نبھائے گا؟
یا پھر سے تعصب کی ہی وہ آگ لگائے گا؟
(بند 18)
جرأتِ اسحاق مدنی اب خواب ہوئی ہے
سچائی کی یہ ناؤ تو غرقِ آب ہوئی ہے
ہر سمت مفادات کی اک جنگ کھڑی ہے
امت کی زبوں حالی پہ اک رات پڑی ہے
کہاں ہے وہ محقق جو رجال کا ہو دانا؟
حق بات کو دنیا میں جو سمجھے سلیقہ؟
(بند 19)
روشن ہے مگر آج بھی اس پاک کا پیغام
اتحادِ امت کا وہ انمول سا کلام
محبتِ اہلِ بیتؑ کا وہ دلکشا پیام
لیتے ہیں عقیدت سے سبھی اس کا اب نام
تاریخ نے مانا ہے اسے مردِ مجاہد
جس کے اخلاص کا زمانہ ہے شاہد
(بند 20)
اے آج کے علماء! ذرا سوچو تو سہی تم
منبر کی امانت کو ذرا تولو تو سہی تم
نفرت کے کواڑوں کو ذرا مولو تو سہی تم
اسحاق مدنی کی طرح سچ بولو تو سہی تم
گر جرأتِ اسحاق تمہارے اندر آ جائے
پھر سے اس امت کا مقدر جاگ جائے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
علمی سرقہ اور صاحبان علم و منبر
یہ ایک انتہائی حساس، علمی اور سنجیدہ موضوع ہے۔ ولایتِ فقیہ یا کسی بھی علمی و فکری نظریے پر مدلل بحث کرنا علم کا حسن ہے، لیکن جب یہ اختلاف ذاتی عناد، کردار کشی اور مساجد و امام بارگاہوں کے دروازے بند کرنے جیسی فسطائیت میں تبدیل ہو جائے، تو یہ علمی دیانت کا جنازہ اور اخلاقی پستی کی علامت بن جاتا ہے۔
لندن اور دیگر مقامات کے معروضی حالات، اور علمی سرقہ و اخلاقی زوال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، 21 بند پر مشتمل یہ مسدس ایسی نظم تحریر کی گئی ہے۔ یہ نظم جہاں تنقید کا حق دیتی ہے، وہاں اخلاقی حدود، علمی دیانت اور منبر کے تقدس کی یاد دہانی بھی کرواتی ہے۔
مسدس: علمی دیانت اور اخلاقی زوال
(1)
یہ دورِ عجب ہے کہ بدلنے لگے معیار
بکنے لگے بازار میں اب دین کے اسرار
تقویٰ کی جگہ لے گئی اب شوکت و گفتار
علمی ہے خیانت تو کہیں سرقہ کا بازار
منبر کا تقدس جو مٹانے پہ تلے ہیں
وہ راہِ ہدیٰ چھوڑ کے باطل پہ چلے ہیں
(2)
حق بات پہ تنقید تو مومن کا ہے شیوہ
پر طنز و تشنیع ہے بد اصل کا میوہ
کردار کو مسخ کرنا تو ہے ظلم کا شیوہ
ہو علم سے عاری تو یہی بنتا ہے شیوہ
گر فکر و نظریے سے کوئی اختلاف ہے
دلیل لاؤ، یہ کیا بغض کا غلاف ہے؟
(3)
اک سمت وہ رہبر ہے جو طوفاں میں کھڑا ہے
امت کی بقا کے لیے ہر گام لڑا ہے
صدمات اٹھائے ہیں مگر عزم بڑا ہے
تاریخ کی سطروں میں وہ ایثار لکھا ہے
غربت میں جیا، زہد کو اپنائے ہوئے ہے
کفر کے مقابل وہ سر اٹھائے ہوئے ہے
(4)
اور ایک طرف وہ ہیں جنہیں بس مال سے حب ہے
خطبے کے معاوضوں پہ ہی موقوف یہ سب ہے
پروٹوکول، نعرے، یہی جینے کا سبب ہے
انساں کا یہ موازنہ، کتنا بے ادب ہے!
رہبر کی شب و روز کی قربانی کہاں ہے؟
ان عیش پسندوں میں وہ پیشانی کہاں ہے؟
(5)
پردیس میں بیٹھے ہوئے کچھ نام نہاد آقا
لندن کی فضاؤں میں جو کرتے ہیں تماشا
کردار کشی بن گیا اب ان کا تو شیوہ
بھرتے ہیں تفرقے سے وہ ملت کا کاسہ
کہتے ہیں خود کو دین کا وارث و معمار
پر کام ہے بس تفرقہ بازی کا یہ بازار
(6)
مسجد ہے خدا کی، نہ کسی شخص کی جاگیر
کیوں بانٹ رہے ہو تم یہاں کفر کی تعزیر؟
مومن کو ہی مومن سے لڑانے کی یہ تدبیر
بدلنے چلی ہے اب شریعت کی یہ تصویر
مسجد کے، امام بارگاہ کے در بند نہ کیجے
بندوں کو خدا کے گھر سے محروم نہ کیجے
(7)
آئے کوئی سائل تو اسے تم ہو نکالتے
فرعون کی مانند ہو اب فیصلے کرتے
تقویٰ کا جنازہ تو ہے اس طرزِ عمل سے
کیوں دور ہو تم دین کے اخلاص و عمل سے؟
اسلام تو آیا تھا دلوں کو ہے جوڑنے
تم آئے ہو کیوں رشتہِ الفت کو توڑنے؟
(8)
علمی ہے سرقہ، کہ چرائی ہے زباں بھی
اور بیچ رہے ہو تم یہاں دین کا بیاں بھی
شہرہ تو بہت ہے، پر نہیں کوئی نشاں بھی
سوچو کہ دکھاؤ گے خدا کو تم وہاں کیا؟
منبر پہ جو بیٹھے ہو تو منبر کا حیا ہو
بندوں کے لیے تم نہ یوں قانونِ قضا ہو
(9)
تنقید کرو، پر ہو وہ آئینِ ادب میں
محفوظ رہے سنجیدگی اخلاق کے لب میں
یہ کیا کہ گالی ہی ابلتی ہے غضب میں
کیوں کھو گئے تم جاہل و نادان کے ڈھب میں؟
رہبر سے اگر اختلاف ہے تو دلیل لاؤ
یوں دشنام سے امت میں کوئی آگ نہ لگاؤ
(10)
جس شخص نے فقر و زہد میں زندگی گزاری
امت کی حفاظت میں کی جاں فیشانی ساری
پابندیاں، جنگیں اور وہ آلام کی باری
اس مردِ مجاہد پہ یہ تہمت ہے تمہاری؟
تم بیٹھ کے ساحل پہ جو طوفان کا کہو گے
خود غرقِ مذلت تم اسی بحر میں رہو گے
(11)
لیڈر وہ نہیں ہوتا جو نعروں سے بنے گا
یا نوٹ کے ٹکڑوں اور اشاروں سے بنے گا
وہ عزم و بصیرت کے ستاروں سے بنے گا
مظلوم کی آہوں کے سہاروں سے بنے گا
تم عیش کے بندے ہو، وہ ایثار کا پیکر
مٹی کا دیا کیسے بنے مہرِ منور؟
(12)
مسجد کی تولیت کا یہ انداز بدل دو
یہ نفرت و تفریق کا آغاز بدل دو
جو حق کی صدا ہے، وہ اب آواز بدل دو
باطن کو کرو صاف، یہ پرواز بدل دو
محراب سے گر بغض کی بو آنے لگے گی
یہ قوم اندھیروں میں ہی کھو جانے لگے گی
(13)
علمی ہے خیانت کہ چھپاتے ہو حقیقت
عوام کو سکھاتے ہو بس ذاتی عداوت
پیدا جو کرے قوم میں نفرت کی طبیعت
وہ دین نہیں ہے، وہ تو ہے عِینِ جہالت
بیدار کرو قوم کو، اخلاق سکھاؤ
تفریق کے اس گرتے ہوئے گھر کو بچاؤ
(14)
سرقہ ہے یہی، فکرِ بزرگان کو مٹانا
اور اپنی دکانداری کو ہر گام چمکانا
لفظوں کے ہیر پھیر سے جاہل کو بنانا
آسان سمجھ رکھا ہے منبر کو ہلانا
کل روزِ جزا تم کو بھی مسئول ہونا ہے
اس جرم پہ بارگاہِ الٰہی میں رونا ہے
(15)
وہ جو بھی مجتہد ہے، وہ لائقِ صد احترام ہے
ولایت کا جو منصب ہے، وہ دین کا نظام ہے
اس فہم سے عاری جو یہاں خاص و عام ہے
اس جہلِ مسلسل کا ہی تو یہ انجام ہے
تم توڑ رہے ہو جو عقیدت کے مصلے
کھو جاؤ گے تاریخ میں اے کبر کے پلے
(16)
لندن کی مساجد کے جو بن بیٹھے ہیں والی
کردار ہے جاہل کا اور فکر ہے خالی
مومن کو نکالیں، یہ ہے کیسی کوتوالی؟
امت تو تماشائی ہے، منبر ہے سوالی
روکو یہ ستم، ورنہ خدا کا غضب آئے گا
جب وقت پلٹ کر تمہارا حساب لائے گا
(17)
تمثیل بدلنے سے حقیقت نہیں چھپتی
کردار کی عظمت کبھی پیسوں سے نہیں بکتی
حق بات تو وہ ہے جو ہے طوفان میں ڈٹتی
باطل کی ہواؤں سے جو شمع نہیں بجھتی
رہبر کی بصیرت ہے کہ اب کفر ہے لرزاں
اور تم ہو کہ اپنوں ہی کے خوں کے ہو خواہاں
(18)
تنبیہ ہے یہ تم کو کہ اخلاق سنبھالو
اس دل سے حسد اور یہ کینہ تو نکالو
گر علم ہے پاس، تو کوئی برہان ہی لاؤ
یوں مٹی اچھال کے نہ تم خود کو گراؤ
منبر کا تقاضا ہے کہ ہادی بنو تم
تفریق کی اس آگ کی نادی بنو نہ تم
(19)
جو لوگ حقیقت میں ہیں لیڈر و رہبر
ان کا تو بسیرا ہے دلِ امت کے اندر
وہ خوف سے عاری ہیں، جری ہیں وہ دلاور
امدادِ خداوندی ہے ہر گام ان کے سر پر
تم تنقید کے نشتر سے انہیں چھو نہ سکو گے
تاریخ کے کوڑے میں تم خود ہی گرو گے
(20)
آؤ کہ اب اس علمی خیانت کو مٹائیں
تفریق کی اس رسمِ ملامت کو مٹائیں
مساجد سے ہر اک رنگِ سیاست کو مٹائیں
ہم علم و دیانت کی ہی شمع کو جلائیں
تقویٰ کی فضا ہو، نہ کہ نفرت کا فسانہ
سیکھے گا تمہی سے تو پھر یہ سارا زمانہ
(21)
مصرع ہے یہی آخری، اے صاحبِ منبر!
اللہ کے گھر کو نہ بناؤ تم کوئی ڈر
انصاف کرو، علم کی لاج رکھو سر پر
کردار جھلکتا ہو تمہارا بھی سخن پر
اخلاق کی حد میں جو رہے، وہ ہے دانا
ورنہ تو جہنم کا ہے بس ایک ٹھکانا
حاصلِ کلام:
یہ مسدس اس امر کی جانب متوجہ کرتی ہے کہ فکری اختلافات اپنی جگہ، لیکن منبر و محراب کا استعمال ذاتی عناد، علمی چوری (سرقہ) اور مساجد و امام بارگاہوں میں مومنین پر پابندی لگانے کے لیے کرنا صریحاً ظلم ہے۔ قیادت کا معیار عیش و عشرت یا خطابت کے معاوضے نہیں بلکہ میدانِ عمل کی قربانیاں اور تقویٰ ہوتا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مسدسِ عاشور و حادی عشر
(1)
تھا دور وہ قدیم، ابلاغ تھا کٹھن
پیغامِ حق کی راہ میں حائل تھے سو جتن
محدود تھے ذرائع اور دور تھا وطن
پہنچے نہ وقت پر کوئی، ایسی تھی انجمن
لیکن ستم کی بات کہ باطل کی ہر خبر
پھیلی ہوا کی طرح ادھر سے ادھر مگر
(2)
آئی جو فجرِ حادیِ عشر تو ناگہاں
کوفے میں سُن کے مژدہ اٹھی شورِ شادماں
پہنچی وہاں یہ رمزِ ستم با دلِ تپاں
مقتل میں سو گیا ہے نبیؐ کا وہ لاڈلاں
ابنِ زیادِ شوم کو تسکین ہو گئی
آلِ نبیؐ پہ دہر میں سنگین ہو گئی
(3)
بے بس حکومت کو نہ تھا اس پر کچھ اعتبار
کیونکہ تھے قاصدانِ حکومت ہی بے وقار
آئی تھی خود سپاہِ ستم سے یہ پکار
یوں عصر کے خنجروں نے کیا مقتل کو تار تار
سلطانِ وقتِ ظلم نے مژدہ سنا دیا
طاغوت نے مسرتوں کا در سجا دیا
(4)
مشرق سے تا بہ مغرب و دمشقِ جفا شعار
بھیجے گئے جو قاصدِ باطل قطار در قطار
دربارِ یزیدِ شوم میں پہنچی یہ پکار
روشن ہے اب تو تختِ ستم کا یہ کاروبار
قتلِ حسینؑ کر کے وہ سمجھے تھے جیت ہے
غافل تھے اس سے، فتح تو ابنِ علیؑ کی ریت ہے
(5)
پھر رفتہ رفتہ خلق میں پہنچی یہ داستاں
روئے زمین پہ پھیل گیا درد کا سماں
عوام کے کانوں میں گیا نوحہ و فغاں
خونِ حسینؑ بہہ گیا، سنسان ہے مکاں
تاریخ کا یہ سلسلہ رکتا نہیں کہیں
ہر سال اولِ محرم کو گونجتی ہے زمیں
(6)
آج بھی وہی ہے نشرِ قدرت کا معجزہ
پہلی محرم آتے ہی دل ہے سوختہ
آفاق سے ہے آتی حسینؑ کی ہی یہ صدا
مقتل پکارتا ہے کہ دیکھو ادھر ذرا
ہر سال کائنات ہی ماتم مناتی ہے
مظلومِ کربلا کی یہ شہادت سناتی ہے
(7)
حکومتی خوشی کے مقابل جو خلق تھی
دو دھڑوں میں وہ قومِ جہاں منقسم ہوئی
اک سمت وہ تھی جس کی بصیرت ہی کھو گئی
اک سمت وہ جو غم میں نبیؐ کے ہی رو پڑی
اک دھڑے نے تو ابنِ نبیؐ کا کیا ملال
اک دھڑے نے خوشی میں گذارے مہ و سال
(8)
باطل کی چال پہ جو چلتے رہے سدا
حکمِ ستم پہ جشن مناتے رہے بجا
افسوس سے نہ جن کا کبھی دل پگھل سکا
آلِ نبیؐ کے درد کو جن نے ہنسی کہا
پہچان ان کی دہر میں اب تک سسکتی ہے
ان کی روش ہی ظلم کی بھٹی میں پکتی ہے
(9)
اے قادرِ مطلق! اے شہنشاہِ دوعالم!
سنتے ہیں جو حسینؑ کا یہ تذکرہ و غم
اور پھر بھی مسرتوں کے اٹھاتے ہیں وہ قدم
ملعون ہیں وہ دہر میں، خوار و زبوں شیم
جنت کا ان کے واسطے کوئی محل نہیں
دوزخ کا وہ بنیں گے اب ایندھن، بدل نہیں
(10)
ان خوشیوں پہ تاقیامت رہے گی خدا کی مار
جن کا دلِ لعین ہے جفاکار و نابکار
افسوس و رنج و غم کا یہ اب تک ہے کارزار
جاری رہے گا حشر تک یہ دردِ بے کنار
مٹتے نہیں ہیں نقش جو خونِ بتولؑ کے
زندہ ہیں آج تک وہ نواسے رسولؐ کے
(11)
بناوُٹ کی یہ خوشی ہے نہ بناوُٹ کا یہ ملال
جذبے ہیں یہ دلی، نہ یہ صوری ہیں کچھ خصال
کیفیتِ قلبی ہے یہ، الٰہی کا ہے جلال
اندر کا جو بھی حال ہے، واقف ہے ذوالجلال
انسان چھپا سکے گا نہ اپنے ضمیر کو
پہچانتا ہے حق ہی تو شاہ و فقیر کو
(12)
دکھلاوے کی غمی بھی تو ہوتی ہے بے اثر
اللہ جانتا ہے جو پوشیدہ ہے ادھر
اخلاصِ دل سے روئے جو مولا کی یاد میں
پاتا ہے وہ مقام ہی حق کی بساط میں
مقبول ہیں وہی جو عقیدت میں چُور ہیں
آلِ نبیؐ کے غم سے جو دل ناصبور ہیں
(13)
رکھتا ہے جو بھی بغضِ حسینؑ اپنے دل کے بیچ
زندہ نہیں ہے دہر میں ہے وہ خاک سے بھی نیچ
لعنت ہو اس پہ نسلوں پہ، ہر سانس بیچ بیچ
طاغوت کا وہ یاور ہے، فتنہ ہے پیچ پیچ
ملعون ہے وہ نسل جو مقتل پہ ہنس پڑی
آلِ رسولِ پاکؐ کے لاشوں پہ چڑھ کھڑی
(14)
ہر عہد کا یزید ہو رسوا و خوار و زار
ابنِ زیادِ عصر پہ لعنت ہو بے شمار
مٹ جائے کائنات سے باطل کا اقتدار
پھیلے جہاں میں عدلِ حسینیؑ کا اب نکھار
دشمن جو تھے حسینؑ کے، برباد ہو گئے
مٹی میں مل کے ظلم کے ایجاد ہو گئے
(15)
خیامِ زینبؑ کی امامت کی پہلی فجرِ ستم مآب
دے گی یزیدیت کو قیامت تک یہ جواب
زندہ ہے کربلا میں حسینؑ ابنِ علی جناب
عباس ہے دہر میں زہراؑ کا ماہتاب
لعنت ہو ان پہ جن کا دلِ دشمنی رہا
زندہ حسینؑ، مردہ یزیدِ دَنی رہا
(16)
انکارِ بیعتِ شہِ والا کی بات ہے
یہ کبریا کے دین کی بقا کی بات ہے
باطل کے سامنے نہ جھکنے کی بات ہے
مقتل میں سرفرازی و رضا کی بات ہے
سلطانِ کربلا کی شہادت نے ایسا سبق دیا
طاغوت کی بیعت کا ہر اک رخ ورق کیا
مولا حسین علیہ السلام آپ کی اس قلمی محبت اور عقیدت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں۔ آمین۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مسدس: کربلا اور آج کا انسان
(۱)
مقصودِ کربلا ہے کہ بیدار ہو بشر
اندر کی یزیدیت کا مٹائے وہ ہر اثر
پھیلا ہوا ہے چار سو پھر ظلم کا شجر
انساں ہے اپنے نفس کے ہاتھوں میں بے خبر
سجدوں میں سر جھکانے سے ملتا نہیں کمال
کردار میں حسینؑ کی سیرت کا ہو جمال
(۲)
لالچ کا، حرص و مال کا طوفان ہے بپا
بھولے ہیں لوگ حق کی صدا، خوفِ کبریا
ہر سمت منافقت کا ہی سکہ ہے چل رہا
چہروں پہ دوستوں کے ہے دشمن کا آئنہ
پہچاننا ہے فرض ہمیں آج کا یزید
جو کر رہا ہے انسانیت کا لہو خرید
(۳)
ظالم کا ساتھ دینا ہی سب سے بڑا ہے پاپ
مظلوم کی پکار پہ جو ہو گیا ہے چپ
دنیا کی مصلحت میں جو بدلے ہے اپنے روپ
کوفے کی بزدلی کی وہ اوڑھے ہوئے ہے دھوپ
جو حق کی بات کہنے سے کترائے آج بھی
وہ کوفیوں کی صف میں ہی کہلائے آج بھی
(۴)
اندر کی یزیدیت کو جو مٹاتا نہیں کوئی
غیرت کے تازیانے سے جگاتا نہیں کوئی
انصاف کی شمع کو جلاتا نہیں کوئی
حسینیؑ راستے پہ قدم بڑھاتا نہیں کوئی
صرف اشک بہانے سے تو مقصد نہ پائے گا
کردار جب بنے گا تو حرؑ بن کے آئے گا
(۵)
آج کے دور میں بھی ہے غربت کی ایک کرب
طاقت کے نشے میں ہے کوئی مشرق و مغرب
کمزور پس رہا ہے، ہے حاکم کا غیظ و غضب
قانون بک رہا ہے یہاں، بھولے سب نسب
فرعونیت کی چال کو سمجھو ذرا میاں!
شبیرؑ کا علم ہے حقیقت میں اب اماں
(۶)
سودا کیا ہے دین کا دنیا کے واسطے
بدلے ہیں لوگوں نے یہاں حق کے ہی راستے
رشوت، فریب، جھوٹ کے جالے ہیں کسرتے
انساں بنے ہیں نفس کی لذت کے داس تھے
اس قیدِ بندگی سے نکلنا ہی دین ہے
باطل کے سامنے نہ لچکنا ہی دین ہے
(۷)
کرب و بلا کا درس تو ایثار و صبر تھا
ہر ظلم کے خلاف ایک روشن سحر تھا
اصغرؑ کے مسکرانے میں اک ایسا اثر تھا
جس نے یزیدی فکر کا ہر تیر جڑ سے کاٹا
ہم نے تو صرف پیاس کی تاریخ دی بنا
جبکہ وہ جنگ فکر کی تھی، حق کا تھا سدا
(۸)
اٹھو کہ آج ظلم کی دیوار توڑ دیں
اپنے دلوں سے لالچ و نفرت کو چھوڑ دیں
رخ اپنا کبر و ناز سے حق کی طرف موڑ دیں
رشتے منافقت کے زمانے سے توڑ دیں
ہر دل میں کربلا کا اک میدان ہونا چاہیے
باطل سے لڑنے کا وہی ارمان ہونا چاہیے
(۹)
علم و شعورِ عصر سے غافل نہ ہو کوئی
مظلوم کا جہاں میں مقدر نہ ہو روئی
سیرت حسینؑ کی اگر حرزِ جاں بنی
بدلے گی کائنات، حقیقت یہی چُنی
شبیرؑ کی پکار ہے: “ہل من” کی اب صدا
کیا نفس کے یزید کو تم نے ہرا دیا؟
(۱۰)
آؤ کریں یہ عہد کہ سچے بنیں گے ہم
انصاف کی، خلوص کی شمعیں بنیں گے ہم
تاریک راستوں میں ستارے بنیں گے ہم
مظلومِ کائنات کا بازو بنیں گے ہم
مٹ جائے گی یزیدیتِ عصرِ نو تمام
جب فکرِ حسینیؑ کو کریں گے ہم عام
ذکرِ علمدارؑ، تاریخِ علم اور مصائبِ اہل بیتؑ
(۱۱)
عباسؑ نام ہے شہِ دیں کے وقار کا
مظہر ہے جو بشر کے لیے افتخار کا
مرکز ہے کائنات میں جو اعتبار کا
حسینؑ سا ہے راہبر اس شہسوار کا
بازو کٹے، علم نہ مگر سرنگوں ہوا
وہ کربلا میں دینِ خدا کا ستوں ہوا
(۱۲)
تاریخِ پرچم و علم غازیؑ سے جلی ہے
یہ شانِ علمداری ہمیں ان سے ملی ہے
باطل کی صف غازیؑ کی شجاعت سے ہلی ہے
روشن اسی جذبے سے امامت کی کلی ہے
عباسؑ کا علم ہے علامت ثبات کی
تسلیم و رضا، عزم و یقین، اور نجات کی
(۱۳)
اجداد کے علم کا غازیؑ وراثت کا رکھوالا
شانے کٹے تو دانتوں سے مشکیزہ سنبھالا
خونیں ہوا پرچم، مگر عباسؑ نے پالا
گر کر فرس سے شہؑ کو پکارا میرے مولا!
عزمِ حسینؑ قلعہ بنا، بن بازو کی لاش پر
خیموں میں کہرام اٹھا، علمِ پاش پاش پر
(۱۴)
جب لائے شہؑ خیموں میں علمدار کا ماتم
زینبؑ نے پکارا کہ لٹیں اب پئے بیش و کم
سکینہؑ تڑپ کر کہے “عمو! نہیں پانی کا غم”
بچوں میں مچا شور کہ ٹوٹا ہے اب اک رم
اطفالِ حزیں روئے پچھاڑیں کھا کھا کر
عباسؑ گئے، چھن گئیں ردائے سرِ اطہر
(۱۵)
مخدراتِ عصمت کا وہیں بین ہوا آغاز
پرواز کر گیا ہے اب اس خیمے کا وہ شہباز
عباسؑ کے جانے سے لٹا زینبؑ کا بھی اعزاز
اب لوٹنے آئیں گے شقی بدلے ہوئے انداز
غازیؑ کے بنا بے بس و ناچار ہوئیں ہم
سجادؑ کی بے تابی کا آزار ہوئیں ہم
(۱۶)
آج بھی عباسؑ کا علم دے رہا ہے درس
باطل کا ہو جو سامنا, کھاؤ نہ کوئی ترس
توڑو منافقت کے یہ زنجیر و خار و خس
دریائے ظلم کو کرے غازیؑ کا علم تہس نہس
جب تک دلوں میں جذبہِ عباسؑ زندہ ہے
ہر دور میں یزید تو بس اک درندہ ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*کربلا کا سب سے چھوٹا بہادر فاتح*
*عصر کا وقت تھا*۔
_کربلا کے افق پر سورج دھیرے دھیرے جھک رہا تھا، مگر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آج وہ بھی غروب ہونے سے ہچکچا رہا ہو_۔
تپتی ہوئی ریت پر خون کے دھبے بکھرے تھے اور ہوا میں ایک عجیب سی اداسی تیر رہی تھی۔
*میدان تقریباً خاموش تھا*۔
وہی میدان جو چند گھنٹے پہلے تک تکبیروں، للکاروں اور تلواروں کی جھنکار سے گونج رہا تھا، اب خاموش تھا *جیسے خود تاریخ سانس روک کر کسی آخری منظر کی منتظر ہو*۔
*امام حسینؑ تنہا کھڑے تھے*۔
*ان کے گرد نہ بھائی عباسؑ تھے، نہ جوان بیٹے علی اکبرؑ، نہ وفادار اصحاب*۔
*سب اپنے خون سے وفا کی داستان لکھ کر جا چکے تھے*۔
`اب صرف ایک امام تھے`اور ان کے سامنے ہزاروں کا لشکر`
*امامؑ نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر خیموں کی سمت نگاہ اٹھائی*۔
*خیمے* !!!!
`جہاں معصوم بچے پیاس سے بلک رہے تھے`۔
`جہاں ماؤں کی آنکھوں میں آنسو خشک ہو چکے تھے`۔
`جہاں صبر بھی تھکنے لگا تھا`۔
*تب اچانک فضا میں ایک آواز بلند ہوئی*۔
ایسی آواز جس کی بازگشت صدیوں سے سنائی دے رہی ہے۔
`ہل من ناصرٍ ینصرنا`
`کیا کوئی ہے جو ہماری مدد کرے`؟
_ایک لمحے کے لیے ایسا لگا جیسے وقت رک گیا ہو_۔
_ہوا ٹھہر گئی_۔
_ریت کے ذرات معلق ہو گئے_۔
_اور آسمان جھک کر سننے لگا_۔
`یہ مدد کی عام پکار نہ تھی`
`یہ حق کی طرف سے پوری انسانیت کے ضمیر کو دی جانے والی آخری دستک تھی`۔
_خیموں کے اندر ایک ماں بیٹھی تھی_۔
_اس کی گود میں چھ ماہ کا ایک معصوم بچہ تھا_۔
_بچہ کئی دنوں کی پیاس سے نڈھال تھا_۔
_اس کے ہونٹوں کی سرخی مدت پہلے رخصت ہو چکی تھی_۔
`آنکھوں میں زندگی کی لو مدھم ضرور تھی، مگر ابھی بجھی نہیں تھی`۔
ماں اسے سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ باہر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک جنگ نہیں…
`تاریخ کا فیصلہ ہے`۔
`اسی دوران خیمے کا پردہ آہستہ سے ہلا`۔
*امام حسینؑ اندر تشریف لائے*۔
*ان کی نگاہ جیسے ہی بچے پر پڑی، چند لمحوں کے لیے سکوت چھا گیا*۔
`یہ باپ اور بیٹے کی ملاقات تھی`۔
مگر ایسی ملاقات جس کے بعد جدائی لکھی جا چکی تھی۔
حضرت ربابؑ نے بچے کو اٹھایا۔
ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی۔
پھر اپنے لرزتے ہونٹ اس کی پیشانی پر رکھ دیے۔
`ممتا رو رہی تھی`
`لیکن ایمان آنسوؤں سے زیادہ طاقتور تھا`۔
`انہوں نے خاموشی سے بچہ امامؑ کی آغوش میں دے دیا`۔
*امام حسینؑ نے ننھے وجود کو اپنے سینے سے لگایا اور خیمے سے باہر نکل آئے*۔
`لشکرِ یزید حیرت سے یہ منظر دیکھ رہا تھا`۔
`ہزاروں تلواروں کے سامنے آج ایک باپ آیا تھا`۔
`لیکن اس کے ہاتھ میں تلوار نہیں تھی`۔
ایک پیاسا بچہ تھا۔
سرگوشیاں ہونے لگیں
“یہ کون ہے؟”
کیا کرنے آئے ہیں؟
“اب کیا ہوگا؟”
`امامؑ آگے بڑھے`۔
`پھر بلند آواز میں فرمایا`:
*اگر تمہارا اختلاف مجھ سے ہے تو اس معصوم کا کیا قصور ہے؟ اگر مجھے پانی نہیں دینا چاہتے تو نہ دو، مگر اس بچے پر تو رحم کرو*۔
`الفاظ ختم ہو گئے`
`مگر ان کی گونج باقی رہی`۔
`لشکر کی صفوں میں بے چینی دوڑ گئی`۔
`کئی نظریں جھک گئیں`۔
کئی دل کانپ اٹھے۔
کئی چہروں پر ندامت ابھر آئی۔
`ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید انسانیت ابھی مکمل طور پر مری نہیں`۔
`شاید کوئی اٹھے گا`۔
`شاید کوئی پانی لے آئے گا`۔
`شاید`…
•مگر ظلم جب اپنے انجام کے قریب ہوتا ہے تو سب سے زیادہ وحشی ہو جاتا ہے۔
•صفوں کے پیچھے ایک شخص کھڑا تھا•۔
•اس کے ہاتھ میں کمان تھی•۔
•آنکھوں میں سنگ دلی تھی۔
اور دل میں خوف۔
`خوف اس بات کا کہ کہیں ایک معصوم بچہ ہزاروں `تلواروں کو شکست نہ دے دے`۔
•اچانک حکم صادر ہوا۔
مختصر
`مگر تاریخ کا سیاہ ترین حکم`۔
`کمان تن گئی`۔
`تیر چڑھ گیا`۔
`فضا پر عجیب خاموشی چھا گئی`۔
`کسی کو محسوس نہ ہوا کہ اگلے چند لمحوں میں تاریخ کا سب سے دردناک باب لکھا جانے والا ہے`۔
`پھر` !
ایک سنسناہٹ اٹھی۔
ہوا کا سینہ چیرتی ہوئی۔
وقت کو زخمی کرتی ہوئی۔
`اور اگلے ہی لمحے`
`ننھی گردن خون میں نہا گئی`۔
`آسمان ساکت ہو گیا`۔
`زمین گونگی ہو گئی`۔
`اور انسانیت اشک بار`۔
`امام حسینؑ نے اپنے ننھے شہید کو سینے سے لگا لیا`۔
*مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس لمحے شکست حسینؑ کی نہیں ہوئی تھی*۔
*شکست تو اس لشکر کی ہوئی تھی جس نے اپنی پوری طاقت ایک پیاسے بچے کے مقابلے میں استعمال کر دی تھی*۔
`وہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے ایک بچے کو خاموش کر دیا ہے`۔
`مگر حقیقت یہ تھی کہ اسی لمحے ایک ایسی آواز جنم لے چکی تھی جو قیامت تک خاموش نہیں ہوگی`۔
`آج بھی جب کربلا کا ذکر ہوتا ہے تو تلواروں سے پہلے ایک ننھی پیاس یاد آتی ہے`۔
`نیزوں سے پہلے ایک معصوم گردن یاد آتی ہے`۔
`اور لشکروں سے پہلے ایک چھ ماہ کا بچہ یاد آتا ہے`۔
*کیونکہ کربلا نے دنیا کو سکھا دیا کہ بعض اوقات تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب تلواروں سے نہیں، بلکہ معصوم خون کے چند قطروں سے برپا ہوتے ہیں*۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
آج کی مجالس اور طریقہ بندگی اور کربلا یا زر کی ہوس میں طولانی اسفار پر ایک تنقیدی و فکری جائزہ :
انسان کا وجود ہمیشہ سے دو متضاد راستوں کے درمیان سفر گزیں رہا ہے: ایک بندگی کا راستہ اور دوسرا مادی ہوس کا۔
طریقہ بندگی کا عروج میدانِ کربلا میں نظر آتا ہے، جہاں سفر کا مقصد روح کی آزادی اور حق کی سربلندی تھا۔
دوسری طرف، دورِ حاضر کا انسان زر کی ہوس میں اندھا ہو کر لامتناہی اور بے مقصد طولانی اسفار میں مصروف ہے۔
کربلا کا سفر ایک جغرافیائی فاصلہ نہیں، بلکہ نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ تک کا ایک عظیم روحانی ارتقا تھا۔
امام حسینؑ نے سکھایا کہ بندگی کا اصل طریقہ یہ ہے کہ خدا کی رضا کے سامنے اپنی جان، مال اور اولاد سب کچھ قربان کر دی جائے۔
اس کے برعکس، آج کا انسان کوڑیوں کے عوض اپنے ضمیر، سکون اور اقدار کا سودا کر کے دیارِ غیر کے اسفار اختیار کر رہا ہے۔
کربلا میں بھوک اور پیاس کی شدت تو تھی، مگر وہاں عزتِ نفس اور بندگی کا وہ مقام تھا جس پر فرشتے بھی ناز کرتے ہیں۔
جبکہ زر کی ہوس میں کیے جانے والے اسفار انسان کو آسائشیں تو دے سکتے ہیں، مگر دل کا اطمینان اور روح کا چین چھین لیتے ہیں۔
بندگی کا تقاضا ہے کہ انسان حق پر ڈٹ جائے، خواہ سامنے پوری دنیا کی مادی طاقت اور فرعونی لشکر ہی کیوں نہ ہو۔
مادی اسفار کی بنیاد “زیادہ سے زیادہ پانے” کی حرص پر ہے، جو انسان کو کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتی۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا مقصد طولِ عمر یا جمعِ مال نہیں، بلکہ بندگیِ رب کی خاطر جینا اور مرنا ہے۔
آج دنیاوی ترقی کی دوڑ نے انسان کو ایک ایسے سفر پر روانہ کر دیا ہے جس کی کوئی منزلِ مقصود نظر نہیں آتی۔
ہم نے زر کی خاطر اپنے پیاروں کو چھوڑا، رشتوں کو پسِ پشت ڈالا اور وطن سے دوریاں اختیار کر لیں۔
لیکن کربلا کے مسافروں نے خدا کی خاطر سب کچھ چھوڑا، تاکہ انسانیت کو ہمیشہ کے لیے اخلاقی موت سے بچایا جا سکے۔
سرمایہ دارانہ نظام نے بندگی کے تصور کو مسخ کر کے انسان کو صرف ایک کمانے والی مشین میں تبدیل کر دیا ہے۔
سچی بندگی کا مرکز دل کی بیداری ہے، جبکہ زر کی ہوس انسان کے اندر کی حسِ لطیف کو مار دیتی ہے۔
کربلا کی مٹی گواہ ہے کہ وہاں خون بہا کر بندگی کی وہ تاریخ لکھی گئی جسے وقت کی کوئی موج مٹا نہیں سکتی۔
مگر مادی دنیا کے طولانی سفر محض چند کاغذ کے ٹکڑوں (پیسوں) کے حصول پر ختم ہو کر خاک ہو جاتے ہیں۔
حسین ابن علیؑ کا سفر مدینہ سے کربلا تک، دراصل انسانیت کو مادی غلامی سے نکال کر الٰہی بندگی میں لانے کا نام تھا۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم کربلا کا ذکر تو سنتے ہیں، مگر ہماری عملی زندگی زر کی ہوس کے اسفار سے عبارت ہے۔
ہم نے سجدوں کی روح کو کھو دیا ہے اور ہماری بندگی بھی اب دنیاوی مفادات کے تابع ہو چکی ہے۔
کربلا ایک ابدی آئینہ ہے جو ہمیں ہر دور میں یہ بتاتا ہے کہ حق اور باطل کی لکیر کہاں کھینچی جانی چاہیے۔
زر کی ہوس انسان کو حریص، خود غرض اور سنگدل بنا دیتی ہے، جہاں رشتوں کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔
کربلا کی قربانیوں کا تنقیدی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں مادیت پر روحانیت کو مکمل فتح حاصل ہوئی۔
ہم دنیا گھوم لیتے ہیں، سات سمندر پار چلے جاتے ہیں، مگر اپنے اندر کی بندگی کا سفر کبھی شروع نہیں کر پاتے۔
جب تک انسان زر کی غلامی سے نجات حاصل نہیں کرتا، وہ طریقہ بندگی کے اسرار و رموز کو پا ہی نہیں سکتا۔
جدید دور کا انسان معاشی ترقی کے نام پر دردر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے، مگر اس کی روح پیاسی ہے۔
کربلا کا تشنہ لب مسافر رہتی دنیا تک کے لیے سیرابی کا وہ سرچشمہ بن گیا جو روحوں کو جلا بخشتا ہے۔
ہمیں اپنے اسفار کے مقاصد پر نظرثانی کرنی ہوگی کہ آیا ہم قارون کے راستے پر ہیں یا حسینؑ کے نقشِ قدم پر۔
خلاصہ یہ کہ بندگی کا سفر ہی انسان کو معراج عطا کرتا ہے، جبکہ زر کی ہوس کا سفر صرف مٹی کو مٹی میں ملانے کا نام ہے۔
…………………………..
آج کی بات میں ایک بہت ہی کڑوا سچ اور گہرا درد چھپا ہے، جس سے انکار ممکن ہی نہیں۔ جہاں کربلا کا مقصد انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑنا اور اسے مصلحت پسندی سے نکال کر حق پر کھڑا کرنا تھا، وہاں آج کا منظرنامہ اکثر مقامات پر اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔
آج منبر و محراب کی صورتحال کو دیکھ کر واقعی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اصل پیغامِ حسینی کہیں گم ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے چند تلخ حقائق درج ذیل ہیں:
۱۔ پیغامِ حسینؑ کے بجائے “واہ واہ” کی دوڑ
کربلا کا مقصد انسان کے اندر کی “یزیدیت” (ظلم، لالچ، منافقت) کو مارنا تھا۔ لیکن آج بہت سے خطباء اور ذاکرین کا مقصد صرف مجمع سے داد سمیٹنا اور لوگوں کو جذباتی کرنا رہ گیا ہے۔ جب مجلس کا مقصد اصلاحِ نفس کے بجائے محض “واہ واہ” کا شور بن جائے، تو وہ مجلس بے مقصد ہو جاتی ہے۔
۲۔ مجالس بطورِ تجارت (کمانے کا ذریعہ)
ایک ہی شہر میں دس دس عشرے پڑھنا اور کروڑوں روپے کے معاوضے طے کرنا اس عظیم مشن کی توہین ہے جو امام حسین علیہ السلام نے اپنے پورے گھرانے کی قربانی دے کر شروع کیا تھا۔ دین اور ذکرِ حسینؑ کو جب ایک منافع بخش کاروبار یا پیشے کی شکل دے دی جا چکی ہو، تو وہاں منبر سے وہ تاثیر ختم ہو جاتی ہے جو دلوں کو بدلتی ہے۔
۳۔ پیغامِ کربلا سے دوری
امام حسینؑ نے فرمایا تھا: “میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں”۔
آج کے دور میں اصلاح کا پہلو غائب ہے۔
لوگوں کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ کربلا والے کیسے مظلوم تھے، لیکن یہ نہیں سکھایا جاتا کہ وہ کیسے بہادر اور بااصول تھے۔
ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کا درس دینے کے بجائے، مجالس کو صرف چند مخصوص رسومات تک محدود کر دیا گیا ہے۔
اصل حقیقت:
اگر ۱۰ عشرے سننے کے بعد بھی ہمارے معاشرے سے جھوٹ، رشوت، ملاوٹ، ظلم اور اخلاقی پستی ختم نہیں ہو رہی، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے امام حسینؑ کے نام پر مجمع تو اکٹھا کر لیا، لیکن ان کا “کردار” اپنانے میں ناکام رہے۔
یہ صورتحال واقعی لمحہ فکریہ ہے۔ جب تک سامعین (سننے والے) خود بیدار نہیں ہوں گے اور ایسے خطباء کی حوصلہ شکنی نہیں کریں گے جو دین کو تجارت بناتے ہیں، تب تک منبر کا تقدس اور مجالس کا اصل مقصد بحال ہونا مشکل ہے۔ ہمیں “مجلس برائے ثواب” کے ساتھ ساتھ “مجلس برائے انقلابِِ نفس” کی طرف لوٹنا ہوگا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عزاداری کا تقدس اور منبرِ رسولؐ کی حفاظت
عزا خانہ سجا
خون چشم بہا
کل تلک تھا بیاباں
اب ہوا خاک شفا
کچھ کے لئے عزا
کچھ نے کیا سودا
تازہ فکر کربلا
بیوپار ہوئی ثنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی بات چند گہرے اشعار سے بات کا آغاز کرتے ہوئے ہے، وہ عزاداری کے اصل تقدس، مظلومیت اور کربلا کی مٹی کے ‘خاکِ شفا’ بننے کے عظیم فلسفے کو بیان کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس، آج جو منظرنامہ ہمارے سامنے ہے، وہ واقعی فکر انگیز اور تکلیف دہ ہے۔
منبرِ رسولؐ اور ذکرِ حسینؑ جیسی مقدس عبادت کو چند بے علم ذاکرین، نو عمر خطباء اور کاروباری ذہن رکھنے والے عناصر نے اپنی کمائی اور شہرت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ عوام کے جذبات سے کھیلنا، قرآن و حدیث میں من مانی تحریف کرنا اور دین کو تماشہ بنانا ایک سنگین المیہ ہے۔
اس سنگین صورتحال کے تناظر میں، عزا کو ان جاہل اور مفاد پرست عناصر سے محفوظ رکھنے کے لیے چند سطروں پر مشتمل ایک تنقیدی و اصلاحی تحریر ہر صاھب عزا کی نذر ہے:
عزاداری کا تقدس اور منبرِ رسولؐ کی حفاظت
عزاداریِ امام مظلومؑ کوئی روایتی رسم نہیں، بلکہ باطل کے خلاف احتجاج اور بقائے دین کا الٰہی نظام ہے۔
افسوس کہ آج یہ مقدس منبر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے جو علم و تقویٰ سے یکسر عاری ہیں۔
کم عمر اور بے علم بچے، جنہیں ابھی دین کی ابجد کا بھی علم نہیں، منبر پر دندناتے نظر آتے ہیں۔
انہوں نے ذکرِ حسینؑ کو ایک منافع بخش کاروبار اور “منہ بولے دام” وصول کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
یہ نام نہاد خطباء معصوم عوام کے مذہبی جذبات کو ورغلا کر اپنی دکانیں چمکاتے ہیں۔
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جہالت چھپانے کے لیے قرآن و حدیث کی من مانی تشریح کرتے ہیں۔
آیاتِ الٰہی کا غلط ترجمہ کرنا اور تحریفِ قرآن پر فخر کرنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے، جو کہ صریحاً کفر ہے۔
انہوں نے کربلا کی آفاقی فکر کو صرف رونے دھونے اور چند سستی جذباتی کہانیوں تک محدود کر دیا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اس پاکیزہ عزا کو ان لٹیروں اور جاہلوں کے شر سے محفوظ کیا جائے۔
سب سے پہلا قدم بانیانِ مجالس اور عزاداروں کو اٹھانا ہوگا، جو ایسے لٹیروں کو مدعو کرتے ہیں۔
مجالسِ عزا کا معیار خطیب کے “پیسوں اور مطالبے” سے نہیں، بلکہ اس کے علم اور کردار سے طے ہونا چاہیے۔
عوام کو چاہیے کہ وہ ایسے جاہل ذاکرین کا بائیکاٹ کریں جو ممبر پر بیٹھ کر دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔
ہمیں اپنی نوجوان نسل کو قرآن اور مستند تاریخِ کربلا کے مطالعے کی طرف راغب کرنا ہوگا۔
جب قوم خود پڑھے گی، تو کوئی بھی جاہل خطیب انہیں اپنی جھوٹی کہانیوں سے گمراہ نہیں کر سکے گا۔
علمائے حق اور جید فقہاء کو آگے بڑھ کر ان فتنوں کے خلاف کھل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔
منبرِ رسولؐ پر بیٹھنے کے لیے ایک سخت علمی معیار اور فکری ضابطہ اخلاق طے ہونا اشد ضروری ہے۔
نوحہ خوانی اور خطابت کو تماشہ، موسیقی کی دھنیں اور اسٹیج شو بننے سے ہر حال میں روکنا ہوگا۔
بانیانِ مجالس کو “سستی واہ واہ” اور مجمع اکٹھا کرنے کی دوڑ سے باہر نکلنا ہوگا۔
امام حسینؑ نے دین کی بقا کے لیے سر دیا تھا، دین کو مسخ کرنے کے لیے نہیں؛ یہ بات ہر عزادار کو سمجھنی ہوگی۔
تحریفِ قرآن اور من گھڑت روایات پڑھنے والوں کے خلاف قانونی اور سماجی سطح پر سخت محاسبہ کیا جائے۔
مجالسِ عزا کا اصل مقصد انسان سازی، کردار سازی اور مظلوم کی حمایت ہونا چاہیے۔
جب تک ہم منبر کی تطہیر نہیں کریں گے، ہماری نسلیں ان جاہلوں کے ہاتھوں نظریاتی گمراہی کا شکار ہوتی رہیں گی۔
عزا کو محفوظ کرنے کا مطلب کربلا کے حقیقی پیغامِ حریت، نماز اور عدل کو زندہ کرنا ہے۔
آئیں اس ماہ عزا کے آغاز پر عہد کریں کہ ہم منبرِ حسینؑ کی حرمت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
جب عزا ان مفاد پرستوں سے پاک ہوگی، تب ہی ہماری ثنا آبدار اور ہماری خاکِ شفا کا حق ادا ہوگا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عزاداری کا تقدس اور منبرِ رسولؐ کی حفاظت*
عزا خانہ سجا
خون چشم بہا
کل تلک تھا بیاباں
اب ہوا خاک شفا
کچھ کے لئے عزا
کچھ نے کیا سودا
تازہ فکر کربلا
بیوپار ہوئی ثنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی بات چند گہرے اشعار سے بات کا آغاز کرتے ہوئے ہے، وہ عزاداری کے اصل تقدس، مظلومیت اور کربلا کی مٹی کے ‘خاکِ شفا’ بننے کے عظیم فلسفے کو بیان کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس، آج جو منظرنامہ ہمارے سامنے ہے، وہ واقعی فکر انگیز اور تکلیف دہ ہے۔
منبرِ رسولؐ اور ذکرِ حسینؑ جیسی مقدس عبادت کو چند بے علم ذاکرین، نو عمر خطباء اور کاروباری ذہن رکھنے والے عناصر نے اپنی کمائی اور شہرت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ عوام کے جذبات سے کھیلنا، قرآن و حدیث میں من مانی تحریف کرنا اور دین کو تماشہ بنانا ایک سنگین المیہ ہے۔
اس سنگین صورتحال کے تناظر میں، عزا کو ان جاہل اور مفاد پرست عناصر سے محفوظ رکھنے کے لیے چند سطروں پر مشتمل ایک تنقیدی و اصلاحی تحریر ہر صاھب عزا کی نذر ہے:
عزاداری کا تقدس اور منبرِ رسولؐ کی حفاظت
عزاداریِ امام مظلومؑ کوئی روایتی رسم نہیں، بلکہ باطل کے خلاف احتجاج اور بقائے دین کا الٰہی نظام ہے۔
افسوس کہ آج یہ مقدس منبر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے جو علم و تقویٰ سے یکسر عاری ہیں۔
کم عمر اور بے علم بچے، جنہیں ابھی دین کی ابجد کا بھی علم نہیں، منبر پر دندناتے نظر آتے ہیں۔
انہوں نے ذکرِ حسینؑ کو ایک منافع بخش کاروبار اور “منہ بولے دام” وصول کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
یہ نام نہاد خطباء معصوم عوام کے مذہبی جذبات کو ورغلا کر اپنی دکانیں چمکاتے ہیں۔
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جہالت چھپانے کے لیے قرآن و حدیث کی من مانی تشریح کرتے ہیں۔
آیاتِ الٰہی کا غلط ترجمہ کرنا اور تحریفِ قرآن پر فخر کرنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے، جو کہ صریحاً کفر ہے۔
انہوں نے کربلا کی آفاقی فکر کو صرف رونے دھونے اور چند سستی جذباتی کہانیوں تک محدود کر دیا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اس پاکیزہ عزا کو ان لٹیروں اور جاہلوں کے شر سے محفوظ کیا جائے۔
سب سے پہلا قدم بانیانِ مجالس اور عزاداروں کو اٹھانا ہوگا، جو ایسے لٹیروں کو مدعو کرتے ہیں۔
مجالسِ عزا کا معیار خطیب کے “پیسوں اور مطالبے” سے نہیں، بلکہ اس کے علم اور کردار سے طے ہونا چاہیے۔
عوام کو چاہیے کہ وہ ایسے جاہل ذاکرین کا بائیکاٹ کریں جو ممبر پر بیٹھ کر دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔
ہمیں اپنی نوجوان نسل کو قرآن اور مستند تاریخِ کربلا کے مطالعے کی طرف راغب کرنا ہوگا۔
جب قوم خود پڑھے گی، تو کوئی بھی جاہل خطیب انہیں اپنی جھوٹی کہانیوں سے گمراہ نہیں کر سکے گا۔
علمائے حق اور جید فقہاء کو آگے بڑھ کر ان فتنوں کے خلاف کھل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔
منبرِ رسولؐ پر بیٹھنے کے لیے ایک سخت علمی معیار اور فکری ضابطہ اخلاق طے ہونا اشد ضروری ہے۔
نوحہ خوانی اور خطابت کو تماشہ، موسیقی کی دھنیں اور اسٹیج شو بننے سے ہر حال میں روکنا ہوگا۔
بانیانِ مجالس کو “سستی واہ واہ” اور مجمع اکٹھا کرنے کی دوڑ سے باہر نکلنا ہوگا۔
امام حسینؑ نے دین کی بقا کے لیے سر دیا تھا، دین کو مسخ کرنے کے لیے نہیں؛ یہ بات ہر عزادار کو سمجھنی ہوگی۔
تحریفِ قرآن اور من گھڑت روایات پڑھنے والوں کے خلاف قانونی اور سماجی سطح پر سخت محاسبہ کیا جائے۔
مجالسِ عزا کا اصل مقصد انسان سازی، کردار سازی اور مظلوم کی حمایت ہونا چاہیے۔
جب تک ہم منبر کی تطہیر نہیں کریں گے، ہماری نسلیں ان جاہلوں کے ہاتھوں نظریاتی گمراہی کا شکار ہوتی رہیں گی۔
عزا کو محفوظ کرنے کا مطلب کربلا کے حقیقی پیغامِ حریت، نماز اور عدل کو زندہ کرنا ہے۔
آئیں اس ماہ عزا کے آغاز پر عہد کریں کہ ہم منبرِ حسینؑ کی حرمت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
جب عزا ان مفاد پرستوں سے پاک ہوگی، تب ہی ہماری ثنا آبدار اور ہماری خاکِ شفا کا حق ادا ہوگا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نوحہ و خطابت اداکاری کی زد میں ۔
محرم قریب تر ہے اور اب ان تاجروں سے ۱۴ سو سال پرانے یزید کو کوئی نھی بچا سکتا قومِ تشیع کے نام ایک اہم اور فکری پیغام: “عزاداری یا کمرشل سیزن؟”
ظلم پر خاموشی کب تک؟ غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، لبنان پر پے در پے حملے جاری ہیں، اور ایران سمیت خطے میں ہزاروں بے گناہ مسلمان اور محبانِ اہل بیت جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ انسانیت سسک رہی ہے اور دنیا بھر میں حق و باطل کی واضح جنگ جاری ہے۔ لیکن افسوس! ہماری ملت کے وہ نام نہاد “سٹار نوحہ خوان” جن کے یوٹیوب پر لاکھوں سبسکرائبرز ہیں اور جو منبروں پر مصائبِ کربلا پڑھ پڑھ کر ہمیں ظالم کے خلاف کھڑے ہونے کا درس دیتے تھے، آج ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس بدترین ظلم و ستم کے خلاف مجرمانہ خاموشی کا راج ہے۔ خاموشی کی اصل وجہ: ویزے، ڈالر اور نیشنلٹی!
ان “سیزنی بیوپاریوں” کی خاموشی کسی مصلحت کے تحت نہیں، بلکہ اپنے ذاتی اور مالی مفادات کو بچانے کے لیے ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ:
نیشنلٹی اور ویزوں کا خطرہ: اگر انہوں نے وقت کے ظالم اور اس کے سرپرستوں کے خلاف ایک لفظ بھی بول دیا، تو کہیں مغربی ممالک کے ویزے کینسل نہ ہو جائیں، کہیں کسی کی گرین کارڈ اور نیشنلٹی خطرے میں نہ پڑ جائے۔
ڈالر کمانے کا دھندہ: انہیں معلوم ہے کہ محرم آتے ہی انہوں نے بیرونِ ملک (اوورسیز پاکستانیوں اور شیعیانِ علی) کے پاس جا کر لاکھوں ڈالرز کا “سیزن” لگانا ہے۔ اگر اب مظلوم کا ساتھ دیا تو وہاں کے ٹورز اور ڈالرز کا نقصان ہو جائے گا۔
اکاؤنٹس بین ہونے کا ڈر: ظالم کے خلاف پوسٹ کرنے سے فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب اکاؤنٹس بین یا شیڈو بین ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی لاکھوں روپے کی ماہانہ ڈیجیٹل کمائی اور ریچ بند ہونے کا خطرہ ہے۔
⚠️ امام حسینؑ کے نام پر تجارت بند کرو!
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ترے آنے سے بہت دام بڑھے مجلس کے
شہید کربلا امام حسین علیہ السلام کی لازوال قربانی اور ذکرِ اہل بیت کی رفعت پر مبنی سلام :
سلامِ عقیدت:
قیمتِ عشق
ترے آنے سے بہت دام بڑھے مجلس کے
قربانی حسین کی قیمت دام و درہم رہ گئی
(1)
سجا ہے فرشِ عزا، ذکرِ شاہِ والا ہے
نصیب والوں کو یہ غم نصیب ہونا ہے
ترے لہو سے چمکتے ہیں بزم کے چہرے
یہ وہ تِجارت ہے جس کا خدا ضامن ہے
(2)
جہاں میں عام ہے اب تذکرہ شہادت کا
سجا کے بیٹھ گئے ہم بھی ظرفِ ہمت کا
خرید سکتا ہے کوئی بھلا لہو تیرا؟
یہ مکر و زور ہے بس مصلحت کی دنیا کا
(3)
کسی نے دی تھی صدائے مَودّتِ عترت
کسی نے بیچ دیا دین واسطے دولت
مگر جو تو نے کیا، وہ کسی نے کیا نہ کیا
بچا لی پیاس سے تونے ہی دین کی حُرمت
(4)
وہ ایک سجدہ کہ جس پر نماز ناز کرے
وہ ایک سر کہ جو نیزے پہ بھی تلاوت کرے
زمانے بھر کی فضیلت سمٹ کے آ پہنچی
حسینؑ بزمِ جہاں میں جو خود امامت کرے
(5)
بڑھے وقار جو محفل میں تیرے نام سے ہے
حیاتِ خلد کا رستہ اسی مقام سے ہے
نہیں ہے قیمتِ شبیرؑ سکّہ و دینار
بقا کی بھیک بھی لی سب نے تیرے نام سے ہے
(6)
یہ آنکھ روتی ہے جس دم غمِ پیمبرؐ میں
سکون ملتا ہے دل کو حدیثِ سرورؐ میں
جو ڈھونڈتے ہیں اسے درہم و دینار کے بیچ
وہ کیا سمجھیں گے کیا ہے مقامِ قنبرؓ میں
(7)
حسینؑ وہ ہے کہ جس نے بدل دیا منظر
خدا کے واسطے قربان کر دیا اصغرؑ
یزید ہار گیا، جیت لے گیا پیاسا
بنا ہے قبلہِ ایماں اسی کا نقشِ در
(8)
کریدتے ہیں جو اجرت ثواب کی خاطر
وہ جانتے ہی نہیں حق، جناب کی خاطر
ہمارے اشکوں کی قیمت بس ایک ہی ہے حسینؑ
قبول کر لیں ہمیں انتخاب کی خاطر
(9)
عجیب رنگ ہے اس بزمِ سوگواری کا
خدا کے فضل سے چشمہ ہے فیض جاری کا
کبھی جو تولا گیا تیرا صبر محشر میں
تو سر جھکائے گا عالم تری سرفرازی کا
(10)
لٹا کے گھر کو شرافت کا نام زندہ کیا
بچا کے سجدہ، محبت کا نام زندہ کیا
ہزاروں کوفے بنے، لاکھ شامی آ پہنچے
مگر تو وہ ہے جس نے امامت کا نام زندہ کیا
(11)
غمِ حسینؑ تجارت نہیں، عبادت ہے
غمِ حسینؑ بصیرت ہے اور شہادت ہے
جو تری یاد میں تڑپے وہی تو جیتا ہے
بغیر تیرے تو بس خاک کی مسافت ہے
(12)
سلامِ عاجزانہ قبول ہو مولاؑ
مرا تو زادِ سفر ہی تری ولا ہے بس
بڑھے جو دام یہاں تیرے ذکرِ عالی سے
مرا نصیب یہی ہے کہ تو مرا ہے بس
……………………..
فی زمانہ بہت حساس اور اہم موضوع
موجودہ دور میں ذکرِ حسینؑ کو جس طرح چند مٹھی بھر لوگوں نے تجارت بنا لیا ہے، وہ اس عظیم قربانی کی توہین کے مترادف ہے۔ اسی درد اور آپ کے فراہم کردہ مصرعوں کی روشنی میں ایک مسدس کا انتخاب:
مسدس: سوداگرانِ مجلس اور غمِ شبیرؑ
(1)
ترے آنے سے بہت دام بڑھے مجلس کے
ہو گئے عام تماشے، نہ رہے بزم کے ڈھب
منبرِ پاک پہ بیٹھے ہیں جو تاجر بن کر
بیچتے پھرتے ہیں وہ دین کو بحرِ منصب
وارثِ علمِ نبیؐ خود کو بتانے والے
کھا گئے قوم کا سرمایہ یہ حبِ یا رب!
(2)
قربانیِ حسینؑ کی قیمت دام و درہم رہ گئی
آلِ احمدؐ کی مصیبت، فقط گراں درھم رہ گئی
خونِ اصغرؑ کا تقاضا تھا بصیرت، لیکن
ذہنِ تاجر میں تو بس دولتِ عالم رہ گئی
جس نے سجدے میں کٹایا تھا سرِ اقدس کو
اس کے ذکرِ مطہر میں تہی دستیِ دم رہ گئی
(3)
منبرِ حق ہے کہ منڈی ہے کوئی نوٹوں کی؟
نیلامی لگی ہے یہاں شبیرؑ کے دکھوں کی
جو جتنا بڑا فنکار، وہ اتنا ہی مہنگا
ہو رہی ہے یہاں توہینِ عظیم سجدوں کی
لفظ بکتے ہیں یہاں، آہ و بکا بکتی ہے
حیا مر گئی ہے ان ضمیر کے اندھوں کی
(4)
وہ مٹّی کا مصلّٰی، وہ غریبی کا سماں
وہ کربل کی تپش، وہ پیاس کا تشنہ زباں
کدھر جائے گی لے کر یہ تجارت تمہیں؟
جہاں سجدہ ہے گواہ اور خدا ہے میزباں
حسینؑ بیچ کے تم قصر بنا بیٹھے ہو
خوف آتا نہیں تم کو، ہے کہاں فکرِ اماں؟
(5)
ذاکری فن نہیں، پیغامِ عمل ہے لوگو!
حق کی آواز ہے، باطل کی اجل ہے لوگو!
تم نے نرخ بنا رکھے ہیں مجلس کے لیے
یہ تماشہ نہیں، تقدیس کا حل ہے لوگو!
نذر کے نام پہ لوٹی ہے جو دولت تم نے
جہنم کی دہکتی ہوئی یہ کل ہے لوگو!
(6)
خطابت کے لبادے میں چھپے ہیں رہزن
ذکرِ مولاؑ کو بنا ڈالا ہے جنہوں نے مسکن
صرف نوٹوں کی چمک آنکھ کو بھاتی ہے ان کی
بیچ کھایا ہے انہوں نے اپنا ایمان و فن
آلِ عمران کا غم ہے کہ کمائی کا صلہ؟
کر دیا ذکرِ جلی کو تمہی لوگوں نے گہن
(7)
حسینؑ وہ ہے کہ جس نے گھر لٹا دیا اپنا
دینِ اسلام کی خاطر سر کٹا دیا اپنا
تم یہاں منبر پہ بیٹھ کے سودا کرتے ہو
تم نے تو قدِ شریعت ہی گھٹا دیا اپنا
اجرتِ ذکرِ علیؑ ڈھونڈتے ہو نوٹوں میں؟
تم نے تو اپنا ہی رتبہ بھی مٹا دیا اپنا
(8)
بند کمروں میں جو طے پاتے ہیں سودے تمہارے
زہر بھرتے ہیں عزاداروں میں کینہ تمہارے
مومنینِ باوفا روتے ہیں فرشِ غم پر
اور جیبوں میں بھرے ہوتے ہیں پیسے تمہارے
یہ تفاخر، یہ انا، یہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ
کیا یہی تھے شہِ والا کے طریقے تمہارے؟
(9)
عالمِ دین وہی، جس کا عمل شاہد ہو
زہد و تقویٰ میں جو شبیرؑ کا ہی معتقد ہو
نہ کہ وہ جس کی زباں بِکتی ہو بازاروں میں
اور جو مجلس کی ہوس میں ہی فقط مفسد ہو
قوم کے مال پہ جو پلتے ہیں سانپوں کی طرح
ان کا انجام تو بس قعرِ جہنم ہی تو ہو
(10)
حسینؑ روتے تھے امّت کی ہدایت کے لیے
تم نے رلایا ہے امّت کو ضرورت کے لیے
منبرِ نور پہ فتنے ہی اچھالے تم نے
صرف اور صرف اپنی جھوٹی ریاست کے لیے
کل جو پوچھا گیا زہراؑ کے بھرے دربار میں
کیا جواب دو گے تم اپنی اس خباثت کے لیے؟
(11)
ایستادہ ہے اب بھی کربل کا وہ خونی منظر
پکارتا ہے تمہیں کٹتا ہوا شاہؑ کا سر
کہا تھا میں نے کہ سر دینا مگر ہاتھ نہ دینا
تم نے تو بیچ دیا مجھ کو ہی نوٹوں کے در
میری مظلومی کی قیمت ہے کیا چاندی کے ورق؟
خونِ ناحق کا ذرا خوف تو کھاؤ اے بے خبر!
(12)
وقت ہے اب بھی پلٹ آؤ، توبہ کر لو
اپنے دامِ حرص و آز کو اب خالی کر لو
ذکرِ مولاؑ ہے عبادت، اسے بیچا نہ کرو
اپنے تاریک مقدر کو اجالی کر لو
ورنہ تاریخ میں بس نامِ یزیدی ہوگا
حق کی محفل کو تجارت سے اب خالی کر لو
………………………..
ہلدی سارے گھر میں مل دی :
ہر گھر میں استعمال ہونے والی چیز مگر اس کے فائدے ہزاروں ہمارا عالم قدرت کی نعمتوں سے بھرا ہوا ہے مگر اس کا درست استعمال بہت کم افراد جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے عام ہلدی تو دیکھی ہوگی…
لیکن کیا آپ نے کبھی آمبہ ہلدی کا نام سنا ہے؟
نہ یہ آم ہے… نہ عام ہلدی…
لیکن فائدے دونوں سے بڑھ کر!
🔸 قدرتی اینٹی بایوٹک
یہ وہ چیز ہے جو جسم کو اندر سے صاف کرتی ہے،
یعنی جراثیم بولیں: “ہم چلتے ہیں بھائی!”
🔸 پیٹ کا بہترین دوست
بدہضمی، گیس، اپھارہ؟
آمبہ ہلدی کہتی ہے: “یہ سب میرے ہوتے ہوئے؟ ناممکن!”
🔸 جلد کے لیے جادو
چہرہ ہو یا داغ دھبے…
یہ اندر سے بھی صاف کرے، باہر سے بھی نکھار دے
🔸 سوجن اور درد کا دشمن
جوڑوں کا درد ہو یا جسمانی سوزش
یہ قدرتی طریقے سے آرام دیتی ہے
🔸 خون کی صفائی
جسم میں جمع گندگی کو نکال کر
اندر سے تازگی اور توانائی پیدا کرتی ہے
💡 مزے کی بات:
آمبہ ہلدی کا ذائقہ عام ہلدی جیسا تیز نہیں ہوتا،
ہلکا سا آم جیسا فلیور بھی محسوس ہوتا ہے…
اسی لیے اس کا نام “آمبہ ہلدی” پڑا
⚠️ اہم بات:
یہ کوئی جادو نہیں، مگر قدرت کا بہترین تحفہ ہے
استعمال باقاعدگی سے ہو تو فرق واضح نظر آتا ہے
✨ آج کے دور میں جب کھانا، پانی اور ماحول سب بدل چکے ہیں…
تو ایسی قدرتی چیزیں ہی اصل سہارا بنتی ہیں
آخر میں ایک بات یاد رکھیں:
دوائیاں بیماری کے بعد کام آتی ہیں…
لیکن آمبہ ہلدی جیسی چیزیں
بیماری کو آنے ہی نہیں دیتیں
🍵 استعمال کا طریقہ:
🔹 آدھا چمچ آمبہ ہلدی پاؤڈر
🔹 نیم گرم دودھ یا پانی میں مکس کریں
🔹 صبح نہار منہ یا رات سونے سے پہلے استعمال کریں کھانے میں بھی استعمال کیجئے
یا
🔹 شہد کے ساتھ ملا کر بھی لے سکتے ہیں (ذائقہ بھی بہتر )
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
شاعر حسین شاعرؔ: دبستانِ جدید مرثیہ کا ایک چراغ گل ہو گیا
شاعر حسین شاعرؔ زیدی
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
پاکستان کےبزرگ شاعرِ اہلِ بیت جناب شاعر حسین شاعر ابن ڈاکٹر سید محمد نور اللہ زیدی انتقال فرما گئے ہیں. اکیسویں صدی کے آغاز سے اب تک ادارہ تقدیس قلم کے تحت جو شعرا اس خطِ کن کے ادب و وقار کو سنبھالے ہوئے ہیں اور اسے اپنی فنی و رثائی کوششوں مرثیہ نگاری کا قد بڑھا نےکی اس کی صف اول میں ایک نام شاعر حسین شاعر کا بھی تھا۔ کراچی میں منعقد ہونے والی نوتصنیف مرثیوں کی مجالس میں جن شاعروں کا تذکرہ برابر رہتا تھا ان میں شاعر صاحب کا نام بھی ضرور زیر بحث آتا تھا. شاعر صاحب نے ایک جگہ مرثیہ پڑھنے سے پہلے بتایا کہ میرے دادا نے میرا نام شاعر حسین یہ کہہ کے رکھا تھا کہ یہ حسینؑ کا شاعر ہوگا۔

سخنوری کے لیے نہ شاعری کے لیے
نبیؐ کا ذکر ضروری ہے بندگی کے لیے
سنا جو مجھ کو اندھیرے ہوئے یہ کہہ کے فرار
چراغِ نعت جلایا ہے روشنی کے لیے
یہ شرف تھا ہی نہیں کرب و بلا سے پہلے
صرف مٹی تھی زمیں خاکِ شفا سے پہلے
اے خدا کچھ تو بھرم ان کی غلامی کا رہے
آبِ کوثر بھی نہ دے اشکِ عزا سے پہلے
درد کو زیست کا عنوان بنانے کے لیے
عصمت نسل کی پہچان بتانے کے لیے
کربلا مانگے جو کردار ابوطالب کا
ذات عباسؑ ہے آئینہ دکھانے کے لیے
ڈاکٹر ہلال نقوی لکھتے ہیں “جب شاعر حسین شاعر کے مرثیے میرے مطالعہ میں آئے تو ان کی ادبی شخصیت کو ماننے اور سمجھنے کا موقع ملا. شبلی نے انیس کے ذیل میں جو یہ بات کہی تھی کہ مرثیے میں دیگر اصنافِ سخن کا حسن سمٹ آیا ہے تو یہ بات عاقل و دانا مرثیہ نویسوں کے لئے دستور حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ شاعر حسین شاعر نے بھی اس نکتے اور اس کلیے کو بنیاد بنایا . غزل کا تجربہ تو وہ رکھتے ہی تھے ، قصیدے کی شان سے بھی آگاہ تھے . ہاں اے قلم کے اس ٹکڑے میں ان کے ذہن نے بڑے معنی ظاہر کردیے ہیں. ان کی ہر مسدس اور مرثیہ ہاں اے قلم سے شروع ہوتا ہے”
مثلا” مرثیے غیبت سے
ہاں اے قلم ہو آمد فصل بہار نو
فطرت بدل رہی ہے لباس شعار نو
جیسے نقاب الٹے کوئی شہسوار نو
رگ رگ میں بھر دیا ہے کسی نے خمار نو
بادہ کشوں کو ازن ہے پھر جام جم چلے
دنیا تجھے سلام وداعی کہ ہم چلے
مرثیہ نگاری: انہوں نے جدید مرثیے کو نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کے کلام میں واقعہ نگاری کے ساتھ ساتھ فلسفہِ شہادت کا گہرا شعور ملتا ہے۔ پاکستان بھر میں پذیرائی: کراچی کے علاوہ ملتان، لاہور اور اسلام آباد کی مجالس میں ان کا کلام ذوق و شوق سے سنا جاتا تھا۔ ان کی تحت اللفظ خوانی کا اپنا ایک وقار تھا۔ شخصیت: وہ انتہائی حلیم الطبع، ملنسار اور علم دوست انسان تھے۔ ان کی گفتگو میں لکھنوی تہذیب کی جھلک اور بزرگوں کا احترام نمایاں ہوتا تھا۔وہ مرثیے کے علاوہ سلام اور نوحہ نگاری میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ ان کے انتقال سے مرثیہ گوئی کا ایک سنہری باب بند ہو گیا ہے۔
حضرت عباسؑ کے مرثیے کا مطلع
ہاں اے قلم پھر آج غضنفر کا ذکر کر
کرب و بلا کے ثانئ جعفر کا ذکر کر
جلوہ طرازِ فاتح خیبرکا ذکر کر
عباسؑ ابن ساقئ کوثر کا ذکر کر
وہ آسماں جناب کہ مرجائے بات پر
قبضہ ہے جا کا آج بھی نہر فرات پر
دعاگو ہیں کہ پروردگارِ عالم بحقِ آلِ محمدؐ مرحوم شاعر حسین شاعر کے درجات بلند فرمائے. مرحوم کو جوارِ معصومینؑ میں جگہ عنایت فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عنایت فرمائے۔آمین۔نمازِ جنازہ 13 اپریل 2026 سادات امروہہ امامِ بارگاہِ بعد نمازِ ظہرین ادا کی گئی
شاعرؔ عطائے حضرتِ عباسؑ یہ سُخن
ڈالی ہے جامِ تازہ میں پھر بادہِ کُہن
حیران مجھ کو سن کے ہوئے آج اہلِ فن
سر دُھن رہے ہیں کارِ نمایاں پہ کوہ کن
منبر کا اوج عزت و توقیر مل گئی
یہ مرثیہ نہیں مجھے جاگیر مل گئی
شاعر حسین شاعرؔ کی وفات پر یہ قطعہ عقیدت پیش ہے
وہ شاعرِ ذیشان، وہ مرثیہ خواں گیا
سوئے جناں آج وہ قدسی بیاں گیا
کراچی سے لاہور تک ہے بپا ماتم
فنِ عزا کا آج حسیں آسماں گیا
ہاتف نے دی یہ غیب سے تاریخ رحلت
’’ جنت میں شاعرِ حسین شاعرؔ مکاں گیا‘‘
رخصت ہوا ہے آج وہ سلطانِ حرف و فن
مرثیہ جس کے دم سے تھا پُر نور اور جواں
شاعر کے ہجر میں ہے عزا خانہ سوگوار
خالی ہوئی ہے منبرِ شبیر کی جاں
ہاتف نے غم میں ڈوب کے تاریخ یہ کہی
’’داخل ہوا ہے خلد میں شاعرؔعظیم شاں‘‘
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
تجربہ ہا تعلیم زندگی کے لئے کیا ضروری ہے
پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب
ہانگ کانگ میں ڈکیتی کے دوران، ڈاکو نے بینک میں موجود سب کو پکار کر کہا:
“ہلنا مت۔ یہ پیسہ حکومت کا ہے۔ تمہاری زندگی تمہاری ہے۔”
بینک میں سب خاموشی سے لیٹ گئے۔
اسے کہتے ہیں “ذہنوں کو تبدیل کرنے والا تصور دینا” سوچنے کے روایتی انداز کو تبدیل کردینا۔
جب ایک خاتون جذباتی انداز کے ساتھ میز پر لیٹی تو ڈاکو اس پر چلایا:
“مہذب بنیں! یہ ڈکیتی ہے ریپ نہیں!”
اسے کہتے ہیں “پیشہ ورانہ ماہر” ہونا ۔ صرف اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ آپ کو کیا کرنے کی تربیت دی گئی ہے-
جب ڈاکو بینک سے واپس گھر آئے تو چھوٹے ڈاکو (جس کی تعلیم MBA تھی) نے بڑے ڈاکو (جس کی تعلیم پرائمری تھی) سے کہا:
“بڑے بھائی، آئیے گنتے ہیں کہ ہمیں نے کتنا پیسہ اٹھایا ہے۔”
بڑے ڈاکو نے ڈانٹتے ہوئے کہا:
“تم بہت بیوقوف ہو، اتنا پیسہ ہے اسے گننے میں بہت وقت لگے گا۔ آج رات ٹی وی نیوز ہمیں بتائے گا کہ ہم نے بینک سے کتنا پیسہ لوٹا ہے !”
اسے کہتے ہیں “تجربہ”
آج کل، تجربہ کاغذی ڈگری سے زیادہ اہم ہے!
ڈاکوؤں کے جانے کے بعد، بینک منیجر نے بینک سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو جلدی سے بلائیں۔ لیکن نگران نے اس سے کہا:
“رکو! آئیے اپنے لیے بینک سے 10 ملین ڈالر نکالیں اور اسے 70 ملین ڈالر میں شامل کردیں جو ہم نے کچھ عرصہ پہلے بینک سے غبن کیا تھا”۔
اسے کہتے ہیں “بہتی موج کے ساتھ تیرنا”
ایک ناموافق صورتحال کو اپنے فائدے میں تبدیل کرنا!
سپروائزر کہتا ہے: “یہ اچھا ہو گا اگر ہر مہینے چوریاں ہوتی رہیں – “
اسے کہتے ہیں “ذاتی خوشی کی اہمیت”
ذاتی خوشی آپ کی نوکری سے زیادہ اہم ہے! ۔”
اگلے دن، ٹی وی نیوز نے اطلاع دی کہ بینک سے 100 ملین ڈالر چرا لیے گئے ہیں۔ ڈاکوؤں نے یہ سن کر پیسہ گننا شروع کیا اور بار بار گنتی کی اور کئی بار کی ، لیکن ان کے پاس صرف 20 ملین ڈالر ہی تھے۔
ڈاکو بہت غصے میں تھے اور انہوں نے شکایت کی:
“ہم نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر صرف 20 ملین ڈالر لیے۔ بینک مینیجر نے اپنی انگلیوں کی چٹکی سے $80 ملین لے لیے۔ ایسا لگتا ہے کہ چور بننے سے بہتر تعلیم یافتہ ہونا ہے۔”
اسے کہتے ہیں “علم کی قیمت سونے کے برابر ہے!”
……………………………..
سورة الکہف اور جرمن طبی تحقیق مگر روز شغل تلاوت میں مصروف رہنے والے خاموش
سورة الکہف میں کتے کے اپنے اگلے پاؤں پھیلانے” کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟
سورۃ الکہف میں کتے کے اپنے اگلے پاؤں پھیلانے کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟
اور جب اصحاب کہف دائیں اور بائیں کروٹیں بدل رہے تھے
تو کتا کیوں نہیں پلٹ رہا تھا ؟
ہم میں سے اکثر نے سورۃ الکہف سینکڑوں مرتبہ تلاوت کی ہوگی، مگر شاید ہی کبھی اس بات پر غور کیا ہو کہ
قرآن نے کتے کے پلٹنے کا ذکر نہیں کیا
حالانکہ ہمیں
بتایا گیا کہ اصحابِ کہف کو دائیں بائیں پلٹایا جاتا رہا تاکہ ان کے جسموں پر زخم یا سڑن پیدا نہ ہو۔
ایک جرمن طبی سائنسدان نے کہا
ایک دن میں سفر کر رہا تھا کہ ایک نوجوان میرے پاس آیا اور مجھے قرآن مجید کا ترجمہ شدہ نسخہ پیش کیا۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور اسے جیب میں رکھ لیا، ارادہ یہ تھا کہ نوجوان کے جانے کے بعد کسی کو شرمندہ کیے بغير
اسے کوڑے میں پھینک دوں۔ میں
اسے بھول گیا اور جہاز میں سوار ہوگیا۔ پرواز طویل اور بور تھی، جیب میں رکھا وہ نسخہ یاد آیا تو میں نے اسے نکال کر ورق الٹنے شروع کیے۔ میری نظر سورة الكهف
پر پڑی تو میں نے پڑھنا شروع کیا اور دو آیات نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کرلی
الله تعالیٰ فرماتا ہے “اور” تم دیکھتے کہ جب سورج طلوع ہوتا تو ان کے غار دائیں طرف ہٹ جاتا تھا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کتراتا ہوا نکل جاتا تھا اور وہ غار کے کشادہ تھے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ جسے
اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراه کردے تو تم اس کے لیے کوئی کارساز نہیں پاؤ
گے۔ ” (سورۃ
الکہف آیت (17)
اور پھر
اور تم خیال کرتے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سو رہے تھے، اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاؤں پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم انہیں دیکھ لیتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور تمہیں ان سے خوف آجاتا۔ ” (سورة الكهف آيت
(18
ڈاکٹر نے کہا:
یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ انہیں نیند کے دوران پلٹایا “جا
رہا تھا تاکہ ان کے جسموں پر زخم یا سڑن نہ بنے کیونکہ وہ لمبے عرصے تک ایک ہی حالت میں تھے۔
لیکن مجھے جس بات نے حیران کیا وہ پچھلی آیت تھی جس میں بتایا گیا کہ سورج کی روشنی غار میں داخل ہوتی تھی مگر کے جسموں پر براہ راست نہیں پڑتی تھی
اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں روز غار میں تھیں مگر انہیں براہ راست نہیں چھوتی تھیں۔ ڈاکٹر نے کہا: طبی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ اگر کسی مريض کو طویل عرصے تک ایک حالت ہی میں رہنا پڑے
تو کمر یا جسم پر زخم نہ بننے کے لیے جگہ ہوا دار ہونی چاہیے اور بالواسطہ سورج کی روشنی ہونی چاہیے، لیکن براه راست دھوپ نہیں پڑنی چاہیے۔
پھر جب اس نے اگلی آیت پر غور کیا تو اسے احساس ہوا کہ واقعی نیند کے دوران جسم کو حرکت دینا زخموں اور سڑن سے بچاتا ہے۔
جس بات نے اسے انتہائی حیران کیا وہ یہ تھی کہ کتا تو نہیں پلٹا جا رہا تھا ۔ وہ صرف غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاؤں پھیلائے ہوئے تھا، 309 سال تک – مگر اس کا جسم نہ سڑا نہ گل سڑا
یہ بات اس جرمن ڈاکٹر کو مزید تحقیق پر اُبھار گئی۔ اس نے کتوں کی جسمانی بناوٹ (physiology) کا مطالعہ کیا اور حیرت انگیز طور پر دریافت کیا کہ کتوں کی جلد کے نیچے ایسے (glands) پائے جاتے ہیں جو غدود
ایک خاص ماده خارج کرتے ہیں ۔ یہ مادہ جسم میں زخم یا سڑن کو پیدا ہونے سے روکتا ہے، جب تک کتا زندہ ہو خواہ وہ حرکت نہ بھی کرے۔
اسی لیے اصحاب کہف کا کتا پلٹنے کا محتاج نہ تھا۔ یہی قرآنی معجزہ اس جرمن سائنسدان کے اسلام قبول کرنے کا سبب بنا۔
نتیجہ تحریر
سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس غیر مسلم سائنسدان نے صرف پہلی مرتبہ سورۃ الکہف پڑھتے ہی ان نکتوں کو محسوس کیا، جبکہ ہم میں سے کتنے ہی لوگ روز قرآن پڑھتے ہیں مگر غور نہیں کرتے!!!,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
یہودیوں اور عالم اسلام کا نمک خوار پاکستان کے شیعوں سے خطاب کرتا ہے اور علما کو صفائی میں زباں بندی کے بعد کے علما اور عوام کے تاثرات
کھلا خط
بنام جنرل عاصم منیر صاحب
جناب محترم عاصم منیر صاحب اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکات۔
میں بحیثیت پاکستانی سید اثنا ء عشری شیعہ قوم کا ایک فرد اپ سے مخاطب ہوں۔
محترمی اپ نے گزشتہ دن میرے مکتبہ فکر کے کچھ علماء کو دعوت دے کر بلایا ان سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ خطاب کیا۔
میری معلومات کے مطابق جو کچھ اپ نے اس پوری نشست میں بیان کیا اس کا لب لباب اور خلاصہ یہ ہے کہ شیعہ حضرات ایران میں ہونے والی تباہی بربادی ظلم انکے سپریم لیڈر سے لیکر تمام اعلی عسکری اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ معصوم بچیوں بچوں عورتوں اور عام عوام کے قتل شہادت پر پاکستان کے اندر کسی قسم کا رد عمل نہ کریں جلسے جلوس نہ کریں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاج یا بات نہ کریں اپ کے الفاظ اپکا رویہ اپکی شیعان پاکستان کو دبے لفظوں میں دی گئی دھمکیاں کس بات کا اشارہ کرتی ہیں کیا اپ امریکہ اور اسرائیل کی غلامی اور انکے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اسکے علاوہ اپنے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ یہ معاہدہ ہے کہ اگر کوئی ملک سعودیہ کے ساتھ جنگ کرے گا تو پاکستان سعودیہ کا دفاع کرے گا اور اس ملک سے جنگ کرے گا۔
اگر اپ کے اس پیغام سے ہمیں یہ بات سمجھ میں اتی ہے کہ امریکہ اسرائیل اور سعودی عرب اپ سے یہ تقاضا کر رہے کہ اپ ان کے کہنے پر امریکہ اسرائیل کو فوجی اڈے دینے جا رہے ہیں یا آپ براہ راست ایران پر حملہ کریں گے۔
اپ نے پہلے افغانستان پر حملے کرنے سے پہلے علماء کرام جنکا تعلق پاکستان کے سنی مکتبہ فکر سے تھا انکو بھی ایسے ہی بلا کر ان سے فتوے لیکر افغانستان پر حملہ کیا جو اج تک جاری ہے۔
یہاں یہ بات میں واضح کر دوں کہ افغانستان اور ایران دو مختلف ملک ہیں افغانستان سے پاکستان کی سالمیت پر اس کے اداروں پر فوج پر اور پاکستان کے شیعہ مزہبی مراکز پر اور شیعہ کے علما ء اور دیگر اعلی شخصیات پر حملے ہوتے رہے اور شیعہ کی نسل کشی ہوتی رہی۔
مگر ایران سے اج دن تک پاکستان کے اندر کسی بھی قسم کی دہشت گردی کبھی بھی نہیں ہوئی پاکستان کے ہر مشکل وقت میں ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا تمام جنگین جو پاکستان نے انڈیا کے ساتھ لڑی ایران ہر طرح کی مالی امداد میڈیکل کی امداد فری تیل سستا تیل ہر چیز پاکستاک کو دی۔
ایران کے وزیر خرجہ کا حالیہ بیان سب نے سن رکھا ہے کہ پاکستان کےلیے ایران اوپن چیک ہے جب چاہو جتنا چاہو اس کو اپنے لیے استعمال کرو۔
میں اپ کو یہ باور کروانا چاہتا ہوں کے پاکستان کے شیعہ علماء ہوں یا عام عوام پالستان مین سات 7⃣ کروڑ شیعہ اباد ہیں وہ اپ کی کسی بھی ایسی ڈیل جس میں ایران کے خلاف اڈے دینے کا معاملہ ہو یا سعودیہ کے ساتھ مل کر ایران پر کسی بھی جارحیت جو پاکستان کی سرزمین سے کی گئی اس کے نتائج بھت بھیانک نکلیں گے دنیا ایران کی جنگ کو بھول جاے گی اپ نے ابھی تک دنیا کی سپر پاورز کے سامنے ایران کے شیعہ عوام علماء اور عسکری و سیاسی لوگوں کا عزم حوصلہ ایمان دیکھا ہے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے شیعان حیدر کرار کا ایمان عقیدہ حوصلہ بہادری جرات استقلال ایک جیسا ہے بھول کر بھی ایسی غلطی نہایت بھیٹنا جس کے بعد اپ کو اپنی غلطی پر پچھتانا پڑے جیسے آج امریکہ اور اسرائیل پچھتا رہے ہیں۔
پاکستان میں موجود سات 7⃣ کروڑ عوام کو انڈر ایسٹیمیٹ بلکل بھی نہ کرنا اءران اس وقت اسلام کی جنگ لڑ رہا ہے اور جو لوگ یا ممالک ایران کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں یا حمایت کر رہے وہ دراصل یہود اور نصاری کی جنگ لڑ رہے ہیں پاکستان عوام نے نہ تو امریکہ اسرائیل یا سعودی عرب یا کسی اور ملک سے کسی قسم کا معاہدہ نہی کر رکھا جنھوں نے زاتی حیثیت میں کوئی معاہدہ کیا ہے وہ خود زمہ دار ہیں اور ریاست کسی محکمے کا نام نہیں نہ کسی ادارے کا نام ہے نہ کسی جنرل کرنل کا یا فارم سینتالیس سے مسلط کیے گیے کٹھ پتلی حکمران کا نام ہے ریاست پچیس کروڑ عوام کا نام ہے۔
یاد رہے پاکستان یا دنیا کے کسی کونے پر بھی شیعان حیدر کرار پر امن لوگ ہیں قانون کا احترام کرتے ہیں اپنے ایمان عقیدے کا دفاع کرنا جانتے ہیں موت سے یا کسی بھی جبر سے ظلم سے قید سے یا کسی بھی خوف سے انکو نہ تو ڈرایا جا سکتا ہے نہ ہی انھیں دبایا جا سکتا ہے نہ انکو ہرایا جا سکتا تاریخ گواہ ہے کیوں شیعان حیدر کرار زندگی جینے اور مرنے کا فلسفہ کربلا سے اور اہلیبیت علیہم سے لیتے ہین انکی آخری حد کو کراس کرنا حماقت تباہی اور بربادی کو دعوت دینا ہے۔
ہمارا موقف صاف اور واضح ہے ہم پر امن لوگ ہیں محب وطن لوگ ہیں قانون اور اداروں کا احترام کرنے والے لوگ ہیں مگر ہم اپنے عقائد مزہب ایمان پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے موت کو گلے لگنا پسند کرتے ہیں ۔
مزمل حسین طوری کی مندرجہ بلا تحریر
چوکیدار گھر کے مالک سے کہتا ہے بتاؤ گھر کے وفادار ہو کہ نہیں؟ اگر نہیں ہو تو گھر سے نکل جاؤ! چوکیدار کو جب تک اسکی اوقات میں نہیں رکھا جائے گا گھر ایسے ہی تباہ حال رہے گا! اور کوئی بھی حسینء کے ماننے والوں کو وفاداری کا درس نہ دے ہم نے اسلام کو بچایا ہے ہم جانتے ہیں موجودہ یزید کے خلاف جنگ کس طرح لڑنا ہے۔ چوکیدار کو اپنے کام سے مطلب ہونا چاہئے
علامہ شہنشاہ نقوی
حقِ بیاں اور بانیانِ پاکستان
(1)
جو مصلحت کی چادریں اوڑھ کر خاموش رہتے ہیں
وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں روز مرتے ہیں
جو ظلم کے سامنے کلمہِ حق نہیں کہتے
وہ زندگی کو ذلت کے سانچے میں بنتے ہیں
مگر جو کٹ گئے پر سر نہ جھکایا کسی کے آگے
وہی تو اصل میں وارث ہیں کربلا کے قافلے کے
(2)
عجب تماشا ہے کہ عالم کو بلایا دربار میں
ہوئی جس کی توہین، وہ کھڑا رہا وقار میں
زبان پہ پہرے بٹھائے گئے، لب سلے رہے
مگر وہ حق کا نُور چھپا نہ غبار میں
جسے تم نے خاموش سمجھا وہ اک طوفان تھا
وہ چپ رہ کر بھی باطل کا بڑا نقصان تھا
(3)
وہ فوج کیا جو نہتی زبان سے ڈر جائے؟
وہ تخت کیا جو ایک حق کی اذان سے ڈر جائے؟
اگر ضمیر سلامت ہو تو خوف کیسا ہے؟
وہ جاہ کیا جو علم کے ایقان سے ڈر جائے؟
تمہارے جبر نے عالم کی شان بڑھا دی ہے
خود اپنے واسطے تم نے اک آگ دہکا دی ہے
(4)
اے صاحبانِ جبہ و دستار، تم پہ بھی لازم ہے
کہ علم کی حرمت کا پاس رکھنا ہی لازم ہے
دربار کی کرسی سے کہیں اونچا ہے مصلّٰی
باطل کی بندگی سے انکار کرنا ہی لازم ہے
اگر علم ہے پاس تو پھر حوصلہ بھی پیدا کر
حق کی خاطر زمانے میں ولولہ بھی پیدا کر
(5)
وہ کیسی عقل ہے جو جاہ و حشم میں کھو جائے؟
جو مصلحت کے اندھیروں میں خود ہی سو جائے؟
علماء کا شیوہ تو ہے زینب (س) کی پیروی کرنا
چاہے دربارِ یزید میں ہی کیوں نہ جانا ہو جائے
خاموش رہنا بھی بعض اوقات گناہ ہوتا ہے
جہاں حق دبے، وہاں عرش بھی گواہ ہوتا ہے
(6)
تم نے روکا انہیں، پر سچائی کب رکتی ہے؟
حق کی شمع تو آندھیوں میں بھی نہیں بجھتی ہے
درباری لہجے میں سچ کو دبانے والے سُن لیں
غیرتِ علی (ع) کبھی کسی کے آگے نہیں جھکتی ہے
وہ عالم نہیں جو خوفِ سلطنت سے ڈر جائے
وہ تو مردِ حر ہے جو سچ کی راہ میں مر جائے
(7)
یہ ملک جس کی مٹی میں ہمارا خوں شامل ہے
اسی کے نقشے میں اپنا جنوں شامل ہے
بنایا ہم نے، سجایا اسے لہو دے کر
اسی کی سانس میں اپنا سکوں شامل ہے
ہمیں کہتے ہو “ایران جاؤ”، اے غافل!
یہ گھر ہمارا ہے، تم کیوں بنے ہو لاحاصل؟
(8)
یہ سبز پرچم، یہ ترانہ جو فارسی میں ہے
یہ فکرِ قائد، یہ جذبہ جو عاشقی میں ہے
امیرِ ملت ہوں یا اصفہانی کے کارنامے
سبھی کا حصہ تو اس ملک کی بندگی میں ہے
جسے تم غیر سمجھتے ہو، وہ تو بانی ہے
پاکستان تو دراصل ہماری ہی نشانی ہے
(9)
یہ ملک قائد کی ہمت کا اک ثمر تو ہے
یہ راجہ صاحب کی دولت، ان کا جگر تو ہے
جنہوں نے تن من دھن سب لٹا دیا اس پر
وہ قافلہ ہی تو منزل کا ہم سفر تو ہے
انہیں کو کہتے ہو “ایران جاؤ”، اے غافل!
یہ گھر تو خونِ جگر سے ہوا ہے اب حاصل
(10)
عقلِ سلیم عطا ہو ان کو جو اقتدار میں ہیں
جو بھول بیٹھے ہیں کہ وہ بھی کسی کے حصار میں ہیں
یہ دنیا فانی ہے، یہ دربار مٹ جائیں گے
صرف وہی رہیں گے جو حق کے وقار میں ہیں
اپنے تخت پہ کبھی اتنا غرور نہ کرنا
مظلوم کی آہ سے خود کو دور نہ کرنا
(11)
یہ کیسی عقل ہے، یہ کیسا عجب فیصلہ ہے؟
کہ جس دن عید تھی، اس دن بھی روزہ رکھوا دیا ہے!
حرام تھا جس دن فاقہ، وہ دن بھوکا گزارا
قوم کو الجھنوں کے جال میں کس نے پھنسا دیا ہے؟
ذمہ دار اس فتنے کا وہ ہے جو تختِ غرور پر بیٹھا ہے
جس نے دین کے احکام کو بھی سیاست میں لپیٹا ہے
(12)
یہ پاک دھرتی، یہ ایثار کے فسانے دیکھ
تڑپتی روح میں ماضی کے وہ زمانے دیکھ
ہمیں نکالو گے کیسے یہاں کی مٹی سے؟
ہماری سانس جڑی ہے وطن کی ہستی سے
جو درسِ کربلا ہے، اسے حرزِ جاں بنا لیں
ہو جائے دور ہر اک ظلم کی یہ سیاہ منزل
(13)
نہ جھکے جو کسی جابر کے تکبر کے سامنے
درس لیجیے ان تشنہ لب پروانوں سے
جس نے سر دے دیا پر بیعتِ باطل نہ کی
وہی تو ہے جس نے حق کی منزل حاصل کی
حق پہ کٹ جانے کے پُر نور عنوانوں سے
زندگی سیکھئے شبیرؑ کے دیوانوں سے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عوامی رد عمل اور یوم قدس
آج کلیوم قدس پر عوامی رد عمل پر جس کرب اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے ہے، وہ ان لوگوں کے لیے بالکل بجا ہے جو مفاد پرستی کی چادر اوڑھ کر حق گوئی سے کتراتے ہیں۔ رہبرِ معظم جیسی شخصیت مخلص قیادت و شہادت کے لیے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور صرف اپنے ‘ویزے’ اور ‘پیٹ’ کی فکر کرنے کو تریج دے رہے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ عمل طور پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں
اسی مناسبت سے، مذہبی پیشواؤں کی خود غرضی اور مفاد پرست کارندوں کی روش پر یہ طنزیہ نظم احباب کی نذر ہے:
سوداگرانِ دیں و ملت
(1)
جو بیچتے ہیں دیں کو یہاں کاروبار میں
مصروف ہیں جو درہم و دینار و ہار میں
ایمان جن کا دب گیا زر کے انبار میں
آئے ہیں سب نکل کے اسی رہگزار میں
جتنے حرام خور تھے قرب و جوار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(2)
رہبر کا نام لینے سے کتراتے ہیں یہ لوگ
ویزوں کی خاطر دین کو جھٹلاتے ہیں یہ لوگ
آقا کی خوشنودی پہ اتراتے ہیں یہ لوگ
اپنا شکم ہی بس یہاں پوجتے ہیں یہ لوگ
حق کی صدا پہ چپ ہیں عجب انتشار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(3)
محراب و منبروں پہ یہ قبضے جما لیے
مذہب کے نام پر کئی دھندے بنا لیے
تھوڑے سے فائدے پہ عقیدے گنوا دیے
سجدے بھی اپنے وقت کے فرعون کو دیے
ملبوس ہیں یہ جبہ و دستار و دھار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(4)
میدانِ کربلا ہو تو پیچھے ہٹیں گے یہ
تلوار دیکھ لیں تو کہیں بھی چھپیں گے یہ
سر بیچ کر ہی اپنی دکانیں بھریں گے یہ
کب حق کی راہ میں کوئی نعرہ کریں گے یہ
زندہ ہیں صرف ذلت و پستی کے غار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(5)
ان کارندوں کا حال تو دیکھو ہر ایک موڑ
رشوت کے راستوں پہ لگے ہیں یہ کروڑ
ملک و قوم کو بیچ کے کرتے ہیں جوڑ توڑ
کاہے کا جذبہ، ان میں ہے بس مال کی ہی دوڑ
لذت ملی ہے ان کو اسی کج روی کے خمار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(6)
حکومتی نشستوں پہ بیٹھے ہیں بن کے پیر
اندر سے کھوکھلے ہیں، حقیقت میں ہیں اسیر
شہیدِ حق کے ذکر پہ بن جاتے ہیں یہ لکیر
ڈرتے ہیں ویزہ چھن نہ جائے، او بے ضمیر!
ڈوبے ہوئے ہیں حرص کے تند و تیز دھار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(7)
صفِ آخر میں بھی مجاہد نظر آتے نہیں یہ
حق کی گواہی دینے کو لب ہلاتے نہیں یہ
اپنے مفاد چھوڑ کے باہر آتے نہیں یہ
بزدل ہیں ایسے، موت سے گھبراتے نہیں یہ؟
مصروف ہیں بس اپنی ہی دنیا سنوار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(8)
ایوانِ وقت کے یہ چمچے اور کارندے
مردہ ضمیر لوگ، یہ پستی کے درندے
اڑتے ہیں مصلحت کے ہواؤں میں پرندے
کرتے ہیں قوم و ملت کے ٹکڑے یہ گندے
الجھا ہوا ہے دین ان کے حصار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(9)
رہبر نے جان دے دی مگر حق نہیں چھوڑا
باطل کے سامنے کبھی سر کو نہیں موڑا
ان مصلحت پسندوں نے ہر عہد کو توڑا
دنیا کی چاہتوں سے ہی رشتہ ہے بس جوڑا
پنہاں ہیں سب یہ مکر کے گرد و غبار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(10)
شہید کا لہو تو پکارے گا حشر تک
لرزے گا ان کا تخت بھی دیوار و در تلک
پہنچے گی ان کی تیرہ بختی سحر تک
رہ جائے گا نہ نام و نشاں شام و پہر تک
رسوا ہوں گے یہ دہر کے لیل و نہار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(11)
یہ ویزہ، یہ عہدہ، یہ رتبہ، یہ مال و زر
کچھ بھی نہ جائے گا ترے ہمراہ قبر پر
ہوگا وہاں حساب، اے غافل ذرا تو ڈر!
کیا منہ دکھائے گا تو وہاں روزِ حشر پر؟
باندھے ہوئے ہیں رختِ سفر انتظار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(12)
ملا ہو یا کہ افسرِ اعلیٰ، ہے سب شریک
مل کر جو کر رہے ہیں یہ ملت کو تھیک تھیک
حق گو کو کہہ رہے ہیں یہ پاگل اور بھییک
خود بن گئے ہیں وقت کے شاطر اور “نیک”
نام و نمودِ وقت کے جھوٹے حصار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(13)
اے قوم! دیکھ ان کے رخِ پر فریب کو
پہچان ان کے جبہ و دستار و جیب کو
چھپاتے ہیں یہ اپنے ہر اک عیب و ریب کو
کھو بیٹھے ہیں یہ عظمت و جاہ و شعیب کو
غرقاب ہیں یہ اپنی انا کے مزار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(14)
آئے گا ایک روز کہ حق کی کھلے گی آنکھ
ٹوٹے گی ان لٹیروں کی اڑتی ہوئی یہ پالیخ
پائے گا اب نہ کوئی یہاں ان کی کوئی سانکھ
لکھے گا وقت خود ہی ان کی ذلت کی شاخ
اب تک کھڑے ہیں جھوٹ کے ہی اختیار میں
جتنے حرام خور تھے قرب و جوار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
بیوروکریسی اور میڈیا کے نام
(15)
یہ بیوروکریٹ جو بیٹھے ہیں سنگِ میل پر
فائل دبا کے ہنستے ہیں انسانی ذلیل پر
ایمان بیچ دیتے ہیں رِشوت کی ریل پر
قانون کو نچاتے ہیں اپنی ہی چھیل پر
عام آدمی ہے کچلا ہوا اِس فشار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(16)
صاحب کی کج ادائی اور وہ پروٹوکول ہے
عوام کی پکار تو بس ایک ڈھول ہے
سرکاری کرسیوں پہ بیٹھا یہ جھول ہے
ان کی نظر میں ملک کی مٹی بھی دھول ہے
مصروف ہیں یہ صاحبِ عالی وقار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(17)
میڈیا کا حال دیکھیے، سچ کا گلا گھونٹ کر
بیٹھا ہے ٹی وی اسکرین پہ ضمیر کو ہانٹ کر
لفافے کی چمک پہ اپنی بولی کو بانٹ کر
حق کو چھپاتے ہیں یہ باطل کو چانٹ کر
پھیلا رہے ہیں زہر یہ گرد و غبار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(18)
ریٹنگ کی دوڑ میں یہ شہیدوں کو بھول گئے
جھوٹے پروپیگنڈوں کے جھولوں میں جھول گئے
دربارِ شاہِ وقت کے بھانڈوں میں گھل گئے
سوداگرانِ حرف و بیاں اب تو کھل گئے
بِکتے ہیں روز و شب یہ اب آزاد بازار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
(19)
عام آدمی تو دیکھ رہا ہے یہ سب تماشہ
اِن کارندوں نے توڑ دی ہے قوم کی آشہ
میڈیا ہو یا بیوروکریٹ، سب کا ہے اک ہی پاشہ
مال و منالِ دنیا ہی ہے ان کا اصل تاشہ
غرقاب ہیں یہ سب ہی مکر کے خمار میں
جتنے حرام خور تھے قرب و جوار میں
پردھان بن کے آ گئے اگلی قطار میں
اگر اس عمل کو فوری پر نہ روکا ھیا ہو سکتا ہے کہ عوامی رد عمل شدت اختیار کر جائے اور ان نا۔ نہاد افراد کو مشکلات کا سامنہ کرنا پڑئے گا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
شہادت امام علی علیہ السلام
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت تاریخِ اسلام کا وہ المناک باب ہے جس نے حق اور باطل کے درمیان ایک واضح لکیر ظاہر کر دی
شہادتِ علی ابن ابی طالب علیہ السلام
حضرت علیؑ کی شہادت 21 رمضان المبارک 40 ہجری کو پیش آئی۔
آپؑ پر حملہ 19 رمضان کی صبح مسجدِ کوفہ میں حالتِ نماز میں کیا گیا۔
قاتل عبدالرحمن بن ملجم ایک خارجی تھا جس نے زہر آلود تلوار سے آپؑ پر وار کیا۔ حملے کے وقت آپؑ سجدہ خالق میں مصروف تھے۔
زخم کھاتے ہی آپؑ کی زبان پر یہ تاریخی الفاظ تھے: “ربِ کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا۔” آپؑ کی شہادت سے علم و حکمت کا وہ شہر خاموش ہو گیا جس کا دروازہ آپؑ خود تھے۔
آپؑ نے بسترِ شہادت پر بھی اپنے قاتل کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی۔ اورقاتل کو شربت بھی پیش کیا
آپؑ ارشاد گرامی ہے کہ اگر میں زندہ رہا تو میرا اختیار ہے، اور اگر انتقال کر جاؤں تو قاتل کو صرف ایک ہی ضرب لگانا۔ یہ انصاف کی علامت تھی
آپؑ کی شہادت نے قابض خلافتِ کے ایک اندھیر دور کا اختتام کیا ۔
کوفہ کی گلیوں میں یتیموں کا سہارا چھن گیا جو راتوں کو ان کے لیے کھانا لایا کرتے تھے۔
آپؑ کی وصیتوں میں تقویٰ، یتیموں کی نگہداشت اور نماز کی پابندی سرفہرست تھی۔
آپؑ کی تدفین نجف اشرف موجودہ عراق میں انتہائی رازداری کے ساتھ کی گئی۔
آپؑ کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ حق پر ڈٹ جانے والے کبھی شکست نہیں کھاتے۔ موجودہ دور کے حالات نے اس عمل کو اور سیاہ چہروں کو شارع عام پرروز روشن کی طرح عیاں اور چاک کر دیا
کائنات نے ایسا عادل حکمران پھر کبھی نہیں دیکھا جس نے بیت المال کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کی۔
آپؑ کی پوری زندگی جہاد، علم اور خدمتِ اسلام میں گزری۔ شہادتِ علی علیہ السلام کے اثرات ۔امام علیؑ کی شہادت محض ایک فرد کی موت نہیں تھی، بلکہ اس کے دوررس سیاسی، سماجی اور مذہبی اثرات مرتب ہوئے:
عدل و انصاف کا خلا: آپؑ کی شہادت کے بعد وہ نظامِ عدل متاثر ہوا جہاں ایک خلیفہ اور عام شہری برابر سمجھے جاتے تھے۔ سیاسی عدم استحکام آپؑ کے بعد اسلامی ریاست کا مرکز تبدیل ہوا اور ملوکیت بادشاہت کی بنیادیں مضبوط ہونے لگیں۔
شہادت کی ترویج و تاریخ آپؑ کی شہادت نے آنے والی نسلوں، بالخصوص امام حسینؑ کو کربلا میں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا۔ اور آنے والہ نسلوں کے لئے مشعل راہ ہے۔
امت کی اتحاد کی فکر آپؑ نے آخری وقت تک امت میں تفرقے سے بچنے اور قرآن و سنت پر عمل کرنے کی تاکید کی یتیموں اور مساکین کی محرومی: آپؑ کی شہادت کے بعد محروم طبقہ ایک ایسے سرپرست سے محروم ہو گیا جو آپ کے اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی پیوند زدہ لباس پہنتا تھا۔
حضرت علیؑ کی شہادت رہتی دنیا تک کے لیے یہ پیغام ہے کہ اقتدار، جاہ و جلال اور دشمن کی سازشیں کبھی بھی حق کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ آپؑ کی زندگی اور موت دونوں ہی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
حضرت علیؑ کی وصیتوں کے بارے
حضرت علی علیہ السلام نے اپنی شہادت سے قبل کچھ وصیتیں فرمائیں، وہ صرف ایک خاندان کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہیں۔ آپؑ نے اپنی وصیت میں جن اہم نکات پر زور دیا، وہ درج ذیل ہیں:
حضرت علی علیہ السلام کی آخری وصیتیں
تقویٰ اور پرہیزگاری: آپؑ نے سب سے پہلے اللہ سے ڈرنے اور دنیا کی چکا چوند سے متاثر نہ ہونے کی تلقین فرمائی، چاہے دنیا آپ کے پیچھے ہی کیوں نہ آئے۔
نظم و ضبط نظمِ امر میں آپؑ نے فرمایا: “میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنے معاملات میں نظم و ضبط پیدا کرنے کی وصیت کرتا ہوں”۔ یہ جملہ آج بھی انتظامی امور کے لیے سنہری اصول مانا جاتا ہے۔
یتیموں کی نگہداشت آپؑ نے بار بار تاکید فرمائی کہ “یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہاری موجودگی میں بھوکے رہ جائیں”۔ پڑوسیوں کے حقوق: آپؑ نے پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ نے ان کے بارے میں اتنی تاکید فرمائی تھی کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ شاید انہیں وراثت میں حصہ دے دیا جائے گا۔
قرآن پر عمل: آپؑ نے فرمایا کہ قرآن کے احکامات پر عمل کرنے میں کوئی دوسرا تم سے سبقت نہ لے جائے۔
نماز کی اہمیت: آپؑ نے نماز کو دین کا ستون قرار دیا اور اس کی پابندی کی سخت وصیت کی۔ آپس کے تعلقات میں آپ کا فرماں ہے آپؑ نے فرمایا کہ دو افراد کے درمیان صلح کرانا سال بھر کے نفلی نماز و روزے سے افضل ترین ہے۔
امربالمعروف و نہی عن المنکر: آپؑ نے خبردار کیا کہ “نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا نہ چھوڑنا، ورنہ بدکار لوگ تم پر مسلط ہو جائیں گے اور پھر تمہاری دعائیں بھی قبول نہ ہوں گی”۔
قاتل کے ساتھ انصاف: آپؑ نے اپنے بیٹوں سے فرمایا کہ اگر میں اس ضرب سے جانبر نہ ہو سکوں، تو قاتل (ابنِ ملجم) کو صرف ایک ہی ضرب لگانا کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب ماری ہے، اور اس کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹنا۔
خاندان میں اتحاد: آپؑ نے بنی ہاشم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے قتل کے بدلے مسلمانوں کا خون نہ بہانا اور انتقام میں حد سے نہ گزرنا۔
اہم سبق اس شہادت سے جو انسانیت کو ملا وہ حضرت علیؑ کی وصیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ آپؑ نے آخری وقت میں بھی عدل کا دامن نہیں چھوڑا، جو آپؑ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو تھا۔ جس کی مثال اس موجود زماں و مکان مین ابھی حال مین دیکھنے کو ملا اور اس کا زندہ وجود آیت اللہ خامنائی جیسا مرد جری جس کو تمام طاغوت مل کر بھی نہ جھکا سکے۔۔۔۔
موت تو ایک دن آنی ہی ہے، لیکن علیؑ نے اسے سجدے کی حالت میں گلے لگا کر اسے ابدی زندگی بنا دیا۔ اصل مین مولا علی علیہ السلام سے پہلے دور میں ظاہری حکومتوں نے آج کل کی طرح جب بے ضابطہ نظام کو جاری رکھا جس سے عام آدمی تو کیا اسلام کو ہی سیاسی طور پر الٹ کر رکھ دیا گیا۔
سیاسی اثرات اورامیر المومین کا قتل یا دہشت گردی میں جو افراد در پردہ شامل تھے ان کے اعمال اور کرادر سب روز روشن کی عیاں ہے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت محض ایک جذباتی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک گہری سیاسی سازش کا نتیجہ تھا جس کے اثرات نے آنے والی کئی صدیوں تک اسلامی تاریخ کا رخ متعین کر دیا۔ اس قتل کے پیچھے چھپے کرداروں اور ان کے مذموم عزائم کو سمجھنا تاریخ کے طالب علم کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
درپردہ سازش اور مرکزی کردار
تاریخی حقائق کے مطابق، مکہ میں تین خارجیوں (عبدالرحمن بن ملجم، برک بن عبداللہ، اور عمرو بن بکر التمیمی) نے خفیہ طور پر ایک منصوبہ بنایا۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک تین اہم شخصیات (حضرت علیؑ، معاویہ اور عمرو بن العاص) زندہ ہیں، امت میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
عبدالرحمن بن ملجم (مرکزی قاتل): یہ شخص محض ایک کرائے کا قاتل نہیں تھا بلکہ ایک انتہا پسند سوچ کا نمائندہ تھا۔ اس نے کوفہ پہنچ کر قطام بنت شجنہ نامی عورت سے مدد لی، جس کے باپ اور بھائی جنگِ نہروان میں حضرت علیؑ کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ قطام نے مہر میں حضرت علیؑ کے قتل کی شرط رکھی، جس نے ابنِ ملجم کے ارادے کو مزید تقویت دی۔
خوارج کا کردار: یہ وہ گروہ تھا جو “لا حکم الا للہ” (حکم صرف اللہ کا ہے) کا نعرہ لگا کر خلافتِ برحق کے خلاف کھڑا ہوا۔ ان کی انتہا پسندی نے انہیں اس حد تک اندھا کر دیا تھا کہ وہ رسول اللہ کے وصی اور داماد کے خون کو جائز سمجھنے لگے۔ اور آل رسول کو تکلیف پہنچانا فرض اولین جانتے تھے
سیاسی محرکات: شام کے باغی گروہوں اور کوفہ کے اندر موجود منافقین کی ریشہ دوانیوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جہاں حضرت علیؑ کو اندرونی محاذ پر کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔
قاتلوں اور سازشیوں کے اعمال و کردار
ان افراد کا کردار تضادات اور سنگدلی کا مجموعہ تھا ، مذہبی جنونیت اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ ابنِ ملجم کا خیال تھا کہ وہ یہ “کارِ خیر” کر کے جنت کا مستحق بن رہا ہے۔ یہ مسجد میں تاریخ کی پہلی بڑی “دہشت گردی” تھی جسے مذہب کا لبادہ پہنایا گیا۔
غداری اور بے وفائی: کوفہ کے کچھ سردار، جو بظاہر حضرت علیؑ کے ساتھ تھے، درپردہ مخالفین سے رابطے میں تھے۔ انہوں نے ابنِ ملجم کو پناہ دی اور حملے کے لیے سہولیات فراہم کیں۔
زہر آلود تلوار کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ ان کا مقصد صرف قتل کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا تھا کہ آپؑ کسی صورت بچ نہ سکیں۔
شہادت کے گہرے سیاسی اثرات
حضرت علیؑ کی شہادت نے اسلامی نظامِ حکومت میں چند ایسی تبدیلیاں پیدا کیں جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں:
خلافت سے ملوکیت آپؑ کی شہادت کے ساتھ ہی خلافتِ راشدہ کا وہ مثالی دور ختم ہو گیا جہاں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ تھا۔ اس کے بعد موروثی بادشاہت کا آغاز ہوا۔
مرکزِ خلافت کی تبدیلی سیاسی مرکز کوفہ سے دمشق منتقل ہو گیا، جس سے حجاز اور عراق کی سیاسی اہمیت عارضی طور پر کم ہو گئی۔
فرقہ واریت کا عروج اس واقعے نے مسلمانوں کے درمیان سیاسی اختلافات کو مذہبی رنگ دے دیا، جس سے شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے درمیان سیاسی خلیج واضح ہو گئی۔
انتہا پسندی کی بنیاد خوارج کی اس دہشت گردی نے اسلام میں اس انتہا پسند سوچ کی بنیاد رکھی جو آج بھی “تکفیری” نظریات کی صورت میں موجود ہے۔
حضرت علیؑ کا قتل کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس عادلانہ نظام کو ختم کرنے کی کوشش تھی جو طاقتوروں اور ظالموں کے مفادات کے خلاف تھا۔ آپؑ کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ جب معاشرے میں انتہا پسندی اور سیاسی ہوس بڑھ جائے، تو علم و عدل کے میناروں کو گرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
تو جیسے مردہ سمجھتا ہے اصل میں وہی زندہ ہے
تو درند ہے تو درندہ ہے اے ٹرمپ
سفیرِ حق: بصیرت اور مقاومت کا روشن منارہ
آیت اللہ سید علی خامنہ ای عصرِ حاضر میں اس “حبل اللہ” کی مانند ہیں جس نے امتِ مسلمہ کو تفرقے کی دلدل سے نکال کر وحدت کی شاہراہ پر گامزن کیا۔ آپ کا علمی وقار صرف فقہ اور اصول تک محدود نہیں، بلکہ آپ کی نگاہِ دور اندیش نے استعمار کے “سافٹ وار” (نرم جنگ) کے خطرات کو اس وقت بھانپ لیا تھا جب دنیا مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر سو رہی تھی۔ آپ نے ثابت کیا کہ ایک حقیقی رہبر وہ ہے جو دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر “لا” (نفی) کہنے کی جرات رکھتا ہو اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرے کہ “مقاومت کی قیمت، تسلیم ہو جانے کی قیمت سے کہیں کم ہے”۔ آپ کی قیادت نے عالمِ اسلام کی ان ماؤں اور بیواؤں کو حوصلہ دیا جن کے لختِ جگر راہِ خدا میں قربان ہوئے، کیونکہ آپ نے انہیں یقین دلایا کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ صیہونی و استکباری قلعوں کے انہدام کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ آپ کی شب بیداری اور سحر گاہی کی دعاؤں کا ثمر ہے کہ آج دنیا کے مظلوم ترین خطوں میں بھی مقاومت کا پودا ایک تناور درخت بن چکا ہے، جس کی چھاؤں میں عزت اور خودداری کی زندگی سانس لے رہی ہے۔
لسانِ حق:
باطل کے ایوانوں میں زلزلہ
بزدل ڈرایا کرتے ہیں اکثر شیر کو
مگر شیر کی خاموشی بھی اک طوفان کا پیش خیمہ ہے
جسے تم فنا کہتے ہو، وہ شہادت کی حیاتِ جاوداں ہے
جسے تم مردہ سمجھتے ہو، وہ دلوں میں دھڑک رہا ہے!
وہ حبل اللہ ہے، وحدتِ امت کا مضبوط ستون
وہ رہبرِ جری، جو کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہے
اس کا وجود ہی باطل کے لیے پیغامِ اجل ہے
وہ سیدِ علی ہے، جو کربلا کا نعرہ بن کر زندہ ہے!
اے ٹرمپ! اے یاہو! تم انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہو
تمہاری درندگی نے معصوموں کی بستیوں کو اجاڑا ہے
تمہارے ناپاک قدموں سے امن کی زمین جھلس گئی ہے
تم وہ بھیڑیے ہو جو تہذیب کا لبادہ اوڑھ کر آئے ہو۔
اے آلِ سعود اور اے یہود کے ہمنوا غدارو!
تمہارا مکر، تمہارا بغضِ شدید ہے آلِ رسول کے لیے
تم نے اقتدار کی خاطر اپنے دین کا سودا کیا
تم وہ درندے ہو جنہوں نے مظلوموں کا لہو پیا۔
مگر سن لو! یہ شمعِ حق کسی آندھی سے بجھ نہیں سکتی
خدا کا شیر آج بھی میدانِ عمل میں ڈٹا ہوا ہے
تمہارے تخت اڑ جائیں گے، تمہارے تاج خاک ہوں گے
حق کا پرچم لہرائے گا، اور تمہارا نام و نشاں مٹ جائے گا!
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
صداقت کا الٰہی نور
سن لو اے خناس زدہ ذہنوں کے مالک!
تم جو بیٹھے ہو خبروں کی گھات میں
کہ کب چراغِ حق بجھے اور اندھیرا ہو
تمہیں کیا خبر کہ یہ شجرِ طوبٰی ہے
جس کی جڑیں عرشِ الٰہی سے جڑی ہیں
یہ مکتبِ تشیع ہے، کوئی سیاسی ڈھونگ نہیں
جس کی بنیادیں مٹی کے بُتوں پر ہوں
ہمارا توکل ان ہستیوں پر ہے
جنہوں نے تپتی ریت پر سجدہ بچا لیا
ہم چہاردہ معصومین کے وارث ہیں
ہمیں شخصیتوں کے مٹنے کا ڈر نہیں سناتے
ہمارا نظریہ لافانی ہے، ہمارا جذبہ ابدی ہے!
تمہارا میڈیا، تمہاری خرافات، تمہارا زہریلا لہجہ
حق کی لہروں کو روکنے والے تنکے ہیں
ہم کربلا کے وہ مسافر ہیں
جو کٹ کر بھی زندہ جاوید ٹھہرے
تم ہمیں مٹانے کی جتنی سعی کرو گے
ہم خاک سے اٹھ کر اتنے ہی نمایاں ہوں گے
یاد رکھو!
شہادت ہماری معراج ہے، ذلت ہماری تقدیر نہیں
ہم تو وہ ہیں جو لہو سے تاریخ لکھتے ہیں
تمہارے جھوٹ کے محلوں کو ایک دن
حق کی گونج پیوندِ خاک کر دے گی
کیونکہ ہم مٹ کر بھی مٹتے نہیں
ہم تو وہ خوشبو ہیں جو بکھر کر اور پھیل جاتی ہے!
اکمل سید لندن
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کالم وسعت اللہ خان اور شعیہ کا کیا کروں کا جواب نظمیہ
بی بی سی کے کالم نگار وسعت اللہ خان کے کالم “میں ان شیعوں کا کیا کروں” میں اٹھائے گئے سوالات اور فکری مغالطوں کے جواب میں، مسدس میں یہ مکمل رزمیہ و فکری نظم (22 بند) ۔یہ نظم نشانِ حیدر کی عظمت، مشاہیرِ اسلام کی علمی میراث، موجودہ مفکرین کے افکار اور آخر میں کربلا کے آفاقی سبق کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔
بی بی سی کے مایہ ناز کالم نگار وسعت اللہ خان کا انتہائی دبنگ اور تاریخی کالم
“میں ان شیعوں کا کیا کروں”
مطالعہ فرمائیں.
شاید شیعوں کو مارنے سے میرا کام نہیں چلے گا۔ شائد اور بہت کچھ کرنا پڑے گا۔
تو کیا بو علی سینا کی قبر پر جا کے تھوک دوں؟
بابائے الجبرا الخوارزمی کے فارمولے جلا دوں؟
بابائے کیمیا جابر بن حیان کی ہڈیاں زمین سے نکال لوں؟
بابائے فلکیات البیرونی کے مزار کو آگ لگادوں؟
مورخ المسعودی کی تاریخِ اسلام حرام سمجھ لوں؟
حضرت معروف ِ کرخی کے تصوف، ملا صدرا کے نظریہِ وجودیت اور سیّد علی ہمدانی کی تبلیغ کو شرک کے خانےمیں رکھ دوں؟
عمرِ خیام کی رباعیات چھلنی کر دوں؟
شاہ نامہ والے فردوسی کا تہران یونیورسٹی میں لگا مجسمہ گرا دوں؟
ڈاکٹر علی شریعتی کو مرتد مان لوں؟
“ایوب خان نے ایک سنی اکثریتی نظریاتی ملک کی حسّاس فوجی قیادت اور پینسٹھ کی جنگ لڑنے کی ذمہ داری بھی ایک ہزارہ شیعہ جنرل موسی کے حوالے کردی۔”
جو بھی قلی قطب شاہ، میر، غالب، انیس، دبیر، اکبر الہ آبادی، جوش، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور جون ایلیا کے شعر پڑھے، پڑھائے یا حوالہ دے، کیا اس کا منہ نوچ لوں؟
اردو کا سب سے بڑا ناول آگ کا دریا، دریا برد کردوں؟ خاک اچھا ہوگا ایسا ناول جسے قرت العین جیسی شیعہ نے لکھا ہو۔
اور صادقین نامی شیعہ کی قرانی کیلی گرافی کسی تہہ خانے میں چھپا دوں؟
کیا جہانگیر کی ایرانی محبوبہ نور جہاں کو بھی ذہن سے مٹا دوں؟
تاج محل کو ڈائنامائیٹ لگا دوں جس میں سنی شاہ جہاں کی شیعہ اہلیہ ممتاز محل سو رہی ہے؟
نادر شاہ کا تذکرہ صفحات سے کیسے کھرچوں؟
بتائیے حیدر علی شیعہ اور شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے والے فتح علی ٹیپو سلطان کے ساتھ کیا کروں؟
جنگِ آزادی کی ہیروئن بیگم حضرت محل کا تذکرہ کہاں لے جاؤں؟
جس شخص کو بانیِ پاکستان کہا جاتا ہے اس پر سے شیعت کا دھبہ کیسے مٹاؤں؟ اسے تو غالباً سنی علامہ اقبال نے ضد کرکے انگلستان سے بلوایا تھا نا۔
اور یہ راجہ صاحب محمود آباد اپنی شیعت بھول بھال کر پاکستان کی نوزائیدہ مملکت پر دامے درمے کیوں قربان ہوگئے۔ شاید وہ پاکستان کو شیعہ ریاست بنانا چاہتے تھے ۔تبھی تو !!!!
اور ایوب خان کو کسی راسخ العقیدہ نے بروقت کیوں مشورہ نہیں دیا کہ ایک سنی اکثریتی نظریاتی ملک کی حسّاس فوجی قیادت ایک ہزارہ شیعہ جنرل موسی کے حوالے نا کرے۔ اور دیکھو ایوب خان نے مزید کیا غضب کیا کہ پینسٹھ کی جنگ لڑنے کی ذمہ داری بھی جنرل موسی کو تھما دی۔
اور سادہ لوح سنیوں نے یہ کیا کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو کندھے پر اٹھا لیا۔ کیا انہیں کسی نے نہیں بتایا کہ وہ شیعہ ہے اور سینہ زوری دیکھو کہ خبردار کرنے کے باوجود بھی اس کی بیٹی کو دو دفعہ وزیرِ اعظم بنا لیا ؟؟؟
شاید گلگت اور بلتستان کے شیعوں کو بالکل ٹھیک سزا مل رہی ہے۔ آخر کس نے کیپٹن حسن، صوبیدار میجر بابر اور ان کے ساتھیوں کو کہا تھا کہ خود ہی بندوق اٹھا لیں، خود ہی کشمیر کی ڈوگرہ حکومت کی غلامی کندھوں سے اتار پھینکیں اور آزادی کمانے کے لگ بھگ بیس روز بعد ہی پاکستان سے آئے ہوئے پہلے پولٹیکل ایجنٹ کو سیلوٹ مار کےگلگت بلتستان کی چابیاں اس کے حوالے کردیں۔ آج بھی ان کی نسلیں اس پر اتراتی ہیں کہ باقی پاکستان تو میز پر بنا۔ ہم نے اپنا حصہ بندوق سے آزاد کروایا۔ مگر ان نسلوں کو اتنی عقل نہیں ہے کہ قومی شناختی کارڈ پر اپنا نام ہی تبدیل کروالیں۔
اور یہ نگر اور ہنزہ کی اسماعیلی شیعہ ریاستیں کس برتے پر پاکستان میں مدغم ہو گئیں؟
جانے کیا سوچ کر حوالدار لالک جان انیس سو ننانوے میں کارگل کی چوٹیوں پر جان دے کر نشانِ حیدر والوں کی صف میں شامل ہوگیا۔ تو کیا
میں یہ مطالبہ کردوں کہ اس شیعہ سے نشانِ حیدر واپس لیا جائے اور اسے شہید نا کہا جائے اور یہ نشانِ حیدر کس نے نام رکھا؟ کیا پاکستان کے اعلی ترین فوجی اعزاز کا نام نشانِ صحابہ، نشانِ جھنگوی، نشانِ جیش، نشانِ طالب یا نشانِ قاعدہ رکھتے ہوئے ہتک محسوس ہوتی ہے ؟؟؟
مجھے پانچ سال کی عمر میں انگلی پکڑ کے اے بی سی ڈی سے متعارف کرانے والے استاد کے سنگِ مزار پر سے حمید حسن نقوی کا نام کھرچ کے دلاور خان یا خورشید صدیقی یا اسلم فاروقی یا بابر بلوچ یا پھر بھگوان داس لکھوانے سے کیا کام چل جائے گا ؟؟؟؟
تحریر:-
وسعت اللہ خان
مسدس جوابِ شکوہِ وطن
(1)
سخن میں زہر گھولنا کمال تو نہیں ہے
یہ فتنہ گری ہے، کوئی مثال تو نہیں ہے
تاریخ کو کھرچنا، مآل تو نہیں ہے
شعورِ نو کا ایسا زوال تو نہیں ہے
کہ نامِ مرتضیٰؓ سے تذبذب میں پڑ گئے
تم اعزازِ وطن سے ہی کیوں لڑ گئے؟
(2)
نشانِ حیدرؑ تو ہے جلالِ شجاعت
یہ فتحِ خیبر و بدر و حنین کی علامت
شہیدوں کا مقدر، غازیوں کی امانت
نبیؐ کے اسد کی ہے یہ خاص عنایت
جو اس نام پر حرف اٹھانے لگے ہیں
وہ اپنی ہی بنیاد ہلانے لگے ہیں
(3)
نشانِ صحابہؓ ہو تو سر پر بٹھائیں
ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ کی یاد منائیں
مگر ناموں کو تفرقے میں کیوں گھسیٹ لائیں؟
سیاست کی آگ میں کیوں تاریخ جلائیں؟
صحابہؓ تو خوشبو ہیں، صحابہؓ قرار ہیں
وہ دینِ محمدؐ کے عظیم شہسوار ہیں
(4)
رہے ذکر “جھنگوی” یا “جیش” و “قاعدہ”
یہ نامِ لغت ہیں، نہ دیں گے کوئی فائدہ
عسکری اعزاز کا ہے الگ ہی قاعدہ
وطن کی محبت ہے اک پختہ معاہدہ
عسکری ناموں میں سرحد کی ہے پکار
ہے یہاں جذبۂِ جاں نثاری ہی وقار
(5)
تم لائے ہو کھینچ کر ابنِ سینا کا نام
البیرونی و خیام و جابر کا مقام
یہ علم کے سورج ہیں، یہ دانش کے امام
ان سب کی بصیرت کو ہے ہمارا سلام
معلم و ہنر کا کوئی فرقہ نہیں ہوتا
دانش کا سفینہ کبھی غرق نہیں ہوتا
(6)
تم کہتے ہو غالب و میر کو چھوڑ دیں؟
صادقین و انیس سے رشتہ کو توڑ دیں؟
اردو کی زلفِ پریشاں کو مروڑ دیں؟
تاریخ کے دھارے کو کیا پیچھے موڑ دیں؟
تخلیق تو صیقل ہے انسانی روح کی
یہ میراث ہے آدمؑ سے لے کر نوحؑ کی
(7)
موسیٰ ہو کہ بھٹو، یا قائدِ اعظمؒ
سب نے ہی اٹھایا تھا آزادی کا علم
اس دھرتی کی مٹی ہے سب کا ہی بھرم
یہاں رکتا نہیں ہے کسی غازی کا قدم
شیعہ ہو کہ سنی، یہاں سب ہی ایک ہیں
وطن کی حفاظت میں سب کے رخ نیک ہیں
(8)
تم “آگ کا دریا” کی باتیں کرتے ہو
تم فرقوں کی خلیجیں ہی بھرتے ہو
تم کیوں حبِ وطن سے ہی ڈرتے ہو؟
اور یادِ رفتگاں میں ہی مرتے ہو؟
قرۃالعین ہو یا کہ ہو ممتاز محل
یہ سب ہیں اسی مٹی کے ماتھے کا صندل
(9)
نشانِ حیدرؑ پانے والا وہ “لالک جان”
وہ کارگل کی چوٹی، وہ غیرتِ پاکستان
وہ گلگت کا غازی، وہ کوہِ گراں
نہیں اس کی شہادت کا کوئی بھی زیاں
اس نے “حیدر” کو پکارا تو اعزاز دیا ہے
وطن کو اس نے خون کا خراج دیا ہے
(10)
اگر نامِ علیؑ پر بھی واجب خراج ہے
تو سمجھو کہ پھر عقیدت ہی لاج ہے
یہ فاتحِ خیبر کی جرات کا راج ہے
یہی تو مجاہد کے سر کا وہ تاج ہے
نشانِ حیدرؑ سے ملتی ہے توانائی
جسے دیکھ کے لرزے ستم کی دانائی
(11)
نشانِ اسلام ہو تو آنکھوں کا نور ہے یہ
خلافتِ اسلام میں وہ سچا شعور ہے یہ
مگر طنز کا لہجہ تو شر کا فتور ہے یہ
وحدتِ امت کے مقصد سے بہت دور ہے یہ
نشانِ حیدرؑ ہو تو “نورِ عین” یہ ہے
کربلا و حیدرؑ کے مابین یہ ہے
(12)
نہ “طالب” کے نام سے اعزاز بنے گا
نہ فتنوں سے یہ ملک ممتاز بنے گا
نئی نسل کا جب نیا ساز بنے گا
تبھی تو یہ ملک سرفراز بنے گا
ہمیں جوڑنا ہے، ہمیں توڑنا نہیں
سلف کے مزاروں کو چھوڑنا نہیں
(13)
اے کاتبِ تحریر! ذرا ہوش میں آ جا
تفرقے کی اس دھند سے تو باہر نکل آ
محبت کا جذبہ تو سینے میں بسا
اسی میں ہے فلاح، اسی میں ہے بقا
پاکستان سب کا ہے، یہ ہم سب کی جاں ہے
یہاں کا ہر اک فرد بطلِ نوجواں ہے
(14)
سلام ان شہیدوں پہ جو سرحد پہ ڈھیر ہیں
وہ اپنے قبیلے کے بے خوف شیر ہیں
وہ مسلک سے بالا، وہ سب سے سویر ہیں
وہ مٹی کے بیٹے، وہ حق کے زہیر ہیں
نشانِ حیدرؑ ان کی عظمت کا نشاں ہے
یہی پاکستان کی پہچان و زباں ہے
(15)
وہ ابنِ سینا، طب کا جو روشن مینار ہے
جس کی بصیرت پہ آج بھی جراحت نثار ہے
قانون جس کی حکمت کا اک شاہکار ہے
وہ علمِ جاں کا، دانش کا سچا وقار ہے
کیا تھوک دوں میں جا کے مسیحا کی قبر پر؟
یا حرف اٹھاؤں اس کے ہی لعل و گہر پر؟
(16)
الخوارزمی کا وہ “الجبرا” اور وہ “حساب”
جس کے بغیر علمِ ریاضی ہے اک سراب
جابر بن حیان کی وہ کیمیا کی کتاب
البیرونی کا وہ فلک پہ عجب انقلاب
ان فارمولوں کو کیا میں آگ لگا دوں؟
یا اپنے ہی ماضی کو میں خود ہی بھلا دوں؟
(17)
فردوسی کا “شاہ نامہ” اور وہ المسعودی
تاریخِ بندگی ہو یا تاریخِ موجودی
معروفِ کرخی کا تصوف، وہ فکرِ شہودی
ملا صدرا کا فلسفہ اور وہ حق نمودی
کیا ان کے مزاروں کو جلانا ہی کام ہے؟
کیا علم کی دنیا میں بھی تفرقہ عام ہے؟
(18)
خیام کی رباعی ہو یا ہمدانی کی پکار
شریعتی کی فکر ہو یا شجاعت کا وہ حصار
یہ سب ہیں میری ملت کے عظیم شہسوار
ان کی بصیرتوں سے ہی چمکے گی یہ بہار
عقیدہ جدا سہی، مگر احساں تو ایک ہے
اس کاروانِ علم کا عنواں تو ایک ہے
(19)
موجودہ دور کے بھی جو دانش کے چاند ہیں
وہ فکرِ تازہ کے جو روشن تراب ہیں
جو حکمت و تدبر کا بہتا چناب ہیں
وہ ظلم کے اندھیروں پہ برق و عتاب ہیں
شریعتی کی تڑپ ہو یا مطہری کا کلام
ان کی صدا پہ کیوں نہ ہو دنیا کا احترام؟
(20)
مفکر تو عصرِ نو کا وہ بیدار ذہن ہے
جو ہر تعصب و نفرت کا اب شکن ہے
علمِ جدید جس کا ہی اپنا وطن ہے
جس کی زبان پہ سچائی کا سخن ہے
جو روکتا ہے ہمیں نفرت کی راہ سے
وہ دیکھتا ہے دنیا کو اپنی نگاہ سے
(21)
یہ ساری بحث جا کے ٹھہرتی ہے ایک جگہ
وہ “کربلا” جو حق کی ہے سچی گواہ گاہ
ہجہاں لہو سے لکھی گئی ہے”لا” کی پناہ
وہاں نہ کوئی فرقہ، نہ کوئی کج کلاہ
حسینؑ سب کا ہے، یہ ایماں کا نور ہے
یہی تو کائنات کا سچا شعور ہے
(22)
نشانِ حیدرؑ ہو کہ ہو ایثارِ کربلا
یہی تو ہے مٹانے کو ہر اک بلا
جس نے سکھایا جینے کا ہم کو نیا ڈھلا
اسی کے نام سے تو یہ عالم ہے لہلہا
وسعتؔ! یہ علم و عشق کا رشتہ قدیم ہے
رستہ یہی صراطِ الہیٰ، مستقیم ہے
فکری نوٹ: اس نظم کا مقصد یہ بتانا ہے کہ پاکستان کی شناخت کسی ایک گروہ کی نفی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے مشترکہ ورثے کی بقا میں ہے۔ نشانِ حیدر سے لے کر کربلا تک، اور الخوارزمی سے لے کر شریعتی تک، یہ سب ہماری مشترکہ تاریخ کے وہ ستون ہیں جنہیں گرانے کا مطلب اپنی ہی عمارت کو منہدم کرنا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
رمضان المبارک کے تقدس، سحر و افطار کی روحانیت اور المیہِ فتنہ و فساد کی عکاسی کرتی یہ آزاد نظم ملاحظہ کیجیے:
لہو میں بھیگی افطار
سپیدہ سحر سے ذرا پہلے
مؤذن کی صدا جب فضاؤں میں رس گھولتی ہے
گھروں میں مصلوں پہ ماتھے سجے ہیں
سحری کے برتن کی آواز میں ایک برکت چھپی ہے
وہ پہلا سپاہی… جو بھوک اور پیاس سے لڑنے چلا ہے
مگر شہر کی شاہراہوں پہ پہرے کڑے ہیں
وہ مسجد، جہاں نور کی بارشیں ہونی تھیں
وہاں خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں
صفوں میں کھڑے لوگ سجدوں میں گرنے سے ڈرتے نہیں
مگر مصلحت کی تہوں میں چھپے کچھ درندے
عبادت گاہوں کو مقتل بنانے نکلتے ہیں
اچانک فضا کانپ اٹھتی ہے…
ایک دھماکہ… اور بستی کا دل چاک ہوتا ہے
اذانِ مغرب سے کچھ دیر پہلے
لہو کی سرخی افق کی لالی میں مل جاتی ہے
وہ دسترخوان جو کھجوروں سے سجنا تھا
اب اپنوں کے بکھرے ہوئے خوابوں سے بوجھل ہے
وہ بوڑھا باپ…
جو بیٹے کی خاطر جلیبی خریدنے گیا تھا
اب اس کی میت پہ خاموش بیٹھا ہے
وہ بہن… جو بھائی کی پسند کا شربت بنا رہی تھی
اس کی آنکھوں کے ساغر چھلکنے لگے ہیں
یہ کیسا امتحاں ہے؟ یہ کیسا تضاد ہے؟
دین کے نام پہ مارنے والے
کون سا کلمہ پڑھ کر یہ خنجر چلاتے ہیں؟
وہ جو خود کو “اپنا” کہتے تھے
وہی آج اپنوں کی لاشوں پہ جشنِ جنوں مناتے ہیں
مسجد کی دیواریں آج بھی سوالی ہیں
کہ سجدہ کرنے والوں کا جرم کیا تھا؟
مگر یاد رکھو!
موت کے بیوپاری کبھی جیت پائیں گے نہیں
ہر گرنے والا قطرہِ خوں ایک چراغ بنے گا
مساجد پھر آباد ہوں گی، تکبیریں پھر گونجیں گی
اور سچی سحر اسی دن طلوع ہوگی
جب ضمیر کے قاتل ابد کی نیند سو جائیں گے
یہ ایک حقیقت ہے
سوچیں! حقیقت پا ہی جائیں گے
……………………….
ایک انتہائی حساس اور سماجی مسلہ جس کی بڑی وجہ یہ مساجد کے دھماکے اور قتل غارت بھی ہے
ایک انتہائی حساس اور سماجی مسلہ جس کی بڑی وجہ یہ مساجد کے دھماکے اور قتل غارت بھی ہے یہ کڑوا پھل بھی اپنوں کا ہی دیا ہوا ہو اس پر اگلی قسط سے پردہ اٹھایا جائے گا
یہ ایک انتہائی حساس اور اہم سماجی و مذہبی مسئلہ ہے ۔ منبرِ رسول ﷺ کی حرمت اور فرشِ عزا کا تقدس ہم سب پر لازم ہے، لیکن بدقسمتی سے دورِ حاضر میں کچھ مفاد پرست عناصر نے اسے ایک کاروبار کی شکل دے دی ہے۔
احباب کے جذبات کی ترجمانی کے لیے، حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں درج ذیل بند پر مشتمل ایک احتجاجی مسدس پیشِ خدمت ہے:
مسدس: غاصبانِ منبر اور عصرِ حاضر
(1)
افسوس کہ منبر کے مقدر میں یہ دن ہیں
علم و عمل و زہد سے خالی یہ سخن ہیں
جو وارثِ دیں تھے وہی اب دشمنِ دین ہیں
کردار ہیں مٹی، تو لب و لہجہ متین ہیں
اسلام کی بنیاد ہلا دی ہے انہوں نے
سودائے تجارت اسے ٹھہرا دیا انہوں نے
(2)
یہ ملا و ذاکر نہیں، فنکار بنے ہیں
دیں بیچنے کے واسطے تیار بنے ہیں
تقویٰ کے نہیں، مال کے حقدار بنے ہیں
مظلوم کی مجلس کے یہ غدار بنے ہیں
عزت ہے نہ غیرت، نہ حیا ہے ان کی آنکھ میں
دھندہ ہے بس اک، زہر بھرا ہے ان کی آنکھ میں
(3)
فیسیں ہیں مقرر، تو کبھی نرخِ بیاں ہے
خلوص و عقیدت کا کہیں نام و نشاں ہے؟
مٹی کے کھلونوں پہ عجب رنگِ گماں ہے
فرشِ عزا اب معرکہِ سود و زیاں ہے
آلِ نبیؑ کے نام پہ دولت کو بٹورا
افسوس کہ شبیرؑ کا دامن بھی نہ چھوڑا
(4)
تشہیر کا یہ عالمِ وحشت تو ذرا دیکھ
فلمی ہیں پوز، رنگِ کراہت تو ذرا دیکھ
اخبار کے اشتہار کی صورت تو ذرا دیکھ
ان “وارثِ منبر” کی جسارت تو ذرا دیکھ
فوٹو ہے بڑی، نامِ جلی، شانِ تجمل
مفقود ہے بس صاحبِ منبر کا تحمل
(5)
قرآن کی آیت نہ کوئی قولِ پیمبرؐ
بس اپنی ہی تعریف کے انبار ہیں منبر
کم علموں نے گھیرا ہے یہ تقدس کا سمندر
جو صاحبِ عرفان تھے، وہ بیٹھے ہیں گھر پر
منبر پہ مسلط ہے وہی جس کی ہے شہرت
باقی نہ رہی علم و فضیلت کی ضرورت
(6)
گردن میں مروڑی ہے تو ماتھے پہ تکبر
باتوں میں ریا کاری، لہجے میں ہے تجبر
مظلوم کا پرسہ ہے کہ دولت کا ہے تذکر؟
ٹوٹا ہے مریدوں پہ جہالت کا یہ اژدر
کم علموں کو جب تختِ خطابت ملا ہے
سچ مانیے کہ قوم کو پھر زہر ملا ہے
(7)
مافیا کی طرح ان کا ہے اک اپنا ہی ٹولہ
حق بات جو کہنی تھی، اسے کس نے ہے بولا؟
اخلاص کے سودے کو ترازو میں ہے تولا
ایمان کے پردے میں عجب فتنہ ہے کھولا
بیعانہ لیے بغیر جو منبر پہ نہ آئے
کون ان کو بھلا وارثِ شبیرؑ بتائے؟
(8)
رنگین سے پوسٹر ہیں تو شاہانہ سواری
مظلوم کی غربت پہ یہ عیاشی ہے بھاری
دیں داری کے پردے میں ہے دنیا کی پجاری
بیمار ہے ملت، تو یہی ہیں وہ بیماری
مذہب کو تماشہ ہی بنا ڈالا ہے ان نے
ایک ایک کو بس اپنا ہی متوالا ہے ان نے
(9)
اے قوم! ذرا دیکھ یہ کیا ہو رہا اب ہے
دربارِ الٰہی میں تو ہونا ہی غضب ہے
جو خونِ شہیداں ہے، وہی اصلِ نسب ہے
پر آج تو بس مال و زر و جاہ و لقب ہے
جو ذکرِ خدا تھا، اسے فنکاری بنائی
ملا نے ہی ملت میں یہ بیزاری بنائی
(10)
کچھ فکر کرو، وقتِ کڑا آن پڑا ہے
راستے میں جہالت کا یہ طوفان کھڑا ہے
مظلوم کا پرسہ تو بہت پیچھے پڑا ہے
نفسِ امارہ ہے کہ جو سب سے بڑا ہے
یہ منبرِ اقدس ہے کہ اسٹیج ہے کوئی؟
اس قوم کے احساس کو کیا ہو گیا، سوئی؟
(11)
بند کرو یہ اشتہار اور رنگین سے پوز
بدلو یہ رویہ، یہ تجارت کے نئے روز
ایمان کی شمع کو کرو تم اب ضیا سوز
پہنو ذرا تم زہد و قناعت کا بھی ملبوس
دیں بیچ کے تم محل جو تعمیر کرو گے
محشر میں بھلا کیا اسے تحریر کرو گے؟
(12)
لکھتا ہے قلم آج کلیجہ ہی پکڑ کر
روتا ہے عقیدت کا بھرم فرش پہ گر کر
گزرے ہیں زمانے کئی افکار بدل کر
پر بدلا نہ اب تک کوئی جاہل یہ منبر
رونق تو بڑی ہے، مگر احساس کہاں ہے؟
سچ کہیے تو منبر پہ وہ شبیرؑ کہاں ہے؟
(13)
یا رب! کوئی تو آئے جو باطل کو مٹا دے
منبر کو ان اغیار سے اب آ کے چھڑا دے
جو وارثِ حق ہے، اسے تخت پہ بٹھا دے
کم علم و غرض مند کو پھر سے ہی ہٹا دے
اسلام کا تشخص ہو سلامت، یہی عرض ہے
حرمتِ منبر کی حفاظت، ہمارا ہی فرض ہے
(14)
اکملؔ! یہ تماشہ جو سرِ عام لگا ہے
دیں داری کے چہرے پہ عجب داغ لگا ہے
ہر سمت جہالت کا ہی اب باغ لگا ہے
مظلوم کی مجلس میں بھی اب راغ لگا ہے
کل پرسہ طلب کرنے جو زہراؑ آئیں گی
ان “اہلِ تجارت” کو وہ کیا منہ دکھائیں گی؟
احباب اور عوام الناس کی آواز میں دم ہے اور یہ احتجاج وقت کی ضرورت ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو منبرِ رسول ﷺ اور فرشِ عزا کا حقیقی ادب اور پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اکمل سید
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ایک دلچسپ تحقیق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اکمل سید
چین پاکستان اور افریقہ جیسے ممالک سے بڑی تعداد میں گدھے درآمد کرتا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ کوئی خوراک یا باربرداری نہیں، بلکہ روایتی چینی ادویات سازی ہے۔
چین گدھے سے بنیادی طور پر درج ذیل چیزیں حاصل کرتا ہے:
1. اعجاز (Ejiao) – گدھے کی کھال کا جیلیٹن
یہ سب سے اہم وجہ ہے۔ گدھے کی کھال کو ابال کر ایک خاص قسم کا جیلیٹن (Gelatin) تیار کیا جاتا ہے جسے ‘اعجاز’ کہا جاتا ہے۔ چین میں اس کی مانگ بہت زیادہ ہے کیونکہ:
اسے خون کی گردش بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ خون کی کمی (Anemia) کے علاج میں مفید مانا جاتا ہے۔
چینی روایات کے مطابق یہ بڑھاپے کے اثرات کو روکنے اور جنسی قوت بڑھانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
2. گوشت کا استعمال
چین کے کچھ صوبوں (خاص طور پر شمالی علاقوں) میں گدھے کا گوشت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ وہاں ایک مشہور کہاوت ہے: “آسمان میں فرشتے کا گوشت اور زمین پر گدھے کا گوشت”۔ یہ وہاں کی کئی روایتی ڈشز کا حصہ ہے۔
3. دودھ اور دیگر مصنوعات
گدھے کا دودھ وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے اور اسے کاسمیٹکس (خوبصورتی کی مصنوعات) اور صابن بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ حساس جلد کے لیے بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔
چین کو گدھے کے گوشت سے زیادہ اس کی کھال میں دلچسپی ہے، تاکہ وہ اربوں ڈالر کی ‘اعجاز’ انڈسٹری کو برقرار رکھ سکے۔ اسی طلب کی وجہ سے دنیا بھر میں گدھوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے
چین کی جانب سے گدھوں کی طلب محض ایک تجارتی ضرورت نہیں بلکہ یہ ایک اربوں ڈالر کی صنعت ہے جو براہ راست چین کی ثقافت اور روایتی طب سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے:
1. اعجاز (Ejiao): گدھے کی کھال کا جادو
چین میں گدھے کی سب سے زیادہ اہمیت اس کی کھال کی وجہ سے ہے۔ اس کھال سے ایک مادہ نکالا جاتا ہے جسے ‘اعجاز’ کہتے ہیں۔
تیاری کا طریقہ: گدھے کی کھال کو مخصوص درجہ حرارت پر ابالا جاتا ہے جس سے ایک گاڑھا جیلیٹن (Gelatin) حاصل ہوتا ہے۔ اسے خشک کر کے ٹکڑوں یا پاؤڈر کی شکل دی جاتی ہے۔
طبی فوائد (چینی عقائد کے مطابق): اسے ‘خون کی دوا’ مانا جاتا ہے۔ چینیوں کا ماننا ہے کہ یہ خون کی کمی دور کرتا ہے، کینسر کے مریضوں کی قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے، اور تولیدی صحت (Fertility) کے لیے بہترین ہے۔
خوبصورتی کا راز: یہ اینٹی ایجنگ (Anti-aging) مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے تاکہ جلد جوان اور چمکدار رہے۔
2. معاشی پہلو اور قیمت
گذشتہ چند دہائیوں میں چین کی معاشی ترقی کے ساتھ ‘اعجاز’ کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے:
لگژری پروڈکٹ: پہلے یہ صرف شاہی خاندانوں تک محدود تھا، لیکن اب چین کا متوسط طبقہ اسے ایک ‘اسٹیٹس سمبل’ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
قیمت: اس وقت اعجاز کی قیمت سینکڑوں ڈالرز فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے اسے “سیاہ سونا” (Black Gold) بھی کہا جاتا ہے۔
3. گدھے کا گوشت (Donkey Meat)
اگرچہ کھال سب سے قیمتی ہے، لیکن گوشت کی بھی بڑی مارکیٹ موجود ہے:
مشہور ڈش: “ڈونکی برگر” (Donkey Meat Burger) چین کے صوبے ‘ہیبئی’ (Hebei) کی ایک بہت مشہور اسٹریٹ فوڈ ڈش ہے۔
غذائیت: اسے گائے کے گوشت کے مقابلے میں زیادہ پروٹین والا اور کم چکنائی والا گوشت سمجھا جاتا ہے۔
4. عالمی بحران اور سپلائی چین
چین میں گدھوں کی تعداد تیزی سے کم ہوئی ہے (1990 میں 11 ملین سے اب تقریباً 2 ملین سے بھی کم)، جس کی وجہ سے وہ پوری دنیا سے گدھے خرید رہا ہے:
پاکستان کا کردار: پاکستان نے چین کو گدھے برآمد کرنے کے لیے باقاعدہ فارمنگ شروع کی ہے تاکہ زرمبادلہ کمایا جا سکے۔
افریقہ: افریقی ممالک سے بھی بڑی تعداد میں اسمگلنگ اور تجارت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے کئی ممالک نے گدھوں کی برآمد پر پابندی بھی لگائی ہے تاکہ ان کی اپنی نسل ختم نہ ہو۔
5. صنعتی استعمال
گدھے کے جسم کے دیگر حصوں سے حاصل ہونے والا مواد درج ذیل جگہوں پر استعمال ہوتا ہے:
ادویات: گدھے کی ہڈیوں کا گودا اور دیگر اعضاء روایتی چینی ٹانک بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔
کاسمیٹکس: گدھے کا دودھ مہنگے صابن اور لوشن بنانے میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں موجود چکنائی انسانی جلد کے لیے بہت موافق ہوتی ہے۔
خلاصہ: چین کے لیے گدھا صرف ایک جانور نہیں بلکہ ایک بہت بڑی فارماسیوٹیکل اور بیوٹی انڈسٹری کا ایندھن ہے
پاکستان اور چین کے درمیان گدھوں کی تجارت اب ایک باقاعدہ قانونی اور تجارتی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس حوالے سے مکمل تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. پاکستان سے چین کو برآمد کا معاہدہ
حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں چین کو گدھوں کی کھالیں اور گوشت برآمد کرنے کے لیے باقاعدہ پروٹوکولز کی منظوری دی ہے۔ اس کا مقصد ملکی معیشت کے لیے زرمبادلہ (Foreign Exchange) پیدا کرنا ہے۔
2. گدھوں کی فارمنگ (Donkey Farming)
چین کی طلب کو پورا کرنے کے لیے پاکستان میں، خاص طور پر صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ‘ڈونکی فارمنگ’ کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔
حکومت نے ان فارمز میں گدھوں کی صحت، نسل کشی اور ان کی دیکھ بھال کے لیے بین الاقوامی معیار کے اصول وضع کیے ہیں۔
مقصد یہ ہے کہ جنگلی یا عام استعمال کے گدھوں کے بجائے خاص طور پر تجارت کے لیے پالے گئے گدھے برآمد کیے جائیں۔
3. سخت شرائط اور پروٹوکولز
چین کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں کچھ سخت شرائط شامل ہیں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے:
ہیلتھ سرٹیفکیٹ: برآمد کیے جانے والے ہر گدھے کا ہیلتھ سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے۔
بیماریوں سے پاک: گدھوں کو مخصوص بیماریوں (جیسے کہ Glanders) سے پاک ہونا چاہیے۔
ذبح خانے: صرف منظور شدہ ذبح خانوں (Slaughterhouses) سے ہی گوشت اور کھالیں حاصل کی جا سکیں گی۔
4. معاشی اہمیت
پاکستان دنیا میں گدھوں کی آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ہے (تقریباً 58 سے 60 لاکھ گدھے)۔
چین کو ایک گدھے کی کھال کی برآمد سے پاکستان کو اچھے خاصے ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔
اس تجارت سے مقامی کسانوں اور بریڈرز کو نئے روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔
5. لوگوں کے خدشات اور حکومتی وضاحت
عوام میں اکثر یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ گدھے کا گوشت مقامی مارکیٹ میں فروخت نہ ہو جائے۔ اس پر حکومت نے واضح کیا ہے کہ:
برآمدی گوشت اور کھالوں کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے گا۔
یہ صرف مخصوص ‘ایکسپورٹ زونز’ کے ذریعے چین بھیجا جائے گا۔
مختصر نتیجہ:
چین کے لیے پاکستان ایک سستا اور قریبی ذریعہ ہے جہاں سے وہ اپنی ‘اعجاز’ (Ejiao) انڈسٹری کے لیے خام مال حاصل کر سکتا ہے، جبکہ پاکستان کے لیے یہ اپنی لائیو اسٹاک انڈسٹری کو بڑھانے کا ایک ذریعہ
پاکستان اور چین کے درمیان اس تجارت کو قانونی رنگ دینے کے لیے چند بہت ہی اہم اور دلچسپ پروٹوکولز طے پائے ہیں، جن کا مقصد اس کاروبار کو شفاف بنانا ہے۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. منظور شدہ ذبح خانے (Approved Slaughterhouses)
معاہدے کے تحت ہر جگہ گدھے ذبح نہیں کیے جا سکتے۔ چین کی حکومت صرف ان کارخانوں سے گوشت یا کھال قبول کرتی ہے جو:
چین کے کسٹمز حکام سے رجسٹرڈ ہوں۔
جہاں صفائی کے بین الاقوامی معیار (HACCP) پر عمل ہوتا ہو۔
جہاں جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے اور بعد میں ڈاکٹر معائنہ کرے۔
2. قرنطینہ (Quarantine) کی پابندیاں
گدھوں کو برآمد کرنے سے پہلے ایک مخصوص وقت (عام طور پر 21 سے 30 دن) تک قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔ اس دوران یہ دیکھا جاتا ہے کہ:
جانور کسی وبائی بیماری کا شکار تو نہیں؟
انہیں مخصوص حفاظتی ٹیکے (Vaccines) لگائے گئے ہیں یا نہیں۔
3. صرف ‘فارم’ کے گدھے
حکومت کی کوشش ہے کہ گلی محلوں میں ریڑھی کھینچنے والے گدھوں کے بجائے صرف ‘ڈونکی فارمز’ میں پالے گئے جانور برآمد کیے جائیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں:
عام گدھے بوڑھے یا بیمار ہو سکتے ہیں جن کی کھال سے معیاری ‘اعجاز’ نہیں بنتا۔
مقامی ٹرانسپورٹ کے لیے گدھوں کی کمی نہ ہو جائے۔
4. ٹیگنگ اور ٹریس ایبلٹی (Traceability)
ہر برآمد ہونے والے گدھے یا اس کی کھال کے ساتھ ایک ریکارڈ ہوتا ہے جس سے یہ پتہ چل سکے کہ یہ جانور کس فارم سے آیا ہے اور اسے کس تاریخ کو ذبح کیا گیا ہے۔ اس سے کسی بھی قسم کی غیر قانونی اسمگلنگ کا راستہ روکا جاتا ہے۔
5. قیمتوں کا تعین
چونکہ چین میں گدھے کی کھال کی قیمت بہت زیادہ ہے (ایک کھال سینکڑوں ڈالر تک فروخت ہو سکتی ہے)، اس لیے حکومتِ پاکستان اس پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کے ذریعے زرمبادلہ اکٹھا کرتی ہے۔
مستقبل کا منظر نامہ: پاکستان اب ایسی پالیسیوں پر کام کر رہا ہے کہ صرف کچی کھالیں (Raw Skins) بھیجنے کے بجائے پاکستان میں ہی ‘اعجاز’ بنانے کے پلانٹ لگائے جائیں تاکہ زیادہ منافع کمایا جا سکے۔
کیا آپ اس بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ ایک عام آدمی اس کاروبار یا فارمنگ سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
عام آدمی کے لیے گدھوں کی فارمنگ اب ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر ابھر رہی ہے۔ اگر کوئی شخص اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، تو اسے درج ذیل مراحل اور باتوں کا خیال رکھنا ہوگا:
1. مناسب نسل کا انتخاب
پاکستان میں گدھوں کی مختلف نسلیں پائی جاتی ہیں۔ فارمنگ کے لیے ایسی نسل کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کا قد بڑا ہو اور کھال موٹی ہو، کیونکہ چین میں کھال کے وزن اور کوالٹی کی زیادہ قیمت ملتی ہے۔
2. فارمنگ کا طریقہ کار
گدھا ایک سخت جان جانور ہے، اس لیے اس کی دیکھ بھال گائے یا بھینس کے مقابلے میں نسبتاً آسان اور سستی ہے:
خوراک: یہ عام گھاس، بھوسہ اور اناج کھا لیتے ہیں۔
رہائش: ان کے لیے بہت مہنگے شیڈز کی ضرورت نہیں ہوتی، بس انہیں دھوپ اور بارش سے بچاؤ چاہیے۔
بیماریاں: گدھوں میں بیماریوں کے خلاف مدافعت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ادویات کا خرچ کم آتا ہے۔
3. حکومتی رجسٹریشن اور لائسنس
چونکہ یہ ایک برآمدی (Export-oriented) کاروبار ہے، اس لیے:
آپ کو اپنے فارم کو لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹر کروانا پڑتا ہے۔
ایکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں سے معاہدہ کرنا ہوتا ہے جو آپ سے براہ راست جانور یا کھالیں خرید سکیں۔
4. منافع کے ذرائع
ایک فارمر تین طریقوں سے پیسے کما سکتا ہے:
کھالیں بیچ کر: یہ سب سے مہنگا حصہ ہے جو براہ راست چین کی ‘اعجاز’ انڈسٹری میں جاتا ہے۔
گوشت کی فروخت: منظور شدہ کمپنیوں کو گوشت فروخت کرنا جو اسے چین ایکسپورٹ کرتی ہیں۔
افزائشِ نسل (Breeding): اچھے گدھے پال کر انہیں دوسرے فارمرز یا ایکسپورٹرز کو فروخت کرنا۔
5. سرمایہ کاری اور واپسی (ROI)
گدھوں کی فارمنگ میں “سرمایہ کاری کم اور منافع زیادہ” کا اصول کام کرتا ہے کیونکہ:
ایک مادہ گدھا سال میں ایک بچہ دیتی ہے۔
ان کی دیکھ بھال پر آنے والا یومیہ خرچ دیگر مویشیوں کے مقابلے میں 40% تک کم ہوتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
اس کاروبار میں سب سے بڑا چیلنج سماجی رویہ اور قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ عام آدمی کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ وہ تمام کام قانونی طریقے سے کرے تاکہ مقامی مارکیٹ میں گوشت کی فروخت کے حوالے سے کسی قسم کے غلط فہمی یا غیر قانونی کام کا حصہ نہ بنے۔
گدھوں کی فارمنگ ایک ایسا کاروبار ہے جسے چھوٹے پیمانے سے شروع کر کے رفتہ رفتہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات اور چین کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا ایک تخمینہ درج ذیل ہے:
1. آغاز کے لیے جانوروں کی تعداد
ایک منافع بخش فارم شروع کرنے کے لیے ماہرین 10 سے 20 مادہ گدھوں اور 1 یا 2 نر گدھوں سے آغاز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اتنی تعداد سے آپ کو سالانہ بنیادوں پر نئی نسل (بچے) حاصل ہونا شروع ہو جاتی ہے جو فارم کی مالیت میں اضافہ کرتی ہے۔
2. تخمینی سرمایہ کاری (Initial Investment)
پاکستان میں ایک صحت مند جوان گدھے کی قیمت نسل اور جسامت کے لحاظ سے 30,000 سے 60,000 روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔
10 گدھوں کی خرید: تقریباً 4 سے 6 لاکھ روپے۔
جگہ اور باڑ: اگر اپنی زمین ہو تو صرف شیڈ اور باڑ پر 1 سے 2 لاکھ روپے کا خرچ آئے گا۔
ابتدائی خوراک اور ادویات: پہلے چند مہینوں کے لیے 50,000 سے 1 لاکھ روپے۔
مجموعی طور پر: آپ 8 سے 10 لاکھ روپے میں ایک معقول چھوٹا فارم شروع کر سکتے ہیں۔
3. ماہانہ اخراجات (Operational Costs)
گدھے پالنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان کی خوراک کا خرچ گائے یا بھینس کے مقابلے میں 50% تک کم ہوتا ہے۔
یہ خشک چارہ، بھوسہ اور بچا کھچا اناج بھی شوق سے کھاتے ہیں۔
ایک گدھے کی ماہانہ خوراک اور دیکھ بھال کا خرچ تقریباً 3,000 سے 5,000 روپے تک آتا ہے۔
4. منافع کا تناسب (Profit Margin)
اس کاروبار میں منافع دو طرح سے حاصل ہوتا ہے:
کھال کی فروخت: چین میں ایک معیاری کھال کی قیمت بہت زیادہ ہے، جو پاکستان میں ایکسپورٹرز کو 20,000 سے 40,000 روپے یا اس سے بھی زائد میں پڑتی ہے۔
گوشت کی برآمد: چین کو گوشت کی برآمد سے حاصل ہونے والا منافع الگ ہے۔
5. اہم نکات برائے کامیابی
نسل کشی (Breeding): کوشش کریں کہ اچھی نسل کے گدھے رکھیں تاکہ ان کے بچے صحت مند ہوں اور ان کا قد بڑا ہو (بڑی کھال کی قیمت زیادہ ہوتی ہے)۔
رجسٹریشن: اپنے فارم کو مقامی لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹر ضرور کروائیں تاکہ آپ کو سرکاری سہولیات اور برآمدی کمپنیوں تک رسائی مل سکے۔
صفائی اور ویکسین: گدھوں کو متعدی بیماریوں سے بچانے کے لیے وقت پر ویکسین لگوانا ضروری ہے ورنہ پورا فارم متاثر ہو سکتا ہے۔
مستقبل کی حکمتِ عملی: اگر آپ اس کاروبار میں سنجیدہ ہیں، تو میرا مشورہ ہے کہ پہلے اپنے قریبی لائیو اسٹاک دفتر کا دورہ کریں اور وہاں سے “ڈونکی فارمنگ” کے سرکاری قواعد و ضوابط کی کاپی حاصل کریں۔
……………………………………
لاشوں پر سیاست اور حکومت ارکان کے جشن اور اپنوں کا درد
احباب کے جذبات کی ترجمانی کے لیے میں ایک مسدس پیشِ خدمت ہے۔
مسدس: سیاستِ لاش اور نوحہِ مظلومین اور حکومت ارکان اور اپنوں کے میلا اور کمائی کے انبار کا درد
1. تمہیدِ درد
ظلم کی بھٹی میں دیکھو جل رہا ہے ہر نگر
خونِ مسلم بہہ رہا ہے، جیسے پانی بے قدر
بے گناہی جرم ہے اور موت ہے اب راہگزر
کس قیامت کی گھڑی ہے، کیسا ہے یہ پر خطر
مومنو! تم بے گناہ اور بے سہارا ہو گئے
اپنے ہی گلشن میں تم مقتل کا تارا ہو گئے@
2. سیاستِ لاش
لاش گرتی ہے تو ہوتے ہیں سیاست کے ہنر
میز پر بیٹھے ہوئے ہیں سب لٹیرے دیدہ ور
خون سے اپنے چمکاتے ہیں یہ اپنی قبا
دردِ انساں سے نہیں ان ظالموں کو کچھ غرض
بولی لگتی ہے یہاں اب بے گناہِ لاش پر
بیچتے ہیں منصبِ جاہ و حشم اب لاش پر
3. حکومت کی بے حسی
حاکمِ وقت اپنی مستی میں ہے اب تک مدہوش
ظلم پر خاموش ہے اور عدل کا لب ہے خاموش
کرسیوں کی جنگ ہے اور شہر ہے مقتل کدہ
آہ! ان کی بے حسی سے دل ہوا ہے پارہ پارہ
تاج و تخت و جاہ کی خاطر یہ سودا کر گئے
اپنی ہی رعیت کا جینا بھی یہ دوبھر کر گئے
4. محافظوں کی غفلت
اے محافظ! تیری غفلت پر کرے ماتم جہاں
سرحدوں پہ سو رہا ہے، جاگتا ہے تو کہاں؟
بے گناہوں کے لہو سے ہاتھ تیرے ہیں رنگے
فرض سے غافل ہے تو اور تیرے لہجے ہیں کڑے
تیری ہی آنکھوں کے آگے لٹ رہا ہے کارواں
تیری ہی غفلت بنی ہے موت کا اب سائباں
5. اعلیٰ افسران کی کوتاہی
افسرِ اعلیٰ بنے بیٹھے ہیں اپنے قصر میں
بے خبر ہیں کیا گزرتی ہے غریبِ شہر پر
فائلوں کے ڈھیر میں انصاف گم ہو کر رہا
ان کی غفلت سے ہی مقتل بن گیا ہے یہ سماں
کوتاہی سے ان کی بستی بستی ماتم چھا گیا
قوم کے ماتھے پہ اک کلنک کا ٹیکا آ گیا
6. لواحقین کی صدا
مائیں تکتی ہیں اجل کی راہ میں بیٹھی ہوئی
بہنوں کی آنکھوں میں ہے اب اشکِ حسرت کی لڑی
باپ کے کاندھے پہ ہے اب لختِ دل کا یہ جنازہ
ظلم کی دیوار نے چھینا ہے گھر کا ہر دیا
آسماں تھرّائے گا اب ان یتیموں کی آہ سے
کون بچ پائے گا اب مظلوم کی اس چاہ سے؟
7. سرحدی افراد کا دکھ
سرحدوں پہ بسنے والے بن گئے ہیں اب نشاں
گولیاں کھاتے ہیں اور سہتے ہیں یہ جبرِ رواں
رکھوالی جن کے ذمے تھی وہ ہیں اب خوابِ خرگوش
خونِ ناحق پر یہاں ہر ایک لب ہے اب خاموش
مر رہے ہیں وہ جنہیں ہونا تھا فخرِ مملکت
کر رہے ہیں ان پہ بھی اب اہلِ سیاست مصلحت
8. قاتل کی نشاندہی
بے گناہی کا صلہ اب موت ٹھہری ہے یہاں
قاتلوں کو مل رہی ہے اس زمیں پر اب اماں
منصفوں کے ہاتھ بھی اب مصلحت میں ہیں بندھے
حق کی آوازیں دبانے کے لیے ہیں سب کھڑے
خونِ مومن کی کہیں کوئی گواہی اب نہیں
اس اندھیرے دور میں کوئی پناہی اب نہیں
9. احتجاجِ قلم
لکھ رہا ہوں مرثیہ اس وقت کی بے شرمی پر
خون روتا ہے قلم بھی قوم کی بدبختی پر
ظلم کی شب کب تلک یہ راج کرتی جائے گی؟
کیا سحر اس دیس میں اب لوٹ کر نہ آئے گی؟
چیختا ہے ذرہ ذرہ اس وطن کی خاک کا
نوحہ گر ہے آج ہر اک قلبِ مومن چاک کا
10. حرفِ آخر
اے خدا! اب رحم کر اس قومِ بے تقصیر پر
ظالموں کو غرق کر، دے بجلیاں شمشیر پر
عدل کا سورج ابھرے، ختم ہو یہ رات اب
خونِ ناحق کی نہ ہو اس ملک میں برسات اب
ہاتھ اٹھائے ہیں دعا کو بے گناہوں کے لہو
جلد اب ہو جائے گی باطل کی ہستی رنگ و بو
11. عدل کی خاموشی
منصفوں کی خامشی اب بن گئی ہے اک عذاب
ظلم کے ایوان میں ملتا نہیں کوئی جواب
حق کی خاطر جو اٹھے، وہ دار پر کھینچا گیا
انصاف کا چہرہ لہو میں آج ہے ڈوبا ہوا
میز پر فائل دبی ہے، کٹہرے ویراں پڑے
ظلم کے پنجے لہو میں آج ہیں پیوست، کڑے
12. ضمیرِ انسانی کا نوحہ
انسانیت کا نام اب بس ایک دھوکہ رہ گیا
عالمی اس شور میں مظلوم تنہا رہ گیا
حق کے دعوے دار سب خاموش تماشائی بنے
لاش پر اپنی دکاں چمکانے کے راہی بنے
بے گناہوں کی تڑپ پر دل کسی کا نہ ہلا
ہر طرف خاموش ہے اب اس زمانے کا گلا
13. عوامی بیداری اور انجام
کب تلک سہتے رہیں گے ہم یہ ظلم و بربریت؟
اب بدلنی ہی پڑے گی ہم کو اپنی عاقبت
اٹھو! کہ اب مظلوم کی فریاد بن جائے فغاں
ظالموں کے واسطے اب تنگ ہو جائے جہاں
خونِ ناحق رنگ لائے گا، سحر ہو گی ضرور
ظلم کا یہ رو سیاہ اکمل کب جائے گا دور
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نذرِ شہدائے ترلائی (اسلام آباد)
ٹکڑوں پہ جس کے پلتی نظر آئی کائنات
اس کے ہی گھر میں لٹ گئی بندوں کی کائنات
وہ گھر کہ جہاں پاؤں بھی رکھتے تھے تھرتھرا کے ہم
وہاں بکھری پڑی ہے آج سجدوں کی کائنات
محراب رو رہی ہے، مصلّے ہیں خوں فشاں
کس درجہ بے بس نظر آئی اپنوں کی کائنات
وہ ننھے ہاتھ جن میں ابھی قاعدہ بھی تھا
وہ خون میں نہا گئی ظالم کی کائنات
باپ کے پہلو میں جو بیٹھے تھے مسکرا کے ابھی
اجاڑ دی گئی ہے ان خوابوں کی کائنات
وہ مائیں ڈھونڈتی ہیں جنہیں گھر کے صحن میں
قبروں میں جا چھپی ہے ان لعلوں کی کائنات
یہ خون کس کے ہاتھوں پہ اب ڈھونڈنے جائیں؟
جس نے لہو سے رنگ دی معصوموں کی کائنات
اے حاکمِ وقت! دیکھ ذرا اپنے ہاتھ تو
کیا مصلحت میں کھو گئی منصب کی کائنات؟
تیرے حصارِ عدل میں سیندھ لگ گئی مگر
تُو بیچتا رہا فقط لفظوں کی کائنات
یا رب! ترلائی کی مٹی پہ اپنا کرم کر
خوں سے جو سینچی گئی، وہی بستی ہری کر
ان ننھے پھولوں کو بخشے تو جنت کے باغ اب
محقور ماؤں کے دل کو تو صبرِ جمیل کر
وہ جس نے سجدوں کی حرمت کو پامال کیا ہے
دنیا و آخرت میں اسے تو ہی ذلیل کر
قلم سے حق کی امانت نبھانی ہے اکمل
جو دردِ دل کی بات ہو، اس کو ہی رقم کر
اللہ پاک تمام شہداء کی قربانی قبول فرمائے اور اس ملک کو امن کا گہوارہ بنائے۔اور ظلمین کو ان کے انجام تک پہنچائے آمین!
اکمل سید
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
لہو سے تر سجدے اور مسلمانوں کی مساجد اور حکومت پاکستان
نوحہ:
اکمل سیّد لندن
لہو میں بھیگے سجدے
1.
سجدوں کا روشن جہاں جلتا جا رہا ہے
آج پھر لہو میں کوئی التجا ڈوبی ہوئی ہے
2.
صفوں کے درمیاں یہ کیسی قیامت ٹوٹی ہے؟
کہ تسبیح کے دانے بکھرے پڑے ہیں فرش پر
3.
وہ جو بے نوا تھا، جو لبِ دعا تھا
وہ بے گناہ کیوں مٹی میں ملایا جا رہا ہے؟
4.
تر لائی کی فضاؤں میں سسکتی ہے انسانیت
کیا وہاں بسنے والے کلمہ گو نہ تھے؟
5.
خدا کے گھر میں، خدا کے حضور
یہ کس کا ظلم ہے جو سر چڑھ کے بول رہا ہے؟
6.
جب ماتھے زمین پر ٹکے تھے بندگی میں
تب پشت پر وار کرنے والا کون تھا؟
7.
نماز تو امن کا پیغام لائی تھی
پھر بارود کی بو نے کیوں فضا کو زہریلا کر دیا؟
8.
کیا وہ مسلمان نہ تھے جو سجدہ ریز تھے؟
یا مارنے والے کا کوئی دین ہی نہیں؟
9.
محراب و منبر سے لہو ٹپک رہا ہے
ایمان کا سائبان دھویں میں چھپ رہا ہے
10.
کس شریعت میں لکھا ہے یہ قتلِ عام؟
کہ بندگی کی حالت میں گردنیں کاٹ دی جائیں
11.
ماؤں کے لعل، بوڑھے باپوں کے سہارے
آج جنازوں کی صورت گھروں کو جا رہے ہیں
12.
شہر خاموش ہے، لیکن دل چیخ رہے ہیں
یہ کیسی وحشت ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتی؟
13.
اے زمیں کے منصفو! تم کہاں سوئے ہو؟
جب کہ سجدہ گاہوں میں لہو بہایا جا رہا ہے
14.
مسجد کی دیواریں آج نوحہ کناں ہیں
کہ میرا تقدس پامال کرنے والے کون ہیں؟
15.
یہ دہشت گردی، یہ خون کی ہولی
اسلام کے چہرے پر ایک گہرا زخم ہے
16.
ہم ماتم کریں یا احتجاج کریں اس ظلم پر؟
کہ ہر روز اک نیا مقتل سجایا جا رہا ہے
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عرضیہ منجی عالم امام زمانہ علیہ السلام
عرضیہ
استغاثہ ببارگاہِ امامِ عصر (عج)
عالم میں عجب پیاس ہے اب سامنے آ جاؤ
باطل کا عجب ہاس ہے اب سامنے آ جاؤ
اے وارثِ شبیر ؑ! خدا کے لیےسامنے آ جاؤ
منبر سے یہی آس ہے اب سامنے آ جاؤ
مظلوموں کے گھر ستم کی دھوپ برستی ہے
عالم میں عجب پیاس ہے اب سامنے آ جاؤ
باطل کا عجب ہاس ہے اب سامنے آ جاؤ
مظلوموں کے گھر ستم کی دھوپ برستی ہے
بستی یہ غریبوں کی جگر تھام کے ہستی ہے
انساں ہے پریشان، انسانیت تڑپتی ہے
دنیا تیری صورت کو، امامؑ عالی! ترستی ہے
تعصب کی لگی آگ ہے اب سامنے آ جاؤ
بکھرا ہوا ہر باغ ہے اب سامنے آ جاؤ
وہ جس کو کہیں دیں، اسے مسخ کیا سب نے
امت پہ ہے داغِ فرقت اب سامنے آ جاؤ
منبر کو بنایا ہے یہاں ذریعہءِ زر سب نے
غفلت کو ہٹانے کا دیا ہے نہ ہنر سب نے
جس منبرِ اطہر سے پیامِ حق آنا تھا
بیچی ہے وہاں اپنی ہی کمائی کی خبر سب نے
تیرہ ہے جہاں، نورِ سحر بن کے سما جاؤ
ہر قلبِ پریشاں کا مقدر ہی بنا جاؤ
تیرے ہی ظہورِ حق سے دُنیا یہ سنورنی ہے
تم عدل کی زنجیر سے باطل کو گرا جاؤ
تجلی بن کے کعبے کی فصیلوں پہ چمکنا تم
’’انا المہدیؑ‘‘ کا نعرہ بن کے ہی گرجنا تم
تمہارے ہاتھ میں ہوگا جب وہ پرچمِ نصرت
کسی بھی مکر و باطل کے مقابل نہ دبنا تم
عدالت تو یہاں بکتی ہے اب سیم و زر کے ہاتھوں
بشر رسوا ہوا جابر و رہبر کے ہاتھوں
خدائے عدل کا تم آخری وعدہ ہو اے مولاؑ!
چھڑا لو اب ہمیں ان وقت کے ظالموں کے ہاتھوں
ہمت ہے نہ طاقت ہے، مگر دل میں طلب لے کر
ہم آئے ہیں در پہ تیرے جینے کا سبب لے کر
مٹانا ہے ہمیں باطل کی ہر اک صف کو دنیا سے
کھڑے ہیں ہم بھی تیرے عشق کا اصلِ ادب لے کر
خدایا! کڑی ہے اب یہ غیبت کی گھڑی آ جاؤ
ہوئی ہے ہجر کی شب اب تو حد سے بھی بڑی آ جاؤ
تعجیل کر ظہورِ حق میں، اے پروردگارِ عالم
دکھا دے اب تو منجیِ بشر کی وہ گھڑی آ جاؤ
اندھیری اس فضا میں نورِ وحدت کو جگاؤ تم
منبر سے پیامِ رخِ انور ہی سناؤ تم
’’ اکملؔ سحر ہونے تک اب وردِ زباں رکھنا‘‘
’’ آ جاؤ میرے مولاؑ! اب آ جاؤ، اب آ جاؤ‘‘
نتیجہ فکرسید اکمل حُسین
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
۔ بہت زیادہ اور فضول بولنے سے پرہیز کیجیے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مرد حضرات چالیس پیتنالیس کے آس پاس کے پھیر میں ہوں تو خود سے کافی حد تک لاپروا ہو جاتے ہیں ۔۔۔ بلکہ خود کو بوجھ ڈھونے والا جانور تصور کرنے لگتے ہیں۔۔۔ بوجھ ضرور ڈھوئیے لیکن اپنی ذمہ داریوں کو زندگی کا حاصل اور ارتقائی عمل کا تسلسل سمجھ کر انجام دیں۔۔۔
مرد نوجوانی میں یا جوانی میں پھر بھی اپنا خیال رکھ لیتے ہیں، لیکن بعد کی ذمہ داریوں میں پھنس کر سب کچھ ترک کر دیتے ہیں۔۔۔ جسمانی مشقت کرنے والے اپنے لباس اور حلیے سے یکسر لاپروا ہوجاتے ہیں۔ رنگ اڑے بکھرے بال اور بغیر استری کے گندے کف کالر والے کپڑے، گندے جوتے ان کا ٹریڈ مارک بن جاتے ہیں۔ آ فس میں جاب کرنے والوں کا حلیہ بھی موٹی توند کی وجہ سے قابلِ اعتراض ہی لگتا ہے۔
جس طرح بننا سنورنا عورت کا پیدائشی حق ہے، اسی طرح صفائی اور کپڑوں کی درست ترتیب مردوں کا پیدائشی حق ہے۔۔۔ گھر ہو یا دفترخواتین بھی “مرتب” حضرات کو ہی پسند کرتی ہیں۔ لیبر ورک ہے، جاب یا کاروباری سلسلہ۔
آئیے ان چیزوں پر فوکس کرتے ہیں جو بالکل بے توجہی کا شکار ہیں۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں اپنانے سے اپنی ذات کی خود نمائی اور ذاتی صافائی ستھرائی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
1 ۔۔۔۔۔۔۔ ہفتے میں ایک بار زلفیں تراش کروائیں۔۔۔ ریش ہے تو خط بھی بےحد ضروری ہے۔ گال پر آئے بے ترتیب موٹے بال کئ صفائی کروا لیجیے۔ اس طرح خط پورا ہفتہ کشیدہ ہی رہتا ہے۔۔
2 ۔۔۔۔۔۔۔ بڑھتی عمر کے ساتھ جسمانی تبدئیلی کی مشکلات کی وجہ سے کان کی لوؤں پر گھنا رواں بلکہ موٹے بال ظاہر ہونے لگتے ہیں، انہیں دھاگے سے نکلوا دیجیے ورنہ شخصیت کا تاثر خراب بیٹھتا ہے۔
3 ۔۔۔۔۔۔ بھنوؤں میں اِکّا دُکّا بال لمبے ہوجاتے ہیں، قینچی سے برابر کروا لیجیے۔ مونچھیں تو ترشواتے ہی ہیں، ناک کے بال بھی چھوٹی قینچی سے ترش لیجیے۔
4 ۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن جمعہ کے جمعہ تراش کر سنت بھی پوری کیجیے۔ پیروں کی ایڑیوں اور ناخنوں کے گرد مردہ کھال (جسےچنڈیاں کہتے ہیں ان کو کٹر سے کاٹ لیجیے۔۔۔ یہ عمل صحت و صفائی کے ساتھ شخصی تاثر میں اضافہ کا باعث ہے۔
5 ۔۔۔۔۔۔۔ عموماً دیکھا گیا ہے مرد زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں نہا کر فارغ ہو جاتے ہیں۔۔۔ جناب اس میں ایک منٹ کا اضافہ اور کر لیجیے۔۔۔ بالوں کو شیمپو کرنے کے دوران کانوں کے پیچھے اور کان کی سلوٹوں کروٹوں اور ڈیزائن میں کسی نرم کپڑے یا انگلیاں اچھی طرح گھما لیجیے۔۔۔ ان تہوں میں اکثر میل رہ جاتی ہے۔۔۔ جو بہت بدنما معلوم ہوتی ہے۔۔۔ بازار میں لمبے ہینڈل والے نہانے والے برش عام ملتے ہیں، پشت پر صابن لگانے کے لیے استعمال کیجیے۔
6 ۔۔۔۔۔۔۔ کرسی پر زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے توند لٹکنے لگتی ہے پیٹ اٹھا کر وہاں بھی صابن کا اسفنج پھرائیے اور پانی بہائیے۔۔۔ ناف کے گڑھے کو صفائی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ شدید بدبو دینے لگتی ہے اور کئی جلدی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
7 ۔۔۔۔ نہانے کے فوراً بعد روئی سے کان کے دونوں سوراخ صاف کیجیے۔۔۔ ایک قطرہ سرسوں یا زیتون کا تیل ناف میں ڈالیے۔۔۔ بہت سے امراض سے حفاظت ملتی ہے۔
8 ۔۔۔۔۔ پیروں کے تلوؤں اور انگوٹھے کے ناخنوں پر بھی یہی تیل لگائیے۔ سر درد نہیں ہوتا اور نظر کی کمزوری بھی نہیں ہونے پاتی۔
9 ۔۔۔۔۔۔۔باہر کے جوتے ہمیشہ پالش شدہ اور صاف کر کے پہنیے۔ گھر کی چپلیں تو بیگم دھو ہی دیتی ہیں۔
10 ۔۔۔۔۔۔۔اور خدارا پاؤں گھسیٹ کر اور ڈھیلے ڈھالے تھکے ہوئے انداز میں کبھی مت چلیے۔۔۔ کسی بھی رشتے سے منسلک خاتون باپ، بھائی یا شوہر کا یہ انداز پسند نہیں کرتی۔۔۔ کوشش کر کے ہمیشہ سیاہ مشکی گھوڑے کی طرح چست و چالاک نظر آ ئیے، بھلے گھر میں بیڈ پر آرام کا وقت بڑھا دیجیے۔۔۔
11 ۔۔۔۔۔۔ نیکر اور بوشرٹس پہن کر باہر نہ نکل جایا کیجیے۔ کئی خواتین خفیف ہوتی ہیں اور مذہب نے بے شک آپ کو دوپٹے کی پابندی سے آزاد رکھا ہے، لیکن تھوڑی سا پابند بھی کیا ہے۔
12 ۔۔۔۔۔ اپنی پتلون کو کولہے کی ہڈی تک پہننا بند کردیجیے۔ یہی گمان ہوتا ہے ابھی گر جائے گی۔ ناف کے عین نیچے پینٹ کی انتہائی حد ہونی چاہیے۔
13 ۔۔۔۔۔ ہمیشہ جوتے، موزے، ٹائی وغیرہ لباس سے میچ کر کے پہنیے۔۔۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں بلکہ آرائشی اشیاء ہیں اور انہیں پٹے کی طرح لٹکانا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ یہ شخصیت ابھارنے کی اسیسریز ہیں۔
14 ۔۔۔۔ اگر سیگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ سگار، پائپ یا حقہ پیتے ہیں تو اس میں اپنا ایک (کمفرٹ زون ) خاص اسٹائل بنائیے۔۔۔ جاہلوں کی طرح سُوٹے مت لگائیے۔ ( اگرچہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔)
15 ۔۔۔۔۔ دفتر یا کام کرنے کی جگہ پر جاتے وقت کسی عمدہ برانڈ کا ہلکا پرفیوم اسپرے کیجیے۔۔۔ اور کوشش کیجیے کہ آپ کی آمد کا سندیسہ یا پہچان آپ کا برانڈ دے۔ ہم اپنے ابو کی کسی جگہ موجودگی ان کی خوشبو سے کر لیتے تھے۔۔۔ اور بنیان بھی اسی رچی خوشبو سے الگ الگ کرتے تھے۔
16 ۔۔۔۔ اپنے بولنے کے لہجے پر غور فرمائیے۔۔۔ جھٹکے مار مار کر یا بات کو لٹکاکر تو گفتگو نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو کوشش کر کے لہجہ قابو میں لے آئیے۔۔۔
17 ۔۔۔۔۔۔ مردانہ شخصیت کے وقار میں لہجے کی گھمبیرتا اور ٹھہراؤ سے کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔ تیز تیز بول کر اسے تباہ مت کیجیے۔
18 ۔۔۔۔۔۔ پبلک میں یا گھر میں سرِ عام ناک سے رینٹ نہ نکالیے۔۔۔ نہ ہی تھوکتے چھینکتے پھریئے۔۔۔ بولنے کے دوران جوش میں تھوک نہ اڑائیے ۔
19 ۔۔۔۔ کھانا کھانے کے دوران چپ چپ پر قابو پائیے۔۔۔ اور کھانے کے بعد بے سُرا جاہلانہ ڈکار لینے سے پرہیز کیجیے۔۔۔ ڈکار تہذیب سے بھی لیا جا سکتا ہے۔
20 ۔۔۔ خواتین کو تاڑ کر ہراساں کرنے سے پرہیز کیجیے۔ آپ کو حقارت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔۔۔ اور خواتین آپ کی موجودگی میں انکمفرٹیبل محسوس کرتی ہیں۔
21۔۔۔۔۔۔۔ بہت زیادہ اور فضول بولنے سے پرہیز کیجیے۔ کئی طرح کے بھرم رہ جاتے ہیں۔
22 ۔۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچ کر آئینہ دیکھیے اب ایک اعلی شخصیت نظر آ رہی ہے۔ ورنہ جہاں جہاں کمی ہے، دور کرلیجیے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
استغاثہ اور سوداگر امام مظلوم کربلا و خون شہدا برائے نیمہ شعبان
سلام اے ذاکرِ ملت! خطاب میرا ہے اب تجھ سے
بتا کیا کر دیا تو نے؟ تقاضا کیا تھا مقتل کا؟
تھے منبر جس امانت کے، وہ سودا کر دیا تو نے
جو رستہ خلد کا حق تھا، وہ دنیا کر دیا تو نے
تیرے لہجے کی تیکھی کاٹ اب بس مال و زر تک ہے
شہادت کا جو مقصد تھا، وہ تیری نظر سے اوجھل ہے
بیانِ کربلا کو تو نے اک فنکاری مانا ہے
خرید و فروختِ غم کو ہی اب بیداری مانا ہے
بڑے ٹھیکے، بڑی فیسیں، اسے سرداری مانا ہے
مگر اس خونِ ناحق کو کہاں جوداری مانا ہے؟
حسینؑ ابنِ علیؑ کا نام لے کر پیٹ بھرتا ہے
خدا کا خوف کر نادان! کیوں اتنا اتراتا ہے؟
عزائے شہ تو درسِ حریت تھا، آگہی کا تھا
وہ رستہ تو زمانے میں فقط بندگی کا تھا
وہ رستہ ظلم کی بیخ و کنی اور زندگی کا تھا
وہ سودا حق کی خاطر سر کٹانے کی خوشی کا تھا
مگر تو نے اسے اک کاروبارِ عام کر ڈالا
جو تھا پیغامِ حق، اس کو ہی اب نیلام کر ڈالا
کبھی سوچا کہ شبیرؑ نے کیوں گھر بار چھوڑا تھا؟
کیوں پیاسے بچوں کا وہ ننھا سا گہوارہ چھوڑا تھا؟
کیوں تپتی ریت پر بہتا وہ خوں کا دھارا چھوڑا تھا؟
کیوں عابدؑ نے وہ زجیروں کا طوقِ گراں جوڑا تھا؟
وہ سجدہ آخری اب بھی صدا تجھ کو لگاتا ہے
تیرا یہ روپ کیا شاہِ ہدیٰؑ کو منہ دکھاتا ہے؟
تو کہتا ہے کہ میں وارث ہوں ان پاکیزہ یادوں کا
تو دعویدار ہے شاید انھی روشن ارادوں کا
مگر کردار میں تیرے نشاں ملتا نہیں ان کا
فقط باتوں سے ہوتا ہے گلہ اب تو فسادوں کا
اگر بیدار ہے تو، تو قوم کو بیدار کر دیتا
بصیرت کے چراغوں سے اسے سرشار کر دیتا
تجھے تو چاہیے تھا کہ تو باطل سے لڑا دیتا
محبت کے ترازوں میں ستم کو بھی جھکا دیتا
نوجوانوں کو تو مقتل کی عظمت سکھا دیتا
غلامِ ابنِ زہراؑ کو جہانِ نو دکھا دیتا
مگر تو الجھا بیٹھا ہے فقط اپنی ہی بحثوں میں
خرافاتِ زباں اور لایعنی سی ان لغزشوں میں
سنبھل جا اے کہ اب وقتِ کڑی آزمائش آیا ہے
تیرا یہ ذکرِ مصنوعی اب کس کام آیا ہے؟
جہاں میں ہر طرف اب تو ستم کا سایہ آیا ہے
حسینی وہ ہے جس کو حق کا نعرہ یاد آیا ہے
تجارت چھوڑ دے، تو خادمِ دربار بن پہلے
اگر لیڈر بننا ہے، تو پہلے وفادار بن پہلے
بنا دے قوم کو وہ جو یزیدی دور کو ٹوکے
جو ہر اک ظلم کے آگے کھڑی ہو، جبر کو روکے
نہ وہ جو صرف مجمع میں لرزتی پکار کو روکے
نہ وہ جو حق کی خاطر اپنی ہی رفتار کو روکے
تربیت وہ ہے جو غیرتِ عباسؑ پیدا کرے
جو ہر اک مومن کے دل میں احساسِ کربلا بھر دے
اٹھا پرچم بصیرت کا، ہٹا پردہ یہ غفلت کا
سنا قصہ اب اخلاص و مروت اور مروت کا
یہی دستور ہونا چاہیے تیری ہر اک صحبت کا
کہ باقی رہ سکے دنیا میں اب جوہر شجاعت کا
جگا خود کو بھی تو، اور قوم کو بھی اب جگانا ہے
تجھے اب مقتلِ حق کا صحیح رستہ دکھانا ہے
یہی پیغامِ آخر ہے، یہی تحفہ ہے دردِ دل
اگر سچا ہے تو، تو چھوڑ دے یہ جاہ و منصب کی منزل
حسینؑ کے نام لیوا ہیں، نہیں ہم دنیا کے سائل
خدا کے واسطے! اب تو نہ ہو مقصد سے تو غافل
خونِ حسینؑ کے تاجر نہیں، ہم تو پیروکار بن جائیں
محبِ آلِ اطہارؑ ہیں، سچے عزادار بن جائیں
بیداریِ ذاکر و ملت و استغاثہ امام زماں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تجھے تو چاہیے تھا تذکرہ مولاؑ کا عام کرے
ظہورِ مہدیِ دوراںؑ کا ہر لمحہ قیام کرے
وہ جن کے تذکرے سے کفر اب بھی تھرتھراتا ہے
وہ جن کے عدل سے ہی دہر میں پیغام آتا ہے
مگر تو غائبِ دوراںؑ سے کتنا دور بیٹھا ہے
فقط اپنی ہی شہرت کے نشے میں چور بیٹھا ہے
دعا کر، یا الہی! بخل و کینہ ہم سے دور کر
جو حق کا راستہ ہے، وہ ہمیں اب تو دکھا دے پھر
دلوں میں الفتِ آلِ پیمبرؑ کو جگہ دے دے
ہمیں مقتل کی عظمت کا شعورِ جاوداں دے دے
عزائے شاہِ والاؑ کو تجارت سے بچا مولیٰ!
ہمیں اب مصلحت کی اس سیاست سے بچا مولیٰ!
الٰہی! واسطہ تجھ کو شہِ مظلومؑ کے خوں کا
الٰہی! واسطہ تجھ کو اسیروں کے دلِ محزوں کا
ہماری قوم کو اب غیرتِ شبرؑ عطا کر دے
حسینی فکر کا ہر سمت اب غلغلہ کر دے
جو سوئے ہیں غفلت میں، انھیں اب تو بیدار کر
محبِ خانوادۂ نبیؐ کو تو اب ہشیار کر
وہی ہے ذاکرِ برحق جو حق کا ساتھ دیتا ہے
وہی ہے جو غمِ شبیرؑ کی خیرات دیتا ہے
بتا دے قوم کو اکملؔ کہ منزل اب بھی باقی ہے
حسینی جذبوں کی وہ سحرِ تاباں ابھی باقی ہے
چلو اکملؔ سید اب فرض اپنا ہم نبھاتے ہیں
جگا کر خود کو، اب سوئی ہوئی قوم کو جگاتے ہیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ہر نقش بن رہا مٹنے کے واسطے
قارئیں یہ مضمون میری تحریر نہیں ہے اور صاحب قلم کا اسمگرمی بھی معلوم نہین ہو سکا مضمون بہت انمول ہے اس لئے اھباب کی زیب نظر کے پیش ہے
کائنات کا آخری الٹی میٹم، پگھلتی ہوئی زندگی اور خسارے کا عالمی بازار: سورۃ العصر کا سائنسی، فلسفیانہ اور انقلابی منشور! –
کائنات کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی کہکشاؤں سے لے کر انسان کے جسم میں دھڑکتے ہوئے دل تک، ہر چیز ایک ہی ”قانون“ کی گرفت میں ہے، اور وہ قانون ہے ”زوال“۔
فزکس کی زبان میں اسے ”اینٹروپی“ (Entropy) یا ”تھرمو ڈائنامکس کا دوسرا قانون“ کہتے ہیں۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ کائنات میں ہر چیز ”نظم“ (Order) سے ”انتشار“ (Disorder) کی طرف، اور ”زندگی“ سے ”موت“ کی طرف سفر کر رہی ہے۔
وقت کا پہیہ ایک بے رحم شکاری کی طرح چل رہا ہے جو ہر لمحہ ہمارے وجود کا ایک حصہ کاٹ کر ماضی کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔
اس کائناتی المیے (Cosmic Tragedy) کے بیچوں بیچ، قرآنِ مجید کی ایک مختصر ترین سورت، صرف تین آیات اور چند الفاظ پر مشتمل ”سورۃ العصر“ ایک ایسا دھماکہ خیز ”مینی فیسٹو“ ہے جو انسانی تاریخ، فلسفے اور سائنس کا نچوڑ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
امام شافعیؒ نے فرمایا تھا کہ
”اگر قرآن میں صرف یہی ایک سورت نازل ہوتی، تو بھی انسانیت کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔“
یہ جملہ کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں روایتی تفاسیر سے نکل کر ذرا گہرائی میں اترنا ہوگا۔
آج ہم دیکھیں گے کہ اللہ رب العزت نے زمانے کی قسم کھا کر انسان کو کس ”خسارے“ سے ڈرایا ہے اور وہ کون سا ”سروائیول کٹ“ (Survival Kit) ہے جو ہمیں اس تباہی سے بچا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بات کا آغاز ایک قسم سے کیا:
”وَالْعَصْرِ“
(قسم ہے زمانے کی/وقت کی/عصر کے وقت کی)۔
عربی زبان میں لفظ ”عصر“ کا مادہ (Root) ”ع ص ر“ ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو ”نچوڑنا“ (To Squeeze)۔ جیسے کپڑے کو نچوڑا جاتا ہے یا پھل کا رس نکالا جاتا ہے۔
اللہ نے یہاں ”دہر“ (زمانہ) یا ”وقت“ کا عام لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ ”عصر“ کا لفظ چنا۔
کیوں؟
کیونکہ یہ لفظ وقت کی ”ماہیت“ (Nature) بتاتا ہے۔ وقت انسان کو نچوڑ رہا ہے۔ ہر گزرتا لمحہ ہماری زندگی کا رس، ہماری توانائی اور ہماری فرصت نچوڑ رہا ہے۔
یہ وقت ایک ایسا ”پریشر چیمبر“ ہے جس میں ہم قید ہیں۔
سائنسی اعتبار سے دیکھیں تو وقت (Time) کائنات کی چوتھی ڈائمنشن ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن نے ہمیں بتایا کہ وقت ”نسبتی“ (Relative) ہے، لیکن انسانی زندگی کے لیے یہ ”یکطرفہ“ (Linear) ہے۔ یہ واپس نہیں آتا۔ یہ وہ واحد ”سرمایہ“ (Capital) ہے جو خرچ تو ہوتا ہے، مگر دوبارہ کمایا نہیں جا سکتا۔
جب اللہ ”زمانے“ کی قسم کھاتا ہے، تو وہ دراصل پوری انسانی تاریخ کو گواہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں آئیں اور مٹ گئیں، فرعون آئے اور مٹی ہو گئے، تہذیبیں بنیں اور کھنڈر بن گئیں۔
زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ
”اے انسان! دیکھ! یہ وقت کا بہاؤ گواہ ہے کہ جو میں اگلی بات کہنے والا ہوں، وہ اٹل حقیقت ہے۔“
قدیم عرب میں ایک بزرگ (یہ واقعہ مشہور مفسرِ قرآن امام فخر الدین رازیؒ (وفات: 1210ء) نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر ”تفسیرِ کبیر“ (مفاتیح الغیب) میں نقل کیا ہے۔) نے سورۃ العصر کا مفہوم بازار میں بیٹھے ایک ”برف فروش“ (Ice Vendor) سے سمجھا۔
وہ شخص چلتی پھرتی دھوپ میں کھڑا پکار رہا تھا:
”لوگو! مجھ پر رحم کرو، میرا سرمایہ پگھل رہا ہے۔“
ذرا اس جملے کی گہرائی میں ڈوب جائیں!
اگر وہ برف والا اپنی برف نہ بیچے، تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ
”چلو کل بیچ لوں گا۔“
نہیں!
اس کے پاس ”کل“ کا آپشن ہی نہیں ہے۔ اگر اس نے ابھی سودا نہ کیا، تو اس کا سرمایہ پانی بن کر زمین میں جذب ہو جائے گا اور اس کے ہاتھ صرف ”پچھتاوا“ رہ جائے گا۔
بالکل یہی حال انسان کا ہے۔ ہماری سانسیں وہ ”برف“ ہیں جو تیزی سے پگھل رہی ہیں۔ ہم بازارِ دنیا میں کھڑے ہیں۔ اگر ہم نے اس پگھلتی ہوئی برف (وقت) کے بدلے جنت، رضاِ الٰہی اور سکون نہ خریدا، تو ہم کچھ ”بچا“ نہیں سکیں گے، بلکہ ہم ”لٹ“ جائیں گے۔ اللہ نے اسی ”ایمرجنسی“ (Emergency) کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قسم کھانے کے بعد اللہ نے وہ فیصلہ سنایا جس نے کائنات کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا:
”إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ“
(بے شک انسان خسارے میں ہے)۔
یہاں گرامر کا ایک باریک نکتہ سمجھیں۔
اللہ نے ”الْإِنسَانَ“ کہا۔ الف لام (The) استغراق کا ہے، یعنی ”پوری کی پوری جنسِ انسانی“۔ اس میں کوئی تفریق نہیں۔ چاہے کوئی بل گیٹس ہو یا سڑک کا بھکاری، کوئی نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہو یا ان پڑھ مزدور، کوئی بادشاہ ہو یا فقیر, ہر شخص کی ”Default Setting“ خسارہ ہے۔
ہماری عام منطق یہ ہے کہ ”محنت کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے، ورنہ ناکام۔“
لیکن قرآن کی منطق یہ ہے:
”تم پیدائشی طور پر ناکامی (خسارے) کی حالت میں ہو، تمہیں کامیاب ہونے کے لیے کچھ کرنا پڑے گا۔“
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ سمندر کے بیچوں بیچ ایک کشتی میں ہوں جس کے پیندے میں سوراخ ہے۔ پانی تیزی سے اندر آ رہا ہے۔ اب اگر آپ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہیں، تو آپ کا ڈوبنا (خسارہ) طے شدہ ہے۔ بچنے کے لیے آپ کو ہاتھ پاؤں مارنے ہوں گے، پانی نکالنا ہوگا، سوراخ بند کرنا ہوگا۔
ہماری زندگی وہ کشتی ہے، اور وقت وہ پانی ہے جو اسے ڈبو رہا ہے۔
دنیا کی معاشیات (Economics) میں ”Break-even Point“ کا تصور ہوتا ہے، یعنی ”نہ نفع نہ نقصان“۔ لیکن زندگی کی معاشیات میں بریک ایون نہیں ہوتا۔ یا آپ جیت رہے ہیں، یا آپ ہار رہے ہیں۔
آج کا انسان سمجھتا ہے کہ اگر بینک بیلنس بڑھ رہا ہے، اگر فالوورز بڑھ رہے ہیں، اگر جائیداد بڑھ رہی ہے تو وہ ”منافع“ میں ہے۔ لیکن اللہ کہہ رہا ہے:
”خُسْرٍ“
(تم ٹوٹے ہوئے ہو، تم گھاٹے میں ہو)۔
کیوں؟
کیونکہ تم وہ چیز دے کر (زندگی دے کر) وہ چیز خرید رہے ہو (مٹی، پتھر، کاغذ کے نوٹ) جو فنا ہونے والی ہے۔
ایک ارب پتی انسان، جو بسترِ مرگ پر پڑا ہے، اپنی ساری دولت دے کر بھی ”ایک سانس“ واپس نہیں خرید سکتا۔ اس وقت اسے پتا چلتا ہے کہ جسے وہ منافع سمجھتا رہا، وہ دراصل خسارہ تھا۔ یہ ہے وہ ”Existential Crisis“ جس کی نشاندہی قرآن نے 1400 سال پہلے کر دی تھی۔
جب اللہ نے پوری انسانیت کے ڈوبنے کا اعلان کر دیا، تو مایوسی چھا گئی۔ لیکن پھر اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے ”إِلَّا“ (سوائے ان کے) کہہ کر وہ چار شرائط بیان کیں، وہ چار ستون کھڑے کیے جن پر عمل کر کے انسان اس آفاقی خسارے سے بچ سکتا ہے۔
یہ چار چیزیں الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ”کمپاؤنڈ ریسیپی“ (Compound Recipe) ہے۔ جیسے دوا کے چار اجزاء مل کر اثر کرتے ہیں، ان میں سے ایک بھی کم ہو تو شفا نہیں ملتی۔
پہلا ستون:
”الَّذِينَ آمَنُوا“
(جو ایمان لائے)
یہاں ایمان سے مراد محض زبان سے کلمہ پڑھنا نہیں ہے۔ ایمان کا مطلب ہے زندگی کا ”مقصد“ (Purpose) اور ”سمت“ (Direction) متعین کرنا۔
اگر آپ بہت تیز دوڑ رہے ہیں، بہترین گاڑی میں ہیں، لیکن آپ کا ”روڈ میپ“ (GPS) غلط ہے، تو آپ جتنی تیز دوڑیں گے، منزل سے اتنا ہی دور ہوتے جائیں گے۔
ایمان انسان کا ”کائناتی کمپاس“ ہے۔
یہ بتاتا ہے کہ میں کون ہوں؟
کہاں سے آیا ہوں؟
اور مجھے کہاں جانا ہے؟
بغیر ایمان کے انسان کی زندگی ایک ”بے سمت سفر“ ہے۔ سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ
”انسان کیمیکل سکم (Chemical Scum) ہے جو ایک درمیانے درجے کے سیارے پر رہتا ہے۔“
یہ ایمان سے خالی نقطہ نظر ہے۔
لیکن ایمان بتاتا ہے کہ تم ”خلیفۃ اللہ“ ہو، تمہارا مقصد اللہ کی معرفت ہے۔ ایمان انسان کو اس ”خسارے“ سے نکال کر ”ابدیت“ (Eternity) سے جوڑ دیتا ہے۔ جب آپ اللہ سے جڑتے ہیں، تو آپ کا فانی وقت بھی ”باقی“ ہو جاتا ہے۔
دوسرا ستون:
”وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ“
(اور نیک عمل کیے)
صرف نقشہ (ایمان) جیب میں رکھنے سے منزل نہیں ملتی، سفر (عمل) کرنا پڑتا ہے۔
ایمان ایک ”پوٹینشل انرجی“ (Potential Energy) ہے، اور عملِ صالح ”کائینیٹک انرجی“ (Kinetic Energy) ہے۔ اسلام میں ”نظریہ“ بغیر ”عمل“ کے مردہ ہے۔
”عملِ صالح“ (Righteous Deeds) وہ کرنسی ہے جو ہم اپنے پگھلتے ہوئے وقت کے بدلے خریدتے ہیں۔ جب آپ ایک گھنٹہ ضائع کرنے کے بجائے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، یا ایمانداری سے ڈیوٹی کرتے ہیں، تو آپ نے اپنی ”برف“ (وقت) کو پگھلنے سے بچا کر اسے ”سونے“ (اجر) میں تبدیل کر لیا۔
یہاں ”صالحات“ کا لفظ استعمال ہوا، یعنی وہ کام جو ”درست“ ہوں، جن میں بگاڑ نہ ہو۔ عمل تب صالح ہوتا ہے جب اس میں دو چیزیں ہوں:
(1) نیت خالص اللہ کے لیے ہو (اخلاص)، اور
(2) طریقہ نبی کریم ﷺ کے مطابق ہو (اتباع)۔
تیسرا ستون:
”وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ“
(اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی)
یہاں سے بات ”انفرادیت“ (Individualism) سے نکل کر ”اجتماعیت“ (Collectivism) میں داخل ہوتی ہے۔
اسلام ”جوگی“ بننے یا غار میں بیٹھنے کا مذہب نہیں ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ خود تو نیک بن جائیں، مگر آپ کا معاشرہ، آپ کے دوست اور آپ کے گھر والے جہنم کی طرف جا رہے ہوں اور آپ خاموش رہیں۔
اگر کشتی میں سوراخ ہو، اور آپ اپنے حصے کی جگہ خشک رکھیں مگر دوسروں کو سوراخ کرنے دیں، تو ڈوبیں گے تو آپ بھی۔
”تَوَاصَوْا“ کا لفظی مطلب ہے ”ایک دوسرے کو وصیت کرنا“، ”شدت سے تلقین کرنا“۔
”حق“ (Haqq) سے مراد سچائی، اسلام، عدل اور اللہ کا نظام ہے۔
آج کے اس ”Post-Truth Era“ میں، جہاں جھوٹ کو سچ بنا کر بیچا جاتا ہے، جہاں میڈیا اور سوشل میڈیا پر باطل کا شور ہے، وہاں کھڑے ہو کر ”حق بات“ کہنا، اور دوسروں کو حق پر جمے رہنے کی تلقین کرنا سب سے مشکل کام ہے۔
سورۃ العصر کہتی ہے کہ اگر تم خود تہجد گزار ہو، لیکن تم نے اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی برائی کو روکنے کی کوشش نہیں کی، تم نے حق کی آواز بلند نہیں کی، تو تم بھی ”خسارے“ میں ہو۔ یہ آیت ہر مسلمان کو ”داعی“ (Preacher) اور ”مصلح“ (Reformer) بناتی ہے۔
چوتھا ستون:
”وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ“
(اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی)
یہ آخری اور سب سے اہم ستون ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ جب آپ ”حق“ کی بات کریں گے، جب آپ سچ بولیں گے، جب آپ سود چھوڑیں گے، جب آپ پردہ کریں گے، تو کیا ہوگا؟
پھول نہیں نچھاور ہوں گے!
لوگ مخالفت کریں گے، دوست چھوڑ جائیں گے، معاشرہ طعنے دے گا، نوکری خطرے میں پڑے گی، شاید جان بھی چلی جائے۔ حق کا راستہ کانٹوں سے بھرا ہے۔
یہاں ضرورت پڑتی ہے ”صبر“ (Sabr) کی۔
اور صبر اکیلے نہیں ہوتا۔ جب پورا معاشرہ بگڑ چکا ہو، تو اکیلا انسان ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے ”سپورٹ سسٹم“ چاہیے ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:
”تَوَاصَوْا“
(ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں)۔
یعنی مومنین کی ایک جماعت ہونی چاہیے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اور کہے:
”میرے بھائی! گھبرانا نہیں، ڈٹے رہنا، یہ تکلیف عارضی ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔“
صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا نہیں ہے۔ عربی میں صبر کا مطلب ہے ”رکاوٹ کے باوجود جمے رہنا“۔ یہ ”Active Resistance“ (فعال مزاحمت) ہے۔
اپنی خواہشات کے خلاف جمنا، گناہ کے موقع پر جمنا، اور مصیبت میں اللہ کی رضا پر جمنا۔
یہ وہ ”نفسیاتی ڈھال“ (Psychological Shield) ہے جو مومن کو ڈپریشن اور مایوسی سے بچاتی ہے۔
میرے دوستو! میرے ہم وطنو!
سورۃ العصر آپ کی جیب میں رکھا ہوا محض ایک نورانی تعویذ نہیں، یہ آپ کی ”زندگی کی بیلنس شیٹ“ ہے۔
آج رات بستر پر لیٹ کر، اندھیرے میں اپنی چھت کو گھورتے ہوئے، اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں:
میں نے آج کے 24 گھنٹے (جو میری برف تھی) کہاں خرچ کیے؟
کیا میں نے اسے پگھل کر نالی میں بہنے دیا (سوشل میڈیا، غیبت، فضولیات)؟
یا میں نے اس سے کوئی ایسا اثاثہ خریدا جو قبر میں میرے کام آئے گا؟
یاد رکھیں!
دنیا میں کوئی بھی سودا ”ادھار“ پر ہو سکتا ہے، مگر ”وقت“ کا سودا نقد ہے۔ جو لمحہ گزر گیا، وہ کائنات کے خزانے دے کر بھی واپس نہیں آئے گا۔
ہم سب ایک جلتے ہوئے مکان میں ہیں، یا ایک ڈوبتی ہوئی کشتی میں ہیں۔ ہمارے پاس وقت کم ہے اور کام بہت زیادہ۔
آئیے!
اس سے پہلے کہ وہ آخری گھنٹی بجے، اس سے پہلے کہ ہماری سانسوں کی برف پوری پگھل جائے، اور اس سے پہلے کہ فرشتے ہمارا نام پکاریں، ہم ان چار ستونوں کو تھام لیں:
ایمان کی پختگی۔
عمل کی صالحیت۔
حق کی دعوت۔
صبر کی استقامت۔
یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو ”خسارے“ کے کنویں سے نکال کر ”کامیابی“ کے مینار تک لے جاتا ہے۔ یہ سورۃ العصر کا پیغام ہے، اور یہی زندگی کا واحد راز ہے۔ باقی سب افسانہ۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بکاو خون حسین اور عزاداری
ممتاز بخاری نے شیخوپورہ
*ڈر گیا میں العجل کہتے کہتے*
بیِت گئے ماہِ محرم و صفر…..
لیکن اک اک رویے کا منظر ذہن نشین رہ گیا…….
مولاؐ تراؐ خون بکا……
منبر بکا، روضہ خواں بکا……
تؐرا غم بکا، نوحہ بکا نوحہ خواں بکا…….
معزرت کے ساتھ کہوں …….
تراؐ ماتمی بکا………
تراؐ ذوالجناح کرائے پر بکا……
تراؐ غم تریؐ کربلا اب عید کا تہوار بن چکا ہے……
اک انڈسٹری بن چُکی ہے…..
جہاں ہر چیز کی قیمت لگتی ہے…….
تمام سوداگر اپنے فن کو ترےؐ خون میں ڈبو کر مہنگے داموں بیچتے ہیں….
سوداگری بھی کرتے ہیں احسان بھی کرتے ہیں اور ثواب بھی مانگتے ہیں……..
مولاؐ عجب رنگ ہے ترےؐ خون کا…….
جس میں چہروں اور رویوں کا رنگ تبدیل ہوتا ہے…..
کوئی کم پیسوں پر لڑتا ہے، کوئی تبرک پر لڑتا ہے…..
اب ترؐے منسوبات، شبہیات زیارت، ذکر سب کچھ بکتا ہے…..
میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں تُوؐ آج بھی مظلوم ہی ہے……
تؐرا پاک وارثؐ……
تراؐ پاک منتقمؐ…….
ثارة المظلومؐ،تجھؐ سے زیادہ مظلوم ہے…..
میں جب تاریخ کربلا پر نظر دوڑاتا ہوں……
تو مجھے ترےؐ اردگرد پھر کچھ مخلصین نظر آئے…..
مگر ہائے افسوس…….!
ترےؐ پاک لعلؐ کی تو زمانے کو کچھ پروا نہیں…..
ترےؐ خون کے وارث کا ترےؐ غم میں کوئی ذکر نہیں…..
اگر کوئی بھول کر العجل کہہ بھی دے تو مزاق اڑایا جاتا ہے….
اس پر فتوے لگائے جاتے ہیں…..
میں نے سب کچھ دیکھا……
لوگوں کے رویے تریؐ کربلا ترےؐ پاک وارثؐ کے ساتھ دیکھے…..
اے مالک و مولاؐ……..
میں ڈر گیا ہوں …….
مجھے آستینوں میں چھپے خنجر و سانپ نظر آئے……
مجھے جیبیں، دانت اور پیٹ نظر آئے……
مجھے اک نئی کربلا نظر آئی….
مجھے تراؐ وارثؐ اعدا و منافقین کے نرخے میں گھرا تنہا نظر آیا…..
مولاؐ میری زبان رک گئی ……
میں ڈر گیا العجل کہتے کہتے …..
اک التجا کروں گا ترےؐ وارثؐ سے…….
اس مخلوق کو چھوڑیں…..
یہ خواہشات نفس میں پھنسے لوگ ہیں….
دیکھ ترےؐ اجدادؐ کے لہو کے ساتھ کیا کر رہے ہیں …..
اب آقاؐ خون کے آنسو بہانا بند کریں……
رب زوالجلال کا قہر بن کر آئیں……
اس مخلوق کو اب تیزاب سے غسل کی ضرورت ہے……
اپناؐ پاک گھر آباد و شاد کریں….
صرف اور صرف خود ہی ذکر کر کے کسی کے محتاج نہ ہوں
زبان سیکھیں اور کتاب پڑھیں
قران خود پڑھیں
خدا توفیق دے۔۔۔۔۔۔۔
آمین یارب العالمین
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*_⁉️ کیا معاویہ کی وفات 22 رجب کو ہوئی ؟_*
اہلِ سنت کے ائمۂ کبار کے نزدیک معاویہ کے یومِ وفات میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن کسی معتبر امام کے مطابق اس کی وفات 22 رجب کو نہیں ہوئی۔
ائمۂ اہلسنت کے اقوال درج ذیل ہیں:
1: امام لیث بن سعد کے مطابق
معاویہ کا انتقال 9 رجب کو ہوا۔
2: امام ابن جریر طبری کے مطابق
معاویہ کی وفات یکم رجب کو ہوئی۔
3: امام ابن جوزی کے مطابق
معاویہ کی وفات کا دن 15 رجب ہے۔
4: امام عبدالبر قرطبی کے مطابق
معاویہ کی وفات 28 جمادی الثانی کو ہوئی۔
5: امام ابن حجر عسقلانی کے مطابق بھی
معاویہ کی وفات 28 جمادی الثانی کو ہی ہوئی۔
📌 ان تمام جلیل القدر ائمۂ اہلسنت جن کی صداقت اور علمی قابلیت پر کسی اہلسنت کو شک نہیں کے اقوال سے یہ بات واضح ہے کہ اگرچہ یومِ وفات میں اختلاف موجود ہے لیکن 22 رجب المرجب کسی بھی معتبر امام کے نزدیک معاویہ کا یومِ وفات نہیں۔
📚 حوالہ جات:
البدایہ والنہایہ: امام ابن کثیر
لسان المیزان: امام ابن حجر عسقلانی
الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب:
امام ابن عبدالبر قرطبی
*🔸22 رجب نیازِ منسوب مولا جعفر الصادق صلواۃ اللہ علیہ*
❣️داؤد بن رقی (صحابی امامؐ) کی زوجہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حلوہ لیا اور امام جعفر الصادقؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی کہ وہ اس وقت کھانا تناول فرما رہے تھے تو میں نے انہیں وہ حلوہ(میٹھا)پیش کیا اور مولاؐ نے اپنے اصحاب کو لقمہ پیش کر رہے تھے تو میں نے امامؐ کو فرماتے سُنا جس نے مومن کو حلوہ کا لقمہ کھلایا تو اللہ یوم قیامت میں اس سے کڑواہٹ کو دور کر دے گا۔
*📗ثواب الأعمال و عقاب الأعمال صفحه 151**
🛑 22 رجب ، امام جعفر صادق علیہ السلام کی نسبت سے کونڈوں کی نیاز : (پوسٹ 2) 2/3
🛑 نیاز امام جعفر صادقؑ علیہ السلام ..
🟡 22 رجب نذر و نیاز امام جعفر صادق علیہ السلام ، جو کہ کونڈوں کی نیاز کے نام سے جانی جاتی ھے ، اس نذر کو کونڈے اس لیئے کہا جاتا ھے . کیونکہ کہ اس دن مٹی کے خاص قسم کے برتنوں (کونڈوں) میں نیاز کے طور پر کھیر یا کوئی اور میٹھی چیز بنا کر مومنین کو کھانے کیلیئے پیش کی جاتی ھے ۔ درحقیقت کونڈے کی رسم نذر ھے ،
لیکن عرف عام میں یہ نیاذ کونڈوں کی نیاذ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ھے ۔۔
🟤 اس رسم میں نذر کرنے والے نے (یا منت مانگنے والے نے) اللہ تعالٰی سے عہد کیا ھوتا ھے . کہ اگر میری فلاں حاجت پوری ھوگئی ۔ تو میں ھر سال 22 رجب کو مومنین کو طعام دوں گا / گی ۔ یا اللہ تعالٰی سے بغیر کسی حاجت کے یہ عہد کیا ھوتا ھے ۔ کہ میں ھر سال 22 رجب کے دن مومنین کو طعام دوں گا . اور اس عمل کے ثواب کو امام جعفر صادق علیہ السلام کو ھدیہ کروں گا ۔۔۔
🖤 یہاں تک یہ بات واضح ھو گئی ۔
💛 کہ کونڈوں کی نیاز درحقیقت ایک نذر ھے ۔
در حقیقت اللہ سے کیا گیا عہد و پیمان ھے ۔ جبکہ مومنین کو طعام دینا ، کھانا کھلانا اور انکی ضیافت کرنا بذات خود ایک مستحسن عمل اور مستحب عمل ھے .
🔵 امام جعفر صادقؑ (ع) نے فرمایا :
🔵 “جو شخص الله تعالٰی کی محبت میں کسی “مومن” بھائی کو کھانا کھلاتا ھے – تو اس کیلیئے اس شخص کے مساوی ثواب ھے ، جو لوگوں میں سے “فیام” کو کھانا کھلائے ۔
❤️ راوی کہتا ھے ۔
💓 میں نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔
💓 یہ “فیام” کیا چیز ھے ،
💓 فرمایا ؛
💓 لوگوں میں سے ایک لاکھ افراد ۔”
🪙 حوالہ :
اصول كافى جلد 2 باب اطعام مؤمن ۔
💙 امام جعفر صادقؑ (ع) نے ارشاد فرمایا :
🖤 “میرے نزدیک کوئی چیز مومن کے دیدار اور زیارت کے برابر نہیں ھے ۔ سوائے اُس کو کھانا کھلانے کے اور جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلائے تو اس کا حق یہ ھے کہ اللہ اُسے جنت کے کھانوں میں سے کھانا کھلائے”..
🪙 حوالہ :
اصولِ کافی جلد 2 باب اطعام مؤمن ۔
❤️ امام جعفر صادقؑ (ع) نے فرمایا :
💓 “جو تین مومنین کو کھانا کھلائے گا ۔
💓 تو الله اسے تین بہشتوں جنت فردوس ، جنت عدن اور جنت طوبٰی میں کھانا کھلائے گا ۔”
🪙 حوالہ :
اصول كافى جلد 2 باب اطعام مؤمن ۔
💛 امام جعفر صادقؑ (ع) نے فرمایا :
🤎 “کائنات میں الله کے علاوہ ، کوئی مخلوق بھی (خواہ مقرب فرشتے ھوں یا نبی مرسل ع) الله کی کی طرف سے آخرت میں ملنے والے اس ثواب کو نہیں جانتی ، جو ایک مسلمان کو سیر کرکے کھانا کھلانے کا ھے ۔”
🪙 حوالہ :
اصول کافی جلد 2 باب اطعام مؤمن ۔
💚 ان روایات سے یہ بات واضح ھوگئی –
💛 کہ مومنین کو طعام دینا اور کھانا کھلانا بدعت نہیں ۔ بلکہ ایک بہت ھی اچھا اور بافضیلت عمل ھے ۔ اور اگر اس نزر نیاز کی نسبت کسی معصوم علیہ السلام سے ھو جائے تو بدرجہا بہتر اور اعلی ھے ۔۔۔ !! ویسے بھی نزر و نیاز کیلیئے ایک ھی جملہ ھر خاص و عام کی زبان زد عام ھے –
“نذر اللہ و نیاز حسین (ع)”
🛑 اور اگر اھلبیت علیھم السلام کے بغض و عناد اور عداوت کے حامل افراد کی طرف سے یہ مکر کیا جائے کہ یہ دن تو انکے کسی رشتہ داری کی موت کا دن ھے ۔ اور شیعان حیدر کرار علیہ السلام اس دن کو اسلیئے خوشی کیساتھ مناتے ھیں ۔ تو آئیں !! ھم انکا جھوٹ انکی ھی کتب سے واضح و آشکار کر دیتے ھیں ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔
🟡 کیا حاکم شام کی موت 22 رجب کو ھوئی ?
🔵 معاویہ کا حقیقی یومِ وفات ائمہ کبار اھلسنت والجماعت کے نزدیک :
🟤 امام لیث بن سعد کے مطابق معاویہ کا انتقال 9 رجب کو ھوا ،، امام ابن جریر طبری کے مطابق یہ انتقال یکم رجب کو ھوا ،، امام ابن جوزی کے مطابق وفات کا دن 15 رجب ھے ،، امام عبدالبر قرطبی کے مطابق وفات 28 جمادی الثانی کو ھوئی ،، امام ابن حجر عسقلانی کے مطابق بھی وفات 28 جمادی الثانی کو ھی ھوئی ،، ۔۔۔۔۔
🌒 ان تمام کبار ائمہِ اھلسنت ،،
🟡 جن کی صداقت اور علمی قابلیت پر کسی اھلسنت کو شک نہیں کہ مطابق معاویہ کی وفات کے دن میں اختلاف ضرور ھے مگر کسی بھی جلیل القدر امام اھلسنت کے مطابق یومِ وفاتِ معاویہ 22 رجب المرجب نہیں ھے .
🪙حوالہ جات :
البدایہ والنہایہ امام ابن کثیر ۔۔
لسان المیزان ابن حجر عسقلانی ۔۔ اور
الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب ابن عبد البر قرطبی وغیرہ ۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ہماری خوراک اور دودھ والی اشیا میں ملاوٹ
یوں تو ہم خدا کی عطا کی ہوئے نعمت کو دن بھر کھا کر اپنا بیٹ بھرتے رہتے ہیں مگر حال ہی میں ایک معروف آئس کریم بنانے والی کمپنی کو بھاری جرمانے کی رقم بھرنے کا حکم ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ویسے تو ہمارا عدالتی نطام ایسا ہے کہ ہاتھی نکل جائے اور دم پھنس جائے والی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔ذرا درج ذیل سطور کو غور سے دیکھیں کہ ہم کیا کچھ کھا جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان کمپنیوں کو بھاری جرمانے ادا کرنے پڑتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہ Walls اور Omore والز اومور آئس کریم بنانے والوں کو 17 کروڑ روپے جرمانہ
ہوا ہے۔Yummy آیس کریم بنانے والی کمپنی نے ان دو معروف کمپنیوں کے خلاف کیس دائر کیا تھا کہ یہ فروزن ڈیزرٹ کو آئس کریم کا نام دے کر نہ صرف بیچے جا رہی ہیں بلکہ کئی عشروں سے نینشل ٹی وی چینلز پہ دھڑلے سے اپنی فروزن ڈیزرٹ کو آئس کریم قرار دے کر اشتہاری مہم بھی چلائے جا رہی تھیں۔
اومور اور والز کی ان نام نہاد آئس کریم میں اصل دودھ نہیں ڈالا جاتا بلکہ ان میں مبینہ طور پہ جو دودھ استعمال ہوتا ہے وہ درحقیقت سرسوں کے تیل سے حاصل کیا جاتا ہے۔
اس لیے والز اپنے اپ کو آئس کریم نہیں کہہ سکتا۔
والز جو بھی چیز بناتا ہے وہ آئس کریم ہرگز نہیں کیونکہ آئس کریم صرف وہی ہوتی ہے جسے اصلی دودھ سے بنایا جائے۔ پاکستان میں آئس کریم پولکا ، یمی اور ہیکو تھے جو آج بھی سمائل کے نام سے کہیں نہ کہیں مل رہی ہوگی۔
یمی آئس کریم نے بہت عرصہ پہلے والز کی اس جھوٹی اشتہاری مہم کے خلاف مقدمہ لڑا تھا اور اس وقت بھی والز کے خلاف فیصلہ ہوا تھا کہ والز اپنے اشتہار میں لفظ آئس کریم استعمال نہیں کر سکتا لیکن یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے۔کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ روح افزا نامی لال شربت کی پاکستان میں ملنے والی بوتل پہ ثمر کی تصویر بنی ہوتی ہے جس میں مختلف قسم کے پھلوں کی تصویریں ہوتی ہیں جبکہ یہی روح افزا جب پاکستان کے باہر کسی ملک میں فروخت ہو رہی ہو تو اس کی بوتل سے یہ پھلوں کی تصویریں غائب ہوتی ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ روح افزا چینی اور مصنوعی فلیور سے بنا کیمیکل ہے نہ کہ پھلوں کا ایکسٹریکٹ۔حلیب نام سے آپ واقف ہوں گے ہم بچپن سے پی ٹی وی پہ دیکھتے آ رہے تھے کہ حلیب سب سے گاڑھا خالص دودھ ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل عدالتی فیصلے سے پتا چلا کہ حلیب گنے کے رس سے بنا یہ کیمیکل بھرا ڈبا ہے ۔ مگر پھر ایسے کیسز سامنے آئے جس میں کھلے دودھ کو گاڑھا کرنے کے لئے دودھ جیسی پاک شے میں یوریا سرف اور بالوں کو صاف کرنے والا پاؤڈر جیسے زہر ملائے جا رہے تھے لوگوں نے مجبوراً معروف کمپنیز کے ڈبے والے مہنگے دودھ کا استعمال شروع کیا مگر ایسا بھلا کیسے ممکن ہے کہ پاکستانیوں کو خالص شے دستیاب ہو سکے
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پینے کے پانی اور مضر صحت دودھ کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران انکشاف ہوا تھا کہ ان ڈبے والے دودھ کے ڈبوں میں مردہ جسم کے لیے استعمال ہونے والا کیمیکل فارمولین ڈالا جاتا تھا گاڑھا کرنے کے لیے گنے کا جوس ڈالا جاتا تھا اشتہارات میں جس کو دودھ کہا جاتا رہا وہ سرے سے دودھ ہی نہیں تھا آج کل اسے ٹی وائٹنر کا نام دے کر بیچا جاتا ہے یعنی فروخت آج بھی ہو رہے ہیں
دوران سماعت عدالت میں کھلے دودھ اور معروف کمپنی سمیت کچھ ڈبہ بند دودھ میں کیمیائی مادوں کی موجودگی ثابت ہو گئی
صارف کی معلومات کے لئے ڈبے کے اوپر لکھے گئے اجزائے ترکیبی میں بھی دھوکہ ثابت ہوا ہے یعنی گول مال ہے بھئی سب گول مال ہے۔
۔
دنیا بھر کی میڈیکل سائنس کی ترقی کے باوجود ہم بیمار ہو رہے ہیں ذلیل ہو رہے ہیں صحت برباد کیے جا رہے ہیں اور یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں سرعام ٹی وی پہ جھوٹ بول بول کر ہمیں اور ہمارے بچوں کو بے وقوف بنائے جا رہی ہیں۔ ملاوٹ زدہ اشیا خورونوش زہر مار کرنے کے باوجود بھی اگر ہم زندہ ہیں تو یہ کسی معجزے سی
کم نہیں لہذا اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کی خود حفاظت کریں آنکھ کھلی رکھیں روپیہ خرچ کر کے بیماری مت خریدیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی اور اپنے بچوں کی حافظت کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
…………………..
ھمارے دسترخواں اور بینگن کا سفر مختلف زبانوں میں
i
گرم مربطو طیعبت کا مالک ایسے پودے پر لٹکا ہوا ملتا ہے جسے عام طور پر جبوبی ایشائی ملکوں میں پایا جاتاہے
بینگن: سبزیوں کا بادشاہ یا فقیر؟
بینگن، جو کبھی “غریب کی خوراک” سمجھا جاتا تھا، آج غذائیت اور فوائد کے لحاظ سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔ ہندوستانی، یونانی، آیورویدک اور طبِ نبویؐ میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ یہ زمین کی گہرائی سے توانائی کھینچ کر ہمارے جسم کو مضبوط بنانے والا ایک انوکھا تحفہ ہے۔
—
غذائی اجزاء (فی 250 گرام بینگن):
کیلوریز: 60-70
پروٹین: 2-3 گرام
کاربوہائیڈریٹس: 15-18 گرام
فائبر: 6-8 گرام
فولاد (Iron): 0.8-1 ملی گرام
زنک (Zinc): 0.3-0.5 ملی گرام
کاپر (Copper): 0.1-0.2 ملی گرام
کرومیم (Chromium): 0.05-0.1 ملی گرام
سلفیٹ (Sulfate): 8-10 ملی گرام
پوٹاشیم: 500-600 ملی گرام
کیلشیم: 25-30 ملی گرام
فاسفورس: 50-60 ملی گرام
وٹامن B1، B6، C، اور K موجود ہوتے ہیں۔
یہ اجزاء جسم کی قوتِ مدافعت بڑھاتے، خون کی روانی کو بہتر بناتے اور ہڈیوں کو مضبوط کرتے ہیں۔
—
بینگن کا موسم:
بینگن سال کے بیشتر حصے میں دستیاب ہوتا ہے، لیکن خاص طور پر گرمی اور خزاں میں اس کی پیداوار عروج پر ہوتی ہے۔ سردیوں میں بھی اس کی کئی اقسام کاشت کی جاتی ہیں، تاہم گرمیوں میں اس کا ذائقہ زیادہ بھرپور ہوتا ہے۔
—
بینگن کے طبی فوائد:
1. کھانسی کے لیے مفید:
اگر خشک کھانسی ہو تو بینگن کو بھون کر اس پر شہد لگا کر کھانے سے افاقہ ہوتا ہے۔
بینگن کے قہوے میں شہد ڈال کر پینے سے بلغم خارج ہوتی ہے۔
2. دل کی صحت: بینگن میں موجود پوٹاشیم اور فائبر بلڈ پریشر کنٹرول میں مدد دیتے ہیں۔
3. خون کی کمی: اس میں فولاد اور کاپر موجود ہونے کی وجہ سے یہ خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔
4. قبض اور ہاضمے کی بہتری: اس میں موجود فائبر آنتوں کی صفائی میں مددگار ہوتا ہے۔
5. جوڑوں کے درد: آیورویدک میں بینگن کو جوڑوں کے درد میں مفید قرار دیا گیا ہے، لیکن گنٹھیا کے مریضوں کو زیادہ مقدار میں نہیں کھانا چاہیے۔ آیئے بینگن کے پکوان پر ایک نظر ڈالٹے ہیں
1. بینگن قہوہ:
چھوٹے بینگن کو باریک کاٹ کر پانی میں ابالیں، شہد یا دارچینی شامل کر کے قہوہ تیار کریں۔
نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید ہے۔
2. بینگن کا بھرتہ:
بینگن کو چولہے یا کوئلوں پر بھون کر اس میں ہری مرچ، پیاز، ٹماٹر اور ہلدی ڈال کر تیار کیا جاتا ہے۔اس کا ذائقہ دیہاتی کھانوں کا خاصہ ہے۔
3. چاول ود بینگن:
بینگن کو ہلکی آنچ پر تل کر چاولوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس سے چاولوں میں ایک منفرد لذت آتی ہے۔
4. بینگن کا سالن:
گوشت یا چنے کی دال کے ساتھ ملایا جائے تو مزیدار سالن تیار ہوتا ہے۔
5. بینگن کے کباب:
بینگن کو مسالوں کے ساتھ بھون کر کباب بنا کر کھائے جاتے ہیں۔
بینگن کی کہانی
کہا جاتا ہے کہ قدیم ہندوستان میں بادشاہ کے باورچی نے غلطی سے سالن میں گوشت کے بجائے بینگن ڈال دیا۔ شاہی دستر خوان پر پیش ہونے کے بعد بادشاہ نے پوچھا:
“یہ کیا ہے؟”
باورچی نے حاضر دماغی سے جواب دیا: “یہ سبزیوں کا بادشاہ ہے، بینگن!”
بادشاہ نے چکھا، خوش ہوا اور کہا: “اگر سبزیوں میں کوئی بادشاہ ہے تو یہ ضرور بینگن ہے!”
اسی لیے بعض لوگ بینگن کو سبزیوں کا بادشاہ کہتے ہیں، جبکہ بعض اسے “فقیروں کی غذا” بھی سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ ہر غریب کی دسترس میں ہوتا ہے۔
بینگن پر مشہور ضرب الامثال و محاورے
1. “بینگن کی جڑ میں پانی نہیں جاتا”
مطلب: کسی پر نصیحت کا اثر نہ ہونا۔
2. “جہاں راجہ وہاں بینگن”
مطلب: کسی چیز کا ہر جگہ موجود ہونا۔
3. “بینگن کے مزاج کی طرح”
مطلب: ہر وقت بدلتے رہنے والا شخص۔
بینگن بظاہر سادہ سبزی ہے، لیکن اس کے اندر غذائیت، شفا اور ذائقے کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔ چاہے وہ برتھا ہو، سالن ہو یا چاول ود بینگن، ہر شکل میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ اگر آپ اسے پسند کرتے ہیں تو خوش قسمت ہیں، اور اگر نہیں کرتے، تو شاید آپ کو اس کی حقیقی قدر کا اندازہ نہیں!
بینگن نے زبانوں کی دنیا میں بڑے لمبے سفر کیے ہیں۔ بینگن کو ہلکا مت لیجیے۔ اردو محاورہ ’تھالی کا بینگن‘ بھی اسی سبزی کا مرہونِ منت ہے۔
تحقیق کے مطابق بینگن کی اصل سنسکرت میں ’ونگن‘ ہے جس کا مطلب ہے بنگالی، یعنی بنگالی سبزی۔ سنسکرت میں اس کے لیے ایک اور نام بھی ہے اور وہ ہے ’واتنگن‘۔ یہ لفظ فارسی میں گیا تو ’باتنگان‘ بن گیا۔ اس میں ’ت‘ کی جگہ ’د‘ بھی آتا ہے یعنی بادنگان، اور ’گ‘ کی جگہ ’ج‘ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی بادنجان۔
فارسی سے عربی میں گیا تو وہاں باذنجان ہوگیا۔ عرب سے طویل سفر کرکے ہسپانیہ پہنچا تو وہاں برنجینا (Berenjena) ہوگیا۔ پڑوسی ملک پرتگال میں پہنچا تو آخری ’ن‘ کو ’ل‘ سے بدل دیا گیا اور یہ برنجیلا ہوگیا۔ بھئی، بڑی مشکل سبزی ہے۔ ابھی برطانیہ کا سفر باقی تھا۔ انگریزوں نے اس کی پرتگالی شکل میں تھوڑی سی تبدیلی کی اور اسے برنجل (Brinjal) بناکر کھانے لگے۔ شاید اس طرح اس کا بادی پن کم ہوجاتا ہو اور برطانوی نوابین کو ’نفق‘ نہ ہوتا ہو۔ ابھی سفر رکا نہیں، چنانچہ ہسپانوی زبان میں اس کی ایک شکل البرنجینا (Al Berengena ہے عربی کا حرفِ تعریف ہے۔ جب بینگن نے فرانس میں داخل ہونا چاہا تو عربی کا AL آڑے آگیا۔ فرانسیسی زبان کو عربی کے AL سے چڑ ہے۔ اسے جہاں بھی AL نظر آتا ہے اسے AU سے بدل دیتی ہے، مثلاً PALM کو PAUME کردیا، اور ALTAR کو بدل کر AUTEL بنادیا، چنانچہ فرانسیسیوں نے ہمارے بینگن کو آبرجین (Aubergine) بنادیا۔
جرمن، ڈچ، سوئیڈش زبانوں نے فرانسیسی ہی کا اتباع کیا۔ ابھی بینگن کو ترکی بھی جانا ہے۔ یہاں اس نے ’ب‘ کو ’پ‘ اور پہلے ’ن‘ کو ’ل‘ سے بدل دیا اور یہ ’پاطلیجان‘ (Patlican) بن گیا۔ ترکی زبان میں ’ج‘ کی جگہ C استعمال کرتے ہیں۔ مسجد میں بھی یہی C ہے۔ یہ کروٹیں لیتا ہوا روس میں جاگھسا۔ وہاں یہ ’بکلژان‘ بن بیٹھا۔ یہ تو معلوم ہی ہے کہ پنجابی میں اسے ’بتاؤں‘ کہتے ہیں۔ کیوں کہتے ہیں؟ کیا بتاؤں۔
……………………..
تربیت ہماری مجالس و ذاکرین
تحریر شازب جعفری
قسط نمبر 1
یہ تحریر جو میں لکھنے جا رہا ہوں یہ میں اپنے ذاتی تجربے اور آنکھوں دیکھے احوال اور مشاہدات لکھ رہا ہوں
آج میں شیعہ مکتبہ فکر میں پائے جانے والے ایک ایسے مخصوص
طبقے کا تعارف پیش کر رہا ہوں جنہیں تقریبا 80 فیصد شیعہ مکمل نہیں جانتے
یہ وہ طبقہ ہے جن کا کام بند،دوہڑا،نوحہ مرثیہ اور قصیدہ پڑھنا تھا لیکن انہوں نے اپنے شعبہ سے ہٹ کر ان شعبہ جات سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جن کی تعلیم وہ نہیں رکھتے تھے الف و ب بھی نہیں جانتے تھے
یعنی عقائد کے موضوع اور فقہی موضوعات اور بہت حساس موضوعات پر لب کشائی شروع کر دی جو کہ عوام الناس کے مابین متنازعہ موضوعات تھے یہ چیز جوانان ملت کے درمیان اختلافات کا سبب بنی گھر گھر میں لڑائی جھگڑے اور مسائل کا سبب بنی
اس سادہ لوح ملت نے آپسی جھگڑے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ جس بات پہ ہم لڑ رہے ہیں یہ کہہ کون رہا ہے
آئیے آج آپ کو اس طبقے کا تعارف کرواتا ہوں
جیسا کہ میں نے اوائل میں عرض کیا کہ شیعہ مسلمین کی 80 فیصد عوام اس بات سے ناآشنا ہے کہ ہمارے بچے جو مجلس میں ثواب کی غرض سے جاتے ہیں ہماری بچیاں جو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی تعلیمات حاصل کرنے جاتی ہیں ان کو مجلس سے جو واہیات قسم کی گفتگو شرک غلو جھوٹ فریب اور غیر متوازن غیر اخلاقی مواد جو دین کے نام پر ان کے ذہنوں میں ٹھونسا جا رہا ہے ٹھونسنے والے یہ لوگ دراصل کون لوگ ہیں کیا یہ اس قابل ہیں کہ یہ منبر پر بھی آ سکیں جس منبر سے ایک قوم کی تعمیر ہونی ہے اس منبر پر آنے کی اہلیت یہ لوگ رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے
آئیے آج آپکو ان کا تعارف کرواتا ہوں کہ یہ جو تشیع کے جسم میں کینسر کی طرح سرایت کرنے والے کون ہیں جنہوں نے شیعت جیسے توانا جسم کو بیمار کر دیا ہے
منبر پہ ذاکرین کی صورت میں مجالس پڑھنے والے نوحہ پڑھنے والے مرثیہ پڑھنے والے فضائل و مصائب پڑھنے والے 70 فیصد میراثی ہیں باقی 30 فیصد سید اور دیگر قبائل کے لوگ ہیں
وہ میراثی جن کی بنیاد یہ ہے کہ ان میں سے کوئی حجام تھا کوئی مالشی کوئی باراتیں مانگنے والا کوئی شادیوں مہندیوں پہ گانے والا یا شادیوں کے فنکشن پہ بینڈ باجے کی خدمات دینے والے ہوتے ہیں
یعنی پیشے کے اعتبار سے انہیں پیشوں سے منسلک تھے بلکہ ان کے آباء و اجداد یا دیگر بھائی ابھی بھی انہیں پیشوں سے منسلک ہیں
جیسا کہ ذاکر حبیب حیدری کا ونیکے تارڑ تھانے کے ساتھ حمام تھا دن کو یہ حجامتیں کرتا اور رات کو تھانے دار کی مالش کرتا ٹانگیں دباتا تھا
اور یہ مصدقہ بات ہے میں سنی سنائی باتیں نہیں لکھتا۔
یہ کوئی مذہبی خاندان نہیں ہوتے
یعنی میں نے ایسے میراثی بھی دیکھے ہیں جن کے خاندان پڑھے لکھے خواتین باپردہ اور عزت دار لوگ ہوتے ہیں میں نے عالم دیکھے ہیں جن کا تعلق اسی قبیلے سے ہے
لیکن ان ذاکرین کا معاملہ بڑا گھمبیر ہے
یہ خاندانی طور پر تباہ حال اور مذہبی تعلیمات سے کوسوں دور ہوتے ہیں ان کے بچوں اور انکی خواتین کو مذہب کی الف ب کا بھی علم نہیں ہوتا انگریزی کی اصطلاح میں نان پریکٹسنگ شیعہ ہوتے ہیں
ہاں یہ اور ان کے بچے انکی عورتیں سریلی ہوتی ہیں اور اسی سُر کے بلبوتے پر انکی روزی روٹی کا بندوبست ہوتا ہے
خواتین میں پردے کا رواج بالکل نہیں ہوتا اکثر بچے اسکول نہیں جاتے
یہ جو آج بڑے معروف بڑے نام ہیں ان میں سے اکثریت ایسے ہیں کہ خواتین بہن بیٹیاں اور بہووئیں زمینداروں اور وڈیروں کے گھروں میں کام کرتی ہیں
عام تاثر یہ ہے کہ یہ سادات کا بڑا احترام کرتے ہیں حقیقتاً یہ جھوٹ ہے اس میں کوئی صداقت نہیں
یہ میراثی ہر اس بندے کا احترام کرتے ہیں جن سے انہیں مفاد ہوتا ہے ہر اس بندے کے گھٹنے چھوتے ہیں جن سے انہیں مطلب ہوتا ہے
لہذا سادات ان کے جھوٹے پروٹوکول پہ چوڑے نہ ہوا کریں کہ خوشامدی مفاد پرست ہوتے ہیں
سادات ان سے بہت مانوس ہوتے ہیں اکثر خوشامد پسند سادات کی ان کے ساتھ بڑی بنتی ہے ان کے گھروں میں آنا جانا اور انکی سریلی ہانڈیوں سریلی چائے کے ساتھ ساتھ انکی سریلی عورتوں سے بھی محظوظ ہوتے ہیں,کیونکہ ان کے ہاں پردہ تو ہوتا نہیں اور شاہ جی سے تو بالکل بھی پردہ نہیں ہے۔
اکثر جو سید ذاکرین ہیں انہوں نے انہیں میراثیوں کا جوٹھا کھایا ہوتا ہے اور وہ بھی آدھے میراثی بن گئے ہوتے ہیں بقول ذاکر سجاد شاہ شمہاری کے کہ اصلی سید ہوتا ہی وہ ہے جو اندر سے میراثی ہو
دوسری قسط
*ممبر اور خطبا و ذاکریں*
شیعہ منبروں سے شیعوں کے بچوں کی مومنین کے بچوں بچیوں کی سادات کے بچے بچیوں کی تربیت وہ لوگ کر رہے ہیں جو نور جہان کو اپنی ماں مانتے ہیں اور خاں صاحب غلام علی کو باپ مانتے ہیں اور نصرت فتح علی خاں کو اپنا دادا مانتے ہیں
جن کے گھروں کا ماحول انتہائی غلیظ ہے ان کے سوزی ان کی بہن بیٹیوں اور بیویوں سے تعلقات بنا لیتے ہیں اور یہ انہوں نے سوزویوں کی بہنوں بیٹیوں اور بیویوں سے تعلقات بنائے ہوئے ہوتے ہیں (یہ میرے آنکھوں دیکھے مشاہدات ہیں)
آپ یقین کریں کہ اتنی کھل کر باتیں کرنے کے باوجود کچھ باتیں میں پھر بھی نہیں کھول سکتا یہ لوگ اتنے گندے ہیں
سادات ذاکرین ایک کام اچھا کرتے ہیں کہ یہ اپنے میراثی سوزیوں کو گھر تک رسائی نہیں دیتے ورنہ خدا جانتا ہے کہ یہ اتنے گھٹیا اور پست لوگ ہیں کہ ان کے دلوں میں ذرہ بھی سید زادیوں کا حیاء نہیں ہے یہ جو حرمت سادات کا نعرہ بلند کرتے ہیں یہ محض سادات سے اپنے مفادات نکالنے کیلیے کرتے ہیں بس
ان بھانڈوں کی صورتحال یہ ہے کہ یہ ذاکر ہوں یا سوزی ہوں یہ اپنے سوزویوں کو یا جس ذاکر کے ساتھ یہ سوزی ہوتے ہیں اس ذاکر کو اپنے اگلے کمرے تک رسائی دیتے ہیں
جب بھی بےروزگار سوزی شاہ صاحب اس بھانڈ کے گھر آتے ہیں وہ دروازے پہ دستک نہیں دیتے سیدھا اندر آتے ہیں یاعلی مدد جی
آگے انکی عورتیں شاہ صاحب کو خوش آمدید کہتی ہیں پیر مولا علی مدد شاہ جی بسم اللہ کریے اندر آ جاؤ،ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر شاہ صاحب کو جھک کر سلام کرتی ہیں شاہ صاحب کے اندر لڈو پھوٹتے ہیں کہ اللہ کرے گھر کوئی نا ہووے
پھر آہستہ آہستہ شاہ صاحب کے تعلقات مردوں سے زیادہ عورتوں سے اچھے بن جاتے ہیں
جب یہ مجلس پڑھنے کی تیاری کرتے ہیں جس کو یہ ریہاسل کا نام دیتے ہیں اگر آپ وہ دیکھ اور سن لیں تو آپ کا مجالس سے دل ہی اکتا جائے،
جیسے یہ مصائب پڑھتے ہوئے ہنستے ہیں جیسے یہ تھوڑی سی سُر خراب ہونے پر قہقے لگاتے ہیں جس طرح یہ مخدرات عصمت طہارت کے نام لیکر پھر ساتھ ایک دوسرے کو گندی گالیاں دیتے ہیں
پھر مجلس پڑھنے جاتے ہوئے اور مجلس پڑھ کر آتے ہوئے گاڑی کے اندر جو ماحول ہوتا ہے وہ اس سے بھی غلیظ ہوتا ہے،مجرے اسٹیج ڈرامے چل رہے ہوتے ہیں مجرے کو اسکرین پر روک کر پھر مصائب شروع کر لیں گے پھر وہیں سے مجرہ شروع کر لیں گے،اسٹیج ڈرامے کی جگتیں لگا کر قہقے لگائیں گے پھر نوحہ پڑھیں گے پھر مخدرات کے پاکیزہ نام اس نجس اور غلیظ ماحول میں لیں گے سوزی بھی جانتے ہیں کہ یہ کتنا غلیظ انسان ہے اور یہ بھی جانتا ہے یہ چاروں کتنے بدکردار ہیں،یہ جانتا ہے کہ میرا فلاں سوزی میری بیوی کے ساتھ صحیح نہیں ہے فلاں بیٹی کے ساتھ صحیح نہیں ہے اور فلاں بہن کے ساتھ صحیح نہیں ہے لیکن کیا کرے بےغیرت ہے چھوڑ بھی نہیں سکتا مشکل سے سریلے سوزی ملے ہیں جن کی وجہ سے روزی روٹی چل رہی ہے موج کریں یہ ان سوزیوں کی عورتوں کو پھنسا کر بدلہ لے لیتا ہے۔
سوزیوں کی مجبوری یہ ہے کہ ان کے چولہا اسکی وجہ سے چل رہا ہے
اور ایک سوزی جس نے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کر کے آنے سے معذرت کی وہ سب سے رامی ہوتا ہے کیونکہ وہ پیچھے ذاکر صاحب کے گھر پہنچا ہوا ہوتا ہے حالانکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ گھر سے نکل گئے ہیں لیکن وہ سیدھا گھر جاتا ہے یاعلی مدد جی اور آگے سے خواتین کہتی ہیں پیر مولا علی مدد شاہ جی آ جاؤ شاہ جی اندر ای آ جاؤ،اچھا چلے گئے ہیں؟ وہ کہتی ہیں ہاں جی چلے گئے ہیں،اچھا اچھا میں سمجھا ابھی گھر ہی ہونگے،اچھا فر ایک اچھی جئی سریلی جئی شاہ پلاؤ🙃
اور پہلی قسط میں میں نے عرض کیا کہ یہ لوگ اس قدر بےغیرت اور بےضمیر ہیں کہ یہ گھر پڑے ہوئے ہوتے ہیں اور انکی عورتیں ان کی بہنیں بیٹیاں بہوؤئیں لوگوں کے گھروں میں کام کر رہی ہوتی ہیں۔
یہ باراتیں مانگنے والے خاندانی بھکاری لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے والے منگتے ہمیں منبروں سے بتائیں کہ السلام علیکم کہنا ہے یا یاعلی مدد کہنا ہے؟
یہ بتائیں گے کہ مجتہد غلط ہے اور میری بات معتبر ہے؟
یہ شیعہ قوم کو بتائیں گے کہ عقائد کیا ہیں؟
یہ بتائیں گے کہ تشہد میں کیا پڑھنا ہے؟
ان کے کہنے پر تو دو کتے آپس میں نہ لڑیں آپ انسان ہو کے ان کتوں کے کہنے پر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہو…
کیا آپ چاہیں گے کہ یہ ذلیل طبقہ خبیث طبقہ غلیظ طبقہ آپ کے بچوں کی آپکی بچیوں کی تربیت کرے ؟
ذکر کے نام پر کب تک بیوقوف بنیں گے؟
انکی مجالس کا ہی بائیکاٹ کرو کہ جہاں یہ نجس طبقہ پڑھے گا ہمارے بچے ہماری بچیاں ہماری خواتین ان مجالس میں شرکت نہیں کریں گی
خود سوچیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے والے ایک قوم کی تربیت کر سکتے ہیں ؟
وہ کیسے کہیں گے کہ امام حسین علیہ السلام کا راستہ عزت کا راستہ ہے جبکہ اسکا اپنا پورا خاندان مانگنے والا اور ویلیں پکڑنے والا ہے
ایک شخص جسکی بہن بیوی یا بیٹی کسی کے گھر میں کام کر رہی ہے وہ منبر سے ایک قوم کے بچوں کو غیرت کا درس دے سکتا ہے؟
ان کو تو منبر پہ بھی نہیں آنا چاہیے اور ہم نے منبر کیا پورے کا پورا دین ان کے حوالے کر دیا وہ فتوے دے رہے ہیں اور ہم واہ واہ کر رہے ہیں۔۔
ابھی اور بہت کچھ ان شاءاللہ اگلی اقساط میں
پہلی قسط پڑھنے کےلیے وال وزٹ کریں.
جو احباب میری طرح اس گندے سسٹم کو اندر سے جانتے ہیں وہ کمنٹ باکس میں تائید ضرور کریں
قسط نمبر 3
۔۔۔۔ یہ ایک بہت بڑا منشیات کا ریکٹ ھے
بہت سے ذاکرین اور ان کے مشہور معروف پیر اور ان کے مرید منشیات فروشی کے دھندہ میں باقاعدہ شامل ہیں۔۔۔۔
منشیات میں خاص طور پر چرس اور افیم۔۔۔
ہر مجلس اور ماتمی گروپ جنکی ایک دو شخصیات سرپرستی کرتی ہیں وہ ہر مجلس میں چرس اور افیم عام ھے
کچھ ذاکرین ان منشیات فروشوں کو اپنی گاڑیوں میں ایک ضلع سے دوسرا ضلع پاس کرواتے ہیں
میں نے جب اس بات پے تھقیق شروع کی تو پتہ چلا ان کے ھاں یہ حلال چیز ھے۔۔۔
ہر بات کے اندر آپ کا دردِ دل نظر آ ریا ہے. حقیقت بیان کی ہے. خدا آپ کو اجرِ عظیم عطا فرماۓ.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ھماری چائے یا قہوہ کب اور کس لئے کار آمد ہے
کونسا قہوہ کس مرض کا علاج ہے؟*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
طبی ماہرین کی جانب سے سبز چائے یعنی کہ قہوے کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے جو کہ مجموعی صحت کے لیے بے حد مفید ہے، مگر یہ جاننا بھی لازمی ہے کہ کس جُز سے بنا قہوہ کس مرض کے لیے علاج ثابت ہوتا ہے۔
انٹرنیشنل جرنل آف فوڈ سائنسز اینڈ نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ صبح ایک کپ قہوہ پینے کے نتیجے میں انسانی جسم میں مثبت تبدیلیاں سامنے آتی ہیں جن میں منفی کولیسٹرول اور موٹاپے میں کمی واقع ہونا سر فہرست ہے۔
ماہرین کے مطابق قہوے کے استعمال سے متعدد قسم کے کینسر سے بھی نجات حاصل ہوتی ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق قہوے میں کیفین کی مقدار پائی جاتی ہے، کیفین کے سبب بھوک میں کمی واقع ہوتی ہے اور جسم سے مضر صحت مادوں کا صفایا ممکن ہوتا ہے لہٰذا صحت پر مختلف قسم کے قہوے مختلف طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں جن سے متعلق چند اقسام مندرجہ ذیل درج ہیں۔
*دار چینی کا قہوہ*
غذائی ماہرین کے مطابق دار چینی سے بنا قہوہ گلے کی خراشوں، نزلہ، زکام اور کھانسی کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے، اس کی تاثیر بڑھانے کے لیے اگر اس میں شہد بھی شامل کر لیا جائے تو ایک دن میں تین پیالیوں سے ہی علاج ممکن اور شفاء حاصل ہو جاتی ہے۔
*لیموں اور شہد سے بنا قہوہ*
ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق سردی لگنے سے بچاؤ کے لیے سبز چائے میں اگر لیموں اور شہد ملا کر استعمال کیا جائے تو ’بیڈ کولڈ‘ یعنی موسمی نزلے زکام اور سردی سے بچا جا سکتا ہے۔
*کیمومائل ( chamomile flowers ) سے بنا قہوہ*
کیمومائل کے پھولوں سے بنا قہوہ بے خوابی کا بہترین علاج ہے، کیمو مائل کے پھول اگر میسر نہ ہوں تو مارکیٹ میں ٹی بیگ کی شکل میں ملنے والی کیمومائل پتی کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
*ہلدی اور ادرک سے بنا قہوہ*
ہلدی اور ادرک کا قہوہ پینے کے نتیجے میں موسمی الرجیز، سائنَس، سانس کی بندش، مٹی سے ہونے والی الرجی سے نجات حاصل ہوتی ہے۔
*پودینے سے بنا قہوہ*
پودینے کی سبز پتیوں سے بنے قہوے کا استعمال اپھار کا بہترین علاج ہے، اس کے استعمال سے پھولا ہوا پیٹ منٹوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے جبکہ گیس، بدضمی اور بھاری پن کا علاج بھی ممکن ہوتا ہے۔
*ادرک سے بنا قہوہ*
صرف ایک جڑی بوٹی ادرک سے بنے قہوے کا استعمال سر درد کا منٹوں میں علاج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ادرک سے بنے قہوے کے استعمال کے نتیجے میں پیٹ کی چربی سے بھی چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
*تُلسی کے پتوں (باسِل ٹی، Basil Tea ) سے بنا قہوہ*
عام گھروں اور پارکس میں لگے پودے تُلسی کے پتوں سے بنے قہوے کے استعمال کے نتیجے میں ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، تُلسی کے پتوں سے بنا قہوہ خوشی محسوس کروانے والے ہامونز کو متحرک کرتا ہے اور فکر مندی، ذہنی دباؤ، پٹھوں سے کھنچاؤ سے نجات دلاتا ہے ۔
*سادہ سبز چائے*
سادہ سبز چائے جہاں بے شمار فوائد کی حامل ہے وہیں اس کے باقاعدگی سے استعمال کے نتیجے میں ایکنی، کیل مہاسوں سے بچاؤ اور اِن کی افزائش میں کمی ممکن ہوتی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
خار حیات یا حیات محبت
ہماری حیات میں نہ جانے ایسے خار دار افراد موجود ہیں جو بظاہر تو نقصان دہ نظر آتے ہیں مگر حقیقت مین ایسا ہرگز نہیں بس دیکھنے اور سمجھنے کی بات ہے
کانٹوں والے جانور یعنی کانٹوں سے بھرے خارپشت ایک دوسرے کے قریب نہیں
آ سکتے
کیونکہ ان کے اردگرد موجود نوکیلے کانٹے صرف دشمنوں سے نہیں
بلکہ اپنے ہی جیسے دوسروں سے بھی فاصلہ بنائے رکھتے ہیں
لیکن جب سردی کا موسم آتا ہے
ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں
اور کڑاکے کا موسم ہوتا ہے
تو انہیں قریب آنا ہی پڑتا ہے
گرمی حاصل کرنے کے لیے
سہارا لینے کے لیے
وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں
ایک دوسرے کے کانٹوں کی چبھن سہتے ہیں
اور گرمائش محسوس کرتے ہیں
جیسے ہی جسم میں تھوڑی حرارت آتی ہے
وہ ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں
پھر سردی بڑھتی ہے
تو دوبارہ قریب آتے ہیں
اسی آنے جانے میں ان کی رات گزر جاتی ہے
اگر وہ ہمیشہ قریب رہیں تو چوٹیں کھاتے ہیں
اور اگر ہمیشہ دور رہیں
تو سردی سے مر جاتے ہیں
بالکل یہی حال ہم انسانوں کا ہے
ہر ایک کے پاس اپنے اپنے کانٹے ہیں
خامیاں۔۔۔۔۔۔۔مزاج ۔۔۔۔۔تلخیاں اور جب ہم ساتھ جیتے ہیں تو یہی خامیاں ایک دوسرے کو چبھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم جب تک تھوڑا بہت برداشت نہیں کرتے تب تک زندگی کا توازن نہیں آتا
رشتے نہیں نبھتے گرمی یعنی انسیت اور محبت نہیں ملتی یاد رہے جو یہ چاہے کہ اس کا دوست کوئی خامی نہ رکھتا ہو وہ ساری عمر تنہا رہے گا
جو یہ چاہے کہ بیوی مکمل ہو
وہ کبھی شادی نہیں کرے گا
جو بھائی میں کوئی مسئلہ نہ چاہے وہ ساری عمر بے بھائی بنے رہے گا
اور جو رشتہ داروں میں مکملی تلاش کرے وہ صلہ رحمی توڑ دے گا زندگی تبھی خوبصورت بنتی ہے
جب ہم تھوڑی سی چبھن برداشت کرنا سیکھ لیں جب ہم دوسروں کو مکمل جاننے سے زیادہ ان کے اچھے پہلو پر نظر رکھنا سیکھ لیں
یاد رکھیں جوہری بات کو گہرائی میں جا کر پرکھنا چاہتا ہے وہ اصل خوشی کھو بیٹھتا ہے جیسے کچھ لوگ ہیرا کو پرکھتے پرکھتے اسے کوئلہ سمجھ بیٹھتے ہیں
ہر شخص کی چھان بین نہ کرو
بس جو اچھائی ان کے چہرے پر ہے اس سے خوش رہو یہی راز ہے پر سکون اور سہولت سے آراستہ اور قابل رشک حیات کا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قران کے غلط مفاہیم اور ترجمے قران سے خیانت
قرآن کے غلط ترجمے اور مترجمین کی خیانتیں پوسٹ
کا ایکس چیٹ گروک پر دیا گیا جواب ملاحظہ کریں
اور اندازہ کریں کہ دین کو اپنی مرضی کا بنانے کیلئے ہر حربہ آخری حد تک استعمال کیا گیا ہے
اور 14 صدیوں میں اس کو اتنا سنایا گیا ہے کہ اب سماعتیں حق کو برداشت نہیں کرتیں بس ملاں کو سنتی ہیں
آپ ( آغا علی) کی پوسٹ میں سورۃ الفرقان کی آیت 30 کا ذکر ہے،
اور آپ نے مترجمین پر الزام لگایا ہے کہ وہ “وقال الرسول” کا ترجمہ “پیغمبر کہیں گے” کر کے غلط کر رہے ہیں،
(یہ الزام نہیں ہے باطل کو بے نقاب کیا ہے میں نے پورے دلائل کے ساتھ .
جبکہ احادیث میں “قال الرسول” کا ترجمہ
“رسول ﷺ نے فرمایا” ہوتا ہے۔
(اگر یہ غلط ہے تو غلطی ثابت کر کے دکھاے کوئی دعویدار علم . آغا علی )
آئیے اسے
عربی زبان،
تفسیر اور
مختلف تراجم
کی روشنی میں دیکھتے ہیں
( لغات
تفسیر
تراجم
یہی تو ذریعہ ہیں حق کو بدلنے کا . آغا علی )
۔آیت کا عربی متن اور لفظی ترجمہ
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
وقال : فعل ماضی (perfect tense) ہے، جس کا مطلب “کہا” یا “کہہ دیا”۔
( بالکل یہی صیح ترجمہ ہے . آغا علی )
عربی میں ماضی کا استعمال اکثر مستقبل کے واقعات کے لیے بھی ہوتا ہے،
( کس وحی سے پتا چلا علما کو اس بات کا .
یا دین ملاں کی ملکیت ہے کہ جو چاہے ترجمہ کرے ؟؟
اور اس صیح ترجمے سے کونسی آفت آتی ہے جو یہ ترجمہ کسی ملاں کو ہضم نہیں ہوتا اور جان بوجھ کر جہنم خریدتے ہیں غلط ترجمہ کر کے . آغا علی )
خاص طور پر قیامت کے مناظر بیان کرتے ہوئے۔ یہ “historical present” یا “prophetic past” کہلاتا ہے
( اس آیت میں تو رسول ص کی قوم کی بات ہو رہی ہے جو قرآن کو ترک کر چکی ہے ؟؟؟
قیامت کہاں سے آ گئی ؟؟؟؟
قرآن کی منکر قوم کا تحفظ کیوں کیا جاتا ہے ؟؟؟ آغا علی )
،
یعنی یقینی مستقبل کو ماضی کی طرح بیان کرنا تاکہ اس کی صداقت اور یقین پر زور دیا جائے۔
( قرآن کی یہ بے علمی اور بے شعوری تفسیر و بیان کہاں سے لے لیا ؟؟؟؟
قرآن میں قیامت کے بہت سے مناظر ایسے ہی ماضی کے فعل سے بیان ہوئے ہیں (مثلاً سورۃ الزمر: “وَقَالُوا الحَمْدُ لِلَّهِ”
وغیرہ)۔
( ماضی کے فعل کو مستقبل بنانے کا آرڈر کہاں سے ملا ملاں مولوی کو ؟؟؟
اس لیے تمام معتبر تفاسیر اور تراجم میں اسے قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شکایت کے طور پر لیا جاتا ہے،
( یہ ہے اس وقت کے دین کی حقیقت .
معتبر علما تراجم
معتبر علما تفاسیر
اب ہر فرقے کے علیحدہ علیحدہ معتبر علما و معتبر تراجم ہیں
انا للہ و انا الیہ راجعون
بس یہی دین ہیں
جو عقل و شعور سے فارغ ہے
اگر بات مستقبل کی کرنی تھی تو اللہ ج کو مستقبل کا لفظ نہیں آتا تھا کیا ؟؟؟؟
جو اللہ ج نے کام چلاو کیلئے لفظ ماضی کا بولا؟؟؟
اور ملاں کو یہ پتا کیسے چلا کہ یہ ماضی کی بجاے مستقبل کی بات ہے
کون سی وحی یا فرشتہ ملاں کو بتانے آیا تھا یہ بات ؟؟؟؟
یعنی “اور رسول کہیں گے”
یا “اور رسول ﷺ کہیں گے”
( الہیٰ بات کو رد کرنے اور اللہ ج کو کم علم ثابت کرنے کا شاہکار ترجمہ )
۔ یہ کوئی “غلط ترجمہ” نہیں،
( باپ کا دین ہے کہ جو کہہ دو وہی صیح مان لیں ہم ؟؟؟
اللہ ج پر الزام لگاتے ہو ملاں کہ اللہ ج کو ڈھنگ سے بات کرنی نہیں آتی ؟؟؟
بات مستقبل کی کرتا ہے لیکن لفظ ماضی کا بولتا ہے ؟؟؟
تھو ہے ملاں کی ایسی فہم و عقل پر جو اللہ ج پر الزام لگاتی ہے لیکن منکر قرآن قوم کو بچاتی ہے جو رسول ص کے سامنے موجود تھی
بلکہ عربی اسلوب کا درست فہم ہے۔
( بکواس در بکواس بات ہے )
مشہور اردو تراجم کا موازنہ
فتح محمد جالندھری:
“اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔
احمد رضا خان (کنز الایمان):
“اور رسول عرض کریں گے کہ اے میرے رب ! بے شک میری امت نے اس قرآن کو ترک کر دیا”
۔
مفتی تقی عثمانی:
“اور رسول کہیں گے: اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا ہے”۔
مولانا مودودی (تفہیم القرآن):
“اور رسول کہیں گے: اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا”۔
( اللہ ج کی غلطیاں درست کرنیوالے ملاوں کو اچھے سے دیکھ لو مسلمانو ؟؟؟
آغا علی )
یہ سب اہل سنت کے معتبر علما ہیں،
اور شیعہ تفسیر
(مثلاً تفسیر المیزان)
میں بھی یہی معنی ہیں۔
امام راغب اصفہانی
(جو لغت کے ماہر ہیں)
نے اپنی کتاب مفردات القرآن میں الفاظ کی تشریح کی ہے،
لیکن ان کا کوئی الگ “ترجمہ قرآن” نہیں ملا جو اس آیت میں مختلف ہو۔
( اس دین کو سمجھنے کیلئے نا قرآن کا حوالہ ملتا ہے نا حدیث رسول ص کا
ہر جگہ پر علما و ملانا کا ہی قبضہ نظر آتا ہے
جو کہہ دیتے ہیں بس اسی کو منوانے میں لگے رہتے ہیں
قرآن پر سچ میں اس مسلمان قوم کا یہی رویہ ہے کہ قرآن کو چھوڑ رکھا ہے ؟؟
غلط ترجمے سے بھی پوری مسلمان قوم قرآن کو چھوڑنے والی ثابت ہو رہی ہے
تو ملانا اور مفتی مجتہد امت سے باہر ہیں ؟؟؟
اس امت کو کیا کہوں
جس کیلئے اللہ ج نے قرآن کو گواہ بنایا ہے کہ یہ امت یہ قوم قرآن کو چھوڑ چکی ہے ؟؟؟
اور گواہی دینے والا رسول ص ہے مسلمانو ؟؟؟؟ آغا علی )
احادیث میں “قال الرسول” کا ترجمہ رسول ص “نے فرمایا” اس لیے ہے
کیونکہ وہ ماضی کے واقعات ہیں
( یہ ہے ملاں کی ناقص عقل و فہم کا نتیجہ کہ اللہ ج کے کلام کو اپنی ناقص عقل میں قید کر دیا ہے
یعنی اللہ ج کی لفظی غلطیاں ٹھیک کرنے والی قوم کا نام ملاں ہے . آغا علی )
۔ قرآن کی یہ آیت قیامت کا منظر ہے،
( جہالت پر جہالت کے ڈھیر کا نام ملاں ہے . آغا علی )
اس لیے “کہیں گے” درست ترجمہ ہے۔”
(دین ملاں فساد است . آغا علی )
مہجور” کا معنیٰ لغوی طور پر:
ترک کیا ہوا،
چھوڑا ہوا،
نظر انداز کیا ہوا،
forsaken, abandoned۔
تفسیر میں:
قرآن کو چھوڑ دینا،
اس پر عمل نہ کرنا،
اسے نظر انداز کرنا۔
(اور قیامت کے دن پاک رسول ص کہیں گے میری قوم نے قرآن چھوڑ دیا تھا ؟؟؟
صحابہ سے لیکر قیامت تک کے مسلمانو کا قرآن چھوڑنا ثابت ہوا ملاں کے ترجمے سے
سارے مسلمان رگڑے گئے ؟؟؟
کچھ کہتے ہیں کہ مکہ کے کفار نے قرآن کو جھٹلا کر “مہجور” کیا۔
( یہ کچھ کون لوگ ہیں ؟؟؟
بے نام ہیں کیا ؟؟؟
کفار تو قرآن کو مانتے ہی نہیں تھے تو پھر انکا قرآن چھوڑ دینا کتنی بے عقلی والی بات ہے ؟؟؟؟
یہاں قرآن کو ماننے والے مسلمانوں کی بات ہو رہی ہے
جتنا مرضی بھاگ لو حق سامنے آنا ہی آنا ہے .
غلام احمد پرویز
(جو غیر روایتی مفکر تھے)
نے اسے مزید تشریح کی کہ لوگوں نے قرآن کو “باندھ دیا”
یعنی اسے اپنی مرضی کے تابع کر لیا یا اس کی آزادی چھین لی۔
لیکن یہ پرویز کی ذاتی رائے ہے،
جو mainstream علما میں قبول نہیں۔
( سچی بات مین سٹریم علما حضرات کو قبول ہی نہیں ہوتی
ہر بات کا انکار کرنے میں ماہر مخلوق ہیں علما
جہاں تک دین کی بات کر لیں سامنے آپکو علما ہی نظر آئیں گے
نا قرآن کی بات
نا ہی حدیث کی بات
بس علما نے یہ کہا علما نے وہ کہا علما نے یہ مانا علما نے یہ نہیں مانا
لگتا ہے دین و قرآن علما نے نازل کیا ہے .
مثال
جانور کی ٹانگ باندھنے کی تشریح بھی ان کی اپنی ہے، جو کلاسکی تفاسیر میں نہیں ملتی۔
( ان نام نہاد کلاسیکی تفاسیر نے تو دین کا بیڑہ غرق کیا ہے .
نتیجہ
یہ ترجمہ کوئی “خیانت” یا “ظلم” نہیں، بلکہ عربی زبان اور تفسیر کے اصولوں کے مطابق ہے۔
( بالکل . یہ ایسے ہی ہے جیسے اندھیری رات ہو لیکن بندہ شور مچاے کہ دن دوپہر ہے اور سورج چمک رہا ہے
اور سب کو منوانے کی ضد کرے
تمام بڑے علما (سنی، شیعہ) کا اتفاق ہے کہ یہ آیت قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی امت کے بارے میں شکایت ہے
( کس آیت یا حدیث سے اتفاق ہے علما کا ؟؟؟؟
علما کا دین سے صرف اتنا تعلق ہے کہ دین کو مانتے ہیں
اگر تو پاک رسول ص فرماتے کہ یہ آیت قیامت کے دن کیلئے نازل ہوئی ہے اور میں قیامت کو شکایت کرونگا تو بات ٹھیک تھی
یا پھر اللہ ج مستقبل کا صیغہ استعمال فرماتا
تو پھر آیت یوں ہوتی
و یقول الرسول ص ..
اور رسول ص فرمائیں گے
تب بات بالکل حق تھی
لیکن یہ ملاں کا قیاس و خیال انکی اپنی ذاتی بات ہے دین سے اور حق سے اسکا ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے
کہ انہوں نے قرآن کو نظر انداز کیا۔
اگر واقعی قرآن پر عمل کیا جائے تو اس جیسی بحثوں سے زیادہ اہم ہے
( کس قرآن پر عمل کیا جاے ؟؟؟
جس قرآن کے ترجمے میں ماضی کو مستقبل کر دیا جاتا ہے
جس قرآن کے حق کو تفسیر کی ٹھوکر سے تبدیل کر دیا جاتا ہے .
جس قرآن کو اب سنی ترجمہ اہلحدیث ترجمہ شیعہ ترجمہ اور مختلف تراجم میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا ہے اور ایک قرآن کے 73 قرآن بن چکے ہیں فرقوں کے لحاظ سے ؟؟؟
جو قرآن جکڑا ہوا ہے لغات کے جال میں
تفاسیر کے جال میں
جو قرآن پھنسا ہوا ہے علما میں
اور ہر طبقے کا عالم مختلف ہے دوسرے طبقے کے عالم سے ؟؟؟
کہ ہم خود قرآن کو “مہجور” نہ بنائیں
( ہم نے قرآن کو مہجور بنایا ہوا ہے اسلئے کہ ہم قرآن کو علما سے مفتیان سے مجتہدین سے لے رہے ہیں
ہم صرف وہ قرآن مانتے ہیں جو ہم کو منوایا جاتا ہے
قرآن کیا فرما رہا ہے یہ ترجمہ ہی جب ٹھیک نہیں تو کیسے پتا چلے گا کہ بات کیا ہے
جیسے ابھی علما کی پشت پناہی میں اتنی لمبی چوڑی تحریر کا جواب دے رہا ہوں
ماضی فعل لفظ کو مستقبل بنا کر پھر تقاضا کیا جا رہا ہے
کہ علما نے ایسا مانا ہے لہذا یہی ٹھیک ہے ؟؟؟
یعنی دین صرف علما ہیں ؟؟؟
اور علما نے دین کے حق کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے آج تماشا بنا دیا ہے .
اسے پڑھیں،
سمجھیں
اور عمل کریں۔
( کیسے سمجھیں جناب ؟؟؟
وہی تو بتا رہا ہوں مسلسل کہ جب تک یہ غلط ترجمے صیح نا ہوں تب تک سمجھ نہیں آے گی .
اللہ ہمیں سب کو ہدایت دے۔اگر کوئی مخصوص ترجمہ یا تفسیر دیکھنا چاہیں تو بتائیں!
( اللہ ج والی ہدایت چھوڑ کر ہم علما والی بات کو فالو کر رہے ہیں اس سے ہدایت ہرگز نہیں ملنی .
کیونکہ ہر فرقے کا عالم اپنے فرقے کا سپورٹر ہے
ہدایت تبھی ملے گی جب صرف اللہ ج اور رسول ص سے دین کی بات لی جاے
جو اللہ ج و رسول ص فرمائیں بس اسی پر عمل کیا جاے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ڑرپوک دلیرانہ پرورش
ان چند لائینوں میں وقت کے ضیاع اور تربیت کے حوالے سے سے چند لائیں زیر غور ہیں شاید زندگی کے لئے سبق آموز ہوں
کوئی ڈرپوکوں پہ وقت ضائع نہیں کرتا ہماری ناکامی کا سب خوف ہے کہ جو ڈرے گا مرے گا جس دن ڈر کو اندر سے نکال دینگے تو جینا دیکھ لینگے ۔ ۔ ۔
شادی کرنے جاتے ہیں تو ڈر کے، بچے ڈرپوک بناتے ہیں، شجاعانہ دلیرانہ فیصلے بھی کرو ۔ ۔ ۔
جس شے کا زکر کرتا ہے وہی شے دل میں آتی ہے ۔ ۔ ۔
جیسا تزکرہ ہوگا، ویسا دل ہوگا اور جیسا دل ہو گا ویسا ہی کردار ہو گا ۔ ۔ ۔
شجاعت کے تزکرے کرو تاکہ تمہاری اولادیں اور تم شجاع بنو ۔ ۔ ۔
قرآن سنت و سیرت شخیین پہ عمل کرو امام علی علیہ السلام نے انکار کردیا ۔ ۔ ۔
کسی میدان میں بھی آپ نے ڈر نہیں دکھایا، 12 سال کی عمر میں جب سب رسول اللہ کو نبی ماننے سے ڈر رہے تھے آپ نے شجاعت دکھائی کہا میں اپکو رب کا نبی مانتا ہوں ۔ ۔ ۔
جیسے ہم دیکھتے ہیں جنگلی جانوروں کو رام کرتے ہیں،
مسخ شدہ جانور جو سرکس میں ہوتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تربیت یافتہ ہیں ۔ ۔ ۔
تربیت یافتہ :
وہ ہوتا ہے جسکی سب صلاحیتوں کو نکھار کر استعمال میں لایا جائے ۔ ۔ ۔
مسخ شدہ وہ ہوتا ہے جسکی تمام صلاحیتیں مار دی جائیں ۔ ۔ ۔
سرکس کے جانور مسخ شدہ ہوتے ہیں نہ کہ تربیت یافتہ کیونکہ انکی شخصیت خوف کے زریعے مسخ کر دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔.
جبکہ ” تقوی” ، بزدلی نہیں ہے بلکہ شجاعت ہے جو انسان کے وجود میں موجود تمام تر صلاحیتوں کو اجاگر کر کے نکھار دیتی ہے ۔ ۔ ۔
بندر کو رام کرنے کا طریقہ، وہی انسان کیساتھ کرتے ہیں، بندر کے بچے کو اٹھا لاتے ہیں اور ساتھ ہی ایک کتے کا بچہ جسے پلہ کہتے ہیں وہ روتا بہت ہے یہ اسکی خصوصیت یوتی ہے، لیکر آتے ہیں عام بندر کو کتنا ہوتا ہے لیکن ساتھ پلہ (کتے کا ننھا بچہ) لیکر آتے ہیں بندر کو بٹھا کر پلے یعنی کتے کے بچے کو روز مارتے ہیں، ظلم ستم اس پر ہوتا ہے بندر کا بچہ دیکھ رہا ہوتا ہے، کافی روز مارپٹائ کی جاتی ہے بندر فقط دیکھ رہا ہوتا ہے کبھی الٹا لٹکاتے ہیں کبھی مارتے ہیں وہ روتا ہے اور بندر سہمتا چلا جاتا ہے پھر ایک دن ایک تھیلا لاکر اسکے اندر سے چھری نکالتے ہیں اور اس پلے یعنی کتے کے بچے کا سر قلم کرتے ہیں اور اس چھری کو اسی تھیلے میں واپس ڈالدیتے ہیں بندر دیکھ رہا ہوتا ہے اور یہ اسطرح اسکی تربیت تمام ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔
اب اس سب کے بعد یہ بندر مالک کا ہر حکم ماننے لگتا ہے قلابازی مارو، ناچو جو کہتا ہے مالک وہی کرتا ہے کیونکہ اسکے زہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہوتی ہے کہ میرا بھی یہی حشر ہوگا جو اس کتے کا ہوا اگر میں نے اس انسان یا مالک کی بات نہ مانی ۔ ۔ ۔
جسکو مارا تھا اسے مار کر پھینک دیا مرے ہوئے سے کوئی کام نہیں لیا جاتا البتہ ڈرے ہوئے سے ضرور کام لیا جاتا ہے اور ڈرے ہوئے سے جو چاہے کروا لو وہ کر گزرتا ہے ۔ ۔
مارنا آسان ہے ڈرانا مشکل آج خوفزدہ ملت، فرد، قوم سے ہر کام ممکن ہے پاکستان کی قوم، ہر طرح کے خوف میں مبتلا قوم ہے
اس باعث زلت کا سامنا کر رہی ہے ۔ ۔ ۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
انسانی جسم اور سورہ الکہف کے معجزات
سورۃ الکہف میں کتے کے “اپنے اگلے پاؤں پھیلانے” کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟
یہ واقعہ سورۃ الکہف کی ایک نہایت غور طلب تفصیل پر روشنی ڈالتا ہے — آئیے اس کا مکمل ترجمہ اردو میں پڑھتے ہیں:*
سوال:
سورۃ الکہف میں کتے کے “اپنے اگلے پاؤں پھیلانے” کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟
اور جب اصحابِ کہف دائیں اور بائیں کروٹیں بدل رہے تھے تو کتا کیوں نہیں پلٹ رہا تھا؟
ہم میں سے اکثر نے سورۃ الکہف سینکڑوں مرتبہ تلاوت کی ہوگی، مگر شاید ہی کبھی اس بات پر غور کیا ہو کہ قرآن نے کتے کے پلٹنے کا ذکر نہیں کیا — حالانکہ ہمیں بتایا گیا کہ اصحابِ کہف کو دائیں بائیں پلٹایا جاتا رہا تاکہ ان کے جسموں پر زخم یا سڑآند پیدا نہ ہو۔
ایک جرمن طبی سائنسدان نے کہا:
> “ایک دن میں سفر کر رہا تھا کہ ایک نوجوان میرے پاس آیا اور مجھے قرآنِ مجید کا ترجمہ شدہ نسخہ پیش کیا۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور اسے جیب میں رکھ لیا، ارادہ یہ تھا کہ نوجوان کے جانے کے بعد کسی کو شرمندہ کیے بغیر اسے کوڑے میں پھینک دوں۔
> میں اسے بھول گیا اور جہاز میں سوار ہوگیا۔ پرواز طویل اور بور تھی، جیب میں رکھا وہ نسخہ یاد آیا تو میں نے اسے نکال کر ورق الٹنے شروع کیے۔ میری نظر سورۃ الکہف پر پڑی تو میں نے پڑھنا شروع کیا، اور دو آیات نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کرلی:”
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> “اور تم دیکھتے کہ جب سورج طلوع ہوتا تو ان کے غار سے دائیں طرف ہٹ جاتا تھا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کتراتا ہوا نکل جاتا تھا، اور وہ غار کے کشادہ حصے میں تھے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے، تو تم اس کے لیے کوئی کارساز نہیں پاؤ گے۔”
(سورۃ الکہف، آیت 17)
اور پھر:
> “اور تم خیال کرتے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سو رہے تھے، اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہے، اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاؤں پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم انہیں دیکھ لیتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور تمہیں ان سے خوف آجاتا۔”
(سورۃ الکہف، آیت 18)
—
ڈاکٹر نے کہا:
“یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ انہیں نیند کے دوران پلٹایا جا رہا تھا تاکہ ان کے جسموں پر زخم یا سڑاند یا بدبو نہ بنے، کیونکہ وہ لمبے عرصے تک ایک ہی حالت میں تھے۔
لیکن مجھے جس بات نے حیران کیا وہ پچھلی آیت تھی — جس میں بتایا گیا کہ سورج کی روشنی غار میں داخل ہوتی تھی، مگر ان کے جسموں پر براہِ راست نہیں پڑتی تھی۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں روز غار میں آتی تھیں مگر انہیں براہِ راست نہیں چھوتی تھیں۔
ڈاکٹر نے کہا: “طبی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ اگر کسی مریض کو طویل عرصے تک ایک ہی حالت میں رہنا پڑے تو کمر یا جسم پر زخم نہ بننے کے لیے جگہ ہوا دار ہونی چاہیے اور بالواسطہ سورج کی روشنی ہونی چاہیے، لیکن براہِ راست دھوپ نہیں پڑنی چاہیے۔”
پھر جب اس نے اگلی آیت پر غور کیا تو اسے احساس ہوا کہ واقعی، نیند کے دوران جسم کو حرکت دینا زخموں اور سڑآند سے بچاتا ہے۔
مگر جس بات نے اسے انتہائی حیران کیا وہ یہ تھی کہ کتا تو نہیں پلٹا جا رہا تھا — وہ صرف غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاؤں پھیلائے ہوئے تھا، 309 سال تک — مگر اس کا جسم نہ سڑا نہ گل سڑا!
—
یہ بات اس جرمن ڈاکٹر کو مزید تحقیق پر اُبھار گئی۔
اس نے کتوں کی جسمانی بناوٹ (physiology) کا مطالعہ کیا اور حیرت انگیز طور پر دریافت کیا کہ کتوں کی جلد کے نیچے ایسے غدود (glands) پائے جاتے ہیں جو ایک خاص مادہ خارج کرتے ہیں — یہ مادہ جسم میں زخم یا سڑن کو پیدا ہونے سے روکتا ہے، جب تک کتا زندہ ہو، خواہ وہ حرکت نہ بھی کرے۔
اسی لیے اصحابِ کہف کا کتا پلٹنے کا محتاج نہ تھا۔
یہی قرآنی معجزہ اس جرمن سائنسدان کے اسلام قبول کرنے کا سبب بنا۔
بیان کا نکتہ:
سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس غیر مسلم سائنسدان نے صرف پہلی مرتبہ سورۃ الکہف پڑھتے ہی ان نکتوں کو محسوس کیا،
جبکہ ہم میں سے کتنے ہی لوگ روز قرآن پڑھتے ہیں مگر غور نہیں کرتے!
اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا ہے:
> “یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں، اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔”
……………………..
پی آئی اے خریدنے والے عارف حبیب کون ہیں؟
کراچی کی تنگ گلیوں میں ایک لڑکا رہتا تھا۔
گھر میں آسائشیں کم تھیں، مگر اس کے خواب… آسمان سے بھی اونچے تھے اور اس لڑکے کا نام تھا عارف حبیب
ہجرت کے بعد اس کے خاندان نے نئے سرے سے زندگی شروع کی۔
تعلیم میٹرک تک تھی، مگر سیکھنے کا جنون کسی بڑی یونیورسٹی سے کم نہیں تھا۔
1970 میں اس نے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ایک چھوٹے بروکر کی حیثیت سے قدم رکھا۔
وہ روزانہ گھنٹوں مارکیٹ کو دیکھتا، سمجھتا، اور نوٹ کرتا وقت گزرتا گیا
اس کی ایمانداری، محنت اور تیز نظر نے اسے دوسروں سے آگے نکال دیا۔
وہ چھوٹا بروکر آہستہ آہستہ پاکستان کے بڑے سرمایہ کاروں میں شمار ہونے لگا۔
پھر ایک دن اس نے وہ قدم اٹھایا جس نے اسکی زندگی بدل دی اس نے عارف حبیب گروپ کی بنیاد رکھی ۔
ایک ایسا گروپ جو آج اسٹیل، سیمنٹ، فرٹیلائزر، انرجی، رئیل اسٹیٹ اور فنانس جیسے بڑے شعبوں میں کام کرتا ہے۔
عارف حبیب صرف ایک بزنس مین نہیں
وہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے والوں میں سے ایک ہے۔
1️⃣ ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار دیا
اس کے گروپ کی کمپنیوں میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار چلتا ہے۔
اس نے ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جہاں نوکریاں کم تھیں،
اور لوگوں کو باعزت روزگار ملا۔
2️⃣ Naya Nazimabad — کراچی کا نیا چہرہ
ایک ایسا ہاؤسنگ پروجیکٹ جس نے ہزاروں خاندانوں کو
محفوظ، صاف اور جدید رہائش فراہم کی۔
یہ پروجیکٹ کراچی کی ترقی کی علامت بن گیا۔
3️⃣ اسٹاک مارکیٹ کو بحرانوں سے نکالا
وہ کئی بار پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین رہے۔
مشکل وقتوں میں انہوں نے مارکیٹ کو سنبھالا،
سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا،
اور ملکی فنانشل سسٹم کو مضبوط کیا۔
4️⃣ انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری
انہوں نے بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ لگا کر
ملک میں توانائی کی کمی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔
عارف حبیب کا ایک پہلو ایسا بھی ہے
جو کم لوگ جانتے ہیں
وہ دل سے انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔
1️⃣ Arif Habib Foundation
یہ فاؤنڈیشن تعلیم، صحت، کھیل، اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر کام کرتی ہے۔
غریب خاندانوں کی مدد، اسکولوں کی سپورٹ،
اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا
اس کے اہم مقاصد ہیں۔
2️⃣ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی سپورٹ
وہ مختلف اسپتالوں، ٹرسٹس، اور تعلیمی اداروں کو فنڈنگ دیتے ہیں،
تاکہ غریب مریضوں کا علاج ہو سکے
اور بچوں کو تعلیم مل سکے۔
3️⃣ کھیل اور نوجوانوں کی ترقی
Naya Nazimabad میں اسٹیڈیم، گراؤنڈز اور کھیلوں کی سہولیات
ان کی اس سوچ کی علامت ہیں کہ
“صحت مند نوجوان ہی مضبوط قوم بناتے ہیں۔”
✈️ اور آج… سب سے بڑا سنگِ میل
اس نے پاکستان کی قومی ایئرلائن PIA کا 75٪ حصہ خرید لیا۔
یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی پرائیویٹائزیشن ہے۔
اور انہوں نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں کام کرنے والے ملازمین کو نہیں نکالا جائے گا اور مزید 20 طیارے مزید پی آئی اے میں لائے جائیں گے۔
ایک وقت تھا جب وہ اسٹاک مارکیٹ کے باہر کھڑے ہو کر
سینئر بروکرز کو دیکھتا تھا۔
آج وہ ایک ایسی ایئرلائن کا مالک ہے
جس کے جہاز دنیا بھر کے آسمانوں پر اُڑتے ہیں۔
🌤️ یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں — یہ امید کی کہانی ہے
یہ کہانی بتاتی ہے کہ:
“کامیابی ڈگریوں سے نہیں، حوصلے سے ملتی ہے ”
“اصل طاقت حالات میں نہیں، انسان کے اندر ہوتی ہے۔”
“اگر نیت صاف ہو اور محنت سچی… تو ایک میٹرک پاس لڑکا بھی قومی ایئرلائن کا مالک بن سکتا ہے۔”
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
رومی مصطفی کا استعمال اور انسانی بدن پر اثرات
مصطگی رومی
آپ کی صحت کے لیے مصطگی رومی (مسٹک گم) کے حیران کن فوائد مگر اپنے معالج کے مشورہ لے کر استفادہ کریں ضرور ہے
Surprising Benefits of Mastic Gum for Your Health
تعارف مصطگی رومی Mastic گم، جو بحیرہ روم کے علاقے میں رہنے والے Pistacia lentiscus کے درخت کی رال سے ماخوذ ہے، صدیوں سے ایک قیمتی قدرتی علاج رہا ہے۔ اپنے منفرد ذائقے، لطیف مہک اور صحت کے بے شمار فوائد کے لیے جانا جاتا ہے، ماسٹک گم اب صحت سے متعلق مختلف مسائل کے لیے ایک کثیر جہتی حل کے طور پر جدید فلاح و بہبود کے حلقوں میں دوبارہ جنم لے رہا ہے۔ اس کا تاریخی استعمال قدیم یونان تک پھیلا ہوا ہے، جہاں اسے ایک قدرتی چیونگم کے طور پر مشرق وسطیٰ میں روایتی علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ برصغیر پاک و ہند اور دیگر ممالک
دیگر نام عربی۔ مصطگی – علی رومی۔ فارسی میں کندر رومی
انگریزی میں میسٹک Mastic
رنگ سفید زردی مائل
ذائقہ پھیکا قدرے شیریں
مزاج گرم خشک درجہ دوم
مقدار خوراک ایک ماشہ سے دو ماشہ تک
مزید پڑھیں:
آپ کی صحت کے لیے مصطگی رومی کے حیران کن فوائد
تعارف
مسٹک گم یعنی مستگی رومی Mastic Gum ، جو بحیرہ روم کے علاقے میں رہنے والے پستاشیا lentiscus کے درخت کی رال سے ماخوذ ہے، صدیوں سے ایک قیمتی قدرتی علاج رہا ہے۔ اپنے منفرد ذائقے، لطیف مہک اور صحت کے بے شمار فوائد کے لیے جانا جاتا ہے، ماسٹک گم اب صحت سے متعلق مختلف مسائل کے لیے ایک کثیر جہتی حل کے طور پر جدید فلاح و بہبود کے حلقوں میں دوبارہ جنم لے رہا ہے۔ اس کا تاریخی استعمال قدیم یونان تک پھیلا ہوا ہے، جہاں اسے ایک قدرتی چیونگم کے طور پر مشرق وسطیٰ برصغیر پاک و ہند میں روایتی علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں، ہم ان بہت سی وجوہات کی کھوج کرتے ہیں کہ یہ قدیم رال آپ کے روزمرہ کی صحت کے معمولات میں کیوں ایک جگہ کا مستحق ہے اور اس کے فوائد کو روایتی حکمت اور جدید سائنس دونوں کی طرف سے کس طرح مدد ملتی ہے۔
افعال و استعمال
محرک و مدربول ، مقوی معدہ و جگر اور کاسر ریاح ، ملطف، محلل اورام ، جاذب رطوبت ، قابض، حابس خون ہے ۔ ریاح گیس کو تحلیل کرتی ہے ۔ بھوک لگاتی ہے ۔ معدہ جگر اور قوت ہاضمہ کو قوت دیتی ہے ۔ بلغمی رطوبت کو دماغ سے جذب کرتی ہے ۔ سردی کی وجہ سے بار بار پیشاب آنے اور بستر پر پیشاب کرنے کو مفید ہے ۔
اس کا منجن مسوڑوں اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے ۔ مصطگی کو تنہا پیسنا چاہیے ورنہ دوسری دواؤں کے ساتھ ملا کر پیسنے سے اس کا سفوف ہونا دشوار ہو جاتا ہے ۔
جوارش مصطگی اس کا مشہور مرکب ہے ۔
1. ہاضمہ صحت کو بہتر بناتا ہے۔
مسٹک گم (مصطگی رومی) کے سب سے مشہور اور وسیع پیمانے پر تحقیق شدہ فوائد میں سے ایک صحت مند نظام ہاضمہ کو سہارا دینے کی صلاحیت ہے۔ اس قدرتی رال کو معدہ کے امراض بدہضمی سے وابستہ علامات کو دور کرنے کے لیے دکھایا گیا ہے، بشمول اپھارہ، تکلیف اور تیزابیت۔ یہ خاص طور پر ایچ پائلوری Helicobacter pylori کے خلاف مؤثر ہے، ایک بیکٹیریا جو معدے کے السر اور دائمی گیسٹرائٹس کا سبب بنتا ہے۔ مسٹک گم کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پیٹ کے استر میں نقصان دہ جرثوموں کی نشوونما کو روکنے کا کام کرتی ہیں، اس طرح سوزش کو کم کرتی ہے اور گٹ کے متوازن ماحول کو فروغ دیتی ہے۔ مزید برآں، مسٹک گم معدے کے استر کو پہنچنے والے نقصان کو ٹھیک کرنے میں بھی مدد کر سکتا ہے، جو ہاضمے کے دائمی مسائل میں مبتلا افراد کے لیے طویل مدتی ریلیف فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ ایک آسان سپلیمنٹ آپشن میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو یہ انتہائی درجہ بند ہاضمہ صحت پروڈکٹ کو دیکھیں جس میں مسٹک گم اور دیگر قدرتی اجزاء شامل ہوں۔
2. زبانی منہ کی صحت کو فروغ دیتا ہے۔
چیونگ مسٹک گم بحیرہ روم کی ثقافتوں میں ایک دیرینہ روایت رہی ہے، نہ صرف قدرتی سانس کی تازگی کے طور پر بلکہ زبانی حفظان صحت کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کے طور پر بھی۔ مسٹک گم کی اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات منہ میں نقصان دہ بیکٹیریا کی تعمیر کا مقابلہ کر سکتی ہیں، جو اکثر سانس کی بو، دانتوں کی خرابی اور مسوڑھوں کی بیماری کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ باقاعدگی سے استعمال تختی کی تشکیل کو کم کرنے، گہاوں کو روکنے اور صحت مند مسوڑھوں کو فروغ دینے میں مدد کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ مسٹک گم کی قدرتی ترکیب اسے مصنوعی مسوڑوں اور کیمیکل پر مبنی منہ کی دیکھ بھال کی مصنوعات کا بہترین متبادل بناتی ہے۔ اس کے صحت سے متعلق فوائد کے علاوہ، مسٹک گم چبانے کا عمل لعاب کی پیداوار کو تحریک دیتا ہے، جو منہ میں صحت مند پی ایچ توازن برقرار رکھنے اور خشک منہ کو روکنے کے لیے بہت ضروری ہے—ایک ایسی حالت جو زبانی صحت کے مختلف مسائل سے منسلک ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو اپنے منہ کی دیکھ بھال کے معمولات کو بہتر بنانے کا آسان طریقہ تلاش کرتے ہیں، یہ قدرتی مسٹک گم چیونگ پیک تلاش کرنے کے قابل ہے۔
3. دل کی صحت کو سپورٹ کرتا ہے۔
ابھرتی ہوئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مصطگی رومی قلبی صحت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے قابل ذکر فوائد میں سے ایک کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کی صلاحیت ہے، خاص طور پر کم کثافت لیپو پروٹین (LDL)، جسے اکثر “خراب کولیسٹرول” کہا جاتا ہے۔ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی اعلی سطح ایتھروسکلروسیس کے لیے ایک بڑا خطرہ عنصر ہے، ایسی حالت جہاں شریانیں چربی کے ذخائر سے بھر جاتی ہیں۔ مسٹک گم کی اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات جسم میں آکسیڈیٹیو تناؤ کو کم کرنے میں مدد کرتی ہیں، جو دل کی بیماری سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ مزید برآں، اس کے سوزش کے اثرات خون کی نالیوں کے کام کو بہتر بنا سکتے ہیں، خون کے بہتر بہاؤ کو یقینی بناتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ دل کی صحت مند غذا اور طرز زندگی میں مصطگی کو شامل کرنے سے، افراد طویل مدت تک اپنے قلبی نظام کی بہتر حفاظت کر سکتے ہیں۔
4. جگر کی صحت میں مددگار
جگر ایک اہم عضو ہے جو جسم کو detoxify کرنے، غذائی اجزاء کو میٹابولائز کرنے اور ضروری پروٹین پیدا کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ ماسٹک گم نے جگر کی صحت کو بڑھانے کے لیے جگر کے انزائمز کو کم کرکے وعدہ دکھایا ہے، جو اکثر جگر کے نقصان یا تناؤ کے نشانات ہوتے ہیں۔ یہ رال کے اینٹی آکسیڈینٹ مرکبات آکسیڈیٹیو نقصان سے لڑنے میں مدد کرتے ہیں، جگر کے خلیوں کو آزاد ریڈیکلز کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچاتے ہیں۔ مزید برآں، ابتدائی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ مسٹک گم جگر کی زہریلے مادوں پر عمل کرنے اور اسے ختم کرنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے، اس طرح اس کے مجموعی کام کو بہتر بنا سکتا ہے۔ ماحولیاتی زہریلے مادوں، الکوحل، یا غیر صحت بخش غذاؤں کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے، مسٹک گم جگر کی بہترین صحت کو برقرار رکھنے میں ایک اضافی قدرتی امداد کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
5. سوزش کی خصوصیات Anti-Inflammatory Properties
دائمی سوزش صحت کی بہت سی سنگین حالتوں میں کلیدی معاون ہے، بشمول گٹھیا، ذیابیطس، دل کی بیماری، اور کینسر کی بعض اقسام۔ مسٹک گم میں بایو ایکٹیو مرکبات ہوتے ہیں جن میں طاقتور سوزش کی خصوصیات ہوتی ہیں جو پورے جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ یہ مرکبات سوزش کے حامی سائٹوکائنز اور انزائمز کی پیداوار کو روک کر کام کرتے ہیں، جو اشتعال انگیز ردعمل کو متحرک کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ یہ ماسٹک گم کو شدید اور دائمی دونوں صورتوں میں سوزش کے حالات کے انتظام کے لیے ایک ممکنہ علاج کا ایجنٹ بناتا ہے۔ جوڑوں کے درد، خود کار قوت مدافعت کی خرابی، یا میٹابولک سنڈروم والے افراد کے لیے، ان کی تندرستی کے معمولات میں مسٹک گم کو شامل کرنا اہم راحت فراہم کر سکتا ہے اور دائمی سوزش سے منسلک طویل مدتی صحت کے خطرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
6. جلد کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
مصطگی کے فوائد اندرونی صحت اور سکن کیئر تک پھیلے ہوئے ہیں، جو اسے جدید بیوٹی پروڈکٹس میں ایک مقبول جزو بناتے ہیں۔ اس کی جراثیم کش اور اینٹی سوزش خصوصیات کی بدولت، مسٹک گم جلد کے عام مسائل جیسے مہاسوں، لالی اور جلن کو مؤثر طریقے سے حل کر سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیبم کی پیداوار کو منظم کرتا ہے، جو بند سوراخوں کو روک سکتا ہے اور بریک آؤٹ کی موجودگی کو کم کر سکتا ہے۔ مزید برآں، مسٹک گم کی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات جلد کو ماحولیاتی دباؤ جیسے آلودگی اور الٹرا وائلٹ UV شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد کرتی ہیں۔ روایتی علاج میں اکثر مسٹک گم کا تیل براہ راست زخموں یا جلن والی جگہوں پر لگانا شامل ہے تاکہ شفا یابی کو فروغ دیا جا سکے اور داغ کو کم کیا جا سکے۔ ان لوگوں کے لیے جو ایک صاف، چمکدار رنگت حاصل کرنا چاہتے ہیں، مصطگی ایک قدرتی اور جامع حل پیش کرتا ہے۔
7. وزن کے انتظام میں مدد کر سکتے ہیں۔
صحت مند وزن کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب غذائیت، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، اور متوازن میٹابولزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصطگی رومی (مسٹک گم ) ہاضمہ کی کارکردگی کو بہتر بنا کر اور سوزش کو کم کر کے وزن کے انتظام میں مدد کر سکتا ہے- دو عوامل جو میٹابولزم اور توانائی کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ آنتوں کی صحت کو سہارا دے کر اور ضروری غذائی اجزاء کے جذب کو فروغ دے کر، مسٹک گم افراد کو اعلیٰ توانائی کی سطح کو برقرار رکھنے اور غیر صحت بخش کھانے کی خواہش کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ مزید برآں، خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے میں اس کا ممکنہ کردار سپائیکس اور کریشوں کو روک سکتا ہے، جو اکثر زیادہ کھانے سے منسلک ہوتے ہیں۔ اگرچہ اسٹینڈ اکیلا حل نہیں ہے، لیکن ماسٹک گم وزن کے انتظام کے جامع منصوبے میں ایک قیمتی اضافہ ہو سکتا ہے۔
8. سانس کے مسائل میں مدد کرتا ہے۔
مستگی رومی روایتی طور پر سانس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، اور جدید تحقیق اس کی تاثیر کی توثیق کرنے لگی ہے۔ اس کی جراثیم کش خصوصیات اسے سانس کی نالی میں ہونے والے انفیکشن جیسے برونکائٹس، سائنوسائٹس اور گلے کی سوزش کا قدرتی علاج بناتی ہیں۔ مسٹک گم چبانے یا اسے کیپسول کی شکل میں استعمال کرنے سے بلغم کے جمع ہونے کو صاف کرنے، ایئر ویز میں سوزش کو کم کرنے اور کھانسی اور بھیڑ کی علامات کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ موسمی الرجی یا سانس کی دائمی حالتوں سے نمٹنے والے افراد کے لیے، مسٹک گم سانس لینے اور پھیپھڑوں کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک تکمیلی علاج کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
9. مستگی رومی (مسٹک گم) کا استعمال کیسے کریں۔
مسٹک گم ایک ورسٹائل پروڈکٹ ہے جو مختلف شکلوں میں آتی ہے، بشمول کچی رال، کیپسول، پاؤڈر اور ضروری تیل۔ کچی رال چبانا ایک روایتی طریقہ ہے جو نہ صرف زبانی صحت کو فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ اس کے فعال مرکبات کو بتدریج خارج کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ کیپسول اور پاؤڈر ان لوگوں کے لیے آسان اختیارات ہیں جو صحت کے مخصوص خدشات جیسے کہ ہاضمہ یا قلبی مسائل کو نشانہ بناتے ہیں۔ مسٹک گم سے حاصل کردہ ضروری تیل جلد کی دیکھ بھال یا اروما تھراپی کے مقاصد کے لیے بنیادی طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بہترین نتائج کے لیے، معتبر ذرائع سے اعلیٰ معیار کی، خالص مسٹک گم مصنوعات کا انتخاب کرنا اور اپنے صحت کے اہداف کی بنیاد پر تجویز کردہ خوراکوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔
10. کیا کوئی ضمنی اثرات ہیں؟
مستگی گم عام طور پر زیادہ تر لوگ اچھی طرح سے برداشت کرتے ہیں، لیکن کچھ افراد کو ہلکے ضمنی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان میں معدے کی تکلیف شامل ہوسکتی ہے، جیسے اپھارہ یا متلی، خاص طور پر جب بڑی مقدار میں لیا جائے۔ الرجک رد عمل نایاب ہیں لیکن ممکن ہیں، خاص طور پر درختوں کی رال کے لیے حساسیت رکھنے والے افراد کے لیے۔ حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کے ساتھ ساتھ دائمی حالات کے لیے دوائیں لینے والی خواتین کو مسٹک گم استعمال کرنے سے پہلے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ان کی مخصوص صورت حال کے لیے محفوظ ہے۔ کسی بھی قدرتی ضمیمہ کی طرح، اعتدال اور مناسب رہنمائی منفی اثرات سے بچنے کی کلید ہے۔
نتیجہ
ہاضمہ کو بہتر بنانے اور دل کی صحت کو سہارا دینے سے لے کر جلد اور زبانی حفظان صحت کو بڑھانے تک، مسٹک گم بہت سے فوائد پیش کرتا ہے جو روایت اور سائنسی تحقیق دونوں میں گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ قدرتی علاج کے طور پر اس کی استعداد اسے کسی بھی فلاح و بہبود کے ٹول کٹ میں ایک قیمتی اضافہ بناتی ہے، جو کہ اکثر مصنوعی متبادلات سے منسلک ضمنی اثرات کے بغیر صحت کے مختلف خدشات کا حل فراہم کرتی ہے۔ چاہے آپ اپنی مجموعی صحت کو بڑھانا چاہتے ہو، صحت کے مخصوص مسائل کو حل کرنا چاہتے ہو، یا اپنے طرز زندگی کو بہتر بنانے کے قدرتی طریقے تلاش کرنا چاہتے ہو، مسٹک گم وہ پوشیدہ جواہر ہو سکتا ہے جس کی آپ تلاش کر رہے ہیں۔ اس کی بھرپور تاریخ اور ثابت شدہ افادیت کے ساتھ، یہ بحیرہ روم کے اس قدیم خزانے کی قابل ذکر صلاحیت کو قبول کرنے کا وقت ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بحق آل یاسین اے باری الہا
ماہ رجب المرجب کا آغا، ہو چکا ہے اور یہ ماہ متبرک دعاؤں اور عباتوں کے لئے مختص ہے اور زیادہ معصومین کی ولادت اور امام موسی کاظم اور عقیلہ بنی ہاشم سلام اللہ علیہا کی شہادت بھی اسی ماہ میں ہے آج آپ کی زیب نظر آل یاسین اسما حسنی کے مطلق معلومات اور افادیت و آفاقیت پیش خدمت ہے۔۔۔۔۔۔
اے میرے پروردگار ۔ ۔ ۔
بحق آل یسین ۔ ۔ ۔
بحق اسما الحسنی ۔ ۔ ۔
بحق انا للہ و انا الیہ راجعون
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَد
کہ تو ان آیات کے صدقے میں میری زات میں تیری نسبت،تیری کھوئی گمشدہ معرفت، تیری گمشدہ قربت، مجھ میں ، تجھ سے گمشدہ تعلق، قربت، معراج عشق ومعرفت جو سب بھی کھو گیا ہے۔ ۔ ۔
جو پتہ ہے نہیں پتہ ہے سب واپس عطا فرما اور اسکے اہل ظرف بھی عطا فرما تاکہ تیرے کامیاب بندوں میں شامل ہو سکوں وہ کامیابی جسے امام علی علیہ السلام نے کامیابی کہا ۔ ۔ ۔
کہ تو کبھی بھی مانگنے والے کی التجا دعاوں اور فریاد کو رد نہیں کرتا اور تو سب سے زیادہ سننے والا سننے والا اور عطا کرنے والا ہے ۔ ۔ ۔
کہ جب بھی کچھ گمشدہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ انا للہ وانا الیہ راجعون کے پڑھنے سے ہمیں واپس مل جاتا ہے میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ مجھ سے تو کھو گیا ہے، مجھ سے تیری سمت اخلاص گم گیا ہے، تیری معرفت، تیری سمت طلبگاری اور تڑپ مجھ سے گم چکی ہے، میں خود گم گیا ہوں اور تجھے بھی کھو بیٹھا ہوں، تو میری مدد فرما کہ خود کو تجھ کو واپس پاسکوں مکمل اخلاص، معرفت، عشق ،کی معراج کیساتھ تجھے پاسکوں کہ جس نے تجھے پایا اس نے کیا کھویا اور جس نے تجھے کھویا اس نے کیا پایا بحق معصومین ع میری التجا کو قبول فرما ان ساعتوں میں دوجھاں کے ہر پل یر گھڑی ہر لمحے ہر جدوجھد ہر سانس ہر راستے ہر منزل کے لیے تجھے پانے ایا ہوں، مجھ سے تیری قربت کا رزق، اس کی تڑپ، تجھ سے جدائی کا درد کھو گیا ہے مجھے میری پستی کیمطابق نہیں تیرے شایان شان عطا فرما کہ میری ظرفیت میری زات میں میری شرح صدر مجھ سے کھو چکی ہے سو مجھ کو عطا فرما جو سب تیری قربت عشق ساتھ اخلاص کی راہ میں مجھ سے کھو چکا ہے ۔ ۔ ۔
فقط تیرا غلام ۔ ۔ ۔
کہ جس سے تیری بندگی اور تیرے سامنے فقر و بے بسی کا رزق کھو گیا ہے ۔ ۔ ۔
میں اپنی زات کی ہر پستی , کمزوری ، درد ، رنج و الم ، ہر زرے زرے کو ظاہر و و باطن سمیت تیرے سپرد کرتا ہوں کہ میں خود کو سنبھال نہیں سکتا ہوں ، اور تیری قربت ،ساتھ اور دوجہاں کے ہر ہر پل میں تیری رحمت ،نگاہ کریمی ،تیری محبت ،لطف و احسان کا محتاج ہوں مجھے تیری ضرورت ہے کہ تو مجھے سنبھال لے کہ میں خود کو سنبھال تک بھی نہیں سکتا بحق اسما الحسنی ،بحق آل یسین ، بحق محمد صلی اللہ و علیہ و آل وسلم مجھ سمیت میرے ہر رشتے ہر اپنے کو تیرے سپرد کرتا ہوں کہ پل پل خود سے کھو جاتا ہوں میں پس مئرے قلب کو عرش رحمن بنا اور مجھے خالص عبد رحمن ، عاشق خدا عاشق قران و اہلیبیت علیہ السلام بنا کہ میری زات تیری بندگی و عشق و قربت کی مظہر ہو میرا باطن تیرے ساتھ اور تیری قربت و عشق کی کائنات ہو مجھے میرے ہر اپنے سمیت ہر اس شے سے دور کر دے ہر اس پستی سے دور کردے کہ جو ہمیں تجھ سے دور کردینے والی ہو ہمارے دھیان و توجہ و وجود کے زرے زرے کو تیری بندگی ،عبادت ،زکر ،اخلاص کا بحر کردے ویسا کردے ویسا بنادے جیسا کہ تو چاہتا ہے ۔ ۔ ۔
تیرے جواب کا منتظر ۔ ۔ ۔
فقط تیرا۔ ۔ ۔
یہ تیرے ہونے کا شرف کھو گیا ہے ۔ ۔ ۔
تو عطا کر اپنی شان کریمی سے اور اس قابل کر کے تیری بندگی کی معراج تک پہنچ سکوں تیرا ہو جاوں ۔ ۔ ۔
کہ بیشک تو طلب کرنے والے کو عطا کرتا ہے اور دعاوں کا سننے والا اور التجاوں کو پورا کرنے والا ہے ۔ ۔ ۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَد
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
معاشرتی زنجیریں اور اخلاقی قدریں
ہم مرد زن ایک ایسی زنجیر میں بندھے ہوے معاشرے میں جی رہے ہیں جس میں حرص سماجی برائی کے علاوہ بہت سی اور نا قابل بیان چیزوں ذکرسنانا بھی پسند کرتے اور تنقید کرنا اپنا اولین فرض عین جانتے ہیں فائزہ نقوی کی اس تحریر میں بھی کچھ ایسی ہی گفتگو شامل ہے۔۔۔۔۔
“ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے اور قبائل سے ہے جدھر اختلاف رکھو تو بد تمیزی ، سچ بولو تو بے ادبی اور کچھ نہ بولو تو منافقت ۔ ۔ ۔”
اگر ہم مکمل سچائی سے غور کریں کہ ہم جو بھی کہتے بولتے ہیں سوچتے ہیں ۔ ۔ ۔
اس سب میں ہماری سوچ میں دوسرے کی تحقیر، کمتر ثابت کرنا، خود کی برتری ثابت کرنا نہیں ہم اس بات کو سمجھ پا رہے ہوں یا نہ سمجھ رہے ہوں ۔ ۔ ۔
پھر ہمارا لہجہ، بات کرنے، کہنے کاانداز، الفاظ کا چناو ، اور جسمانی اشاروں کی حد سے زیادہ بد تمیزی والی ہوتی ہے، بے ادبی سے جڑی ہوتی ہے،
سو تینوں باتوں کو جب ہم بیان کر رہے ہوتے ہیں یعنی اختلاف رائے، سچائی بیان کرنا، یا چپ رہنا ( کہ جہاں چپ رہنا واقعی بے ادبی ہوتا ہے)
اس سب میں تمیز یا آداب کے لحاظ اور اخلاقی انداز کو ملحوظ خاطر رکھتے نہیں کہتے جسکے باعث مزید قلبی، فکری دوریاں جنم لیتی ہیں، انا پرورش پاتی ہے اور ادب و اخلاص و اخلاقیات کی باطنی و معنوی پستی پہ ہم پوری شان و شوکت سے استادہ دکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ ۔
حتی آپ کبھی تاثرات یا خیالات جو ہم ظاہر کرتے ہیں، کسی سے مذاق یا مزاح کے نام پہ جسطرح کا رویہ اور اخلاقیات برتتے ہیں، نوے فی صد سے زیادہ بد تمیزی دوسرے کی توہین، انسان مذاق، یا مزاح یا اپنے مسخرےاور چلبلے پن کے باعث کرتے ہیں اور اگر کوئی ہماری گفتگو کے دوران کچھ غیر متوقع طور پر سمجھانے کو آجائے تو اسکی توہین یہ کہ کر بھی کر دیتے ہیں کہ آپ سے بات نہیں کی اور اس بات کو بھی بیان کرتے ہوئے تمیز، ادب، لحاظ، لہجہ، اخلاق ہمارے خاندانی اخلاق کی ترجمانی کرتا ہے ۔ ۔ ۔
کیونکہ عام طور ہم جو بھی کہہ رہے ہوتے ہیں اسکا ھدف دوسرے کو درست کرنے کی بجائے اسکی توہین کرنا اور اسکی عزت نفس مجروح کرنا ہوتا ہے اب یہ ہم شعوری طور پہ کر رہے ہوں یا نادانستگی سے لیکن ہمارا عمومی رویہ دوسرے کی مخلصانہ اصلاح کم اور دوسرے کو اوقات دکھانا، اوقات پہ رکھنا، وہ تو مستحق ہی اس شے کا ہے، خود کو سمجھتا کیا ہے، جیسے احساس سے مزین ہمارا اندرونی ماحول ہوتا ہے،
جس سے بنیادی نقصان آپ اپنے اپکا کرتے ہیں کیونکہ آپ خود کووہ جوھڑ بنا رہے ہیں جس کا کام گندگی دوسرے کے منہ پہ مل دینا ہوتا ہے اور بدبو و تعفن سے اپنا اپ تو بدبودار و تعفن زدہ ہوتا ہی ہے پر گردونواح کا بھی یہی حشر کر دیا جاتا ہے اور پھر اس سب کے ردعمل کے طور پر بدتمیزی، بد لحاظی، بد اخلاقی کی نہ ختم ہونے والی زنجیر گھر، دفتر، بازار، گلی کوچہ، عبادت خانہ، قہوہ خانہ، کتب خانہ مدرسہ یا گردو نواح میں آپ بخوبی مشاہدہ کر سکتے ہیں، اس بد اخلاقی، ریاکاری، دکھاوے، بد لحاظی و بے ادبی کی زنجیر کو اخلاص، ادب، عزت، قدردانی، احساس کی چھوٹی چھوٹی ضرب تقسیم کی مدد سےتوڑے بنا آپ کبھی اجتماعی اور سماجی اخلاقی حرص کا ماحول نہیں بدل سکتے ۔ ۔ ۔
اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا ایک دوسرا زاویہ ہوتا ہے دیکھنے کا یہ ایسے ہی جیسے ایک منظر کو کوئی چھت پہ جا کر دیکھ رہا ہے، کوئی خود اس منظر کے بیچ میں کھڑا ہے، کوئی اس منظر کو کسی نکڑ سے دیکھ رہا ہے، کسی نے بس ایک چمک دیکھی، تو کسی نے مکمل ہر رخ سے اس کی جانچ پڑتال کی، اب سچ تو سب کے پاس تھا لیکن مکمل سچ کس کے پاس تھا یہ کوئی نہیں سمجھ سکا ہر کسی نے اپنے دیکھے سچ کو حقیقت مان کر، اسی کیمطابق جنگ کا اعلان کیا بہ نسبت اس کے کہ وہ سچ جاننے کی کوشش کرتا اس نے اختلاف کو وجہ دشمنی بنا لیا اور ایک تعصب، حقارت و نفرت کو دوسرے کی نسبت زہن میں رکھ لیا جو کہ درست روش نہ تھی ۔ ۔ ۔
بلکہ ۔ ۔ ۔
اگر ہر کوئی اپنے اپنے سچ کو، سچ تک پہنچنے کے واسطے سامنے رکھتا سب ملکر ایکدوسرے کے سچ جو تجزیہ کرتے تو علم، سمجھ، بصیرت ،عقل، میعارات کی درست شکل، حقیقی و عقلی رخ تک پہنچ پانا آسان ہو جاتا پر سب اپنے سچ کو مٹھی میں بھر کے لڑنے کو تیار ہوتے ہیں مکمل رخ دیکھنے کی سمت، اپنی اصلاح، اپنی زات کی تصحیح نہیں کرنا چاہتے، ہم بہت بے صبرے اور چرب زبان ہوجاتے ہیں جب چوٹ اختلاف کی پڑے، اخلاق کی، اخلاص کی، یا کسی بھی شے کی ۔ ۔ ۔
اگر اپنے اخلاق کا پچھلے چند گھنٹے، چند دن، چند ماہ کے اخلاق کا کا خود ہی خود جائزہ لیں کہ کس لہجے، آواز، انداز، زبان، رفتار احساس و فکر سے آپ نے کسی اپنے، غیر، گھر والے باہر والے ، کو مخاطب کیا تو خود ہی سمجھ آجائے گی کہ ہم اس بد اخلاقی کی زنجیر کو تعمیر کرنے والے ہیں یا کہ اسے توڑنے والے ۔ ۔ ۔
اور اگر آپ اسکی جگہ ہوتے تو کیا محسوس کرتے ۔ ۔ ۔!!! آپ کی آرا کا منتظر ہوں گے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سلام علی آل یاسین (سلام علی آل یاسین)
Translate can make mistakes, so verify translations
Have you ever pondered over this verse while reciting Surah As-Saffat?
Peace be upon Yaseen
(As-Saffat: 130)
Who are these “Il-Yasin” upon whom Allah Himself is sending greetings?
And in Surah Al-Ahzab, He commands all believers to also send greetings and blessings:
Indeed, Allah and his family send prayers and peace upon the Prophet.
Indeed, Allah and His angels send blessings upon the Prophet. O you who believe! Send blessings upon him as is due.
(Al-Ahzab: 56)
Friends!
When I came to this verse, my mind immediately went to the pilgrimage of the family of Yasin.
This visit is not just a greeting, but a complete introduction to the beings with whom a person will essentially be connected after death.
In the Ziarat-e-Aale-e-Yasin, we have also been shown the places where the help of Aale-e-Yasin is in dire need.
And death is true
And the truth
And I testified that the publication is true
And the sending is true
And the path is right
And al-Mirsad is right
And al-Mizan is right
And al-Hashr is right
And Al-Hisab is true
And Paradise and Fire are true
These are the difficult stages that every human being has to go through.
And there is wisdom in the hadith of the Messenger of God (ﷺ):
Al-Haqq is with Ali and Al-Haq is with Al-Haqq.
Truth is with Ali (a.s.) and Ali (a.s.) is with Truth.
(Sea of Lights)
For the truthfulness of the Prophet’s words, it is necessary that Ali be present at all these stages because Ali is with the truth and all these stages are the truth.
Friends!
When the body of someone who recited the Ziyarat of Aal Yas in life is lowered into the grave
If the deceased is shaken by the shoulder and the same words are repeated one last time, then in reality he is being told where he will meet Ali (AS) now.
For example, it is said in the exhortation:
And death is true
Death is right.
And the Quran also declares:
The whole soul tastes death
Every soul must taste death.
(Aal-e-Imran: 185)
Then the admonition says:
And the question is a denial and a denial of the truth.
The question of Munkar and Nakir is correct.
At this point, the Quran gives good news to the believers:
Allah establishes those who believe in the saying of the firm in the life of this world and in the Hereafter.
Allah makes the believers steadfast in this world and in the Hereafter.
(Ibrahim: 27)
Then the admonition reminds us:
And the sending is true
And al-Hashr is right
Resurrection and Resurrection are true.
The Quran says:
Then you will die after that and then you will be sent on the Day of Resurrection.
Then after that you will die, then you will be resurrected on the Day of Resurrection.
(Al-Mu’minun: 15–16)
Then comes:
And the accounting is right
And the scale is right
The account and balance are correct.
The Quran says:
And we set up the equal installments for the Day of Resurrection.
We will establish the scales of justice on the Day of Judgment.
(Al-Anbiya: 47)
Imam Muhammad Baqir (a.s.), a member of the family of Yasin, says:
Nahn al-Mizan
We are the balance.
(Sea of Lights)
Then comes the most delicate stage of exhortation:
And the path is right
The path is right.
The Quran declares:
and if any of you
Each of you has to go through this.
(Maryam: 71)
Imam Jafar Sadiq (a.s.) says:
The path is above and its knowledge.
The name of the path of Ali (a.s.) and his knowledge is
(Qummi interpretation)
And that is why the Messenger of God (ﷺ) said:
Who died for the love of the family of Muhammad died as a martyr
He who died for the love of the family of Muhammad (PBUH) died a martyr.
(Sea of Lights)
Friends!
This is love in the grave
In the end
On the scale
And it will work on the path.
Therefore, never forget to recite Ziyarat-e-Aal-e-Yasin daily.
This is not just a pilgrimage, it is training, preparation.
It’s practice.
So that man understands:
If I remain connected to the family of Yasin in this world
So in these difficult stages after death
Where man will be completely alone
The same family of Yasin will be there to help.
All these paths are right.
And Ali (a.s.) is with the truth.
Friends!
Connect with Ali (AS) today.
Come under the umbrella of the province.
So Ali (a.s.) and the family of Yasin will be with you in these difficult times as a helper.
And if
God forbid.
Remain indifferent to Ali (a.s.).
And Ali’s relationship with others
So you won’t be able to go through these difficult stages.
You will be badly stuck.
Peace be upon Yaseen
My job was just to convey this message.
It is your own decision to believe or not:
Because
There is no aversion to religion
There is no compulsion in religion.
(Al-Baqarah: 256)
And we have nothing but the clear message.
Adeeb Ahsan Syed✍️
………………..
ہماری محتاجی ہی ہماری کامیابی اور ساتھیوں کی حیات اور
دنیا کا کوئی بھی کام امداد کے بنا نہیں ہو سکتا ہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں
کچھ نقصان دینے والے کام جن کے فائدے مثبت ہیں ایسے کام جو بظاہر “الٹے” لگتے ہیں، لیکن ان کے نتائج ہمیشہ ” سیدھے” اور مثبت نکلتے ہیں۔ ان کو “زندگی کے ضرورت” بھی کہا جاتا ہے۔
1. زیادہ پانے کے لیے، بانٹنا شروع کر دیں
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس دولت، عزت یا علم بڑھے، تو اسے جمع کرنے کی بجائے بانٹنا شروع کریں۔ کنواں جتنا پانی دیتا ہے، اتنا ہی تازہ پانی اس میں واپس آتا ہے۔
2. سنے جانے کے لیے، سننا شروع کریں
اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی بات غور سے سنیں، تو پہلے آپ ان کی بات پوری توجہ سے سننا شروع کریں۔ اچھا سامع ہی بہترین مقرر ہوتا ہے۔
3. قابو پانے کے لیے، چھوڑنا سیکھیں
لوگوں اور حالات کو جتنا کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گے، وہ اتنا ہی ہاتھ سے نکلیں گے۔ انہیں آزاد چھوڑ دیں، چیزیں خود بخود آپ کے حق میں بہتر ہو جائیں گی۔
4. تیزی کے لیے، آہستہ ہو جائیں
جلد بازی ہمیشہ کام خراب کرتی ہے اور وقت زیادہ لگتا ہے۔ “آہستہ چلنا” دراصل “مسلسل چلنا” ہے، اور یہی سب سے تیز رفتار ہے۔
5. خوشی کے لیے، غم کو قبول کریں
خوشی کے پیچھے بھاگنا بند کریں اور اپنے دکھوں کو قبول کر لیں۔ جب آپ غم سے لڑنا چھوڑ دیتے ہیں، تو سکون خود بخود آ جاتا ہے۔
6. سیکھنے کے لیے، جاہل بن جائیں
اگر آپ خود کو عقلِ کل سمجھیں گے تو کچھ نیا نہیں سیکھ پائیں گے۔ مان لیں کہ “میں کچھ نہیں جانتا”، تبھی علم کے دروازے کھلیں گے۔
7. آرام کے لیے، جسم کو تھکائیں
اگر آپ ذہنی سکون اور اچھی نیند چاہتے ہیں، تو جسم کو مشقت اور ورزش میں تھکانا پڑتا ہے۔ بیٹھے رہنے سے تھکاوٹ بڑھتی ہے، کام کرنے سے انرجی ملتی ہے۔
8. محفوظ رہنے کے لیے، خطرہ مول لیں
سب سے زیادہ غیر محفوظ جگہ “کمفرٹ زون” ہے۔ ترقی اور اصل تحفظ صرف رسک لینے اور نامعلوم سمندر میں کودنے میں ہے۔
9. پسند کیے جانے کے لیے، متاثر کرنا چھوڑ دیں
دوسروں کو مرغوب یا دکھاوے خودنمائی کرنے کی کوشش بند کر دیں۔ جب آپ اپنی اصلی حالت میں رہتے ہیں اور بناوٹ نہیں کرتے، تب لوگ آپ کو پسند کرتے ہیں۔
10. کامیابی کے لیے، ناکامی کو گلے لگائیں
ناکامی سے بچنے کی کوشش ہی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ جتنی زیادہ ناکامیاں ہوں گی، کامیابی کا راستہ اتنا ہی صاف اور پکا ہوگا۔
11. لیڈر بننے کے لیے، خادم بنیں
حکم چلانے سے کوئی لیڈر نہیں بنتا۔ دوسروں کی خدمت اور مدد کرنے والا ہی اصل میں لوگوں کے دلوں پر راج کرتا ہے۔
12. پانے کے لیے، کھونا پڑتا ہے
کچھ نیا حاصل کرنے کے لیے پرانی چیزوں، پرانی عادتوں اور پرانے دوستوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہاتھ خالی ہوں گے تبھی ان میں کچھ نیا تھاما جا سکے گا۔
13. جڑنے کے لیے، تنہا ہو جائیں
اگر آپ دنیا سے گہرا تعلق بنانا چاہتے ہیں، تو کچھ وقت تنہائی میں گزاریں۔ جو خود کو جان لیتا ہے، وہ پوری کائنات کو سمجھ لیتا ہے۔
14. زندگی کے لیے، موت کو یاد رکھیں
زندگی کا بھرپور مزہ تب آتا ہے جب انسان کو احساس ہو کہ یہ وقت محدود ہے۔ موت کی یاد انسان کو زندہ دل بناتی ہے۔
15. بڑا بننے کے لیے، چھوٹا بن جائیں
عاجزی اختیار کریں۔ جو درخت جھکتا ہے، وہی پھل دیتا ہے اور آندھیوں سے بچا رہتا ہے۔ اکڑ صرف مردے کی پہچان ہے۔
اس مضمون کو تیار کرنے میں کتابی چہرہ سے مدد حاصل کی گئی احباب کی رائے کا انتظار رہے گا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
شیر مادر اک معجزہ
دوسری قسط
آج کی سائنس نے اللہ کے شاہکار کو قبول کر لیا
ماں کا دودھ : ایک زندہ معجزہ اور اللہ کا شاہکار جس نے سائنس کو حیران کرڈالا
کیٹی ہِنڈے نامی امریکی سائنس دان ایک لیبارٹری میں کھڑی تھی۔ اس کے سامنے بندر یاکے دودھ کے نمونوں کا ڈیٹا پھیلا تھا اور وہ حیران کھڑی دیکھ رہی تھی۔ جن ماؤں کے بیٹے تھے، ان کے دودھ میں چکنائی اور پروٹین زیادہ تھا۔ جن ماؤں کی بیٹیاں تھیں، ان کا دودھ زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا تھا، لیکن اس کے اجزاء مختلف تھے۔یعنی دودھ ایک ہی نہیں تھا۔ وہ بچے کی جنس کے مطابق تیار ہو رہا تھا۔ جب یہ بات اس نے اپنے مرد کولیگز کو بتائی تو انہوں نے ہنسی میں اڑاتے ہوئے کہا کہ بس اتفاق ہوگا، پیمائش غلط ہوگئی ہوگی، اس میں ایسی کوئی خاص بات نہیں۔ مگر کیٹی کی تسلی نہ ہوئی اس نے نتائج کو نظر انداز نہیں کیا کیونکہ وہ بتارہے تھے کہ دودھ صرف خوراک نہیں ایک معجزہ اور قدرت کا پیغام ہے۔ کیٹی نے مزید دو سو پچاس ماؤں اور سات سو سے زیادہ نمونوں کا تجزیہ کیا۔ پھر ایک اور حیران کردینے والی بات سامنے آئی۔ نئی، نوجوان مائیں کم کیلوریز کا دودھ بناتی تھیں۔مگر اسی دودھ میں کارٹیسول بہت زیادہ ہوتا تھا۔ ایسے دودھ پینے والے بچے تیزی سے بڑھتے تھے۔مگر زیادہ چوکنّے، بےچین اور کم پُراعتماد ہوتے تھے۔یعنی دودھ صرف جسم نہیں بچے کی شخصیت تک بنا رہا تھا۔تیسری ناقابلِ یقین بات جو سامنے آئی کہ جب بچہ دودھ پیتا ہے تو اس کے منہ کا تھوڑا سا لعاب ماں کے جسم میں واپس جاتا ہےاور وہ لعاب ماں کو بتاتا ہے کہ بچہ بیمار ہے یا نہیں۔ اگر بچے میں کوئی انفیکشن ہو تو ماں کے دکھائی نہ دینے والے نظام فوراً متحرک ہو جاتے ۔ دودھ میں مخصوص اینٹی باڈیز چند گھنٹوں میں پیدا ہونا شروع ہوجاتی ۔ جیسے ہی بچہ ٹھیک ہوتا،سب کچھ واپس نارمل ہوجاتا۔ اسکے علاوہ حیرتوں کا ایک جہان کھلا کہ دن کے مختلف وقتوں میں دودھ کی ساخت بدلتی ہے۔صبح کے دودھ میں چکنائی سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ پلاتے وقت شروع کا دودھ اور آخر کا دودھ مختلف ہوتا ہے۔ انسانی دودھ میں دو سو سے زیادہ ایسے شوگر مالیکیولز ہوتے ہیں جنہیں بچہ ہضم نہیں کرتا وہ صرف آنتوں کے اچھے بیکٹیریا کو خوراک دیتے ہیں۔ گویا یہ محض خوراک نہیں تھی۔ یہ ماں اور اولاد کے درمیان ایک حیاتیاتی گفتگو تھی جسے سائنس صدیوں تک دیکھ نہ سکی۔کیٹی ہِنڈے نے دودھ کا مطالعہ نہیں کیاانہوں نے وہ سچائی آشکار کی جو صدیوں سے پوشیدہ تھی۔ یہ صرف غذا نہیں بلکہ زمین کا سب سے ذہین، زندہ، مواصلاتی نظام تھا۔
امام علی علیہ السلام کا مشہور واقعہ کہ دو بچے ایک ہی ساتھ مولود ہوئے ایک خاتوں کے پسر اور دوسری کے دختر۔۔۔۔ جس کے ہاں دختر کہ پیدائش ہوئی اس نے دعوی کیا کہ میرا بچہ بدل گیا ہے مین نے پسر کو جنم دیا ہے لہذا یہ بچی میری نہیں ہے معاملہ عدالت امام علی علیہ السلام مسجد کوفہ مین لایا گیا مولا نے قران سے فیصلہ کیا دونوں خوانین کا شیر مادر بوتل میں منگایا اور دونوں کا وزن کیا گیا اور معلوم کیا کہ کونسا دودھ بھاری ہے جو دودھ بھاری ہے عورت کا پسر اس کا ہے اور جو وزن میں دودھ کم ہے دختر اس خاتون کو دے دی اصرار کرنے پر مولا نے فرمایا کہ مین نے یہ فیصلہ قران کریم سے کیا گیا ہے پوچھا گیا کیسے فرمایا کہ قرآن نے قانون وارثت کی تشریح کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ مرد کا حصہ خاتون کے حصہ سے دوگنا ہے لہذا جس عورت کا شیر وزنی ہے اس کا لڑکا ہے اور جس کا وزن مین کم اس کی لڑکی ہے اللہ نے مادر کے دودھ مین بھی نر اور مادہ کی پہچان رکھی ہے
قدرت نے بچے کے لئے ایک بیش قیمت سسٹم تیار کر رکھا ہے ۔کیا بچے کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی جب اسے ڈبے کے دودھ پر لگا دیا جاتا ہے؟ آپ کے خیال میں بچے کو فارمولا ملک دینا کیسا ہے؟
………………………..
شادی کا موسم اور ہماری ریت
شادی پر سج دھج گھر لازم ملزوم
آج کل شادیوں میں سج دھج کا کاروبار اور زور شور سے تیار ہونے کا رواج عام ہے اور ضروریات حیات بلکہ یہ بھی باقاعدہ ضروری ہو گیا ہے کہ شادی پہ کی سچ دھج کے لئے لازمی تیار ہونا ہوتا ہے ورنہ آپ جتنا مرضی اچھا جوڑا پہن لیں بات نہیں بنے گی اور بات بھی سچ ہے کہ اگر اچھے کپڑے پہن کر اچھے بال نہ سنوارئے جائیں یا میک اپ سلیقے سے نہ ہوا ہو تو نمایاں دکھنا بہت مشکل ہے ۔
اکثر خواتین پارلر سے ہیئر سٹائل بنوا لیتی ہیں اور میک اپ گھر پہ کر لیتی ہیں کچھ صرف بیس بنوا لیتی ہیں اور کچھ صرف آئی میک اپ
بہرحال آپ جو بھی کریں لیکن بت بن کر پارلر والی کے سامنے نہ بیٹھ جائیں کوشش کریں کہ اپنے چہرے کے حساب سے اس کی رہنمائی کریں ۔مجھے یاد ہے جب میری منگنی تھی پارلر والی مجھے کہتی ہے آپ کو ماڈل میک اپ کرتی ہوں اسے پتہ نہیں کیا میرے پہ تجربہ کرنے کا خیال آیا اور انتہائ برا میک اپ کر دیا میں تو خیر مطمئن بھی نہیں تھی لیکن اب ٹائم بھی نہیں تھا کیونکہ منگنی کے لیے میرے شوہر اور ان کے عزیز و اقارب و دیگر رشتےدار پہنچ چکے تھے تو میں ایسے ہی گھر آ گئی گھر پہنچی تو میرے بھائی میری شکل دیکھ کہ اتنے پریشان ہوئے کہ یہ کیا پارلر والی نے تمہاری شکل بگاڑ دی ہے اس وقت میرا برا حال نہ میں منہ دھو سکتی تھی نہ کچھ پھر سارے منگنی کے فنکشن میں میں اپنا سر بہت نیچے کر کے بیٹھی رہی میرے میں بلکل چہرہ دکھانے کی ہمت ہی نہیں تھی اور نہ ہی یہ اعتبار کہ میں اوپر منہ کر لیتی تو کبھی کبھی پارلر والی بھی ایسی غلطیاں کر دیتی ہیں ۔
اس لیئے اپ اپنے چہرے کہ مطابق پارلر والی کو بتایا کریں کہ کسی طرح کے زلفیں سنوارئے اپ کو بھائے وہ کرئے ہے ۔ بعض خواتین کو ائی میک اپ بلکل نہین بھاتا بلکہ آنکھوں کے میک اپ سے ان کی انکھیں اور اندر کو دھنس جاتی ہیں ان باتوں کا خیال رکھا رکھنا لازم ہے
شادی پہ جوتے جس میں آپ آرام اور سہولت محسوس کریں پہنا کریں ورنہ اکثر خواتین نے تقریب کے اختتام پہ جوتے ہاتھ میں پکڑے ہوتے ہیں ۔کھسہ مجھے سب سے آرام دے جوتا لگتا ہے جس کی اٹھانے اور دیکھنے بھی ہے اور کبھی فیشن سے باہر بھی نہیں ہوتا۔
شکریہ آپ کی رائے کا منتظر
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
جان بوجھ کر یا بے خیالی
برطانیہ یورپ اور ایشیائی ممالک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے کئی نسلیں ناپید ہو چکی ہیں اور دوسری جانب فارم ہاوس کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے سبب ان نایاب نسلوں کو پالنے کی کوشش کی جا رہی ہے انسانی حیات میں بھی آہستہ آہستہ شرم حیا نایاب ہوتی جا رہی ہے ایشیائی ممالک کی بے حیائی کا سبب بھی نایاب نسلوں کے خاتمے اور غربت لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔
ہم نے پرندوں کے مسکن تباہ کر دیے ہیں ۔ اسی لیے آج وہ ہمارے پختہ گھروں کی دیواروں سے ٹکراتے پھرتے ہیں۔ درخت، جنگل، بیلے، کچے گھر اور مٹی کی دیواریں سب رفتہ رفتہ ختم کر دی گئیں تو پرندوں کے پاس آبادیوں کا رخ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔ جہاں انہیں دانہ یا پانی مل جائے، وہ وہیں کسی مصنوعی ماحول میں بھی اپنا ٹھکانہ بنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ شاید فاختہ کا انڈہ ہے، جسے کوئی محفوظ گوشہ نہ ملا تو اس نے میری رہائش گاہ کی بالائی منزل—جو اس وقت خالی پڑی ہے—کی کھڑکی کو ہی اپنا مسکن سمجھ لیا۔ پہلے پہل تو سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کروں۔ بچے اسے اٹھا کر اپنے پاس رکھنے کے خواہش مند تھے ، مگر میں نے اسے وہیں رہنے دیا۔ بہت سے معاملات فطرت ہم سے بہتر جانتی ہے؛ ہم جب ہم غیر ضروری مداخلت کرتے ہیں تو پورا نظام بگڑ جاتا ہے۔
میرا گھر چونکہ کشادہ ہے، درخت اور جھاڑیاں بھی خاصی ہیں، جنگلی گھاس جگہ جگہ اگی ہوئی ہے، اس لیے یہاں ایسے پرندے بھی دکھائی دیتے ہیں جو اب گاؤں دیہات کے گھروں میں بھی کم ہی نظر آتے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرغیوں اور بطخوں کے لیے دانہ اکثر مختلف جگہوں پر بکھرا رہتا ہے اور میں پانی کے برتن بھی کئی مقامات پر رکھتا ہوں۔ دانہ اور پانی پا کر پرندے خوش ہو جاتے ہیں، درختوں پر بیٹھ کر چہچہاتے ہیں، ان کی آوازیں سن کر مجھے لگتا ہے جیسے کسی بھولی بسری دنیا کی جھلک واپس آ گئی ہو۔
گاؤں کی یادوں میں سے ایک خوبصورت یاد پرندوں کی یہی چہچہاہٹ تھی۔ چھوٹے بڑے پرندے کبھی دیوار کی منڈیر پر، کبھی کسی پیڑ کی شاخ پر، اور کبھی ٹی وی کے انٹینے پر بیٹھے دکھائی دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے عام طوطوں کے چھوٹے چھوٹے غول فضا میں ٹیں ٹیں کرتے اڑتے اور بسا اوقات گھروں کی چھتوں پر بھی اتر آتے تھے۔ مگر آہ! اب تو زمانہ بیت گیا کہ کھلی فضا میں کوئی طوطا نظر آیا ہو ۔۔۔۔
پاکستان میں آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ، کنکریٹ کے جنگل ، درختوں کی بے دریغ کٹائی اور زرعی و شہری زمینوں پر تیزی سے قبضہ، پرندوں سے ان کا قدرتی گھر چھین چکا ہے۔ دوسری طرف شوقیہ اور تجارتی شکار نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے ۔ کچھ پرندے پنجرے کی زینت بنے، کچھ گولیوں کا نشانہ، اور کچھ آہستہ آہستہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔
کھیتوں میں بے تحاشا سپرے اور کیمیکلز کے استعمال نے فطرت کے توازن کو مزید بگاڑ دیا۔ کیڑے تو مارے گئے، مگر ان کے ساتھ وہ پرندے بھی ختم ہوتے چلے گئے جو انہی کیڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ زہریلے اسپرے دانے اور پانی کے ذریعے پرندوں کے جسم میں پہنچے، ان کی نسلیں کمزور ہوئیں، انڈے ضائع ہوئے، اور کئی نسلیں خاموشی سے ناپید ہوتی چلی گئیں۔
میرے گھر کی کھڑکی میں فاختہ کا یہ انڈہ ، دراصل فطرت کی خاموش فریاد ہے—کہ ابھی وقت ہے ۔۔۔۔ اگر ہم فطرت سے جنگ ختم کر کے مصالحت اختیار کر لیں تو پرندوں کے مسکن واپس ہو سکتے ہیں ۔ فطرت کی دل آویز نغمگی واپس ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بے تکے خیال اور الفاظ و تاثرات سے خالی آوازیں
نو جوان شاعر کے تاثرات اور آج کا رثائی ادب
یہ تحریر میثم کتابی چہرہ کی دیوار پر پائے گئے احباب کے نذر کر رہا ہوں ان کی ایس تنقید بہت کم پڑھنے کو ملتی ہے ایک عجب پہلو پر گفتگو کی ہے اور ثارئی ادب کس موڑ پر آ کر ٹھہر گیا ہے اور آج کل کے گوئیے اور گلے باز عجیب و غریب آوازیں نکال کر سر اور ٹال سے نا پیڈ نہ تو کسی استاد کے پاس محنت کی اور نہ ہی کوئی ریاض نامی مشقت مشق پر محنت کرنے کی تکلیف گوارہ کر کی زحمت بہر حال ایسے ہی سس ے والے اور ایسے ہی لکھنے والے بے استاد ہجوم پر تف ہی کیاجا سکتا ہے بے الفاظ کے بادشاہ کی جتنی زبانیں ویسے ہی بے تکے خیال اور محمد و آل محمد علیہم السلام کی بے حرمتی کی ذمہ ان ہی کے سر ہے میثم مہدی کی آواز آپ تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہو ملاحظ کیجئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکمل سید
میں کبھی فیسبک پر ایسی پوسٹس نہیں کرتا لیکن آج دل بہت مغموم ہُوا
فجر کو فجَر اور صبر کو صبَر باندھنے والوں کو بھی آج رثائی ادب میں استاد کہا جا رہا ہے
اگر ان کے کلام دیکھے جائیں تو قافیہ پیمائی کے علاوہ اور کچھ نہیں مِلتا (اور اس میں بھی بعض اوقات درست قوافی کا استعمال نہیں ہوتا)
اور سونے پر سہاگا یہ کہ ایسے لوگوں کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی جا رہی ہے
یار یہ کیا ہو رہا ہے؟
کیا شعر کہنا کوئی مذاق ہے؟
رثائی ادب کو کہاں لے جایا رہا ہے؟
جب ایسے لوگوں کو منظورِ نظر اور استاد کہا جائے گا تو پھر آنے والے نوحہ گو شعرا سے ہم کیا توقع رکھ سکے ہیں؟
جاری ہے رثائی ادب کے حوالے سے آپ کی آرا کا منتظر ہوں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ماضی اور حال کی شادی میں تحائف پیش کرنے کی روداد
شادی کی سلامی کا ڈبہ علاقائی وصولی کے علاقے کے بدلے ہوئے حالات کے مطابق پیش کاری
جیسے کل آپنے کالم میں تحریر کیا تھا کہ کتابی چہرہ کے سر ورق بھی بہت سے حالات و واقعات سے آگاہی دیتے ہیں آج کی اس تحریر کو بھی کچھ ایسے ہی احساس کے ساتھ دوستوں اور احباب کی خدمت مین حاضر کر رہا ہوں
کوئی عکس بس یونہی محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر اس کے پیچھے ایک تحریر چلی آتی ہے۔
شادی کا تحفہ یا سلامی ہر جگہ ہی ایک روایت ہے بس اسکا طریقہ کار اور شکلیں خطّے کے حساب سے بدل جاتی ہیں۔
پاکستان میں شادی کے تحفوں پہ میزبان کی طرف سے کوئی پابندی نہیں رکھی جاتی، وہاں یہ خاصا معیوب مانا جاتا ہے اور پچھلی دہائیوں میں تو اس کا تصور بھی نہیں تھا، اب تو کیونکہ دنیا سمٹتی جا رہی ہے تو اُدھر کے لوگوں نے بھی ادھر کی روایتیں اپنانا شروع کر دی ہیں اور کسی کسی کارڈ پہ
No box gifts please
کی عبارت لکھی نظر آ جاتی ہے جس پہ لوگ خاصا برا مناتے ہیں لیکن مغرب میں یہ بہُت عام سی بات ہے، لوگ بلا ضرورت سامان جمع کرنے کے بجائے بلا تکلف “تحفے کا ڈبہ نہیں” لکھ دیتے ہیں تاکہ مہمانوں کو تاکید ہو جائے کہ لفافہ ہی دینا ہے, ہماری کینیڈین برطانوی و پاکستانی کمیونیٹی میں کچھ لوگوں نے اس ریت کو اپنا لیا ہے اور کچھ اب بھی کارڈ پہ یہ عبارت لکھنا بے ادبی تصّور کرتے ہیں۔
ہماری یادوں میں پہلی سب سے قریبی شادی سب سے بڑے بھائی صاحب کی ہے۔
ہمیں یاد ہے کہ ہماری عمر بارہ سال کے لگ بھگ تھی ،جب بھائی صاحب کی سلامی کے لفافے کھلے تو کسی میں سے اکاون روپے نکلتے کسی میں ایک سو ایک، یہ بات اس وقت بھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ پچاس اور سو روپے کے سٹینڈرڈ نوٹوں کے ساتھ ایک روپیہ رکھنے کا کیا جواز تھا بس یہی جواب ملا کہ سلامی میں ایسا ہی کرتے ہیں، اب تو ایک روپے کے نوٹ عرصہ ہوا متروک ہو چُکے ہیں, پتہ نہیں اب بھی یہ روایت کسی چھوٹے نوٹ کے ساتھ قائم ہے یا نہیں۔
سب سے بڑا لفافہ اسوقت بھائی صاحب کے آفس سے آیا، یہ اُن کے گورے باس کی طرف سے تھا شاید جم نام تھا، ایک کارڈ کے اندر ہزار ہزار کے شاید دو نوٹ اسٹیپل تھے، نوے کی اول اول دہائی کے حساب سے یہ ایک بہُت بڑی رقم تھی۔ غالباً جم صاحب کو پاکستانی ایک روپے کی سلامی والی روایت کے بارے میں نہیں پتہ تھا ورنہ ایک روپے کا نوٹ بھی ضرور ساتھ رکھتے۔
کافی سارے گھروں میں یہ رواج بھی ہے کہ سلامی کی رقم ڈائری میں درج کی جاتی ہے، کچھ لوگ اس کی یہ وجہ بتاتے ہیں کہ یہ اس لیے کیا جاتا تھا کہ جب اُن کے گھر میں شادی ہو اور مہمان جایا جائے تو اتنی یا اس سے زیادہ رقم تحفتاً دی جائے۔
یہ بات نہ اسوقت سمجھ آئی اور نہ آج سمجھ آئی ہے۔ سلامی یا شادی کے تحفے کو تحفہ ہی رہنا چاہیے اسے قرض یا بوجھ سمجھ کے سنبھال سنبھال کے پھرنا ٹھیک نہیں اور پھر اتنی فرصت شاید پہلے تو پھر مل جاتی ہو لیکن اب کوئی کہاں شادی میں جانے سے پہلے ڈائریاں کھنگالتا پھرے۔ کسی کسی خطے کی یہ بھی ریت ہوتی ہے کہ سلامی وصول کرنے کے لیے تقریب میں ایک میز پہ ایک دو افراد کو مقرر کر دیا جاتا ہے جو باقاعدہ اسے نام کے ساتھ درج بھی کرتے جاتے ہیں۔
تحفہ یا خوشی کے موقعوں پہ پیسوں کا لین دین خالصتاً آدمی کی استطاعت اور خوشی کے مطابق ہونا چاہیے ۔ اکثر لوگ یہ جواز بھی دیتے ہیں کہ گھر کے ایک بچے کو شادی کے وقت جتنی رقم دی گئی ہو باقیوں کو بھی اُن کے وقت پہ اتنی ہی ملے، یہ بات بھی نامناسب ہے کیونکہ وقت اور حالات بدلتے رہتے ہیں، اگر اللہ نے آپ کو نوازا ہے اور پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہیں تو گزشتہ ریکارڈ کو قائم رکھنا بلکل بھی ضروری نہیں۔
کینیڈا میں شادی کی سلامی کا ایک مختلف حساب ہے
جو ہمیں بھی کافی عرصے بعد جا کے پتہ چلا، کیونکہ پاکستانی شادیوں کی نسبت یہاں جب شادی کا بلاوا آتا ہے تو “جواب سے مطلع فرمائیں” رسماً نہیں لکھا جاتا، اگر آپ شادی یا کسی اور تقریب میں بھی شریک ہونے سے قاصر ہیں تو میزبان کو پیشگی اطلاع دینا آپ کا فرض ہے ورنہ بلاوہ پا کے بتائیے بغیر تقریب میں شریک نہ ہونا بد اخلاقی گردانا جاتا ہے، اسی طرح اگر بلاوا آپ کا ہے اور کوئی مہمان آپ کے ہاں آ جائے تو بتائے بغیر اُسے اپنے ساتھ نتھی کر لینا بھی نامناسب ہے۔
مغرب میں ہماری طرح شادی کے موقعوں پہ خاندان کے خاندان نہیں مدعو کیے جاتے بلکہ بہُت قریبی رشتےداروں اور دوستوں کو شریک کیا جاتا ہے، سو دو سو لوگ بھی بہُت تصور کیے جاتے ہیں اسلیے دعوت کا اہتمام بھی اسی حساب سے کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں تو اتنے لوگ بچے کے عقیقے، آمین اور سالگرہ پہ ہی پورے ہو جاتے ہیں۔
یہاں مسئلہ یہ ہوا کہ انڈیا اور پاکستان سے آنے والے لوگوں نے اپنی روایتیں بھی قائم رکھیں اور یہاں کے رسم و رواج بھی اپنا لیے اور جو اہتمام یہاں مقامی لوگ شادیوں پہ سو لوگوں کا کیا کرتے تھے وہ ہمارے لوگوں کو پانچ سو اور آٹھ سو لوگوں کے لیے کرنا پڑا اور نقصان خربوزے کا ہی ہوا, خیر بات ہو رہی تھی سلامی کی تو یہاں یہ رواج ہے کہ جتنے لوگ شادی میں شریک ہو رہے ہوں اُن کے کھانے کے حساب سے یا تھوڑا بڑھا کے پیسے دیے جائیں، یعنی چار لوگ ہیں تو پچیس ڈالر کے حساب سے کچھ عرصہ پہلے تک سٹینڈرڈ سو ڈالر تھے لیکن یہ جب تھا جب پر ہیڈ چالیس ڈالر تک میں نمٹ جایا کرتا تھا، اب ایک عام ہال کا خرچہ بھی پر ہیڈ ساٹھ ڈالر کا ہے اور پھر بقیہ سجاوٹ اور کھانا الگ، مہنگائی نے ہر چیز کو متاثر کیا ہے تو اب لوگوں نے بھی مہمانوں کی لسٹ کچھ سمیٹ لی ہے اور مہنگائی کے پیشِ نظر ہی مہمانوں نے بھی پیسے حسبِ استطاعت بڑھا دیے ہیں۔
سلامی دینے کا انداز یہاں ذرا معتبر ہے، ہمارے ہاں امياں شادی والے دن خاص طور پہ بڑے پرس رکھا کرتی تھیں تاکہ لفافے سنبھالنا آسان رہے، اور پھر اس پرس کی نگرانی میز پہ بیٹھی اُن بزرگ خواتین کے حصے میں آتی تھی جن کا پوری تقریب میں میز سے اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا تھا، یہاں پہ سلامی کے لیے ایک سجا سجایا باکس رکھ دیا جاتا ہے جس کا منہ گلک نما ہوتا ہے، مہمان خاموشی سے آ کے ووٹ ڈالنے کے انداز میں لفافہ ڈال کے آ جاتے ہیں، یہ ڈبہ عموماً اسٹیج کے برابر ہی رکھا ہوتا ہے، چوکیداری پہ ویسے تو کوئی مامور نہیں ہوتا لیکن غالباً نظر میں سب ہی رکھتے ہوں گے اور سچی بات تو یہ ہے کہ اس سے متعلق کبھی کوئی نا خوشگوار واقعہ سننے میں بھی نہیں آیا۔
یہ “ویڈنگ منی باکس” طرح طرح سجا ہوا ملتا ہے، اسکا ایک فائدہ یہ ہے کہ امیوں کو بڑا پرس نہیں رکھنا پڑتا، دوسرا یہ کہ مہمانوں کو ہاتھ میں جا کے لفافہ نہیں پکڑانا پڑتا اور تیسرا یہ کہ میزبان چاہے لاکھ دل ہی دل میں لفافہ دیکھ کے مضمون کا متن مطلب وزن جاننے کی کوشش کر رہا ہو “ارے اسکی کیا ضرورت تھی” یا”ارے کیا کرتے ہیں آپ” جیسے رسمی اور بناوٹی جملوں سے بچ جاتا ہے۔
ہمیں یہ جدت پسند آئی لیکن سچ کہیں تو اپنے ملک کی دیسی شادی میں اسے ہر گز نہیں برتا جا سکتا کیونکہ قوی امکان ہے کہ دولہا یا دلہن کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی یا تو یہ کسی طرح خالی ہو جائے گا یا پھر غائب 🙈
سو اگر چاہیں تو آپ بھی اپنے گھر کی تقریب میں یہ
Wedding Money Box
ٹرائے کر سکتے ہیں لیکن اپنی ذمےداری پہ 😉
اور سلامی میں ایک روپیہ کیوں رکھتے تھے اس روایت کے بارے میں کسی کو پتہ ہو تو ضرور بتائیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نوحہ نگاری قدیم اور جدید کی ہم آہنگی پر اثرات
فی زمانہ اور قدیمی نوحہ نگاری کے عصری رویے
تمام تر حمد و ثنا اس خالق_گریہ و ماتم کے لیے جس نے ہمیں آل_محمد ص کے گریہ و ماتم کے لیے منتخب کیا اور تما تر درود و سلام ان محمد ص و آل_محمد ص پر کہ جن ہستیوں نے ہم انسانوں کو اپنے غم کی نعمت ودیعت فرمائی الحمدللہ
جیسے کہ اس تحریر کے عنوان نوحہ نگاری کے عصری رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ میرا اصل مقصد نوحہ پر گفتگو کرنا ہے نوحہ کا آغاز شاید ہابیل کے قتل سے ہو گیا تھا جب بیٹے کے سوگ میں آدم و حوا نے گریہ اور بین کیے پھر جہاں جہاں موت پہنچی وہاں وہاں نوحہ پہنچا ہو گا
لغت کے اعتبار سے لفظ_نوحہ کے معانی زور زور سے رونا ہے مگر امام_حسین ع کے غم نے اس لفظ کو حضرت_ نوح ع سے مکمل طور پر اپنے اختیار میں لے لیا اور چیخ چیخ کے رونے کو مکمل شاعرانہ آہنگ عطا کر دیا فی زمانہ نوحہ صنف_ادب ہوتے ہوئے بھی ایک صنف کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا جب کہ نوحہ ایک حساس صنف_سخن ہے
کم از کم یہ طے پا چکا ہے کہ نوحہ غزل کے انداز میں لکھے جانے والی نظم ہے جس کی شکل و صورت سہ مصرع رباعی مخمس مسدس کچھ بھی مان کر مکمل واقعہ ء_ کربلا کے مصائب و الم کو رقم کیا جاتا ہے رثائی ادب ہر دور میں اپنے اظہاریہ کے طریقہ کار کا تعین کرتا رہا ہے اور ابھی تک رثائی ادب کی ایک شکل مرثیہ سلام اور نوحہ طے پا چکی ہے جس میں مرثیہ اور سلام الحمد للہ ایک معزز صنف_ادب کے طور پر اپنا آپ منوا چکے ہیں
نوحہ ابھی اپنی منزل بہ حیثیت_صنف_ ادب پانے کی تگ و دو میں ہے اور یقینا ایک دن آئے گا جب مصروف ترین زندگی کا شکار انسان نوحہ کو مکمل صنف کے طور پر قبول اور اختیار کر لے گا
نوحہ 1400برس کے ارتقائی سفر میں عرب عجم کے ادبی گلستانوں صحراوں اور سمندروں کی مسافت طے کرتا ہوا اردو زبان کے چمنستان میں نمودار ہوا اور پہلے تو اپنی وضع قطع کے تعین میں لگا رہا اب چونکہ ایک دور گزر چکا اور نسیم امروہی متین صاحب حلمی صاحب شہید شہیدی سے نجم آفندی تک کے ادیبوں نے اسے لکھا اور اس صنف کی عزت سے خود عزت اور شہرت اور پذیرائی کمائی میرا مقصد قدیم شعرا اور جدید شعرا کی فہرست بنانا بھی ہے اپنی جانکاری کے مطابق تاکہ نوحہ کے شعرا کو اندازہ ہو کن کن اساتذہ کو پڑھنا چاہیے میں بحیثیت_طالبعلم کوئی علمی دعوی نہیں کروں گا بس اپنی ناقص معلومات کے تحت جتنے نام مجھے مل سکے ان کو اور انکے کلام کے کچھ نمونے شامل کرنے کی کوشش کروں گا مجھے اردو اور پنجابی ہی سمجھ میں آتی ہے اس لیے ان زبانوں کے شعرا اور ان کے کچھ کچھ کلام اس کتابچے میں شامل کرنے کی کوشش کروں گا
میری وجہ پہچان و شہرت و عزت فقط نوحہ نگاری ہے اور میں اس پر قانع بھی ہوں شاکر بھی
ایک عرصہ اس وادیء_حزن و محن کی چوٹیوں گھاٹیوں آنسووں کی پگڈنڈیوں آہ و زاری کے میدانوں سے گزرتا ہوا میرا ذوق نوحہ نگاری آج ایک قاری اور سامع کی حیثیت سے قدرے بے چین و مضطرب ہے اور اس اضطراب کا سبب آئندہ نسل کے بہترین شعرائے نوحہ نگاری کے لیے وہ ماحول_ روایت و درائیت کا میسر نہ ہونا ہے جو ہمارے عہد میں میسر تھا آج کے بدلتے ہوئے مذہبی اور علمی رجحان کے باعث نوجوان شعرا کی رسائی مصائب_آل_رسول ص کی روایاتی مجلس_عزا تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے یا زیادہ سے زیادہ مرثیہ مددگار ثابت ہو رہا ہے بدقسمتی سے مقتل کی دو چار کتابیں ہی اردو میں میسر ہیں اور وہ بھی مستند نہیں اس پر مزید مشکل بات تاریخ نگاری اور مقتل نگاری کے فرق کو جاننا سمجھنا ہے یہ ایک پیچیدہ اور وقت طلب مطالعہ ہے جس پر یقینا کوئی عالم_دین ضرور کام کرے گا فی الحال میرا موضوع نہیں
مستند مقاتل آج بھی عربی اور فارسی ہی میں ہیں جن کا ترجمہ ہونا ہنوز باقی ہے مولا عج کریں کہ وہ جلد ترجمہ ہو جائیں اور ایمانداری سے ترجمہ ہو جائیں تاکہ نوجوان نسل اپنے لکھےہوئے شعر کی سند بھی جانتے ہوں
ویسے شاعری مذہبی ہو یا غیر مذہبی میرا ماننا ہے کہ اس کے لیے روایات سے زیادہ تخلیقی وفور اور مشاہدہ لازمی ہے شاعر کسی نثر کو پڑھ کر یا کسی مکالمے کو سن کر ایک منظر تخلیق کرتا ہے اور پھر اسی منظر کو دماغی کینوس پر کبھی پھیلاتا اور کبھی سمیٹتا ہوا اس میں اپنی مرضی کے رنگ بھرتا ہے کہیں دریا کے پانی پر جمود طاری کرتا ہے کہیں اس کا رنگ سرخ پینٹ کرتا ہے کہیں اس کی روانی شہ رگ سے بہتے ہوئے تیز دھار خون سے ملاتا ہے کبھی صحرا کی زردی پر اپنی مرضی کا سبزہ اگاتا ہےاور ایک شعر تخلیق کرتا ہے اس میں بس اس امر_واحد کا خیال و لحاظ لازمی ہے کہ کہیں تقصیر_ آل_محمد ص کا موجب نہ بن رہا ہو مسلمات_ الہیہ سے بات اور تخیل ٹکرا نہ رہے ہوں
اب آتا ہوں ان بنیادی اصولوں کی طرف جو ایک پر سوز نوحہ تخلیق کرنے کے لیے لازمی ہیں
اور سب سے پہلا اصول مطالعہ ہے علمی اور شعری مطالعہ اور بے تحاشہ مطالعہ اس کی تفصیل آ گے چل کر بیان کرنے کی کوشش کروں گا جب انسان میں شعر کہنے کی تحریک پیدا ہو جائے تو دوسرا اصول شاگردی ہے اور مستند استاد کی شاگردی
بے شک نوحہ اور مذہبی شاعری
ایک عطا ہے مگر اس عطا کو شاعرانہ پیرہن پہنانے کے لیے ایک استاد کا ہونا لازمی ہے جو اس کی خراش تراش اور نوک پلک سنوارنے میں مددگار ہو اور عطا کو حسن عطا تک پہنچا سکے
نوحہ اردو زبان پنجابی یا سرائیکی یا کسی بھی زبان میں ہو شاعر جس آسانی سے بات اپنی مادری زبان میں کہہ سکتا ہے مستعار لی ہوئی زبان میں نہیں کہہ سکتا مستقل ریاضت شاعر کو دوسری زبان پر قادر الکلام شاعر بنا سکتی ہے مگر بغیر تگ و دو کے یہ ممکن نہیں کیونکہ انسان پہلے شعر کے لوازمات نہیں سوچتا بلکہ اپنی مادری زبان میں پہلے مصرع بنتا ہے اب اس میں مادری زبان وہی زبان تصور کی جانی چاہیے جس زبان کو وہ پڑھ سیکھ اور بول کر جوان ہوتا ہے سب سے اہم بات اس زبان کی ثقافت کو جاننا اور اس ثقافت کو خود پر لاگو کرتے ہوئے زندگی بسر کرنا اس زبان کے چلن کو سمجھنا جو لغت سے نہیں اس معاشرے سے سیکھی جاتی ہے جو اس زبان کی ثقافت کا چلن ہوتا ہے
زبان کے بعد بیان کا دور آتا ہے تقطیع عروض یہ انتہائی مشقت اور ریاضت طلب کام ہے اور اس پر ایک یہ بھی بحث ہے کہ عروضیہ اچھا شعر نہیں کہہ پاتا اور بات ہے بھی کافی حد تک سچی
اس کے ساتھ ساتھ زبان کی صفائی روانی نشست و برخواست تادیم و تاخیر علامت تشبیہ تلمیع اشارہ کنایہ وغیرہ وغیرہ شاعری کسی بھی زبان میں ہو ہر زبان کے قواعد و ضوابط طے شدہ ہیں الفاظ کے اوزان طے شدہ ہیں ان اوزان کا توڑ پھوڑ ادبی جدت نہیں بلکہ رائج زبان کی تخریب ہی گنی جائے گی
نوحہ کی شاعری میں جتنا یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا لکھنا ہے اور کیسے لکھنا ہے اس سے کہیں زیادہ یہ سیکھنا ضروری ہے کہ کیا نہیں لکھنا
اگر پاکستان میں نوحہ کی شاعری کو تین زبانوں میں تقسیم کیا جائے اردو سرائیکی اور پنجابی تو
اردو میں ہمیشہ سے زبان بیان اوزان کے اعتبار سے بہترین شعرا نے نوحے کہے اردو شاعری میں شاعر کو ٹھوکر لگنے یا کوتاہی ہونے کے امکان سے تو خارج نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ بشری تقاضہ ہے خطا ہونا مگر باقی ادبی معاملات میں اردو نوحہ کے شعرا ہمیشہ ادب شناس شعرا رہے
جاری ہے۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
یہ کتابی چہرہ کی دیواریں بھی عجیب غریب سنجیدہ کہانیوں اور سچی باتوں کی معلومات فراہم کرتی ہے کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان پر اس قدر پختہ یقین ہوتا کہ دوسروں کو حصہ دار بنانے پر اور غور فکری سفر میں شامل کرنا لازم ہو جاتا ہے محترم بلال کی اس تحریر بھی کچھ ایسی ہے کہ دوستوں اور احباب کو شریک کئے بنا نہ رہ سکا ملاحظ کیجئے
ہم زمین کے باسی نہیں، ہم ’جلاوطن‘ ہیں: انسانیت کے ’خلائی نژاد‘ ہونے کا حتمی سائنسی اور مذہبی مقدمہ! – بلال شوکت آزاد
صدیوں سے ہمیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک جھوٹ پڑھایا جا رہا ہے، ایک ایسا سفید جھوٹ جسے “ارتقاء” (Evolution) کا نام دے کر ہمارے ذہنوں میں ٹھونسا گیا ہے۔
ہمیں بتایا گیا کہ ہم اسی کیچڑ، اسی مٹی اور انہی کیمیائی جوہڑوں سے پیدا ہوئے ہیں جہاں سے مینڈک، بندر اور ڈائنوسار پیدا ہوئے۔
ہمیں بتایا گیا کہ ہم اس سیارہ زمین کے “نیٹیو” (Native) ہیں، ہم یہیں کے ہیں، اور ہمارا خمیر اسی زمین سے اٹھا ہے۔
لیکن آج، اکیسویں صدی میں، سائنس خود اپنے اس نظریے کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ جب انسانی جسم کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور مائیکرو بائیولوجی کی خوردبین کے نیچے رکھا گیا، تو ایک ہولناک اور حیران کن سچائی سامنے آئی۔
وہ سچائی یہ ہے کہ انسان زمین پر “فٹ” (Fit) نہیں بیٹھتا۔
ہمارا جسم، ہماری نفسیات، ہماری بیماریاں اور ہماری ضروریات چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہم اس سیارے کے نہیں ہیں۔
ہم کہیں اور سے آئے ہیں، یا لائے گئے ہیں۔ ہم یہاں “مہمان” نہیں، بلکہ “قیدی” (Prisoners) یا “جلاوطن” (Exiles) ہیں۔
آج میں، بلال شوکت آزاد، ڈاکٹر ایلس سلور کے دعووں کو نہ صرف سائنسی دلائل سے ثابت کروں گا، بلکہ قرآن و حدیث کی ان گہری نشانیوں کو بھی سامنے لاؤں گا جو 1400 سال سے ہمیں بتا رہی تھیں کہ
“تمہارا گھر یہ نہیں ہے، تم جنت سے نکالے گئے ہو!”
سب سے پہلا اور سب سے بڑا ثبوت خود آپ کے جسم کا ڈھانچہ ہے۔
اگر ہم زمین پر لاکھوں سالوں کے ارتقاء کا نتیجہ ہوتے، تو ہمارا جسم زمین کی کششِ ثقل (Gravity) کے ساتھ مکمل ہم آہنگ (Compatible) ہونا چاہیے تھا۔
لیکن حقیقت کیا ہے؟
1-کمر درد کی عالمی وباء (The Back Pain Epidemic):
دنیا کا شاید ہی کوئی انسان ہو جسے زندگی میں کبھی نہ کبھی کمر درد، گھٹنوں کے درد یا مہروں کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سائنسدان ڈاکٹر ایلس سلور کہتے ہیں کہ یہ درد اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان ایک ایسے سیارے پر ارتقاء پذیر ہوا (یا ڈیزائن کیا گیا) جہاں کششِ ثقل زمین سے کم تھی۔
ہم زمین پر سیدھے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن زمین کی کشش ہمیں نیچے کھینچ رہی ہے۔ ہمارا ریڑھ کی ہڈی کا نظام (Spinal Column) زمین کی 1G فورس کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا اصل گھر ایک “کم کشش والا سیارہ” (Lower Gravity Planet) یا ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہمارے جسموں پر مادی بوجھ نہیں تھا۔
2- ویریکوز وینز اور دورانِ خون:
انسانوں میں ویریکوز وینز (پاؤں کی رگوں کا پھولنا) ایک عام بیماری ہے، جو کسی اور جانور میں نہیں پائی جاتی۔
کیوں؟
کیونکہ ہمارا دورانِ خون کا نظام زمین کے بھاری پن کے خلاف خون کو واپس دل تک پمپ کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔
یہ “ڈیزائن فالٹ” نہیں ہے، یہ “Wrong Planet Syndrome” ہے۔
مذہبی تصدیق:
اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارا اصل گھر “جنت” ہے۔ اور جنت کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، وہاں ہمارے جسم کثیف (مادی بوجھل) نہیں ہوں گے، بلکہ لطیف اور نورانی ہوں گے۔ وہاں کششِ ثقل کا یہ جبر نہیں ہوگا جو ہمیں زمین پر تھکا دیتا ہے۔ ہماری کمر کا درد دراصل ہماری روح کی اس یادداشت کا درد ہے جو “ہلکے پھلکے وجود” کی عادی تھی۔
زمین پر موجود ہر جانور, چاہے وہ چھپکلی ہو، کتا ہو یا پرندہ, سورج کی روشنی میں گھنٹوں رہ سکتا ہے اور اسے کچھ نہیں ہوتا۔
لیکن انسان؟
ہم زمین کے “بادشاہ” ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ہم اپنے ہی سیارے کے سورج کے سامنے چند گھنٹے بھی ننگے جسم نہیں بیٹھ سکتے۔
1- سن برن اور سکن کینسر:
اگر ہم یہیں پیدا ہوئے ہوتے، تو لاکھوں سالوں میں ہماری جلد کو سورج کی الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کے خلاف مکمل مدافعت پیدا کر لینی چاہیے تھی۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ہمیں سن بلاک چاہیے، ہمیں کپڑے چاہئیں، ہمیں چھاؤں چاہیے۔
ڈاکٹر ایلس سلور کا دعویٰ ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان جس جگہ سے آیا ہے، وہاں سورج اتنا تیز نہیں تھا، یا وہاں کی فضا ایسی تھی جو مضر شعاعوں کو مکمل روکتی تھی۔
2- آنکھوں کی حساسیت:
انسان کی آنکھیں سورج کی تیز روشنی برداشت نہیں کر سکتیں، جبکہ زمین کے دیگر جانور (جیسے عقاب) سیدھا سورج کو دیکھ سکتے ہیں۔
ہم اس ستارے (Sun) کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوئے۔
مذہبی تصدیق:
قرآن مجید میں جنت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“لَا یَرَوْنَ فِیهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِیرًا”
(وہاں وہ نہ دھوپ (کی تپش) دیکھیں گے اور نہ سخت سردی)۔ [الانسان: 13]
یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ ہمارا “اوریجنل ہیبی ٹیٹ” (Original Habitat) ایک ایسی جگہ ہے جہاں روشنی تو ہے، مگر “جلانے والی دھوپ” نہیں۔ ہماری جلد آج بھی اسی “نورانی ماحول” کی متلاشی ہے، اسی لیے یہ زمین کا سورج اسے جلا دیتا ہے۔
یہ سب سے زیادہ ٹھوس سائنسی ثبوت ہے۔
زمین اپنے محور پر 24 گھنٹے میں چکر پورا کرتی ہے۔ یہاں رہنے والے تمام جانوروں اور پودوں کی “حیاتیاتی گھڑی” (Circadian Rhythm) 24 گھنٹے پر سیٹ ہے۔
لیکن انسان؟
جب انسانوں کو غاروں یا بنکرز میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی نہیں تھی (Isolation Experiments)، تو حیرت انگیز طور پر انسانی جسم نے قدرتی طور پر 25 گھنٹے کا سائیکل اپنا لیا۔
یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟
یہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ہمارے اجداد (آدمؑ اور ان کی نسل) کسی ایسی جگہ سے آئے ہیں جہاں دن کا دورانیہ زمین سے مختلف تھا۔
ہمارا جسم آج بھی اسی “کائناتی گھڑی” پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن زمین زبردستی اسے 24 گھنٹے کے چکر میں گھسیٹ رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان ہمیشہ “تھکا ہوا” اور “وقت کی کمی” کا شکار رہتا ہے۔
ہم اس سیارے کے وقت (Time Zone) کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔
زمین پر موجود تمام جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہی چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ بکری کا بچہ منٹوں میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
لیکن انسان کا بچہ؟ وہ سالوں تک بے بس، لاچار اور محتاج رہتا ہے۔
سائنسدان اسے “The Obstetric Dilemma” کہتے ہیں۔
انسان کا سر (Brain Size) اتنا بڑا ہے کہ وہ پیدائش کے راستے (Birth Canal) سے گزرتے ہوئے ماں اور بچے دونوں کی جان لے سکتا ہے۔ اسی لیے قدرت کو انسانی بچے کو “وقت سے پہلے” (Premature) پیدا کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کا سر مزید بڑا نہ ہو جائے۔
ڈاکٹر ایلس کا دعویٰ:
یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انسانی سر (جو ہماری اجنبی ذہانت کا مرکز ہے) اس سیارے کے ارتقاء کا حصہ نہیں ہے۔
ہم ایک “بڑے دماغ والی مخلوق” ہیں جسے ایک ایسے سیارے پر زبردستی اتارا گیا ہے جہاں کی حیاتیات اتنے بڑے سر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
کچھ مذہبی دلائل کی روشنی میں سامنے آیا ہے کہ یہ تکلیف، یہ زچگی کا درد، دراصل “سزا” کا حصہ ہے۔ بائبل اور اسلامی روایات میں اشارہ ملتا ہے کہ جنت سے نکالے جانے کے بعد حواؑ (عورت) پر “حمل اور جنم کی تکلیف” بڑھا دی گئی۔ یہ تکلیف زمین پر ہمارے “جلاوطن” ہونے کی قیمت ہے۔ جانوروں کو یہ تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ وہ یہیں کے ہیں؛ ہم “باہر” کے ہیں، اس لیے ہمارا “ہارڈ ویئر” یہاں فٹ نہیں بیٹھ رہا۔ واللہ عالم بلصواب!
آپ نے کبھی غور کیا کہ جنگلی جانور شاذ و نادر ہی بیمار ہوتے ہیں؟
وہ گندا پانی پیتے ہیں، کچا گوشت کھاتے ہیں، اور فٹ رہتے ہیں۔
لیکن انسان؟
ہم ابال کر پیتے ہیں، پکا کر کھاتے ہیں، دھو کر پہنتے ہیں، پھر بھی ہمیں ہزاروں بیماریاں لاحق ہیں۔ نزلہ، زکام، الرجی، معدے کے مسائل… فہرست لامتناہی ہے۔
ڈاکٹر سلور کہتے ہیں:
“ایسا لگتا ہے کہ ہم سب یہاں ’ٹرمینلی اِل‘ (Terminally Ill) ہیں۔”
ہماری غذائی نالی (Digestive System) زمین کی قدرتی خوراک (کچی سبزیاں اور گوشت) کو ہضم کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ ہمیں اسے “پکانا” (Process) پڑتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا معدہ “جنت کے لطیف پھلوں” اور “پاکیزہ مشروبات” کا عادی تھا، زمین کی کثیف غذا اس کے لیے “زہر” ہے۔
یہ میرا ذاتی اور سب سے مضبوط فلسفیانہ اور مذہبی نکتہ ہے۔
زمین پر لاکھوں اقسام کے جانور ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی, جی ہاں، ایک بھی ایسا نہیں ہے جسے “ننگا” رہنے میں شرم محسوس ہو یا جو اپنا جسم ڈھانپنے کی کوشش کرے۔ سوائے انسان کے۔
کیوں؟
اگر ہم بندر سے ارتقاء پاتے، تو ہمیں بھی ننگا رہنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
یہ “شرم” اور “حیا” کا مادہ کہاں سے آیا؟
قرآنی دلیل:
قرآن بتاتا ہے کہ جب آدمؑ اور حواؑ نے ممنوعہ درخت کا پھل کھایا، تو:
“بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ”
(ان کے ستر ایک دوسرے پر کھل گئے اور وہ جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپنے لگے)۔ [طٰہٰ: 121]
یہ “کپڑے پہننے کی جبلت” زمین کی نہیں ہے۔ یہ اس “لباسِ جنت” کے چھن جانے کا صدمہ ہے جو ہمارے ڈی این اے میں محفوظ ہے۔
ہم واحد مخلوق ہیں جو کپڑے پہنتے ہیں کیونکہ ہم واحد مخلوق ہیں جو اپنی “اصلی حالت” (Original State) سے محروم ہوئے ہیں۔
جانور یہیں کے ہیں، وہ جیسے ہیں ٹھیک ہیں؛ ہم “بادشاہ” تھے جن کے “شاہی لبادے” اتروا دیے گئے، اور اب ہم زمین کے چتھڑوں (کپاس، اون) سے اس شرم کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انسان کی نفسیات کا سب سے بڑا معمہ اس کی “دائمی عدم اطمینان” ہے۔
آپ اسے دنیا کی ہر نعمت دے دیں, محل، گاڑیاں، سونا، حوریں, وہ کچھ عرصے بعد بور ہو جائے گا اور کہے گا “کچھ اور چاہیے”۔
کوئی جانور ایسا نہیں کرتا۔ شیر کا پیٹ بھر جائے تو وہ مطمئن ہے۔
انسان مطمئن کیوں نہیں ہوتا؟
کیونکہ انسان کے لاشعور (Subconscious) میں “کمال” (Perfection) کا ایک معیار موجود ہے۔
ہم نے ایک ایسی جگہ (جنت) دیکھی ہے جہاں کوئی دکھ نہیں تھا، کوئی موت نہیں تھی، کوئی بوریت نہیں تھی۔
ہم اس دنیا میں “کمال” ڈھونڈ رہے ہیں، جو یہاں موجود ہی نہیں ہے۔ ہمارا ڈپریشن، ہماری خودکشیاں، ہماری بے چینی… یہ سب “Homesickness” (گھر کی یاد) ہے۔
ہم ایک ایسے مسافر ہیں جو صحرا میں “سمندر” ڈھونڈ رہا ہے۔
روح کا ٹوٹا ہوا کنکشن:
جیسا کہ پچھلے بلاگ میں ذکر ہوا، ہماری روح عالمِ ارواح سے آئی ہے۔ یہ اس مادی دنیا میں “پردیسی” ہے۔
یہ جو ہمیں ستاروں کو دیکھ کر اداسی ہوتی ہے، یہ جو ہمیں نامعلوم کی تلاش رہتی ہے، یہ سب اس بات کی گواہی ہے کہ We don’t belong here.
قرآن نے انسان کے زمین پر آنے کے لیے لفظ “اِهْبِطُوا” (نیچے اتر جاؤ) استعمال کیا۔
یہ لفظ ظاہر کرتا ہے کہ انسان زمین پر “پیدا” نہیں ہوا، بلکہ کہیں اوپر سے “اتارا” گیا ہے۔
سائنسدان ڈاکٹر ایلس سلور کا نظریہ ہے کہ شاید انسانوں کو کسی اور سیارے سے یہاں بطور “قیدی” لا کر پھینکا گیا کیونکہ ہم ایک پرتشدد مخلوق تھے۔
لیکن اسلام اس کی تصحیح کرتا ہے۔ ہم قیدی تو ہیں، مگر “امتحان” کے قیدی۔ زمین ہمارا “جیل خانہ” (Prison Planet) بھی ہے اور “امتحان گاہ” بھی۔
مومن کے لیے یہ دنیا “قید خانہ” ہے (الدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ)۔
یہ حدیث ڈاکٹر ایلس کی تھیوری کی سب سے بڑی تصدیق ہے۔
اگر ہم یہیں کے ہوتے، تو یہ جگہ ہمارے لیے “گھر” ہوتی، قید خانہ نہ ہوتی۔ قید خانہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں آپ کی طبیعت کے خلاف ماحول ہو۔ اور زمین کا ماحول (کشش، دھوپ، جراثیم) ہماری طبیعت کے خلاف ہے۔
تو میرے دوستو!
یہ تمام سائنسی، حیاتیاتی اور نفسیاتی شواہد ایک ہی تصویر پیش کرتے ہیں:
ہم خلائی مخلوق (Aliens) ہیں۔
ہم اس زمین کے نہیں ہیں۔ ہم یہاں “پناہ گزین” ہیں۔ ہماری کمر کا درد، ہماری جلد کا جلنا، ہماری نیند کا خراب ہونا، اور ہمارے دل کا خالی پن… یہ سب گواہیاں ہیں کہ ہم ایک “کھوئی ہوئی جنت” کی اولاد ہیں۔
یہ مان لینا کہ ہم زمین سے نہیں ہیں، مایوسی کی بات نہیں بلکہ “امید” کی بات ہے۔
کیونکہ اگر ہم یہاں کے نہیں ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا “اصل گھر” کہیں اور موجود ہے، جہاں نہ کمر دکھے گی، نہ دھوپ جلائے گی، اور نہ دل اداس ہوگا۔
سائنس اب گھٹنوں کے بل چلتے چلتے اسی حقیقت تک پہنچ رہی ہے جسے وحی نے صدیوں پہلے بیان کر دیا تھا۔
ہمیں زمین کو سنوارنا ہے، لیکن دل اس سے نہیں لگانا۔ کیونکہ مسافر سرائے کو سجاتے نہیں، وہاں رات گزار کر اگلی منزل (واپسی) کی تیاری کرتے ہیں۔
نوٹ: اس سنجیدہ_بات کی تحریر کو
۔محترم بلال صاحب کی کتابی چہرہ کی دیوار سے مستعار لیا گیا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پیکر ارضی کا قرآنی اور احادیث کی روشنی میں مفہوم اور نظریات
سوال : قران میں پیکر ارضی کا مفہوم بی بی فاطمہ زہرا
سلام اللہ علیہا کے لئے؟
قرآنِ مجید میں لفظی طور پر “پیکرِ ارضی” (earthly form/body) کا جملہ اسی ترکیب کے ساتھ موجود نہیں ہے، لیکن اسی مفہوم کو ادا کرنے والے کئی الفاظ اور آیات موجود ہیں۔
“پیکرِ ارضی” کے مفہوم کے قریب قرآنی تعبیرات
1️⃣ مٹی / زمین سے جسم کی تخلیق
یہی “ارضی پیکر” کا بنیادی تصور ہے:
﴿خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ﴾
اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا
📖 (آلِ عمران: 59)
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ﴾
📖 (الروم: 20)
2️⃣ طین (گیلی مٹی)
﴿خَلَقَ الإِنسَانَ مِن طِينٍ﴾
انسان کو مٹی سے پیدا کیا
📖 (السجدہ: 7)
3️⃣ صلصال / حمإ مسنون (مخصوص مٹی)
یہ انسانی جسم کے “سانچے / پیکر” کی طرف اشارہ ہے:
﴿خَلَقْنَا الإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ﴾
📖 (الحجر: 26)
4️⃣ جسم کی تکمیل اور روح پھونکی جانا
یہ “پیکر” کے مکمل ہونے کا تصور ہے:
﴿فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي﴾
📖 (الحجر: 29)
5️⃣ احسنِ تقویم (بہترین ساخت)
﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾
📖 (التین: 4)
خلاصہ
“پیکرِ ارضی” ایک ادبی / فلسفی اصطلاح ہے
قرآن میں اس کے لیے یہ الفاظ آتے ہیں:
تراب
طین
صلصال
حمإ مسنون
تسویۂ جسم + نفخِ روح
آپ کے سوال کا تعلق ایک عرفانی و تفسیری مفہوم سے ہے، نہ کہ قرآن کے صریح الفاظ سے۔
قرآنِ مجید میں بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا نام براہِ راست نہیں آیا، مگر اہلِ تشیع و اہلِ معرفت کی تفاسیر میں بعض قرآنی مفاہیم کو حضرت فاطمہؑ کی ذاتِ مقدسہ پر منطبق کیا جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک تعبیر “پیکرِ ارضی” بھی ہے۔
—
پیکرِ ارضی کا مفہوم
پیکرِ ارضی سے مراد یہ ہے کہ:
> ایک نورانی، الٰہی اور آسمانی حقیقت زمین پر انسانی قالب میں ظاہر ہو۔
یعنی کوئی ہستی جو حقیقت میں نورِ الٰہی کی مظہر ہو، مگر دنیا میں بشر کی صورت میں جلوہ گر ہو۔
قرآنی بنیادیں (اشاراتی طور پر)
1. نور کا انسانی ظہور
قرآن میں ارشاد ہے:
> اللّٰهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
(النور: 35)
اہلِ معرفت کے مطابق، اہلِ بیتؑ — بالخصوص حضرت فاطمہؑ — اس نورِ الٰہی کے مظاہرِ کامل ہیں، اور فاطمہؑ کو اس نور کا پیکرِ ارضی کہا جاتا ہے۔
2. آیۂ تطہیر
> إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ…
(الاحزاب: 33)
یہ آیت اہلِ بیتؑ کی مکمل طہارت بیان کرتی ہے۔
شیعہ تفاسیر میں حضرت فاطمہؑ کو اس طہارت کا مرکزی محور مانا گیا ہے، یعنی:
طہارتِ مطلقہ کا انسانی قالب
پاکیزگی کا ارضی ظہور
3. سورۂ کوثر
> إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ
اہلِ تشیع کی مشہور تفسیر کے مطابق:
کوثر = حضرت فاطمہ زہراؑ
یعنی خیرِ کثیر کا وہ سرچشمہ جو زمین پر انسانی صورت میں نازل ہوا
اس اعتبار سے حضرت فاطمہؑ:
> الٰہی عطا کا پیکرِ ارضی ہیں۔
4. مودة القربى
> قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ
(الشوریٰ: 23)
یہ آیت اہلِ بیتؑ سے محبت کو رسالت کا اجر قرار دیتی ہے۔
یہ مقام کسی عام بشر کو حاصل نہیں، بلکہ ایسی ہستی کو ہے جو:
آسمانی حقیقت رکھتی ہو
مگر زمین پر انسانی قالب میں ہو
خلاصہ
قرآن کی روشنی میں (تفسیری و عرفانی پہلو سے):
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
نورِ الٰہی کا مظہر
آسمانی حقیقت کا
انسانی و زمینی ظہور
اسی لیے اہلِ معرفت انہیں
پیکرِ ارضیِ نور کہتے ہیں
> یعنی وہ ہستی جو حقیقت میں نور ہے،
مگر زمین پر بشر کی صورت میں جلوہ گر ہوئی۔
: “پیکرِ ارضی” کے مفہوم کو احادیثِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں خاص طور پر حضرت بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر کا مفہوم عرفانی روائی حوالے اور اہلِ بیتؑ کے فرامین سے اخذ کیا گیا ہے۔
پیکرِ ارضی — روائی مفہوم
پیکرِ ارضی سے مراد:
> ایسی ہستی جو حقیقت میں نورانی، ملکوتی اور آسمانی ہو
مگر دنیا میں جسمِ انسانی کے ساتھ ظاہر ہوئی ہو۔
اہلِ بیتؑ کی روایات کے مطابق حضرت فاطمہؑ اسی حقیقت کا کامل مصداق ہیں۔
1. فاطمہؑ کا نورانی وجود (زمین پر ظہور)
حدیثِ نور
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
> إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ نُورًا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ
(بحارالانوار، ج 43، ص 4)
ترجمہ:
فاطمہؑ اللہ کے حضور نور تھیں، اس سے پہلے کہ آدمؑ کو خلق کیا جائے۔
نتیجہ:
جو ہستی تخلیقِ آدمؑ سے پہلے نور ہو، اس کا دنیا میں آنا نور کا پیکرِ ارضی بننا ہے۔
2. فاطمہؑ: حوراء انسیہ (آسمانی حقیقت، زمینی قالب)
رسولِ خدا ﷺ فرماتے ہیں:
> إِنَّ فَاطِمَةَ حُورَاءُ إِنْسِيَّةٌ
(بحارالانوار، ج 43، ص 14)
ترجمہ:
فاطمہؑ ایک ایسی حور ہیں جو انسانی صورت میں ظاہر ہوئیں۔
یہ حدیث “پیکرِ ارضی” کی واضح تعریف ہے:
حقیقت: حورِ جنت
ظہور: انسانی جسم
3. فاطمہؑ — نورِ رسول کا زمینی قالب
نبی اکرم ﷺ:
> فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي
(صحیح مسلم، بحارالانوار)
ترجمہ:
فاطمہؑ میرے وجود کا ٹکڑا ہیں۔
اور ایک اور روایت میں:
> خُلِقَ نُورُ فَاطِمَةَ قَبْلَ أَنْ يُخْلَقَ الْأَرْضُ وَالسَّمَاءُ
(بحارالانوار، ج 43)
رسولؐ اللہ خود نورِ الٰہی ہیں، اور فاطمہؑ اس نور کا ارضی ظہور ہیں۔
4. فاطمہؑ — اللہ کی حجت (زمین پر دلیلِ خدا)
امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں:
> نَحْنُ حُجَجُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ، وَفَاطِمَةُ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْنَا
(بحارالانوار، ج 43، ص 105)
ترجمہ:
ہم اللہ کی مخلوق پر حجت ہیں، اور فاطمہؑ ہم پر اللہ کی حجت ہیں۔
حجتِ خدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ:
فاطمہؑ کی حقیقت زمین سے بالاتر
مگر حجت ہونے کے لیے زمین پر جسمانی وجود
یہی پیکرِ ارضی کا مقام ہے۔
5. فاطمہؑ — مرکزِ ولایت و تخلیقِ امامت
امام باقرؑ:
> بِنَا عُبِدَ اللَّهُ، وَبِنَا عُرِفَ اللَّهُ، وَلَوْلَا فَاطِمَةُ لَمَا خُلِقْنَا
(دلائل الامامہ، بحارالانوار)
ترجمہ:
ہم اہلِ بیتؑ کے ذریعے اللہ کی عبادت و معرفت ہوئی، اور اگر فاطمہؑ نہ ہوتیں تو ہم خلق نہ کیے جاتے۔
یعنی:
ولایت کی اصل حقیقت فاطمہؑ
یہ حقیقت زمین پر انسانی قالب میں ظاہر ہوئی
خلاصہ (اہلِ بیتؑ کی روشنی میں)
احادیث کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا:
نورِ ازلی ہیں
حورِ جنت ہیں
حقیقتِ ملکوتی ہیں
حجتِ خدا ہیں
مگر دنیا میں
جسمِ انسانی کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں
اسی لیے اہلِ معرفت انہیں کہتے ہیں:
> فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا = نورِ الٰہی کا پیکرِ ارضی
ایک گزراش کہ یہ حرف آخر نہیں ہر ایک ہر تحقیقی در واہ ہے اور اپنی پیاس بجھانے کے لئے مزید تحقیق کی گنجائش موجود ہے اپنی رائے سے ضرور مطلع فرمائیں التماس دعا اکمل سید لندن
………………………………………
دودھ کا ڈبہ اور ہمارے بچے
وہ حیرت انگیز دریافت جب ایک ماں کے دودھ نے سائنس کو بھی چونکا دیا
روبینہ یاسمین کی یہ تحریر آج کی ماؤں کو دعوت ہے مھد سے لے بچے کے سن بلوغت بچے کی خوراک کتنی ضروری ہے اور کیا اہمیت کی حامل ہے نسلوں کی تعمیر اور شرافت کے لئے ڈبے کے دودھ کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے
دودھ صرف خوراک نہیں تھا۔ یہ ایک پیغام تھا۔
دو ہزار آٹھ کی بات ہے۔ کیٹی ہِنڈےایک نوجوان سائنس دان کیلیفورنیا کی ایک لیبارٹری میں کھڑی تھی۔
اس کے سامنے بندر کی ماؤں
(rhesus macaque)
کے سینکڑوں دودھ کے نمونوں کا ڈیٹا پھیلا تھا۔
اور وہ ڈیٹا کسی بھی طرح سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
پہلی حیرت
جن ماؤں کے بیٹے تھے، ان کے دودھ میں چکنائی اور پروٹین زیادہ تھا۔
جن ماؤں کی بیٹیاں تھیں، ان کا دودھ زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا تھا، لیکن اس کے اجزاء مختلف تھے۔
یعنی دودھ ایک ہی نہیں تھا
وہ بچے کی جنس کے مطابق تیار ہو رہا تھا۔
اس کے مرد کولیگز نے فوراً طنز کر دیا
“یہ غلط پیمائش ہوگی۔”
“شاید اتفاق ہے۔”
“کوئی خاص بات نہیں۔”
لیکن کیٹی نے ڈیٹا کو نظرانداز نہیں کیا۔
اور ڈیٹا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا
دودھ صرف خوراک نہیں ایک پیغام ہے۔
دوسری حیرت
کیٹی نے مزید دو سو پچاس ماؤں اور سات سو سے زیادہ نمونوں کا تجزیہ کیا۔
پھر ایک اور چونکانے والی بات سامنے آئی
نئی، کم عمر مائیں کم کیلوریز کا دودھ بناتی تھیں
مگر اسی دودھ میں کارٹیسول (اسٹریس ہارمون) بہت زیادہ ہوتا تھا۔
اور ایسے دودھ پینے والے بچے
تیزی سے بڑھتے تھے
مگر زیادہ چوکنّے، بےچین اور کم پُراعتماد ہوتے تھے
یعنی دودھ صرف جسم نہیں بنا رہا تھا
بچے کی شخصیت تک پروگرام کر رہا تھا۔
تیسری حیرت
تقریباً ناقابلِ یقین
جب بچہ دودھ پیتا ہے تو اس کے منہ کا تھوڑا سا لعاب (saliva)
ماں کے جسم میں واپس جاتا ہے۔
اور وہ لعاب ماں کو بتاتا ہے کہ
بچہ بیمار ہے یا نہیں۔
اگر بچہ کسی انفیکشن سے لڑ رہا ہو
ماں کے دکھائی نہ دینے والے نظام فوراً متحرک ہو جاتے
دودھ میں مخصوص اینٹی باڈیز چند گھنٹوں میں پیدا ہونا شروع
دودھ میں سفید خون کے خلیے دو ہزار سے بڑھ کر پانچ ہزار سے زیادہ اور
میکروفیج (مدافعتی خلیے) چار گنا تک بڑھ جاتے
اور جیسے ہی بچہ ٹھیک ہوتا
سب کچھ واپس نارمل۔
یہ خوراک نہیں تھی۔
یہ دو جسموں کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ تھا
ایک حیاتیاتی گفتگو، جو سائنس صدیوں تک دیکھ نہ سکی۔
سائنس کی
انسان کی پہلی غذا
جس پر ہماری پوری نسلیں پروان چڑھیں
اسے سائنسی دنیا نے تقریباً نظرانداز کر رکھا تھا۔
تو کیٹی نے ایک بلاگ شروع کیا
“Mammals Suck… Milk!”
اور سال کے اندر اندر ایک ملین سے زیادہ لوگ اسے پڑھنے لگے۔
مزید انکشافات
دن کے مختلف وقتوں میں دودھ کی ساخت بدلتی ہے
صبح کا دودھ چکنائی میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
ابتدا کا دودھ اور آخر کا دودھ مختلف ہوتا ہے
انسانی دودھ میں دو سو سے زیادہ ایسے شوگر مالیکیولز ہوتے ہیں جنہیں بچہ ہضم نہیں کرتا وہ صرف آنتوں کے اچھے بیکٹیریا کو خوراک دیتے ہیں
ہر ماں کا دودھ فنگر پرنٹ کی طرح منفرد ہوتا ہے
دو ہزار سترہ میں کیٹی کا
TED Talk
آیا لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔
آج وہ ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی
کی لیبارٹری میں
نوزائیدہ بچوں کی صحت،
NICU کی دیکھ بھال،
اور دنیا بھر کی پبلک ہیلتھ پالیسی میں انقلاب لا رہی ہیں۔
اصل حقیقت
دودھ دو سو ملین سال سے ارتقاء کے سفر میں ہے
ڈائنوسار بھی جب زمین پر تھے، دودھ تب بھی اپنا کام کر رہا تھا۔
سائنس اسے صرف “غذا” سمجھتی رہی۔
مگر یہ دراصل زمین کا سب سے ذہین، زندہ، مواصلاتی نظام تھا
ماں اور بچے کے درمیان ایک مسلسل، حساس گفتگو۔
کیٹی ہِنڈے نے ریسرچ کی کہ
یہ صرف غذا نہیں ماں اور بچے کے درمیان ایک ذہنی کمیونیکیشن ہے۔
آپ کے خیال میں بچے کو فارمولا ملک دینا کیسا ہے؟ جبکہ قدرت نے اس کے لئے ایک بیش قیمت سسٹم تیار کر رکھا ہے ۔
کیا بچے کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی جب اسے ڈبے کے دودھ پر لگا دیا جاتا یے؟
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پیکر ارضی اور فاطمہ سلام اللہ علیہا
آج ایک لفظ عالیماں سیدہ پیکر ارضی کے الفاظ نظر سے گزرے اصل تو اس میں یہ ہے کہ لفظ تحقیقی مطالعے کی اشد ضرورت ہے کچھ میرے دوست اس بارے میں بحث کر رہے ہیں مگر اس میں شدت کی پیاس موجود ہے اگر چہ میرا خود مطالعہ بہت نازک اور کمزوریوں پر منحصر ہے مگر پھر بھی کوشش کی ہے شیڈ یہ تحریر کسی دوست کے لئے مددگار ثابت ہو
اکمل سید لندن
پیکرِ ارضی” ایک فارسی ترکیب ہے۔
پیکر = جسم، ہستی، وجود
ارضی = زمین سے متعلق، زمینی
لہٰذا پیکرِ ارضی کا مطلب ہے:
زمینی جسم یا دنیاوی جسمانی صورت۔
لفظ فاطمہ زہرا کے لیے جب شاعر یا ادیب یہ تعبیر استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ:
حضرت فاطمہؑ کا زمینی جسم، جو دنیا میں تھا—یعنی ان کی مقدس انسانی حیات و ظاہری وجود۔
ادبی و روحانی متون میں اس کے ذریعے یہ بات ظاہر کی جاتی ہے کہ:
ان کا روحانی مقام بہت بلند ہے،
لیکن
دنیا میں ان کا ظاہری جسم (پیکرِ ارضی) بھی پاکیزگی اور نور کا مظہر ذکرِ مقدّس بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں الفاظ کے انتخاب میں ہمیشہ ادب، احترام اور تقدّس شرط ہے۔
اب سوال ہے کہ بی بی کے لئے یہ لفظ جاری کیا جا سکتا ہے یا نہیں
کیا “پیکرِ ارضی” کا لفظ بی بی فاطمہ زہراؑ کے لیے استعمال کرنا چاہیے؟
عمومی اور روایتی دینی ادب میں اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو تعظیم، رفعت اور نورانیت پر دلالت کریں، جیسے:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
سیدۂ نساء العالمین
بنتِ رسولؐ
صدیقۂ طاہرہ
طاہرہ، زکیہ، مبارکہ
کوثر، بتول وغیرہ
“پیکرِ ارضی” ایسا لفظ ہے جو اگرچہ صریح بے ادبی نہیں، مگر چونکہ عام طور پر اسے کسی شخصیت کے جسمانی بشر ہونے کے بیان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے یہ تعبیر بی بی فاطمہؑ جیسے مقدّس و نورانی مرتبے والی ہستی کے لیے کم درجے کی اور کم تعظیم والی محسوس ہو سکتی ہے۔
اس لیے دینی علما اور ادبی روایات میں یہ لفظ اُن کے لیے معروف یا پسندیدہ نہیں۔
“پیکرِ ارضی” کا معنی کیا ہے؟
لفظی طور پر:
*پیکر = جسم، قالب، صورت*
*ارضی = زمین سے تعلق رکھنے والا / زمینی*
پس پیکرِ ارضی کا مطلب ہے:
> “زمین پر موجود جسمانی قالب رکھنے والی ہستی”
یعنی وہ ہستی جو روح کے ساتھ جسم میں دنیا میں ظاہر ہو۔
ادب میں یہ لفظ عموماً کسی بلند رتبے کی روحانی ہستی کے دنیاوی انسانی جسم کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے:
“فرشتہ صفت انسان کا پیکرِ ارضی بھی کیا نورانی تھا” وغیرہ۔
نتیجہ
بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے اعلیٰ اور معروف القاب استعمال کرنا زیادہ مناسب اور ادب کے قریب ہے۔
“پیکرِ ارضی” ایک عام ادبی لفظ ہے لیکن ایسی مقدّس ہستی کے لیے روایتی طور پر استعمال نہیں ہوتا اور اس کے بجائے زیادہ تعظیمی الفاظ اختیار کیے جاتے ہیں۔
مرثیہ اور نعت میں درج ذیل اشعار میں یہ لفظ احسن طریق سے باندھا گیا ہے ملاحظہ فرمائیں
زمیں پہ آیا جو پیکرِ ارضیِ زہرا
تو عرشِ برین پر بھی نور ہی نور چھا گیا
نبیؐ کی دعا کا پرتوِ روشن تھی وہ بی بی
جنہیں خدا نے “کوثر” کا رازِ نہاں بنا دیا
یہ پیکرِ ارضیِ زہراؑ نہیں، نورِ مجسّم ہے
جبیں سے جس کی تطہیرِ ازل روشن و محکم ہے
فرشتے جھکتے آئے جس دہلیزِ طہارت پر
وہ در، وہ آستاں، بانوئے خیرالنسا کا ہے
مرثیہ
پیکرِ ارضیِ زہراؑ کو خدا نے یوں چُنا
کہ عصمتوں کا تاج اُنہی کے سر سجا
محمدِ مصطفیؐ کی جان کی جان تھیں وہ
جنہیں “امِ ابیہا” کا لقب خود مصطفیؐ نے دیا
(قدرے مرثیہ نما، رقت آمیز)
جب پیکرِ ارضیِ زہراؑ پہ ستم کی گھڑیاں آئیں
تو عرش لرز اٹھا، زمین بھی کانپنے لگی
صدا یہ آئی لوح سے، عرشِ خدا کی سمت
“محمدؐ کی بیٹی ہے… کیوں چوٹ سہنے لگی؟”
(زیادہ کلاسیکی اسلوب)
سلام اُس پیکرِ ارضی پہ، جو حقیقت میں
تجلیاتِ سِرّ کوثر کا چراغِ تاباں تھا
سلام اُس بی بیِ طاہر پہ جس کے دم سے ہی
شرف ملا زمانے کو، اور دیں کی شان
کچھ دینی القاب جو عام۔طور پر ادبی طور پر استعمال کئے جاتے ہیں
بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حوالے سے ادبی، روایتی اور احترام پر مبنی بہت سے کلمات استعمال ہوتے ہیں۔ ذیل میں بہت عمدہ، نفیس اور معیار کے مطابق ادبی تعبیرات درج کی جا رہی ہیں:
اعلیٰ و معروف دینی و ادبی القاب
سیدۂ کائنات
سیدۂ نساءالعالمین
روحِ رسولؐ
نورِ ولایت
کوثرِ محمدیؐ
مشعلِ تطہیر
شارحۂ عصمت
ام ابیہا (باپ کی ماں)
سرّ اللہ
عصمتِ کبریٰ
بتولِ مطہرہ
خیر النساء
عروۃ الوثقیٰ
🌙 نورانیت اور روحانیت بیان کرنے والی تعبیرات
آفتابِ عصمت
ماہتابِ طہارت
گلستانِ نبوت کی مہک
مشعلِ ہدایت کی روشنی
تجلیِ کوثر
روحِ پاکیزگی
نورِ مجسّم
عصمت کا پیکرِ کامل
تقدّس کی درِیتیمِ بی مثال
پاکیزگی کی تصویرِ کامل
نورِ مصطفوی کی جلوہ گاہ
مقامِ رسالت اور ولایت سے نسبت ظاہر کرنے والی تعبیرات
دخترِ رسولِ خداؐ
مہرِ ولایت کی امین
وارثۂ علمِ نبوت
سرچشمۂ ولایت
امامت کی مادرِ اقدس
چادرِ تطہیر کا مرکز
پنجتن کی روحِ لطیف
فضائل و کمالات پر مبنی ادبی تعبیرات
صبر و رضا کی ملکہ
ایثار و طہارت کی معراج
پاکیزگی کا آئینہ
کرامتِ انسانیت کی معراج
عفت و حیا کا سرچشمہ
زہد و بندگی کی پیکرِ اعلیٰ
وفا و وفورِ محبت کی مثالِ کاملہ
رقت آمیز اور وجدانی انداز کی تعبیرات (نعتیہ و مرثیہ اسلوب)
جنت کے گلستان کی خوشبو
آغوشِ نبوت کا نور
درِ نبیؐ کی متبرک روشنی
وہ بی بی جس کے احترام میں جبرائیل بھی جھکتے ہیں
وہ ہستی جس کی رضا میں رضاے الٰہی مضمر ہے
وہ سیدہ جس کے آنسوؤں سے امّت پر رحمت نازل ہوتی
مزید تحقیق کی گنجائش موجود ہے مجھے نا چیز کے حرف آخر نہیں ہیں۔۔۔۔۔ خدا عقل سلیم عطا کرتے ہوئے تحریک تحقیق کی توفیق عطا فرمائے آمین
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ولادت با سعادت 20 جمادی الثانی
حوالہ جات معتبر شیعہ و سنی دونوں مصادر سے لیے گئے ہیں تاکہ مضمون علمی و تحقیقی ہو سکے۔
حضرت فاطمہؑ، بتول عذراء یا زہراء کی ولادت باسعادت—
حضرت فاطمہ زہراؑ اسلام کی وہ روشن اور مقدس شخصیت ہیں جن کی ولادت کا دن نور، رحمت اور برکت سے بھرا ہوا ہے۔ آپ رسول خدا ﷺ اور حضرت خدیجہ الکبریٰؑ کی سب سے چھوٹی اور انتہائی محبوب بیٹی تھیں۔ آپ کی ولادت تاریخِ اسلام میں ایک عظیم اور با برکت واقعہ ہے، جس میں کئی معجزات اور روحانی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔

ولادت کا پس منظر
مکہ مکرمہ میں نبوت کے ابتدائی ایام میں جب رسولِ خدا ﷺ اور حضرت خدیجہؑ مشکلات کا سامنا کر رہے تھے، اسی دوران اللہ نے انہیں ایک نورانی بیٹی عطا فرمائی۔ شیعہ روایات کے مطابق آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی کو ہوئی۔
اہم حوالہ جات
الاستیعاب فی معرفة الأصحاب، ابن عبدالبر
سیر اعلام النبلاء، ذہبی
دلائل النبوۃ، بیہقی
بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج 16
معجزاتِ ولادت
1. گھر میں نور کے ظہور کا واقعہ
ولادت کے وقت حضرت خدیجہؑ کے گھر میں نور پھیل گیا، اور روحانی سکینت کا نزول ہوا۔
حوالہ:
بحار الانوار، ج 16، ص 78
کشف الغمہ، علی بن عیسیٰ اربلی
2. مکہ کی عورتوں کا انکار اور حورانِ بہشت کی امداد
جب قریش کی عورتوں نے حضرت خدیجہؑ کی مدد سے انکار کیا تو اللہ نے جنت کی حوروں کو بھیجا تاکہ وہ ولادت میں ان کی مدد کریں۔
حوالہ:
دلائل النبوۃ، بیہقی
المناقب، ابن شہر آشوب
بحارالانوار، ج 16، ص 13–14
3. پاکیزگی اور نورانیت
روایات میں ہے کہ حضرت فاطمہؑ کے ظہور کے ساتھ ہی گھر رحمت سے بھر گیا اور حضرت خدیجہؑ پر بے پناہ سکون نازل ہوا۔
حوالہ:
دلائل النبوۃ، بیہقی
اَعلام الوری، طبرسی
نام “فاطمہ”، “زہرا” اور ” بتول عذراء” کی معنویت
فاطمہ کا معنی
“فاطمہ” لغوی طور پر جدا کرنے والی، محفوظ کرنے والی کے معنی میں آتا ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ:
“فَطَمَهَا اللّٰہُ وَشِیعَتَهَا عَنِ النَّارِ”
اللہ نے فاطمہؑ اور ان کے شیعوں کو آگ سے محفوظ رکھا۔
حوالہ:
معانی الاخبار، شیخ صدوق
بحار الانوار، ج 43
زہرا کا معنی
“زہرا” یعنی چمکنے والی، روشن، نورانی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فاطمہؑ کی عبادت کے وقت ان کے نور سے آسمان کے فرشتے متحیر ہو جاتے تھے۔
حوالہ:
امالی، شیخ طوسی
بحارالانوار، ج 43، ص 16
عذراء کا معنی
“عذراء” پاکیزگی اور عصمت کی علامت ہے، جو آپ کی روحانی طہارت پر دلالت کرتا ہے۔
حوالہ:
لسان العرب، ابن منظور
بیان الادیان، ابوریحان البیرونی
نبی کریم ﷺ کا حضرت فاطمہؑ سے تعلق
حضرت رسول اللہ ﷺ کو حضرت فاطمہؑ سے بے حد محبت تھی۔ آپ ﷺ جب فاطمہؑ آتیں تو احتراماً کھڑے ہو جاتے اور فرماتے:
“فاطمہ میری جگر کا ٹکڑا ہے”
بِضْعَةٌ مِنِّي
حوالہ:
صحیح بخاری، کتاب المناقب
صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ
مسند احمد، ج 4
آپ ﷺ نے حضرت فاطمہؑ کو “اُمِّ أَبِيها” کا لقب دیا، جو آپ کی اہمیت و عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
حوالہ:
مستدرک حاکم، ج 3
بحار الانوار، ج 43
ولادت فاطمہؑ کی اہمیت
حضرت فاطمہ زہراؑ کی ولادت اسلام میں کئی پہلوؤں سے اہم ہے:
1. آپؑ کے ذریعے نسلِ رسول ﷺ آگے بڑھی۔
حوالہ: سیر اعلام النبلاء، ذہبی
2. آپؑ کی پاکیزہ گود سے امام حسنؑ، امام حسینؑ اور ائمہ اہل بیتؑ نے جنم لیا۔
حوالہ: کشف الغمہ، اربلی
3. آپؑ عورت کے لیے کامل دینی، اخلاقی اور گھریلو کردار کا نمونہ ہیں۔
حوالہ: احقاق الحق، قاضی نور اللہ شوستری
4. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“فاطمہ سیدۂ نساءِ اہل الجنۃ”
فاطمہؑ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں
حوالہ:
صحیح بخاری
صحیح مسلم
خصائص الکبریٰ، سیوطی
نتیجہ
حضرت فاطمہ زہراؑ کی ولادت کا دن اسلام کی تاریخ میں وہ مبارک ساعت ہے جس نے امت کو نور، طہارت، اخلاق اور انسانیت کا اعلیٰ نمونہ فراہم کیا۔ آپؑ نہ صرف رسولِ خدا کی بیٹی تھیں، بلکہ خاتونِ جنت، سیدۂ نساء العالمین اور طہارت و عصمت کا کامل آئینہ تھیں۔ ان کی ولادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سچا ایمان کردار، محبت، خدمت، ایثار اور پاکیزگی میں پوشیدہ ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مرکب اور مفرد الفاظ
*علم النحو کی کہانی*
شہر سے دور دہاتی علاقہ میں ایک کمزور اور غریب آدمی اپنی غربت کے ایام میں مصروف زندگی گزار تھا ۔اس کا نام “لفظ” تھا۔ اس کے دو برادر بھی تھے ۔
ایک بھائی کا نام موضوع اور دوسرے بھائی کا نام مہمل ۔
بھائی موضوع بہت ہوشیار تھا۔ ہر چیز کا معنی و مطلب بہت تفصیل سے عرض کرتا جو ۔ سمجھ میں آجاتا تھا۔
اور مہمل ، وہ تو مجنوں و پاگل تھا۔ہر چیز الٹی اور بے معنی بتاتا، جس کا کوئی مطلب نہ نکلتا ۔
موضوع کے دو بیٹے ہوئے تھے ۔
ایک کا نام مفرد تھا ، دوسرے کا نام مرکب۔ مفرد الگ تھلگ اور اکیلا اکیلا رہنا پسند کرتا تھا جب کہ مرکب بھائی چارے اور سب کے ساتھ دوستی اور مل جل کر چلنا پسند کرتا تھا ۔
کچھ عرصے کے بعد مرکب کے بھی دو دوست بنے۔ ایک کا نام مرکب ناقص ، دوسرے کا نام مرکب تام ہوا۔
مرکب ناقص بڑا نالائق لڑکا تھا۔ ہمیشہ آدھی اور ادھوری بات کرتا۔ کسی کی سمجھ میں اس کی کوئی بات نہیں آتی تھی ۔
مگر مرکب تام دوستی میں بہت اچھا دوست تھا ایسی صاف بات کرتا کہ پاگل بھی سمجھ جاتا۔ وہ ہر چیز کی درست خبر دیتا۔ سچ میں اکثر جھوٹ ملا کر بات کرتا۔ اس لیے وہ خود کو وزیر نحو کہا کرتا۔
پھر یوں ہوا کہ اچانک گاؤں میں ایک یتیم لڑکا آگیا, جس کا نام “کلمہ” تھا , جس کے ساتھ تین لوگ اور بھی تھے .
ان کا نام اسم، فعل، اور حرف تھا۔
اسم بیچارہ , بہت امیر تھا ،اپنا سب کام خود کرتا۔ کسی سے کچھ مدد نہ لیتا۔
فعل ہمیشہ کنجوسی سے اپنا کام خود کرتا۔ دوسروں کو بھی لے کر آتا ۔اکیلا آتے ہوئے ڈرتا کہ کہیں کوئی کام غلط نہ ہو جائے۔
حرف بہت غریب تھا۔ نہ کھانے کےلیے کچھ اور نہ پہننے پہنانے کے لیے۔
کچھ اسم سے ، کچھ فعل سے مدد لےکر اپنی گزر اوقات کرلیتا ، لیکن بعض اوقات ایسے کرتب دکھاتا کہ سارے گاؤں والے عش عش کر اٹھتے۔
لبھائی اسم کی دو بیویاں تھیں۔
اک کا نام معرفہ تھا۔ دوسری کا نام نکرہ۔
معرفہ آنٹی ہمیشہ خود کو خاص سمجھتی تھیں۔مشہور و معروف تھیں۔ سب انہیں جانتے تھے۔
نکرہ آنٹی بہت سادہ سی رہتیں۔عام سی خاتون تھیں۔ انکساری اتنی کہ خود کو کچھ نہیں سمجھتیں۔
آنٹی معرفہ کے سات بچے تھے۔
تین لڑکیاں اور چار نر بچے ہوئے۔
بچوں کے نام تھے ، ضمیر، علَم ، اشارہ ، موصول ، معرٗف باللام، معرف بالاضافة ، معرف بالنداء.
بھائی ضمیر ، وہ تو بس سارا دن ہی ،تو تو ، میں میں ، وہ وہ میں مصروف رہا کرتا ۔
بھائی علَم ، اپنے آپ کو اعلی اور خاص سمجھتا۔ اپنے خاص نام پر فخر جتاتا۔ کیوں کہ یہ لباس اور گفتگو کی بنا لوگ اس کو اچھا جانتے تھے اپنے غرور کی وجہ سے اکثر کہتا : میرے جیسا کوئی نہیں۔
بھائی اشارہ ، وہ تو بس دوسروں پر بلا وجہ انگلی اٹھا اٹھا کر الزام تراشی کرتا رہتا ۔ اس کے بغیر اسے سکون ہی نہیں ملتا۔
بھائی موصول، ہمیشہ اپنے دوست کے ساتھ مل کر کام کرتا۔ اور بھائی چارے کی فضا کو گرم رکھنے کی کوشیش میں لگا رہتا۔۔
معرف باللام بہن ، محترمہ اتنی نخریلی ہیں کہ بس ان کی ہمیشہ گھر میں لڑائی ہی رہتی ہے۔ ضد ہے کہ میرے شروع میں الف لام لگاؤ کیوں کہ وہ میری تب جان ہے۔
معرف بالاضافة بہن ، بہت ہوشیار لڑکی ہے ، اپنے خاص نام کو اپنے خاص پسندیدہ کھانے سے جوڑتی ہے تاکہ کوئی کھا نہ جاۓ۔
معرف بالنداء بہن ، بہت ضدی لڑکی ہے۔ اس سے سب بہت تنگ ہیں۔ کہتی ہے: میں اپنا کام سب کچھ خود کروں گی۔ کسی کو ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں۔
ندا بہن کے دو پکے دوست تھے۔
ایک کا نام مذکر ، دوسرے کا نام مونث تھا۔
مذکر میں لڑکی کی کوئی علامت نہ تھی۔
کہتا : میں میل ہوں۔میں لڑکا ہوں۔
مؤنث کہتی : میں لڑکی ہوں۔ مجھے کبھی کوئی غلطی سے بھی لڑکا نہ کہنا۔ میں بہت خطرناک ہوں۔
مؤنث کی 3 بیٹیاں ہیں۔
جن کے نام
گول ة ، الف مقصورہ اور الف ممدودہ ہیں۔
گول ة بہن، ایک ضدی لڑکی ہے ، جو کہتی ہے میری خوب صورت چاند سی گول شکل کبھی نہ بگاڑنا۔
الف ممدودہ بہن ، اونچی پوری دراز قد ہمدرد لڑکی ہے ، تنہا باہر نہیں نکلتی۔ باجی ھمزہ کو بھی اپنے ساتھ لیکر آتی ہے۔ خوش گلو اور بلند آہنگ ہے۔
الف مقصورہ بہن،
توبہ توبہ وہ تو باجی ھمزہ سے حسد کرتی ہے۔ ساتھ تو دور کی بات ہے ، کبھی اپنے پاس بھی نہیں بٹھاتی۔
مؤنث کے دو سہیلیاں ہیں۔
ایک کا نام آنٹی مؤنث حقیقی تو دوسری کا نام آنٹی مؤنث لفظی ہے۔
آنٹی مؤنث حقیقی ہمیشہ اپنا مقابلہ مرد کے ساتھ کرتی ہیں۔
آنٹی مؤنث لفظی ، بہت نرم و نازک ہیں۔ جسمانی طور پر کم فشار خون کی مریضہ ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ مرد کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اسی لیے آنٹی مونث حقیقی ، اسے چھوڑ کر واحد کے گھر چلی گئیں۔
واحد ہمیشہ اکیلا رہتا۔اس کا کوئی ساتھ نہیں دیتا تھا۔
واحد کے دو بھائی ہیں۔ ایک کا نام تثنیہ بھائی ہے، دوست مثنی بھائی کہتے ہیں۔
دوسرےکا نام جمع بھائی ہے۔
بھائی مثنی کہتے ہیں: میں تو صرف دو کے ساتھ رہوں گا۔ کسی تیسرے کے ساتھ مجھےکبھی گوارا نہیں۔
بھائی جمع توبہ توبہ !
وہ تو سارا دن دوست بناتا رہتا ہے۔کم از کم تین ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔ جمع سے گھر والے تنگ ہیں۔ جمع بیچارے کو گھر سے نکال دیا گیا ، وہ اپنے دوست جمع سالم اور جمع مکسر کے پاس گیا۔
جمع سالم ، ہمدرد انسان ہیں شریف ۔کسی کو نہیں چھیڑتے۔اپنی پیٹھ پر اون ، این ، آت کا بوجھ لاد لیتے ہیں۔
لیکن جمع مکسر ضدی بھی ہیں اور شعلہ مزاج بھی۔ پیسے نہیں ملتے ، یا کھانا نہیں ملتا تو گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی ڈانٹے تو کہتے ہیں : میں جدت پسند ہوں۔ نئی نئی چیزیں بناتا ہوں۔
کیسی لگی نحوی کہانی آپکو ضرور اپنی راۓ کا اظہار فرمائیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پڑھے لکھے بٹیر وں کی غیر علمی حکمت
ایک پروفیسر ٹرین میں سفر کر رہا تھا کہ ایک کسان ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ پروفیسر کو لگا کہ سفر لمبا ہے، کیوں نہ کچھ ذہنی ورزش کر لی جائے؟
اس نے کسان کی طرف دیکھا، جو بڑے مزے سے مونگ پھلی کھا رہا تھا، اور بولا:
پروفیسر (عینک ٹھیک کرتے ہوئے):
“چلو ایک گیم کھیلتے ہیں! میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا، اگر تم جواب نہ دے سکے تو مجھے 100 روپے دینا ہوں گے۔ پھر تم مجھ سے سوال پوچھو گے، اگر میں نہ بتا سکا تو میں تمہیں 500 روپے دوں گا۔”
کسان (سوچتے ہوئے):
“یعنی یا تو 100 کا نقصان یا 500 کا فائدہ؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ بکری پالوں، دودھ ملے تو ٹھیک، نہ ملے تو گوشت کا فائدہ! ٹھیک ہے، چلو کھیلتے ہیں!”
پروفیسر (اکڑ کر):
“زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟”
کسان نے ایک لمحے کا بھی ضائع کیے بغیر جیب سے 100 روپے نکالے اور پروفیسر کے ہاتھ پر رکھ دیے، جیسے کوئی عام سی بات ہو۔
پروفیسر (حیران ہو کر):
“تم نے سوچا بھی نہیں؟”
کسان (مسکراتے ہوئے): “ارے بھائی، میرا دماغ حساب کتاب کے لیے نہیں، کھیت جوڑنے کے لیے بنا ہے!”
اب کسان کی باری تھی۔
کسان (شرارتی انداز میں): “ایسا کون سا جانور ہے جو پہاڑ چڑھتے وقت تین ٹانگوں والا ہوتا ہے اور نیچے آتے وقت چار ٹانگوں والا؟”
پروفیسر کا دماغ ایک دم بریک فیل ٹرک کی طرح الٹنے لگا۔ اس نے سوچا، شاید کوئی نایاب جانور ہوگا، مگر ایسا سننے میں کبھی نہیں آیا تھا۔ اس نے ذہن پر زور ڈالا، فلسفے میں گھس گیا، نوٹس کھنگالے، اور تو اور، بغل میں بیٹھے مسافر کی طرف بھی مدد کے لیے دیکھنے لگا۔ آخر کار، پورے پندرہ منٹ کی کشمکش کے بعد، اس نے مایوس ہو کر کسان کو 500 روپے دے دیے۔
کسان نے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ سجائی، رقم لی، اور مزے سے سونے لگا۔
مگر پروفیسر کے لیے یہ ہار برداشت کرنا مشکل تھا! اس نے کسان کو ہلایا اور بولا: “یار، مجھے بھی تو بتاؤ کہ وہ جانور کون سا ہے؟”
کسان نے آنکھیں کھولیں، ایک لمبی جمائی لی، جیب سے 100 روپے نکالے، پروفیسر کو دیے، اور بغیر کچھ بولے پھر سو گیا!
پروفیسر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، اور باقی سفر وہ کھڑکی سے باہر دیکھ کر اپنی قسمت کو کوستا رہا!
یہ بیان بھی کچھ اسی طرح ہے سفر تو قوم کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں مگر عمل کھڑی سے باہر دیکھتے رہنا ہے
احتجاجی بیان: غیر ذمہ دارانہ اشاعت پر شدید ردعمل
قوم منتظر نہیں، بلکہ شدید اضطراب اور غصے میں ہے!
حال ہی میں حافظ ریاض نجفی صاحب سے منسوب کتاب میں حضرت ابوطالب علیہ السلام کی شان میں شیعہ عقائد کے صریحاً منافی مواد کی اشاعت ایک ناقابل معافی جسارت ہے۔ یہ بیان کہ یہ محض “کمپوزر کی غلطی” تھی، مضحکہ خیز، غیر ذمہ دارانہ اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔
❌ دجل اور غیر ذمہ داری کی انتہا
کتاب کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر یہ تلخ حقیقت عیاں ہوئی ہے کہ کتاب کا 80 فیصد سے زائد مواد ایک سنی مصنف کی تحریر سے کاپی پیسٹ کیا گیا ہے۔ یہ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محترم حافظ صاحب نے یہ کتاب تحریر ہی نہیں کی۔ یہ علمی خیانت، بدترین غیر ذمہ داری اور قوم کے ساتھ صریح دھوکہ دہی ہے۔
عزت کی بنیاد، کوئی سمجھوتہ نہیں
کسی بھی عالم، ذاکر، یا عزادار کی عزت کا سبب صرف اور صرف ہمارے پاک معصومین (ع) اور ان کے آباء و اجداد کی نسبت ہے۔ اگر ان مقدس ہستیوں، بالخصوص محافظ اسلام حضرت ابوطالب (ع) کے بارے میں شیعہ عقائد کی تضحیک کی جائے گی، تو اس پر احتجاج فرض ہے اور یہ احتجاج شدت اختیار کرے گا۔ ان پاک ہستیوں کے معاملے میں کوئی مصلحت یا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
تنقید نہیں، مطالبہ ہے!
جب علامہ ریاض رضوی صاحب نے اس سنگین غلطی کی بروقت نشاندہی کی، تو ان کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے، کچھ نادان، نالائق اور غیر علمی شعور رکھنے والے افراد ان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ جہالت کا عکاس ہے۔ حق بات کو دبانے کی یہ کوشش شدید قابل مذمت ہے۔
فوری اور حتمی اقدامات کا مطالبہ
قوم با شعور ہے اور وہ جھوٹی وضاحتوں پر یقین نہیں رکھتی۔ ہمارا مطالبہ واضح اور دو ٹوک ہے:
تمام کاپیاں فوری طور پر مارکیٹ سے واپس لی جائیں!
مصنف، ادارے اور پبلشر جھوٹی وضاحتیں دینے کی بجائے فوری طور پر ایک درست، شیعہ عقائد کے مطابق ترمیم شدہ ایڈیشن شائع کریں۔
جس طرح شیعہ عقائد کا مذاق اڑایا گیا ہے، اس کا سد باب عملی اقدامات سے کیا جائے۔
یہ علمی بددیانتی، عقائد کی تضحیک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اگر جلد از جلد ٹھوس عملی اقدام نہ کیا گیا، تو قوم کا احتجاج اگلے مرحلے میں داخل ہو کر ذمہ داران کے لیے سخت مسائل پیدا کرے گا۔
افسوس کی بات یہ ہے کے پوری زندگی مال امام پر پلنے والی کسی شخص نے بھی اس مسئلے پر بات نہیں کی ہے، ان سب کی خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کے یہ سب مولا ع کا دفاع کرنے کی بجائے ایک دوسرے کا دفاع کرتے ہیں، مومنیں کو عقل م دی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اس بت پرستی سے باہر آنا چاہیے
فوری اصلاح کرو!
…………………………..
رجب آیا اور معاویہ یاد آ گیا
صحابہ میں چھپے منافق اور دبیلہ پھوڑے سے
معاویہ کی موت کیسے ہوئی؟
حذیفہ رضی الله عنہ کی حدیث ہے ۔۔۔۔۔۔۔حذیفہ نے حدیث بیان کی اور غندر نے کہا میں بھی یہی خیال کرتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے صحابہ میں بارہ منافق ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے ان میں سے آٹھ کے لئے دبیلہ (آگ کا شعلہ) کافی ہوگا جو ان کے کندھوں سے ظاہر ہوگا یہاں تک کہ ان کی چھاتیاں توڑ کر نکل جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ: أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ، أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَلَكِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ» لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں معاویہ کے پاس تھا اور ایک معالج ان کا علاج کر رہا تھا اس پھوڑے کا جو اس کی پیٹھ میں تھا۔۔۔۔معاویہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان کو اس کے جسم میں تکلیف پہنچے تو وہ اس کے لئے اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتی ہے
[صحيح الترغيب والترهيب ,3/333بحذف یسیر]
معاویہ کو دبیلہ پھوڑا تھا،اسی میں فوتگی ہوئی:
[حسن صحيح] وعن أبي بردة قال:كنتُ عند معاوَيةَ، وطبيبٌ يعالِجُ قُرْحةً في ظَهْرِه….سمِعْتُ رسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يقول:”ما مِنْ مُسْلمٍ يُصيبُه أذَىً مِنْ جَسَدِه؛ إلا كانَ كَفَّارةً لِخَطاياهُ
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْواَدِعِيُّ الْقَاضِي، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَبِظَهْرِهِ قَرْحَةٌ….قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى فِي جَسَدِهِ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِخَطَايَاهُ» ، وَهَذَا أَشَدُّ الْأَذَى
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں معاویہ کے پاس گیا انکی پیتھ پے بڑا پھوڑا تھا۔۔۔ معاویہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان کو اس کے جسم میں تکلیف پہنچے تو وہ اس کے لئے اس کی خطاؤں کا کفارہ بن جاتی ہے…اور یہ پھوڑا شدید تکلیف دہ ہے
[المعجم الكبير للطبراني ,19/359 روایت842بحذف یسیر]
معاویہ دبیلہ پھوڑے سے مرا
: قال ابن قتيبة في المعارف – (1 / 79)
وولي معاوية الخلافة عشرين سنة إلا شهراً وتوفي سنة ستين وهو ابن اثنتين وثمانين سنة.
وقال ابن إسحاق: مات ( معاوية) وله ثمان وسبعون سنة وكانت علته النقابات وهي الدبيلة ولم يولد له في خلافته ولد،..الخ.
: ابن قتیبہ نے ابن اسحاق کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ معاویہ کو دبیلہ پھوڑا نکلا اس سے اسکی موت ہوگئی۔۔
ہماری دسترس میں کچھ نہیں ہوتا ہمیں تو بس امیدوں اور خوابوں سے بہلنا ہے امیدیں ٹوٹتی ہیں اور بکھرتی ہیں ہمارے خواب تعبیروں کا رستہ دیکھتے بـے جان ہوتے ہیں
جہاں پر گھپ اندھیرا ہو
چراغوں کی تمنا دھڑکنوں کی لے پہ رکھی ہو
ہمارے بخت میں کوئ ستارہ تو کجا
کوئی جگنو نہیں ہوتا
ہمارا گھر اگر تم کو کبھی روشن نظر آئے
چمکتا اور دمکتا یہ دکھائی دے
تو پھر تم یہ سمجھ لینا
ہمارے گھر کے دروازوں سے آگ لپٹی ہے
سبھی کچھ بھسم ہونے کا نظارہ کرنے آ جانا
مونا علی مونا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قوم کی پر درد کہانی اور بے کس و لاچار افراد
شازب جعفری کی یہ تحریر ہر درد بھرے مومنین کی دل کی آواز ہے آیئے اس آواز میں ان تاجران خون حسین اور آج کل کے گھیرے ذاکر اور غیر تعلم یافتہ ملا اور وردی پوش اور ادراوں کے نام نہاد لیڈر جن کا کام ہی صرف خمس حق سادات اور صدقہ جمع کر کے لوٹ کھوسٹ اور نوجوان نسل کو ورغلانا اور اپنے اب جدید طریقے سے خواتین اور جوان بچیوں کو تعویذ غنڈے کی جانب راغب کرنا رہ گیا ہے۔۔۔۔۔۔اگر یہ افراد اپنے کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں تو پہلے اپنی اولادوں اور نسل کو درست فرمائیں اس کے بعد گھر سے باہر توجہ دیں آیئے شارب جعفری کی دو قسط آپ کی نذر کر رہا ہوں پڑھنے کے بعد اپنی رائے سے ضرور نوازیں وسلام اکمل سید لندن
قسط نمبر 1
یہ تحریر جو میں لکھنے جا رہا ہوں یہ میں اپنے ذاتی تجربے اور آنکھوں دیکھے احوال اور مشاہدات لکھ رہا ہوں
آج میں شیعہ مکتبہ فکر میں پائے جانے والے ایک ایسے مخصوص
طبقے کا تعارف پیش کر رہا ہوں جنہیں تقریبا 80 فیصد شیعہ مکمل نہیں جانتے
یہ وہ طبقہ ہے جن کا کام بند،دوہڑا،نوحہ مرثیہ اور قصیدہ پڑھنا تھا لیکن انہوں نے اپنے شعبہ سے ہٹ کر ان شعبہ جات سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جن کی تعلیم وہ نہیں رکھتے تھے الف و ب بھی نہیں جانتے تھے
یعنی عقائد کے موضوع اور فقہی موضوعات اور بہت حساس موضوعات پر لب کشائی شروع کر دی جو کہ عوام الناس کے مابین متنازعہ موضوعات تھے یہ چیز جوانان ملت کے درمیان اختلافات کا سبب بنی گھر گھر میں لڑائی جھگڑے اور مسائل کا سبب بنی
اس سادہ لوح ملت نے آپسی جھگڑے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ جس بات پہ ہم لڑ رہے ہیں یہ کہہ کون رہا ہے
آئیے آج آپ کو اس طبقے کا تعارف کرواتا ہوں
جیسا کہ میں نے اوائل میں عرض کیا کہ شیعہ مسلمین کی 80 فیصد عوام اس بات سے ناآشنا ہے کہ ہمارے بچے جو مجلس میں ثواب کی غرض سے جاتے ہیں ہماری بچیاں جو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی تعلیمات حاصل کرنے جاتی ہیں ان کو مجلس سے جو واہیات قسم کی گفتگو شرک غلو جھوٹ فریب اور غیر متوازن غیر اخلاقی مواد جو دین کے نام پر ان کے ذہنوں میں ٹھونسا جا رہا ہے ٹھونسنے والے یہ لوگ دراصل کون لوگ ہیں کیا یہ اس قابل ہیں کہ یہ منبر پر بھی آ سکیں جس منبر سے ایک قوم کی تعمیر ہونی ہے اس منبر پر آنے کی اہلیت یہ لوگ رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے
آئیے آج آپکو ان کا تعارف کرواتا ہوں کہ یہ جو تشیع کے جسم میں کینسر کی طرح سرایت کرنے والے کون ہیں جنہوں نے شیعت جیسے توانا جسم کو بیمار کر دیا ہے
منبر پہ ذاکرین کی صورت میں مجالس پڑھنے والے نوحہ پڑھنے والے مرثیہ پڑھنے والے فضائل و مصائب پڑھنے والے 70 فیصد میراثی ہیں باقی 30 فیصد سید اور دیگر قبائل کے لوگ ہیں
وہ میراثی جن کی بنیاد یہ ہے کہ ان میں سے کوئی حجام تھا کوئی مالشی کوئی باراتیں مانگنے والا کوئی شادیوں مہندیوں پہ گانے والا یا شادیوں کے فنکشن پہ بینڈ باجے کی خدمات دینے والے ہوتے ہیں
یعنی پیشے کے اعتبار سے انہیں پیشوں سے منسلک تھے بلکہ ان کے آباء و اجداد یا دیگر بھائی ابھی بھی انہیں پیشوں سے منسلک ہیں
جیسا کہ ذاکر حبیب حیدری کا ونیکے تارڑ تھانے کے ساتھ حمام تھا دن کو یہ حجامتیں کرتا اور رات کو تھانے دار کی مالش کرتا ٹانگیں دباتا تھا
اور یہ مصدقہ بات ہے میں سنی سنائی باتیں نہیں لکھتا۔
یہ کوئی مذہبی خاندان نہیں ہوتے
یعنی میں نے ایسے میراثی بھی دیکھے ہیں جن کے خاندان پڑھے لکھے خواتین باپردہ اور عزت دار لوگ ہوتے ہیں میں نے عالم دیکھے ہیں جن کا تعلق اسی قبیلے سے ہے
لیکن ان ذاکرین کا معاملہ بڑا گھمبیر ہے
یہ خاندانی طور پر تباہ حال اور مذہبی تعلیمات سے کوسوں دور ہوتے ہیں ان کے بچوں اور انکی خواتین کو مذہب کی الف ب کا بھی علم نہیں ہوتا انگریزی کی اصطلاح میں نان پریکٹسنگ شیعہ ہوتے ہیں
ہاں یہ اور ان کے بچے انکی عورتیں سریلی ہوتی ہیں اور اسی سُر کے بلبوتے پر انکی روزی روٹی کا بندوبست ہوتا ہے
خواتین میں پردے کا رواج بالکل نہیں ہوتا اکثر بچے اسکول نہیں جاتے
یہ جو آج بڑے معروف بڑے نام ہیں ان میں سے اکثریت ایسے ہیں کہ خواتین بہن بیٹیاں اور بہووئیں زمینداروں اور وڈیروں کے گھروں میں کام کرتی ہیں
عام تاثر یہ ہے کہ یہ سادات کا بڑا احترام کرتے ہیں حقیقتاً یہ جھوٹ ہے اس میں کوئی صداقت نہیں
یہ میراثی ہر اس بندے کا احترام کرتے ہیں جن سے انہیں مفاد ہوتا ہے ہر اس بندے کے گھٹنے چھوتے ہیں جن سے انہیں مطلب ہوتا ہے
لہذا سادات ان کے جھوٹے پروٹوکول پہ چوڑے نہ ہوا کریں کہ خوشامدی مفاد پرست ہوتے ہیں
سادات ان سے بہت مانوس ہوتے ہیں اکثر خوشامد پسند سادات کی ان کے ساتھ بڑی بنتی ہے ان کے گھروں میں آنا جانا اور انکی سریلی ہانڈیوں سریلی چائے کے ساتھ ساتھ انکی سریلی عورتوں سے بھی محظوظ ہوتے ہیں,کیونکہ ان کے ہاں پردہ تو ہوتا نہیں اور شاہ جی سے تو بالکل بھی پردہ نہیں ہے۔
اکثر جو سید ذاکرین ہیں انہوں نے انہیں میراثیوں کا جوٹھا کھایا ہوتا ہے اور وہ بھی آدھے میراثی بن گئے ہوتے ہیں بقول ذاکر سجاد شاہ شمہاری کے کہ اصلی سید ہوتا ہی وہ ہے جو اندر سے میراثی ہو
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قسط نمبر 2
شیعہ منبروں سے شیعوں کے بچوں کی مومنین کے بچوں بچیوں کی سادات کے بچے بچیوں کی تربیت وہ لوگ کر رہے ہیں جو نور جہان کو اپنی ماں مانتے ہیں اور خاں صاحب غلام علی کو باپ مانتے ہیں اور نصرت فتح علی خاں کو اپنا دادا مانتے ہیں
جن کے گھروں کا ماحول انتہائی غلیظ ہے ان کے سوزی ان کی بہن بیٹیوں اور بیویوں سے تعلقات بنا لیتے ہیں اور یہ انہوں نے سوزویوں کی بہنوں بیٹیوں اور بیویوں سے تعلقات بنائے ہوئے ہوتے ہیں (یہ میرے آنکھوں دیکھے مشاہدات ہیں)
آپ یقین کریں کہ اتنی کھل کر باتیں کرنے کے باوجود کچھ باتیں میں پھر بھی نہیں کھول سکتا یہ لوگ اتنے گندے ہیں
سادات ذاکرین ایک کام اچھا کرتے ہیں کہ یہ اپنے میراثی سوزیوں کو گھر تک رسائی نہیں دیتے ورنہ خدا جانتا ہے کہ یہ اتنے گھٹیا اور پست لوگ ہیں کہ ان کے دلوں میں ذرہ بھی سید زادیوں کا حیاء نہیں ہے یہ جو حرمت سادات کا نعرہ بلند کرتے ہیں یہ محض سادات سے اپنے مفادات نکالنے کیلیے کرتے ہیں بس
ان بھانڈوں کی صورتحال یہ ہے کہ یہ ذاکر ہوں یا سوزی ہوں یہ اپنے سوزویوں کو یا جس ذاکر کے ساتھ یہ سوزی ہوتے ہیں اس ذاکر کو اپنے اگلے کمرے تک رسائی دیتے ہیں
جب بھی بےروزگار سوزی شاہ صاحب اس بھانڈ کے گھر آتے ہیں وہ دروازے پہ دستک نہیں دیتے سیدھا اندر آتے ہیں یاعلی مدد جی
آگے انکی عورتیں شاہ صاحب کو خوش آمدید کہتی ہیں پیر مولا علی مدد شاہ جی بسم اللہ کریے اندر آ جاؤ،ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر شاہ صاحب کو جھک کر سلام کرتی ہیں شاہ صاحب کے اندر لڈو پھوٹتے ہیں کہ اللہ کرے گھر کوئی نا ہووے
پھر آہستہ آہستہ شاہ صاحب کے تعلقات مردوں سے زیادہ عورتوں سے اچھے بن جاتے ہیں
جب یہ مجلس پڑھنے کی تیاری کرتے ہیں جس کو یہ ریہاسل کا نام دیتے ہیں اگر آپ وہ دیکھ اور سن لیں تو آپ کا مجالس سے دل ہی اکتا جائے،
جیسے یہ مصائب پڑھتے ہوئے ہنستے ہیں جیسے یہ تھوڑی سی سُر خراب ہونے پر قہقے لگاتے ہیں جس طرح یہ مخدرات عصمت طہارت کے نام لیکر پھر ساتھ ایک دوسرے کو گندی گالیاں دیتے ہیں
پھر مجلس پڑھنے جاتے ہوئے اور مجلس پڑھ کر آتے ہوئے گاڑی کے اندر جو ماحول ہوتا ہے وہ اس سے بھی غلیظ ہوتا ہے،مجرے اسٹیج ڈرامے چل رہے ہوتے ہیں مجرے کو اسکرین پر روک کر پھر مصائب شروع کر لیں گے پھر وہیں سے مجرہ شروع کر لیں گے،اسٹیج ڈرامے کی جگتیں لگا کر قہقے لگائیں گے پھر نوحہ پڑھیں گے پھر مخدرات کے پاکیزہ نام اس نجس اور غلیظ ماحول میں لیں گے سوزی بھی جانتے ہیں کہ یہ کتنا غلیظ انسان ہے اور یہ بھی جانتا ہے یہ چاروں کتنے بدکردار ہیں،یہ جانتا ہے کہ میرا فلاں سوزی میری بیوی کے ساتھ صحیح نہیں ہے فلاں بیٹی کے ساتھ صحیح نہیں ہے اور فلاں بہن کے ساتھ صحیح نہیں ہے لیکن کیا کرے بےغیرت ہے چھوڑ بھی نہیں سکتا مشکل سے سریلے سوزی ملے ہیں جن کی وجہ سے روزی روٹی چل رہی ہے موج کریں یہ ان سوزیوں کی عورتوں کو پھنسا کر بدلہ لے لیتا ہے۔
سوزیوں کی مجبوری یہ ہے کہ ان کے چولہا اسکی وجہ سے چل رہا ہے
اور ایک سوزی جس نے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کر کے آنے سے معذرت کی وہ سب سے رامی ہوتا ہے کیونکہ وہ پیچھے ذاکر صاحب کے گھر پہنچا ہوا ہوتا ہے حالانکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ گھر سے نکل گئے ہیں لیکن وہ سیدھا گھر جاتا ہے یاعلی مدد جی اور آگے سے خواتین کہتی ہیں پیر مولا علی مدد شاہ جی آ جاؤ شاہ جی اندر ای آ جاؤ،اچھا چلے گئے ہیں؟ وہ کہتی ہیں ہاں جی چلے گئے ہیں،اچھا اچھا میں سمجھا ابھی گھر ہی ہونگے،اچھا فر ایک اچھی جئی سریلی جئی شاہ پلاؤ🙃
اور پہلی قسط میں میں نے عرض کیا کہ یہ لوگ اس قدر بےغیرت اور بےضمیر ہیں کہ یہ گھر پڑے ہوئے ہوتے ہیں اور انکی عورتیں ان کی بہنیں بیٹیاں بہوؤئیں لوگوں کے گھروں میں کام کر رہی ہوتی ہیں۔
یہ باراتیں مانگنے والے خاندانی بھکاری لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے والے منگتے ہمیں منبروں سے بتائیں کہ السلام علیکم کہنا ہے یا یاعلی مدد کہنا ہے؟
یہ بتائیں گے کہ مجتہد غلط ہے اور میری بات معتبر ہے؟
یہ شیعہ قوم کو بتائیں گے کہ عقائد کیا ہیں؟
یہ بتائیں گے کہ تشہد میں کیا پڑھنا ہے؟
ان کے کہنے پر تو دو کتے آپس میں نہ لڑیں آپ انسان ہو کے ان کتوں کے کہنے پر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہو…
کیا آپ چاہیں گے کہ یہ ذلیل طبقہ خبیث طبقہ غلیظ طبقہ آپ کے بچوں کی آپکی بچیوں کی تربیت کرے ؟
ذکر کے نام پر کب تک بیوقوف بنیں گے؟
انکی مجالس کا ہی بائیکاٹ کرو کہ جہاں یہ نجس طبقہ پڑھے گا ہمارے بچے ہماری بچیاں ہماری خواتین ان مجالس میں شرکت نہیں کریں گی
خود سوچیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے والے ایک قوم کی تربیت کر سکتے ہیں ؟
وہ کیسے کہیں گے کہ امام حسین علیہ السلام کا راستہ عزت کا راستہ ہے جبکہ اسکا اپنا پورا خاندان مانگنے والا اور ویلیں پکڑنے والا ہے
ایک شخص جسکی بہن بیوی یا بیٹی کسی کے گھر میں کام کر رہی ہے وہ منبر سے ایک قوم کے بچوں کو غیرت کا درس دے سکتا ہے؟
ان کو تو منبر پہ بھی نہیں آنا چاہیے اور ہم نے منبر کیا پورے کا پورا دین ان کے حوالے کر دیا وہ فتوے دے رہے ہیں اور ہم واہ واہ کر رہے ہیں۔۔
ابھی اور بہت کچھ ان شاءاللہ اگلی اقساط میں
پہلی قسط پڑھنے کےلیے وال وزٹ کریں.
جو احباب میری طرح اس گندے سسٹم کو اندر سے جانتے ہیں وہ کمنٹ باکس میں تائید ضرور کریں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
تو یہ ہیں آج کل کے اسلامی اور با ریش اور وردی پوش افراد
نکاح جیسی سنت اور فراڈ جس میں وردی بھی ہے اور ریش بھی چند دھوکے باز
جب خون حسین کے تاجروں کا خون بیچ کر پیٹ نہیں بھرا تو عوام کو لوٹنے کا اور دھوکہ دینے کے لئے تیار۔۔۔۔۔۔
لاہور ﺳﮯ آیبٹ آباد
ﺑﺲ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺑﺲ ﺳﭩﯿﺸﻦ ﺳﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﻓﺮﻧﭧ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺟﻮ بہت ﺍﭼﻬﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﺎ ﮐﻬﮍے ﮨﻮ گئے ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ” ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻬﺎﺋﯿﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻬﮑﺎﺭﯼ ﯾﺎ ﮔﺪﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺯﯼ ﻣﺮﺽ ﺳﮯ اللہ کو پیاری ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﭽﻬﮧ ﺩﻥ ﮔﺰﺭے اور ﻣﯿﺮﯼ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ..
ﻣﯿﺮﺍ ﺗﯿﺎﺭ ﺷﺪﮦ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺟﻞ ﮐﺮ ﺧﺎﮐﺴﺘﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ پھر ﮐﭽﻬﮧ ﻣﺪﺕ ﮔﺬﺭﯼ ﮐﮧ ﻣﺠﻬﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍﺍ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ نے ﺟﺐ ﯾﮧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻨﮯ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮐﻢ ﮨﯽ ﺩﯼ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺍﺭﺙ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﻮ ﺗﺎﺭ ﺗﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﯾﮩﯽ ﻏﻢ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻬﺎﺋﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﮨﭽﮑﯽ ﺑﻨﺪﻫﮧ ﮔﺌﯽ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﺎﻝ ﻟﮍﮐﯽ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﻬﯽ ﺗﻬﯽ ﺍٹھی ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ سہارا دے ﮐﺮ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ…
ﺑﺲ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺳﯿﭧ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻬﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ.. ” ﻣﯿﺮﮮ 2 ﺑﯿﭩﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﯿﭩﻬﺎ ﮨﻮﺍ ہے، ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ لیے ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﮨﮯ . ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﻭﮞ گا.. ” لڑکا کھڑا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ..
بس میں موجود ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻬﮍﮮ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ” ﯾﮧ ﺳﻔﺮ بہت ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﻔﺮ ﮨﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﻘﺪﺱ ﻋﻤﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ وہ بھی سفر میں اس سے اچھی بات کیا ہو گی؟؟ اگر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﻫا دوں ” ﺳﺐ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ .'” ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ . ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ . ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ” ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﻫا دیا..
ﺍﯾﮏ اور ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻬﮍﮮ ﮨﻮ گئے ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ.. ” ﻣﯿﮟ ﭼﻬﭩﯽ ﭘﮧ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻬﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ لیے ﻟﮉﻭ لے کر مگر ﺍﺱ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﻬﮧ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ کہ لڈو ادھر ہی تقسیم کر دیں اس نے دولہن کے باپ سے مخاطب ہوتے ہوے کہا..
دولہن کے باپ نے ڈرائیور سے کہا ڈرئیور میاں 5 منٹ کسی جگہ بس روک دینا تاکہ سب مل کر منہ میٹھا کر لیں، ڈرائیور نے کہا ٹھیک ہے بابا جی… ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺍﻧﺪﻫﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﺲ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ..
ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﻣﺴﺎﻓﺮ مل کر لڈو کھانے لگے، ﻟﮉﻭ ﮐﻬﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﺐ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺳﻮ ﮔﺌﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﺟﺐ ﻧﯿﻨﺪ سے ﺟﺎگے ﺗﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ8 ﺑﺠﮯ ﺗﻬﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﻟﮩﻦ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﮩﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﭖ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﻟﮉﻭ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﺲ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﺗﻬﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﮔﻬﮍﯼ ﻧﮧ ﭼﯿﻦ ﻧﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﭽﻬﮧ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ 6 ﻣﻤﺒﺮﺯ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻟﻮﭦ ﭼﮑﺎ ﺗﻬﺎ. ہوشیار رہیں اور زیادہ جذباتی مت ہوں ورنہ دھوکے بازوں کو ایسے ہی رزق حرام ملتا رہے گا
……………………
مشرقی یا مغربی عورتوں کے گروپ
1۔ بشیراں، نزیراں گروپ: –
یہ عورتیں چٹی انپڑھ سے لے کر پانچ چھ جماعت پاس ہوتی ہیں . انہیں دنیا کے حالات اور کرونا، شرونا کچھ معلوم نہیں ہوتا ان کی دنیا شوہر بچے اور گھر ہوتا ہے۔ یہ اپنی زندگی چولھے، نلکے،کھیت اور گھر کے کورنٹائین میں بتا دیتی ہیں ۔ انکی سب سے بڑی عیاشی میکے جانا ہوتا ہے۔ انکے بچے موٹے دماغ کے لیکن بہادر اور زندگی کی اونچ نیچ سے آشنا ہو تے ہیں۔ ان کے شوہر اکثر آخری عمر میں حج و عمرہ بھی کر لیتے ہیں اور حاجی صاحب کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اپنی زوجہ کا ذکر تریمت، زنانی، یا فقیرنی کہہ کر کرتے ہیں۔
2۔ نسرین، پروین گروپ :-
یہ گروپ آٹھویں جماعت سے لے کر میٹرک, ایف اے پاس یا فیل تک ہوتا ہے یہ عورتوں کا سب سے خطرناک گروپ ہے۔ اس گروپ کی عورتیں اگر پڑوس میں کوئی نئے ڈیزائن کا فریج، کپڑے یا فرنیچردیکھ لیں تو یہ اپنے شوہر سے لڑ جھگڑ کر وہ چیز خرید لاتی ہیں۔ انکے شوہر کی آدھی تنخواہ کمیٹیوں کی نظر ہو جاتی ہے۔ موبائل کمپنیوں کے سارے پیکجز ان کو معلوم ہوتے ہیں۔ ٹی وی کے ہفتہ وار ڈرامے اور کردار انکو ازبر ہوتے ہیں، شوہر پرائم ٹائم میں جب ٹاک شو دیکھنے کے چکر میں ہوتا ہے لیکن اسے بچوں اور بیگم کے اس ایک فقرے پہ پسپا ہونا پڑتا ہے کہ” یہ ڈرامہ اچھا ہے”۔
ایسی عورت ٹی وی ریموٹ اور شوہر کے موبائل کو اپنا سوکن سمجھتی ہے ۔ ان کے شوہر کی ساری زندگی بیوی کی فرمائشیں پوری کرتے گزر جاتی ہے ۔ ایسے شوہروں کا اخروی زندگی اور جنت، جہنم کا تصور بہت واضح ہوتا ہے۔ ان کے شوہر کی تفریح کا واحد وقت مسجد میں نماز پڑھنے کا ہوتا ہے، اکثر لمبے لمبے نوافل پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے بچے جب مسجد جاتے ہیں تو شلوار قمیص اور باقی وقت میں پینٹ شرٹ پہنے رکھتے ہیں۔ یہ اپنی بیوی کو دوسروں کے سامنے، بیگم، ہوم منسٹر یا جان کہہ کر پکارتے ہیں، اکثر رات کو اٹھ کر بچے کا فیڈر بھی تازہ کر رہے ہوتے ہیں۔ رات کے اس سمے انکے ہاتھ سے اکثر برتن بھی ٹوٹ رہے ہوتے ہیں، جنکو یہ اونچی آواز میں کھانس کر دبا جاتے ہیں۔ دودھ والے سے دودھ لینا اور گرم کرنا انکے فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے۔ انکے سامنے چولھے پہ چڑھا دودھ عین اس وقت ابل پڑتا ہے، جب انکی نظریں فیسبک یا واٹس ایپ پر گڑھی ہوتی ہیں۔ یہ اپنی ملازمت کے دوران ہی ایک آدھ سوزوکی کار کے مالک بھی بن جاتے ہیں اور گہرے رنگ کا چشمہ پہن کر چشم تصور میں جی ایل آئی چلاتے نظر آتے ہیں۔ اس دوران اگر کوئی تیز رفتار لگڑری گاڑی انکے پاس سے شوں کرکے گزرے تو یہ صرف آہ بھر کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے شوہروں کی اپنے بہن بھائیوں میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور سسرال میں یہ سونے کی چڑیا سمجھے جاتے
3. نتاشا یا شبو گروپ:-
اس کو آپ عورتوں کا ایلیٹ گروپ کہہ سکتے ہیں۔ اس گروپ کی عورتیں بی اے سے لیکر پوسٹ گریجویٹ اور آگے تک پڑھ لکھ جاتی ہیں ۔ شادی کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کی زندگی میں ٹھہراؤ سا آ جاتا ہے۔ یہ اکثر ورکنگ وومن ہوتی ہیں۔ ان کے شوہروں کو اکثر آپ نے دودھ ،دہی اور روٹی کی دکانوں پر پریشان حال دیکھا ہو گا۔ ایسی عورتیں بہت کم گو ہوتی ہیں۔ انکے شوہر آرام سے موبائل پہ اپنا وقت گزار سکتے ہیں اور اکثر زنانہ آئی ڈیز کی سیر کرتے نظر آتے ہیں۔یہ اپنی بیوی کو بیگم، یا میڈم کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ایک آدھ اچھی سیکنڈ ہینڈ کار کے بھی مالک ہوتے ہیں۔ یہ دونوں میاں بیوی زندگی کے ہر معاملے میں حساس اور احتیاط پسند ہوتے ہیں۔ سالوں بعد اپنے آبائی گاؤں کا چکر لگاتے ہیں۔ اس گروپ کی عورتیں اکثر برانڈڈ گلاسز پہنے رکھتی ہیں اور ہر ایک سے اردو یا انگریزی میں بات کرتی ہیں۔ اور غریب طبقے کو بیچارہ سمجھتی ہیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان خواتین کے حقوق سے خبردار رہنا ہوگا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نوکری اور بعد نوکری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب آدمی ریٹائر ہو جاتا ہے
اور اچانک سارا وقت گھر میں گزارنے لگتا ہے
تو کبھی کبھی گھر کا سکون بھی الٹ جاتا ہے
اسی طرح ایک بزرگ تھے
ریٹائر ہو کر گھر بیٹھے
شروع میں سب خوش تھے
کہ اب ابّا گھر میں رہیں گے
لیکن کچھ ہی دنوں میں مسئلہ بن گیا
ہر بات پر ٹوکنا
کبھی بجلی کے بل پر غصہ
کبھی کہنا اے سی بند کر دو
کبھی پانی کیوں بہہ رہا ہے
کپڑے دھوئے یا نہیں
گھر صاف ہوا یا نہیں
ہر وقت تنقید
ہر وقت شکایت
پورے گھر کی فضا خراب ہونے لگی
بیوی بھی تنگ
بچے بھی تنگ
اور سب کے دل میں یہی احساس
کہ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر کی سانسیں رک سی گئی ہیں
ایک دن خود بزرگ کو بھی احساس ہو گیا
کہ گھر میں سب مجھ سے پریشان ہیں
میری موجودگی گھر والوں کے لیے بوجھ بن رہی ہے
تو دل ٹوٹ گیا
اور سوچا
کہ گھر میں کم رہوں
تاکہ ماحول بہتر ہو جائے
وہ روز باہر نکلنے لگے
پارک میں بیٹھنا
بازار کا چکر
بس ایسے ہی وقت گزارنا
تاکہ کسی کو تنگ بھی نہ کریں
اور خود بھی ذہنی دباؤ سے بچیں
ایک دن بازار میں
ایک پرانی واقفیت والی خاتون مل گئیں
عمر میں چھوٹی
اپنی زندگی کے مسئلوں سے گزرتی ہوئی
کہنے لگیں
میں بھی مشکل وقت سے گزری ہوں
اکیلی ہوں
اور آپ کی حالت بھی سن کر دل دکھا
باتوں باتوں میں وہ دونوں قریب آئے
اور دونوں نے فیصلہ کیا
کہ اپنی تنہائی اور ذہنی تھکن ختم کرنے کے لیے
ایک نیا زندگی کا فیصلہ کیا جائے
سو دونوں نے نکاح کر لیا
اب اگلی صبح
بزرگ گھر واپس آئے
بیوی نے پوچھا
کہاں تھے
رات کہاں گزاری
بزرگ نے کہا
الحمدللہ نوکری مل گئی ہے
بیوی خوش
دل سے دعا دی
کہ چلو آپ کا بھی دل لگا رہے گا
اور گھر کا ماحول بھی بہتر رہے گا
پوچھا
کیا نوکری ملی ہے
بزرگ بولے
رات کی ڈیوٹی
چوکیداری
بیوی نے خوش ہو کر کہا
بہت اچھا فیصلہ ہے
رات کی ڈیوٹی ہے
تو صبح آرام سے گھر آ جایا کریں
میں ناشتہ بھی بنا دوں گی
آپ بھی سکون سے وقت گزاریں گے
یوں بڑے میاں کی
گھر میں عزت بھی واپس آ گئی
گھر کا سکون بھی
اور سب نے شکر کیا
کہ خاموشی سے مسئلہ ایسے حل ہوا
کہ نہ گھر ٹوٹا
نہ دل ٹوٹے
اور ماحول بھی سدھر گیا
اصل بات یہ ہے
کہ آدمی گھر میں فارغ ہو کر بیٹھ جائے
تو گھر کی برداشت بھی ختم ہو جاتی ہے
اور اس کا اپنا صبر بھی
مصروف رہیے
کیونکہ یہ بہترین علاج ہے
گھر کے سکون کے لیے بھی
اور اپنے دل کے لیے بھی
…………………………..
موت اور انسان قرآنی حوالوں میں
موت کی چھ علامتیں جو اس کے قریب ہونے کی نشانی ہیں
موت کے چھ مراحل ہوتے ہیں۔
پہلا مرحلہ “یوم الموت” کہلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب انسان کی زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ زمین پر جائیں اور انسان کی روح قبض کریں تاکہ اسے اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار کیا جا سکے۔
بدقسمتی سے، کوئی بھی اس دن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اور جب وہ دن آتا ہے، انسان کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ اس کی موت کا دن ہے۔
تاہم، انسان اپنے جسم میں تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔ مثلاً مؤمن کے دل کو اس دن خوشی اور سکون ملتا ہے، جبکہ برے اعمال کرنے والے کو سینے اور دل میں دباؤ محسوس ہوتا ہے۔
اس مرحلے پر شیاطین اور جنات فرشتوں کے نزول کو دیکھتے ہیں، لیکن انسان انہیں نہیں دیکھ سکتا۔
قرآن کریم میں اس مرحلے کا ذکر یوں کیا گیا ہے:
“اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔”
(سورة البقرة: 281)
دوسرا مرحلہ: روح کا تدریجی طور پر نکلنا
یہ مرحلہ پاؤں کے تلووں سے شروع ہوتا ہے۔ روح آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھتی ہے، ٹانگوں، گھٹنوں، پیٹ، ناف اور سینے سے گزرتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر پہنچتی ہے جسے “ترقی” کہا جاتا ہے۔
اس مقام پر انسان تھکن اور چکر محسوس کرتا ہے اور کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کی جسمانی طاقت ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ اب بھی نہیں سمجھ پاتا کہ اس کی روح جسم سے نکل رہی ہے۔
تیسرا مرحلہ: “ترقی” کا مرحلہ
قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:
“ہرگز نہیں، جب روح حلق تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا، کون جھاڑ پھونک کرے گا؟ اور وہ سمجھے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے۔ اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔”
(سورة القیامة: 26-29)
ترقی حلق کے نیچے کے دو ہڈیوں کو کہا جاتا ہے جو کندھوں تک پھیلتی ہیں۔
“وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ” کا مطلب ہے کہ کون روح کو لے کر جائے گا؟
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ ڈاکٹر یا ایمبولینس بلانے یا قرآن پڑھنے کی بات کرتے ہیں، لیکن انسان ابھی بھی زندگی کی امید رکھتا ہے۔
“وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ” کا مطلب ہے کہ انسان کو موت کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے، لیکن وہ اب بھی بقا کی کوشش کرتا ہے۔
“وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ” یعنی روح کے نکلنے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اور جسم کے نچلے حصے بے جان ہو چکے ہیں۔
چوتھا مرحلہ: “حلقوم” کا مرحلہ
یہ موت کا آخری مرحلہ ہے، جو انسان کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کے سامنے پردے ہٹ جاتے ہیں، اور وہ اپنے ارد گرد موجود فرشتوں کو دیکھتا ہے۔
یہاں سے انسان آخرت کو دیکھنا شروع کرتا ہے:
“ہم نے تمہاری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا، آج تمہاری نظر تیز ہے۔”
(سورة ق: 22)
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“پھر کیوں نہیں جب روح حلق تک پہنچ جائے۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو، اور ہم تم سے زیادہ قریب ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔”
(سورة الواقعة: 83-85)
یہ وہ وقت ہے جب انسان اللہ کی رحمت یا غضب دیکھتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے اعمال کو اپنی نظروں کے سامنے گزرتا ہوا دیکھتا ہے، اور شیطان اسے گمراہ کرنے کی آخری کوشش کرتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
“اور کہو، اے میرے رب، میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس سے بھی کہ وہ میرے پاس آئیں۔”
(سورة المؤمنون: 97-98)
پانچواں مرحلہ: “ملک الموت” کا داخلہ
یہ مرحلہ وہ ہے جہاں انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ رحمت والوں میں سے ہے یا عذاب والوں میں سے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور جن کی روحیں فرشتے سختی سے نکالتے ہیں، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں۔”
(سورة محمد: 27)
اگر انسان مؤمن ہے تو اس کی روح نرمی سے نکلتی ہے، جیسے پانی کا قطرہ مشکیزے سے نکلتا ہے۔
اللہ فرماتا ہے:
“اے اطمینان والی روح، اپنے رب کی طرف لوٹ، راضی اور مرضی، اور میرے بندوں میں شامل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔”
(سورة الفجر: 27-30)
چھٹا اور آخری مرحلہ
یہ مرحلہ وہ ہے جب انسان کی روح مکمل طور پر جسم سے نکل جاتی ہے۔ اگر وہ گناہ گار ہے تو کہتا ہے:
“اے میرے رب، مجھے واپس بھیج دے، تاکہ میں نیک عمل کر سکوں۔”
لیکن اللہ فرماتا ہے:
“ہرگز نہیں، یہ صرف ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اور ان کے پیچھے ایک پردہ ہے، قیامت کے دن تک۔”
(سورة المؤمنون: 99-100)
“اور موت کی سختی حق کے ساتھ آئے گی، یہی وہ ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔”
(سورة ق: 19)
یہاں مؤمن کے لیے جنت کی بشارت ہے، جبکہ گناہ گار کے لیے عذاب کی وعید۔
ایک مفسر سے پوچھا گیا کہ لوگ موت سے کیوں ڈرتے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا:
“کیونکہ تم نے دنیا کو آباد کیا اور آخرت کو برباد کر دیا۔”
اے میرے اللّٰہ؟ ہمارے اخری خاتمہ دین اسلام پر فرما۔۔۔ (آمین)
اس تحریر کو بزم بانو قدسیہ اور اشفاق احمد سے معستار لیا ہے
……………………………
نماز اور خلفائے اسلام
کیا خلفاء کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔۔ !! آج کل کا اہم سوال جو زبان زد عام ہے
یہ سوال اھلسنت کا ھر فرد بڑے فخر یہ انداز میں شیعوں کے خلاف ایک بہت بڑے ھتھیار کے طور پر استعمال کرتا ھے ۔ ان کے اپنے خیال میں یہ ایک ایسا سوال ھے جو اھلسنت کے خلفاء ثلاثہ کی خلافت کو ثابت کر سکتا ھے ۔ اور انکی خلافت کو قانونی اور شرعی جواز مل سکتا ھے ۔ اور شیعوں کے خلفاء ثلاثہ کے خلاف موقف کو باطل ثابت کر نے کے لیئے ایک دندان شکن سوال ھے ۔ ان کے خیال کے مطابق جس کا جواب کوئی شیعہ عالم نہیں دے سکتا ۔ اسی لیئے سوال بنانے والوں نے بڑے سوچ سمجھ کر یہ سوال ارشاد بھٹی صاحب کے ہاتھوں تھما دیا تھا ۔ اور انہوں نے یہ سوال علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی صاحب کے سامنے رکھا ۔۔
🔵 سوال یہ تھا کہ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام خلیفہ اول کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ اس عمل سے یہ ثابت ھوتا ھے ۔ کہ حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں خلفاء ثلاثہ عادل تھے ۔ بس وہ امامت اور خلافت کے اھل تھے ۔ لہذا شیعوں کا خلفاء ثلاثہ کو نہ ماننا باطل عقیدہ ھے ۔۔۔۔۔۔۔ !!
🌒 اور اھلسنت اپنے اس مدعا کو بعضے شیعہ کتب روایات سے پیش کرتے ھوئے کہتے ھیں کہ جناب امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے پہلے خلیفہ کے پیچھے نماز پڑھی تھی ۔ پھر اس بات کو دلیل بنا کر کہتے ھیں ۔ کہ “کسی کے پیچھے نماز پڑھنا اس کی عدالت اور حقانیت کی دلیل ھے”۔۔ لہٰذا اگر امام علی علیہ السلام نے خلفاء کے پیچھے نماز پڑھی ھے تو اس کا مطلب ھے کہ آپؑ خلفاء کے عادل اور حق پر ھونے کے قائل تھے ۔ اسی بنا پر وہ کہتے ھیں کہ خلفاء کی خلافت جائز تھی اور شیعوں کا ان کے خلاف اعتراض بے بنیاد ھے ۔۔
🛑 جواب :
🛑 اس کا جواب ھم دو پہلوؤں سے دیں گے ۔
❤️🩹 1- روایات کی سند ،،
❤️🩹 2- اور مفہوم پر اعتراض ،،
اولاً ، جو روایات امام علیؑ علیہ السلام کے خلفاء کے پیچھے نماز پڑھنے کی بات کرتی ھیں ، وہ یا تو ضعیف السند ھیں یا ان کا مفہوم متنازعہ ھے ۔ بعضے روایات میں صرف یہ بیان ھوا ھے کہ امامؑ نے اجتماعی نماز میں شرکت کی ، لیکن یہ واضح نہیں کہ آپؑ نے کسی خاص خلیفہ کے پیچھے اقتداء کی تھی ۔ شیعہ عقیدے کے مطابق امامؑ کی شرکت کا مقصد امت کے اتحاد کو برقرار رکھنا ، یا نماز کی فضیلت حاصل کرنا تھا ، نہ کہ خلفاء کی خلافت کو تسلیم کرنا ۔ اور کچھ روایات میں تو مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی نماز ثابت ھونے کی بجائے چند مخصوص افراد کا قتل علی علیہ السلام کا منصوبہ ثابت ھوتا ھے ۔ جو چار یاری لوگ اھلبیت علیھم السلام کے بغض و عناد اور عداوت میں بیان کرتے ھوئے نہایت مکاری و عیاری اور دجلہ و فریب کاری کے ساتھ یہ اقتباس شیر مادر سمجھ کر پی جاتے ھیں ۔۔
2- اقتداء کا مطلب خلافت کی توثیق نہیں
ثانیاً ، اگر فرض کریں بھی کہ امام علیؑ علیہ السلام نے کسی خلیفہ کے پیچھے نماز پڑھی ، تو یہ عمل ھرگز خلیفہ کی حقانیت یا خلافت کی توثیق نہیں سمجھا جا سکتا۔ نماز میں کسی کے پیچھے کھڑے ھونے کا مطلب یہ نہیں ھے کہ وہ شخص نماز اور سیاست دونوں کی امامتِ کے اھل تھے ۔ اگر آپ کسی کافر فاسق کے پیچھے کھڑے ھو تو اس کا مطلب یہ تھوڑی ھے کہ وہ آپ کا امام اور خلیفہ اور واجب الا طاعہ ھو ۔ جبکہ سنی مکتب میں تو ھر فاسق و بد کردار ، غلام اور حرامزادے کے پیچھے نماز کی ادائیگی درست تصور ھوتی ھے ۔۔
🟤 شیعہ کتب سے پیش کردہ روایات ،،
1. روایت اول : روایت احتجاج طبرسی ۔۔
2. روایت دوئم : روایت وسائل الشیعہ ..
3. روایت سوئم : روایت قرب الاسناد ..
حقیقت تک پہنچنے کے لیئے ان تمام روایات کا جائزہ لینا ضروری ھے ۔ سب سے پہلے روایت احتجاج طبرسی کو دیکھتے ھیں ۔۔
💚 روى الطبرسي في الاحتجاج :
اصل میں یہ روایت تفسیر قمی میں شیخ علی ابن ابراہیم قمی نے نقل کی ہے۔ حوالہ کے لیئے تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 155 ؛ 159 ملاحظہ ھو ۔ یہی روایت علامہ مجلسی نے اپنی کتاب حق الیقین میں بھی درج کی ھے ۔ روایت کا فی بڑی ھے ، اس لیئے ھم فقط چیدہ نکات نقل کریں گے ۔ اسکے بعد جہاں سے دلیل دی جا رھی ھے ، اس پر بحث کریں گے ۔ حاکم وقت نے نے سیدہ فاطمتہ الزھرہ صلواۃ اللہ علیہا کے نمائندوں کو فدک کی زمین سے بے دخل کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔ فاطمتہ الزھرہ صلواۃ اللہ علیہا نے حاکم وقت کے اس فعل پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔۔۔۔۔ اور اپنی جاگیر لینے دربار گئیں …. خلیفہ صاحب نے گواھوں کے بارے میں سوال کیا ۔۔۔ سیدہ کائنات سلام الله علیہا نے جناب ام ایمن (جنت کی عورت) اور امیرکائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو بطور گواہ پیش کیا ۔۔۔ ابتدائی مرحلے میں خلیفہ نے سیدہ کے گواھوں کی گواھی قبول کرتے ھوئے جاگیر فدک بیبی دو عالم کے نام لکھ کر دے دی ۔۔ راستے میں ثانی ملا ۔ اس نے خط چھین کر پھاڑ دیا ۔۔۔ جس کی وجہ سیدہ عالم صلواۃ اللہ علیہا غضبناک
ھوئیں ۔۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے شیخین و انصار ، اور مہاجرین کے اس رویہ پر شدید احتجاج کیا اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ۔۔ اب کی بار اب کی بار حاکم وقت کا جواب تھا کہ باغ فدک مال غنیمت ھے اور مسلمانوں کی ملکیت ھے ۔۔
💛 امیرالمومنین علیہ السلام نے دربار میں ایسے قاطع دلائل سے ثابت کر دیا کہ باغ فدک زھرا مرضیہ (ص) کی ملکیت ھے ۔ اور گواہ تو حاکم وقت کو لانا چاھیئے ، نہ کہ سیدہ کونین صلواۃ اللہ علیہا کو ۔ کیونکہ مدعی خلیفہ صاحب ھیں ۔ مولائے کائنات علیہ السلام نے بھرے دربار میں ایسے قاطع اور دندان شکن دلائل سے سیدہ عالم صلواۃ اللہ علیہا کا موقف ثابت کیا ۔ کہ دربار میں بیٹھے افراد داد دیئے بغیر بیٹھ نہ سکے ۔ یہاں پر خلیفہ صاحب نے اپنے مشیر خاص اور دیرینہ یار ثانی سے مشورہ کیا اگر علی روزانہ اسی طرح دربار میں آ کر دلائل دیتے رھے تو شیخین کی دال نہیں گل پائے گی ۔۔۔ یہاں پر خلیفہ ثانی صاحب نے امیرالمومنین علیہ السلام کو قتل کرنے کا مشورہ دیا ۔ اور اس کام کو انجام دینے کے لیئے خالد بن ولید کا انتخاب کیا ۔
💙 حاکم وقت نے کہا !!
اے خالد علی علیہ السلام کے بازو میں بیٹھو اور نماز ختم ھونے سے پہلے انکی گردن مار دو ۔ اسماء بنت عمیس نے یہ بات سن لی اور امیرالمومنین کو بتا دیا ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا اللہ تعالٰی انہیں اپنے اس ناپاک مقصد میں کامیاب ھونے نہیں دے گا ۔۔
اب آگے کی روایت تفصیل کے ساتھ دیکھو ۔
وحضرالمسجد ووقف خلف أبي بكر. وصلي لنفسه وخالدابن وليد إلي جنبه ومعه السيف فلما جلس أبوبكر في التشهد ندم علي ما قال وخاف الفتنته وشدته علي وباسم فلم يزل متنكرا ۔۔
حضرت علی علیہ السلام مسجد میں داخل ھوئے اور ابوبکر کے پیچھے ھوگئے اور اپنی فرادا نماز پڑھنے لگے (وصلي لنفسه) جب کہ خالد بن ولید آپ کے بازو میں بیٹھا ھوا تھا ، اور اس کے پاس تلوار بھی تھی ۔ بس جب ابوبکر تشہد میں گیئے تو اپنے کیئے پر بڑا نادم اور شرمسار ھوا اور اسکے رد عمل میں جو فتنہ وقوع پذیر ھونا تھا ۔ اس سے گھبرانے لگے ۔ اس فکر میں وہ اتنے ڈوبے رھے کہ سلام ھی نہیں پڑھا پا رھے تھے ، یہاں تک کہ لوگ گمان کرنے لگے کہ خلیفہ صاحب کو کچھ ھو چکا ۔ بالاخر ابوبکر خالد کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے خالد جو میں نے تمہیں حکم دیا تھا اسے مت کرنا ۔ اور یہ جملہ تین بار دھرایا اور پھر سلام پھیرا ۔ اسکے بعد امیرالمومنین علی علیہ السلام نے خالد بن ولید سے دریافت کیا تمہیں کیا حکم دیا گیا تھا ۔ خالد نے کہا آپ کی گردن اڑھانے کا ، قتل کرنے کا ۔ حضرت نے دریافت کیا اور کیا تم یہ کام کرتے ۔ خالد نے جواب میں کہا ۔ اللہ کی قسم اگر سلام پھرنے سے پہلے منع نہ کیا ھوتا یہ کام ضرور کرتا ۔ یہاں شیر خدا طیش میں آ گئے ۔ خالد کو اپنے ایک ہاتھ سے اٹھایا اور زمین پر پٹخ دیا ۔ یہ منظر دیکھ کر ثانی نے شور مچا نا شروع کر دیا اور کہا رب کعبہ کی قسم آج علی خالد کو قتل کر دیں گے ۔ اور یہ دیکھ لوگ علی علیہ السلام کی طرف بڑھے اور خدا اور قبر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے دے کر خالد کی جا بخشی کرائی ۔ آپنے خالد کو چھوڑ دیا اور عمر کو گلے سے دبا کر فرمایا ۔ اے ابن صھاک اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت اور کتاب خدا نہ ھوتی تو تجھے معلوم ھو جاتا ۔ ھم میں سے کون کمزور اور بے یارو و مددگار ھے ۔۔
🤎 اب قارئین کرام خود فیصلہ کریں ،،
کہ اھلسنت کا یہ حوالہ دینا کہ امیرالمومنین علیہ السلام اور خلیفہ صاحب کے درمیان باھمی محبت اور پیار کا رشتہ تھا اور شیر اور شکر کی طرح رھتے تھے ۔ اور کہاں یہ روایت اور اس جیسی سینکڑوں روایتیں جو شیخین کی اصلیت کا پول کھول کر رکھ دیتی ھیں ۔ یہ حضرات اپنے مخالفین کو راستے سے ھٹانے کے لیئے کس قسم کے اوچھے ھتھکنڈوں کو بروئے کار لاتے ۔ قارئین محترم ہمارے مخالفین یہ ثابت کریں اس روایت سے کہ مولائے کائنات نے کسی کو امام سمجھ کر اسکے پیچھے نماز پڑھی ھے ۔ یا مولائے کائنات علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ ثابت ھو رھا ھے ۔ نیز ھم نے روایت میں سے یہ بھی دکھا دیا کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے کسی کی اقتداء میں نہیں ، بلکہ فرادا نماز پڑھی ھے ۔۔
جبکہ صحیح بخاری شریف کے دوباب خلف کے نام سے ھیں ۔ باب الصلاته خلف النايم . یعنی سوئے ھوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا ۔ اور باب التطوع خلف المرائته ۔ یعنی نفل نماز عورتوں کے پیچھے پڑھنا : صحیح بخاری شریف صفحہ ۱۳۴ – کتاب الصلوۃ باب ۱۰۳ , ۱۰۴ ۔۔ اب کیا کہیں گے اھلسنت !! کیا اب بھی کہیں گے کہ یہاں پر خلف سے مراد اقتداء میں نماز پڑھنے کے ھے ، یعنی سوئے ھوئے بندوں اور عورتوں کی اقتداء میں نماز پڑھنا ۔۔
اگر بالفرض صرف فرض کریں ۔ کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے خلیفہ صاحب کے پیچھے نماز پڑھی بھی ھے تب بھی یہ کسی کی افضلیت کی دلیل نہیں ھے ، کیونکہ اھلسنت کے مطابق ھر فاجر کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ھے ۔۔
ابن تیمیہ کہتا ھے کہ صحابہ ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جن کے بارےمیں وہ جانتے تھے کہ فاجر ھیں ۔۔
الاحتجاج : 1/126 , وعنه في بحار الأنوار 27 حدیث 27/ مدينة العاجز 3/152 ۔۔
طبرسی نے اپنی کتاب “احتجاج” میں نقل کیا ھے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام مسجد میں حاضر ھوئے اور خلیفہ اول کے پیچھے نماز پڑھی [۱]۔
🖤 اس روایت کا تجزیہ :
سند کے لحاظ سے یہ روایت مرسل (سند کے بغیر) ھے ، کیونکہ طبرسی نے اسے براہ راست حماد بن عثمان سے نقل کیا ھے جو امام صادق علیہ السلام کے راوی ھیں ۔ لیکن حماد بن عثمان (متوفی 190 ھجری) اور طبرسی (متوفی 548 ھجری) کے درمیان زمانی فاصلہ ھے ۔ جس سے سند میں ٹوٹ پڑتی ھے ۔۔
2. مصدر کا اشکال ،،
طبرسی کا یہ بیان دراصل تفسیر قمی سے لیا گیا ھے ، جس میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ھے کہ امام علی علیہ السلام مسجد میں آتے تھے اور ابوبکر کے پیچھے کھڑے ھوتے تھے ، لیکن نماز فرادی (اکیلا) پڑھتے تھے ۔۔
تفسیر قمی میں روایت جو نقل ھوئی ھے ۔ اوپر بیان کیا گیا ۔ حضرالمسجد و وقف خلف ابی بکر وصلی لنفسه (لنفسه) : امیرالمومنین مسجد میں حاضر ھوتے تھے ؛ لیکن اپنی نماز (فرادا) پڑھتے تھے ۔ اس روایت کی سند درست ہمھے ، لیکن اس کا مفہوم بالکل مختلف ھے ۔ یہ ثابت نہیں ھوتا کہ امامؑ نے ابو بکر کی اقتداء میں نماز پڑھی ، بلکہ وہ ان کے پیچھے کھڑے ھو کر اپنی الگ نماز ادا کرتے تھے ۔۔
تیسرا نقطہ :
اس روایت میں خود یہ بات موجود ھے ۔ کہ خلیفہ صاحب نے ثانی کے مشورے پر خالد بن ولید کو حکم دیا تھا ۔ کہ نماز کے سلام کے وقت علیؑ علیہ السلام کو تلوار سے قتل کر دے ۔ لیکن نماز پڑھاتے ھوئے خلیفہ صاحب کو پچھتاوا ھوا اور اس نے سلام پھیرنے سے پہلے ھی خالد سے کہا :
يا خالد ما تفعل ما امرتك ،، اے خالد ! جو میں نے تمہیں حکم دیا تھا ، اسے مت کرنا ۔۔۔۔
اھلسنت بھی اس روایت کے مفہوم کو قبول نہیں کر سکتے ، کیونکہ اگر وہ امام علیؑ علیہ السلام کا خلفاء کے پیچھے نماز پڑھنا ثابت کرنا چاھتے ھیں ، تو انہیں خلفاء کے دھشت گردانہ اقدامات اور روایت کے ما حصل کو بھی درست ماننا پڑے گا ۔ کیونکہ کسی روایت کے ایک حصے کو ماننا اور دوسرے حصے کو رد کرنا بعض پر ایمان لانا اور بعض کا انکار کرنے والی بات ھوگی اور اسلام تبعیض بردار نہیں ھے ۔ کوئی شخص یہ کہے کہ اسلام كا وہ حصہ جو مجھے پسند ھے قبول ھے ۔ اور جو پسند نہ آئے اسے رد کر دے ایسا نہیں ھو سکتا ۔ (نؤمن بعض ونكفر ببعض) ..
(سورہ نساء: ۱۵۰) کے زمرے میں آتا ھے ۔
اس طرح اھلسنت اپنے اصولوں کے مطابق خود ھی اس تضاد میں پھنس جائیں گے ۔
ایک دلچسپ بات :
سمعانی (اھلسنت کے بڑے علماء میں سے) ھیں نے اپنی کتاب انساب الاشراف میں “باب زندگی نامہ رواجنی” (امام بخاری کے استاد) کے تحت یہی واقعہ نقل کیا ھے ۔ وہ لکھتے ھیں کہ میں نے
عمر بن ابراہیم حسینی کوفی سے اس واقعے کی تفصیل پوچھی تو انہوں نے جواب دیا : “ابوبکر نے خالد بن ولید کو امام علی علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا ، لیکن بعد میں پشیمان ھو کر خالد کو اس کام سے روک دیا ۔
حديث أبي بكر رضي الله عنه : أنه قال : لا يفعل خالداماامربه . سألت الشريف عمران ابن إبراهيم الحسيني بالكوفة عن معنى هذا الأثرفقال : كان أمرخالدابن الوليد أن يقتل عليا ، ثم ندم بعد ذالك ، فنهي عن ذالك ۔۔
🛑 روایت دوئم : (روایت وسائل الشیعہ)
وفي نوادر أحمد بن عيسى الأشعري عن عثمان بن عيسى ، عن سماعة ، قال : سألته عليه السلام عن مناكحتهم والصلاة معهم ۔۔
فقال : هذاامرتمديدان يستطيعوت ذالك ۔ قدانكح رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، وصلي علي عليه السلام وراءهم ۔۔ شیخ حر عاملی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب وسائل الشیعہ میں تقیہ کی حالت میں ایسے شخص کے پیچھے نماز جماعت میں شمولیت جو قابلِ اقتداء نہ ھو کے استحباب
اور ان کے ساتھ پہلی صف میں کھڑے ھونے کے باب میں یہ روایت نقل کی ھے :
سماعہ بیان کرتے ھیں ۔ کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے اھلسنت (مخالفین) سے شادی کرنے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا ۔ آپؑ نے فرمایا : یہ ایک اھم معاملہ ھے جس سے گریز نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ پیغمبر اکرمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان سے شادی کی اور امیرالمؤمنین علیہ السلام نے بھی ان کے پیچھے نماز پڑھی ۔۔
تشریح :
اس روایت سے واضح ھوتا ھے کہ تقیہ (خطرے کی صورت میں ظاھری موافقت) کے دوران ، اگر جان ، مال یا عزت کو خطرہ لاحق ھو ، تو ایسے شخص کے پیچھے نماز جماعت میں شمولیت مستحب ھے ، چاھے اس کی اقتداء کرنا شرعاً جائز نہ ھو ۔ اسی طرح ، علامہ مجلسی رحمتہ اللہ علیہ نے بحار الانوار میں مشرکین ، کفار ، مخالفین اور ناصبیوں سے شادی کے باب میں اس کی تائید کی ھے ۔
نتیجہ :
یہ روایت اھلسنت کے موقف کی تائید نہیں کرتی ، کیونکہ تقیہ کی بنیاد مجبوری یا جبر پر حمل ھوتی ھے ۔ اگر کوئی مجبور ھو تو وہ اپنی بیٹی کو کافر یا مشرک سے بھی بیاہ سکتا ھے ، چہ جائیکہ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھے جو ظاھراً خود کو مسلمان کہتا ھو اور نماز پڑھتا ھو ۔
🟡 روایت سوم : (روایت قرب الاسناد)
روي الحميري عن جعفر ، عن أبيه : كان الحسن والحسين عليهما السلام يقرأ خلف الإمام : حمیری نے اپنی کتاب قرب الاسناد میں ایک روایت نقل کی ھے جس میں آیا ھے کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ علیہم السلام اپنی نماز امام کے پیچھے پڑھتے تھے اسی طرح کی روایت دوسری سند کے ساتھ وسائل الشیعہ میں بھی موجود ھے ۔۔
عبداللہ بن جعفر في ( قرب الاسناد) عن الحسن بن ظريف ، عن الحسين بن علوان ، عن جعفر ، عن أبيه قال : كان الحسن و الحسين عليهما السلام يقرأن خلف الإمام ۔۔
تشریح :
لیکن علامہ مجلسی رحمت اللہ علیہ نے اس روایت میں امام کی وضاحت کرتے ھوئے فرمایا ھے کہ :
اس روایت میں ‘امام’ سے مراد وہ جابر حکمران ھیں ۔ جو امام حسنؑ اور امام حسینؑ علیہم السلام کے زمانے میں اقتدار میں تھے ۔ ہاں ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ علیہم السلام ان کے پیچھے کھڑے ھوتے تھے ، لیکن ان کی اقتداء نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ الگ نماز پڑھتے تھے ۔۔
تفصیل –
عام حالات میں مخالفین کی جماعت میں شمولیت جائز ھے ، جیسا کہ بہت سے علماء اس کے قائل ھیں اور روایات بھی اس کی تائید کرتی ھیں۔ ۔
تقیہ کی حالت میں اگر خطرہ ھو تو جماعت میں شمولیت واجب ھے ۔ البتہ اگر ممکن ھو تو پہلے گھر میں نماز پڑھ لے ، پھر جماعت میں شامل ھو ۔ اگر ممکن نہ ھو تو جماعت میں شامل ھو ، لیکن الگ نماز پڑھے اور قراءت (سورہ فاتحہ اور دوسری سورتیں) ترک نہ کرے ۔۔
🔵 حتمی نتیجہ :
یہ تمام روایات خلفاء کی حقانیت یا خلافت یا کسی فضیلت کی تائید نہیں کرتیں ، بلکہ تقیہ یا امت کے اجتماعی مصلحت کے تحت عملی اقدامات کو ظاھر کرتی ھیں ۔ شیعہ عقیدے کے مطابق ، امامت کا حق صرف اھلبیتؑ علیہم السلام کو حاصل ھے ، اور یہ روایات اس اصول کے منافی نہیں ھیں ۔ جبکہ روایات کے متن سے ظلم ، جبر اور قتل کے منصوبہ جات بھی ثابت و واضح ھوں ۔۔۔۔۔۔۔
التماس دعا ۔۔۔۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اخلاق سے عاری اور عمل
مولانا صاحب اپنی بیوی کے ساتھ ایک گلی میں رکشہ سے اترے اور ارد گرد دیکھا تو بہت پچھتایے
چاروں طرف طوائفوں کے گھر تھے
کچھ طوائفیں گھر کے دروازے پہ کھڑی پان چبا رہی تھی
مولانا نے بیوی سے کہا۔۔چلو واپس چلتے ہیں۔۔
بیوی : یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ سارا دن مسجد میں رہتے ہو اور میں گھر میں اور بچے ہمارے ہیں نہیں تو پھر کس بات کا ڈر ہے اپکو؟
مولانا خاموش ہوئے اتنے میں ایک نوجوان جو مسجد کی صفائی وغیرہ کرتا تھا ایا مولانا صاحب سےدعا سلام کرکے مولانا صاحب سے بیگ اور صندوق لیا اور ساتھ جانے کو کہا۔۔
سارا سامان گھر میں رکھ کر مولانا صاحب کو مسجد لے گیا۔۔۔
دونوں جب مسجد پہنچے مسجد خالی پڑی تھی
نماز میں تھوڑا ٹائم باقی تھا
مولانا : اس مسجد کا کیانام ہے؟
نوجوان : نام تو نہیں ہے بس گلی والے مسجد کے نام سے مشہور ہے۔۔
نماز کے بعد 5۔6 بچے سبق پڑنے آۓ مولانا بچوں کو سبق پڑھا نےبیٹھ گیا
اتنے میں مسجد والا نوجوان چائے اور کچھ چکن بسکٹ ساتھ لایا
مولانا صاحب چائے سے فارغ ہوئے تو پوچھا برخوردار یہ چائے وغیرہ کا تکلف کس نے کیا تھا
نوجوان : یہ نورا نے کیا تھا۔۔
مولانا : نورا کون ہے؟
نوجوان : اصلی نام تو نور ہے پر نورا کے نام سے مشہور ہے ۔۔
مولانا : شوہر کیا کر تا اسکا؟
نوجوان : بیوا ہے یہاں دوسری گلی میں اسکا کھوٹہ ہے۔۔
مولانا : لاحولہ ولاقوت اور غصے میں پوچھا تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟
نوجوان خاموش ہوا۔۔
اگلے دن ان بچوں میں سے ایک بہت شور کر رہاتھا
مولانا لاٹھی دے ماری تو بچے کی سر پر چوٹ آئی اور سرسے خون جاری ہوا
نوجوان نے بچے کو جلدی جلدی پٹی وغیرہ کے لئے ساتھ والے کلینک لے گیا
جب واپس بچے کو لایا تو بچہ پھر سپارہ پڑھنے میں مصروف ہوا اتنے میں مسجد کے باہر ایک عورت آگئی مولانا نے پوچھا کون ہیں آپ؟
عورت نے روتے ہوئے کہا جی میرا نام نورا ہے
مولانا غصے میں ۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسی ہوئی مسجد کے قریب آنے کی اور بھی برا بھلا کہا۔۔۔
نورا روتے ہوئے واپس چلی گئی۔۔
نوجوان نے مولانا صاحب سے کہا۔۔ مولوی صاحب اصل میں نورا کو اپنے بچے کے بارے میں پتہ چلاتھا اسلئے روتے ہوئے یہاں آئی تھی۔۔۔
مولانا خاموش ہوا۔۔
کچھ دنوں بعد مولانا صاحب نوجوان سے کہہ رہاتھے ہم میاں بیوی حج کے لئے تیاری کر رہے ہیں جب ہم چلے جائنگے تو مسجد کا خیال رکھنا۔۔
دوسرے دن نوجوان نے مولانا صاحب ےکہا مولوی صاحب آپ حج کےلئے 2 نہیں 3 ٹکٹ لے لیں
مولانا نے مسکراتے ہوئے کہا لگتا ہے کافی سارے پیسے جمع کیے ہیں تم نے
نوجوان : جی میرے لیے نہیں
مولانا : تو کس کے لئے؟
نوجوان : وہ جی نورا کے لئے۔۔
مولانا کو پھر غصہ آیا اور کہا۔۔۔ پتہ ہے حج کیلئے کون سے لوگ جاتے ہیں؟
نوجوان خاموش رہا۔۔
کچھ دن بعد مولانا صاحب بیوی کے ساتھ حج کے لئے چلے گئے
وہاں بھیڑ میں مولانا سے بیوی بچھڑ گئ اور اخلاق سے گرا ہوا مولانا رش میں گر گیا بہت زیادہ بھیڑ تھی سارے لوگ دوڑ رہے تھے
مولانا صاحب نے سن رکھا تھا ے یہاں گرنے کا مطلب ہے موت۔۔
کیونکہ پہلے بھی کافی سارے حاجی شہید ہوئے تھے
مولانا کو اپنی موت دیکھائی دی
اتنے میں لوگوں کے بیچ میں مولانا کی طرف اک ہاتھ بڑھا
مولانا نے ہاتھ پکڑ لیا
ہاتھ دینے والے نے پوری زور سے مولانا کو اٹھایا اور بھیڑ سے نکال کر سائیڈ پہ لے گیاجہاں مولانا کی بیوی کھڑی تھی۔۔
مولانا نے اپنےمحسن کو دیکھا تو حیران رہ گیا
اسکی جان بچانے والی نورا تھی۔۔۔
مولانا بہت شرمندہ ہوا بیوی کے قریب گیا اور پیچھے دیکھا تو نورا بھیڑ میں کھو گئ۔۔۔
دونوں جب حج سے واپس آئے تو مولانا نے بیوی سے کہا۔۔میں۔ پہلے نورا سے معافی مانگوں گا تب گھر چلیں گے۔۔
نورا کے گھر کے قریب پہنچے تو وہاں ایدھی کی گاڑی کھڑی تھی
مولوی نے نوجوان سے پوچھا۔۔۔ نورا حج سے آیئ ہے؟
نوجوان: نورا تو حج پر گئ ہی نہیں۔۔۔
مولانا : کیا مطلب؟
نوجوان : نورا نے حج کیلئے پیسے جمع کیے تھے
جس رات آپ لوگ حج کے لئے روانہ ہوئے تھے اسی رات اس پیسوں کے لئے کسی نے نورا کو ذبح کر دیا تھا
اور آج ایدھی والے اسکے بچوں کو لینے کے لئے آئے ہیں
یہ وہ سارے بچے ہیں جو مسجد سبق پڑنے آتے تھے
نورا کے اپنے بچے نہیں تھے
یہ سارے بچے یتیم تھے جسے نورا نے اپنا لئےتھے
اسکا سپنا تھا کہ یہ سارے بچے حافظ قران بنے
مولانا صاحب کے آنکھوں میں آنسو آگئے اور پوری بات اسکی سمجھ میں آگئی کہ حج پر نورا کی جگہ کون آئی تھی
مولانا نے ایدھی والوں کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ یہ سارے بچے میرے ہیں اسے یہاں رہنے دو
اور پھر نوجوان سے کہا۔۔۔۔
آج سے اس مسجد کا نام نور مسجد ہوگا۔۔
کسی پہ تنقید سے پہلے خود کا مباحثہ کریں ۔یاد رکھیں خود کو افضل سمجھنے والے اللّه کے نزدیک ایک معمولی کیڑے سے بھی بدتر ہے ۔ہم لوگوں میں ایک بہت بڑی خرابی ہے ہم لوگوں کو انکے ظاہر سے پہچانتے ہے اور اللّه انکے باطن سے انکو پہچانتا ہے ۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
لاتوں کے بھوت
لاتوں کے بھوت اور آج کی ساس اور بہو:
شادی دھوم دھام سے ہوئی بہو رخصتی کر شوہر کے گھر آ گئی اور
شادی کے اگلے دن بہو
سوکر اٹھی تبھی ساس کی چیختی آواز سنائی دی صبح جلدی آٹھ جایا کرو ہم لوگ چھ بجے ہی چائے پی لیتے ہیں. تمہاری یہ عادتیں ہم لوگ برداشت نہ کرسکیں گے. یہ تمہارا پیا کا گھر نہیں ہے.
بہو نے کوئی جواب نہ دیا. آپنے کمرے میں گئی اور ایک ڈائری، پین اور دو بیگ لیکر واپس آئی اور کہا ساسو ماں یہ وہ لسٹ ہے جو شادی کے پہلے آپ لوگوں نے میرے گھر بھیجی تھی آپ ملا لیں کوئی چیز کم نہیں
ہنڈا سٹی – پینتیس لاکھ ساٹھ ہزار
سمارٹ ٹی وی بیالیس انچ – باون ہزار
فرج – پچاس ہزار
واشنگ مشین آٹومیٹک – ساڑھے تیس ہزار
مکسی، اوون اور الیکٹرانک سامان – ایک لاکھ ساٹھ ہزار
سوفہ، ڈائننگ
ٹیبل، ڈبل بیڈ – ایک لاکھ تیس ہزار
نقد – پانچ لاکھ
یہ رہیں رسیدیں
آپ لوگوں نے اپنے لڑکے کی قیمت لگائی میرے والدین نے قیمت ادا کرکے میرے لئے شوہر خرید لیا
اب آپ بتائیں میرے بارے میں کوئی ڈیمانڈ نہیں کی گئی تھی کہ لڑکی کیسی ہونی چاہئے. اور کتنے بجے سونا اور جاگنا چایئے ۔
پھر اس نے ایک خوبصورت سے بیگ کی زپ کھولی سب دلچسپی سے دیکھنے لگے. ساس نے پوچھا اس میں کیا ہے؟
بہو نے کہا میرے والد نے یہ تیس بور ریوالور دیا تھا اور کہا تھا بیٹی تم یہاں تھیں تو تمہاری حفاظت میرا فرض تھا اب تمہیں خود اپنی حفاظت کرنا ہوگی.
ساس نے اپنی بےترتیب سانسوں پر قابو پایا اور جلدی سے کہا بہو تمہاری نیند ابھی کچی ہے جا کر سو جاؤ۔۔ جب نیند پوری ہو جائے تو خود سے اٹھ جانا میری شہزادی ۔ دوسرے کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھیں کیونکہ وہ اپنے پیاروں کے گھر میں شہزادی تھی اور فی زمانہ وہ اپنی حفاظت کرنا خوب جانتی ہے۔۔۔۔۔۔ سبق آموز تحریر اپنا خیال اظہار فرمائیں شکریہ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ایک بلی اور ایک جج
ایک سابق شوہر اور سابق بیوی ٹرین میں اچانک ایک دوسرے
سے ٹکرا گئے۔ وہ پہلے سے بیٹھی ہوئی تھی جب وہ اندر داخل ہوا۔ دونوں میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے سے بچنے کی کوشش نہیں کی — اب وہ بچے نہیں تھے، اور ان کی علیحدگی بھی خاموشی سے ہوئی تھی، بغیر کسی ڈرامے یا اسکینڈل کے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو تیزی سے پرکھتی ہوئی نظر سے دیکھا۔ ہلکا سا مسکرائے بھی۔ ماضی تو کب کا بیت چکا تھا؛ جو ہوا، سو ہوا۔ آخرکار، وہ اپنی زندگی کے دو سال ایک ساتھ گزار چکے تھے۔
اسے لگا کہ وہ اب بھی اچھی لگ رہی تھی — وقت نے اپنے نشان ضرور چھوڑے تھے، مگر وہ اب بھی اُسی وقار سے چلتی تھی، ہمیشہ کی طرح صاف ستھری اور نفاست سے لباس پہنے ہوئے۔ اُدھر وہ دیکھ رہی تھی کہ اس کے بال پہلے سے کم ہو گئے تھے، اور گنج پن آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ چہرہ زیادہ نہیں بدلا تھا، شاید صرف آنکھوں میں ایک تھکی ہوئی سی سنجیدگی آ گئی تھی۔
“کیسی ہو؟” اس نے پوچھا۔
“ٹھیک ہوں،” وہ بولی — ہمیشہ والا جواب۔
وہ خود کو روک نہ سکا۔ “کسی سے مل رہی ہو؟”
اس نے بتایا کہ اس نے تین سال پہلے دوسری شادی کر لی تھی — اس کا شوہر ڈسٹرکٹ اٹارنی تھا۔ سنجیدہ آدمی، ذمہ دار، ہمیشہ مصروف۔ وہ اب گھریلو خاتون تھی، گھر صاف رکھتی، کھانا بناتی۔ انہوں نے وہ چھوٹا سا کونڈو بھی بیچ دیا تھا جس میں وہ دونوں رہتے تھے، اور اپنے نئے شوہر کے ساتھ دیہات میں ایک چھوٹا سا سمر ہاؤس خرید لیا تھا۔ ہفتوں کے آخر میں فرار کی جگہ۔
بات مکمل کرکے وہ شائستگی سے مسکرائی۔ “اب تم سناؤ۔”
اس نے کہا کہ اس نے بھی دوبارہ شادی کر لی ہے۔ اس کی بیوی ایک گروسری اسٹور چلاتی ہے — ہر روز اتنا کھانا لے آتی کہ کھایا بھی نہ جائے۔ وہ برسوں سے کسی سپر مارکیٹ میں قدم نہیں رکھ سکا۔ وہ سخت مگر مہربان تھی، اکثر تھکی ہوئی۔ انہوں نے چھٹیوں کا گھر نہیں خریدا؛ بہت جھنجھٹ، بہت کام۔ سفر کرنا آسان تھا — ہر گرمیوں میں ایک نیا ملک۔
چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
پھر وہ آہستگی سے بولی، “تمہاری ماں کتنی اچھی عورت تھیں۔ کیسی ہیں؟”
اس نے نظریں جھکا لیں۔ “دو سال پہلے انتقال ہو گیا۔”
وہ آہستہ سے آہ بھر کر بولی۔ اس نے بھی۔ باتوں کا بہاؤ ٹوٹ گیا۔
“ہماری علیحدگی کے بعد تم نے کیسے گزارا؟” وہ اچانک پوچھ بیٹھا۔ “کبھی پچھتایا؟”
وہ ہلکے سے ہنسی، سر ذرا پیچھے جھٹکا۔
“نہیں، کبھی نہیں،” اس نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔ پھر تھوڑا رک کر آہستہ سے بولی، “شروع میں مشکل ضرور تھا…”
اس نے یہ نہ بتایا کہ “مشکل” سے اس کی مراد کیا تھی۔ بس اسے دوبارہ دیکھا۔ “اور تم؟”
اس نے گردن کے پیچھے ہاتھ پھیرا، جیسے بات کو ہلکا کرنا چاہتا ہو، مگر سچ لبوں سے پھسل گیا۔
“میں تو ٹوٹ گیا تھا،” اس نے اعتراف کیا۔ “لیکن میری بیوی نے سہارا دیا۔ اب سب ٹھیک ہے۔ زندگی اچھی گزر رہی ہے۔ بچے نہیں ہیں… اب دیر ہو گئی۔”
وہ چپ چاپ سر ہلا دی۔
ٹرین آہستہ ہوئی اور رک گئی۔ وہ دونوں اُترے، ایک آخری نظر — بس ایک چھوٹا سا اشارہ — اور الگ الگ سمتوں میں چل دیے۔
وہ اپنی کرائے کی چھوٹی سی کمرے والی جگہ پر واپس آیا۔ پڑوسی شور مچاتے تھے، کچن میں تلی ہوئی پیاز کی بو ہی بو۔ اس نے سنگل الیکٹرک برنر جلایا تاکہ منجمد ڈمپلنگ ابال لے۔ بات کرنے کا دل نہیں تھا۔ بس چپ بیٹھنے کا۔
طلاق کے بعد اس کا دل بکھر گیا تھا۔ وہ ایک کڑے دور سے گزرا — بہت پیا، قرض میں ڈوب گیا، تقریباً سب کچھ کھو دیا۔ کچھ ہی عرصے بعد اس کی ماں کا دل بھی جواب دے گیا۔ اسے اپنا اپارٹمنٹ بیچنا پڑا تاکہ قرض اُتار سکے۔ اب وہ اس چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا — ایک آدمی کے لیے بس جتنا کافی ہو۔
وہ کسی اور کے ساتھ رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ کچھ لوگوں کے دل ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ اس کا دل بھی بند ہو گیا تھا — اور اس کے اندر وہ اب بھی رہتی تھی۔ اس کی پہلی اور آخری۔
وہ بیٹھا سوچ رہا تھا، میں نے جھوٹ کیوں بولا؟ شاید انا کی وجہ سے۔ شاید اس لیے کہ اس عمر میں تنہا ہونا شرمندگی جیسا لگتا ہے۔
وہ بھی اپنے فلیٹ میں واپس آئی۔ دروازے پر ایک سنجیدہ شکل والا بلی اس کا استقبال کر رہا تھا — اس نے اس کا نام “جج” رکھا تھا۔ وہ اداس مسکرائی۔ میں نے بھی جھوٹ کیوں بولا؟
انسانی فطرت میں ہی کچھ ایسا ہے جو ہمیں نقاب اوڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ دکھاوا کہ سب ٹھیک ہے۔ وہ چیز — انا، خوف، عادت — نادیدہ دیواریں کھڑی کرتی ہے۔ ایسی دیواریں جو ہمیں وقت پیچھے موڑنے یا وہ ٹھیک کرنے سے روکتی ہیں جو کبھی ہم نے توڑا تھا۔
وہ ایک بیڈروم والے فلیٹ میں اکیلی رہتی تھی۔ وہ — ایک کرائے کے کمرے میں۔ دو تنہا روحیں۔
فرق صرف اتنا تھا: اس کے پاس “جج” نامی بلی تھی۔
اور اس کے پاس کوئی بھی نہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بے نقاب اور اختیاری کھجلی اور کھلبلی
اور اقتدار کی لت — شَبو آپا رانی
کا اصلی چہرہ بے نقاب
یہ کیسی بدنصیبی ہے کہ جس لڑکی کے ماں-باپ خود کبھی برطانیہ کے نظامِ مہربانی کے محتاج تھے…
آج وہی شَبانہ محمود تارکینِ وطن پر ایسے قوانین مسلط کر رہی ہے جو انسانیت کے منہ پر تھپڑ ہیں۔
**🔥 جس دروازے سے اس کا اپنا خاندان اندر آیا…
آج وہی دروازہ یہ ہمارے چہروں پر بند کر رہی ہے**
اس کے والدین آئے تو:
• 5 سال میں سیٹلمنٹ
• کوئی 20 سال کی سزا نہیں
• کوئی روز روز کا دوبارہ جائزہ نہیں
• کوئی “ثابت کرو کہ تم قابل ہو” کا تماشا نہیں
• کوئی چیکنگ، کوئی تذلیل، کوئی ذہنی اذیت نہیں
مگر آج…
وہ ہم جیسے پاکستانی، انڈین، بنگلہ دیشی، عرب، افریقی تارکینِ وطن کو دہائیوں تک لٹکانے پر تُل گئی ہے۔
**⚠️ یہ قانون نہیں… یہ انتقام ہے۔
یہ اصلاحات نہیں… یہ منافقت کی آخری حد ہے۔**8
شَبانہ محمود نے اپنی سیاست بچانے کے لیے
اپنی جڑیں — اپنا پس منظر — اپنی کمیونٹی — سب بیچ دیے ہیں۔
🔥 مساوات کا درس دینے والی آج ظلم کا پرچار کر رہی ہے
یہ وہی عورت ہے جو ماضی میں کہتی تھی:
“ہم سب برابر ہیں۔”
اور آج کہتی ہے:
“تارکینِ وطن کو 10–20 سال ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس ملک کے قابل ہیں۔”
کیا یہ انسانیت ہے؟
یا پھر یہ اس کا اقتدار کی سیڑھی بن گیا ہے؟
🔥 NHS، ٹرانسپورٹ، ریٹیل، گودام، ٹیکسی — سب تارکینِ وطن چلاتے ہیں
اور انہی لوگوں کو آج کردار، وفاداری اور “خدمت” کے تھکادینے والے امتحان دینے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کے نظام کا بوجھ تارکینِ وطن اٹھائیں…
مگر حقوق؟
وہ “بعد میں دیکھیں گے”؟
**⚠️ افسوس!
ایک تارکِ وطن کی بیٹی… آج تارکینِ وطن کی گردن پر پاؤں رکھ رہی ہے**
پاکستانی کمیونٹی کے لیے یہ لمحہِ فکریہ نہیں — لمحہِ خطرہ ہے۔
اگر یہ قوانین پاس ہو گئے تو:
• سیٹل ہونا خواب بن جائے گا
• 20 سال تک چکر در چکر
• بار بار انٹرویو، بار بار دھمکی
• بچوں کا مستقبل غیر یقینی
• مریض، بزرگ، کمزور — سب بے رحم قانون کے نیچے کچلے جائیں گے
اور یہ سب اس عورت کے ہاتھوں جو خود اسی نظام کے رحم و کرم پر پلی تھی!
🔥 پاکستانی کمیونٹی کو ایک بات سمجھ لینی چاہیے
یہ قانون “ریفارم” نہیں —
یہ صاف صاف اعلان ہے کہ:
“ہم تمہیں نہیں چاہتے — چاہے تم نے اس ملک کے لیے کچھ بھی کیا ہو۔”
اور یہ سب کہہ کون رہا ہے؟
وہی جس کے اپنے خاندان کو برطانیہ نے گلے لگایا تھا۔
⚠️ یہ وقت ہے کھڑے ہونے کا — بولنے کا — سچ سامنے رکھنے کا۔
اگر ہم آج نہ بولے تو کل ہمارے بچوں کو یہی کہا جائے گا:
“تم اس ملک کے قابل نہیں۔”
اور اس دن سب سے زیادہ شرمندگی شَبانہ محمود کو نہیں…
ہمیں ہوگی — کہ ہم خاموش رہے۔
⸻
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نیا حکم اور نیا ملک تلاش کریں آپا شبو رانی
شبو رانی کے حکم کے بعد روزگار کی تلاش میں کونسےملک کا انتخاب یا عدلیہ کا انتخاب ۔۔۔۔۔۔
کِسی نئے مُلک میں کام کرنے کے لیے جانا آپ کی ضرورت ہو سکتی ہے ، عین ممکن ہے کہ آپ کے وہاں جانے سے اُس مُلک کو بھی فائدہ ہو تو یہ تعاون یا فائدہ تو یہاں تک ہو گیا باہمی ۔ اِس سے آگے مستقل قیام یا اُس مُلک کی شہریت کِسی باہر سے آنے والے کے لیے ایک اضافی سہولت یا پرولیج ہے یہ کوئی پیدائشی حق / برتھ رائیٹ نہیں ہے ۔ جو ممالک یہ سہولیات دیتے ہیں اُن کے پاس اپنی وجوہات ہیں اور جو نہیں دیتے جیسے کہ تمام مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ؛ تو اُن کے پاس اپنی وجوہات ہیں ۔
پاکستان میں برسوں نہیں عشروں قیام کے بعد بھی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل جاری ہے ۔ غلط یا صحیح کی بحث اپنی جگہ لیکن ہر مُلک اپنی عوام کے لیے اپنے طور پر بہتر فیصلے کرنے کا مجاز ہے ۔ ہم اُن پر تنقید کر سکتے ہیں یا تائید بھی لیکن ہمیں سوال یہ کرنا ہوگا کہ ایسا کیا ہُوا کہ شبانہ محمود موجودہ ہوم سیکرٹری برطانیہ نے دو دِن قبل کُچھ سخت اقدامات کا عندیہ دے دِیا ہے ۔
پہلے جانتے ہیں کہ یہ سخت اقدامات کیا ہیں ۔
یہاں یعنی برطانیہ میں عموماً پانچ سال قیام کے بعد آپ آئی ایل آر یعنی اِنڈیفینیٹ لِیو ٹُو ریمین / پی آر کے اہل ہو جاتے تھے جِس میں سے آپ کے سٹوڈینٹ اور پی ایس ڈبلیو کا وقت منہا کر کے باقی پانچ سال آپ کو کِسی ایسے ویزے پر گُزارنے ہوتے تھے جو سیٹلمینٹ روٹ کا ہوتا ہو ۔
اب بالکل سٹریٹ اووے یہ مُدت پانچ سال سے بڑھا کر دَس سال کر دِی گئی ہے جِس میں سوا ایک لاکھ پاؤنڈز سالانہ سے زائد تنخواہ والے سات سال مائینس کے حقدار ہیں یعنی وُہ تین سال میں آئی ایل آر کر سکیں گے ، پچاس ہزار اِنکم بریکٹ والے پانچ سال کی رعایت کے حقدار ہیں یعنی وُہ دَس کے بجائے پانچ سال بعد آئی ایل آر اپلائی کر سکیں گے جبکہ اِس کے نیچے تمام پر دَس سال کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ پندرہ یا بِیس سال کی مدت بھی لاگو ہو سکتی ہے ۔
یہ یاد رہے کہ یہاں پچاس ہزار سے سوا لاکھ پاؤنڈز کی انکم پر چالیس سے پینتالیس فیصد ٹیکس ہے جبکہ تمام کٹوتی ڈال کر پینتالیس سے پچاس فیصد انکم آپ کی واپس حکومت کے ٹیکس میں واپس چلی جاتی ہے ۔
جو لوگ یہاں غیر قانونی طریقے سے داخل ہُوئے ہیں وُہ بِیس سال کی مدت کے بعد کاغذات کے حقدار ہوں گے اور پھر مزید دَس سال یعنی کُل تیس برس بعد سیٹلمینٹ کے اہل ہوں گے ۔ یہ قانون پہلے ہی دوہزار گیارہ بارہ سے لاگو ہے ۔
جو لوگ وزٹ ویزے پر آئے اور پھر اُنھوں نے کوئی شادی کی ، کوئی بچوں کی وجہ سے رُکا یا کوئی اور راستہ اختیار کِیا وُہ بھی اب بِیس سال کی مدت کے بعد اپلائی کر سکے گا سیٹلمینٹ کے لیے ۔
جو چھ ماہ یا زائد غیر قانونی رہا یعنی آیا تو لیگل طریقے سے لیکن بعد میں کِسی وجہ سے غیر قانونی اوور سٹیئر ہو گیا تو وُہ بھی اب بِیس سال کے عرصے کے بعد آئی ایل آر کے لیے اپلائی کر سکے گا جبکہ پہلے وُہ دَس سال کے رُوٹ پر جاتا تھا ۔
اِس کے ساتھ ساتھ زبان کی اہلیت کا معیار بی وَن سے بی ٹُو ، جبکہ نو کریمنل ریکارڈ ، لائیف اِن یُوکے ٹیسٹ وغیرہ پہلے سے ہی لاگو ہیں ۔
جو لوگ برٹش سپاؤس یا فیملی لائیف ویزوں پر ہیں اُن کے لیے کوئی تبدیلی لاگو نہیں ہوگی ۔ گلوبل ٹیلینٹ سمیت چند دیگر عناصر کے لیے بھی سہولت دستیاب رہے گی جبکہ اسائیلم سیکرز / ریفیوجیز کے لیے بھی بِیس سال کا عرصہ لاگو کر دِیا گیا ہے ۔
یہ تو ہوگیا موٹا موٹا تعارف اِن تبدیلیوں کا ۔ یہ تمام تبدیلیاں پہلے تو ایسے ہوتا تھا کہ “ فلاں وقت سے لاگو ہوں گی “ لیکن یہ دوہزار اِکیس یا اِس کے بعد آنے والے تمام افراد پر لاگو ہوں گی ۔ اِس میں کئیر ورک کے ویزوں سمیت دیگر ورک پرمٹس پر آنے والے لوگ شامل ہیں اور مزید سختیاں بھی متوقع ہیں لیکن سوال یہ ہے ایسا کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی ؟
برطانیہ میں پچھلے کئی برسوں بلکہ عشروں سے مقامی آبادی باہر سے آنے والے تارکینِ وطن کی آمد پر تحفظات رکھتی آئی ہے لیکن حالیہ پانچ سات برسوں میں لاکھوں کی تعداد میں قانونی و غیر قانونی افراد کی آمد نے برطانیہ کی چولیں ہِلا کر رکھ دِی ہیں جِس کو یہ لوگ “ بورس ویوو “ کا نام دے رہے ہیں ۔ نائیجل فیراج جو ریفارم پارٹی کے ہیڈ ہیں وُہ ہر ایک سروے اور پول میں آگے دِکھائی دے رہے تھے ، دائیں بازو کی سیاست اور لوگ اِس معاشرے میں دراڑ کو بڑھائے جا رہے تھے ۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ تارکینِ وطن کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ قصور ہوتا ہے ۔ جب ایک بڑی تعداد کِسی مُلک یا شہر یا علاقوں میں پاکٹس بنا کر رہنے لگے ، جب مقامی آبادی کو وہاں سے منتقل ہونا پڑے ، جب مقامی ثقافت اور لباس تک زد میں آئے تو مسائل جنم لیتے ہیں ۔ اِس میں کِسی ایک مذہب یا کِسی ایک مُلک کے لوگوں کو قصور وار ٹھہرانا گو بڑی زیادتی ہوگی لیکن یہ بھی سامنے کی بات ہے کہ آپ کے پیاروں کا ہاتھ ، افغان تارکینِ وطن ، نائیجرین ، صومالین ، اِنڈین سمیت کئی ممالک نے اِن تبدیلیوں کے لیے “ بڑی سخت “ محنت کی ہے کہ “ کرو ، تبدیلیاں لاؤ ، ہم اِسی لائق ہیں ۔ “
آپ شبانہ محمود پر جتنی مرضی تنقید کر لیں لیکن بطور ہوم سیکرٹری یہاں کوئی بھی اور ہوتا / ہوتی تو یہ سب وقت کی پکار ہے ۔
یا تو اِن تبدیلیوں کو قبول کریں ، یا “ موووڈ ٹُو لندن ، انگلینڈ “ کا سٹیٹس تبدیل کر کے کوئی اور مُلک ڈُھونڈ لیں لیکن ہر مُلک جیسے کہ کینیڈا کے اپنے مسائل ہیں ، یورپی ممالک بھی دائیں بازو کی سیاست کی طرف بڑھ رہے ہیں ، امریکہ کی سختیاں جبکہ آسٹریلیا نے بھی ہاتھ کھینچ کر رکھا ہُوا ہے تو یا تو اپنی انکم لیول بہتر کریں ، ہائیر بریکٹس میں جائیں یا پھر دَس سال کا کڑوا گھونٹ بھریں ۔۔۔۔۔
ویلکم ٹُو نیو یُوکے ۔ یہ وُہ حالات ہیں جو میرے جیسے لوگ آپ کو برسوں سے بتاتے آ رہے تھے کہ یہاں مسائل ہیں لیکن سمجھے کون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مظالم کی انتہا مسافراں کو پریشانی
پاکستان میں ہوائی اڈوں پر ظالموں کو قبضہ مسافر پریشان آنکھوں میں درد کا سیلاب اور کوئی ارباب اختیار کی شنوائی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
روزگار بھی نہیں دے سکتے مُلک کے اندر۔ کوئی سہولت بھی نہیں دے سکتے ۔ کوئی مد د امداد بھی نہیں دے سکتے۔ تو ریاست سے کچھ مانگے بغیر۔ ہم اپنی جیب سے یا اپنے باپ کی جمع پونجی خرچ کر کے ۔ یا اپنی زمین مکان بیچ کر ۔ یا سارے مال مویشی بیچ کر ۔ یا بھاری قرضہ لے کر ۔ ہم لاکھوں خرچ کرتے ہیں ویزا لینے کے لیے ۔ جب کوئی دوسرا ملک ویزا دے دیتا ھے تو پھر کچھ نئے اور کچھ ہرانے کپڑے بیگ بکسے میں ڈال کر ۔ دس دس یا پندرہ پندرہ ہزار ٹیکسی والے کو دے کر دور دراز دیہاتوں سے ائیرپورٹ پہنچتے ہیں ۔ تو تُم ظالم لوگ جہاز پر بیٹھنے نہیں دیتے یا بیٹھے ہو ہے کو اُتار لیتے ہو۔ ارے بھائی کیوں ۔ کاغذ پتر پورے ہیں ۔ ویزا پرائے مُلک کی ایمبیسی نے دیا ھے ۔ لیکن تُم خوب ستاتے ہو ۔ بغیر وجہ بتائے واپس گھر کا رستہ بتاتے ہو۔ ارے ہم بھوک سے بھاگے تھے ۔ تُم جیسے ظالموں سے بھاگے تھے ۔ مگر کیا کریں طاقت تمارے ہاتھ میں ھے ۔ حکومت تمارے ہاتھ میں ھے۔ ہمارے پاس اگر ڈرائیونگ لائسینس نہیں تو یہ ہمارا اور پرائے ملک کا مسلہ ھے ۔ ہماری جیب میں پیسہ نہیں تو بھی یہ ہمارا اور پرائے ملک کا مسلہ ھے ۔ ہمیں جہاز سے اُتار کر واپس ہمارے گھر کا رستہ بتاتے ہو ۔ تمیں پتہ بھی ھے کہ ہمارے پاس واپسی گھر تک کے پیسے بھی نہیں بچے۔ تمیں پتہ بھی ھے کہ ہم نے کھانا بھی نہیں گھا یا ۔ سوچا تھا جہاز میں کھا لیں گے۔ ارے تماری اولادیں تو یہی عیاشی کرتیں ہیں تمیں بھوک کا افلاس کا کیا پتہ ۔ اے خدا ۔ اے الّلہ پاک
تیرے ہوتے ہوئے بھی
یہ لوگ ہم پر خدائی کر رہے ہیں
کیا کریں کدھر جائیں ۔ ہماری قوم بھی خاموش ھے ۔ ظاہر ھے رج کھانے والے کو بھوکے سے کیا مطلب ۔ کیا احساس ۔ اے میرے پاکستانی قوم ۔ اے بے درد قوم ۔ اے غافل قوم ۔ کوئی صدائے احتجاج بلند کر و ہم مفلسوں کے حق میں ۔ لچھ کرو یار کچھ کرو ۔ ہم لُٹ گئے ۔ ہم رُل گئے۔ ہم برباد ہو گئے۔
اے عوام جب تُم سے کہا جائے کہ یہ نظام بدلو اور اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کرو یقین جانو اسلامی نظام کسی پر زیادتی ہونے ہی نہیں دیتا جس طرح تمیں نماز روزے کا پتہ ھے اسی طرح تمیں اسلامی نظام کا بھی پتہ ہونا چاہیے کیونکہ اسلامی نظام بھی اسلام کا جزو ھے ۔اجازت !! دردمند ( قدیر مصطفائی)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قرآن کی سورتوں کے نام
Names of Surahs of the Quran, with their meanings
2- Surah Al-Baqarah (The Cow)
3- Surah Aal Imran (The Children of Imran)
4- Surah An-Nisa (Women)
5- Surah Al-Ma’idah (The Table)
6- Surah Al-An’am (Animals, Cattle)
7- Surah Al-A’raf (The Heights)
8- Surah Anfal (The Booty)
9- Surah At-Tawbah (Forgiveness)
10- Yunus (name of a prophet)
11- Surah Hud (name of a prophet)
12- Surah Yusuf (Name of a Prophet)
13- Surah Ra’d (The Thunder of the Cloud)
14- Abraham (name of a prophet)
15- Surah Al-Hijr (name of a place)
16- Surah An-Nahl (The Honeybee)
17- Surah Bani Israel (The Children of Jacob)
18- The Cave
19- Surah Maryam (name of the mother of Jesus)
20- Surah Taha (two letters of the alphabet)
21- Surah Al-Anbiya (plural of Prophets, Prophets of Allah)
22- Surah Hajj (Pilgrimage)
23- Surah Al-Mu’minun (Those who believe)
24- Surah Noor (Light)
25- Surah Al-Furqan (The Criterion)
26- Surah Shu’ara (plural of poets)
27- Surah An-Naml (The Ant)
28- Surah Al-Qasas (Stories, True Events)
29- Surah Ankabut (Spider)
30- Surah Rum (Rum)
31- Surah Luqman (Name of a righteous man)
32- Surah Sajdah (Prostration)
33- Surah Al-Ahzab (Hizb: group, plural: parties, war)
34- Surah Saba (A Nation)
35- Surah Fatir (The Creator)
26- Surah Yaseen (Name of the Prophet)
37- Surah As-Saffat (The Rows)
38- Surah S (one letter of the alphabet)
39- Surah Az-Zumar (The Group)
40- Surah Al-Mu’min (The Believer)
41- Surah Ham (Letters of the alphabet)
42- Surah Ash-Shura (The Righteous and the Counsellor)
43- Surah Al-Zukhruf (The Gold)
44- Surah Dukhan (The Smoke)
45- Surah Al-Jathiyah (The Fallen on Their Knees)
46- Surah Al-Aqaf (Name of a place)
47- Surah Muhammad (The blessed name of the Prophet of Islam, Hazrat Muhammad (PBUH))
48- Surah Al-Fath (Victory, Success)
49- Surah Al-Hujurat (The Rooms)
50- Surah Q (one letter of the alphabet)
51- Surah Adh-Dhariyat (The Wind That Blows Dust)
52- Surah At-Tur (The name of a mountain)
53- Surah An-Najm (The Star)
54- Surah Al-Qamar (The Moon)
55- Surah Ar-Rahman (The Most Merciful, the Beautiful Names of Allah)
56- Surah Al-Waqiah (The Hour)
57- Surah Al-Hadid (The Iron)
58- Surah Mujadila (The Dispute, The Argument, The Quarrel)
59- Surah Hashr (The Gathering, Resurrection, Resurrection)
60- Surah Al-Mumtahanah (The Examiner)
61- Surah As-Saff (The Rows)
62- Surah Jumu’ah (One of the blessed days)
63- Surah Al-Munafiqun (The Hypocrites)
64- Surah At-Taghaban (To be free from loss)
65- Surah Talaq (Divorce)
66- Surah Tahrir (The Forbidden)
67- Surah Malik (The Kingdom)
68- Surah Al-Qalam (The Pen)
69- Surah Al-Haqqah (The Truth, the Hour)
70- Surah Al-Ma’arij (The Ascent)
71- Surah Nuh (Name of a Prophet)
72- Surah Jinn (A creature created from fire)
73- Surah Muzzammil (The One Who Wraps the Sheet)
74- Surah Mudassar (The One Who Covers the Cloak)
75- Surah Al-Qiyamat (The Hour will surely come)
76- Surah Al-Dhar (The Children of Adam)
77- Surah Al-Mursalat (The Winds)
78- Surah An-Naba (The News)
79- Surah An-Naz’at (attractives, attribute of the wind)
80- Surah Al-Abbas (The Offering)
81- Surah At-Takweer (The Wrapping)
82- Surah Al-Infitar (The Cleft)
83- Surah Al-Mutaffifin (The Reduced in Measure and Weight)
84-Surah Al-Inshiqaq (The Split)
85- Surah Al-Buruj (The Constellations)
86- Surah At-Tariq (The Shining Star)
87-Surah Al-A’la (The Most High)
88- Surah Al-Ghashiya (The Coming Calamity)
89- Surah Al-Fajr (The Dawn)
90-Surah Al-Balad (The City)
91-Surah Al-Shams (The Sun)
92-Surah Al-Ilil (The Night)
93 – Surah Ad-Dhuha (The Daylight)
94-Surah Al-Sharh (The Peace of the Heart)
95- Surah At-Tin (The Fig)
96-Surah Al-Alaq (The Accumulated Blood)
97-Surah Al-Qadr (The Destiny)
98-Surah Al-Bayan (The Clear Oath)
99-Surah Al-Zalzalah (The Earthquake)
100-Surah Al-A’diyat (The Running Horses)
101-Surah Al-Qara’ (The Rattlesnake)
102-Surah At-Takathur (The Desire for Abundance)
103-Surah Al-Asr (The Hour)
104-Surah Al-Hamzah (The One Who Enjoys the Fruit of the Fruit)
105-Surah Al-Feel (The Elephant)
106-Surah Al-Quraysh (The Quraysh)
107-Surah Al-Ma’un (Commonly Used Items)
108-Surah Al-Kawthar (The Pool of Kauthar)
109-Surah Al-Kafirun (The Unbelievers)
110-Surah An-Nasr (The Victory)
111- Surah Lahab (The Flames of Fire)
112-Surah Al-Ikhlas (The Oneness)
113- Surah Al-Falaq (The Dawn)
114-Surah An-Nas (Mankind, People)
………………………..
قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہ گدھی گدھے کو ہی جنم دیتی ہے ہمارے ہی اجداد کا کیا کہنا ،جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اورانگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا..ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.
انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی.
انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.
بنگال رجمنٹ،
پنجاب رجمنٹ،بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔
برصغیر کے بُھوکے ننگے،دو چار روپے ماہانہ وظیفے پر لڑنے مرنے کو تیار تھے.پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کےخلافانگریزی فوج میں نوے فیصد ہندوستانی ہی تھے،غداری کرنے والا بھی میر جعفر ہی تھا.
سلطان حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان کے خلاف چار جنگیں لڑنے والے کون تھے؟کوئی اور نہیں۔میرے اور آپ کے اجداد تھے۔۔۔انگریزوں کے خلاف سندھ حر پگاڑو کے لڑے اورانگریزوں کا ساتھ مری بلوچ، بگٹی بلوچ نے دیابدلے میں سانگھڑمیں ان کو جاگیریں ملیںسرنگاپٹم سے میسور تک میر جعفر نے کس طرح سلطان سے غداری کی،انگریز کو کس طرح وفاداری بیچی..سب کچھ لکھا ہؤا ہے۔بس آنکھیں کھول کر پڑھنے والا چاہیے ۔علامہ اقبال نے کہا تھا:-
*جعفر از بنگال و صادق از دکن*
*ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن*
پنجاب میں رنجیت سنگھ جو انگریزوں کو مشکل وقت دکھا رہا تھا،مُسلمانوں کو اس کے خلاف جہاد پر لگا دیا..انگریز دار العلوم دیوبند کے سالانہ دورے کرتا تھا،اکابرین دیوبند کو وظائف دیتا تھا.اکابرین بریلوی اور اہلِ حدیث بھی حکومتی وظیفے لیتے رہے ہیں۔۔۔۔اسلام کی آمد سے اب تک 1500 سالوں میں پوری دنیا میں اتنے
پِیر ، دَستگیر ،
وَلی ،
محدث ، مجدد ،
قطب ،
مُفسر ، مناظر ،
مقرر پیدا نہیں ہوۓ،جتنے انگریز کے 100 سالہ دور میں برصغیر میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔
کوئی اُڑتا رہا ،کوئی لمحے میں غائب ہو کر مدینہ پہنچ جاتا،کوئی غوث اعظم کے نام پر لطائف گھڑتا،کوئی لال شہباز قلندر کو پرواز کرواتا رہا،کسی نے نبیﷺ کے نور یا بشر پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی ،
کسی نے حیات و ممات پر مسلمانوں کو دست و گریباں کروایایہ سب انگریز وظائف دے کر اپنی سلطنت کو دوام بخشنے اورمسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کرواتے رہے ہیں۔۔۔۔آپ کا کیا خیال ہے، پاکستان آزاد ہو گیا ہے؟انگریز کی بنائیرجمنٹ آج بھی حکمران ہے. عوام آج بھی محکوم ہے۔
آج بھی راشن کی قطاروں میں مر رہے ہیں۔
اور اشرافیہ آج بھی انگریزی وفاداری نبھا رہی ہے.
جب کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایک قوم
“*المجرمین پاکستان*”
کے بارے میں بھی تاریخ لکھی جائے گی ۔۔۔
مؤرخ لکھے گا۔۔۔
قومِ عاد۔۔۔
قوم ثمود۔۔۔
اور قومِ لُوط کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے۔۔۔
یہ ایک ایسی قوم تھی جو نام تو اللہ کا لیتی تھی،
مگر مانتی اپنے اپنے اپنے آلہ کاروں کو تھی۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کو تعلیم صرف جاہل بنانے کے لئے دی جاتی تھی۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کے مذہبی پیشوأ،
خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے،
مگر ان کو غربت افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔
ان کے حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔
مگر اس قوم کے نچلے طبقے کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی۔۔۔
مؤرخ لکھے گا:-
اس قوم کا انصاف بکتا تھا۔
طاقتور کے لئے علیحدہ قانون،
اور غربأ کے لئے الگ قانون تھا۔
اس قوم کے قاضی اُنہی کی طرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔۔۔
لکھا جائے گا:-
اس قوم کے سیاستدان خود غرض،
نا اہل اور بےحس تھے۔
مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی اور
اُن کے لئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔
ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بددعائیں کرتی تھی۔
مگر اس کا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہہ اور بیہودہ تھا۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس میں حرام خور عزت دار کہلاتے تھے
اور
محنت کر کے کھانے والے کمی کمین۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اسلام سے پہلے دور جاہلیت کے نکاح کی اقسام ۔۔۔۔ !!
بانجھ پن والا نکاح ۔۔۔
اگر شوہر بانجھ ہوتا یا اولاد کسی طاقتور قبیلے سے چاہتا تو وہ خود اپنی بیوی کو کسی اور مرد کے پاس بھیجتا کہ وہ اس سے حمل لے آئے ۔
دولت کے لئے وقتی رشتہ ۔۔۔
غریب عورتیں امیر مردوں کے ساتھ وقتی تعلق بناتیں اور جب کچھ مال حاصل کر لیتیں تو واپس اپنے شوہروں کے پاس آجاتیں ۔
جسم فروشی پیسوں کے بدلے ۔۔۔
عورت کے ساتھ پیسوں کے بدلے جنسی تعلق قائم کیا جاتا ، جیسے آج کے جسم فروش اڈے ۔
بغیر پیسے کے جنسی تعلق ۔۔۔
ایسا تعلق جس میں مرد کسی عورت سے بغیر نکاح اور بغیر کسی لین دین کے زنا کرتا ۔
جنگی قیدی عورتوں پر قبضہ ۔۔۔
جب ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر حملہ کرتا تو عورتوں کو زبردستی قیدی بنا کر بانٹ لیا جاتا اور مرد ان سے زنا کرتے جیسے وہ کوئی چیز ہوں ۔
محدود وقت والا نکاح (وقتی شادی) ۔۔۔ جسے فقہ جعفری میں معتہ بھی کہا جاتا ہےایک خاص مدت کے لئے نکاح کیا جاتا ، مثلاً کچھ دنوں یا ہفتوں کے لئے ، وقت پورا ہو تو تعلق ختم ۔ مگر اولاد کع وارنٹ کے پورے حقوق حاصل ہٹے ہیں
مشترکہ مردوں کا نکاح ۔۔۔
کئی مرد مل کر ایک عورت کے ساتھ جسمانی تعلق رکھتے اور جب بچہ پیدا ہوتا تو عورت خود فیصلہ کرتی کہ بچے کا باپ کون ہے ۔ یہ طریقہ مھمدی اسلام کا نہیں
باپ یا بھائی کی بیوی پر قبضہ ۔۔۔
اگر کسی مرد کا باپ یا بھائی مر جاتا تو وہ اس کی بیوی کو وراثت میں لے لیتا ، جیسے مال ہو اور اس سے نکاح بھی کر لیتا بغیر اس کی مرضی کے ۔
بیٹی یا بہن کا تبادلہ ۔۔۔
دو مرد آپس میں اپنی بہن یا بیٹی کو ایک دوسرے کے نکاح میں دیتے بغیر مہر کے ، بس تم میری بہن سے شادی کرو، میں تیری سے کر لوں گا ۔
عورتوں کا آپس میں تبادلہ ۔۔۔
دو مرد کہتے : ” تو اپنی بیوی مجھے دے ، میں اپنی بیوی تجھے دیتا ہوں” ، یعنی عورتوں کا لین دین جیسے سامان ۔
نتیجہ ۔۔۔۔ !!
یہ تھے وہ گھناؤنے رواج جو عورت کو انسان نہیں بلکہ مال و دولت اور شہوت کی چیز سمجھتے تھے اور پھر کہتے ہیں کہ اسلام نے عورت پر پابندیاں لگا دیں ۔۔۔ ، اسلام ہی وہ دین ہے جس نے عورت کو عزت ، تحفظ اور مقام دیا ۔
اسلام نے ہر عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے طور پر عزت دی ، ورنہ یہ جاہل معاشرہ تو عورت کو صرف استعمال کرتا تھا ۔
کیا ہم واقعی اسلام کے دور میں ہیں؟ یا صرف لباس بدلے ہیں ، مگر سوچیں کیا اب بھی جاہلیت
میں ہیں؟
نہ تعلقات میں وفا بچی ہے نہ نکاح میں حیاء ۔جب نکاح کو کھیل ، محبت کو جسم اور عورت کو مال سمجھا جائے تو جان لو ہم 2025ء میں نہیں ، جاہلیت کے کسی بدبودار غار میں رہ رہے ہیں ۔ اور آج کل کے جہالت کے دور میں یہ عمل انجام دینے والے کا ساتھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
شکر ہے رب کا جس نے ہمیں محمد و آل محمد کا اسلام دیا ،پر افسوس ۔۔۔۔ ہم نے محمدی اسلام کو چھوڑ دیا ۔۔۔ !!!
………………………………
زندہ حقیقت اور ہم سب کی جہالت
1500 سال پہلے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جو صحیح 28 نشانیاں بیان کی تھیں وہ سچ ہوئیں
1: مرد کم اور عورتیں زیادہ ہوں گی۔
2: لوگ موسیقی کی شکل میں قرآن مجید کی تلاوت کریں گے۔
3: مال کی محبت کی وجہ سے بیوی بھی شوہر کے ساتھ کاروبار میں حصہ لے گی
4: ہر کوئی اپنے آپ کو موٹا اور مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
5: نماز اور زندگی میں لوگوں کا سکون ختم ہو جائے گا۔
6: سود کا کاروبار عام ہو جائے گا۔
7. منافق پیدا ہونگے آبادان میں لوگ عبادت کریں گے منافقت اور شہرت پانے کے لیے
٨: فتنے بڑھیں گے اور دینی علم میں کمی آئے گی۔
9: لوگ قرآن کو تنخواہ کا ذریعہ بنائیں گے
10: جھوٹ عام ہو جائے گا اور لوگ جھوٹ کی گواہی دیں گے۔
11: لوگ صحیح احادیث کا انکار کریں گے اور غلط احادیث بیان کریں گے۔
12: مسلمان امیر ہو جائیں گے لیکن مذہبی پیشوا نئے ہو جائیں گے
کفر آسان ہوگا انسان صبح مسلمان اور شام کو کافر اور شام کو مسلمان اور صبح کافر 13:
14: آنے والی ہر نسل پچھلی نسل سے بدتر ہوگی۔
15: لوگ اسلام پر چلنے والوں پر حیران رہ جائیں گے اور وہ نئی چیزیں دیکھیں گے۔
16: قتل و غارت بڑھتے جائیں گے قاتل اور مقتول کو پتہ نہیں چلے گا کہ میں کیوں قتل کرتا ہوں اور کیوں مارا جارہا ہوں
17 کافر مسلمانوں پر غالب آئیں گے مسلمان زیادہ ہوں گے لیکن غلام ہوں گے کیونکہ وہ دنیا سے پیار کریں گے اور موت سے ڈریں گے
18: مذہب پر عمل اس آگ کے تارکول کی طرح ہوگا جو چھڑی میں پھنسا ہوا ہے۔
19: گناہ کرنا بہت آسان ہوگا اور گناہ کو گناہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
20: دنیا کے امیر ترین لوگ کنجوس ہوں گے۔
21: عمر سے برکت ختم ہو جائے گی، سال مہینوں کی طرح، مہینہ ہفتوں کی طرح، ہفتہ دنوں کی طرح اور دن گھنٹوں کی طرح گزر جائے گا۔
22: مسلمان ہر عمل میں کافروں کی پیروی اور اطاعت کریں گے۔
23: عرب کی مٹی وسیع ہوگی اور مدینہ کی آبادی بڑھ جائے گی
24: لوگ زکوٰۃ لینے کے اہل نہیں ہوں گے اور پھر بھی زکوٰۃ مانگیں گے۔
25 عورتیں سجتی ہونگی پھر بھی ننگی ہونگی مطلب کپڑے اتنے نازک ہوں گے کہ جسم کی طرح نظر آئیں گے
26: زنا آسان ہوگا اور زنا کے اسباب میں اضافہ ہوگا۔
27: جہالت عام ہو جائے گی، لوگوں کو دنیا کا علم ہو جائے گا، مگر جہالت کی وجہ سے دینی علم سے جاہل ہوں گے۔
28: بے حیا عورتوں اور آلات موسیقی میں اضافہ ہوگا۔
صاحب تحریر کی گزارش:
اگر تحریر مکمل پڑھ لی ہے تو اس پر اظہار خیال ضرور لکھیں کہ مکمل پڑھ لیا ہے اور ہو سکے تو دوسرں کو بھی ارسال فرمائیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
امروز کے پیر فقیر، رشتہ ازواج تقدیر تباہی اور بربادی گھر
یہ واقعہ سچا ہے ہماری شادیوں کا ہے جو حال ہے والدین اس قدر جلدی کرتے ۔ رشتہ کروانے والی بھی ناقص معلومات رکھتے ہیں ۔ وہ روزانہ کسی نہ کسی کے لیے فون کرتی رہتے ہیں، مگر بعض لڑکی والوں کی جانب سے انکار کے باوجود والدین کو اس قدر مجبور اور زمین و آسمان کے قلابے ملا رضا مندی پر مجبوریوں کے فائدے
حاصل کر ہی لیتے ہیں ۔ اور پھر ایک لڑکے کے خاندان کو لڑکیوں کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں ۔
واقعہ کچھ ایسے ہے کہ خاندان کا بیٹا آسٹریلیا (سڈنی) سے آیا تو انہوں نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ ایک بار آکر لڑکی کو دیکھ لیں۔ سب نے مشورہ کیا، صلاۃ الحاجت پڑھی، درود پاک پڑھا اور لڑکی کو دکھانے گئے۔ لڑکا بھی نہایت خوبصورت اور ذکر و اذکار کرنے والا تھا۔ ان کی فیملی بھی بہت دین دار تھی۔ لڑکی والوں نے کہا کہ جیسے ہم ہیں ویسے ہی یہ لوگ ہیں۔
جب ان کے بارے میں مزید معلومات کروائیں تو سب نے تعریف کی کہ لڑکا اور اس کے گھر والے بہت اچھے لوگ ہیں۔ ہفتے کے دن رشتہ دیکھا گیا اور اگلے ہفتے بارات رکھ لی گئی۔ بہت سمجھایا کہ نکاح کرلیں، اتنی جلدی شادی کیسے ہوگی، مگر وہ کہنے لگے کہ ہماری مجبوری ہے، بیٹے نے شادی کی تصاویر ساتھ لے کر جانا ہے اور اس کا ایک پیپر بھی باقی ہے۔
ایک ہفتے میں ہی شادی کی تیاریاں مکمل ہو گئیں۔ تقریباً 500 مہمانوں کی شرکت ہوئی۔ جہیز سے انکار نہیں کیا گیا، بلکہ ہر چیز برانڈیڈ دی گئی۔ ہماری بیٹی کو سننے کا موقع ہی نہیں دیا گیا، ہر چیز عزت و احترام سے ہوئی۔ سونا بھی دیا گیا۔ دونوں طرف سے شادی بہت اچھے طریقے سے انجام پائی۔
لیکن شادی کے صرف چار دن بعد وہ پوری فیملی لڑکی کو اپنے پیر کے پاس لے گئی، جو نارووال کے گاؤں جسر والی میں رہتے ہیں۔ تقریباً 80 سال کے بزرگ تھے۔ انہوں نے لڑکی کے بازو پر تسبیح ناپی اور کہا کہ اس پر جن ہے۔ اس کے بعد ان کے گھر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مسئلے شروع ہوگئے۔ کبھی بچی اٹھ کر رونے لگ جاتی، کبھی دودھ والا نہیں آتا، کبھی چتھ پر مرا ہوا کبوتر ملتا، اور ان سب باتوں کے الزام لڑکی پر لگنے لگے۔
انہوں نے لڑکی سے پوچھنا شروع کر دیا کہ تم منہ میں کیا پڑھتی ہو، رخصتی کے وقت کیا پڑھا تھا؟ لڑکی کی پھوپھو نے بتایا تھا کہ درود پاک پڑھتی جانا اور بسم اللہ پڑھ کر گھر میں داخل ہونا۔ لڑکی نیک، نمازی اور پرہیزگار تھی۔ شوہر بھی اسے بہت پسند کرتا تھا۔
لیکن شادی کے صرف 13 دن بعد شوہر واپس آسٹریلیا چلا گیا۔ اس نے کہا کہ ہم ساتھ نہیں رہ سکتے، میرے گھر والے منع کر رہے ہیں، لیکن وہ خود بھی کچھ نہیں کر سکا۔ وہ خود مسلسل رابطے میں رہتا، مگر گھر والوں نے پیپر بھجوا دیے۔ یوں صرف 13 دن میں ایک نیک، پڑھی لکھی، نمازی لڑکی کی دنیا اجڑ گئی۔
میں نے یہ ساری بات اس لیے لکھی ہے کہ آج کل اعتبار کس پر کیا جائے؟ اتنی پیاری اور نیک بچیوں کے ساتھ ایسے ظلم ہو رہے ہیں۔ کچھ لوگ پیر فقیروں کے کہنے پر فیصلے کرتے ہیں، جیسے آج بھی زمانہ جہالت میں زندہ ہوں۔
رشتہ کرتے وقت بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ کسی کے سامنے منہ میں کچھ نہ پڑھیں۔ اکثر لوگ ذکر اذکار کرتے رہتے ہیں، لیکن دنیا بہت ظالم ہے۔ جن کے بیٹے باہر ممالک میں ہوتے ہیں، ان کے دماغ آسمان پر چلے جاتے ہیں۔ چاہے کتنا ہی جہیز دے دیا جائے، مگر انہیں کسی کی عزت یا درد کا احساس نہیں ہوتا۔
چھوٹی عمر میں ایک پڑھی لکھی، نیک لڑکی کو طلاق کا لفظ دے دینا صرف اس کی نہیں بلکہ پورے خاندان کی زندگی برباد کر دیتا ہے۔ لوگ ذرا نہیں سوچتے کہ ایک لفظ کتنا بڑا زخم چھوڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
تھامس ایڈیسن مشہور عالم سائنسدان ..
اپنے بچپن میں بخار کے باعث وہ سماعت سے محروم ہو گیا تھا۔
جب وہ چھوٹا تھا،
تو ایک دن وہ سکول سے آیا اور ایک سر بمہر لفافہ اپنی والدہ کو دیا کہ استاد نے دیا ہے کہ
”اپنی ماں کو دے دو.”
ماں نے کھول کر پڑھا…
اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.
پھر اس نے با آواز بلند پڑھا،
”تمھارا بیٹا بہت ہی لائق اور ہونہار ہے، یہ سکول اس کے لئے بہت چھوٹا ہے اور یہاں اتنے اچھے استاد بھی نہیں کہ اسے پڑھا سکیں لہٰذا آپ اسے خود ہی پڑھائیں۔”
اس کے بعد اس کو پڑھانے کی ذمہ داری اس کی والدہ نے لے لی….
سالوں بعد جب تھامس ایڈیسن ایک سائنسدان کے طور پر مشہور ہو گیا، اور اس کی والدہ بھی وفات پا چکی تھیں۔
ایک دن، وہ اپنے خاندان کے پرانے کاغذات میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا کہ اسے وہی خط ملا.
اُس نے خط کو کھولا، اس پر لکھا تھا،
”آپ کا بیٹا انتہائی غبی ( کند ذہن ) اور ذہنی طور پہ ناکارہ ہے… ہم اسے اب مزید اسکول میں نہیں رکھ سکتے۔”
اسی دن ایڈیسن نے اپنی ڈائری میں لکھا….
”تھامس ایلوا ایڈیسن ایک ذہنی ناکارہ بچہ تھا،
لیکن ایک عظیم ماں نے اسے صدی کا سب سے بڑا سائنسدان بنا دیا۔”
(بلاشبہ ایک اچھی ماں نسلوں کو سنوار دیتی ہے )
_________________________
ترقی یافتہ یا آسانیاں ڈھونڈنے والے انسانوں کی بھیڑ
ہم لوگ ترقی یافتہ کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں ترک یا چھوڑ چکے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے خود ساختہ مشکلیں کھڑی کر لی ہیں۔
آج ہم دھوتی تو کجا پاجامہ بھی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!
–
ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟
–
ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستو ترک کیا اور سلش کے جام انڈیلے، ہم نے املی آلو بخارے کو غیر موثر اور مضرصحت قرار کر دیا دیا اور وہی چیز ایسنس یا مصنوعی خوشبو کے ساتھ جوس کے مہر بند ڈبے خرید کے بچوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتے کا ہوتا ہے۔ ہم نے ہی اس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔
–
ہم نے دودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چٹا سفید مکھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اس کے نقصان پیدا ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!
اصلی دودھ سے ہمیں چائے میں بو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دودھ نہیں۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سوکھا دودھ باہر ملک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!
ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔
–
فی زمانی ہم گڑ کو پینڈو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ یا تھپڑ مار دیا۔ اب ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گڑ بھی کھاتے ہیں تو پیلے والا کہ بھورا گڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔
–
آئیں، ہم سے ملیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ ابال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پیتے ہیں۔ ہم ستلج، راوی، چناب اور سندھی کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔
–
ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں۔ چھٹانک بھر دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے اجداد کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اٹھ جانا تھا۔
–
سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔ وہی سوکھے پسے ہوئے پتے جب حکیم پچاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔
–
پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹھی کا ٹکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ذائقہ آتا ہے۔‘
ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون ملا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو سونے یا ذہنی سکون کے لئے ادویات نظام کو درست کرنے کے لئے ہمیں سہارا لینا پڑتا ہے۔
–
ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے۔ ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ ہم اردو یا انگریزی کے رعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم ’اس معاملے میں غیر موزوں ‘ کیوں ہیں۔
–
عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکون سے بیٹھ گئے۔ ’فورٹی رولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چومتے نہیں تھکتے۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دمنہ اور اپنے دیسی قصے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ استاد مال تو اپنا تھا۔
اگر ہم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو ، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں۔ پاؤلو کوہلو اسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، آغانی میں کیا قصے ہیں، ہماری جانے بلا! کے ہم کس باغ کی مولی ہیں۔۔۔۔
ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سورج سخت ہوگئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹی کی خوشبو کو ہم نے عطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔
وہ بابا جو نیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حقے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نہیں آئی۔ بس وقت کا انتظار کرتے رہیں گے مگر اپنے کو نہیں سنواریں گے۔۔۔۔۔۔
__________________________
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
چھوتھی نسل میں تاجر خون حسین سے گفتگو کا جواب سنیں
یہ ولایتی باندر ہیں ان کی ولایت اصل میں پنجاب کا کلچر ہے نہ کہ تعلیمات آئمہ معصومین ع
سُر اگر پاک ہے تو پھر مراثیا پانی بھی پاک ہے چاہے شراب کا ہو نالی کا ہو گٹر کا یو یا چشمے کا ہو, مراثیا وہ گانے کی سُر کا پوچھ رہا ہے جب گانا حرام ہے تو گانے کی سُر کیسے پاک ہو گئ, کتا حرام ہے کیا کتے کے باربی کیو بنا کے کھانا جائز ہے ؟؟؟ شراب حرام ہے تو کیا نشہ حلال ہے؟؟؟؟
جن ذاکرین کا یہ نام لے رہا ہے ان میں عاشق حسین بی اے ہی صاحب تعلم یافتہ تھے باقی سب تو سفید پوش ضرور تھے مگر تعلیم یافتہ نہیں تھے یہ بالکل غلط بیانی کر رہ ہے ابھی کچھ لوگ حیات ہیں جو اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور شیخوپورہ میں ہی موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔بوقت ضرورت نام بھی لکھے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
مراثیا محمد و آلِ محمد کو جو دین اللہ کی طرف سے ملا تھا جس کو انہوں نے مخلوق تک پہنچایا وہ پنجاب کے کلچر مطابق اللہ نے نہیں بنایا تھا
مراثیا آئمہ معصومین ع نے گانا حرام قرار دیا ہے کیا آئمہ معصومین ع کو پنجاب کے کلچر مطابق دین پھیلانا چاہیے تھا ؟؟؟؟
مراثیا پنجاب کے کلچر میں تو پتنگ باڑی بھی آتی ہے بیلوں کی دوڑ بھی آتی ہے بیساکھی کا میلہ بھی آتا ہے ڈھول پر لُڈی ڈالنا بھی آتا ہے پنجابی مجرا بھی پنجاب کے کلچر میں ہئ پایا جاتا ہے تو کیا یہ سب دین کا حصہ ہو گئے ؟؟؟ واہ او مراثیا تیرے جیسے اس ملت کو نمائندے مل گئے تے فر اللہ ہی حافظ ہے, ؟؟؟
ٹائم نہ ہونے کی وجہ سے محمد و آل محمد کی تعلیمات کو چھوڑ دو اور پنجاب کے کلچر کو دین بنا لو واہ او مراثیا,
حوالے بھی اپنے جیسے لگڑوں کے دے رہا جو اسٹیج پر کہتے ہیں کہ ہم اپنے جیسے کی اطاعت نہیں کرتے وہ مراثی اپنے جیسوں کی اطاعت کرتے ہوئے حوالے دیے رہا ہے آئمہ معصومین ع کے حوالے کیوں نہیں دے رہا ؟؟؟؟ وہ اس لیے کیونکہ ایک تو احادیث یاد نہیں دوسرا اگر وہ احادیث سنا دیتا تو یہ خود ننگا ہو جاتا
سنو بکواس خود ساختہ وکیل ولایت تاجر خون حسین کی
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بیوی اور میاں کا رویہ ایک ذمہ داری
، جب گھر کا بھیدی ہی اپنی لنکا کو
ڈھا نے کے در پہ ہو تو
کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ مرد کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر جو اکتاہٹ، پژمردگی اور بے رونقی چھا جاتی ہے، وہ صرف وقت یا معاشی دباؤ کی دین نہیں ہوتی، اس کے پیچھے اکثروبیشتر وہ عورت کھڑی ہوتی ہے جسے قدرت نے اس کی زندگی کا سکون اور قلبی پناہ گاہ بنا کر اس کے سپرد کیا تھا۔
مرد کی ہڈیاں وقت کے ساتھ ضرور کمزور ہوتی ہیں، لیکن اس کے اعصاب، اس کی مسکراہٹ، اس کی جوانی اور اس کے جینے کی امنگیں عورت کے رویے سے یا تو پروان چڑھتی ہیں یا قبل از وقت مرجھا جاتی ہیں۔
معاشرہ جب کسی بوڑھے اور بیزار مرد کو دیکھتا ہے تو اسے بڑھاپے کا فطری انجام سمجھ کر گزر جاتا ہے، مگر اصل کہانی اکثر باورچی خانے، بیڈروم، لان اور صحن کے ان لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جہاں روزمرہ کے رویے ایک مرد کو یا تو بادشاہ بناتے ہیں یا فقیر۔
بیوی کا کردار محض کھانا پکانے، گھر سنبھالنے یا اولاد کی پرورش تک محدود نہیں۔ وہ مرد کے جذباتی نظام، اس کے اعتماد، اس کی خودی، اس کی قوتِ فیصلہ اور اس کی ذہنی حالت کی معمار بھی ہے۔
یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ بیوی کا سب سے بڑا ہتھیار زبان ہے۔ ایک نرم جملہ مرد کے اندر پہاڑ ہلا دیتا ہے اور ایک سخت جملہ اسے اندر سے گرا دیتا ہے۔ مرد باہر کی دنیا میں روزانہ ہزاروں چھوٹے بڑے محاذ لڑتا ہے۔ دفتر کی سیاست، معاشی دباؤ، ذمہ داریوں کا بوجھ اور زمانے کی سرد نگاہیں اسے ویسے ہی تھکا دیتی ہیں۔ جب وہ شام کو گھر لوٹتا ہے تو اسے نہ تو کسی نئے محاذ کی ضرورت ہوتی ہے نہ کسی سوال نامے کی، بلکہ اسے صرف اتنا چاہیے ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی ایسا چہرہ ہو جو اسے شکایت کے بجائے مسکراہٹ دے، مقابلے کے بجائے تسکین دے، اور حاکمانہ لہجے کے بجائے اس کے مرد ہونے کو تسلیم کرے۔
عورت اگر یہی ایک لمحہ سنبھال لے تو وہ اپنے شوہر کو بیمار سے صحت مند، مایوس سے پُرعزم، اور بوڑھے سے دوبارہ جوان بنا سکتی ہے۔
مگر افسوس ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں بہت سی خواتین نے رشتے کو “محبت” کے بجائے “میدانِ جنگ” سمجھ لیا ہے۔
شوہر سے بات کرتے ہوئے نرمی کی بجائے طنز، سوال کرنے کے بجائے طعن، اختلاف کرتے ہوئے مکالمے کی بجائے جھڑکنا عام رویہ بن گیا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شادی دو دشمن قبیلوں کے درمیان ایک مستقل معرکہ ہے جہاں ہر روز غالب اور مغلوب کا فیصلہ ہونا ہے۔
وہ عورت جو شوہر کے ہر لفظ میں حکم کا جواب حکم سے دیتی ہے، جو اس کے فیصلوں کو چیلنج سمجھتی ہے، جو اس کے مزاج کو بدلنے کی کوشش میں اپنا سارا زور لگا دیتی ہے، وہ یہ بھول جاتی ہے کہ مرد سے جنگ جیت کر وہ کبھی بھی سکون نہیں جیت سکتی۔
ایسے میں شوہر آہستہ آہستہ اندر ہی اندر سمٹنے لگتا ہے۔ وہ لڑنا چھوڑ دیتا ہے، مگر جینا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
عورت کے مزاج میں نرمی اور شوہر کے ساتھ اطاعت کا تعلق کسی غلامی یا کمزوری سے نہیں، بلکہ ایک فطری ترتیب سے ہے جسے بگاڑنے کا نتیجہ ہمیشہ رشتے کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔
ایک فرمانبردار اور عزت دینے والی بیوی مرد کو حاکم نہیں بلکہ محافظ بنا دیتی ہے۔ وہ اسے ظالم نہیں بلکہ شفیق بناتی ہے۔ وہ اسے تھک کر لوٹنے والا مزدور نہیں بلکہ فخر سے گھر آنے والا بادشاہ بناتی ہے۔
لیکن جب عورت ہر بات پر سوال اٹھانے، جھگڑنے، حکم چلانے، یا برابری کے نام پر مقابلہ آرائی شروع کر دیتی ہے تو گھر کا نظام آہستہ آہستہ ایک ایسے دلدل میں اتر جاتا ہے جہاں نہ محبت باقی رہتی ہے نہ عزت۔
عورت اگر چاہے تو صرف چند رویوں کو بدل کر اپنے شوہر کی ساری دنیا بدل سکتی ہے۔
صبح کے وقت ایک نرم مسکراہٹ، دن کے وقت ایک دو تعریفی جملے، شام کو تھکاوٹ کے وقت سکوت اور تسکین، اختلاف کی صورت میں مکالمہ اور لڑائی کی جگہ حکمت, یہ وہ چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں جو ایک مرد کے ذہن و دل کو تازہ دم رکھتے ہیں۔
لیکن اگر صبح ہی صبح طنز سے استقبال کیا جائے، دن بھر میں طعنے سنائے جائیں، شام کو بحث شروع ہو جائے اور رات جھگڑے پر ختم ہو، تو کوئی 22 سالہ جوان بھی چند برسوں میں بوڑھا، چڑچڑا، بیمار اور بدظن ہو جاتا ہے۔
یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ مرد کی جوانی صرف جسمانی طاقت سے نہیں جڑی ہوتی بلکہ اس کی روحانی و نفسیاتی تازگی سے جڑی ہے۔
جس مرد کو گھر میں سکون ملتا ہے وہ باہر دنیا کے ہزاروں طوفانوں کا سامنا مسکراتے ہوئے کر لیتا ہے۔ لیکن جسے گھر میں ہی بدظنی، بدکلامی اور بے توقیری ملے، وہ باہر کی دنیا میں جیت کر بھی اندر سے ہارا ہوا ہوتا ہے۔
یہ ایک معاشرتی مشاہدہ ہے کہ جو بیویاں شوہروں کی تعریف کرنے، ان کی باتوں کو اہمیت دینے، ان کے فیصلوں کو احترام دینے، اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں ان کا ساتھ دینے کی عادی ہوتی ہیں، ان کے شوہر بڑھاپے میں بھی ہنس مکھ، صحت مند اور جیتے جاگتے نظر آتے ہیں۔
وہ مرد جو روز اپنی بیوی کی نظروں میں عزت دیکھتا ہے، وہ زندگی بھر جوان رہتا ہے۔ لیکن جو مرد روز اپنی بیوی کی زبان سے زہر سنتا ہے، وہ چند سالوں میں اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔
مرد کو بدلنے کا سب سے طاقتور ذریعہ عورت کا رویہ ہے۔ نہ نصیحتیں، نہ تقاریر، نہ ملامتیں, بلکہ صرف رویہ۔
نرمی، اطاعت، عزت اور محبت وہ ہتھیار ہیں جو کسی بھی ضدی، اکھڑ، یا مایوس مرد کو بھی بدل کر رکھ سکتے ہیں۔ اور یہی رویے اگر الٹ جائیں تو ایک زندہ دل، مسکراتا، جوان شوہر چند برسوں میں بوجھ بن جاتا ہے۔
آخر میں عورتوں کے لیے ایک سادہ سا سوال چھوڑنا چاہوں گا:
“اگر آپ کے شوہر کے چہرے پر مسکراہٹ ختم ہو چکی ہے، اس کی باتوں میں چڑچڑاپن آ گیا ہے، اس کی صحت بگڑنے لگی ہے، وہ بیزار اور خاموش ہو گیا ہے,تو ذرا ایمانداری سے سوچئے، اس بگاڑ میں باہر کی دنیا کا کتنا حصہ اور آپ کے اپنے رویے کا کتنا؟”
کیونکہ سچ یہ ہے کہ مرد کو زمانہ نہیں، عورت ہی توڑتی ہے… یا وہی سنوارتی ہے۔
یہ تحریر کسی ایک فرد پر الزام نہیں، بلکہ ایک اجتماعی آئینہ ہے جس میں بہت سے چہرے جھانک سکتے ہیں۔
جو عورت اپنے شوہر کو جوان، پُرعزم، خوش اور زندگی سے بھرپور دیکھنا چاہتی ہے، اسے اس کی جڑیں پانی دینے ہوں گی، نہ کہ روزانہ کاٹنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔
مرد اگر گھر میں بادشاہ ہے تو عورت اس کی سلطنت کی روح ہے، اور روح اگر بگڑ جائے تو سلطنتیں بھی بکھر جاتی ہیں۔
نوٹ: میں ایک غیر جانبدار داعی ہوں, اسی لیے خواتین غصہ یا نارض ہونے سے قبل جان لیں کہ ان کی جانب کا بھی موقف تحریری شکل میں رقم کررہا ہوں اور ایک آدھ دن میں مکمل ہوتے ہی شیڈول کردوں گا تاکہ مرد بھی اپنے رویوں پر نظر ثانی کرسکیں اور اپنا احتساب خود کرسکیں
………………….
ایک پاکستانی جو نسل در نسل مغربی ممالک میں بسے ہوئے ہیں اپنے کو اقلیت کہہ کر خوش فہمی میں مبتلا ہیں
پاکستانی لوگ آجکل بڑے خوش ہورہے ہیں کہ امریکہ کی سیاست میں آجکل مسلمان کافی پیش پیش ہیں، جیسے نیویارک کا میئر ممدانی بن گیا یا ورجینیا کی ڈپٹی گورنر ہاشمی بیگم بن گئیں
پر کیا ہم کبھی یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے اپنے ملکوں میں ہمارا رویہ اقلیتوں کے ساتھ کیسا ہے؟ انڈیا کی سرزمین جو مسلمانوں کی آمد سے کئی صدیوں پہلے سے ہندؤں کی تھیں، ہم مسلمانوں نے ان سے ان کی زمینیں چھین کے مسلمانوں کے لیئے ایک الگ ملک بنا دیا یہ کہہ کہ مسلمان ہندو ساتھ نہیں رہ سکتے مگر اکہتر میں یہ جانا کہ مسلمان مسلمان بھی ساتھ نہیں رہ سکتے تو ملک کو مزید توڑ دیا گیا، پھر اس کا آئین بدلا، جو لوگ اس ملک میں نسل در نسل رہ رہے تھے ان کو اقلیت کہا اور ان کے حقوق سلب کیئے، اب اس ملک میں کوئ اقلیت کسی شھر کا میئر، صوبہ کا وزیر اعلی یا ملک کا وزیراعظم نہیں بن سکتا ہے؟ کیونکہ اس ملک کا آئین اس کی اقلیتی شھریوں کو یہ اجازت نہیں دیتا، اور کہانی یہیں پہ ختم نہیں ہوتی، ان کو زبردستی ان کے دین سے ہٹانے کے لیئے تبلیغی مشن چل رہے ہوتے ہیں، اور وہ نہ مانیں تو توہین مذہب یا توہین رسالت میں ان کو اندر کروا دیا جاتا ہے، اور یہ سب ملک میں کسی کو نہیں کھٹکتا، کوئ ان غریب بیچاروں کے لیئے سڑکوں پہ نہیں آتا جیسے آج سوڈان میں مسلمان قتل عام کر رہے ہیں تو سارا عالم اسلام چُپ ہے مگر اسرائیل کے معاملے میں سڑکوں پہ نکلے ہوۓ تھے، یہ ہماری منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے،
ہم جو ہر مسلمان کی جیت کو عالم اسلام کی جیت بنا دیتے ہیں، ہمیں چاہیئے کہ کسی بھی مسلمان کے مغربی ملک میں الیکٹ ہونے پہ جشن منانے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکیں، پھر ممدانی یا ہاشمی کی تعریف کریں مگر اس کی تعریف کرنے سے پہلے ان گوروں یا وہاں کے لوگوں کی تعریف ضرور کریں جنہوں نے ان کو تعصب سے ہٹ کے ووٹ دیا اور خود بھی ویسا بننے کی کوشش کریں
مگر افسوس ایسا ممکن نہیں، کیونکہ ہم مسلمانیت اور اسلام کے دائرے سے کبھی باہر نکل کے انسانیت کا نہیں سوچتے، یہ ہی وجہ ہے کہ کوئ ایک اسلامی ملک ایسا نہیں جہاں آزادی و سکون کی سانس لی جا سکے یا عزت نفس کو مجروع کیئے بغیر روزی روٹی کمائ جاسکے
ذرا غور کریں میں کیا کہہ رہا ہوں، اور اگر اپنی سوچ میں تبدیلی لاسکتے ہیں تو ضرور لائیں، ورنہ کوئ دیکھے نہ دیکھے، خدا تو ہماری منافقت کو دیکھ رہا ہے
*جاوید رضوی لندن*
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
*قومی زبان اردو کا قتل*
*ہمارے مُلکیات میں حالیات دیکھیں افسوسیات ہوتا ہے،
کچھ وقتیات پہلے کی باتیات ہیں کہ اردو کی جانیات پہچانیات بہت تھیں۔
لوگوں کو معلومیات تھے کہ اردو کے الفاظیات کو کیسے تحریریات کرنا ہے۔ افسوسیات ہیں کہ اب عوامیات کو اردو کی سمجھیات منفیات سے بھی نچلی سطحیات پر ہیں۔ قومی زبانیات کی قدریات کریں.*
شکریات,8
(اردو وہ جامع زبان ھے جسمیں تین بڑے زبانوں عربی فارسی ترکی کیساتھ ساتھ درجنوں محلی علاقائی زبانوں کی لطافتیں اور چاشنی بھی شامل ہے،
حقیقتا اردو دنیا کی تیسری بڑی یعنی ڈیڑھ ارب انسانوں کے بولنے اور سمجھنے کی زبان ھے
جس نے عظیم ادباء علماء شعراء اور مصنفین پیدا کیۓ ہیں،
لیکن آج ہماری نئ نسل اردو کا ایک سادہ جملہ لکھنے اور بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا کوشش نہیں کرتے،
بلکہ اچھے خاصے لکھے پڑھے قومی شخصیات بھی بولتے ہوۓ انگریزی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں،
یہ ویسے ہی نہیں ہوا بلکہ اس پر انگریز آقا نے باقاعدہ کام کیا ھے اور کررہاھے،
اور ہم غلامی کے اس طوق پر ٹائی کیطرح فخر بھی کرتے ہیں )
سب سے پہلے تو میرے مولا امیر المومنین علی علیہ السلام کا یہ دُکھ درد سنیں ,یہ لُگڑ کوئی آج کی پیداوار نہیں ہیں یہ مولا علی علیہ السلام کے ساتھ رہ کر بھی ایسے ہی تھے ان کے بزرگ مولا علی ع کی نہیں مانتے تھے محبانِ علی کی یہ لُگڑ کیا مانیں گے ؟؟؟
میں تمہارے سامنے حکمت اور دانائی کی باتیں بیان کرتا ہوں اور تم ان سے بھڑکتے ہو۔ تمہیں بلند پایہ نصیحتیں کرتا ہوں اور تم پراگندہ خاطر ہو جاتے ہو۔ میں ان باغیوں سے جہاد کرنے کیلئے تمہیں آمادہ کرتا ہوں تو ابھی میری بات ختم بھی نہیں ہوتی کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم اولادِ سبا کی طرح تتر بتر ہو کر اپنی نشست گاہوں کی طرف واپس چلے جاتے ہو اور ان نصیحتوں سے غافل ہو کر ایک دوسرے کے چکمے میں آ جاتے ہو۔ صبح کو میں تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور شام کو جب آتے ہو تو (ویسے کے ویسے) کمان کی پشت کی طرح ٹیڑھے۔ سیدھا کرنے والا عاجز آ گیا اور جسے سیدھا کیا جا رہا ہے وہ لاعلاج ثابت ہوا۔
اے وہ لوگو جن کے جسم تو حاضر ہیں اور عقلیں غائب اور خواہشیں جُدا جدا ہیں، ان پر حکومت کرنے والے ان کے ہاتھوں آزمائش میں پڑے ہوئے ہیں، تمہارا حاکم اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور تم اس کی نافرمانی کرتے ہو اور اہل شام کا حاکم اللہ کی نافرمانی کرتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ معاویہ تم میں سے دس مجھ سے لے لے اور بدلے میں اپنا ایک آدمی مجھے دے دے، جس طرح دینار کا تبادلہ درہموں سے ہوتا ہے
یہ ولایتی لُگڑوں کا لوٹا پانچ دن پہلے کدھر تھا جب اسلام آباد میں ایک تکفیری مذہب شیعہ کو الاعلان گالیاں دے رہا رہا تھا تب یہ کون سے سوراخ میں گُھسا ہوا تھا ؟؟ تب اسکی غیرت کہاں لنگر کر رہی تھی
اگر یہ ولایتی لُگڑوں کا لوٹا اُن لُگڑوں کو تاجر کہے بپاری کہے تو ٹھیک ہے کسی کی توہین نہیں ہوتی اور اگر ہم اس کی بات کو آگے پہنچائیں تو یہ لُگڑوں کی توہین ہو گئی ؟؟
یہ ولایتی لُگڑوں کا لوٹا اس لیے تڑپ رہا ہے کیونکہ اسکی اپنی پھٹی پڑی ہے جہاں جاتا ہے سمجھدار بانی اسے کہتے ہیں اپنے من گھڑت القابات اپنی جیب میں رکھنا جس وجہ سے یہ اب چاپلوسی نہیں کر پا رہا یہ اسے مرچی لگی ہوئی ہے
یہ ُلگڑ جب قرآن کی تذلیل کرتے ہیں جب خدا کی توہین کرتے ہیں جب جھوٹی تفاسیر سناتے ہیں جھوٹے مصائب سناتے ہیں انبیاء کی توہین ملائکہ کی توہین کرتے ہیں آئمہ معصومین ص کے نام پر شرک غلو جھوٹ کفر بولتے ہیں تب تمہارا یہ تگاری ورگا منہ کدھر ہوتا ہے ؟؟؟
جب ٹاپے شاہ امام زمانہ علیہ السلام عج کی توہین کرتا رہا قرآن کی غلط ایات پڑھتا رہا جھوٹ بولتا رہا جب لطیفے شاہ من گھڑت احادیث بناتا رہا آئمہ معصومین ع کے عقد کا انکار کرتا رہا جب لطیفے شاہ وحی کا انکار کرتا رہا جب لطیفے شاہ منبر رسول ص پر لطیفے چٹکلے جگت بازیاں کرتا رہا تب تمہارا یہ تگاری ورگا منہ کیوں نہیں کھلا, ؟؟؟
میں جانتی ہوں ہماری وجہ سے تمہارے کاروبار مشکوک ہو گئے ہیں تم لُگڑوں کی اصلیت سامنے آ چکی ہے تم منبر پر آنے سے پہلے یہ دعا کرتے ہو شالا الفت زہراء نہ دیکھ لے لُگڑا تم نے آس قوم کو دیا ہی کیا جہالت میں پھینک دیا علم اور علماء سے دور کر دیا قرآن اور مکتب اہل بیت سے دور کر دیا, انڈیا پاکستان کے گلوکاروں کی پیروی جائز اور شیعہ سادات فقہاء کی پیروی ناجائز؟؟؟

پہلے اپنے تگاری ورگے منہ تے ولایت نافذ کر پھر منبر آنا منہ تمہارا ایسے ہے جیسے چھ ماہ کے بچے کی تشریف ہوتی ہے تمہاری جہالت دنیا کو دکھاؤں تو تم کہتے ہو عزاداری کی دشمن ہے تمہارا شرک دنیا کو دکھاؤں تو تم کہتے ہو سادات کی منکر ہوں, تم اصلی حقیقی سادات کی توہین کرتے رہو ان پر جھوٹ بولتے رہو ان کے نام پر شرک کفر پھیلاتے رہو تو یہ عزاداری ہے ؟؟؟
سٹیل دی تگاری ورگا تیرا منہ اے لُگڑوں کی چاپلوسی کر کے تم روٹی کھا رہے ہو آس وقت یہ تمہاری انسانیت کدھر ہوتی ہے جب منبر حسین ع پر بانیان کو بتائے بغیر بڑے لُگڑ ذاکرین سے پیسے لے کر ان کے ٹائم تبدیل کرتے ہو کوئی چھوٹا ذاکر آ جائے اسکی تذلیل کرتے رہتے ہو چھوٹے ذاکرین کو تنگ کرتے ہو ان کو جان بوجھ کر ٹائم نہیں دیتے تاکہ یہ پانچ سو ہزار دیں تو میں اعلان کروں گا,
رہی بات میری جب تک اللہ نے موت کا وقت مقرر نہیں کیا تم نہیں تمہارا سارا لُگڑ ٹبر تشریف سے زور لگا لے کچھ نہیں کر سکتا یہ حق اسی طرح بیان ہوتا رہے گا تم لُگڑوں کی جہالت احمق پن بیوقوفیاں چبل پن سب دکھاتی رہوں گی,جو یہ تمہارے بہنوئی اسٹیج پر بولتے ہیں کرتے ہیں وہی آگے دنیا کو دکھاتی ہوں تاکہ دنیا جان سکے کہ ملت تشیع پاکستان خود اندر سے ان لُگڑوں سے بیزار ہے,
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نشر و اشاعت پیغام کربلا میں ایک اور سعیٔ بلیغ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ فارسی میں اودھ میں فارسی اور اردو مرثیہ نگاری کا ایک تقابلی
مطالعہ : مقالۂ تحقیق برائےPHD
عالی جناب عزت مآب : پروفیسرسید علی الحسن رضوی صاحب دام عزہ،
(PhD،آئی ۔آئی ۔ ٹی ۔ کانپور)جامعہ نگر ، نئی دہلی۔
حضرت جوشؔ ملیح آبادی کی یہ پیشنگوئی ایک ابدی حیات کی مالک بن گئی کہ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارےگی ہمارے ہیں حسینؑ
ہر صبح نو یہی اذان حق گلدستہ عقل و فکر و دانش سے ببانگ دہل بلند کرتی نظر آرہی ہے کہ کربلا صرف رگوں میں دوڑتی پھر تی نہیں ہے بلکہ حیات نوع انسانیت کی ہر آنکھ سے لہو بن کر ماضی میں ٹپکتی رہی ، حال میں بھی ٹپک رہی ہے اور کائنات کا مستقبل بھی اسی چشم تر سے ٹپک ٹپک کر زمانے کو پر نور بناتا رہے گا۔ اور یہ سلسلہ نورانیت اس وقت تک جاری اور ساری رہے گا جب تک کہ حقیقی نور ابدی منتقم خون حسینی ظہور پذیر ہوکر نظام کائنات کی باگ ڈور خود سنبھال نہیں لیتا ۔ صدائے کربلا کی گونج ہر میدان فکر و نظر کو سنائی دے رہی ہے کبھی جنگ کے محاذ پر عالم صیہونیت کو لزرہ بر اندام کرتے ہوئے کبھی لوح و قلم کے شہسواروں کے تیز رفتار سپا ہ علم و فنون کی نبرد آزمائی کے میدان نثر و نظم میں لُولُو و
مرجان بکھیرتے ہو ئے اور کبھی شاہراہ یقین محکم کے ان مسافرانِ عزائے حسینی کی صورت میں (کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡص)سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی شکل میں کبھی زینت فرش عزا بن جا تے ہیں اور کبھی جلوسہائے ماتمی کی شکل میں سینہ زنی کرتے ہو ئے صفوف باطل کو متزلزل کرکے رکھ دیتے ہیں ۔
2
زیر نظر تحریر میں جس سعیٔ بلیغ کا ذکر مقصود راقم الحروف ہے وہ لوح و قلم کےایسے شہوار سے متعلق ہے جس نے سر زمین ہند کی بے حد مشہور و معروف اورتاریخ رقم کرنے والی یونیورسٹی یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے شعبۂ فارسی سے ٢٠٢٥ سال رواں میں PhD کی ڈگری حاصل کی اور امتحانی مضامین میں بھی سارے طلباء میں ممتاز ترین نمبر حاصل کرکے قوم کے لئے باعث صد افتخار وعز و شرف بھی بن گئے۔ آپ کا نام نامی ہے ڈاکٹر سید شبیب حسینی ، تحقیقی کام برائے
PhD تو ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن زیر نظر مضمون کا محرک جو جذبہ بنا وہ اس حقیقت کی بنا پر قائم ہوا کہ شعبۂ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ میں ;شائد یہ پہلا ایک ایسا تحقیقی کام ہوا ہے جونشر و اشاعت پیغام کربلاکا ذریعہ بھی بن گیا۔ لفظ شائدکا استعمال اس لئے کیا گیا ہے کہ کم از کم ٢٠١٠ ء تک کا یقین ہے لیکن اس کے قبل کی صورتحال کا شمار نہیں کیا جا سکا ہے ۔ گذشتہ پندرہ برسوں میں
شعبہ فارسی کے محققین کے عنوانات کچھ اس قسم کے رہے ہیں :
کشمیر کا فارسی شعری ادب٢٠٢٥،
کشمیر کے صوفیاء و ادبیات فارسی مطالعہ تطبیق میان خیر المجالس و فوائد الفواد
٢٠٢٤،
کشمیر کے مشہور و معروف شعراء رباعیات ٢٠٢٢۔
رتن سنگھ زخمی کی علمی اور ادبی شخصیت ٢٠٢١ ۔
شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کے کام کا تنقیدی تجزیہ ، فیض کی مثنوی کے
محاسن کا مطالعہ ٢٠٢٠۔
بابا حیدر مولی کی ہدایت المخلصین کا تنقیدی تجزیہ ، مرزا سلامت علی دبیر کے
فارسی کلام کا تنقیدی مطالعہ، مولانا روم کے دو اہم ترجمہ کا تنقیدی مطالعہ ٢٠١٨۔
قاضی نجم الدین رسوا کا فارسی ادب پر کام ٢٠١٦۔
مرزا کمال الدین بد خشی کی مثنوی گوئی در فارسی ، چشتیہ سلسلہ کے مشہور
صوفیاکی فارسی خدمات ، کلام بیدل از لحاظ معنی و مفہوم ٢٠١٥ ۔
میرم بزاز کے کام کا تنقیدی مطالعہ ، غلام حسین سعیدی کے کام میں ایران کی
سماجی اورثقافتی حالت، شیخ فیضی کی غزلیات، رباعیات قیس ہمزہ کا تنقیدی مطالعہ،
نقشبندی سلسلہ کی فارسی خدمات اور عہد تغلق کا فارسی نثرایک مطالعہ ٢٠١٤۔
2
کشمیر کے غیر مسلم لوگوں کی فارسی تاریخ نویسی ، محمد احمد شاہ بدخشی کے
احوال ، ڈوگرا دور کی تاریخ نویسی ، کشمیر میں ڈوگرا عہد کی کلابنا مہ کی تاریخ
نویسی، واصل کشمیری کی شاعری کا تنقیدی جائزہ ، امروہہ کے فارسی شعراء، خطا
شوستری کا مطالعہ ، چک کے عہد کی فارسی شاعری ، موہن لال انیس کے دیوان
کی تحقیق و تدوین ، ہند و ایران کے افسانوں کا تقابلی مطالعہ ٢٠١٣۔
تاریخ کشمیر سید علی کا تنقیدی جائزہ ، میر الٰہی ہمدانی کے دیوان کاتنقیدی مطالعہ ،
توزیق جہانگیر ی کا تاریخی اور ادبی مطالعہ ، بدایوں کا ہندو فارسی ادب کا کام،
حامی حسین پناہی کا کام، ہر گوپال گفتہ تفتہ کے احوال و اثر ، ٢٠١٢۔
مولانا محمد اسماعیل کشمیری شخصیت اور فن ، دیوان بدر کا تنقیدی مطالعہ ، بہادر
شاہ ماریروی کے دیوان کی تحقیق و تدوین اور بیسویں صدی میں ہندو ایران کے ادبی
، سماجی اور ٹقافتی رشتے ٢٠١١۔
درج بالا تحقیقی عنوانات سے معلوم ہو تا ہے کہ اردو فارسی مراثی پر برائے نام ہی
محققین نے ماضی میں کام کیا ہے ۔ اسی لئے ڈاکٹر شبیب حسینی کی تحقیقی کاوش
حسینی اور حسینیت سے متعلق افراد کے لئے قابل صد تحسین و ستائش کہے جانے
کی مستحق ہے ۔ آپ کا یہ تحقیقی کام اس نقطۂ نظر سے بھی انفرادیت کا حامل ہے کہ
فارسی زبان اور اردو زبان دونوں میں مراثی کا موازنہ کسی بھی محقق کے یہاں
مشکل ہی سے ملے گا ۔ مثلاجب ہم اپنے پڑوسی ملک میں مراثی پر ایک طا ئرانہ
نظر ڈالتے ہیں تو وہاں کی PhD وغیرہ کے تحقیقی عنوانات کچھ یوں نظر آ تے ہیں :
اردو مر ثیہ کا ایک تاریخی اور تنقیدی مطالعہ ( لاہور) ۔
ارتقائے مراثی فارسی اور عربی سے لے کر دود جدید تک ( کراچی)۔
اردو مرثیہ کے عناصر کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ ۔ بیسیوں صدی اور جدید مرثیہ۔
اردو مر ثیہ کے پانچ سو سال۔ مرثیہ پر اعتراضات کا تنقیدی جا ئزہ۔ اردو مراثی کی
اخلاقی اور ادبی قوت وغیرہ ۔
ڈاکٹر شبیب کی تحقیق جو فارسی ، اردو، مراثی سے متعلق ہے درج ذیل عنوانات پر
مشتمل ہے : مقدمہ ، تحقیق کا پیش خیمہ ، پہلی فصل ، تا پانچویں فصل ،مقالہ تحقیق
کے مقدمہ میں موصوف نے طرح تحقیق وغیرہ پر گفتگو فرما ئی ہے جو کلام الملوک
(سلاطین دکن کا فارسی کلام )، عزاداری ، تہذیبی، ادبی اور ثقافتی ، منظر نامے میں،
عزاداری حضرت امام حسین ایک آفاقی تحریک ، شاہان اودھ اور شیعیت ، اودھ میں
اردو مرثیہ کا ارتقاء ، اودھ کے فارسی گو شعراء ، مرزا دبیر کی فارسی شاعری پر
مشتمل ہے طرح تحقیق کے بعد روش تحقیق ، منابع کی تحقیق ( مدارک کا جائزہ جس
2
میں فارسی منابع، اردو منابع، عربی منابع اور انگریزی منابع کا ذکر ہے) ۔ بعدہ تحقیق
کا پیش خیمہ پیش کیا گیا ہے ۔ فصلوں کے اعتبار سے مقالہ کو پانچ حصوں میں پیش
کیا گیا ہے ۔
پہلی فصل
پہلی فصل کا پہلا حصہ اودھ کا جغرافیائی تعارف پیش کرتا ہے پھر سلاطین اودھ کی
تاریخ ، نقطۂ آغاز ، فیض آباد کی مرکزیت ، لکھنو کی مرکزیت، اودھ کے سیاسی
اجتماعی ماحول کا ایک خاکہ سلطنت کا قیام، سعادت خان کے جا نشینوں کی
کارکردگی ، اور سلطنت کا دوسرا دور پیش کیا گیا ہے ۔ پہلی فصل کے دوسرے
حصہ میں ہندوستان میں فارسی مرثیہ نگاری کی ابتداء اور نشو و نما ، قطب شاہی
سلاطین اور مرثیہ نگاری ،سلطان محمد قلی قطب شاہ ، سلطان محمد قطب شاہ کا
تذکرہ ہے ۔
دوسری فصل
دوسری فصل میں اودھ میں فارسی اور اردو مرثیہ نگاری کا نقطۂ آغاز ہے اس
کے پہلے حصہ میں اودھ میں فارسی مرثیہ نگاری، عام مرثیہ نگاری( شخصی مرثیہ
نگاری ) کی جھلک ، ہاتف کی شخصی مرثیہ نگاری ، ملاعلامی ، عبد الجلیل
بلگرامی ، خاص مرثیہ نگاری کی جھلک حیدر تو تیائی ، دوسری فصل کے دوسرے
حصے میں اودھ میں اردو مرثیہ نگاری کا نقطۂ آغاز جس میں عام ( شخصی ) مرثیہ
نگاری کی جھلک میں مرزا محمد رفیع سودا کا ذکر ہے ، اس کے بعد خاص ( حسینی
) مرثیہ نگاری کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے ۔
تیسری فصل
تیسری فصل میں مغلیہ حکومت کے دوران اودھ میں اردو اور فارسی مرثیہ نگاری کا
تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے ۔ اس کے پہلے حصہ میں عام مرثیہ نگاری کا جائزہ ہے
جس کے تحت بلگرام میں فارسی مرثیہ نگاری، مولانا آزاد بلگرامی ، سید کرام اللہ
غریب بلگرامی ، بھگوان داس ہندی کا مرثیہ ، رفعت و آشفتہ ، رحلت ،رفعت، آشفتہ،
کا مرثیہ، شیخ امام بخش ناسخ، ایک لوح قبر ، صالح اور ملکۂ آفاق میرزا ولی ، منشی
احمد کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ دوسرے حصہ میں خاص مرثیہ نگاری کا جائزہ لیا گیا ہے
2
۔ اس میں شیخ علی حزین لاہیجی، کی مرثیہ نگاری ، انکا مشہور مرثیہ ، ستیل داس
مختار ، میر تقی میر، مرزا اسد اللہ خان غالب، ترکیب بند ، منقبت سید الشہداء ، قصیدہ
ضریحہ، منقبت حضرت عباس ابن علی علیہ السلام ، پھر
نوحہ اے کج اندیشہ فلک حرمت دیں باسیتی
نوحہ شد صبح بداں شور کہ آفاق بہم زد
نوحہ سر و چمن سروری افتاد زپا
نوحہ :اے فلک ! شرم از ستم بر خاندان ابن مصطفیؐ
نوحہ : وقتست کہ در پیچ و خم نوحہ سرائی
اس کے بعد کنور دولت سنگھ شکری لکھنوی کا تذکرہ ہے ۔
اس فصل کےدوسرے حصہ میں مغلیہ حکومت کے دوران اودھ میں اردو مرثیہ
نگاری کا ایک تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے ۔ جس کے تحت میر تقی میر ، شروع در قصۂ
جانگاہ پیش کیا گیا ہے جو شخصی مرثیہ نگاری کے تحت ہے ۔
خاص مرثیہ نگاری ( مرثیہ حسینی) میں احسان، افسردہ، دیوان افسردہ ، سکندر ، میر
حیدری، خادم ،گدا، ناظم، مقبل ، کا تذکرہ ہے ۔ اس کے بعد اردو مرثیہ نگاری کے
چار اہم ستون کے طور پر میر خلیق ،مرزا جعفر علی فصیح ، میاں دلگیر، اور میر
ضمیر کو پیش کیا گیا ہے ۔ آخر میں میر تقی میر کے اردو کلام کا نمونہ ، عنایت
حسین خان مہجور بنارسی اور رباعی از مہجور کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
چوتھی فصل
چوتھی فصل میں انگریز حکومت کے دوران اودھ میں فارسی اور اردو مرثیہ نگاری
کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اس کے پہلے حصہ میں فارسی مرثیہ نگاری کا
تحقیقی جائزہ ہے ۔ اس کے مرثیہ نگاری کے عنوان سے شخصی مرثیہ نگاری کے
تحت امیر مینائی، محمد علی خان اثر ، خیالی ، مسرت اور سرور و محفوظ ، شاداں
بلگرامی، قیس، سوزاں، گرم، مرثیہ بہادر شاہ ظفر اور شاہ تراب علی کا تذکرہ ہے ۔
پھر خاص مرثیہ نگاری میں اودھ کی تاثیر گذاری ، ڈاکٹر محمد اقبال ( حالات زندگی
، در معنی حریت اسلامیہ و سر حادثۂ کربلا )، راجہ الفت رائے و راجہ دھنپت ر
ائے ، راجہ دھنپت رائے محب اور انکا حب اہل بیت رسولؐ، اظہار عاجزی ، منصور
مولوی منصور شاہ خاں کا ذکر ہے ۔ بعدہ حسینی مرثیہ نگاری میں مرزا سلامت علی
2
دبیر ، پہلے ترجیع بند کے منتخب پانچ بند پھر دوسے اور آخر میں تیسرے ترجیع بند
کے منتخب ٥ بند پیش کئے گئے ہیں ۔
دوسرا حصہ اردو مرثیہ نگاری کے تحقیقی جائزہ پر مشتمل ہے جس میں شخصی
مرثیہ نگاری کے ذیل میں علامہ اقبال ، الطاف حسین حالی، انیس اور پھر حسینی
مرثیہ نگاری میں عصر انیس و دبیر کے بعد میر ببر علی انیس ، شخصیت ،فن سراپا
، چہرہ ، رخصت، رجز۔ میر انیس و دلہی پور ( چندولی بنارس ) ، مرزا سلامت علی
دبیر بعض ہندو شعراء کی تخلیق کے نمونے ( منشی چھنولال دلگیر، منشی کنور سین
مضطر لکھنوی ، راجہ الفت رائے ، لالہ نانک چند نانک لکھنوی، اور راجہ دھنپت
رائے محب کا ذکر کیاگیا ہے ) ۔
پانچویں فصل
پانچویں فصل میں جو آخری فصل ہے مقالہ کی اس میں آزادی کے بعد اودھ میں
فارسی اور اردو مرثیہ نگاری کا اجمالی خاکہ پیش کیا گیاہے ۔ فارسی مرثیہ نگاری
کے ذیل میں شخصی مراثی میں آدمی سیتھلی ( نمونۂ کلام ، فارسی نمونہ کلام ، غزل
ودیگر ) کا تذکرہ ہے ۔ جب کہ مرثیہ حسینی کے ذیل میں جوش نعمانی ،کیفی اعظمی
،شمیم کرہانی ،محسن زیدی ، کے تذکرے ہیں، جبکہ حسینی مرثیہ نگاری میں جوش
ملیح آبادی ، شب عاشور کا ایک منظر ، ڈاکٹر حسن فاروقی نے لکھا ہے ، علامہ
ضمیر اختر صاحب ، مراثی جوش ملیح آبادی ، کی تحریر : کائنات پر شہادت امام
حسین کے اثرات ۔ گیان چند جین ، اودھ کی تاثیر گزاری، جمیل مظہری کا تذکرہ کیا
گیا ہے ۔
آخر مقالہ میں نتیجۂ تحقیق اور فہرست منابع کو پیش کیا گیا ہے ۔ صاحب مقالہ نے
اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سلاطین اودھ کی حکومت کے زمانہ میں اردو مراثی
پر کافی تحقیق ہوئی ہے اور ہو تی رہتی ہے لیکن اسی زمانہ میں فارسی مرثیہ گوئی
بھی خاصی مقدار میں ہو ئی لیکن اس پر محققین کی نظر تحقیق نہیں ہو سکی تھی یا
کم ہوئی تھی اسی لئے اس مقالہ کی ضرورت پیش آئی ڈاکٹر شبیب حسینی نے کچھ
کتابوں کا تذکرہ کیا ہے جو ان کے موضوع سے مرتبط ہیں جیسے
١۔ کلام الملوک :۔ سلاطین دکن کا فارسی کلام ،( مصنف میر سعادت علی رضوی)
٢۔ عزاداری تہذیبی ، ادبی، اور ثقافتی منظر نامے میں ،( شاہد نقوی )
٣۔ عزاداری امام حسین ایک آفاقی تحریک ،( ڈاکٹر دھرمیندر ناتھ)
2
٤۔ شاہان اودھ اور شیعیت( فروغ کاظمی )
٥۔ اودھ میں اردو مرثیے کا ارتقاء( ڈاکٹر اکبر حید ری کاشمیری)
٦۔ اودھ کے فارسی گو شعراء ( ڈاکٹر زہرہ فاروقی )
٧۔ مرزا دبیر کی فارسی شاعری ( ڈاکٹر یاسر عباس )
اس کے علاوہ ایک اورکتاب کا تذکرہ ہے اس کا نام ہے روش تحقیق جو
جدید طرز تحقیق سے وابستہ ہے اور کتابخانہ ای تحقیق سے متعلق ہے جس کا
صاحب مقالہ نے بطور روش تحقیق خوب استعمال کیا ہے ۔ جدید دور کے محققین
انٹرنیٹ پر موجود مواد علمی کے ذخیرہ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے آج کے
دور میں کامیابی سے ہمکنار ہوا کرتے ہیں ۔
ہماری دعا ہے کہ ڈاکٹر شبیب حسینی اپنے ادبی اور تحقیقی میدان میں آئندہ بھی سر
گرم عمل رہا کریں گے اور عالمی جرائد و رسائل میں شائع ہو کر خود بھی ایک
شہرت یافتہ محقق ادب رثائی بنکر عالمی ادب کو کربلا شناسی کے اسباق پڑھا ئیں
گے اور آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بن کر ابدی زاد آخرت کا مزید سامان
بھی فراہم کرنے کی سعیٔ بلیغ فرمائیں گے ۔
حوالہ جات
1۔ حسینی، سید شبیب، اودھ میں فارسی اور اردو مرثیہ نگاری کا ایک تقابلی مطالعہ
مقالہ برائے PhD ، شعبہ فارسی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی ، 2025ء
2۔ ملیح آبادی، جوشؔ حسین اور انقلاب۔(مرثیہ مسدس) ، شیخ نذیر احمد، ( ناشر
ریختہ کے اعتبار سے )
نیز: archive.org(internet.archiv)
—
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
علما کو مجبور محکوم بنا کر اپنی اپنی چار اینٹوں کی مسجد کی پیشانی میں لگا کر دل کا اندھا دین کو اپنے دکان بنائے ہوئے اکثریت گنگ شیطان امیرشام کا شیعہ نہیں بنے دیں گے، ملا دشمن امام مہدی علیہ السلام سے محراب منبر کا کنٹرول عادل علمائے کرام کے ہاتھ میں دے کر اس اجتماعی قومی فیصلہ کا سدباب کرنا ہے جو شیعہ مظلوم قوم کو انگلینڈ میں بھی لا شعور رکھ کر شخصیت پرستی کے بت جو امربالمعروف و نہی عن المنکر سے الگ ہو کر گُنگی شیطان بن جائے اسے خادم ملت نے بت پرستی قرار دیا ہے، جس گنگ شیطان نے محراب منبر کو زبانی کلامی واہ واہ بلکے سقیفہ کا مرکزی ہڈکواٹر بنا کر مقصد قربانی بہن اور بھائی کو کربلا کے دستور و لائحہ عمل کو چھوڑ کر اسے زبانی کلامی واہ واہ انٹرٹینمنٹ بنا لیا ہے، جس کی بدولت ملا،اکثریت سیکولر انجمنوں کے ساتھ مل کر دینی مراکز سے روحانی مقاصد نئی نیشن کی تعلیم تربیت یا نظم تعاون کے بجائے دین کے لبادے میں نئی نسلوں کے ضمیر شعور انسانیت حسینی گیٹس صلاحیتوں کو ختم بلکہ قتل کر رہا ہے، اکثریت لوگ دین کے لبادے میں مار دھاڑ دنیا کی دوڑ میں دین کے نام کو صرف استعمال کر رہے ہیں جو امریکہ اسرائیل کی طرح ظالم اور وحشی امیرشام والی سیاست کر کے اپنے آپ کو مومن متقی اور عالم سمجھ رہے ہیں، ہم نے کشمیر میں چودہ سوسالہ پرانی بنوامیہ کی تاریخ قوم ملت کو فرقوں پر لڑانا اور مجبور کر کے اپنے مفادات کی شیطانی تکمیل کرنے کے نظام اور ظلم کے خلاف قوم ملت کو ایک امت واحدہ کشمیری حسینی قوم بنایا ہے، جو کربلا سے درس لے کر ظالم کے خلاف کھڑی ہو، اب اس انگلینڈ کے ملا،ازم، کے ڈاکوراج کو انگلینڈ سے ختم کرنا ہے، کیونکہ جگہ جگہ مظلوم کے مکان میں ظالم مکین ہو کر یوسف زہرہ مولا امام مہدی علیہ السلام کو خون رولا رہا ہے،جو زبانی کلامی فضائل مصائب کا ڈرامہ اور ناٹک کر کے اہل بیت اطہار (ع)کے نام پر بے دین کوفی شامی دنیا کی دوڑ کی قوم پیدا کر کے دجال کے لیے زمین ہموار کر رہاہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کے تکبر حسد کے مرض کے علاوہ کچھ اسرائیلی ایجنٹ بھی اندر چھپا ہوا ہے ، کیونکہ بنو امیہ کی باقیات کی بدولت علمائے کرام کو مجبور محکوم بنا کر اپنی اپنی چار اینٹوں کی مسجد کی پرشانی میں لگا کر دل کا اندھا دین کو اپنی دکان بنائے ہوئے اکثریت گنگا شیطان امیرشام کا شیعہ بن کر اس منافقت میں اضافہ کر رہا ہے، لہذا مومنین انٹرنیشنل اکشن کمیٹی امربالمعروف ونہی عن المنکر گروپ 313 میں شامل ہو کر ملا دشمن امام مہدی علیہ السلام سے محراب منبر کا کنٹرول عادل علمائے کرام کے ہاتھ میں دے کر اس اجتماعی قومی فیلئر کا سدباب کر کے امام کے سپاہیوں میں شامل ہوں، اب ہم ہر انجمن اور ادارے میں الہادی گلوبل کا نمائندہ بنائیں گے جو ان انجمنوں کی مشکلات ان کے آس پاس کوفی شامی منافق دنیا کی دوڑ کے لوگوں سے ان کے دینی مشن میں رکاوٹوں کو ختم کر کے منفی کو مثبت کرنا مشن مولا کی عالمی حکومت کے لیے ہم سب نےکام کرنا ہے، تاکے ہماری کمیاں ہماری آنے والی نسلوں میں نہ ہوں اور تنقید برائے تنقید نہیں بلکے تنقید برائے اصلاح کرنا امر ونہی کو زندہ کرنا، مصالحتی ٹیمیں بنا کر محراب و منبر سے فدک کے چوروں کی جاراداری نئی نسلوں کے شعور کے قتلِ عام منافقت کو اپنے پاؤ تلے روند کر عدلُ انصاف حسینیت کے الشِّيعةُ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ کے اعلیٰ و عظیم مقام کو بے دین دنیا کی دوڑ کے ملا سے بچانا ہے، یاد رہے ہر جگہ پرچند کوفی شامی منافق ہوتے ہیں لیکن ملا کا بروقت ہمارا ساتھ نہ دینا ملت و مکتب کا بہت بڑا نقصان ہو چکا ہے، چہ جائے کے اکثریت ملا کو ابلیس کا ابا قرار دے کر عدلُ انصاف میں رکاوٹ قرار دیا جائے، ہم نے لائحہ عمل بنایا ہے کے ہم سب گناہ گار ہیں دوسروں کو سب نے اپنے سے اچھا سمجھ کر جو بھی مس گائیڈنگ کوفی شامی رول ادا کرے اسے روکنا ہے،
قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ، ترجمہ:
“کہہ دیجیے: لاؤ اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔ہم نے ہر ایک طریقہ سے بات کی جیسے قرآن کا حکم ہے،ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ
ترجمہ: “اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔ لیکن امیر شام کے ساتھ اگر جنگ سفین اور نہروان وغیرہ نہ ہوتی تو ہم بھی صرف چار اینٹوں کی الگ سے ایک اور مسجد بنا کے ملا سے کہیں دور کسی جنگل میں چلے جاتے، لہذا دل کی نگاہ سے دیکھیں نہیں تو قبر میں حشر نشر میں امیر شام کے ساتھ سب کی تباہی نکلے گی کیونکہ اللہ کا وحدہ ہے ،وَمَن كَانَ فِي هَٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي ٱلْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًا
📖 ترجمہ:
“اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا رہے گا، وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور سیدے راہ سے بہت بھٹکا ہوا ہوگا۔
کائنات کی ہر مخلوق کو عبادت کی معرفت ہے، لیکن اگر ابلیس ملا محراب و منبر پر آجائے تو قوم و ملت کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے سب کو دنیا کی دوڑ میں لگا دیتا ہے۔ پھر قوم کے اندر کوفی، شامی، منافق، امیرِ شام ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا ملا صرف زبانی کلامی واہ واہ کرتا اور کراتا ہے۔ دین کے وارثوں پر اور دین پر جتنا ظلم بنو امیہ نے کیا، اس سے زیادہ ملا محراب و منبر کو اپنی جیبیں بھرنے کی خاطر فضائل، مصائب، نہج البلاغہ، قرآن، منطق، فلسفہ، مشکل مشکل الفاظ، نقطے جھاڑتا ہے۔
لیکن نئی نیشن کی دینی تعلیم اور نظم کاکہے گا ضرور لیکن اکثر ابلیس ملا اندر سے اس سسٹم کے قائم کرنے کا پکا دشمن ہوتا ہے۔ یاد رہے: صرف دینیات سنٹرز، ناظرہ قرآن، نماز — جو نہ ہونے کے برابر ہیں — اگر یہ قائم ہوں بھی تو صرف ان سے اور مجالس سے قوم زندہ یا مومن نہیں ہو سکتی، جب تک دیگر علوم و فنون کے ساتھ دینی تعلیم کا مضمون اور تربیت ماں کی گود سے یونیورسٹی تک، ایران کی طرح، قائم نہیں ہوتا۔ ایسا ہونا ملا اپنی دکانداری میں رکاوٹ سمجھتا ہے، جس کی بدولت ان دینی امور میں ملا تعاون نہیں کرتا۔ ملا کا بنو امیہ کی باقیات کی بدولت ذہنی غریب ہونا، دینی امور میں آپس میں الگ ہونا، قومی اجتماعی امور میں انفرادی سوچ — زہرِ قاتل ہے۔
جس کے ہاں اگر قوم متحد ہو گئی یا قوم کے بچے پڑھ گئے تو اس لیے ابلیس کے ابے کا کاروبار اس کی کم ظرفی کے مطابق بند ہو جائے گا۔ اس لیے اس کے پیچھے انفرادی نیت سے نماز پڑھ کر اس پر تین بار تبرا، لعنت کیا کریں۔ اس سے یہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے راستے میں اور قومی اجتماعی امور کے راستے میں رکاوٹ بننا چھوڑ کر محراب و منبر پر اس کی اصلی اوقات…
بگڑے ماحول، معاشرے پر ایک تقریر مشرق، دوسری مغرب سے، کون سا انقلاب لانا چاہتا ہے۔ دینی امور میں تعاون کے بجائے امیرِ شام والی سیاست کرنا، فضائل، مصائب، مناجات، دعائے کمیل کی لمبی لمبی چیخیں — ناٹک اور ڈرامہ بازی، دھوکہ — رہ جاتے ہیں۔
جب قوم ملا کی اصلیت سے واقف ہو، تو محراب و منبر کو ملا اپنی جاگیر نہیں سمجھے گا، بلکہ اسے مشنِ امام اور نئی نیشن — جو امام کی فوج ہے — یا کسی مجاہد کو کسی مقام پر مشکل ہے تو ابلیس کا ابا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ پڑھنے سے راستہ چھوڑ دے گا، اور علمائے حقہ کے کنٹرول میں محراب و منبر ہوگا۔
جس سے قوم و ملت کسی دینی مشکل پر آپس میں ایک ہو کر دینی رکے ہوئے امور، قومی اجتماعی امور کو فعال کرکے اسلامک پبلک اسکول، دینیات سنٹرز، دینی مدارس، علماء و دینی طُلاب کے حقوق، فقراء و مساکین کے حقوق، انسانی حقوق — سب زندہ ہو جانے سے مشن امام کامیاب و فعال ہوں گے۔
بیت المال کا یہ غاصبانہ نظام بندگا، اس کی تقسیم کا حقیقی نظم قائم ہوگا، اور ملت جب اکٹھی ہو کر ان امور پر فوکس کرے گی، جو مکمل ملا کی واہ واہ پر لگی ہوئی ہے، آئمہ معصومین علیہ السلام کے اصولوں کے مطابق جب اسلام کا نظام ہوگا تو تب ہی امیرِ شام کی بنو امیہ کی باقیات کے یہ سلسلے ختم ہوں گے، جو دین کے نام پر ناٹک، ڈرامہ بازی کرکے ملا نے کھلواڑ مچایا ہوا ہے۔
معاشرے میں اجتماعی قومی فیلئر کا ذمہ دار یہی ابلیس کا ابا ہے، جس ملا کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں — یہی ہے جو قوم و ملت کا قبلہ جنت کی طرف سے جہنم کی طرف فل اسپیڈ کرکے اپنے آپ کو عالم، مومن، شیعہ — بہت کچھ سمجھتا ہے۔
کیونکہ گونگا شیطان بن کر سیکولر لوگوں کے آگے، ان کی اجارہ داری میں محکوم ہو کر صرف اپنے ذاتی مفادات میں جیبیں بھر رہا ہے۔
اور دیکھ، سن، سمجھ کر حق کا ساتھ نہ دینے والوں پر معصومین ناراض، اور امام کے بجائے عذابِ الٰہی آئیں گے۔
……………………..
ہمارا موجودہ رہن سہن اور ورثہ کی روایات
ہم لوگ جدت کو اختیار کرنے اور اپنے کو ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی ورثہ کو پس پشت چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دیں قرآن اور نماز اور دیگر اعمال شرعی کو مولوی کے کھاتے میں ڈال دیا ہے اور ہم سمجھتے ہین کہ چند پیسے ادا کر کے اپنے فرائض اور ضروری دنیی امور حیات سے عمل اور داخل ختم ہو گیا اور اگر کوئی اس دار فانی سے رخصت ہو تو دعا اور جنازہ اور تجہز و تدفین کے مراحل بنا مولوی کے نا مکمل ہین
اس کے علاوہ ہماری خوراک یا پہنانے میں میں جو تبدیلی آئی اس کو بھی درج ذیل سطور میں ملاحظہ فرما لیں۔۔۔۔۔۔۔۔
–
آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!
–
ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟
–
ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستو ترک کیا اور سلش کے جام انڈیلے، ہم نے املی آلو بخارے کو اَن ہائی جینک بنا دیا اور وہی چیز ایسنس کے ساتھ جوس کے مہر بند ڈبے خرید کے بچوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتے کا ہوتا ہے۔ ہم نے ہی اس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔
–
ہم نے دودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چٹا سفید مکھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اس کے نقصان سٹیبلش ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!
–
اصلی دودھ سے ہمیں چائے میں بو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دودھ نہیں۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سوکھا دودھ باہر ملک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!
ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔
–
ہم گڑ کو پینڈو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ مار دیا۔ اب ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گڑ بھی کھاتے ہیں تو پیلے والا کہ بھورا گڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔
–
آئیں، ہم سے ملیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ ابال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پیتے ہیں۔ ہم ستلجوں، راویوں، چنابوں اور سندھوں کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔
–
ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں۔ چھٹانک دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے دادوں کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اٹھ جانا تھا۔
–
سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔ وہی سوکھے پسے ہوئے پتے جب حکیم پچاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔
–
پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹھی کا ٹکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ٹیسٹ آتا ہے۔‘
–
ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون ملا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو اینٹی الرجی بہرحال ہمیں کھانی پڑتی ہے۔
–
ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے۔ ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ ہم اردو یا انگریزی کے رعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم ’مس فٹ‘ کیوں ہیں۔
–
عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکون سے بیٹھ گئے۔ ’فورٹی رولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چومتے نہیں تھکتے۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دمنہ اور اپنے دیسی قصے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ استاد مال تو اپنا تھا۔
جا کے دیکھیں تو سہی، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں۔ پاؤلو کوہلو اسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، اغانی میں کیا قصے ہیں، ہماری جانے بلا!
–
ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سورج سخت ہوگئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹی کی خوشبو کو ہم نے عطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔
–
وہ بابا جو نیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حقے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نہیں آئی۔
…………………………………
ستمبر 1965 سے ستمبر 2005 وطن سے محبت ماضی کے دریچے میں
ایک عجیب کہانی دفاع پاکستان 1965 سے شروع ہو کر 17 ﺳﺘﻤﺒﺮ 2005 ﺀ ﮐﻮ ﻭﺍﮨﮕﮧ ﺑﺎﺭﮈﺭ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﻧﮯ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﭖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ -ﺍﺱ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﮐﮯ ﻗﯿﺪﯼ ﺗﮭﮯ – ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﭩﮭﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﮭﮯ – ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﭨﮫ ﭘﯿﻨﺴﭩﮫ ﺳﺎﻟﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ – ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﭩﮭﮍﯼ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ –
ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻤﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻝ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ – ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺎﻥ ﻣﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ – ﺧﻮﺩﺭﻭ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮﮐﮯ ﺑﮯ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺎﻝ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﺍﻥ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﯿﻞ ﯾﺎ ﮐﻨﮕﮭﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ – ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻗﯿﺪﯼ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﻗﯿﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﺑﮍﯼ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﭼﻤﮏ ﺗﮭﯽ – ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ – ﺳﺎﺭﮮ ﻗﯿﺪﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ -ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻗﯿﺪﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ – ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻟﮑﮫ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﺳﺎﺋﻞ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ – ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ 2005 ﺀ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺷﺨﺺ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺭﻣﯽ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺭﺟﻤﻨﭧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺩﻋﻮﯼ – ﮐﺮﺩﯾﺎ – ﺍﺱ ﺩﻋﻮﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺭﺟﻤﻨﭧ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ – ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺁﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ
” ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻤﺒﺮ 335139 ﮈﯾﻮﭨﯽ ﭘﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﮯ “ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻻﻏﺮ ، ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﮮ ﻧﮯ ﭼﮑﺮﺍ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ – ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ – ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻗﯿﺪﯼ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺟﺐ ﻓﻮﺟﯽ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮐﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﻓﺎﺋﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﺩ ﺟﮭﺎﮌﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮐﮯ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻝ ﮨﻼ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ – ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺏ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ، ﻓﯿﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺎﺭﺯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻻﻏﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ – ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﮭﺎ 65- ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﭘﻮ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﮯ ﺟﮭﮍﭖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ – ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﻭﺍﺋﺮﻟﯿﺲ ﺳﯿﭧ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺭﺳﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﮔﻦ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ – ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻻﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﺧﻤﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺑﻨﻮﮞ ، ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ – ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﻝ ﭼﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺟﮭﻞ ﮐﺮﻟﯿﺎ – ﺩﻭﺳﺖ ﺗﻼﺵ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭦ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﮭﺮ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﻓﻮﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﮌﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻟﯿﺎ – ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﻟﮯ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ – ﻭﮦ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﺮﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﺎ – ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﻝ ﭼﮭﭩﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺎ ﺫﮐﺮﻧﮧ ﮐﯿﺎ – ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﺗﺼﻮﺭﮐﺮﻟﯿﺎ – ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﻨﺪﮦ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ – ﺍﺩﮬﺮﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺝ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﮍﯾﻞ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮭﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﻟﮕﯽ – ﺍﺳﮯ 4X4 ﻓﭧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺠﺮﺍ ﻧﻤﺎ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ – ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﻟﯿﭧ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ -ﺩﺷﻤﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﻮﺯ ﻣﻈﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﮔﻠﻮﺍﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﺗﮭﺎ – ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﻗﺪﻣﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ – ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﮯ ” ﮐﮩﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﺮﺩﮦ ﺑﺎﺩ “ ﺍﻭﺭ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﺍﮐﭩﮭﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﻧﻌﺮﮦ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﺎﺩ ، ﺟﻮ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﻼ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ – ﻭﮦ ﭼﻼﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮐﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ — ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ — ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺫﺭّﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ — ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯿﻠﺌﮯ — ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭ ﻭﻗﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ — ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﮨﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺘﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮕﺘﮯ – ﺁﺧﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺮ 4×4 ﮐﯽ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻣﻘﻔﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ – ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ 1965 ﺀ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ 2005 ﺀ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺍﺱ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﺏ ﻭﮦ ﮐﭩﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺎ ﻧﻌﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﮯ ﭼﯿﺘﮭﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ 4×4 ﻓﭧ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮯ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍ ﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﺎﺩ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺘﺎ – ﯾﻮﮞ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﭘﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﺭﮨﺎ – ﺁﺋﯿﮟ ﮨﻢ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺁﺝ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﮔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ جو حقیقتا اپنے ملک پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نسلِ آدم کا آغاز طوفان حضرت نوح علیہ السلام کے بعد کس نسب سے قائم ہوا
قرآنِ پاک اور قدیم الہامی روایات کے مطابق آج روئے زمین پر جتنے انسان بستے ہیں وہ سب حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے، جنہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو شرک اور گمراہی میں مبتلا ہو چکی تھی۔ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، مگر اکثریت نے انکار کیا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم طوفان کے ذریعے نافرمانوں کو ہلاک کر دیا اور اہلِ ایمان کو نجات دی۔
حضرت نوح علیہ السلام کے چار بیٹے تھے:
1. سام
2. حام
3. یافث
4. کنعان (یام)
طوفان سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کنعان کو بھی دعوت دی کہ وہ کشتی میں سوار ہو جائے، مگر اس نے غرور اور کفر میں ڈوبے رہنے کا انتخاب کیا اور قوم کے ساتھ غرق ہو گیا۔ اس کی والدہ اور باقی اہلِ خانہ بھی جو ایمان نہ لائے تھے، اسی انجام کو پہنچے۔
اس طرح طوفان کے بعد زمین پر انسانوں کا نیا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — کی نسل سے ہوا۔ یہی نسلیں مختلف سمتوں میں پھیل کر آج کے تمام انسانوں کی آبادی کی بنیاد بنیں۔
سام بن نوح علیہ السلام
سام حضرت نوح علیہ السلام کے بڑے بیٹوں میں سے تھے۔ طوفان کے بعد وہ مشرق کی طرف، خاص طور پر یمن میں آباد ہوئے۔
ان کی نسل سے عرب، فارس، روم، بنی اسرائیل، آشوری، ارمنی، اور کلدانی جیسی بڑی اقوام وجود میں آئیں۔ سام کو “ابوالعرب” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عرب قبائل کا سلسلہ نسب انہی تک پہنچتا ہے۔
بنی اسرائیل بھی سام کی اولاد ہیں اور اسی نسبت سے انہیں “سامی اقوام” کہا جاتا ہے۔ سام کی نسل نے جزیرہ نما عرب، عراق، شام، فلسطین اور ایران جیسے خطوں میں اپنی تہذیبیں قائم کیں۔
حام بن نوح علیہ السلام
حام طوفان کے بعد براعظم افریقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے مصری، حبشی، نوبی، بربر، کنعانی، ہندی، اور کچھ جنوبی ایشیائی اقوام پیدا ہوئیں۔
مصراِیم بن حام نے قدیم مصری تہذیب کی بنیاد رکھی۔ ان کے بیٹوں کی نسل میں افریقہ اور بعض ایشیائی خطوں میں پھیلی ہوئی اقوام شامل ہیں۔ زیادہ تر حام کی نسل والے گہرے رنگت اور مضبوط جسمانی ساخت کے مالک تھے
یافث بن نوح علیہ السلام
یافث سب سے بڑے یا بعض روایات کے مطابق درمیانی بیٹے تھے، جو شمال اور مغرب کی سمت میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے ترک، روس، تاتار، مغول، چین، جاپان، یاجوج ماجوج، یونانی اور شمالی یورپ کی اقوام پیدا ہوئیں۔
یہ نسل دنیا کے سرد اور معتدل علاقوں میں پھیلی اور تجارت، جہازرانی اور جنگی فنون میں مہارت حاصل کی۔
آج زمین پر بسنے والے تمام انسان، چاہے وہ کسی بھی نسل زبان یا رنگ کے ہوں، حضرت نوح علیہ السلام کے ان تین بیٹوں سام، حام اور یافث کی اولاد ہیں۔ اس حقیقت کو جان کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ پوری انسانیت ایک ہی خاندان کی اولاد ہے، اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ عدل احترام اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔
🌍 آج زمین پر جتنے بھی انسان ہیں، سب کا نسب حضرت نوحؑ کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — سے جڑتا ہے طوفانِ نوح کے بعد یہی تینوں نسلِ انسانی کو دنیا کے کونے کونے میں لے کر پھیلے
﴿وَجَعَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلۡبَاقِينَ﴾
ترجمہ: اور ہم نے نوح کی اولاد ہی کو باقی رہنے والا بنایا۔ (سورۃ الصافات: 77)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
چُپ تعزیہ اور عزاداری اور آٹھ ربیع الاول
چُپ تعزیہ اور عزاداری اور آٹھ ربیع الاول اسلام گیارویں ہادی (امام حسن عسکریؑ کا یوم شہادت )
کو جنوبی ایشیا کے بعض ممالک میں منعقد ہوتی ہے۔ اس کی ابتداء بھارت سے ہوا اور پاکستان میں بھی نکالا جاتا ہے۔ اس جلوس کے دوران عزادار، دستوں کی صورت میں گلیوں سے ہوتے ہوئے امام بارگاہوں اور حسینیوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ جلوس اسیران کربلا کی مدینہ واپسی، امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور امام مہدی علیہ السلام کی غیبت صغرا کے آغاز کی یاد میں نکالا جاتا ہے۔
رسم و رواج اور جغرافیائی دائرہ کار
چپ تعزیہ ایک ماتمی رسم ہے جو ہندوستان اور پاکستان میں ادا کی جاتی ہے۔ اس جلوس کے دوران، ماتمی دستے اور انجمنیں مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور امام بارگاہوں اور حسینیوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ راستے میں سوگواروں کے لئے سبیل امام حسینؑ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ عزاداری آٹھ ربیع الاول (امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے دن) کو منائی جاتی ہے۔ یہ جلوس ایک طرح سے واقعہ کربلا کے اسراء اور امام زین العابدین علیہ السلام کی مدینہ منورہ واپسی کی یاد تازہ کرتا ہے۔
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں چپ تعزیہ کا جلوس
یہ جلوس برصغیر میں عاشورا کی مناسبت سے شیعوں کا سال کا آخری جلوس ہے جو محرم اور صفر کے دو مہینے عزاداری کے بعد برآمد ہوتا ہے، ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ جنوبی ایشیا کے بعض ممالک میں بھی اس جلوس کی اطلاع ہے۔ ہندوستان میں مذہبی اجتماعات پر قانونی پابندیوں کے باوجود یہ جلوس ان آٹھ جلوسوں میں سے ایک ہے جن پر پابندی نہیں ہے اور آزادی کے ساتھ نکالا جاتا ہے۔ ایشیاء کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اس جلوس کے انعقاد کی اطلاع ہے جیسے کنیڈا میں بھی جلوس منعقد ہونے کی خبریں ملتی ہیں۔
تاریخ اور نام
قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں صرف تین جگہ پر چپ تعزیہ کو جلوس برپا کیا جاتا
لاہور کرشن نگر سے سادات امروہی کو یہ امتیاز حاصل ہی مجالس کے بعد جلوس چپ تعزیہ اسلام پورہ پانڈو اسٹریٹ سے بر آمد ہو کر کربلا گانے شاہ میں نماز مغرب سے قبل اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور بہت با رونق جلوس ہوتا ہے۔۔
اس کے علاوہ علی پور چھٹہ پرانا نام اکال گڑھ ضلع گوجرانوالہ سے سادات ساڈھوڑاہ حویلی ڈاکٹر علی اختر ترمذی سے صبح چھ بجے بر آمد ہو کر بعد نماز ظہرین امام بارگاہ سادات علی پور چھٹہ میں راستہ میں جگہ جگہ مجالس اور نوحہ خوانی اور اپنے مخصوص نوحہ کے ساتھ سوار دوش پیمبر کی یہ سواری ہے انتہائی خاموشی سے اپنے اختتام پر پہنچتا ہے اور تیسرا بڑا جلوس کراچی میں چپ تعزیہ کا جلوس بعض ذرائع کے مطابق چپ تعزیے کے جلوس کی تاریخ بہو بیگم کی اولاد میں سے احمد علی خان شوکت کے دَور سے ملتی ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق احمد علی خان، جن پر قتل کا الزام تھا، اس نے نذر کیا تھا کہ اگر اسے رِہا کیا گیا تو وہ امام حسین علیہ السلام کے لیے ماتمی جلوس نکالے گا۔ محرم اور صفر کے مہینوں کے اختتام کے بعد ان کو رہا کیا گیا اور اپنی منت پوری کرنے کے لیے اس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت پر ماتمی جلوس نکالا۔ اس وقت کی ہندوستانی حکومت نے بھی اس جلوس کی اجازت اس شرط پر دی تھی کہ جلوس میں کسی بھی قسم کی زنجیر زنی اور سینہ زنی نہیں ہوگی اور جلوس خاموشی سے نکلے گا۔ اسی لیے اس جلوس کا نام “چپ تعزیہ” رکھا گیا، جس کا مطلب ہے “خاموش تعزیت”۔ بعض نے اس جلوس کو “چپ تعزیہ” کا نام دینے کی وجہ غیبت کے دور کے آغاز اور امام مہدی علیہ السلام کی خاموشی کے آغاز کو قرار دیا ہے۔
اودھ کی راج دھانی لکھنو اور چپ تعزیہ
رد میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا اس لئے عام طور سے لوگ شاہان اودھ کی غربا پروری، فنون لطیفہ کی ترقی ،ان کی مذہبی، علمی، اور ادبی خدمات سے بڑی حد تک ناواقف رہے۔ شاہان اودھ نے وہ احسانات اس سلسلے میں کئے ہیں جنہیں کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ ان کی خدمات اتنی ٹھوس اور بنیادی تھیں کہ وہ کسی قوم و مذہب کے لئے مخصوص نہ تھیں ، ان کے فیض سے ہر قوم نے استفادہ کیا ہے۔ یہاں صرف شاہان اودھ کے عہد میں عزاداری کے فروغ پر کچھ لکھا گیا ہے۔
محرم کے سلسلے میں شاہان اودھ کی دماغی کا وشوں اور مذہبی شغف کا نتیجہ تھاکہ اودھ خصوصاً لکھنؤ میں پورے طور پر سو گوارانہ فضا بن جاتی تھی اور عام طور سے لوگ سبز و سیاہ کپڑوں میں ملبوس ہوجاتے تھے اور اس طرح رنگریزوں کا کام بڑھ جاتا تھا۔ وہ دن رات کپڑے رنگنے میں مصروف ہوجاتے ۔ شہر بھر میں ہر امیر غریب کے گھر میں تعزیہ داری اور قلعی ہونا بھی ناگزیر تھی۔ مہینہ بھر پہلے سے مزدور دن رات مکانوں ، حویلیوں اور محلات میں چونہ کاری میں لگ جاتے اس طرح وہ سال بھرکے لئے کچھ نہ کچھ پس انداز کر لیتے تھے۔ محرم شروع ہونے پر مجالس کا سلسلہ شروع ہوتا۔ فرش کے لئے دریاں ،چاندنیاں، قنات، نمگیرے، چینی کے پیالے، پلیٹیں اور دوسرا سامان دن رات کرائے پر چلتا۔ مجلسی تکلفات سے لوگوں کو تہذیب اورنشست و برخاست کی تعلیم ملتی، اگر ذاکرین و واعظین سے ایک طرف روحانی و مذہبی معلومات حاصل ہوتیں تو دوسری طرف تحت اللفظ خوانی میں شعر و شاعری کا کمال نظر آتا۔ سوز خوانی میں گلے بازی کا فن معراج پر نظر آتا اس طرح ہر ذوق کے آدمی کو روحانی سکون کے ساتھ ساتھ ذہنی تسکین بھی حاصل ہوجاتی ۔
مجالس میں تقسیم تبرک کے سلسلے میں کسگروں کاکام بھی چمک جاتا۔وہ چپنیاں ، ہانڈیاں طباق،پیالے اور سبیلوںکے آبخورے اور دوسری چیزیں جو سال بھر تیار کرتے محرم میں سب فروخت ہوجاتیں ۔اب باور چیوں کو لیجئے جو تقسیم تبرک اور غربا میں تقسیم طعام کے لئے روساء امراء و دوسرے صاحب استطاعت افراد کے یہاں شب و روز پختیں پکاتے اور دیگیں، مٹکے، اور دوسرے ظروف مسی کا کرایہ الگ وصول کرتے، نانبائی روٹیاں اور شیرمالیں وغیرہ مجلسوں میں تقسیم کے لئے رات دن پکاتے، منافع کا زیادہ حصہ حلوائیوں کے حصہ میں آتا تھا،جہاں سے ہر امیر و غریب تقسیم تبرک کے لئے شیرینی ضرور خریدتا۔ عزاخانوں میں سلگانے کے لئے اگر بتی ، کیوڑہ،گلاب، شمعیں، طوغیں، سہرے اور قلادہ مالی فروخت کرتے ۔ سادے کا ر، چاند، چھلے، علی بند، شوق بند، تختیاں اور دوسرا منتی سامان ، چاندی سونے کے علم رات دن بناتے اور فروخت کرتے۔ تعزیوں کے تاجر تو ہزاروں کماتے ان کے علاوہ سینکڑوں کا سب کسی نہ کسی حیثیت سے حصہ لیتے۔ باجے والے، جلوس والے، ماہی مراتب، جھنڈی والے، اونٹ والے، روا،میدہ، شکر، میوے والے، آرائش والے، چاول والے دودھ والے، خوب خوب کماتے، اب اگر اقتصادی ترقی کے پیش نظر شاہان اودھ کی قائم کردہ رسومات کو دیکھئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اگر ایک طرف انہماک عزاداری میں اس کو فروغ دینے اور اس کی شان و شوکت کو بلند کرنے میں انہوں نے پورے طور پر غلو سے کام لیا تو دوسری طرف بے شمار افراد کے لئے ان کی تجارتوں ، ان کے فن اور ان کی معیشت کو زندہ کردیا اور فنون لطیفہ کی ترقی ان کے پیش نظر رہی۔
اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ شاہان اودھ نے جیسی عزاداری کی اور جس قدر انہوں نے اپنے دور حکومت میں اسے فروغ دیا وہ سیکڑوں برس میں بھی انجام نہ پاتا۔شاہی جلوس اس شان و شوکت سے اٹھتے تھے کہ ہر قوم کے لاکھوں آدمی زیارت کو آتے۔ چنانچہ آج بھی شاہی ضریح کا جلوس، شاہی مہندی کا جلوس اور داروغہ واجد علی کی مہندی کا جلوس دیکھنے لاکھوں عوام آتے ہیں اور ان مناظر کو دیکھ کر ایک طرف امام مظلومؑ کی عظمت کا نقش اور دوسری طرف ایک سوگوارانہ فضا کا تاثر لے کر جاتے ہیں۔
اکثر مورخین اس امر پر متفق ہیں کہ تعزیہ کے موجد امیر تیمور صاحب قراں تھے۔ اگرچہ موصوف عقیدتاً حنفی تھے مگر ابتدا میں حنفی سنیوں میں تعزیہ داری کو زیادہ فروغ ہوا لیکن اس کی زیادہ ترقی اور فروغ دکن کے شیعہ تاجداروں اور اودھ کے ایرانی النسل حکمرانوں نے دیا۔
اودھ میں نواب سعادت علی خاں برہان الملک نواب محمد مقیم حیدر جنگ اور نواب شجاع الدولہ مرزا محمد جلال الدین حیدر کو اس سلسلے میں زیادہ خدمت کا موقع نہیں ملاغالباًاس کی وجہ یہ تھی کہ نوابین موصوف شاہان مغلیہ کے دامان دولت سے وابستہ تھے۔ اور سپاہیانہ زندگی بسر کرتے تھے لیکن اس کے باوجود بھی نواب شجاع الدولہ کا ایک عظیم الشان امام باڑہ فیض آباد میں موجود ہے۔
فیض آباد اس وقت اودھ کا صدر مقام تھا، اس میں مجلسیں ہوتی ہیں اور پہلی محرم کو ضریح اقدس جلوس کے ساتھ لاکر رکھی جاتی ہے اور اسی طرح عاشور کو دفن ہوتی ہے۔
لکھنؤ میں عزاداری کے عروج کے بانی نواب آصف الدولہ مرزا محمد یحیٰ علی خاں عرف مرزا امانی ہیں ۔ نواب نے بوجوہات چند درچند ۱۰۷۵ھ کو لکھنؤ کو پایۂ تخت قرار دیا اور اپنا شہرۂ آفاق امام باڑہ آصفی ۱۷۷۴ء میں احاطہ مچھلی بھون لکھنؤ میں تعمیر کرایا ،حافظ کفایت اللہ مہندس نے نقشہ تیار کیا تھا (حافظ صاحب کو بعض نے دہلوی اور بعض نے شاہ جہاں پوری تحریر کیا ہے) امام باڑہ سات برس میں ۱۷۹۰ء میں ایک کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہوا۔اس کے وسطی ہال میں تعزیہ داری ہوتی تھی۔ یہ ۳۰۳فٹ لمبا اور ۵۳ فٹ چوڑا اور ۶۳ فیٹ بلند ہے اور دنیا کے اعلیٰ ترین دالانوں میں سے ہے جس میں لوہے لکڑی کے بغیر اتنی بڑی بے مثال ڈانٹ جوڑی گئی ہے۔ امام باڑہ کے حدود میں ایک ضعیفہ کا مکان آگیا تھا جس کی وجہ سے عمارت میں نقص پیدا ہو گیا۔ بڑھیا اپنا مکان دینے پر رضامند نہ ہوتی تھی ۔بالاخر وہ اس شرط پر راضی ہوئی کہ مکان کے عوض میں دوسرا مکان بنوادیا جائے اور اس کے نام کا تعزیہ رکھا جائے۔نواب نے اس کی یہ دونوں شرطیں منظور کر لیں۔چنانچہ جب امام باڑہ تیار ہوا اور تعزیہ داری شروع ہوئی تو داہنی طرف صحنچی میں نواب نے بڑھیا کا تعزیہ رکھا اور تا حیات رکھا جو آج بھی اسی مقام پر رکھا جاتا ہے۔
امام باڑہ کی تکمیل کے بعد ۵؍ لاکھ روپیہ سالانہ نواب اس کی آرائش و زیبائش پر صرف کرتے تھے۔متعدد چھوٹے بڑے تعزیے سونے چاندی کے بنوائے تھے۔ شیشے آلات کی مد میں سفید رنگیں،جھاڑ و فانوس بلا کنول و کنول دار امام باڑہ کی زینت تھے۔ تمام بڑے دالا نوں کی چھتیں اور فرش شیشہ آلات سے پٹے پڑے تھے،حدیہ ہے کہ زیارت کرنے والوں کو اندر جگہ نہ ملتی تھی وہ کھلے ہوئے چبوترے پر بیٹھ کر زیارت کرتے تھے۔
اتنے سازو سامان سے بھی نواب کی سیری نہ ہوئی اور جب ڈاکٹر بلبن ولایت جانے لگے تو نواب موصوف نے ایک سبز اور ایک سرخ تعزیہ جھاڑوں اور دیگر شیشہ آلات کی فرمایش کی۔چنانچہ یہ سامان بھی آگیا اور ایک فرمائشی تعزیہ بھی آیا۔ دوسرے کے لئے آئندہ سال کا وعدہ ہوا۔ ۱۸۷۴ء میں شاہ غازی الدین حیدر کے عہد میں پادری ہبر بسلسلۂ سیاحت لکھنؤ بھی آئے تھے انہوں نے امام باڑہ آصفی کی بابت لکھا ہے:۔
ایک پاک و طاہر عمارت میں بکثرت جھاڑ لٹک رہے تھے جن کی چمک دمک سے آنکھوں میں خیرگی پیدا ہو رہی تھی جو جھاڑ بہت وزنی اور لٹکانے کے قابل نہ تھے وہ فرش پر رکھے ہوئے تھے۔ ان جگمگاتے ہوئے فرشی جھاڑوں کے نیچے کا حصہ بہت گھیردار تھا اور اوپر کی جانب بہت گائو دم ہوتے چلے گئے تھے ان کے بیچ بیچ میں نقرئی مرصع کار روضے تعزے جو آٹھ دس فٹ بلند ہوں گے رکھے گئے تھے۔
ان کے علاوہ نوابان اودھ کے زمانے میں زردوزی پٹکے جن پر آیات قرآنی کڑھی ہوئی تھیں، بڑے بڑے نقرئی پنجے جن پر بخط طغرا اسماء پنجتن پاکؑ وغیرہ کندہ تھے ، مقدس ڈھالیں جن پر اسماء باری تعالیٰ نقش تھے اور ان پر مرصع کاری کی گئی تھی، خراسانی تلواریں، نیزے اور بھالے مشہور زمانہ سپہ سالاروں کے عمامے اور چند مخصوص طور کے متبرک تیر بھی امام باڑہ کی زیب و زینت تھے۔ آصف الدولہ نے ۱۷۹۷ء میں انتقال کیا اور اپنے تعمیر کردہ امام باڑہ میں سپرد خاک کئے گئے۔
اربعین تک عزاداری
نواب آصف الدولہ کے بعد نواب یمین الدولہ سعادت علی خاں بہادر نہایت منتظم، مدبر اور دانشور حکمراں تھے۔ مگر انہوں نے کوئی امام باڑہ یا کربلا اپنی یادگار نہیں چھوڑی ہے۔ مندنشینی سے ۵ برس کے بعد وہ سرطان کے مرض میں مبتلا ہوگئے اور غسل صحت کے بعد ایک شاندار جلوس کے ساتھ درگاہ حضرت عباس ؑ گئے۔ وہاں کی حالت دیکھ کر خاموش ہوگئے کیوں کہ اس وقت درگاہ ایک خام مکان میں تھی۔ یہ مکان مرزا فقیرا کا تھا۔ مرزا کو ایک رات خواب میں بشارت ہوئی تھی کہ فلاں مقام پر دریا کے کنار ے کھودو چنانچہ مرزا موصوف نے اس پر عمل کیا اور زمین سے چند علم برآمد ہوئے۔ مرزا فقیر انے اپنے مکان میں امام باڑہ بنا کر وہ علم نصب کر دیئے اور اہل حاجت کی مرادیں آنے لگیں۔ چنانچہ نواب بعد صحت یہاں سلام کرنے آئے تو درگاہ اسی خام مکان میں تھی،نواب نے فوراً اس کی تعمیر کا حکم دے دیا اور موجود ہ درگاہ بہ صرف کثیر نہایت شاندار طریقہ سے تعمیر ہوئی جس میں نہایت کشادہ صحن اور عظیم الشان پھاٹک تعمیر ہوا۔
قتیل ؔنے تاریخ کہی
ایں گنبد جدید بنائے سعادت است
درگاہ کی آرائش و زیبائش میں بھی کثیر رقم صرف ہوئی۔ یہ درگاہ آج بھی مرجع خلائق ہے۔نواب سعادت علی خاں نے صحت کے بعد اربعین تک عزاداری بڑھائی جس کی تقلید میں عام طور سے ایام عزا اربعین تک بڑھا دئے گئے۔ ۱۸۱۴ء میں نواب سعادت علی خاں نے انتقال کیا۔قیصر باغ کی ڈھال پر نواب اور ان کی بیگم کے عالی شان مقبرے آج بھی موجود ہیں جس میں عشرہ محرم کو صبح روزانہ مجالس ہوتی ہیں۔
نواب سعادت علی خان کے بعد ان کے بیٹے غازی الدین حیدر تخت نشین ہوئے۔ غازی الدین حیدر نے اپنے عہد حکومت میں امام باڑہ نجف تعمیر کرایا یہ عمارت دریا کنارے حضرت گنج کے قریب ہے اور یہ اصلی نجف اشرف روضۂ حضرت امیر المومنینؑ کی ہو بہو نقل ہے۔
زمانۂ محرم میں جو آرائش و زیبائش اس عمارت کے اندرونی حصہ میں ہوتی تھی، اس کی شان و شوکت کی کیفیت الفاظ میں ادا نہیں ہو سکتی،اس کی دیوراریں خوشنما شیشہ آلات سے آراستہ تھیں۔ سوسوموم بتیوں والے جھاڑوں، زرد، نیلی اور سبز رنگ کی ہانڈیاں روشنی کی تڑپ کو حد اعتدال پر قائم رکھتی ہیں۔ عمارت کے درمیان میں سبز بلوری تعزیہ رکھا تھا جس کے چاروں طرف مومی شمعیں روشن تھیں۔تعزیے کے داہنی جانب ایک بڑے قدومات کا شیر تھا اور بائیں جانب ایک مچھلی جو نشان فرمانروائی و شہریاری ہے۔ بیش قیمت پٹکے بہ تعداد کثیر جن پر بیش بہا علم لگے تھے۔ امام باڑہ میں روضۂ اقدس کی نقل،خیمہ گاہ حضرت امام حسین ؑ اور پھاٹک وغیرہ ،یہ تینوں چیزیں نقرئی تھیں اور چاندی کی میز پر رکھی تھیں۔ اس کے علاوہ مختلف زمانوں کے بیش قیمت اسلحہ اور ڈھالیں زرہ بکتر اور نیزے بہت سلیقے سے سجے تھے۔ شاہ نے ایک کروڑ روپیہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو بطور قرض ایک روپیہ فیصدی سالانہ جمع کردیئے اور اس کی رقم سے مصارف نجف مقرر کئے۔ شاہ غازی الدین حیدر کا تعزیہ ان کی بیوی ملکہ آفاق کی کربلا میں دفن ہوتا جو کربلائے نصیرالدین حیدر کے قریب ہے۔۷؍اکتوبر ۱۸۲۷ء کو شاہ کا انتقال ہوا اور اپنے ہی امام باڑہ میں مدفون ہوئے۔ان کی تین بیویاں مبارک محل ، سرفرازمحل اور ممتاز محل بھی وہیں دفن ہیں۔ ایام عزا میں شاہ کی طرف سے بہت نفیس تبرک تقسیم ہوتا تھا۔
شاہ نصیرالدین حیدر کو اپنے برسر اقتدار ہونے کی طرف سے کچھ مایوسی تھی ان کا خیال تھا کہ نواب محسن الدولہ سر یر آرائے حکومت ہوں گے۔ چنانچہ نصیرالدین حیدر نے بھی منت مانی کہ اگر مجھے تخت شاہی نصیب ہوا تو اربعین تک عزاداری کروںگا۔ چنانچہ نصیرالدین حیدر کی مراد برآئی۔ اور ۲۰ اکتوبر ۱۸۲۷ء کو نصیرالدین حیدر کا بخت بیدار ہوا،انگریزوں نے انہیں کو شاہ مرحوم کا وارث تخت و تاج قرار دیا، چنانچہ شاہ نصیرالدین نے اربعین تک عزاداری کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھا اور اسے عوام میں کافی طور سے رواج دیا۔ اور اس طرح عزاداری کی بنیاد اربعین تک مستحکم ہوگئی۔
شاہی تعزیہ جو غازی الدین حیدر کے عہد میں لندن سے بن کر آیا تھا سبز بلور کا ڈھلا ہوا تھا اور اس پر سنہرا مینا کیا ہوا تھا۔ اس زمانہ میں امام باڑوں میں روشنی بکثرت ہوتی تھی اس روشنی میں کارچوبی کام کی چمک دمک اتنی تیز ہوتی تھی کہ آدمی کی نظر چکا چوندھ ہو جاتی تھی۔ علموں کے طلائی و نقرئی پنجوں کی جگمگاہٹ اور ان کے بھاری پٹکوں کی سجاوٹ، زردوزی کام گنگا جمنی کرن کی جھالروں کی زیبائش اور ان کی وجہ سے درودیوار کی آب وتاب گویا سارا امام باڑہ بقعۂ نور ہوجاتا تھا اور روشنی کی کثرت سے رات کو دن کا سماں نظر آنے لگتا۔
نصیرالدین حیدر کے زمانہ میں فالی پارکس ایک فرانسیسی خاتون بہ سلسلہ سیاحت لکھنؤ بھی آئی تھیں انہوں نے محرم کے زمانے کے حالات اپنے سفر نامہ میں لکھے ہیں:۔
’’نہایت شاندار اور بیش قیمت تعزیے عزاخانوں میں محفوظ رکھے رہتے ہیں اور کم قیمت تعزیہ کربلا میں دفن کر دیئے جاتے ہیں، بکثرت سنی اور ہندو تعزیہ رکھتے ہیں۔ تعزیہ مختلف شکلوں اور چیزوں کے بنائے جاتے ہیں شاہی تعزیہ جو سبز بلور کا ڈھلا ہوا ہے ایام عزا میں زیارت کرائی جاتی ہے تعزیے بلور کے میناکار،ہاتھی دانت، آبنوس، صندل چاندی کے ٹھپے دار اور پتھروں کے بنے ہوتے ہیں۔ غریبوں کے تعزیے رنگین ابرک کے ہوتے ہیں۔ ‘‘
مرزارجب علی بیگ سرورؔ، ’فسانہ عجائب‘ میں عہد نصیری کی عزاداری کے بارے میں کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:۔
’’دوازدہ امام ؑ کی درگاہ ایسی بنائی کہ چرخ گردوں کے خواب میں نظر نہ آئی بجز غم حسین ؑ اندوہ غم نہیں، کوئی شاد و خرم نہیں، اربعین تک عزاداری ہوتی ہے۔ خلق خدا ماتم میں روتی ہے۔ لاکھوں روپیہ اس راہ میں صرف ہوتا ہے ،ہر معصوم کی ولادت اور فاتحہ پر لاکھ لاکھ روپیہ صرف ہوتا ہے اس کی ہمت کے آگے فیاضیان گذشتہ پر حرف ہے۔
امام باڑہ اور درگاہ اب قائم نہیں ہے۔ درگاہ ۱۸۵۷ء کے غدر میں منہدم ہوگئی۔
چونکہ یہ زمانہ خوش حالی اور فارغ البالی کا تھا ۔ اسی لئے ہر شخص اپنا تعزیہ شاندار جلوس کے ساتھ اٹھانے پر زور دے رہا تھا۔ اسی عہد میں کریمن ڈومنی نے بھی بڑی دھوم دھام سے تعزیہ داری کی۔ اس کی رسائی قریب قریب ہر محل میں تھی۔مجالس میں ہرادنی اعلیٰ شرکت کرتا۔محلات کو بھی مدعو کیا جاتا ۔ کریمن نے اپنے تعزیے میں یہ جدت کی کہ صرف عورتیں ہی شرکت کرتیں۔ ۱۳؍ محرم کو رات گئے اس وقت تعزیہ اٹھایا جاتا جب سڑکوں پر سناٹا ہو جاتا دس بارہ ہزار عورتیں تعزیہ میں شرکت کرتیں، تعزیہ مصری کی بغیہ میں دفن کیا جاتا ،جلوس مختصر ہوتا ،جلوس کے آگے اور پیچھے شاہی گارد کے سپاہی ہوتے۔ عہد و اجدی تک یہ تعزیہ اسی خدم و حشم سے اٹھتا رہا۔ اس کے بعد ایک نائی نے تعزیہ اٹھانا شروع کر دیا۔
ثقات لکھنؤ راوی ہیں کہ شاہان اودھ میں نصیر الدین حیدر پہلے پہل اپنا تعزیہ میر خدا بخش کی کربلا لے گئے ۔ ایک مرتبہ محرم برسات میں پڑا اور بارش کا امکان پیدا ہو گیا۔ بادشاہ نے محل سرا سے کربلا تک نفیس شامیانے نصب کرا دیئے۔نصیرالدین حیدر نے ۷؍ جولائی ۱۸۳۷ء کو انتقال کیا اور اپنی تعمیر کردہ کربلا واقع ارادت نگر میں دفن کئے گئے، اسی کربلا میں ان کی محبوب بیوی قدسیہ محل بھی دفن ہیں۔
نصیرالدین حیدر کے بعد ثریا جاہ نواب نصیرالدولہ محمد علی شاہ نے بادشاہ کا لقب اختیار کیا اور تخت نشین ہوئے۔ بر وقت تاج پوشی شاہ کا سن اکسٹھ۶۱ سال یا بقول دیگر ۵۳ سال کا تھا۔ کبر سنی اور فیل پاکے علاوہ دیگر عوارض جسمانی بھی لاحق تھے۔ چنانچہ اپنا وقت آخر سمجھ کر کار خیر کی طرف متوجہ ہوئے اور تخت نشینی کے دوسرے سال سے امام باڑہ حسین آباد کی تعمیر شروع کرادی۔ زمانہ شہزادگی میں ان کی ایک لڑکی بطن نواب ملکہ جہاں سے ہوئی تھی جو صغر سنی میں جاتی رہی اور جمنیا باغ میں مدفون تھی، امام باڑہ حسین آباد بھی جمنیا باغ میں تعمیر ہوا اور اس انداز سے تعمیر ہوئی کہ مرحومہ لڑکی کی قبر اس کے صحن میں آگئی۔
محمدعلی شاہ نے ۲۳؍ نومبر ۱۸۳۹ء کو ۳۶ لاکھ روپیہ بشرح منافع ۵ روپیہ فیصدی سالانہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو قرض دیا جس کا منافع ۱۴ ہزار سالانہ ہو تا ہے۔ اس رقم کو شاہ نے مصارف حسین آباد کے لئے وقف کیا۔یہاں یکم محرم سے ۹؍ محرم تک عظیم پیمانہ پر روشنی ہوتی ہے جسے لاکھوں آدمی دیکھنے کو آتے ہیں اور روزانہ صبح کو مجالس ہوتی ہیںجس میں پخت تقسیم کی جاتی ہے۔ساتویں کو مہندی کا جلوس اٹھتا ہے۔پہلی محرم کو ضریح زبردست جلوس کے ساتھ حسین آباد لائی جاتی ہے۔ ۱۰؍ محرم کو اسی عظیم الشان جلوس کے ساتھ کاظمین لے جاکر دفن کی جاتی ہے۔ ضریح بھی اپنی انفرادیت کی وجہ سے ہندوستان بھر میں مشہور ہے جو موم سے بنائی جاتی ہے۔ محمد علی شاہ نے ۱۶؍ مئی ۱۸۴۲ء کو اس دنیا سے انتقال کیا اور امام باڑہ حسین آباد میں دفن ہوئے۔
محمد علی شاہ کے بعد جمجاہ امجد علی شاہ تخت نشین ہوئے۔یہ بھی بہت متشرع بادشاہ تھے۔ صرف پانچ سال حکومت کی۔ان کے عہد حکومت میں کوئی نئی ترقی نہیں ہوئی،نہ انہوں نے کوئی نئی عمارت تعمیر کرائی البتہ ان کے عہد میں میر انیسؔ نے ترک فیض آباد کر کے لکھنؤ میں سکونت اختیار کی اور شیدیوں کے احاطہ میں فردکش ہوئے۔یہ محلہ لوہے والے پل کے مغرب کی طرف جہاں اب ریل کا پل ہے واقع تھا ۔اسی قبرستان میں میر انیسؔ کے والد میر خلیقؔ کی قبر ہے جس کا نشان نہیں ملتا۔ میر صاحب کی عمر ۴۲ سال کی تھی اور مرثیہ میں شہرت پا چکے تھے۔
دیانت الدولہ کو میر صاحب سے بڑی عقیدت تھی جس کی بنا پر انہوں نے اسی محلہ میں ایک امام باڑہ اور ایک محل سر ا تعمیر کرائی جہاں میر صاحب سے پہلی مجلس پڑھوائی اور محل سرا میر صاحب کی نذر کردی۔۱۸۵۷ء تک میر صاحب اسی حویلی میں رہے۔اس کے بعد راجہ بازار میں آگئے۔بعدہٗ گھسیٹن سے ایک مکان سبزی منڈی میں خرید کر وہاں مستقل سکونت اختیار کی۔ امجد علی شاہ نے ۱۳؍ فروری ۱۸۴۷ء کو انتقال کیا ۔
امجد علی شاہ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے واجد علی شاہ تخت نشین ہوئے۔انہوں نے اپنے والد کی قبر پر جو حضرت گنج میں بنی تھی ۷ لاکھ روپیہ صرف کر کے ایک مقبرہ تعمیر کرایا جو حسین آباد کی نقل ہے جس کا نام سبطین آباد رکھا ۔ محرم میں اس میں بھی روشنی ہوتی تھی، قیمتی قالین اور بیش بہا شیشہ آلات سے آراستہ تھا ۱۸۵۷ء کے غدرمیں بلوائیوں نے تمام سامان لوٹ لیا یا برباد کر دیا اس امام باڑہ میں کسی تاریخ واجد علی شاہ اپنا نو تصنیف مرثیہ پڑھتے تھے۔
شاہان اودھ میں ایک واجد علی شاہ ہی ایسے بادشاہ ہوئے ہیں جو اعلیٰ پایہ کے شاعر، مدبر، دانشور اور مقبول حکمراں تھے۔ ایک اندازے کے مطابق جو اس وقت کی تحقیقات کا نتیجہ ہے، واجد علی شاہ کی تصنیفات کی تعداد سو ہے جو ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ واجد علی شاہ نے بھی بڑی حوصلہ مندی اور دریا دلی سے عزاداری کی۔
قیصر باغ کی سفید بارہ دری جو در اصل امام باڑہ ہے قصرالبکا نام تھا اس میں بڑے اہتمام سے عزاداری ہوتی تھی یہاں ۹ تعزیہ چاندی کے تھے جو بڑے خوشنماتھے اور ایک ضریح خاک پاک کی رکھی تھی،خود شاہ ۴؍ محرم کو اپنا نو تصنیف مرثیہ پڑھتے تھے۔ اور مجالس عزا بڑے اہتمام سے منعقد کراتے۔یہی، وہ امام باڑہ ہے جہاں میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔ نے یکجا اپنے اپنے مراثی پڑھے۔ اس سے قبل یا بعد ایسا اتفاق نہ ہوا ۔محرم میں نقری اوٹوں پر سیاہ کپڑا لپیٹ کر اس کی کھونٹیوں پر نقری و طلائی علم جو اہر نگار پنچے ، آب دار خنجر اور مرصع قبضوں کی بیش بہا تلواریں وغیرہ زیارت کے لئے سجی جاتی تھیں ۔چالیس دن تک زبردست روشنی کا اہتمام رہتا۔
نویں محرم کو غیر معمولی طور پر صاف و شفاف روشنی ہوتی ۔ غربا اور مساکین کو شربت اور کھانے کے حصے اور ۶؍محرم سے نہایت نفیس اور پر تکلف کھانوں کے حصے تورہ بندی کے طور پر وسیع پیمانہ پر تقسیم کئے جاتے ۔ آٹھویں کو سہ پہر سے شربت غربا میں تقسیم کیا جاتا ،رات میں حضرت عباسؑ کی نذر ہوتی۔نویں محرم کی بہت ہی اہم تاریخ ہوتی تھی۔ اس روز دن بھر مجالس منعقد ہوتی تھیں اور رات کو روساء و شرفا اور دیگر تعزیہ دار رعایا کے گھروں پر نہایت پر تکلف روشنی ہوتی تھی۔
ایام عزا میں اکثر امراء روساء و شرفاء علم و تعزیے کے جلوس بڑے تزک و احتشام سے نکالتے۔ دولت سرائے سلطانی میں بھی محرم کے موقع پر ہر سال بڑے بڑے درجنوں تعزیے جلوس کے ساتھ گشت کرکے رکھے جاتے۔یہ جلوس نہایت ہی تزک و احتشام سے نکلتے۔ جلوس میں نوبت خانہ، سبیل اور متعدد ہاتھی جن پر پرتکلف جھولیں پڑیں ہوتیں، ماہی مراتب اور اونٹوں کی قطار جن پر علمبردار سوار ہوتے، سواروں اور پیادوں کی پلٹنیں، برق انداز، بلم بردار، بینڈ باجے جور زمیہ دھنیں بجاتے ،اس کے بعد علم بردار ، پھر دلدل ، تابوت ، ماتمی دستے نوحہ خوان اور عصا برداروں کے غول ہوتے جن پر روپیہ پانی کی طرح بہادیا جاتا۔
فاقہ شکنی
تاریخ کے مطالعہ سے اگر پتہ چلتا ہے تو عہد و اجدی ہی میں فاقہ شکنی کا رواج عام طور سے شیعوں میں ہوا۔تاریخ کی روشنی میں اور کسی بادشاہ کے عہد میں فاقہ شکنی کی رسم کا پتہ نہیں چلتا۔
عاشور کے دن قصر سلطانی واجد علی شاہ میں جب تک سہ پہر کو تعزیہ دفن کر کے جلوس واپس نہ آجاتا اس وقت تک کوئی نہ ایک لقمہ کھاتا اور نہ پانی پیتا حتی کہ شیرخوار بچوں کو بھی مائیں اس وقت تک دودھ نہ دیتیں جب تک گھر کے تعزیے دفن نہ ہوجاتے۔ سہ پہر کو فاقہ شکنی ہوتی،اس کے بعد سب کھانا پینا شروع کرتے۔
اربعین کے بعد
عہد واجدی میں بخشو آرائش گرنے اپنی ضریح ۲۱؍صفر کو اٹھانی شروع کی۔اس طرح اس عہد میں ایک نئی تاریخ کا سنگ بنیاد پڑا اور عزاداریٔ مظلوم میں ایک نئی تاریخ کا اضافہ ہوا۔ واجد علی شاہ نے مچھلی والی بارہ دری سے جلوس ضریح کی زیارت کی اور بخشو کو شرف حاضری بخشا۔اس کے مالی اعانت قبول نہ کرنے پر شاہی جلوس کی منظوری دی۔اس کے بعد سے بخشو کا تعزیہ شاہی جلوس کے ساتھ برابر اٹھتا رہا ۔اس کا ڈھانچہ خود بخشونے اپنے ہاتھ سے تیار کیا تھا۔ یہ ضریح دفن نہیں کی جاتی اور گشت کراکے واپس لائی جاتی ہے۔ اس کے بعد آگے تاریخوں میں اضافہ ہونے لگا اور روساء وامراء نے اپنے تعزیے خاص اہتمام و جلوس سے اٹھانے شروع کئے ۔یہ سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ غدر کے بعد نواب اغن صاحب نے جو اس وقت کے روساء میں تھے اپنا تعزیہ ۸؍ربیع الاول کو اٹھا یا جو اگر چہ جلوس کے ساتھ اٹھتا تھا مگر بہت خاموش اور یہ تعزیہ ’چپ تعزیہ ‘کے نام سے مشہور ہوا۔صرف نقیب کوئی دلدوز نوحہ کا مصرعہ بلند آواز میں پڑھتا اور سامعین کے گریہ کا شورا ٹھتا پھر سکوت طاری ہوجاتا۔ یہ تعزیہ چاہ کنکر سے اٹھتا ہے اور کئی ہزار کے مجمع کے ساتھ کاظمین میں دفن کیا جاتا ہے۔ ہزاروں آدمی زیارت کو آتے ہیں۔
بعد انتزاع سلطنت جب واجد علی شاہ مٹیا بزج میں قید کئے گئے، انہوں نے عزاداری کا سلسلہ وہاں بھی شروع کیا۔ ان کا قائم کردہ امام باڑہ آج بھی موجود ہے جہاں بڑی بڑی مجلسیں ہوتیں لکھنؤ کے اعلیٰ پائے کے ذاکرین مجالس میں ذاکری کرتے تھے۔ بہرحال یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ آج جس اہتمام سے عزاداری کرتے ہیں اور جو انہماک اور شغف امام مظلومؑ کی عزا کے سلسلہ میں نظر آتا ہے یہ سب شاہان اودھ کی دین ہے ورنہ ممکن تھا
اس تحریر کو لکھنے میں انٹر نیت اور مختلف کتب سے مدد لی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔التماس دعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اولاد طلاق یا معالج ایک سلسلہ ہے
یوں تو دنیا میں ان گنت بے اولاد افراد یا جوڑے موجود ہیں مگر جن کے اولاد ہے وہ بھی پریشان ہیں کہ ہمیں لڑکا یا اولاد نرینہ چائیے اور اس طرح کئی جوڑے ایک دوسرے کو طلاق کی نوبت تک پہنچ جاتے ہیں اور اگر نہیں تو وہ معالج کے در بہ در ہوتے نظر آتے ہیں اور معالج ان کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں خد کی پناہ درج ذیل چند سطور سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا
ڈاکٹر جی …
کوئی ایسی دوا ہو جائے کہ اس مرتبہ بیٹا ہی ہو،
دو بیٹیاں ہیں،
اب تو بیٹا ہی ہونا چاھیئے۔
ڈاکٹر: میڈیکل سائنس میں تو ایسی کوئی دوائی نہیں ہے۔
ساس: پھر کسی اور ڈاکٹر کا بتا دیں؟
ڈاکٹر: آپ نے شاید بات غور سے نہیں سنی۔۔
میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے دوائی کا نام نہیں آتا۔ میں نے یہ کہا کہ میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوا نہیں ۔
سسر: وہ فلاں ڈاکٹر تو۔۔۔
ڈاکٹر: وہ جعلی ڈاکٹر ہوگا،
اس طرح کے دعوے جعلی پیر، فقیر، حکیم، وغیرہ کرتے ہیں، سب فراڈ ہے یہ۔۔
شوہر: مطلب ہماری نسل پھر نہیں چلے گی؟
ڈاکٹر : یہ نسل چلنا کیا ہوتا ہے؟ آپ کے جینز کا اگلی نسل میں ٹرانسفر ہونا ہی نسل چلنا ہے نا؟ تو یہ کام تو آپ کی بیٹیاں بھی کر دیں گی، بیٹا کیوں ضروری ہے؟
ویسے آپ بھی عام انسان ہیں۔ آپ کی نسل میں ایسی کیا بات ہے جو بیٹے کے ذریعے ہی لازمی چلنی چاھیئے؟
سسر: میں سمجھا نہیں؟
ڈاکٹر: ساھیوال کی گایوں کی ایک مخصوص نسل ہے جو دودھ زیادہ دیتی ہے۔
طوطوں کی ایک مخصوص قسم باتیں کرتی ہے۔ بالفرض ان نسل اگے نہ چلے تو فکر مند ہونا چاہیے۔۔۔
آپ لوگ عام انسان ہیں،دنیا میں انسانوں کی ابادی سات آٹھ ارب ہے۔۔
سسر: ڈاکٹرصاحب کوئی نام لینے والا بھی تو ہونا چاھیئے۔
ڈاکٹر : آپ کے دادے کے والد کا کیا نام ہے؟
سسر: وہ، میں، ہم، ہوں وہ۔۔۔۔
ڈاکٹر: مجھے پتہ ہے آپ کو نام نہیں آتا،
آپ کے پردادا کو بھی یہ ٹینشن رہی ہو گی کہ میرا نام کون لے گا؟ لیکن آج اُس کی اولاد کو اُس کا نام بھی پتہ نہیں۔
ویسے آپ کے مرنے کے بعد آپ کا نام کوئی لے یا نہ لے۔ آپ کو کیا فرق پڑے گا؟ قبر میں اپ کی ہڈیاں بے جان لکڑیوں کی طرح پڑی ہوں گی۔۔
نام صرف آپ کے اعمال کی بدولت زندہ رہتا ہے
قائداعظم اور علامہ اقبال کو آج آپ کی نصاب میں پڑھایا جاتا ہے۔۔
گنگا رام کو گزرے ہوئے کافی سال ہو گئے لیکن لوگ آج بھی گنگا رام اسپتال کی وجہ سے گنگا رام کو نہیں بھولے۔
ایدھی صاحب چلے گئے
لیکن نام زندہ ہے اور رہے گا۔
کچھ ایسا کر جاؤ کہ لوگ تمہارا نام لیں بے شک تمہاری نسلیں تمہیں بھول جائیں۔
غوروفکرکیجیے کائنات کی سب سے محبوب ترین ہستی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی نے بیٹے عطا فرما کر واپس لے لیے اور ایک بیٹی سے رہتی دنیا تک آپ کی نسل کو پوری دنیا ميں پھیلا دیا۔
بس یہ بات یاد رکھیے۔۔
میری پوسٹ کسی کو بُری لگے تو معذرت چاہوں گا…
جزاك اللهُ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قرآن الحکیم میں بیوی کے لئے ہونے والے الفاظ
اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحبة
إمراءة :
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :
1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
” امراءة نوح ” اور ” امراءة لوط ” كہہ كر پكارا هے،
اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
” وامراءة فرعون” کہ كر پكارا هے
(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)
یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا
2- زوجة :
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے
( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )
اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا
( يأيها النبي قل لأزواجك …. )
شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا
ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
( و امراتي عاقرا …. )
اور جب أولاد مل گئی تو بولا
( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه …. )
اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں
اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر
( وامرءته حمالة الحطب )
كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا
3- صاحبة :
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو
اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ “صاحبة” بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے
(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)
اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا
( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )
كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے “صاحبته” بولا
اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة ” بيوی” ہی كرنا پڑے گا
ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے
اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا
( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )
“وأزواجنا”
زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو
تحریر پڑھنے کے بعد شیئر ضرور کیجۓ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
گدھے کا گوشت اور مفروضے
گدھے کا گوشت کھلانے کی خبر چلانے کے پیچھے کیا ھے..اک مصنف لکھتا ہے کہ چند سال پہلے کی بات ھے میں دوبئی میں ہنگری (یورپ) کی ایک کمپنی میں کام کرتا تھا ، وہاں میرے ساتھ ہنگری کا ایک انجنئیر میرا کولیگ تھا ، اُس کے ساتھ میری کافی گپ شپ تھی ،
ایک دن ھم لوگ پیکٹ والی لسی پی رھے تھے ، جسے وہاں مقامی زبان میں لبن بولتے ہیں ،
میں نے اسے بتایا کہ یہ لسی ھم گھر میں بناتے ھیں ، وہ بڑا حیران ھوا، بولا کیسے ،
میں نے اسے کہا کہ ھم لوگ دھی سے لسی اور مکھن نکالتے ہیں ، وہ اور بھی حیران ہو گیا ، کہنے لگا یہ کیسے ممکن ھے ، میں نے بولا ھم گائے کا دودھ نکال کر اسکا دھی بناتے ہیں ۔
پھر صبح مشین میں ڈال کر مکھن اور لسی الگ الگ کر لیتے ہیں ، یہ ہاتھ سے بھی بنا سکتے ہیں ،
وہ اتنا حیران ہوا جیسے میں کسی تیسری دنیا کی بات کر رھا ھوں کہنے لگا یہ باتیں میری دادی سنایا کرتی تھیں ۔
کہنے لگا میری بات لکھ لو تم لوگ بھی کچھ سالوں تک آرگینک یعنی قدرتی چیزوں سے محروم ھونے والے ھو ، میں بولا وہ کیسے ،
اس نے بتایا کہ ھنگری میں بھی ایسے ھوا کرتا تھا ، پھر ساری معیشت ی ہودیوں کے ہاتھ میں آ گئی ،
انہوں نے کوالٹی اور صحت کے حوالے سے میڈیا پر اشتہاری مہم چلائی اور جتنی بھی آرگینک (قدرتی) چیزیں تھیں ان کو صحت کے حوالے سے نقصان دہ قرار دے دیا…. جیسے کھلا دودھ ، کھلی روٹی ، گوشت ، ہوٹل ، فروٹ ، وغیرہ وغیرہ ۔
پھر کیا ھوا ؟ برانڈ متعارف ھو گئے ، جو انٹرنیشنل لیول کے میعار کے مطابق تھے ۔
گوشت سپلائی کرنے والی کمپنیاں مارکیٹ میں آ گئیں ، ان کا گوشت ڈبوں میں اچھی اور خوبصورت پیکنگ کے ساتھ ملنے لگا.
اور جو عام بیچنے والے تھے ان پر اداروں کے چھاپے پڑنے شروع ھو گئے.
میڈیا پر انہیں بدنام کیا جانے لگا ، نتیجہ کیا نکلا ، گوشت کا کام کرنے والے چھوٹے کاروباری لوگوں کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا اور جو تھوڑے سرمایہ دار تھے ، گوشت سپلائی کرنے والی کمپنیوں نے انکو اپنی فرنچائزز دے دیں ، اب وہ کمپنیوں کا گوشت فروخت کرنے لگے.
عام قصائی گوشت والا جانور لے کر ذبح کر کے گوشت صاف کر کے بیچتا ، بڑی بےایمانی کرتا تو ، گوشت کو پانی لگا لیتا ، اور کمپنیاں کیا کرتیں ، وہ کسی کو نہیں پتہ، پورا جانور مشین میں ڈالتے ، اس کا قیمہ قیمہ کرتے گوبر اور آنتوں سمیت !! پھر اس میں کیمیکل ڈال کر صاف کرتے ، اس کو طویل عرصہ تک محفوظ کرنے کے لیے مزید کیمیکل ڈالتے ، پھر اسکے مختلف سائز کے پیس بنا کر پیک کر کے مارکیٹ میں ڈال دیتے
اور
لوگ برانڈ کے نام پر خریدتے ، باھر رہنے والوں کو گوشت کمپنیوں کا اچھی طرح سے اندازہ ہو گا !!
اپنی پراڈکٹ کی سیل بڑھانے کیلئے مقامی قصائیوں کو بدنام کرنا ضروری تھا ۔
اس کیلئے گدھے کے گوشت کا ڈرامہ رچایا گیا……..
یہ ڈرامہ میڈیا نے کسی کے کہنے پر کھیلا ۔۔۔۔ تاکہ لوگ بڑا گوشت نہ کھائیں اور مرغی کی طرف واپس آئیں ۔۔۔۔ کیا اب ملک میں گدھے ختم ھو گئے ہیں ؟
نہیں !!! بلکہ سیلز ٹارگٹ حاصل ھو رھے ہیں ۔۔۔۔
بھینسوں کو شہروں سے کیوں نکالا گیا؟
تاکہ خالص ، تازہ اور سستے دودھ کی جگہ ڈبہ والا دودھ فروخت کیا جا سکے ۔۔۔۔
جب
مطلوبہ ٹاگٹ پورے نہیں ھوئے تو کھلے دودھ کے پیچھے پڑ گئے ۔۔۔۔
اسی طرح مقامی گوالوں کے ساتھ بھی کیا ؛ پہلے تو میڈیا پر مہم چلا کر ان کو مارکیٹ میں بدنام کیا پھر ان کو اپنی فرنچائز دے دیں اور اپنا ھی دودھ بیچنا شروع کر دیا ۔
اب مجھے یہ بتائیں کہ جو دودھ عام اور چھوٹے فارمز سے آتا ھے یعنی مقامی گوالوں کا کھلا دودھ
مقامی گوالا
اس کیلئے کسی قسم کا کیمیکل نا تو جانور کو کھلاتا ھے اور نہ دودھ میں ڈالتا ھے ، زیادہ سے زیادہ کیا کرے گا ، پانی ڈال لے گا زیادہ ڈالے گا تو وہ بھی لوگوں کو پتہ چل جائے گا ،،،
اور جو نیسلے، ملک پیک اور دوسرے ٹیٹرا پیک والے ہیں وہ دودھ کو لمبے عرصہ محفوظ رکھنے کے لیے کیا کیا کیمیکل ڈالتے ہیں اور فارموں میں جانوروں کو ناجانے کیا کچھ کھلاتے ہیں ،،
یہودیوں کا دودھ صحیح ھے یا کسان والا مقامی کھلا دودھ ؟؟
دبئی میں دودھ کی ایکسپائری ڈیٹ جتنی زیادہ ہو گی اتنا زیادہ کیمیکل ھوگا اور اتنی قیمت کم ھو گی ۔
ایک ھی کمپنی کا دودھ اگر ٹیٹرا پیک میں خریدیں گے تو تین درھم فی لیٹر قیمت ھے ،
اسی کمپنی کی بوتل فریش والی خریدیں گے تو چھ درہم لیٹر اور آج کل آرگینک دودھ بھی مارکیٹ میں آ گیا ھے جو چودہ درھم فی لیٹر ھے ۔
مجھے یہ بتائیں ، کہ کھلا دودھ نکال کر چودہ درھم کا بک رہا ھے تو کیا ضرورت ھے ، پیکنگ کر کے تین درھم کا بیچنے کی ،، ؟؟
لوگ اب آرگینک کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ہم بدقسمت برانڈ کے پیچھے پڑ گئے ہیں ،
اب پاکستان میں بھی بڑے بڑے ڈیری فارم بن رھے ہیں ، اور ھر دوسرے روز حکومت دودھ والوں پر چھاپے مار رھی ھوتی ھے اور میڈیا پر دکھا رھی ھوتی ھے کہ دودھ میں یہ ملایا، وہ ملایا ،، اسٹرنگ آپریشن کیے جا رھے ھوتے ھیں ،،
او بھائی ، اگر کاروائی کرنی ھے تو میڈیا پر شور مچانے کی کیا ضرورت ھے؟ کیوں لوگوں کا اعتبار اٹھانے کیلئے ذھن تبدیل کر رھے ھیں ۔
اب آپ کے ذھن میں یہ سوال لازمی آئے گا کہ دنیا کی ھر تباھی کو یہودیوں سے کیوں جوڑا جاتا ھے؟؟؟ ؟
تو میرے بھائیو آپ نے صرف یہ کرنا ھے کہ دنیا کے سب بڑے برانڈڈ پیک فوڈ کمپنیوں کے مالک کی لسٹ نکال لیں اور بہت آسانی سے ان کے نام کی پروفائل واٹس ایپ ، انسٹاگرام ، فیس بک پر چیک کر لیں یا پھر ان ناموں کو گوگل پر سرچ کر لیں تو ان کی پروفائل پر آپ کو ان کا مذھب یہودی ھی ملے گا. دنیا کے ذیادہ تر کاروبار کے مالک یہی یہودی ھی ہیں کاروبار کے ساتھ ساتھ یہ لوگ انٹرنیشنل میڈیا کو بھی کنٹرول میں کئے ھوئے ہیں اور جب چاھیں عوام میں پروپیگنڈا پھیلا دیتے ھیں ۔
بہرحال اس تحریر کا مقصد یہ ھے کہ ھم اپنی قدرتی خوراک کو اپنائیں اور شارٹ کٹ سے بنی ھوئی ھر اس خوراک سے خود بھی بچیں اور خاص طور پر اپنی اولاد کو ان سے بچائیں مثلاً پیپسی ، کوک جیسی ڈرنک ، پیک جوسز ، پیک چپس ، مختلف اسنیکس ، برگر ، پیزا کیوں کہ ان میں بھی پیک فروزن چکن اور پیک لوازمات استعمال کئیے جاتے ہیں ۔
یاد رھے کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر ممالک جہاں کرونا اموات سب سے زیادہ ھوئی ھیں وہاں کی زیادہ تر آبادی کی خوراک یہی برگر ، پیزا اور پیک فوڈز پر مشتمل ھوتی ھے
لہذا فیصلہ ھم نے خود کرنا ھے ۔
شکریہ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
یہ تصویر لاہور میں برآمد ہونے والی اٹھائیس صفر کی مرکزی قدیمی زیارت شبیہ تابوت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی ہے۔ غالبا تصویر کچھ برس قبل اس وقت لی گئی ہے جب زیارت مسجد وزیر خان کے علاقے میں موجود تھی۔ اِس تصویر کو دیکھ کر بے اختیار وہ وقت یاد آتا ہے جب مدینہ میں امام حسن علیہ السلام کا جنازہ اپنے نانا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضے سے واپس گیا تھا۔

شب عاشور نثار حویلی سے برآمد ہونے والے مرکزی جلوس کے بعد یہ وہ زیارت ہے جسے اگر لاہور کہ عزاداری کا اختصاص کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اندرون موچی دروازے کے محلہ شیعاں کشمیریاں کی مقبول امام بارگاہ حسینیہ ہال سے برآمد ہونے والی یہ زیارت اٹھائیس صفر کی شب اسی جگہ موجود امام بارگاہ باب حسن علیہ السلام میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔ مجھے انسانوں کی تعداد گننا نہیں آتی، بس اتنا جانتا ہوں کہ اس جلوس کے اختتامی لمحات کے دوران میں انسانوں کے سمندر کے درمیان اکثر کسی تنکے کی طرح بہتا چلا جاتا تھا۔ نظریں اس تابوت پر جمی ہوتی تھیں جو جیسے ہوا میں معلق کبھی دائیں اور بائیں تیرتا ہوا آگے بڑھا جاتا تھا۔ جذباتیت، وارفتگی اور مرکزیت اس جلوس کی خاصیت ہے۔ باب حسن علیہ السلام میں اختتام پذیر ہونے کے بعد شبیہ تابوت پر سفید کپڑا(کفن) ڈال کر اسے دوبارہ حسینیہ ہال لے جایا جاتا ہے۔ یہ منظر بے انتہا رقت آمیز ہوتا ہے جس کا پس منظر مدینہ میں گھر واپس آنے والا امام حسن علیہ السلام کا جنازہ ہے، جس پر تیر برسائے گئے تھے۔
۔
علامہ مرزا احمد علی اعلی اللہ مقامہ، متوفی سنہ 1970، اس تاریخی زیارت کے بانی ہیں جنہوں نے سنہ 1928 میں اس جلوس عزا بسلسلہ شہادت امام حسن المجتبی علیہ السلام کی بنیاد رکھی۔ یعنی بفضل خدا و بطفیل اہلیبیت علیھم السلام اس دہائی کے آخر تک اس قدیمی اور مقبول زیارت کا آغاز ہوئے سو برس مکمل ہو جائیں گے۔ علامہ مرزا احمد علی کی مرقد حسینیہ ہال میں عین اس جگہ موجود ہے جہاں یہ شبیہ تابوت امام حسن علیہ السلام رکھی جاتی ہے۔
یو ٹیوب اور سوشل میڈیا نے بہت آسانی پیدا کردی ہے۔ اٹھائیس صفر لاہور کے اس جلوس کی کچھ ویڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں جن میں ذاکر مصائب امام حسن علیہ السلام بیان کررہے ہیں، یہاں تک کہ زیارت برآمد ہوتی ہے جس کے بعد کے مناظر انتہائی رقت آمیز نظر آتے ہیں۔ ایسی ہی ایک ویڈیو پر ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے تبصرہ کیا ہے کہ یہ منظر دیکھ کر میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ ایسا منظر میں نے صرف لکھنو میں دیکھا ہے اور اب لاہور میں۔
۔
زیارت کی برآمدگی سے پہلے مجلس ہوتی ہے اور پھر رات میں محلہ شیعاں میں مجلس اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک زیارت یہاں پہنچ نہیں جاتی۔ یہاں علامہ عرفان حیدر عابدی، مولانا ناصر عباس، شہید محسن نقوی اور مولانا حسن ظفر نقوی مجلس پڑھتے رہے ہیں۔ علامہ عرفان حیدر عابدی نے اپنی زندگی کی یادگار مجالس یہیں پڑھی ہیں۔ زیارت کا محلہ شیعاں میں نمودار ہونا کچھ ایسا منظر پیش کرتا ہے جیسے مدینہ میں مولا حسن علیہ السلام کا جنازہ تیروں سے ڈھکا واپس گھر آیا ہو۔
جو عزادار ہر سال اس مقبول شبیہ تابوت کی زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں، وہ جانتے ہونگے کہ یہ زیارت بالخصوص جب محلہ شیعاں میں موجود ہوتی ہے تو اطراف میں موجود مکانوں کی چھتوں پر موجود عزادار لگاتار زیارت پر گل پاشی کرتے جاتے ہیں۔ کیمرے سے ریکارڈ شدہ کوئی ویڈیو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے شبیہ تابوت پر آسمان سے گلاب کی پتیوں کی بارش ہو رہی ہو۔ میں یہ منظر دیکھ کر یہ گمان کرتا ہوں کہ یہ پھول نچھاور کرنے والے عزادار دراصل انچاس ہجری میں کریم اہل بیت علیہ السلام کے جنازے پر کی جانے والی تیروں کی بارش کی مصیبت کو یاد کرتے ہیں اور شبیہ تابوت پر پھول کی پتیاں نچھاور کر کے گویا اپنے دل کی یہ حسرت پوری کرتے ہیں کہ یہ نواسہ رسول جگر گوشہ بتول امام حسن مجتبی علیہ السلام کا جنازہ تھا، اس پر پھول کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے، پھولوں کی طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کیلئے لانا چاہئے تھا۔ نہ کہ اس پر تیر برسا کر واپس گھر لوٹنے پر مجبور کیا جاتا۔
۔
اٹھائیس صفر کی یہ زیارت لاہور کے عزاداروں کا فخر ہے۔ شہر بھر سے اور شہر سے باہر سے آئے عزاداروں کو بازووں سے پکڑ پکڑ کر دسترخوان امام حسن علیہ السلام پر نیاز کھانے کی التجا کرنے والے اندرون شہر کے لوگوں کا خلوص ان کی آنکھوں سے جھلکتا ہے۔
۔
زنجیر یا قمہ زنی پر کسی روایتی بحث میں پڑے بغیر بطور مثال یہ لکھنا چاہوں گا کہ لاہور میں زنجیر زنی یا خون کا پرسہ سب سے زیادہ عاشورہ پر دیا جاتا ہے۔ لیکن عاشورہ کے بعد اگر میں نے سب سے زیادہ زنجیر زنی ہوتے دیکھی تو وہ تاریخ اٹھائیس صفر ہے۔ گجر گلی میں ہونے والی زنجیر زنی اس جلوس عزا کی خصوصیت ہے۔ بس فرق یہ ہے روز عاشور ماتم کرنے والا یا حسین علیہ السلام کہہ کر ماتم کرتا ہے اور اٹھائیس صفر کو یا حسن علیہ السلام کہہ کر۔ کچھ خاص نوحے ہیں جو اس دن لگاتار پڑھے جاتے ہیں جن میں سرفہرست “بیگناہ مارا گیا سبط رسول دوسرا ص، وا حسن ع سبز قبا” ہے۔ جبکہ ماتمداروں کی کچھ ٹولیاں “جناب امام حسن ع مار ڈالا، میرے بھائی کو بے خطا مار ڈالا” کہتے ہوئے ایک خاص طرز کا ماتم کرتی نظر آتی ہیں۔ تاریخی ماتمی انجمن نثار پارٹی کے بانی مرحوم بابا ناصر حیدری کا لکھا لازوال نوحہ “پیکاں برس رہے ہیں تابوت پر حسن ع کے” بھی اس جلوس میں پڑھا جانے والے بہت خاص نوحہ ہے۔
۔
آپ یقینا سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اٹھائیس صفر شہادت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی مناسبت سے برآمد ہونے والے لاہور کے اس مرکزی جلوس کا اتنا تفصیلی ذکر کیوں کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اکثر بعض حضرات کو یہ فرماتے دیکھا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ شیعہ امام حسین علیہ السلام کے غم کی طرح امام حسن علیہ السلام کی شہادت پر کسی مجلس یا جلوس کا اہتمام کرتے نظر نہیں آتے؟ سوال کم علمی کی وجہ سے پوچھا جائے یا بغض کی وجہ سے، اس کا جواب بہرحال کار خیر سمجھ کردینا چاہیئے۔ لہذا میں نے صرف لاہور کی اس قدیمی مرکزی زیارت کا مفصل احوال اپنی معلومات اور مشاہدے کے مطابق دیدیا تاکہ کسی کو غلط فہمی نہ رہے کہ شیعہ اس کریم اہلیبیت علیہ السلام کا غم نہیں مناتے جسے مسلمانوں نے اس کے نانا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں دفن نہ ہونے دیا۔ دیگر شہروں میں اس روز برآمد ہونے والی تاریخی زیارتوںک یلئے ایک علحدہ تحریر درکار ہوگی۔۔.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
یوم شہادت سرکار امام حسن علیہ السلام
تاریخ حسن مجتبیٰ علیہ السلام از خواجہ محمد لطیف
انصاری ایک نایاب، علمی اور فکری گہرائی کی حامل اردو کتاب ہے جو امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی زندگی، سیرت، تاریخی واقعات اور کردار کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا شمار برصغیر میں لکھی گئی شیعہ اسلامی تاریخ کی اہم کتب میں ہوتا ہے خواجہ محمد لطیف انصاری (1887–1979)، ایک معروف عالمِ دین، محقق، شاعر اور مورخ تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تشیع کی علمی خدمت اور دینی بیداری میں صرف کیا۔ ان کی کتاب تاریخ حسن مجتبیٰ علیہ السلام سن 1963ء میں لاہور کے معروف ناشر مکتبہ امامیہ سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب 683 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں امام حسن علیہ السلام کی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں جیسے ولادت، خلافت، صلح، امامت، سیاسی حالات، اور شہادت کا تحقیقی انداز میں احاطہ کیا گیا ہے۔
کتاب کا اسلوب علمی، ادبی اور متوازن ہے۔ مصنف نے جہاں اہل سنت و شیعہ مآخذ کا حوالہ دیا ہے، وہیں ذاتی تجزیات کے ذریعے امام حسنؑ کی صلح کو اسلامی سیاست میں “نرم مزاحمت” کی علامت قرار دیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مذہبی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے اہم ہے بلکہ محققین، طلابِ علم اور تاریخِ اسلام میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔
خواجہ لطیف انصاری میرے والد محترم کے استاد تھے بلکہ ان کو اپنا چوتھا بیٹا قرار دیتے تھے میرے والد کے انتقال پر ان کے خط کی تحریر کا عکس بھی اس پوسٹ میں شامل ہے اپنے اخری ایام میں جب وہ فالج جیسے مرض میں مبتلا تھے تو کچھ عرصے کے لیے ہمارے گھر رہے جہاں پر مجھے ان کی خدمت کا موقع ملا اور ہر روز ہی ان سے لمبی گفتگو ہوتی جس میں وہ اپنی تصنیف و تالیف اور افریقہ میں اسلام کے فروغ کے لیے گزاری اپنی زندگی کے واقعات پر روشنی ڈالتے وہ مشرقی پنجاب کے شہر موگا میں ایم ڈی کالج موگا اردو اور فارسی کے پروفیسر بھی رہے،اخری دنوں میں اپنے مفلوج ہاتھوں سے میرے لیے لکھی تحریر کا عکس بھی اس پوسٹ کا حصہ ہے
خواجہ صاحب کی دیگر تصانیف جیسے اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ اور کربلا کی کہانی قرآن کی زبانی بھی اسی طرزِ فکر و تحقیق کی آئینہ دار ہیں۔ “تاریخ حسن مجتبیٰؑ” ان کی علمی بصیرت، دینی اخلاص اور مؤرخانہ تجزیے کا بہترین نمونہ ہے۔
یہ کتاب آج بھی تحقیق، تدریس اور فہمِ تاریخ کے لیے ایک معتبر حوالہ سمجھی جاتی ہے، اور اردو زبان میں امام حسن مجتبیٰؑ پر ایک جامع علمی دستاویز مانی جاتی ہے۔ اس کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں آج کل بھی مارکیٹ میں نئی تزین و ارائش کے ساتھ دستیاب ہے
……………………………..
شہر تاریخ سے مسموم ہوا آتی ہے
مختصر حالات زندگی حضرت سبز قباء امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
آپ کی ولادت آپ ۱۵/ رمضان ۳ ہجری کی شب کومدینہ منورہ میں پیداہوئے ولادت سے قبل ام الفضل نے خواب میں دیکھاکہ رسول اکرم کے جسم مبارک کاایک ٹکڑامیرے گھرمیں آپہنچاہے خواب رسول کریم سے بیان کیاآپ نے فرمایااس کی تعبیریہ ہے کہ میری لخت جگرفاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیداہوگا جس کی پرورش تم کروگی مورخین کاکہناہے کہ رسول کے گھرمیں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی
آپ کی ولادت
آپ ۱۵/ رمضان ۳ ہجری کی شب کومدینہ منورہ میں پیداہوئے ولادت سے قبل ام الفضل نے خواب میں دیکھاکہ رسول اکرم کے جسم مبارک کاایک ٹکڑامیرے گھرمیں آپہنچاہے خواب رسول کریم سے بیان کیاآپ نے فرمایااس کی تعبیریہ ہے کہ میری لخت جگرفاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیداہوگا جس کی پرورش تم کروگی مورخین کاکہناہے کہ رسول کے گھرمیں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی آپ کی ولادت نے رسول کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اوردنیاکے سامنے سورئہ کوثرکی ایک عملی اوربنیادی تفسیر پیش کردی۔
جو وظیفہ ہے خدا کا وہ یہی آیت ہے
ولادت کے بعداسم گرامی حمزہ تجویزہورہاتھا لیکن سرورکائنات نے بحکم خدا،موسی کے وزیرہارون کے فرزندوں کے شبروشبیرنام پرآپ کانام حسن اوربعدمیں آپ کے بھائی کانام حسین رکھا، بحارالانوارمیں ہے کہ امام حسن کی پیدائش کے بعدجبرئیل امین نے سرورکائنات کی خدمت میں ایک سفیدریشمی رومال پیش کیا جس پرحسن لکھاہواتھا ماہرعلم النسب علامہ ابوالحسین کاکہناہے کہ خداوندعالم نے فاطمہ کے دونوں شاہزادوں کانام انظارعالم سے پوشیدہ رکھاتھا یعنی ان سے پہلے حسن وحسین نام سے کوئی موسوم نہیں ہواتھا۔ کتاب اعلام الوری کے مطابق یہ نام بھی لوح محفوظ میں پہلے سے لکھاہواتھا۔
جس نے چوسی ہو شہنشاۂ زبان رسالت
دہن امامت میں علل الشرائع میں ہے کہ جب امام حسن کی ولادت ہوئی اورآپ سرورکائنات کی خدمت میں لائے گئے تورسول کریم بے انتہاخوش ہوئے اوران کے دہن مبارک میں اپنی زبان اقدس دیدی بحارالانورمیں ہے کہ آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کوآغوش میں لے کرپیارکیااورداہنے کان میں اذن میں اوربائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسن اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایااس کواوراس کی اولادکواپنی پناہ میں رکھنا بعض لوگوں کاکہناہے کہ امام حسن کولعاب دہن رسول کم اورامام حسین کوزیادہ چوسنے کاموقع دستیاب ہواتھا اسی لیے امامت نسل حسین میں مستقرہوگئی۔
رسم ِعقیقہ نقش اِک اعجاز میں ہے
آپ کی ولادت کے ساتویں دن سرکارکائنات نے خوداپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایااوربالوں کومنڈواکراس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ( اسدالغابة جلد ۳ ص ۱۳) ۔
علامہ کمال الدین کابیان ہے کہ عقیقہ کے سلسلے میں دنبہ ذبح کیا گیاتھا (مطالب السؤل ص ۲۲۰) کافی کلینی میں ہے کہ سرورکائنات نے عقیقہ کے وقت جودعا پڑھی تھی اس میں یہ عبارت بھی تھی ”اللهم عظمهابعظمه،لحمهایلحمه دمهابدمه وشعرهابشعره اللهم اجعلها وقاء لمحمد واله“ خدایااس کی ہڈی مولودکی ہڈی کے عوض، اس کاگوشت اس کے گوشت کے عوض ،اس کاخون اس کے خون کے عوض، اس کابال اس کے بال کے عوض قراردے اوراسے محمدوآل محمد کے لیے ہربلاسے نجات کاذریعہ بنادے ۔
امام شافعی کاکہناہے کہ آنحضرت نے امام حسن کاعقیقہ کرکے اس کے سنت ہونے کی دائمی بنیادڈل دی (مطالب السؤل ص ۲۲۰) ۔
بعض معاصرین نے لکھاہے کہ آنحضرت نے آپ کاختنہ بھی کرایاتھا لیکن میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ امامت کی شان سے مختون پیداہونا بھی ہے۔
کنیت والقاب کے گوہر
آپ کی کنیت صرف ابومحمدتھی اورآپ کے القاب بہت کثیرہیں: جن میں طیب،تقی، سبط اورسیدزیادہ مشہورہیں ،محمدبن طلحہ شافعی کابیان ہے کہ آپ کا”سید“ لقب خودسرورکائنات کاعطاکردہ ہے (مطالب السؤل ص ۲۲۱) ۔
زیارت عاشورہ سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کالقب ناصح اورامین بھی تھا۔
سیرت احمد مرسُل کو حسن کہتے ہیں
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن اسلام پیغمبراسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزندرسول کادرجہ دیاہے اوراپنے دامن میں جابجاآپ کے تذکرہ کوجگہ دی ہے خودسرورکائنات نے بے شماراحادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں:
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشادفرمایاکہ میں حسنین کودوست رکھتاہوں اورجوانہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتاہوں۔
ایک صحابی کابیان ہے کہ میں نے رسول کریم کواس حال میں دیکھاہے کہ وہ ایک کندھے پرامام حسن کواورایک کندھے پرامام حسین کوبٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اورباری باری دونوں کامنہ چومتے جاتے ہیں ایک صحابی کابیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نمازپڑھ رہے تھے اورحسنین آپ کی پشت پرسوارہو گئے کسی نے روکناچاہاتوحضرت نے اشارہ سے منع کردیا(اصابہ جلد ۲ ص ۱۲) ۔
ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کوبہت زیادہ دوست رکھنے لگاہوں جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کرانہیں ڈاڈھی سے کھیلتے دیکھا(نورالابصارص ۱۱۹) ۔
ایک دن سرورکائنات امام حسن کوکاندھے پرسوارکئے ہوئے کہیں لیے جارہے تھے ایک صحابی نے کہاکہ اے صاحبزادے تمہاری سواری کس قدراچھی ہے یہ سن کرآنحضرت نے فرمایایہ کہوکہ کس قدراچھاسوارہے (اسدالغابةجلد ۳ ص ۱۵ بحوالہ ترمذی)۔
امام بخاری اورامام مسلم لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت رسول خداامام حسن کوکندھے پربٹھائے ہوئے فرمارہے تھے خدایامیں اسے دوست رکھتاہوں توبھی اس سے محبت کر ۔
حافظ ابونعیم ابوبکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت نمازجماعت پڑھارہے تھے کہ ناگاہ امام حسن آگئے اوروہ دوڑکرپشت رسول پرسوارہوگئے یہ دیکھ کررسول کریم نے نہایت نرمی کے ساتھ سراٹھایا،اختتام نمازپرآپ سے اس کاتذکرہ کیاگیاتوفرمایایہ میراگل امیدہے“۔” ابنی ہذا سید“ یہ میرابیٹا سیدہے اوردیکھویہ عنقریب دوبڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔
امام نسائی عبداللہ ابن شدادسے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نمازعشاء پڑھانے کے لیے آنحضرت تشریف لائے آپ کی آغوش میں امام حسن تھے آنحضرت نمازمیں مشغول ہوگئے ، جب سجدہ میں گئے تواتناطول دیاکہ میں یہ سمجھنے لگاکہ شایدآپ پروحی نازل ہونے لگی ہے اختتام نمازپرآپ سے اس کاذکرکیاگیا توفرمایاکہ میرافرزندمیری پشت پرآگیاتھا میں نے یہ نہ چاہاکہ اسے اس وقت تک پشت سے اتاروں ،جب تک کہ وہ خودنہ اترجائے ، اس لیے سجدہ کوطول دیناپڑا۔
حکیم ترمذی ،نسائی اورابوداؤد نے لکھاہے کہ آنحضرت ایک دن محوخطبہ تھے کہ حسنین آگئے اورحسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پرگرپڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت نے خطبہ ترک کردیااورمنبرسے اترکرانہیں آغوش میں اٹھالیااورمنبر پرتشریف لے جاکرخطبہ شروع فرمایا (مطالب السؤل ص ۲۲۳) ۔
امام حسن کی سرداری جنت
آل محمدکی سرداری مسلمات سے ہے علماء اسلام کااس پراتفاق ہے کہ سرورکائنات نے ارشادفرمایاہے حسن اورحسین جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے والدبزرگواریعنی علی بن ابی طالب ان دونوں سے بہترہیں۔
جناب حذیفہ یمانی کابیان ہے کہ میں نے آنحضرت کوایک دن بہت زیادہ مسرورپاکرعرض کی مولاآج افراط شادمانی کی کیاوجہ ہے ارشادفرمایاکہ مجھے آج جبرئیل نے یہ بشارت دی ہے کہ میرے دونوں فرزندحسن وحسین جوانان بہشت کے سردارہیں اوران کے والدعلی ابن ابی طالب ان سے بھی بہترہیں (کنزالعمال ج ۷ ص ۱۰۷ ،صواعق محرقہ ص ۱۱۷) اس حدیث سے اس کی بھی وضاحت ہوگئی کہ حضرت علی صرف سیدہی نہ تھے بلکہ فرزندان سیادت کے باپ تھے۔
باغ سے پیار کیا اور گل تر چھوڑ دئیے
مؤرخین کابیان ہے کہ ایک دن ابوسفیان حضرت علی کی خدمت میں حاضرہوکرکہنے لگاکہ آپ آنحضرت سے سفارش کرکے ایک ایسامعاہدہ لکھوادیجئے جس کی روسے میں اپنے مقصدمیں کامیاب ہوسکوں آپ نے فرمایاکہ آنحضرت جوکچھ کہہ چکے ہیں اب اس میں سرموفرق نہ ہوگا اس نے امام حسن سے شفارش کی خواہش کی ،آپ کی عمراگرچہ اس وقت صرف ۱۴ ماہ کی تھی لیکن آپ نے اس وقت ایسی جرائت کاثبوت دیاجس کاتذکرہ زبان تاریخ پرہے لکھاہے کہ ابوسفیان کی طلب سفارش پرآپ نے دوڑکراس کی ڈاڈھی پکڑلی اورناک مروڑکرکہاکلمہ شہادت زبان پرجاری کرو،تمہارے لیے سب کچھ ہے یہ دیکھ کرامیرالمومنین مسرورہوگئے (مناقب آل ابی طالب جلد ۴ ص ۴۶) ۔
ایک طرف احمد مرسُل ہیں توانائی ہے
علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ امام حسن کایہ وطیرہ تھاکہ آپ انتہائی کم سنی کے عالم میں اپنے ناناپرنازل ہونے والی وحی من وعن اپنی والدہ ماجدہ کوسنادیاکرتے تھے ایک دن حضرت علی نے فرمایاکہ اے بنت رسول میراجی چاہتاہے کہ میں حسن کوترجمانی وحی کرتے ہوئے خوددیکھوں، اورسنوں، سیدہ نے امام حسن کے پہنچنے کاوقت بتادیاایک دن امیرالمومنین حسن سے پہلے داخل خانہ ہوگئے اورگوشئہ خانہ میں چھپ کربیٹھ گئے امام حسن حسب معمول تشریف لائے اورماں کی آغوش میں بیٹھ کروحی سناناشروع کردی لیکن تھوڑی دیرکے بعد عرض کی ”یااماہ قدتلجلج لسانی وکل بیانی لعل سیدی یرانی“مادرگرامی آج زبان وحی ترجمان میں لکنت اوربیان مقصدمیں رکاوٹ ہورہی ہے مجھے ایسامعلوم ہوتاہے کہ جیسے میرے بزرگ محترم مجھے دیکھ رہے ہیں یہ سن کرحضرت امیرالمومنین نے دوڑکرامام حسن کوآغوش میں اٹھالیا اوربوسہ دینے لگے(بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۱۹۳) ۔
چشم احساس میں موجود ہیں ایسے منبر
امام بخاری رقمطرازہیں کہ ایک دن کچھ صدقہ کی کھجوریں ائی ہوئی تھیں امام حسن اورامام حسین اس کے ڈھیرسے کھیل رہے تھے اورکھیل ہی کھیل کے طورپر امام حسن نے ایک کھجوردہن اقدس میں رکھ لی، یہ دیکھ کرآنحضرت نے فرمایااے حسن کیاتمہیں معلوم نہیں ہے ؟ کہ ہم لوگوں پرصدقہ حرام ہے (صحیح بخاری پارہ ۶ ص ۵۲) ۔
حضرت حجة الاسلام شہیدثالث قاضی نوراللہ شوشتری تحریرفرماتے ہیں کہ ”امام پراگرچہ وحی نازل نہیں ہوتی لیکن اس کوالہام ہوتاہے اوروہ لوح محفوظ کامطالعہ کرتاہے جس پرعلامہ ابن حجرعسقلانی کاوہ قول دلالت کرتاہے جوانہوں نے صحیح بخاری کی اس روایت کی شرح میں لکھاہے جس میں آنحضرت نے امام حسن کے شیرخوارگی کے عالم میں صدقہ کی کھجورکے منہ میں رکھ لینے پراعتراض فرمایاتھا”کخ کخ اماتعلم ان الصدقة عليناحرام“ تھوکوتھو،کیاتمہیں معلوم نہیں کہ ہم لوگوں پرصدقہ حرام ہے اورجس شخص نے یہ خیال کیاکہ امام حسن اس وقت دودھ پیتے تھے آپ پرابھی شرعی پابندی نہ تھی آنحضرت نے ان پرکیوں اعتراض کیا اس کاجواب علامہ عسقلانی نے اپنی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں دیاہے کہ امام حسن اوردوسرے بچے برابرنہیں ہوسکتے کیونکہ ان الحسن يطالع لوح المحفوظ امام حسن شیرخوارگی کے عالم میں بھی لوح محفوظ کامطالعہ کیاکرتے تھے(احقاق الحق ص ۱۲۷) ۔
زندگی کے لئے سورج ہے توانائی حق!
یہ مسلمات سے ہے کہ حضرت آئمہ معصومین علیہم السلام کوعلم لدنی ہواکرتاتھا وہ دنیامیں تحصیل علم کے محتاج نہیں ہواکرتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ بچپن میں ہی ایسے مسائل علمیہ سے واقف ہوتے تھے جن سے دنیاکے عام علماء اپنی زندگی کے آخری عمرتک بے بہرہ رہتے تھے امام حسن جوخانوادہ رسالت کی ایک فرد اکمل اورسلسلہ عصمت کی ایک مستحکم کڑی تھے، کے بچپن کے حالات وواقعات دیکھے جائیں تومیرے دعوی کاثبوت مل سکے گا:
۱ ۔ مناقب ابن شہرآشوب میں بحوالہ شرح اخبارقاضی نعمان مرقوم ہے کہ ایک سائل حضرت ابوبکرکی خدمت میں آیااوراس نے سوال کیا کہ میں نے حالت احرام میں شترمرغ کے چندانڈے بھون کرکھالیے ہیں بتائیے کہ مجھ پرکفارہ واجب الاداہوا۔ سوال کاجواب چونکہ ان کے بس کانہ تھا اس لیے عرق ندامت پیشانی خلافت پرآگیا ارشادہواکہ اسے عبدالرحمن بن عوف کے پاس لے جاؤ، جوان سے سوال دھرایاتووہ بھی خاموش ہوگئے اورکہاکہ اس کاحل توامیرالمومنین کرسکتے ہیں_
سائل حضرت علی کی خدمت میں لایاگیاآپ نے سائل سے فرمایاکہ میردوچھوٹے بچے جوسامنے نظرآرہے ہیں ان سے دریافت کرلے سائل امام حسن کی طرف متوجہ ہوا اورمسئلہ دہراہا امام حسن نے جواب دیاکہ تونے جتنے انڈے کھائے ہیں اتنی ہی عمدہ اونٹیاں لے کرانہیں حاملہ کرا اوران سے جوبچے پیداہوں انہیں راہ خدامیں ہدیہ خانہ کعبہ کردے ۔ امیرالمومنین نے ہنس کرفرمایاکہ بیٹا جواب توبالکل صحیح ہے لیکن یہ بتاؤ کہ کیاایسا نہیں ہے کہ کچھ حمل ضائع ہوجاتے ہیں اورکچھ بچے مرجاتے ہیں عرض کی باباجان بالکل درست ہے مگرایسابھی توہوتاہے کہ کچھ انڈے بھی خراب ہاورگندے نکل جاتے ہیں یہ سن کرسائل پکاراٹھاکہ ایک مرتبہ اپنے عہدمیں سلیمان بن داؤد نے بھی یہی جواب دیاتھا جیساکہ میں نے اپنی کتابوں میں دیکھاہے۔
۲ ۔ ایک روزامیرالمومنین مقام رحبہ میں تشریف فرماتے تھے اورحسنین بھی وہاں موجودتھے ناگاہ ایک شخص آکرکہنے لگا کہ میں آپ کی رعایا اوراہل بلد(شہری) ہوں حضرت نے فرمایاکہ توجھوٹ کہتاہے تونہ میری رعایامیں سے ہے اورنہ میرے شہرکاشہری ہے بلکہ توبادشاہ روم کافرستادہ ہے تجھے اس نے معاویہ کے پاس چندمسائل دریافت کرنے کے لیے بھیجاتھا اوراس نے میرے پاس بھیجدیاہے اس نے کہایاحضرت آپ کاارشاد باکل درست ہے مجھے معاویہ نے پوشیدہ طورپرآپ کے پاس بھیجاہے اوراس کاحال خداوندعالم کے سواکسی کومعلوم نہیں ہے مگرآپ بہ علم امامت سمجھ گئے ، آپ نے فرمایاکہ اچھا اب ان مسائل کے جوابات ان دوبچوں میںسے کسی ایک سے پوچھ لے وہ امام حسن کی طرف متوجہ ہواچاہتاتھا کہ سوال کرے امام حسن نے فرمایا:
ایے شخص تویہ دریافت کرنے آیاہے کہ ۱ ۔ حق وباطل کتنا فاصلہ ہے ۲ ۔ زمین وآسمان تک کتنی مسافت ہے ۳ ۔ مشرق ومغرب میں کتنی دوری ہے ۔
۴ ۔ قوس قزح کیاچزہے ۵ ۔ مخنث کسے کہتے ہیں ۶ ۔ وہ دس چیزیں کیاہیں جن میں سے ہرایک کوخداوندعالم نے دوسرے سے سخت اورفائق پیدا کیاہے۔
سن ، حق وباطل میں چارانگشت کافرق وفاصلہ ہے اکثروبیشتر جوکچھ آنکھ سے دیکھاحق ہے اورجوکان سے سناباطل ہے(آنکھ سے دیکھاہوایقینی ۔ کان سے سناہوامحتاج تحقیق )۔
زمین اورآسمان کے درمیان اتنی مسافت ہے کہ مظلوم کی آہ اورآنکھ کی روشنی پہنچ جاتی ہے ۔
مشرق ومغرب میں اتنافاصلہ ہے کہ سورج ایک دن میں طے کرلیتاہے ۔
اورقوس وقزح اصل میں قوس خداہے اس لئے کہ قزح شیطان کانام ہے ۔ یہ فراوانی رزق اوراہل زمین کے لیے غرق سے امان کی علامت ہے اس لئے اگریہ خشکی میں نمودارہوتی ہے توبارش کے حالات میں سے سمجھی جاتی ہے اوربارش میںنکلتی ہے تو ختم باران کی علامت میںسے شمارکی جاتی ہے ۔
مخنث وہ ہے جس کے متعلق یہ معلوم نہ ہوکہ مردہے یاعورت اوراس کے جسم میں دونوں کے اعضاء ہوں اس کاحکم یہ ہے کہ تاحدبلوغ انتظارکریں اگرمحتلم ہوتو مرد اورحائض ہواورپستان ابھرائیں توعورت ۔
اگراس سے مسئلہ حل نہ ہوتو دیکھناچاہئے کہ اس کے پیشاب کی دھاریں سیدھی جاتی ہیں یانہیں اگرسیدھی جاتی ہیں تومرد ،ورنہ عورت ۔
اوروہ دس چیزیں جن میں سے ایک دوسرے پرغالب وقوی ہے وہ یہ ہیں کہ خدانے سب سے زائدسخت قوی پتھرکوپیداکیاہے مگراس سے زیادہ سخت لوہا ہے جوپتھرکوبھی کاٹ دیتاہے اوراس سے زائدسخت قوی آگ ہے جولوہے کوپگھلادیتی ہے اورآگ سے زیادہ سخت قوی پانی ہے جوآگ کوبجھادیتاہے اوراس سے زائد سخت وقوی ابرہے جوپانی کواپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتاہے اوراس سے زائد وقوی ہواہے جوابرکواڑائے پھرتی ہے اورہواسے زائد سخت وقوی فرشتہ ہے جس کی ہوامحکوم ہے اوراس سے زائدسخت وقوی ملک الموت ہے جوفرشتہ بادکی بھی روح قبض کرلیں گے اورموت سے زائد سخت وقوی حکم خداہے جوموت کوبھی ٹال دیتاہے۔یہ جوابات سن کرسائل پھڑک اٹھا۔
۳ ۔حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھاکہ ایک شخص کے ہاتھ میں خون آلودچھری ہے اوراسی جگہ ایک شخص ذبح کیاہوا پڑاہے جب اس سے پوچھاگیاکہ تونے اسے قتل کیاہے،تواس نے کہا ہاں ،لوگ اسے جسدمقتول سمیت جناب امیرالمومنین کی خدمت میں لے چلے اتنے میں ایک اور شخص دوڑتاہواآیا،اورکہنے لگا کہ اسے چھوڑدو اس مقتول کاقاتل میں ہوں ۔ ان لوگوں نے اسے بھی ساتھ لے لیااورحضرت کے پاس لے گئے ساراقصہ بیان کیا آپ نے پہلے شخص سے پوچھاکہ جب تواس کاقاتل نہیں تھاتوکیاوجہ ہے کہ اپنے کواس کاقاتل بیان کیا،اس نے کہایامولا میں قصاب ہوں گوسفندذبح کررہاتھا کہ مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی ،اس طرح خون آلود چھری میں لیے ہوئے اس خرابہ میں چلاگیا وہاں دیکھاکہ یہ مقتول تازہ ذبح کیاہواپڑاہے اتنے میں لوگ آگئے اورمجھے پکڑلیا میں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس وقت جبکہ قتل کے سارے قرائن موجودہیں میرے انکارکوکون باور کرے گا میں نے اقرارکرلیا ۔
پھرآپ نے دوسرے سے پوچھاکہ تواس کاقاتل ہے اس نے کہا جی ہاں، میں ہی اسے قتل کرکے چلاگیاتھا جب دیکھاکہ ایک قصاب کی ناحق جان چلی جائے گی توحاضرہوگیا آپ نے فرمایامیرے فرزندحسن کوبلاؤ وہی اس مقدمہ کافیصلہ سنائیں گے امام حسن آئے اورسارا قصہ سنا، فرمایادونوں کوچھوڑدو یہ قصاب بے قصورہے اوریہ شخص اگرچہ قاتل ہے مگراس نے ایک نفس کوقتل کیاتودوسرے نفس (قصاب) کوبچاکر اسے حیات دی اورا سکی جان بچالی اورحکم قرآن ہے کہ ”من احیاہافکانما احیاالناس جمیعا“ یعنی جس نے ایک نفس کی جان بچائی اس نے گویاتمام لوگوں کی جان بچائی لہذا اس مقتول کاخون بہابیت المال سے دیاجائے۔
۴ ۔ علی ابن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیرمیں لکھاہے کہ شاہ روم نے جب حضرت علی کے مقابلہ میں معاویہ کی چیزہ دستیوں سے آگاہی حاصل کی تودونوں کولکھا کہ میرے پاس ایک ایک نمائندہ بھیج دیں حضرت علی کی طرف سے امام حسن اورمعاویہ کی طرف سے یزید کی روانگی عمل میں ائی یزیدنے وہاں پہنچ کر شاہ روم کی دست بوسی کی اورامام حسن نے جاتے ہی کہاکہ خداکاشکرہے میں یہودی ،نصرانی، مجوسی وغیرہ نہیں ہوں بلکہ خالص مسلمان ہوں شاہ روم نے چندتصاویر نکالیں یزیدنے کہامیں ان سے ایک کوبھی نہیں پہنچانتا اورنہ بتاسکتاہوں کہ یہ کن حضرات کی شکلیں ہیں امام حسن نے حضرت آدم ،نوح، ابراہیم، اسماعیل، اورشعیب ویحی کی تصویریں دیکھ کرپہچان لیں اورایک تصویردیکھ کرآپ رونے لگے بادشاہ نے پوچھایہ کس کی تصویرہے فرمایامیرے جدنامدارکی ،
اس کے بعد بادشاہ نے سوال کیا کہ وہ کون سے جاندارہیں جواپنی ماں کے پیٹ سے پیدانہیں ہوئے آپ نے فرمایااے بادشاہ وہ سات جاندارہیں :
۱- ۔ ۲ ۔آدم وحوا
۳ ۔ دنبہ ابراہیم
۴ ناقہ صالح
۵ ۔ ابلیس
۶ ۔ موسوی اژدھا
۷ ۔ وہ کوا جس نے قابیل کی دفن ہابیل کی طرف رہبری کی ۔
بادشاہ نے یہ تبحرعلمی دیکھ کرآپ کی بڑی عزت کی اورتحائف کے ساتھ واپس کیا۔
روح قران سے نظر پھیر لی ساغر کے لئے
علامہ ابن طلحہ شافعی بحوالہ تفیروسیط واحدی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس اورابن عمرسے ایک آیت سے متعلق ”شاہدومشہود“ کے معنی دریافت کئے ابن عباس نے شاہدسے یوم جمعہ اورمشہودسے یوم عرفہ بتایااورابن عمرنے یوم جمعہ اوریوم النحرکہا اس کے بعدوہ شخص امام حسن کے پاس پہنچا،آپ نے شاہدسے رسول خدااورمشہودسے یوم قیامت فرمایااوردلیل میں آیت پڑھی :
۱ ۔ ياايهاالنبی اناارسلناک شاهداومبشرا ونذيرا ۔ائے نبی ہم نے تم کوشاہد ومبشر اورنذیربناکربھیجاہے ۔
۲ ۔ ذالک يوم مجموع له الناس وذالک يوم مشهود۔ قیامت کاوہ دن ہوگا جس میں تمام لوگ ایک مقام پرجمع ہوں کردیے جائیں کے ، اوریہی یوم مشہود ہے ۔ سائل نے سب کاجواب سننے کے بعدکہا”فکان قول الحسن احسن“ امام حسن کا جواب دونوں سے کہیں بہترہے (مطالب السؤل ص ۲۲۵) ۔
روح اسلام ہے اور پیروی حکم رسولؐ
امام زین العابدین فرماتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام زبردست عابد،بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا،کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثرموت، عذاب،قبر،صراط اوربعثت ونشورکویادکرکے رویاکرتے تھے جب آپ وضوکرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زردہوجایاکرتاتھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے آپ کامعمول تھاکہ جب دروازہ مسجدپرپہنچتے توخداکومخاطب کرکے کہتے میرے پالنے والے تیراگنہگاربندہ تیری بارگاہ میں آیاہے اسے رحمن ورحیم اپنے اچھائیوں کے صدقہ میں مجھ جیسے برائی کرنے والے بندہ کومعاف کردے آپ جب نمازصبح سے فارغ ہوتے تھے تواس وقت تک خاموش بیٹھے رہتے تھے جب تک سورج طالع نہ ہوجائے (روضة الواعظین بحارالانوار)۔
دیکھئے جلوہ الحمد اِس آئینے میں
امام شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اوربعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایاہے وہ عظیم وپرہیزگارتھے۔
کس طرح کیفیت سخاوت حسنِؑ مجتبیٰ لکھوں
مورخین لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام حسن علیہ السلام سے کچھ مانگادست سوال درازہوناتھاکہ آپ نے پچاس ہزاردرہم اورپانچ سواشرفیاں دے دیں اورفرمایاکہ مزدورلاکراسے اٹھوالے جا اس کے بعدآپ نے مزدورکی مزدوری میں اپناچغابخش دیا(مراة الجنان ص ۱۲۳) ۔
ایک مرتبہ آپ نے ایک سائل کوخداسے دعاکرتے دیکھا خدایامجھ دس ہزاردرہم عطافرما آپ نے گھرپہنچ کرمطلوبہ رقم بھجوادی (نورالابصار ص ۱۲۲) ۔
آپ سے کسی نے پوچھاکہ آپ توفاقہ کرتے ہیں لیکن سائل کومحروم واپس نہیں فرماتے ارشادفرمایاکہ میں خداسے مانگنے والاہوں اس نے مجھے دینے کی عادت ڈال رکھی ہے اورمیں نے لوگوں کودینے کی عادت ڈالی رکھی ہے میں ڈرتاہوں کہ اگراپنی عادت بدل دوں ، توکہیں خدابھی نہ اپنی عادت بدل دے اورمجھے بھی محروم کردے (ص ۱۲۳) ۔
کتنے عنوان بعنوان حسن ملتے ہیں
امام شافعی کابیان ہے کہ کسی نے امام حسن سے عرض کی کہ ابوذرغفاری فرمایاکرتے تھے کہ مجھے تونگری سے زیادہ ناداری اورصحت سے زیادہ بیماری پسندہے آپ نے فرمایاکہ خداابوذرپررحم کرے ان کاکہنادرست ہے لیکن میں تویہ کہتاہوں کہ جوشخص خداکے قضاوقدرپرتوکل کرے وہ ہمیشہ اسی چیزکوپسند کرے گا جسے خدااس کے لیے پسندکرے (مراہ الجنان جلد ۱ ص ۱۲۵) ۔
امام حسن حلم اوراخلاق کے میدان میں
علامہ ابن شہرآشوب تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن علیہ السلام گھوڑے پرسوارکہیں تشریف لیے جارہے تھے راستہ میں معاویہ کے طرف داروں کاایک شامی سامنے آپڑا اس نے حضرت کوگالیاں دینی شروع کردیں آپ نے اس کامطلقا کوئی جواب نہ دیا جب وہ اپنی جیسی کرچکاتوآپ اس کے قریب گئے اوراس کوسلام کرکے فرمایاکہ بھائی شایدتومسافرہے ،سن اگرتجھے سواری کی ضرورت ہوتومیں تجھے سوری دیدوں، اگرتوبھوکاہے توکھاناکھلادوں ، اگرتجھے کپڑے درکارہوں توکپڑے دیدوں ،اگرتجھے رہنے کوجگہ چاہئے تو مکان کاانتظام کردوں، اگردولت کی ضرورت ہے توتجھے اتنا دیدوں کہ توخوش حال ہوجائے یہ سن کرشامی بے انتہاشرمندہ ہوااورکہنے لگا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ زمین خداپراس کے خلیفہ ہیں مولامیں توآپ کواورآپ کے باپ دادا کوسخت نفرت اورحقارت کی نظرسے دیکھتاتھا لیکن آج آپ کے اخلاق نے مجھے آپ کاگردیدہ بنادیا اب میں آپ کے قدموں سے دورنہ جاؤں گا اورتاحیات آپ کی خدمت میںرہوں گا (مناقب جلد ۴ ص ۵۳ ،وکامل مبروج جلد ۲ ص ۸۶) ۔
عہد امیرالمومنین میں امام حسن کی اسلامی خدمات
تواریخ میں ہے کہ جب حضرت علی علیہ السلام کوپچیس برس کی خانہ نشینی کے بعدمسلمانوں نے خلیفہ ظاہری کی حیثیت سے تسلیم کیااوراس کے بعدجمل، صفین،نہروان کی لڑائیاں ہوئیں توہرایک جہادمیں امام حسن علیہ السلام اپنے والدبزرگوارکے ساتھ ساتھ ہی نہیں رہے بلکہ بعض موقعوں پرجنگ میں آپ نے کارہائے نمایاں بھی کئے۔ سیرالصحابہ اورروضة الصفامیں ہے کہ جنگ صفین کے سلسلہ میں جب ابوموسی اشعری کی ریشہ دوانیاں عریاں ہوچکیں توامیرالمومنین نے امام حسن اورعماریاسرکوکوفہ روانہ فرمایاآپ نے جامع کوفہ میں ابوموسی کے افسون کواپنی تقریرکرتریاق سے بے اثربنادیا اورلوگوں کوحضرت علی کے ساتھ جنگ کے لیے جانے پرآمادہ کردیا۔ اخبارالطوال کی روایت کی بناپرنوہزارچھ سوپچاس افرادکالشکر تیارہوگیا۔
مورخین کابیان ہے کہ جنگ جمل کے بعدجب عائشہ مدینہ جانے پرآمادہ نہ ہوئیں توحضرت علی نے امام حسن کوبھیجاکہ انھیں سمجھاکر مدینہ روانہ کریں چنانچہ وہ اس سعی میں ممدوح کامیاب ہوگئے بعض تاریخوں میں ہے کہ امام حسن جنگ جمل وصفین میں علمدارلشکرتھے اورآپ نے معاہدہ تحکیم پردستخط بھی فرمائے تھے اورجنگ جمل وصفین اورنہروان میں بھی سعی بلیغ کی تھی۔
فوجی کاموں کے علاوہ آپ کے سپردسرکاری مہمان خانہ کاانتظام اورشاہی مہمانوں کی مدارات کاکام بھی تھا آپ مقدمات کے فیصلے بھی کرتے تھے اوربیت المال کی نگرانی بھی فرماتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔
حضرت علی کی شہادت اورامام حسن کی بیعت
مورخین کابیان ہے کہ امام حسن کے والدبزرگوارحضرت علی علیہ السلام کے سرمبارک پربمقام مسجدکوفہ ۱۸/ رمضان ۴۹ ہجری بوقت صبح امیرمعاویہ کی سازش سے عبدالرحمن ابن ملجم مرادی نے زہرمیں بجھی ہوئی تلوارلگائی جس کے صدمہ سے آپ نے ۲۱/ رمضان المبارک ۴۰ ہجری کوبوقت صبح شہادت پائی اس وقت امام حسن کی عمر ۳۷ سال چھ یوم کی تھی_
حق نمائی کا بھرا شہر اُجڑ جاتا ہے
حضرت علی کی تکفین وتدفین کے بعدعبداللہ ابن عباس کی تحریک سے بقول ابن اثیرقیس ابن سعد بن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اوران کے بعدتمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعدادچالیس ہزارتھی یہ واقعہ ۲۱/ رمضان ۴۰ ھ یوم جمعہ کاہے کفایة الاثر علامہ مجلسی میں ہے کہ اس وقت آپ نے ایک فصیح وبلیغ خطبہ پڑھا جس میں آپ نے فرمایاہے کہ ہم میں ہرایک یاتلوارکے گھاٹ اترے گایازہروغاسے شہیدہوگا اس کے بعدآپ نے عراق، ایران،خراسان،حجاز،یمن اوربصرہ وغیرہ کے اعمال کی طرف توجہ کی اورعبداللہ ابن عباس کوبصرہ کاحاکم مقررفرمایا۔ معاویہ کوجونہی یہ خبرپہنچی کی بصرہ کے حاکم ابن عباس مقررکردیئے گئے ہیں تواس نے دوجاسوس روانہ کیے ایک قبیلہ حمیرکاکوفہ کی طرف اوردوسراقبیلہ قین کابصرہ کی طرف، اس کامقصدیہ تھاکہ لوگ امام حسن سے منحرف ہوکرمیری طرف آجائیں لیکن وہ دونوں جاسوس گرفتارکرلیے گئے اوربعدمیں انہیں قتل کردیاگیا۔
حقیقت ہے کہ جب عنان حکومت امام حسن کے ہاتھوں میں آئی توزمانہ بڑاپرآشوب تھاحضرت علی جن کی شجاعت کی دھاک سارے عرب میں بیٹھی ہوئی تھے دنیاسے کوچ کرچکے تھے ان کی دفعہ شہادت نے سوئے ہوئے فتنوں کوبیدارکردیاتھا اورساری مملکت میں سازشوں کی کھیچڑی پک رہی تھی خودکوفہ میں اشعث ابن قیس ، عمربن حریث، شیث ابن ربعی وغیرہ کھلم کھلابرسرعناداورآمادہ فسادنظرآتے تھے ۔۔۔ معاویہ نے جابجاجاسوس مقررکردئیے تھے جومسلمانوں میں پھوٹ ڈلواتے تھے اورحضرت کے لشکرمیں اختلاف وتشتت وافتراق کابیچ بوتے تھے اس نے کوفہ کے بڑے بڑے سرداروں سے سازشی ملاقات کیں اوربڑی بڑی رشوتیں دے کرانہیں توڑلیا۔
بحارالانوارمیں علل الشرائع کے حوالہ سے منقول ہے کہ معاویہ نے عمربن حریث ، اشعث بن قیس، حجرابن الحجر، شبث ابن ربعی کے پاس علیحدہ علیحدہ یہ پیام بھیجاکہ جس طرح ہوسکے حسن ابن علی کوقتل کرادو،جومنچلایہ کام کرگزرے گااس کودولاکھ درہم نقدانعام دوں گا فوج کی سرداری عطاکروں گا اوراپنی کسی لڑکی سے اس کی شادی کردوں گا یہ انعام حاصل کرنے کے لےے لوگ شب وروزموقع کی تاک میں رہنے لگے حضرت کواطلاع ملی توآپ نے کپڑوں کے نیچے زرہ پہننی شروع کردی یہاں تک کہ نمازجماعت پڑھانے کے لیے باہرنکلتے توزرہ پہن کرنکلتے تھے_
معاویہ نے ایک طرف توخفیہ توڑجوڑکئے دوسری طرف ایک بڑالشکرعراق پرحملہ کرنے کے لیے بھیج دیا جب حملہ آورلشکرحدودعراق میں دورتک آگے بڑھ آیا توحضرت نے اپنے لشکرکوحرکت کرنے کاحکم دیاحجرابن عدی کوتھوڑی سی فوج کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے فرمایاآپ کے لشکرمیں بھیڑ بھاڑتوخاصی نظرآنے لگی تھی مگر سردارجوسپاہیوں کولڑاتے ہیں کچھ تومعاویہ کے ہاتھ بک چکے تھے کچھ عافیت کوشی میں مصروف تھے حضرت علی کی شہادت نے دوستوں کے حوصلے پست کردئیے تھے اوردشمنوں کوجرائت وہمت دلادی تھی۔
مورخین کابیان ہے کہ معاویہ ۶۰ ہزارکی فوج لے کرمقام مسکن میں جااترا جوبغدادسے دس فرسخ تکریت کی ”جانب اوانا“ کے قریب واقع ہے امام حسن علیہ السلام کوجب معاویہ کی پیشقدمی کاعلم ہواتوآپ نے بھی ایک بڑے لشکرکے ساتھ کوچ کردیااورکوفہ سے ساباط میں جاپہنچے اور ۱۲ ہزارکی فوج قیس ابن سعد کی ماتحتی میں معاویہ کی پیش قدمی روکنے کے لیے روانہ کردی پھرساباط سے روانہ ہوتے وقت آپ نے ایک خطبہ پڑھا ،جس میں آپ نے فرمایاکہ
”لوگوں ! تم نے اس شرط پرمجھ سے بیعت کی ہے کہ صلح اورجنگ دونوں حالتوں میں میراساتھ دوگے“ میں خداکی قسم کھاکرکہتاہوں کہ مجھے کسی شخص سے بغض وعداوت نہیں ہے میرے دل میں کسی کوستانے کاخیال نہیں میں صلح کوجنگ سے اورمحبت کوعداوت سے کہیں بہترسمجھتاہوں۔“
لوگوں نے حضرت کے اس خطاب کامطلب یہ سمجھاکہ حضرت امام حسن، امیرمعاویہ سے صلح کرنے کی طرف مائل ہیں اورخلافت سے دستبرداری کاارادہ دل میں رکھتے ہیں اسی دوران میں معاویہ نے امام حسن کے لشکرکی کثرت سے متاثرہوکریہ مشورہ عمروعاص کچھ لوگوں کوامام حسن کے لشکروالے سازشیوں نے قیس کے لشکرمیں بھیج کرایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈاکرادیا۔ امام حسن کے لشکروالے سازشیوں نے قیس کے متعلق یہ شہرت دینی شروع کی کہ اس نے معاویہ سے صلح کرلی ہے اورقیس بن سعدکے لشکرمیں جوسازشی گھسے ہوئے تھے انہوں نے تمام لشکریوں میں یہ چرچاکردیاکہ امام حسن نے معاویہ سے صلح کرلی ہے۔
اس عدوات نے دِکھائے ہیں بہتر فرقے
امام حسن کے دونوں لشکروں میں اس غلط افواہ کے پھیل جانے سے بغاوت اوربدگمانی کے جذبات ابھرنکلے امام حسن کے لشکر کاوہ عنصرجسے پہلے ہی سے شبہ تھاکہ یہ مائل بہ صلح ہیں کہ کہنے لگا کہ امام حسن بھی اپنے باپ حضرت علی کی طرح کافرہوگئے ہیں بالآخرفوجی آپ کے خیمہ پرٹوٹ پڑے آپ کاکل اسباب لوٹ لیاآپ کے نیچے سے مصلی تک گھسیٹ لیا،دوش مبارک پرسے ردابھی اتارلی اوربعض نمایاں قسم کے افرادنے امام حسن کومعاویہ کے حوالے کردینے کاپلان تیارکیا،آخرکارآپ ان بدبختیوں سے مایوس ہوکرمدائن کے گورنر،سعدیاسعیدکی طرف روانہ ہوگئے ، راستہ میں ایک خارجی نے جس کانام بروایت الاخبارالطوال ص ۳۹۳ ” جراح بن قیصہ“تھا آپ کی ران پرکمین گاہ سے ایک ایساخنجرلگایاجس نے ہڈی تک محفوظ نہ رہنے دیاآپ نے مدائن میں مقیم رہ کرعلاج کرایا اوراچھے ہوگئے (تاریخ کامل جلد ۳ ص ۱۶۱ ،تاریخ آئمہ ص ۳۳۳ فتح باری)۔
معاویہ نے موقع غنیمت جان کر ۲۰ ہزارکالشکرعبداللہ ابن عامرکی قیادت وماتحتی میں مدائن بھیج دیاامام حسن اس سے لڑنے کے لیے نکلنے ہی والے تھے کہ اس نے عام شہرت کردی کہ معاویہ بہت بڑالشکرلیے ہوئے آرہاہے میں امام حسن اوران کے لشکرسے درخواست کرتاہوں کہ مفت میں اپنی جان نہ دین اورصلح کرلیں۔
اس دعوت صلح اورپیغام خوف سے لوگوں کے دل بیٹھ گئے ہمتیں پست ہوگئیں اورامام حسن کی فوج بھاگنے کے لیے راستہ ڈھونڈنے لگی۔
صُلح کر لیجئے اسلام پہ احسان ہو گا خواہش غریب شام
مورخ معاصرعلامہ علی نقی لکھتے ہیں کہ امیرشام کوحضرت امام حسن علیہ السلام کی فوج کی حالت اورلوگوں کی بے وفائی کاحال معلوم ہوچکاتھااس لیے وہ سمجھتے تھے کہ امام حسن کے لیے جنگ ممکن نہیں ہے مکراس کے ساتھ وہ بھی یقین رکھتے تھے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام کتنے ہی بے بس اوربے کس ہوں، مگرعلی وفاطمہ کے بیٹے اورپیغمبرکے نواسے ہیں اس لیے وہ ایسے شرائط پرہرگزصلح نہ کریں گے جوحق پرستی کے خلاف ہوں اورجن سے باطل کی حمایت ہوتی ہو، اس کونظرمیں رکھتے ہوئے انہوں نے ایک طرف توآپ کے ساتھیوں کوعبداللہ بن عامرکے ذریعہ پیغام دلوایاکہ اپنی جان کے پیچھے نہ پڑو، اورخون ریزی نہ ہونے دو۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کورشوتیں بھی دی گئیں اورکچھ بزدلوں کواپنی تعدادکی زیادتی سے خوف زدہ کیاگیااوردوسری طرف حضرت امام حسن علیہ السلام کے پاس پیغام بھیجاکہ آپ جن شرائط پرکہیں انہیں شرائط پرصلح کے لیے تیارہوں۔
امام حسن یقینا اپنے ساتھیوں کی غداری کودیکھتے ہوئے جنگ کرنامناسب نہ سجھتے تھے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ ضرورپیش نظرتھاکہ ایسی صورت پیداہوکہ باطل کی تقویت کادھبہ میرے دامن پرنہ آنے پائے، اس گھرانے کوحکومت واقتدارکی ہوس توکبھی تھی ہی نہیں انھیں تومطلب اس سے تھا کہ مخلوق خداکی بہتری ہواورحدودوحقوق الہی کااجراہو،اب معاویہ نے جوآپ سے منہ مانگے شرائط پرصلح کرنے کے لیے آمادگی ظاہرکی تواب مصالحت سے انکارکرنا شخصی اقتدارکی خواہش کے علاوہ اورکچھ نہیں قرارپاسکتاتھا اوریہ معاویہ صلح کی شرائط پرعمل نہ کریں گے ،بعدکی بات تھی جب تک صلح نہ ہوتی یہ انجام سامنے آکہاں سکتاتھا اورحجت تمام کیونکر ہوسکتی تھی پھربھی آخری جواب دینے سے قبل آپ نے ساتھ والوں کوجمع کرلیا اورتقریرفرمائی
آگاہ رہوکہ تم میں وہ خون ریزلڑائیاں ہوچکی ہیں جن میں بہت لوگ قتل ہوئے کچھ مقتول صفین میں ہوئے جن کے لیے آج تک رورہے ہواورکچھ مقتول نہروان کے جن کامعاوضہ طلب کررہے ہو، اب اکرتم موت پرراضی ہوتوہم اس پیغام صلح کوقبول نہ کریں اوران سے اللہ کے بھروسہ پرتلواروں سے فیصلہ کریں اوراگرزندگی کوعزیز رکھتے ہوتوہم اس کوقبول کرلیں اورتمہاری مرضی پرعمل کریں۔
جواب میں لوگوں نے ہرطرف سے پکارناشروع کیاہم زندگی چاہتے ہیں ہم زندگی چاہتے ہیں آپ صلح کرلیجیے ،اسی کانتیجہ تھاکہ آپ نے صلح کی شرائط مرتب کرکے معاویہ کے پاس روانہ کئے (ترجمہ ابن خلدون)۔
چشم امت کو نظر آگئے آثار حیات
اس صلح نامہ کے مکمل شرائط حسب ذیل ہیں:
۱ ۔ معاویہ حکومت اسلام میں ،کتاب خدااورسنت رسول پرعمل کریں گے۔
۲ ۔ معاویہ کواپنے بعدکسی کوخلیفہ نامزد کرنے کاحق نہ ہوگا۔
۳ ۔ شام وعراق وحجازویمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی۔
۴ ۔ حضرت علی کے اصحاب اورشیعہ جہاں بھی ہیں ان کے جان ومال اورناموس اوراولاد محفوظ رہیں گے۔
۵ ۔ معاویہ،حسن بن علی اوران کے بھائی حسین ابن علی اورخاندان رسول میں سے کسی کوبھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کریں گے نہ خفیہ طورپراورنہ اعلانیہ ،اوران میں سے کسی کوکسی جگہ دھمکایااورڈرایانہیں جائے گا۔
۶ ۔ جناب امیرالمومنین کی شان میں کلمات نازیباجواب تک مسجدجامع اورقنوت نمازمیں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کردئیے جائیں، آخری شرط کی منظوری میں معاویہ کوعذرہوا تویہ طے پایاکہ کم ازکم جس موقع پرامام حسن علیہ السلام موجودہوں اس جگہ ایسانہ کیاجائے ،یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول ۴۱ ء ہجری کوعمل میں آیا۔
الغرض صُلح حسنؑ ہو گئی معمار حیات
۲۵/ ربیع الاول کوکوفہ کے قریب مقام انبارمیں فریقین کااجتماع ہوا اورصلح نامہ پردونوں کے دستخط ہوئے اورگواہیاں ثبت ہوئیں (نہایة الارب فی معرفتہ انساب العرب ص ۸۰)
اس کے بعد معاویہ نے اپنے لیے عام بیعت کااعلان کردیااوراس سال کانام سنت الجماعت رکھا پھرامام حسن کوخطبہ دینے پرمجبورکیا آپ منبرپرتشریف لے گئے اورارشاد فرمایا:
”ائے لوگوں خدائے تعالی نے ہم میں سے اول کے ذریعہ سے تمہاری ہدایت کی اورآخرکے ذریعہ سے تمہیں خونریزی سے بچایا معاویہ نے اس امرمیں مجھ سے جھگڑاکیاجس کامیں اس سے زیادہ مستحق ہوں لیکن میں نے لوگوں کی خونریزی کی نسبت اس امرکوترک کردینابہترسمجھا تم رنج وملال نہ کروکہ میں نے حکومت اس کے نااہل کودے دی اوراس کے حق کوجائے ناحق پررکھا، میری نیت اس معاملہ میں صرف امت کی بھلائی ہے یہاں تک فرمانے پائے تھے کہ معاویہ نے کہا”بس ائے حضرت زیادہ فرمانے کی ضرورت نہیں ہے“ (تاریخ خمیس جلد ۲ ص ۳۲۵) ۔
تکمیل صلح کے بعدامام حسن نے صبرواستقلال اورنفس کی بلندی کے ساتھ ان تمام ناخوشگوارحالات کوبرداشت کیا اورمعاہدہ پرسختی کے ساتھ قائم رہے مگر ادھر یہ ہواکہ امیرشام نے جنگ کے ختم ہوتے ہی اورسیاسی اقتدارکے مضبوط ہوتے ہی عراق میں داخل ہوکرنخیلہ میں جسے کوفہ کی سرحد سمجھنا چاہئے ،قیام کیا اورجمعہ کے خطبہ کے بعداعلان کیاکہ میرامقصد جنگ سے یہ نہ تھا کہ تم لوگ نمازپڑھنے لگو روزے رکھنے لگو ،حج کرویازکواة اداکرو، یہ سب توتم کرتے ہی ہومیرامقصد تویہ تھاکہ میری حکومت تم پرمسلم ہوجائے اوریہ مقصدمیراحسن کے اس معاہدہ کے بعدپوراہوگیا اورباوجودتم لوگوں کی ناگواری کے میں کامیاب ہوگیا رہ گئے وہ شرائط جومیں نے حسن کے ساتھ کئے ہیں وہ سب میرے پیروں کے نیچےہیں ان کاپوراکرنا یانہ کرنا میرے ہاتھ کی بات ہے یہ سن کرمجمع میں ایک سناٹاچھاگیا مگراب کس میں دم تھا کہ اس کے خلاف زبان کھولتا۔
سامنے پھرتا ہے آسیب اجل کون لڑے
مورخین کااتفاق ہے کہ امیرمعاویہ جومیدان سیاست کے کھلاڑی اورمکروزور کی سلطنت کے تاجدارتھے امام حسن سے وعدہ اورمعاہدہ کے بعد ہی سب سے مکر گئے ”ولم یف لہ معاویہ لشئی مماعاہد علیہ“ تاریخ کامل ابن اثیرجلد ۳ ص ۱۶۲ میں ہے کہ معاویہ نے کسی ایک چیزکی بھی پرواہ نہ کی اورکسی پرعمل نہ کیا ، امام ابوالحسن علی بن محمدلکھتے ہیں کہ جب معاویہ کے لیے امرسلطنت استوراہوگیاتواس نے اپنے حاکموں کوجومختلف شہروں اورعلاقوں میں تھے یہ فرمان بھیجاکہ اگرکوئی شخص ابوتراب اوراس کے اہل بیت کی فضیلت کی روایت کرے گاتومیں اس سے بری الذمہ ہوں ، جب یہ خبرتمام ملکوں میں پھیل گئی اورلوگوں کومعاویہ کامنشاء معلوم ہوگیاتوتمام خطیبوں نے منبروں پرسب وشتم اورمنقصت امیرالمومنین پرخطبہ دیناشروع کردیاکوفہ میں زیادابن ابیہ جوکئی برس تک حضرت علی علیہ السلام کے عہدمیں ان کے عمال میں رہ چکاتھا وہ شیعیان علی کواچھی طرح سے جانتاتھا ۔ مردوں،عورتوں، جوانوں، اوربوڑھوں سے اچھی طرح آگاہ تھا اسے ہرایک رہائش اورکونوں اورگوشوں میں بسنے والوں کاپتہ تھا اسے کوفہ اوربصرہ دونوں کاگورنربنادیاگیاتھا۔
اس کے ظلم کی یہ حالت تھی کہ شیعیان علی کوقتل کرتااوربعضوں کی آنکھوں کوپھوڑدیتا اوربعضوں کے ہاتھ پاؤں کٹوادیتاتھا اس ظلم عظیم سے سینکڑوں تباہ ہوگئے، ہزاروں جنگلوں اورپہاڑوں میں جاچھپے، بصرہ میں آٹھ ہزارآدمیوں کاقتل واقع ہواجن میں بیالیس حافظ اورقاری قرآن تھے ان پرمحبت علی کاجرم عاید کیاگیا تھا حکم یہ تھا کہ علی کے بجائے عثمان کے فضائل بیان کئے جائیں اورعلی کے فضائل کے متعلق یہ فرمات تھاکہ ایک ایک فضیلت کے عوض دس دس منقصت ومذمت تصنیف کی جائیں یہ سب کچھ امیرالمومنین سے بدلالینے اوریزیدکے لیے زمین خلافت ہموارکرنے کی خاطرتھا۔
ایسے قائد کو زمانے سے فقط درد ملے
صلح کے مراحل طے ہونے کے بعد امام حسن علیہ السلام اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام اورعبداللہ ابن جعفراوراپنے اطفال وعیال کولے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے تاریخ اسلام مسٹرذاکرحسین کی جلد ۱ ص ۳۴ میں ہے کہ جب آپ کوفہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تومعاویہ نے راستہ میں ایک پیغام بھیجااوروہ یہ تھا کہ آپ خوارج سے جنگ کرنے کے لیے تیارہوجائیں کیونکہ انہوں نے میری بیعت ہوتے ہی پھرسرنکالاہے امام حسن نے جواب دیا کہ اگر خونریزی مقصودہوتی تومیں تجھ سے صلح کیوں کرتا۔
جسٹس امیرعلی اپنی تاریخ اسلام میں لکھتے ہیں کہ خوارج حضرت ابوبکراورحضرت عمرکومانتے اورحضرت علی علیہ السلام اورعثمان غنی کونہیں تسلیم کرتے تھے اوربنی امیہ کومرتد کہتے تھے۔
جس کو غالب کرئے اللہ وہی غالب ہے
استاذی العلام حضرت علامہ سیدعدیل اختراعلی اللہ مقامہ (سابق پرنسپل مدرسہ الواعظین لکھنؤ) اپنی کتاب تسکین الفتن فی صلح الحسن کے ص ۱۵۸ میں تحریر فرماتے ہیں :
امام حسن کی پالیسی بلکہ جیساکہ باربارلکھاجاچکاہے کل اہلبیت کی پالیسی ایک اورصرف ایک تھی (دراسات اللبیب ص ۲۴۹) ۔وہ یہ کہ حکم خدااورحکم رسول کی پابندی انہیں کے احکام کااجراء چاہئے ،اس مطلب کے لیے جوبرداشت کرناپڑے ،مذکورہ بالاحالات میں امام حسن کے لیے سوائے صلح کیاچارہ ہوسکتاتھا اس کوخودصاحبان عقل سمجھ سکتے ہیں کسی استدلال کی چنداں ضرورت نہیں ہے یہاں پرعلامہ ابن اثیرکی یہ عبارت (جس کاترجمہ درج کیاجاتاہے) قابل غورہے:
”کہاگیاہے کہ امام حسن نے حکومت معاویہ کواس لیے سپردکی کہ جب معاویہ نے خلافت حوالے کرنے کے متعلق آپ کوخط لکھااس وقت آپنے خطبہ پڑھا اورخداکی حمدوثناکے بعدفرمایاکہ دیکھوہم کوشام والوں سے اس لیے نہیں دبناپڑرہاہے (کہ اپنی حقیقت میں) ہم کوکوئی شک یاندامت ہے بات توفقط یہ ہے کہ ہم اہل شام سے سلامت اورصبرکے ساتھ لڑرہے تھے مگراب سلامت میں عداوت اورصبرمیں فریاد مخلوط کردی گئی ہے جب تم لوگ صفین کوجارہے تھے اس وقت تمہارادین تمہاری دنیاپرمقدم تھا لیکن اب تم ایسے ہوگئے ہوکہ آج تمہاری دنیاتمہارے دین پرمقدم ہوگئی ہے اس وقت تمہارے دونوں طرف دوقسم کے مقتول ہیں ایک صفین کے مقتول جن پررورہے ہودوسرے نہروان کے مقتول جن کے خون کابدلہ لیناچاہ رہے ہوخلاصہ یہ کہ جوباقی ہے وہ ساتھ چھوڑنے والاہے اورجورورہاہے وہ توبدلہ لیناہی چاہتاہے خوب سمجھ لوکہ معاویہ نے ہم کوجس امرکی دعوت دی ہے نہ اس میں عزت ہے اورنہ انصاف ، لہذا اگرتم لوگ موت پرآمادہ ہوتوہم اس کی دعوت کوردکردیں اورہمارااوراس کافیصلہ خداکے نزدیک بھی تلوارکی باڑھ سے ہوجائے اوراگرتم زندگی چاہتے ہوتوجواس نے لکھاہے مان لیاجائے اورجوتمہاری مرضی ہے ویساہوجائے، یہ سنناتھا کہ ہرطرف سے لوگوں نے چلاناشروع کردیابقابقا، صلح صلح، (تاریخ کامل جلد ۳ ص ۱۶۲) ۔
ناظرین انصاف فرمائیں کہ کیااب بھی امام حسن کے لیے یہ رائے ہے کہ صلح نہ کریں ان فوجیوں کے بل بوتے پر(اگرایسوں کہ فوج اوران کی قوتوں کوبل بوتا کہاجاسکے) لڑائی زیباہے ہرگزنہیں ایسے حالات میں صرف یہی چارہ تھاکہ صلح کرکے اپنی اوران تمام لوگوں کی زندگی تومحفوظ رکھیں جودین رسول کے نام لیوا اورحقیقی پیروپابندتھے ،اس کے علاوہ پیغمبراسلام کی پیشین گوئی بھی صلح کی راہ میں مشعل کاکام کررہی تھی (بخاری) علامہ محمدباقرلکھتے ہیں کہ حضرت کواگرچہ کی وفائے صلح پراعتماد نہیںتھالیکن آپ نے حالات کے پیش نظرچاروناچاردعوت صلح منظورکرلی (دمعئہ ساکبہ)۔
زہر پلوادیا توحید کے پروانے کو
مورخین کااتفاق ہے کہ امام حسن اگرچہ صلح کے بعد مدینہ میں گوشہ نیشین ہوگئے تھے ،لیکن امیرمعاویہ آپ کے درپئے آزاررہے انہوں نے باربار کوشش کی کسی طرح امام حسن اس دارفانی سے ملک جاودانی کوروانہ ہوجائیں اوراس سے ان کامقصدیزیدکی خلافت کے لیے زمین ہموارکرناتھی ،چنانچہ انہوں نے ۵/ بارآپ کوزہردلوایا ،لیکن ایام حیات باقی تھے زندگی ختم نہ ہوسکی ،بالاخرہ شاہ روم سے ایک زبردست قسم کازہرمنگواکرمحمدابن اشعث یامروان کے ذریعہ سے جعدہ بنت اشعث کے پاس امیرمعاویہ نے بھیجا اورکہلادیاکہ جب امام حسن شہدہوجائیں گے تب ہم تجھے ایک لاکھ درہم دیں گے اورتیراعقد اپنے بیٹے یزید کے ساتھ کردیں گے چنانچہ اس نے امام حسن کوزہردے کرے ہلاک کردیا،(تاریخ مروج الذہب مسعودی جلد ۲ ص ۳۰۳ ،مقاتل الطالبین ص ۵۱ ، ابوالفداء ج ۱ ص ۱۸۳ ،روضةالصفاج ۳ ص ۷ ، حبیب السیرجلد ۲ ص ۱۸ ،طبری ص ۶۰۴ ،استیعاب جلد ۱ ص ۱۴۴) ۔
مفسرقرآن صاحب تفسیرحسینی علامہ حسین واعظ کاشفی رقمطرازہیں کہ امام حسن مصالحہ معاویہ کے بعدمدینہ میں مستقل طورپرفروکش ہوگئے تھے آپ کواطلاع ملی کہ بصرہ میں رہنے والے محبان علی کے اوپرچنداوباشوں نے شبخون مارکران کے ۳۸ آدمی ہلاک کردئیے ہیں امام حسن اس خبرسے متاثرہوکربصرہ کے لیے روانہ ہوگئے آپ کے ہمراہ عبداللہ ابن عباس بھی تھے ،راستے میں بمقام موصلی سعدموصلی جوجناب مختارابن ابی عبیدہ ثقفی کے چچاتھے کے وہاں قیام فرمایا اس کے بعدوہاں سے روانہ ہوکردمشق سے واپسی پرجب آپ موصل پہنچے توباصرارشدیدایک دوسرے شخص کے ہاں مقیم ہوئے اوروہ شخص معاویہ کے فریب میں آچکاتھا اورمال ودولت کی وجہ سے امام حسن کوزہردینے کاوعدہ کرچکاتھا چنانچہ دوران قیام میں اس نے تین بارحضرت کوکھانے میں زہردیا، لیکن آپ بچ گئے ۔
امام کے محفوظ رہ جانے سے اس شخص نے معاویہ کوخط لکھا کہ تین بارزہردیے چکاہوں مگر امام حسن ہلاک نہیں ہوئے یہ معلوم کرکے معاویہ نے زہرہلاہل ارسال کیا اورلکھاکہ اگراس کاایک قطرہ بھی تودے سکاتویقینا امام حسن ہلاک ہوجائیں گے نامہ برزہراورخط لیے ہوئے آرہاتھا کہ راستے میں ایک درخت کے نیچے کھاناکھاکرلیٹ گیا ،اس کے پیٹ میں درداٹھا کہ وہ برداشت نہ کرسکاناگاہ ایک بھیڑیابرامد ہوا اوراسے لے کر رفوچکرہوگیا ،اتفاقا امام حسن کے ایک ماننے والے کااس طرف سے گزرہوا،اس نے ناقہ، اورزہر سے بھرہوئی بوتل حاصل کرلی اورامام حسن کی خدمت میںپیش کیا،امام علیہ السلام نے اسے ملاحظہ فرماکرجانمازکے نیچے رکھ لیاحاضرین نے واقعہ دریافت کیاامام نے نہ بتایا۔
سعدموصلی نے موقع پاکرجانمازکے نیچے سے وہ خط نکال لیاجومعاویہ کی طرف سے امام کے میزبان کے نام سے بھیجاگیاتھا خط پڑھ کر سعدموصلی آگ بگولہ ہوگئے اورمیزبان سے پوچھاکیامعاملہ ہے، اس نے لاعلمی ظاہرکی مگراس کے عذرکوباورنہ کیاگیا اوراس کی زدوکوب کی گئی یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا اس کے بعدآپ روانہ مدینہ ہوگئے۔
مدینہ میں اس وقت مروان بن حکم والی تھا اسے معاویہ کاحکم تھاکہ جس صورت سے ہوسکے امام حسن کوہلاک کردو مروان نے ایک رومی دلالہ جس کانام ”الیسونیہ“ تھا کوطلب کیااوراس سے کہا کہ توجعدہ بنت اشعث کے پاس جاکراسے میرایہ پیغام پہنچادے کہ اگرتوامام حسن کوکسی صورت سے شہید کردے گی توتجھے معاویہ ایک ہزاردینارسرخ اورپچاس خلعت مصری عطاکرے گا اوراپنے بیٹے یزیدکے ساتھ تیراعقدکردے گا اوراس کے ساتھ ساتھ سودینانقد بھیج دئیے دلالہ نے وعدہ کیااورجعدہ کے پاس جاکراس سے وعدہ لے لیا،امام حسن اس وقت گھرمیں نہ تھے اوربمقام عقیق گئے ہوئے تھے اس لیے دلالہ کوبات چیت کااچھاخاصاموقع مل گیا اوروہ جعدہ کوراضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔
الغرض مروان نے زہربھیجااورجعدہ نے امام حسن کوشہدمیں ملاکر دیدیا امام علیہ السلام نے اسے کھاتے ہی بیمارہوگیے اورفوراروضہ رسول پرجاکر صحت یاب ہوئے زہرتوآپ نے کھالیا لیکن جعدہ سے بدگمان بھی ہوگئے ،آپ کوشبہ ہوگیا جس کی بناپرآپ نے اس کے ہاتھ کاکھاناپیناچھوڑدیااوریہ معمول مقررکرلیاکہ حضرت قاسم کی ماں یاحضرت امام حسین کے گھرسے کھانامنگاکرکھانے لگے ۔
حشر ہو جائے وہ انجام نظر آتا ہے
تھوڑے عرصہ کے بعد آپ جعدہ کے گھرتشر یف لے گئے اس نے کہاکہ مولا حوالی مدینہ سے بہت عمدہ خرمے آئے ہیں حکم ہوتوحاضرکروں آپ چونکہ خرمے کوبہت پسندکرتے تھے فرمایالے آ،وہ زہرآلودخرمے لے کرآئی اورپہچانے ہوئے دانے چھوڑکرخودساتھ کھانے لگی امام نے ایک طرف سے کھانا شروع کیا اوروہ دانے کھاگئے جن میں زہرتھا اس کے بعدامام حسین کے گھرتشریف لائے اورساری رات تڑپ کربسرکی ،صبح کوروضہ رسول پرجاکردعامانگی اورصحت یاب ہوئے۔
کام آئے جو مصیبت میں یہ وہ دولت ہے
امام حسن نے بارباراس قسم کی تکلیف اٹھانے کے بعداپنے بھائیوں سے تبدیلی آب وہواکے لیے موصل جانے کامشورہ کیااورموصل کے لیے روانہ ہوگئے ،آپ کے ہمراہ حضرت عباس اورچند ہواخواہان بھی گئے، ابھی وہاں چندیوم نہ گزرے تھے کہ شام سے ایک نابینا بھیج دیاگیا اوراسے ایک ایسا عصادیاگیاجس کے نیچے لوہالگایاہواتھا جوزہرمیں بجھاہواتھا اس نابینا نے موصل پہنچ کر امام حسن کے دوستداران میں سے اپنے کوظاہرکیا اورموقع پاکر ان کے پیرمیں اپنے عصاکی نوک چبھودی زہرجسم میں دوڑگیااورآپ علیل ہوگئے ،جراح علاج کے لیے بلایاگیا،اس نے علاج شروع کیا، نابینا زخم لگاکر روپوش ہوگیاتھا ،چودہ دن کے بعدجب پندرہویں دن وہ نکل کرشام کی طرف روانہ ہواتوحضرت عباس علمدارکی اس پرنظرجاپڑی آپ نے اس سے عصاچھین کراس کے سرپراس زورسے ماراکہ سرشگافتہ ہوگیااوروہ اپنے کیفروکردارکوپہنچ گیا ۔
اس کے بعدجناب مختاراوران کے چچا سعدموصلی نے اس کی لاش جلادی چنددنوں کے بعدحضرت امام حسن مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔
مدینہ منورمیں آپ ایام حیات گزاررہے تھے کہ ”ایسونیہ“ دلالہ نے پھرباشارئہ مروان جعدہ سے سلسلہ جنبائی شروع کردی اورزہرہلاہل اسے دے کرامام حسن کاکام تمام کرنے کی خواہش کی،امام حسن چونکہ اس سے بدگمان ہوچکے تھے اس لےے اس کی آمدورفت بندتھی اس نے ہرچندکوشش کی لیکن موقع نہ پاسکی بالآخر،شب بست وہشتم صفر ۵۰ کووہ اس جگہ جاپہنچی جس مقام پرامام حسن سورہے تھے آپ کے قریب حضرت زینب وام کلثوم سورہی تھیں اورآپ کی پائیتی کنیزیں محوخواب تھیں ،جعدہ اس پانی میں زہرہلاہل ملاکرخاموشی سے واپس آئی جوامام حسن کے سرہانے رکھاہواتھا اس کی واپسی کے تھوڑی دیربعدہی امام حسن کی آنکھ کھلی آپ نے جناب زینب کوآوازدی اورکہا ائے بہن ،میں نے ابھی ابھی اپنے نانااپنے پدربزرگواراوراپنی مادرگرامی کوخواب میں دیکھاہے وہ فرماتے تھے کہ اے حسن تم کل رات ہمارے پاس ہوگے، اس کے بعدآپ نے وضوکے لیے پانی مانگااورخوداپناہاتھ بڑھاکرسرہانے سے پانی لیا اورپی کرفرمایاکہ اے بہن زینب ”این چہ آپ بودکہ ازسرحلقم تابناقم پارہ پارہ شد“ ہائے یہ کیساپانی ہے جس نے میرے حلق سے ناف تک ٹکڑے ٹکڑے کردیاہے اس کے بعدامام حسین کواطلاع دی گئی وہ آئے دونوں بھائی بغل گیرہوکرمحوگریہ ہوگئے ،اس کے بعدامام حسین نے چاہاکہ ایک کوزہ پانی خودپی کرامام حسن کے ساتھ ناناکے پاس پہنچیں ،امام حسن نے پانی کے برتن کوزمین پرپٹک دیاوہ چورچورہوگیاراوی کابیان ہے کہ جس زمین پرپانی گراتھا وہ ابلنے لگی تھی ۔
طشت میں فاطمہؑ زہرا کا کلیجہ دیکھے
الغرض تھوڑی دیرکے بعد امام حسن کوخون کی قے آنے لگی آپ کے جگرکے سترٹکڑے طشت میں آگئے آپ زمین پرتڑپنے لگے، جب دن چڑھاتوآپ نے امام حسین سے پوچھاکہ میرے چہرے کارنگ کیساہے ”سبز“ ہے آپ نے فرمایاکہ حدیث معراج کایہی مقتضی ہے ،لوگوں نے پوچھاکہ مولاحدیث معراج کیاہے فرمایاکہ شب معراج میرے نانا نے آسمان پردوقصرایک زمردکا،ایک یاقوت سرخ کادیکھاتوپوچھاکہ ائے جبرئیل یہ دونوں قصرکس کے لیے ہیں ، انہوں نے عرض کی ایک حسن کے لیے اوردوسرا حسین کے لیے پوچھادونوں کے رنگ میں فرق کیوں ہے؟ کہاحسن ؑزہرسے شہیدہوں گے اورحسینؑ تلوارسے شہادت پائیں گے یہ کہہ کرآپ سے لپٹ گئے اوردونوں بھائی رونے لگے اورآپ کے ساتھ درودیواربھی رونے لگے۔
بھائی رخصت ہوا تابوت اُٹھاتے ہیں حُسینؑ
اس کے بعدآپ نے جعدہ سے کہاافسوس تونے بڑی بے وفائی کی ،لیکن یادرکھ کہ تونے جس مقصد کے لیے ایساکیاہے اس میں کامیاب نہ ہوگی اس کے بعد آپ نے امام حسین اوربہنوں سے کچھ وصیتیں کیں اورآنکھیں بندفرمالیں پھرتھوڑی دیرکے بعدآنکھ کھول کرفرمایاائے حسین میرے بال بچے تمہارے سپرد ہیں پھربندفرماکرناناکی خدمیں پہنچ گئے ”اناللہ واناالیہ راجعون“ ۔
امام حسن کی شہادت کے فورا بعدمروان نے جعدہ کواپنے پاس بلاکردوعورتوں اورایک مرد کے ساتھ معاویہ کے پاس بھیج دیامعاویہ نے اسے ہاتھ پاؤں بندھواکردریائے نیل میں یہ کہہ کرڈلوادیاکہ تونے جب امام حسن کے ساتھ وفا نہ کی، تویزیدکے ساتھ کیاوفاکرے گی(روضہ الشہداء ص ۲۲۰ تا ۲۳۵ طبع بمبئی ۱۲۸۵ ءء وذکرالعباس ص ۵۰ طبع لاہور ۱۹۵۶ ءء۔
اس مسافر کو بھی اِے کاش وطن مل جائے
الغرض امام حسن کی شہادت کے بعدامام حسین نے غسل وکفن کاانتظام فرمایااورنمازجنازہ پڑھی گئی امام حسن کی وصیت کے مطابق انہیں سرورکائنات کے پہلومیں دفن کرنے کے لیے اپنے کندھوں پراٹھاکر لے چلے ابھی پہنچے ہی تھے کہ بنی امیہ خصوصامروان وغیرہ نے آگے بڑھ کر پہلوئے رسول میں دفن ہونے سے روکااورحضرت عایشہ بھی ایک خچرپرسوارہوکر آپہنچیں ،اورکہنے لگیں یہ گھیرمیراہے میں توہرگزحسن کواپنے گھرمیں دفن نہ ہونے دوں گی (تاریخ ابوالفداء جلد ۱ ص ۱۸۳ ،روضہ المناظرجلد ۱۱ ص ۱۳۳ ،یہ سن کربعض لوگوں نے کہااے عائشہ تمہاراکیاحال ہے کبھی اونٹ پرسوارہوکردامادرسول سے جنگ کرتی ہو کبھی خچرپرسوارہوکر فرزندرسول کے دفن میں مزاحمت کرتی ہوتمہیں ایسانہیں کرناچاہئے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوذکرالعباس ص ۵۱) ۔
مگروہ ایک نہ مانیں اورضدپراڑی رہیں ،یہاں تک کہ بات بڑھ گئی ،آپ کے ہواخواہوں نے آل محمدپرتیربرسائے ۔
کتاب روضہ الصفا جلد ۳ ص ۷ میں ہے کہ کئی تیرتابوت میں پیوست ہوگئے ۔
کتاب ذکرالعباس ص ۵۱ میں ہے کہ تابوت میں سترتیرپیوست ہوئے تھے۔
(تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۲۸ میں ہے کہ ناچارنعش مبارک کوجنت البقیع میں لاکردفن کردیاگیا۔ تاریخ کامل جلد ۳ ص ۱۸۲ میں ہے کہ شہادت کے وقت آپ کی عمر ۴۷ سال کی تھی۔
آپ کی ازواج اوراولاد
آپ نے مختلف اوقات میں ۹ بیویاں کیں ، آپ کی اولادمیں ۸ بیٹے اور ۷ بیٹیاں تھیں ،یہی تعدادارشادمفید ص ۲۰۸ ،نورالابصارص ۱۱۲ طبع مصرمیں ہے ۔
علامہ طلحہ شافعی مطالب السؤل کے ص ۲۳۹ پرلکھتے ہیں کہ امام حسن کی نسل زیداورحسن مثنی سے چلی ہے امام شبلنجی کاکہناہے کہ آپ کے تین فرزند، عبداللہ ،قاسم، اورعمرو ،کربلامیں شہیدہوئے ہیں(نورالابصارص ۱۱۲) ۔
جناب زیدبڑے جلیل القدراورصدقات رسول کے متولی تھے انہوں نے ۱۲۰ ھء میں بعمر ۹۰ سال انتقال فرمایاہے ۔
جناب حسن مثنی نہایت جلیل القدر فاضل متقی اورصدقات امیرالمومنین کے متولی تھے آپ کی شادی امام حسین کی بیٹی جناب فاطمہ سے ہوئی تھی آپ نے کربلاکی جنگ میں شرکت کی تھی اوربے انتہازخمی ہوکر مقتلوں میں دب گئے تھے جب سرکاٹے جارہے تھے تب ان کے ماموں ابواحسان نے آپ کوزندہ پاکرعمرسعدسے لے لیاتھا آپ کوخلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے ۹۷ ھء میں زہردیدیاتھا جس کی وجہ سے آپ نے ۵۲ سال کی عمرمیں انتقال فرمایاآپ کی شہادت کے بعد آپ کی بیوی جناب فاطمہ ایک سال تک قبرپرخیمہ زن رہیں(ارشادمفید ص ۲۱۱ ونورالابصار
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
زیارت اربعین بیس صفر المظفر کو پڑھی جاتی ہے
زیارت اربعین وہ زیارت ہے جو امام حسین (ع) کے چہلم کے دن یعنی بیس صفر المظفر کو پڑھی جاتی ہے۔ یہ زیارت امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلم کردہ ہے | آج ہی کے دن اسیران کربلا شام سے کربلا واپس ہوئے ہیں اور سب نے شہداء کربلا کی زیارت کی۔ آج کے دن محبان اہل بیت، کسب وکار چھوڑ کر، سیاہ پوش ہوکر مجلس عزا وسینہ زنی کرتے ہوئے حضرت فاطمہ زہرا کو ان کے لال کا پرسہ دیتے ہیں ۔ آج کے دن حضرت امام حسین- کی زیارت کی بہت فضیلت ہے۔
روایت میں ہے کہ فرزند رسول ص حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھتا ہے کہ مولا ہم تو کربلا نہیں جا سکے اب ہم کیا کریں؟
امام جعفر صادق علیہ سلام نے فرمایا: اربعین کے دن کیا کرتے ہو؟ کہا کہ: میرا دل قبر امام حسین علیہ سلام کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اسکے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس کو زیارت اربعین بتائی اور فرمایا: حتی اگر دور سے بھی یہ زیارت پڑھو گے خدا وندہ عالم اپنے فرشتوں کو اربعین کے دن صبح سویرے سے غروب تک زمین پر بھیجتا ہے اور اس کائنات پر دنیا کے جس کونے سے بهی جو شخص یہ کلمات جو میں نے تمہیں بتایا ہے (یعنی زیارت اربعین) دل سے پڑھے، ملائکہ آتے ہیں اور زیارت کے کلمات کو لے کے غروب تک سیدالشهدا علیه السلام کے پاس لے جاتے ہیں اور حضرت سیدالشهدا علیه السلام ملائکہ کو حکم دیتے ہیں کہ لکھ لو کہ فلاں شخص یہاں آیا تھا اور اس نے زیارت کی ۔
امام جعفر صادق علیه السلام مزید فرماتے ہیں: دل برداشتہ نہ ہونا کہ تم کربلا نہ پہنچ سکے، اس دن دل سے کربلا کو یاد کرو اور کربلا کے غم کو یاد کرنا یعنی تم کربلا میں ہی ہو، دل سے آہ و بکا تو کر ہی سکتے ہو؟ ممکن ہے تمہارے اس ایک آه و بکا کا ثواب زیارت سے زیادہ ہو۔
جب سورج بلند ہو جائے تو حضرت کی زیارت کرو اور کہو:
اَلسَّلَامُ عَلَی وَلِیِّ اﷲِ وَحَبِیبِہِ اَلسَّلَامُ عَلَی خَلِیلِ اﷲِ وَنَجِیبِہِ اَلسَّلَامُ عَلَی
سلام ہو خدا کے ولی اور اس کے پیارے پر سلام ہو خدا کے سچے دوست اور چنے ہوئے پر سلام ہو خدا کے
صَفِیِّ اﷲِ وَابْنِ صَفِیِّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ الْمَظْلُومِ الشَّھِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی
پسندیدہ اوراس کے پسندیدہ کے فرزند پرسلام ہو حسین(ع) پرجوستم دیدہ شہید ہیں سلام ہو حسین(ع) پر
ٲَسِیرِ الْکُرُباتِ وَقَتِیلِ الْعَبَرَاتِ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَشْھَدُ ٲَنَّہُ وَلِیُّکَ وَابْنُ وَلِیِّکَ، وَصَفِیُّکَ
جو مشکلوں میں پڑے اور انکی شہادت پر آنسو بہے اے معبود میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے فرزند تیرے پسندیدہ
وَابْنُ صَفِیِّکَ، الْفَائِزُ بِکَرَامَتِکَ، ٲَکْرَمْتَہُ بِالشَّھَادَۃِ، وَحَبَوْتَہُ بِالسَّعَادَۃِ، وَاجْتَبَیْتَہُ
اور تیرے پسندیدہ کے فرزند ہیں جنہوں نے تجھ سے عزت پائی تونے انہیں شہادت کی عزت دی ان کو خوش بختی نصیب کی اور انہیں
بِطِیبِ الْوِلادَۃِ، وَجَعَلْتَہُ سَیِّداً مِنَ السَّادَۃِ، وَقَائِداً مِنَ الْقَادَۃِ، وَذَائِداً مِنَ الذَّادَۃِ،
پاک گھرانے میں پیدا کیا تو نے قرار دیا انہیں سرداروں میں سردار پیشوائوں میں پیشوا مجاہدوں میں مجاہد اور انہیں
وَٲَعْطَیْتَہُ مَوَارِیثَ الْاََنْبِیَائِ، وَجَعَلْتَہُ حُجَّۃً عَلَی خَلْقِکَ مِنَ الْاََوْصِیَائِ، فَٲَعْذَرَ فِی
نبیوں کے ورثے عنایت کیے تو نے قراردیا ان کو اوصیائ میں سے اپنی مخلوقات پرحجت پس انہوں نے
تبلیغ کا الدُّعَائِ، وَمَنَحَ النُّصْحَ، وَبَذَلَ مُھْجَتَہُ فِیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَکَ مِنَ الْجَھَالَۃِ، وَحَیْرَۃِ
حق ادا کیا بہترین خیرخواہی کی اورتیری خاطراپنی جان قربان کی تاکہ تیرے بندوں کو نجات دلائیں نادانی وگمرا ہی کی پریشانیوں سے
الضَّلالَۃِ، وَقَدْ تَوَازَرَعَلَیْہِ مَنْ غَرَّتْہُ الدُّنْیا، وَبَاعَ حَظَّہُ بِالْاََرْذَلِ الْاََدْنیٰ، وَشَرَیٰ
جب کہ ان پران لوگوں نے ظلم کیا جنہیں دنیا نے مغرور بنا دیا تھا جنہوں نے اپنی جانیں معمولی چیز کے بدلے بیچ دیں اوراپنی
آخِرَتَہُ بِالثَّمَنِ الْاََوْکَسِ، وَتَغَطْرَسَ وَتَرَدَّیٰ فِی ھَوَاہُ، وَٲَسْخَطَکَ وَٲَسْخَطَ نَبِیَّکَ
آخرت کے لیے گھاٹے کا سودا کیا انہوں نے سرکشی کی اورلالچ کے پیچھے چل پڑے انہوں نے تجھے غضب ناک اور تیرے نبی(ص) کو
وَٲَطَاعَ مِنْ عِبادِکَ ٲَھْلَ الشِّقاقِ وَالنِّفاقِ، وَحَمَلَۃَ الْاََوْزارِ، الْمُسْتَوْجِبِینَ النَّارَ،
ناراض کیا انہوں نے تیرے بندوں میں سے انکی بات مانی جو ضدی اور بے ایمان تھے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ لے کرجہنم کی طرف چلے گئے
فَجاھَدَھُمْ فِیکَ صابِراً مُحْتَسِباً حَتَّی سُفِکَ فِی طَاعَتِکَ دَمُہُ وَاسْتُبِیحَ حَرِیمُہُ۔
پس حسین(ع) ان سے تیرے لیے لڑے جم کرہوشمندی کیساتھ یہاں تک کہ تیری فرمانبرداری کرنے پر انکا خون بہایا گیا اور انکے اہل حرم کو لوٹا گیا
اَللّٰھُمَّ فَالْعَنْھُمْ لَعْناً وَبِیلاً، وَعَذِّبْھُمْ عَذاباً ٲَلِیماً۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اﷲِ،
اے معبود لعنت کر ان ظالموں پر سختی کے ساتھ اورعذاب دے ان کو درد ناک عذاب آپ پر سلام ہو اے رسول(ص) کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْاَوْصِیائِ ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ ٲَمِینُ اﷲِ وَابْنُ ٲَمِینِہِ عِشْتَ سَعِیداً
آپ پرسلام ہو اے سرداراوصیائ کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے امین اوراسکے امین کے فرزند ہیں آپ نیک بختی میں زندہ رہے
وَمَضَیْتَ حَمِیداً، وَمُتَّ فَقِیداً، مَظْلُوماً شَھِیداً، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ اﷲَ مُنْجِزٌ
قابل تعریف حال میں گزرے اور وفات پائی وطن سے دورکہ آپ ستم زدہ شہید ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا آپ کو جزا دے گا
مَا وَعَدَکَ، وَمُھْلِکٌ مَنْ خَذَلَکَ، وَمُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَکَ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ
جس کا اس نے وعدہ کیا اوراسکو تباہ کریگا وہ جس نے آپکا ساتھ چھوڑا اوراسکو عذاب دیگا جس نے آپکو قتل کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ
وَفَیْتَ بِعَھْدِ اﷲِ، وَجاھَدْتَ فِی سَبِیلِہِ حَتّی ٲَتَاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ اﷲُ مَنْ قَتَلَکَ،
آپ نے خدا کی دی ہوئی ذمہ داری نبھائی آپ نے اسکی راہ میں جہاد کیا حتی کہ شہید ہوگئے پس خدا لعنت کرے جس نے آپکو قتل کیا
وَلَعَنَ اﷲُ مَنْ ظَلَمَکَ، وَلَعَنَ اﷲُ ٲُمَّۃً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِہِ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی
خدا لعنت کرے جس نے آپ پرظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس قوم پرجس نے یہ واقعہ شہادت سنا تو اس پر خوشی ظاہر کی اے معبود میں
ٲُشْھِدُکَ ٲَنِّی وَلِیٌّ لِمَنْ والاہُ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداہُ بِٲَبِی ٲَنْتَ وَٲُمِّی یَابْنَ رَسُولِ اﷲِ
تجھے گواہ بناتا ہوں کہ ان کے دوست کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں میرے ماں باپ قربان آپ پراے فرزند رسول خدا
ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ کُنْتَ نُوراً فِی الْاََصْلابِ الشَّامِخَۃِ، وَالْاََرْحامِ الْمُطَھَّرَۃِ، لَمْ تُنَجِّسْکَ(ص)
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نور کی شکل میںرہے صاحب عزت صلبوں میں اور پاکیزہ رحموں میں جنہیں جاہلیت نے اپنی نجاست
الْجاھِلِیَّۃُ بِٲَنْجاسِھا وَلَمْ تُلْبِسْکَ الْمُدْلَھِمَّاتُ مِنْ ثِیابِھا وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ مِنْ دَعائِمِ الدِّینِ
سے آلودہ نہ کیا اور نہ ہی اس نے اپنے بے ہنگم لباس آپ کو پہنائے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے ستون ہیں
وَٲَرْکانِ الْمُسْلِمِینَ، وَمَعْقِلِ الْمُؤْمِنِینَ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ الْاِمامُ الْبَرُّ التَّقِیُّ الرَّضِیُّ
مسلمانوں کے سردار ہیں اور مومنوں کی پناہ گاہ ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام (ع) ہیں نیک و پرہیز گار پسندیدہ
الزَّکِیُّ الْھادِی الْمَھْدِیُّ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ الْاََئِمَّۃَ مِنْ وُلْدِکَ کَلِمَۃُ التَّقْوی وَٲَعْلامُ الْھُدیٰ
پاک رہبر راہ یافتہ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جو امام آپ کی اولاد میں سے ہیں وہ پرہیزگاری کے ترجمان ہدایت کے
وَالْعُرْوَۃُ الْوُثْقی وَالْحُجَّۃُ عَلَی ٲَھْلِ الدُّنْیا وَٲَشْھَدُ ٲَنِّی بِکُمْ مُؤْمِنٌ وَبِ إیابِکُمْ مُوقِنٌ
نشان محکم تر سلسلہ اور دنیا والوں پرخدا کی دلیل و حجت ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا اور آپ کے بزرگوں کا ماننے والا
بِشَرائِعِ دِینِی وَخَواتِیمِ عَمَلِی وَقَلْبِی لِقَلْبِکُمْ سِلْمٌ وَ ٲَمْرِی لاََِمْرِکُمْ مُتَّبِعٌ
اپنے دینی احکام اورعمل کی جزا پر یقین رکھنے والا ہوں میرا دل آپکے دل کیساتھ پیوستہ میرا معاملہ آپ کے معاملے کے تابع اور میری
وَنُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّۃٌ حَتَّی یَٲْذَنَ اﷲُ لَکُمْ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَ مَعَ عَدُّوِکُمْ صَلَواتُ
مدد آپ کیلئے حاضر ہے حتی کہ خدا آپکو اذن قیام دے پس آپکے ساتھ ہوں آپکے ساتھ نہ کہ آپکے دشمن کیساتھ خدا کی رحمتیں ہوں
ﷲِعَلَیْکُمْ وَعَلَی ٲَرْواحِکُمْ وَ ٲَجْسادِکُمْ وَشاھِدِکُمْ وَغَائِبِکُمْ وَظَاھِرِکُمْ وَبَاطِنِکُمْ
آپ پر آپ کی پاک روحوں پر آپ کے جسموں پر آپ کے حاضر پر آپ کے غائب پر آپ کے ظاہر اور آپ کے باطن پر
آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ۔
ایسا ہی ہو جہانوں کے پروردگار۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
شفاعت کی کیا شرطیں ہیں؟ کون لوگ قیامت کے دن شفاعت کے حقدار ہونگے
اور کون لوگ شفاعت کے حقدارنہیں ہونگے؟
جواب: قیامت کے دن گنہگاروں کیلئے اولیاء الہی کی شفاعت بغیر حساب و کتاب کے نہیں ہوگی، بلکہ شفاعت کیلئے کچھ شرائط ہیں جنکا اسی دنیا میں حاصل کرنا ضروری ہے۔
آیات اور روایات میں کسی شخص یا گروہ کیلئے شفاعت کی ضمانت نہیں لی گئی ہے کہ حتماً ًانکی شفاعت ہوگی۔ بلکہ شفاعت ہونے اور شفاعت نہ ہونے والوں کے صفات اور انکی خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے۔
آیات اور روایات کی بنیاد پر شفاعت ہونے والوں کے شرائط مندرجہ ذیل ہیں۔
الف: خداوند کی رضایت
۱۔شفیع سے راضی ہونا
شفاعت کرنے والے فیض الہی کو حاصل کرنے کا وسیلہ ہیں ۔ اسی وجہ سے شفاعت کی بنیادی شرط یہ ہے کہ شفاعت خداوند کی مرضی کے مطابق ہو۔ شفاعت کرنے والے وہ ہیں جنہیں خداوند عالم نے منتخب کیا ہے اور انھیں شفاعت کرنے کی اجازت دی ہے۔
خداوند عالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
یومئذٍ لا تنفع الشّفاعة الا من اذن لہ الرّحمن ورضی لہ قولاًً 1
ترجمہ: اس دن کسی کی سفارش کام نہ آئے گی سوائے انکے جنہیں خدا نے اجازت دی ہواور وہ انکی بات سے راضی ہو۔
۲۔شفاعت ہونے والوں سے راضی ہونا
شفاعت ہونے والوں کیلئے ضروری ہے کہ خدا ان سے راضی ہو یعنی شفاعت اس شخص کیلئے فائدہ مند ہوگی جس نے اپنی زندگی خداوند عالم کی اطاعت میں گزاری ہو۔ خداوند عالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
ولا یشفعون الا لمن ارتضی 2
ترجمہ:کوئی شفاعت نہیں کر سکتا ہے مگر یہ کہ خدا اس سے راضی ہو۔
شفاعت حقیقت میں خدا کے ارادہ اور اس کی خواہش کو نمایا کرتی ہے ۔ گنہگار بندوں کی بخشش اس بات پر مبنی ہے کہ انکا عقیدہ اور عمل دنیا میں خدا کی مرضی کے مطابق تھا جبکہ وہ خطا اور لغزش سے دچار بھی ہوئے ہیں، شفاعت ان کے حق میں جزا ہے۔
ب: ایمان کی حفاظت
وہ لوگ شفاعت کے لائق ہونگے جن کے گناہوں کی وجہ سے ان کاایمان ذائل نہ ہو ا ہو۔ اسی وجہ سے منابع دینی میں ذکر ہوا ہے کہ قیامت کے دن کافر ، مشرک اور منافق شفاعت کے لائق نہیں ہونگے۔ اس سلسلہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے:شفاعت منکروں، مشرکوں ،اور کافروں کیلئے نہیں ہے بلکہ شفاعت مومنین کیلئے ہے۔3
ج: دستو رات دینی پر عمل
وہ گنہگار شفاعت کے قابل ہونگے جنہوں نے خدا ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اولیاء الہی کے ا حکام کی پیروی اور انکی اطاعت کی ہوگی۔ بر خلاف اس کے جیسا کہ بعض لو گ گمان کرتے ہیں کہ شفاعت کا وعدہ ، لوگوں کے گناہ کرنے میں حوصلہ افزائی کا سبب ہوتا ہے اور انہیں اطاعت دین سے روکتا ہے۔ جب کہ دین الہی میں شفاعت کی شرط یہ ہے کہ دین کے احکام پر عمل کرے اور خدا ،رسول اکرم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی اطاعت کرے۔ جس نے بھی دین کے احکام پر عمل کیا ہے اور خدا ،رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم لسلام کی پیروی کی ہے لیکن پھر بھی اس سے گناہ اور غلطی سرزد ہوئی ہے ،تو ایسے لوگ آخرت میں رحمت الہی کو پانے کے حقدار ہونگے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:جو شخص چاہتا ہے کہ شفاعت اس کے لیئے فائدہ مندہو، تو ضروری ہے کہ وہ خداوند کی مرضی کوحاصل کرے۔ یہ جان لو کہ کوئی شخص خداوند عالم کی مرضی کو حاصل نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وہ خداوند عالم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آل محمد علیہم السلام کی اطاعت اور پیروی کرے۔4
قرآن کی نظر میں شفاعت بعض اہل جہنم کو فائدہ نہیں پہنچائے گی کیونکہ وہ احکام اور وظائف دینی کے پابند نہیں تھے۔
اہل جہنم سے سوال کیا جائے گا کس چیز نے تمہیں جہنمی بنایا؟ تو وہ جواب دینگے کہ ہم نماز گزاروں میں سے نہیں تھے، اور روز جزاء (قیامت) کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت نے ہمیں آگھیرا۔تو ایسے لوگوں کو شفاعت کر نے والوں کی شفاعت فائدہ نہیں پہنچائے گی ۔5
احکام دینی اور وظائف دینی پر عمل کرنا اس حد تک اہمیت رکھتا ہے کہ اگر کوئی شخص اسے ہلکا سمجھے اور اہمیت نہ دے تو یہ اس کی شفاعت سے محرومیت کا سبب بنے گا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے: ہماری شفاعت اس شخص کو نہیں پہنچ سکتی ہے جو نماز کو ہلکا سمجھتا ہے۔6
د: شفیع اور شفاعت ہونے والوں کے درمیان معنوی رابطہ
شفاعت ہونے والوں کیلئے ضروری ہے کہ دنیا میں انکا روحی اور معنوی رابطہ شفاعت کرنے والوں کے ساتھ رہا ہو۔جو لوگ دنیا میں اولیاء الہی سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں اور انکی فکروں، عقیدوں کو قبول کرتے ہوئے انکے بتائے ہوے راستہ پر عمل کرتے ہیں تو آخرت میں انکی شفاعت کے حقدار ہونگے۔
حقیقت میں خداوند عالم کی حکمتوں میں سے ایک حکمت اپنے خاص بندوں کومغفرت و بخشش کیلئے، واسطہ اور شفیع قرار دینے میں یہی روحی اور معنوی رابطہ ہے جو انکے اور شفاعت ہونے والوں کے درمیا ن، دنیا میں رہاہے۔
مختلف روایتوں میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ا اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے دوستی اور محبت کرنے کی تاٴکید کی گئی ہے7
کیونکہ محبت اور دوستی معنوی اور روحی رابطہ کے قوی ہونے کا سبب بنتی ہے۔ محبت کرنے والوں کیلئے حقیقی محبت، اپنے محبوب کی پیروی کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے حقیقی محبت اور دوستی رکھنا گناہ کی کمی کاباعث ہوتاہے۔
خداکے خاص بندوں سے محبت کرنا شفاعت کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے۔ کیونکہ ان سے محبت، خدوند عالم کے کرم اور رحمت کوحاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
دینی کتابوں میں ذکر ہو اہے
۱۔ عالم ان لوگوں کی شفاعت کرے گا جن کی ہدایت اس نے کی ہے۔8
۲۔ ائمہ معصومین علیہم السلام اپنے شیعوں اور پیروی کرنے والوں کی شفاعت کریں گے9
۳۔ جنہوں نے خدا کے خاص بندوں سے رابطے کو توڑ لیا اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی ولایت کو قبول نہیں کیا ، وہ لوگ انکی شفاعت کے حقدار نہیں ہونگے۔10
اسی وجہ سے روایتوں میں ذکر ہوا ہے کہ جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل بیت کو اذیت پہنچائی وہ انکی شفاعت کاحقدار نہیں ہوگا۔ کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: میں ان لوگوں کی شفاعت نہیں کروں گا جنہوں نے ہماری ذریت اور فرزندوں کو اذیت پہنچائی ہے۔11
وہ جو شفاعت سے محروم ہیں
۱۔ کفار ۔
۲۔ دشمنان اہل بیت ۔
۳۔ اولاد رسول کو اذیت پہنچانے والے۔
۴۔ جنہوں نے دنیا میں شفیع سے اپنے رابطے کو توڑ لیا ہے۔
۵۔ شفاعت کا انکار کرنے والے۔
۶۔ نماز کو ہلکا سمجھنے والے۔( یعنی نماز کو اہمیت نہ دینے والے)۔
یہ سب کے سب شفاعت سے محروم رہیں گے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے:میری شفاعت قیامت کے دن یقینی ہے جس نے بھی اس کا انکار کیا وہ میری شفاعت سے محروم رہے گا۔12
اور دوسری روایت میں ارشاد فرمایا ہے: میری شفاعت ان گنہگاروں کیلئے ہے جنہوں نے شرک اور ظلم جیسا گناہ نہیں کیا ہے۔13
امام جعفر صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں : جس نے بھی نماز کو ہلکا سمجھا ہم ہر گز اس کی شفاعت نہیں کریں گے۔14
1. سورہ طہ: آیہ۱۰۹۔
2. سورہ انبیاء: آیہ ۲۸۔
3. میزان الحکمہ :ج۴ ، ص۱۴۷۲۔
4. بحار الانوار:ج۷۵، ص۲۲۰۔
5. سورہ مدثر: آیہ ؛۴۸۔۴۲۔
6. میزان الحکمہ: ج۴،ص ۱۴۷۲ ،ح۹۴۸۵ ۔
7. بحار الانوار : ج۲۷ ،ص ۱۵۸،ح۳۔ کنز العمال: ج۱۴،ص۳۹۹،ح۳۹۰۵۷۔
8. میزان الحکمہ، ج۴، ص۱۴۷۵،ح۹۵۰۶۔
9. میزان الحکمہ:ح ۹۵۰۴ اور ۹۵۰۵۔ بحار الانوار:ج۸،ص۴۳،ح۴۳،۴۲،۳۴ اور ص ۳۶،۳۷۔
10. بحار الانوار:ج۸، ص ۷۳۶،ح۹۔
11. امالی صدوق:ص ۳۷۰، بحار:ج ۹۳، ص۲۱۸، ح۴۔
12. میزان الحکمہ:ج۴ ،ص۱۴۷۲ ، ح۹۴۸۷ ۔ کنز العمال ج۱۴ ،ص۳۹۹، ح۳۹۰۵۹۔
13. میزان الحکمہ:ج۴ ،ص۱۴۷۲ ،ح۹۴۸۴ ۔
14. میزان الحکمہ:ج۴ ،ص۱۴۷۲ ، ح۹۴۸۶
……………………………
توبہ النصوح ۔(کیا عجیب واقعہ ھے)
نصوح ایک عورت نما آدمی تھا، باریک آواز، بغیر داڑھی اور نازک اندام مرد.
وہ اپنی ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا۔ کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا تھا سبھی اسے عورت سمجھتے تھے۔
یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا تھا۔ کئی بار ضمیر کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کرلی لیکن ہمیشہ توبہ توڑتا رہا.
ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی ۔حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گراں بہا گوھر (موتی یا ہیرا) کھوگیا ہے
بادشاہ کی بیٹی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔
سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملا
نصوح رسوائی کے ڈر سے ایک جگہ چھپ گیا۔
جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیں تو
سچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی بارگاہ میں دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا، میری لاج رکھ لے مولا۔
دعا مانگ ہی رہا تھا کہ اچانک باہر سے آوازسنائی دی کہ نصوح کو چھوڑ دو، ہیرا مل گیا ہے۔
نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصت لے کر گھر آگیا ۔
نصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کرلی۔
کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرے لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا ہوں۔
نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہیں اور اس کے ہاتھ سے مساج لینا پسند کرتی ہیں۔
جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک
پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔
ایک دن اس کی نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاس
چر رہی تھی۔
اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے ، جب تک اس کا مالک نہ آ جائے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں،
لہذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا۔
کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آگیا جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھے
انہوں نے نصوح سے پانی مانگا
نصوح نے سب کو بھینس کا دودھ پلایا اور سب کو سیراب کردیا،
قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھا
نصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دیکھایا ۔
نصوح کے اخلاق سے متاثر ہو کر تاجروں نے جاتے ہوئے اسے بہت سارا مال بطور تحفہ دیا۔
نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھدوا دیا۔
آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے لگے اور عمارتیں بننے لگیں۔
وہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
رفته رفته نصوح کی نیکی کے چرچے بادشاه تک جا پہنچے۔
بادشاہ کی دل میں نصوح سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔
اس نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف لے آئیں۔
جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا اس نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا،
بادشاہ کو بہت تعجب ہوا مگر اس بے نیازی کو دیکھ کر ملنے کی طلب اور بڑھ گئی۔ بادشاہ نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے تو ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔
جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوا، خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔
چونکہ بادشاہ بطور عقیدت مند نصوح کو ملنے آرہا تھا اور رعایا بھی نصوح کی خوبیوں کی گرویدہ تھی، اس لئے نصوح کوبادشاہ کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔
نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا۔ وہی شہزادی جسے عورت کا بھیس بدل کر ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا ،اس شہزادی نے نصوح سے شادی کرلی۔
ایک دن نصوح دربار میں بیٹھا لوگوں کی داد رسی کررہا تھا کہ
ایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی ۔ بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملی ۔ برائے مہربانی میری مدد فرمائیں۔
نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہے
آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہاری بھینس کی وجہ سے ہے
نصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔
وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا:
اے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے۔
بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہارے امتحان کے لئے آئے تھے
یہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہے
یہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو،
وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔
اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو (توبه نصوح) کہتے ہیں. تاریخ کی کتب میں نصوح کو بنی اسرائیل کے ایک بڑے عابد کی حیشیت سے لکھا گیا ہے۔
کتاب: مثنوی معنوی، دفتر پنجم
انوار المجالس صفحہ 432۔
سبق: نصوح رزق کمانے کے لئے اللہ کا نا پسندیدہ کام کیا کرتا تھا۔ جب وہ کام اللہ کے خوف کی وجہ سے چھوڑا تو اللہ نے رزق کے اسباب پیدا کئے اور بادشاہت تک عطا کر دی۔ حرام طریقے سے لذت حاصل کرنا چھوڑا تو اللہ نے نکاح میں شہزادی دے دی۔
اللہ تعالی سب کو توبہ کرنے، اور تا دم مرگ اس توبہ پر قائم رہنے کی توفیق فرمائے آمین۔
…………………………………
تربت یاخاک کربلاء مقدسہ کی بہت فضیلت ہے لیکن یہ چار اقسام پر مشتمل ہے ۔
اول
اس طرح ہر وہ خاک جس کی نسبت حضرت امام حسین علیہ السلام سے ہوگئی چاہے وہ کربلاء مقدسہ سے ہو یا نہ ہو اور حرم اقدس سے ہو یا نہ ہو پھر بھی اس کوفضیلت حاصل ہے بسبب شرف و فضیلت حضرت امام حسین علیہ السلام ۔ پس اسی لئے اس کی اہانت
وہ تربت یا خاک جو قبر اقدس حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام سے لی جائے اور یہ افضل ترین خاک ہے اور روایات معتبرہ میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تربت حضرت امام حسین علیہ السلام میں شفاء رکھی ہے اور اس پر کیا گیا سجدہ ساتوں آسمانوں کے شگاف کرتا ہے ۔
دوم
ایسی تربت جو حائر حسینی سے لی جائے جس میں علماء کے درمیان حائر حسینی کی حدود کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اور کئی علماء نے اپنی کتب میں حدود کا تعین مختلف کیا ہے
سوم
تیسری قسم حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام سے لی گئی تربت اقدس ہے
چہارم
مطلقاً شہر کربلاء مقدسہ کی تربت اور روایات میں خاک کربلاء کو ایک خاص افضلیت و شرف حاصل ہے ۔
شفاء کی غرض سے خاک کربلاء مقدسہ کو ایک چنے کے دانے کے برابرتناول کرنا اور اس پر سجدہ بجالانا مستحب ہے کیونکہ یہ افضل خاک میں سے ہے ۔
لیکن خاص فضائل کے اعتبار سے علماء میں اختلاف ہے کہ کیا فقط تربت قبر حضرت سید الشہداء علیہ السلام یا حرم اقدس یا شہر کربلاء کی مٹی ؟
لیکن تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ خاک شہر کربلاء مقدسہ کو خصوصی اہمیت وفضیلت حاصل ہے اور اسکی توہین و عدم احترام جایز نہیں ۔ و توہین یا بے ادبی جائز نہیں اور عدم اہتمام و احترام بھی جایز نہیں ۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
امام حسین علیہ السلام کے چہلم نے اسلامی دنیا میں بیداری پیدا کی ہے
امام حسین علیہ السلام کی سربراہی میں شروع ہونے والی حسینی تحریک کا ایک اہم پہلو بیداری اور احیاء پر مبنی تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد پانچ دہائیاں گزر جانے کے بعد حقیقی محمدی (ص) اسلام کو دوبارہ اجاگر کرنا تھ
امام حسین علیہ السلام کے چہلم نے اسلامی دنیا میں بیداری پیدا کی ہے
امام حسین علیہ السلام کی سربراہی میں شروع ہونے والی حسینی تحریک کا ایک اہم پہلو بیداری اور احیاء پر مبنی تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد پانچ دہائیاں گزر جانے کے بعد حقیقی محمدی (ص) اسلام کو دوبارہ اجاگر کرنا تھا۔ روز عاشور اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کا تاریخی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام ثمربخش واقع ہوا اور اس کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں بیداری کی عظیم لہر معرض وجود میں آئی جس نے طاغوتی حکومتوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ واقعہ کربلا کا بیداری کا یہ پہلو ختم نہیں ہوا اور آج تک باقی ہے۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی جانب سے واقعہ کربلا کی یاد زندہ رکھنے پر بے حد تاکید اور ہر سال اس کی یاد منانے پر زور کی وجہ بھی اسلامی معاشروں میں جہاد کا جذبہ اور شوق شہادت زندہ رکھنا تھا۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا عظیم کارنامہ بھی یہی تھا کہ انہوں نے اس عظیم روحانی ذخیرے کو موجودہ حالات سے تطبیق دی اور ہمارے زمانے میں ظلم و ستم کی عمارت کا خاتمہ کیا۔ دوسرے الفاظ میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بیداری کی تحریک کا احیاء کیا اور اسے نیا معنی عطا کیا۔
حسینی تحریک میں چہلم امام حسین علیہ السلام کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ جیسا کہ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای فرماتے ہیں: “امام حسین علیہ السلام سے محبت کا پہلا چشمہ چہلم کے دن جاری ہوا۔ اس طاقتور حسینی مقناطیس نے سب سے پہلے چہلم کے دن دلوں کو اپنی طرف کھینچا۔ جابر بن عبداللہ انصاری اور عطیہ کا چہلم کے دن امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کیلئے جانا اس بابرکت رسم کا آغاز تھا جو صدیوں سے چلتی ہوئی آج ہر زمانے سے زیادہ عظیم، پررونق، پرشکوہ اور مقبول ہو چکی ہے۔ اس عظیم رسم نے دنیا میں روز بروز عاشورا کی یاد مزید زندہ کر دی ہے۔” چہلم اپنی ذات میں عاشورا کی جانب دوبارہ پلٹنے کا نام ہے۔ مشہور ہے کہ اہلبیت اطہار علیہم السلام شام میں یزید کی قید سے رہائی پانے کے بعد چہلم کے دن ہی کربلا میں داخل ہوئے۔ روایات کی روشنی میں زیارت اربعین مومن کی علامات میں سے ایک علامت قرار دی گئی ہے۔ یہ سب کچھ شاید اس نکتے کی یاددہانی ہو کہ مومن کو چاہئے کہ وہ کربلا کو اپنی زندگی کا راستہ قرار دے اور اپنی زندگی کی تمام سرگرمیاں اسی مرکز کے گرد منظم کرے۔ اسی طرح ایمانی معاشرہ بھی کربلا کے خورشید کی جانب متوجہ ہو اور چہلم درحقیقت اسی خورشید تک پہنچنے کا راستہ ہے۔
چہلم سید الشہداء علیہ السلام کی مناسبت سے زیارت کیلئے کربلا پیدل جانے کی رسم عراق میں صدیوں سے جاری تھی۔ صدام حسین کی ڈکٹیٹر حکومت نے شیعہ مسلمانوں پر بہت زیادہ سختی کی اور اس رسم کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اس کے باوجود امام حسین علیہ السلام کے عاشق اور عقیدت مند خفیہ طور پر راتوں کو غیر معروف راستوں سے مشی کی رسم ادا کرتے رہے۔ صدام حسین کی سرنگونی کے بعد جب رکاوٹیں ختم ہوئیں تو چہلم کی زیارت کیلئے پیدل قافلوں کا سلسلہ زور و شور سے شروع ہو گیا۔ اب یہ عظیم عمل صرف عراق کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ پوری دنیا سے محبین اہلبیت علیہم السلام چہلم کی زیارت کیلئے کربلا پیدل جانے کی غرض سے اس موقع پر عراق کا سفر کرتے ہیں۔ کربلا کی جانب گامزن اس عظیم انسانی سیلابی ریلے میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چہلم امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے انجام پانے والی یہ عظیم ریلی دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع قرار دیا جا سکتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جن دنوں عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی سرگرمیاں عروج پر تھیں اور انہوں نے زائرین امام حسین علیہ السلام کیلئے رکاوٹیں بھی کھڑی کیں تب بھی یہ مشی رکی نہیں۔
آج چہلم امام حسین علیہ السلام پر کربلا پیدل جانے کی روایت صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شرکت کرنے لگے ہیں۔ یہ ایک مکمل عوامی اجتماع ہوتا ہے جس میں شریک افراد روحانی جذبے کے تحت امام حسین علیہ السلام سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ آج چہلم سید الشہداء علیہ السلام کا پیدل مارچ مستضعفین جہان کی بیداری کی علامت بن چکا ہے۔ ایسی بیداری جو حقیقی محمدی (ص) اسلام کی عظیم اٹھان کا پیش خیمہ ثابت ہو گی اور اس کا نتیجہ بنی نوع انسان کی طاغوتی قوتوں سے آزادی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
تعارف خدا اور دی ہدیہ صلاحیت
اللہ اور اس کی تشریح
انتخاب اکمل سید لندن
ایک نوجوان ہسپانوی خاتون نے “اللہ” کے معنی بیان کیے، جب عرب ایسا کرنے میں ناکام رہے!
یہ نوجوان ہسپانوی خاتون اس وقت اردن کی یرموک یونیورسٹی میں عربی زبان میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔ ایک دن، دوسرے سال کی کلاس کے دوران، پروفیسر فخری قطانہ نے اپنے طلبہ سے سوال کیا:
“تم میں سے کون اللہ کے نام کے بارے میں معجزاتی اور صوتی لسانی نقطہ نظر سے کچھ بتا سکتا ہے؟”
کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا، سوائے ایک نوجوان ہسپانوی خاتون کے، جس کا نام ہیلن تھا۔ وہ ہسپانوی اور مسیحی ہونے کے باوجود فصیح عربی بولتی تھی۔ اس نے کہا:
“عربی زبان میں سب سے خوبصورت لفظ جو میں نے پڑھا ہے، وہ ‘اللہ’ ہے۔ اس نام کا تلفظ انسانی زبان میں ایک منفرد موسیقیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے تمام حروف حلق سے ادا ہوتے ہیں، نہ کہ ہونٹوں سے۔
یہ الٰہی نام ہونٹوں سے ادا نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں کوئی نقطہ نہیں ہے۔ اب ‘اللہ’ کا تلفظ کریں اور سمجھیں کہ آپ اسے کیسے ادا کرتے ہیں!
آپ اس کے حروف کو اپنے حلق کے پچھلے حصے سے ادا کرتے ہیں، بغیر ہونٹوں کو حرکت دیے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص ‘اللہ’ کا ذکر کرنا چاہے تو اس کے آس پاس کے لوگ اسے محسوس بھی نہیں کر سکتے۔”
انہوں نے مزید کہا:
“اس نام کا ایک اور معجزاتی پہلو یہ ہے کہ اگر اس کے کچھ حروف نکال دیے جائیں، تب بھی اس کا مطلب باقی رہتا ہے۔
• جیسا کہ ہم جانتے ہیں، یہ الٰہی نام عمومی طور پر ‘اللّٰهُ’ (Allahُ) کے ساتھ بولا جاتا ہے۔
• اگر ہم پہلا حرف (الف) ہٹا دیں، تو یہ ‘لِلّٰهِ’ (Lillah) بن جاتا ہے، جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں ہے:
﴿وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ﴾
(اور اللہ ہی کے لیے سب اچھے نام ہیں، سو ان سے اسے پکارو۔) (سورۃ الأعراف: 180)
• اگر ہم ‘الف’ اور پہلا ‘لام’ ہٹا دیں، تو یہ ‘لَهُ’ (Lahu) رہ جاتا ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:
﴿لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرۡضِۗ﴾
(جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ سب اسی کا ہے۔) (سورۃ البقرہ: 255)
• اگر ہم پہلے ‘الف’ اور دوسرا ‘لام’ بھی ہٹا دیں، تو صرف ‘هُوَ’ (Hu) بچتا ہے، جو پھر بھی اللہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جیسا کہ یہ ذکر ہے:
﴿هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ﴾
(وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔) (سورۃ الحشر: 22)
• اگر ہم پہلا ‘لام’ ہٹا دیں، تو یہ ‘إِلَـٰه’ (Ilah) بن جاتا ہے، جیسا کہ آیا ہے:
﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَىُّ ٱلۡقَيُّومُ﴾
(اللہ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زندہ ہے، جو سب کا تھامنے والا ہے۔) (سورۃ البقرہ: 255)
*“اللہ” کے نام کا علمائے کرام نے گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ توحید کا جملہ ‘لَا إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّه’ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) تین حروف پر مشتمل ہے: الف، لام اور ہاء۔ یہ ہلکے حروف ہیں، جو ہونٹوں کی حرکت کے بغیر ادا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کی:
“کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ تاکہ جب کوئی شخص مرنے کے قریب ہو، تو وہ اسے ہونٹوں یا دانتوں کو حرکت دیے بغیر آسانی سے ادا کر سکے۔”
آج، ہیلن کو ‘عابدہ’ (عبادت گزار) کہا جاتا ہے۔
“ہم عرب مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں، لیکن ہم اللہ کے نام کی وضاحت نہیں کر سکے۔ اسے اسلام کی مبارک ہو۔”
“ہم ایسے پیغامات کیوں حذف کر دیتے ہیں جو دین کے بارے میں ہوتے ہیں، لیکن عام پیغامات کو مسلسل آگے بھیجتے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
﴿بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً﴾
(مجھ سے (دین) پہنچاؤ، چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔) (بخاری: 3461)
“شاید اس پیغام کو کسی تک پہنچانے سے، آپ وہ آیت منتقل کریں جو قیامت کے دن آپ کے حق میں سفارش کرے۔”
آخر میں:
﴿لَا إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ﴾
(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔)
“اسے آگے بھیجیں تاکہ قیامت کے دن آپ کی انگلیاں آپ کے حق میں گواہی دیں، ان شاء اللہ۔”
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستانی تاریخی اور سب سے بڑا جاری فراڈ
ایک نوجوان لندن کے ایک بین الاقوامی بینک میں معمولی سا کیشئر تھا۔ اس نے بینک کے ساتھ ایک ایسا فراڈ کیا جس کی وجہ سے وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا فراڈیا ثابت ہوا‘
وہ کمپیوٹر کی مدد سے بینک کے لاکھوں کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے ہر روز ایک‘ ایک پینی نکالتا تھا اور یہ رقم اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا تھا۔ وہ یہ کام پندرہ برس تک مسلسل کرتا رہا۔۔۔
یہاں تک کہ اس نے کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے کئی ملین پونڈ چرا لیے،
آخر میں یہ شخص ایک یہودی تاجر کی شکایت پر پکڑا گیا‘
یہ یہودی تاجر کئی ماہ تک اپنی بینک سٹیٹ منٹ واچ کرتا رہا۔
اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے چنانچہ وہ بینک منیجر کے پاس گیا‘ اسے اپنی سابق بینک اسٹیٹمنٹس دکھائیں۔ اور اس سے تفتیش کا مطالبہ کیا…
منیجر نے یہودی تاجر کو خبطی سمجھا ‘ اس نے قہقہہ لگایا اور دراز سے ایک پاؤنڈ نکالا اور یہودی تاجر کی ہتھیلی پر رکھ کر بولا،
’’یہ لیجئے میں نے آپ کا نقصان پورا کر دیا۔”
یہودی تاجر ناراض ہوگیا‘ اس نے منیجر کو ڈانٹ کر کہا ۔
’میرے پاس دولت کی کمی نہیں‘ میں بس آپ لوگوں کو آپ کے سسٹم کی کمزوری بتانا چاہتا تھا‘‘ وہ اٹھا اور بینک سے نکل گیا،یہودی تاجر کے جانے کے بعد منیجر کو شکایت کی سنگینی کا اندازا ہوا‘ اس نے تفتیش شروع کرائی تو شکایت درست نکلی اور یوں یہ نوجوان پکڑا گیا.یہ لندن کا فراڈ تھا لیکن ایک فراڈ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے۔ اس فراڈ کا تعلق پیسے کے سکے سے جڑا ہے۔
پاکستان کی کرنسی یکم اپریل 1948ء کو لانچ کی گئی تھی۔ اس کرنسی میں چھ سکے تھے‘ان سکوں میں ایک روپے کا سکہ‘ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی‘ اکنی‘ ادھنا اور ایک پیسے کا سکہ شامل تھے‘ پیسے کے سکے کو پائی کہا جاتا تھا،اس زمانے میں ایک روپیہ 16 آنے اور 64 پیسوں کے برابر ہوتا تھا۔یہ سکے یکم جنوری 1961ء تک چلتے رہے‘
1961ء میں صدر ایوب خان نے ملک میں عشاریہ نظام نافذ کر دیا۔جس کے بعد روپیہ سو پیسوں کا ہو گیا۔جبکہ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی اور پائی ختم ہو گئی۔ اور اس کی جگہ پچاس پیسے‘ پچیس پیسے‘ دس پیسے‘ پانچ پیسے اور ایک پیسے کے سکے رائج ہو گئے. یہ سکے جنرل ضیاء الحق کے دور تک چلتے رہے۔لیکن بعد ازاں آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے۔یہاں تک کہ آج سب سے چھوٹا سکہ ایک روپے کا ہے اور ہم نے پچھلے تیس برس سے ایک پیسے‘ پانچ پیسے‘ دس پیسے اور پچیس پیسے کا کوئی سکہ نہیں دیکھا۔ کیوں…؟کیونکہ اسٹیٹ بینک یہ سکے جاری ہی نہیں کررہا لیکن آپ حکومت کا کمال دیکھئے۔ حکومت جب بھی پیٹرول‘ گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ کرتی ہے تو اس میں روپوں کے ساتھ ساتھ پیسے ضرور شامل ہوتے ہیں مثلاً آپ پیٹرول کے تازہ ترین اضافے ہی کو لے لیجئے‘حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 92 پیسے اضافہ کیا۔جس کے بعد پٹرول کی قیمت 266 روپے 13 پیسے‘
ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 273 روپے 65 پیسے
اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 269 روپے 94 پیسے ہوگئی۔
اب سوال یہ ہے کہ ملک میں پیسے کا تو سکہ ہی موجود نہیں ہے۔لہٰذا جب کوئی شخص ایک لیٹر پیٹرول ڈلوائےگا تو کیا پمپ کا کیشیر اسے 87 پیسے واپس کرے گا…؟ نہیں وہ بالکل نہیں کرے گاچنانچہ اسے لازماً 62 کی جگہ 63 روپے ادا کرنا پڑیں گے…یہ زیادتی کیوں ہے..؟ اب آپ مزید دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘پاکستان میں روزانہ 3 لاکھ 20 ہزار بیرل پیٹرول فروخت ہوتا ہے،آپ اگر اسے لیٹرز میں کیلکولیٹ کریں تو یہ 5 کروڑ 8 لاکھ 80 ہزار لیٹرز بنتا ہے، آپ اندازاہ کیجئے اگر پٹرول سپلائی کرنے والی کمپنیاں ہر لیٹر پر87 پیسےاڑاتی ہیں تو یہ کتنی رقم بنے گی…؟ یہ4 کروڑ 42 لاکھ 65 ہزار روپے روزانہ بنتے ہیں جناب…
یہ رقم حتمی نہیں کیونکہ تمام لوگ پٹرول نہیں ڈلواتے‘ کچھ لوگ ڈیزل، مٹی کا تیل بھی خریدتے ہیں اور زیادہ تر لوگ 5 سے 40 لیٹر پیٹرول خریدتے ہیں اور بڑی حد تک یہ پیسے, روپوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود پیسوں کی ہیراپھیری موجود رہتی ہے،مجھے یقین ہے اگر کوئی معاشی ماہر اس ایشو پر تحقیق کرے ‘ وہ پیسوں کی اس ہیرا پھیری کو مہینوں‘ مہینوں کو برسوں اور برسوں کو 30 سال سے ضرب دے تو یہ اربوں روپے بن جائیں گے۔۔ گویا ہماری سرکاری مشینری 30 برس سے چند خفیہ کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا رہی ہے اور حکومت کو معلوم تک نہیں.هم اگر اس سوال کا جواب تلاش کریں تو یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا اسکینڈل ثابت ہوگا…يه بھی ہوسکتا ہےکہ اس کرپشن کا والیم ساڑھے چار کروڑ روپے نہ ہو لیکن اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ
جب اسٹیٹ بینک پیسے کا سکہ جاری ہی نہیں کررہا تو
حکومت کرنسی کو سکوں میں کیوں ماپ رہی ہے اور ہم
’’راؤنڈ فگر‘‘ میں قیمتوں کا تعین کیوں کرتے ہیں…؟
ہم 62 روپے 13 پیسوں کو62 روپے کر دیں یا پھر پورے 63 روپے کر دیں تا کہ حکومت اور صارفین دونوں کو سہولت ہو جائے۔ حکومت اگر ایسا نہیں کر رہی تو پھر اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی ہیرا پھیری ضرور موجود ہے کیونکہ ہماری حکومتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہماری ظالم بےحس، کرپٹ بیوروکریسی کوئی ایسی غلطی نہیں دہراتی، جس میں اسے کوئی فائدہ نہ ہو۔
منقول.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
چھ اور سات محرم الحرام کے سلسلہ میں
چھ محرم الحرام آج کے روز عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو ایک خط بھیجا کہ میں نے تمہیں گھڑسوار اور پیادہ فوج سے لیس کر دیا ہے۔ یاد رکھیں کہ وہ مجھے ہر دن اور ہر رات آپ کے کام کی رپورٹ بھیجتے ہیں۔
اسی دن حبیب بن مظاہر اسدی نے امام حسین علیہ السلام سے کہا: اے فرزند رسول! قریب ہی بنی اسد کا ایک قبیلہ رہتا ہے، اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں ان کے پاس جاؤں اور انہیں اپنی طرف بلاؤں۔
امام علیہ السلام نے اجازت دے دی، اور حبیب بن مظاہر رات کو باہر نکلے اور ان کے پاس گئے اور ان سے کہا: میں آپ کے لیے بہترین تحفہ لایا ہوں۔ میں تمہیں رسول اللہ کے بیٹے کی مدد کی دعوت دیتا ہوں۔ اس کے ساتھی ہیں، جن میں سے ہر ایک ہزار جنگجوؤں سے بہتر ہے، اور وہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی اسے دشمن کے حوالے کریں گے۔ عمر بن سعد نے ایک بڑی فوج کے ساتھ اسے گھیر لیا ہے۔ چونکہ تم میری قوم اور قبیلہ ہو اس لیے میں تمہیں اس راہِ خیر کی طرف دعوت دیتا ہوں…
اس وقت بنو اسد کا ایک شخص جو کہ عبداللہ بن بشیر کہلاتا تھا کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میں سب سے پہلے اس دعوت کو قبول کرنے والا ہوں، پھر راجی نے جوش و خروش کے ساتھ یہ تلاوت کی: “یقیناً یہ گروہ جانتا ہے کہ جب وہ جنگ کی تیاری کرتے ہیں اور جب جنگ کی تیاری کرتے ہیں تو کب ڈرتے ہیں۔ کہ میں ایک بہادر، بہادر اور لڑاکا ہوں، گویا میں ایک ننگا شیر ہوں۔” اس کے بعد قبیلے کے افراد جن کی تعداد
90 تھی، کھڑے ہوئے اور امام حسین علیہ السلام کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ اسی دوران ایک شخص نے خفیہ طور پر عمر بن سعد کو اطلاع دی اور اس نے “ازرق” نامی ایک شخص کو 400 سواروں کے ساتھ ان کی طرف بھیجا۔ وہ بیچ راستے میں آپس میں ٹکرا گئے جبکہ وہ امام حسین علیہ السلام سے زیادہ دور نہیں تھے۔ جب بنی اسد کے ساتھیوں کو معلوم ہوا کہ وہ مزاحمت نہیں کر سکتے تو وہ رات کی تاریکی میں منتشر ہو گئے اور رات کو اپنی جگہ چھوڑ کر اپنے قبیلے میں واپس چلے گئے تاکہ عمر بن سعد ان پر حملہ نہ کر دیں۔
حبیب بن مظاہر امام علیہ السلام کے پاس آیا اور واقعہ بیان کیا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: اللہ کے سوا کوئی طاقت اور طاقت نہیں ہے۔
اس دن سنہ 406 میں عہد کے شریف اور شریف سید محمد ابن الحسین المعروف سید رضی ذوالحسبین جو کہ علویوں کے سردار اور بغداد کے بزرگوں میں سے تھے، بغداد میں وفات پائی۔ یہ بزرگ سید سید مرتضیٰ کے بھائی ہیں جن کی وفات 25 ربیع الاول کو منائی جاتی ہے۔ وہ اپنی عظمت، روح کی بلندی، اور تقریر کی فصاحت کے لئے جانا جاتا ہے۔ ان کی وفات سید مرتضیٰ سے پہلے ہوئی اور بہاء الدولہ ابن عزد الدولہ کے وزیر فخر الملک اور بغداد کے تمام امرا، رئیس اور قاضی ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ سید مرتضیٰ اپنے بھائی کی میت کو اپنے شدید رنج و غم کی وجہ سے نہ دیکھ سکے۔ اس کے جنازے اور تدفین میں شریک نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے وہ اپنے دادا حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام کے مزار پر گئے اور فخر الملک نے سید رضی کے جسد خاکی پر دعا کی۔ انہوں نے سید سعید کو اپنے گھر میں دفن کیا۔ دن کے اختتام پر فخر الملک بہرام گئے اور سید مرتضیٰ کو مزار سے گھر لے آئے۔ تھوڑی دیر بعد سید رازی کا جسد خاکی کربلا لے جایا گیا اور ان کے والد کی قبر کے پاس امام حسین علیہ السلام کے پاس دفن کیا گیا۔
سید رازی کے چند بہترین مجموعے ہیں، جن میں: قرآن کی سزا، رسالت کی سزا، اور قرآن کے معانی کی کتاب۔ ان کے مجموعوں میں کتاب نہج البلاغہ ہے۔ اس نے بہت سی نظمیں لکھیں، اور ممتاز علماء کے ایک گروپ نے انہیں اکٹھا کر کے مرتب کیا۔ ان کی شاعری کو اہل علم نے بہت زیادہ مانا ہے اور انہیں قریش کا شاعر کہا جاتا ہے۔
*******************
سات محرم الحرام بندش آب اور اہل بیت علیہ السلام
محرم کے ساتویں دن عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو ایک خط لکھا جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ امام حسین اور ان کے ساتھیوں اور اپنے سپاہیوں کے ساتھ فرات کے پانی کے درمیان فاصلہ پیدا کریں اور انہیں پانی نہ پینے دیں۔
عمر بن سعد نے فوراً “عمرو بن حجاج” کو 500 سواروں کے ساتھ فرات کے کنارے کھڑا کیا اور امام حسین (ع) اور ان کے ساتھیوں کو پانی تک پہنچنے سے روک دیا۔
2. اس دن “عبداللہ بن حسین ازدی” نامی ایک شخص – جو “بجیلہ” قبیلہ سے تھا – چیخ کر بولا: “اے حسین! تم اس پانی کو پھر کبھی آسمان جیسا نیلا نہیں دیکھو گے! خدا کی قسم تم اس کا ایک قطرہ نہیں پیو گے، یہاں تک کہ پیاس سے مر جاؤ!”
امام علیہ السلام نے فرمایا: “اے خدا! اسے پیاس سے مار ڈالو اور اسے اپنی رحمت میں شامل نہ کرو۔”
حمید بن مسلم کہتے ہیں: مجھے خدا کی قسم اس گفتگو کے بعد میں ان سے ملنے گیا جب وہ بیمار تھے۔ قسم ہے اس خدا کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے عبداللہ بن حصین کو اتنا پانی پیتے دیکھا کہ ان کا پیٹ اٹھ جاتا اور وہ اسے اٹھاتے اور پھر پکارتے: پیاسے! وہ دوبارہ پانی پیتا مگر سیر نہ ہوتا۔ مرتے دم تک ایسا ہی رہا۔
یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر حضرت موسیٰ سے بات کی تھی۔
اس دن عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کو پانچ سو سواروں کے ساتھ فرات کی طرف روانہ کیا اور امام حسین (ع) کو پانی پینے سے منع کیا، اس خط کی وجہ سے جو ابن زیاد نے انہیں اس موضوع پر لکھا تھا۔
7 محرم الحرام 132 ہجری
عراق میں عباسی فوج اور اموی فوج کے درمیان جنگ۔
سنہ 131 ہجری میں، جب “الرضا من آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل خانہ” کے عنوان سے عباسیوں کی پکار پھیلی تو مختلف اسلامی خطوں میں ان کے حامیوں نے متحرک ہو کر امویوں اور ان کے ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کی۔ قطبہ بن شبیب عباسی مبلغین میں سے ایک تھا اور ان کے کمانڈروں میں سے ایک ابو خمسہ کے خلاف مسلم کمانڈر کی طرف سے لڑا گیا۔ ایران اور عراق میں
قحطبہ نے پہلے گورگان پر قبضہ کیا اور پھر قم، اصفہان اور ہمدان کی طرف کوچ کیا اور امویوں کو شکست دینے اور ہر شہر کو فتح کرنے کے لیے اپنے سپاہیوں کا ایک دستہ قحطبہ
رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد بھیجا۔ عراق میں
ابن ہبیرہ جو کہ عراق اور ایران میں امیہ کے بڑے ایجنٹوں میں سے ایک تھا، عراق میں واقع شہر واسط میں آباد ہوا اور اس کے ارد گرد کے علاقوں اور علاقوں پر قبضہ پاس آیا اور آپ سے پوچھا: سورۃ الاعراف کے شروع میں اللہ تعالیٰ کے الفاظ کا کیا مطلب ہے اور اس نے کیا کہا: “اس نے کیا کہا؟”
اس کی حلال و حرام کی نوعیت کیا ہے اور اس لفظ سے لوگوں کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ امام صادق علیہ السلام جو اس کے قابل اعتراض اور گستاخانہ سوال سے پریشان تھے، فرمایا: خاموش رہو! بدا بہلات، الف اس لفظ میں ایک ہے اور لام سے تیس، میم سے چالیس اور غم سے مراد ساٹھ 131 1+30+40+60 ہے، اب بتاؤ اب تک آپ کی دنیا کو کتنے سال ہوئے؟ یعنی اموی خاندان نے کتنے سال حکومت کی؟ اموی آدمی نے کہا: 131 سال۔
پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: جیسے ہی یہ سال ختم ہو جائے گا، تمہارے خاندان کی حکومت بھی ختم ہو جائے گی۔
ابن صادقہ نے کہا: ہم نے خود دیکھا کہ عاشورہ کے دن یعنی 132 محرم کی دسویں تاریخ کو عباسیوں کے سیاہ پوش حامیوں نے کوفہ میں داخل ہو کر اموی سلطنت کا تختہ الٹ دیا۔
اس طرح آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچی پیشین گوئی سچی ثابت ہوئی اور اموی خاندان اور ان کی جابرانہ حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔
ماخذ:
معلومات کا فضل اور ایام کے واقعات از شیخ عباس قمی۔۔۔۔۔۔۔
انتخاب اکمل سید لندن
……………………..
فہرست اصحاب امام حسینؑ علیہ السلام
(فہرست اصحاب امام حسین علیہ السلام سے رجوع مکرر)
یہ مقالہ اصحاب امام حسین(ع) کے بارے میں ہے۔ شہدائے کربلا سے آشنائی کے لئے، شہدائے کربلا دیکھئے۔
فهرست اصحاب امام حسینؑ میں وہ نام شامل ہیں جو شیعہ منابع میں امام حسینؑ کے اصحاب اور راوی کے نام سے ذکر ہوئے ہیں۔ شیخ طوسی نے اپنی کتاب رجال میں امام حسینؑ کے اصحاب کی فہرست میں 101 نام ذکر کئے ہیں۔
تعداد
شیخ طوسی نے اپنی رجال کی کتاب میں «اصحاب ابی عبدالله الحسین بن علی(ع)» کے ذیل میں 101 افراد کا نام ذکر کیا ہےجبکہ بریر بن خضیر، بدر بن معقل، بشیر بن عمرو، جابر بن حارث، سعید بن عبدالله حنفی، سیف بن حارث، عمار بن أبی سلامة، عمرو بن قرظة، قاسط بن زهیر، یزید بن زیاد، ام وهب و نیز سلیمان مولای بصریان جیسے اصحاب امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کا نام ذکر نہیں کیا ہے۔ بعض نے امام حسینؑ کے 146اور بعض نے 266 اصحاب کا نام ذکر کیا ہے جن میں سے بعض نے امام حسینؑ سے بالواسطہ روایت نقل کی ہے۔
رجال طوسی میں اصحاب امام حسین کے اسامی
شیخ طوسی نے اپنی رجال کی کتاب میں درج ذیل 101 اصحاب کا نام ذکر کیا ہے جن میں عامربن مسلم اور مسلم مولاه کا مجہول الحال ہونے کی تصریح کی ہے۔
انس بن حارث کاهلی.
اسعد شبامی.
اسلم مولی ابن مدینة.
بشر بن غالب.
بکیل بن سعید.
جابر بن عبدالله انصاری.
جعفر بن علی بن ابیطالب.
جون مولی ابی ذر.
جوین بن مالک.
جنادة بن حارث سلمانی.
جندب بن حجیر.
جعید همدانی.
حبیب بن مظاهر.
حنظلة.
حر بن یزید ریاحی.
حجاج بن مالک.
حجاج بن مرزوق.
حلاش بن عمرو.
حنظلة بن اسعد شبامی.
رشید هجری.
رمیث بن عمرو.
زید بن ارقم.
زید بن معقل.
زاهر، صاحب عمرو بن حمق.
زهیر بن قین.
سلیم بن قیس هلالی.
سلیمان مولی حسین علیهالسلام.
سیف بن مالک.
سوید بن عمرو بن ابی مطاع.
سفیان بن سریع.
سوار بن منعم بن حابس.
سعد بن عبدالله.
شبیب بن عبدالله نهشلی.
شریح بن سعد بن حارثة.
شوذب مولی شاکر.
ضرغامة بن مالک.
طرماح بن عدی.
ظالم بن عمرو ویکنی ابا الاسود الدؤلی.
عقیصا یکنی ابا سعید.
عمرو بن قیس مشرقی.
عامر بن کثیر سراج وکان من دعاته(ع).
عباس بن علی بن ابی طالب.
عبدالله بن علی اخوه، أمهام البنین ایضا قتل معه(ع).
علی بن الحسین الاصغر .
عبدالله بن حسین بن علی بن ابی طالب(ع).
عون بن عبدالله بن جعفر
عبدالله بن مسلم بن عقیل
عبدالله بن یقطر رضیعه.
عبدالرحمان بن عبد ربه خزرجی.
عمران بن کعب.
عبدالله بن عرزه
عبدالرحمان بن عرزه
عمرو بن ضبیعة.
عبدالله بن یزید بن نبیط
عبید الله بن یزید بن نبیط
عامر بن مسلم
عمار بن حسان.
عمرو بن ثمامة.
عیاض بن ابی مهاجر.
عمرو بن عبدالله انصاری
عبدالرحمان بن عبدالله ارحبی.
عمار بن ابی سلامة دالانی.
عابس بن ابی شبیب شاکری.
عمران بن عبدالله خزاعی من خزاعة.
عبدالله بن سلیمان.
عباس بن فضل
عقبة بن سمعان.
عبدالله بن عمیرة.
عبدالله بن حکیم بن جبله.
فراس بن جعدة بن زهیر.
قرظة بن کعب انصاری.
قیس بن مسهر صیداوی.
قاسط بن عبدالله.
قاسم بن حبیب.
کنانة بن عتیق.
کیسان بن کلیب یکنی ابا صادق.
لوط بن یحیی .
میثم تمار.
منهال بن عمرو اسدی.
محمد بن علی امهام ولد.
محمد بن عبدالله بن جعفر.
محمد بن ابیسعید بن عقیل.
منجح.
مسلم بن عوسجه اسدی.
مقسط بن عبدالله أخو قاسط.
مسلم مولاه علیهالسلام مجهول.
مسعود بن حجاج.
مجمع بن عبدالله عائذی
مسلم بن کثیر اعرج.
منیر بن عمرو بن احدب.
مالک بن سریع.
منذر بن سلیمان.
منیع بن رقاد.
نعیم بن عجلان.
نافع بن هلال جملی.
نعمان بن عمرو.
یزید بن ثبیط.
یزید بن حصین مشرقی.
ابوبکر بن علی بن ابیطالب.
ابن ابی الاسود دؤلی.
فاطمة بنت حبابة والبیة.
شهدای کربلا
اصلی مقالہ: شہدائے کربلا
شہدائے کربلا ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو 61ھ کو عاشورا کے دن کربلا میں عمر بن سعد کی لشکر سے لڑتے ہوئے شہادت پاگئے۔ ابومخنف(۱۵۷ق)، بلاذری(۲۹۷ق)، طبری(۳۱۰ق)، طبری شیعه( قرن چهارم)، مسکویه(۴۲۱ق)، خوارزمی(۵۶۸ق)، إبن أثیر(۶۳۰ق)، إبن حاتم(۶۶۴ق) إبن کثیر(۷۷۴ق) و دمشقی(۸۷۱ق) کی نقل کے مطابق عاشورا کے دن امام حسینؑ کے 72 اصحاب شہید ہوئے ہیں۔ ابومخنف(۱۵۷ق)، بلاذری(۲۷۹)، دینوری(۲۸۲ق)، طبری(۳۱۰ق)، شیخ مفید(۴۱۳ق)، طبرسی(۵۴۸ق)، خوارزمی(۵۶۸ق)، إبن نما (۶۴۵ق)، إبن عدیم(۶۶۰ق)، إبن حاتم(۶۶۴ق)، إبن کثیر(۷۷۴ق)، دمشقی(۸۷۱ق) و العینی(۸۵۵ق) کے ایک اور نقل کے مطابق عاشورا کے دن 72 شہدا کے سروں کو تن سے جدا کر کے کوفہ بھیجے گئے۔
باب امام
شیخ طوسی(۲۶۰ق) کے نقل کے مطابق رشید هجری امام حسینؑ کے اصحاب میں سے تھےاور ابن شهر آشوب، کفعمی اور طبری شیعه نے انہیںباب امام حسینؑ کا لقب دیا ہے۔
حوالہ جات
طوسی، رجال الطوسی، ۱۴۱۵ق، ص۹۹-۱۰۶.
ناظمزاده قمی، اصحاب امام حسین از مدینه تا کربلا، ۱۳۹۰ش.
عطاردی، مسند الامام الشهید، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۳۱۳-۴۱۸.
شیخ طوسی، رجال، ۱۴۱۵ق، ص۹۷- ۱۰۷.
ابومخنف، مقتل الحسین، أبومخنف،۱۳۶۴ش، ص۲۰۲. طبری، تاریخ طبری، موسسة الاعلمی، ج۴، ص۳۴۸. طبری، دلائل الإمامة،۱۴۱۳ق، ص۱۷۸. مسکویه، تجارب الامم،۱۳۶۶ش، ج۲، ص۷۳. بلاذری، أنساب الأشراف، دار الفکر، ج۳، ص۴۱۱. خوارزمی، مقتل الحسین، ۱۴۱۸ق، ج۲، ص۴۴. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ،۱۳۸۶ق، ج۴، ص۸۰. ابن حاتم، الدرالنظیم، نشر اسلامی، ص۵۵۹. ابن کثیر، البدایة و النّهایة، ۱۴۰۸ق، ج۸، ص۲۰۶. دمشقی، جواهر المطالب، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۲۹۰.
ابومخنف، مقتل الحسین، ۱۳۶۴ق، ص۲۰۴. بلاذری، انساب الاشراف، دار الفکر، ج۳، ص۲۰۶. دینوری، الأخبار الطوال،۱۹۶۰م، ص۲۵۹. طبری، تاریخ طبری، موسسة الاعلمی، ج۴، ص۳۴۹. شیخ مفید، الإرشاد،۱۴۱۴ق ج۲، ص۱۱۳. طبرسی، إعلام الوری، دار الکتب الاسلامیة، ص۲۵۱. خوارزمی، مقتل الحسین، ۱۴۱۸ق، ج۲، ص۴۵. ابن نما، مثیرالأحزان،۱۳۶۹ق، ص۶۵. ابن عدیم، بغية الطلب، ۱۴۰۸ق، ج۶، ص۲۶۳۰. ابن حاتم، الدر النظیم، نشر اسلامی، ص۵۵۹. ابن کثیر، البدایة و النّهایة، ۱۴۰۸ق، ج۸، ص۲۰۶. دمشقی، جواهر المطالب،۱۴۱۵ق، ج۲، ص۲۹۰. العینی، عمدة القاري، دار احیاء التراث العربی، ج۱۶، ص۲۴۱.
شیخ طوسی، رجال،۱۴۱۵ق، ص۱۰۰
جباری، سازمان وکالت، ۱۳۸۲ش، ص۴۲۳.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اصل جسے آقا کی حضوری ہو جائے
اکمل سید لندن
تین محرم الحرم 1447 بروز اتوار
حبیب بن مظاہر علیہ السلام
عربی: حبيب بن مظاہر الااسدی
وجہ شہرت رفقا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور علی بن ابی طالب
وفات جمعہ، 10 محرم (مہینہ) 61 ہجری / 10 اکتوبر، 680 (عیسوی تقویم) (عمر 75)
مقام تدفین کربلا، عراق امام حسین علیہ السلام کے قرب حرم کے اندر
موت کی وجہ واقعہ کربلا امام حسین علیہ السلام کا خط رقم کر کے کربلا میں بلانا ۔۔۔
والد مظاہر مذہب اسلام
حبیب بن مظاہر اسدی (عربی: حبيب بن مظاہر الأسدي) بنو اسد قبیلہ سے صحابی رسول تھے۔ جنھوں نے واقعہ کربلا میں امام حسین کی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ وہ واقعہ کربلا میں شہید ہونے والوں میں سے ایک تھے۔
نام و نسب
نام حبیب کنیہ ابو ثور تھا۔ نسب یوں تھا حبیب بن مظاہر بن رئاب بن اشتر۔ آپ ہجرت سے 13 سال پہلے یمن کے قبیلہ بنو اسد میں پیدا ہوئے۔ 9ھ میں مدینہ آ کر رہنے لگے۔
صحابیت
حبیب بن مظاہر اسدی خاندان بنو اسد کے معروف فرد اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور امام علی علیہ السلام، امام حسن و امام حسین علیہم السلام کے وفادار ساتھی تھے۔عسقلانی ان کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ حبیب بن مظاہر بن رئاب بن الاشتر۔۔۔الاسدی کان صحابیاً لہ ادراک وعمر حتی قتل مع الحسینؑ یوم الطف مع ابن عمہ ربیۃ بن خوط بن رئاب مکنی اباثور۔
فضیلت و عظمت
معتبر منابع میں ان کے حالات زندگی اور کربلا میں جہاد کا ذکر مفصل ملتا ہے۔ حبیب بن مظاہر حضرت علی علیہ السلام کے شاگرد خاص اور وفادار صحابی تھے اپنے مولا علیؑ کے ساتھ کئی جنگوں میں شرکت کی، بہت سے علوم پر دسترس تھی زہد و تقویٰ کے مالک تھے ان کاشمار پارسایان شب اورشیران روز میں ہوتا ہے ہرشب ختم قرآن کرتے تھے۔
صاحب رجال کشی (اختیار معرفۃ الرجال)، فضیل بن زبیر کے حوالہ سے حضرت حبیب بن مظاہر اورمیثم تمار کے مابین ہونے والے مکالمے کو نقل کرتے ہیں جس میں یہ دونوں حضرات اپنی شہادت سے متعلق پیش آنے والے حالات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے یہ تربیت شدہ شاگردعلم باطن اور علم بلایا و منایا (آئندہ آنے والی مشکلات ومصائب) پر کس قدر تسلط رکھتے تھے۔
حضرت حبیب بن مظاہر کا شمار راویان حدیث میں بھی ہوتا ہے روایت میں ہے کہ حبیب ایک مرتبہ امام حسینؑ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ حضرات قبل از خلقت آدمؑ کس صورت میں تھے؟ حضرت امام حسینؑ نے فرمایا: ہم نور کی مانند تھے اور عرش الٰہی کے گرد طواف کر رہے تھے اور فرشتوں کو تسبیح و تحمید و تہلیل سکھاتے تھے
قیام امام حسین میں کردار
حضرت حبیب ان افراد میں شامل تھے۔ جنھوں نے سب سے پہلے امام حسینؑ کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔پھر جب حضرت مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے تو سب سے پہلا شخص جس نے حضرت مسلم کی حمایت اور وفاداری کا اعلان کیا عابس بن ابی شبیب شاکری تھے اس کے بعد حبیب بن مظاہر کھڑے ہوئے اور عابس شاکری کی بات کی تائید کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے: خدا تم پررحم کرے کہ تونے بہترین انداز میں مختصر الفاظ کے ساتھ اپنے دل کاحال بیان کر دیا خدا کی قسم میں بھی اسی نظریہ پر پختہ یقین رکھتا ہوں جسے عابس نے بیان کیا ہے۔
اس طرح حبیب حضرت مسلم کے بہترین حامی تھے اور مسلم بن عوسجہ کے ساتھ مل کر حضرت مسلم بن عقیل کے لیے لوگوں سے بیعت لیتے تھے لیکن جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کے بعد اہل کوفہ کی بے وفائی کی وجہ سے ان کے قبیلہ والوں نے مجبوراً ان دونوں (حبیب اور مسلم بن عوسجہ) کو مخفی کر دیا لیکن جونہی حبیب بن مظاہر کو امام حسین علیہ السلام کے کربلا پہنچنے کی خبر ملی تو رات کے وقت سے فائدہ اٹھا کرحضرت ؑ سے جاملے حالت یہ تھی کہ دن کو مخفی ہو جاتے اور رات کو سفر کرتے یہاں تک کہ اپنی دلی آرزو کو پا لیا۔
اگرچہ بعض منابع نے ذکر کیا ہے کہ حضرت امام حسینؑ کو جب جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی توآپؑ نے حبیب بن مظاہر کوخط لکھ کر بلایا۔لیکن یہ مطلب معتبر ذرائع کی رو سے ثابت نہیں ہے۔
کربلا پہنچنے کے بعد جب عمر بن سعد کے لشکر میں اضافہ ہوتا دیکھا تو امام ؑ سے اجازت لے کر اپنے قبیلہ بنی اسد کے پاس گئے اور مفصل خطاب کے بعد انھیں امام حسینؑ کی مدد و نصرت کے لیے درخواست کی جس کاخلاصہ ملاحظہ فرمائیے: میں تمھارے لیے بہترین تحفہ لایا ہوں وہ یہ کہ درخواست کرتا ہوں فرزند رسولؐ کی مدد کے لیے تیار ہو جاؤ۔۔۔ نواسۂ رسولؐ آج عمر سعد کے بائیس ہزار لشکر کے محاصرہ میں ہے آپ لوگ میرے ہم قبیلہ ہیں میری بات پر توجہ کریں تاکہ دنیا و آخرت کی سعادت تمھیں نصیب ہو سکے خدا کی قسم تم میں سے جوبھی فرزند رسول خداؐ کے قدموں میں جان قربان کرے گا مقام اعلیٰ علیین پر حضرت رسول خداؐ کے ساتھ محشور ہوگا۔
حضرت حبیب کی تقریر اتنی موثر تھی کہ بہت سے لوگوں نے اس آواز پرلبیک کہا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کاساتھ دینے کے لیے آمادہ و تیارہوگئے لیکن ارزق بن حرب صیدادی (جو اسی قبیلہ کا ملعون تھا) نے چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ ان افراد پر حملہ کر کے انھیں منتشر کر دیا حبیب نے یہ اطلاع حضرت امامؑ کو پہنچائی جب حضرت امام حسینؑ اپنے خدا سے راز و نیاز کرنے کے لیے عصر تاسوعا (نہم محرم) کو دشمن سے مہلت طلب کی تو اس دوران میں، حبیب نے لشکر عمر سعد کو موعظہ ونصیحت کرتے ہوئے کہا: خدا کی قسم! کتنی بری قوم ہو گی کہ جب فردائے قیامت اپنے پیغمبرؐ کے حضور حاضر ہوں گے توایسے حال میں کہ اسی رسولؐ کے نواسہ اور ان کے یار و انصار کے خون سے اس کے ہاتھ آلودہ ہوں گے۔
شہادت کی موت سے محبت کا یہ عالم ہے کہ جب شب عاشور اپنے ساتھ یزید بن حصین سے مزاح کرتے ہیں تو یزید بن حصین نے کہا کہ یہ کیسا وقت ہے مزاح کا؟ جبکہ ہم دشمن کے محاصرے میں ہیں اورہم موت کے منہ میں جانے والے ہیں تو حبیب نے کہا اے دوست اس سے بہتر کون سا خوشی کا وقت ہو گا جبکہ ہم بہت جلد اپنے دشمن کے ہاتھوں شہید ہو کر بہشت میں پہنچنے والے ہیں۔
ایک روایت کے مطابق شب عاشور جب ہلال بن نافع نے حبیب بن مظاہر کوبتایا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا پریشان ہیں کہ میرے بھائی حسینؑ کے صحابی کہیں بے وفائی نہ کرجائیں توآپ تمام اصحاب کو جمع کرکے درخیمہ پر لائے اورحضرت زینب ؑ کی خدمت میں صمیم دل سے اظہار وفاداری کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا دوبارہ عہد کیا تاکہ حضرت زینبؑ کی یہ پریشانی ختم ہو سکے۔
شہادت
صبح روز عاشور حضرت امام حسینؑ نے اپنے لشکر کو منظم کیا دائیں طرف موجود لشکر کی کمانڈ زہیربن قین اور بائیں طرف حبیب بن مظاہر جبکہ قلب لشکر کی سربراہی حضرت ابوالفضل العباس ؑ کے سپرد کی اسی اثنا میں دشمن کے سپاہی وارد میدان ہوکر مبارزہ طلب کرتے ہیں تو حبیب مقابلہ کے لیے آمادہ ہوئے لیکن حضرت امام ؑ نے روک لیا اس طرح ظہر عاشور جب امام ؑ نے لشکر عمر بن سعد سے نماز ادا کرنے کی خاطر جنگ بندی کے لیے کہا توایک ملعون نے گستاخی کرتے ہوئے کیا کہ تمھاری نماز قبول نہیں ہوگی(نعوذباللہ)اس وقت حضرت حبیب سے برداشت نہ ہوا اور فوراً یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے: اے حمار(گدھے)!تیرے خیال باطل میں آل پیغمبرؐ کی نماز قبول نہیں؟! اور تمھاری نماز قبول ہے؟!! اس طرح دونوں کامقابلہ ہوا حبیب نے اس ملعون کوزمین پرگرادیا پھر باقاعدہ
رجز پڑھتے ہوئے وارد میدان ہوئے شدید جنگ کی دشمن کے کئی افراد کوواصل جہنم کیا لیکن ایک تیمی شخص نے تلوار کاوار کیا جس کی تاب نہ لاکرآپ شہید ہو گئے اس نے آپ کے سرکوجداکرلیا اسی سرکو بعد میں گھوڑے کی گردن میں باندھ کر کوفہ میں پھرایا گیا گویا کوفہ کا نامور مجاہد اہل کوفہ سے یہ کہہ رہا تھا دیکھو یہ سرآل رسولؐ کی خاطر کٹ سکتا ہے لیکن دشمن کے سامنے جھک نہیں سکتا۔[15]السلام علیک یاحبیب بن مظاہرالاسدی۔
جو اصحاب یا قارئین مطالعے کا شوق رکھتے ہیں ان سے گزراش ہے کہ حوالہ جات کے لئے ان کتب سے رجوع فرمائیں ۔۔۔۔راقم
الاصابہ، حرف حا (حبیب بن مظاہر )
حوالہ جات
رجال، شیخ طوسی ؒ، ص38، 68
الاصابہ، حرف حا (حبیب بن مظاہر )
سفینۃ البحار، ج2، ص26
تفصیلی مکالمہ ملاحظہ ہو۔ رجال کشی ص78
بحارالانوار، مجلسی، ج 40، ص311۔(تسبیح یعنی سبحان اللہ’تحمید یعنی الحمد للہ، اورتہلیل یعنی لاالہ الا اللہ کہنا)
تاریخ الطبری، ج5، ص352
تاریخ الطبری، ج5، ص355
ابصارالعین، سماوی، ص78
اعیان الشیعہ، ج2، ص554
اسرار الشہادہ، ص 396
شہدائے کربلا، ص134
الفتوح، ج5، ص159
اخیارالرجال، الکشی، ص79
الدّمعۃ الساکبہ، ج4، ص274
شہدائے کربلا، ص135
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اقوال زریں امام حسین علیہ السلام
قال الامام الحسین علیہ السلام:
” یا اعرابی نحن قوم لا نعطی المعروف الا علی قدر المعرفة “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں :” ہم اہل بیت بخشش نہیں کرتے مگر لوگوں کی معرفت کے مطابق“۔
حدیث -۲-
قال الامام الحسین علیہ السلام :
” ان اجود الناس من اعطی من لا یرجوہ “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں:
” سب سے بڑا سخی وہ انسان ہے جو کسی ایسے کو عطا کرے جس سے کسی قسم کی توقع نہ ہو “
حدیث -۳-
قال الامام الحسین علیہ السلام:
” ان اعفیٰ الناس من عفا عن قدرة “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں :” سب سے بڑا عفو کرنے والا انسان وہ ہے جو قدرت ہونے کے باوجود معاف کر دے “ ۔
حدیث -۴-
قال الامام الحسین علیہ السلام:
” ان اوصل الناس من وصل من قطعہ “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں :
” سب سے زیادہ صلہٴ رحم کرنے والا انسان وہ ہے جو قطع رحم کرنے والوں سے تعلقات قائم کرے “ ۔
حدیث -۵-
قال الامام الحسین علیہ السلام:
” من نفس کربة مومن فرج اللہ عنہ کرب الدنیا و الاخرة “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں:
” جو کسی مومن کے کرب و غم کو دور کرے ،خدا اسکے دنیا و آخرت کے غم و اندوہ کو دور کرے گا “۔
حدیث -۶-
قال الامام الحسین علیہ السلام:
” موت فی عز خیر من حیات فی ذل “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں :
” ذلت کی زندگی سے عزت کی موت کہیں بہتر ہے “ ۔
حدیث -۷-
قال الامام الحسین علیہ السلام:
” ان حوائج الناس الیکم من نعم اللہ علیکم فلا تملوا النعم فتحور نقما “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں :
” خدا کی نعمتوں میں سے ایک، لوگوں کو تمھارے پاس حاجت کے لئے آنا ہے پس اس نعمت پر حزن و ملال محسوس نہ کرو ورنہ یہ نعمت ، نقمت میں تبدیل ہو جائیگی “۔
حدیث -۸-
قال الامام الحسین علیہ السلام:
” ایھا الناس من جاد ساد ، و من بخل رذل “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں :
” لوگو! جود و سخاوت کرنے والا سردارقرار پاتا ہے ، اور بخل کرنے والا ذلیل و رسوا ہوتا ہے “۔
حدیث -۹-
قال الامام الحسین علیہ السلام:
”ان المومن لا یسئی و لا یعتذر والمنافق کل یوم یسئی و یعتذر “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں:
” مومن نہ برائی کرتا ہے نہ ہی عذر پیش کرتا ہے جب کہ منافق ہر روز برائی کرتا ہے اور ہر روز عذر خواہی کرتا ہے “ ۔
حدیث -۱۰-
قال الامام الحسین علیہ السلام:
” من احبک نھاک و من ابغضک اغراک “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں:
”دوست وہ ہے جو تمہیں برائی سے بچائے دشمن وہ ہے جو تمہیں برائیوں کی ترغیب دلائے “۔
حدیث -۱۱-
قال الامام الحسین علیہ السلام:
” انی لا اری الموت الا سعادہ ولا الحیاة مع الظالمیں الابرما “
ترجمہ:
حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں :
” میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتہ زندگی کو لائق ملامت سمجہتا ہوں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
واقعات کربلا ورود میدان کربلا
اکمل سید
جب صبح ہوئی تو امام حسین علیہ السلام نے نیچے اتر کر صبح کی نماز پڑھی ، پھر جلدی سے سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ بائیں طرف چلے گئے۔ امام اپنے ساتھیوں کو حر کے لشکر سے الگ کرنا چاہتے تھے۔ حور بھی اپنی فوج کے ساتھ اسی سمت بڑھے اور انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جب حر کی فوج نے انہیں کوفہ کی طرف جانے سے سختی سے روکا تو انہوں نے بھی حور کی مزاحمت کی ، حر کی فوج کو ایک طرف دھکیل دیا اور بائیں جانب بڑھتے رہے اور نینویٰ پہنچنے تک جدوجہد کرتے رہے۔
ابن زیاد کا حر ریاحی کو خط
اسی وقت انہوں نے دیکھا کہ ایک گھڑ سوار کوفہ سے آرہا ہے جس کے جسم پر ہتھیار اور کندھے پر کمان ہے۔ تو وہ سب اس کا انتظار کرنے لگے۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو اس نے حور اور ان کے ساتھیوں کو سلام کیا لیکن حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو سلام نہیں کیا۔ پھر اس نے حر کو ابن زیاد کی طرف سے ایک خط دیا جس کا مواد کچھ یوں تھا: “جب سے میرا خط آپ تک پہنچا ہے اور میرا قاصد آچکا ہے، اس لیے حسین کے ساتھ سختی سے پیش آؤ اور اسے خشک، بنجر زمین میں بغیر پناہ کے اتار دو، میں نے اپنے قاصد کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر وقت تمہارے ساتھ رہے اور جب تک مجھے میرے حکم کے نافذ ہونے کی خبر نہ ملے آپ کو نہ چھوڑیں۔”
خط پڑھنے کے بعد حر نے امام اور ان کے ساتھیوں سے کہا: “یہ عبید اللہ ابن زیاد کا خط ہے، جس میں اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ جہاں اس کا خط پہنچے، آپ سے سختی کروں، یہ شخص بھی اس کا قاصد ہے اور اسے حکم دیا گیا ہے کہ جب تک میں تمہارے بارے میں امیر کے حکم پر عمل نہ کروں، مجھے نہ چھوڑو۔”
ابو الشاح اور ابن زیاد کا ایلچی
یزید بن زیاد کے ایلچی ابو الشیعہ نے اسے پہچان لیا اور کہا: “کیا تم مالک بن ناصر بدیع قبیلہ کندہ سے ہو ؟” (“کندہ” یمن کے مشہور قبیلوں میں سے ایک ہے اور بنو بدہ اسی قبیلے کی ایک شاخ ہے، یقیناً “بنو بدلہ” کا کندہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ عدنان قبائل سے ہے، اس لیے ابو الشعثہ کو ایک ہی وقت میں “بدلی” اور “کندہ” کے نام سے متعارف کرانا بھی بدہ کی غیر مبہم شاخ ہے۔ شجرہ نسب کی کتابیں بہر حال، ابو الشاح نے مالک کو پہچاننے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ہی قبیلے سے ہیں۔اس نے کہا: ہاں، میں ہوں۔ یزید بن زیاد نے کہا: تمہاری ماں تمہارے لیے ماتم کرے، تم کیا حکم لے کر آئے ہو؟ اس نے کہا: میں سردار ( یزید ) کا پیروکار ہوں اور اس کی بیعت کا وفادار ہوں ۔ ابو الشعثہ نے کہا: بلکہ تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اپنے آپ کو تباہ کرنے میں اپنے سردار کی اطاعت کی اور اپنے لیے ذلت اور جہنم تیار کر لی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( اور ہم نے انہیں آگ اور قیامت کے دن کی طرف بلایا )’ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیشوا بنا دیا ہے اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔‘‘ ایسا ہے تمہارا لیڈر۔
یہاں، ابن اعثم کی روایت اس سلسلے میں طبری اور دوسرے لوگوں کی روایت سے مختلف ہے : ابن اعثم کی رپورٹ میں ابن زیاد کا حر کے نام خط کہتا ہے: “میرے بھائی، حسین کے ساتھ سختی سے پیش آؤ اور جب تک اسے میرے پاس نہ لے آؤ اس سے جدا نہ ہونا۔” (یہ حقیقت کہ حور کو امام کو کوفہ لے جانے کے لیے عبیداللہ کے ذریعے تفویض کیا گیا تھا اس کا تذکرہ حسین (ع) کی ترجہ اور ابن سعد کی مقتل اور دینوری کی کتاب الاخبار الطوال میں بھی ہے ، اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ عبیداللہ نے امام کو کوفہ لے جانے کا ارادہ کیا تھا، ورنہ اس شہر میں وہ آزاد نہیں ہوں گے۔ امام کے دشمن کوفہ میں امام کی موجودگی سے خوفزدہ تھے اور انہیں کوفہ سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے تھے جب حر نے خط پڑھا (خیمہ سے نکلا اور) اپنے معتبر ساتھیوں کو بھیجا اور ان کو اپنے پاس بلایا اور کہا: تم پر افسوس ابن زیاد نے مجھے حسین علیہ السلام کے ساتھ برا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے لیکن خدا کی قسم میرا دل اس پر راضی نہیں ہے۔ چنانچہ ابو الشاعۃ حر کے ساتھیوں میں سے ایک تھا (جیسا کہ اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ ابو الشطاء حر کی فوج کا حصہ تھا، وہ ان لوگوں میں سے ہے جو
جنگ ختم ہونے کے بعد امام کے ساتھ شامل ہوئے اور عمر بن سعد نے فیصلہ کیا، اس لیے شیخ مفید کا بیان جس نے ابو الشیعہ کو امام ضعیف کے صحابی کے طور پر متعارف کرایا۔ ایلچی درست نہیں لگتا ہے کہ شیخ مفید اور دیگر نے ابو الشاح کے شعلہ بیان الفاظ پر یقین کیا تھا وہ قاصد عبیداللہ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: “تمہاری ماں کو تمہارے لیے ماتم کرنا چاہیے، تم کیا حکم لے کر آئے ہو؟”
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مَنْ کُنْتُ مَولاهُ فَهذا عَلِی مَولاهُ
علامہ امینی نے کتاب الغدیر میں ۱۱۰ صحابہ، ۸۴ تابعیناور ۳۶۰ اہل سنت کے علماءکا ذکر کیا ہے جنہوں نے اس حدیث کو دوسرا صدی سے چودہویں صدی تک نقل کیا۔ اس حدیث کے کچہ اہم صحابہ راوی درج ذیل ہیں: امام علی(ع)، امام حسن و امام حسین(ع)، امام باقر(ع)، ابوبکر، عمر، عثمان، عائشہ، ام سلمہ، زید بن ارقم، جابر بن عبدالله انصاری، عباس بن عبدالمطلب، عبدالله بن عباس، سلمان فارسی، عمار یاسر، ابوذر غفاری، اصبغ بن نباتہ اور ابوہریرہ۔ ابن مغازلی نے ابوالقاسم فضل بن محمد سے نقل کیا کہ اس حدیث کو سو افراد نے نقل کیا جن میں عشرہ مبشرہ بہی شامل تہے۔ابلوی «فوق ایدیپم» امام علی کے ساتہ بیعت کے موضوع پر ہے جو کہ غدیرخم میں ہے۔ اثر: حسن روح الامین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیعہ متکلمین حضرت علی (ع) کی خلافت اور امامت کی حقانیت اور اولویت کے اثبات کے لیے اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں۔ شیعہ عقیدہ رکہتے ہیں کہ اس روایت میں ‘مولیٰ کا لفظ متن کی اندرونی و بیرونی شواہد کی بنا پر اولی کے معنی میں ہے اور جیسے رسول اللہ (ص) مسلمانان کے امور میں ان سے زیادہ مستحق تہے، اسی طرح امام علی (ع) بہی ایسی ہی اولویت رکہتے ہیں۔ جب ایسی اولیت ثابت ہو جائے، تو امامت بہی ثابت ہو جاتی ہے؛ کیونکہ عربی زبان میں اولی کا لفظ صرف اس صورت میں استعمال ہوتا ہے جب مولی، لوگوں کی سرپرستی کرتا ہے اور اس کے احکامات ان لوگوں کے لیے معتبر اور قبول کیے جاتے ہیں۔ اور جب تصرف کی اولیت ثابت ہو گئی، تو ان کی اولیت مسلمانان کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں ثابت ہو جاتی ہے، جیسے رسول اللہ (ص) کی اولیت تہی: ‘اَلنَّبِیُّ أَوْلی بِالْمُؤْمِنینَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ (ترجمہ: نبی مؤمنوں پر ان کے اپنے نفسوں سے زیادہ مستحق ہیں۔) سورہ احزاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس حدیث میں، نبی کریم (ص) مؤمنوں پر اپنی برتری کی وضاحت فرماتے ہیں۔ یہ بات آیت شریفہ «النبی اولی بالمؤمنین من انفسهم» کے مطابق ہے۔ جو برتری اس آیت میں بیان کی گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم (ص) کی مؤمنوں کے معاملات میں سرپرستی اور ان کے بارے میں فیصلہ کرنے میں سبقت ہے۔ جب کسی کی برتری ہو تو اس کی اطاعت اور حکم کو قبول کرنا بہی ضروری ہوتا ہے۔ کچہ مفسرین کے مطابق، اس آیت میں برتری دین اور دنیا کے تمام امور کو شامل کرتی ہے؛ کیونکہ نبی اکرم (ص) مؤمنوں کو صرف ان چیزوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو ان کے دین اور دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر ہوں۔
پیغمبر نے غدیر کے دن مسلمانوں کو پکارا اور کہا: تمہارا نبی اور ولی کون ہے؟ بغیر کسی توقف کے انہوں نے کہا: خداوند ہمارا ولی ہے اور تم ہمارے پیغمبر ہو۔ اور اس معاملے میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے۔ پیغمبر نے علی سے فرمایا: اٹہو، کہ تم میرے بعد اس قوم کے پیشوا ہو۔ جس کا میں ولی ہوں، علی بہی اس کا ولی ہے اور تم پر لازم ہے کہ تم اس کے سچے پیروکار بنو۔ یہاں پیغمبر نے دعا کی: اے خدا! اس کے دوست کا دوست اور اس کے دشمن کا دشمن بن!
اسلام اور خاص کر مسلم دینا میں عید غدیر کی اہمیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیز نے واقعہ غدیر کو جاویدانہ قرار دیا اور اس کی حقیقت کو ثابت کیا ہے وہ اس روز کا ”عید“ قرار پانا ہے۔ روز غدیر، عید شمار ہوتی ہے، اور اس کے شب و روز میں عبادت، خشوع و خضوع، جشن اور غریبوں کے ساتہ نیکی نیز خاندان میں آمد و رفت ہوتی ہے ، اور مومنین اس جشن میں اچہے کپڑے پہنتے اور زینت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
جب مومنین ایسے کاموں کی طرف راغب ہوں تو ان کے اسباب کی طرف متوجہ ہوکر اس کے روایوں کی تحقیق کرتے ہیں اور اس واقعہ کو نقل کرتے ہیں، اشعار پڑہتے ہیں، جس کی وجہ سے ہر سال جوان نسل کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، اور ہمیشہ اس واقعہ کی سند اور اس سے متعلق احادیث پڑہی جاتی ہیں، جس کے بنا پر وہ ہمیشگی بن جاتی ہیں۔ عید غدیر سے متعلق دو طرح کی بحث کی جاسکتی ہے:۔۔۔۔۔۔
۱۔ شیعوں سے عید غدیر مخصوص نہ ہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عید صرف شیعوں سے مخصوص نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی نسبت شیعہ خاص اہتمام رکہتے ہیں؛ مسلمانوں کے دیگر فرقے بہی عید غدیر میں شیعوں کے ساتہ شریک ہیں، غیر شیعہ علماء نے بہی اس روز کی فضیلت اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی طرف سے حضرت علی علیہ السلام کے مقام ولایت پر فائز ہونے کی وجہ سے عید قرار دینے کے سلسلہ میں گفتگو کی ہے؛ کیونکہ یہ دن حضرت علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کے لئے خوشی و مسرت کا دن ہے چاہے آپ کو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کا بلا فصل خلیفہ مانتے ہوں یا چوتہا خلیفہ۔
بیرونی ”الآثار الباقیہ “ میں روز غدیر کو ان دنوں میں شمار کرتے ہیں جس کو مسلمانوں نے عید قرار دیا ہے ابن طلحہ شافعی کہتے ہیں:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے اشعار میں روز غدیر خم کا ذکر کیا ہے اور اس روز کو عید شمار کیا ہے، کیونکہ اس روز رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے آپ کو اپنا جانشین منصوب کیا اور تمام مخلوقات پر فضیلت دی ہے۔“۔۔۔۔۔۔
مولا کے معنی ۔۔۔۔۔۔۔
”لفظ مولا کا جو معنی بہی رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے لئے ثابت کرنا ممکن ہو وہی حضرت علی علیہ السلام کے لئے بہی معین ہے، اور یہ ایک بلند مرتبہ، عظیم منزلت، بلند درجہ اور رفیع مقام ہے جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے حضرت علی علیہ السلام سے مخصوص کیا، لہٰذا اولیائے الٰہی کے نزدیک یہ دن عید اور مسرت کا روز قرار پایا ہے۔“۔۔۔۔۔۔۔
تاریخی کتب سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ امت اسلامیہ مشرق و مغرب میں اس دن کے عید ہونے پر متفق ہیں، مصری، مغربی اور عراقی (ایرانی و ہندی) اس روز کی عظمت کے قائل ہیں، اوران کے نزدیک روز غدیر نماز، دعا، خطبہ اور مدح سرائی کا معین دن ہے ،اور اس روز کے عید ہونے پر ان لوگوںکا اتفاق ہے۔۔۔۔۔۔۔
ابن خلّکان کہتے ہیں:
”پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)حجۃ الوداع میں مکہ سے واپسی میں جب غدیر خم میں پہنچے، اپنے اور علی کے درمیان ”عقد اخوت“ پڑہا، اور ان کو اپنے لئے موسیٰ کے نزدیک ہارون کی طرح قرار دیا اور فرمایا: ”خدا یا! جو ان کی ولایت کو قبول کرے اس کو دوست رکہ اور جو ان کی ولایت کے تحت نہ آئے اور ان سے دشمنی کرے اس کو دشمن رکہ، اور ان کے ناصروں کا مددگار ہوجا، اور ان کو ذلیل کرنے والوں کو رسوا کردے“۔ اور شیعہ اس روز کو خاص اہمیت دیتے ہیں مسعودی نے ابن خلّکان کی گفتگو کی تائید کی ہے، چنانچہ موصوف کہتے ہیں:اولاد علی علیہ السلام اور ان کے شیعہ اس روز کی یاد مناتے ہیں
ثعالبی، شب غدیر کو امت اسلامیہ کے نزدیک مشہور شبوں میں شمار کرتے ہوئے کہتے ہیں:
”یہ وہ شب ہے جس کی کل میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے غدیر خم میں اونٹوں کے کجاؤں کے منبر پر ایک خطبہ دیا اور فرمایا: ”من کنت مولاہ فعلیّ مولاہ“، اور شیعوں نے اس شب کو محترم شمار کیا ہے اور وہ اس رات میں عبادت اور شب بیداری کرتے ہیں۔“
۲۔ عید غدیر کی ابتدائی تاریخ کی ورق گرانی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس عظیم عید کی ابتداء پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے زمانہ سے ہوئی ہے۔ اس کی شروعات اس وقت ہوئی جب پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے غدیر کے صحرا میں خداوندعالم کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام کو امامت و ولایت کے لئے منصوب کیا۔ جس کی بنا پر اس روز ہر مومن شاد و مسرور ہوگیا، اور حضرت علی علیہ السلام کے پاس آکر مبارکباد پیش کی۔ مبارک باد پیش کرنے والوں میں عمر و ابوبکر بہی ہیں جن کی طرف پہلے اشارہ ہوچکا ہے، اور اس واقعہ کو اہم قرار دیتے ہوئے اور اس مبارکباد کی وجہ سے حسان بن ثابت اور قیس بن سعد بن عبادہٴ انصاری وغیرہ نے اس واقعہ کو اپنے اشعار میں بیان کیا ہے۔
غدیر کے پیغامات
اس زمانہ میں بعض افراد ”غدیر کے پیغامات“ کو اسلامی معاشرہ میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا مناسب ہے کہ اس موضوع کی اچہی طرح تحقیق کی جائے کہ ”غدیر خم “کے پیغامات کیا کیا ہیں ؟ کیا اس کے پیغامات رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی حیات مبارک اور آپ کی وفات کے بعد کے زمانہ سے مخصوص ہیں یا روز قیامت تک ان پر عمل کیا جاسکتا ہے؟ اب ہم یہاں پر غدیر کے پیغام اور نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی یاددہانی جشن اور محفل کے موقع پر کرانا ضروری ہے:
۱۔ ہر پیغمبر کے بعد ایک ایسی معصوم شخصیت کا ہونا ضروری ہے جو ان کے راستہ کو آگے بڑہائے اور ان کے اغراض و مقاصد کو لوگوں تک پہنچائے، اور کم سے کم دین و شریعت کے ارکان اور مجموعہ کی پاسداری کرے، جیسا کہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اپنے بعد کے لئے ان چیزوں کے لئے جانشین معنی کیا اور ہمارے زمانہ میں ایسی شخصیت حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں۔
۲۔ انبیاء علیہم السلام کا جانشین خداوندعالم کی طرف سے منصوب ہونا چاہئے جن کا تعارف پیغمبر کے ذریعہ ہوتا ہے، جیسا کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اپنے بعد کے لئے اپنا جانشین معین کیا؛ کیونکہ مقام امامت ایک الٰہی منصب ہے اور ہر امام
خداوندعالم کی طرف سے خاص یا عام طریقہ سے منصوب ہوتا ہے۔
۳۔ غدیر کے پیغامات میں سے ایک مسئلہ رہبری اور اس کے صفات و خصوصیات کا مسئلہ ہے، ہر کس و ناکس اسلامی معاشرہ میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کا جانشین نہیں ہوسکتا، رہبر حضرت علی علیہ السلام کی طرح ہو جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے راستہ پر ہو، اور آپ کے احکام و فرمان کو نافذ کرے، لیکن اگر کوئی ایسا نہ ہو تو اس کی بیعت نہیں کرنا چاہئے۔ لہٰذا غدیر کا مسئلہ، اسلام کے سیاسی مسائل کے ساتہ متحد ہے۔
چنانچہ ہم ”یمن“ میں ملاحظہ کرتے ہیں کہ چوتہی صدی کے وسط سے جشن غدیر کا مسئلہ پیش آیا اور ہر سال عظیم الشان طریقہ پر یہ جشن منعقد ہوتا رہا، اور مومنین ہر سال اس واقعہ کی یاد تازہ کرتے رہے اور نبوی معاشرہ میں رہبری کے شرائط سے آشنا ہوتے رہے، اگرچہ چند سال سے میں حکومت وقت اس جشن کے اہم فوائد اور پیغامات کی بنا پر اس میں آڑے آنے لگی، یہاں تک کہ ہر سال اس جشن کو منعقد کرنے کے اصرار کی وجہ سے چند لوگ قتل ہوجاتے ہیں، لیکن پہر بہی مومنین اسلامی معاشرہ میں اس جشن کی برکتوں اور فوائد کی وجہ سے اس کو منعقد کرنے پر مصمم ہیں۔
۴۔ غدیر کا ایک ہمیشگی پیغام یہ ہے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے بعد اسلامی معاشرہ کا رہبر اور نمونہ حضرت علی علیہ السلام یا ان جیسے ائمہ معصومین میں سے ہو۔ یہ حضرات ہم پر ولایت اور حاکمیت رکہتے ہیں، لہٰذا ہمیں ان حضرات کی ولایت کو قبول کرتے ہوئے ان کی برکات سے فیضیاب ہونا چاہئے۔
۵۔ غدیر اور جشن غدیر ، شیعیت کی نشانی ہے، اور در حقیقت غدیر کا واقعہ اس پیغام کا اعلان کرتا ہے کہ حق (کہ حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد کی محوریت میں ہے) کے ساتہ عہد و پیمان کریں تاکہ کامیابی حاصل ہوجائے۔
۶۔ واقعہ غدیر سے ایک پیغام یہ بہی ملتا ہے کہ انسان کو حق و حقیقت کے پہنچانے کے لئے ہمیشہ کوشش کرنا چاہئے اور حق بیان کرنے میں کوتاہی سے کام نہیں لینا چاہئے؛ کیونکہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اگرچہ یہ جانتے تہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کے وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا، لیکن لوگوں پر حجت تمام کردی، اور کسی بہی موقع پر مخصوصاً حجۃ الوداع اور غدیر خم میں حق بیان کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔
۷۔ روز قیامت تک باقی رہنے والا غدیر کا ایک پیغام اہل بیت علیہم السلام کی دینی مرجعیت ہے، اسی وجہ سے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے انہیں دنوں میں حدیث ”ثقلین“ کو بیان کیا اور مسلمانوں کو اپنے معصوم اہل بیت سے شریعت اور دینی
احکام حاصل کرنے کی رہنمائی فرمائی۔
۸۔ غدیر کا ایک پیغام یہ ہے کہ بعض مواقع پر مصلحت کی خاطر اور اہم مصلحت کی وجہ سے مہم مصلحت کو نظر انداز اور اس کو اہم مصلحت پر قربان کیا جاسکتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام حالانکہ خداوندعالم کی طرف سے اور رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی رہبری اور مقام خلافت پر منصوب ہوچکے تہے، لیکن جب آپ نے دیکہا کہ اگر میں اپنا حق لینے کے لئے اٹہتا ہوں تو قتل و غارت اور جنگ کا بازار گرم ہوجائے گا اور یہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت میں نہیں ہے تو آپ نے صرف وعظ و نصیحت، اتمام حجت اور اپنی مظلومیت کے اظہار کو کافی سمجہا تاکہ اسلام محفوظ رہے؛ کیونکہ حضرت علی علیہ السلام اگر اس کے علاوہ کرتے جو آپ نے کیا تو پہر اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک دردناک حادثہ پیش آتا جس کی تلافی ممکن نہیں تہی، لہٰذا یہ روز قیامت تک امت اسلامیہ کے لئے ایک عظیم سبق ہے کہ کبہی کبہی اہم مصلحت کے لئے مہم مصلحت کو چہوڑا جاسکتا ہے۔
۹۔ اکمال دین، اتمام نعمت اور حق و حقیقت کے بیان اور لوگوں پر اتمام حجت کرنے سے خداوندعالم کی رضایت حاصل ہوتیہے، جیسا کہ آیہٴ شریفہ ”اکمال“ میں اشارہ ہوچکا ہے۔
۱۰۔ تبلیغ اور حق کے بیان کے لئے عام اعلان کیا جائے، اور چہپ کر کام نہ کیا جائے، جیسا کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے حجۃ الوداع میں ولایت کا اعلان کیا اور لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے ملاٴ عام میں ولایت کو پہنچا دیا۔
۱۱۔ خلافت، جانشینی اور امت اسلامیہ کی صحیح رہبری کا مسئلہ تمام مسائل میں سر فہرست ہے اور کبہی بہی اس کو ترک نہیں کرنا چاہئے، جیسا کہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)حالانکہ مدینہ میں خطرناک بیماری پہیل گئی تہی اور بہت سے لوگوں کو زمین گیر کردیا تہا لیکن آپ نے ولایت کے پہنچانے کی خاطر اس مشکل پر توجہ نہیں کی اور آپ نے سفر کا آغاز کیا اور اس سفر میں اپنے بعد کے لئے جانشینی اور ولایت کے مسئلہ کو لوگوں کے سامنے بیان کیا۔
۱۲۔ اسلامی معاشرہ میں صحیح رہبری کا مسئلہ روح اسلامی اور شریعت کی جان کی طرح ہے کہ اگر اس مسئلہ کو بیان نہ کیا جائے تو پہر اسلامی معاشرہ کے ستون درہم و برہم ہوجائیں گے، لہٰذا خداوندعالم نے اپنے رسول سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
<۔۔۔وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ۔۔۔۔۔۔۔
”اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔“۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] الآثار الباقیہ فی القرون الخالیہ، ص۳۳۴۔
[2] مطالب السوٴول، ص۵۳۔
[3] مطالب السوٴول، ص۵۶۔
[4] وفیات الاعیان، ابن خلکان، ج۱، ص۶۰ و ج۲، ص۲۲۳۔
[5] وفیات الاعیان، ابن خلکان، ج۱، ص۶۰ و ج۲، ص۲۲۳۔
[6] التنبیہ و الإشراف، مسعودی، ص۲۲۱۔
[7] ثمار القلوب، ثعالبی، ص۵۱۱۔
[8] سورہ مائدہ، آیت ۶۷۔
ذرائع : http://www.al-shia.org/
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پسران مسلم
” سر زمین عراق قرب کوفہ ” مسیب نامی شخص کہتا ہے دریائے فرات کے کنارے میرا دریائی کنواں تھا رات کا وقت تھا اپنے کھیت کو پانی سے سیراب کر رہا تھا۔۔۔۔ اچانک دریا کے دوسرے کنارے سے مجھے گریہ کی صدا سنائی دی جیسے کوئی مستور بین کررہی ہوں میں آواز کی طرف متوجہ ہوا تو ایک خاتوں بی بی ص بین کررہی تھی کہ تمہیں کہاں کہاں روؤں تمہارے دکھوں پر کہاں کہاں آنسو بہاؤں کربلا روؤں یا کوفہ کی راہوں پر آنسو بہاؤں شام کی گلیوں میں گریہ کروں یا بہتے ہوئے دریا میں گریہ؟۔۔۔۔۔۔مسیب کہتا ہے کہ ان کی صدا اس قدر پر درد تھی اس مستور کی صدا سے کہ میرا اونٹ تڑپ کر زمین پر گرا میں خود گریہ ہوا دریا کے کنارے کی سمت دوڑا مجھے دریا کی سطح پہ کوئی چیز نظر آئی دوسرے کنارے پر ایک برقعہ پوش مستور آہستہ آہستہ اس چیز کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی نظر آئی پر درد گریہ و بین کر کہہ رہی تھی کہ تمہارے دکھوں پر قربان ہو جاؤں باقی کتنا سفر اور کرو گے مسیب کہتا ہے کہ میں نے دریا کے کنارے پر ذرا نیچے جا کر قریب سے دیکھا کہ دو چھوٹے چھوٹے جسموں کے لاشے ہیں ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈالی ہوئی ہیں اور دریا کے بہاؤ کی مخالف سمت محو سفر ہیں میں نے سر جھکا کر اس مستور ص سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ اور یہ کن کے اجسام کے لاشے ہیں؟ آہستہ آہستہ پر درد گریہ والی صدا آئی کہ میں تمہارے نبی ص کی بیٹی ص ہوں میں اجڑ گئی ہوں یہ میرے لعل مسلم ص کے یتیم ہیں احسان کرو انکو دفن کرو مسیب تمہاری جنت کی ضامن ہوں مسیب کہتا ہے میں فورآ دریا میں اترا تیر کر ان نھنی لاشوں کے اجسام جانب بڑھنے لگا کہ جہاں ان معصوم شہزادوں ص کے جسم اطہر موجود تھے مگر میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جس قدر میں ان کے قریب جانے کی کوشش کرتا جسم اطہر اس قدر مجھ سے دور ہو جاتے تھے جب کافی دیر کوشش کے باوجود میں ان کے قریب نہ پہنچ سکا تو میں نے اس پاک معظمہ ص سے عرض کی کہ اے میری سردار معظمہ بی بی ص یہ جسم مجھ سے دور ہوتے جارہے ہیں مجھے اپنے قریب نہیں آنے دیتے تب جواب ملا کہ یہ امت ملعونہ سے بہت ڈرے ہوئے ہیں اس لئے تمہیں اپنے قریب نہیں آنے دیتے پھر بی بی ص فرماتی ہیں میرے لعل نہ ڈرو یہ تمہیں کچھ نہیں کہے گا مسیب کہتا ہے کہ میں جسموں کو باہر لے آیا میں نے بیلچہ اٹھایا تربتوں کو تیار کیا بچوں کی غربت اور مظلومی پر جی بھر کر رویا میری آنکھیں ٹوٹ کر برستی رہیں میرا رخ شام کی طرف ہو گیا میں نے رو رو کر کہا اے شام میں امت کی مہمان بی بی ص آپ کی پسران محمد و ابراہیم دنیا سے ظلم جور کے بعد دریا برد کئے ان کے آخری دیدار کیلئے تو تشریف لے آئیں برقعہ پوش بی بی ص مولا حسین علیہ السلام کی والدہ گرامی ہیں جو کہہ رہی ہیں نہ مارو…. العجل
حوالہ “مقتل ابی داود”
سفیرِ حسین مسلم بن عقیل کے پسران کی پُر درد شہادت ہدیہ تعزیت
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بی بی پاک دامنہ
نام اسلام کا اور گفتگو میں ابو جہل
ادارہ منہاج الصالحین کے بانی ریاض حسین جعفری نے اپنے ایک انٹرویو جو کہ یو ٹیوب پر موجود ہے اس میں مخدومہ سیدہ رقیعہ بنت مولا علی علیہ اسلام کی شان میں گستاخی کی اور یہ کہا کہ یہ موچی دروازے کی سیدزادیاں ہیں یہ بنت علی ع کا مزار نہیں اور اس مزار کو مشہور کرنے میں ذاکر اہلبیت جناب عاشق حسین بی -اے صاحب مرحوم کا ہاتھ ہے ۔۔۔
پہلی بات ہم ریاض جعفری کے اس بیان کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور مسلک اہل تشیع کے اکابرین سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کا نوٹس لیا جائے اور اس جیسے بازاری مولویوں کو پٹہ ڈالا جائے ورنہ یہ آگ بہت دور تک پھیلے گی جس کی لپیٹ میں بہت کچھ آئے گا ۔۔۔
اور دوسری بات اگر ریاض جعفری تک میری پوسٹ پہنچے تو محترم تمھارا ناقص علم اور تمھاری تحقیق حرف آخر نہیں اور نہ ہی تم عوام پر حجت ہو کہ جو تم نے کہہ دیا اور لکھ دیا اس کا ماننا سب پر فرض ہے ۔ اور جس تاریخ کی تو بات کرتا ہے اس تاریخ کے مورخین تو ہر دور میں بکتے رہے تم لوگوں نے خاندان عبدالمطلب ع کو اپنا ذریعہ معاش بنایا ہوا ہے اور عوام کو تم لوگوں نے چسکوں پر لگایا ہوا ہے کہ جیسا چسکا عوام کو چاہئے وہ تم لوگ سنا دیتے ہو ۔۔۔۔کس تاریخ کی بات کرتے ہو تم جس تاریخ نے ابو طالب ع کو کافر لکھا ۔۔۔جس تاریخ نے ملکہ شام ع کو بے اولاد لکھا ۔۔جس تاریخ نے ابو الفضل العباس ع کو نوکر ۔ غلام غیر معصوم لکھا اور پھر قطع النسل لکھا جو تاریخ حضرت طالب ع پر خاموش ہے جو تاریخ حضرت محسن ع پر خاموش ہے جو تاریخ امام حسن ع کی زندگی کے بہت سارے پہلو چھپا دیتی ہے جو تاریخ بنی ہاشم ع کے جوانان کے بہادری کے کارنامے چھپا کر مظلوم سے مظلوم تر ثابت کرتی ہے جو تاریخ سیادت کو محدود 2 شخصیات پر کرتی ہے ۔۔کس تاریخ کی بات کرتے ہو تم ریاض جعفری ؟؟؟؟؟؟؟؟ اے صاحب عبا قبا وردی پہن لینے سے کوئی علامہ نہیں بن جاتا ۔۔۔۔۔۔تم سب تاجران خون حسین ہو ۔۔۔۔۔۔
کوئی حج کوئی زیارت اور کوئی مجالس و محافل کے نام پر قوم لوٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔اور اب تو مذہبی اداروں میں یہ دلال کا کام بھی کرتے ہیں قوم کی بہو بیٹیوں بھی ان سے مھفوظ نہیں ۔۔۔۔
لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن فی الحال اپنا علم اور علمی کمزوری کو عوام پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کرو ۔۔۔۔ہم ہر اس شخص پر (چاہے وہ عباء قباء والا ہو یا جناح کیپ والا ہو) لعنت کرتے ہیں جو ال عمران ع پر بد زبانی یا بد کلامی یا اپنے زاتی قیاس پر یا بنو امیہ اور بنو امیہ کی من گھڑت روایات اور تواریخ کے ریفرنسز سے بیان کرتے ہیں
درود و سلام بر قبیلہ بنو ہاشم ع
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ملا ازم اور انسانیت
ایسے بھی انسان ہوتے ہیں جو جانوروں اور ان کے بچوں کا بھی خیال رکھتے ہیں لیکن جو شیعہ کے لبادے میں ملا، ازم ہو وہ کسی مشکل محاز پر کسی مومن مجاہد کا ساتھ نہیں دیتا حالانکے چھوٹا سا کام ایک دو بڑے اداروں کی طرف سے کچھ معقول تعاون چاہئے تھا ملا، ازم نے مسئلہ فدق بنا دیا ہے، اور ایسے ہی یوکے میں جتنے اداروں کے اندر مومنین میں مس انڈرسٹینڈنگ ہو جائے ملا ازم کھبی مصالحتی رول یا مسائل کا حل نہیں کرتا،یہ صرف دین کا لبادہ اصل میں محراب منبر پر فدق کاچور دجالی مشن کو کامیاب کرنے کے لیے اندر چھپے چند اسرائیلی ایجنٹ ہے جو شیعہ ملت کے لیے انگلینڈ میں ملا، ازم سعودی شھزادے جیسے اسلام کے لیے خطرہ ہیں ایسے ہی تشیع کے لیے یوکے میں ملا ازم نئی نسلوں اور اتحاد وحدت کے لیے خطرہ ہیں،

کیونکہ اسلام دشمن کے شیطانی ہتھکنڈوں کے مقابل اسلامی روحانی تعلیمی تنظیمی نظام اکثریت واہ واہ کی حد تک ہے،نئی نسلوں کو سن بلوغت سے پہلے بگڑے ماحول معاشرے میں تباہ و برباد ہو کر والدین کا نافرمان ہوجانا قومی اجتماعی فیلئیر ہے اور دینی اداروں کے اوپر نون پروفیشنل سیکولر دنیا کی دوڑے کے لوگ مسلط ہیں، اور جو چند مخلص لوگ اداروں میں ہوتے ہیں ان کو بھی کام نہیں کرنے دیتے،جو تعلیمی نظام عدل انصاف اور امربالمعروف ونہی عن المنکر کے دشمن ہیںکئی کئی نسلوں کو ماڈرن اسلام یعنی دین کا صرف لبادہ جو اوپر اوپر سے علی علی اندر سے کوفی شامی منافق ملا،ازم کے ایجنٹ جو اکثر چند نعرے یا مصائب کے دوران چیخیں بھی مارتے نظر آتے ہوں گے لیکن عملی طور پر ان کا مال اولاد دین کے راستے پر اور دین کے لیے کام نہیں آسکتا بلکہ رکاوٹ کھڑی کرنا مومنیں کو آپس میں توڑنا ان کا کام ہوتا ہے،
یہاں پر مخلص اور سادہ لوح مومنین سے معافی چاہتا ہوں، لیکن کیونکہ اس تحریر کا مقصد قومی و ملی نقصانات کی طرف توجہ دلانا قوم کی دل کی نگاہ آن کرنا ہے اور وہ لوگ جو شیعہ تو ہیں لیکن کوفی شامی منافق لوگوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے نہ دینی مشن میں ساتھ دیتے ہیں نہ دل کی نگاہ رکھتے ہیں، تو مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے عذاب برے لوگوں کی برائی کی وجہ سے نہیں آتے بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی کی وجہ سے آتے ہیں، لہذا مومنین اس مشن آل محمد میں ہمارا ساتھ دین کیونکہ ملا، ازم دولت کا پجاری ہے یہ غنڈے مدمعاش لوگوں کا ساتھ دیتا ہے حق سچ بات کرنے والے درویش کا ساتھ نہیں دیتا ہے لہذا مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیں ہماری مشکلات الہادی گلوبل نیوز یوٹیوپ چینل پر ملائحظہ فرما سکتے ہیں، خادم ملت سفیر امن سید قمر عباس نقوی چیئرمین الہادی گلوبل ویلفیئر ٹرسٹ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مسلم بن عقیل ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت
اس کی پیدائش اور نسب:
مسلم بن عقیل بن ابی طالب 12 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ اس کی ماں ایک لونڈی (غلام) تھی جسے عقیل نے شام سے خریدا تھا۔ جہاں تک مسلم کی بیوی کا تعلق ہے، وہ رقیہ تھیں، جو امیر المومنین علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔
بعض نے ان روایات پر انحصار کیا جو اسلامی فتوحات میں مسلمانوں کی موجودگی اور جنگ صفین میں ان کی شرکت کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اسی بنیاد پر ان کی عمر کا اندازہ پچاس سال سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ مسلمانوں کی قبر مسجد کوفہ کے مشرقی جانب واقع ہے۔
ان کے والد عقیل ابن ابی طالب تھے، جو ایک قریشی تھے، نسب کے ماہر تھے اور عربوں میں سب سے زیادہ فصیح تھے۔ اس کی والدہ، ایک بیان کے مطابق، فرزندہ کے خاندان سے ایک نباطین تھیں۔ ایک اور روایت کہتی ہے کہ وہ لونڈی تھی اور اس کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ “عالیہ” تھیں اور “مقاتل الطالبین” میں ہے کہ: “وہ “حلیہ” تھی اور کہا جاتا ہے کہ اس کا نام “خلیلہ” تھا۔ عقیل نے اسے شام سے خریدا تھا اور اس نے اسے مسلمان کیا ۔
مسلم، عبدالمطلب کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے مشابہ بیٹے تھے۔خدا ان کو اور ان کے اہل خانہ کو سلامت رکھے اور انہیں سکون عطا فرمائےبعض ذرائع نے ذکر کیا ہے کہ وہ عقیل کے بیٹوں میں سب سے بہادر تھا ۔
تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ مسلم بن عقیل ایک مضبوط جنگجو اور بہادر ہیرو تھا۔ الدنوری اس کی بہادری کے بارے میں کہتے ہیں: ” عقیل کے بیٹے الحسین بن علی بن ابی طالب کے ساتھ نکلے اور ان میں سے نو کو قتل کر دیا، مسلم بن عقیل ان میں سب سے زیادہ بہادر تھا، وہ حسین میں سب سے آگے تھا، اور عبید اللہ بن زیاد نے اسے صبر سے قتل کیا۔”
احمد الکوفی نے اپنی کتاب الفتوح میں ذکر کیا ہے : عبید اللہ بن زیاد نے محمد بن اشعث کی قیادت میں تین سو آدمی مسلمانوں کے پاس بھیجے۔ مسلم نے گھوڑوں کے کھروں کی آواز سنی تو مسکرائے اور کہا: اے جان! اس موت کی طرف نکل جا جس سے چھٹکارا نہیں ہے۔
مسلمان ایک مشتعل شیر کی طرح لوگوں کے سامنے نکلا اور اپنی تلوار سے ان پر وار کرنے لگا یہاں تک کہ اس نے ان کے ایک گروہ کو مار ڈالا۔ اس کی خبر عبید اللہ بن زیاد کو پہنچی تو اس نے محمد بن اشعث کے پاس بھیجا اور کہا: خدا کی قسم ! ہم نے آپ کو اپنے پاس ایک آدمی لانے کے لیے بھیجا تھا اور اس نے میرے ساتھیوں میں بڑا خلل ڈالا۔ محمد بن اشعث نے ان کے پاس بھیجا: اے امیر! کیا تم نہیں جانتے کہ تم نے مجھے ایک زبردست شیر اور ایک زبردست تلوار کے پاس بھیجا ہے، جو عظیم قد کے ہیرو کے ہاتھ میں ہے، بنی نوع انسان کے بہترین خاندان میں سے؟
امام حسین کے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل ( 60 ہجری میں شہید ہوئے )، حسین کے سب سے پہلے ساتھیوں میں سے شہید ہوئے جب امام نے انہیں اہل کوفہ کے پاس ان کی بیعت کے لیے بھیجا۔ اس نے اپنے چچا امام علی کے ساتھ جنگ صفین کا مشاہدہ کیا اور ان کی فوج کے قائدین میں سے تھے۔ السلام علیکمالسلام علیکمالسلام علیکمالسلام علیکم
مسلم بن عقیل
مسلم ابن عقیل کا مزار مسجد کوفہ کے ساتھ ہے۔
مسلم ابن عقیل کا مزار مسجد کوفہ کے ساتھ ہے۔
موت کی تاریخ 9 ذی الحجہ 60 ہجری
موت کی جگہ کوفہ
موت کا سبب اسے عبید اللہ ابن زیاد نے قتل کیا۔
تدفین مسجد کوفہ
نشانیاں مسجد کوفہ کے قریب ان کا مزار ہے۔
وجہ شہرت کوفہ میں امام حسین کا سفیرالسلام علیکم
شوہر رقیہ بنت علی ابن ابی طالب علیہ السلام
بچے عبداللہ ، علی اور محمد
قابل ذکر کام حسینی نشاۃ ثانیہ کی راہ میں پہلا شہید شیعہ حلقوں میں مسلمان کو ایک باوقار مقام حاصل ہے ، جہاں ہر سال محرم کے مہینے میں اس کے لیے سوگ کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ عرب شیعہ کمیونٹیز میں محرم کی پانچویں رات کو مسلم ابن عقیل کی رات کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ان کی سیرت اور فضائل:
مسلم بن عقیل علیہ السلام بنو ہاشم کے چشم چراغ تھے۔ وہ ایک ذہین، باشعور اور بہادر آدمی تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے انہیں “میرا امانت دار” کہا، جس کا ذکر انہوں نے اہل کوفہ کے نام اپنے خط میں کیا ہے۔
ان کی بہادری کی وجہ سے ان کے چچا، امیر المومنین علیہ السلام نے انہیں صفین کی جنگ کے لیے منتخب کیا اور انہیں لشکر کے دائیں جانب بٹھا دیا۔
الصدوق امالی میں:
علی علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:
(اے اللہ کے رسول، کیا آپ عقیل سے محبت کرتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، خدا کی قسم، میں اس سے دو مرتبہ محبت کرتا ہوں: اس سے محبت اور ابو طالب کی اس سے محبت، اس کا بیٹا قتل کیا جائے گا – یعنی مسلمان – آپ کے بیٹے کی محبت کی وجہ سے، تو مومنین کی آنکھیں اس کے لیے آنسو بہائیں گی، اور خدا کے مقرب فرشتے اس کے لیے دعا کریں گے۔)
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روئے یہاں تک کہ آپ کے سینے سے آنسو بہہ نکلے، پھر فرمایا: (میں اللہ سے شکایت کرتا ہوں کہ میرے بعد میرے اہل و عیال کو کیا سامنا ہوگا)۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوفہ کی طرف روانگی:
امام حسین علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ اپنی طرف سے ایک نمائندہ کوفہ بھیجیں تاکہ ان کے لیے ماحول تیار کیا جائے اور واقعات کی حقیقت ان تک پہنچائی جائے، تاکہ وہ مناسب موقف کا فیصلہ کر سکیں۔ اس سفیر میں ایسی خوبیاں ہونی چاہئیں جو اسے اس سفارت خانے کے لیے اہل بنائیں، اس لیے یہ انتخاب مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو ان کی عقلمندی، ہمت اور اخلاص کی بنا پر ہوا۔
مسلم بن عقیل (علیہ السلام) 60 ہجری میں پندرہ رمضان المبارک کو مکہ سے عراق کی طرف روانہ ہوئے، ان کے ساتھ دو راہنما ان کو راستہ دکھا رہے تھے۔ گرمی کا موسم تھا اور صحرا کی ریت کوفہ کی طرف بڑھتے ہوئے قافلے پر اپنی چنگاریاں اور پیاس پھینک رہی تھی۔
یہ قافلہ ہولناکیوں، خطرات اور مغالطوں سے گزرا، جن میں سے مسلم بن عقیل (علیہ السلام) کے لیے سب سے مشکل یہ تھی کہ دو راہنما جو ان کے ساتھ تھے راستہ بھول گئے، پانی ختم ہوگیا اور وہ پیاس سے مر گئے۔
مسلم (صلی اللہ علیہ وسلم) ان دونوں راہنماؤں کو لے جانے کے قابل نہیں تھے، اس لیے آپ نے ان کو چھوڑ دیا اور آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہیں راستہ معلوم ہوگیا۔ اس نے پانی کے ذرائع دیکھے تو تھکاوٹ سے تنگ آ کر اس نے اپنا سامان روک لیا۔
پھر کوفہ کی طرف چلتے رہے یہاں تک کہ اسی سال شوال کی پانچ تاریخ کو اس میں داخل ہوئے۔ اس نے (المختار بن ابی عبیدہ الثقفی) کے گھر قیام کیا اور اسے کوفہ میں اپنے سیاسی کام کا ہیڈکوارٹر بنایا۔
جب سے مسلم بن عقیل علیہ السلام کوفہ پہنچے تو انہوں نے وہاں کے لوگوں کو یزید کی حکومت کے خلاف اکٹھا کرنا شروع کیا، حامیوں کو اکٹھا کرنا اور امام حسین علیہ السلام کی بیعت کرنا شروع کی، یہاں تک کہ ان کے پاس سپاہیوں اور حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، چنانچہ ان کی بیعت کرنے والوں کی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ گئی جس کا تذکرہ کتاب میں کیا گیا ہے اور امام حسین علیہ السلام کی حمایت کے لیے ان کی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ گئی۔ الذہب)۔
اس طرح کے واقعات یزید اور اس کے حامیوں سے پوشیدہ نہیں تھے کیونکہ اموی حکومت کے ایجنٹوں نے مرکزی اتھارٹی کو بہت سے خطوط لکھے۔ ہم آپ کے لیے ان خطوط میں سے ایک کا حوالہ دیتے ہیں:
(اور اس کے بعد مسلم بن عقیل کوفہ آئے اور شیعوں نے ان سے حسین بن علی بن ابی طالب کی بیعت کی، اگر آپ کو کوفہ میں ضرورت ہو تو وہاں ایک مضبوط آدمی بھیجیں جو آپ کے حکم کی تعمیل کرے اور آپ کے دشمن کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے، کیونکہ النعمان بن بشیر کمزور یا کمزور آدمی ہے)۔
یزید کو خط موصول ہوا اور اس نے اس معاملے پر بحث شروع کر دی، دہشت گردی اور جرائم میں ملوث ہونے کے لیے انتہائی ظالم اور قابل لوگوں کی تلاش شروع کی۔ آخر کار عبید اللہ ابن زیاد کا انتخاب ہوا۔ امارت کے محل میں پہنچنے کے بعد سے اس نے یزید کی حکومت کی مخالفت اور رد کرنے والوں کو دھمکانا شروع کر دیا۔
ہم یہاں ان کے اقوال سے یہ جملہ نقل کرتے ہیں:
(میرا کوڑا اور میری تلوار اس پر ہے جو میرے حکم کو ترک کرے اور میرے عہد کی نافرمانی کرے۔)
اس طرح اہم موڑ شروع ہوا اور شور مچانے والے ہجوم کے مارچ نے ایک اور رخ اختیار کرنا شروع کر دیا، کیونکہ کوفہ کے عوام اور اس کے کچھ آدمیوں کے چہروں پر مایوسی اور مایوسی کے آثار نمودار ہوئے۔
عبید اللہ ابن زیاد کی حکومت نے اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا شروع کر دیا، اور بھاری چھڑی، اور طاقت اور کنٹرول کے ذرائع جو اس سے واقف تھے، جیسے پیسہ، رشوت، دہشت گردی، اور جاسوسوں کو معلومات جمع کرنے اور افواہیں پھیلانے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا.
جہاں تک مسلم بن عقیل (علیہ السلام) کی پوزیشن کا تعلق ہے تو وہ کمزور اور متزلزل ہونے لگا اور وہ اپنے کام کے طریقہ کار اور اپنی پوزیشن کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے۔
وہ مختار بن عبیدہ کے گھر سے حکام کی نظروں سے چھپ کر ہانی بن عروہ کے گھر چلا گیا، یہاں تک کہ انٹیلی جنس ایجنٹوں نے اسے دریافت کیا اور عبید اللہ بن زیاد کو اس کے مقام کی اطلاع دی۔ ابن زیاد نے ہانی بن عروہ کو جو کہ مسلم بن عقیل (علیہ السلام) کے محافظ تھے، کو خفیہ اور بلاوجہ اس بہانے بلوایا کہ گورنر نے اسے اس کی عیادت کے لیے بھیجا ہے تاکہ ان کے درمیان اختلاف دور ہوجائے۔
جیسے ہی ہانی محل میں داخل ہوا، اس نے اپنے آپ کو ایک عدالت کے سامنے پایا، جس میں اس پر لگائے گئے الزامات اور جاسوس گواہی دے رہے تھے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے وفادار تھے۔
ہانی نے انکار کرنے کی کوشش کی لیکن ابن زیاد نے اس کے ہاتھ میں چھڑی سے اس پر حملہ کیا اور اس سے اس کا چہرہ کچل دیا۔ ہانی نے بھرپور طریقے سے اپنا دفاع کیا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکا۔ آخرکار ابن زیاد نے ہانی کو محل کے ایک کمرے میں قید کرنے کا حکم جاری کیا۔
ہانی کی قید کی خبر لوگوں میں پھیل گئی اور تنازعہ بڑھ گیا۔ کوفہ کے حالات خطرناک دھماکے کی دھمکی دینے لگے اور ابن زیاد کے حواریوں اور جاسوسوں نے پورے کوفہ میں افواہیں پھیلانا شروع کر دیں، لوگوں کو خوفزدہ کر دیا کہ شام سے ایک بہت بڑا لشکر آرہا ہے۔
انہوں نے لوگوں میں بے حسی کا جذبہ بھی پھیلانا شروع کر دیا اور انقلابیوں کی قوتوں کو وقت خریدنے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے سلامتی اور استحکام کے تحفظ پر زور دیا۔
کوفہ میں یہی صورت حال جاری رہی اور لوگ رفتہ رفتہ مسلم بن عقیل علیہ السلام سے منہ موڑتے گئے یہاں تک کہ مسلم کے ساتھ صرف دس آدمی رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز باجماعت پڑھائی اور جب وہ فارغ ہوئے تو پیچھے دیکھا تو ان میں سے کوئی نہ پایا۔
اس ہولناک منظر کا سامنا کرنے کے بعد، وہ کوفہ کی گلیوں میں پھرتا رہا یہاں تک کہ ابن زیاد کے حکام کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے پہلے اسے کوفہ چھوڑنے کا کوئی حل یا راستہ نہ ملا، تاکہ امام حسین علیہ السلام کو حالات کے پلٹ جانے سے آگاہ کر سکیں تاکہ وہ خیانت اور خیانت کے جال میں نہ پھنس جائیں۔
اس کے بعد ابن زیاد نے مسلم بن عقیل (علیہ السلام) کی تلاش میں کوفہ کے گھر گھر تلاشی لینے کا حکم جاری کیا، جو ایک جنگجو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاندان سے محبت کرنے والی خاتون کے گھر میں چھپی ہوئی تھی، جس کا نام (طواع) تھا۔
ابن زیاد کو جب اس کے محل وقوع کا علم ہوا تو اس نے ایک لشکر اس مکان پر بھیجا۔ مسلم بن عقیل (علیہ السلام) نے ان کا سخت مقابلہ کیا لیکن تقدیر نے چاہا کہ وہ ابن زیاد کی فوجوں کے ہتھے چڑھ گئے۔
پھر انہوں نے اسے محل میں بھیجا، اس کے اور ابن زیاد کے درمیان سخت زبانی بحث ہوئی، یہاں تک کہ ابن زیاد نے مسلم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہا:
تمہیں قتل کر دیا جائے، پھر ابن زیاد نے اپنے حواریوں کو حکم دیا کہ اسے محل کی چوٹی پر لے جاو، اس کی گردن مارو اور اس کی لاش کو محل کے اوپر سے پھینک دو۔
پھر خیانت کی تلوار مسلم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑی اور آپ کے سر اور جسم کے درمیان آگئی تاکہ وہ شہداء، صادقین اور صالحین میں شامل ہوجائیں۔
پھر جلاد ہانی بن عروہ رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے اور انہیں ہاتھ باندھ کر شہر کوفہ میں بکریوں کے بازار میں لے جایا گیا، جہاں انہیں قتل کر دیا گیا اور ان کا سر کاٹ دیا گیا۔
ابن زیاد نے 9 ذی الحجہ سنہ 60 ہجری کو یزید کے پاس اپنے دونوں سروں کو بھیجا۔
جہاں تک ان دونوں عظیم لاشوں کا تعلق ہے، جلاد انہیں رسیوں سے باندھ کر کوفہ کی گلیوں اور بازاروں میں گھسیٹتے رہے۔
اس طرح مزاحمت ختم ہوئی اور کوفہ میں انقلاب تھم گیا اور ایک نئے انقلاب کا آغاز ہوا۔ یہ بپھرا ہوا خون غصے اور انقلاب کے آتش فشاں میں تبدیل ہو گیا۔ آتش فشاں تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہے گا، پھر ظالموں اور خدا کے دشمنوں کے سامنے پھٹ پڑے گا۔
درحقیقت، یہ امام حسین علیہ السلام کے قتل کے بعد ہوا، کیونکہ ان کا خون اور ان کے خاندان کا خون اموی حکومت کے خلاف ایک سیاسی نعرے اور محرک میں بدل گیا۔
پھر توبہ کرنے والوں کا انقلاب برپا ہوا اور انہوں نے حسین علیہ
السلام کی حمایت میں ناکامی پر توبہ اور کفارہ کا نعرہ بلند کیا۔
اسی طرح المختار بن عبیدہ کا انقلاب برپا ہوا جس نے نعرہ “اے حسینؑ کا بدلہ” کا اعلان کیا۔ یہ تحریکیں اموی حکومت کے وجود کو کمزور کرتی رہیں یہاں تک کہ اسے 132 ہجری میں ختم کر دیا گیا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نئی رات نیا خواب اور اور صبح اس خواب کا جنازہ ۔۔۔۔۔ذاکریں اور ملائوں کی منڈیاں۔۔۔۔ طَرز ِستمگاری
قسط دوئم۔۔۔۔۔
بہت کچھ بکھرا ہوا ہے مجھ میں
ورنہ کون یوں بات بات پر روتا ہےزندگی میں سب سے بڑے سبق ہمیں کتابیں نہیں دیتیں، بلکہ لوگ سکھاتے ہیں — خاص طور پر وہ لوگ جن سے ہمارا روز کا واسطہ ہوتا ہے۔ لیکن ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب آپ کسی کو وہ نہیں دیتے جو وہ آپ سے چاہتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سے سیکھنے کا سفر شروع ہوتا ہے۔
انسانی فطرت ہے کہ جب تک ہم کسی کی خواہشات پوری کرتے رہیں، ہم اچھے لگتے ہیں، معتبر لگتے ہیں۔ لیکن جب ہم رک جاتے ہیں — خود کے لیے، اپنی عزتِ نفس کے لیے، اپنی تھکن کے لیے — تب ہمیں تنقید، بدگمانی یا کبھی خاموشی کا سامنا ہوتا ہے۔
اور یہیں سے وہ سیکھنے کا دور شروع ہوتا ہے جو ہمیں اندر سے مضبوط بناتا ہے۔
ہم سیکھتے ہیں کہ ہر تعلق محبت پر نہیں، مفاد پر بھی مبنی ہو سکتا ہے۔
استاد کا ایک چاہنے والا اُن کے لیے دیسی گھی میں پکے دو پراٹھے لے کر آیا۔
استاد نے پراٹھے ایک طرف رکھے اور اُٹھ کر ایک بڑا سا پیالہ لیا جس میں چینی ڈالی۔ ایک پراٹھے کو توڑا اور پیالے میں ڈھیر ساری چوری بنا لی۔ پھر اُٹھے اور کمرے کے چاروں کونوں میں وہ چوری زمین پر ڈال دی اور واپس آ کر مہان کے پاس بیٹھ کر کہا کہ لو ایک پراٹھا مل کر کھائیں۔
مہمان پریشانی سے زمین پر گری چوری پر نظریں مرکوز کیے تھا کہ اچانک بڑے بڑے حجم کے بتہ سے چوہے کونوں کھدروں سے نکلے اور تیزی سے چوری کھانے لگے۔
مہمان نے حیران ہو کر پوچھا کہ استادمحترم یہ کیا۔ہنس کر جواب دیا چوری ہے اور چوہے کھا رہے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔
میرے کمرے کے چاروں طرف دیکھو۔ میری ساری عمر کی کمائی۔ میرا خزانہ میری کتابیں تمہیں ہر طرف نظر آئیں گی۔ چوہے خوش ذائقہ چوری کے عادی ہیں۔ ان کو اب کتابوں کے کاغذوں کا بے مزہ ذائقہ اچھا نہیں لگتا۔ اس لیے چوہوں کو چوری کھلانے کا فائدہ یہ ہے کہ میری کتابیں محفوظ ہیں۔میرا خزانہ محفوظ ہے۔
تم بھی اگر اپنے کسی بھی خزانے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہو تو یاد رکھو اردگرد لوگوں کا خیال رکھو۔ انہیں چوری ڈالتے رہو۔ سدا سکھی رہو گے۔
پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد استاد نے مہمان سے مخاطب ہو کر پھر کہا ۔ زندگی بھر کے لیے ایک بات یاد رکھ۔ رب العزت زندگی میں جب بھی کبھی تمہیں کچھ دے۔ اُس میں سے کچھ حصہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو ضرور بانٹ دیا کرو ۔ کیونکہ لوگوں کی ہر اُس چیز پرنظر ہوتی ہے جو تمہارے پاس آتی ہے۔
ہم سیکھتے ہیں کہ خاموشی بھی کبھی کبھی بلند آواز سے زیادہ کچھ کہہ جاتی ہے۔
ہم سیکھتے ہیں کہ “سب کچھ دے دینا” ہمیشہ رشتوں کو نہیں بچاتا، کبھی کبھی بگاڑ دیتا ہے۔
لیکن سب سے اہم بات یہ کہ…ہم سیکھتے ہیں کہ ہم خود بھی اہم ہیں۔
ہمارا خود کا سکون، ہماری ترجیحات، ہماری حدیں — یہ سب بھی اہم ہیں۔
لہٰذا جب اگلی بار آپ وہ نہ دے پائیں جو دوسرا چاہتا ہے، تو شرمندہ مت ہوں۔کیونکہ شاید یہی وہ موقع ہے جو آپ کو لوگوں کی اصل پہچان دے رہا ہے۔
یہ لوگ کوئی اور نہیں تمہارے قریبی عزیز اور اچھے دوست ہیں۔ ان کا خیال رکھنا تمہارا اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نئی رات نیا خواب اور صبح اس خواب کا ۔جنازہ ۔۔۔۔۔
ٓ
ذاکریں اورملائوں کی منڈیاں۔۔۔۔ طَرز ِستمگاری
اکمل سید لندن۔۔۔۔۔۔
موجودہ حالات پاک بھارت محاذ آارائی نے گزشتہ رات یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ ہم ظالمین کی صف میں یا مظلومین کی صف میں کہانی طوالت اختیار کر جائے گی اور اس کو بھی اقساط میں تحریر کرنا ہے پاکستان کا درد اور خاص کر قومی نظریہ اور عقیدہ کی بات پر بہت سی باتیں کرنی مخصوص موضوع ہیں جوآہستہ آہستہ آ پ کے سامنے آئیں گی اور ہو سکتا ہے کہ شاید آپ میں سے کچھ افراد اس سے متفق نہ ہوں جو ضروری نہیں۔۔۔۔۔ ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے اپنا پیٹ بھرنے میں اور خاندان کو پالنے میں مصروف ہے چاہے وہ کسی کا دل دُکھا کر یا لالچ گناہ و ثواب دے کر مال کو لوٹنے میں مصروف ہے۔۔۔۔ حرام یا حلال۔۔۔۔۔فیصلہ آپ کا ہو گا کہ آپ کس پلڑے میں اپنے آپ کو پاتے ہیں۔
بہر حال چند سطور حالیہ ملکی حالات اور ماضی کے جھروکے میں جھانک کر دیکھیں
14 اگست 1947 سے آج تک وہ ایک جذبہ جو ہمیں ہر مشکل میں یکجا کرتا ہے وہ ہے یہ ارض وطن۔ وہ مسافر یا مال گاڑی میں آئی ہوئی لاشیں ہوں، 1965 کی جنگ کے شہداء کا لہو ہو، 1971 کا رنگین آسمان ہو، یا اب 2025 کی لہو میں ڈوبی ہوئی رات جب دشمن نے شب خون مارا دنیا نے دیکھ لیا کہ جب بھی بات اس ارض وطن کی ہوگی ہم ہر مسلک، ہر فرقہ، ہر نسل کی قید سے آزاد ہوکر اس وطن کے لیے کھڑے ہوں گے۔
یہ ضروری نہیں کوئی وردی میں ہو یا محض عوام میں سے کوئی جوان یا بوڑھا ہو یہ وطن اور اس کی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کی وہ نوید ہے جس کی بقا بھی اسی رب کے نام سے مشتق ہے۔ دنیا پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اور دوسرا طیبہ کی سر زمیں جسے آج کل شہر مدنیہ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ جہاں پر مالک کون مکان رہبر زمیں و زماں آارام فرما رہے ہیں۔ اس یقین اور ثابت قدمی کا اس سے بڑا اظہار کیا ہوگا کہ جس مسجد کو رات میں شہید کرنے کی کوشش کی گئی اسی مسجد کے صحن میں نمازیوں نے فجر کی نماز ایمان کی تمکنت کے ساتھ ادا کی۔
جب یقین کا مرکز پروردگار ہو، جب دشمن کی برستی آگ میں نصر من اللہ و فتح قریب کی تسبیح جاری ہو تو پھر یقیناً اخلاص کی فتح قریب ہوتی ہے۔
فتح تو بہت جلد قرانی آیت کی شکل میں یاد آ جاتی ہے ۔مگر افسوس اس بات پر ہے کہ اپنے اعمال کو راہ راست پر لانے کو تیار نہیں ہیں کہ نیک اعمال کو اختیار کیاجائے اور اللہ کی رضا مندی کو حاصل کی جائے ۔جیسا کہ شروع میں تحریر کیا گیا ہے کہ بلا تفریق حلال و حرام مال کمانے سے غرض ہے ۔۔۔۔۔ابھی حال ہی میں چودہ ہزار چرم خر کی برآمدگی پاکستان میں اسمگل کرنے کی ناکام کوشیش کو ناکام بنایا گیا ۔۔۔۔
مجالس تو برپا کرواتے ہیں جو اخلاق سے عاری اور ممبر پر ذاکریں اور صاحب عبا و قبا ایک دوسرے کی عزت اچھالتے ہوئے نظر آتے ہیں کوئی بھی قبیلہ بھی محفوظ نہیں
اب حج کا موسم آنے والا ہے آپ خود دیکھ لیجئے گا کہ حج کے نام پر کس طرح قوم اور عام فرد کو لوٹا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
………………………………..
شوال المکرم25 شہادت امام جعفر صادق علیہ السلام
ان کے بغیر دیں خدا نا تمام ہے
اکمل سید لندن
شوال 1446,25 اتحاد المسلمین نے آفتاب امامت کے چھٹے تابناک اختر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت پر عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ جانب سے عالم بشریت تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں امام کی حیات عالم بشریت کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ یوم شہادت امام جعفر صادق علیہ السلام کی حضرت امام زمان ولی عصر علیہ السلام کی خدمت میں تعزیت و تسلیت عرض کرتے ہوئے کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی ذات گرامی ایک عظیم الشان اور لامثال دانشگاہ اور جامعہ ہے
قرآن ان کے ساتھ اور یہ قران۔کے ساتھ ہیں
جس نے کائنات کے علوم و اسرار کی تعلیم خاص کر علوم اسلامی کی ترویج اور عوام کے عقائد و افکار کی اصلاح میں ایک منفرد کردار ادا کیا۔

ظاہر عمل سے ان کے ہیں اللہ کی صفات
آپ حضرت سے ہزاروں شاگردوں نے امام صادق علیہ السلام سے کسب فیض حاصل کرکے علمی کمال حاصل کیا اور ماضی اور حال کے بڑے بڑے علمی و سائنسی ایجادات امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں کی مرہون منت ہے کیونکہ جابر بن حیان اور نصیر الدین طوسی جیسے سائنسی علوم کے بانی کاروں نے سائنسی علوم امام جعفر صادق علیہ السلام سے سیکھے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام علم کا مرکز اور حکمت کا عظیم منبع اور سر چشمہ ہے جس سے ایک عرصہ تک دنیا فیض حاصل کرتے رہے گی۔
مولا صادق علیہ السلام عصمت و طہارت کی عظیم الشان ہستی نے اپنی حیات اقدس میں اپنے جد و اجداد کی طرح دین اسلام کی بےانتہا خدمت کی اور انتہائی مشکل اور کٹھن حالات کے باوجود علوم قرآنی و سنت نبوی(ص)کو وسعت دی اور اس سلسلے میں ظالم و جابر حکمرانوں کے ظلم و تشدد اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جرائت و شجاعت کا بھر پور مظاہرہ کیا۔
ساتویں بار وہی جلوہ رحمت دیکھا
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے جید علماء و فقہاء نے بلا واسطہ یا بلواسطہ امام صادق علیہ السلام سے کسب فیض حاصل کیا اور مسلمانوں میں ایک علمی و فکری انقلاب برپا کرکے انہیں منزل مقصود تک پہنچنے کا سلیقہ سکھایا۔ امام صادق علیہ السلام آزادی کے علمبردار رہنما و رہبر تھے جنہوں نے روز اول سے جابر حکمرانوں کے ساتھ اظہار برات کی اور ان کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا۔ مولا امام صادق علیہ السلام عالم انسانیت بالخصوص امت مسلمہ کے لئے نمونہ عمل ہے جب تلک مسلمانان عالم آپ کی سیرت پر عمل پیرا نہ ہو جائیں گے تب تک مسائل و مشکلات سے چھٹکارا پانے کی تمام کاوشیں لاحاصل مشق ہے۔
للہ صادقین کے دامن کو تھام لو
مسلمانان عالم کو چائیے کہ ت کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوجائیں اور ان کے تعلیم کردہ فرمودات پر عمل پیرا ہو جائیں تاکہ تمام درپیش مشکلات اور مصبتیوں کا مقابلہ یقینی ہو سکے اور یہ جو دنیاوی انتشار میں مبتلا انسانیت کی فلاح و اصلاح ہو جائے علم اسلام کو یک جا ہونے کی صورت اختیار کرنی ہو گی۔۔۔۔۔۔
اک بار پھر عالم بشریت کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستان اور برطانیہ میں مجالس پر آنے والا عذاب دین خدا کو بیچنے والےنو عمر خطیب۔۔۔۔
نقد رضا ملے نہ ملے نقد زر ملے ۔۔۔۔۔۔
اکمل سید لندن
پاکستان پنجاب سندھ لاھور سے بھکر بہل و نوتک نشیب کی 50 بستیوں میں اس وقت تک تقریباً 1500 نو عمر نیم پاگل دماغی طور پر کم زور افراد ذاکر و خطیب جنم لے چکے ۔ جن کی دنیاوی و دینی تعلیم کا ریکارڈ صفر نہ ہونے کے برابر ہے ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے سکول مدرسہ کا منہ تک نہیں دیکھا۔ طہارت کرنے کا سلیقہ تک نہیں ہے۔۔۔۔
ان میں سے اکثریت کم عمر ہیں ۔ان کے پاس شرعی مسائل تو دور دنیاوی مسائل سے بھی شناسائی کا کوئی پیمانہ نہیں ۔
اب تو محفل مسالمہ میں بھی شعرا کو سامنے بٹھا کر کس کے مصرعے کو پکڑ کر تنقید کے نام پر بے عزت کیا جاتا ہے
بہت افسوس سے تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ جو منبرِ حسین علیہ السلام مجالس کے ذریعے سے جس پر بزرگ ذاکرین و خطباء مقصدِ کربلا کو بطریقِ احسن بیان کیا کرتے تھے اب سٹیج بن چکا ۔ اور دین حقہ کی تعلیم سے خالی ہے
آج ذاکری کو مقصدِ حسین علیہ السلام کی ترویج کی بجائے مالی حالات کی بہتری کے بطور ذریعہ رزق بنا دیا گیا ہے ۔ ذاکرین کا ممبر سے گالیاں دینے کا رواج عام ہو گیا ہے

کیا ہے جو امامِ مظلوم ع کے ذکر کے تشخص کو محفوظ بنا سکے؟؟ اور یہ کام صرف اور صرف بانیاں مجالس انجمن کے سربراہان اور نام نہاد لیڈران ہی انجام دے سکتے ہیں۔۔۔۔سفارشی ذاکرین اور ملاوں اور ملنگوں ماتمی سالاروں سے ممبر و مجلس کو یہ نا اہل افراد سے بچایا جا سکتا ہے کہ یہ افراد ان کو اپنی مجلسیں شرکت کے مت بلائیں
بس کا اور کوئی تو حل نہیں ہے ۔۔۔
کوئی آواز اٹھانے والا نہیں؟؟
میرا تو خیال ہے سب اپنی اپنی روزی کے چکر میں ہیں
۔۔ یہ مجلس کا اصل۔مقصد ختم ہو چکا ہے پرانے اکثر علما کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔
بات تو سچ ہے مگر ہے رسوائی کی سو فیصد سچ اور حقیقت ۔
زیادہ تر لوگ میری بات کا اختلاف کرے گے اور کچھ تو گالم گلوچ پر اتر آئے گے لیکن بات پھر وہی کہوں گا کہ انکو بھی کچھ پتہ نہیں ہوگا ۔
کم نہیں پوری توجہ سے سوچیں اور ضرور سوچیں ۔
اللہ پاک ہم سب کو چودہ معصومین علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
یہ تحریر براے اصلاح ہے تنقید نہیں ۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قسط چہارم۔۔۔بنو اُمیہ کے چشم چراغ دنیاوی شفاف کا کردار۔۔
۔یہ سعودی ڈرامہ اس کردار کو بھی پوشیدہ نہ رکھ سکا ۔۔۔
معاویہ ابی سفیان کے جرائم کی فہرست:
محمود أبو ريّہ کہ جو اہل سنت کے بزرگان میں سے ہے، اس نے كتاب شيخ المضيرة ابو ہريرة میں ان موارد کو جمع کیا ہے:
اولاً:
کتاب مسند احمد میں ذکر ہوا ہے کہ معاویہ شراب پیتا تھا:
عبد الله بن بريدة قال: دخلت أنا و أبي علي معاوية، فأجلسنا علي الفرش، ثم أتينا بالطعام فأكلنا، ثم أتينا بالشراب، فشرب معاوية، ثم ناول أبي . . .
معاویہ نے کھانے کے ساتھ شراب پی۔۔۔۔۔۔
مسند احمد بن حنبل، ج5، ص347
مجمع الزوائد للهيثمي، ج5، ص42
تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج27، ص127
ثانياً:
معاويہ سونے کے دھاگے سے سلے اور ریشمی لباس پہنتا تھا:
سنن أبي داود، ج2، ص276
ثالثاً:
جب امير المؤمنين (ع) دنیا سے گئے تو معاویہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
الحمد لله الذي أمات عليا.
معاویہ نے علی کی موت پر خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔۔۔
البداية و النهاية لإبن كثير، ج8، ص331
تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج29، ص287
رابعا:
معاویہ ملعون نے امام حسن (ع) کے لیے زہر بھیجا اور رسول خدا کے نواسے کو زہر دلوا کر شہید کروا دیا:
الإستيعاب لإبن عبد البر، ج1، ص390
تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج13، ص283
تهذيب الكمال للمزي، ج6، ص252
سير أعلام النبلاء للذهبي، ج3، ص274
البداية و النهاية لإبن كثير، ج8، ص47
خامساً:
جب معاویہ کو امام حسن (ع) کی شہادت کی خبر ملی تو وہ خوشی سے سجدہ شکر بجا لایا:
و لما بلغ معاوية موت الحسن خرّ ساجدا لله.
اور جب حسن کی موت کی خبر معاویہ کو ملی تو اس نے خدا کے لیے سجدہ کیا۔
العقد الفريد، ج2، ص298
وفيات الأعيان و أنباء أبناء الزمان لإبن خلكان، ج2، ص66
سادساً:
معاویہ نے رسول خدا (ص) کے بہت سے بزرگ صحابہ جیسے عمرو ابن حَمِق خزاعی ، حجر ابن عدی اور مالک اشتر وغیرہ کو شہید کیا
تاريخ الطبري، ج4، ص72 و 187
الكامل في التاريخ لإبن الأثير، ج3، ص353 و 482
تاريخ اليعقوبي، ج2، ص230
سابعا:
امیر المؤمنین علی (ع) کے سچے جانثار محمد ابن ابو بكر کو معاویہ کے حکم پر گدھے کی کھال میں ڈال کر آگ لگا کر شہید کیا گیا۔
فلما بلغ ذلك عائشة جزعت عليه جزعاً شديداً و قنتت عليه في دبر الصلاة تدعو علي معاوية و عمرو.
جب یہ خبر عائشہ کو ملی تو اس نے بہت زیادہ غم و غصے کا اظہار کیا اور اسکے بعد وہ اپنی ہر نماز کے قنوت میں معاویہ اور عمرو ابن عاص پر لعنت کیا کرتی تھی۔
تاريخ الطبري، ج4، ص79
الكامل في التاريخ لإبن الأثير، ج3، ص357
البداية و النهاية لإبن كثير، ج7، ص349
ثامنا:
معاویہ ملعون کے جرائم میں سے ایک سنگین جرم، امام حسن (ع) کے ساتھ صلح کو ختم کرنا تھا، اسلیے کہ اس صلح کی ایک شرط یہ تھی کہ معاویہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ و جانشین کے طور پر معیّن نہیں کرے گا، لیکن اسکے باوجود بھی معاویہ نے اپنے شراب خوار، زانی، بے دین بیٹے یزید کو مسلمانوں کا خلیفہ معیّن کر دیا۔
معاویہ کون ؟
حضرت علی (ع) کے طرز زندگی کے بعد ہمیں اس بات کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے کہ ہم ان کے حریفوں کے کردار کا تذکرہ کریں کیونکہ ” تعرف الاشیاء باضدادھا ” چیزوں کی پہچان ان کے مد مقابل متضاد چیزوں سے ہوتی ہے۔
اسی قاعدہ کے پیش نظر ہم امیر المؤمنین علی (ع) کے بد ترین مخالف کے کردار کی تھوڑی جھلکیاں پیش کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ اگر شب تاریک کی ہولناکی نہ ہو تو روز روشن کی عظمت واضح نہیں ہو سکتی،
اسی طرح سے جس کو ابو جہل کی خباثت کا علم نہ ہو تو اسے محمد مصطفی (ص) رافت کا صحیح علم نہ ہو سکے گا اور جب تک کردار معاویہ پیش نظر نہ ہو اس وقت تک اسے علی (ع) کی عدالت اجتماعی کی قدر و منزلت کا اندازہ نہیں ہو سکے گا۔
مختصر یہ کہ حضرت علی (ع) کی زندگی جس قدر عدل اجتماعی و فدا کاری کے لیے وقف تھی، ویسے ہی معاویہ کی پوری زندگی بے اصولی اور لوٹ مار اور بے گناہوں کے قتل عام کے لیے وقف تھی۔
حضرت علی (ع) جیسے رسول خدا (ص) کے کمالات و صفات محمدی صحیح و برحق جانشین تھے، اسی طرح سے معاویہ اپنے باپ ابو سفیان کے مکروہ کردار اور جنایات سفیانی کا صحیح جانشین تھا۔
حضرت علی (ع) حضرت فاطمہ بنت اسد اور حضرت خدیجہ کی صفات جمیلہ کے وارث تھے، جبکہ معاویہ اپنی ظالم ماں ہند جگر خوار کی خوانخوار عادات کا وارث تھا۔
معاویہ نے قبائلی و جاہلی تعصب کو از سر نو زندہ کیا اور مجرمانہ ذہنیت کو جلا بخشی جس کے شعلوں کی تپش آج بھی امت اسلامیہ اپنے بدن میں محسوس کر رہی ہے۔
جناب حجر ابن عدی کا المیہ:
مؤرخ ابن اثیر نے کتاب تاریخ کامل میں لکھا ہے کہ:
سن 51 ہجری میں حجر ابن عدی اور ان کے اصحاب کو قتل کیا گیا اور اس کا سبب یہ تھا کہ معاویہ نے سن 41 ہجری میں مغیرہ ابن شعبہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور اسے ہدایت کی کہ:
میں تجھے بہت سی نصیحتیں کرنا چاہتا تھا لیکن تیری فہم و فراست پر اعتماد کرتے ہوئے میں زیادہ نصحیتیں نہیں کروں گا لیکن ایک چیز کی خصوصی طور پر تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ علی کی مذمت اور سبّ و شتم سے کبھی باز نہ آنا اور عثمان کے لیے دعائے خیر کو کبھی ترک نہ کرنا اور علی کے دوستوں پر ہمیشہ تشدد کرنا اور عثمان کے دوستوں کو اپنا مقرب بنانا اور انہیں عطیات سے نوازتے رہنا۔
مغیرہ نے معاویہ کے حکم پر پورا پورا عمل کیا، وہ ہمیشہ حضرت علی (ع) پر سب و شتم کرتا تھا اور حضرت حجر ابن عدی اسے برملا ٹوک کر کہتے تھے کہ لعنت اور مذمت کا حق دار تو اور تیرا امیر ہے اور جس کی تم مذمت کر رہے ہو، وہ فضل و شرف کا مالک ہے۔ مغیرہ نے حجر ابن عدی اور اس کے دوستوں کے وظائف بند کر دئیے، حضرت حجر کہا کرتے تھے کہ بندہ خدا ! تم نے ہمارے عطیات ناحق روک دئیے ہیں، تمہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، ہمارے عطیات بحال کرو۔
مغیرہ مر گیا اور اس کی جگہ زیاد ابن ابیہ کوفہ کا گورنر مقرر ہوا۔ زیاد نے بھی معاویہ اور مغیرہ کی سنت پر مکمل عمل کیا اور وہ بد بخت امیر المومنین علی (ع) پر سبّ و شتم کرتا تھا۔ حجر ابن عدی ہمیشہ حق کا دفاع کرتے تھے۔ زیاد نے حجر ابن عدی اور ان کے 12 ساتھیوں کو گرفتار کر کے زندان بھیج دیا اور ان کے خلاف ان کے جرائم کی تفصیل لکھی اور چار گواہوں کے دستخط لیے اور حضرت حجر ابن عدی کی مخالفت میں جن افراد نے دستخط کیے تھے، ان میں طلحہ ابن عبید اللہ کے دو بیٹے اسحاق و موسی اور زبیر کا بیٹا منذر عماد ابن عقبہ ابن ابی معیط سر فہرست تھے، پھر زیادہ نے قیدیوں کو وائل ابن حجر الحضرمی اور کثیر ابن شہاب کے حوالے کر کے انہیں شام بھیجا۔
زیاد نے جن محبان علی (ع) کو گرفتار کیا تھا، ان کے نام درج ذیل ہیں:
حجر ابن عدی کندی،
ارقم ابن عبد اللہ کندی،
شریک ابن شداد حضرمی،
صیفی ابن فسیل شیبانی،
قبیصہ ابن صنیع عبسی،
کریم ابن عفیف خثمی،
عاصم ابن عوف بجلی،
ورقا ابن سمی بجلی،
کدام ابن حسان عنزی،
عبد الرحمن ابن حسان غزی،
محرر ابن شہاب تمیمی،
عبد اللہ ابن حویہ سعدی،
بالا درج 12 افراد کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بعد دو افراد عتبہ ابن اخمس سعد ابن بکر اور سعد ابن نمران ہمدانی کو گرفتار کر کے شام بھیجا گیا تو اس طرح سے ان مظلوموں کی تعداد 14 ہو گئی۔
جناب حجر ابن عدی کے واقعہ کو اہل سنت مؤرخ طبری نے یوں نقل کیا ہے کہ :
قیس ابن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام میں ایک شخص بنام صیفی ابن فسیل اصحاب حجر کا سر کردہ ہے اور آپ کا شدید ترین دشمن ہے۔ زیاد نے اسے بلایا۔ جب وہ آیا تو زیاد نے اس سے کہا کہ اے دشمن خدا، تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے ؟
اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا۔
زیاد نے کہا ! کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟
صیفی نے کہا: جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں۔ زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے۔
صیفی نے کہا ! ہرگز نہیں، بلکہ وہ حسن اور حسین کے والد ہیں۔
لشکر کے سالار نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے ؟
صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کر دوں ؟
زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کر رہے ہو، میرا عصا لایا جائے۔
جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو ؟
صیفی نے دوبارہ کہا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے۔
یہ سن کر زیاد نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور جب زیاد ظلم کر کے تھک گیا تو پھر صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیا کہتے ہو ؟
انہوں نے کہا ! اگر میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دئیے جائیں تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا، جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں۔
زیاد نے کہا تم باز آ جاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔
صیفی نے کہا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہو گا اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی۔
زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کر دیا۔ چنانچہ انہیں زنجی پہنا کر زندان بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں زیاد نے حضرت حجر ابن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کیے۔
ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ: میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے۔
زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔ میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں۔
عناق ابن شرجیل ابن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو۔ مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لیے قریش کے خاندان سے ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو۔
چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق ابن طلحہ ابن عبید اللہ اور موسی ابن طلحہ اور اسماعیل ابن طلحہ اور منذر ابن زبیر اور عمارہ ابن عقبہ ابن ابی معیط ، عبد الرحمن ابن ہناد ، عمر ابن سعد ابن ابی وقاص ، عامر ابن سعود ابن امیہ ، محرز ابن ربیعہ ابن عبد العزی ابن عبد الشمس ، عبید اللہ ابن مسلم حضرمی ، عناق ابن وقاص حارثی نے دستخط کیے۔
ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح ابن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی۔ قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے۔
شریح ابن ہانی حارثی کو جب علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کر دی ہے، میں دنیا و آخرت میں اس گواہی سے بری ہوں، پھر وہ قیدیوں کے تعاقب میں آیا اور وائل ابن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط معاویہ تک ضرور پہچانا۔ اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیاد نے حجر ابن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ، زکات دیتا ہے ، حج و عمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان و مال انتہائی محترم ہے۔
قیدیوں کو دمشق کے قریب مرج عذرا میں ٹھہرایا گیا اور معاویہ کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں:
حجر ابن عدی،
شریک ابن شداد حضرمی،
صیفی ابن فسیل شیبانی،
قبیصہ ابن ضبیعہ عبسی،
محرز ابن شہاب السعدی،
کدام ابن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین۔
اس کے علاوہ عبد الرحمن ابن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کے پاس بھیجا گیا اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو۔ زیاد نے انہیں زندہ دفن کرا دیا۔
تاریخ طبری ۔ج 6 ص 155
غدر معاویہ کے دیگر نمونہ
معاویہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے انسانی قدروں کو پامال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا، اور یہ اسکا خاندانی شیوہ تھا۔
اس نے جب مالک اشتر کے متعلق سنا کہ حضرت علی (ع) نے انہیں محمد ابن ابی بکر کی جگہ مصر کا گورنر مقرر کیا ہے تو اس نے ایک زمین دار سے سازش کی کہ اگر تو نے مصر پہنچنے سے پہلے مالک کو قتل کر دیا تو تیری زمین کا خراج (ٹیکس) نہیں لیا جائے گا۔
چنانچہ جب جناب مالک اس علاقے سے گزرے تو اس نے انہیں طعام کی دعوت دی اور شہد میں زہر ملا کر انہیں پیش کیا۔ جس کی وجہ سے مالک اشتر وہیں شہید ہو گئے۔
اس واقعہ کے بعد معاویہ اور عمرو ابن العاص کہا کرتے تھے کہ شہد بھی اللہ کا لشکر ہے، یعنی اسکی مدد سے بھی اپنے دشمن کو راستے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
امام حسن مجتبی علیہ السلام سے معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور حضرت حسن علیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعث سے ساز باز کی کہ اگر وہ انہیں زہر دے کر شہید کر دے تو اسے گراں قدر انعام دیا جائے گا اور اس کی شادی یزید سے کر دی جائے گی۔
امام حسن علیہ السلام کی بیوی نے معاویہ کے ورغلانے پر انہیں زہر دیا، جس کی وجہ سے وہ شہید ہوئے۔
الفتنتہ الکبری، ص 243
مورخ مسعودی لکھتے ہیں کہ:
ابن عباس کسی کام سے شام گئے ہوئے تھے اور مسجد میں بیٹھے تھے کہ معاویہ کے قصر خضراء سے تکبیر کی آواز بلند ہوئی۔ آواز سن کر معاویہ سے فاختہ بنت قرظہ نے پوچھا کہ آپ کو کونسی خوشی نصیب ہوئی ہے کہ جس کی وجہ سے تم نے تکبیر کہی ہے ؟ تو معاویہ نے کہا ! حسن کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ اسی لیے میں نے با آواز بلند تکبیر کہی ہے۔
مروج الذہب ومعادن الجوہر، ج 2 ص 307
زیاد ابن ابیہ (ولد الزنا) کا الحاق:
زیاد ایک ذہین اور ہوشیار شخص تھا۔ حضرت علی (ع) کے دور خلافت میں ان کا عامل تھا۔ معاویہ اپنی شیطانی سیاست کے لیے زیاد کو اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا اور اس نے زیاد کو خط لکھا کہ تم حضرت علی (ع) کو چھوڑ کر میرے پاس آ جاؤ کیونکہ تم میرے باپ ابو سفیان کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہو۔
زیاد کے نسب نامہ میں اس کی ولدیت کا خانہ خالی تھا۔ اسی لیے لوگ اسے زیاد بن ابیہ۔ یعنی زیاد جو اپنے باپ کا بیٹا ہے ، کہہ کر پکارا کرتے تھے۔
حضرت علی (ع) کو جب معاویہ کی اس مکاری کا علم ہوا تو انہوں نے زیاد کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا:
مجھے معلوم ہوا ہے کہ معاویہ تمہاری طرف خط لکھ کر تمہاری عقل کو پھسلانا اور تمہاری دھار کو کند کرنا چاہتا ہے۔ تم اس سے ہوشیار رہو کیونکہ وہ ایسا شیطان ہے کہ جو مومن کے آگے پیچھے اور داہنی بائیں جانب سے آتا ہے تا کہ اسے غافل پا کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کی عقل پر چھاپہ مارے۔
واقعہ یہ ہے کہ عمر ابن خطاب کے زمانے میں ابو سفیان کے منہ سے بے سوچے سمجھے ایک بات نکل گئی تھی جو شیطانی وسوسوں میں سے ایک وسوسہ تھی۔ جس سے نہ نسب ثابت ہوتا ہے اور نہ وارث ہونے کا حق پہنچتا ہے۔ جو شخص اس بات کا سہارا لے کر بیٹھے وہ ایسا ہے جیسے بزم شراب نوشی میں مبتلا بن بلائے آنے والا کہ اسے دھکے دے کر باہر کیا جاتا ہے یا زین فرس میں لٹکے ہوئے اس پیالے کی مانند جو ادھر سے ادھر تھرکتا رہتا ہے۔
نہج البلاغہ، مکتوب 44
مسعودی ذکر کرتے ہیں کہ:
سن 40 ہجری میں معاویہ نے زیاد کو اپنا بھائی بنا لیا اور گواہی کے لیے زیاد ابن اسماء مالک ابن ربیعہ اور منذر ابن عوام نے معاویہ کے دربار میں زیاد کے سامنے گواہی دی کہ ہم نے ابو سفیان کی زبانی سنا تھا کہ زیاد نے میرے نطفہ سے جنم لیا ہے اور ان کے بعد ابو مریم سلولی نے درج ذیل گواہی دی کہ زیاد کی ماں حرث بنت کلدہ کی کنیز تھی اور عبید نامی ایک شخص کے نکاح میں تھی، طائف کے محلہ حارۃ البغایا میں بدنام زندگی گزارتی تھی اور اخلاق باختہ لوگ وہاں آیا جایا کرتے تھے اور ایک دفعہ ابو سفیان ہماری سرائے میں آ کر ٹھہرا اور میں اس دور میں مے خانہ کا ساقی تھا۔ ابو سفیان نے مجھ سے فرمائش کی کہ میرے لیے کوئی عورت تلاش کر کے لے آؤ۔
میں نے بہت ڈھونڈھا مگر حارث کی کنیز سمیہ کے علاوہ مجھے کوئی عورت دستیاب نہ ہوئی، تو میں نے ابو سفارن کو بتایا کہ ایک کالی بھجنگ عورت کے علاوہ مجھے کوئی دوسری عورت نہیں ملی تو ابو سفیان نے کہا ٹھیک ہے وہی عورت ہی لے آؤ۔
چنانچہ میں اس رات سمیہ کو لے کر ابو سفیان کے پاس گیا ور اسی رات کے نطفہ سے زیاد کی پیدائش ہوئی۔ اسی لیے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ زیاد معاویہ کا بھائی ہے۔ اس وقت سمیہ کی مالکہ صفیہ کے بھائی یونس ابن عبید نے کھڑے ہو کر کہا:
معاویہ ! اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے کہ بچہ اسی کا ہے جس کے گھر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر (سنگسار) ہیں اور تو فیصلہ کر رہا ہے کہ بیٹا زانی کا ہے۔ یہ صریحا کتاب خدا کی مخالفت ہے۔
ابن ابی الحدید نے اپنے شیخ ابو عثمان کی زبانی ایک خوبصورت واقعہ لکھا ہے :
جب زیاد معاویہ کی طرف سے بصرہ کا گورنر تھا اور تازہ تازہ ابو سفیان کا بیٹا بنا تھا تو اس دور میں زیاد کا گزر ایک محفل سے ہوا جس میں ایک فصیح و بلیغ نابینا ابو العریان العددی بیٹھا تھا۔ ابو العریان نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون گزرا ہے ؟
تو لوگوں نے اسے بتایا کہ زیاد ابن ابی سفیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ گزرا ہے، تو اس نے کہا ! اللہ کی قسم ابو سفیان نے تو یزید ، معاویہ ، عتبہ ، عنبہ ، حنظلہ اور محمد چھوڑے ہیں۔ یہ زیاد کہاں سے آ گیا ہے ؟
اس کی یہی بات زیاد تک پہنچی تو زیاد ناراض ہوا۔ کسی مصاحب نے اسے مشورہ دیا کہ تم اسے سزا نہ دو بلکہ اس کا منہ دولت سے بند کر دو۔
زیاد نے 200 دینار اس کے پاس روانہ کیے۔ دوسرے دن زیاد اپنے مصاحبین سمیت وہاں سے گزرا اور اہل محفل کو سلام کیا۔
نابینا ابو العریان سلام کی آواز سن کر رونے لگا۔ لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ! زیاد کی آواز بالکل ابو سفیان جیسی ہے۔
شرح نہج البلاغہ، ج 4 ص 68
حسن بصری کہا کرتے تھے کہ معاویہ میں چار صفات ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے اس میں ایک بھی ہوتی تو بھی تباہی کے لیے کافی تھی:
1- امت کے دنیا طلب جہّال کو ساتھ ملا کر اقتدار پر قبضہ کیا جبکہ اس وقت صاحب علم و فضل صحابہ موجود تھے۔
2- اپنے شرابی بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا جو کہ ریشم پہنتا تھا اور طنبور بجاتا تھا۔
3- زیاد کو اپنا بھائی بنایا جبکہ رسول خدا (ص) کا فرمان ہے کہ بچہ اس کا ہے کہ جسکے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔
4- حجر ابن عدی اور ان کے ساتھیوں کو ناحق قتل کرنا۔
الفتنتہ الکبری، علی وبنوہ ص 248
الکامل فی التاریخ ج 3 ص 259-260
معاویہ کی ایجاد کردہ بدعتیں:
معاویہ نے اپنے اہداف کو آگے بڑھانے اور اپنے مقام کو مستحکم کرنے کے لیے اسلامی احکام میں بھی دست درازی کی اور دین میں بدعتیں جاری کر دیں، جن میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ یعنی خلافت اسلامی کو صحیح راستے سے منحرف کر کے ایک استبدادی اور مورثی بادشاہت میں تبدیل کرنا تھا، خصوصا اپنے ناصالح، شرابی اور زانی بیٹے کو ولایت عہدی کے لیے منصوب کرنا تھا۔
یہ خطرہ اس قدر بزرگ اور اہم تھا کہ امام حسین (ع) نے منی کے میدان میں بہت سے صحابہ، انصار اور ان کی اولاد کو جمع کر کے جبکہ معاویہ کے جاسوس ہر جگہ موجود تھے ، اسکے متعلق فرمایا:
فانّی اخاف ان یندرس ھذا الحق و یذھب۔
میں ڈرتا ہوں کہ کہیں (معاویہ کے اعمال کی وجہ سے) دین اسلام فرسودہ نہ ہو جائے اور بطور کامل اسلام کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھینکے۔
احتجاج طبرسى، ج 2، ص 87
الغدير، ج 11، ص 28
معاویہ خود کہتا تھا کہ اس نے خلافت کو لوگوں کی محبت و دوستی اور نہ ان کی مرضی بلکہ تلوار کے زور پر حاصل کی تھی۔
عقد الفريد، ج 4، ص 81-82
جس سال معاویہ نے تمام اسلامی شہروں پر اپنا تسلط قائم کیا اس سال کا نام ” عام الجماعه ” رکھا ، جبکہ وہ سال ” فرقوں کے عام ہونے اور زور سے زبردستی حکومت حاصل کرنے ” کا سال ہونا چاہیے تھا ، اس سال امامت اسلامی، سلطنت اور بادشاہت میں تبدیل ہوئی، پیغمبر اکرم (ص) کی خلافت غصب ہوئی۔
رسالة الجاحظ فى بنى اميّة، ص 124
تاريخ سياسى اسلام، ج 2، ص 396 سےمنقول.
پيام امام اميرالمؤمنين(ع)، ج 3، ص 250
الغدير، ج 10، ص 227
معاویہ نے اپنے آپ کو پہلا بادشاہ کہلوایا۔
تاريخ يعقوبى، ج 2، ص 232
تاريخ الخلفاء، ص 223
سعید ابن مسیب کہتا ہے: معاویہ پہلا شخص ہے جس نے خلافت کو بادشاہت میں تبدیل کیا تھا۔
تاريخ يعقوبى، ج 2، ص 232
ابو الاعلی مودودی نے اپنی کتاب خلافت و ملوکیت میں معاویہ کی بادشاہت اور اس سے پہلے کی خلافت کے کچھ فرق شمار کیے ہیں:
اول: خلیفہ کو معین کرنے کے طریقے کو بدل دیا، پہلے خلفاء خلافت کو حاصل کرنے کیلئے قیام نہیں کرتے تھے، لیکن معاویہ نے مسند خلافت پر بیٹھنے کے لیے ہر طرح کا کام انجام دیا۔
دوم: خلفاء کی زندگی کے طریقے کو بدلا اور روم و ایران کے بادشاہوں کے طریقہ زندگی اور حکومت سے استفادہ کیا اور اسی کے مطابق زندگی گزاری اور حکومت کی۔
سوم: بیت المال کے استعمال کا طریقہ بدلا، کیونکہ معاویہ کے زمانے میں بیت المال اس کا اور اس کے خاندان کا مخصوص خزانہ ہو گیا تھا اور کوئی نہیں تھا جو اس سے بیت المال کے حساب و کتاب کے بارے میں سوال کرے۔
چہارم: عقیدہ کے اظہار کی آزادی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ختم کرنا اور یہ طریقہ معاویہ کے زمانے میں حجر ابن عدی کو قتل کرنے سے شروع ہوا تھا۔
پنجم: نظام قضائی اسلامی کی تعطیل۔
ششم: شورائی (کمیٹی) حکومت کو ختم کرنا۔
ہفتم: قومی اور نژادی تعصبات کا ظہور۔
ہشتم: ذاتی مفاد کے لیے قانون کی برتری کو ختم کرنا۔
خلافت و ملوكيّت، ص 188-207
تاريخ سياسى اسلام، ج 2، ص 407- 408. سے منقول
پيام امام امير المؤمنين (ع)، ج 3، ص 250-251
ابن ابی الحدید نے معاویہ کی بدعتوں اور غلط کاموں کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ :
معاویہ نے کے تمام مندرجہ ذیل غلط کام اس کے کفر و الحاد پر دلالت کرتے ہیں، وہ کفر و الحاد کہ جو زمانہ جاہلیت سے اسکے باطن میں مخفی تھا۔
جیسے : حریر (ریشم) کا لباس پہننا،
سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرنا ،
اپنے لیے غنائم کو جمع کرنا ،
اپنے ساتھیوں اور دوستوں پر اسلام کے قوانین اور حدود الہی کو جاری نہ کرنا ،
زیاد کو اپنے آپ سے ملحق کر کے اپنا بھائی قرار دینا، جبکہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ :
الولد للفراش و للعاھر الحجر،
بچہ اپنے باپ سے ملحق ہوتا ہے اور زنا کار پتھر کھانے کا مستحق ہے۔
حجر ابن عدی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنا ،
حضرت ابو ذر کی توہین کرنا اور ان کو برہنہ اونٹ پر سوار کر کے مدینہ روانہ کرنا،
منبروں سے امیر المومنین علی (ع) ،امام حسن (ع) اور ابن عباس کو ناسزا کہنا ،
شراب خوار اور جوا کھیلنے والے یزید کو ولی عہد قرار دینا وغیرہ۔
شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 5، ص 130-131
معاویہ بدعتوں کو قائم کرنے میں کسی بھی قانون کا پابند نہیں تھا اور کسی چیز کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا۔
ابو درداء کہتا ہے کہ:
میں نے معاویہ سے کہا کہ میں نے پیغمبر سے سنا ہے کہ جو کوئی سونے یا چاندی کے برتن میں کھانا کھائیگا، وہ جہنم کی آگ کو اپنے اندر جگہ دے گا۔ یہ سن کر معاویہ نے کہا:
اما انا فلا اری بذلک باسا،
لیکن میں اس میں کوئی قباحت نہیں دیکھتا !
ابو درداء نے جواب دیا: وا عجبا ! میں پیغمبر سے نقل کر رہا ہوں اور تم اپنی ذاتی رائے میرے سامنے پیش کر رہے ہو ! اب میں وہاں پر زندگی بسر نہیں کروں گا، جہاں تو زندگی گزا ررہا ہے۔
شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 5، ص 130
پيام امام، ج 3، ص 20 و 21
علامہ امینی اپنی کتاب الغدیر میں اسناد و مدارک کے ساتھ معاویہ کی بدعتوں اور اس کے غلط کاموں کو بیان کرتے ہیں، یہاں پر اس کی ایک فہرست پڑھنے والوں کے لیے بیان کریں گے اور اس کی مزید وضاحت کے لیے کتاب الغدیر کی جلد 11 کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔
علامہ امینی نے لکھا ہے کہ :
سب سے پہلا شخص جس نے کھلے عام شراب پی اور اس کو خریدا وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے اسلامی میدان میں فحاشی کو عام کیا ، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے سود کو حلال کیا ، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے دو بہنوں کی ایک وقت میں ایک شوہر کے ساتھ شادی کی اجازت دی ، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے حدود و دیات کے باب میں پیغمبر اکرم (ص) کی سنت کو تبدیل کیا، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے (حج کے ایام میں) لبیک کہنے کو ترک کیا ، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے حدود الہی کو جاری کرنے سے منع کیا ، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے جعل حدیث کے لیے مال کو مخصوص کیا، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے بیعت لیتے وقت علی (ع) سے بیزاری کی شرط رکھی، وہ معاویہ ملعون تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے پیغمبر اکرم (ص) کے ایک صحابی (عمرو ابن حمق) کے سر کو تن سے جدا کر کے ایک شہر سے دوسرے شہرمیں گھمایا، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے پیغمبر اکرم (ص) کی خلافت کو بادشاہت میں تبدیل کیا، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے دین خدا کی توہین کی اور اپنے فاجر و فاسق بیٹے کو خلافت کے لیے منتخب کیا، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے حکم دیا کہ پیغمبر اسلام کے شہر مدینہ کو غارت کریں، وہ معاویہ تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے حضرت علی (ع) کو ناسزا و سبّ شتم کرنے کو رواج دیا، وہ معاویہ لعین تھا۔
سب سے پہلا شخص جس نے عید کے خطبہ کو (پیغمبر کے حکم کے خلاف) نماز سے پہلے مقدم کیا تا کہ لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے خطبہ میں حضرت علی (ع) پر لعنت کرے، وہ لعین معاویہ تھا۔
الغدير، ج 11، ص 71
یہ تمام بحث معاویہ کے درد ناک واقعات، احکام الہی کو تبدیل کرنے ، سنت پیغمبر (ص) کو نقض کرنے اور خداوند کے احکام کو پیروں کے نیچے کچلنے سے متعلق تھی اور اگر کوئی اس کی سوانح حیات اور بنی امیہ کی تاریخ کی تحقیق کرے تو اس سے بھی زیادہ واقعات ملیں گے۔
واقعا اگر اس ظالم کی حکومت باقی رہتی تو یقینا اسلام بالکل ختم ہو جاتا اور دلیل و اسناد کے ساتھ اس بات میں کسی طرح کے شک و تردید کی گنجائش نہیں ہے اور ہم تعجب کرتے ہیں کہ بعض لوگ کیوں اصرار کرتے ہیں کہ معاویہ کے درد ناک واقعات پر چشم پوشی کر کے اس کی تعریف کریں واقعا تعجب کی بات ہے ! انصاف کہاں ہے ؟!
پيام امام امير المؤمنين (ع)، ج 4، ص 329-330
آیت الله مکارم شیرازی کے زیر نظر کتاب، عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها سے ماخوذ، ص200.
یزید کی ولی عہدی کے لیے معاویہ کے اقدامات:
ابن عبد ربہ کے بقول معاویہ نے 7 سال تک یزید کی بیعت کے لینے کے لیے عام لوگوں کے ذہنوں کو ہموار و تیار کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ہر طرح کے وسائل ، فریب اور دھوکے سے کام لیا اور وہ ہر وقت اسی فکر میں لگا رہتا تھا۔
عقد الفريد، ج 4، ص 368
كامل ابن اثير، ج 3، ص 46
معاویہ سب سے زیادہ بہتر جانتا تھا کہ لوگ اس کے بعد کسی بھی قیمت پر یزید جیسے (شرابی و زانی) انسان کی بیعت نہیں کریں گے، لہذا وہ اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ اپنے سامنے جو کچھ کر سکتا ہے، وہ کر لے اور یہی وجہ تھی کہ اس نے مکر و فریب کے ذریعے آئندہ خلیفہ بننے والے مدعیوں جیسے امام حسن مجتبی (ع)، سعد ابن ابی وقاص اور دوسرے لوگوں کو ایک ایک کر کے قتل کر دیا تھا۔
مقاتل الطالبيين، ص 7
یہاں تک کہ اس نے عبد الرحمن (خالید ابن ولید کے بیٹے) کو بھی نہیں چھوڑا ، جب اس نے شامیوں سے سنا کہ وہ آئندہ خلافت کے لیے اسے زیادہ مستحق سمجھتے ہیں تو معاویہ نے اس کو اپنے مخصوص طبیب کے ذریعے سے زہر دلوا کر قتل کرا دیا۔
الغدير، ج 10، ص 233
الاستيعاب، شرح حال عبد الرّحمن
تاريخ طبرى، ج 4، ص 171
بہت سے مؤرخین جیسے یعقوبی اور ابن اثیر کا عقیدہ ہے کہ پہلی مرتبہ یزید کی ولایت عہدی کا علنی طور پر مغیره ابن شعبہ کے ذریعے سے اعلان ہوا ، معاویہ چاہتا تھا کہ مغیره کو کوفہ کی حکومت سے معزول کرے اور سعید ابن عاص کو اس کی جگہ منصوب کرے، لیکن مغیره اس کے اس ارادہ سے آگاہ ہوتے ہی بہت جلد شام پہنچ گیا اور اپنی ولایت کو ثابت اور باقی رکھنے کے لیے اس نے معاویہ کو یزید کی ولی عہدی کا مشورہ دیا اور اس سے کہا کہ اس کام کے لیے میں کوفہ کے لوگوں کو راضی کر لوں گا۔
كامل ابن اثير، ج 3، ص 503، حوادث سال 56
معاویہ، مغیره کے اصلی مقصد کو سمجھ گیا لہذا اس سے کہا کہ کوفہ جاؤ اور جا کر اس کام کو انجام دو !
اس کے بعد معاویہ نے ایک خط میں بصرہ کے حاکم زیاد کو لکھا:
مغیره نے کوفہ کے لوگوں کو یزید کی بیعت کے لیے دعوت دی ہے اور تیرے لیے بہتر ہے کہ تو بھی اپنے بھتیجے کے لیے یہ کام انجام دے ! جیسے ہی یہ خط تجھے ملے فورا بصرہ کے لوگوں کو جمع کر کے ان سے یزید کے لیے بیعت لے لے !
جب یہ خط زیاد کو ملا تو اس کو بہت تعجب ہوا اور اس نے معاویہ کو اس طرح خط لکھا:
یزید ایسا انسان ہے کہ جو کتوں اور بندروں سے کھیلتا رہتا ہے اور رنگ برنگے کپڑے پہنتا ہے ، ہمیشہ شراب پیتا ہے اور رات کو ناچ اور گانے میں بسر کرتا ہے ، اگر میں لوگوں کو اس کی بیعت کے لیے دعوت دوں تو وہ ہمیں کیا کہیں گے ؟ جب کہ ابھی حسین ابن علی علیہما السلام، عبد اللہ ابن عباس، عبد اللہ ابن عمر اور عبد اللہ ابن زبیر لوگوں کے درمیان میں موجود ہیں، یزید کو مجبور کر کہ ایک دو سال تک ان کے اخلاق میں گھل مل جائے ! شاید اس صورت میں لوگوں کو اس کی بیعت کے لیے راضی کیا جا سکتا ہے !!!
معاویہ یہ پیغام سننے کے بعد غمگین ہوا اور کہا:
وائے ہو عبید کے بیٹے پر ! میں نے سنا ہے کہ اس کے کان میں کسی نے کہا ہے کہ وہ میرے بعد امیر ہے، خدا کی قسم ! اس کو اس کی ماں سمیہ اور باب عبید کے پاس واپس پلٹا دوں گا۔
تاريخ يعقوبى، ج 2، ص 220
تاريخ طبرى، ج 6، ص 170
ابن اثير، الكامل ج 3، ص 503-505
فطری سی بات ہے کہ زیاد کو اپنے جعلی حسب و نسب کو چھپانے کے لیے معاویہ کے سامنے تسلیم ہونے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔
اس طرح معاویہ اور اس کے کارندے ، مشکل کام میں داخل ہو چکے تھے، معاویہ نے تمام تر زحمات کے ساتھ اپنی مملکت کے گوشہ و کنار سے قبیلوں کے بزرگ اور سرداروں کو دعوت دے رکھی تھی اور ان کو ڈرا دھمکا کر یا بہت زیادہ مال و ثروت دے کر یا پھر ان کے عہدوں کے امتیازات جیسے فرمانروائی یا حکمرانی کی لالچ وغیرہ دے کر یزید کی بیعت کے لیے مجبور کیا تھا۔
( مکہ اور مدینہ کے علاوہ ) تمام اسلامی شہروں کو یزید کی بیعت قبول کرنے میں کئی سال لگ گئے، فقط ان دو شہروں خاص طور پر مدینہ نے بالکل بیعت نہیں کی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ امام حسین (ع) جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد نے یہ کام نہیں ہونے دیا تھا۔
كامل ابن اثير، ج 3، ص 506
آخر کار امام حسین (ع) کے شدید اعتراض نے مروان کو اس ماموریت کے انجام سے ناکام بنا دیا۔
معاویہ خود ان دو مقدس شہروں کا سفر کرنے پر مجبور ہو گیا تا کہ وہاں کے لوگوں کو یزید کی بیعت کرنے پر مجبور کرے اور اسی وجہ سے اس نے بہت سارے فوجی اور مخصوص گارڈوں کے ساتھ حجاز کا سفر کیا تھا۔
ابن قتیبہ نے اپنی کتاب الامامۃ والسیاسۃ میں اس سفر اور معاویہ کے عتاب آمیز گفتگو کو مدینہ میں امام حسین ابن علی (ع) اور دوسرے مشہور لوگوں کے ساتھ تفصیل سے بیان کیا ہے۔
وہ لکھتا ہے کہ:
معاویہ نے حکم دیا کہ سب لوگوں کو مسجد میں بلایا جائے اور جب لوگ جمع ہو گئے تو کھڑا ہوا اور یزید کی شائستگی اور لیاقت کے بارے میں گفتگو کرنے لگا اور کہنے لگا:
تمہارے علاوہ تمام بلاد اسلامی کے لوگوں نے یزید کی بیعت کر لی ہے، میں نے اس شہر کی اہمیت کی وجہ سے یہاں پر دیر کی اور اگر امت اسلامی میں کسی کو یزید سے بہتر سمجھتا تو خدا کی قسم اس کی بیعت لیتا !
اس وقت امام حسین (ع) کھڑے ہو گئے اور اس کی بات کو قطع کر کے فرمایا:
خدا کی قسم ! جس کے والد ، یزید کے باپ سے بہتر اور جس کی ماں، یزید کی ماں سے بہتر، اور وہ خود یزید سے بہتر ہے، اس کو تم نے الگ کر دیا ہے اور یزید کے لیے بیعت لے رہے ہو !
معاویہ نے کہا: گویا کہ تم اپنے بارے میں کہہ رہے ہو ؟
امام نے فرمایا: جی ہاں
اس نے کہا: تمہاری یہ بات کہ تمہاری ماں یزید کی ماں سے بہتر ہے یہ بات بالکل صحیح ہے، اس لیے کہ فاطمہ پیغمبر اکرم (ص) کی بیٹی ہیں اور دین و اسلام میں کوئی بھی ان کے مقابلے تک نہیں پہنچ سکتا، لیکن تم جو یہ کہتے ہو کہ تمہارے والد، یزید کے والد سے بہتر ہیں تو خدا نے یزید کے باپ کو تمہارے باپ پر کامیاب کیا ہے !
امام نے فرمایا: یہ تیری بہت زیادہ جہالت اور نادانی ہے کہ تو نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔
معاویہ نے کہا: لیکن یہ جو تم کہتے ہو کہ یزید سے بہتر ہو تو خدا کی قسم ! یزید امت محمد (ص) کے لیے تم سے بہت زیادہ لائق اور بہتر ہے !!!!!!
امام نے فرمایا: یہ دروغ اور بہتان کے علاوہ کچھ نہیں ہے، کیا شراب خور اور عیش و عشرت میں زندگی بسر کرنے والا یزید، مجھ سے بہتر ہے ؟!
الامامة و السياسة، ج 1، ص 211-212
الغدير، ج 10، ص 250
ابن اثیر کے بقول معاویہ کچھ دنوں تک مدینہ میں رہا اور آخر کار لوگوں کو دھمکانے اور زہر آلود تلواروں سے ان کا گھیراؤ کر کے ( ان چار لوگوں کے علاوہ ) سب لوگوں سے بیعت لے کر شام واپس چلا گیا۔
كامل ابن اثير، ج 3، ص 511
عقد الفريد، ج 4، ص 371-372
ان تمام باتوں کے باوجود معاویہ نے حسب ظاہر تمام شہروں کے لوگوں سے یزید کی بیعت لی اور اس کو جانشین کے عنوان سے منتخب کیا، لیکن تاریخ میں اس کا یہ عمل اس کے سب سے زیادہ برے کاموں میں شمار کیا گیا ہے اور شمار کیا جاتا رہے گا۔
اس انتخاب کی برائی اس حد تک تھی کہ زیاد کو بھی اس کا اعتقاد نہیں تھا اور اسی وجہ سے اس نے معاویہ سے کہا، کس طرح لوگوں سے ایک شراب خوار اور بندروں سے کھیلنے والے کے لیے بیعت لوں ؟
ابن اثیر نے حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ :
معاویہ نے چار ایسے برے کام انجام دئیے جن میں سے ہر ایک کام اس کی تباہی و بربادی کے لیے کافی ہے اور پھر ان میں سے ایک کام کے بارے میں اس طرح کہا:
و استخلافہ بعدہ ابنہ سکیرا خمیرا یلبس الحریر و یضرب بالطنابیر۔
اس نے اپنے ایسے بیٹے کو جانشین بنایا جو بہت زیادہ شراب پی کر مست رہتا تھا اور حریر کا لباس پہنتا اور ناچ گانے میں مصروف رہتا تھا۔
کامل ابن اثیر ، ج 3 ، ص 487
الغدیر ، ج 10 ، ص 225
معاویہ خود اچھی طرح جانتا تھا کہ یزید خلافت کے لیے مناسب نہیں ہے ،لیکن بیٹے کی محبت اور اس خاندان میں خلافت کے باقی رہنے کی آرزو نے اس کو ہمیشہ کی طرح، حق کی پیروی کرنے سے منع کر دیا تھا ، معاویہ سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا :
لولا ھوای فی یزید لا بصرت رشدی،
اگر یزید کی محبت نہ ہوتی تو میں صحیح راستہ کو تشخیص دے سکتا تھا۔
تذکرة الخواص، ص 257
مختصر تاریخ دمشق ، ج 28 ، ص 18
مشہور مورخ یعقوبی کے بقول جس وقت عبد اللہ ابن عمر کو یزید کی بیعت کرنے کا مشورہ دیا گیا تو اس نے کہا:
جو شخص بندروں اور کتوں سے کھیلتا ہو، شراب پیتا ہو اور کھلے عام فسق و فجور انجام دیتا ہو، میں اس کی بیعت کیسے کر سکتا ہوں اور بیعت کی صورت میں خداوند کو کیا جواب دوں گا ؟
تاریخ یعقوبی ،ج 2، ص 220
بہرحال معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کی محبت اور خلافت کو اموی خاندان میں باقی رکھنے کے لیے لوگوں کے گلے میں اس کی بیعت کا طوق ڈال دیا اور اس طرح اسلامی معاشرہ اور شریعت نبوی کو اس نے نقصان پہنچایا۔
مصر کے مشہور عالم اور مصنف سید قطب لکھتے ہیں کہ:
معاویہ نے یزید کو خلافت کے لیے نصب کر کے قلب اسلام، اسلامی نظام اور اسلام کے اہداف و مقاصد کو دوبارہ نقصان پہنچایا۔
العدالة الاجتماعیة، صفحہ 181
آیت الله مکارم شیرازی کے زیر نظر کتاب،عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها سے ماخوذ، ص204.
معاویہ کے اقوال میں بنی ہاشم سے انتقام لینے اور بغض و حسد کے نمایاں آثار:
اگرچہ اسلامی ممالک پر معاویہ کے تسلط کے زمانے میں معاویہ کے اعمال و کردار سے اسلام، قرآن اور رسول اللہ (ص) کے ساتھ دشمنی کو اچھی طرح سے سمجھا اور دیکھا جا سکتا ہے ، لیکن تاریخ نے اس کی بہت سی ایسی باتوں کو اپنے دامن میں محفوظ کر لیا ہے کہ جس میں اس نے رسول خدا (ص) کے ساتھ دشمنی اور ان کے نام کو مٹانے کی واضح وضاحت کی ہے:
مشہور مورخ مسعودی لکھتا ہے کہ:
مطرف ابن مغیره نے مغیرہ ابن شعبہ کے بیٹے سے نقل کیا ہے کہ میں اپنے باپ مغیرہ کے ساتھ شام آیا اور میرا باپ روزانہ معاویہ کے پاس جاتا تھا اور اس سے باتیں کر کے واپس آ جاتا تھا اور اس کی عقل و ہوش کی تعریف کیا کرتا تھا، لیکن ایک دن جب معاویہ کے پاس واپس آیا تو بہت غمگین اور غصے کی حالت میں تھا یعنی اتنے غصے میں تھا کہ اس نے شام کا کھانا بھی نہیں کھایا، میں نے سوچا کہ شاید ہمارے خاندان کو کچھ پریشانی لاحق ہو گئی ہے، میں نے پوچھا کہ آج اتنا کیوں ناراض ہیں ؟
تو اس نے کہا کہ میں آج خبیث ترین انسان کے پاس سے واپس آ رہا ہوں، میں نے پوچھا کہ کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ میں معاویہ کے پاس اکیلا بیٹھا ہوا تھا تو میں نے اس سے کہا کہ تمہارا مقام بہت بلند و بالا ہے، اگر تم عدالت سے کام لو اور نیک کام کرو تو بہت بہتر ہے، خصوصا اپنے خاندان میں بنی ہاشم کے ساتھ نیکی کر اور صلہ رحم اختیار کر، آج ان کی طرف سے تجھے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
اچانک وہ بدل گیا اور غصہ ہو کر کہنے لگا:
ابوبکر خلیفہ ہوا اور اس نے جو کرنا چاہا کیا، مگر جب وہ اس دنیا سے چلا گیا تو اس کا نام بھی ختم ہو گیا، اب کبھی کبھی اسکا ذکر کیا جاتا ہے کہ ابوبکر! پھر عمر خلیفہ ہوا اور اس نے دس سال زحمت کی ! وہ بھی جب دنیا سے چلا گیا تو اس کا بھی نام ختم ہو گیا، اب کبھی کبھی کہا جاتا ہے کہ عمر ! ان کے بعد ہمارا بھائی عثمان خلیفہ ہوا، اس نے بہت زیادہ کام انجام دئیے لیکن جب وہ دنیا سے گیا تو اس کا نام بھی ختم ہو گیا، لیکن ہاشم کے بھائی (رسول اکرم کی طرف اشارہ ہے ) کا نام روزانہ پانچ مرتبہ (گلدستہ اذان سے) فریاد کرتا ہے اور کہتا ہے:
اشھد انّ محمّدا رسول اللہ،
ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارا کونسا عمل اور کونسا نام باقی رہے گا ! پھر کہنے لگا:
واللہ الا دفنا دفنا،
خدا کی قسم ! اس نام کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
مروج الذهب، ج 3، ص 454
شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 5، ص 129
اس واقعہ سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ معاویہ کے پروگرام اور اسلام و رسول خدا (ص) سے اس کی حسادت و کینہ پروری واضح ہو جاتی ہے، اسی وجہ سے اس نے کبھی بھی خاندان رسول خدا اور اہل بیت سے دشمنی کرنے سے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا اور ان کے حق میں بہت سی جنایات کا مرتکب ہوا تھا، جن میں سے سب سے زیادہ مشہور و واضح حضرت علی (ع) پر لعن اور گالیوں کو رواج دیا اور امام حسن (ع)، حجر ابن عدی اور حجر کے دوسرے دوستوں کو شہید کیا۔
کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص108
ظہور اسلام کے بعد بنی امیہ اور بنی ہاشم کے اختلافات کا شدید ہونا:
جب پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی دعوت کا مکہ میں آغاز کیا اس وقت شہر مکہ کی سیاسی اور اقتصادی طاقت اتفاقی طور پر بنی امیہ کے خاندان میں تھی۔
اس خاندان کے بزرگوں نے تجارت اور ربا خواری کے ذریعے سے بہت زیادہ مال جمع کر رکھا تھا اور اس کے علاوہ خانہ کعبہ کی نگہبانی اور زائرین کی خدمت کرنے کے ذریعے کو ایک طرح کا دینی تسلط حاصل کر رکھا تھا، اسی وجہ سے حج کے زمانے میں جب حاجی عرفہ سے حرکت کرتے تھے تو قریش مزدلفہ سے چل دیتے تھے کیونکہ ان کا اعتقاد تھا کہ کعبہ کا طواف پاک کپڑوں میں کرنا چاہیے اور کپڑوں کو اس وقت پاک سمجھتے تھے جب کپڑا قریش سے لیا جائے اور اگر وہ کسی کو کپڑے نہیں دیتے تھے تو وہ ننگا ہو کر طواف کرنے پر مجبور ہوتا تھا !
سیرة ابن ہشام ، ج 1 ،ص 125
یہی وجہ تھی کہ ایک دفعہ ان کا دیرینہ بغض و حسد بھرک اٹھا ، خاص طور سے جب انہوں نے اپنے ناجائز فائدے اور اپنی اجتماعی حالت کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا ، لہذا وہ اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ اس نئے آئین سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، لیکن اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس پوری جنگ میں ، پیغمبر اکرم اور مسلمانوں کے خلاف تمام فتنوں اور جنگوں کی سرپرستی (بنی امیہ کے سردار ) ابو سفیان کے ہاتھ میں تھی۔
ابو سفیان اور اس کے قبیلہ والوں نے جن کی عزت و آبرو دوسرے قبیلوں سے زیادہ خاک میں مل گئی تھی ، اس وقت اسلام قبول کیا کہ جس وقت اس کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے تصور کیا کہ ان کے لیے ایک نیا دروازہ کھل گیا ہے کہ اگر اس پر سوار ہو گئے تو اپنے مقصد تک پہنچ جائیں گے ، لہذا انہوں نے اپنے فائدہ کو دیکھتے ہوئے اسلام قبول کیا۔
…………………………………………..
قسط ۳ معاویہ ابن ابوسفیان ۔۔۔خاندان بنو اُمیہ کا چشم و چراغ۔۔۔
کتاب انساب الاشراف بلاذری میں یہ روایت ذکر ہوئی ہے اور اسی روایت کو 50 سے زیادہ اہل سنت کے علماء نے نقل کیا ہے: صحابہ کہتے ہیں کہ ہم رسول خدا کے پاس تھے کہ انھوں نے فرمایا: ابھی اس دروازے سے ایک مرد داخل ہو گا کہ جو میرے مذہب پر نہیں مرے گا۔

من گھڑت کہانیوں پر مبنی فلم میں جو کچھ دکھایا گیا اس کے برعکس مسلمانوں کی کتب کیا کہتی ہیں۔۔۔۔۔۔
حقیقت ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح کتاب انساب الاشراف بلاذری میں یہ روایت ذکر ہوئی ہے اور اسی روایت کو 50 سے زیادہ اہل سنت کے علماء نے نقل کیا ہے:
کنْتُ عِنْدَ النَّبِی صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یطْلُعُ عَلَیکمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ یمُوتُ عَلَی غَیرِ مِلَّتِی،
صحابہ کہتے ہیں کہ ہم رسول خدا کے پاس تھے کہ انھوں نے فرمایا: ابھی اس دروازے سے ایک مرد داخل ہو گا کہ جو میرے مذہب پر نہیں مرے گا۔
قَالَ: وَکنْتُ تَرَکتُ أَبِی قَدْ وُضِعَ لَهُ وَضُوءٌ، فَکنْتُ کحَابِسِ الْبَوْلِ مَخَافَةَ أَنْ یجِیءَ،
راوی کہتا ہے کہ: میرے والد وضو کرنے کے لیے چلے گئے، مجھے خود بھی بیت الخلاء جانے کی اشد ضرورت تھی، لیکن پھر بھی اس شخص کو دیکھنے کے لیے میں نے خود کو کنڑول کر کے رکھا۔
قَالَ: فَطَلَعَ مُعَاوِیةُ فَقَالَ النَّبِی صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: هُوَ هَذَا،
راوی کہتا ہے کہ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ اس دروازے سے معاویہ داخل ہوا ہے، اسکو دیکھتے ہی رسول خدا نے فرمایا کہ: جس شخص کے بارے میں، میں نے کہا تھا کہ وہ مسلمان دنیا سے نہیں مرے گا، وہ یہی شخص ہے۔ (یعنی معاویہ مسلمان نہیں بلکہ کافر دنیا سے جائے گا)
جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری، تحقیق: سهیل زکار وریاض الزرکلی، ج 5، ص 126، ح 362
شمس الدین ذہبی کی کتاب سیر اعلام النبلاء میں ذکر ہوا ہے کہ عبد الرزاق صنعانی بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں وہاں پر ایک شخص نے معاویہ کے نام کو ذکر کیا، تو عبد الرزاق نے غصے سے اس شخص سے کہا:
لا تقذر مجلسنا بذکر ولد أبی سفیان،
ہماری اس محفل کو ابو سفیان کے بیٹے (معاویہ) کے ذکر سے نجس نہ کرو۔
سير أعلام النبلاء ، اسم المؤلف: محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي ،تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ج 9، ص 570
معاویہ ثانی کا یزید اور معاویہ ابن ابو سفیان پر اعتراض کرنا:
اسی طرح کتاب النجوم الزاهرة فی ملوک المصر و القاهرة میں عالم اہل سنت اتابکی نے «ذکر خلافۃ معاویۃ بن یزید بن معاویۃ» کے عنوان سے نقل کیا ہے کہ معاویہ ابن یزید ابن معاویہ کہ جو یزید کا بیٹا اور معاویہ کا پوتا ہے، اس نے یزید کے واصل جہنم ہونے کے بعد، بعنوان حاکم اموی منبر پر بیٹھ کر کہا:
أیها الناس، إن جدی معاویة نازع الأمر أهله ومن هو أحق به منه لقرابته من رسول الله صلی الله علیه وسلم وهو علی بن أبی طالب،
اے لوگو ! میرے جدّ معاویہ نے خلافت کے لیے علی ابن ابی طالب سے اختلاف کیا، حالانکہ رسول خدا سے قرابت کیوجہ سے علی، حق پر تھے۔
ورکب بکم ما تعلمون، «حتی أتته منیته، فصار فی قبره رهیناً بذنوبه وأسیراً بخطایاه» «ثم قلد أبی الأمر فکان غیر أهل لذلک، ورکب هواه وأخلفه الأمل، وقصر عنه الأجل. وصار فی قبره رهیناً بذنوبه، وأسیراً بجرمه» «ثم بکی حتی جرت دموعه علی خدیه» «ثم قال: إن من أعظم الأمور علینا علمنا بسوء مصرعه وبئس منقلبه» «وقد قتل عترة رسول الله صلی الله علیه وسلم وأباح الحرم وخرب الکعبة»
اس (معاویہ) نے خود کو کسطرح تم لوگوں کی گردنوں پر سوار (مسلط) کیا کہ تم سب بہتر جانتے ہو، یہاں تک کہ وہ موت پا کر قبر میں چلا گیا ہے، اس حالت میں کہ قبر اپنے گناہوں اور خطاؤوں کے ہاتھوں اسیر ہے،
اس (معاویہ) کے بعد میرا باپ یزید بھی خلافت کا اہل نہیں تھا، وہ بھی اپنی ہوا و ہوس پر سوار ہو کر قبر میں چلا گیا ہے اور وہ بھی اپنے گناہوں اور جرم کے ہاتھوں اسیر ہے۔
پھر اس (معاویہ ابن یزید) نے بہت گریہ کیا اور کہا: میں جانتا ہوں کہ میرا باپ بد ترین جگہ پر بد ترین عذاب میں مبتلا ہے اور وہ بد ترین ٹھکانے میں ہے، اسلیے کہ اس نے رسول خدا کی عترت کو شہید کیا ہے، اور اس نے خانہ کعبہ کی حرمت کو پامال کیا ہے اور خانہ کعبہ کو منہدم کیا تھا۔
النجوم الزاهرة فی ملوک مصر والقاهرة، المؤلف: یوسف بن تغری بردی بن عبد الله الظاهری الحنفی، ج1، ص 164
معاویہ کا جہنم میں آگ کے تابوت میں ہونا:
یہ روایت متعدد کتب میں ذکر ہوئی ہے، کتاب أنساب الاشراف میں بلاذری نے خلف ابن ہشام سے اور اس نے ابو عوانہ سے اور اس نے اعمش سے اور اس نے سالم ابن ابی جعد سے نقل کیا ہے کہ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: مُعَاوِیةُ فِی تَابُوتٍ مُقْفَلٍ عَلَیهِ فِی جَهَنَّمَ،
رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: معاویہ جہنم میں تالا شدہ تابوت میں بند ہے۔
جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری (المتوفی: 279 هـ)، ج 5، ص 128، ح 370
متعدد روایات میں ذکر ہوا ہے کہ معاویہ جہنم کے سب سے نیچے والے درجے پر ہے اور وہ فقط ایک درجہ فرعون سے اوپر ہے، اسلیے کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا اور معاویہ نے باقی تمام دعوے کیے تھے لیکن خدا ہونے کا دعوی نہیں کیا تھا۔
اہل سنت کے بزرگ مؤرخ طبری نے بھی لکھا ہے کہ:
إن معاویة فی تابوت من نار فی أسفل درک،
معاویہ آگ کے تابوت میں جہنم کے سب سے نیچے والے درجے میں ہے۔
تاریخ الطبری، اسم المؤلف: لأبی جعفر محمد بن جریر الطبری، ج 5، ص 622، باب ذکر الخبر عما کان فیها من الأحداث الجلیلة
علی ابن جعد کہ جو ثقہ ہے، اس نے لکھا ہے کہ:
ما ضرنی أن یعذب الله معاویة ،
مجھے کسی قسم کا کوئی ضرر نہیں ہے کہ میں قائل ہوں کہ خداوند معاویہ کو عذاب کرنے والا ہے۔
سؤالات أبی عبید الآجری أبا داود السجستانی، سلیمان بن الأشعث أبو داود السجستانی، مکان النشر المدینة المنورة، ج 1، ص 254، ش 338
امیر المؤمنین علی (ع) سے معاویہ کا عجیب بغض و کینہ:
کتاب المفید بالمعجم رجال الحدیث میں جواہری نے لکھا ہے کہ:
عبد الله بن عباس من اصحاب رسول الله و علی و الحسن و الحسین روی فی تفسیر القمی عن رسول الله جلیل القدر مدافع عن أمیر المؤمنین و الحسنین و الروایاة الدالة علی مدحه مستفیضة روایاة ذامة انما وضعت لانه موالی لأمیر المؤمنین حتی أن معاویة لعنه الله کان یلعنه بعد الصلاة مع لعنه علیا و الحسنین و قیس و الأشتر،
۔۔۔۔۔ معاویہ نماز کے بعد امام علی، امام حسن اور امام حسین کو لعنت کیا کرتا تھا۔
بالکل یہی عبارت ابن اثیر کی کتاب میں بھی ذکر ہوئے ہیں:
الکامل فی التاریخ، المؤلف: أبو الحسن علی بن أبی الکرم، عز الدین ابن الأثیر ج 2، ص 684، باب ذکر تتمة أمر صفین
کتاب صحیح مسلم میں ذکر ہوا ہے کہ معاویہ واضح طور پر سعد ابن ابی وقاص سے کہتا تھا کہ تم ابو تراب کو لعنت کیوں نہیں کرتے ؟!
ما مَنَعَكَ ان تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ ،
کیا چیز تم کو ابو تراب پر لعنت کرنے سے منع کرتی ہے۔۔۔۔۔
صحيح مسلم، اسم المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي؛ ج4، ص 1871 ح2404
اسی طرح کتاب معجم البلدان میں حموی نے اس بارے میں سخت الفاظ لکھے ہیں کہ:
لُعِن علی بن أبی طالب رضی الله عنه علی منابر الشرق والغرب ولم یعلن علی منبرها إلا مرة ، وهو یُلعَن علی مَنابر الحرمین مکة والمدین
علی ابن ابی طالب پر مشرق و مغرب کے منبروں پر لعنت کی جاتی تھی، حتی مکہ اور مدینہ کے منبروں پر بھی ان پر لعنت کی جاتی تھی۔
معجم البلدان، اسم المؤلف: یاقوت بن عبد الله الحموی أبو عبد الله، ج 3، ص 191، باب السین والجیم وما یلیهما
حالانکہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ:
مَنْ سَبَّ عَلِیاً فَقَدْ سَبَّنِی،
جو علی کو گالی دے گا، اس نے مجھے گالی دی ہے۔
مسند الإمام أحمد بن حنبل، اسم المؤلف: أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني،– مصر؛ ج6، ص 323، ح 26791
المستدرك على الصحيحين، اسم المؤلف: محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم النيسابوري، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا؛ ج3، ص 130، ح4615
رسول خدا (ص) کا سخت الفاظ میں معاویہ پر لعنت کرنا:
طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری میں نقل کیا ہے:
وقد رآه مقبلا علی حمار ومعاویة یقود به ویزید ابنه یسوق به،
ابو سفیان گدھے پر سوار تھا، معاویہ نے اسکی لگام پکڑی ہوئی تھی اور ابو سفیان کا بیٹا یزید گدھے کو پیچھے سے ہانک رہا تھا۔
طبری نے اس مطلب کو نقل کرنے کے بعد رسول خدا کے قول کو نقل کیا ہے کہ:
لعن الله القائد والراکب والسائق،
خداوند اسکو کہ جو گدھے پر سوار ہے، اور اسکو کہ جو گدھے کے آگے ہے اور اسکو کہ جو گدھے کے پیچھے ہے، لعنت کرے، یعنی رسول خدا نے تینوں پر لعنت کی ہے۔
تاریخ الطبری، اسم المؤلف: لأبی جعفر محمد بن جریر الطبری، ج 5، ص 622، باب ذکر الخبر عما کان فیها من الأحداث الجلیلة
اسی طرح اہل سنت کی معتبر کتاب المختصر فی أخبار البشر میں ابو الفداء نے اسی روایت کو ذکر کیا ہے:
أبا سفیان مقبلاً ومعاویة یقوده، ویزید أخو معاویة یسوق به، فقال: ” لعن الله القائد والراکب والسائق ”
المختصر فی أخبار البشر، المؤلف: أبو الفداء عماد الدین إسماعیل بن علی ج 2، ص 57، باب خلافة أبی العباس
اسی طرح کتاب مجمع الزوائد میں ہیثمی نے تحریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
فمر رجل علی بعیر،
ہیثمی نے بنی امیہ کے ساتھ وفا داری نبھاتے ہوئے، روایت سے ابو سفیان، معاویہ اور یزید کے نام کو حذف کر کے لفظ ” رجل ” کو ذکر کیا ہے۔
کان جالسا فمر رجل علی بعیر وبین یدیه قائد وخلفه سائق فقال لعن الله القائد والسائق والراکب،
ہیثمی نے روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ:
رواه البزار ورجاله ثقات،
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، اسم المؤلف: علی بن أبی بکر الهیثمی، 1407، ج 1، ص 113، باب منه فی المنافقین
اسی طرح طبرانی نے کتاب معجم الکبیر میں بھی انہی الفاظ کو ذکر کیا ہے:
أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللَّهُ علیه وسلم قال لَعَنَ اللَّهُ السَّائِقَ وَالرَّاکبَ أَحَدُهُمَا فُلانٌ قَالا اللَّهُمَّ نعم،
المعجم الکبیر، اسم المؤلف: سلیمان بن أحمد بن أیوب أبو القاسم الطبرانی، دار النشر: مکتبة الزهراء – الموصل – 1404 – 1983، الطبعة: الثانیة، تحقیق: حمدی بن عبدالمجید السلفی، ج 3، ص 71، ح 2698
اسی طرح کتاب أنساب الأشراف میں بلاذری نے بھی ذکر کیا ہے کہ:
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی عَلَیهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ الْحَامِلُ وَالْمَحْمُولُ وَالْقَائدُ وَالسَّائِقُ،
جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری ، ج 5، ص 129، ح 372
ابو بکر احمد ابن ہارون خلال متوفی 311 ہجری کہ جو عالم بزرگ اہل سنت ہے، اس نے اپنی کتاب السنۃ میں عبید الله ابن موسی سے روایت کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
ہم راستے پر چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ:
فحدث فی الطریق فمر حدیث لمعاویة فلعن معاویه ولعن من لا یلعنه،
ہم راستے پر جا رہے تھے کہ معاویہ کا ذکر ہوا، ہم نے معاویہ پر لعنت کی اور جو اس پر لعنت نہیں کرتا، ہم نے اس پر بھی لعنت کی۔
پھر لکھا ہے کہ:
أنه کان معه فی طریق مکة فحدث بحدیث لعن فیه معاویة،
مکہ کے راستے میں حدیث کو ذکر کیا گیا کہ رسول خدا نے معاویہ پر لعنت کی ہے،
فقال نعم لعنه الله ولعن من لا یلعنه،
راوی کہتا ہے، ہاں خدا نے بھی اس پر لعنت کی ہے اور جو اس (معاویہ) پر لعنت نہیں کرتا، اس پر بھی خدا کی لعنت ہو۔
إسناده حسن،
اس روایت کی سند حسن (معتبر) ہے۔
السنة، المؤلف: أحمد بن محمد بن هارون بن یزید الخلال أبو بکر، ج 3، ص 505، ح 808
معاویہ شیطان ہے:
زیاد حلال زادہ نہیں تھا، اسلیے کہ اسکے باپ کا ہی نہیں پتا تھا کہ کون ہے۔ اسلامی لحاظ سے بالکل غلط لیکن سیاسی مقاصد کے لیے جب معاویہ نے زیاد کو ابو سفیان کا بیٹا ظاہر کرنا چاہا تو علی (ع) نے زیاد کو خط لکھا:
كتب علي رضي الله عنه إلى زياد بن ابيه وأراد معاوية أن يخدعه باستلحاقه؛ وقد عرفت أن معاوية يستزل لبك ويستغل غربك فاحذره، فإنما هو الشيطانيأتي المؤمن من يديه ومن خلفه، وعن يمينه وعن شماله، ليقتحم غفلته، ويستلب غرته….
حضرت علی (ع) نے زياد ابن ابيہ کو خط لکھا اور فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ معاویہ نے تمہاری عقل کو دھوکہ دینے کے لیے تمہیں خط لکھا ہے، زیاد تم اس سے ہوشیار رہنا، بے شک معاویہ شیطان ہے کہ جو مؤمن کے آگے پیچھے، دائیں بائیں سے اس پر حملہ کرتا ہے تا کہ اسکو غافل کر کے اسکی عقل و شعور کو اس سے چھین لے۔
زمخشري، ربيع الأبرار، ج 4، ص 281
اہل سنت سے سوال:
تم لوگ کیسے معاویہ کو عادل مانتے ہو حالانکہ تمہارے چوتھے خلیفہ نے فرمایا ہے کہ وہ یقینی طور پر شیطان ہے ؟
شخصیت معاویہ:
معاویہ کی فضیلت و مدح میں کوئی صحیح روایت بھی موجود نہیں ہے، اسی وجہ سے بخاری جیسے بندے نے کہ جو بنی امیہ کے ساتھ بہت ہی وفاداری کرنے والا ہے اور وہ ہر طرح سے ممکن کوشش کرتا تھا کہ کوئی نہ کوئی حدیث بنی امیہ کی فضیلت میں مل جائے تو اسے فوری طور پر اپنی کتاب صحیح میں ذکر کر دے، لیکن اسکے باوجود جب یہی بخاری اپنی کتاب صحیح بخاری میں معاویہ کے بارے میں بات کو شروع کرتا ہے تو باب کو ذكر معاويۃ کے عنوان سے ذکر کرتا ہےـ
صحيح البخاري، ج4، ص 219
ابن حجر نے کتاب فتح الباري شرح صحيح البخاري میں لکھا ہے کہ:
بخاری نے اپنی کتاب میں ہر جگہ ذکر کیا ہے: فضائل علی و عمر و عمار وغيره، لیکن جب معاویہ کے بارے میں بات آتی ہے تو لفظ فضائل کی بجائے، لفظ ذکر کو لاتا ہے:
فأشار بهذا إلي ما إختلقوه لمعاوية من الفضائل مما لا أصل له و قد ورد في فضائل معاوية أحاديث كثيرة لكن ليس فيها ما يصح من طريق الإسناد.
وہ (بخاری) اس بات سے اسطرف اشارہ کرنا چاہتا ہے کہ بنی امیہ نے جو فضائل معاویہ کے لیے گھڑے ہیں، وہ سارے جڑ سے ہی جھوٹے اور جعلی ہیں اور ان جعلی روایات میں سے کسی کی بھی سند صحیح و معتبر نہیں ہے۔
فتح الباري شرح صحيح البخاري لإبن حجر العسقلاني، ج7، ص81
کتب اہل سنت میں معاویہ کی مذمت میں روایات:
کیا رسول خدا (ص) سے معاویہ کی مذمت میں کوئی حدیث نقل ہوئی ہے یا نہیں ؟
روايت اول:
معاویہ اور اسکے ظاہری باپ ابو سفیان کے بارے میں براء ابن عازب سے نقل ہوا ہے کہ:
أقبل أبو سفيان و معه معاوية، فقال رسول الله صلي الله عليه و سلم: أللهم العن التابع و المتبوع! أللهم عليك بالأقيعس! فقال إبن البراء لأبيه: من الأقيعس؟ قال: معاوية.
ابو سفیان اور معاویہ اکٹھے چلتے ہوئے آ رہے تھے، رسول خدا نے انکو دیکھ کر فرمایا: خدایا ان دونوں پر لعنت فرما۔۔۔۔۔۔
وقعة صفين لإبن مزاحم المنقري، تحقيق و شرح عبد السلام محمد هارون، ص217
روايت دوم:
طبری نے نقل کیا ہے کہ:
قول الرسول عليه السلام و قد رآه مقبلا علي حمار و معاوية يقود به و يزيد إبنه يسوق به لعن الله القائد و الراكب و السائق.
اس کا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے۔۔۔۔۔
تاريخ الطبري، ج8، ص185 ـ شرح نهج البلاغه لإبن أبي الحديد، ج15، ص175
روايت سوم:
کتاب انساب الأشراف میں بلاذری نے عبد الله ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ: ہم رسول خدا کے پاس موجود تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول خدا نے فرمایا:
يموت علي غير ملتي، فطلع معاويه و قال النبي هو هذا.
یہاں سے ایک ایسا شخص ابھی آئے گا کہ اسکو میرے دین پر موت نہیں آئے گی، اتنے میں وہاں سے معاویہ آ گیا تو رسول خدا نے فرمایا: وہ یہی شخص ہے۔
أنساب الأشراف لبلاذري، ج5، ص134، چاپ دار الفكر بيروت ـ تاريخ الطبري، ج8، ص186
وقعة صفين لإبن مزاحم المنقري، تحقيق و شرح عبد السلام محمد هارون، ص220
روايت چہارم:
یہ حدیث اصل میں رسول خدا (ص) کی طرف سے معاویہ اور اسکے دوست عمرو ابن عاص کے لیے نفرین اور بد دعا ہے۔
بات ایسے ہے کہ یہ دونوں شہدائے احد کے بارے میں اشعار و ترانہ پڑھ رہے تھے کہ جس میں یہ دونوں شہداء کے بارے میں غلط باتیں کرتے ہوئے مذاق اڑا رہے تھے، ابو برزہ کہتا ہے کہ:
میں رسول خدا کے ساتھ تھا، جب ترانے کی آواز آئی تو حضرت نے مجھ سے کہا: جاؤ جا کر دیکھو یہ کن کی آواز ہے ؟ ابو برزہ کہتا ہے میں گیا تو میں نے دیکھا کہ معاویہ اور عمرو ابن عاص اشعار پڑھ رہے تھے، میں نے انکے بارے میں آ کر رسول خدا کو بتایا تو انھوں نے فرمایا:
أللهم اركسهما في الفتنة ركسا و دعهما إلي النار دعّا.
خدايا ! ان دونوں کے سروں کو فتنے میں قرار دے اور شدت کے ساتھ ان دونوں کو جہنم کی آگ میں داخل فرما۔
المعجم الكبير للطبراني، ج11، ص32
مسند أبي يعلي، ج13، ص429
كتاب المجروحين لإبن حبان، ج3، ص101
وقعة صفين لإبن مزاحم المنقري، تحقيق و شرح عبد السلام محمد هارون، ص219
سير أعلام النبلاء للذهبي، ج3، ص132 و ج6، ص131
المصنف لإبن أبي شيبة الكوفي، ج8، ص695
مسند احمد بن حنبل، ج4، ص421
مجمع الزوائد للهيثمي، ج8، ص121
مسند بزار، ج9، ص303 و 310
المعجم الأوسط للطبراني، ج7، ص133
القول المسدد في مسند أحمد لأبن حجر العسقلاني، ص97 ميزان الإعتدال للذهبي، ج4، ص424
النصائح الكافية لمحمد بن عقيل، ص125
بعض خیانت کار دین و ایمان فروش لکھنے والوں نے صحابہ کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس روایت سے معاویہ اور عمرو ابن عاص کے نام کو تحریف کرتے ہوئے، انکی جگہ پر لفظ فلان فلان ذکر کر دیا ہے۔
یہ لعنت نہیں ہے بلکہ رسول خدا کی طرف سے ان دونوں پر نفرین و بد دعا ہے کہ بے شک پیغمبر اکرم (ص) کی نفرین عملی طور پر ثابت ہو کر رہے گی۔
كتاب القول المسدد میں سيوطی سے اس روایت کو نقل کیا گیا ہے اور کہا ہے کہ:
بعض علماء نے کوشش کی ہے کہ کہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے، نہ ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ روایت صحیح ہے اور اسی بات پر کتاب معجم کبیر میں ابن عباس سے روایات کی صورت میں دلائل بھی موجود ہیں۔
القول المسدد في مسند أحمد لأبن حجر العسقلاني، ص96
واقعا تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ انسان اتنی زیادہ معتبر روایات کا انکار کر دے، یا ان صحیح روایات کی طرح طرح کی غلط تاویلات کرے اور ان صحیح روایات کے مقابلے پر معاویہ کے بارے میں سراسر غلط، جھوٹی اور جعلی روایات کو اپنی کتب میں ذکر کرے۔
معاویہ نے امیر المؤمنین علی (ع) کو ایک خط لکھا کہ جس خط میں معاویہ نے لکھا کہ:
میں کاتب وحی اور رسول خدا کے اصحاب میں سے ہوں۔۔۔
امير المؤمنين علی (ع) نے کتاب نہج البلاغہ میں اس خط کے جواب میں معاویہ کو لکھا کہ:
اگر تم ایسے ہو تو جان لو کہ:
و لكن ليس أمية كهاشم و لا حرب كعبد المطلب و لا أبو سفيان كأبي طالب و لا المهاجر كالطليق و لا الصريح كاللصيق و لا المحق كالمبطل و لا المؤمن كالمدغل و لبئس الخلف خلف يتبع سلفا هوي في نار جهنم . . .
تمہارا جد امیہ میرے جد ہاشم کی مانند نہیں ہے، تمہارا جد حرب میرے جد مُطلب کی مانند نہیں ہے، تمہارا باپ ابو سفیان میرے والد ابو طالب کی مانند نہیں ہے، میں تمہاری مانند نہیں ہوں، اس لیے کہ میں مہاجرین میں سے ہوں اور تم روز فتح مکہ کے طلقاء میں سے ہو، حالانکہ اس دن تم قتل کر دئیے جانے کے قابل تھے اور رسول خدا نے تم لوگوں پر احسان کر کے تم لوگوں کو آزاد کر دیا، میرا نسب واضح و خالص ہے، میرا نسب تمہاری طرح نہیں ہے کہ تم لصیق اور حرام زادے اور اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے باپ سے منسوب ہو۔۔۔۔۔
الإمامة و السياسة لإبن قتيبة الدينوري، ج1، ص104
ربيع الأبرار للزمخشري، ج3، ص470
مروج الذهب للمسعودي، ج2، ص61
وقعة صفين لإبن مزاحم المنقري، ص471
كتاب الفتوح لأحمد بن أعثم الكوفي، ج3، ص155
المناقب للموفق الخوارزمي، ص256
شرح نهج البلاغة لإبن أبي الحديد المعتزلي، ج15، ص117
منهاج البراعة للخوئي، ج18، ص239
اہل سنت مصنف ڈاکٹر صبحی صالح نے نہج البلاغہ میں لکھا ہے کہ:
اللصيق: الدعي الملصق بغير أبيه.
یعنی حرامزادہ اور جو کہ جو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کے باپ سے منسوب ہوتا ہے۔
البتہ معاویہ کے بارے میں بالکل یہی تعبير امام حسن (ع) کی زبان سے بھی نقل ہوئی ہے کہ جسے سبط إبن الجوزی نے کتاب تذكرة الخواص میں امام حسن کے قول سے نقل کیا ہے کہ:
و قد علمت الفراش الذي ولدت فيه.
اور بے شک تم اس بستر کو جانتے ہو کہ جس پر تم دنیا میں آئے تھے، (یعنی تم ایک نجس بستر پر زنا کی وجہ سے دنیا میں آئے تھے)
سبط ابن جوزی نے مزید لکھا ہے کہ:
إن معاوية كان يقال إنه من أربعة من قريش: عمارة بن الوليد بن المغيرة المخزومي، مسافر بن أبي عمرو، أبي سفيان، العباس بن عبد المطلب.
بے شک کہا جاتا تھا کہ معاویہ قریش کے چار مردوں کا بیٹا ہے، عمارہ ابن ولید، مسافر ابن ابی عمرو، ابو سفیان اور عباس ابن عبد المطلب۔
سبط إبن الجوزی تذكرة الخواص، ص116
معاویہ کی ماں نے قریش کے چار افراد کے ساتھ زنا کیا تھا کہ جنکے نتیجے میں معاویہ حرامی دنیا میں آیا تھا:
عمارة بن وليد بن مغيرة مخزومي، مسافر بن أبي عمرو، أبو سفيان و عباس بن عبد المطلب.
اہل سنت کے بزرگ عالم زمخشری نے کہا ہے کہ:
و كان معاوية يعزي إلي أربعة إلي مسافر بن أبي عمرو و إلي عمارة بن الوليد و إلي العباس بن عبد المطلب و إلي الصباح مغني أسود كان لعمارة.
معاویہ کی نسبت چار افراد کی طرف دی جاتی تھی:
سافر بن أبي عمرو، عمارة بن وليد، عباس بن عبد المطلب و صباح ،
ربيع الأبرار للزمخشري (موسسه أعلمي بيروت)، ج4، ص276، باب66، شماره 7
بلاذری نے معاویہ اور زیاد ابن عقیل کے درمیان ہونے والے مناظرے میں انہی مطالب کو ذکر کیا ہے، اسی طرح ابن ابی الحدید نے بھی نقل کیا ہے کہ:
معاویہ نے زیاد ابن ابیہ کی ماں کے بارے میں کوئی بات کی تو زیاد ابن ابیہ نے معاویہ سے کہا:
و أما تعييرك لي بسمية، فإن كنت إبن سمية فأنت إبن جماعة.
۔۔۔۔۔ اگر میں سمیہ کا بیٹا ہوں تو تم بھی تو ایک پورے ایک گروہ کے بیٹے ہو ! (یعنی اے معاویہ تم زنا زادے ہو،)
شرح نهج البلاغه لإبن أبي الحديد، ج16، ص183
علمائے بزرگ اہل سنت اور معاویہ:
علامہ امينی نے کتاب الغدير میں معاویہ کے بارے میں اہل سنت کے علماء کے اقوال کو ذکر کیا ہے۔
عبد الله ابن احمد ابن حنبل کہتا ہے کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ:
سألت أبي عن علي و معاوية؟ فقال: إعلم أن عليا كان كثير الأعداء، ففتش له أعداؤه عيبا فلم يجدوا، فجاؤوا إلي رجل قد حاربه و قاتله، فأطروه كيدا منهم لعلي.
آپکی علی اور معاویہ کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا: علی کے بہت زیادہ دشمن تھے اور انھوں نے بہت کوشش کی کہ علی کی ذات میں کوئی عیب تلاش کر سکیں، لیکن نہ کر سکے، پھر علی کے سب دشمن معاویہ کے پاس آئے کہ جس نے علی کے ساتھ جنگ کی تھی، وہ سارے اکٹھے ہوئے اور علی کے بارے میں اپنے بغض کو ظاہر و ثابت کرنے کے لیے انھوں نے معاویہ کے بارے میں جھوٹے اور جعلی فضائل گھڑنا شروع کر دئیے۔
المنتظم لإبن الجوزي، ج، ص372
تاريخ الخلفاء للسيوطي، ص207
الصوائق المحرقة لإبن حجر الهيثمي، ص127
تحفة الأحوذي للمباركفوري، ج10، ص231
النصائح الكافية لمحمد بن عقيل، ص199
ابن حجر عسقلانی نے اسی روايت کو ذکر کیا ہے اور اسکے ذیل میں کہا ہے کہ:
فأشار بهذا إلي ما اختلقوه لمعاوية من الفضائل مما لا أصل له و قد ورد في فضائل معاوية أحاديث كثيرة، لكن ليس فيها ما يصح من طريق الإسناد.
یہ روایت بتاتی ہے کہ وہ بہت سے فضائل کہ جو معاویہ کے بارے میں گھڑے گئے ہیں، انکی کوئی بنیاد و جڑ نہیں ہے اور ان میں سے کسی کی بھی سند صحیح و معتبر نہیں ہے۔
فتح الباري لإبن حجر العسقلاني، ج7، ص81
مناوی نے کہا ہے کہ:
أجمع فقهاء الحجاز و العراق من فريقي الحديث و الرأي منهم مالك و الشافعي و أبو حنيفة و الأوزاعي و الجمهور الأعظم من المتكلمين و المسلمين أن عليا مصيب في قتاله لأهل صفين، كما هو مصيب في أهل الجمل و أن الذين قاتلوه بغاة ظالمون.
حجاز (مکہ، مدینہ)، عراق کے اہل حدیث اور اہل رائے، مالک، شافعی، ابو حنیفہ، اوزاعی اور بہت سے متکلمین اور مسلمین کا یہ عقیدہ ہے کہ معاویہ نے جو جنگ جمل و جنگ صفین، علی سے کی تھی، ان میں علی حق پر تھے اور جہنوں نے علی کے ساتھ جنگ کی تھی، وہ سب اہل بغاوت اور ظالم تھے۔
فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي، ج6، ص474
النصائح الكافية لمحمد بن عقيل، ص47
تفسير القرطبي، ج16، ص318
سير أعلام النبلاء للذهبي، ج1، حاشيه ص420
اگر معاویہ کے جہنمی اور باطل پر ہونے پر کوئی بھی دلیل موجود نہ ہو تو، پھر بھی رسول خدا سے عمار کے بارے میں نقل ہونے والی ایک ہی حدیث کافی ہے کہ جو بہت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ معاویہ اور اسکا لشکر باغی اور جہنمی ہیں:
إن عمار مع الحق و الحق مع عمار، يدور عمار مع الحق أينما دار.
عمار حق کے ساتھ ہے اور حق عمار کے ساتھ ہے، اور جہاں پر بھی حق ہو گا، عمار اسکے گرد گھومے گا، یعنی عمار بھی وہاں موجود ہو گا۔
الطبقات الكبري لمحمد بن سعد، ج3، ص262
تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج43، ص476
كنز العمال للمتقي الهندي، ج13، ص539
قابل توجہ ہے کہ کتاب صحيح بخاری اور صحیح مسلم میں آیا ہے کہ:
تقتله الفئة الباغية، عمار يدعوهم إلي الله و يدعونه إلي النار،
رسول خدا سے نقل ہوا ہے کہ عمار کو ایک باغی و ظالم گروہ قتل کرے گا، عمار انکو خدا کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے اور باغی گروہ عمار کو جہنم کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے۔
صحيح البخاري، ج3، ص207، كتاب الجهاد و السير، باب مسح الغبار عن الناس في السبيل
صحيح مسلم، ج8، ص186، كتاب الفتن و أشراط الساعة، باب لا تقوم الساعة حتي يمر الرجل بقبر الرجل
اس روایت میں باغی گروہ اور جماعت کا ذکر ہوا ہے نہ ایک باغی شخص کا، اور وہ سارا گروہ اہل جہنم ہے، نہ وہ صرف ایک شخص کہ جس نے عمار کو قتل کیا ہے۔
حاكم نيشاپوری نے بھی کہا ہے کہ:
إن قاتل عمار و سالبه في النار، فإنه صحيح علي شرط الشيخين و لم يخرجاه.
عمار کو قتل کرنے والا اور اسکے لباس کو سلب کرنے والا، جہنمی ہیں۔ (یعنی شہید کرنے کے بعد اسکے بدن سے لباس کو اتارنے والا شخص)۔
یہ روایت بخاری اور مسلم کے نزدیک بھی صحیح ہے، لیکن پھر ان دونوں نے اس روایت کو اپنی اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا۔
المستدرك علي الصحيحين الحاكم النيشابوري، ج3، ص387
قابل توجہ یہ ہے کہ:
لما قتل عمار بن ياسر، دخل عمرو بن حزم علي عمرو بن العاص، فقال: قتل عمار و قد قال رسول الله صلي الله عليه و سلم: تقتله الفئة الباغية ! فقام عمرو بن العاص فزعا يرجع حتي دخل علي معاوية، فقال له معاوية: ما شأنك؟ قال: قتل عمار ! فقال معاوية: قد قتل عمار، فماذا ؟! قال عمرو: سمعت رسول الله صلي الله عليه و سلم يقول: تقتله الفئة الباغية ! فقال له معاوية: دحضت في بولك ! أو نحن قتلناه ؟! إنما قتله علي و أصحابه جاؤوا به حتي ألقوه بين رماحنا أو قال بين سيوفنا.
جب عمار قتل ہو گیا تو عمرو ابن عاص معاویہ کے پاس گیا اور اس سے کہا: کیا عمار قتل ہو گیا ہے ؟! معاویہ نے کہا: قتل ہو گیا ہے تو پھر کیا ہوا ہے ؟ عمرو ابن عاص نے کہا: کیا تم نے رسول خدا کی اس حدیث کو نہیں سنا کہ: عمار کو ایک باغی اور ستمگر گروہ قتل کرے گا ؟! یہ سن کر معاویہ نے کہا: تم ہمیشہ اپنے ہی خیالوں کی نجاست میں غرق رہتے ہو ! مگر ہم نے عمار کو قتل کیا ہے ؟! بلکہ عمار کو علی اور اسکے اصحاب نے قتل کیا ہے کہ وہی لوگ اسکو گھر سے لے کر ہماری تلواروں کے سامنے لے کر آئے تھے۔
مسند أحمد بن حنبل، ج4، ص199
المستدرك علي الصحيحين الحاكم النيشابوري، ج2، ص156
السنن الكبري للبيهقي، ج8، ص189
مجمع الزوائد للهيثمي، ج7، ص242
مسند أبي يعلي، ج13، ص124
تاريخ مدينة دمشق لإبن عساكر، ج43، ص431
سير أعلام النبلاء للذهبي، ج1، ص420
تاريخ الإسلام للذهبي، ج3، ص579
السيرة الحلبية، ج2، ص264
البداية و النهاية لإبن كثير، ج6، ص240
الإمامة و السياسة لإبن قتيبة الدينوري، تحقيق الزيني، ج1، ص110
قابل توجہ ہے کہ جب معاویہ کی یہ غلط بات حضرت علی (ع) نے سنی تو آپ نے فرمایا:
لو كنت أنا قتلت عماراً لأني أخرجته، لكان رسول الله قتل حمزة و جميع من قتل في حربه، لأنه هو المخرج لهم.
اگر میں نے عمار کو قتل کیا ہے اور اسے گھر سے نکال کر لایا ہوں تو پس حمزہ کو اور ان تمام کو کہ جو جنگ (احد) میں قتل ہوئے تھے، کو رسول خدا نے قتل کیا ہے کیونکہ رسول خدا ہی ان لوگوں کو انکے گھروں سے نکال کر لائے تھے۔
المعيار و الموازنة لأبو جعفر الإسكافي، ص97
مناوی نے بھی بالکل یہی بات لکھی ہے کہ:
و هذا الحديث من أثبت الأحاديث و أصحها و لما لم يقدر معاوية علي إنكاره قال: إنما قتله من أخرجه، فأجابه علي بأن رسول الله صلي الله عليه و سلم إذن قتل حمزة حين أخرجه.
فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي، ج6، ص474
—
جاری ہے قسط 4……………….
اگلی قسط میں جن جرایم میں حضرت ملوث تھے وہ بمہ حوالہ جات پیش کیے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
…………………………………………….
آستین کا سانپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معاویہ ابن ابوسفیان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاندان بنو اُمیہ
دوسری قسط
انتخاب سید اکمل حسین
https://www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php?idnews=1644
معاویہ کا خلافت کے استحکام کیلئے ظاہری طور پر دینی اصولوں کا استعمال کرنا:
معاویہ اپنی خلافت کے استحکام کیلئے ظاہری طور دکھاوئے کے لیے، بعض دینی اصول بھی بروئے کار لاتا تھا۔ قدرت حاصل کرنے کیلئے اپنے آپکو خدا کی طرف سے (نمائندہ) سمجھتا تھا، کیونکہ تمام کام اسی کی طرف سے ہیں۔
ایک زمانے میں معاویہ نے کہا:
میری یہ خلافت خداوند کا امر اور اس کی قضاؤں میں سے قضائے الہی ہے۔ معاویہ نے یزید کی ولی عہدی کے متعلق عائشہ کی مخالفت کے وقت کہا: یہ قضائے الہی ہے اور قضائے الہی میں کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
بعض نے نقل کیا ہے کہ اسی نے عائشہ کو قتل کروایا تھا۔
بصرے اور کوفہ میں معاویہ کے حاکم زیاد ابن ابیہ نے اپنے معروف خطبے کے ضمن میں کہا :
اے لوگوں ! ہم سیاست کرنے والے ہیں اور آپ کے مدافع ہیں اور ہم تمہیں اس حکومت کی طرف سیاست کرتے ہیں کہ جو خدا نے ہمیں دی ہے۔
یزید نے بھی اپنے پہلے خطبے میں کہا تھا:
اسکا باپ بندگان خدا میں تھا ، خدا نے اس پر اکرام کیا اور اسے خلافت بخشی …. اور اب خدا نے وہ خلافت مجھے عطا کی ہے۔ معاویہ کے سامنے عثمان کے بیٹے نے یزید کی ولایتعہدی پر اعتراض کیا اور کہا کہ تم لوگ میرے باپ کی وجہ سے تخت نشین ہوئے ہو تو اس نے جواب میں کہا:
یہ وہ حکومت ہے جسے خدا نے ہمارے اختیار میں دیا ہے۔
معاویہ اپنے بارے میں لفظ مُلک کے استعمال سے خوش ہوتا تھا۔ معاویہ کہتا تھا:
انا اول الملوک،
میں پہلا بادشاہ ہوں،
وہ شاہی نظام کو صرف ایک سیاسی نظام سمجھتا اور توضیح دیتا تھا کہ: لوگوں کی دینداری کے ساتھ اس کا کوئی کام نہیں ہے۔
اس سے منقول ہے کہ:
خدا کی قسم ! میری جنگ اقامۂ نماز، زکات دینے اور حج کرنے کیلئے نہ تھی یہ کام تو تم انجام دیتے تھے، بلکہ میں نے تم پر حکومت کرنے کیلئے جنگ کی اور خدا نے مجھے وہ دی حالانکہ تم اس پر ناخوش ہو۔
کاندہلوی، حیاة الصحابہ، ج 3، ص 63
ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 9، ص 85: هذه الخلافة امر من امرالله و قضاء من قضاء الله،
ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 205
الصراط المستقیم، ج 3، ص 48
ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج 4، ص 180
جاحظ، ابو عثمان عمرو، البیان و التبیین، ج 2، ص 49
طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 220
ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1 ، ص 225؛ دینوری،
ابو حنیفہ، الاخبار الطوال، ص 226
بلاذی، انساب الاشراف، ج 4، ص 299
ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 214
یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج 2، ص 232
ابن ابی شیبہ، المصنف، ج 11، ص 147
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 16، ص 46
ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 25، ص 43
معاویہ کا جھوٹی احادیث کو جعل کرنا اور گھڑنا:
معاویہ کے دور حکومت میں جعل حدیث کا سلسلہ شروع ہوا، یہاں تک کہ جو افراد اہل بیت کی مذمت میں احادیث جعل کرتے تھے، تو معاویہ سرکاری طور پر انکی کی پشت پناہی کرتا اور انکو مال و اکرام سے نوازتا تھا۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 63
معاویہ کی مدح میں اس قدر احادیث جعل ہوئیں کہ ابن تیمیہ بھی اس کا اقرار کرتا ہے۔ وہ حدیث طیر کے رد میں لکھتا ہے کہ:
معاویہ کے فضائل میں بہت زیادہ احادیث جعل کی گئیں اور مستقل کتابیں لکھی گئیں۔ حدیث کے اہل دانش نہ انہیں درست سمجھتے ہیں اور نہ اسے صحیح سمجھتے ہیں۔
ابن تیمیہ منہاج السنہ النبویہ، ج 7، ص 371
معاویہ کا حکومتی سسٹم اور نظام:
معاویہ نے اپنی توانائی کے تحت حکومتی استفادے کیلئے سودمند اداری طریقے، دیوانوں کی ایجاد اور مفید وسائل بروئے کار لا کر ان سے خوب فائدہ حاصل کیا۔ معاویہ کے دور حکومت میں دیوانوں کا تحول قابل مشاہدہ تھا۔ روم اور ایران کے ساتھ ارتباط میں یہ امر مؤثر تھا۔ اموی دفتری سسٹم میں اسے تکامل بخشے بغیر عمر ابن خطاب کی پیروی کرتے تھے۔ معاویہ نے اپنے پاس موجود رومی حکومت میں کام کرنے والے عیسائیوں جیسے سرجون ابن منصور رومی اور اسکے بیٹے منصور ابن سرجون سے دیوان منظم کرنے میں مدد لی تھی۔
صَّلاَّبي،عَلي محمد محمد ، الدولَۃ الأمويَّہ عَواملُ الازدہارِ وَتَداعيات الانہيار، ج 1 ص 356
معاویہ نے دیوان خاتم اور دیوان برید کے نام سے دو دیوان (ادارے) تاسیس کیے تا کہ خطوط مہر کے بغیر نہ رہیں اور خلیفہ کے علاوہ کوئی اور شخص ان کے اسرار سے آگاہ نہ ہو نیز خطوط جعل اور دگرگونی کا شکار نہ ہوں۔
دیوان البرید میں خطوط کی ارسال و ترسیل کا کام کیا جاتا۔ دیوان خاتم کے لوگ ان خبروں کو حاصل کرتے جو صوبوں کے گورنر خلیفہ کی طرف بھجواتے تھے۔ دیوان برید خلیفہ اور اسکے عاملوں وغیرہ کے درمیان ارتباط کو سرعت بخشنے کیلئے قائم کیا گیا۔ ان دو دیوانوں (اداروں) کے ملازمین خطوط کے ارسال و ترسیل کے علاوہ خلیفہ کے جاسوس بھی تھے جو گورنروں کی حرکات و سکنات کو زیر نظر رکھتے تھے اور اپنی معلومات خلیفہ کو پہنچاتے تھے۔ معاویہ نے ان اداروں کیلئے خطیر رقم خرچ کی تھی۔
اہم واقعات:
خوارج:
معاویہ کے دور حکومت میں خوارج کی نسبت گورنروں کے شدت عمل اور سختی کے باوجود وہ مسلسل ان کی جانب سے نا آرام رہے۔ معاویہ، امام علی (ع) کی نسبت خوارج سے زیادہ نفرت کرتا تھا اور خوارج معاویہ کو اسلام سے منحرف سمجھتے تھے۔ انکے اعمال نے اموی خلیفہ کو پریشان کیا اور وہ مسالمت آمیز راستوں کے مخالف تھے، اسی وجہ سے معاویہ نے انہیں خشونت سے جواب دیا۔
مرکز خلافت کے کوفہ سے دمشق منتقل ہونے کے ہمزمان خوارج نے معتدل تر اور سازگار تر راستہ اختیار کیا کہ جو حروریہ کی سرگرمیوں کا مرکز کوفہ سے بصرہ کی طرف منتقل ، ان کی تحریک میں اندرونی گروہ بندی اور سستی اور ایک عقیدتی گروہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔
عقیدے کے لحاظ سے خوارج کی مختلف مشابہ گروہ بندی انکی فوجی طاقت پر منفی انداز میں مؤثر ہوئی، اس سے اموی حکومت کو ان پر غلبہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔
جنگ نہروان خوارج کی پہلی اور آخری جنگ تھی جس میں وہ ایک دشمن کے مقابلے میں ایک سربراہ کی سرکردگی میں اکٹھے ہوئے تھے، اس کے بعد وہ پراکندہ ہو گئے۔ کوفہ کے خوارج نے فروة ابن نوفل اشجعی کی سربراہی میں امام حسن (ع) اور معاویہ کی صلح کی مخالفت کی اور ابھی معاویہ کوفہ میں ہی تھا کہ انہوں نے اس پر شورش بپا کرتے ہوئے نخیلہ میں لشکر کشی کی جس کے نتیجہ میں معاویہ کی سپاہ اور انکے درمیان جنگ ہوئی۔
ابن الأثير ، الکامل فی التاریخ، ج 3 ص 9
سن 43 ہجری میں مستورد ابن علقمہ کی سرکردگی میں معاویہ کے خلاف سب سے بڑی بغاوت ہوئی۔ کوفہ کے حاکم مغیره ابن شعبہ نے مذار نامی جگہ پر انہیں سرکوب کیا۔
خوارج کے قبائل کی پراکندگی، اہل کوفہ، عراق میں معاویہ کی مرکزی حکومت کا انکے مقابلے میں سخت مؤقف اور کوفیوں کے شیعیان آل علی کی جانب میلان نے بھی خوارج کی سرکوبی میں مغیرہ کی مدد کی۔ اگرچہ خوارج نے کوفیوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کافی کوششیں کیں لیکن کوفیوں نے سیاسی منافع کی وجہ سے انکے ساتھ جنگ کرنے کو ترجیح دی۔ کوفہ کے خوارج چند سال آرام کے ساتھ رہے یہانتک کہ سال 58 ہجری میں حیان ابن ظبیان سلمی نے شورش برپا کی۔ ایک سال بعد باقیاء میں ہونے والی جنگ میں تمام خوارج قتل ہو گئے اور اس طرح یہ بغاوت دم توڑ گئی۔
ابن الأثير ، الکامل فی التاریخ، ج 3 ص 108
بصرہ کے خوارج نیز کوفہ کے خوارج کی مانند کبھی کبھی شورشیں بپا کرتے تھے۔ وہاں سال 41 ہجری میں سہم ابن غالب اور خطیم باہلی کی قیادت میں قیام کیا۔ اموی حکمران ابن عامر نے انہیں سرکوب کیا۔ ابن عامر کو خوارج کے ساتھ نرم برتاؤ کرنے کی وجہ سے معاویہ کی جانب سے برطرف ہونا پڑا۔ سال 45 ہجری میں زیاد ابن ابیہ بصرہ کا حکمران بنا۔ اس نے خوارج کے مقابلے میں سخت گیرانہ سیاست اختیار کی۔ سال 53 ہجری میں زیاد کے مرنے کے بعد خوارج کی سرگرمیاں پھر نئے سرے سے شروع ہوئیں لیکن سال 55 ہجری میں عبید اللہ ابن زیاد کے حاکم بننے کے بعد اس نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں زندانی اور قتل کیا۔
عراق سے باہر کے سیاسی حالات:
عراق سے باہر کے سیاسی حالات نے معاویہ کیلئے کوئی خاص مشکلات پیدا نہیں کیں۔ والیان کسی اعتراض کے روبرو ہوئے بغیر اپنی حکومتیں کرتے رہے۔ عمرو ابن عاص نے مصر میں دو سال حکومت کی اور سال 63 ہجری میں مر گیا پھر اس کا بیٹا عبد الله دو سال تک اس کا جانشین رہا، پھر معاویہ کا بھائی عتبہ ابن ابی سفیان اور پھر معاویہ ابن جدیج ترتیب کے ساتھ مصر کے حاکم رہے۔
حجاز میں امام حسن (ع)، امام حسین (ع)، عبد الله ابن زبیر و… جیسی قد آور اسلامی شخصیات تھیں۔ اس وجہ سے اس علاقے کو معاویہ مستقیم زیر نظر رکھتا تھا اور یہاں کے لوگوں کیلئے اموی خاندان کا والی بناتا تا کہ وہ اسکی سیاست کا اجرا کرے۔ مدینہ کے امور مروان ابن حکم اور سعید ابن عاص کے ذریعے چلائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ غیر سیاسی مختلف سرگرمیوں جیسے مشاعرہ، موسیقی اور علوم دینی کی طرف لوگوں کو تشویق کرتا تھا۔ اس مسئلے نے مکہ اور مدینہ کو معاشرتی اور اجتماعی لحاظ سے اہم ترین مراکز میں تبدیل کر دیا تھا۔
شیعہ:
کسی شک و شبہ کے بغیر معاویہ شیعوں کو اپنے دشمنوں میں سے شمار کرتا تھا۔ معاویہ اور اسکے عاملین اور والی مختلف شکلوں میں شیعوں کے روبرو ہوتے تھے۔
امام علی (ع) سے بیزاری پیدا کرنا:
شیعوں کا مقابلہ کرنے کیلئے معاویہ کی اہم ترین روشوں میں سے ایک روش لوگوں کے درمیان امام علی (ع) سے نفرت و بیزاری کو پیدا کرنا تھا۔ معاویہ اور اسکے بعد کے دیگر اموی حاکمان معاشرے سے علی (ع) کے چہرے کو حذف کرنے کی خاطر ان کا ایک جنگجو اور خونریز شخص کے طور پر تعارف کرانے کیلئے سرگرم رہے۔
محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 28
محفلوں میں ان سے نفرت کا اظہار کرتے اور ان پر لعن کرتے۔ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں معاویہ کی طرف سے علی (ع) کی مذمت میں جعلی اور من گھڑت احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 63 باب فصل في ذكر الأحاديث الموضوعة في ذم علي
معاویہ اور اسکے بعد امیوں کے دور حکومت میں علی (ع) پر لعن اور دشنام درازی ایک متداول اور رائج رسم تھی یہانتک کہ عمر ابن عبد العزیز کے دور میں اس کا خاتمہ ہوا۔
سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص 243
چنانچہ جب مروان ابن حکم سے سوال کیا گیا کہ منبروں پر علی کو ناسزا کہا جاتا ہے ؟ اس نے جواب دیا:
بنی امیہ کی حکومت علی کو گالیاں دیئے بغیر باقی نہیں رہ سکتی ۔
عَن عمر بن عَلی قَالَ: قَالَ مروان لعلی بن الْحُسَین: ما کانَ أحد أکف عَن صاحبنا من صاحبکم. قَالَ: فلم تشتمونه عَلَی المنابر؟!! قَالَ: لا یستقیم لنا هذا إلا بهذا،
۔۔۔۔۔ یہ حکومت علی کو سبّ و شتم کیے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔
بلاذری، انساب الاشراف، ج 2، ص 184
معاویہ کہتا تھا:
علی پر لعن و سبّ اس طرح پھیل جانا چاہیے کہ بچے اسی عادت کے ساتھ بڑے ہوں اور جوان اسی کے ساتھ بوڑھے ہوں۔ کوئی شخص اسکی ایک بھی فضیلت نقل نہ کرے۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 57
العمانی، النصایح الکافیہ، ص 72
معاویہ نے سمرة ابن جندب کو چار لاکھ دینار دیئے کہ وہ کہے:
و هو الد الخصام،
سورہ بقرہ آیت 204
علی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 361
اس نے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت بنائی کہ جو علی (ع) کی مذمت میں جھوٹی روایات جعل کرتے تھے۔ ان میں سے ابو ہریره، عمرو ابن عاص، مغیره ابن شعبہ اور عروه ابن زبیر وغیرہ شامل تھے۔
وہ خطبے کے آخر میں علی (ع) پر لعن کرتا اور اگر اسکے والی ایسا نہ کرتے تو انہیں عزل کر دیتا۔ اس نے معاشرے میں اس قدر خوف و ہراس پیدا کر دیا تھا کہ لوگ اپنے بیٹوں کے نام، علی نہیں رکھتے تھے۔
حجر ابن عدی اور اسکے اصحاب کی شہادت:
جب مغیره اور دوسرے لوگ کوفہ میں منبر پر علی (ع) کو لعن کیا کرتے تھے تو ایسے حالات میں بھی حجر ابن عدی کندی اور عمرو ابن حمق خزاعی اور انکے ساتھی کھڑے ہو جاتے اور انکی لعن کو انکی طرف نسبت دیتے اور اس کے متعلق بات کرتے تھے۔ مغیره کے بعد زیاد ابن ابیہ حاکم کوفہ بنا۔ وہ انکی گرفتاری کے در پے ہوا۔ عمرو ابن حمق خزاعی اور اسکے ساتھ چند افراد موصل فرار کر گئے جبکہ حجر ابن عدی 13 افراد کے ساتھ اسیر ہو گیا اور انہیں معاویہ کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ زیاد نے معاویہ کو خط میں لکھا کہ:
ابو تراب علی کی کنیت پر لعن کرنے والے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں اور والیوں پر دروغ باندھتے ہیں، اس وجہ سے یہ اطاعت سے خارج ہو گئے ہیں۔ جب یہ اسیر مرج عذراء پہنچے کہ یہاں سے دمشق چند میل دور رہ گیا تھا تو معاویہ نے حکم دیا کہ انکی گردنیں اڑا دی جائیں۔ 6 افراد کسی کی سفارش اور وساطت سے بچ گئے اور باقی 7 افراد : حجر ابن عدی کندی، شریک ابن شداد حضرمی، صیفی ابن فسیل شیبانی، قبیصہ ابن ضبیعہ عبسی، محرز ابن شہاب تمیمی، کدام ابن حیان عنزی کی گردنیں اڑا دی گئیں۔
یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 162
اگرچہ یعقوبی نے افراد کی تعداد سات بیان کی ہے اور نام چھ افراد کے ذکر کیے ہے۔
عبد الرحمان ابن حسان عنزی.
الطبری، تاریخ الطبری، ج 4، ص 207
طبری نے 7 افراد کے نام ذکر کیے ہیں، محرز ابن شہاب کو تمیمی کی بجائے « سعدی منقری » کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
حجر ابن عدی اور اسکے ساتھیوں کی شہادت کی خبر امام حسین (ع) کیلئے نہایت گراں گزری لہذا آپ نے معاویہ کو ایک خط میں اس خشن آمیز رفتار اور اسکے قتل پر بہت سخت رد عمل کا اظہار کیا۔
الامامۃ والسیاسۃ، دینوری، ص 223
تاریخ طبری، ج 5، ص 279
رجال کشی، ص 99
عائشہ نے بھی اس کام پر سخت نکتہ چینی کی تو معاویہ نے اس کی توجیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امت کی اصلاح تھی۔ عائشہ نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا:
سمعت رسول الله (صلی الله علیه و آله) یقول سیقتل بعذراء اناس یغضب الله لهم و اهل السماء،
میں نے رسول خدا سے سنا تھا کہ عنقریب لوگ عذراء میں قتل ہونگے اور اہل آسمان اور خدا انکے قتل کی وجہ سے خشم آور ہونگے۔
سیوطی، الجامع الصغیر، ج 2، ص 61
ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج 12، ص 226
الصفدی، الوافی بالوفیات، ج 11، ص 248
مجلسی، بحار الانوار، ج 18، ص 124
حسن بصری نے کہا ہے کہ:
معاویہ میں ایسی چار خصلتیں ہیں کہ ان میں ہر ایک معاویہ کی ہلاکت کیلئے کافی ہے :
پہلی: کسی سے مشورے کے بغیر تلوار کے زور پر مسلمانوں کی گردنوں پر سوار ہو جانا جبکہ اس سے با فضیلت صحابہ موجود تھے۔
دوسری: اپنے دائم الخمر بیٹے کو جانشین بنانا کہ جو ہمیشہ ریشم پہنتا اور تنبور میں مشغول رہتا تھا۔
تیسری: زیاد کو اپنا بھائی کہنا جبکہ رسول خدا (ص) نے فرمایا تھا :
الولد للفراش و للعاہر الحجر،
بیٹا صاحب بستر کا ہے اور زنا کار کیلئے صرف پتھر ہیں۔
چوتھی: حجر کا قتل،
اس وقت دو مرتبہ کہا : ہائے افسوس حجر اور اس کے ساتھیوں پر۔
ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 487
الطبری، تاریخ الطبری، ج 4، ص 208
شیعوں پر سختی اور دباؤ:
شام کے مقابلے میں معاویہ کی سیاست عراق کے شیعوں کی نسبت کارساز نہیں ہو سکی تھی۔ اس لیے اس نے قتل اور شکنجے دینے کے راستے کو اپنایا۔ امویوں نے اپنے دور میں شیعوں کیلئے ترابیہ کی اصطلاح رائج کی ہوئی تھی۔
عبید اللہ ابن زیاد نے معاویہ کو خط لکھتے ہوئے حکومت بنی امیہ کے مخالفین جو حجر ابن عدی اور اصحاب امام علی (ع) تھے، کے متعلق ترابیہ کا لفظ استعمال کیا۔
طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج 3 ص 228
امام علی (ع) کی حکومت کے دور حکومت سے ہی شیعیان علی کا قتل و غارت شروع ہو گیا تھا۔
معاویہ نے بسر ابن ارطاة، سفیان ابن عوف غامدی اور ضحاک ابن قیس کو عراق اور حجاز بھیجا اور ان سے تقاضا کیا کہ جہاں بھی اور جس حالت میں بھی شیعوں کو پاؤ، انہیں قتل کر دو۔
مغیره سن 41 ہجری سے 49 یا 50 ہجری تک کوفہ کا والی رہا اور وہ شیعوں کی نسبت درگزر اور نرمی سے کام لیتا تھا۔ اس طرح کوفہ کے سیاسی فضا میں آرام اور سکون تھا۔ مغیره کی وفات کے بعد معاویہ نے بصرہ کے والی زیاد ابن ابیہ کو کوفہ کی امارت بھی دے دی۔ اس نے آتے ہی ان 80 افراد کے ہاتھ کاٹ دیئے جنہوں نے اسکی بیعت نہیں کی تھی۔
مسلم ابن زیمر اور عبد الله ابن نجی ان شیعوں میں سے ہیں جو اس کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ امام حسین (ع) نے حجر ابن عدی کی شہادت کے بعد معاویہ کو خط لکھا جس میں امام نے اسکی مظلومانہ شہادت کا تذکرہ بھی کیا تھا۔
محمد بن حبيب أبو جعفر البغدادي، المحبر، اسماء المصلبین الاشراف، ص 479،
کوفہ سمیت پورے عراق کے شیعوں کی سرکوبی کا حکم زیاد کو دیا گیا تھا۔ ابن اعثم کہتا ہے کہ:
وہ مسلسل شیعوں کے تعقب میں رہتا تھا، جہاں بھی وہ ملتے انہیں قتل کر دیتا تھا، اس طرح بہت سے شیعہ اس کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ لوگوں کے ہاتھ و پاؤں کاٹ دیتا اور آنکھیں نکال دیتا۔ البتہ معاویہ نے بھی شیعوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو قتل کیا تھا۔
منقول ہوا ہے کہ معاویہ نے خود حکم دیا کہ شیعوں کی ایک جماعت کو سولی پر لٹکا دیا جائے ۔ زیاد شیعوں کو مسجد میں جمع کرتا اور انہیں کہا جاتا کہ علی (ع) سے بیزاری کا اعلان کریں۔ امام حسن (ع) نے شیعوں کے ساتھ زیاد کے اس رویے کی شکایت کی لیکن معاویہ نے اسی طرح اپنے عمّال کو لکھا:
تمہارے درمیان جو بھی علی سے دوستی کا متہم ہے، اسے اپنے درمیان سے ہٹا دو حتی کہ اگر پتھروں کے نیچے سے تم کو اس کام کے لیے گواہ کی ضرورت ہی پڑے تو اسے ڈھونڈ کر اس سے گواہی لے کر اس شیعہ کو قتل کر دو۔
بیعتِ یزید:
خلافت یزید کیلئے بیعت لینا دیگر مسائل کی نسبت اس بات کا باعث بنا کہ لوگ معاویہ کے مقابل کھڑے ہوں یا اس پر تنقید کریں۔ وہ اپنی خلافت کی جانشینی میں ابوبکر کی روش سے باہر نکل گیا تھا۔
عبد الطیف، عبد الشافی، العالم الاسلامی فی العصر الاموی، ص 121
جس سسٹم کی اس نے بنیاد ڈالی تھی اس میں ضروری تھا کہ حکومت وراثتی ہونی چاہیے۔ ایک طرف ایسے کام کو عملی جامہ پہنانا، آسان کام نہ تھا، کیونکہ عرب اس سے پہلے موروثی نظام سے آشنا نہیں تھے تو دوسری طرف وہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ اموی حکومت کے قیام میں 30 سال کی کوششوں کا ثمرہ ضائع نہ ہو جائے۔
معاویہ چاہتا تھا کہ انتخاب خلیفہ کا اختیار بنی امیہ میں باقی رہے۔ اسی منظور اور مقصود کے پیش نظر اس نے یزید کا انتخاب کیا۔ دوسری طرف اس بات کا بھی قائل تھا کہ حکومت کا دار الحکومت شام میں ہی رہے کیونکہ شامیوں کا رجحان بنی امیہ کی جانب تھا۔
محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 33
مشہور روایت کے مطابق مغیرة ابن شعبہ نے معاویہ کے ذہن میں سب سے پہلے یزید کی جانشینی والی بات ڈالی تھی۔
طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 301 ، 307
البتہ معاویہ بھی یہی چاہتا تھا لیکن مغیره نے کھلم کھلا لوگوں کے درمیان اس موضوع کو بیان کیا۔
محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 39
زیاد ابن ابیہ کا مؤقف ان سے مختلف تھا۔ زیاد کی رائے میں یزید ایک سست آدمی تھا، وہ خلافت کی نسبت شکار کرنے کو زیادہ پسند کرتا تھا، اس لیے وہ خلیفہ بننے کیلئے بالکل مناسب نہیں تھا، نیز اسکے مخالفین زیادہ طاقتور تھے۔
طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 302
معاویہ نے زیادہ کی تجاویز کو اہمیت دیتے ہوئے امام حسن (ع) اور انکی اولاد اور اصحاب کے قیام کو روکنے کی خاطر یزید کی ولایت عہدی کے مسئلے کو کسی مناسب موقع کے انتظار میں مؤخر کر دیا۔ اسی دوران اس نے یزید کی ولی عہدی میں بننے والی رکاوٹ بزرگ شخصیات کو آرام آرام سے راستے سے ہٹا دیا۔ ابو الفرج اصفہانی مقاتل الطالبیین مں لکھتا ہے کہ:
جب معاویہ نے یزید کو خلافت کے لیے چنا اور لوگوں سے بیعت لینے کا ارادہ کیا تو مخفیانہ طور پر امام حسن (ع) اور سعد ابن ابی وقاص کیلئے مخفیانہ زہر بھیجا لہذا وہ چند روز نہیں گزرے تھے کہ وہ دونوں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
مقاتل الطالبین، ج 1 ص 13
یہاں تک کہ بعض اقوال کی بناء پر معاویہ نے اسی وجہ سے عائشہ کو بھی قتل کروا دیا تھا۔
الطرائف فی معرفۃ مذاہب الطوائف، ج 2، ص 503
الصراط المستقیم، ج 3، ص 48
معاویہ کے یزید کی ولی عہدی کے بارے میں اقدامات اور رکاوٹیں:
یزید کی ولی عہدی میں درج ذیل اہم رکاوٹیں موجود تھیں:
حجاز کی معروف شخصیات کو قائل کرنا خاص طور پر امام حسین (ع)، عبد الله ابن زبیر، عبد الله ابن عمر اور عبد الرحمان ابن ابی بکر حتی بعض اموی شخصیات مروان ابن حکم اور سعید ابن عاص۔
معاویہ نے ان شخصیات کو قائل کرنے کے لیے مروان ابن حکم کو خط میں لکھا:
یزید کا نام لیے بغیر لوگوں سے انکی رائے لو۔ جب مثبت جواب حاصل کیا تو مروان کو خط لکھا کہ یزید کی جانشینی کی اطلاع لوگوں کو دے دو۔ اسی طرح دوسرے عاملوں کو خط لکھا کہ شہروں سے یزید کی بیعت کیلئے وفد بھیجیں اور یزید کی مدح و سرائی کریں۔ اسکے نتیجے میں عراق سمیت شام کے دوسرے بڑے شہروں سے اسکی بیعت کیلئے وفد دمشق آئے۔ جلد ہی واضح ہو گیا کہ دوسرے اسلامی شہروں کی نسبت مدینہ یزید کی بیعت کا زیادہ مخالف ہے۔
امام حسین (ع) ، عبد الله ابن زبیر اور عبد الله ابن عمر نے یزید کی خلافت کیلئے حالات فراہم کرنے کی سب سے زیادہ اور شدید مخالفت کی۔ مروان نے اس بات کی معاویہ کو اطلاع دی۔ یہ چار افراد موافق ہیں کہ اگر خلافت موروثی ہے تو وہ اس کام کیلئے یزید سے زیادہ وہ خود موزوں ہیں۔ اگر برتر افراد کو خلیفہ ہونا چاہیے تو معاویہ کو چاہیے کہ وہ خود اہل حجاز کی بیعت کرے۔
شروع میں ظاہری طور پر معاویہ نے نرمی اختیار کی اور لوگوں کو انعام و کرام دے کر اپنی طرف توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی۔ عقیبہ اسدی اور عبد الله ابن ہمام سلولی جیسے یزید سے نفرت رکھنے والے وہ شاعر ہیں کہ جنہوں نے پیسوں کے بدلے میں اپنا مؤقف تبدیل کر لیا۔
معاویہ نے سال 56 ہجری میں قانونی طور پر یزید کی بیعت کا اعلان کیا اور دمشق میں اس کا جشن منایا گیا۔ معاویہ نے اہل حجاز کی نافرمانی روکنے کی خاطر مدینہ کا سفر کیا اور مخالفین یزید سے بیعت لے کر اس کام کو محکم کرنا چاہا لیکن معاویہ کے مدینے کے نزدیک پہنچنے کے وقت مخالفین مکہ چلے گئے۔ اس بات پر معاویہ نہایت خشمگین ہوا اور اس نے خود مکہ جانے کا ارادہ کیا۔ مسجد الحرام میں ان سے سخت لہجے میں بات چیت ہوئی۔ مخالفین کے نمائندے کے طور پر ابن زبیر نے مخالفت کا اعلان کیا اور یوں معاویہ کو اسکے ساتھ گفتگو کرنے میں ناکامی ہوئی۔ اسکے بعد معاویہ نے امام حسین (ع) و عبد الله ابن زبیر کے علاوہ دوسروں کو ڈرانے دھمکانے کے ذریعے بیعت پر راضی کرنا شروع کیا۔
ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 250
خلیفہ بن خیاط، تاریخ خلیفہ بن خیاط، ج 1، ص 199
ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 249
ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 251
ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 182
یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج 2، ص 229
جانشینی کے لیے شرابی اور زانی یزید کو تیار کرنا:
اس کام کیلئے اسے روم کی طرف بھیجے گئے لشکر میں شامل کیا گیا تا کہ وہ فوج کی مدد کرے۔ ابن عباس، ابن عمر، ابن زبیر اور ابو ایوب انصاری جیسی بڑی شخصیات بھی اس کے ہمراہ بھیجی گئیں۔ ان سے مقصد یزید کو امت اسلامی میں ایک مجاہد بنا کر پیش کرنا تھا۔
طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 232
معاویہ کی خارجہ پالیسی:
مأمون عباسی اور مدح معاویہ پر سزا:
بنی عباس میں سے شیعیت کی طرف رجحان رکھنے والا ساتواں خلیفہ مأمون سن 211 ہجری میں ہر اس شخص سے برات کا اعلان کرتا تھا کہ جو معاویہ کی مدح کرتا اور ایسا کرنے والے شخص کیلئے ایک سزا بھی مقرر کی گئی تھی۔
سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص 364
علامہ عسکری، نقش ائمہ در احیای دین، ج 2، ص 410
ہم معاویہ کے بارے میں بحث کو مکمل طور پر صحابہ کی بحث سے الگ شمار کرتے ہیں، اس لیے کہ امیر المؤمنین علی (ع) نے کتاب نہج البلاغہ میں خط نمبر 16 میں قسم کھا کر ذکر فرمایا ہے کہ:
فَوَ الَّذِی فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَسْلَمُوا وَ لَکنِ اسْتَسْلَمُوا وَ أَسَرُّوا الْکفْرَ فَلَمَّا وَجَدُوا أَعْوَاناً رَجَعُوا إِلَی عَدَوَاتِهِمْ،
خدا کی قسم معاویہ اور اسکے ساتھی بالکل اسلام نہیں لائے تھے، وہ ظاہری طور پر اسلام کا نام لیتے تھے اور اپنے کفر کو مخفی طور پر چھپاتے تھے اور آج جنگ صفین میں جب اس نے اپنے مددگاروں کو پا لیا ہے تو انھوں نے اپنے باطنی کفر کو اسلام کے خلاف ظاہر کر دیا ہے۔
نهج البلاغة، نویسنده: شریف الرضی، محمد بن حسین، محقق / مصحح: صالح، صبحی، ص 374، 16
بالکل یہی الفاظ کتاب مجمع الزوائد میں عار یاسر سے بھی معاویہ کے بارے میں نقل ہوئے ہیں:
والله ما أسلموا ولکن استسلموا وأسروا الکفر فلما رأو علیه أعوانا أظهروه،
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، اسم المؤلف: علی بن أبی بکر الهیثمی، دار النشر: دار الریان للتراث/دار الکتاب العربی – القاهرة, بیروت – 1407، ج 1، ص 113، باب منه فی المنافقین
جناب ڈاکٹر علی سامی النشار نے اپنی کتاب نشأة الفکر الفلسفی فی الإسلام، میں معاویہ کے بارے میں روایت کو ذکر کیا ہے، اس سنی شافعی مذہب عالم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:
فان الرجل لم یؤمن ابداً بالاسلام،
معاویہ نے بالکل اسلام کو قبول نہیں کیا تھا۔
نشأة الفكر الفلسفي في الإسلام؛ ج 2، ص 18 ط السابعة، دار المعارف سنة 1977 م
کتاب مسائل امام احمد بن حنبل میں اسحاق ابن ابراہیم نیشاپوری سے روایت نقل ہوئی ہے کہ:
سمعت علی بن جعد یقول مات والله معاویة علی غیر الاسلام،
میں نے علی ابن جعد کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ: خدا کی قسم معاویہ کی موت دین اسلام پر واقع نہیں ہوئی، یعنی وہ مسلمان دنیا سے رخصت نہیں ہوا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
منافقوں کا تعلق تو ہے اس کے ساتھ
وہ جو سانپ کا ہوتا ہے آستین کے ساتھ
سید اکمل حُسیّن
انتخاب
/https://www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php?idnews=1644
سعودی عرب اور قطر نے امت مسلمہ میں انتشار کو ہوا دینے کیلئے “معاویہ سیریز” ڈرامہ پہ دو سو ملین ڈالرز خرچ کر دئیے جبکہ اسی دوران غزہ کے بچے بھوکے پیاسے تڑپ تڑپ کر مرتے رہے
آپ کو شک نہیں رہنا چاہیےکہ موجودہ عرب حکمران سو فیصد آل یہود کے پالتو ہیں۔ اس ویب سیریز میں فحاشی و عریانی کو پیش کرکے بنو امیہ کا حقیقی طرز حکمرانی دیکھایا گیا ہے
رمضان میں منظر عام پر ایک ڈرامہ بنام معاویہ جو کہ اُمت مسلمہ کے اور مسلمانوں کے دنیاوی باشاہ بھی کہیے جاتے ہیں اور کاتب وحی کے علاوہ جو القاب دئیے جائتے ہیں کا چرچا زبان زد عام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کافی روز سے نے معاملے کو سلگہتا ہودیکھ رہا ہوں ابھی حال ہی میں پاکستان سے ایک ہم مذہب دوست نے چند تصاویر ارسال کی جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرت کا دور حکومت کیسا تھا اور کیس طرح عیاشی کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔اور اپنے کو کاتب وحی کہلاتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔درج ذیل تحریر کے ساتھ ارسال کی یہ کل تین اقساط پر مشتمل ہے اور تمام اقساط جلد ہی قارئیں کی زیب نظر ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاویہ سعودی تاریخی سلسلہ وار ڈراما ہے جس کی نشریات ماہِ رمضان 2025ء میں شروع ہوئیں۔ یہ دمش اموی سلطنت کے بانی معاویہ بن ابی سفیان کی زندگی پر مبنی ہے۔ اس میں خلیفہ عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد کے واقعات کو پیش کیا گیا ہے، جب علی بن ابی طالب خلیفہ بنے، ان کی شہادت، ان کے بیٹے حسن بن علی کی خلافت اور پھر ان کا معاویہ کے حق میں دستبردار ہونا دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یزید بن معاویہ (بنی امیہ کے دوسرے خلیفہ) کی خلافت اور واقعہ کربلا میں حسین بن علی کی شہادت جیسے واقعات بھی اس ڈرامے کا حصہ ہیں۔
یہ سب کچھ اسلامی تاریخ میں فتنہ کبریٰ اور اس کے بعد کے حالات کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے کی شوٹنگ جولائی 2022ء میں شروع ہوئی تھی اور اس کے لیے 100 ملین ڈالر کی خطیر رقم مختص کی گئی، جس کی وجہ سے یہ عربی ڈراما انڈسٹری کی تاریخ کا سب سے بڑا پروجیکٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
ضروری ہے کہ ان کے حالات زندگی اور طرز حیات پر تحیر کیا جائے اور تمام اہل اسلام کو جس طرح گمراہ کیا گیا ہے اس کو سامنے لایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاویہ
(عربی میں: معاويہ)
اداکار لجین اسماعیل ۔ایاد نصار ۔سہیر بن عمارہ ۔وائل شرف
یزن خلیل ۔جمیلہ شیحی ۔اسماء جلال ۔سوسن بدر ۔محمد ریاض ۔ایمن زیدان ۔سامر المصری
نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔۔۔۔۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس فلم کے خلاف پوری اسلامی دنیا ہے اور مصر جیسے ملک کے علما نے بھی اس کو دیکھنے کے لئے حرام قرار دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔مگر سعودی عرب نے اس پر اپنی ہٹ دھرمی کی اور اس کا اپنے نشریاتی اور موصلاتی ذرائع پر نشر کیا اور اہل تشیع نے بھی اس خوب ویلا کیا ۔۔۔۔۔مگر نقار خانے میں طوطی کی صدا کو سنتا ہے ۔۔۔۔۔علما تو رمضان میں اپنی اپنی مساجد میں مصروف تھے اور دوسری جانب غزہ میں جس طرح سے بچو ں کی قتل و غارت کی جا رہی ہے اس کا تماشہ بھی تمام عالم اسلام ہی دیکھ رہا ہے ۔۔ یہ بچے مدد کے لئے بھوک اور پیاس سے تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہے ہیں آئے دن خون آ شام خبریں دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہیں۔۔مگر زکواۃ اور خمس کی رقم سے کوئی مدد نہیں کی گئی ۔عید الفطر پر فطرہ اور صدقہ کی رقم بھی ہر نجی ٹیلی ویژن پر اپیل بھی دیکھنے کو ملی ۔۔۔ بڑی بڑی دعوت کا اہتمام بھی کیا گیا مگر ان ملکوں کی مظلوم عوام اور بچوں اور یتیموں جانب کوئی نظر کرم نہیں کی گئی۔۔۔۔۔یہاں پر ایک بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیوں اس پر کوئی آواز حق بلند کرنے جرات نہیں کرتا کیوں کہ صرف ایک ماہ کے بعد بڑی کمائی کا ذریعہ یعنی عمرہ حج جیسی عبادتوں کے لئے افراد کے گروپ کے سرادر بن کا جانے کا موقع ہاتھ سے جاتا ہوا نظرآتا ہے اور پابندی کے ڈر سے سعودی حکومت کے خلاف بول بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔کیوں کے ایک خطیر رقم جو سال بھر کی کمائی کا ذریعہ ہے وہ ختم ہو جائے گا ۔۔۔اور حق کی آواز بلند کرنے سے ڈرتے ہیں مگر ممبر پر بیٹھ کر بڑی بڑی باتیں اور نصحیتں فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور غریب مسلمان جو چندہ جمع کر کے ڈالر یورو یا پونڈکی خطیر رقم ان علما اور سالار قافلہ کو ادا کر کے حج جیسی عبادت کے لئے صرف ۱۵ یوم کے لئے جاتے ہیں۔۔۔۔اور وہ نہیں چاہتے کہ اس پر پابندی عائد ہو جائے ۔۔۔۔۔
اس ڈرامے نے معاویہ ابن ابو سفیان کا حکومتی ۔ سیاسی اور معاشرتی کردار رہن سہن اور عیاش طرز زندگی کا سارا پول کھولکر رکھ دیا
بلاذری، ابو العباس احمد بن یحیی بن جابر، فتوح البلدان، ص 173
معاویہ کو عمر ابن خطاب کا بھرپور اعتماد حاصل تھا لہذا عمر نے اردن کے گورنر معاویہ کے بھائی یزید کو ساتھ شام کی گورنری بھی دے دی۔ طاعون کی بیماری میں اسکے بھائی کی وفات کے بعد شام کا تمام علاقہ اس کے حوالے کر دیا گیا۔
عثمان ابن عفان نے اپنی خلافت ملنے کے بعد تمام سرزمین کی گورنری معاویہ کے حوالے کر دی۔ عثمان کے قتل کے بعد حضرت امام علی (ع) کی بیعت سے انکاری ہوا، خون عثمان کی خون خواہی کے بہانے امام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ شام کے لوگوں نے عثمان کی خونخواہی اور علی (ع) سے جنگ پر لوگوں سے بیعت لی۔
یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 86
طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 4، ص 444
حکومت امام علی (ع) کے آخر تک یہ اختلاف جاری رہا۔ شہادت امام علی (ع) کے بعد معاویہ اور امام حسن (ع) کے درمیان صلح قائم ہوئی، جس کے نتیجے میں امام حسن (ع) مجبوری کی وجہ سے معاویہ کے حق میں حکومت سے کنارہ کر گئے۔ صلح امام حسن (ع) کے بعد آخر عمر تک معاویہ خلیفہ رہا۔
ابن کثیر،البدايہ والنہايہ، ج 8 ص 152
تاريخ بغداد، ج 1 ص 224
وہ امام حسین (ع)، عبد الله ابن زبیر، عبد الله ابن عمر اور عبد الرحمان ابن ابی بکر جیسے مخالفین سے شدید پریشان رہتا تھا۔
دینوری، ابوحنیفہ، الاخبار الطوال، ص 172
اسے شام میں دفن کیا گیا۔ عباسیوں کے شام پر غلبے کے بعد جب اس کی نعش نکالنے کیلئے قبر کھودی گئی تو اس میں مٹی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
ابن اثیر،الکامل فی التاریخ، ج ھ ص 78
ابن طقطقی، الفخری فی الآداب السلطانیہ، ص 9
نہایۃ الأرب فی فنون الأدب، ج 22 ص 33
مقدسی، البدء والتاریخ، ج 6، ص 71
نوٹ:
آج کل دمشق میں معاویہ کی قبر پر دمشق کے لوگ ہر روز کوڑا کرکٹ پھینکتے ہیں اور حیوانات بھی اسکی قبر کو اپنی نجاسات سے ہر روز نوازتے رہتے ہیں۔
یزید ابن ابی سفیان شامات کی فتح کے موقع پر سپہ سالار تھا۔ ابو بکر نے معاویہ کو اس کے بھائی کے ساتھ حکومت دے دی۔
رسائل جاحظ، الرسائل السیاسیہ، ص 344
اس کی وفات کے بعد عمر کے زمانے میں شام کی ولایت پر منصوب ہوا۔ بعض مؤرخین نے عمر کی جانب سے معاویہ کی نسبت بے توجہی پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔
مختصر تاریخ دمشق، ج 25، ص 24
حسن بصری کہتا ہے: معاویہ نے عمر کے زمانے سے ہی اپنے آپ کو خلافت کیلئے تیار کر لیا تھا۔
تثبیت دلائل النبوه، ص 593
عمر نے تمام شامات کے علاقوں کو معاویہ کے حوالے کر دیا تھا۔
مختصر تاریخ دمشق، ج 25، ص 17 تا 20
رسائل الجاحظ، الرسائل السیاسیہ، ص 344
معاویہ کہا کرتا تھا: خدا کی قسم ! وہ صرف عمر کے نزدیک ایسا مقام رکھتا تھا کہ جسکی سے اس نے لوگوں پر تسلط حاصل کر لیا تھا۔
العقد الفرید، ج 1، ص 15 و ، ج 5 ، ص 114
مختصر تاریخ دمشق، ج 25، ص 18
عثمان کے سامنے جب معاویہ کی نسبت اعتراضات ہوتے تھے تو وہ کہتا تھا کہ کس طرح اسے معزول کروں، اسے تو عمر نے اس مقام پر منصوب کیا ہے۔
انساب الاشراف، ج 4، ص 550
عثمان کے دور میں شام کا علاقہ پر امن علاقہ شمار ہوتا تھا۔ اس نے وزرائے کوفہ اور ابوذر کو اسی جگہ جلا وطن کیا تھا، گرچہ معاویہ نے اپنی شخصیت و حیثیت کی حفاظت کی خاطر اور لوگوں پر ان کے اثرات روکنے کیلیے انہیں شام سے نکال دیا۔
طبقات الکبری، ج 4، ص 229
الغدیر، ج 6، ص 304 و ج 9 ، ص 373
شام معاویہ کا تربیت شده علاقہ تھا۔ یہ ایک ایسا امر ہے کہ جسکی حقیقت بنی امیہ کی حکومت کے دوران وہاں کے لوگوں کی اس سے وفاداری مکمل طور پر آشکار ہوئی۔ کہتے ہیں کہ بنی امیہ کے بزرگوں نے سفاح کے نزدیک گواہی دی کہ وہ بنی امیہ کے علاوہ کسی کو پیغمبر (ص) کی اقوام سے نہیں سمجھتے ہیں۔
مروج الذہب، ج 3، ص 33
النزاع و التخاصم، ص 28
معاویہ سے منقول ہوا کہ اس نے کہا:
نحن شجرة رسول الله،
مختصر تاریخ دمشق، ج 11، ص 87
اسی طرح اس نے کاتب وحی اور خال المومنین کے القابات بھی لینے کی کوشش کی ہے تا کہ اس کی شخصیت میں استحکام پیدا ہو۔ وہ ان لوگوں کی تشویق کیا کرتا تھا جو اسکی شان میں روایات جعل کرتے تھے اور جو لوگ ان جعلی اور جھوٹی روایات کی عوام میں ترویج کیا کرتے تھے۔
مختصر تاریخ دمشق، ج 25 ، ص 5 ، 16
جس کا نمونہ یہ ہے کہ رسول اللہ بعض نے نقل ہے کہ:
الامناء عند الله ثلاثه: جبرائیل و أنا و معاویہ،
رسول خدا نے فرمایا: خداوند کے نزدیک تین شخص امین ہیں، جبرائیل، میں اور معاویہ۔
ابن عساکر نے اس طرح کی جعلی اور جھوٹی روایات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
عثمان کے خلاف شورش کا آغاز:
معاویہ عثمان کے خلاف شروع ہونے والی شورش کی ابتدا سے ہی اس سے فائدہ اٹھانے کے در پے تھا۔ اس نے ایک وقت عثمان سے تقاضا کیا کہ وہ اس کے پاس شام آ جائے تا کہ مخالفین کے ہاتھوں سے امان میں رہے، لیکن اس نے یہ تجویز قبول نہیں کی۔
ابن کثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 157
جب شورش میں سختی اور شدت پیدا ہوئی تو معاویہ نے صرف اسی میں اپنا فائدہ دیکھا کہ عثمان قتل ہو جائے۔ اسی وجہ سے اس نے عثمان کی کسی قسم کی مدد نہیں کی۔ یہاں تک کہ عثمان سخت ترین حالات میں خود اس بات کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے ایک عتاب آمیز خط معاویہ کو لکھا۔
ذہبی، شمس الدین، تاریخ الاسلام، عہد الخلفاء الراشدین، ص 450
بلاذری، انساب الاشراف، ج 4، ص 19
عثمان کے بعد معاویہ نے امویوں کو اس کا وارث سمجھا اور اسی کی خونخواہی کے غلط بہانے سے حضرت علی (ع) کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ عثمان کے قتل کے بعد اس کی بیوی کے شام فرار ہونے کے بعد معاویہ نے اس سے شادی کی خواہش کی لیکن اس نے اسے قبول نہیں کیا۔
نثر الدر، ج 4، ص 62
بلاغات النساء، ص 139
العقد الفرید، ج 6، ص 90
معاویہ نے حضرت علی (ع) کو لکھنے والے خطوط میں اس بات کا سہارا لیا کہ:
ہمارا خلیفہ عثمان مظلوم قتل ہوا اور خدا اسکے متعلق فرماتا ہے کہ:
جو کوئی مظلوم مارا جائے ہم اس کے ولی کیلئے قدرت فراہم کرتے ہیں۔
پس ہم عثمان اور اس کے بیٹوں کی نسبت اس خونخواہی کیلئے زیادہ سزاوار ہیں۔ معاویہ اپنے بہت زیادہ پروپیگنڈے میں فقط خلافت پر قبضہ کرنے کے لیے، اپنے آپ کو عثمان کا وارث کہتا تھا۔
کتاب الغارات، ص 70
امام علی (ع) کا عہد خلافت اور معاویہ کی برطرفی کی کوشش:
امام علی (ع) نے خلافت کے آغاز میں ہی معاویہ کے نمائندے سے کہا:
معاویہ سے کہو کہ میں اس کی شام پر امیری سے خوش نہیں ہوں اور لوگ کبھی اس کی خلافت کے متعلق رضایت نہیں دینگے۔
رسائل جاحظ، الرسائل السیاسیہ، ص 345
معاویہ نے جنگ جمل سے پہلے زبیر کو لکھا:
اس نے شام کے لوگوں سے اسکے لیے بیعت لی ہے ، اگر عراق انکی ہمنوائی کرے تو شام کی طرف سے کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ زبیر معاویہ کے اس خط سے بہت خوش ہوا۔
اعیان الشیعہ، ج 3 ، ص 12
معاویہ اس بات پر تھا کہ قریش کی سیاسی شخصیات میں سے خاص طور پر ایسی شخصیات کو چاہتا تھا کہ جو اس شورا میں موجود ہوں اور وہ انہیں اپنی جانب جذب کرے تا کہ ان سے سیاسی فائدہ حاصل کر سکے۔ امام علی (ع) نے اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا اور کہا شام میں موجود قرشیوں میں سے کوئی ایک بھی شورا میں قبول نہیں ہوئے ہیں اور خلافت ان کے لیے روا نہیں ہے۔
وقعۃ صفین، ص 58
نیز معاویہ نے امام علی کو لکھے جانے والے خط میں شورا کا مسئلہ بھی بیان کیا تھا۔
الامامۃ و السیاسۃ، ج 1، ص 121
امام علی (ع) نے عبد الله ابن عباس کو حکومت شام میں بھیجنا چاہا تو معاویہ کو خط لکھا۔ اس نے جواب میں امام کو ایک سفید کاغذ بھیجا۔ معاویہ کے نمائندے نے امام سے کہا:
میں ایسے لوگوں کی جانب سے آیا ہوں جو تمہارے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ تم نے عثمان کو قتل کیا ہے اور وہ تمہارے قتل کے سوا راضی نہیں ہیں۔
انساب الاشراف، ج 2، ص 211
معاویہ جنگ جمل اور طلحہ، زبیر اور عائشہ کے علی (ع) کے مقابلے میں آنے سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے، امام علی (ع) کی قتل عثمان میں مداخلت کو زیادہ تبلیغ کیا کرتا تھا۔
رسول جعفریان، تاریخ خلفا، ج 2، ص 278
جنگ جمل کے بعد امام علی (ع) کوفہ میں مستقر ہوئے۔ سپاہ شام سے درگیری کے پیش نظر لوگوں سے بیعت لینا شروع کی، شام کے علاوہ تمام علاقوں نے امام کی بیعت کی۔ امام نے اپنے خطوط کے ذریعے معاویہ کو قانع اور اپنا مطیع کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ عمر کی طرف سے منصوب ہونے کے استناد کی بناء پر امام کی اطاعت سے سر پیچی کرتا رہا۔
الفتوح، ج 2، ص 380
معاویہ نے امام سے چاہا کہ شام اور مصر اس کے حوالے کرے نیز اسکے بعد بیعت کیلئے امام کسی اور کو مقرر نہ کریں بلکہ وہ خود امام کے سامنے بیعت کرے گا۔ امام نے اس کے جواب میں کہا:
لم یکن الله لیرانی اتخذ المضلین عضدا،
وقعة صفین، ص 52
الفتوح، ج 2، ص 392
معاویہ نے شام میں ایک گفتگو کے دوران کہا:
علی مجھ سے کیسے خلافت میں برتر ہے ؟ اگر حجاز کے لوگوں نے اسکی بیعت کی ہے تو شام کے لوگوں نے میری بیعت کی ہے۔ حجاز اور شام برابر ہے۔ اس نے یہی کلمات امام کو ایک خط میں لکھے: جب تک حجاز کے لوگ حق کی رعایت کرتے رہے اس وقت تک وہ شام پر حاکم تھے، لیکن اب انہوں نے حق کو چھوڑ دیا ہے اب یہ حق شامیوں کا ہے۔
الفتوح، ج 2، ص 429
امام نے جواب میں لکھا :
تیری یہ بات اہل شام اہل حجاز پر حاکم ہیں، قرشیوں میں سے کوئی ایسا شخص بتاؤ جسے شورا میں قبول کیا جائے یا اسکے لیے خلافت روا ہو۔ اگر تم ایسا دعوی کرو گے تو مہاجر و انصار تمہیں جھٹلائیں گے … میری بیعت سب نے کی ہے اور کسی کی اس میں مخالفت موجود نہیں ہے اور تجدید بیعت کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔
وقعۃ صفین، ص 58
الفتوح، ج 2، ص 432
جنگ صفین:
پس جب خط و کتابت اور معاویہ کو ہٹانے کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو امام نے اس سے جہاد کا قطعی فیصلہ کر لیا۔ امام نے مہاجر و انصار میں سے اپنے بزرگ صحابہ کو اپنے پاس بلایا۔ خطبہ پڑھا اور اسکے بعد انہیں جہاد کی دعوت دی۔ بالآخر سن 37 ہجری کے صفر کے مہینے میں صفین نامی جگہ پر جنگ ہوئی۔ شکست جب معاویہ کی فوج کے روبرو تھی تو انہوں نے قرآن نیزوں پر بلند کیے۔ یہ صورتحال دیکھ کر امام علی (ع) کے بعض سپاہیوں نے جنگ سے ہاتھ کھینچ لیے۔ نتیجے میں حَکَمیت کیلئے دونوں طائفوں کے درمیان حَکَم مقرر ہوئے اور جنگ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئی۔
وقعۃ صفین، ص 110
الفتوح، ج 2، ص 477 و 480
یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 188
جنگ صفین کے بعد:
امام نے نہروان کے بعد دوبارہ کوشش کی کہ عراقیوں کو شام سے جنگ کیلئے تیار کریں۔ اس کام کیلئے تیار ہونے والے افراد کی تعداد کم تھی۔ امام نے لوگوں کی سستی کے بارے میں خطبہ دیا اور کہا: میں ایسے لوگوں میں گرفتار ہوا ہوں کہ جب حکم دیتا ہوں وہ عمل نہیں کرتے جب بلاتا ہوں تو جواب نہیں دیتے ہیں۔ معاویہ عراقیوں کی اس سستی سے آگاہ تھا ۔لہذا اس نے ان حالات میں امام علی کی حکومت کی تضعیف اور عراق میں اپنا راستہ ہموار کرنے کے لیے امام کے زیر تسلط علاقوں جزیرۃ العرب اور عراق کے کچھ علاقوں میں شب خون مارنے کا ارادہ کیا۔ معاویہ کہتا تھا :
یہ قتل و غارت اور تاراجی عراقیوں کو خوفزدہ کرتی ہے اور جو امام کے مخالفین میں سے ہیں یا جو امام سے جدائی کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں اس کام کی ہمت دیتی ہے۔ جو اس دگرگونی سے بیمناک ہیں انہیں ہمارے پاس لاؤ۔ این تہاجمات اور شب خون غارات کے نام سے معروف ہیں۔ ابو اسحاق ثقفی نے کتاب الغارات نے ان غارات کی فہرست میں کتاب تالیف کی ہے۔
نہج البلاغه، خطبہ 39، 131، 180
نہج البلاغہ، خطبہ 39
رسول جعفریان، تاریخ خلفا، ج 2، ص 323
الغارات، ص 176
سپاہ شام کے ناجائز اقدامات:
ابو اسحاق ابراہیم ثقفی نے کتاب الغارات میں سپاه معاویہ کے دوسرے علاقوں پر حملوں کو اکٹھا کیا ہے۔
مصر پر حملہ:
مصر وہ پہلا علاقہ ہے کہ جہاں شام کی فوج نے تجاوز کرتے ہوئے حملہ کیا۔ مصر کے والی قیس ابن سعد نے جنگ صفین میں امام کی ہمراہی کی۔ جنگ صفین کے بعد محمد ابن ابی بکر حاکم مصر تھا۔ امام نے مصر کے حالات کی بناء پر امام نے مالک کو مصر بھیجا۔ معاویہ نے اسکی اطلاع پاتے ہوئے مالک ابن اشتر کے قتل کا منصوبہ تیار کیا اور مالک قلزم نامی جگہ شہید ہو گئے۔
معاویہ نے مصر کی حکومت کا وعدہ عمرو ابن عاص کو دیا تھا۔ عمرو ایک عظیم لشکر کے ساتھ مصر روانہ ہوا۔ کنانہ ابن بشر دو ہزار افراد کے ساتھ شہر سے باہر آیا اس نے جنگ کی قتل ہوا اور فوج نے شکست کھائی۔ محمد ابن ابی بکر کے اطراف سے لوگ پراکندہ ہو گئے۔ شامی فوج کے ہراول دستے کے سربراہ معاویہ ابن خدیج نے محمد کو ایک ویرانے میں پا کر اس کی گردن اڑا دی اور اسکی لاش کو ایک مردار کے پیٹ میں رکھ کر اسے آگ لگا دی۔
اس طرح مصر امام کی دسترس سے نکل گیا اور عمرو ابن عاص سن 43 ہجری تک مصر کے لوگوں پر حاکم رہا۔
الغارات، ج 1، ص 276 ، 279
بصرہ پر حملہ:
معاویہ نے عمرو ابن عاص سے مشورے کے ساتھ عبد الله ابن عامر حضرمی کو بصره روانہ کیا تا کہ وہ وہاں کے لوگوں کے درمیان خون عثمان کی خونخواہی کے ذریعے اپنے حامیوں کو اکٹھا کرے اور وہ اس شہر میں تصرف کرے۔ ابن عامر نے قبیلۂ بنی تمیم کو اکٹھا کیا۔ ضحاک ابن عبد الله ہلالی نے امام علی (ع) کی حمایت میں اس پر اعتراض کیا لیکن اکثر تمیمیوں نے ابن عامر کی حمایت کی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔
معاویہ نے ابن عامر سے چاہا تھا کہ وہ مضریوں پر اعتماد کرے، یہی بات ازدیوں کی رنجش کا سبب بنی۔ بصرے کے نائب زیاد ابن عبید نے عبد الله بن عباس کو خط لکھا جو اس وقت کوفہ میں تھا اور بصرہ کا والی تھا۔ زیاد نے ازدیوں کی حمایت سے نماز جمعہ قائم کی اور لوگوں سے تقاضا کیا کہ وہ بنی تمیم کے مقابلے میں کھڑے ہوں۔ امام نے زیاد ابن ضبیعہ تمیمی کو بصرہ میں بھیجا تا کہ وہ بنی تمیم کو ابن عامر کی حمایت سے روکے۔ بہت زیادہ کوششوں سے بنی تمیم ابن عامر کی حمایت سے دستبردار ہوئے۔ ان حالات میں وہ خوارج کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ امام نے جاریۃ ابن قدامہ کی سرکردگی میں بنی تمیم کے پچاس افراد کو بصره بھیجا۔ اس نے شیعوں کیلئے امام کا خط پڑھا۔ جنگ ہوئی تو بنی تمیم شکست سے دوچار ہوئے۔
الغارات، ج 2، ص 373 ، 412
عراق پر حملہ:
معاویہ نے ضحاک ابن قیس کو عراق بھیجا اور کہا کہ جہاں جاؤ وہاں قتل و غارت اور تباہی پھیلا دو ، علی (ع) کے دوستوں کو قتل کر دو اور جلدی سے اس جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جاؤ۔ ضحاک کوفہ آیا لوگوں کے اموال برباد کیے اور حجاج کے کاروان پر حملہ آور ہوا۔
امام (ع) نے حجر ابن عدی کو 4000 افراد دے کر ضحاک کے پیچھے روانہ کیا۔ حجر نے اسے تدمر میں جا لیا اور وہاں جنگ ہوئی شامیوں کے 19 افراد مارے گئے۔ حجر کے ساتھیوں میں سے 2 شہید ہوئے۔ ضحاک رات کی تاریکی کا سہارا لیتے ہوئے، فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
نعمان ابن بشیر کی سرکردگی میں فرات کے اطراف عین التمر پر حملہ، معاویہ کا ایک اور ناجائز اقدام تھا، لیکن یہ حملہ معمولی سی جنگ اور نعمان کے فرار سے تمام ہو گیا۔ ان حملوں کے بعد عدی ابن حاتم نے 2000 افراد کے ساتھ شام کے نچلے علاقوں کی زمینوں میں حملے کیے۔
الغارات، ج 2، ص 445 ، 459
حجاز پر حملہ:
سن 39 ہجری کے ایام حج میں معاویہ نے یزید ابن شجره رہاوی کو مکہ بھیجا تا کہ وہ لوگوں کو معاویہ کی طرف دعوت دے۔ امام علی (ع) نے اس سپاہ کے مقابلے میں معقل ابن قیس ریاحی کو مکہ بھیجا۔ سپاه شام کسی درگیری کے بغیر مناسک حج کے بعد شام واپس چلے گئے۔ معقل نے وادی القری تک ان کا تعاقب کیا۔ چند تن اسیر ہوئے جنکا بعد میں عراق کے قیدیوں سے تبادلہ کیا گیا۔
الغارات، ج 2، ص 504 ، 516
معاویہ کی طرف سے بُسر ابن ارطاة کی سربراہی میں حجاز اور یمن پر حملہ سخت ترین غارت گری تھی۔ معاویہ نے بسر سے چاہا کہ جہاں بھی علی کے شیعوں کو پائے انہیں قتل کر دے۔ یمن میں عثمان کے حامیوں نے عراق میں اختلافات کو دیکھتے ہوئے یمن کے حاکم عبید الله ابن عباس کے خلاف بغاوت کر دی اور اسکے لیے انہوں نے معاویہ سے مدد مانگی۔
بسر پہلے مدینہ گیا، جہاں ابو ایوب انصاری قوت و قدرت نہ ہونے کی وجہ سے وہاں سے فرار کر گیا۔ بسر نے اسکا گھر جلا دیا اور لوگوں کو معاویہ کی بیعت پر اکسایا اور ابوہریره کو شہر کا حاکم بنا دیا۔ پھر وہ مکہ اور طائف گیا۔ تبالہ میں شیعوں کی ایک جماعت کو قتل کیا۔ مکہ کے لوگوں نے خوف سے فرار اختیار کیا۔ بسر نے عبید الله ابن عباس کی بیوی بچوں کو اسیر کیا اور بیٹوں کے سر اڑا دئیے، پھر نجران گیا اور عبید اللہ کے سسر عبد الله ابن عبد المدان کو قتل کیا۔ کچھ شیعوں نے دفاع کیا اور بہت سے قتل ہوئے، پھر 100 ایرانی شیعوں کو قتل کیا۔
یہ سب کچھ کرنے کے بعد اس نے حضرموت کا رخ کیا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں شیعوں کی کثیر تعداد ساکن تھی۔ بسر کے حملوں کی خبر پا کر امام نے جاریۃ ابن قدامہ کو سپاہیوں کے ساتھ بسر کے تعاقب میں روانہ کیا۔ وہ جب مکہ پہنچا تو وہ وہاں سے جا چکا تھا۔ کہا گیا ہے کہ جاریہ کے کوفہ واپس پہنچنے سے پہلے امام شہید ہو چکے تھے اور لوگ امام حسن کی بیعت کر چکے تھے۔
رسول جعفریان، تاریخ خلفاء، ص 332
اموی خلافت کی تشکیل اور خلافت بنی امیہ:
امام علی (ع) کی شہادت کے بعد بیت المقدس میں شام کے لوگوں نے معاویہ کی خلیفہ کی حیثیت سے بیعت کی اور اسے خلیفۃ المسلمین کے لقب سے یاد کرنے لگے۔
ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ج 1، ص 163
طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 161
معاویہ پھر عراق کی طرف متوجہ ہوا۔ امام حسن (ع) عبد اللہ ابن عباس سمیت 12000 افراد کے لشکر کے ہمراہ مدائن کی طرف روانہ ہوئے۔ جب لشکر ساباط پہنچا تو انہوں نے اپنے اصحاب کے متعلق خاص طو پر معاویہ کی جانب سے انہیں رشوت دینے اور عبید اللہ ابن عباس کی دلجوئی کی کوشش کی وجہ سے تردید کا شکار ہوئے۔ پس امام حسن نے جنگ سے ہاتھ کھینچ لیا۔
معاویہ اور امام کے درمیان صلح کی بات چلی، امام حسن نے حکومت معاویہ کے حوالے کر دی۔ امام نے صلح میں شرط لگائی کہ معاویہ کے بعد حکومت انہیں واپس ملے گی۔ معاویہ صلح کے بعد کوفہ آیا اور لوگوں کے اس اجتماع کی وجہ سے اس سال کا نام عام الجماعۃ رکھا گیا کیونکہ امت میں سے خوارج کے علاوہ سب نے ایک شخص کی بیعت کی تھی۔
یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج 2، ص 123
ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج 8، ص 16
تاریخ خلیفہ بن خیاط، ج 1، ص 187
طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 163
ابوالفداء، اسماعیل بن علی عماد الدین، المختصر فی اخبار البشر، ج1، ص 184
جاحظ اس سال معاویہ کے بادشاہ بننے، اعضائے شورا اور مہاجرین و انصار کی نسبت اسکی استبدادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :
معاویہ نے اگرچہ اس سال کا نام عام الجماعۃ رکھا حالانکہ یہ سال عام الفرقہ و قہر و جبر و غلبہ کا سال تھا۔ یہ وہ سال تھا کہ جس میں امامت، ملوکیت میں اور نظام نبوی، نظام کسرائی میں تبدیل ہوا اور خلافت، مغصوب اور قیصری واقع ہوئی۔
جاحظ، رسالہ الجاحظ فی بنی امیہ، ص 124، رسالہ النزاع و التخاصم کے ساتھ چھپا ہے،
حکومت معاویہ اگرچہ پہلا حاکمیت کا تجربہ تھا کہ جس میں دینی و سیاسی ، قبیلائی اور علاقائی اختلافات میں زور گوئی کے ذریعے اور سیاسی حیلوں کے توسط سے قدرت حاصل کی گئی تھی۔
محمدسہیل طقوش، دولت امویان،با اضافات رسول جعفریان، ترجمہ حجت الله جودکی، ص 19
معاویہ واضح طور پر کہا کرتا تھا کہ اس نے یہ خلافت کو لوگوں کی محبت ، دوستی اور انکی رضایت سے نہیں بلکہ تلوار کے زور سے حاصل کی ہے۔
ابن عبدربہ، العقد الفرید، ج 4، ص 81
بہرحال اس طرح مکر و حیلے اور ڈرا دھمکا کر اموی حکومت بن گئی اور معاویہ اس کا خلیفہ بنا۔ بنی امیہ کی حکومت کا سلسلہ 91 سال تک چلتا رہا۔ اس میں 14 خلفاء نے حکومت کی۔ پہلا معاویہ ابن ابی سفیان اور آخری مروان ابن محمد جعدی تھا۔
محمد بن علي بن محمد المعروف بابن العمراني، الإنباء في تاريخ الخلفاء، ص 53
صَّلاَّبي، عَلي محمد محمد، الدولَۃ الأمويَّہ عَواملُ الازدہارِ وَتَداعيات الانہيار، ج 1 ص 297
ابن کثیر، البدایہ والنہايہ، ج 8 ص 288
خلافت سے پہلے معاویہ کی کوششیں اور اقدامات:
معاویہ نے اگرچہ ظاہری طور پر اعلان کیا تھا کہ اسکی علی (ع) سے مخالفت خلافت کیلئے نہیں ہے۔ اس نے جنگ جمل سے پہلے زبیر ابن عوام کو خط لکھا کہ:
اس نے شام کے لوگوں سے اسکے لیے بیعت لے لی ہے، اگر عراق انکا ساتھ دے تو شام کی طرف سے کوئی مشکل نہیں ہے۔ زبیر اس خط سے بہت خوش ہوا۔
امین، احمد، اعیان الشیعہ، ج 3، ص 12
معاویہ نے لوگوں کے درمیان خلیفہ کے انتخاب کے لیے شورا کا نظریہ پیش کیا۔ معاویہ اس در پے تھا کہ قریش کی سیاسی شخصیات خاص طور پر شورا کے موجود افراد کو اپنی طرف جذب کرے اور اس سے سیاسی مقاصد حاصل کرے۔ معاویہ نے یہ مسئلہ ایک خط میں امام علی (ع) کے سامنے بھی پیش کیا تھا۔
ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 121
دیگر تاریخی منابع کے مطابق اس نے امیر المؤمنین کے نام سے نہیں، بلکہ امیر کے نام سے بیعت کی لیکن امام علی (ع) کی شہادت کے بعد خلافت کا ادعا کیا اور لوگوں نے امیر المؤمنین کے نام سے اسکی بیعت کی۔
بلاذری، انساب الاشراف، ج 5، ص 161
ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 25، ص 27
معاویہ نے حمص کے حاکم کو خط لکھا اور کہا لوگ جس نام سے بھی اسکی بیعت کریں، انکو اختیار حاصل ہے۔ حمص کے اشراف معاویہ کی امیر کے عنوان سے بیعت پر راضی نہیں ہوئے کیونکہ خلیفہ کے بغیر عثمان کی خوانخواہی کیلئے نکلیں گے۔ پس اس لحاظ سے حمص کے وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے معاویہ کی خلیفہ کے عنوان سے بیعت کی تھی۔ اس کے بعد شام کے لوگوں نے بھی خلیفہ کے عنوان سے اسکی بیعت کی۔
ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج 1، ص 100
معاویہ کے طلقاء میں سے ہونے کی وجہ سے خلافت کا مسئلہ اس کیلئے دشواری پیدا کرتا تھا۔ معاویہ نے شام میں اپنے آپ کو « خال المؤمنین » اور « کاتب وحی » کے عنوانات سے پہچنوایا تھا اور اس لحاظ سے اپنی طلقاء میں سے ہونے کی مشکل کو حل کرنے کی کوشش کی تھی۔
محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 22
معاویہ کی سیاست کرنے کا انداز اور طریقہ:
معاویہ کی امام حسن (ع) کے ساتھ صلح کے ساتھ اس کی خلافت کا پہلا دور اختتام ہوا اور اموی دور حکومت کا آغاز ہوا۔ معاویہ کی حکومت کا پایہ تخت دمشق تھا۔ اس نے اپنے اہداف کے تحت اپنی حکومت کی بنیادیں فراہم کیں۔ اسکی اہم کوششیں عبارت ہیں:
نظام سیاسی میں تبدیلی ،
فوج کے کردار کو اساسی محور قرار دینا ،
قبائل کا موازنہ اور چلانا ،
ولیعہدی کا ایجاد ،
مخالفین کی سرکوبی ،
خوش روئی کا مظاہرہ کرنا اور بزرگ شخصیات اسلامی کو بخشش و ہدایا جات دینا ،
جابر اور قدرتمند والیوں کے ذریعے امنیت ایجاد کرنا ،
حکومتی کاموں کا انتظام کرنا اور توسع طلبانہ سیاستیں ،
محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 18
معاویہ کا خلافت کے استحکام کیلئے ظاہری طور پر دینی اصولوں کا استعمال کرنا:
جاری ہے ۔۔۔۔۔
حوالہ جات
میسون ابو اسعد ویکی ڈیٹا پر (P161) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صنف تاریخی دور ڈراما ویکی ڈیٹا پر (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زبان عربی ویکی ڈیٹا پر (P364) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملک سعودی عرب ویکی ڈیٹا پر (P495) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام عکس بندی تونس ویکی ڈیٹا پر (P915) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ا سٹوڈیو ایم بی سی گروپ”بعد
تأجيله عامين.. MBC تطرح برومو مسلسل “معاوية” رمضان 2025″۔ العربية (بزبان عربی)۔ 26 فروری 2025۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-03-02
200مليون دولار تكلفة مسلسل “معاوية بن أبي سفيان” وهذا سبب
غيابه عن رمضان” (بزبان عربی)۔ 2024-05-13 کو اصل سے آرکائیو کی گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-08-21
مسلسل معاوية .. أضخم الأعمال التاريخية العربية”۔ ET بالعربي (بزبان عربی)۔ 28 فروری 2025۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-03-02
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
بہن ماں کے روپ میں
اکمل سید لندن
بہن کی شادی کو کئی برس ہو گئے تھے۔ میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا۔ عید، شب برات کبھی بھی ابو یا امی جاتے ہیں۔ اور بہن کو مل آتے ان کی حیات کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو چکا تھا مگر میری جانب سے بہن نے یہ سلسلہ جاری رکھا
میری روجہ ایک روز مجھے کہنے لگی، آپ کی بہن جب بھی آتی ہے، اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ خرچ بھی دوگنا ہو جاتا ہے اور تمہاری ماں ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے، کبھی کپڑے، کبھی صرف کے ڈبے اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی اور دیگر ضروت کی اشیا دیتی ہے۔ اپنی والدہ سے کہیں یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات خانہ نہیں۔
مجھے والدہ کے اس پیار اور محبت کے عمل پر بہت غصہ آیا کہ میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو اٹھا کر دے دیتی ہے۔ بہن ایک روز میں گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا۔ میں اپنی والدہ سے غصے میں کہہ رہا تھا ۔۔۔ ماں بہن کو کہئے یہاں صرف عیدین پہ آیا کریں۔ اور یہ جو آپ یہ اشیائے ضرورت اور روز مرہ کے استمعال اشیائے صابن صرف اور چاول کا تھیلا وغیرہ بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں کیوں کہ میرے پاس اب گنجائش نہیں ہے اور میری زوجہ ناک منہ بناتی ہے۔۔۔۔
والدہ سن کر خاموش رہی لیکن بہن نے یہ تمام گفتگو سن لی تھیں میری۔ بہن تو کچھ نہ بولی۔
4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ آؤ۔ میں نے جھوٹے منہ کہا کہ کچھ عرصہ اور رہ لیتی لیکن وہ مسکرائی۔ نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں۔ ان کی تعلیم کو ہرج ہو گا۔۔۔۔
والد کے اس دار فانی سے کوچ کرنے کے بعد جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا ہو رہا تھا تو میں نے صاف انکار کیا۔ بھائی میں اپنی زمیں سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا۔ بہن سامنے بیٹھی تھی۔وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی۔
ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے بد زبانی کر کے کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا۔ میری زوجہ بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی۔مگر وہ بیچاری خاموش تھی۔
ہم بہن بھائی علیحدہ ہوگئے۔ کچھ وقت کے بعد میرے بڑے بیٹے کو ذیا بیطس کی بیماری نے گھیر لیا اور وہ شفا خانہ میں بھرتی ہو گیا مگر میرے پاس اس کا علاج کروانے کی رقم نہیں تھی۔ میں بہت پریشان تھا میں۔ کافی مقروض بھی ہو گیا تھا۔
بھوک نے شب روز زندگی تنگ کر دی تھی میں بہت پریشان تھا۔ کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا۔ شاید قسمت اور حالات کو رو رہا تھا ۔۔۔
اسی وقت وہی بہن گھر آگئی۔ جس کو میں نے اس کا حصہ نہیں دیا تھا
میں غصے سے بولا اب یہ پھر آ گئی ہے منحوس کہیں کی ۔۔۔۔۔۔میں نے بیوی کو کہا کچھ تیار کرو بہن کے لیے۔
بیوی میرے پاس آئی۔
کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لئے۔ یا کسی قسم کے تکلف کی خود ہی چلی جائے گی ہمارے حالات کا دیکھ کر۔۔۔۔
پھر ایک گھنٹے بعد وہ بہن میرے پاس آئی کہنے لگی پیارے بھائی کیوں پریشان ہو۔ بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا۔ بڑی بہن ہوں تمہاری۔ میری گود کے پالے اور کھیلتے رہے ہو۔اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو۔
پھر میرے قریب ہوئی۔ اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے۔آہستہ سے بولی پاگل توں ایویں پریشان ہوتا ہے۔میرے بچے سکول تھے۔ میں نے سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کرو، بیٹے کا علاج کرواؤ۔
اپنی شکل تو دیکھو ذرا کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے۔ میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم کو میری قسم ہے۔
میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے۔ ۔۔۔۔۔۔شاید اس کی جمع پونجی تھی۔میری جیب میں ڈال کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا۔ پریشان نہ ہوا کرو۔جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا۔ دیکھو بال بھی سفید ہو گئے ہیں اپنا خیال رکھا کرو۔ وہ جلدی سے جانے لگی۔ اس کے پیروں کی طرف میں نے دیکھا۔ ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی۔
پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔ جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی ۔
بہن کی اس محبت میں میں مر گیا تھا۔
ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں۔ بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں۔وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا۔
مجھے احساس ہو رہا تھا نہ جانے میری بہن اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوگی ۔۔۔۔۔ کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں۔ شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لئے ایک سکون آ جائے۔ بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں۔ دعاوں میں کروٹ کروٹ یاد کرتی رہتی ہیں اپنے حالات چاہے کیسے ہی ہوں
التماس دعا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٓآخر کفن لئے ہوئے ظاہر ہوئی سحر ۔۔۔۔۔۔
انتخاب سید اکمل حسین
امام علی نے خلفائے ثلاثہ کے 25 سالہ دور خلافت میں تقریبا سیاسی و حکومتی امور سے دوری اختیار کی اور فقط علمی و سماجی امور میں مشغول رہے۔ جیسے جمع آوری قرآن کریم، جو مصحف امام علی کے نام سے مشہور ہے، مختلف امور میں خلفاء کو مشورہ دینا، جیسے قضاوت، انفاق فقراء، تقریبا ایک ہزار غلاموں کو خریدنا، انہیں آزاد کرنا، زراعت و شجرکاری، کنویں کھودنا، مساجد تعمیر کرنا و اماکن و املاک وقف کرنا، جن کی سالانہ آمدنی چالیس ہزار دینار تک ذکر ہوئی ہے۔ اسی طرح سے خلفاء آپ سے قضاوت جیسے مختلف حکومتی امور کے بارے میں مشورہ کیا کرتے تھے۔
آپ نے خلیفہ سوم کے بعد مسلمانوں کے اصرار پر خلافت و حکومت کو قبول کیا۔ آپ اپنی حکومت میں عدل و انصاف کو بظور خاص اہمیت دیتے تھے۔ آپ نے خلفاء کی اس روش کا مقابلہ کیا، جس میں افراد کے سوابق کے اعتبار سے انہیں بیت المال سے حصہ دیا جاتا تھا۔ آپ نے حکم دیا کہ عرب و عجم، ہر مسلمان کو چاہے اس کا تعلق کسی بھی خاندان و قبیلہ سے ہو، بیت المال میں سب کا حصہ برابر ہے اور انہوں نے ان تمام زمینوں، جنہیں عثمان نے مختلف افراد کے حوالے کر دیا تھا، بیت المال کو واپس کیا۔
پتھر کی آنکھ روئے وہ منظر عیاں ہوا
امام علی دینی امور، قانون کے دقیق اجرا اور صحیح طریقے سے حکومت چلانے کے معاملے میں بیحد سنجیدہ و نظر انداز نہ کرنے والے تھے اور یہی سبب تھا جس نے آپ کو بعض افراد کے لئے ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔ وہ اس راہ میں حتی اپنے نزدیک ترین افراد کے ساتھ بھی سختی سے پیش آتے تھے۔ امام علی کے مطابق حاکم کا حق اپنی رعیت پر اور رعیت کا حق اپنے حاکم پر، بزرگ ترین حقوق میں سے ہے جسے خداوند عالم نے قرار دیا ہے اور یہ کاملا دو طرفہ ہے اور دونوں طرف سے حقوق کی رعایت بیحد ثمرات کی حامل ہے۔ جس وقت حضرت نے مالک اشتر کو مصر کا گورنر منصوب کیا تو انہیں تمام لوگوں کے ساتھ چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان، مہربانی و خوش اخلاقی و انسانی سلوک سے پیش آنے کی نصیحت فرمائی۔ حضرت کو اپنی مختصر حکومت کے عرصے میں تین سنگین داخلی جنگوں جمل، صفین اور نہروان کا سامنا کرنا پڑا۔۔ امام علیؑ کے بعض اصحاب نے امام کی شہادت کے بعد کوفہ کی فوج کو اس ریوڑ سے تشبیہ دی ہے جس نے اپنا چرواہا کھو دیا ہے اور ہر طرف سے بھیڑیوں کے حملے کی زد میں ہیں۔
خوارج کا ایک گروہ حج کے بعد جمع ہوا جو مسلمانوں کی حالت پر نالاں تھے۔ آخر کار تین لوگوں نے امام علیؑ، معاویہ اور عمرو عاص کو قتل کرنے کی قسم کھائی۔ ابن ملجم نے امام علیؑ کو قتل کرنے کا عہد کیا۔ امام علی انیسویں رمضان کو اپنی بیٹی ام کلثوم کے مہمان تھے۔ صبح کی اذان سے پہلے آپ مسجد چلے گئے۔ آپ نے ابن ملجم سمیت مسجد میں سوئے ہوئے لوگوں کو نماز کے لیے جگایا اور محراب میں نماز کے لیے کھڑے ہوے۔
ابن ملجم نے سجدے میں یا سجدے سے سر اٹھاتے وقت امام کے سر پر تلوار ماری۔ امام کو گھر لے جایا گیا اور اثیر بن عمرو نامی ماہر طبیب نے امام کا معائنہ کیا۔ اثیر تابعین میں سے تھے۔ اثیر کو جب پتہ چلا کہ ضربت دماغ تک پہنچی ہے، تو اس نے امام سے وصیت کرنے کو کہا؛ کیونکہ زیادہ دیر زندہ رہنے کی امید نہیں رہی تھی۔ شہادت سے پہلے، امام کئی بار بیہوش ہوئے۔ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے بچوں کو وصیتیں کیں۔
امام علیؑ کو امام حسن مجتبیؑ، امام حسینؑ، محمد حنفیہ اور عبد اللہ بن جعفر نے غسل دیا۔ امام حسنؑ نے امام کے جنازے پر نماز پڑھی۔ امام علیؑ کو رات میں دفنایا گیا۔ خوارج کی طرف سے نبش قبر اور بنو امیہ کی دشمنی کے خوف سے امام علیؑ کے مدفن کو مخفی رکھا گیا۔ پھر بنی عباس کے دور میں امام صادقؑ نے قبر کی نشاندہی کی۔
امام علیؑ کی شہادت کا شیعوں کے حالات پر اثر
امام علیؑ رمضان المبارک 40 ہجری میں شہید ہوئے۔ امام کی شہادت ایسے وقت میں ہوئی جب بہت سے مسائل تھے؛ سپاہیوں کو امام کی پوری معرفت نہیں تھی جس کی وجہ سے ان کا ساتھ دینے میں سستی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ دوسری طرف معاویہ کی کمان میں شام کی فوج کافی مضبوط ہو چکی تھی۔اس دور میں معاویہ نے حالات کو جانتے ہوئے امام علیؑ کی حکومت کے مختلف علاقوں پر حملہ کر کے امام کے پیروکاروں اور شیعوں کو قتل و غارت
کرتا تھا۔
جب ابن ملجم نے امام علیؑ پر ضربت ماری اس وقت آپؑ شام کی طرف بڑھنے اور معاویہ کے خلاف لڑنے کے لیے لشکر تیار کر رہے تھے۔امام علی علیہ السلام کی شہادت نے کوفہ کے لشکر کے درمیان دراڑ پیدا کر دیا جس کے بارے میں نوف بکالی امام علیؑ کے اصحاب سے نقل کرتے ہیں کہ لشکر شام کی طرف بڑھنے کی تیاری کر رہے تھے کہ امام علیؑ پر ابن ملجم نے وار کیا اور لشکر واپس کوفہ پہنچ گئے۔ نوف نے اس دور میں امام علی علیہ السلام کی فوج کی صورت حال کو اس ریوڑ سے تشبیہ دی جس نے اپنا چرواہا کھو دیا ہے اور بھیڑیے انہیں ہر جگہ سے اٹھا رہے ہیں۔
ہر سمت آنسوئوں کا سمندر رواں ہوا
امام علیؑ کی شہادت کے بعد اہل کوفہ نے امام حسنؑ کی بیعت کی؛ لیکن بعض محققین کے نزدیک کوفہ کی حقیقت مختلف رجحانات، اختلاف رائے اور لوگوں کے درمیان نفرت کے اظہار کے سوا کچھ نہیں تھی۔ اسی وجہ سے امام حسنؑ کی فوج شام کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔شیعہ مورخ آیت اللہ سبحانی کا خیال ہے کہ امام علیؑ کی شہادت اسلامی معاشرے کے جسم پر ایک کاری ضربت اور دشمنوں کی طرف سے شیعوں کے قتل، حملے اور ایذا رسانی کے آغاز کا سبب بنی۔امام کی شہادت اور امام حسنؑ کی حکومت کے مختصر عرصے کے بعد اموی دور کا آغاز ہوا جو شیعوں کے لیے سب سے کٹھن دور تھا۔معاویہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد شیعوں کے لئے حالات استقدر سخت ہوئے کہ ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ شیعہ جہاں بھی تھے یا تو قتل کر دیے جاتے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جاتے یا ان کا مال لوٹ لیا جاتا اور انہیں قید کر دیا جاتا تھا۔
شیعہ مسلمان 21 رمضان المبارک کی رات کو جس میں شب قدر ہونے کا احتمال پایا جاتا ہے،امام علیؑ کی شہادت کا سوگ مناتے ہیں۔ ایران کے بعض علاقوں میں اس رات کو قنبر اور حضرت علیؑ کے نام سے تعزیہ خوانی کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ، کچھ شیعہ اس رات کو ہدیہ، افطار اور سحری تقسیم کرتے ہیں۔”اللّہمَّ العَن قَتلَۃ اَميرِ المُومِنين”؛ یعنی اللہ امیر المومنین کے قاتلوں پر لعنت کرے، کا ذکر سو مرتبہ دہرانا رمضان المبارک کی 19ویں اور 21ویں رات کے اعمال میں سے ایک ہے۔
کیا امام علیؑ کو اپنی شہادت کی خبر تھی؟
اصلی مقالہ: اپنی شہادت کے بارے میں ائمہ کا علم
بعض روایات کے مطابق امام علیؑ کو اپنی شہادت کب اور کیسے واقع ہونی ہے کے بارے میں تفصیلات معلوم تھے۔ شیعہ کتب اربعہ میں سے کتاب الکافی میں اس عنوان سے ایک باب موجود ہے کہ ائمہؑ جانتے ہیں کہ ان کی موت کب واقع ہوگی۔شیخ مفید، علامہ حلی اور سیدِ مرتضی نے بھی اپنی تحریروں میں اس بارے میں بات کی ہے۔شیعہ متکلم شیخ مفید (متوفی: 413ھ) کے مطابق اس بارے میں احادیث متواتر ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ اگر امام علی سمیت ائمہ کے پاس شہادت کے وقت علم تھا تو انہوں نے اپنی جانوں کی حفاظت کیوں نہیں کی، آپ نے دو احتمال دئے ہیں:
محتاج بھوکے پیٹ جو سوئینگے رات کو
مولیٰ کے انتظار میںروئینگے رات کو
شاید انہیں اپنی شہادت کا وقت، مقام اور قاتل کے بارے میں تفصیلی معلومات نہ تھیں۔
اگر انہیں اپنی شہادت کی تفصیل معلوم تھی تو پھر انہیں صبر کرنا ان کا وظیفہ تھا۔
ایک اور شیعہ متکلم سیدِ مرتضی (وفات: 436ھ)، نے بھی کہا کہ امام علی جانتے تھے کہ کون کس طرح انہیں شہید کرے گا لیکن شہادت کا وقت انہیں معلوم نہ تھا؛ کیونکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو اپنے آپ کو قتل ہونے سے ضرور بچاتے تھے۔
شہادت کے بارے میں علم ہونے اور اسے عصمت سے سازگار نہ ہونے کے حوالے سے لکھے گئے ایک مقالے میں لکھتے ہیں کہ جن صورتوں میں ائمہؑ شہادت کے لئے تیار ہوئے ہیں انہوں نے نفس کی حفاظت کی ذمہ داری کے حکم کی مخالفت نہیں کی ہے۔ اس مصنف کے مطابق ائمہ کا علم روایتی اور متعارف طریقوں سے حاصل نہیں ہوا ہے۔ اسی وجہ سے ایسا علم انسان پر ذمہ داری لاگو نہیں کرسکتا ہے اور اگر ذمہ داری لاگو کرے بھی تو شاید معاشرے کی سعادت اور۔۔۔ کے لئے ائمہؑ کی کوئی خاص ذمہ داری بنتی تھی جس پر انہوں نے عمل کیا ہے۔امام رضاؑ سے بھی منقول ہے کہ امام علیؑ نے انیسویں شب کو تقدیر الہی کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔اصول کافی کے مفسرملاصالح مازندرانی امام رضاؑ کا امیر المومنینؑ کے بارے میں اس جملے (خُيِّر فيہا بين البقاء و اللقاء فاختار اللقاء ليمضى تقدير اللّہ تعالى) کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ انیسویں رمضان کو امام علیؑ نے اس دنیا میں رہنے اور لقاء اللہ میں سے خدا سے ملاقات کو انتخاب کیا تاکہ تقدیر الہی پوری ہوجائے اور اگر یہ کام خدا کے حکم سے اور اس کی رضامندی سے ہو تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ واجب بھی ہے جیسا کہ امام حسین نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم بھی دشمن کے خلاف جہاد کے دوران ایسا ہی کرتے ہیں۔
اسلام کی مدد کا صلہ اِس طرح دیا
مسجد میں تاجدار امامت کا خون کیا
شہادت امام علیؑ میں قطام کا کردار
تاریخی اطلاعات کے مطابق امام علی علیہ السلام کی شہادت میں قطام بنت شجنہ کا کردار تھا۔ ابن ملجم کی طرف سے رشتہ مانگنے پر اس اس نے اپنا مہر ایک ہزار درہم، ایک لونڈی، اور امام علیؑ کے قتل کو مقرر کیا۔ ان شرائط کو قبول کرتے ہوئے ابن ملجم نے قطام سے شادی کی۔ قطام کے والداور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔
29 ہجری میں حج کے دوران امام علی اور معاویہ کے نمائندوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ مناسک حج کے بعد خوارج کا ایک گروہ مکہ مکرمہ میں جمع ہوا اور کہا کہ انہوں نے کعبہ کی حرمت کا خیال نہیں رکھا ہے۔ان کو مسلمانوں کی حالت پر شکایت تھی اور جنگ نہروان میں اپنے مرنے والوں کا ذکر کیا اور آخر کار تین لوگوں نے علی، معاویہ اور عمرو بن عاص کو قتل کرنے کی قسم کھائی۔ ابن ملجم مرادی نے امام علیؑ کو قتل کرنے کا عہد کیا۔ابن ملجم 20 شعبان 40 ہجری کو کوفہ میں داخل ہوا اور وہاں قطام سے ملاقات کی۔
کوفے کی سر زمیں پہ صرا ڈالئے نظر امام علیؑ پر ضربت
وہ زخم اب لگا ہے کہ جس کا رفو نہیں
قرآن کا لہو ہے علیؑ کا لہو نہیں
امام علیؑ 19 رمضان المبارک کی رات افطاری کے لیے اپنی بیٹی ام کلثوم کے مہمان تھے۔ شیعہ مورخ جعفریان نقل کرتے ہیں کہ اہل بیتؑ اور اہل سنت سے منقول بہت سی روایات میں ذکر ہوا ہے کہ 19ویں رات میں امام علیؑ کی خاص حالت تھی۔اہل سنت مؤرخ ابن اثیر اپنی کتاب الکامل اور کتاب کافی،کی روایت کے مطابق شب ضربت جب امام گھر سے نکل رہے تھے تو بطخیں ان کے سامنے آئیں اور جب ان کو بھگا دیا گیا تو امام نے کہا کہ انہیں رہنے دو، وہ نوحہ خوانی کرتی ہیں۔ علامہ مجلسی نے کافی کی اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
علامہ مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں نقل کرتے ہیں کہ امام علیؑ مسجد میں تشریف لے گئے اور گلدستے پر جاکر اذان کہی۔مسجد میں سوئے ہوئے لوگوں کو نماز کے لیے جگایا۔ ابن ملجم کو بھی جگایا جو مسجد میں پیٹ کے بل سو رہا تھا اور اسے اس طرح سونے سے منع فرمایا۔پھر محراب میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ ابن ملجم نے سجدے کے وقتیا سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے امام کے سر پر تلوار ماری۔بعض اطلاعات کے مطابق، امام، مسجد میں داخل ہوتے ہوئے ان پر حملہ ہوا۔ ابن ملجم کے ساتھ شبیب بن بجرہ اشجعی اور وَردان تھے۔ ابن ملجم نے وار کرنے کے بعد کہا:لا حکم الا للہ؛ فیصلہ صرف خدا کے لیے ہے نہ کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے۔ ایک روایت میں ہے کہ امام علیؑ پر ضربت لگنے کے بعد جبرائیل نے خدا کی قسم کھاتے ہوئے کہا کہ ہدایت کے ارکان منہدم ہوگئے، اور آسمان کے ستارے مدھم پڑ گئے اور تقویٰ کے آثار مٹ گئے۔ یہ عبارت قدیمی مصادر میں نہیں ملتی ہے اور صرف متاخر مصادرمیں نقل ہوئی ہے۔
یوں دیکھتا ہوں غیرتِ انساں کی دھجیاں
شب ضربت امام علی علیہ السلام
فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَہ
اصلی مقالہ: فزت و رب الکعبہ
تیسری صدی کے ایک مورخ ابن قتیبہ دینوری کے مطابق، امام علیؑ نے ضربت لگنے کے بعد کہا: “فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَہ؛ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوا۔” شیعہ علما میں سیدِ رضی، ابن شہر آشوباور اہل سنت علما میں ابن اثیر اور بلاذری جیسوں نے اس بات کو نقل کیا ہے۔
ابن ابی الحدید کے مطابق، امام کو ضربت لگنے کے بعد کوفے کے اطباء کو امام کے معائنے کے لیے جمع کیا۔امام کے سر کے زخم کا معائنہ کرنے کے بعد اثیر بن عمرو اس نتیجے پر پہنچے کہ ضربت دماغ تک پہنچی ہے۔ اس لیے اس نے امام سے کہا کہ وصیت کریں؛ کیونکہ یہ زیادہ دیر تک دنیا میں نہیں رہیں گے۔
میں نے تو دُکھ سہے ہیں غریبوں کے واسطے
لیکن مرے غریب ہیں دُروّں کے واسطے
بعدضربت کے امام علیؑ کی وصیتیں
امامؑ پر ضربت لگنے اور شہید ہونے کے درمیانی عرصے میں آپ سے مختلف کلمات اور وصیتیں نقل ہوئی ہیں۔ امام علیؑ ضربت سے شہادت تک بارہا بےہوش ہوتے تھے۔آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے بچوں کو کچھ وصیتیں کی۔آپ نے امام حسنؑ اور امام حسینؑ سے ایک خصوصی وصیت بھی کی جو نہج البلاغہ میں نقل ہوئی ہے۔اس دوران امام نے موت کے بارے میں بھی بات کی۔ امام علیؑ 21 رمضان 40 ہجری کو شہید ہوئے۔
ابن ملجم سے قصاص کے بارے میں وصیت
امام علیؑ نے ابن ملجم کو قصاص کے طور پر صرف ایک ضرب مارنے کی وصیت کی۔اگر وہ اسی ضرب سے مارا گیا ہو تو اس کے جسم کو ٹکڑے نہ کریں۔بعض منابع کے مطابق آپ نے ابن ملجم کو کھانا، پانی دینے اور اس کے ساتھ صحیح سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔البتہ بعض مصادر کے مطابق امام حسنؑ نے جب ابن ملجم کون قصاص کیا تو لوگوں نے اس کی میت کو جلایا۔اور اسی طرح بعض کا کہنا ہے کہ ابن ملجم کے جنازے کو مثلہ (ٹکڑے) کیا گیا۔
زینبؑ تڑپ گئیں رخصت ہوئے پدر
آہ فغاں نے گھیر لیا فاطمہؑ کا گھر
تشییع و تدفین
امام علیؑ کو امام حسن مجتبیؑ، امام حسینؑ، محمد حنفیہ اور عبد اللہ بن جعفر نے غسل دیا۔ امام حسنؑ نے امام کے جنازے پر نماز پڑھائی۔امام علیؑ کو رات میں دفنایا گیا اور انہیں دفن کرنے کے
لیے کئی جگہیں تیار کی گئیں تاکہ قبر کی جگہ پوشیدہ رہے۔ خوارج کی طرف سے نبش قبراور بنو امیہ کی دشمنی کے خوف سےامام علیؑ کے مدفن کو مخفی رکھا گیا۔ پھر بنی عباس کے دور میں امام صادقؑ نے قبر کی نشاندہی کی۔امام علیؑ کی تدفین شہر نجف میں ہوئی جس کا ذکر منابع میں مختلف ناموں سے آیا ہے۔ اور شیعوں کے درمیان اس پر سب کا اتفاق ہے۔
رخصت ہو روحِ علم وہ ساعت قریب ہے
التماس دعا۔۔۔۔۔۔۔انتخاب سید اکمل حسین
حوالہ جات:
مَقْتَلُ الاِمام أمیرُالمؤمنین علی بن ابی طالب اس کتاب کو ابن ابی الدنیا (متوفی 281ھ) نے عربی متن ہے جو اہل سنت محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔اس کتاب میں امام علیؑ کی شہادت کے بارے میں بعض روایات بیان ہوئی ہیں۔
«شہیدِ تنہا (مقتل امیر مؤمنان علی علیہ السلام)» یہ کتاب سید محمد رضا حسینی مطلق نے لکھی ہے۔
حسینی مطلھ، شہید تنہا، 1386ھ، ص114
ابنسعد، الطبقات الکبری، 1418ھ، ج3، ص 26
فيض الاسلام اصفہانى، علىنقى، نہج البلاغہ، ج1، ص165، قصار 69
ابنسعد، الطبقات الکبری، 1418ھ، ج3، ص 25-28
اربلی، كشف الغمة، ج1، ص416.
ابنابی الدنیا، مقتل امام امیرالمومنین، 1411ھ، ص29، 35.
ابنابیالدنیا، مقتل امام امیرالمومنین، 1411ھ، ص 28، 33
ابنابیالدنیا، مقتل امام امیرالمومنین، 1411ھ، ص30.
.جعفریان، تاریخ خلفا، 1387ش، ص.339.
ابنابیالدنیا، مقتل امام امیرالمومنین، 1411ھ، ص39.
ابنعساکر، تاریخ مدینہ دمشق، 1415ھ، ج42، ص561.
سید رضی، خصائص الائمہ، 1406ھ، ص63.
عباس قمی، مفاتیح الجنان، بخش اعمال شب قدر، اعمال مخصوص شب 19.
ابنابیالدنیا، عبداللہ بن محمد، مقتل الامام امیرالمومنین علی بن ابیطالب، قم، مجمع احیاء الثقافة الاسلامیة، 1411ھ۔
ابنسعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار الکتب العلمیة، 1418ھ۔
ابنعساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینہ دمشق، بیروت، دار الفکر، 1415ھ۔
جعفریان، رسول، تاریخ خلفا، قم، انتشارات دلیل ما، 1387 ہجری شمسی.
حسینی مطلق، سید محمدرضا، شہید تنہا، قم، انتشارات کوثر کویر، 1386ھ۔
سید رضی، محمد بن حسین، خصائص الائمہ، مشہد، آستان قدس رضوی، 1406ھ۔
قمی، عباس، مفاتیح الجنان.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد کوفہ نے کیا صبح قیامت دیکھی۔۔۔۔صبح ضربت
انتخاب سید اکمل حسین ترمذی
۱۹ رمصان ۱۴۴۶
فرزند ابو طالب، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کو بعض ایسے شرف اور فضائل حاصل ہیں، جو کسی بھی اور شخصیت کو نصیب نہیں ہوئے۔ آپ پروردہ نبوت ہیں، اس لئے کہ ابھی بچے تھے کہ نبی کریمؐ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب ؑ سے آپ کو گود لے لیا، حضرت ابو طالب ؑ نے نبی آخر کی پرورش فرمائی تھی، اپنے پاس رکھنے کے بعد امام علی ؑ کی پرورش اور نشوونما آنحضرتؐ ہی کے زیرسایہ ہوئی، یہی وجہ ہے کہ کسی اور انسان کو آنحضرتؐ کے زیرسایہ اتنی وقت گذارنا اور صحبت رکھنا نصیب نہیں ہوا، جتنا امیرالمومنین حضرت علیؑ کو موقعہ ملا۔ حضرت علی ؑ خود فرماتے ہیں کہ میں نبی کریمؐ کے ساتھ یوں ہوتا تھا جیسے اونٹنی کے ساتھ اس کا بچہ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے آنحضرتؐ نے اس طرح سے علم دیا، جیسے فاختہ دانہ دانہ کرکے اپنے بچے کو دیتی ہے۔ حضرت علی ؑ کا کہنا ہے کہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو میں غار حرا میں آنحضرت ؐکے ساتھ تھا۔ اس موقع پر میں نے ایک زبردست چیخ سنی تو میں نے آنحضورؐ سے پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ شیطان کی چیخ ہے۔ پھر فرمایا: علی! جو میں دیکھتا ہوں، اگرچہ وہ تم نہیں دیکھتے، لیکن جو میں سنتا ہوں، وہ تم بھی سنتے ہو۔
جس کا دِل امرِ مشیت کاامیں رہتا ہے
ایسے انساں کو قران ولی کہتا ہے
امیرالمومنین کے اتنے فضائل ہیں کہ گننا اور شمار کرنا ممکنات میں سے نہیں، یہ علی ؑ ہی تھے، جن کا مسجد نبوی میں کھلنے والا دروازہ رسول خدا نے بند نہیں کیا تھا، جبکہ دیگر صحابہ کے دروازے بند کر دیئے گئے تھے، آپ کی پاکدامنی اور عصمت کی گواہی قرآن نے دی تھی کہ رجس آپ ؐ اور آپ کے اہلبیت کے دیگر اراکین سے دور تھا، قرآن اس کا گواہ ہے کہ صرف علی ؑ ہی تھے، جنہوں نے اعلان نبوت سے پہلے بھی کوئی نادانی یا معصیت کاری نہیں کی تھی، نجانے کیسے لوگ حضرت ابو طالب کہ جو محسن اسلام ہیں، کے اس فرزند کیساتھ بغض و کینہ رکھتے ہوئے ناقابل قبول اور من گھڑت ضعیف روایات جنہیں خارجی اور ناصبیوں نے روایات کیا ہے، کے سہارے آپ کے مقام و منزلت پر وار کرتے ہیں۔ دراصل ایسے لوگ اپنی اصلیت کو ظاہر کرتے ہیں، ان کا شمار ان منافقین میں ہی ہوتا ہے، جنہیں زمانہ نبوت میں مسلمان پہچاننے کیلئے علی ؑ کا نام لیا کرتے تھے، ہمارے ملک میں قومی میڈیا میں ایسے کئی ایک ناسور اپنی تحریروں سے موالیان حیدر کرار کے دل دکھاتے نظر آتے ہیں، ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ایک دن وہ گرفت میں آجائیں گے، تب انہیں بچانے کوئی نہیں آئے گا، اس لئے کہ ناصبیوں اور خارجیوں کی حکومت ایک دن ختم ہوگی اور امام مہدی ؑ کا دور شروع ہوگا، جس میں عدل و قسط قائم کیا جائے گا اور اہلبیت ؑ کے ساتھ تعصب کرنے والے اور ان کا دل دکھانے والوں کو ان کی کیئے کی سزا دی جائے گی۔
اسی صورت کے یہ الفاظ ہیں گوہر کی طرح
یا علی تم ہو محمدؐ کے لئے سر کی طرح
یہ امام علی ؑ ہی تھے، جنہوں نے زندگی کا ہر لمحہ و ساعت رسول خدا کی معیت و سرپرستی میں گذاری، اسی لئے رسول خدا ؐنے امام علی ؑ کو ہی اپنا بھائی قرار دیا، جب مواخات مدینہ ہوا تو آپ نے سب کے سامنے علی ؑ کو اپنا بھائی منتخب فرمایا، یہ علی ؑ ہی تھے، جنہوں نے بستر رسول پر سو کر آیت قرآنی کی رو سے مرضی خدا خرید لی، ایسے وقت میں جب کفار و مشرکین مکہ جو ابوسفیان کی قیادت میں آپ ؐ کو شہید کرنا چاہتے تھے، امام علی ؑ نے بستر رسول پر سو کر آپ کو ہجرت کیلئے روانہ کیا اور جب کفار و مشرکین آپ تک پہنچے تو سامنے مولا علی کو پایا، یہ علی ؑ ہی تھے، جنہوں نے تمام جنگوں میں اپنی شجاعت و بہادری سے خود کو منوایا، جنگ بدر میں مشرکین کے ستر چنیدہ سردار مارے گئے، جن میں سے آدھے امام ؑ علی نے تہہ تیغ کئے، جنگ خیبر میں یہودیوں کے معروف قلعہ کو آپ نے ہی فتح کیا اور یہودی پہلوان مرحب کو ایک ہی وار سے ختم کر دیا، جنگ خندق میں جب ایک پہلوان خندق پھلانگ کر اندر داخل ہوگیا اور رسول ؐ کے خیمہ کے سامنے مد مقابل کو للکارنے لگا تو سب سہمے ہوئے تھے، تب رسول کو غصہ میں کہنا پڑا کہ کون اس کتے کی زبان خاموش کریگا، اسی وقت مولا علی سامنے آئے جبکہ آپ کی عمر بہت چھوٹی تھی، امر ابن عبدود مانا ہوا پہلوان تھا، جو ایک ہزار بندوں پہ بھاری تھا، آپ نے اسے للکارا اور پہلے وار کا موقعہ دیا اور پھر اسے اگلے جہاں رخصت کر دیا۔
سچ ہے پیمانہ فطرت بھی بدل جاتا ہے
انگلیاں چاہئیں فولا بھی پگھل جاتا ہے
میدان احد میں مولا علی ؑ اور چند دیگر صحابی تھے جنہوں نے رسول خدا ؐکے فرمان اور ہدایت پر عمل کیا اور درے کو نہیں چھوڑا جبکہ بڑے نامور صحابہ خالد بن ولید کی چال میں آکر رسول ؐ کی ہدایت کو بھول گئے تھے، مسلمانوں کو اس میں شکست ہوئی، اگر علی ؑ نہ ہوتے تو رسول خدا کی زندگی کا بچنا مشکل ہوتا، یہی وہ جنگیں ہیں جن میں مسلمانوں نے فتح پا کر اسلام کو پھیلانے میں کردار ادا کیا، ورنہ اس سے پہلے تو کھل کر اسلام کا نام لینا بھی جرم بنا ہوا تھا، اسی طرح جنگ خیبر میں اتنا مال غنیمت حاصل ہوا کہ بہت سے مسلمانوں نے پہلی بار سیر ہو کر کھانا کھایا، جو مولا علی ؑ کا عظیم کارنامہ تھا، اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مولا علی خشک روٹی پانی میں ڈبو کر کھاتے تھے، یہ ان کا تقویٰ اور للہیت تھی، ورنہ وہ سب کچھ رکھتے تھے اور اس بات کو ہر ایک تسلیم کرتا ہے کہ سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ آپ کی شادی مرضی خدا سے ہوئی، اگر علی نہ ہوتے تو سیدہ کا ہم کفو کوئی نہ ہوتا، اس سے بڑھ کے آپ کی کیا عظمت بیان ہو کہ کائنات کے رسول کی صاحبزادی کیلئے بڑے بڑے نامور صحابہ رشتہ لینے گئے مگر ناکام ہوئے جبکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ رشتہ آسمان پر طے ہوچکا تھا، نبی خدا نے مرضئی خدا کیمطابق آپ کا نکاح سیدہ کائنات سے پڑھایا۔
دنیا نے پھر وہ وقت دیکھا، جب آپ امت کے خلیفہ اور وقت کے امام تھے اور کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا ہوا تھا، انیسویں ماہ مبارک رمضان کی شب تھی، اہلبیت اطہار کے گھر میں یہ شب بھی شب عاشور کی طرح عجیب تھی، سپیدہ سحر ابھی نمودار نہیں ہوا تھا، امیرالمومنین علی ؑ ابن ابی طالب شب بھر عبادت و ریاضت میں مصروف رہے تھے، اس شب کی فجر کو کوفہ میں ایک قیامت برپا ہونے والی تھی، شائد اسی وجہ سے آسمان پر چمکتے ستارے بھی اپنی عمر کے اس آخری لمحات میں غمگین اور دکھی سے محسوس ہو رہے تھے، سرزمین کوفہ میں اہلبیت اطہارؑ کا گھرانہ جہان عالم کیلئے مرکز رشد و ہدایت کا ساماں کرتا تھا اور یہاں یتیمان و مساکین امت پیغمبر خدا کی امیدیں تھیں، جو پوری کی جاتی تھیں،
جس کے کردار سے اسلام میں قوت آئی
ہائے افسوس اسی گھر پہ مصیبت آئی
آج اس گھر میں عجیب اداسی چھائی ہوئی تھی، امیر المومنین نے اس شب اپنی دختر ام کلثوم کے ہاں افطار کیا تھا، بہت معمولی سا کھانا تناول فرما کر امیر المومنین ؑ اپنی عبادت میں مصروف ہوگئے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس شب حضرت علی (ع) دیگر شبوں سے زیادہ مطمئن نظر آرہے تھے، آپ کی حالت کے بارے تاریخ کی کتب میں لکھا ہے کہ کبھی آسمان کی جانب دیکھتے اور کہتے، خدا کی قسم میں جھوٹ نہیں کہہ رہا ہوں اور نہ ہی مجھ سے جھوٹ کہا گیا ہے، یقیناً آج کی شب وہی شب ہے کہ جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ علی ؑ جس نے بدر، احد، خندق، خیبر اور منافقین و مشرکین کے خلاف اپنی تلوار کے ایسے جوہر دکھائے تھے کہ تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے آج بھی قاصر ہے، شہادت جسے آپ نے کامیابی سے تعبیر کیا ہے، سے محروم تھے، مگر آپ سے اس کا وعدہ کیا گیا تھا، رسول خدا ؐنے آپ کو اس کی بشارت دی تھی اور آپ کو اس کا شدت سے انتظار بھی رہتا تھا، آج اس کا وقت آن پہنچا تھا۔
مسجد کوفہ نے کیا صبح قیامت دیکھی
شیر یزداں کے سر پاک پہ ضربت دیکھی
امیر المومنین حضرت علی ؑ انییسویں ماہ رمضان کو نماز صبح کی ادائیگی کے لئے مسجد کوفہ کی جانب گئے، جہاں اپنے وقت کا سب سے شقی ترین شخص ابن ملجم مرادی خارجی زہر میں بجھی تلوار لئے امام ؑ کی آمد کا منتظر تھا، تاکہ کائنات کی اس برترین شخصیت اور تاریخ انسانیت کے سب سے عظیم انسان کے فرق مبارک کو شگافتہ کرے۔ عبدالرحمان ابن ملجم ملعون نے انیسویں کی شب (فجر) میں آپ کے سر پر زہر میں بجھی تلوار سے ضربت لگائی اور دو روز تک موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد اکیس ماہ رمضان سن چالیس ہجری قمری کو آپ اپنی دیرینہ آرزو یعنی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ آپ کی زبان مبارک نے اس وقت یہی کلمات ادا کئے، فزت و رب الکعبہ(رب کعبہ کی قسم علی ؑ کامیاب ہوگیا) عربی قصیدہ جو حضرت محمد ابن ادریسؒ المشہور امام شافعی کا ہے۔ ان کے صرف دو تین اشعار درج کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
ا
ن کان حب الولی رفضا فانتی ارفضی اطحیادی
ترجمہ: اگر علی ؑ کی محبت رفض ہے تو پھر میں تمام بندگان خدا سے زیادہ رافضی ہوں
لو ان المرتضیٰ ایدی محلہ لکان الخلق طرا سجدا الٰہ
ترجمہ: اگر علی ؑ اپنے رتبے کو ہی اپنے پہ ظاہر کر دیتے تو مخلوق ان کو سجدہ کرنے لگتی
و مات الشافعی فلیسی یدری علی رب ام رب اللہ
ترجمہ: شافی اس جستجو میں مرگیا کہ علی ؑ اس کا خدا ہے یا رب اس کا خدا ہے۔
اور شاعر نے آپ کی زندگی کا احاطہ اس شعر میں خوب کیا ہے:
کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
جس دم آپ کے سر اقدس پر تلوار کا وار کیا گیا، اس وقت آپ ؑ نہایت ہی خضوع و خشوع کے عالم میں نماز صبح کی ادائیگی میں مشغول تھے اور اپنے خدا سے رازو نیاز کر رہے تھے، آپ کی خشوع و خضوع کا یہ عالم تو تاریخ نے لکھا ہے کہ جب آپ کے پاؤں میں ایک جنگ کے دوران تیر پیوست ہوگیا تو رسول خدا ؐ نے فرمایا کہ ابھی چھوڑ دو تکلیف ہوگی، جب نماز پڑھیں تو اس وقت نکال لینا، شائد اس انہماک اور خشوع و خضوع کا علم ابن ملجم اور اس کو بھیجنے والوں کو بھی بخوبی تھا، لہذا جیسے ہی آپ نے اپنا سر سجدہ معبود میں جھکایا تو شقی ابن ملجم نے اپنی تلوار اٹھائی اور اس فاتح بدر، خندق، خیبر و احد کے سر پر ضرب لگائی، کوئی بھی اس کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ کا مقابلہ سامنے آکر کرے، جس کی تلوار ذوالفقار کے کمالات کی دنیا معترف ہو، اس کا سامنا کرنے کی کس میں جرات تھی؟ امیر المومنین علی ؑ کی تلوار جس کا نام ذوالفقار تھا، کی چمک سے دشمنان اسلام کے دل لرز اٹھتے تھے۔
جس کی میراث میں اللہ کی تلوار بھی ہے
وہ محمد بھی ہے اور حیدر کرار بھی ہے
جب کوفہ میں آپ پر حملے کی خبر پھیلی تو ایسا ہی محسوس ہوا کہ اچانک زمین و آسمان میں تلاطم برپا ہوا اور اس تلخ واقعے سے خدا کے مومن بندوں کے دل غم و اندوہ سے لبریز ہوگئے۔ جبرئیل امین نے زمین و آسمان کے درمیان ندا دی۔ خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے۔ آسمان کے ستارے تاریک ہوگئے اور پرہیزگاری کی نشانیوں کا خاتمہ ہوگیا۔ خدا کی قسم ایمان و ہدایت کی مضبوط زنجیر ٹوٹ گئی۔ محمد ؐکے چچازاد بھائی اور ان کے وصی کی شہادت ہوگئی۔ ہاں اب ستاروں کی بینائی، علی ؑ کے عابدانہ آنسوؤں کا نظارہ نہیں کرسکیں گی اور آسمان کی سماعت ان کی عاشقانہ مناجات نہیں سن سکے گی، امت مسلمہ ان کے بلیغ خطبات سے محروم ہو جائے گی، اب کون دعویٰ سلونی کرے گا۔؟
یہی دعوائے سلونی میں جلی ہوتا ہے
یہی نقطہ ہے جو منبر پہ علی ہوتا ہے
امیرالمومنین علی علیہ السلام کو دنیا میں مجموعہ اضداد شخصیت کے طور پر پہچانا اور لکھا جاتا ہے، یعنی آپ ہی وہ شخصیت ہیں، جن میں بیک وقت ایک دوسرے کی ضد صفات پائی جاتی ہیں، کوئی اندازہ کرسکتا ہے کہ مصلٰی عبادت پر محو رہنے والا علی میدان کارزار کا شہسوار بھی
ہے، اس کی شجاعت و بہادری کا ڈنکا عالم عرب میں بجتا ہے اور اسے یہ کمال بھی حاصل ہے کہ اس کے خطبات اور اقوال ایسے فصیح و بلیغ ہوں کہ آج تک شیدائے علم و ادب انہیں ادب و زبان کی گہرائیوں کے عنوان دیتے ہیں اور اہل علم ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ آپ کی انہی بلند صفات و کمالات کی بدولت رسول خاتم صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم آپ کی بہت عزت کرتے تھے اور اپنے قول و فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے، لوگوں نے دیکھا کہ کبھی اللہ کے پیارے نبی یہ فرما رہے ہیں کہ “علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔” کبھی یہ فرمایا کہ “میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ کبھی یہ فرمایا کہ سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے۔
دوستو حق ہے کہو نفسِ نبی زندہ آباد
فیصلے جھوم کے کہتے ہیں علی زندہ آباد
کبھی یہ مژدہ سنایا کہ “علی کو مجھ سے وہی نسبت ہے، جو ہارون کو موسٰی سے تھی۔” کبھی یہ فرمایا: علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں امیر المومنین علی علیہ السلام کو نفسِ رسول کا خطاب ملا، مواخات مدینہ کے موقعہ پر جب مہاجرین و انصار میں بھائی کا رشتہ قائم کیا گیا تو امیر المومنین علی علیہ السلام کو پیغمبر نے اپنا بھائی قرار دیا اور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ایک لاکھ سے زائدحاجیوں کے مجمع میں علی علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں پر بلند کرکے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح میں تم سب کا مولا اور سرپرست ہوں، اسی طرح علی بھی تم سب کے مولا و سرپرست ہیں۔یہ بہت بڑا اعزاز ہے اور تمام مسلمانوں نے امیر المومنین علی علیہ السلام کو مبارک باد دی۔
کس نے یوں نفس نبی کی سند پائی ہے
دوستو حقِ خلافت کی یہ شہنائی ہے
آپ کی وصیت جسے امام حسن ؑ کے نام لکھا گیا ہے، اس کا مطالعہ ہر ایک کیلئے بہت ہی سود مند ہے، اس میں بھی امام ؑ نے وہ حقائق کھولے ہیں، جو واقعی ایک باپ کو اپنے فرزند اور اولاد کیلئے بیان کرنے اور متوجہ کرنے کی ضرورت رہتی ہے، صرف مختصر طور پر ایک پہرہ حاضر ہے۔ فرزند! یاد رکھو کہ میری بہترین وصیت جسے تمہیں اخذ کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور اس کے فرائض پر اکتفا کرو اور وہ تمام طریقے جن پر تمہارے باپ دادا اور تمہارے گھرانے کے نیک کردار افراد چلتے رہے ہیں، انہیں پر چلتے رہو کہ انہوں نے اپنے بارے میں کسی ایسی فکر کو نظرانداز نہیں کیا، جو تمہاری نظر میں ہے اور کسی خیال کو فرو گذاشت نہیں کیا ہے اور اسی فکرونظر نے ہی انہیں اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ معروف چیزوں کو حاصل کر لیں اور لایعنی چیزوں سے پرہیز کریں۔ اب اگر تمہارا نفس ان چیزوں کو بغیر جانے پہچانے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو پھر اس کی تحقیق باقاعدہ علم و فہم کے ساتھ ہونی چاہیے اور شبہات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور نہ جھگڑوں کا شکار ہونا چاہیے اور ان مسائل میں نظر کرنے سے پہلے اپنے پروردگار سے مدد طلب کرو اور توفیق کے لئے اس کی طرف توجہ کرو اور ہر اس شائبہ کو چھوڑ دو، جو کسی شبہ میں ڈال دے یا کسی گمراہی کے حوالے کر دے۔ پھر اگر تمہیں اطمینان ہو جائے کہ تمہارا دل صاف اور خاشع ہوگیا ہے اور تمہاری رائے تام و کامل ہوگئی ہے اور تمہارے پاس صرف
یہی ایک فکر رہ گئی ہے تو جن باتوں کو میں نے واضح کیا ہے، ان میں غور و فکر کرنا، ورنہ اگر حسب منشاء فکرونظر کا فراغ حاصل نہیں ہوا ہے تو یاد رکھو کہ اس طرف صرف شب کور اونٹنی کی طرح ہاتھ پیر مارتے رہو گے اور اندھیرے میں بھٹکتے رہوگے اور دین کا طلبگار وہ نہیں ہے، جواندھیروں میں ہاتھ پاؤں مارے اور باتوں کو مخلوط کر دے۔ اپنے آپ کو اندھیروں میں منجمد کرنے سے بہتر ہے کہ در علم سے علم حاصل کرئے ۔۔۔۔۔اور عہد کرئے کہ اپنی نسلوں کو اعلی تعلیم کے زیور سےآرستہ کرئے۔۔۔۔۔اور اعلی سے اعلی عہدے پر فائز ہو کر دیں حقہ کی تبلیغ کرئے۔ ہمت اور کردارعم کرنے سے قومیں بنتی ہیں۔۔۔
لازم ہے زندگی کے لئے آسرا ملے
کہتی ہیں مشکلیں کوئی مشکل کُشاء ملے
التماس دُعا ۔۔۔۔۔
………………………….
رحلت پیغمبر اکرمؐ کے بعدان کی آل سے اُمت رسول کا سلوک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنہ 11 ہجری میں آنحضرت ؐ نے وفات پائی۔ شیعوں کے مطابق، حضرت علی رحلت پیغمبر کے بعد 24 سال کی عمر میں امامت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ امام علی آنحضرت کی تکفین و تجہیز میں مشغول تھے کہ ایک گروہ نے سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنا دیا۔ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بعد ابتداء میں حضرت علی نے ان کی بیعت نہیں کی لیکن بعد میں آخرکار بیعت کر لی۔ شیعوں کا ماننا ہے کہ یہ بیعت اجباری تھی اور شیخ مفید کا ماننا ہے کہ امام علی نے ہرگز بیعت نہیں کی۔شیعوں کے مطابق، خلیفہ کے ساتھیوں نے امام علی سے بیعت لینے کے لئے ان کے گھر پر حملہ کیا جس میں حضرت فاطمہ زخمی ہوئیں اور ان حمل ساقط ہو گیا۔ اسی زمانہ میں حضرت ابوبکر نے باغ فدک کو غصب کر لیااور حضرت ان کا حق لینے کے لئے اٹھے۔ حضرت فاطمہ گھر پر ہونے والے حملے کے بعد مریض ہو گئیں اور کچھ عرصہ کے بعد سنہ 11 ہجری میں شہید ہو گئیں۔
سنہ 13 ہجری میں حضرت ابوبکر کی وفات ہوئی۔ان کی وصیت کے مطابق عمر بن خطاب خلیفہ بنے۔سنہ 14 ہجری محرم میں حضرت عمر ساسانیوں سے جنگ کے لئے مدینہ سے خارج ہوئے اور صرار نامی مقام پر پڑاو ڈالا۔ انہوں نے امام علی کو مدینہ میں اپنی جگہ قرار دیا تا کہ وہ خود اس جنگ کی فرماندہی اپنے ذمے لیں۔ لیکن بعض صحابہ و امام علی سے مشورہ کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور سعد بن ابی وقاص کو جنگ کے لئے بھیجا۔معادی خواہ نے ابن اثیر سے منقول قول سے استناد کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ دوسری خلافت کے زمانہ میں اس کے ابتدائی سالوں کے بعد سے منصب قضاوت کے مالک تھے۔سنہ 16 ہجری یا سنہ 17 ہجری میں امام علی کے مشورے کو حضرت عمر نے قبول کرکے پیغمبر کی مدینہ ہجرت کو اسلامی تاریخ کا مبداء قرار دیا۔ سنہ 17 ہجریمیں عمر فتح بیت المقدس کے لئے شام روانہ ہو گئے اور امام علی کو مدینہ میں اپنا جانشین قرار دیا۔ اسی سالعمر نے اصرار اور دھمکی سے علی و فاطمہ کی بیٹی ام کلثوم سے شادی کی۔سنہ 18 ہجری میں ایک بار پھر عمر نے شام کے سفر میں امام علی کو مدینہ میں اپنا جانشین معین کیا۔عمر نے حملے کے بعد اور مرنے سے پہلے سنہ 23 ہجری میں اپنے بعد خلافت کے لئے 6 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔جس میں حضرت بھی شامل تھے۔اس میں انہوں نے عبد الرحمن بن عوف کو تعیین کنندہ شخص کا درجہ دیا۔ عبد الرحمن نے پہلے امام علی سے چاہا کہ کتاب خدا و سنت پیغمبر و سیرت شیخین پر عمل کی شرط پر خلافت کو قبول کر لیں لیکن آپ نے سیرت شیخین کو قبول نہیں کیا اور جواب دیا کہ میں اپنے علم و استعداد و اجتہاد سے کتاب خدا و سنت پیغمبر پر عمل کروں گا۔اس کے بعد عبد الرحمن نے عثمان کو ان شرطوں کے ساتھ خلافت کی دعوت دی انہوں نے قبول کر لیا تو انہیں خلافت مل گئی۔
معادی خواہ ابن جوزی کی کتاب المنتظم سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں: حضرت علی سنہ 24 ہجری میں بھی قضاوت کے منصب پر فائز تھے۔ سنہ 25 ہجری میں حضرت عثمان نے قرآن کی جمع آوری و تدوین کا حکم دیا۔سیوطی نے امام علی سے نقل کیا ہے کہ تدوین و جمع آوری قرآن کا کام ان کے مشورہ پر انجام دیا گیا ہے۔سنہ 26 ہجری میں آپ کے پانچویں فرزند عباس بن علی کی ولادت ہوئی سنہ 35 ہجری میں مدینہ میں لوگوں نے ناراض ہو کر عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔امام علی محاصرہ کے وقت مدینہ میں نہیں تھے۔معادی خواہ نے اس سفر کو ینبع کی طرف ذکر کیا ہے جو حضرت عثمان کی خواہش پر ہوا تھا۔اہل سنت مصادر کے مطابق امام علی نے حسنین کو خلیفہ کی حفاظت پر مامور کیا تھالیکن آخرکار شورشیوں نے انہیں قتل کر ڈالا اور ان کے قتل کے بعد لوگوں نے حضرت علی کا رخ کیا تا کہ وہ خلافت کو قبول کر لیں۔
دوران حکومت
حضرت علی ماہ ذی الحجہ سنہ 35 ہجری میں قتل عثمان کے بعد خلیفہ بنے۔ثمان کے بعض قریبیوں اور بعض اصحاب پیغمبر جنہیں قاعدین کہا جاتا ہے،کے علاوہ مدینہ میں موجود تمام صحابہ نے آپ کی بیعت کی۔ آپ نے اپنی خلافت کے دو دن بعد اپنے اولین خطبے میں عثمان کے زمانہ مین ناحق قبضہ کئے گئے اموالکو واپس کرنے اور بیت المال کی عادلانہ تقسیم کا حکم دیا۔ سنہ 36 ہجری میں طلحہ و زبیر نے آپ کی بیعت کو توڑ دیا اور مکہ میں عائشہ کے ساتھ ملحق ہو گئےجو خون عثمان کا انتقام لینے کے لئے اٹھی تھیں، اس کے بعد انہوں نے بصرہ کی سمت حرکت کی۔اس طرح جنگ جمل، آپ سے ہونے والیاور مسلمانوں کی پہلی داخلی جنگ ہوئی جو امام علی و ناکیثن (بیعت توڑنے والے) کے درمیان بصرہ میں ہوئی۔طلحہو زبیراس جنگ میں مارے گئے اور عائشہ کو مدینہ واپس بھیج دیا گیا۔آپ پہلے بصرہ گئے اور آپ نے وہاں عمومی معافی کا اعلان کیا اور رجب سنہ 36 ہجری میں کوفہ گئے اور اسے مرکز خلافت قرار دیا۔اسی سال امام نے معاویہ کو بیعت حکم دیا اس کے انکار کے بعد آپ نے اسے شام کی حکومت سے معزول کر دیا۔ماہ شوال سنہ 36 ہجری میں آپ نے شام پر لشکر کشی کی۔ صفین کے علاقہ میں جنگ صفین سنہ 36 ھ کے اواخر اور سنہ 37 ہجری کے اوائل میں واقع ہوئی۔ معادی خواہ کا ماننا ہے کہ ماہ صفر سنہ 37 ھ کے برخلاف جسے طبری و ابن اثیر نے ذکر کیا ہے، اوج جنگ سنہ 38 ہجری میں ہوئی ہے۔ جب امام علی کی فوج جنگ جیت رہی تھیتو معاویہ کی فوج نے عمرو عاص کی چال سے قرآن کو نیزوں پر بلند کر دیا تا کہ وہ ان کے درمیان حکم کرے۔ امام نے مجبوری میں اپنی فوج کے باغیوں کے فشار کے تحت حکمیت کو قبول کر لیا اور ان کے اجبار کی وجہ سے ابو موسی اشعری کو حکم قرار دیا۔لیکن حکمیت کو قبول کرنے کے کچھ ہی دیر بعد امام پر نئے اعتراضات ہونے لگے۔[134] بعض لوگوں نے سورہ مائدہ کی آیت 44 و سورہ حجرات کی آیت 9 سے استدلال کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا اور حکمیت قبول کرنے کو کفر مانتے ہوئے اس سے توبہ کیا۔تعجب کی بات یہ تھی کہ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے کچھ دیر پہلے امام کو حکمیت کے لئے مجبور کیا تھا۔ انہوں نے امام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کفر سے توبہ کریں اور معاویہ کے ساتھ ہوئے وعدہ کو نقض کریں۔ لیکن امام نے نقض حکمیت کو قبول نہیں کیااور کہا حکمین کے قرآن کے مطابق حکم نہ کرنے صورت میں جنگ جاری رکھی جا سکتی ہے۔
حکمیت کے وقت ابو موسی اشعری نے امام علی و معاویہ دونوں کو خلافت سے معزول کر دیا۔ نگاه کریں: ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغة، 1385ق، ج2، ص255. اس کے بعد عمرو عاص نے معاویہ کو خلافت پر باقی رکھا۔حکمیت کے بعد امام کے ماننے والوں میں سے ایک گروہ نے اس بات کی مخالفت کی اور اسے دین سے برگشت سے تعبیر کرتے ہوئے ایمان میں شک کیا۔ اس دوران ایک گروہ جو خوارج کی بنیادی افراد میں سے تھے انہوں نے قبول حکمیت کو کفر کہا اور وہ سپاہ امام سے جدا ہو گئے اور کوفہ کے بجائے حرورا چلے گئے۔
خوارج کے اعتراضات صفین کے 6 ماہ بعد تک جاری رہے۔ اسی وجہ سے امام نے عبد اللہ بن عباس اور صعصعہ بن صوحان کو ان کے پاس گفتگو کے لئے بھیجا لیکن ان لوگوں نے ان دونوں کی بات نہیں سنی اور لشکر میں واپس آنے کے لئے آمادہ نہیں ہوئے۔ اس کے بعد امام نے ان سے کہا کہ وہ بارہ افراد کا انتخاب کر لیں اور امام بھی بارہ افراد کے ہمراہ ان سے گفتگو کے لئے بیٹھے۔ امام نے ان کے سرداروں کے خطوط بھی لکھے اور انہیں دعوت دی کہ وہ مومنین کی طرف لوٹ آئیں لیکن عبد اللہ بن وہب نے صفین کا تذکرہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ علی دین سے خارج ہو چکے ہیں انہیں توبہ کرنا چاہئے۔ اس کے بعد بھی امام نے بارہا قیس بن سعد و ابو ایوب انصاری جیسے افراد کو ان کے پاس بھیجتے رہے، انہیں اپنی طرف بلاتے رہے اور انہیں امان بھی دیور جب ان کے تسلیم ہونے سے مایوس ہو گئے تو ٓآپ نے چودہ ہزار کے لشکر کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ آپ نے تاکید کہ کوئی بھی جنگ شروع نہیں کرے گا اور آخر میں نہروان والوں نے جنگ شروع کی۔ٓغاز جنگ کے ساتھ ہی نہایت سرعت سے تمام خوارج قتل یا زخمی ہوگئے، زخمیوں میں سے چار سو افراد کو ان کے گھر والوں کے حوالے کیا گیا۔ امام کے لشکر میں سے دس سے بھی کم افراد شہید ہوئے۔ نہروان میں خوارج میں سے دس سے کم افراد فرار ہونے میں کامیاب رہے ان میں سے ایک عبد الرحمن بن ملجم مرادی، قاتل امام بھی تھا۔ ابن ملجم مرادی نے آپ کو 19 رمضان سنہ 40 ہجری فجر کے وقت کوفہ میں اپنی شمشیر سے زخمی کیا اور آپ اس کے دو روز بعد 21 رمضان میں 63 برس کی عمر میں شہید ہوئے اور مخفیانہ طور پر دفن ہوئ
ازواج و اولاد
حضرت فاطمہ زہرا کے ہمراہ شادی
اصلی مقالہ: ازدواج حضرت علی و فاطمہ
امام علیؑ کی پہلی زوجہ رسول اللہؐ کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراءؑ تھیں۔علیؑ سے پہلے ابوبکر، عمر بن خطاب اور عبد الرحمن بن عوف نے بنت رسولؐ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تاہم رسول اللہؐ اس بارے میں وحی الہی کے منتظر تھے۔ حضرت فاطمہ کے ساتھ حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کی شادی کی تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے: بعض کا کہنا ہے کہ یہ شادی اول ذی الحجہ سنہ 2 ہجری کو ہوئی ، بعض کے مطابق شوال میں ہوئی اور بعض دیگر نے 21 محرم میں قرار دی ہے۔حضرت علی و فاطمہ کے پانچ بچے ہیں: حسن، حسین، زینب، ام کلثوم و محسن جو ولادت سے پہلے سقط ہوئے۔
دیگر ازواج
آپ نے حضرت زہرا کی حیات میں کوئی شادی نہیں کی۔ ان کی شہادت کے بعد آپ نے شادیاں کیں جن میں:
امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کے ساتھ شادی۔ امامہ کی والدہ رسول اللہؐ کی بیٹی زینب بنت محمدؐ تھیں۔
ام البنین فاطمہ بنت حزام بن دارم کلابیہ، دوسری خاتون تھیں جو امیرالمؤمنینؑ کے حبالہ نکاح میں آئیں اور حضرت عباسؑ، عثمان، جعفر اور عبد اللہ آپ کے بیٹے ہیں اور سب کربلا میں شہید ہوئے۔
لیلا بنت مسعود بن خالد
اسماء بنت عمیس
ام حبیب بنت ربیعہ تغلبیہ (الصہبا کے نام سے مشہور)
خولہ بنت جعفر بن قیس حنفیہ محمد بن حنفیہ بن علیؑ ان ہی کے فرزند ہیں۔
ام سعید بنت عروہ بن مسعود ثقفی اور مُحیّاة بنت إمرئ القیس بن عدی کلبی شامل ہیں۔
اولاد
شیخ مفید نے الارشاد میں آپ کی اولاد کی تعداد 27 ذکر کی ہے۔ ان کی تعداد محسن جو شکم می شہید ہوئے، ان کے ہمراہ 28 ہوتی ہے۔ یہاں آپ کی اولاد کا تذکرہ ان کی والدہ کے نام کے ساتھ کیا جا رہا ہے:
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
زمانہ پیمبرؐ اور علی ابن ابیطالب کی حیات کے غزوات اور جنگیں
غزوات
امام علیؑ نے اسلام کے غزوات اور سرایا میں مؤثر کردار ادا کیا۔ غزوہ تبوک کے سوا تمام غزوات میں رسول اللہؐ کے ساتھ دشمنان اسلام کے خلاف لڑے۔ آپ بہت سی جنگوں میں سپاہ اسلام کے اصلی سپہ سالار رہے اور جیسے جنگ میں بہت مسلمان فرار اختیار کرتے تھے وہ کبھی فرار نہیں ہوئے اور ہمیشہ آنحضرت ؐ کے ساتھ رہے اور جنگ کرتے رہے۔
جنگ بدر
جنگ بدر یا غزوہ بدر مسلمانوں اور کفار کے درمیان پہلی جنگ تھی جو بروز جمعہ 17 رمضان المبارک سنہ 2 ہجری کو بدر کے کنوؤں کے کنارے واقع ہوئی۔اس جنگ میں ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ جیسے قریش کے بزرگ قتل ہوئے۔
علیؑ نے ولید بن عتبہ بن ربیعہ کو قتل کیا۔اس جنگ میں نوفل بن خویلد جس پر آنحضرت نے نفرین کی تھی، حضرت کے ہاتھوں مارا گیا۔ ان کے علاوہ دیگر بیس افراد آپ کے ہاتھوں قتل ہوئے جن میں حنظلہ بن ابو سفیان و عاص بن سعید شامل ہیں۔بعد امام علی نے معاویہ کو ایک خط میں لکھا: ابھی بھی وہ شمشیر جس سے تمہارے جد (عتبہ ہندہ کا باپ)، ماموں (ولید عتبہ کا بیٹا) اور بھائی (حنظلہ بن ابی سفیان) کو قتل کیا تھا، میرے پاس ہے۔

جنگ احد
جنگ احد میں مشرکین کے غلبہ کے بعد بہت سے مسلمانوں نے میدان جنگ سے فرار اختیار کی اور پیغمبر ؐ کو تنہا چھوڑ دیا۔ حضرت علی و بعض دیگر افراد موجود رہے اور انہوں نے آنحضرت کا دفاع کیا۔[171] خود علیؑ نے اس واقعہ کو اس طرح نقل کیا ہے مہاجرین و انصار نے اپنے گھروں کی طرف راہ فرار اختیار کی۔ لیکن میں نے جبکہ میرے جسم پر ستر زخم تھے، رسول خدا ؐ کا دفاع کیا۔[172]
شیعہ[173] و اہل سنت[174] مصادر کے مطابق، امام علیؑ اس جان نثاری کے صلے میں جبرائیل نازل ہوئے اور رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر علیؑ کے ایثار کی تعریف و تمجید کی اور عرض کیا: یہ ایثار اور قربانی کی انتہا ہے جو وہ دکھا رہے ہیں۔ رسول خداؐ نے تصدیق کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّہ ُ مِنِّي وَأَنَا مِنْہ(وہ مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں) اس کے بعد ایک ندا آسمان سے سنائی دی: لا سیف الا ذوالفقار و لا فتٰی الا علی۔ (ترجمہ: ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں اور علی کے سوا کوئی جوان نہیں ہے)۔
جنگ خندق (احزاب)
جنگ خندق میں رسول اللہؐ نے اصحاب کے ساتھ مشورہ کیا تو سلمان فارسی نے رائے دی کہ مدینہ کے اطراف میں ایک خندق کھودی جائے جو حملہ آوروں اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہو۔کئی دن تک لشکر اسلام اور لشکر کفر خندق کے دو کناروں پر آمنے سامنے رہے اور کبھی کبھی ایک دوسرے کی طرف تیر یا پتھر پھینکتے تھے؛ بالآخر لشکر کفار سے عمرو بن عبدود اور اس کے چند ساتھی خندق کے سب سے تنگ حصے سے گذر کر دوسری طرف مسلمانوں کے سامنے آنے میں کامیاب ہوئے۔ علیؑ نے رسول خداؐ سے درخواست کی کہ انہیں عمرو کا مقابلہ کرنے کا اذن دیں اور آپؐ نے اذن دے دیا۔ علیؑ نے عمرو کو زمین پر گرا کر ہلاک کردیا۔جب علیؑ عمرو کا سر لے کر رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: ضَربَةُ عَليٍ يَومَ الخَندَقِ اَفضَلُ مِن عِبادَةِ الثَّقَلَینِ۔ (ترجمہ: روز خندق علیؑ کا ایک وار جن و انس کی عبادت سے افضل ہے)۔
جنگ خیبر
جنگ خیبر جمادی الاولی سنہ 7 ہجری میں واقع ہوئی جب رسول اللہؐ نے یہودیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے قلعوں پر حملہ کرنے کا فرمان جاری کیا۔[178]اور جب ابوبکر اور عمر جیسے متعدد افراد یہودی قلعوں کی تسخیر کے مشن میں ناکام رہے تو رسول خداؐ نے فرمایا: لأعطين الراية رجلا يحب اللہ ورسولہ أو يحبہ اللہ ورسولہ میں کل پرچم ایسے فرد کے سپرد کر رہا ہوں جو خدا اور اس کے رسولؐ کو دوست رکھتا ہے اور خدا اور اس کا رسول بھی اسے دوست رکھتے ہیں۔صبح کے وقت رسول اللہؐ نے علیؑ کو بلایا اور پرچم ان کے سپرد کیا۔ شیخ مفید کے نقل کے مطابق، علیؑ اپنی ذوالفقار لے کر میدان جنگ میں اترے اور جب ڈھال ہاتھ سے گر گئی تو آپ نے ایک قلعے کا دروازہ اکھاڑ کر اسے ڈھال قرار دیا اور جنگ کے آخر تک اسے ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
فتح مکہ
رسول خداؐ ماہ مبارک رمضان سنہ 8 ہجری کو فتح مکہ کی غرض سے مدینہ سے خارج ہوئے۔مکہ میں داخل ہونے سے پہلے لشکر اسلام کا پرچم سعد بن عبادہ کے ہاتھ میں تھا لیکن سعد نے جنگ، خون ریزی اور انتقام جوئی کے بارے میں باتیں کیں۔ پیغمبرؐ اسلام کو جب انکا پتہ چلا تو آپ نے امام علیؑ کو کہا کہ اس سے تم پرچم لے لو۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہؐ کی ہدایت پر تمام بتوں کو توڑ دیا گیا اور آپؐ کی ہدایت پر علیؑ نے آپؐ کے دوش پر کھڑے ہو کر بتوں کو توڑا۔ امام علیؑ نے خزاعہ کے بت کو کعبہ کے اوپر سے نیچے گرا دیا اور مستحکم بتوں کو زمین سے اکھاڑ کر زمین پر پھینک دیا۔
جنگ حنین
جنگ حنین سنہ 8 ہجری میں واقع ہوئی۔ اس میں مہاجرین کا پرچم امام علی کے ہاتھوں میں تھا۔ اس جنگ میں مشرکین کے اچانک حملے کے بعد مسلمانوں نے فرار اختیار کی۔ صرف و جند دیگر افراد ثابت قدم رہے اور انہوں نے آنحضرت کا دفاع کیا۔ غزوہ کا سبب یہ تھا کہ قبیلہ ہواز اور قبیلہ ثقیف کے اشراف نے فتح مکہ کے بعد رسول اللہؐ کی طرف اپنے خلاف جنگ کے آغاز کے خوف سے حفظ ما تقدم کے تحت مسلمانوں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جنگ تبوک
وہ واحد غزوہ جس میں علیؑ نے رسول اللہؐ کے ساتھ شرکت نہیں کی وہ غزوہ تبوک تھا۔ علیؑ رسول اللہؐ کی ہدایت پر مدینہ میں ٹہرے تاکہ آپؐ کی غیر موجودگی میں مسلمانوں اور اسلام کو منافقین کی سازشوں سے محفوظ رکھیں۔ علیؑ کے مدینہ میں ٹھہرنے کے بعد منافقین نے علی کے خلاف تشہیری مہم کا آغاز کیا اور علیؑ نے فتنے کی آگ بجھانے کی غرض سے اپنا اسلحہ اٹھایا اور مدینے سے باہر رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور منافقین کی تشہیری مہم کی اطلاع دی۔ یہی وہ موقع تھا جب رسول اللہؐ نے حدیث منزلت فرمائی کہ: “میرے بھائی علی! مدینہ لوٹو، کیونکہ وہاں کے معاملات سلجھانے کے لئے تمہارے اور میرے بغیر کسی میں اہلیت نہیں ہے۔ پس تم میرے اہل بیت اور میرے گھر اور میری قوم کے اندر میرے جانشین ہو! کہ تم خوشنود نہیں ہو کہ تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہے جو موسی سے ہارون کی تھی، سوا اس کے میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا”۔
سرایا
سریہ علی بن ابی طالبؑ فدک، بنی سعد سے مقابلہ شعبان سنہ 6 ہجری
سریہ علی بن أبی طالبؑ قبیلہ بنی طی میں بت خانہ فلس کی تخریب کے لئے۔ ربیع الثانی سنہ 9 ہجری
سریہ علی بن أبی طالبؑ یمن رمضان سنہ 10 ہجری
یمن کی ذمہ داری
آنحضرت نے فتح مکہ اور جنگ حنین میں کامیابی کے بعد سنہ 8 ہجری میں اپنی دعوت میں وسعت دی۔ اسی سلسلہ میں معاذ بن جبل کو یمن بھیجا۔ وہ بعض مسائل کے حل میں ناکام رہے اور واپس آ گئے۔ اس کے بعد آپ نے خالد بن ولید کو بھیجا۔ ان سے مسئلہ حل نہیں ہوا اور 6 کے بعد وہ بھی واپس آ گئے۔ تب آنحضرت نے امام علی کو بلایا اور انہیں اپنے خط کے ہمراہ یمن روانہ کیا۔ امام نے اہل یمن کو آنحضرت کا خط پڑھ کر سنایا اور انہیں توحید کی دعوت دی۔ امام کی کوششوں سے قبیلہ ہمدان مسلمان ہو گیا۔ امام نے ان کے اسلام لانے کی خبر آنحضرت ؐ کو بھیجی۔ آپ خوش ہوئے اور ہمدانیوں کو دعائیں دی۔ایک دوسری گزارش میں قبیلہ مذحج کے ساتھ امام علی کی جنگ کا ذکر ہوا ہے۔ اس گزارش کے مطابق، امام ان کی سر زمین کی طرف گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے قبول نہیں کیا اور جنگ کے لئے آمادہ ہو گئے تو آپ نے ان سے جنگ کی اور ان کے فرار اختیار کرنے کے بعد انہیں دوبارہ اسلام کی دعوت دی، غنائم جنگ کو جمع کیا اور نجران کے صدقات کے ساتھ حج کے موسم میں سب آنحضرت کے حوالے کیا۔آنحضرت نے یمن کی قضاوت بھی امام کے حوالے کی اور اس میں استواری کے لئے ان کے حق میں دعا فرمائی۔ تاریخی مصادر میں وہاں قضاوت کے بعض نمونے ذکر ہوئے ہیں۔
جنگیں
جنگ جمل (ناکثین)
جنگ جمل امام علیؑ کی پہلی جنگ تھی جو آپ اور ناکثین کے درمیان واقع ہوئی۔ نکث بمعنی نقض اور توڑنا، اور چونکہ طلحہ و زبیر اور اور ان کے پیروکاروں نے ابتدا میں امام علیؑ کی بیعت کی تھی جو بالآخر انہوں نے توڑ دی چنانچہ انہیں ناکثین اور عہد شکنوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔یہ جنگ جمادی الثانی سنہ 36 ہجری میں لڑی گئی۔طلحہ اور زبیر جو قتل عثمان کے بعد ابتدا میں خلافت پر نظریں جمائے ہوئے تھے جب ناکام ہوئے اور خلافت امام علیؑ کو ملی تو انہیں توقع تھی کہ علیؑ کے ساتھ خلافت میں شریک ہو جائیں گے۔ ان دونوں نے آکر آپ سے بصرہ اور کوفہ کی ولایت مانگی، لیکن علیؑ نے انہیں اس کام کے لئے اہل قرار نہیں دیا۔ جبکہ وہ دونوں قتل عثمان کے اصل ملزم تھے اور عوام کے درمیان کوئی بھی طلحہ جتنا قتل عثمان کا خواہاں نہ تھا، وہ دونوں اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لئے عائشہ سے جا ملے؛ حالانکہ عائشہ نے عثمان کے محاصرے کے وقت نہ صرف ان کی مدد نہیں کی تھی بلکہ موقف اختیار کیا تھا کہ عثمان کو گھیرنے والے حق طلب ہیں۔ لیکن جب انہیں خبر ملی کہ لوگوں نے علیؑ کی بیعت کی ہے تو کہنے لگیں کہ “عثمان کو ظلم کرکے قتل کیا گیا ہے اور اس کے بعد انہوں نے عثمان کے قتل کے سلسلے میں انصاف مانگنا شروع کیا!۔ عائشہ اس سے پیشتر علیؑ کے لئے عداوت یا عدواتیں دل میں رکھے ہوئی تھیں اسی وجہ سے انہوں نے طلحہ اور زبیر کا ساتھ دیا۔چنانچہ ان تین افراد نے تین ہزار افراد پر مشتمل لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔اس جنگ میں عائشہ عسکر نامی اونٹ (جمل) پر سوار ہوئی تھیں اسی وجہ سے اس جنگ کو جنگ جمل کا نام دیا گیا۔
امام علیؑ نے بصرہ پہنچ کر سب سے پہلے عہد شکن باغیوں کو نصیحت کی اور یوں جنگ کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن باغیوں نے امامؑ کے ایک ساتھی کو قتل کرکے جنگ کا آغاز کیاتاہم زبیر نے جنگ شروع ہونے سے قبل ہی لشکر سے کنارہ کشی اختیار کی جس کا سبب یہ تھا کہ علیؑ نے اسے وہ حدیث یاد دلائی کہ جب رسول اللہؐ نے زبیر سے کہا تھا کہ ایک دن تم علیؑ کے خلاف بغاوت کرو گے۔ زبیر جنگ سے دستبردار ہونے کے بعد بصرہ کے باہر ایک تمیمی مرد عمرو بن جرموز کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اصحاب جمل نے چند گھنٹوں کی مختصر جنگ میں بڑا جانی نقصان اٹھا کر شکست کھائی اس جنگ میں طلحہ (اپنے لشکر میں شامل مروان) کے ہاتھوں مارا گیا اور عائشہ کو عزت و احترام کے ساتھ مدینہ لوٹا دیا گیا۔[231]
جنگ صفین (قاسطین)
جنگ صفین امام علیؑ اور قاسطین (معاویہ اور اس کی سپاہ)کے درمیان صفر المظفر سنہ 37 ہجری کو شام میں دریائے فرات کے قریب صفین نامی مقام پر لڑی گئی اور اس کا اختتام اُس حَکَمیت پر ہوا جو رمضان سنہ 38 ہجری میں انجام پائی۔ عثمان کو مسلمانوں نے گھیرے میں لیا تو معاویہ ان کی مدد کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ انہیں دمشق منتقل کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ وہاں امور مملکت کی باگ ڈور خود سنبھال لے۔ اس نے قتل عثمان کے بعد شامیوں کے درمیان علیؑ کو ان کے قاتل کے طور پر پہجان کرانے کی کوشش کی۔ امامؑ نے اپنی حکومت کے آغاز پر معاویہ کو خط لکھا اور اس کو بیعت کرنے کا کہا لیکن اس نے حیلوں بہانوں سے کام لیا اور کہا کہ “پہلے عثمان کے ان قاتلوں کو میرے حوالے کریں جو آپ کے پاس موجود ہیں تا کہ میں ان سے قصاص لوں اور اگر آپ نے ایسا کیا تو میں بیعت کروں گا۔ امامؑ نے معاویہ کے ساتھ خط و کتابت کی اور اپنا نمائندہ بھیجا اور جب آپ کو معلوم ہوا کہ معاویہ جنگ چاہتا ہے تو آپ نے اپنا لشکر لے کر شام کی جانب رخ کیا۔ ادھر معاویہ بھی اپنا لشکر لے کر روانہ ہوا اور دونوں لشکروں کا سامنا صفین کے مقام پر ہوا۔ امام علیؑ کی کوشش تھی کہ جہاں تک ممکن ہو یہ مسئلہ جنگ پر ختم نہ ہو۔ لہذا آپ نے پھر بھی خطوط روانہ کئے جن سے کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا اور آخر کار سنہ 36 ہجری میں جنگ کا آغاز ہوا۔
سپاہ علیؑ کا آخری حملہ شروع ہوا اور اگر جاری رہتا تو علوی سپاہ کی کامیابی یقینی تھی لیکن معاویہ نے عمرو بن عاص کے ساتھ مشورہ کرکے ایک مکارانہ چال چلی اور حکم دیا کہ لشکر کے پاس قرآن کے جتنے بھی نسخے ہیں انہيں نیزوں پر اٹھائیں اور سپاہ علیؑ کے سامنے جائيں اور انہيں قرآن کے فیصلے کی طرف بلائیں۔ یہ بہانہ کار گر ہوا اور سپاہ علیؑ میں قاریوں کی جماعت علیؑ کے پاس آئی اور اور کہا: ہمیں کوئی حق نہيں ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ لڑیں چنانچہ وہ جو کہتے ہیں وہی ہمیں قبول کرنا پڑے گا۔علیؑ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک چال ہے جس کے ذریعے وہ ہاری ہوئی جنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن بے سود۔
امامؑ نے مجبور ہوکر معاویہ کے نام ایک خط کے ضمن میں لکھا: ہم جانتے ہیں کہ تمہارا قرآن سے کوئی تعلق نہيں ہے تاہم ہم قرآن کی حکمیت (یا قرآنی فیصلہ) قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔طے یہ پایا کہ ایک فرد سپاہ شام کی طرف سے آ جائے اور ایک فرد سپاہ عراق کی طرف سے اور وہ دونوں بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ اس موضوع میں قرآن کا حکم کیا ہے۔ شامیوں نے عمرو بن عاص کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا اور اشعث اور بعد میں خوارج کے مسلک میں شامل ہونے والے کئی دیگر افراد نے ابو موسی اشعری کا نام تجویز کیا۔ امام علیؑ نے عبداللہ بن عباس یا مالک اشتر کے نام تجویز کئے لیکن اشعث اور اس کے گروہ نے کہا کہ چونکہ مالک اشتر جنگ جاری رکھنے پر یقین رکھتے ہیں اور عبداللہ بن عباس کو ہونا ہی نہیں چاہئے اور چونکہ عمرو بن عاص مصر سے ہے اسی لئے دوسرے فریق کا نمائندہ یمنى ہونا چاہئے!۔آخر کار عمرو بن عاص نے ابو موسی اشعری کو دھوکہ دیا اور بظاہر قرآنی حَکَمِیت کو معاویہ کے مفاد میں ختم کردیا۔
جنگ نہروان (مارقین)
جنگ صفین میں حَکَمِیت کے نتیجے میں امامؑ کے بعض ساتھیوں نے احتجاج کیا اور آپ سے کہنے لگے: آپ نے خدا کے کام میں کسی کو فیصلہ کرنے کی اجازت کیوں دی؟ حالانکہ امام علیؑ شروع سے ہی حَکَمِیت کی مخالفت کر رہے تھے اور ان ہی لوگوں نے امامؑ کو اس کام پر مجبور کیا تھا لیکن بہر صورت انہوں نے امامؑ کو کافر قرار دیا اور آپ پر لعن کرنے لگے۔
یہ لوگ خوارج یا مارقین کہلائے جنہوں نے آخر کار لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ انہوں نے صحابی رسول خداؐ کے فرزند عبداللہ بن خباب کو قتل کیا اور اس کی بیوی کا پیٹ چیر کر اس میں موجود بچے کو بھی قتل کیا۔چنانچہ امامؑ نے مجبورا جنگ کا فیصلہ کیا۔ آپ نے ابتدا میں عبداللہ بن عباس کو بات چیت کی غرض سے ان کے پاس بھیجا اور بات چیت ہوئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے بہت سے تو اپنی رائے سے دستبردار ہوئے لیکن بہت سے رہ گئے۔ آخر کا نہروان کے مقام پر جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں امامؑ کے لشکر سے 7 یا 9 افراد شہید ہوئے اور خوارج میں سے 9 افراد زندہ بچ گئے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
***برطانیہ کے امیر ترین پاکستانی پیر اور ملا ***▪️
تحریر و تحقیقی مراسلہ:–
»»»(صاحبزادہ ضیا الرحمن ناصر)«««
*======*===========*=========*
انگلینڈ میں مقیم چند پاکستانی پیر صاحبان کی دولت کا تخمینہ اندازا”
آف شور دولت اور ٹرسٹ اس میں شامل نہیں
نمبر 1» صوفی جنید نقشبندی Grandson صوفی عبداللہ نقشبندی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ گھمکول شریف ، برمنگھم 132 ملین پاؤنڈ۔ پاکستانی 290 ارب تقریباً
نمبر 2» پیر سلطان نیاز الحسن باہو ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو ، برمنگھم۔ 80 ملین پاؤنڈ ، 176 ارب روپے تقریباً
نمبر 3» پیر سلطان فیاض الحسن باہو ، اسسٹنٹ سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو ، برمنگھم 83 ملین پاؤنڈ ، 183 ارب روپے تقریباً
نمبر 4» پیر نورالعارفین صدیقی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ نیریاں شریف ، برمنگھم ، 77 ملین پاؤنڈ ، 170 ارب روپے تقریباً
نمبر 5» پیرزادہ امداد حسین ، مہتمم جامعہ الکرم نوٹنگھم ، 76 ملین پاؤنڈ ، 168 ارب روپے تقریباً
نمبر 6» پیر معروف حسین شاہ نوشاہی ، آستانۂ عالیہ نوشاہیہ بریڈفورڈ ، 68 ملین پاؤنڈ ، 150 ارب روپے تقریباً ( پیر معروف حسین صاحب برطانیہ میں وارد ہونے والے سب سے پہلے پیر ہیں ، موصوف اپریل 1961 میں برطانیہ تشریف لائے ، اور اون کی فیکٹری میں مزدوری شروع کی ، چند ماہ بعد بریڈ فورڈ میں تبلیغ الاسلام کے نام سے ایک مکان میں مسجد بنائی ، لیکن مریدین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے اگلے 18 سال ملوں میں مزدوری ہی کرتے رہے ، اس وقت بریڈفورڈ اور گرد و نواح میں تیس سے زائد مکانات میں تبلیغ الاسلام کے نام سے مساجد بنا چکے ہیں ، اور ان تمام پراپرٹیز کے بلاشرکتِ غیرے مالک بھی ہیں ، لیکن ان مکانات کی مالیت 68 ملین پاؤنڈ اس میں شامل نہیں ، پیر صاحب اس لحاظ سے بھی بدقسمت ہیں کہ پاکستان میں کسی بڑی گدی کے سجادہ نشین نہ ہونے کی وجہ سے برطانیہ میں ان کے مریدین کی تعداد ابھی تک بیس ہزار سے کم ہے )
نمبر 7» پیر سید عبدالقادر جیلانی سابق خطیب ٹنچ بھاٹہ راولپنڈی ، مہتمم دارالعلوم قادریہ جیلانیہ لندن ، 62 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 139 ارب روپے تقریباً
نمبر 8» پیر منور حسین جماعتی سجادہ نشین آستانۂ عالیہ امیرِ ملت پیر جماعت علی شاہ برمنگھم ، 60 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 134 ارب روپے تقریباً
نمبر 9» پیر حبیب الرحمن محبوب ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ ڈھانگری شریف ، بریڈفورڈ ، 32 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 71 ارب روپے تقریباً
نمبر 10» پیرعرفان مشہدی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ بکھی شریف بریڈفورڈ ، پیر عرفان شاہ صاحب ان پیروں میں سب سے غریب ترین پیر ہیں کیونکہ ان کی دولت 2 ملین پاؤنڈ یعنی پاکستانی صرف 44 کروڑ روپے ہے۔
تلک عشرة کاملة
مندرجہ بالا تمام دس پیر صاحبان کا تعلق پاکستان اور آزاد کشمیر سے ہے۔ جو برٹش نیشنیلٹی ہولڈر اور برطانیہ میں مقیم ہیں۔
یہ اعداد و شمار برطانوی ذرائع سے حاصل کردہ ہیں انکے علاوہ بہت سے پیر صاحبان جنہوں نے اپنی دولت ٹرسٹ ( NGOs ) کے پردے میں چھپائی ہوئی ہے۔ وہ اس لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔
نیز پاکستان میں مقیم جو پیر صاحبان سالانہ یہاں سے اربوں روپے کے نذرانے بٹورنے کے لیئے تشریف لاتے ہیں وہ بھی اس لسٹ میں شامل نہیں۔
مندرجہ بالا دس پیر صاحبان کی اجتماعی دولت سے کئی گنا زیادہ دولت کے مالک “ پیر ہاشم الگیلانی البغدادی “ ہیں ، جو آستانۂ عالیہ شیخ عبدالقادر جیلانی رح بغداد کے گدی نشین ہیں ، یہ پیر صاحب بھی برٹش نیشنلیٹی ہولڈر اور مقیمِ برطانیہ ہیں۔ جیسے پاکستانی نژاد برطانوی پیر کبھی کبھی پاکستان دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں ، اسی طرح یہ بھی کبھی کبھی بغداد کے دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں۔
یہ ساری دولت اس غریب ملک کے غریب عوام کی طرف سے اپنے دکھوں اور مصیبتوں کو کم کرنے کی نیت سے بطور چڑھاوا چڑھائی جاتی ہے جس سے اس عوام کی مشکلات کم ہوتی ہیں یا نہیں. یہ اللہ تعالٰی کی ذات بہتر جانتی ہے لیکن ان پیروں کی نسلیں خاصی پھل پھول رہی ہیں.
اس سلسلے میں سابقہ پیر آف گولڑہ شریف کی تقاریر بہترین پند و نصائح سے بھرپور ہیں. ویسے بھی جن کے ماں باپ زندہ ہوں اُنہیں کسی اور سے دعا کروانے کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیئے.
اوّل و اوّل تو نیب یا کسی اور ملکی ادارے کی اوقات ہی نہیں کہ وہ ان پیروں کے ذرائع آمدن پوچھ سکے یا یہ کہ یہ دولت ملک سے باہر کیسے گئی؟
اور
اگر ایسا ارادہ کبھی بن بھی جائے تو یہی عوام (مُریدین) اپنے پیر کی دولت بچانے کے لیئے سر دھڑ کی بازی لگا دے گی اور اسے جنّت میں بطور شہید جانے کا آسان نسخہ ہاتھ آ جائے گا.
یہی مُریدین اپنی غربت کا ذمّہ دار حکومت کو ٹھہرا کر اپنے پیروں کو پتلی گلی سے نکال دیتے ہیں لیکن انکی طرف انگشت نمائی نہیں ہونے دیتے.
یہی کمزور عقیدہ لوگوں کا نسلی وطیرہ ہے.
حیران ہوں کہ پاکستان کیوں اس حال میں ہے جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات ہی پوری نہیں ہو رہیں عوام بدحال جبکہ “اشرافیہ” ؟؟؟؟؟؟؟ 😢
اللہ تعالٰی سب کو ہدایت عطا فرمائیں.
آمین ثمہ آمین
*پسِ نوشت!!*🔰
آج ایک بڑے پیر صاحب کی جدید ترین کار جس کی پاکستان میں مالیت دس کروڑ سے زیادہ ہے ، بمپر پر معمولی سکریچز ختم کروانے میرے پاس تشریف لائے ( پیروں کی گاڑیاں بھی تو مقدس ہوتی ہیں نا 😜 ) تو سوچا کہ کیوں نا غریب ترین پیر صاحبان کی دولت کا امیر ترین مریدین کے سامنے پول کھولا جائے🤐🤐
تحریر و تحقیق ؛ صاحبزادہ ضیاءالرحمٰن ناصر
سجادہ نشین آستانۂ عالیہ *
“ کار باڈی ریپئر سینٹر “*
مانچسٹر شریف، برطانیہ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
خدا کے شہر سے گزرا جو کاررواں خیال
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت پہ مشتمل آقا دو جہاں ہزاروں درود و سلام ہمارے رہبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی آخر سردار انبیا رحمت العالمین شافع محشر ختمی المرتبت کا کمال ۔ لازوال اور جامع ترین خطبہ۔۔۔۔
نماز جمعہ کے پڑھنے والے آئمہ جمعہ کو چاھئے کہ شعبان المعظم کے اس اختتامی جمعہ کے خطبہ میں حضور ص کے اس خطبہ کے مطالب ضرور بیان فرمائیں تاکہ مؤمنین کے قلوب ماہ رمضان کی طرف متوجہ ہوں۔۔۔
شعبان المعظم کا آخری جمعہ تھا حضور ص نے ماہ رمضان کے فضائل پہ مشتمل یہ خطبہ ارشاد فرمایا
آپ ص نے فرمایا
،، ایھا الناس قد اقبل الیکم شھر اللہ بالبرکۃ والرحمۃ والمغفرۃ۔۔۔
لوگو! یہ جو مہینہ تمھاری طرف آ رہا ہے یہ عام مہینہ نہیں ہے یہ ،، شھر اللہ ،، یعنی اللہ کا مہینہ ہے
اور یہ ایسے خالی ہاتھ نہیں آ رہا بلکہ اپنے ساتھ برکتیں ، رحمتیں اور بخشش لے کر آ رہا ہے ۔
،، ھو شھر عنداللہ افضل الشھور ۔۔۔
یہ وہ مہینہ ہے جو اللہ کے نزدیک تمام مہینوں سے افضل ہے ۔۔
،، ایامہ افضل الایام و لیالیہ افضل اللیالی و ساعاتہ افضل الساعات۔۔۔
یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے افضل ، جس کی راتیں دوسرے مہینے کی راتوں سے افضل ، جس کی گھڑیاں، لمحات دوسرے مہینوں کی گھڑیوں اور لمحات سے افضل ہیں
،، ھو شھر عظیم دعیتم فیہ الی ضیافۃ اللہ ۔۔۔۔
یہ وہ باعظمت مہینہ ہے کہ جس میں تم سب دسترخوان توحید پہ اس عظیم ذات کے مہمان ہوتے ہو اور وہ عظیم ذات تمہاری میزبان ہوتی ہے ۔۔۔
،، انفاسکم فیہ تسبیح۔۔۔
اس مہینے میں تمھارا سانس لینا تسبیح خدا کے برابر ۔۔۔
،، و نومکم فیہ عبادۃ۔۔۔
اس مہینے میں تمھارا سو جانا بھی عبادت۔۔۔ تمھاری نیند بھی عبادت ۔۔۔
،،و عملکم فیہ مقبول ۔۔۔
اس مہینے میں کیئے گئے تمھارے اعمال مقبول ہوں گے ۔ ان شاءاللہ
،، و دعآءکم فیہ مستجاب ۔۔۔
اس مہینے میں تمھاری دعائیں قبول ہوں گی
،، فاسآلوا اللہ بنیات صادقۃ و قلوب طاھرۃ ان یوفقکم لصیامہ و تلاوۃ کتابہ۔۔۔
اس مہینے میں سچی نیتوں کے ساتھ اور پاکیزہ دلوں کے ساتھ دو دعائیں خصوصی طور پہ مانگیں ۔ 1۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس مہینے کے روزے رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے 2۔ اور دوسری دعا کہ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں اپنی کتاب قرآن مجید کی تلاوت کی توفیق عطاء فرمائے ۔
،،فان الشقی من حرم علیہ غفران اللہ فی ھذا الشھر العظیم۔۔۔
پس بدبخت ہے وہ شخص جو اس باعظمت مہینے میں بھی مغفرت و بخشش پروردگار سے محروم رہے۔۔ ( بدبخت ہے وہ شخص کہ جو بخشش کے اس ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے ہوتے ہوئے بخشش سے محروم رہے )
،،واذکروا بجوعکم و عطشکم جوع یوم القیامۃ و عطشہ۔۔۔
اس مہینے کی بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔۔۔
،، و تصدقوا علی فقرآئکم و مساکینکم ۔۔۔
آپ ص نے فرمایا کہ اس مہینے میں خصوصی طور پہ غریبوں پہ خرچ کرو۔۔ ( ظاھر ہے اس مہینے میں غرباء و مساکین نے، ان کے بچوں نے روزے رکھنے ہوتے ہیں تو اس مہینے میں ان کے ساتھ خصوصی تعاون کرنا چاھئے اگر اہل خیر پورے مہینے کا راشن ان کے گھر پہنچا دیں تو یقیناً یہ عمل ان کیلئے اخروی نجات کا سبب بن سکتا ہے )
،، و وقروا کبارکم وارحموا صغارکم ۔۔۔
اس مہینے میں خصوصی طور پہ اپنے بزرگوں کا خیال رکھیں انہیں عزت دیں اور اپنے سے چھوٹوں پہ رحم کریں ، شفقت و نرمی سے پیش آئیں۔
،، و صلوا ارحامکم۔۔۔
اس مہینے میں( خصوصی طور پہ ) رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں
،واحفظوا السنتکم ۔۔۔
اس مہینے میں ( خصوصی طور پہ ) اپنی زبانوں کی حفاظت کریں ( گالم گلوچ ، لھو و لعب، جھوٹ غیبت سے زبان کو بچائیں )
،، و غضوا عما لا یحل النظر الیہ ابصارکم۔۔۔
اور جن چیزوں کی طرف دیکھنا حرام ہے ان سے اپنی آنکھوں کو بند رکھیں ( چاہے وہ نامحرم عورت ہو یا فحش مناظر )
،، و عما لا یحل الاستماع الیہ اسماعکم۔۔۔
اور جن چیزوں کا سننا حرام ہے ان سے اپنے کانوں کو بچائے رکھیں ( جھوٹ ، غیبت وغیرہ نہ سنیں
جاری ہے ۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مذہب کے نام کا چورن ۔۔۔۔۔ امجد علی سیّد کے نام
متاع علم اہل بیت جن کے پاس ہوتا ہے
جسے لمحہ بہ لمحے قوم کا احساس ہوتا ہے ( وسیم امرہوی)
سید اکمل حسین
مشرقی لندن میں گزشتہ برس رمضان کے دوران ایک فرد جن کو اس سنٹر کے لوگ ڈاکٹر کے نام سے یاد کرتے ہیں ایک کونے میں افطاری کے بعد گپ شپ میں مصروف تھے اچانک اہل بیت کے گروپ میں ظاہر ہونے والے ان صاحب کو میں ذاتی طور پر تو نہیں جانتا تھا مگر کچھ عرصہ کے بعد ان کے گھر پر ایک مجلس عزا کا انقاد ہوا تو وہاں پر شرکت کا موقع ملا کچھ روز کے بعد فون آیا کہ میرا پرنٹر نہیں کام کر رہا کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں ۔۔۔ میں گھر حاضری دی اور جو مدد درکارد کر دی گئی۔۔۔۔ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے مذہب کا چورن کب تک بکے گا۔۔۔۔۔مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مجلس تو ایک سیاسی مجلس تھی کیوں کہ اس میں چند مختلف مذاہب کے افراد کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔۔۔ اور کافی تعداد میں افراد جمع تھے ۔۔۔۔جس کو ایک انتخاب کے لئے ذریعہ بنیا گیا ہے۔۔۔۔۔
پاکستان کی ایک مشہور شخصیت مولانا طارق جمیل اپنے سرکاری دورے پر یوکے تشریف لائے ہوئے تھے اپنے لندن لے قیام کے دوران تو امجد علی سیدنے کل مورخہ 24 فروری 2025 کو مشرقی لندن میںایک محفل نور کے نام سے ان کی ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں مولاناطارق جمیل صاحب مہان خاص کے طور پرخطاب کیا اور دیگر خاص بات یہ تھی کہ سرکردہ محفل خود ایک ضروری کام کا کہہ کر پاکستا ن کا سفر باندھ گئے۔ اس محفل میں جگہ کا انتخاب بھی تین بار تبدیل کیاگیا ۔۔۔۔۔اور محفل کو نقوی برادرن کے حوالے کر کے خود غائب ہو گئے۔ شاید یہ بھی امجد علی سید کی ایک گہری چال تھی ۔۔۔۔۔اور قوم کو سیاسی طور پر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔۔اور کر چکے ہیں ۔۔۔۔،کیوں کے آنے والے انتخابات میں لیبر کی جانب سے کونسلر کی نشت پر انتخاب میں شرکت چاہتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔اور وہ اپنی قوم کو استعمال کر رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ دو افراد کے نام بھی شامل تھے مگر ان میں سے اپنی مصروفیات کی وجہ سے تشریف نہ لائے اور فرد دوئم مشرقی لندن کے یتیم ادارے محتاج چندہ کے آج کل کے پیش نماز کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں شاید اپنے کو اتحاد بین المسلمین کی مسند کے نام پر بلند کر چاہتے تھے جس میں وہ ناکام رہے اس تقریب میں اور اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ تقریب میں ایک گھنٹہ کی تاخیر سے شرکت کے لئے تشریف لائے پابندی وقت کو جس طرح پائوں سے روندا گیا ہے اس کا سہرا بھی مولانا کے سر پر سجتا ہے ۔۔۔ تقریب کے شرکاء موصوف کا انتظار کرتے رہے کہ ان کے تشریف لانے پر تقریب کا آغاز ہو سکے۔ مگر مولانا طارق جمیل کو شاید اس بات کا احساس ہو گیا کہ لوگ کافی دیر سے انتظار کر رہے ہیں لہذا وہ خود ہی مسند پر تشریف لائے اور معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ اب اور انتظار ممکن نہیں ہے تقریب شروع کر دی دوران تقریب موصوف تشریف لے آئے اور مسند پر جگہ پالی تقریب سے قبل
شہزاد نقوی نے نام بہ نام نشان دہی تعارف کے نام پر کردی جن مختلف لندن کے بڑے بڑے ادارون کے نام بھی شامل کئے گئے اور افراد کے ۔یہ نام ایک صحافی عمران نقوی نے مہیا کیے اور تقریب شروع ہو گئی
مولانا طارق جمیل نے مسند پر تشریف لائے اور خطاب جاری اس دوران کسی شریک محفل نے نعرہ حیدری کی صدا بلند کی جن پر مولانا کی جانب سے کہا گیا کہ نعرہ حیدری مت لگائیں میری بات غور سے سنیں بہر حال سامعین نے صبر کیا اور خاموشی سے ان کی باتیں سنتے رہے ۔۔۔۔ ابھی تقریب کو پندرہ منٹ گزرے تھے کہ دروازے کے باہر سے صدا بلند کی گئی کہ بابا جی ذرا جلد فرمائیں کہ باہر پڑوسی نے شکایت کی ہے کہ سڑک پر رکاوٹ ہو رہی ہے شرکا نے اپنی کاریں پارک کی ہوئی ہیں اور وہ پولیس بلا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ بہر حال جلد ی جلدی میں تقریب کا اختتام ہو اختتام مجلس پر نعرہ حیدر بلند ہوا مگر مولانا طارق جمیل نے فرمایا کہ ہضم نہیں کر سکے ان کی بات کو اور باز نہ آئے ۔۔۔۔۔جس گھر پر تقریب تھی ان کے رہائشی افراد نے جگہ خالی کرنے کا شوربرپا کیا گیا کہ اپنی کاریں حرکت میں لائیں تا کہ راستہ کھل جائے جب کہ ایسا ہر گز نہ تھا ۔۔۔۔تمام کاریں اپنی جگہ درست ساکت تھیں اور کسی کو ان ان کی راہ گزر سے کوئی تکلیف نہیں تھی کیوں سڑک دو طرفہ آمد و رفت کے لئے تھی۔ اور ایسا کچھ بھی نہ تھا ۔۔۔۔ تقریب کے بعد مولانا نے اختتامی دعا کی اور مولانا کا شکریہ اس وعدے کے ساتھ کیا کہ مستقبل قریب میں ان کو ایک بڑی جگہ پر خطاب کی دعوت دی جائے گی ۔۔۔۔ ان الفاظ کے ساتھ یہ تقریب اپنے اختتام پذیر ہوئی ۔۔۔۔۔بعد از محفل نقویبردارن نے ہلکی پھلکی چائے اور دعوت شیراز کا انتظام کر رکھا تھا مگر جس میں شرکا کے جس لوٹ مار کا مظاہر کیا وہ بے صبری کا ایک عجب مظاہرہ تھا۔۔۔۔۔ بظاہر تو یہ محفل ایک دینی محفل تھی مگر فوٹو گرافی کے لئے کوئی لمحہ ضائع نہیں کیا گیا۔ چند نام نہاد فیس بک کے صحافی بھی تشریف رکھتے تھے کیوں کہ فون اور انٹر نٹ مقام تقریب پر پابنی کی بنا پر کام نہیں کر رہے تھے جو کہ بعد میں مختلف گروں میں دیکھنے کو ملی۔۔۔۔۔۔۔ پہلے تو اپنے کو عیاں کرنا اور اپنا قد بلند کرنے کو جوہر سامنے آیا۔ ۔۔ اس کے عقب جو جو عوامل نظر آرہے تھے وہ بعد میں عیاں ہوں گے ایک تو سیاسی رنگ جو امجد علی سید کو فائدہ دے گا کیوں کہ وہ انتخاب میں شرکت کا ادارہ رکھتے ہیں اور دوسرے پاکستان میں جو حالات اہل تشیع کے ہیں وہ کسی سے در پردہ نہیں خاص کر پارچنار کے اور سب کو معلوم ہے کہ ان کے عقب میں کون کام کر رہا ہے اور یہ تقریب بھی کچھ اسی رنگ میں شامل کی جا سکتی ہے ۔۔۔۔قوم کا امجد علی سید نے جس طرح سے مدعو کر کے اتحاد بین المسلمین مسند پر یک جا کرنے کی کوشیش کی ہے اس میںاپنے اداروں پر سے پردہ اٹھایا ہے اس کے نقصان کا سہرا امجد علی سید کے سر پر ہی باندھا جائے گا ۔۔امجد علی سید کو شاید اس تحریر سے اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ ان کا یہ عمل خیر نہیں بلکہ سیاسی تھا اور ان کو اس عدالت اور بے آواز لاٹھی سے ڈرنا چاہئے جس میںوکیل گواہ اور جج اللہ ربّ العزت خود ہو اور پھر وہ اعلان کرئے گا اے مجرموں آج الگ ہو جائو ۔۔۔۔ ۔۔۔۔اور دوسری جانب شہزاد نقوی کے برادر محترم ڈاکٹرسید حماد نقوی نے بھی اس تقریب سے خطاب کرنا تھا وہ بھی شامل نہیں ہوئے ۔۔۔۔۔اس کے علاوہ بہت سے دوسرے افراد بھی شامل تقریب نہیں ہوئے شاید ان کو شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اس میں اُن چند افراد کو اجاگر کرنا تھا جن سے امجد علی سید کو انتخاب میں مدد مل سکے۔۔۔۔۔
دینی تقریب کو قران اور سنت کے نام پر قربان کرنے والے امجد علی سید اس ترجمے کو بھی ملاحظہ فرما لیں کہ وہ کس ترازو میں اپنا وزن تول رہے ہیں۔۔۔۔۔
مولانا طارق جمیل (ایم ٹی جے) کے ساتھ گروپ میٹنگ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ مجھے لگتا ہے کہ شیعہ پیروکار ایم ٹی جے سے ملنے گئے تاکہ ان کی اہل بیت سے محبت کا اعتراف کیا جا سکے۔ میں ان کی کتاب سے مندرجہ ذیل اہم مذہبی اور تاریخی معاملات پر وضاحت حاصل کرنے کے لئے بغیر کسی خوش قسمتی کے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں آپ کے سوالات کو نکاتی طور پر حل کروں گا:
(1) اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ “ع” کا استعمال:
اگر ایم ٹی جے نے اہل بیت (ع) کا ذکر کرتے ہوئے “اے ایس” کو چھوڑ دیا ہے جبکہ صحیح بخاری میں مولا علی، بی بی فاطمہ اور امام حسن و حسین کے لئے موجود ہے تو یہ صحیح ہے۔ ان سے براہ راست یہ پوچھنا فائدہ مند ہوگا کہ آیا یہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا یا ادارتی انتخاب تھا۔ عقلی نقطہ نظر یہ ہوگا کہ قائم شدہ احادیث کے کنونشنوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے، جہاں ان شخصیات کو مناسب سلام سے نوازا جاتا ہے۔
مولا ابو طالب علیہ السلام کے بارے میں موقف:
معاویہ کے مقابلے میں کتاب میں جس طرح ابوطالب کا ذکر کیا گیا ہے اس سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر معاویہ کو “حضرت” اور “رضی اللہ عنہ” کے نام سے پکارا جاتا ہے جبکہ ابو طالب کو اسی طرح کے اعزازات نہیں دیے جاتے ہیں تو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاریخی اعتبار سے پیغمبر اسلام (ص) کے مشن میں ابوطالب کی خدمات اور ان کی قربانیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سے علماء ان کے عقیدے اور غیر متزلزل حمایت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس معاملے پر ایم ٹی جے کا موقف واضح کرنا اچھا ہوگا۔
3- اہل بیت کی تعریف:
یہ ایک دیرینہ مذہبی بحث ہے۔ حدیث کسا میں واضح طور پر اہل بیت کو پنجتان پاک تک محدود کیا گیا ہے، جبکہ بعض اہل سنت علماء نے سورۂ احزاب (33:33) کی مختلف تشریحات کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیویوں کو شامل کرنے کے لئے اس کی توسیع کی ہے۔ چونکہ ایم ٹی جے کی کتاب میں بیویاں شامل ہیں، اس لیے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ وہ حدیث کسا کے ساتھ اس کا تصفیہ کیسے کرتے ہیں۔ براہ راست بحث سے اس بات کا تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا وہ دونوں تعریفوں کے درمیان فرق کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔
بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نماز جنازہ:
تاریخی طور پر یہ بات مشہور ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے بی بی فاطمہ (س) کی نماز جنازہ ان کی مرضی کے مطابق نجی طور پر پڑھائی۔ اگر ایم ٹی جے کی کتاب میں کہا گیا ہے کہ ابوبکر نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، تو یہ بہت سے تاریخی روایات کے منافی ہے۔ اس دعوے کے لئے ان سے ان کے ذرائع کے بارے میں پوچھنا بہت ضروری ہوگا۔
5. چار بیٹیوں اور پوتے پوتیوں کا ذکر:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چار حیاتیاتی بیٹیاں تھیں یا صرف بی بی فاطمہ (س) ایک مشہور تاریخی بحث ہے۔ بہت سے شیعہ علماء کا خیال ہے کہ زینب، رقیہ اور ام کلثوم کو خدیجہ کی پچھلی شادی سے گود لیا گیا تھا۔ اگر ایم ٹی جے کی کتاب یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ حیاتیاتی بیٹیاں ہیں تو ان کے ذرائع کو سمجھنا مفید ہوگا۔ اسی طرح بعض پوتے پوتیوں کے ناموں کو مستند تاریخی ریکارڈ کے خلاف تصدیق کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے اگر ہم ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ملاقات کا اہتمام کریں تو بلاشبہ وہ توحید اور قرآنی تشریحات پر اسلامی دلائل پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ البتہ بعض تاریخی امور بالخصوص اہل بیت کے بارے میں ان کے خیالات پر بحث ہوتی رہی ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ کوئی بھی بحث تمام نقطہ نظر کے لئے متوازن اور قابل احترام رہے۔
میں علمی سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے اتحاد کو فروغ دینے کے لئے آپ کے نقطہ نظر کو سراہتا ہوں۔ مزید بات چیت کے منتظر ہیں۔ امجد علی سید سے ۔۔۔۔۔۔ ہم شاہ کا ماتم میدان میں کرنے کے عادی ہیں ۔۔۔۔۔۔ دربار میں نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔
ٓٓپہلو شکستہ کر کے وہ پہلو میں سو گیا
صرف اسی لئے کہ عیب پہ پردہ پڑا رہے
……………………………………………
تین اقساط پر مشتمل ۱۵ شعبان
زمین پر خدا کی حجت علیہ السلام زمانہ غیبت کے حاکم:
عالم غیب کے رہبر کو علیؑ کہتے ہیں
غیبت امام مہدی علیہ السلام کو بادل میں چھپے سورج سے تشبیہ
قارئیں کے لئے اس مضمون کی تیاری میں بہت کتب اور انٹرنیٹ کی مدد لی گئی ہے ۔۔۔
جس کے عالمی اخبار کے ارکان تعاون پر ممنون ہیں۔۔۔۔
اکمل سیّد
محمد بن حسن عسکریؑ (ولادت 255ھ)، امام مہدی، امام زمانہ اور حجت بن الحسن کے نام سے مشہور شیعوں کے بارہویں اور آخری امام ہیں۔ آپؑ کی امامت 260ھ کو امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد شروع ہوئی جو آپ کے ظہور کے بعد تک جارے رہے گی۔ شیعوں کے مطابق آپ وہی مہدی موعود ہیں جو ایک طولانی عرصے تک غیبت میں رہنے کے بعد ظہور کریں گے۔
شیعہ مآخذ کے مطابق امام حسن عسکریؑ کے دَور امامت میں عباسی حکومت کے کارندے آپؑ کے فرزند اور جانشین کی تلاش میں تھے اس لئے امام مہدیؑ کی ولادت خفیہ رکھی گئی یہاں تک کہ امام حسن عسکریؑ کے کچھ خاص اصحاب کے سوا کسی کو آپؑ کا دیدار نصیب نہیں ہوا۔ جس کی بنا پر امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد بعض شیعہ امامت کے سلسلے میں تردد کا شکار ہوئے، شیعوں میں مختلف فرقے وجود میں آگئے یہاں تک کہ ایک گروہ نے آپؑ کے چچا جعفر کذاب کی پیروی شروع کردی۔ لیکن اس دوران آپؑ کی طرف سے شیعیان اہل بیت کے نام لکھی جانے والی توقیعات جو نواب اربعہ کے ذریعے لوگوں تک پہنچتی تھیں، مکتب تشیع کے استحکام کا سبب قرار پائیں۔ یہان تک کہ چوتھی صدی ہجری میں امام عسکریؑ کی شہادت کے بعد وجود میں آنے والے مذاہب میں صرف شیعہ اثنا عشریہ باقی رہے۔
آپ کے والد امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد آپ کی غیبت صغری شروع ہوگئی اور اس دوران نواب اربعہ کے ذریعے آپؑ کا رابطہ اپنے ماننے والوں کے ساتھ قائم رہا۔ لیکن جب سنہ 329ھ میں غیبت کبری کا آغاز ہوا تو آپ سے نواب اربعہ کے ذریعے ہونے والا رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔مذہب امامیہ کے مطابق امام مہدیؑ اب بھی غیب کے پردے میں زندہ ہیں اور آخری زمانے میں حضرت عیسیؑ کے ساتھ ظہور کریں گے۔ شیعہ علماء نے امام زمانہ کی طویل عمر کے علل و اسباب اور اس سے مربوط دوسرے موضوعات کے بارے میں مختلف وضاحتیں پیش کی ہیں اور احادیث میں آپ کی غیبت کو بادل میں چھپے سورج سے تشبیہ دی گئی ہے۔
شیعہ عقیدے کے مطابق امام زمانہ زندہ ہیں اور ایک دن ظہور کریں گے اور اپنے اصحاب کے ساتھ ایک عالمی حکومت قائم کر کے ظلم و جور سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ اسلامی روایات میں مسلمانوں کو انتظار فرج کے بارے میں تاکید کی گئی ہے۔ شیعہ امامیہ ان روایات کی رو سے امام زمانؑ کے ظہور کا انتظار کررہے ہیں۔

شیعہ مفسرین، معصومین سے منقول احادیث کی بنیاد پر بعض قرآنی آیات کو امام زمانہؑ سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ ائمہؑ سے متعدد احادیث امام زمانہؑ، آپ کی غیبت، ظہور اور حکومت کے بارے میں نقل ہوئی ہیں۔ بعض حدیثی کتابیں انہی احادیث کو نقل کرنے اور ان کی جمع آوری کی غرض سے لکھی گئی ہیں۔ حدیث کی کتب کے علاوہ بہت سی دوسری کتب بھی امام زمانہؑ سے متعلق موضوعات کے سلسلے میں شائع ہوئی ہیں۔
اہل سنت اپنے روائی منابع کی رو سے نسل پیامبر خدا میں سے مہدی نام کے ایک شخص کو آخر الزمان کا نجات دہندہ مانتے ہیں۔ لیکن ان کی اکثریت اب بھی یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ مہدی نام کا نجات دہندہ آخر الزمان میں پیدا ہوگا البتہ اہل سنت ہی کے بعض علما، جیسے سبط بن جوزی اور ابنطلحہ شافعی وغیرہ شیعوں کی مانند یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مہدی موعودؑ امام حسن عسکریؑ کے وہی بیٹے ہیں۔
امام زمانہ(عج) کی غیبت کے دوران آپ سے رابطہ قائم کرنے کے سلسلے میں شیعہ مذہب کی کتابوں میں بہت سی دعائیں اور اذکار بیان کیے گئے ہیں۔ جیسے دعائے عہد، دعائے ندبہ، زیارت آل یاسیناور نماز امام زمانہؑ۔ بعض احادیث کے مطابق غیبت امام زمانہؑ کے باوجود آپؑ سے ملاقات بھی ممکن ہے۔ بعض شیعہ علماء نے اپنی کتابوں میں بعض لوگوں کے ان سے ملاقات کے قصے بیان کیے ہیں۔
مختلف علاقوں میں بہت سے مقامات آپ سے منسوب ہیں، جیسے سامرا میں سرداب غیبت، کوفہ کی مسجد سہلہ میں مقام امام مہدیؑ اور قم کے مضافات میں مسجد جمکران وغیرہ۔
نام، کنیت اور لقب
شیعہ احادیث میں بارہویں امام کے لئے محمد، احمد اور عبداللہ جیسے نام نقل ہوئے ہیں، لیکن آپؑ شیعیان اہل بیت کے درمیان مہدیؑ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں جو آپؑ کے القاب میں سے ایک ہے۔ متعدد احادیث کے مطابق آپؑ، اپنے جد امجد رسول اللہؐ کے ہم نام ہیں۔ بعض شیعہ احادیث اور مکتوب مآخذ من جملہ کلینی رازی کی تالیف الکافی و شیخ صدوق کی کتاب کمال الدین، میں آپؑ کے نام کے حروف کو جداگانہ طور پر “م ح م د” لکھا ہوا ملتا ہے۔اس ابہام نویسی کا سبب وہ متعدد احادیث ہیں جن میں آپؑ کا نام لینے سے منع کیا گیا ہے۔
حرمتِ تسمیہ
اصلی مقالہ: تسمیۃ المہدی
شیعہ منابع حدیث میں بکثرت ایسی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں بارہویں امامؑ کا نام لینے سے منع کرتے ہوئے اسے حرام قرار دیا گیا ہے۔[5] اس حوالے سے شیعہ علماء کے یہاں دو قسم کے نظریے پائے جاتے ہیں:
پہلا نظریہ سید مرتضی، فاضل مقداد، محقق حلی، علامہ حلی اور کئی دیگر علماء کا ہے جن کی رائے کے مطابق یہ حرمت صرف تقیہ کے زمانے تک محدود ہے؛
دوسرا نظریہ میر داماد اور محدث نوری وغیرہ کا ہے جن کے خیال میں حرمت کا یہ حکم امامؑ کے ظہور تک جاری اور برقرار رہے گا۔
قرآن کریم
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ﴿105﴾
اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔
انبیاء
کنیت اور القاب
مختلف حدیثی، تاریخی، کلامی منابع اور دعا و زیارات میں شیعیانِ آل رسول کے بارہویں امام بہت سارے القاب اور کنیت سے متعارف کرائے گئے ہیں؛ محدث نوری نے اپنی کتاب نجم الثاقب میں تقریباً 182 نام اور القاب ذکر کیے ہیں اسی طرح (نام نامہ حضرت مہدیؑ نامی کتاب) میں امام ؑ کے 310 اسماء اور القاب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ محدث نوری نے یہ اسماء اور القاب ذکر کیے ہیں: مهدیؑ، قائم، بقیۃ الله، منتقم، موعود، صاحب الزمان، خاتم الاوصیاء، منتَظَر، حجۃ الله، منتقم، احمد، ابوالقاسم، ابوصالح، خاتم الائمہ، خلیفۃ الله، صالح، صاحبالامر۔ محدث نوری، النجم الثاقب میں لکھتے ہیں کہ تمام معتبر اسامی اور القاب کو جمع کیا ہے اور شخصی نظریات اور غیر معتبر تحقیقات سے اجتناب کیا ہے ورنہ مختلف کتابوں سے کئی گنا اسامی اور القاب نکالے جا سکتے تھے۔ اسی طرح نام نامہ حضرت مہدیؑ نامی کتاب میں 310 اسماء اور القاب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بارہویں امامؑ کے اسماء اور القاب اہل سنت مآخذ میں بھی نقل ہوئے ہیں؛ گوکہ ان مآخذ میں زیادہ تر مہدی کے عنوان سے استفادہ کیا گیا ہے اور دوسرے القاب اور خصوصیات کو کم ہی ذکر کیا گیا ہے۔ آپؑ کا لقب قائم اہل سنت کے مآخذ میں کم ہی ملتا ہے۔ ان القاب میں سے بعض کچھ یوں ہیں:
مہدّی ھذہ الامّہ،المہدی فی الأرض والمہدی فی السّماء،مہدی الخیر، مہدی عبد اللّہ،الإمام،آخر الأئمّہ،خلیفۃ اللّہ،خلیفۃ بنی هاشم، خلیفۃ، ولی اللّہ،الأمیر ،أمیر الطائفہ، امیر النّاس،خیرہ اللّہ فی خلقہ۔خیر امّۃ محمّد،خیر النّاس،خیر أہل الأرض،ذخیرہ الأنبیاء ،یعسوب الامّہ،الرّجل الصالح،صالح من مضی۔العدل المبارک الزکی ،المنصور، الہاشمی، العائذ بالبیت،السفاح
خاندان
امام زمانہؑ کے والد ماجد
اصلی مقالہ: امام حسن عسکریؑ
شیعہ عقیدے کے مطابق امام زمانہؑ کے والد ماجد گیارہویں امام، حضرت امام حسن عسکریؑ ہیں، اہل سنت نے بعض احادیث کے حوالے سے امام زمانہؑ کے والد کا نام عبداللہ ذکر کیا ہے لیکن شیعہ علماء نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
امام زمانہؑ کی والدہ ماجدہ
اصلی مقالہ: امام زمانہؑ کی والدہ
امام زمانہؑ کی والدہ ماجدہ کے متعدد نام ذکر ہوئے ہیں؛ جیسے:نرجس، سوسن، صقیل یا صیقل، حدیثہ، حکیمہ، ملیکہ، ریحانہ و خمطامام زمانہؑ کی والدہ کے حالات زندگی کے بارے میں منقولہ روایات کو مجموعی طور پر چار قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
شیخ صدوق نے کمال الدین و تمام النعمۃ میں روایت نقل کرتے ہوئے انہیں رومی شہزادی قرار دیا ہے؛
بعض دیگر روایات میں ان کے حالات زندگی کی طرف اشارہ کئے بغیر کہا گیا ہے کہ امام زمانہؑ کی والدہ حکیمہ بنت امام جوادؑ کے گھر میں پرورش پا چکی ہیں؛
تیسری قسم کی روایات کے مطابق، جنہیں مسعودی نے اثبات الوصیہ میں نقل کیا ہے،بارہویں امامؑ کی والدہ گیارہویں امام کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کے گھر میں پروان چڑھی ہیں اور اسی گھر میں پیدا بھی ہوئی ہیں۔
چوتھی قسم اور دیگر تین قسموں کے درمیان بنیادی اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان روایات میں کہا گیا ہے کہ امام زمانہؑ کی والدہ سیاہ فام اُمِّ وَلَد تھیں۔[14] تین قسموں کی روایات بہرصورت ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں لیکن چوتھی قسم کی روایات کو ان روایات کے ساتھ یکجا نہیں کیا جا سکتا۔ بایں حال، بعض علماء نے چاروں قسموں کی روایات کو ہم آہنگ کرنے کے لئے کہا ہے کہ مؤخر الذکر روایت کی بالواسطہ یا امام زمانہؑ کی والدہ کی مُرَبِّیہ کے طور پر، توجیہ کی جا سکتی ہے۔
امام زمانہؑ کے والد کی پھوپھی
اصلی مقالہ: حکیمہ بنت امام جوادؑ
جناب حکیمہ خاتون امام جوادؑ کی بیٹی اور امام حسن عسکریؑ کی پھوپھی، چار ائمہ کے ہم عصر اور شیعہ مآخذ کے مطابق امام زمانہؑ کی ولادت با سعادت کی راوی ہیں۔ امام زمانہؑ کی والدہ ان کے گھر میں تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوئی ہیں اور امام زمانہؑ کی ولادت با سعادت کی بہت سی روایات ان ہی سے نقل ہوئی ہیں۔
امام زمانہؑ کی دادی
مفصل مضمون: امام زمانہؑ کی دادی
امام زمانہؑ کی دادی اور امام حسن عسکریؑ کی والدہ ہیں جنہیں روایات میں اسی نام سے پکارا گیا ہے: امام زمانہؑ کی دادی۔ مآخذ کے مطابق امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد، شیعیان اہل بیت کے امور ان ہی کے سپرد تھے اور انھوں نے تشیّع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
جعفر کذاب
مفصل مضمون: جعفر بن علی الہادی
جعفر بن محمد امام زمانہؑ کے چچا تھے جنہوں نے امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد، امامت کا دعوی کیا اور اسی بنا پر جعفر کذاب کہلائے۔ حدیث کی کتابوں میں انہیں فسق و فجور میں مبتلا اور گناہان کبیرہ کا مرتکب قرار دیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف امامت کا دعوی کیا اور امام حسن عسکریؑ کے جانشین کو جھٹلایا، بلکہ وقت کے حکمرانوں کو بارہویں امام کے خلاف اکسایا۔بعض روایات کے مطابق وہ اپنی عمر کے آخری ایام تک اپنے دعوے پر اصرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو امام سمجھتا رہے؛ تا ہم بعض دوسری روایات کے مطابق، انہوں نے اپنے دعوے کو ترک کرکے توبہ کی اور شیعہ اس کو جعفر کذاب کے بجائے جعفر تائب [یا جعفر تواب] کہہ کر پکارتے تھے۔ جعفر کذاب نے 45 سال کی عمر میں سامرا کے مقام پر وفات پائی۔
بہن بھائی، زوجہ اور اولاد
ان آخری سالوں کے دوران امام زمانہ کی غیبت کبرا کے دوران ان کی کی بیوی اور اولاد کے متعلق شیعہ کتب میں بحث چھیڑ گئی جبکہ یہ بحث پہلی کتب میں موجود نہیں تھی۔ اس سلسلے میں تین نظریے پائے جاتے ہیں:
پہلا: علامہ مجلسی اور سید محمد صدر چند روایات اور ادعیہ سے استناد کرتے ہوئے امام زمانہ کی بیوی اور اولاد ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
دوسرا: شادی اور اولاد کے نظریے کے مخالف کہتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو امام کا ہم سے پوشیدہ رہنا ممکن نہیں ہے جبکہ آپ کی غیبت میں امام ہم سے پوشیدہ رہنا ہی غیبت ہے۔ نیز وہ اس استدلال کیلئے ان روایات کو ذکر کرتے ہیں جن میں غیبت کے زمانے میں امام کی بیوی اور اولاد کا نہ ہونا مذکور ہے۔
تیسرا: سید جعفر مرتضی عاملی اس قضیے کو شک و تردید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سکوت کو ترجیح دیتے ہیں۔
ولادت امام زمان
وقت ولادت
امام زمانہؑ کی ولادت کے سال کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض متقدم مآخذ نے آپؑ کی تاریخ ولادت کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے اور اس کو خفیہ قرار دیا ہے۔ لیکن بہت سی شیعہ اور بعض سنی روایات میں ہے کہ امام دوازدہمؑ سنہ255ھ یا 256ھ ق میں متولّد ہوئے ہیں۔
امام زمانہؑ کی ولادت کے مہینے کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے لیکن قول مشہور شعبان المعظم پر تاکید کرتا ہے اور بہت سے قدیم شیعہ مآخذ میں بھی ماہ شعبان ہی کو آپؑ کی ولادت کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔اس کے باوجود بعض شیعہاور سنیمآخذ کے مطابق آپؑ کی ولادت ماہ رمضان میں ہوئی ہے جبکہ اہل سنت کے بعض مآخذنے ربیع الاول اور ربیعالثانی کو آپؑ کی ولادت کا مہینہ قرار دیا ہے۔
تاریخی مآخذ میں بارہویں امام کی تاریخی ولادت کے بارے میں گیارہ مختلف روایات نقل کی ہیں جن میں پندرہ شعبان والی تاریخ زیادہ مشہور ہے۔ شیعہ علماء کے درمیان کلینی، مسعودی، شیخ صدوق، شیخ مفید، شیخ طوسی، فتال نیشابوری، امین الاسلام طبرسی، سید ابن طاؤس، ابن طقطقی، علامہ حلی، شہید اول، کفعمی، شیخ بہائی وغیرہ، اور اہل سنت کے علماء میں سے ابن خلکان، ابن صباغ مالکی، شعرانی حنفی، ابن طولون، اور دوسروں نے اسی قول کو نقل کیا ہے۔ نو ربیع الاول، 19 ربیع الاول 9 ربیع الثانی، یکم رجب، 23 رمضان، 3 شعبان اور 8 شعبان کو سنی مآخذ نے نقل کیا ہے اور شب جمعہ یکم رمضان یا رمضان کی ایک شب جمعہ کو شیخ صدوق نے کمال الدین میں نقل کیا ہے۔
تفصیلی واقعہ
امام زمانہؑ کی ولادت کے سلسلے میں مشہور روایت وہی ہے جو امام عسکریؑ کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون نے نقل کی ہے۔ شیخ صدوق حکیمہ خاتون کے حوالے سے لکھتے ہیں:
“امام حسن عسکریؑ نے مجھ [حکیمہ خاتون] کو بلوا کر فرمایا: پھوپھی جان! آج ہمارے یہاں قیام کریں کیونکہ نیمہ شعبان کی شب ہے اور خداوند متعال آج رات اپنی حجت کو ـ جو روئے زمین پر اس کی حجت ہے ـ ظاہر فرمائے گا۔ میں نے عرض کیا: ان کی ماں کون ہے؟ فرمایا: نرجس خاتون۔ میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان ہوجاؤں، ان میں حمل کا کوئی اثر نہیں ہے۔ فرمایا: بات وہی ہے جو میں آپ سے کہہ رہا ہوں۔
کہتی ہیں:
میں آئی ، سلام کیا اور بیٹھ گئی تو نرجس آئیں اور میرے جوتے اٹھا لئے اور مجھ سے کہا: اے میری سیدہ اور میرے خاندان کی سیدہ! آپ کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا: تم میری اور میرے خاندان کی سیدہ ہو۔ نرجس میرے اس کلام سے ناراض ہوئیں اور کہنے لگیں: پھوپھی جان! یہ کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا: میری بیٹی! خداوند متعال تمہیں ایسا فرزند عطا کرے گا جو دنیا اور آخرت کا سید و سردار ہے۔ نرجس شرما گئیں اور حیا کر گئیں۔ میں نے نماز ادا کی، روزہ افطار کیا اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ آدھی رات کو نماز (تہجد) کے لئے اٹھی اور نماز پڑھ لی؛ جبکہ نرجس سو رہی تھیں۔ میں نماز کے بعد کے اعمال کے لئے بیٹھ گئی اور پھر سو گئی اور خوفزدہ ہوکر جاگ اٹھی؛ وہ ابھی سو رہی تھیں؛ چنانچہ اٹھیں اور نماز (تہجد) بجا لا کر سوگئیں۔
جناب حکیمہ خاتون مزید کہتی ہیں:
میں باہر آئی اور فجر کی تلاش میں آسمان کی طرف دیکھا؛ دیکھا کہ فجر اول طلوع کرچکی ہے اور وہ ابھی سو رہی ہیں۔ شک میرے دل پر عارض ہوا۔اچانک ابو محمد نے اپنے کمرے سے صدا دی: پھوپھی جان! عجلت سے کام مت لیں، کیونکہ امر قریب ہوچکا ہے۔
کہتی ہیں:
میں بیٹھ گئی اور سورہ سجدہ اور سورہ یس کی تلاوت میں مصروف ہوئی۔ اسی اثناء میں نرجس ہراساں سی ہوکر اٹھیں اور میں فورا ان کے پاس پہنچی اور ان سے کہا: آپ پر اللہ کی رحمت ہو، کیا کچھ محسوس ہورہا ہے؟ کہنے لگیں: پھوپھی جان! ہاں محسوس کررہی ہوں۔ میں نے کہا: اپنے پر قابو کرو اور دل مضبوط رکھیں کیونکہ وہی ہونے جارہا ہے جو میں نے کہا تھا۔ جناب حکیمہ کہتی ہیں: مجھ پر بھی اور نرجس پر بھی ضعف طاری ہوا اور اپنے سید و سردار (امام عسکریؑ) کی آواز پر میری جان میں جان آئی اور کپڑا ان کے چہرے سے اٹھایا اور اچانک میں نے اپنے سید و سرور (نرجس کے فرزند) کو دیکھا جو حالت سجدہ میں تھے اور آپؑ کے سجدہ کے ساتوں اعضاء [پیشانی، ہتھیلیاں، گھٹنے اور پاؤں کے انگوٹھے) زمین پر تھے]۔ میں نے آپؑ کو آغوش میں لیا اور دیکھا کہ پاک و پاکیزہ ہیں۔
ابو محمد نے فرمایا:
پھوپھی جان! میرا فرزند میرے پاس لائیں، میں آپؑ کو امامؑ کے پاس لے گیی؛ امامؑ نے اپنے پاؤں کو پھیلایا اور فرزند کو پاوں کے درمیان قرار دیا اور آپؑ کے پیروں کو اپنے سینے پر رکھا اور پھر اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں رکھ دی اور اپنا ایک ہاتھ آپؑ کی آنکھوں، کانوں اور بدن کے جوڑوں پر پھیرا ؛
اور فرمایا:
اے میرے فرزند! بولو۔ چنانچہ آپؑ نے کہا:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللہِ بعدازاں امیرالمؤمنینؑ اور دوسرے ائمہ معصومینؑ کو درود و سلام کا ہدیہ بھیجا، حتی کہ آپؑ کے والد کی باری آئی تو زبان روک لی۔
ولادت کا مخفی ہونا
خلفائے بنی عباس، پیغمبرؐ اور ائمہؑ کی روایات و احادیث کی رو سے بخوبی جانتے تھے کہ بارہویں امام “مہدی” ہی ہیں؛ چنانچہ انھوں نے امام حسن عسکریؑ اور آپؑ کے گھر پر پہرےدار متعین کئے۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ معتمد عباسی نے دائیوں کو حکم دیا تھا کہ کبھی کبھی ناگہانی طور پر اور بن بلائے سادات کے گھروں ـ خاص طور پر امام حسن عسکریؑ کے گھر ـ میں داخل ہوجایا کریں اور گھروں کی تلاشی لیا کریں اور آپؑ کی زوجہ مکرمہ کے حالات سے آگاہ ہوکر دربار کو خبر دیا کریں۔ایک کنیز بنام “ثقیل” نے ـ گویا امام زمانہؑ کی جان کی حفاظت کی خاطر حاملگی کا دعوی کیا تھا جس کو دو سال تک نظر بند رکھا گیا او رجب حکومت وقت اس کی عدم حاملگی سے مطمئن ہوئی، تو اس کو رہا کردیا۔
ولادت امام زمانہؑ کو عام لوگوں سے خفیہ رکھا گیا۔ روایات میں بھی اس موضوع اور اس کے دلائل کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ امام سجادؑ فرماتے ہیں: “ہمارے قائم کی ذات میں انبیا کی سنتیں ہیں۔۔۔۔ ولادت کا مخفی ہونا اور ان کا لوگوں سے دور رہنا ابراہیمؑ کی سنت ہے۔نیز امام صادقؑ فرماتے ہیں: “صاحب الامر کی ولادت خلائق سے پوشیدہ ہے یہاں تک کہ ظہور کریں ولادت مخفی بھی اس لئے ہی تاکہ آپؑ پر کسی کی بیعت نہ ہو”۔
شیخ مفید کی رائے ہے کہ “اس دور کے مشکلات و مسائل اور اللہ کی آخری حجت کی ولادت کی خبر پانے کے لئے سلطان وقت کی وسیع تلاش اور بےتحاشا کوششوں کے پیش نظر، آپؑ کی ولادت کو عام لوگوں سے خفیہ رکھا گیا۔۔۔۔
تاریخ میں ولادت کا خفیہ رکھا جانا بے مثال نہیں ہے بلکہ مروی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی ولادت کو بھی خفیہ رکھا گیا تھا کیونکہ بادشاہ وقت کی طرف سے ان کے قتل کئے جانے کا خدشہ تھا۔یا پھر قرآن کریم کی سورہ قصص کی آیات 7 سے 13 تک میں موسی بن عمرانؑ کی ولادت کی روداد بیان کرتے ہوئے ان کی ولادت کو خفیہ رکھے جانے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
ولادت کے چشم دید گواہ
جناب حکیمہ خاتون کے علاوہ، امام حسن عسکریؑ کی دو کنیزیں نسیم اور ماریہ بھی آپؑ کی ولادت کے عینی شاہدین میں شمار ہوتی ہیں۔ شیخ صدوق اور شیخ طوسی نقل کرتے ہیں: نسیم اور ماریہ کہتی ہیں کہ “صاحب الزمانؑ ماں کے بطن سے دنیا میں آئے تو آپؑ نے دونوں گھٹنے زمین پر رکھے اور دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں آسمان کی طرف بلند کیں اور پھر آپ نے چھینک ماری اور فرمایا:الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمینَ واَلحُمُدُ لِلّهِ رَبَّ العالَمینَ وَصَلَّی اللهُ عَلی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ وَآلِهِ۔ ستمگر سمجھ بیٹھے ہیں کہ گویا اللہ کی حجت فنا ہوچکی ہے۔ اگر ہمیں کلام کرنے کا اذن ہوتا تو شک زائل ہوجاتا”۔
اہل سنت کی روایت
اہل سنت کے علماء کے درمیان، بعض نے امام زمانہؑ کی ولادت کا واقعہ نقل کیا ہے لیکن آپؑ کے موعود ہونے کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے: ابن اثیر (متوفیٰ 630 ھ) اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں، ابن خلکان (متوفیٰ 681 ھ) وفیات الاعیان میں،اور ذہبی (متوفیٰ 748 ھ) العبر میں۔
بعض دیگر نے ولادت کے واقعے کو بھی بھی نقل کیا ہے اور آپؑ کے موعود ہونے پر بھی تصریح کی ہے: ابن طلحہ شافعی (متوفیٰ 652 ھ) مطالب السؤول میں[47] اور ابن صباغ مالکی (متوفیٰ 855 ھ) الفصول المہمہ میں۔
طفولیت
امام زمانہؑ کی ولادت کے بعد بعض خاص شیعہ اکابرین ـ جو امام حسن عسکریؑ کے معتمدین میں شامل تھے ـ نے آپؑ کا دیدار کیا ہے؛ جن میں محمد بن اسمعیل بن موسی بن جعفر، حکیمہ خاتون، ابو علی بن مطہر، عمرو اہوازی اور گیارہویں امامؑ کے خاندانی خادم ابو نصر طریف، شامل ہیں جو بارہویں امامؑ کے دیدار کا شرف پا سکے ہیں۔
محمد بن عثمان عمری 40 افراد کی معیت میں امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں حاضر تھے۔ امامؑ نے انہیں اپنے فرزند کا دیدار کرایا اور فرمایا:
هَذَا إِمَامُکُمْ مِنْ بَعْدِی وَخَلِیفَتِی عَلَیْکُمْ أَطِیعُوهُ وَلَا تَتَفَرَّقُوا مِنْ بَعْدِی فِی أَدْیَانِکُمْ فَتَهْلِکُوا أَمَا إِنَّکُمْ لَا تَرَوْنَهُ بَعْدَ یَوْمِکُمْ هَذَا
یہ میرے بعد تمہارے امام ہیں اور تمہارے درمیان میرے جانشین ہیں، ان کی اطاعت کرو اور اپنے دین میں اختلاف نہ کرو کیونکہ اس صورت میں ہلاک ہوجاؤگے اور آج کے بعد تم انہیں ہرگز نہیں دیکھ سکو گے۔
اسی روایت سے مشابہ ایک روایت شیخ طوسی نے نقل کی ہے اور علی بن بلال، احمد بن ہلال، محمد بن معاویۃ بن حکیم اور حسن بن ایوب بن نوح جیسے اشخاص کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے آپؑ کا دیدار کیا ہے۔ نیز کلینی نے بھی ضوء بن علی عِجْلی سے روایت کی ہے کہ ایک فارسی مرد نے کہا:
میں امام حسن عسکریؑ کے گھر میں خدمت کے لئے سامرا چلا گیا اور امامؑ نے مجھے گھر کے لئے ضروری اشیاء کی خریداری کی ذمہ دار سونپ دی۔ ایک دن امامؑ نے مجھے اپنے (دو سالہ) فرزند کا دیدار کرایا اور فرمایا:هذا صاحبكمضوء بن علی مزید کہتے ہیں:اس فارسی مرد نے کہا:اس کے بعد امام حسن عسکریؑ کی شہادت تک میں نے پھر اس طفل کو کبھی نہیں دیکھا”۔
حدیث نبوی
لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلاَّ يَوم لَبَعَثَ اللهُ رَجُلاً مِنْ أهْلِ بَيْتِي، يَمْلَأُهَا عَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً
اللہ تعالی میری اہل بیت میں سے ایک فرد کو مبعوث کرے گا جو اس دنیا کو ایسے ہی عدل سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی چاہے دنیا کی عمر میں سے صرف ایک دن ہی باقی رہتا ہو۔
سنن ابی داود، ج2، ص310، ح4283۔
شیخ مفید نے بھی ابو عمر عثمان بن سعید سمان اور ان کے بیٹے ابو جعفر محمد بن عثمان کو ان لوگوں کے زمرے میں شمار کیا ہے جنہوں نے امام حسن عسکریؑ کی حیات میں امام عصرؑ کا دیدار کیا ہے۔ نیز نصیبین کے خاندانوں “بنو الرحبا” اور “بنو سعید”، اہواز کے خاندان “بنو مہزیار”، کوفہ کے خاندان “بنو الرکولی” اور بغداد کے خاندان “بنو نوبخت” کے کئی اشخاص کے علاوہ قزوین، قم اور “منطقۂ جبال” کے بعض باشندوں نے امام عسکریؑ کے دوران حیات میں بارہویں امامؑ کا دیدار کیا ہے۔
امام حسن عسکریؑ کے ایام حیات میں آپؑ کے فرزند کا نام لینا ممنوع تھا اور امامؑ تاکید فرمایا کرتے تھے کہ آپؑ کو اَلْحُجَّةُ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ کے عنوان سے پکارا جائے۔
بنی عباس کا رد عمل
خلیفہ وقت معتمد عباسی کو امام حسن عسکریؑ کی بیماری کی خبر ملی تو اس نے اپنے 5 قابل اعتماد افسروں کو امامؑ کے گھر کی نگرانی پر متعین کیا اور اپنے قاضی القضاۃ کو حکم دیا کہ وہ بھی اپنے 10 قابل اعتماد افراد کو امامؑ کی نگرانی کے لئے تعینات کرے۔
امام حسن عسکریؑ نے اپنی وصیت میں اپنے تمام اموال کو اپنی والدہ ماجدہ “حُدَیث خاتون” کے نام کیا گوکہ بنی عباس نے تمام اموال آپؑ کی والدہ کو ملنے نہیں دیئے اور نصف اموال پر عباسیوں کی مدد سے جعفر نے قبضہ کیا۔
امام حسن عسکریؑ کی وفات کے بعد، عباسی خلیفہ نے ایک گروہ کو آپؑ کے گھر بھیجا جنہوں نے آپؑ کے گھر اور اموال کو مقفل کردیا؛ آپ کے فرزند کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور کنیزوں کا بھی دائیوں سے معائنہ کروایا کہ کہیں ان میں سے کوئی حاملہ نہ ہو[57] اور ثقیل نامی کنیز کو حاملگی کے شبہ کی بنا پر اسے اپنے ساتھ لے گئے اور دو سال تک نظر بند رکھا اور بعدازاں رہا کردیا۔
امام زمانہؑ کی عمر
امام زمانہؑ سنہ 255ھ میں پیدا ہوئے جس کے بعد آج تک بارہ صدیاں گذر رہی ہیں۔ عمر کی یہ طوالت انسانوں کی معمولی عمر سے مطابقت نہیں رکھتی۔ شیعہ متکلمین نے امام زمانہؑ کی عمر کی طوالت کی عام انسانوں کے عمر سے عدم مطابقت کے سلسلے میں اٹھنے والے سوالات کے مختلف جوابات دیئے ہیں:
تجرباتی جوابات
بعض متکلمین نے سائنسدانوں کی تجرباتی حصول یابیوں سے استناد کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ طویل عمر ممکن ہے۔ مثلا لطف اللہ صافی گلپایگانی نے مغربی سائنسدانوں کے متعدد اقوال نقل کئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ انسان 800 سے 1000 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
عقلی جوابات
وقوع کا امکان:
اعجاز: امام زمانؑ کی عمر کی طوالت اعجاز کی بنا پر ہے اور خوارق عادات میں سے ہے۔
اللہ کا ارادہ انسان کی عمر کی طوالت اور دوام پر ٹھہر سکتا ہے اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
انسان کا نفس جسم کا انتظام کرتا ہے اور اس پر تسلط رکھتا ہے۔ اگر انسان کا نفس اس قدر طاقتور ہو جو انتظام کے ساتھ جسم پر ولایت بھی رکھتا ہو۔ تو وہ انسان کے جسم کو طویل عرصے تک زندہ رکھ سکتا ہے۔
بقائے انسان میں ذاتی طور پر ممکن ہے اور عدم بقا عارض ہونے والے امور کا نتیجہ سمجھی جاتی ہے۔ عارضی امور بھی ممکن العدم ہیں [اور ان کا نہ ہونا اور معدوم ہو جانا، ممکن ہے] تو اگر عارضی امور و اسباب نہ ہوں تو بقاء حاصل ہے۔
نبی عزیرؑکا طعام و شراب، سو سال گذرنے کے باوجود باقی اور تر و تازہ تھا حالانکہ اس میں روح بھی نہیں تھی، انسان صاحب روح ہے چنانچہ اس کو بطریق اولی و اقوی، معمول کی عمر سے زیادہ طویل عمر کا حامل ہونا چاہئے۔
تاریخی روایات اور ان کے واقع ہونے کے پیش نظر، ایک شئی کے امکان کی اعلی ترین دلیل اس کا واقع ہونا ہے۔ [مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت ادریس، حضرت الیاس، حضرت خضر اور حضرت عیسی علیہم السلام زندہ ہیں جبکہ ان کی عمریں امام زمانہؑ کی عمر سے کئی گنا زیادہ طویل ہے]۔
تاریخی نمونے
“ابو حاتم سجستانی” نے اپنی کتاب المعمرون والوصایا میں ان افراد کا تذکرہ کیا جن کی عمر غیر معمولی اور بہت طویل تھیں۔ شیعہ متکلمین میں شیخ صدوق نے کتاب کمال الدین میں، کراجکی نے البرہان علی صحۃ طول عمر الامام الزمان میں طول عمر سے متعلق سوالات کا جواب دینے کے لئے “باب المعمرین” میں دسیوں معمر افراد کا تذکرہ کیا ہے۔
آسمانی کتب
تورات، انجیل اور قرآن میں ایسے انسانوں کا تذکرہ آیا ہے جن کی عمریں بہت طولانی اور غیر معمولی تھیں۔ قرآن نے حضرت نوحؑ کی دعوت کا عرصہ 950 سال بتایا ہے۔اور سابقہ امتوں میں طویل زندگیوں کی خبر دی ہے۔
روایات
بعض روایات و احادیث میں بھی امام زمانہؑ کی طویل عمر کی طرف اشارے ہوئے ہیں؛ منجملہ: امام سجادؑ نے فرمایا ہے کہ “ہمارے قائم کے پاس پیغمبروں کی بعض سنتیں ہیں …آدم اور نوح سے آپؑ کو ملنے والی سنت طویل العمری ہے۔
امام صادقؑ بھی امام زمانہؑ کو ابراہیمؑ سے تشبیہ دیتے ہیں جو 120 سال کی عمر میں 30 سالہ نوجوانوں کی طرح تھے۔
امام حسن مجتبیؑ سے مروی ہے کہ خداوند متعال میرے بھائی امام حسینؑ کے نویں فرزند کو طویل عمر عطا فرمائے گا اور پھر آپؑ کو اپنی قدرت سے 40 سال سے کم عمر کے نوجوان کی صورت میں ظاہر فرمائے گا۔
امام زمانہؑ کا مسکن
امام زمانہؑ کے مسکن اور مقام رہائش سے متعلق بحث کو غیبت صغری سے قبل ، غیبت صغری، غیبت کبری، عصر ظہور اور قیام اور حکومت کے مراحل کے تناظر میں دیکھا جائے گا؛ چنانچہ ان تمام ادوار میں آپؑ کا مقام رہائش مختلف ہے۔ یہاں غیبت صغری سے پہلے اور اس کے دوران آپؑ، آپؑ کی رہائش کو تاریخی قرائن و شواہد کی روشنی میں دیکھا جائے گا اور دوسرے مراحل کے بارے میں روایات اور امکانی ملاقاتوں اور شرف یابیوں سے استناد کیا جائے گا:
مقام ولادت اور غیبت سے قبل کا دور
امام مہدیؑ تاریخ ولادت سے لے کر غیبت صغری تک اپنے مولد “سامرا” میں ہی سکونت پذیر تھے۔ اس دوران سرداب میں عبادت، اور زندگی بسر، کر رہے تھے۔ بعض روایات کے مطابق آپؑ اپنے والد ماجد کی حیات میں کئی بار سرداب میں دیکھے گئے ہیں۔بعض محققین کا کہنا ہے کہ آپؑ نے والد ماجد کے زمانے میں آپؑ کے ہمراہ حج کے مناسک میں شرکت کی اور پھر مدینہ میں روپوش ہوئے۔یہ روایت شیعہ تاریخی مآخذ کے ساتھ کچھ زیادہ ہمآہنگ نہیں ہے۔
سکونت، غیبت کے دوران
بعض روایات اشارہ کرتی ہیں کہ غیبت کے دوران آپؑ کا مسکن نامعلوم ہے۔ اس کے باوجود بعض دیگر روایات کے مطابق آپؑ ذی طوی، کوہ رضوی اور طیبہ (مدینہ)میں سکونت رکھتے ہیں۔ چونکہ غیبت صغری کے دوران نواب اربعہ آپؑ کے ساتھ رابطے میں تھے چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ غیبت کا ایک عرصہ آپؑ نے عراق میں گذارا ہے۔ بعض مآخذ نے ایک داستان کی رو سے، لکھا ہے کہ آپؑ غیبت کبری کے زمانے میں جزیرہ خضراء میں سکونت پذیر ہیں۔ جس کو بعض شیعہ علماء نے شک و تردد کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اس کے نقد میں کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔
ابن قیم جوزی اور ابن خلدون نے الزام لگایا ہے کہ “شیعہ” معتقد ہیں کہ امام زمانہؑ غیبت کے دوران سرداب میں رہتے ہیں اور وہیں سے ظہور فرمائیں گے۔لیکن شیعہ اعتقادی کتب میں اس طرح کا کوئی عقیدہ نہیں ملتا اور ان کے نزدیک اس مقام کے تقدس کا سبب یہ ہے کہ یہ امام عسکریؑ کے زمانے میں بارہویں امامؑ کا مسکن اور مقام عبادت تھا۔
ظہور اور قیام نیز مقام حکومت اور (مسکن بعد از ظہور)
امام زمانہؑ کہاں ظہور کریں گے؟ اس بارے میں دقیق معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آپؑ ذی طوی میں ظہور کریں گے؛ پھر اپنے 313 صحابیوں کے ساتھ مکہ پہنچیں گے اور حجر الاسود سے ٹیک لگائیں گے اور اپنا پرچم لہرائیں گے۔اس روایت اور اس جیسی دوسری روایات کے مطابق، امام زمانہؑ کے قیام (تحریک) کا آغاز مسجد الحرام سے ہوگا اور اصحاب رکن اور مقام کے درمیان آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔بعض روایات میں تہامہ کو امام زمانہؑ کی تحریک کا نقطۂ آغاز جانا گیا ہے۔مکہ اور مکہ شمالی تہامہ کا جزء اور مرکز ہے۔
بعض روایات میں، کرعہ کو امامؑ کے مقام خروج کے عنوان سے متعارف کرایا گیا جو بظاہر یمانی کے قیام کے ساتھ اشتباہ کا نتیجہ ہے جو یمن سے اٹھیں گے۔اہل سنت کے مؤلف محمد بن احمد القرطبی، کا کہنا ہے کہ آپؑ مغرب الاقصی سے اٹھیں گے اور قاضی نعمان مغربی، مراکش کو نقطۂ خروج و ظہور قرار دیتے ہیں لیکن یہ ساری روایات بارہویں امام کے آغاز انقلاب سے متعلق شیعہ روایات سے سازگار نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ ان میں مقام ظہور کو سفیانی کے مقام خروج سے مشتبہ ہو گیا ہو۔
بعض روایات، شہر کوفہ کو دارالحکومت، مسجد کوفہ کو فیصلوں کا مقام مسجد سہلہ کو امامؑ کا مسکن اور آپؑ کے ہاتھوں بیت المال کی تقسیم کا مقامقرار دیتی ہیں۔
امام زمان سے منسوب مقامات
بعض مقامات امام مہدیؑ سے منسوب ہوئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ شیعہ غیبت کبری کے زمانے میں آپؑ سے راز و نیاز کرنے کے لئے ان مقامات پر حاضر ہوتے ہیں:
سرداب غیبت: یہ مقام (سامرا میں ہے جو) امام ہادی، امام عسکری اور امام زمانہؑ کی عبادت گاہ رہی ہے۔
مسجد سہلہ: کوفہ میں واقع یہ مسجد امام زمانہؑ سے منسوب ہے اور اس کے درمیانی حصے میں مقامِ حضرت یونسؑ اور مقامِ حضرت سجادؑ واقع ہے۔ بعض روایات کے مطابق، امام زمانہؑ ظہور کے بعد اسی مسجد میں سکونت پذیر ہوں گے۔
ذی طُوٰی: مکہ کے ایک علاقے کا نام ہے جو حرم کی حدود میں واقع ہے اور بعض روایات کے مطابق حضرت مہدیؑ اس علاقے میں زندگی بسر کر رہے ہیں[90] اور بض روایات کے مطابق، آپؑ کا مقام ظہور اور آپؑ کے اصحاب و انصار کے اکٹھے ہونے کا مرکز بھی یہی علاقہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ امامؑ کے کعبہ سے قیام و تحریک شروع کرنے سے قبل، اس علاقے میں اپنے 313 اصحاب کے منتظر ہوں گے۔
کوہ رضوا: بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ امام زمانہؑ غیبت کے زمانے میں کوہ رضوٰی سکونت پذیر ہیں۔مکہ و مدینہ کے درمیان ایک پہاڑ ہے۔
وادی السلام: جو نجف میں واقع قبرستان کا نام ہے؛ اور اس قبرستان میں ایک مقام “مقام امام زمانہؑ” کے عنوان سے موجود ہے۔ اس مقام پر گنبد و بارگاہ بھی ہے جس کو سندھ کے بادشاہ وقت “سید محمد خان” نے سنہ 1310ھ ق میں تعمیر کرایا ہے۔ اس سے قبل والی عمارت تعمیر نو سید بحرالعلوم (متوفیٰ سنہ 1212ھ ق) نے کرائی تھی۔ مقام حضرت مہدیؑ کے محراب میں ایک پتھر پایا جاتا ہے جس پر ایک زیارت نامہ کندہ کیا گیا ہے۔ اس پتھر پر کندہ کاری کا کام 9 شعبان سنہ 1200ھ ق کو مکمل ہوا ہے۔
جزیرہ خضرا: یہ ایک مقام کا نام ہے جو بعض روایات کے مطابق، امام زمانہؑ کے فرزندوں کا مقام رہائش ہے۔ اس جزیرے کی داستان بعض مآخذ میں مندرج ہے اور اس کے بارے میں دو قسم کی آراء پائی جاتی ہیں؛ بعض نے اس داستان کو قبول کیا ہے اور بعض نے افسانہ جانا ہے اور کتب لکھ کر اس پر تنقید کی ہے۔
طیبہ: یہ بھی بعض روایات کی رو سے عصر غیبت میں امام زمانہؑ کے مقام سکونت کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ طیبہ سے مراد مدینہ ہی ہے۔
مسجد جمکران: یہ مسجد قم کے نواح میں جمکران نامی گاؤں میں واقع ہے اور ایک قول کے مطابق امام زمانہؑ کے حکم پر حسن بن مثلہ جمکرانی کے ہاتھوں تعمیر ہوئی ہے۔
ظاہری اور اخلاقی خصوصیات
شیعہ اور سنی کتب احادیث نے امام مہدیؑ کی دینی و اخلاقی خصوصیات اور ظاہری اوصاف کے بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔
ظاہری اوصاف
رسول اللہؐ نے مختلف فرامین و ارشادات میں واضح کیا ہے کہ امام مہدیؑ آپؐ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں کہ امام مہدیؑ چہرے اور اخلاق کے لحاظ سے رسول اللہؐ کے مشابہ ترین ہیں۔ امام علیؑ فرماتے ہیں: امام مہدی عَجَّلَ اللهُ فَرَجَهُ الشَّریف اٹھیں گے تو آپؑ کی عمر تیس سے چالیس کے درمیان ہوگی ۔
امام حسن مجتبىؑ فرماتے ہیں کہ ظہور کے وقت امام مہدیؑ چالیس سال سے کم عمر کے نوجوان اور بےانتہا جسمانی قوت کے مالک ہونگے۔ امام صادقؑ کے قول کے مطابق آپ ایک کامل اور معتدل نوجوان ہونگے۔ علامہ مجلسی اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “معتدل سے مراد یہ ہے کہ آپؑ وقت ظہور درمیانی عمر یا نوجوانی کے آخری حصے میں ہونگے”۔ امام رضاؑ ظہور کے وقت امام زمانہؑ کی علامتوں اور خصوصیات کے بارے میں ابوصلت ہروی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: آپؑ کی نشانی یہ ہے کہ معمّر ہیں مگر آپؑ کا چہرہ اور منظر نوجوان ہے، یہاں تک کہ دیکھنا والا سمجھتا ہے کہ آپؑ 40 یا اس سے کم عمر کے ہیں۔
موسوی اصفہانی کتاب مکیال المکارم میں حسن اور جمال کو امام مہدیؑ کی خصوصیات میں بیان کرتے ہیں اور آپؑ کو احادیث کے حوالے دے کر شہاب ثاقب اور کوکب دری سے تشبیہ دیتے ہیں۔
مختلف روایات میں امام زمانہؑ کے چہرہ مبارک کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ رسول اللہؐ فرماتے ہیں: مہدیؑ مجھ سے ہیں، آپؑ کی جبین کشادہ اور ناک کھڑی ہے۔ایک حدیث میں رسول اللہؐ نے فرمایا ہے کہ مہدیؑ کے چہرہ مبارک کی رنگت عربی اور جسمانی ساخت اسرائیلی ہے، ان کے دائیں گال پر ایک تل ہے جو ستاروں کی مانند دمکتا ہے۔
امام باقرؑ نے اپنے والد اور جدّ امجد سے روایت کی ہے کہ ایک دن امام علیؑ منبر کے اوپر تھے اور فرمایا: آخر الزمان میں میرے فرزندوں میں سے ایک مرد ظہور کرے گا جس کی رنگت سفید مائل بہ سفیدی ہوگی اور سینہ فراخ ہوگا ۔۔۔ اور اس کے کاندھے قوی ہونگے اور پشت پر دو خال ہونگے جن میں سے ایک اس کی جلد کی رنگت کا اور دوسرا رسول اللہؐ کے خال کے مشابہ ہوگا۔
اخلاقی اور دینی اوصاف
امام مہدیؑ کے اخلاقی اور دینی اوصاف کو دو صورتوں میں بیان کیا جا سکتا ہے:
ان احادیث کی بنیاد پر جن میں آپؑ کو رسول خداؐ کے مشابہ ترین قرار دیا جاتا ہے؛ چنانچہ آیات و احادیث میں جو خصوصیات رسول اللہؐ کے لئے بیان ہوئی ہیں، ان کو امام مہدیؑ کی اخلاقی اور دینی خصوصیات قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسری روش یہ ہے کہ امام مہدیؑ کی اخلاقی خصوصیات کے سلسلے میں وارد ہونے والی مستقل روایات کا جائزہ لیا جائے۔
جو کچھ بھی اخلاق اور کردار کے لحاظ سے امام مہدیؑ کی خصوصیات ـ خواہ شیعہ روایات میں، خواہ سنی روایات میں ـ کے مجموعے سے سمجھا جا سکتا ہے، یہ ہے کہ آپؑ خدا کے آگے ابر خاشع ترین اور خائف تریناور دانشور ترین اور حکیم ترین ہیں۔
امام حسينؑ آپؑ کے بارے میں فرماتے ہیں: امام مہدیؑ کو تم ـ آپؑ کے سکون و وقار اور حلال و حرام کے سلسلے میں آپؑ کے علم اور لوگوں کو ان کی ضرورت اور لوگوں سے آپؑ ان کی بے نیازی ـ کے ذریعے پہچانو گے۔
امام صادقؑ آپؑ کو زاہد ترین فرد کے طور پر متعارف کراتے ہیں جن کا لباس سخت اور کھردرا اور کھانا جو کی روٹی ہے۔وہ اپنی حکومت کے کار گزاروں کے لئے بھی سخت گیر ہیں اور لوگوں کے لئے بخشندہ اور محتاجوں پر بہت مہربان ہیں۔
امام باقرؑ آپؑ کو ایسے فرد کے طور پر متعارف کراتے ہیں جو کتاب خدا پر عمل کرتے ہیں اور کسی بھی منکَر کو نہیں دیکھتا جس کی مخالفت نہ کرے۔
امام رضاؑ امام مہدیؑ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آپؑ لوگوں پر ان سے زیادہ صاحب حق اور ان کے ماں باپ سے بھی ان کے لئے زیادہ ہمدرد ہیں۔ وہ تمام لوگوں سے زیادہ اللہ کے سامنے خاکسار تر، اور جن اعمال کا حکم دیتے ہیں ان پر سب سے زیادہ عامل اور جن چیزوں سے منع کرتے ہیں ان سے سب سے زیادہ باز رہنے والے ہیں۔ نیز امام رضاؑ آپؑ کو دانا ترین، صاحب حکمت ترین، برد بار ترین، ہرہیزگار ترین، سخی ترین اور عابدترین شخصیت کے عنوان سے متعارف کراتے ہیں جو فرشتوں کے ساتھ ہم کلام ہوتے ہیں۔
امام عسکری کی شہادت کے بعد شیعوں کی حالت
امام حسن عسکری کے فرزند کے حوالے سے ابہام
امام حسن عسکریؑ کے زمانے میں مشہور تھا کہ شیعہ آپؑ کے فرزند “قائم” کے منتظر ہی اسی بنا پر عباسی حکمران اس فرزند کی تلاش میں تھے اور ان کی بہر قیمت یہی کوشش تھی کہ انہیں جس طرح بھی ممکن ہو، گرفتار کریں۔
اسی بنا پر امام عسکریؑ نے کبھی بھی اعلانیہ طور پر کسی کو اپنے فرزند کا دیدار نہیں کرایا اور حتی کہ آپؑ کا تعارف ـ چند ہی خاص اصحاب کے سوا ـ اپنے بہت سے قریبی پیروکاروں سے نہیں کرایا۔ چنانچہ امامؑ کی شہادت کے وقت سوائے ان ہی چند خاص اصحاب کے سوا کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ آپؑ کا کوئی فرزند بھی ہے۔
دوسری طرف سے امام حسن عسکریؑ نے سیاسی حالات کے پیش نظر، اپنے وصیت نامے میں صرف اپنی والدہ کا نام دیا تھا اور گیارہویں امامؑ کی شہادت کے بعد کے دو برسوں کے عرصہ میں بعض شیعہ سمجھتے تھے کہ منصب امامت امام حسن عسکری کی والدہ کو سونپ دیا گیا ہے۔
امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے فورا بعد، اصحاب خاص “عثمان بن سعید عمری”(متوفیٰ بین 260 تا 267ھ،) کی سربراہی میں اصحاب خاص نے شیعیان اہل بیت کے درمیان اعلان کیا کہ امام عسکریؑ اپنے بعد ایک فرزند چھوڑ گئے ہیں جو اس وقت آپؑ کے جانشین اور منصب امامت کے حامل ہیں۔ عبداللہ بن جعفر حمیری کہتے ہیں: میں نے عثمان بن سعید عمری سے امام حسن عسکریؑ کے جانشین کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: تمہیں آپؑ کا نام پوچھنے سے باز رکھا گیا ہے، کیونکہ سلطان (خلیفۂ وقت) سمجھتا ہے کہ امام حسن عسکریؑ نے اپنے بعد کوئی بیٹا نہیں چھوڑا ہے اور آپؑ کا ترکہ بھی (آپؑ کی والدہ، بھائی اور بہن) کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے۔ اگر آپؑ کا نام لیا جائے تو وہ آپؑ کو تلاش کرنا شروع کرے گا۔ لہذا آپؑ کے نام کے بارے میں مت پوچھا کرو۔
امام کی پہچان میں حیرت زدگی
امام حسن عسکریؑ کے اصحاب خاص کی تصریحات اور توضیحات کے باوجود، شیعہ معاشرہ عملی طور پر افراتفری کی سی کیفیت سے گذر رہا تھا اور عراق اور بین النہرین کے بہت سے شیعہ نئے واقعات کی وجہ سے حیرت زدگی اور پریشانی کا شکار ہو چکے تھے۔ بطور مثال، شیعیان اہل بیت نے ایک ایلچی مدینہ روانہ کیا تا کہ امامؑ کے فرزند کے بارے میں تحقیق کرے کیونکہ انھوں نے سنا تھا کہ امامؑ نے اپنا بیٹا مدینہ بھجوایا ہے۔ نیز مروی ہے کہ غیبت صغری کے ہم عصر عالم ابو زید احمد بن سہل بلخی، خراسان سے اپنے امام کی تلاش میں عراق چلے گئے اور کئی برسوں تک تلاش میں مصروف رہے۔
خاندان امامت میں بھی اختلاف پڑ گیا تھا۔ حُدیث اور امام حسن عسکریؑ کی پھوپھی حکیمہ خاتون امام عسکریؑ کے فرزند کی موجودگی تصریح اور آپؑ کی امامت کی حمایت کرتی تھیں لیکن امام عسکریؑ کی اکلوتی بہن ـ جو جعفر کے علاوہ امام ہادیؑ کی واحد پسماندہ اور شاید جعفر کی حقیقی بہن تھیں ـ جعفر کے موقف کی حمایت کر رہی تھیں۔
سرکاری اداروں اور اعلی حکومتی عہدوں پر فائز منصب دار بھی اس سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ بطور مثال خاندان نوبخت امام حسن عسکریؑ کے فرزند کی موجودگی اور امامت کا حامی تھا اور عثمان بن سعید عمری اور ان کے بیٹے کی نیابتِ امام زمانہؑ کو تسلیم کرتا تھا۔
شیعہ معاشروں میں گروہ بندیاں
بحرانِ امامت اس زمانے میں اس قدر سنگین تھا کہ حتی بعض لوگوں نے اپنا مذہب ترک کر دیا اور دیگر شیعہ اور غیر شیعہ مکاتب اور فرقوں سے جا ملے۔ ، کچھ لوگوں نے امام حسن عسکریؑ کی وفات کا انکار کیا اور آپؑ ہی کو مہدی سمجھنے لگے، ایک جماعت نے سید محمد کی امامت کو قبول نہیں کیا، گروہ نے امام هادیؑ کی امامت کو قبول کیااور امام عسکری کی امامت کا انکار کیا۔
ان حالات میں ایک بڑی جماعت جعفر کو امام سمجھ رہی تھی۔ جعفر نے منصب امامت کے حصول کے لئے بہت زیادہ کوشش کی۔ اس نے امام عسکریؑ کی والدہ کے بقید حیات ہونے کے باوجود آپؑ کے ترکہ میں حصے کا دعوی کیا۔علاوہ ازیں اس نے حکام وقت کو کہا کہ وہ امامؑ کی گرفتاری کے لئے آپؑ کے گھر کی تلاشی لیں اور جعفر ہی کے تعاون سے امام عسکریؑ کی ایک کنیز کو گرفتا کیا گیا اور اس کی کڑی نگرانی کا اہتمام کیا گیا۔ادھر جعفر ایک عباسی کارگزار کو سالانہ 20 ہزار دینار بطور رشوت دیتا رہا تاکہ وہ اس کی امامت کی تصدیق کیا کرے۔
ان اختلافات کے باوجود، آخرکار، شیعہ اکثریت امام حسن عسکریؑ کے فرزند کی امامت کے قائل ہوئے اور ان ہی جماعتوں نے بعد میں شیعہ امامیہ کی قیادت سنبھالی اور چوتھی صدی ہجری میں اہل بیت کے تمام پیروکاروں کا واحد عنوان “شیعہ اثنا عشریہ” ہی ٹہرا۔ شیخ مفید کتاب فرق الشیعہ کے مؤلف “حسن بن موسی نوبختی” سے ایک روایت نقل کرنے کے بعد، امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے بعد معرض وجود میں آنے والے چودہ فرقوں کے بارے میں کہتے ہیں:
جن فرقوں کا ہم نے تذکرہ کیا ان میں سے ہمارے زمانے ـ یعنی سنہ 373ھ ق ـ میں سوائے مکتب امامیہ اثنا عشریہ کے، کوئی بھی فرقہ باقی نہیں رہا ہے؛ (شیعہ اثنا عشریہ) یعنی وہ لوگ جو امام حسن عسکریؑ کے فرزند ـ جو کہ رسول اللہؐ کے ہم نام ہیں ـ کی امامت کو تسلیم کر چکے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ آپؑ زندہ اور باقی رہیں گے، اس دن تک، جب وہ تلوار لے کر اٹھیں گے۔
تشیع کے استحکام میں توقیعات کا کردار
اس زمانے میں بعض توقیعات امام زمانہؑ کی طرف سے صادر ہوئیں جن میں سے بعض کا تعلق آپؑ کی اپنی امامت کے اثبات سے تھا۔جو دلیل امام زمانہؑ نے اپنی امامت کے اثبات کے لئے پیش کی ہے وہ حضرت آدمؑ سے امام زمانہؑ کے زمانے تک ہدایت الہیہ کے راستے کے جاری رہنے اور زمین کے حجت الہیہ سے خالی نہ ہونے پر تاکید، سے عبارت ہے۔ نیز آپؑ نے امام کو امامت کے دعویداروں سے تمیز و تشخیص دینے کے لئے تین معیارات پیش کئے ہیں: عصمت، علم اور اللہ کی تائید۔
توقیعات کے دو نمونے:
ابن ابی غانم قزوینی اور اہل تشیع کی ایک جماعت نے امام حسن عسکریؑ کے جانشین کے بارے میں اختلاف کیا۔ ابن ابی غانم نے کہا: ابو محمد چل بسے ہیں اور آپؑ کا کوئی جانشین نہیں ہے۔ لوگوں نے خط لکھا اور امام زمانہؑ کی طرف روانہ کیا اور وجود میں آنے والے مالی اختلاف سے آپؑ کو آگاہ کیا۔ امام زمانہؑ نے بقلم خود جواب میں جو مکتوب بھیجا وہ کچھ یوں ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔ مجھے خبر ملی ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں نے دین میں اختلاف کیا ہے اور اپنے اولیائ امور (یعنی ائمہ) کے بارے میں شک اور حیرت کا شکار ہوگئے ہیں ۔۔۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خداوند متعال نے آدمؑ سے لے کر مجھ سے قبل کے امام تک تمہارے لئے پناہ گاہیں قرار دیں تا کہ تم ان کے سائے میں پناہ لو اور پرچم لہرائے تا کہ ان کے واسطے سے ہدایت پاؤ؛ جب بھی ایک پرچم غائب ہوا، دوسرا پرچم ظاہر ہوا اور جب بھی ایک ستارہ غروب ہوا دوسرا ستارہ طلوع ہوا۔ جب خداوند متعال اس [امامِ سابق] کو اپنے پاس بلا لیا، تم نے گمان کیا کہ گویا خداوند متعال نے اپنے دین کو باطل کر دیا ہے اور اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان رابطہ منقطع کر دیا ہے!، کبھی بھی ایسا نہ تھا اور جب تک قیامت بپا نہ ہو جائے، اور اللہ کا امر ظاہر نہ ہو جائے، ایسا نہیں ہوگا۔امام سابقؑ چل بسے ۔۔۔ اور ان کی وصیت و جانشینی اور علم و دانش ہمارے پاس ہے اور ظالم و گنہگار کے سوا کوئی بھی ان خصوصیات میں ہمارے ساتھ جھگڑا نہیں کرتا۔
محمد بن ابراہیم بن مہزیار ـ جن کے والد (ابراہیم بن مہزیار) امام عسکری ؑ کے وکیل تھے اور خود بھی والد کی وفات کے بعد وکالت کے منصب پر فائز تھے، بھی ابتداء میں امام زمانہؑ کے وجود تک کے سلسلے میں مردد تھے لیکن جب عراق میں داخل ہوئے، تو امام زمانہؑ کی طرف سے ایک توقیع ان لئے صادر ہوئی، جس میں امامؑ نے فرمایا تھا:
مہزیار سے کہئے کہ جو کچھ تم نے اپنے علاقے میں ہمارے پیروکاروں کے بارے میں کہا، ہم نے اس کو سمجھ لیا۔ چنانچہ ان سے کہو کہ تم نے نہیں سنا کہ خداوند متعال نے فرمایا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ”۔سورہ نساء، آیت 59: اے ایمان لانے والو! اطاعت کرو اللہ کی، اور اطاعت کرو رسول اللہؐ کی اور تم میں سے ان لوگوں کی جو فرمان روائی کے حقدار ہیں۔کیا ایسا نہیں ہے کہ جس چیز کا بھی اللہ نے حکم دیا ہے وہ قیامت تک کے لئے ہے؟ کیا ایسا ہے کہ خداوند متعال نے آدمؑ سے لے کر امامِ سابق (امام حسن عسکریؑ) صلوات اللہ علیہ تک، تمہارے لئے پناہ گاہیں قرار دیں جن کے سائے میں تم پناہ لے سکو اور پرچم لہرائے جن کے ذریعے تم ہدایت پا سکو؟ اور جب ایک پرچم غائب ہوا دوسرا پرچم ظاہر ہوا، اور جب بھی ایک ستارہ غروب ہوا دوسرا ستارہ طلوع ہوا؟ جب خداوند متعال نے امام سابقؑ کو اپنے پاس بلایا، تم نے گمان کیا کہ گویا خداوند متعال نے اپنے اور اپنی مخلوقات کے درمیان کا رابطہ منقطع کرلیا ہے، جبکہ ہرگز ایسا نہ تھا اور قیامت تک کبھی بھی ایسا نہ ہوگا؛اے محمد بن ابراہیم، جس مسئلے کے لئے آئے ہو، اس کے سلسلے میں شک میں نہ پڑو، کیونکہ خداوند متعال زمین کو کبھی بھی حجت سے خالی نہیں چھوڑتا۔۔
غیبت صغرا
اصلی مقالے: غیبت امام زمانہؑ، غیبت صغری، اور نواب اربعہ
اس مسئلے کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں کہ غیبت صغری کا آغاز کب سے ہوا ہے؟ ایک رائے ہے کہ غیبت صغری سنہ 255 ہجری میں امام زمانہؑ کی ولادت کے دن سے ہی شروع ہوئی ہے، اور اس لحاظ سے اس کی مدت 74 برس ہوگی، اور دوسری رائے یہ ہے کہ غیبت صغری کا آغاز سنہ 260 ہجری میں امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے دن سے ہوا ہے اور اس لحاظ سے اس دور کی مدت 69 برس ہوگی۔
شیخ مفید (متوفیٰ 413ھ) اپنی کتاب الارشاد،اور طبرسی (متوفیٰ 548 ھ) اپنی کتاب اعلام الوری میں اور بعض دیگر شیعہ اکابرِ فقہاء و محدّثین اور بہت سے مؤرخین اپنی کتب میں پہلے قول کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کے بقول غیبت صغری کی مدت 74 برس ہے۔
غیبت صغری کے زمانے میں امام مہدیؑ نائبینِ خاص کے ذریعے شیعیان اہل بیت کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کے مسائل حل فرمایا کرتے تھے۔ یہ مسائل اعتقادی، فقہی اور مالی وغیر مسائل پر مشتمل ہوتے تھے۔
انقطاع نیابت اور غیبت کبرا
اصلی مقالہ: غیبت کبری
امام مہدیؑ نے سنہ 260 ھ ق میں اپنی امامت کے آغاز سے ہی شیعیان اہل بیت کے ساتھ اپنا رابطہ ـ نائبین خاص کے ذریعے رابطے تک ـ محدود کرلیا تھا؛ اور آپ کے آخری نائب خاص علی بن محمد سمری تھے جنہوں نے پندرہ شعبان سنہ 329 ہجری قمری /15 مئی سنہ 941 عیسوی کو وفات پائی۔ ان کی وفات سے ایک ہفتہ قبل امام زمانہؑ کی جانب سے ایک توقیع صادر ہوئی جس میں آپؑ نے تحریر فرمایا تھا:
اے علی بن محمد سمری!۔۔۔ تم 6 دن بعد وفات پاؤگے۔ اسی لئے اپنے کام مکمل کرنا اور کسی سے بھی جانشین کے طور پر وصیت نہ کرنا؛ کیونکہ دوسری غیبت کا آغاز ہوچکا ہے اور کوئی ظہور نہ ہوگا سوا اس وقت کے جب خداوند متعال خود اجازت فرمائے۔۔
علی بن محمد سمری کی وفات کے بعد، نائبین خاص کے ذریعے رابطہ بھی منقطع ہوا؛ اور غیبت نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ یہ مرحلہ متاخرہ ماخذ میں، “غیبت کبری” کہلایا۔
اکثر شیعہ مآخذ کے مطابق ابوالحسن علی بن محمد سمری کا انتقال سنہ سال 329 ھ، کو ہوا لیکن شیخ صدوق[142] اور فضل بن حسن طبرسی[143] کہتے ہیں کہ ابو الحسن علی بن محمد طبرسی 15 شعبان المعظم سنہ 228 ھ ق کو خالق حقیقی سے جاملے ہیں۔
غیبت کبری میں لوگوں کے ساتھ امام کا تعلق
غیبت کبری کے زمانے میں امام زمانہؑ کے ساتھ لوگوں کے تعلق کے بارے میں دو اقوال ہیں:
اکابرین شیعہ میں سے ایک جماعت کی رائے ہے کہ غیبت کبری کے زمانے میں، امام زمانہؑ کے ساتھ رابطہ کرنے کا امکان موجود نہیں ہے اور آپؑ کے اپنے ارشاد کے مطابق، دیدار کے دعویداروں کو جھٹلانا چاہئے۔ جن بزرگوں نے اس رائے کو قبول کیا ہے ان میں یہ افراد شامل ہیں: محمد بن ابراہیم نعمانی، کتاب کتاب الغیبہ میں؛ شیخ مفید المسائل العشرہ، شیخ مفید غیبت کبری میں امام زمانہؑ کی ملاقات کا امکان آپؑ کے خادمین اور معتبر ملازموں کے لئے مختص سمجھتے ہیں۔ ؛ فیض کاشانی، کتاب الوافی میں؛ جعفر کاشف الغطاء، کتاب رسالۃ الحق المبین میں۔ اکابرین کی اس جماعت کی دلیل، متعدد روایات نیز علی بن محمد سمری کے نام امام زمانہؑ کی آخری توقیع، سے عبارت ہے۔
شیعہ علماء کے ایک گروہ کی رائے ہے کہ غیبت کبری میں بھی امام زمانہؑ کے ساتھ ارتباط ممکن ہے۔ یہ قول متاخرین کے نزدیک مشہور ہے اور محمد بن علی کراجکی، شیخ طوسی اور دیگر علماء نے اس نظریئے کے قائل ہوئے ہیں اور کہتے ہیں: کہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ امامؑ کو کوئی بھی نہیں پہچانتا اور کوئی بھی آپؑ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتا، بلکہ جائز ہے کہ آپؑ کے کچھ دوست اور اولیاء آپؑ سے ملاقات کریں اور ان کا یہ دیدار مخفی رہے۔
ظہور امام زمانہ
اصلی مقالے: ظہور امام زمانہؑ اور قیام امام مہدی(عج)
ظہور امام زمانہؑ کے بارے میں بکثرت نقل ہونے والی روایات کے علاوہ، شیعہ مفسرین، اہل بیت کے اقوال و احادیث سے اس کی طرف استناد کرتے ہیں، قرآن کریم نے بھی ظہور کی نشانیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ شیعہ روایات کے مطابق، ظہور کی آمد پر دنیا کی تین اہم خصوصیات ہیں:
ظلم و ستم پھیل جائے گا اور فتنہ، جو ہر گھر پر وارد ہوگا؛
سفیانی اور نواصب کا خروج، اور عراق سمیت ديگر سرزمینوں میں تشیّع کے خلاف سرگرم عمل دشمنوں کی سرگرمیاں جو شام پر قابض ہوکر وہاں کی حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیں گے۔
امام زمانہؑ کے وہ اولیاء اور اصحاب جو اسلامی سرزمینوں میں آپؑ کی یاد اور آپؑ کے نام کو زندہ رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں پھیلا دیتے ہیں۔
اقوال، کلمات اور مکتوبات
اصلی مقالہ: توقیعات امام زمانہؑ
اگرچہ لفظ “توقیع” ائمہ اور بالخصوص امام زمانہؑ کے مکتوبات کے معنی میں استعمال ہوا ہے، لیکن یہ لفظ امام زمانہؑ کے غیر مکتوب کلام کے لئے بھی استعمال ہوتا رہا ہے اور جن مآخذ میں بارہویں امامؑ کی توقیعات کو اکٹھا کیا گیا ہے (منجملہ: شیخ صدوق کی کمال الدین اور شیخ علی الکورانی کے زیر نگرانی تالیف شدہ معجم احادیث الامام المهدی)، ان میں آپؑ کے غیر مکتوب کلمات، حتی کہ نائبین خاص کے کلام کو بھی توقیعات کے زمرے میں ذکر کیا گیا ہے۔امام زمانہؑ کی زیادہ تر توقیعات ـ جن کی تعداد 80 کے قریب ہے ـ غیبت صغری کے دور میں، اعتقادی، فقہی اور مالی موضوعات کے سلسلے میں صادر ہوئی ہیں۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں مقام و منزلت
قرآن
قرآن کریم
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ﴿5﴾ وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ﴿6﴾
اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں* اور انہی کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون وہامان اور ان کے لشکروں کو ان ہی کمزوروں کے ہاتھوں سے وہ منظر دکھلائیں جس سے یہ ڈر رہے ہیں۔
قصص
امام زمانہؑ اور آخر الزمان کے نجات دہندہ کا مسئلہ قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوا ہے لیکن شیعہ مفسرین احادیث سے استناد کرتے ہوئے اس حقیقت کے قائل ہیں کہ قرآن کی بہت سی آیات امام زمانہؑ کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ 250 [یا 260] آیات قرآنی کا تعلق امام مہدیؑ سے ہے۔مفسرین قرآنی آیات کی دو قسموں سے امام مہدیؑ کے وجود مبارک اور مسئلۂ ظہور کے لئے استفادہ کرتے ہیں: 1۔ وہ آیات کریمہ جو امام کے وجود پر تاکید کرتی ہیں
قرآن کریم کی آیات کے مطابق، خداوند متعال نے ہر امت کے لئے ایک فرد منتخب کیا ہے جو اس کی ہدایت کا ذمہ اٹھائے ہوئے ہے: “وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ترجمہ: اور ہر قوم کا ایک [برگزیدہ] راہنما ہوتا ہے[؟–7]”۔ اس آیت کی تفسیر میں امام صادقؑ نے فرمایا: ہر زمانے میں ہمارے خاندان میں سے ایک امام موجود ہوتا ہے جو لوگوں کو ان حقائق کی طرف ہدایت دیتا ہے جو رسول خداؐ اللہ کی طرف سے لائے ہیں۔
ایک دلیل جو مفسرین امام کی ضرورت کے لئے پیش کرتے ہیں، یہ ہے کہ قرآن کے لئے مُبَیِّن اور مُفَسِّر کی ضرورت ہے اور امام کے سوا کوئی بھی قرآن کریم کے تمام معانی اور خصوصیات سے آگاہ نہیں ہے۔ پس عقل کے تقاضوں کے مطابق، رسول اللہؐ کے بعد امام کا ہونا لازم اور ضروری ہے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق، امامت عالم وجود کے امن و سکون کا سرمایہ اور فیض خداوندی کے حصول کا واسطہ ہے اور اللہ کی نعمات اور برکات ان کے واسطے سے انسان کو ملتی ہیں اور اگر دنیا لمحہ بھر امام کے وجود سے خالی ہو جائے تو وہ اپنے باسیوں کو نگل لے گی۔
2۔ “روئے زمین پر حکومتِ صالحین و مؤمنین کی بشارت دینے والی آیات”
شیعہ مفسرین قرآن کریم کی دسیوں آیات کے حوالے سے، ظہور امام زمانہؑ کو قابل استناد سمجھتے ہیں؛ وہ آیات کریمہ جو صالح اور مستضعف بندوں کو اپنا حق حاصل کرنے اور حق و عدل پر استوار، واحد عالمی حکومت کی تشکیل اور تمام ادیان و مکاتب پر اسلام کے غلبے پر مرکوز ہیں۔ قرآن کے بیان میں، یہ بشارت بعض دیگر آسمانی کتب میں بھی نازل ہوئی ہے: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ[؟–105] ترجمہ: اور بے شک ہم نے توریت کے بعد زبور میں بھی یہ لکھ دیا ہے کہ میرے نیک بندے زمین کے وارث ہوں گے؛ اور اس بشارت کو قرآن میں اللہ کے دیئے ہوئے وعدے سے مستند کیا گیا ہے: وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَقصص ترجمہ: اور ہم نے چاہا کہ احسان کریں ان پر جنہیں روئے زمین پر، دبایا [یا پیسا یا ضعیف کیا] گیا تھا اور ان ہی کو پیشوا قرار دیں، ان ہی کو وارث قرار دیں۔ ان آیات کریمہ میں، بہت سی احادیث کی بنیاد پر، مسئلۂ ظہور سے نسبت دی گئی ہے۔
ایک آیت میں خداوند متعال اپنے مؤمن بندوں کے لئے، مؤمنین اور صالحین کی حکومت کے قیام کو اللہ کے وعدے کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور انہیں امن و سکون کی بشارت دی گئی ہے: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاًنور55″ ترجمہ: اللہ کا وعدہ ہے تم میں ان افراد سے جو صاحب ایمان ہیں اور نیک اعمال بجا لاتے رہے ہیں کہ وہ ضرور انہیں روئے زمین پر [اپنا] جانشین قرار دے گا جس طرح انہیں خلیفہ بنایا تھا جو ان کے پہلے تھے اور ضرور اقتدار [اور تسلط] عطا کرے گا ان کے پسندیدہ دین کو، اور ضرور بدل دے گا ان کے لئے ان کے ہر خوف کو امن و اطمینان میں؛ وہ میری عبادت کریں گے اس طرح کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ ائمۂ اطہارؑ سے منقولہ احادیث نے اس آیت کریمہ کو امام زمانہؑ اور آپؑ کے اصحاب پر منطبق کیا ہے۔
احادیث
امام زمانہؑ کا موضوع اسلام اور بالخصوص مکتب امامت کے قدیم ترین اور بنیادی مباحث میں شامل ہے۔ چونکہ امام زمانہؑ کے ظہور کا وعدہ رسول اللہؐ نے دیا ہے، چنانچہ ابتداء ہی سے یہ مسلمانوں کے ہاں زبانزد تھا اور آپؑ کی ولادت سے قبل ہی شیعہ علماء نے دسیوں کتابیں آپؑ کے بارے میں تحریر کی ہیں اور آپؑ کی ولادت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور بارہویں امام سے متعلق مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں؛ جن میں سے بعض معتبر ترین کتابیں حسب ذیل ہیں:
کمالُ الدِّين و اتمامُ النِّعمہ
الغيبہ
الفُصُولُ العشرہ فی الغيبہ
المسائل العشرہ فی الغيبہ
أربع رسالات فی الغيبہ
الغيبہ للحُجَّہ
مُعجمُ الأحاديث الامام المهدی
بحارالانوار (مجلدات 51، 52، 53)
منتخب الاثر
شیعہ احادیث میں امام زمانہؑ کی شان و منزلت اور اہمیت پر بہت زیادہ بحث ہوئی ہے۔ان احادیث میں ذیل کے موضوعات کا جائزہ لیا گیا ہے:
امام زمانہؑ کی شخصیت
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ؐ: المَهدیُ رَجُلٌ مِن وُلدِی وَجهُهُ کَالکَوکَبِ الدُّرِّیِّ ترجمہ: مہدی میری اولاد میں سے ایک فرد ہیں، جن کا چہرہ تابندہ ستارے کی مانند ہے۔
امام زمانہؑ کے منتظرین کی شخصیت
قال الامام الکاظمؑ: لَو کانَ فِیکُم عِدَّةُ أهلِ بَدرٍ لَقامَ قائِمُنا ترجمہ: امام کاظمؑ نے فرمایا: اگر اہل بدر کی تعداد کے برابر [مؤمنین کامل] کی جماعت تمہارے درمیان ہوتی، ہمارے قائم قیام کرتے۔
انتظار فَرَج کی منزلت اور فضیلت
قال امام صّادق ؑ: مَنْ مَاتَ مُنْتَظِراً لِهَذَا الْأَمْرِ کَانَ کَمَنْ کَانَ مَعَ الْقَائِمِ فِی فُسْطَاطِهِ لَا بَلْ کَانَ بِمَنْزِلَةِ الضَّارِبِ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّهِ ص بِالسَّیْفِ ترجمہ: امام صادقؑ نے فرمایا: جو شخص اس امر (یعنی ظہور قائم) کا انتظار کرتا ہوا دنیا سے رخصت ہو جائے، وہ اس شخص کی مانند ہے جو قائم کے ساتھ ایک خیمے میں ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، اس شخص کی مانند ہے جو رسول اللہؐ کی خدمت میں شمشیر اٹھا کر جہاد کر چکا ہے”۔
ظہور کی نشانیاں
عن محمد بن مسلم قال: سمعت أبا عبد اللّه عليہ السلام يقول: إنّ قدّام القائم علامات تكون من اللّه تعالى للمؤمنين؛ قلت: فما هي جعلني اللّه فداك؟ قال: ذاك قول اللّه عزّ و جل: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ؛يعني المؤمنين قبل خروج القائم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَبقرہ155؛ ترجمہ: محمد بن مسلم کہتے ہیں: میں نے امام صادقؑ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قائم کے ظہور سے قبل کچھ علامات ظاہر ہونگی؛ میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، وہ علامات کیا ہیں؟ فرمایا: اللہ تعالی کا یہ ارشاد کہ “اور ہم تمہیں ضرور بالضرور آزمائیں گے” یعنی قیامِ قائم سے قبل تم مؤمنین کو؛ خوف، دہشت، بھوک اور مال و جان اور پھلوں کی کمی جیسی کسی چیز کے ساتھ، اور خوشخبری دیجیئے ان کو جو صبر کرنے والے ہیں۔
زمانۂ ظہور کے واقعات
قال امام باقر ؑ: إذا وَقَعَ أمرُنا وجاءَ مَهدِیُّنا کانَ الرَّجُلُ مِن شیعَتِنا أجرأَ مِن لَیثٍ وأمضی مِن سِنانٍ یَطَأُ عَدُوَّنا بِرِجلَیهِ وَیضرِبُهُ بِکَفَّیهِ وذلِکَ عِندَ نُزولِ رَحمَةِ اللّه ِ وفَرَجِهِ عَلَی العِبادِ امام باقرؑ نے فرمایا: جب لوگوں کے امور کی زمام ہمارے ہاتھ آئے گی اور ہمارے مہدی آئیں گے، ہمارے شیعوں میں سے ہر ایک شیر سے زیادہ جری اور شمشیر و سنان سے زیادہ بُرّاں ہو جائے گا؛ وہ ہمارے دشمنوں کو اپنے پاؤں تلے روند لیں گے اور اپنے ہاتھوں سے ان کو ضربیں رسید کریں گے؛ اور یہی وہ زمانہ ہے جب اللہ کی رحمت اور کشادگی و فراخی اس کے بندوں پر اتر کر آئے گی۔
ظہور کے بعد کی دنیا
قال رسولُ اللّهِ ؐ: یَخرُجُ فی آخرِ اُمّتی المَهدیُّ، یَسْقیهِ اللّه ُ الغَیْثَ، وتُخرِجُ الأرضُ نَباتَها، ویُعطَی المالُ صِحاحا، وتَکْثُرُ الماشِیَةُ، وتَعْظُمُ الاُمّةُ میری امت کے آخر میں مہدی ظہور کرے گا؛ خداوند اس کو بارش عطا کرے گا، زمین اپنے نباتات کو پروان چڑھائے گی، مال کمی اور زيادتی کے بغیر اور مساوات کے ساتھ عطا ہوگا، مال مویشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور امت سربلند ہوگی اور عظمت پائے گی۔
راز و نیاز اور رابطہ
نیز دیکھیں: عریضہ، نماز امام زمانہ، غیبی امداد، مسجد جمکران، عریضہ کا کنواں، مہدویت کے دعویدار، نیابت کے دعویدار
شیعہ زمانۂ عصرِ غیبت میں، رسول اللہؐ اور دیگر معصومین ـ بالخصوص امام زمانہؑ سے توسل کرتے ہیں اور آپؑ کی خصوصی دعاؤں اور توجہات کی التجا کرتے ہیں؛ جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: “وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (ترجمہ: اور کہیئے کہ تم عمل کرتے رہو، اللہ بہت جلد دیکھے گا تمہارے عمل کو اور اس کا پیغمبر اور ایمان والے [دیکھیں گے] اور بہت جلد تم پلٹائے جاؤ گے غائب و حاضر ہر بات کے جاننے والے کی طرف تو وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا اعمال کرتے تھے)۔ چونکہ آیت کریمہ میں لفظ “فَسَیری” میں حرف “سَ” خدا، رسول خداؐ اور مؤمنین کے لئے یکسان طور پر استعمال ہوا ہے اور خداوند متعال اب اسی وقت تمام موجودات کے حال سے آگاہ ہے، رسول خدا اور مؤمنین کا علم بھی مذکورہ آیت میں اسی طرح کا اور فعلی ہے؛ اور چونکہ تمام مؤمنین اس طرح کے علم کے حامل نہیں ہیں، چنانچہ آیت میں مؤمنین سے مراد معدودے چند مؤمنین ہیں جن کے بہترین مصادیق ـ احادیث کی رو سے ـ اہل بیت بیان کئے گئے ہیں۔ اور متعدد روایات ـ جن میں سے کچھ اصول کافی (بَابٌ فِی أَنّ الْأَئِمّةَ شُهَدَاءُ اللّهِ عَزّ وَجَلّ عَلَی خَلْقِهِ = باب بعنوان: “ائمہ اللہ کی مخلوقات پر اس کے گواہ ہیں “) میں اکٹھی کی گئی ہیں ـ ظاہر کرتی ہیں کہ ائمہ اللہ کے اذن و اجازت سے انسانوں کے حالات و کیفیات سے باخبر ہیں اور افراد کے مادی اور معنوی حالات میں مؤثر ہو سکتے ہیں اور جس قدر ان کی اطاعت و پیروی اور توسل اور تعلق زیادہ ہو، ان آثار میں اضافہ بھی ہوگا۔ دعائے عہد، دعائے توسل، نماز امام زمانہ اور مسجد جمکران [نیز مسجد سہلہ وغیرہ] میں حاضری، زیارت آل یاسین کی قرائت، امام زمانہؑ کی سلامتی کے لئے صدقہ، نصف شعبان کے لئے محافل جشن کا انعقاد، اس سلسلے میں کہے ہوئے بے شمار اشعار، امام زمانہؑ کے ساتھ رابطے اور راز و نیاز کی جھلکیاں ہیں۔
امام زمانہ کے ساتھ راز و نیاز کے بعض آداب
موسوی اصفہانی اپنی کتاب مکیال المکارم میں امام زمانہؑ کے ساتھ رابطے اور راز و نیاز کے بعض آداب کا تذکرہ کیا ہے جن میں کچھ آداب حسب ذيل ہیں:
امام زمانہؑ کی بہتر معرفت؛
امام زمانہؑ کے اخلاق و کردار کی پیروی؛
امام زمانہؑ کو یاد رکھنا، اور آپؑ اور دیگر معصومینؑ کی تکریم و تعظیم کی مجالس منعقد کرنا یا منعقدہ مجالس میں شرکت کرنا؛
امام زمانہؑ کو یاد کرتے ہوئے ادب کو ملحوظ رکھنا؛
امام زمانہؑ کی زیارت کا مشتاق ہونا؛
امام زمانہؑ کے ظہور کا انتظار؛
غیبت اور ظہور کے زمانے میں امام زمانہؑ کی نصرت کا قلبی ارادہ؛
دوسرے شیعیان اہل بیت کی مدد و نصرت کا اہتمام کرتے رہنا؛
ظالموں اور باطل کے علمبرداروں کا مقابلہ کرنا؛
امام زمانہؑ کے لئے دعا کرنا؛
غیبت کے دوران کے ناقابل برداشت میں صبر کرتے رہنا؛
وقتِ ظہور کا تعین کرنے سے پرہیز کرتے رہنا؛
امام زمانہؑ کی نیابت میں زیارت بجا لانا؛
امام زمانہؑ کی سلامتی کے لئے صدقہ دینا؛
خاص اور معینہ مقامات پر امام زمانہؑ سے توسل اور آپؑ کی طرف توجہ دینے کا اہتمام کرتے رہنا؛
امام زمانہؑ کے لئے مخصوص دعاؤں اور زیارات کی قرائت کا اہتمام کرنا۔
امام زمانہؑ کا دیدار
مفصل مضمون: امام زمانہؑ کا دیدار
غیبت کبری سے پہلے دیدار
شیعہ کتب تاریخ و حدیث منجملہ: الکافی، الارشاد، اعلام الوری، کمال الدین، الغیبہ طوسی و الغیبہ نعمانی میں بعض افراد کے نام مذکور ہیں جنہوں نے امام حسن عسکریؑ کے ایام حیات میں آپؑ کے فرزند ارجمند حضرت مہدیؑ کا دیدار کیا ہے؛ ان لوگوں کے دیدار کی تفصیل بھی بیان ہوئی ہے؛ ان ہی میں سے ایک امام عسکریؑ کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتونہیں جو امام زمانہؑ کی ولادت کی عینی گواہ ہیں۔ ان افراد میں زیادہ تر امام حسن عسکریؑ کے اصحاب خاص اور خدام شامل ہیں: امام عسکریؑ کے خادم ابو نصر ظریف،احمد بن اسحاق اشعری قمی،ابو علی بن مطہر،سعد بن عبداللہ اشعری قمی،یعقوب بن منقوش، خادم ابو غانم، کامل بن ابراہیم،وغیرہ۔
علاوہ ازیں مروی ہے کہ غیبت صغری کے 69 برسوں کے عرصے میں امامؑ کے چار نائبین خاص سمیت متعدد دوسرے افراد نے امام زمانہؑ کے ساتھ ملاقات کا شرف حاصل کیا ہے؛ جیسے: ابراہیم بن ادریس،ابراہیم بن عبدہ نیشابوری اور ان کے خادم، امام حسن عسکریؑ کے خادم ابو الادیان،ابو سعید غانم ہندی،ابو عبداللہ بن صالح،ابو محمد حسن بن وجناء نصیبی،ابو علی محمد بن احمد بن حماد مروزی محمودی، اسمعیل بن علی نوبختی،علی بن ابراہیم بن مہزیار، محمد بن اسمعیل بن موسی الکاظم|محمد بن اسماعیل بن امام کاظمؑ، محمد بن شاذان نیشابوری،اور بہت سے مختلف ممالک کے دوسرے افراد۔
مفصل مضمون: نیابت کے دعویدار
غیبت صغری کے زمانے میں نیابت کے دعویداروں کی بھی کمی نہ تھی۔ محمد بن نصیر نمیری، احمد بن ہلال کرخی، اور محمد بن علی شَلمَغانی نیابت کے دعویدار تھے اور ان کے لعن اور دور بھگانے پر متعدد توقیعات وارد ہوئیں۔
غیبت کبری میں ملاقات
غیبت کبری کے زمانے میں امام زمانہؑ کے دیدار کے بارے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ ملاقات کا سرے سے انکار کرتا ہے اور دوسرا نظریہ ملاقات کے امکان اور وقوع کے اثبات کے لئے دلائل اور شواہد پیش کرتا ہے۔ ملاقات کا انکار کرنے والے کبھی اپنے نظریے کے اثبات کے لئے بعض احادیث سے استناد کرتے ہیں جن کی رو سے غیبت کبری کے زمانے میں مشاہدہ کرنے والے کو جھوٹا کہا گیا ہے۔اور کبھی راوی کی صداقت میں شک و شبہہ اس نظریے کی بنیاد ٹہرا ہے؛ اور پھر بعض علماء موقع پرستوں کی منفعت پسندی کا سد باب کرنے کے لئے ہر قسم کے دیدار کا انکار کرتے ہیں۔ادھر بعض احادیث اور دعاؤں امام زمانہؑ کے دیدار کے لئے بعض اعمال کی تلقین کی گئی ہے،اور کم از کم دو معتبر حدیثوں میں امامؑ کے خاص پیروکاروں کے لئے امامؑ تک رسائی اور آپؑ سے ملاقات کو امرِ ممکن جانا گیا ہے۔شیخ صدوق، شیخ مفید اور شیخ طوسی جیسے اکابرین نے اپنی کتابوں میں امامؑ کا دیدار کرنے والوں کے لئے الگ ابواب متعین کئے ہیں اور غیبت کبری میں ملاقات کو ممکن قرار دیا ہے۔بہت سی روایات بھی نقل ہوئی ہیں جن سے نمایاں ہوتا ہے کہ بڑے علماء سے لے کر معمولی افراد تک امام زمانہؑ کو دیکھا ہے۔ شیخ حر عاملی، سید عبداللہ شبر اور آیت اللہ لطف اللہ صافی گلپایگانی کا کہنا ہے کہ دیدار امام زمانہؑ سے متعلق روایات تواتر کی حد تک پہنچی ہیں۔اس نظریے کے قائل بعض افراد کے نام حسب ذیل ہیں:
دعائیں اور زیارات
زیارات جامعہ کے علاوہ ـ جن سے تمام ائمہ کی زیارت کی جاسکتی ہے، امام زمانہؑ کے ساتھ رابطے اور راز و نیاز کے لئے مختلف قسم کی دعائیں اور زیارات نقل ہوئی ہیں جن میں سے اہم ترین دعاؤں اور زیارات کے عنوان حسب ذیل ہیں:
دعائے ندبہ ،دعائے فَرَج ،استغاثہ امام زمن: “سَلامُ اللهِ الکامِلُ التّام”،زیارت آل یٰس،دعائے غریق،دعائے عہد،صلوات مخصوص امام زمانہ ،زیارت روزِ جمعہ
ناحیہ مقدسہ سے بھی مختلف دعائیں اور زیارات صادر ہوئی ہیں؛ جیسے دعائے فَرَج (اَللّهُمَّ عَظُمَ البَلاء)، دعائے “یا مَن أظهَرَ الجَمیلَ”، دعائے “اَللّهمّ رَبَّ النّورِ العَظیم”، دعائے “اَللهُمّ ارزُقنا تَوفیقَ الطاعَةِ”، دعائے سہم اللیل، رجب کے ہر روز کی دعا۔ دعائے “اَللهمّ إنّی اَسألُكَ بِالمَولودَینِ فی رَجَب”، دعائے “اَللهمّ إنّی اَسألُكَ بِمَعانی جَمیعِ ما یَدعوكَ بِهِ وُلاةُ أمرِكَ”، زیارت ناحیہ مقدسہ اور زیارت الشہداء۔
انتظار
اصلی مقالہ: انتظار فرج
اسلامی تعلیمات میں انتظارِ فَرَج بمعنی نامساعد حالات میں کشادگی اور فراخی کی امید، آیات اور روایات میں مسلسل دہرائے جانے والے مفاہیم میں سے ہے۔
شیعہ تعلیمات میں اس انتظار کا اہم ترین مصداق، ظہور امام زمانہؑ کے ساتھ سختیوں کے خاتمے اور کشادگی نیز روشن مستقبل کی امید ہے۔ اس طرح کے انتظار اور منتظر کے لئے بعض خاص اصطلاحات روایات میں وارد ہوئی ہیں؛ جیسے: اَلْمُنتظَرُ لِأمْرِنا ، مُنتظِرٌ لِهذا الاَمر، اِنْتِظارُ قائِمِنا، تَوَقُّعُ الْفَرَج، اَلمُنتظِرینَ لِظُهورِهِ، مُنْتظِرونَ لِدَوْلَةِ الْحَق اور اَلمُنتظِرُ لِلّثانی عَشَر ۔ان روایات میں منتظرین کے لئے بہت زیادہ ثواب کا وعدہ دیا گیا اور انہیں اولیاء اللہ اور لوگوں کے درمیان بہترین افراد، شمار کیا گیا ہے جو جنگ بدر میں رسول اللہؐ کے صحابہ کی مانند ہیں یا جہاد کے موقع پر امام زمانہؑ کے خیمے مین مقیم ہیں اور آپؑ کے ہمراہ جنگ لڑ رہے ہیں۔
انتظارِ فَرَج اور کشادگی اور امن و سکون کی امید فردی بھی ہوسکتی ہے اور عمومی بھی اور صرف اس شرط پر، تعمیری ہوگی کہ کوشش اور جدوجہد نیز مکمل تیار کے ساتھ ہو اور اگر تاخیر ہوئی تو مؤمنین مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ اس طرح کے انتظار و امید اور کوشش اور جدوجہد فرد اور معاشرے کے کمال و ارتقاء کے اسباب فراہم کرے گی۔
نیمہ شعبان
15 شعبان کا جشن
مفصل مضمون: نیمہ شعبان
جیسا کہ ولادت کے حصے میں مذکور ہوا، قول مشہور یہ ہے کہ امام زمانہؑ کی ولادت پندرہ شعبان کے دن [بوقت فجر] ہوئی ہے۔ شیعہ اس روز کو اہم ترین عیدوں کے زمرے میں شمار کرتے ہیں اور اس کی رات وسیع چراغاں اور نیز رات اور دن کو جشن، شعر خوانی، نذر و نیاز اور قربانی اور غرباء کو کھانا کھلانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ مراسمات ایران میں دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ وسیع سطح پر منعقد کئے جاتے ہیں۔ جشن و سرور کے ان مراسمات کا بڑا حصہ ملک بھر کے شہروں کے مذہبی مقامات، گلی محلوں اور بازاروں میں منعقد ہوتے ہیں۔ [قم کے نواح میں واقع] مسجد جمکران مہدویت کے جشن کی سب سے بڑی ميزبانی کا انتظام کرتی ہے۔ اس روز ایران میں عام تعطیل قرار پائی ہے اور اس دن کو “مستضعفین کا عالمی” دن کہا جاتا ہے۔ عراق میں بھی شیعیان اہل بیت جشنِ نیمہ شعبان کے انعقاد کے ساتھ ساتھ امام حسینؑ کی زیارت کے لئے چلے جاتے ہیں۔ بحرین، یمن، مصر، لبنان، شام اور ہندوستان نیز پاکستان میں بھی وسیع سطح پر جشن نیمہ شعبان کا اہتمام کیا جاتا ہےاور پاکستان اور ہندوستان میں نیمہ شعبان کی رات کو شب برات بھی کہا جاتا ہے اور خاص قسم کے مراسمات کا انعقاد ہوتا ہے۔
امام زمانہؑ اور دیگر مذاہب
شیعہ فرقے
زیدیہ اور اسماعیلیہ جیسے شیعہ فرقے مہدویت کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے، امام زمانہؑ کے موعود ہونے اور موعود کے مصداق کے تعین میں امامیہ کے ساتھ اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ زیدیہ کی بعض شاخوں سمیت کچھ شیعہ فرقے، ماضی میں امام مہدیؑ کی ولادت اور آپؑ کی غیبت کو نہیں مانتے اور ان کا صرف یہی عقیدہ ہے کہ امام زمانہؑ موعود ہیں اور آخر الزمان میں ظہور کریں گے چنانچہ وہ بارہویں امام یعنی محمد بن حسن عسکریؑ پر ـ امامیہ کی مانند ـ امام موعود اور امام منتظَر کے مصداق کی تطبیق کو یا تو سرے سے مسترد کرتے ہیں یا کم از کم اس کی تائید و تصدیق نہیں کرتے۔ ان کا صرف یہی عقیدہ ہے کہ امام منتظَر آخر الزمان میں پیدا ہونگے اور اٹھ کر قیام فرمائیں گے۔
بحیثیت مجموعی، زیدیہ میں مہدویت کا عقیدہ، مہدویتِ نوعیہ ہے۔ وہ سلسلۂ امامت کے آخری امام کو ـ جو پورے عالم کو عدل و انصاف سے پر کرے گا ـ مہدی موعود سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ہر سید جو لوگوں کو اپنی جانب بلائے اس کی پیروی کرنا لازمی ہے؛ ممکن ہے کہ وہی مہدی موعود ہوگا:اگر اس نے دنیا کو عدل و انصاف سے پر کیا تو اس کا موعود ہونا ثابت ہوجائے گا اور بصورت دیگر، امام منتظر کوئی دوسرا سید ہوگا۔
تاریخ اسلام کی ابتداء سے زیدیہ کی بعض جماعتیں، مختلف تحریکوں میں مارے جانے والے اپنے بعض ائمہ کی مہدویت کا دعوی کرتی تھیں اور ان کا خیال تھا کہ یہ کسی دن پلٹ آئیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے پر کریں گے۔ وہ زید بن علی، نفس زکیہ،محمد بن قاسم بن علی بن عُمر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (متوفیٰ 219ھ ق)،یحیی بن عمر بن یحیی بن حسین بن زید بن علی بن الحسین (متوفیٰ 250ھ ق)،ور حسین بن قاسم عیانی (متوفیٰ 404ھ ق) کی مہدویت [مہدی ہونے] کا دعوی کرتے ہیں۔
اہل سنت
اہل سنت کے مصادر حدیثی میں امام مہدیؑ اور منجی آخری الزمان کے سلسلہ میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔ ابری شافعی، عبد الحق دھلوی، سقارینی اور شوکانی جیسے اہل سنت کے بعض بزرگ محدثین ان روایات کے متواتر ہونے کے سلسلہ میں تصریح کی ہے۔ اہل سنت ان روایات کی وجہ سے مہدی کے وجود کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس موضوع کے سلسلہ میں شیعہ سنی عقیدہ کے مطابق مہم ترین مشترک خصوصیات یہ ہیں: وہ پیغمبر اکرم ؐ کی اولاد میں سے اور ان کے ہم نام ہوں گے اور ان کا لقب مہدی ہوگا۔ آخری زمانہ میں حتمی طور پر وہ قیام کریں گے اور تمام ظالمین پر کامیاب ہوں گے اور دنیا میں عدل و انصاف قائم کریں گے۔ جس طرح سے وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہوگی اور وہ حضرت عیسیؑ کے ہمراہ زمین پر لوٹ کر آئیں گے۔
ان روایات کے وہ اختلافی پہلو جو شیعوں کے عقیدہ کے خلاف ہیں:
پیغمبر اکرم ؐ کے ہمنام ہونے کے علاوہ ان کے والد کا نام بھی آپ کے والد کے نام کی طرح عبد اللہ ہوگا، جبکہ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ امام حسن عسکریؑ کے بیٹے ہیں۔
اہل سنت کا ایک گروہ ان کے امام حسنؑ کی نسل سے ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے۔
اہل سنت کے مشہور نظریے کے مطابق مہدی آخری زمانہ میں پیدا ہوں گے اور وہ امام حسن عسکری کے فرزند نہیں ہیں۔
اہل سنت کی ایک قلیل تعداد نے عقیدہ مہدویت اور اس سلسلہ کی روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ان میں ابن خلدون کی تاریخ میں اور رشید رضا کی تفسیرالمنار شامل ہیں۔
مستشرقین
بعض مستشرقین کی تحقیق کا موضوع ہی مسئلۂ مہدویت رہا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے مختلف نظریات قائم کئے ہیں: ہنری کوربن (Henry Corbin) مظہریاتی (Phenomenological) نقطۂ نظر سے، مہدویت کو شیعہ عرفان و فلسفے کے نہایت بنیادی اعتقادی عناصر کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔ ان کی نظر سے “مہدویت دین کے باطن اور ظہور امام کی تفسیر کے معانی میں، انسانی حیات کی تجدید ہے۔
کوربن کا کہنا ہے کہ ظہور کے ساتھ، وحیِ الہی کے تمام خفیہ اصول یا معنوی معانی، آشکار ہوجائیں گے۔
فرانسیسی مصنف “جیمز ڈارمسٹٹر” (James Darmesteter)، تاریخی نقطۂ نظر سے، سمجھتے ہیں کہ مہدویت کا تذکرہ قرآن میں نہیں آیا ہے اور پیغمبر اسلام کے اقوال میں بھی اس کے کوئی واضح علائم موجود نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مہدویت کا عقیدہ شیعہ افکار کا پیدا کردہ اور ایرانی اساطیر اور افسانوں سے متاثر ہے۔
ولندیزی مستشرق فان فلوٹن (Gerlof van Vloten) کا دعوی ہے کہ مہدویت کا تفکر کوفی شیعوں نے رائج کیا ہے تا کہ شام میں مقیم اموی حکمرانوں کا مقابلہ کرنے کی غرض سے، اس کی ممکنہ قوتوں اور صلاحیتوں سے، فائدہ اٹھا سکیں۔
ہنگری کے یہودی مستشرق ایگناز گولڈزیہر (Ignaz Goldziher) تاریخی نقطۂ نظر سے، سمجھتا ہے کہ عقیدہ مہدویت کی جڑیں یہودی اور عیسائی فکری عناصر میں پیوست ہیں اور اس میں زرتشتیوں کے یہاں زیر بحث سوشیانس کی بعض خصوصیات بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔
برطانوی پروفیسر ڈیوڈ ساموئل مارگولیتھ (David Samuel Margoliouth) کا کہنا ہے کہ عقیدہ مہدویت محمد بن حنفیہ کے زمانے میں مختار اور فرقۂ کیسانیہ میں مذکورہ محمد بن حنفیہ کے حامیوں کے ذریعے معرض وجود میں آیا ہے، جنہوں نے ان کے مارے جانے کے بعد انہیں مہدی کا لقب دیا۔
متعلقہ مضامین :غیبت امام زمانہؑ: نواب اربعہ: رجعت:آخر الزمان:انتظار فرج:ظہور امام زمانہؑ: دجال:سفیانی کا خروج: مہدویت کے جھوٹے دعویدار: جنگ قرقیسی
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اقول زریں امام زمان علیہ السلام
زمین پر خدا کی حجت علیہ السلام :
عالم غیب کے رہبر کو علیؑ کہتے ہیں
اقول زریں امام زمان علیہ السلام
قال الامام المهدي و عجّل اللّٰه تعالى فرجه الشّريف:
الَّذى يَجِبُ عَلَيْكُمْ وَ لَكُمْ أنْ تَقُولُوا: إنّا قُدْوَةٌ وَ أئِمَّةٌ وَ خُلَفاءُ اللّٰهِ فى أرْضِهِ، وَ اُمَناؤُهُ عَلى خَلْقِهِ، وَ حُجَجُهُ فى بِلادِهِ، نَعْرِفُ الْحَلالَ وَالْحَرامَ، وَ نَعْرِفُ تَأويلَ الْكِتابِ وَ فَصْلَ الْخِطاب۔
ترجمہ : امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا: تم پر واجب ہے اور تمہارے حق میں بہتر ہے کہ اس حقیقت کے قائل ہوجاؤ کہ ہم اہل بیت قائد و رہبر اور تمام امور کی اساس و محور ہیں، اور روئے زمین پر خلفاء اللہ، خدا کی مخلوقات پر اس کے امین اور شہروں اور قریوں میں اس کی حجت ہیں، ہم حلال و حرام کو جانتے اور سمجھتے ہیں اور قرآن مجید کی تفسیر و تأویل کی معرفت رکھتے ہیں۔
۔خاتم الاوصیاء کے صدقے میں بلائیں ٹل جاتی ہیں:
قالَ عليه السلام : أنَا خاتَمُ الاَْوْصِياءِ، بى يَدْفَعُ الْبَلاءُ عَنْ أهْلى وَشيعَتى۔
فرمایا: میں نبی اکرمؐ کا آخرین وصی اور خاتم الاوصیاء ہوں اور میرے صدقے میری اہل اور میرے شیعوں سے بلائیں اور آفات ٹل جاتی ہیں۔

قالَ عليه السلام : أمَّا الْحَوادِثُ الْواقِعَةُ فَارْجِعُوا فيها إلى رُواةِ حَديثِنا (أحاديثِنا)، فَإنَّهُمْ حُجَّتي عَلَيْكُمْ وَ أنَا حُجَّةُ اللّهِ عَلَيْهِمْ
فرمایا: [سیاسی، عبادی، اقتصادی، فوجی، ثقافتی، سماجی امور میں] پیش آنے والے حوادث و واقعات میں ہماری حدیثوں کے راویوں یعنی فقہاء کی طرف رجوع کرو، وہ زمانہ غیبت میں تمہارے اوپر ہماری حجت ہیں اور میں ان کے اوپر خدا کی حجت ہوں۔
۔دور ہوجاؤگے تو امام کو کوئی نقصان نہ ہوگا:
قالَ عليه السلام : الحَقُّ مَعَنا، فَلَنْ يُوحِشَنا مَنْ قَعَدَعَنّا، وَ نَحْنُ صَنائِعُ رَبِّنا، وَ الْخَلْقُ بَعْدُ صَنائِعِنا
فرمایا: حق ہم اہل بیت رسول اللہؐ کے ہمراہ ہے پس ہم سے کسی کی کنارہ کشی ہمیں وحشت زدہ نہیں کرتی کیونکہ ہم خداوند متعال کے تربیت یافتہ ہیں اور دیگر مخلوقات ہمارے ہاتھوں میں پلی ہیں۔
قالَ عليه السلام : إنَّ الْجَنَّةَ لا حَمْلَ فيها لِلنِّساءِ وَ لا وِلادَةَ، فَإذَا اشْتَهى مُؤْمِنٌ وَلَدا خَلَقَهُ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِغَيرِ حَمْلٍ وَ لا وِلادَةٍ عَلَى الصُّورَةِ الَّتى يُريدُ كَما خَلَقَ آدَمَ عليه السلام عِبْرَةً
فرمایا: بے شک جنت میں عورتوں کے لئے حمل اور زچگی نہیں ہے؛ پس اگر کوئی مؤمن اولاد کی تمنا کرے تو خداوند متعال بغیر حمل و ولادت کے اس کو اس کا پسندیدہ بچہ عنایت فرمائے گا بالکل اسی صورت میں جس صورت میں اس نے ارادہ کیا تھا، جس طرح آدم علیہ السلام کو خلق کیا تا کہ ہم سبق حاصل کریں۔
ولی اللہ کے ساتھ بحث و جدل بالکل نہیں:
قالَ عليه السلام : لا يُنازِعُنا مَوْضِعَهُ إلاّ ظالِمٌ آثِمٌ، وَ لا يَدَّعيهِ إلاّجاحِدٌ كافِرٌ۔
فرمایا: کوئی بھی ہمارے ساتھ ولایت و امامت کے مرتبے کے اوپر بحث و نزاع نہیں کرتا مگر وہ شخص جو ظالم اور گنہگار ہو ،اسی طرح کوئی ولایت و امامت کا دعوی نہیں کرتا سوائے اس شخص کے جو منکر اور کافر ہو.
قالَ عليه السلام : إنَّ الْحَقَّ مَعَنا وَ فينا، لا يَقُولُ ذلِكَ سِوانا إلاّ كَذّابٌ مُفْتَرٍ، وَ لا يَدَّعيهِ غَيْرُنا إلاّ ضالُّ غَوىّ۔
فرمایا: حق و حقیقت – تمام امور اور تمام حالات میں – ہمارے پاس اور ہم اہل بیت کے درمیان ہے اور اگر یہ بات ہمارے سوا کسی اور نے کہی تو وہ جھوٹا اور اہل افتراء ہے اور ہمارے سوا صرف گمراہ لوگ یہ دعوی کرتے ہیں.
قالَ عليه السلام : أبَى اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِلْحَقِّ إلاّ إتْماما وَ لِلْباطِلِ إ لاّزَهُوقا۔
فرمایا: بے شک خداوند متعال حق کو بہر صورت کامل کردیتا ہے اور باطل کو بہر صورت نابود اور مضمحل کردیتا ہے.
قالَ عليه السلام : إنَّهُ لَمْ يَكُنْ لاِ حَدٍ مِنْ آبائى إلاّ وَ قَدْ وَقَعَتْ فى عُنُقِه بَيْعَةٌ لِطاغُوتِ زَمانِهِ، و إنّى أخْرُجُ حينَ أخْرُجُ وَ لا بَيْعَةَ لاِ حَدٍ مِنَ الطَّواغيتِ فى عُنُقى۔
فرمایا: بے شک میرے آباء و اجداد (ائمہ طاہرین علیہم السلام) کے ذمے ان کے زمانوں کے طاغوتوں کی بیعت تھی مگر میں ایسی حالت میں ظہور کروں گا کہ کسی بھی طاغوت کی بیعت میرے ذمے نہ ہوگی.
قالَ عليه السلام : أنَا الَّذى أخْرُجُ بِهذَا السَيْفِ فَأمْلاَ الاَرْضَ عَدْلا وَ قِسْطا كَما مُلِئَتْ ظُلْما وَ جَوْرا۔ )
فرمایا: میں وہی ہوں جو یہی تلوار (ذوالفقار) اٹھا کر ظہور کروں گا اور زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھردوں گا جس طرح کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی.
قالَ عليه السلام : اِتَّقُوا اللّٰهُ وَ سَلِّمُوا لَنا، وَ رُدُّوا الاْ مْرَ إلَيْنا، فَعَلَيْنا الاْ صْدارُ كَما كانَ مِنَّا الاْيرادُ، وَ لا تَحاوَلُوا كَشْفَ ما غُطِّيَ عَنْكُمْ۔
فرمایا: خدا سے ڈرو اور ہمارے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اپنے امور ہمارے سپرد کردو کیونکہ یہ ہمارا فریضہ ہے کہ تمہیں بے نیاز اور سیراب کردیں جیسا کہ یہ ہماری ہی ذمہ داری ہے کہ تمہیں معرفت کے چشموں میں داخل کردیں اور ان چیزوں کو کشف کرنے کی کوشش نہ کرو جو تم سے چھپائی گئی ہیں.
قالَ عليه السلام : أمّا أمْوالُكُمْ فَلا نَقْبَلُها إلاّ لِتُطَهِّرُوا، فَمَنْ شاءَ فَلْيَصِلْ، وَ مَنْ شاءَ فَلْيَقْطَعْ۔
فرمایا: تمہارے اموال – خمس و زکات – ہم اس لئے قبول کرتے ہیں کہ تمہاری زندگی اور تمہارا مال پاک و طاہر ہوجائے پس جو چاہے متصل ہوجائے اور جو چاہے منقطع ہوجائے (پس جو چاہے ادا کرے اور جو چاہے ادا نہ کرے)۔
قالَ عليه السلام : إنّا نُحيطُ عِلْما بِأنْبائِكُمْ، وَ لا يَعْزُبُ عَنّا شَيْى ءٌ مِنْ أخْبارِكُمْ.
فرمایا: ہم تمہاری احوال و اخبار پر احاطہ رکھتے ہیں اور تمہاری کوئی بات ہم سی مخفی نہیں ہے.
قالَ عليه السلام : مَنْ كانَتْ لَهُ إلَى اللّٰهِ حاجَةٌ فَلْ يَغْتَسِلْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ نِصْفِ اللَّيْلِ وَ يَأتِ مُصَلاّهُ۔
فرمایا: جو شخص خدا کی بارگاہ سے حاجت مانگنا چاہتا ہے پس وہ شب جمعہ نصف شب کے بعد غسل کرکے راز و نیاز و مناجات کے لئے اپنی جائے نماز پر قرار پائے.
قالَ عليه السلام : يَابْنَ الْمَهْزِيارِ! لَوْلاَ اسْتِغْفارُ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ، لَهَلَكَ مَنْ عَلَيْها، إلاّ خَواصَّ الشّيعَةِ الَّتى تَشْبَهُ أقْوالُهُمْ أفْعالَهُمْ۔
فرمایا: اگر تم میں سے بعض کی بعض دوسروں کے لئے طلب بخشش و مغفرت نہ ہوتی، روئے زمین پر موجود سارے انسان ہلاک ہوجاتے سوائے ان خاص و خالص شیعوں کے جن کا کردار ان کی گفتار کے مطابق ہے.
قالَ عليه السلام : وَأمّا قَوْلُ مَنْ قالَ: إنَّ الْحُسَيْنَ لَمْ يَمُتْ فَكُفْرٌ وَتَكْذيبٌ وَ ضَلالٌ.
فرمایا: اور امام حسین علیہ السلام کو موت نہ آنے اور آپؑ کے زندہ ہونے کے قائل ہیں ان کا یہ عقیدہ کفر، تکذیب اور گمراہی ہے.
قالَ عليه السلام : مِنْ فَضْلِهِ، أنَّ الرَّجُلَ يَنْسَى التَّسْبيحَ وَ يُديرُا السَّبْحَةَ، فَيُكْتَبُ لَهُ التَّسْبيحُ۔
فرمایا: حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کی تربت کی تسبیح کی ایک فضیلت یہ ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ میں ہو اور وہ ذکر و تسبیح بھول جائے اور تسبیح پھیراتا رہےتو اس کے لئے ذکر و تسبیح لکھی جاتی ہے.
قالَ عليه السلام : فيمَنْ أفْطَرَ يَوْما مِنْ شَهْرِ رَمَضان مُتَعَمِّدا بِجِماعٍ مُحَرَّمٍ اَوْ طَعامٍ مُحَرَّمٍ عَلَيْهِ: إنَّ عَلَيْهِ ثَلاثُ كَفّاراتٍ۔
فرمایا: جو شخص ماہ رمضان کا روزہ قصدا و ارادتاً حرام مجامعت کے ذریعے توڑ دے یا حرام کھانا کھا کر توڑ دے،اس پر تینوں کفارے واجب ہیں. (یعنی یہ کہ روزے کی قضاء رکھنی پڑے گی اور مزید یہ کہ 60 روزے رکھنے پڑیں گے،ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا پڑے گا اور ایک غلام بھی آزاد کرنا پڑے گا.)
قالَ عليه السلام : ألا أبَشِّرُكَ فِى الْعِطاسِ قُلْتُ: بَلى، فَقالَ: هُوَ أمانٌ مِنَ الْمَوْتِ ثَلاثَةَ أيّام۔
نسیم خادم کہتے ہیں: میں امام مہدی علیہ السلام کے حضور چھینکا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں چھینک کے بارے میں بشارت نہ دوں؟
فرمایا: چھینک آنے سے موت تین روز تک ٹل جاتی ہے.
امام زمان (عج) کا نام لینے سے پرہیز کی ضرورت:
قالَ عليه السلام : مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ سَمّانى فى مَحْفِلٍ مِنَ النّاسِ۔
(وَ قالَ عليه السلام مَنْ سَمّانى فى مَجْمَعٍ مِنَ النّاسِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُاللّٰهِ۔فرمایا: ملعون ہے اور خدا کی رحمتوں سے دور ہے وہ جو لوگوں کی کسی محفل میں میرا نام [جو رسول اللہؐ کا نام بھی ہے] زبان پر لائے.
نیز آپؑ نے فرمایا: جو شخص کسی مجمع میں میرا [اصلی] نام زبان پر جاری کرے اس پر خدا کی لعنت ہے۔
اس تحریر کو انٹر نیٹ اور دیگر کتب سے مدد لی گئی جن کی حوالاجات درج ذیل ہیں
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ
تفسير عيّاشى : ج 1، ص 16، بحارالا نوار: ج 89، ص 96، ح 58.
دعوات راوندى: ص 207، ح 563.
بحارالا نوار: ح 2، ص 90، ح 13، و53، ص 181، س 3، وج 75، ص 380، ح 1.
بحارالا نوار: ج 53، ص 178، ضمن ح 9.
بحارالا نوار: ج 53، ص 163، س 16، ضمن ح 4.
بحارالا نوار: ج 53، ص 179، ضمن ح 9.
بحارالا نوار: ج 53، ص 191، ضمن ح 19.
بحارالا نوار: ج 53، ص 193، ضمن ح 21.
من لايحضره الفقيه: ج 2، ص 74، ح 317، وسائل الشّيعة: ج 10، ص 55، ح 12816.
إكمال الدّين: ص 430، ح 5، وسائل الشّيعة: ج 12، ص 89، ح 15717.
وسائل الشّيعة: ج 16، ص 242، ح 12، بحارالا نوار: ج 53، ص 184، ح 13 و 14.
الدّرّة الباهرة: ص 47، س 17، بحارالا نوار: ج 56، ص 181، س 18.
بحارالانوار: ج 53، ص 179، س 14، و ج 55، ص 41.
إكمال الدّين: ج 2، ص 510، بحارالا نوار: ج 53، ص 191.
إكمال الدّين: ج 2، ص 484، بحارالا نوار: ج 53، ص 180.
مستدرك الوسائل: ج 2، ص 517، ح 2606.
مستدرك ج 5، ص 247، ح 5795.
غيبة طوسى: ص 177، وسائل الشّيعة: ج 28، ص 351، ح 39.
بحارالا نوار: ج 53، ص 165، س 8، ضمن ح 4.
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بے راہ روی اور ہماری عبادت گاہ
جس امت کو اپنی بیٹیاں زندہ درگور کرنے کے ظلم سے زمانہ جہالت میں محمد وآل محمد علیہ السلام نے ہدایت دی ، لیکن زمانہ جاہلیت کی بے شمار پستیاں آج بھی اس امت میں موجود ہیں،اگرسرے عام اسم مبارک حضرت محمد (ص) اور انکی آل پر بنائے رجسٹرڈ دینی ادارے عبادت گاہ کو پرانے دینی ادارے عبادت گاہ سے مکتب جعفریہ کی وجہ سے دشمنی کر کے نقصان پہنچایا جا رہا ہے تو یزیدی کردار نسل در نسل چلے آنا، اور اس کے مقابل جملہ انسانیت جملہ مکاتب فکر جو حسینی مومن مسلمان ہیں ان کو ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے جن کی وجہ سے بارشیں رکی ہوئی ہیں، امت محمدی میں صرف نام کے فرقے ہیں عملاً اکثریت کوفی شامی منافق یزیدی کردار کے لوگ ہیں جو صرف دین کا اور اہل بیت کا نام استعمال کر کے امت کو دھوکہ دیتے ہیں،
جب تک ملا ازم کی لا شعوری اور پستی سے ملت تشیع واقف نہیں ہو گی یہ جہنم کے گڑھوں کی طرف خود بھی جارہے ہیں اور ایک دوسرے کو لے جارہے ہیں، اور اپنی نسلوں کو بھی بگڑے ماحول معاشرے سوسائیٹی میں دنیا کے مفادات کے چکر میں تباہ کر رہےہیں ، ملا ازم مجلس میلاد عزاداری کے دستور اور مقصد سے ہٹا کر صرف زبانی کلامی واہ واہ ،العجل العجل کرا کر روحانی بیماروں کے علاج کے نام پر ان بیماروں کو لا علاج اور ہد تک لا کر قوم کو اور اس کی نئی نسلوں کو کوفی شامی منافق غدار بنا کے دجالی ملا امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کی طرف جا رہا ہے، مثال کیا آج کے مادیت کے دور میں لوگوں کو ان کی دنیاوی مشکلات اور روحانی بیماریوں سے نکال کر دین کی طرف لایا جا رہا ہے، کیا آج لوگوں کے بچے دینی تعلیم کی طرف آ رہے ہیں، جواب اجمالی طور پرمنفی ہی ہے،لہٰذا اگر آپ اور ہم سب اس نقطہ پر اکٹھے ہو سکتے ہیں کے ہماری کمی اور کمزوریاں ہماری آنے والی نسلوں میں نہ ہو ،ہم کو ان نام نہاد سرپرستوں حکم عدولی کر کے اپنی آخرت اور قبر کی خاطر اپنا اپنا رول ادا کرنا ہو گا، اور ایسا راستہ ہموار کرنا ہو گا ۔ جوملت کو دشمنان اہل بیت اطہار علیہ السلام ساتھ مل کر سراسر نقصان پہنچا رہے ہیں اور یہ جاننے اورسمجھنے سے قاصر ہین کہ آل رسول علیہ السلام کا کیا مرتبہ اور مقام فضیلت کیا ہے، صرف دنیا کی ہوس لالچ نے ان کو یزیدی فاسق فاجر کافر بنا دیا، یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے جو کیا کیونکہ قرآن گواہ ہے ، لہذا اگر انسان اہل بیت اطہار کو مانے اور ان کے فضائل سنے اور سنائے لیکن کردار کا کوفی شامی منافق یزیدی ہو تو، وہ علی علیہ السلام کا شیعہ نہیں امیر شام کا یزیدی ہے، ۔۔۔۔
اے ملت کے جونوان اپنی آنکھیں کھول اور راہ راست پر آ جاو اور بے راہ روی مت اختیار کرو تکہ کہ تمہاری نسلیں سدھر جائیں اپنے محنت سے کمائے ہوئے رقوم کو درست جگہ اور اس کا حساب مانگے کی طاقت کو اجاگر کرو اور اس اندھے اعتماد کا سہارا مت لو ۔۔۔۔۔۔ یہ تمہاری نسل کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
……………………………………………..
تیرہ برس کی عمر کا گل دستہ شباب
انقلاب عاشورا میں امام حسین علیہ السلام کا اہل حرم اور بچوں کو ساتھ کربلا لے جانے کا مقصد، فکر حسین اور مقصد حسین علیہ السلام کی تبلیغ اور پیغام رسانی تھا
اور امام حسین علیہ السلام نے اس سلسلے میں انہی بچوں اور ماوں کا انتخاب کیا جو شھادت حسین ابن علی کے بعد فکر و مقصد حسین کی ترویج کے لیے نہ صرف خود پہ آنے والی سختیاں برداشت کر سکیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی مقصد حسین ع پر قربان کرنے سے دریغ نہ کریں
ھدایت کے چراغ،حسین ابن علی کے ایسے ہی وفادار ساتھیوں اور انصار میں سے ایک، امام حسن ع کے فرزند حضرت قاسم بھی تھے
حضرت قاسم بن حسن ع نے اپنے والد گرامی امام حسن علیہ السلام کی معیت میں بہت کم وقت گزارا اس لیے کہ آپؓ کا ابھی بچپن ہی تھا کہ حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت ہو گئی،آپؓ کی اپنی شہادت چونکہ 13یا15 سال کی عمر میں ہوئی اس لیے شہزادہ قاسم ع نے زندگی کا جتنا وقت پایا وہ اپنے چچا حضرت امام حسین علیہ السلام اور خاندان نبوت کے دیگر افراد بالخصوص اپنی پھوپھی حضرت سیدہ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے زیر سایہ گزارا۔
فنون حرب شہزادہ قاسم بن حسن علیہما السلام نے حضرت غازی عباس علمدار علیہ السلام سے سیکھے۔ گویا آپ نے امامت و ولایت کے سایہ میں پروریش پائی
شہزادہ قاسم بن حسن علیہما السلام نے عمر کے اس مختصر حصہ میں وہ تمام کمالات حاصل کر لیے تھے،جو خاندانِ نبوت اور اہل بیت کا خاصہ ہے۔
علوم ظاہری و باطنی،تقوٰی وطہارت،ریاضت و عبادت، خدمت خلق،سخاوت و دستگیری یہ آپ کی سیرت کا نمایاں حصہ تھا۔
یقینًا یہ تمام اوصاف حمیدہ آپ کو اہل بیت ِ نبوت سے ورثہ میں ملے تھے،
یہ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ میدان کر بلا میں اتنا بڑا سانحہ پیش آیا لیکن آپ کے قدم نہیں ڈگمگائے، اور آپؓ حضرت امام حسین ؓ پر جان نثار کرنے کے لیے بے تاب رہے
اگرچہ امام حسن ع کے تین اور فرزند بھی کربلا میں شہید ہوئے مگر بعض خصوصیات کی وجہ سے حضرت قاسم کی شھادت ایک الگ درجہ رکھتی ہے
حضرت قاسم وہ واحد شھید ہیں جنہوں نے موت کا ذائقہ چکھنے سے پہلے ہی موت کا ذائقہ بتا دیا
اس ایک مختصر مگر جامع جملے میں آپ نے ایک بات واضح کر دی کہ “جو حجت خدا پہ جان نثار کرے اس کی موت شھد کی طرح شیریں ہوتی ہے”
{اللھم ارزقنا ۔۔۔۔ الشھادۃ بین یدی القائم علیہ السلام}
ب
آیت اللہ انصاریان بحوالہ کتاب” مقتل سید الشہداء”
لکھتے ہیں کہ
سامان کیوں زمیں پہ نہ ہو انقلاب کا
حضرت قاسم ابن حسن کی شہادت ان عظیم مصیبتوں میں سے ایک ہے کہ جو روز عاشور ا اہل بیت رسول پر ڈھائیں گئی
یوں تو حضرت قاسم کی شہادت کے واقعات کو ابو مخنف،شیخ مفید،ابو الفرج اصفہانی ،علامہ مجلسی ، اور طبری ،جیسے جیّد علمائے اسلام نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیاہے لیکن بعض تاریخی کتب میں آپ کی شہادت کو اس طرح بیان کیاہے کہ :جب سرکار سیّد الشہداء کے تمام اصحاب باوفا اپنی جانوں کانذرانہ راہ خدامیں پیش کر چکے اور اب اولاد امام حسن مجتبیٰ کی باری آ گئی تو حضرت قاسم محضر امام حسین میں شرفیاب ہوئے اور عرض کی چچا جان ! اب مجھے مرنےکی اجازت مرحمت فرمائیں! حضرت نے جواب دیا:اے قاسم! اے میرے بھتیجے !تم تو میرے شہید بھائی کی نشانی ہو لہذا تم میدان میں نہ جاؤ !میرے نور نظر !تمہارا وجود میرے دل شکستہ کی ڈھارس و سکون ہے
واقعاً یہ بہت عظیم مقام ہے کہ کوئی تیرہ برس کا بچہ اپنے چچا کے سکون قلب اور دل کی ڈھارس کاذریعہ ہو؟
جب قاسم نے دیکھا کہ چچا اجازت نہیں دے رہے ہیں تو آپ نہایت غمگین اور افسردہ ہوئے اور روتے ہوئےوہیں زمین پر بیٹھ گئے اور چچاکےپیروں پر سر کو رکھ کر اصرار کرنے لگے اسی اثنا میں قاسم کو یاد آیاکہ بابا نے وقت آخر بازو پر ایک تعویز باندھا تھا اور فرمایا تھا کہ بیٹا!جب تم پر کوئی سخت وقت آن پڑے تو تم ا س تعویز کو کھولنا اور اس کی عبارت کو پڑھنا ،اور جو کچھ اس میں لکھا ہو اس کے مطابق عمل کرنا
زینت جو دی حسنؑ کے پسرؑ نے زین کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب قاسم نے اپنے دل ہی دل میں کہا:کہ بابا کو شہید ہوئے زمانہ ہوگیالیکن کسی بھی دن اس سے بڑی مصیبت سے دوچار نہیں ہواہوں اب مجھے اس تعویز کو کھول کر پڑھنا چاہئے بس جیسےہی قاسم نے اس تعویز کو کھولا اور تحریر کو ملاحظہ کیا اس میں لکھا ہواتھا میرے لاڈلے قاسم میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ جب بھی تم اپنے چچا کو کربلا میں دشمنو ں کے نرغے میں گھراہواپاؤ تو ہر گز خداو رسول کے دشمنوں سے جنگ کو ترک نہ کرنا!اور اپنے چچا کے ہمرکاب رہ کر شجاعت حسنی کے جوہر دکھانا اور اگر تیرے چچا اجازت نہ دیں تو اتنا اصرار کرنا کہ وہ راضی ہوجائیں ۔
جناب قاسم خوشی خوشی اٹھے تحریر کو لاکر سر کار سیّد الشہدآء کے سپرد کیا جیسے ہی آپ کی نظر بھائی کی تحریر پر پڑی قاسم کے گلے میں باہیں ڈال دی اور اپنی آغوش میں بٹھالیا دونوں نے بہت گریہ کیا بہر حال سیّد الشہداء قاسم کو خیمے میں لےکر گئے حضرت عباس ،عون ،اور امّ فروہ کو اپنے قریب بلایا اور زینب کبریٰ سے فرمایا :بہن میرے اسلاف کے تبرکات کا صندوق لاؤ !غرض صندوق لایا گیامولا نے امام حسن کی قباکو قاسم کے زیب تن کیا امام مجتبیٰ کاعمامہ سر پر باندھا اہل بیت اس منظر کو دیکھ کر رونے لگے امام حسین نے جیسے ہی بھتیجے کو آمادہ ہوتے ہوئے دیکھا تو فریاد بلند کی :اے میرے لال قاسم: کیااپنے پیروں آپ ہی موت کی طرف جارہے ہو ؟ قاسم نے جواب دیا:چچا جان کیسے نہ جاؤں ؟کیونکہ آپ دشمنوں کے نرغے میں بے یارو مددگار ہیں ،چچا اس بھتیجے کی جان آپ پر قربان ہو جائے ۔
امام نے قاسم کے گریبان کو چاک کردیا اور عمامے کے دونوں سروں کو قاسم کے چہرے پر ڈال دیا اس طرح آپ نے بھتیجے کو رخصت کیا تاکہ دشمنوں کی نظر بد سے بھی محفوظ رہیں اور گرمی آفتاب سے بھی امان میں رہیں
چوما دِل و نظر سے حسنؑ کے نشان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت امام زین العابدین سے روایت ہے کہ جب سرکار سیّد الشہدآءنے شب عاشور تمام شہداء کے نام اور جنت میں ان کے مقام کےبارے میں بیان فرمانا شروع کیا،اور محضر نامہ کو کھولا اور فرمایا کہ کل صبح زین العابدین کے علاوہ سب شہید ہوں گے قاسم بن حسن نے اس خوف سے کہ وہ کم سن ہیں کہیں شہداء کی فہرست میں ان کا نام نہ ہو عرض کی “و انا فیمن یقتل یا عم “چچا جان میں کن افراد کے ہمراہ شہید ہوں گا؟ حضرت نے قاسم کو اپنے قریب بلایا ،ان کے سر پر دست شفقت پھیرا اور فرمایا: یاابن اخی ،کیف تجد طعم الموت عندک ؟”برادر زادے !تمہاری نظر میں موت کیسی ہے ؟
جناب قاسم نے جواب دیا:”احلی من العسل “چچا موت میرے لئے شہد سے زیادہ شیرین ہے ،پھر حضرت نے فرمایا :اے نور نظر تم بھی کل قتل ہونے والوں میں سے ہوگے اور تمہاری لاش کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کر دیا جائے گا
حمید ابن مسلم ازدی (تاریخ کربلا کا مورخ )کا بیان ہے کہ میں نے ایک ایسے نوجوان کو میدان کارزار کی طرف آتے دیکھا کہ جس کا پیراہن اور لباس کچھ پھٹا ہوا ہے اور عربی نعلین پہنے ہوئے ہے کہ جس کابایاں تسمہ ٹوٹا ہوا ہے
میدان کا رخ کرتے ہیں اور اس طرح رجز پڑھتے ہیں:
إن تُنكِروني فَأَنَا فَرعُ الحَسَن سِبطُ النَّبِيِّ المُصطَفى وَالمُؤتَمَن
هذا حُسَينٌ كَالأَسيرِ المُرتَهَن بَينَ اناسٍ لا سُقوا صَوبَ المُزَن
اگر مجھے نہیں پہچانتے تو میں حسن مجتبی (ع) کا فرزند ہوں، جو نواسہ رسول مصطفی و امین (ص) ہیں۔
یہ حسین (ع) اغوا شدہ کی طرح اسیر ہیں، ایسے لوگوں کے درمیان کہ خدا انہیں آب باران سے سیراب نہ کرے۔
اس نے میدان میں پہونچتے ہی بڑی شان سے جنگ کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ۳۵ افراد کو قتل کردیا جب لشکر شام نے دیکھا کہ ہمارے پاس اس کا کوئی مقابل نہیں ہے تو انہوں نے یہ حربہ استعمال کیا کہ اس پر پتھر برسانا شروع کردئے عمر ازدی آگے بڑھا اور کہا کہ خداکی قسم !میں اس پر حملہ کرکے اس کو قتل کر ڈالوں گا جنگ کی اس افراتفری میں اس موقع کو غنیمت پاکر آپ کے فرق اقدس پر ایک زوردار وار کیا جس کے سبب سر دو نیم ہوگیا آپ نے اپنے چچا کو مدد کے لئے پکارا امام اس بازکے مانند کہ جو بڑی تیزی سے شکار کو دیکھ کر آسمان کی بلندیوں کو چھوڑ کر نیچے آجاتا ہے دشمن پر حملہ آ ور ہوئے لیکن اس وقت پہونچے جب عمر ازدی سر قاسم کو بدن سے جدا کرنا چاہتاتھا حضرت نے شمشیر سے ایسا وار کیاکہ اس کا ہاتھ کٹ کر اس کے بدن سے جدا ہوگیااس نے اپنے قبیلے والوں کو مدد کے لئے پکارا انہوں نے آکر امام پر حملہ کر دیااس طرح ایک بار پھر ایک شدید جنگ کاآغاز ہوگیا اب جیسے ہی ادھر کے گھوڑے ادھر ،ادھر کے گھوڑے ادھر ہوئے قاسم کا جسم نازنین گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہوگیا
جب کچھ دیر کے بعد جنگ رکی امام بھتیجے کے سرہانے پہونچے عجیب منظر دیکھا قاسم زمین پر ایڑیاں رگڑ رہےہیں اور جان نکلنا چاہتی ہے مولا رو کر بین کرنے لگے :اے میرے لال قاسم! میرے لئے بڑے دکھ کی بات ہے کہ تو نے مجھے مدد کے لئے پکارا اور میں وقت پر نہ آسکا اور آپ کی مدد نہ کر سکا
اب فاطمہ کالال لاش اٹھانا چاہتا ہے قاسم کے سینے کو اپنے سینے سے لگاکر اٹھایا پامالی سم اسپاں کے سبب پیر زمین پر خط دے رہے تھے حضرت نے لاش کو لاکر اکبرکی لاش کے برابر رکھ دیا ایک بار پھر اہل بیت کرام میں ایک کہرام برپا ہو گیا مولا نے سب کو اس عظیم مصیبت پر صبر کرنے کی تلقین فرمائی
اور زہرا کا لعل پھر میدان کارزار کی طرف چل پڑا۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
دوسری قسط
امام زین العابدین علیہ اسلام
چومنے آئی ہے معراج بھی پائے سجادؑ
کالی کملی کی ضرورت ہے ردائے سجادؑ
زین العابدین اپنے زمانے کے بہت ہی جلیل القدراور عالی مرتبت بزرگوں میں سے تھے، لوگ ان کی بہت زیادہ عزت وتکریم کیا کرتے تھے، مشہور واقعہ ہے کہ ہشام بن عبد الملک اپنے زمانہ خلافت سے قبل ایک دفعہ حج کے لیے گئے، بیت اللہ شریف کے طواف کے دوران میں حجر اسود کا استیلام کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اژدھام کی وجہ سے نہیں کر پائے۔ اتنے میں حضرت علی بن حسین تشریف لائے، ایک چادر او رتہہ بندباندھے ہوئے، انتہائی خوب صورت چہرے والے، بہترین خوش بو والے، ان کی آنکھوں کے درمیان میں (پیشانی پر) سجدے کا نشان تھا، طواف شروع کیا او رجب حجر اسود کے قریب پہنچے تو لوگ ان کی ہیبت اور جلالت شان کی وجہ سے پیچھے ہٹے اور آپ نے اطمینان کے ساتھ استیلام کیا، ہشام کو یہ بات اچھی نہیں لگی، اہل شام میں سے کسی نے کہا یہ کون ہے جس کی ہیبت اور جلال نے لوگوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا؟ ہشام نے یہ سوچ کر کہ کہیں اہل شام ان کی طرف مائل نہ ہو جائیں، کہا میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہیں؟ مشہور شاعر فرزدق قریب ہی کھڑا تھا، اس نے کہا میں انھیں جانتا ہوں۔ اس پر اس شامی نے کہا اے ابو فراس! یہ کون ہیں؟ اس وقت فرزدق نے زین العابدین کی تعریف میں بہت سارے اشعار کہے، ان میں سے چند یہ ہیں۔ هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ البَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ … وَالبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالحِلُّ وَالحَرَمُ هَذَا ابْنُ فَاطِمَةٍ إِنْ كُنْتَ جَاهِلَهُ … بِجَدِّهِ أَنْبِيَاءُ اللهِ قَدْ خُتِمُوا ترجمہ: یہ وہ شخص ہے جس کے چلنے کو بطحاء، بیت اللہ، حل اور حرم بھی جانتے ہیں، یہ حضرت فاطمہ کے فرزند ہیں، اگرچہ تم تجاہل سے کام لے رہے ہو، انھیں کے دادا ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعہ انبیا کا سلسلہ ختم کیا گیا ہے۔ ہشام بن عبد الملک کو غصہ آیا اس نے فرزدق کو قید کرنے کا حکم دیا، ان کو مکہ ومدینہ کے درمیان میں ” عسفان“ نامی جگہ میں مقید کر دیا گیا، حضرت علی بن حسین کو پتہ چلا تو انھوں نے فرزدق کے پاس 12 ہزار دینار بھیجے او رکہا ابو فراس! اگر ہمارے پاس اس سے زیادہ ہوتے تو ہم وہ بھی بھجوادیتے، فرزدق نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند!میں نے جو کہا اللہ او راس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر کہا ہے او رمیں اس پر کچھ کمانا نہیں چاہتا، حضرت زین العابدین نے یہ کہہ کر واپس بھجوا دیا کہ تمھارے اوپر جو میرا حق ہے، اس کا واسطہ ہے کہ تم انھیں قبول کرلو، بے شک اللہ تیرے دل کے حال او رنیت کو جانتے ہیں۔ تو انھوں نے قبول کر لیا۔
علم کے قرطاس پہ تری زلف کے سائے سجادؑ
جسم اگر بیمار نہ ہوتو وہ مست ومگن ہو جاتا ہے اور کوئی خیر نہیں ایسے جسم میں جو مست ومگن ہو۔
دوستوں کا نہ ہونا پردیسی ( اجنبیت) ہے۔
جو اللہ کے دی ہوئی علم و حکمت پر قناعت اختیار کر لے وہ لوگوں میں سب سے غنی فرد ہوتا گا۔
جو باتیں معروف نہیں وہ علم میں سے نہیں، علم تو وہ ہے جو معروف ہو اوراہل علم کا اس پر اتفاق ہو۔
لوگوں میں سب سے زیادہ خطرے میں وہ شخص ہے جو دنیا کو اپنے لیے خطرے والی نہ سمجھے۔
کوئی کسی کی ایسی اچھائی بیان نہ کرے جو اسے معلوم نہ ہو، قریب ہے کہ وہ اس کی وہ برائی بیان کر بیٹھے جو اس کے علم میں نہیں
جن دو شخصوں کا ملاپ اللہ کی اطاعت کے علاوہ ہوا ہو تو قریب ہے کہ ان کی جدائی بھی اسی پر ہو۔
اے بیٹے!مصائب پر صبر کرو اور حقوق سے تعرض نہ کرو اوراپنے بھائی کو اس معاملے کے لیے پسند نہ کرو جس کا نقصان تمھارے لیے زیادہ ہو اس بھائی کو ہونے والے فائدے سے۔
اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے گناہ گار مومن سے محبت فرماتے ہیں۔
آپ کے بعض خطبات بہت مشہور ہیں۔ واقعہ کربلا کے بعد کوفہ میں آپ نے پہلے خدا کی حمد و ثنا اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذکر و درود کے بعد کہا کہ ‘اے لوگو جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میں علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہوں۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کی بے حرمتی کی گئی جس کا سامان لوٹ لیا گیا۔ جس کے اہل و عیال قید کر دیے گئے۔ میں اس کا فرزند ہوں جسے ساحلِ فرات پر ذبح کر دیا گیا اور بغیر کفن و دفن کے چھوڑ دیا گیا۔ اور شہادتِ حسین ہمارے فخر کے لیے کافی ہے۔۔۔
دمشق میں یزید کے دربار میں آپ نے جو مشہور خطبہ دیا اس کا ایک حصہ یوں ہے:
۔۔۔ میں پسرِ زمزم و صفا ہوں، میں فرزندِ فاطمہ الزہرا ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جسے پسِ گردن ذبح کیا گیا۔۔۔۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کا سر نوکِ نیزہ پر بلند کیا گیا۔۔۔۔ ہمارے دوست روزِ قیامت سیر و سیراب ہوں گے اور ہمارے دشمن روزِ قیامت بد بختی میں ہوں گے۔۔۔
یہ خطبہ سن کر لوگوں نے رونا اور شور مچانا شروع کیا تو یزید گھبرا گیا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑا ہو جائے چنانچہ اس نے مؤذن کو کہا کہ اذان دے کہ امام خاموش ہو جائیں۔ اذان شروع ہوئی تو حضرت علی ابن الحسین خاموش ہو گئے۔ جب مؤذن نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی تو حضرت علی ابن الحسین رو پڑے اور کہا کہ اے یزید تو بتا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرے نانا تھے یا میرے؟ یزید نے کہا کہ آپ کے تو حضرت علی ابن الحسین نے فرمایا کہ ‘پھر کیوں تو نے ان کے اہل بیت کو شہید کیا’۔ یہ سن کر یزید یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ مجھے نماز سے کوئی واسطہ نہیں۔ اسی طرح آپ کا ایک اور خطبہ بھی مشہور ہے جو آپ نے مدینہ واپس آنے کے بعد دیا۔
امام سجاد(ع) واقعۂ کربلا میں اپنے والد امام حسین(ع) اور اولاد و اصحاب کی شہادت کے دن، شدید بیماری میں مبتلا تھے اور بیماری کی شدت اس قدر تھی کہ جب بھی یزیدی سپاہی آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرتے، انھی میں سے بعض کہہ دیتے تھے کہ “اس نوجوان کے لیے یہی بیماری کافی ہے جس میں وہ مبتلا ہے”۔
بیڑیاں آئی ہیں بس چومنے پائے سجادؑ
عاشورا سنہ 61 کے بعد، جب لشکر یزید نے اہل بیت کو اسیر کرکے کوفہ منتقل کیا، تو ان میں سے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے علاوہ امام سجاد(ع) نے بھی اپنے خطبوں کے ذریعے حقائق واضح کیے اور حالات کی تشریح کی اور اپنا تعارف کراتے ہوئے یزید کے کارندوں کے جرائم کو آشکار کر دیا اور اہل کوفہ پر ملامت کی۔
امام سجاد(ع) نے کوفیوں سے خطاب کرنے کے بعد ابن زیاد کی مجلس میں بھی موقع پا کر چند مختصر جملوں کے ذریعے اس مجلس کے حاضرین کو متاثر کیا۔ اس مجلس میں ابن زیاد نے امام سجاد(ع) کے قتل کا حکم جاری کیا لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے درمیان میں آ کر ابن زياد کے خواب سچا نہيں ہونے دیا۔
اس کے بعد جب یزیدی لشکر اہل بیت(ع) کو “خارجی اسیروں” کے عنوان سے شام لے گیا تو بھی امام سجاد علیہ السلام نے اپنے خطبوں کے ذریعے امویوں کا حقیقی چہرہ بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی۔
جب اسیران آل رسول(ص) کو پہلی بار مجلس یزید میں لے جایا گیا تو امام سجاد(ع) کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ امام(ع) نے یزید سے مخاطب ہوکر فرمایا: تجھے خدا کی قسم دلاتا ہوں، تو کیا سمجھتا ہے اگر رسول اللہ(ص) ہمیں اس حال میں دیکھیں!؟ یزید نے حکم دیا کہ اسیروں کے ہاتھ پاؤں سے رسیاں کھول دی جائیں۔
امام سجاد(ع) واقعۂ کربلا کے بعد 34 سال بقید حیات رہے اور اس دوران میں آپ نے شہدائے کربلا کی یاد تازہ رکھنے کی ہر کوشش کی۔
پانی پیتے وقت والد کو یاد کرتے تھے، امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر گریہ کرتے اور آنسوں بہاتے تھے۔ ایک روایت کے ضمن میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول کہ امام سجاد(ع) نے (تقریباً) چالیس سال تک اپنے والد کے لیے گریہ کیا جبکہ دنوں کو روزہ رکھتے اور راتوں کو نماز و عبادت میں مصروف رہتے تھے، افطار کے وقت جب آپ کا خادم کھانا اور پانی لا کر عرض کرتا کہ آئیں اور کھانا کھائیں تو آپ(ع) فرمایا کرتے: “فرزند رسول اللہ بھوکے مارے گئے! فرزند رسول اللہ(ص) پیاسے مارے گئے!” اور یہی بات مسلسل دہراتے رہتے اور گریہ کرتے تھے حتی کہ آپ کے اشک آپ کے آب و غذا میں گھل مل جاتے تھے؛ آپ مسلسل اسی حالت میں تھے حتی کہ دنیا سے رخصت ہوئے۔
امام سجاد علیہ السلام کے زمانے میں اور کربلا کے واقعے کے بعد مختلف تحریکیں اٹھیں جن میں سے اہم ترین کچھ یوں ہیں:
واقعۂ حَرَہ کربلا کا واقعہ رونما ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد مدینہ کے عوام نے اموی حکومت اور یزید بن معاویہ کے خلاف قیام کرکے حرہ کی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کی قیادت جنگ احد میں جام شہادت نوش کرنے والے حنظلہ غسیل الملائکہ کے بیٹے عبد اللہ بن حنظلہ کر رہے تھے اور اس قیام کا نصب العین اموی سلطنت اور یزید بن معاویہ اور اس کی غیر دینی اور غیر اسلامی روش کی
مخالفت اور اس کے خلاف جدوجہد، تھا۔ امام سجاد(ع) اور دوسرے ہاشمیوں کی رائے اس قیام سے سازگار نہ تھی چنانچہ امام(ع) اپنے خاندان کے ہمراہ مدینہ سے باہر نکل گئے۔ امام زین العابدین(ع) کی نظر میں یہ قیام نہ صرف ایک شیعہ قیام نہ تھا بلکہ درحقیقت آل زبیر کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا تھا اور آل زبیر کی قیادت اس وقت عبد اللہ بن زبیر کررہا تھا اور عبد اللہ بن زبیر وہ شخص تھا جس نے جنگ جمل کے اسباب فراہم کیے تھے۔ یہ قیام یزید کے بھجوائے گئے کمانڈر مسلم بن عقبہ نے کچل ڈالا جس نے اپنے مظالم کی بنا پر مسرف کا لقب کما لیا۔
توابین کی تحریک واقعۂ کربلا کے بعد اٹھنے والی تحریکوں میں سے ایک تحریک تھی جس کی قیادت سلیمان بن صرد خزاعی سمیت شیعیان کوفہ کے چند سرکردہ بزرگ کر رہے تھے۔ توابین کی تحریک کا نصب العین یہ تھا کہ بنو امیہ پر فتح پانے کی صورت میں مسلمانوں کی امامت و قیادت کو اہل بیت(ع) کے سپرد کریں گے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نسل سے اس وقت علی بن الحسین(ع) کے سوا کوئی بھی نہ تھا جس کو امامت مسلمین سونپی جاسکے۔ تاہم امام علی بن الحسین(ع) اور توابین کے درمیان میں کوئی باقاعدہ سیاسی ربط و تعلق نہ تھا۔
مختار بن ابی عبید ثقفی کا قیام، یزید اور امویوں کی حکمرانی کے خلاف واقعۂ عاشورا کے بعد تیسری بڑی تحریک کا نام ہے (جو واقعۂ حرہ اور قیام توابین کے بعد شروع ہوئی۔ اس تحریک کے امام سجاد(ع) کے ساتھ تعلق کے بارے میں بعض ابہامات پائے جاتے ہیں۔ یہ تعلق نہ صرف سیاسی تفکرات کے لحاظ سے بلکہ محمد بن حنفیہ کی پیروی کے حوالے سے، اعتقادی لحاظ سے بھی مبہم اور اس کے بارے میں کوئی یقینی موقف اپنانا مشکل ہے۔ روایت ہے کہ جب “مختار” نے کوفہ کے بعض شیعیان اہل بیت(ع) کی حمایت حاصل کرنے کے بعد امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ رابطہ کیا مگر امام(ع) نے خیر مقدم نہیں کیا۔
ایک روایت کے ضمن میں منقول ہے کہ امام سجاد(ع) کو صرف چند افراد کی معیت حاصل تھی: سعید بن جبیر، سعید بن مسیب، محمد بن جبیر بن مطعم، یحیی بن ام طویل، ابو خالد کابلی۔
شیخ طوسی، نے امام سجاد(ع) کے اصحاب کی مجموعی تعداد 173 بیان کی ہے۔
امام سجاد(ع) شیعیان اہل بیت(ع) کی قلت کا شکوہ کرتے تھے اور فرماتے تھے مکہ اور مدینہ میں ہمارے حقیقی پیروکاروں کی تعداد 20 افراد سے بھی کم ہے۔ مشہور ہونے والے اصحاب
جابر بن عبداللہ انصاري
عامر بن واثلہ كنانى
سعيد بن مسيّب
سعيد بن جهان كنانى
سعید بن جبیر
محمد بن جبير
ابوخالد کابلی
قاسم بن عوف
اسماعیل بن عبد اللہ بن جعفر
ابراہيم بن محمد بن حنفیہ
حسن بن محمد بن حنفیہ
حبيب بن ابى ثابت
ابو حمزہ ثمالى
فرات بن احنف
جابر بن محمد بن ابوبکر
ايوب بن حسن
على بن رافع
ابو محمد قرشى
ضحاك بن مزاحم
طاووس بن کیسان
حميد بن موسى
ابان بن تغلب
سدير بن حكيم
قيس بن رمانہ
ہمام بن غالب (مشهور بہ فرزدق شاعر)
عبداللہ برقى
يحيى بن ام طويل
بشیر بن جذلم، عمرو بن دینار، حکم بن عُتیبہ، زید بن اسلم، یحییٰ بن سعید، ابو زناد، علی بن جدعان، مسلم بطین، عاصم بن عبیداللہ، عاصم بن عمر، عمر بن قتادہ، قعقاع بن حکیم، ابو الاسود بن عروہ، ہشام بن عروہ، ابو زبیر مکّی، ابو حازم اعرج، عبداللہ بن مسلم، محمد بن فرات تمیمی، منهال بن عمرو، بھی اصحاب امام سجاد میں سے ہیں۔
اموی – علوی تعلق کی کیفیت کے پس منظر کے پیش نظر امام سجاد(ع) کو اموی حکمرانوں کی شدید بدگمانی کا سامنا تھا اور امام(ع) کا کوئی معمولی سا کام بھی خطرناک نتائج پر ختم ہو سکتا تھا اور فطری سی بات تھی کہ اس قیمت پر کسی قسم کے اقدامات کرنا مناسب نہ تھا۔ اہم ترین دینی اور سیاسی اصول جس کے سائے میں امام سجاد(ع) زندگی بسر کر رہے تھے وہ تھا: “تقیّہ”۔
امام سجاد(ع) نہایت دشوار حالات میں زندگی بسر کر رہے تھے اور آپ کے پاس تقیہ کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اصولی طور پر یہی تقیہ ہی ہے جس نے اُس زمانے میں شیعیان آل رسول(ص) کو تحفظ دیا۔
روایت ہے کہ ایک شخص نے امام سجاد(ع) کی خدمت میں حاضر ہوکر پوچھا: زندگی کس طرح
گذر رہی ہے؟ امام(ع) نے جواب دیا:
“زندگی اس طرح سے گزار رہے ہیں کہ اپنی قوم کے درمیان میں ویسے ہی ہیں جیسے کہ بنی اسرائیل آل فرعون کے درمیان میں تھے، ہمارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے ہیں ہماری عورتوں کو زندہ رکھ لیتے ہیں؛ لوگ ہمارے بزرگ اور ہمارے سید و سردار پر سبّ اور دشنام طرازی کرکے ہمارے دشمنوں کی قربت حاصل کرتے ہیں؛ اگر قریش دوسرے عربوں کے سامنے فخر کرتے ہیں کہ رسول اللہ قریش میں سے تھے اور اگر عرب فخر عجم پر تفاخر کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ عرب تھے اور اگر قریش اس حوالے سے اپنے لیے فوقیت اور برتری کے قائل ہیں تو ہم اہل بیت کو قریش پر برتر ہونا چاہیے اور ہمیں ان کے سامنے اس فضیلت پر فخر کرنا چاہیے کیونکہ محمد(ص) ہم اہل بیت میں سے ہیں۔ مگر انھوں نے ہمارا حق ہم سے چھین لیا اور ہمارے لیے کسی بھی حق کے قائل نہيں ہیں۔ اگر تم نہيں جانتے کہ زندگی کس طرح گذر رہی ہے تو جان لو کہ زندگی اس طرح گذر رہی ہے جیسا کہ میں نے کہا”۔ راوی کہتا ہے کہ امام(ع) اس طرح سے بات کر رہے تھے کہ صرف قریب بیٹھے ہوئے افراد سن سکیں۔
حدیث امام سجاد(ع) کی التجا بدرگاہ پروردگار: “اللهم اجعلني أهابهما هيبة السلطان العسوف، وأبرهما بر الام الرؤف، واجعل طاعتي لوالدي وبري بهما أقر لعيني من رقدة الوسنان، وأثلج لصدري من شربة الظمأن حتى أوثر على هواي هواهما، وأقدم على رضاي رضاهما، وأستكثر برهما بي وإن قل، وأستقل بري بهما وإن كثر”۔
بار پروردگارا! مجھے یوں قرار دے کہ والدین سے اس طرح ڈروں جس طرح کہ کسی جابر بادشاہ سے ڈرا جاتا ہے اور اس طرح ان کے حال پر شفیق ومہربان رہوں (جس طرح شفیق ماں ) اپنی اولاد پر شفقت کرتی ہے اوران کی فرما نبرداری اوران سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کو میری آنکھوں کے لیے، چشم خواب آلود میں نیند کے خمار سے زیادہ، کیف افزا اور میرے قلب و روح کے لیے، پیاسے شخص کے لیے ٹھنڈے پانی سے زیادہ، دل انگیز قرار دے؛ حتی کہ میں ان کی خواہش کو اپنی خواہشات پر فوقیت دوں اور ان کی خوشنودی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھوں اور جو احسان وہ مجھ پر کریں اس کو زیادہ سمجھوں خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو اور ان کے ساتھ اپنی نیکی کو کم سمجھوں خواہ وہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔
صحیفہ سجادیہ اور رسالۃ الحقوق امام سجاد(ع) کی کاوشوں میں سے ہیں۔
صحیفہ سجادیہ، امام سجاد(ع) کی دعاؤں پر مشتمل کتاب ہے جو صحیفہ کاملہ، اخت القرآن، انجیل اہل بیت اور زبور آل محمد کے نام سے مشہور ہے۔
رسالۃ الحقوق بھی امام سجاد علیہ السلام سے منسوب رسالہ ہے جو روایت مشہورہ کے مطابق 50 حقوں پر مشتمل ہے اور زندگی میں ان کو ملحوظ رکھنا ہر انسان پر لازم ہے۔ پڑوسیوں کا حق، دوست کا حق، قرآن کا حق، والدین کا حق اور اولاد کا حق، ان حقوں میں شامل ہیں۔
خانوادہ نبوت کے اس چشم و چراغ نے ساری زندگی سنتِ نبوی اورحضرات صحابہ کرام کے نقش قدم پر چل کر بالآخر داعی اجل کو لبیک کہا، ان کے سنہ وفات کے بارے میں اختلاف ہے،
،99,95, 94,93,92 اور100 ہجری کے مختلف اقوال منقول ہیں، مگر صحیح قول کے مطابق زین العابدین بروز منگل14 ربیع الاول94 ہجری میں دار فانی سے داربقاکی طرف کوچ کر گئے، جنت البقیع میں جنازہ پڑھا گیا اور وہیں پر مدفون ہوئے۔
شہادت
آپ کی شہادت اموی حاکم ولید بن عبد الملک کے زہر دینے سے ہوئی۔ آپ کی شہادت کا سال 95 ہجری قمری بعض نے 94 ہجری قمری 92ہجری قمری 93ہجری قمری اور شہادت کی مشہور تاریخ18 محرمبروز ہفتہ لکھی گئی ہے بعض نے 14ربیع الاول بدھ بھی ذکر کی ہے۔
شہادت کے وقت عمر مبارک مشہور57 سال ہےاور 59 سال[141] چار مہینے اور کچھ دن بھی مذکور ہے۔
آپ نے امام علی علیہ السلام، امام حسن مجتبی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی حیات اور ادوار امامت کا ادراک کیا ہے اور معاویہ کی طرف سے عراق اور دوسرے علاقوں کے شیعیان آل رسول(ص) کو تنگ کرنے اور ان پر دباؤ بڑھانے کی سازشوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔
اہل سنت کی تاریخی روایات کے راوی محمد بن عمر الواقدی، نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے: “علی بن الحسین (زین العابدین(ع) نے 58 سال کی عمر میں وفات پائی” اور اس کے بعد رقمطراز ہے: “اس لحاظ سے امام سجاد(ع) 23 یا 24 سال کی عمر میں کربلا کے مقام پر اپنے والد امام حسین(ع) کی خدمت میں حاضر تھے۔
نیز زہری نے بھی کہا ہے کہ علی بن الحسین(ع) 23 سال کے سن کے ساتھ کربلا میں اپنے والد کے ہمراہ تھے۔
امام سجاد(ع) سنہ 94 (یا 95) ہجری میں اس زہر کے ذریعے جان بحق نوش کرگئے جو ولید بن عبدالملک کے حکم پر انہيں کھلایا گیا تھا۔آپ(ع) جنت البقیع میں چچا امام حسن مجتبی(ع) کے پہلو میں دفن کر دیے گئے۔
جس طرح آپ کی جائے پیدائش مدینہ کے متعلق کسی نے اختلاف نہیں کیا اسی طرح مقام دفن مدینہ ہونے کے متعلق کسی نے اختلاف نہیں کیا ہے۔
راقم انجیل عزا سجاد بھی تو فرزند حُسینؑ ابن علیؑ ہے
حضرت علی بن حسین علیہ السلام (پیدائش: 4 جنوری 6 65 وفات: 20 اکتوبر 713ء) جو امام زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والوں کا امام) کے نام سے مشہور ہیں، اپنے والد امام حسین ابن علی علیہ السلام ، تایا امام حسن مجتبیٰ ابن علی علیہ السلام اور دادا علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بعد اثنا عشری میں چوتھے امام اور اسماعیلی شیعیت میں تیسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی بن حسین سانحۂ کربلا میں موجود تھے، اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 سال تھی، لیکن بیماری کی وجہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ اس سانحے میں بچ جانے والے واحد مرد تھے۔ ان کو دمشق میں یزید کے سامنے لے جایا گیا، کچھ دن بعد ان کو دیگر خواتین کے ساتھ واپس مدینہ جانے دیا گیا، جہاں انھوں نے چند اصحاب کے ساتھ خاموشی سے زندگی بسر کی۔ ان کی زندگی اور بیانات مکمل طور پر طہارت اور مذہبی تعلیمات کے لیے وقف تھے، جو زیادہ تر دعاؤں اور التجاؤں کی شکل میں ہوتے۔ ان کی مشہور مناجات صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے۔

علی بن حسین بن علی بن ابیطالب (38-95ھ) جو امام سجاد اور زین العابدین کے نام سے مشہور ہیں، اہل تشیع کے چوتھے اماماسماعیلی شیعیت کے تیسرے امام اور امام حسین علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ آپ 35 سال امامت کے عہدے پر فائز رہے۔ امام سجادؑ واقعہ کربلا میں حاضر تھے لیکن بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد عمر بن سعد کے سپاہیوں نے آپ کو اسیران کربلا کے ساتھ کوفہ اور شام لے گیا۔ کوفہ اور شام میں آپ کے دئے گئے خطبات کے باعث لوگ اہل بیت کے مقام و منزلت سے زیادہ آگاہ ہوئے۔
واقعہ حرہ، تحریک توابین اور قیام مختار آپ کے دور امامت میں رو نما ہوئے۔ امام سجادؑ کی دعاؤوں اور مناجات کو صحیفہ سجادیہ میں جمع کیا گیا ہے۔ خدا اور خلق خدا کی نسبت انسان کی ذمہ داریوں سے متعلق کتاب، رسالۃ الحقوق بھی آپ سے منسوب ہے۔
شیعہ احادیث کے مطابق امام سجادؑ کو ولید بن عبد الملک کے حکم سے مسموم کر کے شہید کیا گیا۔ آپ امام حسن مجتبیؑ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے ساتھ قبرستان بقیع میں مدفون ہیں۔
نسب، لقب، کنیت علی بن حسین بن علی بن ابی طالب، معروف بہ امام سجاد اور امام زین العابدین، شیعیان آل رسول(ص) کے چوتھے امام اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے فرزند ہیں۔
اختلافی مسائل میں سے ایک آپ کی والدہ شہربانو کا نام اور نسب ہے۔ آپ کی والدہ کے لیے متعدد نام نقل ہوئے ہیں اور شہر بانو، شہر بانویہ، شاہ زنان اور جہان شاہ انھی ناموں میں شامل ہیں۔
بعض محققین یزدگر کی بیٹی شہر بانو کو امام سجاد کی والدہ تسلیم نہیں کرتے ہیں اور دلائل و قرائن کی بنا پر ایسی روایات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام کی والدہ ان اوصاف کی مالک نہیں تھیں۔
امام سجاد(ع) اپنے زمانے میں علي الخیر، علي الاصغر اور علي العابدکے نام سے مشہور تھے۔
زنجیر تھی محافظِ کعبہ کے پاوں میں
کنیت و لقب جو زیادہ مشہور اور معروف ہیں امام علی بن الحسین(ع) کی کنیات “ابو الحسن”، “ابو الحسین”، “ابو محمّد” اور “ابو عبد اللہ” ہیں۔ آپ کے القاب میں زین العابدین، سید الساجدین، سجاد، ہاشمی، علوی، مدنی، قرشی اور علی اکبر شامل ہیں۔
زین العابدین : ابن عباس کی رسول خدا سے منقول روایت کے مطابق قیامت کے دن منادی ندا دے گا: زین العابدین کہاں ہے۔۔۔۔۔تو گویا میں صفوف کے درمیان میں علی بن الحسین کے چلتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔دیگر روایت کے مطابق ایک شب آپ محراب عبادت میں عبادت الہی میں مصروف تھے کہ شیطان ایک سانپ کی شکل میں ظاہر ہو کر آپکو عبادت الہی سے منحرف کرنے کی کوشش کی لیکن آپ کی خدا کی جانب توجہ میں کوئی فرق نہیں پڑا تو غیب سے منادی نے تین مرتبہ ندا دی: انت زین العابدین۔۔۔۔۔۔۔
علم کے سائے میں نیزے کی لہر کیا کہیئے ۔۔۔۔ کلیم طور پکارے مِرا عصا کہیئے
“ذوالثَّفنات” آپ کے دیگر القاب میں سے ہے جو امام سجاد(ع) کو دیا گیا ہے (کیونکہ عبادت اور نماز و سجود کی کثرت کی وجہ سے آپ کے اعضائے سجدہ (مساجد) پر اونٹ کے گھٹنوں کی طرح گھٹے پڑ گئے تھے)۔
چھوتے امام کی انگشتریوں کے نقش تواریخ میں کچھ اس طرح ملتے ہیں امام سجاد علیہ السلام کی انگشتریوں کے لیے تین نقش منقول ہیں:آپ(ع) امام حسین(ع) کی وہ انگشتری پہن لیا کرتے تھے جس پر “إِنَ اللَّهَ بالِغُ أَمْرِہ” (یعنی خداوند متعال اپنا امر و فرمان انجام تک پہنچا دیتا ہے) کا نقش تھا۔ آپ(ع) کی دوسری انگشتریوں کے نقش “وَما تَوْفِیقِی إِلَّا بِاللَّہ”، اور”خَزِی وَشَقِی قَاتِلُ الْحُسَینِ بْنِ عَلِی”۔
تاریکیوں میں نور کو پہچانتے نہیں
ولادت اور شہادت امام سجاد(ع):”وَ أَمّا حَقّ وَلَدِكَ فَتَعْلَمُ أَنّهُ مِنْكَ وَمُضَافٌ إِلَيْكَ فِي عَاجِلِ الدّنْيَا بِخَيْرِهِ وَشَرّهِ وَأَنّكَ مَسْئُولٌ عَمّا وُلّيتَهُ مِنْ حُسْنِ الْأَدَبِ وَالدّلَالَةِ عَلَى رَبّهِ وَالْمَعُونَةِ لَهُ عَلَى طَاعَتِهِ فِيكَ وَفِي نَفْسِهِ فَمُثَابٌ عَلَى ذَلِكَ وَمُعَاقَبٌ”۔
(ترجمہ: اور تم پر تمھاری اولاد کہ حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ وہ تم سے ہے اور اس دنیا کی نیکی اور بدی میں میں تم سے پیوستہ ہے۔ اور تم ـ خدا کے حکم کے مطابق، اس پر اپنی ولایت کے پیش نظر، اس کی عمدہ پرورش کرنے، نیک آداب سکھانے اور خدائے عزوجل کی طرف راہنمائی کرنے اور خدا کی فرماں برداری میں اس کی مدد کرنے میں اپنے حوالے سے بھی اور اس کے حوالے سے بھی، جواب دہ ہو؛ اور اس ذمہ داری کے عوض جزا اور سزا پاؤگے۔
رسالۂ حقوق امام سجاد(ع) شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، جلد 2 صفحہ 621 کے بعد۔
ولادت با سعادت امام سجاد علیہ السلام مشہور قول کے مطابق امام سجاد(ع) سنہ 38 ہجری میں پیدا ہوئے نیز33ہجری قمری 36 ہجری قمری اور37 ہجری قمری بھی منقول ہیں۔
کہنے کو ٓآدمی ہے ستاروں کا ہم سفر
ولادت کا مہینہ جمادی الثانی میں جمعہ یا جمعرات کا دن اور تاریخ 15 ذکر کی جاتی ہے جبکہ 9 شعبان اور 5 شعبا ن بھی نقل ہوئی ہے۔
ائمہ طاہرین میں سے حضرت علی ع کے ساتھ 2 سال، ، حضرت امام حسن کے ساتھ 10 سال، یا 12سال، حضرت امام حسین ع کے ساتھ 10 سال اور 11سال کے ساتھ رہنے کی مدت منقول ہے۔اپنے والد کی شہادت کے بعد34 یا35 سال زندہ رہے۔ِآپ کا مقام ولادت اتفاقی طور پر مدینہ مذکور ہے۔
زین العابدین کے لقب سے معروف کی نسبت خاندان نبوت کی طرف ہے، یہ علی بن ابی طالب کے بیٹے سیدنا حسین کے بیٹے ہیں، علی بن حسین ان کا نام ہے، قرشی اور ہاشمی ہیں، ابو الحسن ان کی کنیت ہے، ابو الحسن، ابو محمد اور ابو عبد اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ سیدنا امام حسین پنے والدِ ماجدعلی سے اظہارِ عقیدت کے لیے اپنے بچوں کے نام علی رکھتے تھے۔ اسی مناسبت سے زین العابدین کا نام بھی علی ہے اور کنیت ابو محمد، ابو الحسن، ابو القاسم اور ابوبکر ہے، جبکہ کثرتِ عبادت کے سبب آپ کا لقب سجاد، زین العابدین، سیدالعابدین اور امین ہے۔
جیسا کہ اوپر درج کیا گیا ہے کہ امام علیہ السلام کی تاریخ ولادت باسعادت میں مختلف اختلاف پایا جاتا ہے مگر چند علما نے اس بارے جو تحقیق ملتی ہے وہ قارئیں کی نظر ہے علی ابن حسین کی ولادت علامہ ذہبی نے میں یعقوب بن سفیان فسوی سے نقل کیا ہے کہ علی بن حسین 33 ہجری میں پیدا ہوئے، لیکن میں علامہ موصوف نے یہ لکھا ہے کہ (شاید) ان کی پیدائش38 ہجری میں ہوئی ہے، علامہ ابوالحجاج جمال الدین یوسف مزّی نے بھی یعقوب بن سفیان سے سن ولادت33
ہجری نقل کیا ہے اور یہی رائعج ہے۔
شمس و قمر کی روح کو پہچان لیجئے
علی بن حسین کی والدہ کا نام سلامہ یا سلافہ ہے، جو اس وقت کے شاہ فارس یزدجرد کی بیٹی تھیں، سیدنا عمر فاروق کے زمانہٴ خلافت میں ایران فتح ہوا تو یہ لونڈی بنالی گئی تھی۔، ابن سعد نے اس کا نام ” غزالہ“ نقل کیا ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ ان کی والدہ خلیفہ یزید بن ولید بن عبد الملک کی پھوپی تھی۔آپ کی والدہ کا نام شہر بانو تھا جو ایران کے بادشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی تھیں جو نوشیروان عادل کا پوتا تھا۔
ان کو علی اوسط کہا جاتا ہے، ان کے دوسرے بھائی جوان سے عمر میں بڑے تھے، ان کو علی اکبر کہا جاتا تھا، جو معرکہٴ کربلا میں اپنے والد حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اہل کوفہ کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔علی اوسط یعنی علی بن حسین المعروف زین العابدین علیہ السلام بھی اپنے والد حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ معرکہٴ کربلا میں شریک تھے۔
ایسے نظام کے لئے رہبر بھی چائیے
ٓآپ کربلا میں واحد نہ شہید ہونے والے مرد تھے اور بعد شہادت امام حسین علیہ اسلام تمام تر ذمہ داری ٓپ پر عائد ہوتی تھی ۔۔۔اس وقت ان کی عمر 23 یا 25 برس تھی، اس موقع پر یہ بیمار اور صاحب فراش تھے، جب حضرت امام حسین علیہ السلام اللہ شہید کر دیے گئے تو شمر نے کہا کہ اسے بھی قتل کر دو، شمر کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا : سبحان اللہ! کیا تم ایسے جوان کو قتل کرنا چاہتے
تحصیل علم اور علمی مقام زین العابدین نے کبار صحابہٴ کرام وتابعین عظام سے کسب فیض کیا، آپ نے امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ، حضرت صفیہ، اپنے والد حضرت حسین، اپنے چچا حضرت حسن، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عباس اور ابو رافع، مسور بن مخرمہ، زینب بنت ابی سلمہ، سعید بن مسیب، سعید بن مرجانہ، مروان بن حکم، ذکوان، عمروبن عثمان بن عفان اور عبید اللہ بن ابی رافع وغیرہ سے حدیث شریف کا علم حاصل کیا او راپنے جدا مجد حضرت علی سے بھی مرسل روایت کرتے ہیں۔ابن عساکرمیں ہے کہ نافع بن جبیر نے علی بن حسین سے کہا: آپ ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں کے پاس ( تحصیل علم کی خاطر ) بیٹھتے ہیں؟ علی بن حسین نے جواباً فرمایا: میں ان لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا ہوں جن سے مجھے دینی فائدہ پہنچے۔ ابن سعد نے اپنی سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے نقل کیا ہے کہ علی بن حسین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم کی مجلس میں ( تحصیل علم کے لیے ) بیٹھا کرتے تھے، ان سے کہاگیا کہ آپ قریش کو چھوڑ بنی عدی کے ایک غلام کے پاس بیٹھتے ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا: آدمی کوجہاں فائدہ پہنچے وہاں بیٹھتا ہے۔ ابو نعیم نے حلیہ میں عبد الرحمن بن ازدک سے نقل کیا ہے کہ علی بن حسین مسجد میں آتے، لوگوں کے درمیان میں سے ہوتے ہوئے زید بن اسلم کے حلقے میں تشریف لے جاتے، نافع بن جبیر نے ان سے کہا: اللہ آپ کی مغفرت کرے! آپ لوگوں کے سردار ہیں، لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر اس غلام کے حلقے میں بیٹھتے ہیں؟ علی بن حسین نے فرمایا: علم کو طلب کیا جاتا ہے او راس کے لیے آیا جاتا ہے او راسے حاصل کیا جاتا ہے جہاں وہ ہو۔ ابن سعد نے اپنی سند کے ساتھ یزید بن حازم سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن حسین او رسلیمان بن یاسر کو منبر اور روضہ شریف کے درمیان میں چاشت کے وقت تک علمی مذاکرہ کرتے ہوئے دیکھا، جب اٹھنے کا ارادہ ہوتا تو عبد اللہ بن ابی سلمہ قرآن پاک کی کوئی سورت تلاوت کرتے، اس کے بعد یہ حضرات دعا مانگتے تھے۔علی بن حسین سے بہت سارے تابعین عظام نے فیض حاصل کیا ہے، آپ سے حدیث شریف کی روایت کرنے والوں میں ان کے چار بیٹے ابو جعفر محمد، عمر بن علی بن حسین، زید بن علی بن حسین، عبد اللہ بن علی بن حسین، ان کے علاوہ ابن شہاب زہری، عمر وبن دینار، حکم بن عیینہ، زید بن اسلم، یحییٰ بن سعید، ہشام بن عروہ، ابوحازم، محمدبن فرات تمیمی، عاصم بن عبید اللہ بن عامر بن عمر بن خطاب اور یحییٰ بن سعید انصاری رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں۔ آپ سفید رنگ کا عمامہ پہنا کرتے تھے او راس کا شملہ پشت یعنی کمر
کی جانب لٹکا دیتے تھے۔
کامل ہو راہ نما تو سفر کامیاب ہے
دلائل امامت عاشورا سنہ 61ہجری کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ ہی امام سجاد(ع) کی امامت کا آغاز ہوتا ہے اور آپ کا دوران میں امامت سنہ 94 یا 95 ہجری میں آپ کی شہادت تک جاری رہتا ہے۔کتب حدیث میں شیعہ محدثین کی منقولہ نصوص کے مطابق امام سجاد(ع) اپنے والد امام حسین علیہ السلام کے جانشین ہیں۔ علاوہ ازیں رسول اللہ(ص) سے متعدد احادیث منقول ہیں جن میں 12 آئمۂ شیعہ کے اسماء گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام سمیت تمام ائمہ(ع) کی امامت و خلافت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔
نیز شیعہ نصوص کے مطابق رسول اللہ(ص) کی تلوار اور زرہ وغیرہ کو ائمہ کے پاس ہونا چاہیے اور یہ اشیاء ہمارے شیعہ ائمہ کے پاس تھیں حتی کہ اہل سنت کے کتابوں میں اس امر پر صراحت کی گئی ہے رسول خدا(ص) کی یہ اشیا امام سجاد(ع) کے پاس تھیں۔
علاوہ ازیں امام سجاد(ع) ملت تشیع نے امام کے طور پر قبول کیا اور آپ کی امامت آپ کی امامت کے آغاز سے آج تک مقبول عام ہے جو خود اس حقیقی جانشینی کا بیِّن ثبوت ہے۔
معاصر سلاطین
یزید بن معاویہ (61- 64ہجری)
عبد اللہ بن زبیر (61-73ہجری)
معاویہ بن یزید (چند ماہ از سال 64ہجری)۔
مروان بن حَکَم (نہ ماہ از سال 65ہجری)۔
عبد الملک بن مروان (65- 86ہجری)۔
ولید بن عبد الملک (86- 96ہجری)۔[62]
علم اور حدیث میں آپ کا رتبہ
علم اور حدیث کے حوالے سے آپ کا رتبہ اس قدر بلند ہے کہ حتی اہل سنت کی چھ اہم کتب صحاح ستہ “صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع الصحیح، ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی سنن ابن ماجہ نیز مسند ابن حنبل سمیت اہل سنت کی مسانید” میں آپ سے احادیث نقل کی گئی ہیں۔ بخاری نے اپنی کتاب میں تہجد، نماز جمعہ، حج اور بعض دیگر ابواب میں، اور مسلم بن حجاج قشیری نیشابوری نے اپنی کتاب کے ابواب الصوم، الحج، الفرائض، الفتن، الادب اور دیگر تاریخی مسائل کے ضمن میں امام سجاد(ع) سے احادیث نقل کی ہیں۔
ذہبی رقمطراز ہے: امام سجاد(ع) نے پیغمبر(ص) امام علی بن ابی طالب سے مرسل روایات نقل کی ہیں جب آپ نے (چچا) حسن بن علی(ع) (والد) حسین بن علی(ع)، عبد اللہ بن عباس، صفیہ|صفیّہ، عائشہ اور ابو رافع سے بھی حدیث نقل کی ہے اور دوسری طرف سے امام محمد باقر(ع)، زید بن علی، ابو حمزہ ثمالی، یحیی بن سعید، ابن شہاب زہری، زید بن اسلم اور ابو الزناد نے آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں۔
فضائل و مناقب عبادت کے حوالے سے مالک بن انس سے مروی ہے کہ علی بن الحسین دن رات میں ایک ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے حتی کہ دنیا سے رخصت ہوئے چنانچہ آپ کو زین العابدین کہا جاتا ہے۔ابن عبد ربّہ لکھتا ہے: علی بن الحسین جب نماز کے لیے تیاری کرتے تو ایک لرزہ آپ کے وجود پر طاری ہوجاتا تھا۔ آپ سے سبب پوچھا گیا تو فرمایا: “وائے ہو تم پر! کیا تم جانتے ہو کہ میں اب کس ذات کے سامنے جاکر کھڑا ہونے والا ہوں! کس کے ساتھ راز و نیاز کرنے جارہا ہوں!؟”۔
مالک بن انس سے مروی ہے: علی بن الحسین نے احرام باندھا اور لبیّكَ اللهمّ لبَيكَ پڑھ لیا تو آپ پر غشی طاری ہوئی اور گھوڑے کی زین سے فرش زمین پر آ گرے۔
غربا و مساکین کی سرپرستی
ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ علی بن الحسین(ع) راتوں کو کھانے پینے کی چیزوں کو اپنے کندھے پر رکھ کر اندھیرے میں خفیہ طور پر غربا اور مساکین کو پہنچا دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: “جو صدقہ اندھیرے میں دیا جائے وہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے”۔
محمد بن اسحاق کہتا ہے: کچھ لوگ مدینہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انھیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کیے جاتے ہیں، علی ابن الحسین(ع) کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہوا۔
اانسانیت کا درس ملا کائنات کو ۔۔۔۔۔۔۔۔
راتوں کو روٹی کے تھیلے اپنی پشت پر رکھ دیتے تھے اور محتاجوں کے گھروں کا رخ کرتے تھے اور کہتے تھے: رازداری میں صدقہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے، ان تھیلوں کو لادنے کی وجہ سے آپ کی پیٹھ پر نشان پڑ گئے تھے اور جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کو غسل دیتے ہوئے وہ نشانات آپ کے بدن پر دیکھیے گئے۔ابن سعد روایت کرتا ہے: جب کوئی محتاج آپ کے پاس حاضر ہوتا تو آپ فرماتے: “صدقہ سائل تک پہنچنے سے پہلے اللہ تک پہنچ جاتا ہے”۔
ایک سال آپ(ع) نے حج کا ارادہ کیا تو آپ کی بہن سکینہ بنت الحسین(ع) نے ایک ہزار درہم کا سفر خرچ تیار کیا اور جب آپ حرہ کے مقام پر پہنچے تو وہ سفر خرچ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور امام(ع) نے وہ محتاجوں کے درمیان میں بانٹ دیا۔
آپ کا ایک چچا زاد بھائی ضرورتمند تھا اور آپ راتوں کو شناخت کرائے بغیر آپ کو چند دینار پہنچا دیتے تھے اور وہ شخص کہتا تھا: “علی ابن الحسین” قرابت کا حق ادا نہیں کرتے خدا انھیں اپنے اس عمل کا بدلہ دے۔ امام(ع) اس کی باتیں سن کر صبر و بردباری سے کام لیتے تھے اور اس کی ضرورت پوری کرتے وقت اپنی شناخت نہیں کراتے تھے۔ جب امام(ع) کا انتقال ہوا تو وہ احسان اس مرد سے منقطع ہوا اور وہ سمجھ گیا کہ وہ نیک انسان امام علی بن الحسین(ع) ہی تھے؛ چنانچہ آپ کے مزار پر حاضر ہوا اور زار و قطار رویا۔
ابونعیم رقمطراز ہے: امام سجاد(ع) نے دو بار اپنا پورا مال محتاجوں کے درمیان میں بانٹ دیا اور فرمایا: خداوند متعال مؤمن گنہگار شخص کو دوست رکھتا ہے جو توبہ کرے۔ابو نعیم ہی لکھتے ہیں: بعض لوگ آپ کو بخیل سمجھتے تھے لیکن جب دنیا سے رحلت کرگئے تو سمجھ گئے کہ ایک سو خاندانوں کی کفالت کرتے رہے تھے۔ جب کوئی سائل آپ کے پاس آتا تو آپ فرماتے تھے: آفرین ہے اس شخص پر جو میرا سفر خرچ آخرت میں منتقل کررہا ہے”۔
غلاموں کے ساتھ آپ کا طرز سلوک امام سجاد(ع) کے تمام تر اقدامات دینی پہلوؤں کے ساتھ سیاسی پہلؤوں کے حامل بھی ہوتے تھے اور انھی اہم اقدامات میں سے ایک غلاموں کی طرف خاص توجہ سے عبارت تھا۔ غلاموں کا طبقہ وہ طبقہ تھا جو خاص طور پر خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے بعد اور بطور خاص بنی امیہ کے دور میں شدید ترین سماجی دباؤ کا سامنا کررہا تھا اور اسلامی معاشرے کا محروم ترین طبقہ سمجھا جاتا تھا۔
امام سجاد(ع) نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی طرح اپنے [خالص] اسلامی طرز عمل کے ذریعے عراق کے بعض موالی کو اپنی طرف متوجہ اور اپنا گرویدہ بنا لیا اور معاشرے کے اس طبقے کی سماجی حیثیت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔
سید الاہل نے لکھا ہے: امام سجاد(ع) ـ جنہیں غلاموں کی کوئی ضرورت نہ تھی ـ غلاموں کی خریداری کا اہتمام کرتے اور اس خریداری کا مقصد انہيں آزادی دلانا ہوتا تھا۔ غلاموں کا طبقہ امام(ع) کا یہ رویہ دیکھ کر، اپنے آپ کو امام(ع) کے سامنے پیش کرتے تھے تاکہ آپ انھیں خرید لیں۔ امام(ع) ہر موقع مناسبت پر غلام آزاد کرٹیتے تھے اور صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں آزاد شدہ غلاموں اور کنیزوں کا ایک لشکر دکھائی دیتا تھا اور وہ سب امام سجاد(ع) کے موالی تھے۔
ٓآیات حق ہوں جس کا بیاں وہ امام ہے
علی بن حسین بڑے عابد وزاہد اور شب بیدار تھے، وہ بنی ہاشم کے فقہا وعابدین میں سے تھے اس زمانے میں ان کو مدینہ منورہ میں ” سید العابدین“ یعنی عابدوں کا سردار کہا جاتا تھا، ان کی اسی عبادت گزاری کی کثرت کی وجہ سے ان کو ” زین العابدین“ عبادت گزاروں کی زینت بھی کہا جاتا تھا۔ امام مالک نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ علی بن حسین کا موت تک روزانہ ایک ہزار رکعت نفل پڑھنے کا معمول تھا اوران کو کثرت عبادت کی وجہ سے ”زین العابدین“ کہا جاتا تھا۔امام زہری علی بن حسین کا تذکرہ کرتے ہوئے روتے تھے اور انھیں زین العابدین کے نام سے یاد کرتے تھے۔ابو نعیم نے ” حلیہ “میں ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ عبادت گزاروں کی زینت، قانتین کی علامت، عبادت کا حق ادا کرنے والے او رانتہائی سخی ومشفق تھے۔ابن عیینہ نے زہری سے نقل کیا ہے کہ میں اکثرعلی بن حسین کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا، میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو فقیہ نہیں پایا؛ لیکن وہ بہت کم گو تھے۔ امام مالک نے فرمایا کہ اہل بیت میں ان جیسا کوئی نہیں؛ حالانکہ وہ ایک باندی کے بیٹے تھے۔ زین العابدین جب نماز کے لیے وضو کرتے تھے توان کا رنگ پیلا پڑ جاتا اور وضو واقامت کے درمیان میں ان کے بدن پر ایک کپکپی کی کیفیت طاری ہوتی تھی، کسی نے اس کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: تمھیں معلوم ہے کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہونے جا رہاہوں اور کس سے مناجات کرنے لگا ہوں( یعنی اللہ تعالیٰ سے )۔کسی نے سعید بن مسیب سے کہا کہ آپ نے فلاں سے بڑھ کر کسی کو پ رہی ز گار پایا؟ انھوں نے فرمایا کیا تم نے علی بن حسین کو دیکھا ہے؟ تو سائل کہا کہ نہیں، تو فرمایا کہ میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو بھی پ رہی ز گار نہیں پایا۔طاؤس کہتے ہیں میں نے علی بن حسین کو سجدے کی حالت میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے :”عَبِیْدُکَ بِفِنَائِکَ، وَمِسْکِیْنُکَ بِفِنَائِکَ، سَائِلُکَ بِفِنَائِکَ، فَقِیْرُکَ بِفِنَائِکَ“طاوس کہتے ہیں کہ میں نے جب بھی کسی مشکل میں ان الفاظ کے ساتھ دعاکی تو اللہ تعالیٰ نے میری مشکل کو آسان فرما دیا۔ ابو نوح انصاری کہتے ہیں کہ علی بن حسین کسی گھر میں نماز پڑھ رہے تھے اور وہ سجدے کی حالت میں تھے کہ وہاں آگ لگ گئی، تو لوگوں نے کہنا شروع کیا: اے رسول اللہ کے فرزند، آگ آگ۔ انھوں نے اس وقت تک سجدے سے سر نہیں اٹھایا جب تک آگ بجھ نہ پائی، ان سے کسی نے کہا کہ کس چیز نے آپ کو آگ سے بے خبر رکھا تھا؟ انھوں نے فرمایا: مجھے آخرت کی فکر نے اس آگ سے بے خبر کر دیا تھا۔ابوجعفر کہتے ہیں کہ میرے والد ایک رات ایک دن میں ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، ان کی موت کا وقت قریب آیا تو رونے لگے، میں نے کہا آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ میں نے آپ کی طرح کسی کو اللہ کا طالب نہیں دیکھا اور یہ میں اس لیے نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ میرے والد ہیں، انھوں نے کہا اے میرے بیٹے! میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن ملک مقرب ہو یا نبی مرسل، ہر ایک اللہ کی مشیت وارادے کے تحت ہو گا جس کو چاہیں عذاب دیں گے اور جس کوچاہیں معاف فرمادیں گے۔آپ کا زہد و تقویٰ مشہور تھا۔ وضو کے وقت آپ کا رنگ زرد ہو جاتا تھا۔ پوچھا گیا تو فرمایا کہ میرا تصورِ کامل اپنے خالق و معبود کی طرف ہوتا ہے اور اس کے جلالت و رعب سے میری یہ حالت ہو جاتی ہے۔۔ نماز کی حالت یہ تھی کہ پاؤں کھڑے رہنے سے سوج جاتے اور پیشانی پر گٹھے پڑے ہوئے تھے اور رات جاگنے کی وجہ سے رنگ زرد رہتا تھا۔علامہ ابن طلحہ شافعی کے مطابق نماز کے وقت آپ کا جسم لرزہ براندام ہوتا تھا۔
جاری ہے انشا اللہ
معصومؑ ہی ادائے مشیت کا نام ہے
جب تک نظامِ شمس و قمر ہے امام ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نگہبان اہل حرم سالار سپاہ کربلا
قمر بنی ہاشم قمرپنجتن اور جہان ہستی کا چمکتا ہوا مہتاب
جناب عباس کا فرات پر پانی سے معروف مکالمہ
تیرے وقار کا اب کیا سوال رہتا ہے
حُسینؑ پیاسے ہیں اور تو زمین پر بہتا ہے
أبو الفضل العباس بن عبد المطلب الہاشمي القرشي أو عباس بن عبد المطلب (56 قـ – 32 هـ / 568 م – 653 م) .
عباس بن علی کی ولادت باسعادت چار شعبان المعظم 26ھ کو ہوئی۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت مودت محبت اور عقیدت تھی۔ علی بن ابی طالب نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔
حضرت عباس ؑکی تاریخ تولدکے سلسلے میں مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن معروف یہ ہے کہ آپ کی ولادت با سعادت جمعہ کے دن چہار شعبان سال ٢٦ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئیٔی۔ امیر المومنین نے اپنے نو مولود کا نام عباسؑ رکھا چونکہ علی (ع) بعنوان دروازہ علم نبوت جانتے تھے کہ ان کا یہ فرزند ارجمند بغیر کسی شک و تردیدکے باطل کے مقابلے میں سخت اور هیبت والے اور حق کے سامنے شاداب و تسلیم ہے۔ استاد ارجمند آیت اﷲ ڈاکٹراحمدبہشتی دامت برکاتہ اپنی ایک کتاب (قہرمان علقمہ) میں عباس کے معنی بیان کرتے هوے فرماتے ہیں: «نہیں جانتا کہ عباس ؑکو زیادہ غصہ دلانے والا معنی کروں یانہیں۔ کیونکہ آپ ہی تھے کہ دشت کربلا میں دشمن آپ کے وجود سے غصے میں آجاتا اوراس پر حالت عبوست ظاہرہوجاتی۔ا اورنام عباس ان کی چین وسکون کوچھین لیتا تھا۔ » البتہ اھل لغت نے لفظ عباس کا ایک اور معنی بھی بیان کیا ہے وہ معنی بھی حضرت عباس کے لیے مناسب اور موزوں ہے۔اس معنی کے تحت عباس اس شیر کو کہتے ہیں جس کو دیکھ کر دوسرے شیر بھاگ جاتے ہیں۔اور یہ منظر صحرا طف میں سب نے دیکھاکہ جناب عباس جس طرف بھی حملہ کرتے تھے سارے یزیدی وہاں سے بھاگ جاتے تھے۔ شجاعت ، بہادری، وفا اور دلیری جیسی خصوصیات کو دیکھتے ہوئے شجاع باپ نے اپنے شجاع بیٹے کا نام عباس ؑرکھا اور مورخین کے کلمات اس بات کے گواہ ہیں وہ لکھتے ہیں:«سماہ امیرالمومنین علیه السلام بالعباس لعلمه بشجاعته و سطوته و عبوسته فی قتال الاعداء و فی مقا بله الخصما» ٰ حضرت علی علیہ السلام نے عباس کا نام عباس اس لیے رکھا کیونکہ آپ میدان جنگ میں دشمن کے مقابلے میں حضرت عباس کی شجاعت،قدرت و صلابت کے بارے میں علم و آگاھی رکھتے تھے۔
علی بن ابی طالب نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ علی بن ابی طالب سے انھوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کیے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدرؑ کہلانے لگے۔ اسی بنا پر انھیں ثانی علی المرتضی ٰ بھی کہا جاتا ہے۔ عباس بن علی بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصو صاً کربلا کے لیے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لیے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے اور اسی لیے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے۔ آپ عرب اور بنو ہاشمؑ کے خوبصورت ترین ہستیوں میں سے تھے۔ اسی لیے آپ کو قمر بنی ہاشمؑ بھی کہا جاتا ہے۔
عباسؑ تم ہو شیر الہی کے نورِ عین
تم سے زیادہ کون ہے وابستۂ حُسینؑ
صدقے تمہاری شانِ شجاعت پہ مشرقین
بھیا تمہیں تو ہو پرِ فاطمہ کا چین
دل کے چمن میں کن سی خوشبو بہم نہیں
میری نٖظر میں تم علی اکبرؑ سے کم نہیں
حضرت عباس کا حسب ونسب کسی شخص کی شخصیت اس کے حسب و نسب سے بخوبی سمجھی جا سکتی ہے چونکه صالح گرجانوں کی مثال اس پاک سر زمین کی سی ہے جس میں شایستہ اورپھلدار درخت پر ورش پاتے هیں۔ خاندانی اصالت شخصیتوں کی پرورش میں نمایا ںکردار ادا کرتی ہے، تبھی تو امام علی علیہ السلام مالک اشتر ؓکو خطاب کرتے ہوئے فرماتے هیں ۔« وتوَّ خَ منهم اهل التَّجربة و الحیاء من اهل البیوتات الصالحة والقدم فی الاسلام المتقدمة فانهم اکرم اخلاقا و اصح اعراضا و اقل فی المطامع اشرافا و ابلغ فی عواقب الامور نظرا » یعنی اپنے عمّال میں سے ایسے افراد کا انتخاب کرو جو تجربہ کار و غیرت مند ہوں اور ان کا تعلق صالح خاندانوں سے ہو اور وہ اسلام میں اپنی خدمات کی بناپرپیشی رکتھے ہوں کیو نکہ ایسے لوگ بلند اخلاق ،بے داغ اورعزت والے ہوتے ہیں۔ حرص و طمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب و نتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں۔
امیر المومنین علی علیہ السلام کے اس فرمان سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ حسب و نسب پاک ہی گوہر و صدف پاک کو پروان چڑھایاکرتا ہے۔ نسب پاک ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتا۔ حضرت عباس علیہ السلام ان خوش قسمت افراد میں سے ایک ہیں جن کو عالم انساب میں وہ برتری حاصل ہے جو کم کسی کو حاصل ہوتی ہے۔وہ باپ کی جانب سے علوی و هاشمی ہیں جو شرف اور کرامت میں بے نظیر ہے جن کانظیر روی زمین میں پیدا نہیں ہو سکتا ہے۔ یوں ، عباسؑ نہ فقط قمر بنی ہاشم ہیں بلکہ قمر بشریت اور جہان ہستی کا چمکتا ہوا مهتاب ہیں۔
حضرت عباسؑ کے والدگرامی حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ہیں کہ جن کی عظمت کے سامنے دوست و دشمن سب سر تسلیم خم کے نظرآتے ہیں۔ ان کی ماں فاطمہ بنت حزام بن خالد جو ام البنین سے ملقب اور اسی نام سے معروف ہوئیں۔آپ کی شخصیت عالم اسلام میں بے نظیر مانی جاتی ہے آپ ہی کے چار فرزند کربلا میں سبط پیامبر حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جام شھادت نوش فرماکر تا ابد زندہ وجاویدہوگئے۔
حضرت ام البنین کا خاندان شرافت و پاکی ، سخاوت و شجاعت اور مہمان نوازی میں عرب کے قبائل کے درمیان زبان زد عام و خاص تھا۔ ان کے والدین، دادا، پردادا ۔۔۔ بھی انسانی کمالات کے شہرہ آفاق ستارے تھے۔حضرت ابوالفضل عباسؑ نے فضائل و کمالات کو ان دو خاندانوں سے ورثے میں پایا تھا۔
حضرت عباس علیہ السلام کے القاب صاحب تاریخ نے حضرت عباسؑ کے کئی القاب بیان کیے ہیں ، ہم ان میں سے کچھ کا بیان اختصار کے ساتھ ایسے ہے۔
ابو الفضل یعنی فضیلتوں کامالک(باپ)، حضرت عباسؑ کو شاید ان کی انگنت فضائل کی وجہ سے اس لقب سے موسوم کیا گیا ہو یا فضل ان کے کسی بیٹے کا نام تھا جس کی وجہ سے آپ ابو الفضل کہلائے۔ کچھ علما اورمورخین نے آپ کو ابو قریہ (صاحب مشکیزہ)سے ملقب کیا ہے۔ کیونکہ حضرت عباس نے روز عاشورا چند مرتبہ پانی کا مشکیزہ خیمہ گاہ حسینیؑ تک پہنچایا تھا۔
ابو القاسم حضرت عباس ؑکے ایک بیٹے کا نام قاسم تھا ۔ بعض مورخین کے مطا بق قاسم نے اپنے پدر بزرگوار کے ہمراہ کربلا میں جام شہادت نوش فرمایا۔اس بیٹے سے نسبت کی وجہ سے آپ ابوقاسم کہلائے ۔
قمر بنی ہاشم:حضرت عباسؑ بہت ہی حسین،اور پرکشش چہرے کے مالک تھے۔صاحب مقاتل الطالبین لکھتے ہیں کہ حضرت عباسؑ بہت خوبصورت ،حسین تھے جب وہ ایک درشت ہیکل گھوڑے پر سوار ہوتے تو ان کے پاوں زمین سے لگ جاتے تھے۔ انھیں قمر بنی ہاشم کہا جاتاتھا۔ شہید مطہری(رہ) فرماتے ہیں کہ حضرت عباسؑ بلند قامت جسیم اور خوبصورت جوان تھے، امام حسین علیہ السلام آپ کو دیکھ کربہت محظوظ ہواکرتے تھے۔
سقہ حضرت عباسؑ کے محبوب ترین القاب میں سے ایک لقب سقہ ہے۔ جب پسر مرجانہ نے خاندان رسالت پر پانی کی بندش کی تو حضرت عباسؑ نے اپنی بہادری اور دلیری کا ثبوت دیتے ہوئے کئی بار پانی خیموں تک پہنچایا اور اہل بیت پیامبر(ع)کو سیراب فرمایا ۔ اس وظیفے کی انجام دہی میں ہی جام شہادت نوش فرما کر رہتی دنیا تک تاریخ کے اوراق میں سرخ رو ہوئے۔
علمدار:حضرت عباسؑ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے لشکرکے علمدار تھے لشکر امام حسین علیہ السلام کی سالاری کا منصب آپ ہی کے نصیب میں آیا۔
عبدالصالح:امام صادق علیہ السلام اس زیارت میں کہ جسے ابوحمزہ ثمالیؓ نے نقل فرمایا ہے آپؑ کو عبد صالح سے خطاب کرتے ہیں۔جیسا کہ آپ علی علیہ السلام فرماتے ہیں (السلام علیک ایها العبد الصالح) میرا سلام ہو تجھے پر اے بندہ شایستہ۔
المواسی آپ کی اناہائی اثیار اور قربانی کی وجہ سے آپ کو المواسی کا لقب دیا گیا۔ آپ نے دشمن کو بھگا کر پانی تک رسائی حاصل کی لیکن اہل بیت عصمت و طہارت ؑکی پیاس کو یاد کرکے خود پانی نہیں پیا ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «اشهد لقد نصحت ﷲ و رسوله ولاخیک فنعم الاخ المواسی۔» میں گواہی دیتاہوں کہ آپ اللہ ورسول اوراپنے بھائی کی راہ میں خیرخواہ تھے اورنصیحت کی۔ آپ بہت ہمدردی رکھنے والے بھائی تھے۔ زیارت ناحیہ مقدسہ میں امام زمانہ(عج) فرماتے ہیں: ااسلام علی ابی الفضل العباس المواسی اخاہ بنفسہ ۔ یعنی سلام ہو ابوالفضل عباسؑ پرکہ جنھوں نے اپنی جان کے ساتھ بھائی کی مواسات (ہمدردی)کی۔
باب الحوائج:یہ لقب ایسا دلنشین ہے کہ آج بھی اہل بیت ؑ سے محبت رکھنے والے حضرت عباسؑ کو اسی لقب سے جانتے اور یاد کرتے ہیں،گویا باب الحوائج آپ ؑکا دوسرا نام ہو۔محبان حضرت عباسؑ کا عقیدہ ہے کہ اگر کوئی خالص نیت کے ساتھ عباس ؑکو وسیلہ قرار دے تو اﷲ تعالی اس کی حاجتیں اور مرادیں بر لاتا ہے اوراسے مایوس نہیں کرتا ہے۔ایسا کیوں نہ ہو چونکہ عباسؑ در ر حمت خدا اور اس کے محکم اسباب و وسائل میں سے ایک ہیں۔ عباس ہی نے تو اپنے امام علیہ السلام کی نصرت اور دین اسلام کی بقاء اور پایداری کے لیے سب سے زیادہ تلاش و کوشش کی یہاں تک کہ اپنی جان بھی اس ہدف پر قربان کی۔تعجب اس پر ہوتا اگر عباس باب الحوائج نہ کہلاتے!
شہیدارباب تاریخ نے اگرچہ شہید کا لقب حضرت عباسؑ کے لیے بیان نہیں کیا ہے لیکن امام صادق علیہ الاسلام کے کلام مبارک میں آپ کے لیے یه لقب بیان ہواہے ایک مرتبہ معاویہ بن عماریزیدی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا جب فدک آپ کو واپس کیا گیا تواسے آپ نے کس طرح تقسیم کیا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا ؛«اعطینا ولد العباس الشهید الربع و الباقی لنا» یعنی عباس شہیدؑ کے فرزندان کو ایک چوتھائی حصہ دیا اور باقی ہمارے لیے ہے۔
پاسدار و پاسبان حرم طول تاریخ میں بہت ساروں نے اپنی ناموس اور حریم کی دفاع میں حتی جان تک کو قربان کیا لیکن کوئی بھی اس کام میں حضرت عباسؑ کی منزلت کو نہیں پہنچ سکا۔حضرت عباس ؑسارے پاسبانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔تبھی تو اسلامی جمہوریہ ایران میں ہر سال چار شعبان کو روز جانباز کے نام سے منایا جاتا ہے۔ مذکورہ القابات کے علاوہ بھی مورخین نے کئی ایک القاب حضرت عباس ؑکے لیے نقل کیے ہیں’ جن میں سے ،الفادی’عمید’ حامی’ واقی’ کبش الکتیبہ’،اوراطلس، زیادہ مشہورہیں۔
حضرت عباسؑ پیکر وفا لفظ وفاء کو غدر، فریب اور بے وفائی کے مقابلے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ وفا، فضلیت اور بے وفائی اور غدر صفت رذیلہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ امام صادق علیہ السلام کی ایک لمبی حدیث ہے اس میں نیک اور بری صفتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں: «الوفاء وضدہ الغدر» یعنی وفا عقل کی وزیر ہے اور خداوند نے غدر کو جووزیر جہل ہے اس کے مقابلے میں قرار دیا ہے۔ شاید یہ کہنا مناسب ہو اگر ایمان صاحب اجزاء ہو تو قطعی طور پر ان اجزاء میں سے ایک جزء وفاءہے۔ جیساکہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:((ان اﷲ عزوجل وضع الایمان علی سبعه اسهم علی البر و الصدق و الیقین و الرضاء و الوفاء و العلم و الحلم)) یعنی(اﷲتعالی نے ایمان کو سا ت حصوں میں قرار دیا: نیکی، سچائی،یقین، رضا ، وفا ، علم و حلم)
اصولی طور پر نیک اعمال کی قبولیت کے لیے وفاء کا ہونا شرط ہے۔جو لوگ غدار،حیلہ گر اور فریب کار ہوتے ہیں ان کا مقام تو کتوں سے بھی نیچے درجے کا ہے ایسے لوگ نیک اعمال کے ثواب سے بے نصیب ہیں۔جیسا خود خدا وند ارشاد فرماتا ہے . « اوفوا بعهدی اوف بعهدکم» یعنی( میرے عہد سے وفا داری کرو تا تمھارے عہد کی میں پاسداری کروں۔)لہذا خداوند نے جن نیک اعمال کے لیے ثواب کا وعدہ کیا ہے یہ وعدہ تب نبھایا جائیگا کہ جب صاحب عمل، وفادار لوگوں میں سے ہو۔ اس سلسلے میں آیات و روایات بہت ہیں۔ اس سے زیادہ بیان اس مقالے کے احاطے سے باہر ہے۔سابقاً اس حقیقت کی طرف اشارہ کیاجاچکا ہے کہ حضرت عباسؑ نیک فضو ہیں کے مرکزکہلاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی کنیت ہی ابو الفضل یعنی فضیلتوں کا باپ پڑ گئی۔حضرت عباسؑ کی پوری فضیلتوں کا احصا ایک یا دو مقالوں کی گنجائش سے باہ رہے بلکہ اس امر کے لیے کئی جلد کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت کومد نظر رکھتے ہوئے ہم اس مقالے میں حضرت عباسؑ کی صرف صفت وفا پر مختصربحث کریں گے۔ آپؑ کی وفا کو مختلف پیرایوں سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
وفاداری کے مختلف پہلو یوں تو وفاداری کے کئی ا پہلو ہوتے ہیں ۔ دین کے ساتھ وفا داری، اپنی قوم و ملت کے ساتھ وفاداری، اپنے ملک اور وطن کے ساتھ وفاداری، اپنے بھائی اور نزدیک ترین افراد کے ساتھ وفا داری،امامِ وقت سے وفاداری دوست اور احباب کے ساتھ وفا داری وغیرہ۔ حضرت عباسؑ نے ان تمام پہلووں میں امتحان دے کر پہلے رتبے پر فائز ہوئے۔
دین کے ساتھ وفا داری دین اسلام پر جب کبھی برا وقت آیا عباس علیہ السلام بہترین مدافع کے طور پر سامنے آئے اور کبھی اپنی جان کی پروا نہ کی، چاہے وہ بابا علی مرتضی(ع) کا زمانہ امامت ہو یا بھیا حسن مجتبی(ع) کا دور امامت، آپ ہمیشہ اسلام اور اپنے امام وقت کے دفاع میں ہر اول دستے میں رہے۔اور اپنی وفا کے جوہر دکھلاتے رہے۔جس وقت بھیا حسین سید الشہداءعلیہ السلام کا دور امامت آیا ہمیشہ ان کی اطاعت میں زندگی گزاری. جب بنوامیہ نے یذید ملعون کو خلیفهه المسلمین کے منصب پر بٹھا کر دین اسلام کو پا مال کرنے کا تہیہ کیا اور امام حسین علیہ السلام کو یہ فرمانا پڑا کہ (علی الاسلام،السلام) یعنی یذید جیسے فاجروفاسق شخص کو خلیفہ بنا کر اس کی بیعت کرنا گویا اسلام کو سلام کرکے اسے خیر باد کہنا ہے ایسے موقع پر حضرت عباسؑ جیسے دین اسلام کے وفا دار اپنی جان کو جو کھوں میں ڈال کر اسلام کی بقاء اور اس کی سربلندی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوئے۔
ہر دم تیری رضا کو مقدر کئے ہوئے۔۔۔۔۔ بندہ ہے سرف تیری محبت لئے ہوئے
قوم و ملت کے ساتھ وفادری قوم وملت کے ساتھ وفاداری حضرت عباس ؑکی روح میں متجلی تھی۔ قوم و ملت بنی امیہ کے ظلم و جور میں جکڑی ہوئی ہے۔ظلم کی گھٹا ٹوپ تاریکی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔بہادرسے بہادر شخص بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے کترا تا نظرآتاہے۔بنوا میہ نے تمام مسلمانوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے، ان کے اموال کو تاراج کر دیا اور کسی کی ناموس محفوظ نہیں۔لوگوں کو استثمار کرنے کے لیے دین خدا کو اپنا کھلونا بنا کر کھیل کھیلا جارہا ہے ایسے سخت اوقات میں عباس علیہ اسلام ہی قوم وملت کے وفا دار ہیں تبھی تو امام حسین علیہ السلام نے روز عاشورا اپنا علم عباس ؑکے سپردکرکے ان کو اپنا سپاہ کا سالار بناتے ہیں حقا کہ حضرت عباس ؑنے اپنے دونوں بازووں کوکٹوا کر اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ،اور نهر علقمہ پر جام شہادت نوش کرکے ہمیشہ کے لیے علقمہ کے هیرو کهلائے گئے۔
ملک و وطن سے وفادری اسلامی مملکت خطرے میں ہے اس سے بڑ ھ کر برا وقت کبھی اسلامی وطن پر نہیں آیاہے۔بنوامیہ اسلامی وطن کی ثروت کو لوٹ رہے ہیں۔ مملکت اسلامی کے خزانے من پسند افراد میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔جو چرطے کل تک اسلامی مملکت کے اندر موح س سمجھے جاتے تھے ان کو آج عالی ترین مناصب دیکر انھیں عزت دی جاتی ہے، وہ ان منصولں کے آڑاوٹ میں لوگوں کے اموال کو غارت کر رہے ہیں۔ان سے پوچھ گچھ کرنے والا کوئی نہیں۔ ارباب تاریخ لکھتے ہیں کہ حضرت عباس کی شہادت کے بعد امام حسین علیہ اسلام کے بدن میں زندگی کی کوٍئی رمق باقی نہیں رہی تھی آپ ہڈیوں کے ایک ڈھا نچے کی صورت میں رہ گئے تھے۔ «لم یبق الحسین بعد ابی الفضل الاهیکلا شاخصا معری عن لوازملوازم الحیات» جب حضرت عباسؑ شہید ہوئے تو دشمن ہر طرف سے اصحاب امام حسین علیہ السلام پر حملہ آور ہوئے ، اب چونکہ حسینؑ سے وفاء کرنے والا اس کابهادر بھائی عباسؑ باقی نہ رہا تھا۔ «لما قتل العباس تدا فعت الرجال علی اصحاب الحسین»
یه وه وقت تها کہ اسلامی مملکت کے اندر آزاد اندیش انسانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔جن لوگو ں کی اسلام کے لیے خدمات تھیں اور اب بھی شیفتہ اسلام ہیں ان کو وطن سے نکال دیا جاتا ہے۔ عمارؓ و میثم ؓو سعیدؓ بن جبیر ؓاور رشدب ہجریؓ جیسوں کا دائرہ تنگ کر کے ان کو انہی کے خون میں نہلایا گیا۔جب کہ عمرو عاصم ، ابوہریرہ، عمر سعد، زیاد ، عبید جیسے اسلام دشمن عناصر کی شخصیت پروری کی جاتی ہے۔ ولید جیسوں کو مدینہ الرسول کا حاکم بنایا جاتا ہے۔ ایسے حالات اور شرائط میں اسلامی مملکت کی بقاء اور استحکام کے لیے عباس علمدار ؑجیسے وفادار افراد اگرچہ تعداد میں کم ہیں لیکن ایک مضبوط عزم و ارادہ کے ساتھ اپنے امام وقت کے گرد یوں جمع ہوجاتے ہیں جیسے پروا نے شمع کے گرد. اور اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔اور یوں اسلامی وطن کے پاسبان کے لقب سے معزز پاتے ہیں۔
بھائی سے وفا داری امام حسین علیہ السلام ریحان رسول خدا ﷺ ہیں۔ وہی رهبر دین، مسلمین کے پیشوا و صالحین کے امام اور سرور و سالار شہیدان ہیں۔ عباسؑ کا اپنے بھائی حسین علیہ السلام کے ساتھ کبھی نہ ٹوٹنے والا ایک عہد موجود ہے۔انھوں نے اپنے امام حق کی بیعت کی تا کہ باطل سے ٹکرائںر۔عباسؑ، امام نور کا پیرو کار ہے اور وہ ظلمت اور تاریکی کے رهبروں کے ساتھ اپنی آخری سانسوں تک نبرد آزماں ہے۔عباسؑ نے بتلا دیا کہ وہ اپنے بھائی، مولا ، رهبر ، امام اور مقتدی کے ساتھ کس قدر وفادارہیں۔آپ کی وفاداری اس قدر عروج کو پنچیس کہ خود وفا کو ناز ہے کہ وہ آپ سے منسوب ہے۔اور آپ وفاداروں کے لیے نمونہ، بلکہ پیکر وفا ہوئے۔ کیوں نہ ایسا ہو چونکہ تاریخ نے کبھی ایسے وفا کو نہیں دیکھا ہے،اگر آپ کو قطب وفا کہا جایے تو بیجا نهیں ہے۔ امام زمانہ (عج) اس
بارے میں فرماتے ہیں «السلام علی ابی الفضل العباس المواسی اخاہ بنفسه» همارا سلام ہو ابو الفضل العباسؑ پر جس نے اپنی جان قربان کرنے کے ساتھ بھائی سے ہمدردی کی-وقت کے امام سے وفاداری حضرت عباسؑ کی مہم ترین خصوصیات میں سے ایک خصوصیت اپنے زمانے کے امام کی شناخت اور ان کیان کی اطاعت محض تھی۔ آپ نے تین اماموں ؑ کی دور امامت کو دیکھا .چاہے
بابا علی علیہ السلام کا دور امامت ہو یا بھیا حسن علیہ السلام کا دور امامت ہو، آ پ نے ہمیشہ اپنی وفا کا لوها منوایا ۔ آپ کے زیارتنامہ میں امام صادق علیہ السلام سے منقول یہ جملات اس امر کی روشن دلیل ہیں کہ آپ ولایت مداری میں کس قدر آگے تھے۔ «المطیح ﷲ و لرسوله ولامیر المومنین والحسن والحسین صلی اﷲ علیهم » یعنی ،تجھ پر سلام اے ای اﷲ کے صالح بندے وخدابندے و خدا اور اس کے رسول کے مطیع و فرماں بردار اور امیر المومنین،امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے حقیقی پیرو کار۔ حضرت عباسؑ نے کربلا میں وفا اور وفاداری کے جو نقوش چھوڑے ہیں وہ سب اپنے امام وقت کی اطاعت اور اس سے وفاداری کی وجہ سے ہے۔ کوئی یہ نہ سوچے کہ شاید حضرت عباسؑ کی فداکاری قبیلہ کاتعصب اور خاندانی تھی، نہیں بلکہ حضرت عباسؑ کی یہ ساری قربانیاں ولایت مداری اور اس کی اطاعت کی وجہ سے تھیں۔چنانچہ ارباب تاریخ اس شبھہ سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں۔
تن پر حسنیت کی زرہ ہاشمی نظر ۔۔۔۔۔سر پر سہامت ابوطالب چتر زر
بل کان یعرف ان دین اﷲ قائم با لحسین(علیه السلام) وهو عمود الدین ، مجاهد عن دین اﷲ و عن شریعت المصطفی و حامی عن ابن رسول اﷲ و عن بنات الزهراء کما قال انی احامی ابدا عن دینی وعن امام الصادق الیقین نجل النبی الطاهر الامین» بلکہ( حضرت عباسؑ) جانتے تھے کہ دین خدا، امام حسین کی وجہ سے قائم ہے۔امام حسینؑ ہی دین کے ستون ہیں۔ وه دین خدا اور شریعت پیامبرﷺ کی بقاء کے لیے جہاد کر رہے ہیں (اس خاطر حضرت عباس جان ودل سے) فرزندان رسول خداﷺ اور حضرت زهرا سلام اللہ علیہا کی بیٹیوں کی حمایت کر رہے تھے جیسا کہ خود فرمایا کرتے تھے، خدا کی قسم اگر میرے بازووں کو کاٹو تو بھی میں اپنے دین، اپنے امام حق اور یقین اور فرزند دختر پیامبر پاک ﷺ و امین کی حمایت کروں گا۔
وفاداری کے چند نمونہ ہائے یوں تو حضرت عباسؑ کی پوری زندگی وفا اور وفاداری سے لبریز ہے لیکن حضرت عباس ؑکی یه وفا داری سانحہ کربلا میں کچھ منفرد انداز میں نکھر کر سامنے آئی دوست ہوں یا دشمن کوئی بھی آپ کی وفا داری کی داد دئے بغیر نہ رہ سکا۔ منمندرجہدرجہ ذیل سطور میں حضرت عباسؑ کی وفاداری کے چند نمونے پیش کرتے ہیں۔
ہر شہر زندگی کا احاطہ کئے ہوئے ۔۔۔۔۔ عباسؑ ہے وفا کا سمندر لئے ہوئے
عبیداللہ اوراس کے کارندے اس بات سے آگاہ تھے کہ جب تک حضرت عباسؑ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہیں ان پر حاوی ہونا نہایت ہی دشوار مسئلہ ہے لہذا یہ چال چلی کہ حضرت عباسؑ کو امام حسین علیه السلام سے جداکریں اس چال اورحربے کوعملی جامه پهنا نے کے لیے عصرتاسوعا شمرملعون چارهزار فوج کے همراه دشت نینوا پهنچا،اورحضرت عباسؑ کو آواز دی لیکن حضرت عباس ؑنے اس کی پکار پر کوٍئی توجہ نہیں دی بلکہ یوں کہوں عباس نامدارؑ نے شمر کو جواب کا لائق ہی نہ سمجھا، جب آقا و مولا امام حسین علیہ السلام نے کہا میرے عزیز بھیا جا و دیکھوشمر آپ سے کیا چاہتا ہے؟ اپنے بھیا اور امامؑ کی اطاعت میں آگے بڑھ کر شمر سے کہا،کہو کیا کہا چاہتے ہو۔شمر نے کہا اے عباس !میں نے ابن زیاد سے تمھیں اور تمھارے بھائیوں کے لیے امانامان نامہ لے لیا ہے، لہذا آپ اپنے آپ کو حسین ؑسے الگ رکھیے۔شیر خدا کے شیر فرزند بپھر گئے اور طیش میں آکر فرمایا:«تبت یداک و لعن ما جئت به من امانک یا عدو اﷲ، اتأ مرونا ان نترک اخانا وسیدنا الحسین بن فاطمه و ند خل فی طاعت اللعناء و اولاد اللعناء اتومننا و ابن رسول اﷲ لا آمان له» تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیس اور لعنت ہو اس امان نامہ پر اور اس پر جس سے یہ امان نامہ لے کر کے آئے ہو، اے دشمن خداکیا تو ہمیں یہ امرکررہاہے کہ ہم اپنے بھائی ومولا اور فاطمہ (ع) کے لخت جگر کو تنای چھوڑ کر لعنت شدگان اور لعنت شدگان کے فرزندوں کی اطاعت کے زمرے میں داخل ہوجائیں(عجیب بات ہے) آیا ہمیں امان دے رہے ہو لیکن فرزند رسول خدا ﷺکے لیے کوئی امانآمان نہیں؟یہ جملات حضرت عباس کی شجاعت اور وفاداری کی واضح دلیل ہے۔
شب عاشورہ
شام عاشورا امام حسین علیہ السلام نے اپنے تمام یار و انصار کو ایک خیمے میں جمع کرکے فرمایا : سب سنو یہ قوم دغل باز،صرف میرے خون کی پیاسی ہے لہذا میں اپنی بیتم تمھاری گردنوں سے اٹھاتا ہوں ،چراغ گل کیے دیتا ہوں۔شب کی تاریکی سے فائدہ اٹھا کر ہر کوئی اپنا اپنا راستہ لے لے اور یوں ہر کسی کو بھاگنے کی بہترین فرصت فراہم کی لیکن قربان جائیں حضرت عباسؑ کی وفاداری پر کہ تاریکی کا سکوت توڑ کر سب سے پہلے آپ نے اپنے عھد وفا کو پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا ، چنانچہ ارباب تاریخ نے لکھا ہے «فبدألقول العباس بن علی علیه السلام فقال له لم نفعل ذالک؟البقی بعدک؟ لا ارنا اﷲ ذالک ابدا» اس وقت عباسؑ بن علی ؑنے آغاز سخن فرمایا اور امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا،ہم یہ کام کیوں انجام دیں؟کیا اس لیے کہ آپ کے بعد باقی رهیں (یعنی زندہ رہںا)؟ نہیں، خدا کبھی یہ چیز(آپ کی جدایی ) ہمیں نہ دکھلائے۔
کنارے نہر فرات پر وفاداری کی انتہاجب اکبر شہید ہوئے کئی بار حضرت عباس ؑنے امام حسین علیہ السلام سے جنگ کی اجازت چاہی ہر بار امام علیہ السلام نے یہ کہہ کر کہ بھیا تو میرے فوج کا علمدار ہے اگر تو جائے گا تو میری فوج کا کیا بنے گا؟ میرا خیال ہے شاید امام علیہ السلام عباس کو کچھ دیر اور اپنے درمیان روکنا چاہتے تھے چونکہ امام علیہ السلام جانتے تھے خیام حسینی میں موجود مخدرات عصمت و طہارتؑ اور چھو ٹے معصوم بچوں کی ڈھارس عباسؑ تھے جب تک عباسؑ زندہ تھے ؛ ان کی امیدیں بھی زندہ تھیں۔ جب حضرت عباسؑ کا اصرار بڑھا تو امام علیہ السلام نے یہ کہکر کہ خیموں میں چھوٹے بچے تشنہ لب ہیں ان کے لیے کچھ پانی کا بندوبست کرو۔ حضرت عباس ؑنے اپنے بھائی حسین ؑکے ماتھے کو چوما اور نہر فرات کی طرف بڑھے فوج اشقیا کی صفوں کو چیرتے ہوئے نہر فرات تک پہنچے ، مشکیزہ کو پانی سے بھرا خود بھی تو پیاسے تھے ایک چلو پانی کالیا اور پینے کاارادہ کیا «فذکر عطش الحسین علیه السلام و من معه فرقی الماء» ایک دفعہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھ موجود افراد(چھوٹے چھوٹے بچوں) کی پیاس یاد آئی ۔ پانی کو نہر فرات میں پھینک دیااور اپنے نفس سے یوں مخاطب ہوئے: «یا نفس من بعد الحسین هونی و بعدہ لا کنت ان تکونی وهذا الحسین وارد المنون وتشربین باردالمعین ، تاﷲ ما هذا فعال دینی» ای نفس حسینؑ کے بعد ذلت و خواری تر ی نصیب ہو’ حسینؑ کے بعد زندہ رہنے کے لیے تو باقی نہ رہے۔حسین علیہ السلام (تشنگی کی وجہ سے) موت کے دھانے پرجا پہنچے ہیں اور تو ٹھنڈا پانی پی رہاہے ، خدا کی قسم یہ کام عباس کے دین اور آئین(وفا) میں شامل نہیں، پھر ایک نعرہ لگاتے ہوئے فرمایا:« واﷲ لا اذوق الماء وسیدی الحسین عطشانا» اﷲ کی قسم میں پانی نہیں پیتا در حالیکہ میرے آقا حسین علیہ السلام پیاسے ہیں ۔
اِس تشنگی میں قوتِ احساس زندہ بادہ
کہہ دیں گے خود علی میرا عباسؑ زندہ آباد
وفاداری عباسؑ پر دشمن کا اعتراف میدان اور روز عاشورہ کربلا معلی میںحضرت عباسؑ کی وفاداری اتنی عظیم تھی کہ دشمن بھی اس پر اعتراف کرنے لگا’ اور ان کا پلید ترین دشمن بھی اس سے انکار نہیں کرسکا۔ چنانچہ جب وسائل غارت شدہ کو شام میں یزید کے پاس لے جایا گیا ان وسائل میں ایک بڑا علم بھی تھا جس کا کوئی بھی حصہ تیروں اور تلواروں کے زخموں سے خالی نہیں تھا لیکن اس علم کا دستگیرہ (قبضہ) بالکل سالم تھا، یزید نے پوچھا اس علم کو کون اٹھاتا تھا؟ کہا گیا یہ علم ’عباس بن علی کا ہے۔ یزید تعجب سے تین بار اس علم کی تعظیم میں کھڑے ہوکر بیٹھا اور کہا «انظروا الی هذا العلم فانه لم یسلم من الطعن و الضرب الا مقبض الید التی تحمله» یعنی اس علم کو دیکھیے نیزوں اور تلوار کی چوٹوں سے اس کا کوئی حصہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، سوائے دستگیرہ کے جس کو علمدار اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر اٹھاتے تھے۔ (یعنی صرف قبضہ علم ضربات سے محفوظ رہا ہے) قبضہ علم کا سالم رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ علمدار نے تیروں ، نیزوں اور تلواروں کی تمام ضربات کو جو ہاتھوں پر آتے تھے تحمل کیا ہے اور علم کو گرنے نہ دیاہے۔ تب یزید نے کہا « بیت اللعن یا عباس هکذایکون وفاء الاخ لاخیه » اے عباس لعن اور ملامت (ننگ و عار)کو اپنے سے کوسوں دور کر دیا (یعنی لعن اور ملامت تجھے پر نہیں ججتی ہے)بے شک بھائی کی بھائی سے وفاداری ایسی ہی ہونی چاہیے۔
عباس تجھے اہل وفا یاد کریں گے
اے عباس تجھ کو پانچ اماموں ؑنے دیکھا ہے اور علم اٹھانے والے تیرے بازووں کا بوسہ لیتے ہیں۔عین اﷲ (حضرت علیؑ) نے جب قنداقے کو اٹھایا اور تربے بازووں پر ان کی نظر لگی تو انکھیں آنسووں سے نمناک ہوئیں۔
حضرت عباس کی وفاداری ائمہ علیہم السلام کی نگاہ میں
ائمہ معصومین علیہم السلام نے حضرت عباس علیہ اسلام کے متعلق بہت کچھ بیان فرمایا ہے اور معصوم کی زبان سے نکلی ہوئی بات مبالغہ آرائی اور غیر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ قول معصوم حقیقت کو بیان کرتا ہے ۔ ذیل میں چند ایک نمونے بطور مختصر بیان کرتے ہیں؛
امام زین العابدین علیہ السلام خود کربلا میں موجود تھے امام حسینؑ اور ان کے یارو انصار کی شہادت کے بعد مخدرات عصمت اور ننے دمنھے بچوں کو کوفے اور شام کے بازاروں اور درباروں میں سہارا دیا ۔ آپ ہی تو کربلا میں اپنے چچا عباس کی وفا داریوں کے چشم دیدہ گواہ تھے۔آپ علیہ السلام حضرت عباسؑ کی وفا کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں: «رحم اﷲ عمی العباس فلقد آثر وابلی وفدی اخاہ بنفسه حتی قطعت یداهٰ» خدا رحمت کرے میرے چچا عباسؑ پر کہ جنھوں نے حقیقی طور پر ایثار ، جانبازی اور وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بھائی کی خاطر اپنی جان فدا کی اور اپنے دونوں بازووں کو ان کے راہ میں کٹوایا۔
امام صادق علیہ السلام حضرت عباسؑ کی وفاداری اور فداکاری کو بیان کرتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے ہیں۔«اشهد لقد نصحت ﷲ و لرسوله ولا خیک فنعم الاخ المواسی» میں شھادت دیتا ہوں کہ تو نے خدا، اس کے رسول ﷺاور اپنے بھائی کے ساتھ بہترین نیکی اور خیر خواھی کی، پس آپ (اے عباسؑ)کس قدر اچھا فداکار اور وفادار بھائی تھے۔
٣۔حضرت عباس علیہ السلام کی فداکاری اور وفاداری کا تذکرہ امام زمانہ (عج اﷲتعالی فرجه الشریف)نے زیارت ناحیہ مقدسہ کے اندر یوں بیان کیا ہے:
؛ (میرا سلام ہو ابو الفضل العباس ؑپر کہ جنھوں نے اپنے بھائی کے لیے اپنی جان کی قربانی پیش کرکے ایثار اور وفاداری کا اعلی مظاہرہ کیا۔)
بولیں فضائیں غازی و جرار مرحبا
مظلوم کربال کے علم دار مرحبا
واقعہ کربلا اور عباس بن علی
واقعہ کربلا کے وقت عباس بن علی کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ حسین بن علی نے آپ کو لشکر کا علمبردار قراردیا۔ اِسی وجہ سے آپ کا ایک لقب علمدار کربلا بھی مشہور ہے۔ آج ساری دُنیا میں جگہ جگہ شہداء کربلا کی یاد منائی جاتی ہے۔ مجلسِ عزَا وجلوس عزاداری میں کربلا کے علم کی شبیہ اور شبیہ ذو الجناح کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ حسین بن علی کے ساتھیوں کی تعداد 72 یا زیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے زیادہ تھی مگر عباس بن علی کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس بن علی جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امامؑ وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق، عباس بن علی کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے : ”چچا عباسؑ کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انھوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہو گئے آپ نے بڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“ ۔
اب کون اس طرح کی شجاععت دکھائے گا ۔۔۔۔۔اس شان سے نہ کوئی علم دار آئے گا

10 محرم کو حسین بن علی نے ان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی حضرت سیدہ سکینہ الحسین کے لیے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دیے اور شہادت پائی۔ اس دوران میں ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندا نِ رسالت ﷺ پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی عباس بن علی کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔ جو ایک دُنیا کا زندہ معجزہ ہے۔
آپ کا مزارکربلا میں حضرت عباس کے روضے کے نو دروازے ہیں۔ روضہ حسین کے دروازوں کی طرح ان سب کے بھی مختلف نام ہیں اور ان سب پر مختلف طرح سے سلام کیا گیا ہے۔
مرکزی دروازے کا نام باب قبلہ ہے اور اس پر السلام علیک یا ابا الفضل العباس لکھا ہوا ہے۔ فضل حضرت عباس کے بیٹے کا نام تھا۔ یہ دروازہ قبلہ رخ ہے۔
ایک دروازے کا نام باب الامام الحسن ہے اور اس پر السلام علیک یا بن امیر المومنین لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے مومنوں کے امیر کے فرزند، آپ پر سلام۔ اہل تشیع حضرت علی کو امیر المومنین کہتے ہیں اور کسی اور کو اس نام سے یاد نہیں کرتے۔
ایک دروازے کا نام باب الکف ہے۔ کف عربی میں ہاتھ میں کہتے ہیں۔ کربلا میں حضرت عباس کو شہید کرنے سے پہلے ان کے بازو قطع کیے گئے تھے۔ اس دروازے کے سامنے وہ مقام ہے جو حضرت عباس کا بایاں ہاتھ شہید ہونے کی یاد میں بنایا گیا۔ اسے باب امام علی بھی کہا جاتا ہے۔ اس پر السلام علیک ایھا العبد الصالح لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے اللہ کے نیک بندے، آپ پر سلام۔
ایک دروازے کا نام باب العلقمیٰ ہے۔ اسے باب فرات اور باب علی بن موسی الرضا بھی کہتے ہیں۔ دریائے فرات کی جو نہر کربلا تک آتی تھی، اس کا نام علقمہ تھا۔ جنگ اسی نہر کے قریب ہوئی تھی۔ اب وہ نہر خشک ہو چکی ہے۔ اس مقام پر جو سڑک ہے، اس کا نام شارع علقمہ رکھ دیا گیا ہے۔ اس دروازے پر السلام علیک یا ساقی عطا شیٰ کربلاء لکھا ہوا ہے۔ ساقی کا مطلب ہے پانی پلانے والا۔ حضرت عباس نے عاشور سے پہلے کئی بار یزیدی فوج کا گھیرا توڑ کر کربلا کے پیاسوں کو پانی پلایا تھا۔
غازی کا خون دشت کے ذروں میں بٹ گیا ۔۔۔۔ جس پر سجی تھی مشک وہ بازو قلم ہوا
ایک دروازے کا نام باب امام علی الھادی ہے۔ عراق میں جنھیں علی الہادی کہا جاتا ہے، پاکستان اور ہندوستان کے لوگ انھیں امام علی نقی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ اثنا عشری اہل تشیع کے دسویں امام تھے۔ نقوی انھیں کی ولاد میں سے ہیں۔ اس دروازے پر السلام علیک یا حامل لواء الحسین لکھا ہوا ہے۔ حامل لواء کا مطلب ہے، علم دار۔ سپہ سالار۔ یعنی اے حسینی لشکر کے علم دار، آپ پر سلام۔
ایک دروازے کا نام باب الامام محمد جواد ہے۔ عراق میں جنھیں امام محمد جواد کہا جاتا ہے، پاکستان اور ہندوستان میں لوگ انھیں امام محمد تقی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ اثنا عشری اہل تشیع کے نویں امام تھے۔ اس دروازے پر السلام علیک یا قمر بنی ہاشم لکھا ہوا ہے۔ پاکستان کے جلوس میں اٹھائے گئے علموں پر اکثر قمر بنی ہاشم لکھا ہوا دیکھنے کو ملتا ہے۔ حضرت عباس نہایت خوبصورت اور وجیہ تھے اس لیے انھیں یہ لقب دیا گیا۔ یعنی اے بنی ہاشم کے چاند، آپ پر سلام۔
ایک دروازے کا نام باب الامام موسیٰ الکاظم ہے۔ امام موسیٰ کاظم اثنا عشری اہل تشیع کے ساتویں امام تھے۔ اس دروازے پر السلام علیک یا باب الحوائج لکھا ہوا ہے۔ باب الحوائج کا مطلب ہے، ایسا دروازہ جہاں حاجتیں پوری کی جاتی ہوں۔ یعنی اے حاجتیں پوری کرنے والے، آپ پر سلام۔ اہل تشیع چار شخصیات کو باب الحوائج کہتے ہیں جن میں امام موسیٰ کاظم اور حضرت عباس دونوں شامل ہیں۔
ایک دروازے کا نام باب الامام صاحب الزماں ہے۔ امام صاحب الزماں کا مطلب ہے دور حاضر کے امام۔ یعنی اہل تشیع کے بارہویں امام مہدی۔ اس دروازے پر السلام علیک یا من وفیٰ ببیعتہ لکھا ہوا ہے۔ حضرت عباس کا نام وفا سے جڑا ہوا ہے۔ یعنی اے اپنی بیعت سے وفا کرنے والے، آپ پر سلام
ایک دروازے کا نام باب الامام الحسین ہے۔ یہ روضہ حسین کی طرف کھلتا ہے۔ اس پرالسلام علیک یا من مضیٰ علیٰ بصیرۃ من امرہ لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے ہر کام میں بصیرت اختیار کرنے والے، آپ پر سلام۔
اولاد و نسل
عباس بن علی کی اولاد اِس وقت دُنیا کے کافی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ آپ علوی سید قبیلہ بنو ہاشم سے ہیں۔ اِس لیے آپ کی اولاد دُنیا میں سادات علوی کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ سادات علوی کی آ گئے مختلف شاخیں ہیں۔ اِسی لیے آپ کی اولاد عرب وعراق میں ‘‘ سادات علوی ‘‘ مصر میں ‘‘ سادات بنی ہارون ‘‘ اردن میں ‘‘ سادات بنو شہید ‘‘ یمن میں ‘‘ سادات بنی مطاع ‘‘ ایران میں ‘‘ سادات علوی ابوالفضلی ‘‘ اور برصغیر پاک و ہند میں ‘‘ سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی ‘‘ کے عنوان سے مشہور و معروف ہے۔
آخرمیں دعا گو ہوں کہ ہم سب کو چھوٹے حضرت کی وفاداری پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اِے کاش شہرت ابدی حرف حرف ہو
ساری حیا ت مرثیہ گوئی میں صرفِ ہو
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بے شک حسینؑ ہدایت کا روشن چراغ و نجات
کی کشتی ہیں
سکون دیدہ و دل ہے مرے حسینؑ کا ذکر
سدا بہار سلامت رہے حسینؑ کا ذکر
ماہ رجب المرجب کی مانند ماہ شعبان المعظم بھی افق امامت و ولایت پر کئی آفتابوں اور ماہتابوں کے طلوع اور درخشندگی کا مہینہ ہے ۔اس مہینے میں بوستان ہاشمی و مطلبی اور گلستان محمدی و علوی کے ایسے عطر پذیر و سرور انگیز پھول کھلے ہیں کہ ان کی مہک سے صدیاں گزرجانے کےبعد بھی مشام ایمان و ایقان معطر ہیں اور ان کی چمک سے سینکڑوں سال کی دوری کے باوجود قصر اسلام و قرآن کے بام و در روشن و منور ہیں
امام حسین (ع) کے نو ر وجود سے ” مدینۃ النبی ” کے بام و در روشن و منور ہوگئے ۔ مرسل اعظم (ص) کی عظیم بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (س) اور عظیم بھائی ،داماد اور جانشین علی ابن ابی طالب کے پاکیزہ گھر میں نسل نبوت و امامت کے ذمہ دار امام حسین (ع) کی آمد کی خبر سن کر پیغمبر اسلام (ص) کا دل شاد ہوگیا ،آنکھیں ماہ لقا کے دیدار کے لئے بیچین ہو اٹھیں ،فورا” بیٹی کے حجرے میں داخل ہوئے اور مولود زہرا (س) کو دیکھ کر لبوں پر مسرت کی لکیریں پھیل گئیں آغوش میں لے کر پیشانی کا بوسہ لیا اور فرزند کے دہن میں اپنی زبان دے دی اور رسالتمآب کا لعاب دہن فاطمہ (س) کے چاند کی پہلی غذا قرار پایا
حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام مدینہ منورہ میں ہجرت کے چوتھے سال تین شعبان کو منگل یا بدھ کے دن پیدا ہوئے۔ بعض مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت ہجرت کے تیسرے سال ربیع الاول اور بعض کے مطابق ہجرت کے تیسرے یا چوتھے سال جمادی الاول کی پنجم کو ہوئی ہے۔ بنابریں آپ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں مختلف اقوال ہیں لیکن قول مشہور یہ ہے کہ آپ تین شعبان ہجرت کے چوتھے سال میں پیدا ہوئے
روایات میں آیا ہے کہ سبطین علیھما السلام کے اسماء مبارکہ کا انتخاب خود رسول اللہ ص نے فرمایا ہے اور یہ نام خدا کے حکم سے رکھے گئے ہیں۔حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ: آپ نے فرمایا جب حسن کی ولادت ہوئی تو میں نے اس کا نام اپنے عم محترم حمزہ کے نام پر رکھا اور جب حسین پیدا ہوئےتو اس کا نام اپنے دوسرے چچا جعفر کے نام پر رکھا۔ ایک دن رسول اکرم نے مجھے طلب فرمایا اور کہا مجھےخداوند نے حکم دیا ہے کہ ان دونوں بچوں کے نام بدل دوں اور آج سے ان کے نام حسن و حسین ہونگے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: رسول اکرم نے فرمایا میں نے اپنے بچوں حسن و حسین کے نام فرزندان ہارون کے ناموں پر رکھے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو شبر و شبیر کہتے تھے اور میں نے اپنے بچوں کے نام اسی معنی میں عربی میں حسن و حسین رکھے ہیں۔
آپ کے جد بزرگوار رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے پاس لایا گيا آپ کو دیکھ کر رسول اکرم (ص) مسرور و شادمان ہوۓ آپ کے دائيں کان میں اذان کہی اور بائيں کان میں اقامت، اور ولادت کے ساتویں دن ایک گوسفند کی قربانی کر کے آپ کا عقیقہ کیا اور آپ کی والدہ جناب صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیھا سے فرمایا کہ “بچے کا سر مونڈ کر بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ دو۔
علی (ع) و فاطمہ (س) کا چاند چھ سال تک آفتاب نبوت و رسالت کے ہالے کی شکل میں نانا کے ساتھ ساتھ رہا اور تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مدینۂ منورہ میں نانا اور نواسے کی محبت ضرب المثل بن گئی اور ایسا کیوں نہ ہوتا ،جبکہ حسین (ع) مشیت الہی کا محور اور پیغمبر اسلام (ص) کی دلبر کے دلبر تھے ۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ اپنے جد امجد رسول اللہ کے زیر سایہ گزارا اور 29 سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن مجتبی کے ساتھ گزارا، امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ کی امامت کی مدت دس برسوں پر مشتمل ہے۔
ابن سعد اپنی کتاب طبقات میں عبد اللہ بن بکر بن حبیب سہمی اور وہ حاتم بن صخہ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب عباس بن عبد المطلب کی زوجہ ام الفضل کہتی ہیں کہ میں نے امام حسین علیہ السلام کی ولادت سے ایک رات پہلے خواب میں دیکھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن اقد س سے گوشت کا ایک ٹکڑا جدا ہو ا اور میری آغوش میں آگیا ۔
س خواب کی تعبیر میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھی : آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچا ہے تو میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ہاں جلد ایک فرزند پیدا ہوگا ۔
اور میں اسے دودھ پلانے کے لئے تمہارے سپرد کروں گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی جگہ جگہ امام حسین (ع) کی شخصیت کا تعارف کرایا ہے :صحیح ترمذی میں یعلی ابن مرہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم (ص) نے فرمایا ہے : ” حسین منی و انا من الحسین احب اللہ من احب حسینا” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں اور خدا اس کو دوست رکھتا ہے جو حسین (ع) کو دوست رکھتا ہے ۔
چنانچہ وہ مبارک دن آپہنچا کہ حضرت فاطمہ کے ہاں ایک فرزند متولد ہوا اور اسے دودھ پلانے کی خاطر میرے حوالے کیا گیا۔
ایک دن میں اس مولودمبارک کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بیٹھا کر چومنا سروع کیا ، اسی دوران بچے کے پیشاب کا قطرہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لباس مبارک پر گرا
میں نے اس دوران جلدی سے بچہ کو آنحضرت کی آغوش سے جدا کیا تو اس نے رونا شروع کردیا ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غضبناک افراد کی طرح فرمایا : اے ام الفضل ذرا آہستہ میرا لباس تو دھویا جا سکتا ہے لیکن تم نے میرے بیٹے کو تکلیف پہنچائی ہے.
میں نے حسین علیہ السلام کو اسی حالت میں چھوڑا اور کمرہ سے باہر پانی لینے کے لئے چلی گئی۔
جب میں واپس آئی تو دیکھا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمرو رہے تھے ، میں عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے رونے کی کیا وجہ ہے ؟
آپ نے فرمایا کچھ دیر پہلے جبرئیل آئے اور انہوں نے مجھے یہ بتایا کہ میری امت میرے اس فرزند کو قتل کر دے گی ۔
علماء محدثین سے منقول ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام ایک سال کے ہوئے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمپر خدا کی طرف سے بارہ فرشتے نازل ہوئے جن کے چہرے سرخ تھے ، اور ان کے پر و بال کھلے ہوئے تھے ، عرض کرتے ہیں
اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہی ظلم و سلم جو قابیل نے ہابیل پر کیا تھا آپ کے فرزند حسین علیہ السلامپر بھی کیا جائے گا ، او رجس طر ح بابیل کو اس کا اجر دیا جائے گا اسی طرح آپ کے حسین علیہ السلام کو بھی اجر دیا جائے گا ، اور حسین کے قاتلوں کو و ہی عذاب دیا جائے گا جو ہابیل کے قاتلوں کو ملے گا ۔
اسی اثناء میں آسمانوں کے تمام مقرب فرشتے آنحضرت کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر آپ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور امام حسین علیہ السلامکی شہادت کی خبر پر رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تعزیت عرض کی ، اور وہ مقام جو خداوند کریم نے شہادت کے عوض امام حسین کو عطا فرمایا اس کی خبر پہنچائی ، اور حسین علیہ السلام کی قبر کی تربت رسو ل خدا کی خدمت میں پیش کی ، اسی دوران رسو ل خدا نے دعا فرمائی کہ اے خدا !
جس نے میرے فرزند حسین کو اذیب پہنچائی اسے ذلیل و خوار فرما، اور انہیں قتل کر جو حسین علیہ السلام کو قتل کرے ، اور اس کے قاتل کو اپنے مقصد میں کامیاب نہ فرما
اور سنہ ٦١ ہجری وہ وقت موعود ہے جس کے بارے میں خدا نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرشتوں کے ذریعہ مطلع فرمایا تھا ، امام علی علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام کے زمانہ کے برخلاف یہ وہ دور ہے جس میں مسلمانوں کے اندر بنی امیہ کے ساتھ جنگ کی ضرورت اور شرعی حیثیت کے بارے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے
سلمان فارسی سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم کو کہتے سنا ہے حسن و حسین میرے بیٹے ہیں جس نے ان سے دوستی کی میرا دوست ہے اور جس نے ان سے دشمنی کی وہ میرا دشمن ہے بہرحال ، امام حسین (ع) کی شخصیت سے رفتار و کردار کی جو شعاعیں پھوٹی ہیں آج بھی الہی مکتب کی فکری ،اخلاقی اور تہذیبی حیات کی اساس ہیں اور نہ صرف عالم اسلام بلکہ پورا عالم بشریت حسینیت کی مشعل سے فروزاں ہے عبادت و بندگی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ وضو کرتے تھے تو بدن میں تھرتھری پیدا ہوجاتی تھی کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو امام حسین (ع) نے فرمایا : حق یہی ہے کہ جو شخص کسی قومی و مقتدر حاکم کی بارگاہ میں کھڑا ہو اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑجائے اور جسم کے بند بند کانپ اٹھیں ۔
حسین (ع) کی شان میں قرآن حکیم رطب اللسان اور ان سے اسلام و ایمان سربلند و ذیشان ہے ،حسین (ع) نورٌ عليٰ نور کی تفسیر نورالنور کی تنویر ، مجسمۂ رسالت کی تصویراور مکمل نبوت کی تعبیر ہے، حسین (ع) قرآن مجید کی تحریر ،دین الہی کی شمشیر ،انوار ولایت کی تکبیر اور اسرار امامت کی تشہیر ہے، حسین (ع) نورنگاہ نبوت ،جگرگوشۂ عصمت ، جلوہ نمائے ولایت اور قوت اسلام و شریعت ہے ،حسین (ع)آسمان شہادت کا آفتاب ، افق ہدایت کا ماہتاب، گلشن توحید کا سرخ گلاب اور خزانۂ اسلام کا گوہر نایاب ہے ۔چنانچہ خداوند عالم نے اپنی کتاب محکم و مستحکم قرآن مجید میں مختلف عنوانوں سے امام حسین (ع) کا تعارف کرایا ہے جیسا کہ صحاح ستّہ کے محدثین نے اپنی اپنی صحیحوں میں لکھا ہے کہ جب ” اصحاب کساء ” رسول اعظم (ص) کے ساتھ چادر تطہیر میں جمع ہوگئے رسول اسلام (ص) نے علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیہم السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :اللّھمّ ھؤلاء اَھلُ بَیتی فَاذھب عَنھمُ الرّجس وَ طَھرھم تطھیرَا”خدایا یہ میرے اہل بیت ہیں پس ان کو ہر قسم کی آلائش سے پاک و پاکیزہ قراردے دے ،اس وقت آیۂ تطہیر نازل ہوئی اور اہل بیت علیہم السلام منجملہ حضرت امام حسین (ع) کی عصمت و طہارت کا خدا نے اعلان کردیا،اسی طرح آیۂ مباہلہ کے ذیل میں مفسرین کا اجماع ہے کہ اس میں : “ابنائنا ” سے مراد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ہیں جن کو خداوند عالم نے” رسول اسلام کے بیٹے ” قراردیا ہے ۔اور آیۂ مودت کے بارے میں مفسرین اہل سنت نے بھی لکھا ہے کہ یہ آیت علی (ع) و فاطمہ (س) اور حسن (ع) و حسین (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم نے صحیحین میں اور ثعلبی و طبرسی نے اپنی تفاسیر میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ آیۂ مودت نازل ہوئی تو اصحاب نے حضور (ص) سے سوال کیا آپ کے قرابتدار کون ہیں تو حضرت نے فرمایا : علی وَ فَاطمہ وَ اَبنَاہُمَا علی (ع) و فاطمہ (س) اور ان کے دونوں بچے ۔
شب عاشورا ، عبادت کے لئے دشمنوں سے ایک شب کی مہلت مانگی توکسی نے اس کی وجہ پوچھی اس وقت آپ نے فرمایا : چاہتا ہوں آخری رات پروردگار کی عبادت میں گزاروں اور استغفار کروں وہ جانتا ہے میں کس قدر نماز کا عاشق ہوں اور قرآن کی تلاوت پسند کرتا ہوں اور زیادہ سے زیادہ دعا و استغفار کرنا چاہتا ہوں ۔دوسری جانب خدا کے بندوں کے ساتھ آپ کے کریمانہ اخلاق و رفتار کا یہ عالم تھا کہ
اس میدان میں بھی امام حسین (ع) کی شخصیت نمونہ و مثال نظر آتی ہے ۔
حسین (ع) کی شان میں قرآن حکیم رطب اللسان اور ان سے اسلام و ایمان سربلند و ذیشان ہے ،حسین (ع) نورٌ عليٰ نور کی تفسیر نورالنور کی تنویر ، مجسمۂ رسالت کی تصویراور مکمل نبوت کی تعبیر ہے، حسین (ع) قرآن مجید کی تحریر ،دین الہی کی شمشیر ،انوار ولایت کی تکبیر اور اسرار امامت کی تشہیر ہے، حسین (ع) نورنگاہ نبوت ،جگرگوشۂ عصمت ، جلوہ نمائے ولایت اور قوت اسلام و شریعت ہے ،حسین (ع)آسمان شہادت کا آفتاب ، افق ہدایت کا ماہتاب، گلشن توحید کا سرخ گلاب اور خزانۂ اسلام کا گوہر نایاب ہے ۔چنانچہ خداوند عالم نے اپنی کتاب محکم و مستحکم قرآن مجید میں مختلف عنوانوں سے امام حسین (ع) کا تعارف کرایا ہے جیسا کہ صحاح ستّہ کے محدثین نے اپنی اپنی صحیحوں میں لکھا ہے کہ جب ” اصحاب کساء ” رسول اعظم (ص) کے ساتھ چادر تطہیر میں جمع ہوگئے رسول اسلام (ص) نے علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیہم السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :اللّھمّ ھؤلاء اَھلُ بَیتی فَاذھب عَنھمُ الرّجس وَ طَھرھم تطھیرَا”خدایا یہ میرے اہل بیت ہیں پس ان کو ہر قسم کی آلائش سے پاک و پاکیزہ قراردے دے ،اس وقت آیۂ تطہیر نازل ہوئی اور اہل بیت علیہم السلام منجملہ حضرت امام حسین (ع) کی عصمت و طہارت کا خدا نے اعلان کردیا،اسی طرح آیۂ مباہلہ کے ذیل میں مفسرین کا اجماع ہے کہ اس میں : “ابنائنا ” سے مراد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ہیں جن کو خداوند عالم نے” رسول اسلام کے بیٹے ” قراردیا ہے ۔اور آیۂ مودت کے بارے میں مفسرین اہل سنت نے بھی لکھا ہے کہ یہ آیت علی (ع) و فاطمہ (س) اور حسن (ع) و حسین (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم نے صحیحین میں اور ثعلبی و طبرسی نے اپنی تفاسیر میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ آیۂ مودت نازل ہوئی تو اصحاب نے حضور (ص) سے سوال کیا آپ کے قرابتدار کون ہیں تو حضرت نے فرمایا : علی وَ فَاطمہ وَ اَبنَاہُمَا علی (ع) و فاطمہ (س) اور ان کے دونوں بچے ۔
امت مسلمہ اور اسلام سے امت کی آگاہی کے بارے میں امام حسین علیہ السلامکا نقطہ نظر یہ تھا کہ پیغمبر کے بعد امت مسلمہ نظریاتی بیداری سے لیس نہیں تھی ۔
بلکہ پیغمبر سے ان کی وابستگی جذباتی بنیاد پر تھی اور وہ بھی آپ کی وفات کے بعد بتدریج کم ہوتے گئے اور اس کی وجہ امت کی علمی اور عملی میدان میں مسلسل غلطیان تھیں ۔
امام حسین علیہ السلامنے اپنے والد کا پانچ سالہ دور حکومت دیکھا تھا ، جب وہ اس کوشش میں تھے کہ مکمل تباہی سے پہلے امت کی اصلاح اور اسے نشاہ ثانیہ عطا کر سکیں اوراگر امت اپنے مشن سے دور ہونے پر مصر تھی تو کم از کم اسے اس بات پر آمادہ کر سکیں کہ وہ تاریخ میں آپ کے نظریاتی و انقلابی لائحہ عمل کو دوسروں تک منتقل کرے
ہمیں اس دور میں یہ دیکھ کر کوئی تعجب نہیں ہوتا کہ مسلمانوں نے بنی امیہ کو خود پسندی و تکبر ، ان کی طرف سے گذشتہ عداوتوں کے احیاء اور دور جاہلیت کی سوچ کی طرف میلان کا اظہار شروع کر دیا تھا ۔بنی امیہ نے اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے اسلام قبول کیا تھا
اسلامی معاشرہ موجودہ حالات نیز دینی بے حسی اور مادی مظالم کے خوف کے شدید احساس ، اس کے علاوہ طویل عرصے تک ظالم حکمرانوں کی اطاعت سے متاثرہ ذہنیت کے نتیجے میں اسلام کے نظریاتی مفاہیم کو زبانی گفتگو اور فکری بحثوں کے ذریعے قبو ل کرنے سے قاصر ہے تو آپ نے میدان عمل میں اترنے کے لئے فوری اقدام فرمایا ، اب آپ ہی امت کی بیداری کی آخری امید تھے ۔امت مسلمہ بھی آپ کو خلیفہ بر حق جانتے تھے لیکن آپ کی مدد کے سلسلے میں ان کے حوصلے اور ارادے ضعیف تھے ، بقولے ان کے دل آپ کے ساتھ تھے لیکن ان کی تلواریں آپ کے برخلاف .
ان حالات میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے ستر اصحاب نیز خواتین و اطفال کمر بستہ ہو کر نکلے اور آپ نے اپنی المناک شہادت کے ذریعے امت کے ان عزائم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش فرمائی جو خودساختہ مذاہب ونظریات کے باعث بے حس ہو چکے تھے ،
غلطیوں میں سے ہر ایک کا جداگانہ اثر ممکن ہے کہ قابل توجہ نہ ہو لیکن جب غلطیوں کے انبار لگ جائیں تو اس کے اثرات خطرناک ہوتے ہیں اور اس کا نتیجہ فتنہ و فساد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ،کامل ابن اثیر :ج٣، ص٢٦٤جیسا کہ یزید کے زمانے میں امام حسین علیہ السلا م کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ۔
ان حقائق نے امام حسین علیہ السلا م کو ایک مایوس کن جنگ لڑنے پر مجبور کیا ایک ایسی جنگ جس میں آپ کو وقتی طور پر جنگی نقطہ نظر سے کامیابی حاصل نہ ہو ۔لیکن آپ اپنے اس عمل سے امت کے ضمیر کو جھنجھوڑنا اور مسلمانوں کے نظریاتی عزائم کو زندہ کرنا چاہتے تھے ، حالانکہ مسلمان چھوٹی چھوٹی مصلحتوں کے گرداب میں کانوں تک ڈوب چکے تھے ۔
ان غلطیوں میں سے ہر ایک کا جداگانہ اثر ممکن ہے کہ قابل توجہ نہ ہو لیکن جب غلطیوں کے انبار لگ جائیں تو اس کے اثرات خطرناک ہوتے ہیں اور اس کا نتیجہ فتنہ و فساد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ،کامل ابن اثیر :ج٣، ص٢٦٤جیسا کہ یزید کے زمانے میں امام حسین علیہ السلا م کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ۔
بنی ہاشم نے حکومت کے حصول کے لئے ایک کھیل کھیلا تھا ، وگرنہ وہ آسمان سے کوئی خبر آئی نہ وحی کا نزول ہوا ، اگر میں آل احمد سے احمد کے کارناموں کا انتقام نہ لوں تو پھر میرا شمار خندق والوں کی اولاد میں نہ ہو ۔ چھٹے سال کے خاتمے سے قبل آپ نے اپنے بھائی حسن علیہ السلامکے سامنے امت کو آخری سانسیں لیتے اور اپنے نظریاتی وجود کو خیر باد کہتے دیکھا ، آپ نے مشاہدہ کیا کہ امت مسلمہ لوگوں کے ایک ایسے ریوڑ کی شکل اختیار کر گئی ہے جو اپنے آپ کو بنی امیہ کی بے پایان دنیوی خواہشات کی بھینٹ چڑہا رہا ہے ۔
المختصر یہ کہ امام حسین علیہ السلام اس نتیجے پر پہنچے کہ امت کو بیدار کرنے کے لئے آپ کو ایک سخت فداکاری کے ذریعے اپنے عزہ و اقارب اور اصحاب کی جانوں کو قربان کرنے اور کسی قسم کی جانثاری سے دریغ نہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
جب امام حسین علیہ السلام نے یقین کر لیا کہ اسلامی نظریات ان گمراہ کن مذاہب و اعتقادات کے سائے تلے مٹے چلے جارہے ہیں جنہیں بنی امیہ نے اپنی ناپاک حکومت کو تباہی سے بچانے کے لئے رائج کیا تھا تو آپ نے نظریات کو لے کر میدان عمل میں اتر آئے ، جب آپ نے دیکھا کہامام نے چاہا کہ آپ کی شہادت ظالم حکمرانوں کی پشت پ رکوڑوں کی مانند برسے اور اس لہو لہان کر دے اور غافل انسانوں کو بیدار کر دے تا کہ وہ آگاہی کے ساتھ مکتب اسلام کے حوالے سے اپنا احتساب آپ کریں ، نیز نظریاتی شکوک اور عادلانہ قیادت کے بارے میں شبہات کا خاتمہ ہو اور امت ایک ایسا موقف اختیار کرے جس کی بنیادیں ہر قسم کے انحراف سے پاک اور شریعت اسلامی کے اصولوں کے مطابق استوار ہوں
شب عاشورا ، عبادت کے لئے دشمنوں سے ایک شب کی مہلت مانگی توکسی نے اس کی وجہ پوچھی اس وقت آپ نے فرمایا : چاہتا ہوں آخری رات پروردگار کی عبادت میں گزاروں اور استغفار کروں وہ جانتا ہے میں کس قدر نماز کا عاشق ہوں اور قرآن کی تلاوت پسند کرتا ہوں اور زیادہ سے زیادہ دعا و استغفار کرنا چاہتا ہوں ۔دوسری جانب خدا کے بندوں کے ساتھ آپ کے کریمانہ اخلاق و رفتار کا یہ عالم تھا کہ اس میدان میں بھی امام حسین علیہ السلام کی شخصیت اعلی نمونہ و مثال و مشعل راہ نظر آتی ہے ۔
و صلی الله علی محمد و آل محمد
– شیخ مفید ( الارشاد ) ص ٤٣٢ ، ابن نما ( مثیر الاحزان ) ابن جوزی تذکرہ خوازلامہ ) ص٣٣١، تاج العروس :ج٩، ص ١٧٧
– البحار 80: 104، ح 10. الوسائل 3: 405، ب 8 من النجاسات، ح 5.
– امام حسین کی سوانح حیات ، سید ابن طاوؤس :ص ١١
– تاریخ اسلام ، حسن ابراہیم :ج١، ص٢٧٨ تا ٢٧٩
– رسالہ فی معاویہ و الامویین از جاحظ ‘تحقیق از عزہ العطار ،ص١٦
– نثر اللالی علی نظم الاداری آلوسی
– شیخ علی کورانی در مقدمہ کتاب ہکذا تکلم الحسین از محمد عقیقی :ص٨
– تاریخ طبری :ج٤، ص ٢٩٠، نیز تاریخ کامل ابن اثیر :ج٣، ص٢٨٦
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
علی علیہ السلام کی بیٹی، آسمان پر مستحکم ستاروں کی سالگرہ
تمام عاشقان اور اہل تشیع عالمی اخبار کی اداتی بورڈ کی جانب سے حضرت زینب (س) کا یوم ولادت پر ہدیہ تبریک و تہنیت !
صبر و استقامت کی پیکر حضرت زینب (س) کی ولادت تمام اہل تشیع کو مبارک ہو
یوم ولادت حضرت علی (ع) اور فاطمہ زہرا (س)
افتخار آغا ابی عبداللہ (ع) کربلا کیقافلہ سالار، شہداء کے خون کے وارث۔
یہ تمام خصوصیات خدا کی طرف سے دنیا بننے کے مترادف ہیں۔ ان کی حکمت اور علم خدا کی طرف سے ہے۔ ان کی پرورش ان معصوموں میں ہوئی، یعنی حضرت زہرا (س)، امیر المومنین (س)، امام حسن (ع) اور امام حسین (ع)۔ اس کے اندر یہ اعلیٰ روحانی مقام اسی وجہ سے موجود ہے۔ ایک اور نکتہ ان کی حکمت کا ہے جسے معصوم نے بھی ذکر کیا ہے۔ امام باقر علیہ السلام نے ان کے لیے بنی ہاشم کے عقیلہ کا لقب ذکر کیا ہے۔ عقیلہ مشتبہ صفت ہے۔ یعنی یہ صفت عقیلہ مشتبہ صفت ہے۔ یعنی یہ صفت حضرت زینب (س) کے مقدس وجود میں متعین اور موروثی ہے اور مختلف حالات میں تبدیل نہیں ہوتی۔ عقیلہ بنی ہاشم (س) ایک ایسی اہم شخصیت ہیں جن کا تذکرہ سید بن طاووس نے لہوف میں کیا ہے، شب عاشورہ کو امام حسین (ع) کی اپنی بہن حضرت زینب (س) کو جو ہدایات دی گئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ حضرت زینب (س) کے لیے دعا کریں۔ یہ معصوم امام اپنی رات کی نماز میں۔ ہم سب امام حسین کے گنبد کے نیچے ہم اپنی ضرورتیں پوری کرنے والے ہیں لیکن امام حسین (ع) خود چاہتے ہیں کہ حضرت زینب (س) ان کے لیے دعا کریں۔ ہر کوئی امام حسین علیہ السلام کی بھیک مانگ رہا ہے، وہ اپنی بہن سے ہے۔

حضرت زینب (س) نے چھٹے سال ہجری میں تاریخ کی عظیم ہستی حضرت علی (س) اور دنیا کی بہترین اور عظیم خاتون حضرت فاطمہ زہرا (س) کے گھر دنیا کو جنم دیا۔ وہ ایک خاص شخصیت ہیں جو نبی کریم ﷺ کے شریف خاندان میں پروان چڑھی اور اچھی اور پسندیدہ صفات کا مجموعہ اور تاریخ کا اعزاز بن گئی۔ آپ کی ولادت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ اپنے بچے کو اپنے پاس لے آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اپنے سینے سے لگایا اور زور سے رونے لگے۔ مبارک رخساروں سے بہہ نکلے۔ حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا: ابا جان، خدا آپ کی آنکھیں کبھی نہ روئے، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بیٹی، وہ مصیبتوں میں گرفتار ہے اور اسے جان لیوا آفات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اے میرے جسم جو کوئی اس پر اور اس کی مصیبت پر روئے تو اس کا ثواب اپنے دو بھائیوں پر رونے والے کے برابر ہوگا۔ حضرت زینب (س) کا پیدائش کے بعد سے کوئی نام نہیں تھا اور جب حضرت فاطمہ (س) نے امیر المومنین (س) سے تاخیر کا سبب پوچھا تو امام نے فرمایا: میں رسول خدا (ص) کا انتظار کر رہی ہوں۔ اس کا نام منتخب کرنے کے لیے۔” اور اس واقعہ کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے خدا کے حکم سے فاطمہ (س) کی اولاد کے لئے زینب کا نام منتخب کیا۔ حضرت زینب (س) کا لقب ام کلثوم اور ام الحسن نے کبھی اپنی بہن کے نام کے ساتھ رکھا۔ ام کلثوم اور ام الحسن نے کہا ہے کہ بعض اوقات یہ ان کی بہن حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا نام سے مشابہ ہوتا ہے۔ جب امیر المومنین (ع) کی بیٹی بالغ ہوئی تو عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے انہیں اپنی بیوی کے طور پر منتخب کیا۔ وہ حبشہ میں پیدا ہوا تھا اور وہ جس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی۔ تمام سوانح نگاروں نے ان کی عظمت، عزت نفس اور عظیم عفو و درگزر کی تعریف کی ہے۔ حضرت زینب (س) کے عبداللہ سے تین بچے تھے۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی مشہور ہیں کہ ان کے بیٹے عون اور محمد نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے قدموں میں جنگ کی اور شہید ہوئے۔ علامہ مامقانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب تنقیح المقال میں جب حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا نام لیتے ہیں تو فرماتے ہیں: ’’زینب اور ہم زینب ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم زینب ہیں۔ زینب؟” زینب کون ہے اور آپ کیا جانتے ہیں زینب کون ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے یہ جملے سورہ قدر کی بنیاد پر کہے ہیں جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی لیلۃ القدر ہے۔ جب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون کی شخصیت کی مختلف جہتوں پر توجہ دیتے ہیں۔ عام طور پر لوگوں کے نام ان کے رشتہ داروں نے رکھے تھے، یہاں تک کہ اگر آپ انبیاء کے نام رکھنے کے طریقے پر توجہ دیں تو یہ زیادہ تر اس طرح ہے، اور ان کے والد اور ماؤں نے ان کے لیے ناموں کا انتخاب کیا ہے۔ مریم علیہا السلام کے قصے میں ان کی والدہ نے بھی ان کے لیے ایک نام کا انتخاب کیا، “وینی سمیتھا مریم”۔ آل عمران/36- لیکن معصومین (علیہ السلام) اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا نام رکھا ہے اور دلچسپ اور خوبصورت بات یہ ہے کہ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا نام رکھنا۔ یہ بھی خدائی انتخاب سے تھا۔ جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی تو ان کی والدہ محترمہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا انہیں اپنے والد کے پاس لائیں اور فرمایا: اس بچے کا نام رکھو۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ سے آگے نہیں نکلتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت سفر پر گئے تھے۔ کیونکہ تین دن گزر گیئے اور وہ سفر سے واپس آئے، حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے فاطمہ کو بیٹی سے نوازا ہے، اس کا کوئی نام رکھیں۔ اس نے کہا: میں خدا سے آگے نہیں ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خدا کا سلام لے کر آئے اور کہا: خدا نے اس بچے کا نام “زینب” رکھا ہے۔ حضرت ایک حدیث میں فرماتے ہیں: “ایدی حقنا کامل الزیارات/81” جس نے حسین علیہ السلام پر گریہ کیا اس نے ہمارا حق ادا کیا۔ کوئی عمل اہل بیت علیہم السلام کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتا۔ اور اس حق کو پورا کرنے والا واحد عمل امام حسین علیہ السلام پر گریہ و زاری کرنا ہے اور اس کے بھی اپنے راز اور راز ہیں اور اس کا آزادانہ بحث میں اظہار ضروری ہے۔
اسے زینب کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے باپ کی زینت (زینب)۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی علیہ السلام کی فصاحت و بلاغت، علم، جرأت، ایمان اور مناظرے کی قوت کی وارث ہیں اور انہوں نے واقعہ کربلا کے دوران ان خصوصیات کو پیش کیا۔ راوی کہتا ہے؛ جب حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے کوفہ میں وہ طویل خطبہ پڑھا تو بشیر بن خزیم الاسدی کہتے ہیں: اور آپ نے زینب بنت علی یومازی کی طرف دیکھا، اورمیں اپنے آپ سے شرمندہ نہیں ہونا چاہتا! گویا وہ امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی زبان مبارک کی ایک شاخ ہیں؛ اللہوف/192 ابن زیاد کی مجلس میں زینب نے ایک خطبہ پڑھا کہ ہم نے سوچا کہ علی ؑبول رہے ہیں، ہم نے ان میں آواز، علم، ہمت اور علی علیہ السلام کی تمام خصوصیات دیکھی تھیں۔
دوسرا معنی جو ماہرینِ لسانیات نے زینب کے لیے کیا ہے؛ ایک مضبوط تنہا درخت صحرا میں تنہا ہے۔ بے شک حضرت زینب سلام اللہ علیہا طیبہ کا شجرہ نسب ہیں۔ سورہ ابراہیم کی 24ویں آیت میں طیبہ کے نسب کی چار خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔
ألم تر کیف ضرب الله مثلاً کلمةً طیبةً کشجرةٍ طیبةٍ أصلها ثابتٌ و فرعها فی السماء؛
مثال کے طور پر، ایک اچھا لفظ، ایک اچھا درخت، اس کی اصل مقرر ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں؛ اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نیکی کا درخت ہیں اور انہوں نے انسانی معاشرے کو جو پھل عطا کیے ہیں وہ چار موسموں کے پھل ہیں اور ان پھلوں سے غیر شیعہ بھی مستفید ہوتے ہیں۔
روایت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہاسے جب وہ بچپن میں تھیں فرمایا: ایک کہو! فرمایا: ایک۔ حضرت نے آگے فرمایا: دو کہو! زینب (سلام اللہ علیہا) نے اپنے والد کی طرف دیکھا اور کہا: مجھے دو کہنے میں شرم آتی ہے! یہ بھی روایت ہے کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) بچپن میں اپنے والد سے میٹھی میٹھی باتیں کرتی تھیں اور کہتی تھیں: ابا جان! کیا آپ ہمیں پسند کرتے ہیں؟ امام علیہ السلام نے جواب دیا: ہاں، میری پیاری بیٹی، میرے بچے میرا دل ہیں۔ زینب سلام اللہ علیہا نے مسکرا کر کہا: ابا جان! مومن کے دل میں دو قسم کی دوستی جمع نہیں ہوتی، خدا کی دوستی اور اولاد کی دوستی۔ اب اگر ہمیں اس کی تعریف کرنی ہے تو وہ ہے ہمدردی اور محبت اور خدا کے لیے خالص دوستی!
حضرت زینب (س) نے اپنے والدین کی گود میں زندگی کا بہترین سبق سیکھا اور علم، عظمت، عقلیت اور کردار کا احترام اپنے دادا سے حاصل کیا۔ پیغمبر اکرم(ص) کی پدرانہ اور جذباتی محبتیں نہ صرف حسنین(س) کی طرف متوجہ ہوئیں بلکہ فاطمہ(س) کی بیٹیاں بھی اس سے مستفید ہوئیں۔ خاص طور پر حضرت زینب (س) جو بچپن میں ہی عظیم سوچ کی حامل تھیں اور خوبیاں رکھتی تھیں۔
امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد کوفہ کے لوگوں نے امام حسن علیہ السلام کی بیعت کی لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ انہوں نے اپنے وعدے کو توڑا اور امام کے حکم کی نافرمانی کی۔ اس کے لشکر کے سپہ سالاروں نے معاویہ کے وعدوں کے ساتھ اس کے ساتھ خیانت کی اور اسے تنہا چھوڑ دیا اور آخرکار وہ معاویہ کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور ہو گیا اور اس دوران وہ اپنے دوست دشمنوں کی باتوں اور بہتانوں سے بہت ناراض ہوا۔ اس صورتحال میں،حضرت زینب (س) اپنے بھائی امام حسن (ع) اور دیگر علویوں کے ساتھ کوفہ سے مدینہ واپس آئیں اور اس پیغمبر (ص) کے نقش قدم پر صبر اور مزاحمت کے ساتھ دینی اقدار اور کامیابیوں کا دفاع کیا۔ رسول خدا (ص) امام مجتبی (س) کے لیے حضرت زینب (س) کی خصوصی تعظیم و محبت کو دو طرح سے سمجھا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے وہ بڑے بھائی ہیں اور امیر المومنین (ص) کے بعد حضرت زینب (س) کے توکل کا مقام ہیں وہ ان کے والد تھے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کا امام مانے جاتے تھے اور ان کی اطاعت کو واجب سمجھتے تھے۔
حسینی داستان کے ساتھ حضرت زینب (س) کی فطرت سے والہانہ محبت ان کی ایثار و قربانی کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے اور اسی سلسلے میں امام حسین (ع) کی سرپرستی نے ان کی بہن کے دل کو محبت و الفت سے بھر دیا اور انہیں اپنے فرمانبردار بنادیا۔ خالص سچائی اور سچائی. ان بھائیوں اور بہنوں کا رشتہ تاریخی شواہد میں واضح طور پر نظر آتا ہے اور اس دور میں بھی جب حضرت زینب (س) عبداللہ بن جعفر کی بیوی بنی تھیں اور ان کی مشترکہ زندگی تھی۔ ایسی تاریخ میں بھائی بہن کے درمیان اتنی محبت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے، یقیناً اس کی وجہ واضح ہے۔ وہ دونوں بزرگ، کمال کے صوفیاء، ایک دوسرے کی عظمت اور عظمت۔ اس طرح کہ زینب (س) اپنے بھائی کو جنت کے جوانوں کا خادم اور پیغمبر خدا (ص) سمجھتی تھیں، امام حسین (ع) “آیہ تطہیر”، “آیہ مباہلہ” کے نمایاں کرداروں میں سے تھے۔ اور “سورہ حل ایتی” اور زیادہ اہمتمام ائمہ قرآن کے واضح متن کے مطابق خدا اور رسول (ص) کی طرف سے مقرر کیے گئے تھے۔ حضرت امام حسین (ع) نے بھی اپنی بہن کو حق تسلیم کیا اور اس کے کمالات، فضائل اور خصوصیات سے پوری طرح آشنا تھے اور اس کی بلند روح کو راز الٰہی کا ذخیرہ اور نبوت و برکت کے اصول کا محافظ سمجھتے تھے۔ تاریخ میں مذکور ہے کہ ایک دن امام حسین علیہ السلام قرآن کی تلاوت کر رہے تھے کہ ان کی بہن ان پر آ گئی۔ امام قرآن کو ہاتھ میں پکڑے کھڑے ہوئے۔ امام کے اصحاب اور اصحاب یکے بعد دیگرے شہید ہونے کے بعد علوی افراد اور امام (ع) کے کفیلوں کی باری تھی۔ امام کے بہادر فرزند علی اکبر نے جو اخلاق اور سلوک کے لحاظ سے پیغمبر اکرم (ص) سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، ایک بھاری مہم میں حق کی دعوت کو لبیک کہا۔ ان کی شہادت ان کی خالہ کے لیے بہت مشکل اور تھکا دینے والی تھی کہ وہ ان کے پاکیزہ جسم پر گر پڑیں اور ان کے لیے رو پڑیں۔ امام حسین علیہ السلام اس نے اسے الگ کر کے خیمے میں واپس کر دیا۔ حضرت زینب کے بیٹوں عون اور جعفر نے ایک مہاکاوی نظم گاتے ہوئے میدان جنگ میں قدم رکھا۔ عون نے اپنے تعارف میں کہا: اگر تم مجھے نہیں جانتے تو جان لو کہ میں جعفر کی اولاد ہوں، ایک حقیقی شہید ہوں جو آسمان پر چمکتا ہے اور سبز پروں سے اڑتا ہے، اور یہ اعزاز ہمارے لیے کافی ہوگا۔ حضرت زینب کے دو بچوں کی شہادت نے انہیں غمگین کردیا۔
اور متاثر لیکن اس نے کبھی بھی اپنی ماں کے دل اور جذبات کی حرارت کو ظاہر نہیں کیا اور صبر و استقامت کے ساتھ امام کی حفاظت میں کھڑے رہے کہ اسے ایک لمحے کے لیے بھی شرمندگی یا شرمندگی محسوس نہ ہوئی۔ نہ صرف اس وقت بلکہ ان کے بھائی عباس اور ان کے بھانجوں کی شہادت میں بھی – جن میں سے ہر ایک عام آدمی کو لرزنے اور خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھا – زبان سے جلال کی بات نہیں ہوئی۔ اس نے بہت کچھ برداشت کیا اور ٹوٹ گیا۔اس نے اپنے دل اور غم کو احتیاط سے سنبھالا تاکہ امام کے فیصلے، منصوبہ اور ہدف میں کوئی خلل نہ ہو۔ وہ اپنے امام کے پیروکار تھے، جو کہا کرتے تھے: صبر و تحمل، فما اصحابک؛ اے جان، صبر کر اور ہر مصیبت جو تجھ پر آتی ہے خدا کے سامنے حساب کر۔
کوفہ امام علی علیہ السلام کی حکومت کا مرکز اور آپ کی قیادت کا مرکز تھا اور اسی وقت حضرت زینب کبری علیہا السلام اس شہر میں عزت و آبرو کی بلندی پر رہتی تھیں اور آپ کا گھر وہ مقام تھا۔ بہت سی خواتین جنہوں نے اس کے مشورے اور رہنمائی سے ایمان سیکھا اور وہ زندہ رہیں اور اس انٹرویو اور بحث پر فخر تھیں۔ اس سرزمین کے لوگ امیر المومنین (ع) کے پیروکار اور اہل بیت (ع) کے چاہنے والے تھے اور وہ اس پیغمبر (ص) کے طرز عمل اور افعال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔انہوں نے سیکھا لیکن کیا ہوا کہ بیس سال بعد اس شہر کی حالت اس قدر ٹوٹ پھوٹ، کمزور، متضاد اور بے وفا ہو گئی کہ ان کی سستی کی وجہ سے تاریخ کا سب سے افسوسناک واقعہ رونما ہو گیا؟! البتہ اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ جب ابن زیاد برسراقتدار آیا تو کوفہ میں گھٹن، خوف اور دہشت پھیلی ہوئی تھی اور ہزاروں ایجنٹ اور جاسوس شہر اور گھروں میں ہر قسم کی نقل و حرکت کی اطلاع دے رہے تھے۔اور اس دوران میں امیر المومنین (ع) کے بہت سے چاہنے والے اور پیروکار گرفتار اور قید ہوئے اور انہیں امام حسین (ع) کے کاروان میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا۔ اس کے علاوہ وہ لوگ بھی تھے جو حکومت سے خوفزدہ تھے اور اپنی جان کو اپنے گھروں میں چھپا کر رکھتے تھے یا امام حسین علیہ السلام کے نمائندے مسلم بن عقیل سے لاپرواہی اور بے وفائی کی وجہ سے اور صرف چند لوگ چھپنے کے قابل تھے۔ خود کو خفیہ طور پر.ان کو امام کے قافلے میں لے آؤ اور ان کی مدد کرو اور شہادت کا فضل حاصل کرو۔ ایک اہم اور افسوسناک بات یہ ہے کہ فرزند رسول (ص) کی شہادت کے بعد لالچی دنیا پرستوں اور دین کو بیچنے والے غلاموں نے اہل بیت (ع) کو پکڑ کر کوفہ لے آئے۔ یہ شہر جس میں امیر المومنین (ع) کے دور کے بہت سے آثار تھے، اب اپنے والدین کی بیٹی کا استقبال کر چکا تھا۔ کوفہ زینب کو اچھی طرح جانتا تھا۔ نسائیاس دن ان کی عمر تیس سال سے زیادہ نہ تھی اور انہوں نے مسلمانوں کی نظروں میں اس کی عظمت اور باپ کی نظروں میں اس کی عزت دیکھی تھی، اب وہ گواہی دے رہے تھے کہ وہ بغیر کسی مددگار کے، بغیر کسی گدھے پر سوار تھے۔ سامان اور بغیر کسی احترام کے، کٹے ہوئے سروں کے ساتھ اور اس کے پیاروں کی طرف سے برچھی، اسے روٹی اور کھجور سے ترس آتا ہے۔ یہیں پر امیر المومنین (ع) کی بیٹی نے کہا: اے لوگو، ہم پر صدقہ حرام ہے، اور لوگ آہستہ آہستہ سمجھ گئے کہ کیا کیا؟ایک جرم ہوا ہے، اور ان کے پیاروں کو کس قسم کا نقصان پہنچایا گیا ہے. اس شرمندگی کے بعد حضرت زینب (س) نے بہادری سے اپنا منہ کھولا اور اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے پورے وقار کے ساتھ فصیح و بلیغ خطبہ دیا۔ شائد اس نے اس وقت تک شائستگی اور نادان کی نظروں سے حفاظت کی وجہ سے ایسے الفاظ نہیں کہے تھے۔ بشیر بن خزیم اسدی کہتے ہیں کہ میں نے اس دن علی (ع) کی بیٹی زینب (س) کو دیکھا، میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ حلیم تھیں۔میں نے اس دن تک ان سے زیادہ فصیح آدمی نہیں دیکھا۔ گویا امیر المومنین (ع) کی فصیح زبان سے الفاظ نکل رہے تھے۔ آپ نے روتے ہوئے لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: چپ رہو! “اچانک سینے میں سانس رک گئی اور اونٹوں کی گھنٹی رک گئی۔” اس خطبہ کا راوی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے حضرت علی (ع) کو قریب سے دیکھا اور ان کی تقریریں سنی۔ ایسی صورت حال میں جب اموی ایجنٹ اور کرائے کے سپاہی قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہر کے حالات اور ماحول ایسے تھے کہ نہ کوئی آواز نکلتی تھی اور نہ ہی کوئی احتجاج کرتا تھا حضرت زینب نے انسانوں، جانوروں حتیٰ کہ بے جان چیزوں پر بھی قابو پا کر اپنے سینے میں سانسوں کو روک رکھا تھا۔ اونٹوں کو چلنے سے روکا، اور حمد و ثناء کے ساتھ خطبہ دیا اور خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی پاکیزہ آل پر سلام ہو۔ اور ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے “یا اہل کوفہ، یا اہل الخطل و الغدر” کا جملہ بولنا موثر ترین جملہ ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سید شباب اہل جنت‘‘۔ حضرت نے امام کی منفرد خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: “وہ آفات میں رونے والے مومنین کی پناہ گاہ، حق و صداقت پر آپ کی دلیل کی جلتی ہوئی مشعل اور قحط و قحط میں آپ کے مددگار تھے۔ پھر اس نے ان لوگوں کو بری کر دیا، “الآساء ما تعزرون، اور بعد میں، لکم، اور شالہ وغیرہ۔ . . تم نے اپنے کندھوں پر کتنا بوجھ ڈالا ہے، خدا کی رحمت تم سے دور ہو۔اس لیے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشے کو پھاڑ دیا ہے اور آپ کے خاندان کی پاک دامن اور شریف عورتوں اور لڑکیوں کو سڑکوں اور بازاروں میں گھسیٹ لیا ہے۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ دشمن نے ان واقعات سے باخبر لوگوں کی بغاوت کے خوف سے امام علیہ السلام کے سر مبارک کو باہر لا کر اپنی بہن کی تقریر میں خلل ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ اور اس وقت زینب (س) نے ایسے جلتے ہوئے اشعار سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اور اس نے پکارا، “اوہ، نیا چاند جو اپنے عروج پر پہنچ گیا، گرہن نے اسے حیران کر دیا اور غروب ہوگیا۔” اے میرے دل کے ٹکڑے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ قسمت کے ہاتھ نے مجھے ایسا نصیب دیا ہے۔
یزید نے اہم فوجی اور ملکی شخصیات کی موجودگی کے ساتھ ایک مجلس بلائی اور فوجی حکام کو اس کی حفاظت پر مامور کیا۔ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسیروں کی آمد کے ساتھ ہی اس ناپاک اور غدار ہستی نے اسلام اور اس کی مقدس چیزوں کی بدترین توہین کی اور مذہبی عقائد اور اقدار کا مذاق اڑایا۔ اس نے کربلا کے کارواں کے پسماندگان سے حقارت کی بات کی اور تکبر سے امام حسین علیہ السلام کے مقدس سر کی طرف شراب پیتے ہوئے کہا۔جسے اس کے سامنے رکھا گیا تو اس نے بدتمیزی کی اور اپنی چھڑی سے اس مبارک کے ہونٹوں اور منہ پر مارا۔ بنی امیہ کے زہر آلود پروپیگنڈے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاندان کے بارے میں منفی سوچ رکھنے والے بعض شامی باشندوں نے اس مجلس میں شرکت کرکے اور یزید کے حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرکے خوشی کا اظہار کیا۔ حضرت زینب (س) نے ایک بار پھر موقع غنیمت جانا اور اگرچہ ان کا مقام اس آلودہ مجلس سے بلند و بالا ہے۔ود اور اس کی جان کو بھی خطرہ تھا، وہ اٹھا اور رب کی حمد و ثنا اور اپنے بزرگ کو سلام کرنے کے بعد اس نے یزید کے استکبار پر تنقید کی اور کہا: “اب جب کہ تم جان چکے ہو کہ ہم ہار گئے اور فتح تمہاری ہے، تم سمجھتے ہو خدا کی طرف سے معزز ہیں اور ہماری کوئی عزت نہیں ہے!” یزید کے نسب پر سوال کر کے اسے یاد دلایا کہ فتح مکہ کے دن آپ کا خاندان ہمارے جد امجد رسول خدا (ص) کے سپاہیوں کے زیر تسلط تھا۔وہ تھے، لیکن اس نے اپنی عظمت کی وجہ سے انہیں آزاد کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابن طلقہ کے یزید خاندان کی بات کہنے کے دو مقاصد تھے، ایک یہ کہ یزید خاندان کے شرمناک ماضی کو بیان کرنا، جس نے ہمیشہ اسلام کے خلاف مؤقف اختیار کیا، اور دوسرا انہیں یہ سمجھانا کہ کیا ایسا تھا؟ ٹھیک ہے کہ ہمارے دادا نے آپ کے آباؤ اجداد کے بارے میں کیا اس طرح کا جواب دیا ہے؟!
پاکیزگی حضرت زینب (س) جیسی ہے۔ یزید کی فوج کے متعصبانہ رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، آپ نے فرمایا: «تحذیرک حرائرک و امائک و سوقک بنات رسول الله سبایا، قد هتکت ستورهنّ و ابَدیتَ وُ جوهَنن. .”ہرایک، عمیق اور سقاق، رسول اللہ صبایہ کی بیٹیوں، ستارے کی بلندی اور یوحنین کی ابدیت کے بارے میں انتباہ۔” . .. اپنی بیویوں اور لونڈیوں کو پردے کے پیچھے رکھنا اور پیغمبر اسلام کی بیٹیوں کو قید کر کے واپس لانا جبکہ آپ نے ان کے حجاب کی خلاف ورزی کی اور ان کے چہروں کو بے نقاب کیا۔ .
اپنے خطبہ کے تسلسل میں حضرت نے یزید کے اس ناپاک عمل کو عارضی اور عارضی نہیں سمجھا جس پر معذرت کے ساتھ قابو پایا جا سکتا ہے، چنانچہ فرمایا: . . لا عمری قدقد القرہ اور استصلات الشفاء کے نکات، سید شباب اہل الجنہ، ابن یعسوب الدین اور شمس المطلب کے دسویں حوالہ کے ساتھ۔ . مجھے اپنی جان کی قسم جنت کے جوانوں کے سردار اور یعسوب الدین علی (ع) کے بیٹے اور عبدالمطلب کے خاندان کے چمکتے سورج کا خون بہا کر تم نے اس پر ڈنک مارا۔ زخم اور رگ اور جڑ کاٹ دو۔” امیر المومنین (ع) کی بیٹی نے یزید کے کام کا انجام یاد کیا اور کہا یک دن آئے گا جب تم چاہو گے کہ تمہارے ہاتھ خشک ہوتے اور تم نے یہ عمل نہ کیا ہوتا اور تمہاری ماں تمہیں کبھی حاملہ نہ کرتی۔ پھر جلے ہوئے دل کے ساتھ اور پے در پے آفات و بے حرمتی سے تنگ آکر اس نبی نے اپنی زبان کھول کر لعنت بھیجی۔ . . اے اللہ ہمارا حق لے اور مجھ سے میرے ظالموں کا بدلہ لے اور مجھ پر اپنے غضب کو معاف فرما، ہماری زیادتی، ہمارے حقوق کی پامالی، ہماری ماؤں کو قتل کرنے اور ہماری توہین کرنے پر۔ . .; اے اللہ ہمیں بند کر دے اور ظالموں سے ہمارا بدلہ لے اور اپنے غضب میں ہمارا خون بہانے والوں کو شریک کر وہ منجمد ہو گئے اور ہمارے معاہدے کا احترام نہیں کیا، اور انہوں نے ہمارے پیشروؤں اور ساتھیوں کو قتل کیا اور ہماری حرمت کا پردہ پھاڑ دیا۔” علی جیسے عزم و استقامت اور منفرد مزاحمت اور فاطمی جرأت کے ساتھ انہوں نے پارلیمنٹ میں موجود تمام عہدیداروں کے سامنے یزید کی حکمرانی کے جواز کا اعلان کیا اور تحقیر آمیز لہجے میں قیمتی اور قیمتی الفاظ کہے۔” . . اور ہم ایک استعارہ ہیں۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تم فریب میں رہو۔ . میں آپ کے مقام و مرتبہ کو ذلت آمیز اور چھوٹا سمجھتا ہوں اور آپ کے جبر اور ملامت کو بڑا اور ضروری سمجھتا ہوں۔ پھر اس نے اپنی عزت و آبرو کے بارے میں وقار اور عزت نفس کے ساتھ کہا: . .فرمایا: اور . . اللہ کی قسم جو ہمیں کتاب، کتاب، نبوت اور انتخاب سے نوازتا ہے، ہمارے حکم کو نہیں سمجھتا، ہمارے مقصد کو نہیں پہنچاتا، ہمارے ذکر کو نہیں مٹاتا، اور ہماری شرمگاہوں کو نہیں چھپاتا۔ . اس خدا کے لیے جس نے ہمیں وحی، قرآن، نبوت اور انتخاب سے نوازا ہے، تم جو چاہو گے وہ تمہیں نہیں ملے گا، اور ہمارا نام و نشان مٹانے کے قابل نہیں ہو گا، اور تم اس شرم و حیا سے نہیں بچو گے۔
جب سے حضرت زینب (س) نے اپنے بھائی اور رشتہ داروں کے پاکیزہ جسم کو ظالموں کے دباؤ میں نینوی کے میدان میں چھوڑا اس وقت سے لے کر جب تک وہ مدینہ واپس آئیں، ان کا دل ان پیاروں سے دوبارہ ملنے کے لیے دھڑک رہا تھا۔ اس لیے شام سے مدینہ واپس آنے والے قافلے کے راستے میں انھوں نے گائیڈ سے کہا کہ وہ انھیں کربلا سے شہداء کی زیارت کے لیے لے جائیں اور ان کے دلوں کو تسلی دیں۔ اس معاملے کی چھان بین اور شہداء کے قافلے کی مشہد آمد کے ساتھ حضرت زینب رضی اللہ عنہا پر غم و اندوہ کے پہاڑ اور جدائی کے درد کے ساتھ اپنے بھائی کی قبر مبارک۔ اس کو گلے لگایا اور غم زدہ دلوں کو “وآخر” کی آہوں سے اپنے ساتھ ملایا اور ان کے ماتم کی آوازیں آسمان تک بلند ہوئیں۔ اس نے اپنے آنسوؤں کے ساتھ بھائی سے کہا: “زینب جیسا آپ چاہتے تھے اور خدا نے حکم دیا تھا۔” ہاں، خدا کی مدد، اپنی استقامت اور اپنے ایمان سے، اس نے سید العباء (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے بچے کے ناحق بہے ہوئے خون کو بے اثر اور مہربند نہیں رہنے دیا۔ اس کے علاوہ، ضمیرآپ نے غافلوں کو بیدار کیا اور منحرف دلوں کو حق کی طرف مائل کیا اور ابو سفیان خاندان کی نالائقی ظاہر کی اور ان بہادری اور قربانیوں سے تحریک کربلا کی تکمیل کی۔ تاریخی اقوال کے مطابق کربلا میں تین دن کے سوگ کے بعد حضرت زینب امام سجاد (ع) اور دیگر قافلوں کے ساتھ رسول خدا (ص) کے مقام پر مدینہ واپس آئیں۔ رسالت کی لیڈی جو کئی ماہ قبل مکمل اعزاز میں تھی۔اور اس نے یہ سرزمین ہاشمی کے بھائیوں اور مردوں کے ساتھ چھوڑی تھی اور وہ اپنے بھتیجے کے علاوہ کسی محرم یا مرد کے ساتھ واپس نہیں آیا تھا۔ وہ بنی ہاشم کی چند عورتوں کے ساتھ مسجد نبوی میں پہنچا اور وہاں پہنچ کر دروازے پر ہاتھ رکھ کر پکارا کہ میں تمہیں حسین (ع) کے غم کی خبر لایا ہوں۔ اب تک جہاں بھی زینب (س) نے ماتم کا ارادہ کیا، دشمن نے انہیں روک دیا۔لیکن یہ ان کا محفوظ گھر اور ان کے دادا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر تھا۔ اس لیے آپ نے بنی ہاشم کی عورتوں کے ساتھ ماتم کیا اور کربلا، کوفہ اور شام کی آفات سے آگاہ کر کے مدینہ والوں کو آگاہ کیا۔ اس حد تک کہ اگر اب بھی بنی امیہ کے لیے دل رکھنے والے لوگ تھے تو وہ اس خاتون کے افعال اور بصیرت سے متاثر ہوئے اور ان کی محبت نفرت میں بدل گئی۔ تاریخ میں عبداللہ بن جعفر، زینب کی بیوی گھر میں…اس نے حسین کے سوگواروں اور اس کے بچوں کا خیر مقدم کیا اور کہا: “خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے حسین کا ماتمی بنایا۔” اگرچہ میں اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی مدد کرنے کے لیے وہاں نہیں تھا، لیکن میرے دونوں بیٹوں نے اپنی جانوں سے اس کی مدد کی۔
حضرت زینب کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو جاننا ممکن نہیں، کیونکہ وہ اپنے والد جیسی عظیم شخصیت کے مالک ہیں۔ جب ان کے نام کا مطلب باپ کی زینت ہے تو حضرت زینب (س) کو جاننے کے لیے حضرت علی (ص) کو جاننا چاہیے۔ اگر ہم باپ کو نہیں جان سکتے تو حضرت زینب (س) کو جاننا ممکن نہیں۔ تاریخ میں حضرت زینب (س) کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کسی حد تک ان کے بلند مقام کو ظاہر کرتا ہے۔ اوقات میںتاریخ کے بعد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر یہ واقعہ عاشورہ کے دوران یا اس کے بعد اسیری کے دوران ہوا تھا۔ غور طلب نکتہ یہ ہے کہ عاشورہ سے پہلے حضرت زینب (س) کی سرگرمیاں اور دعائیں ان کو اسلام کے لیے محنت کرنے اور اس نازک وقت میں اپنے پیاروں تک پہنچانے کا باعث بنیں۔ بہترین ٹول حضرت زینب (س) کو ان کی زندگی میں پہچاننے کے لیے معصومین بالخصوص امام زین العابدین (ع) نے بنی ہاشم کے
عقیلہ کے بارے میں جو اقوال کہے ہیں وہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت زینب (س) ایک عالم تھیں جن کا کوئی استاد نہیں تھا۔ یعنی انہوں نے حکمت اور سمجھداری سے کام لیا۔ جب عقیلہ بنی ہاشم (ص) کوفہ میں تھے تو کوفہ کی عورتوں نے کہا کہ ہم اس عورت کو جانتے ہیں۔ ہم تشریحی سبق کی پیروی کرتے ہیں۔اور ہم ان کا قرآن پڑھا کرتے تھے۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حضرت زینب (س) 14 معصوموں میں سے نہیں تھیں، لیکن وہ ایک قابل قدر ہستی تھیں اور انہوں نے اس وقت اسلام کی سربلندی کے لیے اہم سرگرمیاں انجام دیں۔
آخر میں دُعا گو ہوں کہ رب ّرحیم ہماری خواتیں کو اور ہمیں حضرت زینب عقیلہ بنی ہاشم کے اقوال اور اعمال پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے پردے کے صدقے میں ان کے پردے قائم رہیں اور شرم و حیا ان کا زیور بنے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
رجب المرجب 28…. سفر شہادت امام حسین علیہ السلام اور اہلبیت ؑاورروانگی سے قبل خطبہ سید الشہدعلیہ السلام
عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ کی جانب سے یوم غم پر تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہے
رسول اللہ(ص) مشرکین کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے مکہ سے ہجرت کر مدینہ آنے پر مجبور ہوئے تو فرزندِ رسول(ص) کو ان مشرکین کی منافق اولاد کی سازشوں کی بنا پر 28رجب 60ہجری کو مدینہ چھوڑ کر مکہ اور پھر عراق کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ یہ مشرکین اور منافقین کی مشرک اور منافق اولاد ہی تھی جس نے امام حسین(ع) کو قتل کر کے کہا: کاش میرے بدر میں مارے گئے آباء و اجداد آج زندہ ہوتے اور میرے اس کارنامے کو دیکھ کر کہتے تیرے ہاتھ سلامت رہیں۔
مدینہ سے مکہ اور عراق کی طرف امام حسین(ع) کی ہجرت اسلام کے دعویداروں کی سازشوں کا نتیجہ تھی۔ یہاں اس ہجرت کے حوالے سے اختصاراً مدینہ سے امام حسین(ع) کی روانگی کا ذکر کرتے ہیں:
واقعہ کربلا کا آغاز حضرت امام حسین علیہ السلام جب پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفی(ص) کی زندگی کے آخری لمحات سے لے کرامام حسن کی حیات کے آخری ایام تک بحرمصائب وآلام کے ساحل سے گزرتے ہوئے زندگی کے اس عہد میں داخل ہوئے جس کے بعد آپ کے علاوہ پنجتن میں کوئی باقی نہ رہا توآپ کا سفینہ حیات خود گرداب مصائب میں آ گیا امام حسن کی شہادت کے بعد سے معاویہ کی تمام تر جدوجہد یہی رہی کہ کسی طرح امام حسین کاچراغ زندگی بھی اسی طرح گل کر دے، جس طرح حضرت علی اورامام حسن کی شمع حیات بجھا چکا ہے اور اس کے لیے وہ ہرقسم کا داؤں کرتا رہا اور اس سے کا مقصد صرف یہ تھا کہ یزید کی خلافت کے منصوبہ کو پروان چڑھائے، بالآخراس نے ۵۶ ء میں ایک ہزارکی جمیعت سمیت یزید کے لیے بیعت لینے کی غرض سے حجاز کا سفر اختیار کیا اور مدینہ منورہ پہنچا۔

وہاں امام حسین سے ملاقات ہوئی اس نے بیعت یزید کا ذکر کیا، آپ نے صاف لفظوں میں اس کی بدکرداری کا حوالہ دے کر انکار کر دیا، معاویہ کو آپ کا انکار کھلا تو بہت زیادہ لیکن چند الٹے سیدھے الفاظ کہنے کے سوا اور کچھ کر نہ سکا اس کے بعد مدینہ اور پھر مکہ میں بیعت یزید لے کر شام کو واپس چلا گیا۔
علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ معاویہ نے جب مدینہ میں بیعت کاسوال اٹھایا تو حسین بن علی، عبدالرحمن بن ابی بکر،عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر نے بیعت یزید سے انکار کر دیا اس نے بڑی کوشش کی لیکن یہ لوگ نہ مانے اور امام حسین کے علاوہ سب مدینہ سے چلے گئے۔ (روضہ الشہداء ص ۲۳۴) ۔
معاویہ بڑی تیزکی ساتھ بیعت لیتا رہا اور بقول علامہ ابن قتیبہ اس سلسلہ میں اس نے ٹکوں میں لوگوں کے دین بھی خرید لیے، الغرض رجب 60ھ میں معاویہ رخت سفر باندھ کر دنیا سے چلا گیا، یزید جو اپنے باپ کے مشن کو کامیاب کرنا ضروری سمجھتا تھا سب سے پہلے مدینہ کی طرف متوجہ ہو گیا اور اس نے وہاں کے والی ولید بن عقبہ کو لکھا کہ امام حسین،عبدالرحمن بن ابی بکر،عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیرسے میری بیعت لے لے، اور اگر یہ انکار کریں تو ان کے سر کاٹ کر میرے پاس بھیج دے، ابن عقبہ نے مروان سے مشورہ کیا اس نے کہا کہ سب بیعت کر لیں گے لیکن امام حسین ہرگز بیعت نہ کریں گے اور تجھے ان کے ساتھ پوری سختی کا برتاؤ کرنا پڑے گا۔
صاحب تفسیرحسینی علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ ولید نے ایک شخص (عبدالرحمن بن عمربن عثمان) کو امام حسین اورابن زبیر کو بلانے کے لیے بھیجا، قاصد جس وقت پہنچا دونوں مسجد میں محوگفتگو تھے آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم چلو ہم آتے ہیں، قاصد واپس چلا گیا اور یہ دونوں آپس میں بلانے کے سبب پرتبادلہ خیالات کرنے لگے امام حسین نے فرمایا کہ میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے جس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ معاویہ نے انتقال کیا اور یہ ہمیں بیعت یزید کے لیے بلا رہا ہے ابھی یہ حضرات جانے نہ پائے تھے کہ قاصد پھر آ گیا اور اس نے کہا کہ ولید آپ حضرات کے انتظارمیں ہے امام حسین نے فرمایا کہ جلدی کیا ہے جا کرکہہ دو کہ ہم تھوڑی دیرمیں آ جائیں گے۔
اس کے بعدامام حسین دولت سرا میں تشریف لائے اور ۳۰ بہادروں کو ہمراہ لے کر ولید سے ملنے کا قصد فرمایا آپ داخل دربار ہو گئے اور بہادران بنی ہاشم بیرون خانہ درباری حالات کا مطالعہ کرتے رہے ولید نے امام حسین کی تعظیم کی اورخبرمرگ معاویہ سنانے کے بعد بیعت کا ذکرکیا، آپ نے فرمایاکہ مسئلہ سوچ بچارکا ہے تم لوگوں کوجمع کرو اورمجھے بھی بلا لو میں ”علی روس الاشہاد“ یعنی عام مجمع میں اظہارخیال کروں گا۔
ولید نے کہا بہترہے، پھرکل تشریف لائیے گا ابھی آپ جواب بھی نہ دینے پائے تھے کہ مروان بول اٹھا اے ولید اگر حسین اس وقت تیرے قبضہ سے نکل گئے تو پھر ہاتھ نہ آئیں گے ان کو اسی وقت مجبور کر دے اور ابھی ابھی بیعت لے لے اوراگر یہ انکارکریں توحکم یزید کے مطابق سرتن سے اتار لے یہ سننا تھا کہ امام حسین کوجلال آ گیا آپ نے فرمایا ”یابن الزرقا“ کس میں دم ہے کہ حسین کوہاتھ لگا سکے، تجھے نہیں معلوم کہ ہم آل محمد ہیں فرشتے ہمارے گھروں میں آتے رہتے ہیں ہمیں کیونکر مجبورکیا جا سکتا ہے کہ ہم یزید جیسے فاسق وفاجر اور شرابی کی بیعت کر لیں، امام حسین کی آواز کا بلند ہونا تھا کہ بہادران بنی ہاشم داخل دربار ہو گئے اورقریب تھا کہ زبردست ہنگامہ برپا کر دیں لیکن امام حسین نے انہیں سمجھا بجھا کر خاموش کر دیا اس کے بعد امام حسین واپس دولت سرا تشریف لے گئے ولید نے سارا واقعہ یزید کو لکھ کربھیج دیا اس نے جواب میں لکھا کہ اس خط کے جواب میں امام حسین کا سربھیج دو،ولید نے یزید کاخط امام حسین کے پاس بھیج کر کہلا بھیجا کہ فرزندرسول ،میں یزید کے کہنے پرکسی صورت سے عمل نہیں کرسکتا لیکن آپ کو باخبر کرتا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ یزید آپ کے خون بہانے کے درپے ہے
امام حسین نے صبرکے ساتھ حالات پرغورکیا اور نانا کے روضہ پر جا کردرد دل بیان فرمایا اور بے انتہا روئے، صبح صادق کے قریب مکان واپس آئے دوسری رات کو پھر روضہ رسول پرتشریف لے گئے اورمناجات کے بعد روتے روتے سو گئے خواب میں آنحضرت کو دیکھا کہ آپ حسین کی پیشانی کا بوسہ لے رہے ہیں اورفرما رہے ہیں کہ اے نورنظرعنقریب امت تمہیں شہید کر دے گی بیٹا تم بھوکے پیاسے ہوں گے تم فریاد کرتے ہوں گے اور کوئی تمہاری فریاد رسی نہ کرے گا امام حسین کی آنکھ کھل گئی آپ دولت سرا واپس تشریف لائے اور اپنے اعزا کو جمع کر کے فرمانے لگے کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ میں مدینہ کوچھوڑ دوں، ترک وطن کا فیصلہ کرنے کے بعد روضہ امام حسن اورمزارجناب سیدہ پرتشریف لے گئے بھائی سے رخصت ہوئے ماں کوسلام کیا قبرسے جواب سلام آیا، نانا کے روضہ پر رخصت آخری کے لیے تشریف لے گئے روتے روتے سوگئے سرورکائنات نے خواب میں صبرکی تلقین کی اورفرمایا بیٹا ہم تمہارے انتظارمیں ہیں۔
پ کے ساتھ تمام مخدرات عصمت وطہارت اورچھوٹے چھوٹے بچے تھے البتہ آپ کی ایک صاحبزادی جن کانام فاطمہ صغری تھا اورجن کی عمراس وقت ۷/ سال تھی بوجہ علالت شدیدہ ہمراہ نہ جاسکیں امام حسین نے آپ کی تیمارداری کے لیے حضرت عباس کی ماں جناب ام البنین کومدینہ میں ہی چھوڑدیاتھا اورکچھ فریضہ خدمت ام المومنین جناب ام سلمہ کے سپردکردیاتھا
قبل از روانگی وصیتِ امام حسینؑ علیہ السلام
مکہ کوچ سے پہلے صبح سویرے محمد حنفیہ امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے ۔ اور کچھ باتیں کیں ۔ جنکا خلاصہ یہ ھے کہ : یا تو آپ مکہ میں ٹھہر لیں ۔ (رھیں) یا یمن کے شہروں یا بیابانوں اور جنگلوں کیطرف چلے جائیں ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا :
۔۔۔ اگر دنیا میں میرے لیئے کوئی پر امن جگہ نہ بھی ھو ۔ پھر بھی یزید کی بیعت نہیں کرونگا ۔ دونوں بھائی کچھ دیر روتے رھے ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا : میرا مکہ کا ارادہ ھے ۔ پھر قلم و کاغذ طلب کیا اور اپنا وصیت نامہ لکھا ۔ امام حسین علیہ السلام کا وصیت نامہ جو اپنے بھائی محمد حنفیہ کو لکھ کر دیا ۔
۔۔۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ….
۔۔۔ میں حسینء ، خداوند متعال کی توحید کی گواھی دیتا ھوں ۔ جو یکتا ھے اور شریک نہیں رکھتا ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند کے بندے (عبد) اور رسول (ص) ھیں اور حق تعاليٰ کیجانب سے رسالت کے ساتھ مبعوث ھوئے … جنت اور دوزخ حق ھے ، بیشک قیامت آئے گی اور خداوند متعال مردوں کو قبروں سے اُٹھائے گا ۔۔۔ میں نے تکبر و خود خواھی یا فساد و ظلم ایجاد کرنے کیلیئے قیام نہیں کیا ۔ بلکہ میں نے قیام کیا ھے ، تاکہ اپنے جد بزرگوار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت اور اپنے والد نامدار علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے محبوں کی اصطلاح کروں ۔
۔۔۔ پس جس شخص نے مجھے قبول کیا ۔ ۔۔۔ حق کو قبول کیا ھے ، اور جو بھی مجھے ٹھکرا دے تو میں صبر سے کام لوں گا ۔ یہاں تک کہ خداوند میرے اور اس گروہ کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ھے … ۔۔۔ اے بھائی…..۔۔۔ یہ آپکے ہاتھوں میں میری وصیت ھے ۔ ۔۔۔ “وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب’’۔۔۔۔ بعد ازاں اس تحریر کو بند کیا ، اپنی مہر لگائی اور اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو دے دیا ۔
۔۔۔ حوالہ : ۔۔۔ شاھکار آفرینش از صفحہ ۷۷ تا ۷۹ ۔۔۔۔ یزید پلید کی بیعت کرنا اور اسکی حکومت قبول کرنا ،
۔۔۔ در حقیقت اسلام کو وداع کرنا ھے :۔۔۔ کتاب مستطاب ‘‘سیرۂ امام حسین علیہ السلام از طلوع اشکبار تا عروج خونین ، تالیف محسن غفاری’’ میں مندرجہ بالا عنوان کے تحت مرقوم ھے ۔ کہ جس رات دارالامارہ میں بلوا کر حضرت امام حسین علیہ السلام سے ولید بن عتبہ نے یزید پلید کی بیعت کا سوال کیا ۔ جب صبح ھوئی تو گھر سے باھر امام علیہ السلام کا مروان بن حکم سے آمنا سامنا ھوا ۔
۔۔۔ مروان نے کہا : ۔۔۔ یا ابا عبداللہ (ع) ! ۔۔۔ میں آپکی بھلائی چاھتا ھوں ۔ ۔۔۔ آپ کیلیئے میری ایک تجویز ھے ، کہ اگر قبول کر لیں تو آپکی خیر و صلاح میں ھے ۔۔۔۔ امام علیہ السلام نے پوچھا :۔۔۔ کیا تجویز رکھتے ھو ۔۔۔ مروان کہنے لگا :۔۔۔ جیسا کل رات ولید بن عتبہ کے سامنے پیش آیا تھا ، ۔۔ آپ یزید ابن معاویہ کی بیعت کر لیں . ۔۔۔ کیونکہ یہ کام آپکے دینی اور دنیوی فائدے میں ھے ۔
۔۔۔ امام (ع) نے ارشاد فرمایا :۔۔۔ انّا للہ و انا الیہ راجعون و علی الاسلام سلام اذا بلیت الامّۃُ براعٍ مثل یزید : یعنی بیشک ھم اللہ کیلیئے ھیں اور بیشک ھم اسی کیطرف لوٹ کر جانے والے ھیں . اور اسلام پر سلام ھے ۔ (یعنی ایسی صورتْحال میں اسلام سے وداع کرنا ھے اور سلامِ آخر کہنا ھے) کہ جب امت یزید جیسے نالائق فرد کی سرپرستی میں گرفتار ھو جائے …۔۔۔ و لقد سمعت جدی رسول اللہ (ص) یقول :۔۔۔ الخلافۃ محرّمۃٌ علی آل ابی سفیان ، فاذا رایتُم معاویۃ علی منبری ۔۔۔ فابتلاھم اللہ بیزید الفاسق : یعنی مینے اپنے جد بزرگوار حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ھے ، کہ انہوں نے فرمایا : خلافت ابو سفیان کی اولاد پر حرام ھے ۔ پس اگر معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو ۔ تو اسے میرے منبر سے ھٹا دو ۔ (ایک روایت میں قتل کرنے کے الفاظ بھی موجود ھیں)
۔۔۔ اھل مدینہ نے ایسا ھی دیکھا ۔ ۔۔۔ لیکن قولِ رسول (ص) پر عمل نہیں کیا ۔ ۔۔۔ پس خداوند متعال نے انہیں یزید جیسے فاسق حکمران کی حکومت میں گرفتار کر دیا ۔
۔۔۔ حوالہ :سیرۂ امام حسین علیہ السلام صفحہ ۱۳۱ ، ۱۳۲ ۔
۔۔۔ امام حسین (ع) کی بنو ہاشم کو دعوت قیام :۔۔۔ کربلا کا سفر شروع کرنے سے پہلے حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے خاندان بنو ہاشم کو مندرجہ ذیل الفاظ میں اپنے شہادت بخش انقلاب و تحریک میں شرکت کی دعوت دی :
۔۔۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
۔۔۔ مِن الحسین بن علی بن ابی طالب الی بنی ھاشم ، امابعد ! فانہ من الحق بی منکم استشھد ومن تخلف لم یبلغ مبلغ الفتح ، والسلام : ترجمہ ، شروع الله کے نام سے جو رحمان و رحیم ھے .حسین ابن علی ابن ابیطالب (ع) کیطرف سے بنوہاشم کے نام :
امابعد ! آپ میں سے جو شخص میرے ساتھ ملحق ھو گیا ۔ شہادت کی سعادت پائے گا ۔ اور جو بھی سرپیچی کریگا ۔ اسے فتح و ظفر نصیب نہیں ھو گی ۔ والسلام ….. ۔۔۔ بحوالہ …. مقتل الحسین خوارزمی ، و دیگر کتب مقاتل ۔
⚫ امام حسینؑ (ع) کی مکہ سے روانگی : امام حسینؑ کا مدینے کے گورنر کو جواب ۔۔۔ بیعت مانگنے پر امام حسین علیہ السلام کا مدینہ کے گورنر ولید ابن عتبہ کو جواب : ایُّهَا الأمیرُ اِنّا اَهْلُ بَیْتِ النُّبُوَّةِ …..
۔۔۔ اے امیر ! ھم خاندان نبوت اور معدنِ رسالت ھیں . ھمارے گھروں پر فرشتوں کی رفت و آمد رہا کرتی ھے ، اور ھمارے خاندان پر الله کی رحمتیں نازل ھوتی ھیں . الله تعالٰی نے اسلام کو ھمارے گھرانے سے شروع کیا اور آخر تک ھمیشہ ھمارا گھرانہ اسلام کے ھمراہ رھے گا ۔لیکن یزید ، جسکی بیعت کی تم مجھ سے توقع کر رھے ھو ، اسکا کردار یہ ھے کہ : وہ شراب خور ھے ۔بیگناہ افراد کا قاتل ھے ۔اس نے الله تعالی کے احکام کو پامال کیا ھے ۔ اور بر سر عام فسق و فجور کا مرتکب ھوتا ھے .
مجھ جیسا شخص کسی صورت اس جیسے شخص کی بیعت نہیں کرے گا ۔ اب ھم اور تم دونوں آنے والے وقت کا انتظار کرتے ھیں ۔ اور دیکھتے ھیں ۔ کہ ھم میں سے کون خلافت اور بیعت کا زیاده مستحق ھے .
حوالہ :
حسینؑ ابن علیؑ (ع)
مدینہ تا کربلا صفحہ 32 ۔
امام حسینؑ کی مرقدِ رسولؐ پر حاضری مکہ روانگی کا فیصلہ کرنے کیبعد دوسری رات امامؑ (ع) ایک بار پھر قبرِ رسولؐ (ص) کی زیارت کیلیئے تشریف لائے ۔ اور ان جملات سے اپنے جدِّ امجد کی زیارت کی : “اَللّٰهمَّ اِنَّ هٰذا قَبْرُ نَبِیِّکَ …
بارِالٰہا ! یہ تیرے نبی محمد (صلّی الله علیہ و آلہ وسلّم) کی قبر ھے اور میں تیرے نبی (ص) کا نواسہ ھوں اور جو کچھ میرے لیئے پیش آیا ھے ۔ تو اس سے آگاہ ھے ۔ بارِالٰہا ! میں نیکی اور بھلائی سے پیار کرتا ھوں ۔ اور برائی سے نفرت .
اے ذوالجلال و الاکرام ! اس قبر اور صاحبِ قبر کے واسطے سے (تجھ سے درخواست کرتا ھوں کہ) میرے لیئے وه (راه) پسند فرما ۔ جس میں تیری اور تیرے رسول (ص) کی رضا اور خوشنودی ھو .”کے بیان کے مطابق اس رات امامؑ (ع) صبح تک قبرِ رسولؐ (ص) پر کچھ اس طرح عبادات و مناجات میں مشغول رھے کہ مناجات کے دوران راتوں کو جاگنے والے اس مردِ میدان کی گریہ و زاری کی بلند ھونے والی صدائیں دوسروں کو بھی سنائی دے رھی تھیں
حوالہ :حسینؑ ابن علیؑ (ع) مدینہ تا کربلا صفحہ 42 – 43 ۔
علماء کابیان ہے کہ امام حسین ۲۸/ رجب۶ ۰ ھ یوم سہ شنبہ کومدینہ منورہ سے بارادہ مکہ معظمہ روانہ ہوئے علامہ ابن حجرکاکہناہے کہ ”نفرلمکتہ خوفا علی نفسہ“ امام حسین جان کے خوف سے مکہ تشریف لے گئے (صواعق محرقہ ص ۴۷)۔
، آپ ۳/ شعبان ۶۰ ھ یوم جمعہ کومکہ معظمہ پہنچ گئے آپ کے پہنچتے ہی والی مکہ سعیدابن عاص مکہ سے بھاگ کرمدینہ چلاگیا اوروہاں سے یزیدکومکہ کے تمام حالات لکھے اوربتایاکہ لوگوں کارجحان امام حسین کی طرف اس تیزی سے بڑھ رہاہے جس کاجواب نہیں ،یزیدنے یہ خبرپاتے ہی مکہ میں قتل حسین کی سازش پرغورکرناشروع کردیا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
رجب المرجب 27 معراج و اسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معراج مصطفیٰ ، اللہ تعالیٰ کے بےشمار احسانات و انعامات میں ایک اہم نعمت اور حضور کے ان گنت معجزات میں سے ایک ہے، جو بظاہر ایک آن میں وقوع پذیر ہوا مگر اس کی حقیقی مسافت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں، ہاں اتنا ضرور ہے کہ احادیث و تفاسیر کی رو سے جو کروڑوں یا اربوں کھربوں سال یا اس سے بھی کہیں زیادہ کی مسافت تھی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اسے ایک آن یا اس سے کم میں سمیٹ کر رکھ دیا اور جہاں یہ اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی قدرت کی عظیم الشان نشانی ہے وہیں سید المرسلین کا عظیم الشان معجزہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے آخری نبی کو عطا فرمایا۔منبعِ علم و دانش قرآن مجید فرقان حمید میں واقعۂ معراج تین الگ الگ مقامات پر بیان ہوا ہے۔ سورۃ النجم میں سفر معراج کا ذکر جمیل قدرے تفصیل سے ہوا ہے۔ فرمایا :
آیتِ مذکورہ میں نجم سے مراد حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔ ’’قسم ہے ستارے کی جب وہ اترے‘‘ معراج کی شب عظمت کا تاج کس رسول محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر سجایا گیا، کھلے آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔ ظاہر ہے یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تھی اور خدا اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ستارے سے تشبیہہ دے رہا ہے۔ ستارا جو روشنی کی علامت ہے، ستارہ جو حرکت اور زندگی کا استعارہ ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں
النجم انه محمد.
(روح المعانی، 14 : 45)
(تفسير المظهری، 9 : 103)نجم سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
خدائے بزرگ اپنی کتاب قران میں فرماتا ہے کہ !
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىOمَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىOوَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىOإِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىOعَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىOذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىOوَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىOثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىOفَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىOفَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَىO
(النجم، 53 : 1 – 10)
قَسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب وہ (چشمِ زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اترےo تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (یعنی تمہیں اپنے فیضِ صحبت سے صحابی بنانے والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکےo اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتےo اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہےo ان کو بڑی قوّتوں و الے (رب) نے (براہِ راست) علمِ (کامل) سے نوازاo جو حسنِ مُطلَق ہے، پھر اُس (جلوۂ حُسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایاo اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے)o پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیاo پھر (جلوۂ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا)o پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اللہ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائیo
اللہ ربّ العزت نے ان آیات مقدسہ کے آغاز میں قسم اٹھائی ہے اور یقیناً ربّ العالمین کا قسم اٹھانا ایک غیرمعمولی بات ہے۔ ایک غیر معمولی واقعہ کی تمہید کو اجاگر کرنا مقصود ہے۔ خالق کائنات کا کسی واقعہ کو بیان کرنے سے پہلے قسم اٹھانا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو واقعہ بیان کیا جا رہا ہے وہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور جس ہستی معظم کے بارے میں یہ واقعہ بیان ہو رہا ہے، وہ ہستی کن عظمتوں اور رفعتوں کی حامل ہے! اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے رحیم و کریم کسی وقیع معاملے کا انکشاف فرما رہے ہیں۔ اس غیر معمولی اہتمام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بندوں پر یہ آشکار کرنا بھی مقصود ہے کہ اس معجزۂمعراج کو اپنی ناقص عقل کی کسوٹی پر نہ پرکھیں بلکہ اس خالق ارض و سماوات کی قدرت کاملہ کا مظہر جان کر دل و جان سے قبول کر لیں۔ فرمایا : قسم ہے ستارے کی جب وہ اترے۔ مذکورہ آیات کی پہلی آیت میں ’’نجم‘‘ اور ’’ھوی‘‘ کے الفاظ معنی خیز بھی ہیں اور ہمیں غور و تدبر کی دعوت بھی دے رہے ہیں۔
قرآن کریم اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے کہ اسراء ومعراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں، بلکہ جسمانی تھا، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سفر کوئی خواب نہیں تھا، بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ مختلف مراحل سے گزرکر اتنا بڑا سفر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے صرف رات کے ایک حصہ میں مکمل کردیا۔ اللہ تعالیٰ جو اس پوری کائنات کا پیدا کرنے والاہے، اس کے لیے کوئی بھی کام مشکل نہیںہے،کیونکہ وہ تو قادرِ مطلق ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے تو ارادہ کرنے پر چیز کا وجود ہوجاتا ہے۔ معراج کا واقعہ پوری انسانی تاریخ کا ایک ایسا عظیم، مبارک اور بے نظیر معجزہ ہے جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ خالقِ کائنات نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دے کر اپنا مہمان بنانے کا وہ شرفِ عظیم عطا فرمایا، جو نہ کسی انسان کو کبھی حاصل ہوا ہے اور نہ کسی مقرَّب ترین فرشتے کو۔
شہر یار اپنی کتاب کے صفہ 18 کی آخری سطور میں لکھتا ہے کہ !
سورہ نجم کی آیات سے یہ دو فرقے جن میں بریلوی و دیوبندی ہیں وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ الله تعالی اسی کائنات میں حلول کے ہوئے وہ مجسم ہوا اور رسول الله کے اتنے پاس آیا کہ دو کمانوںکا فاصلہ رہ گیا اور یہ اس زمین کے افق پر ہوا – یہ اس عقیدے کی اصل ہے – نبی نے دیکھا یا نہیں دیکھا یہ ثانوی بحث ہے – پھر ان کے مطابق الله عرش پر نہیں لیکن جنت میں وہ پھر مجسم ہوا اور رسول الله نے اپنے رب کو دورسی بار دیکھا – راقم کہتا ہے یہ تمام باطل ہے – رسول الله نے اپنے رب کو نہیں دیکھا جبرئیل کو دیکھا تھا
اور دوسری جانب مسلمانوں کے فرقہ امامیہ اثنا عشری اہل تشیع کے مال صالح ترمزی اپنی کتاب مناقب مرتضوی میں لکھتے ہیں کہ جب پیغمرصلى الله عليه وسلم معراج کو آسمان پر تشریف لے گئے تو وہاں ایک شیر کو دیکھا جو نور کے حلقہ میں تھا ، پیغمربصلى الله عليه وسلم نے ا گے جانا چاہا تو اس نے روکا جبرئیل سے پوچھا یہ شیر کیا چاہتا ہے۔ جربائیل نے کہا ا پ سے کوئی ترب ک چاہتا ہے، ا پ نے اپنی انگوٹھی اس کی طرف پھیکی اور ا گے بڑھ حضرت کی خدمت میں حاضرہوئےا اور معراج کی مبارکباد دی اورگئے۔ جب حضر معراج سے واپس آئے تو جناب امیروہ انگوٹھی پیش کی اور کہا یہ وہی انگوٹھی ہے جو ا پ نے ا سامن پر مجھے عطا کی تھی۔ اس وقت حرض ت نے فرمایا: جزاک
اللہ خیر ا یا اسداللہ الغالب۔ اے اللہ کے شیر، شیر غالب خدا ا پ کو جزاء خیر عطا فرمائے۔ عید-مبعث-اور- معراج -پیغمرب-)صل-اللہ-علیہ -وآلہ و سلم
/485377/485519/1207567/news?/home/Portal/ir.aqr.www://https
شہر یار کی کتاب اسرا میں یہ بھی حوالہ ملتا ہے کہ انبیاء میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے علاوہ ادریس علیہ السلام کو بھی معراج ہوئی اس کا ذکر سورہ الانبیاء میں ہے
وَرفَ رعنَا ره َم َکانًا َعلِي
ہم نے اس کو ایک بلند مکان کی طرف اٹھایا
معراج اس روحانی و جسمانی سفر کا نام ہے جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمانوں کی سیر کروائی گئی اس کا ذکر سورہ النجم میں ہے۔
اسراء ، جسمانی و روحانی سفر کا دوسرا مرحلہ ہے جو آپ کو مکہ سے بیت المقدس تک کرایا گیا۔ اس کا ذکر سورہ بنی اسرائیل میں ہے۔
آخر میں دعا گو ہوں کہ خدائے بزرگ ہمیں معرفت اسلام اور معرفت معراج روحانی و جسمانی کو معرفت عطا فرمائے اور ہمارے ایمان کو محمد و آل محمد کے مذہب حقہ پر قائم رکھے آمین!
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
25 رجب المرجب ۔۔۔۔۔۔۔۔
برج امامت الكاظم، باب الحوائج، العبد الصالح
،تاجدار امامت کے ہفت اقلیم کی شہادت امام موسی کاظم علیہ السلام
عالمی اخبار کا ادارتی بورڈ اپنے ناظرین کی خدمت میں حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے پر ملال موقع پر تعزیت پیش کرتا ہے۔۔۔۔
خدا کا درود و سلام ہو اس پر کہ جس کے صبر و استقامت نے دشمنوں کو گھنٹے ٹیکنے پر مجبور کردیا ۔ فرزند رسول امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی جانگداز شہادت کی مناسبت سے آپ کی خدمت میں ایک بار پھر تعزيت پیش کرتے ہوئےامام عالی مقام کے گرانقدر اقوال آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں ۔
باتیں کہنے کی ۔۔۔۔۔۔اکمل سید لندن ۔۔۔۔۔
ایک ذمہ دار فرد کے لئے اس دور میں کتنا مشکل کہ اپنے عمل سے اور آمرانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرئے اور غیر ذمہ دار افراد اپنی من مانی کرتے رہیں گے ۔۔۔۔۔۔جب کہ ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں چاروں طرف غیر ذمہ دار اور جہالت کے پیکر یک جا ہیں اور خوشی کے روز مجلس اور روز غم میں خوشی کی تقریبات منعقد کرتے ہوں اور قوم اور دوسروں کے دل آزاری کرتے ہوں لعنت ہو ایسی کرسی اور نشہ اقتدار پر ۔۔۔۔۔۔ ابھی حال میں لندن میں کچھ ایسی قسم کے دو واقعات رونما ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔آخراس قوم کے ذمہ دار افراد عبا قبا پوش کب تک خاموش ہیں گے اور ان کی خاموشی کا فائدہ ان جہالت پیکر ظالم افراد اُٹھاتے رہیں گے ۔۔اور کے حکم کو حرف آخر سمجھتے رہے گے۔اپنی ذمہ دارنہ اور منصبی فرائض کو کب انجام دیں گے ۔۔۔۔یا صرف اپنے کو چند سکوں کے بدلے اپنے ضمیر کو اسی طرح فروخت کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ادارتی بورڈ کے ذمہ دار افراد میں تین اصحاب ایسے بھی ہیں جو صاحب علم اور صاحب عمامہ بھی شامل ہیں مگر نہ جانے کس مصلحت کے خاطر غلط فیصلے کو قبول کرنے پر مجبور ہیں شاید اپنی منصبی ذمہ داری کے برطرف ہونے کا خطرہ ہے
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں خوش اخلاق اور سخی انسان ہمیشہ خدا کی پناہ میں ہے ۔یہاں تک کہ خدا اسے ایک دن بہشت میں داخل کرے گا ۔دینداروں کے ساتھ ہمنشینی شرف دنیا و آخرت کا باعث ہے اور خیرخواہ عقلمند سے مشورت باعث سعادت و فلاح اور موجب برکت و توفیق الہی ہے ۔
۔۔۔۔۔جواب تو خدا اور امام زمانہ کو دینا ہے ۔۔۔۔۔۔ آخر کب تک
آئیے اب اپنے اصل مقصد کی جانب اور اس امام کی شہادت کے بارے میں کہ ہم نے اس علم کے پیکر اور اس کے عمل سے کیا سیکھا۔۔
امام کاظم (ع) سنہ 128 ہجری قمری میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بیس سال تک کی عمر اپنے والد ماجد حضرت امام صادق (ع) کی ذات مقدس کے ساتھ گزاری اور امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد 35 سال تک مسلمانوں کی امامت و ہدایت کی ذمہ داری انجام دی ۔ اس راہ میں آپ نے بہت سی مشکلات اور صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ (ع) کے علم سے فیضیاب ہونے والے بہت سے فقیہ اور دانشور شاگردوں نے اسلامی علوم و تعلیمات کوپوری دنیا میں رائج کیا۔ امام کاظم (ع) نے اسلامی علوم اور تعلیمات کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ عباسی حکومت کے خلاف جد و جہد بھی جاری رکھی ۔ سرانجام عباسی خلیفہ ہارون رشید نے امام موسیٰ کاظم (ع) کو گرفتار کرلیا اور ایک سازش کے تحت زہر دے کر شہید کردیا۔
آپ کے دو مشہور لقب ”کاظم“ اور ”باب الحوائج“ تھے ۔ آپ کی ولادت باسعادت ۱۲۸ہجری قمری میں مقام ”ابواء“ (مدینہ کے قریب ایک مقام) پر ہوئی۔ آپ کی زندگی بنی عباس سلطنت کے زیر اثر مشکلات سے دوچار رہی ہے۔
جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نےفرائض امامت سنبھالے اس وقت عباسی خلیفہ منصوردوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمارسادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے سادات زندہ دیواروں میں چنوائے گئے یا قید کرکے رکھے گئے تھے۔
امام موسي کاظم عليہ السلام نے مختلف حکام کے دور ميں زندگي بسر کي۔ آپ کا دور، حالات کے اعتبار سے نہايت مصائب اور شديد مشکلات اور گھٹن سے بھرا ہوا دور تھا۔ ہرآنے والے بادشاہ کي امام پرسخت نظر تھي ليکن يہ آپ کا کمال امامت تھا کہ آپ شدید مصائب مشکلات کے دورميں قدم قدم پر لوگوں کو درس علم وہدايت عطا فرماتے رہے۔ اتنے نامناسب حالات ميں آپ نے اس یونیورسٹی کي جوآپ کے پدر بزرگوارکي قائم کردہ تھي، پاسداري اور حفاظت فرمائي آپ کا مقصد امت کي ہدايت اورنشرعلوم آل محمد تھا جس کي آپ نے قدم قدم پر ترويج کي اور حکومت وقت توبہرحال امامت کي محتاج ہے ۔
چنانچہ تاريخ ميں بیان ہوا ہے کہ ايک مرتبہ مہدي جو اپنے زمانے کا حاکم تھا مدينہ آيا اور امام مو سيٰ کاظم سے مسلۂ تحريم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہن ناقص ميں خيال کرتا تھا کہ معاذ اللہ اس طرح امام کي رسوائي کي جائے ليکن شايد وہ يہ نہيں جانتا تھا کہ يہ وارث باب مدينۃ العلم ہيں چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمت شراب کي قرآن سے دليل پیش کریں؟ امام نے فرمايا : خداوند متعال سورۂ اعراف ميں فرماتا ہے اے حبيب ، کہہ دیجئے کہ ميرے خدا نے کار بد کو چاہے وہ ظاہرہو یا مخفي و اثم و عدوان قرار ديا ہے اور يہا ں پر اثم سے مراد شراب ہے۔ امام يہ کہہ کر خاموش نہيں ہوتے ہيں بلکہ فرماتے ہيں خدا وند سورۂ بقرہ میں بھی فرماتا ہے اے ميرے حبيب، لوگ تم سے شراب اور جوئے کے بارے ميں سوال کرتے ہيں کہہ دو کہ يہ دونوں گناہ عظیم ہیں۔ اسي سبب شراب کو قرآن مجید میں واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔
مہدي، امام کے اس عالمانہ جواب سے بہت متاثر ہوا اور بے اختيارکہنے لگا ايسا عالمانہ جواب سوائے خانوادۂ عصمت و طہارت کے کوئي نہيں دے سکتا۔ يہي سبب تھا کہ لوگوں کے دلوں پر امام کي حکومت تھي۔ ہارون کے حوالے سے ملتا ہے کہ ايک مرتبہ وہ رسول اللہ کی قبر مقدس کے پاس پر کھڑ ے ہو کر کہتا ہے اے خدا کے رسول آپ پر سلام، اے میرے چچازاد بھائی آپ پر سلام – وہ يہ چاہتا تھا کہ ميرے اس عمل سے لوگ يہ جان لیں کہ خليفہ وقت سرور کائنات کا چچازاد بھائي ہے – اسي وقت امام کاظم قبر پيغمبر کے نزديک آئے اورفرمايا’’اے اللہ کے رسول! آپ پرسلام۔ اے پدر بزرگوار! آپ پرسلام‘‘ ہارون امام کے اس عمل سے بہت ناراض ہوا۔ فورا امام کي طرف رخ کر کے کہتا ہے آپ فرزند رسول ہونے کا دعوی کيسے کرسکتے ہيں ؟ جب کہ آپ علي مرتضيٰ کے فرزند ہيں – امام نے فرمايا تو نے قرآن کريم ميں سورۂ انعام کي آيت نہيں پڑھي جس ميں خدا فرماتا ہے ’’قبيلۂ ابراہيم سے داۆد، سليمان، ايوب، يوسف، موسيٰ، ہارون، زکريا، يحييٰ، عيسيٰ، اورالياس يہ سب کے سب ہمارے نيک اورصالح بندے تھے ہم نے ان کي ہدايت کي۔ اس آيت ميں اللہ نے حضرت عيسيٰ کو گزشتہ انبياء کا فرزند قرار ديا ہے – حالانکہ عيسيٰ بغير باپ کے پيدا ہوئے تھے – اس آيت کی روشنی میں بيٹي کا بيٹا فرزند ہوتا ہے۔ اس دليل سے ميں اپني ماں فاطمہ زہراء کی جانب سے فرزند رسول ہوں۔ اس کے بعد امام فرماتے ہيں کہ اے ہارون! يہ بتا کہ اگر اس وقت پيغمبر اسلام آ جائيں اور تیری بیٹی کا ہاتھ مانگیں تو تو اپني بيٹي پيغمبر کي زوجيت ميں دے گا يا نہيں ؟ ہارون فورا کہتا ہے کہ نہ صرف يہ کہ ميں اپني بيٹي کو پيامبر کي زوجيت ميں دوں گا بلکہ اس پرتمام عرب و عجم پر فخر کروں گا۔ امام فرماتے ہيں کہ تو اس رشتے پر ساری دنیا میں فخر کرے گا ليکن پیغمبر ہماري بيٹي کے بارے ميں يہ سوال نہيں کر سکتے اس لئے کہ ہماري بيٹياں پیغمبر کي بيٹياں ہيں اور باپ پر بيٹي حرام ہے۔ امام کے اس استدلال سے حاکم وقت شرمندہ ہو گیا۔ دشمنان اسلام امام موسی کاظم کے علم اور ان کی خدمات سے بہت خوفزدہ تھے اسی لئے خلیفہ وقت ہارون الرشید نے قید خانہ میں زہر دغا سے شہید کرا دیا۔ آپ کی قبر مبارک کاظمین میں امام جواد علیہ السلام کے برابر میں ہے۔
امام موسی کاظم علیہ السلام صبر استقامت کا ایک اعلی اور خوب صورت پہلو قائیں کی نذر ۔۔۔۔۔۔
اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی یہ عظیم ہستیاں معاشرے میں رونما ہونے والے ہرطرح کے واقعات و حادثات کی گہرائیوں اوران کے مضمرات سے بھی مکمل آگاہی رکھتی تھیں اور یہ لوگ اپنی خاص درایت و تدبیر کے ذریعے واقعات کے تاریک اور پنہاں پہلوؤں کو آشکارا کرتے تھے تا کہ لوگ حق و باطل میں تمیز دے کر صحیح راستے کی طرف گامزن ہوں ۔یہیں پر ہم پیغمبر اعظم حضرت محمّد مصطفیٰ (ص) کے اس قول کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں آپ فرماتے ہیں میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت، فرزند رسول حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تقریبا” 35 سال مسند امامت پر فائز رہے مگر اس میں سے بیشتر حصہ قید و بند میں گزارا یا پھر جلد وطن رہے یہ حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ کے زمانے میں اہل بیت علیہم السلام کے سلسلے میں عباسی حکمرانوں کی سختیاں اور دشمنی کس قدر شدت اختیار کرگئی تھی جس چیز نے فرزند رسول حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو اپنے دور کے حالات کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کیا
وہ مسلمانوں پر حکمفرما فاسد سیاسی اور سماجی نظام تھا ۔عباسی حکمرانوں نے حکومت کو موروثی اور آمرانہ نظام میں تبدیل کردیا تھا ۔ ان کے محل بھی حکمرانوں کے لہو ولعب اور عیش و نوش و شراب و کباب کا مرکز تھےاور ان بے پناہ دولت و ثروت کا خزانہ تھے جو انہوں نے لوٹ رکھے تھے ۔جبکہ مفلس و نادار طبقہ غربت ، فاقہ کشی اور امتیازی سلوک کی سختیاں جھیل رہا تھا ۔اس صورتحال میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام لوگوں کی سیاسی اور سماجی آگہی و بصیرت میں اضافہ فرماتےاور بنی عباس کے حکمرانوں کی روش کو اسلامی تعلیمات کے منافی قراردیتے دوسری طرف ہارون الرشید اس بات ک اجازت نہيں دیتا کہ لوگ امام کے علم و فضل کے بحر بیکران سے فیضیاب ہوں اوروہ اس سلسلے میں لوگوں پر سختیاں کرتا ۔لیکن ہارون الرشید کی ان سختیوں کے جواب میں امام کا ردعمل قابل غور تھا ۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہر مناسب وقت سے فائدہ اٹھا کرخداوند عالم کے حضور نماز و نیایش اور تقرب الہی میں مصروف ہوجاتے ۔آپ پرجتنا بھی ظلم و ستم ہوتا وہ صبر اور نماز سے سہارا لیتے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہرحال میں صبر و شکر ادا کرتے بصرہ کا زندانباں عیسی بن جعفر کہتا ہے ۔ میں نے بہت کوشش کی کہ امام پر ہرلحاظ سے نظر رکھوں یہاں تک کہ چھپ چھپ کران کی دعاؤں اور نیایش کو سنتا تھا مگر وہ فقط درگاہ خداوند سے طلب رحمت و مغفرت کرتے اور وہ اس دعا کی بہت زيادہ تکرار فرماتے ،خدایا تو جانتا ہے کہ میں تیری عبادت کے لئے ایک تنہائي کی جگہ چاہتا تھا اور اب جبکہ تو نے ایک ایسی جگہ میرے لئے مہیا کردی ہے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں ۔
فرزند رسول امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے ایک مقام پر فرماتے ہیں ، عرش الہی پرایک سایہ ہے جہاں ایسے لوگوں کو جگہ ملے گی جنہوں نے اپنے بھائیوں کے حق میں نیکی اور بھلائی کی ہوگی، یا مشکلات میں ان کی مدد کی ہوگی ۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا روز مرہ کا ایک معمول محتاجوں اور ناداروں کی خبر گیری کرنا تھا ۔
اہل بیت علیہم السلام کی نگاہ میں مال و دولت اور مادی وسائل ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے رضائے پروردگار حاصل کی جا سکتی ہے ۔علّامہ شیخ مفید علیہ الرحمہ لکھتے ہیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام رات کی تاریکیوں میں نکل کر شہر مدینہ کے غریبوں ، محتاجوں اور ناداروں کی دلجوئی فرماتے اور ان کے گھروں کو جاکر انہیں اشیاء ، خوراک اور نقد رقومات فراہم کرتے ۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار حضرت امام صادق (ع) کی شہادت کےبعد اپنے دور کے سب سے زیادہ با فضل اورعالم شخصیت تھے امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی کے جواب میں اپنے فرزند امام موسیٰ کاظم کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ میرا بیٹا موسیٰ کاظم (ع) علم و فضل کے اس درجہ کمال پر فائز ہے کہ اگر قرآن کے تمام مطالب و مفاہیم اس سے پوچھو تو وہ اپنے علم و دانش کے ذریعے انتہائی محکم اور مدلّل جواب دے گا ۔ وہ حکمت و فہم و معرفت کاخزانہ ہے ، تاريخ میں منقول ہے تقریبا” 300 افراد نے امام موسیٰ کاظم (ع) سے حدیث نقل کی ہے جن میں سے بعض راویوں کا نام انتہائی درجے کے علما میں لیا جاتا ہے ۔ امام موسیٰ کاظم (ع) کوجس آخری قید خانے میں قید کیا گيا اس کا زندان باں انتہائي سنگدل تھا جس کا نام سنہری بن شاہک تھا ۔ اس زندان میں امام پر بہت زیادہ ظلم و ستم ڈھایا گيا اور بالآخر ہاروں رشید کے حکم پر ایک سازش کے ذریعہ امام کو زہر دے دیا گیا اور تین دن تک سخت رنج و تعب برداشت کرنے کے بعد 55 سال کی عمر میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے ۔
حوالہ جات ۔۔۔۔
طوسی، اختیار معرفه الرجال، ج۲، ص ۵۲۵.
جمعی از نویسندگان، مجموعه مقالات همایش سیره و زمانه امام کاظم، ج۲، ص۴۴۶-۴۵۱.
مجلسی، بحارالانوار، ج۴۸، ص۱۳۴.
کلینی، الكافى، ج۱، ص۳۶۷؛ جمعی از نویسندگان، مجموعه مقالات همایش سیره و زمانه امام کاظم، ج۲، ص۴۷۸۔
ابن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴؛ کلینی، الکافی، ج۴، ص۵۵۳۔
نوبختی، فرق الشیعه، ص۸۴.
صدوق، عیون اخبار الرضا (ع)، ج۱، ص۸۶.
مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۹
مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۴۲.
مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۱۵.
طبری، دلائل الإمامة، 1403ق، ص303.
طبرسی، اعلام الوری، 1417ق، ج2، ص6.
مسعودی، اثبات الوصیة، 1362ش، ص357-356.
بغدادی، تاریخ بغداد، 1417ق، ج13، ص29.
شورای تقویم مؤسسه ژئوفیزیک دانشگاه تهران، تقویم رسمی کشور سال 1398ش هجری شمسی، 1397ش، ص8.
شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، 1423ق، ص295.
امین، سیره معصومان، 1376ش، ج6، ص113.
شیخ مفید، الارشاد، 1413ق، ج2، ص215.
ابناثیر، الکامل، 1385ق، ج6، ص164؛ ابنجوزی، تذکرة الخواص، 1418ق، ص312.
بغدادی 1417 تاریخ بغداد ج13، ص29
مفید 1413ق الارشاد ج2، ص236،227، طبرسی1417اعلام الوری ص ج2، ص6، ابن شہر آشوب 1379ق المناقب ج4، ص323، قمی 1417 الانوار البہیہ ص177
مفید 1413ق الارشاد ج2، ص235
کلینی1407ق ،الکافی ج3، ص297؛ ابن شعبہ حرانی1404 تحف العقول 411-412۔مجلسی1403ق بحار الانوار ج10، ص247
کلینی1407ق ،الکافی ج1، ص227؛ مجلسی1403ق، بحار الانوار ج10، ص244-245
ابن شہر آشوب 1379ق المناقب ج4، ص311-312
ابن شہر آشوب 1379ق، المناقب ج4، ص312-313
محمد تقی شوشتری، رسالہ فی تواریخ النبی و الآل، ص 75.
مفید، الارشاد، ج 2، ص 244.
مفید، الارشاد، ج 2، ص 244
سمعانی،الانساب، ج12، ص478
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
22رجب المرجب ۔
امام جعفرصادق علیہ السلام کی نیاز المعروف کونڈے
استفادہ وہ انتخاب سید اکمل حسین لندن
از بحو الہ اسکالر سیدہ بنت الھدیٰ (مصنفہ تذکرہ مختار)
ماہ رجب کی فضیلت ہر مسلمان پر عیاں ہے، محققین اور علماء نے اس ماہ کی فضیلت کو بیان کرنے والی احادیث اور روایات پر کافی خامہ فرسائی کی ہے۔رجب المرجب کے مہینے کی دو اہم چیزیں دنیائے اسلام میں اب ایک مستقل تقریب کی اہمیت اختیار کر چکی ہیں ۔ان میں سے ایک تیرہ رجب کو مولائے متقیان امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہے اور دوسری بائیس رجب کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز ہےسید ابن طاوس[ اقبال الاعمال، ص ۶۶۷، دار الکتب الاسلامیه، تهران، ۱۳۶۷ ش] اور شیخ طوسی[شیخ مفید، محمد بن ہوسف: مسار الشیعہ، ص59، چاپ کنگرہ شیخ مفید، قم،۱۴۱۳ق] نے ۲۲ رجب کو مومنین کے لیئے مسرت کا دن بتایا ہے۔

22 رجب، نذر و نیاز امام جعفر صادق علیہ السلام، جو کہ کونڈے کے نام سے جانی جاتی ہے، اس نذر کو کونڈے اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ کہ اس دن مٹی کے خاص قسم کے برتنوں (کونڈوں) میں نیاز کے طور پر کھیر یا کوئی اور میٹھی چیز بنا کر مومنین کو کھانے کے لئے پیش کی جاتی ہے۔ درحقیقت کونڈے کی نیاز نذر ہے، لیکن عرف میں کونڈے کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے، اس نیازمیں نذر کرنے والے نے (یا منت مانگنے والے نے) اللہ تعالٰی سے عھد کیا ہوتا ہے کہ اگر میری فلاں حاجت پوری ہوگئی تو میں ہر سال 22 رجب کو مومنین کو طعام دوں گا/گی، یا اللہ تعالٰی سے بغیر کسی حاجت کے یہ عھد کیا ہوتا ہے کہ میں ہر سال 22 رجب کے دن مومنین کو طعام دوں گا اور اس عمل کے ثواب کو امام جعفر صادق علیہ السلام کو ہدیہ کروں گا۔
یہاں تک یہ بات واضح ہوگئی کہ کونڈا درحقیقت نذر ہے، درحقیقت اللہ سے کیا گیا عھد و پیمان ہےمومنین کو طعام دینا، کھانا کھلانا اور ان کی ضیافت کرنا بذات خود ایک مستحسن عمل اور مستحب عمل ہےامام جعفر صادقؑ نے فرمایا:”جو شخص الله تعالٰی کی محبت میں کسی “مومن” بھائی کو کھانا کھلاتا ہے تو اس کے لئے اس شخص کے مساوی ثواب ہے، جو لوگوں میں سے “فیام” کو کھانا کھلائے۔راوی کہتا ہے میں نے پوچھا یہ “فیام” کیا چیز ہے، فرمایا؛ لوگوں میں سے ایک لاکھ افراد۔”(اصول كافى، ج2، باب اطعام مؤمن)
امام جعفر صادقؑ نے ارشاد فرمایا:”میرے نزدیک کوئی چیز مومن کے دیدار اور زیارت کے برابر نہیں ہے۔ سوائے اُس کو کھانا کھلانے کے اور جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلائے تو اس کا حق یہ ہے کہ اللہ اُسے جنت کے کھانوں میں سے کھانا کھلائے۔”(اصولِ کافی، ج2، باب اطعام مؤمن)
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:”جو تین مومنین کو کھانا کھلائے گا تو الله اسے تین بہشتوں جنت فردوس، جنت عدن اور جنت طوبٰی میں کھانا کھلائے گا۔”(اصول كافى، ج2، باب اطعام مؤمن)امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:”کائنات میں الله کے علاوہ، کوئی مخلوق بھی (خواہ مقرب فرشتے ہوں یا نبی مرسل) الله کی کی طرف سے آخرت میں ملنے والے اس ثواب کو نہیں جانتی، جو ایک مسلمان کو سیر کرکے کھانا کھلانے کا ہے۔”(اصول کافی، ج2، باب اطعام مؤمن)
اور دوسری جانب علما اہل سنت و دیگر مذاہب کے افراد کے فتوی میں تحریر ملتا ہے کہ یہ نذر صادق جائز ہے ملاحظہ فرمائیں
سلمان عام طور پر 22 رجب کوبالخصوص حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ایصال ثواب کیلئے ہی کھانے وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں اور قرآن مجید و فاتحہ وغیرہ پڑھواتے ہیں ، جس کو ” کونڈے “ کہاجاتا ہے ۔ یہ شرعاً بالکل جائز ہے ۔صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ کونڈوں کے متعلق فرماتے ہیں:’’اسی طرح ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایصالِ ثواب کے لیے پور یوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں ، یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کررکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے۔ ‘‘(بهار شریعت ،جلد3،حصہ 16،صفحہ643، مکتبۃ المدینہ ،کراچی )
مزید فرماتے ہیں :’’امام جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کونڈے بھرنا اور اس پر فاتحہ وغیرہ پڑھ کر ایصال ثواب کرنا ، جائز ہے ۔اس کی اصل یہی ہے کہ ایصال ثواب جائز ہے ۔حدیث اور فقہ سے اس کا جواز ثابت ہے جب تک کسی خاص صورت میں ممانعت ثابت نہ ہو ۔ اس کو ناجائز بتانا اللہ ورسول اور شریعت پر افترا کرنا ہے ۔‘‘(فتاوی امجدیہ ،جلد1،حصہ 1،صفحہ365،مکتبہ رضویہ ،کراچی )
مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رجب کے کونڈوں کے بارے فرماتے ہیں :’’اس مہینہ کی۲۲تاریخ کو ہندوپاک میں کونڈے ہوتے ہیں یعنی نئے کونڈے منگائے جاتے ہیں اور سوا پاؤ میدہ، سوا پاؤشکر، سوا پاؤگھی کی پوریاں بناکر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کرتے ہیں۔‘‘(اسلامی زندگی ،صفحہ76،مکتبۃ المدینہ ،کراچی )
مزید فرماتے ہیں:’’رجب کے مہینہ میں۲۲تاریخ کو کونڈوں کی رسم بہت اچھی اور برکت والی ہے۔مگر اس میں سے یہ قید نکال دو کہ فاتحہ کی چیز باہر نہ جائے اور لکڑی والے کا قصّہ ضرور پڑھا جائے۔‘‘(اسلامی زندگی ،صفحہ80،مکتبۃ المدینہ ،کراچی )
محض اس بات کی وجہ سے اس ختمِ پاک کو ممنوع قرار نہیں دیا جاسکتا کہ22رجب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کا دن ہے ۔ اس دن حضرت امام جعفر صاد ق رضی اللہ عنہ کا وصال نہیں ہوا ، کیونکہ اولاً تو22 رجب کوحضرت امیر معاویہ کی تاریخ وفات قراردینا کوئی یقینی امر نہیں ہے ، بلکہ یہ آپ کی تاریخ وفات کے بارے منقول اقوال میں سے ایک قول ہے ، کیونکہ مؤرخین کااس بات پر تو اتفاق ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال شریف ساٹھ ہجری میں ہوا ، لیکن تاریخ کیا تھی ؟ اس میں چار اقوال ہیں : (1)یکم رجب المرجب(2)4رجب المرجب(3)15رجب المرجب (4)22رجب المرجب ۔
المحبر،جلد1،صفحہ21پرآپ کی تاریخ وفات یکم رجب،مشاہیر علماء الامصار،جلد1،صفحہ86پر15رجب اورتاریخ خلیفہ بن خیاط، جلد1، صفحہ226 پر 22رجب لکھی ہے جبکہ تاریخ طبری جلد5،صفحہ324پر مذکورہ تینوں اقوال اور البدایہ والنہایہ میں چارا قوال مذکورہیں ۔البدایہ والنہایہ میں ہے :’’لا خلاف أنہ رضی اللہ عنہ، توفی بدمشق فی رجب سنۃ ستین.فقال جماعۃ:لیلۃ الخمیس للنصف من رجب سنۃ ستین. وقیل:لیلۃ الخمیس لثمان بقین من رجب سنۃ ستین.قالہ ابن إسحاق وغیر واحد.وقیل:لأربع خلت من رجب.قالہ اللیث.وقال سعد بن إبراهیم:لمستهل رجب ‘‘ترجمہ:اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رجب 60ہجری میں دمشق میں وصال فرمایا ۔ ایک جماعت کا قول ہے کہ جمعرات کی رات 15رجب 60ہجری کو ،ایک قول یہ ہے کہ جمعرات کی رات 22رجب 60ہجری کو ،یہ ابن اسحاق اوردیگر کا قول ہے ،ایک قول ہے کہ 4رجب کو ،یہ لیث کا قول ہے ، سعد بن ابراہیم نے کہا : یکم رجب کو ۔(البدایہ والنهایہ ،ترجمۃ معاویہ ،جلد11،صفحہ458،دارهجر)
اگر بالفرض 22 رجب ہی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے وصال کا دن ہو ، تب بھی اس وجہ سے اس دن حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ایصال ثواب کرنا ممنو ع نہیں ہوسکتاکہ ایک دن میں کسی بزرگ کا انتقال ہونا ، اس دن کسی دوسرے بزرگ کو ایصال ثواب کرنے کی ممانعت کی وجہ نہیں بن سکتا ۔ اسی طرح اِس دن حضرت امام جعفر کا وصال نہ ہونے سے اس دن آپ کو ایصال ثواب کرنا تو ممنوع نہیں ہوجائے گا کہ ایصال ثواب احادیث سے مطلقا ثابت ہے ۔ جب بھی کیا جائے درست ہے ۔چاہے وہ وصال کا دن ہو یا نہ ہواور یہ بات بالکل واضح ہے۔
مزید یہ کہ کونڈوں کے ختم کو بدمذہبوں کا طریقہ کہہ کرممنوع قراردینا اور اس سے بدمذہبوں سے تشبہ سمجھنا بھی باطل ہے ، کیونکہ کفار و بدمذہبوں سے مشابہت کے ممنوع ہونے کے بارے قاعدہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ وہی تشبہ ممنوع ہے جس میں فاعل کی نیت تشبہ کی ہو یاوہ شے ان بدمذہبوں کا شعارخاص ہو یااس چیز میں فی نفسہ شرعاً کوئی حرج ہو، بغیر ان صورتوں کے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں۔درمختار اور بحرالرائق میں ہے:(والنظم للثانی)’’التشبیہ بأھل الکتاب لا یکرہ فی کل شیء وإنا نأکل ونشرب کما یفعلون إنما الحرام ھو التشبہ فیما کان مذموما وفیما یقصد بہ التشبیہ کذا ذکرہ قاضی خان فی شرح الجامع الصغیر‘‘ترجمہ:ہرچیز میں اہل کتاب سے مشابہت مکروہ نہیں جیسے ہمارے اور ان کے کھانے پینے کے طور طریقے۔ ان سے تشبہ اُن کاموں میں حرام ہے جومذموم یعنی برے ہیں یاجن میں مشابہت کاارادہ کیاجائے،امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر میں ایسے ہی ذکر فرمایا ہے ۔(البحرالرائق ،کتاب الصلوۃ ،باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیها،جلد2،صفحہ11،دارالکتاب الاسلامی )
اس نذر دے پہلے۔گھروں کی صاف صفائی کی جاتی ہے اور اسلام بھی نظافت کا حکم دیتا ہے۔۲۔مہمانوں کو دعوت دینا۔ اسلام کا بھی حکم ہے کہ گھر میں مہمان کو بلایا جائے۔۳۔مومنین اور مسلمین کا آپس میں خوشی سے ملنا۔ اسلام بھی معانقہ، مصافحہ، ادخال السرور فی قلب المومن وغیرہ جیسے حکم دیتا ہے۔۴۔لوگوں کو کھانا کھلانا اور منہ میٹھا کرانا۔ انفاق اور صدقہ اسلامی تعلیمات کے مسلمات میں سے ہے۔۵۔رشتہ داروں اور اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیئے جانا۔ صلہ رحم کرنا اسلامی تعلیمات کا نصب العین ہے ۔نذر کا اہم رکن دعا اور ذکر اہلبیت(علیہم السلام) ہے۔ اللہ (جل جلالہ) سے لو لگانا اور اہلبیت اطھار (علیہم السلام) کو یاد کرنا دستور اسلام ہے۔
ان روایات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مومنین کو طعام دینا اور کھانا کھلانا بدعت نہیں بلکہ ایک بہت ہی اچھا اور بافضیلت عمل ہے۔رجب جیسے عبادتوں کے مہینہ میں ایسے نیک کام انجام دینا مستحبات میں سے ہے، بلکہ اگر کسی نے اللہ سے عہد کیا ہو اور اسکی شرعی نذر ہو کہ اگر فلاں کام ہو گیا تو امام صادق (علیہ السلام) کی
خوشنودی کے لیئے نذر دلائے گا تو نہ صرف مستحب بلکہ یہ ۲۲ رجب کی نذر واجب ہو جائے گی۔
…………………………
کہنے کی باتیں
اکمل سید لندن
ایک سبق آموز قصہ ۔۔۔۔۔۔۔۔مانگے یا ادھار لینے سے پہتر ہے محنت کی جائے
ایک آدمی ہر مہینے ایک بھکاری کو 1000 روپے دیا کرتا تھا۔
یہ سلسلہ پورے ایک سال تک چلتا رہا۔
پھر ایک دن اُس نے بھکاری کو صرف 750 روپے دیے۔
بھکاری کو یہ بات عجیب لگی، مگر اُس نے دل میں کہا، “750 روپے کچھ نہ ہونے سے بہتر ہیں” اور چلا گیا۔
اگلے مہینے اُس آدمی نے بھکاری کو صرف 500 روپے دیے۔
یہ دیکھ کر بھکاری حیران ہوا اور آدمی سے پوچھا:
“آپ مجھے پہلے 1000 روپے دیتے تھے، پھر 750، اور اب 500؟
یہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟”
آدمی نے جواب دیا:”پہلے میرے بچے چھوٹے تھے اور میں خوشحال تھا، اس لیے تمہیں 1000 روپے دیتا تھا۔
پھر میری بیٹی بڑی ہو گئی اور یونیورسٹی میں داخل ہو گئی، اور یونیورسٹی کے اخراجات زیادہ ہیں، اس لیے میں نے تمہیں 750 روپے دینا شروع کیا۔
اب میرا دوسرا بیٹا بھی یونیورسٹی میں داخل ہو گیا ہے، اور اخراجات اور بڑھ گئے ہیں، اس لیے میں نے تمہیں 500 روپے دیے۔”
یہ سن کر بھکاری نے سوال کیا:
“آپ کے کتنے بچے ہیں؟”
آدمی نے کہا: “چار بچے۔”
یہ سن کر بھکاری بولا:
“میں فکر مند ہوں کہ کہیں آپ اپنے سارے بچوں کو میرے خرچ پر ہی نہ پڑھا لیں!”
بعض اوقات ہمارے احسان کو لوگ اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں، نہ کہ ہمارے کرم یا مہربانی۔
الکل۔یہ ذاتی تجربہ ھے ایسا ہی ہوا ہم چند دوستوں نے ملکر چندہ کر کے کچھ گھروں میں راشن پانی بھیجنا شروع کیا بعد میں اتنا چندہ اکٹھا نہیں رہا تو ان لوگوں نے گھروں کے باہر آ کر شور مچانا شروع کر دیا کہ ہمارا حق دو تم لوگ ہمارا راشن کھا جاتے ہو یہ بڑی منافق لوگ ہیں
یہ تو مزاح کی زمرے میں آگئی پوسٹ لیکن حقیقت میں انسان کا عقیدہ و ایمان اتنا مظبوط ہونا چاہئیے کہ پہلے تو صدقہ و خیرات کو “احسان” نہ سمجھا جاۓ ۔۔
دوسرا لالچ انسان کو کہی کا نہیں چھوڑتی بابا جی زیادہ کی لالچ میں کم سے بھی جاۓ گا اور وہ آدمی اپنے اخراجات کے بجاۓ اپنے رزق میں کمی لے آۓ گا۔۔
بھکاریوں پر پیسے دینے پر پابندی عائد کرنی چاہئے ۔ ایک تو یہ مانگنے کیلئے 20،20 بچے پیدا کرتے ہیں۔ دوسرا بھکاریوں کی تعداد بھڑتی جا رہی ہے۔ جاپان ، جرمنی وغیرہ میں کوئی بھکاریوں کو پیسے وغیرہ نہیں دیتے، قابل بچوں کو تعلیم کیلئے فنڈ دیتے ہیں۔ اور لوگ اپنے بچوں کیلئے محنت کرتے ہیں دوسروں کے بچوں کیلئے نہیں۔
یہ حقیقت میں ایک گہرا سبق دیتی ہے کہ احسان کی قدر کرنے کے بجائے، لوگ اسے اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر احسان ایک مہربانی ہے، نہ کہ کوئی فرض۔ اگر ہم کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو ہمیں توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ ہمیشہ جاری رہے گی، اور اگر ہمیں کوئی احسان کرے تو ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے، چاہے وہ کم ہو یا زیادہ۔
یہ کہانی خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ایک سبق ہے جو دوسروں کے تعاون کو ہمیشہ کے لیے اپنا حق سمجھ بیٹھتے ہیں۔ احسان کرنے والے کو بھی سوچنا چاہیے کہ ضرورت سے زیادہ دینے سے بعض اوقات لوگ ناشکرے بن سکتے ہیں۔
جن لوگوں کو زکوٰۃ دیتے ہیں وہ رمضان میں ہر سال خود آکر گھر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں اور زکوٰۃ کو اپنا حق سمجھتے ہیں اسلئے اپنے مسلم خاندان اور رشتے داروں میں ہی زکوٰۃ تقسیم کریں جس سے دوہرا اجر ملتا ہے ـ
………………………..
باپ کی زینت اور اہل بیت سلام اللہ علیہا بموقع شہادت
انتخاب : اکمل سید لندن
پندرہ رجب کے دن کا سورج اہل بیت علیھم السلام اور ان کے چاہنے والوں کے لیے غم وحزن اور درد ناک یادوں کے ہمراہ طلوع ہوتا ہے یہ وہ دن ہے جس میں ثانی زہراء حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہا۔ روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کا ادارہ امام زمانہ(عج)، مرجع عظام، علماء کرام اور تمام محبان اہل بیت کو حضرت زینب(ع) کی شہادت پہ پرسہ پیش کرتا ہے۔
اس مناسبت کے حوالے سے حضرت زینب(ع) کی زندگی کے چند پہلوؤں کا ذکر کرتے ہیں:
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی ولادت با سعادت:- اہل بیت نبوی سے مربوط ہمارے حقیقی اسلام کی تاریخ میں بہت سی ایسی عظیم خواتین کا ذکر ملتا ہے کہ جنہوں نے اسلامی تاریخ کے صفحات پر اپنے سیرت و کردار کی بلندی اور کارناموں کی رفعتوں کوثبت کیا ہے، اھل بیت اطہار کی وہ خواتین جو زہد و تقوی ،قربانی و فدا کاری اور صبر وشجاعت میں اعلی ترین مراتب پر فائز ہیں ان میں نمایاں ترین نام دختر بتول حضرت زینب بنت علی ابن ابی طالب علیھما السلام کا ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا پانچ جمادی الاول سن پانچ ہجری یا چھ ہجری کو اس دنیا میں تشریف لائیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ کی ولادت با سعادت شعبان چھ ہجری کے ابتدائی دنوں میں ہوئی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کےوالد گرامی امیرالمومنین اورسیدالوصیین ہیں اور آپ کی والدہ ماجدہ سیدةالنساءالعالمین اور بضعة الرسول ہیں آپ کو ایسے عظیم والدین کی اولاد ہونے کا شرف حاصل ہے کہ جن کی مثل پوری کائنات میں کوئی نہیں ہو سکتا۔
جب حضرت زینب سلام اللہ علیھا اس دنیا میں تشریف لائیں تو حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا انھیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پاس لے کر آئیں اور ان سے فرمایا: آپ اس مولود کا نام رکھیں، تو حضرت علی(ع) نے فرمایا: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پہلے اس کا نام نہیں رکھ سکتا، اور پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا: میں اللہ تعالی سے پہلے اس مولود کا نام نہیں رکھ سکتا، پھر اس کے بعد حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور نبی کریم(ص) پر سلام بھیجنے کے بعد فرمایا: اس مولود کا نام زینب رکھو، اللہ نے اس مولود کے لیے یہی نام منتخب کیا ہے۔

پھر اس کے بعد جبرائیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ان مصائب کے بارے میں بتایا کہ جو حضرت زینب سلام اللہ علیھا پر ڈھائے جائیں گے، ان مصائب کو سن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے گریہ کیا اور فرمایا: جو بھی اس بچی کے مصائب پر گریہ کرے گا اس کا اجر وہی ہے جو اس کے بھائی حسن(ع) اور حسین(ع) پر رونے کا ہے۔
کریم و سخی گھرانہ:- جب حضرت زینب بڑی ہوئیں تو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے ان کی شادی اپنے بھتیجے عبداللہ بن جعفر طیار کے ساتھ کر دی اور اُن کا حق مہر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے حق مہر کی طرح چار سو اسی درہم قرار دیا، حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے حق مہر کی رقم اپنے ذاتی مال سے جناب عبد اللہ بن جعفر طیار کو ہبہ کی۔
جناب عبد اللہ ان لوگوں میں شامل ہیں کہ جنہیں تاریخ سخاوت، اعلی نسب اور بلند ایمان کے حوالے سے جانتی ہے اور بہت زیادہ سخاوت کی وجہ سے لوگ آپ کو بحر الجود کے لقب سے یاد کرتے تھے۔
جناب عبد اللہ وہ پہلے مسلمان ہیں کہ جو حبشہ میں پیدا ہوئے، حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے حجام کو بلایا اور جناب جعفر طیار کے بیٹوں کے بال ترشوائے اور فرمایا: محمد ہمارے چچا ابوطالب(ع) کی طرح ہے اور عبد اللہ صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہے، پھر اس کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے جناب عبد اللہ کا ہاتھ تھام کر فرمایا: اے اللہ جعفر کے گھر والوں کی نگہبانی فرما اور عبد اللہ کے ہاتھ میں برکت ڈال۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے یہ دعا تین مرتبہ دھرائی۔
اس کے بعد جناب اسماء آئیں اور اپنے شوہر جعفر کو یاد کرنے لگیں، تو اس وقت رسول خدا(ص) نے فرمایا: خدا تعالی تمہیں اس عائلہ کی دیکھ بھال پر اجر عطا کرے گا اور دنیا و آخرت میں ان سب کا ولی و سرپرست میں ہوں۔ تاریخ ذہبی ج3ص356۔
روایات کے مطابق حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی اولاد درج ذیل ہے:
جناب علی، جناب عون، جناب عباس، جناب ام کلثوم
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے بیٹے جناب علی کو تاریخ میں زینبی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے خدا نے انھیں کثیر اولاد عطا کی اور ان کی نسل اب تک باقی ہے۔ جناب عون کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام اور اسلام کی نصرت کرتے ہوئے شہید ہوئے اور امام حسین علیہ السلام کی قبر اقدس کے ساتھ گنج شہداء میں دفن ہوئے۔
حضرت زینب(ع) کی فضیلت:- حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے ایسے پاک و طاہر گھر میں پرورش پائی کہ جس میں ذکرِ خدا اپنے عروج و معراج کی منزلوں کو چھوتا اور صالح اعمال اپنی ادائیگی کے حق کو پاتے، جس میں حضرت علی علیہ السلام کے علم وحکمت کی سر پرستی ہوتی، جہاں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کے لطف وکرم کا سایہ رہتا، جہاں جوانانِ جنت کے سرداروں کی ہر وقت مجلس نصیب ہوتی…… ایسےعظیم گھر میں تربیت و پرورش پانے والی شخصیت کا حق یہی کہ وہ ہر کمال کے اعلی ترین مراتب پر فائز ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا میں وہ تمام اعلی صفاتِ کمال اور فضائل پائے جاتے تھے کہ جن کی نظیر کسی بھی خاتون میں ملنا ناممکن ہے، انہی فضائل و مناقب کی وجہ سے آپ کو صدیقۃالصغری، عقیلہ بنی ہاشم، موثقہ، عارفہ، کاملہ، عابدہ آل علی اور بہت سے دوسرے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام جناب زینب سلام اللہ علیھا سے فرماتے ہیں: (انت بحمد اللہ عالمة غیر معلمة و فاھمة غیر مفھمة)سفینة البحار ج4ص315
ترجمہ: الحمد اللہ آپ ایسی عالمہ ہیں کہ جس کو کسی نے تعلیم نہیں دی اور ایسی فہم وفراست رکھتی ہیں کہ جسے آپ نے کسی سے نہیں سیکھا۔
کتاب کمال الدین/ صفحہ 501/ باب 45/حدیث 27/اور کتاب طبقات الکبری /ج1/ص368/ میں مذکور ہے: حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی بیماری کے زمانہ میں حضرت زینب سلام اللہ علیھا ہی امام حسین علیہ السلام کی خاص نائب تھیں اور لوگ شریعت کے مسائل میں حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی طرف ہی رجوع کرتے تھے۔
حضرت زینب(ع) کا حضرت امام حسین(ع) سے تعلق:- حضرت زینب سلام اللہ علیھا کا حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بھائی ہونے کے حوالے سے تعلق اور امام وقت ہونے کے حوالے سے تعلق بہت سے نادر اور انمول پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ بھائی بہن کا جوعظیم تعلق امام حسین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے درمیان موجود تھا نہ تو ایسا تعلق تاریخ میں پہلے کسی بہن بھائی میں تھا اور نہ ہی قیامت تک کسی بہن بھائی میں ہو گا، اور ایسا کیوں نہ ہو دونوں نے ایک ہی آغوش میں پرورش پائی اور دونوں ایک ہی شجر کی دو شاخیں ہیں۔
روایت میں ہے حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے اس دنیا میں آنے کے بعد ایک دن حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا اپنے بابا رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس گئیں اور ان سے فرمایا: اے میرے بابا! میں زینب(ع) میں ایک عجیب چیز کا ملاحظہ کرتی ہوں۔ تو رسول خدا(ص) نے فرمایا وہ کیا ہے؟ تو حضرت فاطمہ زہراء(ع) نے فرمایا: جب تک حسین(ع) گھر نہیں آ جاتا زینب روتی رہتی ہے اور جب حسین(ع) گھر میں آ جائے تو زینب(ع) اپنے بھائی حسین(ع) کی طرف رخ کر لیتی ہے اور دیر تک اپنے بھائی کو دیکھتی رہتی ہے۔ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بات سنی تو انہوں نے رونا شروع کر دیا اور فرمایا: مجھے جبرائیل نے ان مصائب کے بارے میں بتایا ہے کہ جو حسین(ع) اور زینب(ع) پر ڈھائے جائیں گے۔
حضرت زینب کی اپنے چچا کے بیٹے عبد اللہ بن جعفر طیار سے شادی کے بعد ایک دن امام حسین علیہ السلام کا دل اپنی بہن کو ملنے کے لیے بہت بے قرار ہوا، امام حسین علیہ السلام جب اپنی بہن کو ملنے کے لیے ان کے گھر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا اپنے گھر کے صحن میں سو رہی ہیں اور دھوپ ان پر پڑ رہی، جب امام حسین علیہ السلام نے یہ منظر دیکھا تو وہ خود اپنی بہن کے پاس ان پر سایہ کر کے کھڑے ہو گئے، جب حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی آنکھ کھلی تو اپنے بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر فرمایا: اے میرے بھائی! اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک کیا آپ خود مجھ پر سایہ کر کے کھڑے رہے….. یہ واقعہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے ذہن میں نقش ہو گیا اور جب عاشور کا دن آیا اور امام حسین علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا تو حضرت زینب سلام اللہ علیھا اپنے بھائی کے لاشہ کو دھوپ سے بچانے کے لیے……
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام سے محبت فقط بھائی ہونے کے ناطے نہ تھی بلکہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا کو امام حسین علیہ السلام کی حقیقی معرفت حاصل تھی حضرت زینب سلام اللہ علیھا جانتی تھیں کہ امام حسین(ع) اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، امام حسین(ع) ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے اور آپ(ص) کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں، حضرت زینب جانتی تھیں کہ آیت مباہلہ، آیت مودت، آیت تطہیر، سورہ (ھل اتی) اور بہت سی دوسری آیات اور سورتیں امام حسین(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔
روایت میں ہے کہ ایک دن امام حسین علیہ السلام قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے کہ اسی اثنا میں حضرت زینب سلام اللہ علیھا تشریف لے آئیں، امام حسین(ع) نے جونہی اپنی بہن کو دیکھا تو ہاتھوں میں قرآن کو لیے ہوئے اپنی بہن کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔
اس روایت کو پڑھنے کے بعد اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا: جس عظیم ہستی کے احترام میں قرآن ناطق اور قرآن صامت دونوں ہی کھڑے ہوجائیں اس ہستی کا نام زینب بنت علی(ع) ہے۔
امام حسین علیہ السلام اورحضرت زینب سلام اللہ علیھا کے درمیان موجود بھائی و بہن اور امام وقت و ماموم کے تعلق کی نظیر پوری کائنات میں نہیں مل سکتی اور حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے اسلام کی حفاظت اور سر بلندی کے لیے جس طرح سے صبر و استقلال اور بہادری کا مظاہرہ کربلا اور اس کے بعد رونما ہونے والے ہولناک واقعات میں کیا وہ ہر مسلمان اور حریت پسند کے لیے اعلی ترین نمونہ عمل ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے کربلا، کوفہ و شام اور مدینہ میں جن مصائب کا مکمل ثابت قدمی اور شجاعت سے سامنا کیا ان مصائب کا سامنا کرنے سے پہاڑ ریزوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور سمندر قطروں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں….
ہمارا سلام ہے اس عظیم زینب بنت علی پر کہ جو اسلام کی حفاظت و بقا کے لیے قربانیاں دینے سے ذرا برابر بھی نہ گھبرائی اور اپنے بھائی کا بے سر لاشہ ہاتھوں میں لے کر آسمان کی طرف منہ کر کے فرماتی ہے اللھم تقبل منا ھذا القربان اے اللہ ہماری اس قربانی کو قبول فرما۔
حضرت زینب(ع) کا زہد وتقوی اور علم و عبادت:- حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے زہد و تقوی اور عبادت کے بارے میں تاریخ یوں بیان کرتی ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے کائنات کے مشکل ترین دنوں اور کربلا و شام جیسے مصائب میں بھی کبھی اپنی نماز تہجد کو بھی قضا نہیں کیا تھا۔ فاضل قائنیی لکھتے ہیں: حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں کہ شام جاتے ہوئے میری پھوپھی زینب(ع) نے راستے کے تمام تر مصائب کے باوجود اپنی نماز تہجد تک قضا نہ کی، ایک دن میں نے دیکھا کہ میری پھوپھی بیٹھ کر نماز پڑھ رہی ہیں تو میں نے ان سے یوں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں
بھوک اور کمزوری کی شدت کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہی ہوں….. اس کی وجہ یہ تھی کہ اسیران کربلا کو ظالم جو کھانا دیتے تھے وہ انتہائی کم ہوتا تھا جس کی وجہ سے بی بی اپنا کھانا بھی بچوں میں تقسیم کر دیتی تھیں۔
فاضل لکھتے ہیں: جب امام حسین علیہ السلام شہادت سے پہلے اپنی بہن کو آخری مرتبہ ملنے آئے تو انہوں نے حضرت زینب سلام اللہ علیھا سے فرمایا: میری بہن مجھے نماز شب میں نہ بھولنا۔
فاطمہ بنت حسین(ع) فرماتی ہیں: میری پھوپھی اس(دسویں محرم کی) رات محراب عبادت میں کھڑی عبادت کرتی رہیں اور اپنے پروردگار سے دعا میں مشغول رہیں اور ساری رات نہ تو ہمارے آنسو رکے اور نہ ہی ہماری سسکیاں رکیں۔ کتاب زینب الکبری للنقدی ص81۔
روایات میں مذکور ہے کہ جب حضرت زینب سلام اللہ علیھا اپنے بابا کے ساتھ کوفہ میں رہتی تھیں تو اس وقت وہ اپنے گھر میں عورتوں کو قرآن کی تفسیر پڑھاتی تھیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا سے بہت سی احادیث اور روایات مروی ہیں کہ جو تاریخ و حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے پردہ کا یہ عالم تھا کہ یحیی مازنی کہتا ہے کہ میں مدینہ میں حضرت امیرالمومنین(ع) کے پڑوس میں رہتا تھا لیکن خدا کی قسم! نہ تو میں نے کبھی حضرت زینب(ع) کو دیکھا اور نہ ہی کبھی ان کی آواز سنی۔
جب حضرت زینب(ع) اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی قبر کی زیارت کے لیے جاتیں تو رات کے وقت زیارت کے لیے گھر سے نکلتیں اور ان کے دائیں طرف حضرت امام حسن(ع) ہوتے اور بائیں طرف حضرت امام حسین(ع) ہوتے اور ان کے آگے آگے حضرت امیرالمومنین(ع) خود چلتے اور جب وہ قبر کے قریب پہنچتے تو حضرت امیرالمومنین(ع) آگے بڑھ کر چراغ کو بجھا دیتے ایک دفعہ امام حسن(ع) نے اپنے بابا سے چراغ بجھانے کا سبب دریافت کیا تو امام(ع) نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ کسی کی نظر تمہاری بہن زینب پر پڑے۔
حضرت زینب(ع) کے مصائب:- حضرت زینب سلام اللہ علیھا کو ایسے المناک اور پر درد مصائب کا سامنا کرنا پڑا کہ جس سے کم سن بچے کے بھی بال سفید ہو جاتے ہیں، ملکہ کائنات کی اس عظیم بیٹی نے اپنے تمام عزیزوں کو یکے بعد دیگرے شہید ہوتا ہوا دیکھا، رسول خدا(ص) کی شہادت کے بعد اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کی شہادت اور ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھا، پھر اپنے بابا حضرت امیرالمومنین(ع) کے سر پہ لگنے والی ضربت اور شہادت کا دکھ برداشت کرنا پڑا اور اس کے کچھ عرصے بعد اپنے مسموم بھائی امام حسن(ع) کی شہادت اور ان کے جنازے پر لگنے والے تیروں کو دیکھا اور پھر کربلا کے میدان میں اہل بیت رسول(ص) پر ہونے والے کائنات کے سب سے بڑے مظالم کی گواہ بنیں اور رسول(ص) کی نواسی ہونے کے جرم میں قید و بند کی مصیبتوں کو برداشت کیا…..
لیکن ان تمام مصائب کے باوجود اپنے موقف پہ ایسے ثابت قدم رہیں کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہلتے ہیں تو ہل جائیں لیکن رسول کی نواسی کی ثابت قدمی میں ذرا برابر فرق نہ آیا، اپنی گفتار اور سیرت میں ایسی شجاعت اور دلیری سے کام لیا کہ لوگوں کو حضرت علی بن ابی طالب کی شجاعت یاد آ گئی، صبر، حلم اور دانائی میں اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ
علیھا کی شبیہ بن کر تاریخ کے صفحات پر ظاہر ہوئیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے اپنے وقت کے سب سے بڑے آمروں اور فرعونوں کے سامنے یوں گفتگو کی کہ آج بھی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اپنے تمام عزیزوں کی شہادت اور اتنی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد بھی ایک خاتون کس طرح سے ایسے عظیم خطبے دے سکتی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے اپنی قوتِ گفتار کے ذریعے کوفہ و شام میں ہر بولنے والے کو خاموش کروا دیا اور اپنے خطبوں کے ذریعے امام حسین علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت اور اہل بیت رسول(ص) کی عظمت کو دنیا تک پہنچایا اور یزید اور اس کی طرح کے موجودہ اور سابقہ ظالم حکمرانوں کی منافقت اور اسلام دشمنی کا پول دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ یہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے کوفہ و شام میں دیے گئے خطبے ہی تھے کہ جنہوں نے یزیدی حکومت کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا اور یزید ملعون جیسا دشمن اسیران کربلا کو واپس مدینہ بھیجنے پر مجبور ہو گیا۔
امام حسین علیہ السلام کی المناک شہادت کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی آنکھوں
سے نہ تو کبھی آنسوؤں کا بہنا رکا اور نہ ہی ان کے گریہ میں کوئی کمی آئی اور نہ کربلا اور کوفہ و شام میں لگنے والے دل کے زخم محو ہوئے۔
روایت میں ہے کہ جب حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے مدینہ سے شام کا سفر کیا تو راستے میں اس درخت کے پاس سے گزریں کہ جس پر ظالموں نے اسیران کربلا کا قافلہ لاتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کا سر اقدس لٹکایا تھا اس درخت کا دیکھنا تھا کہ وہ تمام مصائب پھر سے آنکھوں کے سامنے آ گئے کہ جن کو حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے دیکھا تھا اور کربلا کے دیے ہوئے تمام زخم دوبارہ ہرے ہو گئے
اور دمشق کے قریب 15رجب 66ہجری کو اس دنیا سے رخصت ہو گئیں
مگر بعض روایات ملتا ہے حضرت زینب عقلیہ بنی ہاشم بنت علی سلام اللہ علیہا کو بیلچہ سے پشت سے کر کے شہید کیا گیا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
سخنان طلایی بہ مناسبت آمدن بہ کعبہ
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام
کسے را میسرنہ ایں شد سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت ۔۔۔۔۔۔۔
دوسری قسط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انتخاب اکمل سید
اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ,تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا .اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا اس لیے کہ یسخنان طلایی بہ مناسبت آمدن بہ کعبہ
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام
کسے را میسرنہ ایں شد سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت ۔۔۔۔۔۔۔
انتخاب اکمل سید
اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ,تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا .اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا اس لیے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
اے علی علیہ السّلام ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا.
وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے جو تمہیں خود پسند بنا دے.
انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جتنی مروت اور جوانمردی ہوگی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ,اور جتنی حمیت و خودداری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جتنی غیرت ہوگی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی .
کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے اور دور اندیشی فکر و تدبر کو کام میں لانے سے اور تدبر بھیدوں کو چھپاکر رکھنے سے .
بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے کے حملہ سے ڈرتے رہو .
لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں ,جو کہ ان کو سدھائے گا ,اس کی طرف جھکیں گے .
جب تک تمہارے نصیب یاور ہیں تمہارے عیب ڈھکے ہوئے ہیں.
معاف کر نا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزادینے پر قادر ہو.
سخاوت وہ ہے جو بن مانگے ہو ,اور مانگے سے دینا یا شرم ہے یا بدگوئی سے بچنا .
عقل سے بڑھ کر کوئی ثروت نہیں اور جہالت سے بڑھ کر کوئی بے مائیگی نہیں .ادب سے بڑھ کر کوئی میراث نہیں اور مشورہ سے زیادہ کوئی چیز معین و مددگار نہیں .
صبر دو طرح کا ہوتاہے ایک ناگوار باتوں پر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر.
دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس
قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا.
مال نفسانی خواہشوں کا سر چشمہ ہے .
جو (برے اعمال سے )خوف دلائے وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے
زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے .
عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے .
جب تم پرسلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقہ سے جواب دو .اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ چڑھ کر بدلہ دو ,اگرچہ اس صورت میں بھی فضیلت پہل کرنے والے ہی کی ہوگی .
سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پرد بال ہوتا ہے .
دنیا والے ایسے سواروں کے مانند ہیں جو سو رہے ہیں اور سفر جاری ہے .
دوستوں کو کھو دینا غریب الوطنی ہے .
مطلب کا ہاتھ سے چلا جانا اہل کے آگے ہاتھ پھیلانے سے آسان ہے .
نااہل کے سامنے حاجت پیش کرنے سے جو شرمندگی حاصل ہوتی ہے وہ محرومی کے اندوہ سے کہیں زیادہ روحانی اذیت کا باعث ہوتی ہے .اس لیے کے مقصد سے محرومی کو برداشت کیا جاسکتا ہے .مگر ایک دنی و فر و مایہ کی زیر باری ناقابل برداشت ہوتی ہے .چنانچہ ہر باحمیت انسان نا اہل کے ممنون احسان ہونے سے اپنی حرمان نصیبی کو ترجیح دے گا ,اور کسی پست و دنی کے آگے دست سوال دراز کرنا گوارا نہ کرے گا .
تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں کیونکہ خالی ہاتھ پھیرنا تو اس سے بھی گری ہوئی بات ہے .
فت فقر کا زیور ہے اور شکر دولت مندی کی زینت ہے .
اگر حسب منشا تمہارا کام نہ بن سکے تو پھر جس حالت میں ہو مگن رہو .
جاہل کو نہ پاؤ گے مگر یا حد سے آگے بڑھا ہو ,اور یا اس سے بہت پیچھے .
جب عقل بڑھتی ہے ,تو باتیں کم ہو جاتی ہیں .
زمانہ جسموں کو کہنہ و بوسیدہ اور آرزوؤں کو دور کرتا ہے .جو زمانہ سے کچھ پا لیتا ہے .وہ بھی رنج سہتا ہے اور جو کھو دیتا ہے وہ تو دکھ جھیلتا ہی ہے .
جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے اور زبان سے درس اخلا ق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے .اورجو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کرلے ,وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے .
انسان کی ہر سانس ایک قدم ہے جو اسے موت کی طرف بڑھائے لیے جارہا ہے.
جوچیز شمار میں آئے اسے ختم ہونا چاہیے اور جسے آنا چاہیے ,وہ آکر رہے گا .
جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے توآغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے .
جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا ,تو انہوں نے کہاکہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی .تو
آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اورغم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے .
اے دنیا ! اے دنیا دور ہو مجھ سے .کیامیرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے .تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے)بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے ,جاکسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے .میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں .تیری زندگی تھوڑی , تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے افسوس زادِ راہ تھوڑا , راستہ طویل سفر دور دراز اور منزل سخت ہے .
ایک شخص نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ہمارا اہل شام سے لڑنے کے لیے جانا قضا و قدر سے تھا؟ تو آپ نے ایک طویل جواب دیا .جس کا ایک منتخب حصہ یہ ہے .
خدا تم پر رحم کرے شاید تم نے حتمی و لازمی قضاء و قدر سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں )اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ ثواب کا کوئی سوال پیدا ہوتا نہ عذاب کا نہ وعدے کے کچھ معنی رہتے نہ وعید کے .خدا وند عالم نے تو بندوں کو خود مختار بناکر مامو ر کیا ہے اور (عذاب سے )ڈراتے ہوئے نہی کی ہے۔ اُس نے سہل و آسان تکلیف دی ہے اور دشواریوں سے بچائے رکھا ہے وہ تھوڑے کئے پر زیادہ اجر دیتا ہے .ا س کی نافرمانی اس
لیے نہیں ہوتی کہ وہ دب گیا ہے اور نہ اس کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے اس نے پیغمبروں کو بطور تفریح نہیں بھیجا اور بندوں کے لیے کتابیں بے فائدہ نہیں اتاری ہیں اور نہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو بیکار پیدا کیا ہے .یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے .جنہوں نے کفر اختیار کیا آتش جہنم کے عذاب سے
حکمت کی بات جہاں کہیں ہو ,اسے حاصل کرو ,کیونکہ حکمت منافق کے سینہ میں بھی ہوتی ہے .لیکن جب تک اس (کی زبان)سے نکل کر مومن کے سینہ میں پہنچ کر دوسر ی حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی تڑپتی رہتی ہے
حکمت مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے اسے حاصل کرو ,اگرچہ منافق سے لینا پڑے
ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے ,جو اس شخص میں ہے
تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے. کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنگاؤں تو وہ اسی قابل ہوں گی .تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خو ف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے و ہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں ,اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے.اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے ,یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں .
ایک شخص نے آپ کی بہت زیادہ تعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عقیدت و ارادت نہ رکھتا تھا ,تو آپ نے فرمایا جو تمہاری زبان ہر ہے میں اس سے کم ہوں اور جو تمہارے دل میں ہے اس سے زیادہ ہوں.
تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے .
بوڑھے کی رائے مجھے جوان کی ہمت سے زیادہ پسند ہے (ایک روایت میں یوں ہے کہ بوڑھے کی رائے مجھے جوان کے خطرہ میں ڈٹے رہنے سے زیادہ پسند ہے )
اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جو توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے
ابو جعفر محمد ابن علی الباقر علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا .
جس نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا ,تو اللہ اس کے اور لوگوں کے معاملات سلجھائے رکھے گا اور جس نے اپنی آخرت کو سنوار لیا .تو خدا اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور جو خود اپنے کو وعظ و پند کرلے ,تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی.
پورا عالم و دانا وہ ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایو س او ر اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے ,اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے .
یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں۔لہٰذا (جب ایسا ہوتو)ان کے لیے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔
وہ علم بہت بے قدروقیمت ہے جو زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو.
آپ سے دریافت کیا گیا کہ نیکی کیاچیز ہے توآپ نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تمہارے مال و اولاد میں فراوانی ہوجائے۔بلکہ خوبی یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ اور حلم بڑا ہو، اور تم اپنے پروردگار کی عباد ت پر ناز کرسکو اب اگر اچھا کام کرو۔تو اللہ کا شکر بجالاؤ، اور اگر کسی برائی کا ارتکاب کرو۔تو توبہ و استغفار کرو، اور دنیا میں صرف دو شخصوں کے لیے بھلائی ہے۔ایک و ہ جو گناہ کرے تو توبہ سے سے اس کی تلافی کرے اور دوسرا وہ جو نیک کام میں تیز گام ہو.
جو عمل تقوی ٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جاسکتا، اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑ اکیونکر ہوسکتا ہے ؟
انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کازیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی)ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔(پھرفرمایا)حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔
ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نماز شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے توآپ نے فرمایا یقین کی حالت میں سونا شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو,صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔
»«
کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبرو آپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی، تو فرمایا۔اے اللہ! تومجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، اور ان لوگوں سے زیادہ اپنے نفس کومیں پہچانتا ہوں۔اے خدا جو ان لوگوں کاخیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور انکو بخش دے جن کا انہیں علم نہیں.
حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر پائدار نہیں ہوتی۔اسے چھوٹا سمجھاجائے تاکہ وہ بڑی قرار پائے اسے چھپایا جائے تاکہ وہ خود بخود ظاہر ہو، اور اس میں جلدی کی جائے تاکہ وہ خوش گوار ہوں۔
لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں وہی بارگاہوں میں مقرب ہوگا جو لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا ہو, اور وہی خوش مذاق سمجھا جائے گا, جو فاسق و فاجر ہو اور انصا ف پسند کو کمزور و ناتواں سمجھا جائے گا صدقہ کو لوگ خسارہ اور صلہ رحمی کو احسان سمجھیں گے اور عبادت لوگوں پر تفو ق جتلانے کے لیے ہوگی۔ایسے زمانہ میں حکومت کا دارومدار عورتوں کے مشورے، نو خیز لڑکوں کی کار فرمائی اور خواجہ سراؤں کی تدبیر و رائے پر ہوگا.
آپ کے جسم پر ایک بوسیدہ اور پیوند دار جامہ دیکھا گیا تو آپ سے اس کے بارے میں کہاگیا، آپ نے فرمایا !اس سے دل متواضع اور نفس رام ہوتا ہے اور مومن اس کی تاسی کرتے ہیں۔دنیا اورآخرت آپس میں دو ناساز گار دشمن اور دو جدا جدا راستے ہیں۔چنانچہ جو دنیا کو چاہے گا اور اس سے دل لگائے گا۔وہ دونوں بمنزلہ مشرق و مغرب کے ہیں اور ان دونوں سمتوں کے درمیان چلنے والا جب بھی ایک سے قریب ہوگا تو دوسرے سے دور ہونا پڑے گا۔پھر ان دونوں کا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا دو سوتوں کاہوتا ہے۔
نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھاکہ وہ فرش خواب سے اٹھے ایک نظر ستاروں پر ڈالی اور پھر فرمایا اے نوف !سوتے ہو یا جاگ رہے ہو ؟میں نے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السّلام جاگ رہا ہوں۔فرمایا ! اے نوف!
خوشانصیب ان کے کہ جنہوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا، اور ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ رہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو فرش، مٹی کو بستر اور پانی کو شربت خوش گوار قرار دیا۔قرآن کو سینے سے لگایا اور دعا کو سپر بنایا. پھر حضرت مسیح کی طرح دامن جھاڑ کر دنیا سے الگ ہوگئے.
اے نوف ! داؤد علیہ السلام رات کے ایسے ہی حصہ میں اٹھے اور فرمایا کہ یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں بندہ جو بھی دعا مانگے مستجاب ہوگی سوا اس شخص کے جو سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا، یا لوگوں کی برائیاں کرنے والا، یا ( کسی ظالم حکومت کی) پولیس میں ہو یا سارنگی یا ڈھول تاشہ بجانے والا ہو.
اللہ نے چند فرائض تم پرعائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔اورتمہارے حدود کار مقرر کر دیئے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو.اس نے چند چیز وں سے تمہیں منع کیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ کرو، اور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا، انہیں بھولے سے نہیں چھوڑ دیا.لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو.
جو لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھالیتے ہیں تو خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کردیتا ہے۔
اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں کردیاگیا ہے اور وہ دل ہے جس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں اور اس کے برخلاف بھی صفتیں پائی جاتی ہیں اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر تی ہے اور اگر طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ وبرباد کردیتی ہے۔اگر ناامیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں اور اگر غضب اس پر طاری ہوتا ہے تو غم و غصہ شدت اختیار کرلیتا ہے اور اگر خوش و خوشنود ہوتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتاہے اور اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتاہے تو فکر و اندیشہ دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے۔اگر امن امان کا دور دورہ ہوتا ہے تو غفلت اس پر قبضہ کرلیتی ہے اور اگر مال دولتمند ی اسے سرکش بنادیتی ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قرار ی اسے رسوا کر دیتی ہے۔اور اگر فقر و فاقہ کی تکلیف میں مبتلا ہو۔تو مصیبت و ابتلاء اسے جکڑلیتی ہے اور اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے۔ ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی اور اگر شکم پری بڑھ جاتی ہے تو یہ شکم پری اس کے لیے کرب و اذیت کا باعث ہوتی ہے کوتاہی اس کے لیے نقصان رساں اور حد سے زیادتی اس کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔
ہم (اہلبیت )ہی وہ نقطہ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آکر ملنا ہے اور آگے بڑھ جانے والے کو اس کی طرف پلٹ کر آنا ہے۔
حکم خدا کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جو (حق معاملہ میں) نرمی نہ برتے عجز و کمزوری کا اظہار نہ کرے اور حرص و طمع کے پیچھے نہ لگ جائے۔
ہل ابن حنیف انصار ی حضرت کو سب لوگو ں میں زیادہ عزیز تھے یہ جب آپ کے ہمراہ صفین سے پلٹ کر کوفہ پہنچے تو انتقال فرماگئے جس پر حضرت نے فرمایا.
اگر پہاڑبھی مجھے دوست رکھے گا تووہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔
جو ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہناچاہیے۔
عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی وشرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں
جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سؤِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا واہل دنیا پر شر و فساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنے کو ) خطرے میں ڈالا.
امیر المومنین علیہ السلام سےسوال کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے ؟ تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ ا س کا حال کیا ہوگا جسے زندگی موت کی طرف لیے جارہی ہو، اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے۔
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے ہیں اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔
میرے بارے میں دو قسم کے لوگ تباہ و برباد ہوئے۔ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جو عداوت رکھے۔
موقع کو ہاتھ سے جانے دینا رنج و اندوہ کا باعث ہوتا ہے۔
دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے، فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔
حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ)بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں، ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اور بنی عبد شمس دور اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیزوں کی پوری روک تھا م کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم )توجو ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں، اور موت آنے پر جان دیتے ہیں۔ بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبد شمس )گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بدصورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں۔
ان دونوں قسم کے عملوں میں کتنا فرق ہے ایک وہ عمل جس کی لذت مٹ جائے لیکن اس کا وبال رہ جائے اور ایک وہ جس کی سختی ختم ہوجائے لیکن اس کا اجر وثواب باقی رہے .
آنحضرت امیر المومنین ایک جنازہ کے پیچھے جارہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی جس پر آپ نے فرمایا.
گویا اس دنیا میں موت ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے او رگویا یہ حق (موت )دوسروں ہی پر لاز م ہے اور گویا جن مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں ,وہ مسافر ہیں جو عنقریب ہماری طرف پلٹ آئیں گے .ادھر ہم انہیں قبروں میں اتارتے ہیں ادھر ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں گویا ان کے بعد ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں .پھر یہ کہ ہم نے ہر پندو نصیحت کرنے والے کو وہ مرد ہو یا عور ت بھلا دیا ہے اور ہر آفت کا نشانہ بن گئے ہیں .
خوشانصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیا ر کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اورخصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہو امال خداکی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا ,مردم آزادی سے کنارہ کش رہا ,سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا .
سید رضی کہتے ہیں .
کہ کچھ لو گوں نے اس کلام کو اور اس سے پہلے کلام کو رسول خدا،اکرم پیام بر اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے .
عورت کا غیر ت کر نا کفر ہے ,اور مرد کا غیور ہونا ایمان ہے .
میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کر تا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی .اسلام سر تسلیم خم کر نا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجاآوری ہے اور فرض کی بجاآوری عمل ہے .
مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے ,ا س کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اورآخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہوگا ,اور مجھے تعجب ہوتا ہے .متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا ,او ر کل کو مردا ر ہوگا .اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اورپھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے .اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھاءے جانے سے انکار کرتاہے اور تعجب ہے ا س پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے .
جو عمل میں کوتاہی کرتا ہے ,وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں .
شروع سردی میں سردی سے احتیاط کرو اور آخر میں اس کاخیر مقدم کر و ,کیونکہ سردی جسموں میں وہی کرتی ہے ,جو وہ درختو ںمیں کرتی ہے کہ ابتدائ میں درختوں کو جھلس دیتی ہے ,اور انتہا میں سرسبز و شاداب کرتی ہے.
اللہ کی عظمت کا احساس تمہاری نظروں میں کائنات کو حقیر و پست کردے.
صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ سے باہر قبرستان پر نظر پڑی تو فرمایا:
اے وحشت افزا گھروں ,اجڑے مکانوں اور اندھیری قبروں کے رہنے والو!اے خاک نشینو !اے عالم غربت کے ساکنوں اے تنہائی اور الجھن میں بسر کرنے والو !تم تیز رو ہو جو ہم سے آگے بڑھ گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پر چل کر تم سے ملا چاہتے ہیں .اب صورت یہ ہے کہ گھروں میں دوسرے بس گئے ہیں بیویوں سے اوروں نے نکاح کر لیے ہیں اور تمہار ا مال و اسباب تقسیم ہوچکا ہے یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے .اب تمہارے یہاں کی کیا خبر ہے.
(پھر حضرت اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا)اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دی جائے .تو یہ تمہیں بتائیں گے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے .
ہ وہ فیصلہ ہے جو پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
اے علی علیہ السّلام ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا.
وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے جو تمہیں خود پسند بنا دے.
انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جتنی مروت اور جوانمردی ہوگی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ,اور جتنی حمیت و خودداری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جتنی غیرت ہوگی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی .
کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے اور دور اندیشی فکر و تدبر کو کام میں لانے سے اور تدبر بھیدوں کو چھپاکر رکھنے سے .
بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے کے حملہ سے ڈرتے رہو .
لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں ,جو کہ ان کو سدھائے گا ,اس کی طرف جھکیں گے .
جب تک تمہارے نصیب یاور ہیں تمہارے عیب ڈھکے ہوئے ہیں.
معاف کر نا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزادینے پر قادر ہو.
سخاوت وہ ہے جو بن مانگے ہو ,اور مانگے سے دینا یا شرم ہے یا بدگوئی سے بچنا .
عقل سے بڑھ کر کوئی ثروت نہیں اور جہالت سے بڑھ کر کوئی بے مائیگی نہیں .ادب سے بڑھ کر کوئی میراث نہیں اور مشورہ سے زیادہ کوئی چیز معین و مددگار نہیں .
صبر دو طرح کا ہوتاہے ایک ناگوار باتوں پر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر.
دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس
قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا.
مال نفسانی خواہشوں کا سر چشمہ ہے .
جو (برے اعمال سے )خوف دلائے وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے
زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے .
عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے .
جب تم پرسلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقہ سے جواب دو .اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ چڑھ کر بدلہ دو ,اگرچہ اس صورت میں بھی فضیلت پہل کرنے والے ہی کی ہوگی .
سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پرد بال ہوتا ہے .
دنیا والے ایسے سواروں کے مانند ہیں جو سو رہے ہیں اور سفر جاری ہے .
دوستوں کو کھو دینا غریب الوطنی ہے .
مطلب کا ہاتھ سے چلا جانا اہل کے آگے ہاتھ پھیلانے سے آسان ہے .
نااہل کے سامنے حاجت پیش کرنے سے جو شرمندگی حاصل ہوتی ہے وہ محرومی کے اندوہ سے کہیں زیادہ روحانی اذیت کا باعث ہوتی ہے .اس لیے کے مقصد سے محرومی کو برداشت کیا جاسکتا ہے .مگر ایک دنی و فر و مایہ کی زیر باری ناقابل برداشت ہوتی ہے .چنانچہ ہر باحمیت انسان نا اہل کے ممنون احسان ہونے سے اپنی حرمان نصیبی کو ترجیح دے گا ,اور کسی پست و دنی کے آگے دست سوال دراز کرنا گوارا نہ کرے گا .
تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں کیونکہ خالی ہاتھ پھیرنا تو اس سے بھی گری ہوئی بات ہے .
فت فقر کا زیور ہے اور شکر دولت مندی کی زینت ہے .
اگر حسب منشا تمہارا کام نہ بن سکے تو پھر جس حالت میں ہو مگن رہو .
جاہل کو نہ پاؤ گے مگر یا حد سے آگے بڑھا ہو ,اور یا اس سے بہت پیچھے .
جب عقل بڑھتی ہے ,تو باتیں کم ہو جاتی ہیں .
زمانہ جسموں کو کہنہ و بوسیدہ اور آرزوؤں کو دور کرتا ہے .جو زمانہ سے کچھ پا لیتا ہے .وہ بھی رنج سہتا ہے اور جو کھو دیتا ہے وہ تو دکھ جھیلتا ہی ہے .
جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے اور زبان سے درس اخلا ق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے .اورجو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کرلے ,وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے .
انسان کی ہر سانس ایک قدم ہے جو اسے موت کی طرف بڑھائے لیے جارہا ہے.
جوچیز شمار میں آئے اسے ختم ہونا چاہیے اور جسے آنا چاہیے ,وہ آکر رہے گا .
جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے توآغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے .
جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا ,تو انہوں نے کہاکہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی .تو
آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اورغم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے .
اے دنیا ! اے دنیا دور ہو مجھ سے .کیامیرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے .تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے)بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے ,جاکسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے .میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں .تیری زندگی تھوڑی , تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے افسوس زادِ راہ تھوڑا , راستہ طویل سفر دور دراز اور منزل سخت ہے .
ایک شخص نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ہمارا اہل شام سے لڑنے کے لیے جانا قضا و قدر سے تھا؟ تو آپ نے ایک طویل جواب دیا .جس کا ایک منتخب حصہ یہ ہے .
خدا تم پر رحم کرے شاید تم نے حتمی و لازمی قضاء و قدر سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں )اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ ثواب کا کوئی سوال پیدا ہوتا نہ عذاب کا نہ وعدے کے کچھ معنی رہتے نہ وعید کے .خدا وند عالم نے تو بندوں کو خود مختار بناکر مامو ر کیا ہے اور (عذاب سے )ڈراتے ہوئے نہی کی ہے۔ اُس نے سہل و آسان تکلیف دی ہے اور دشواریوں سے بچائے رکھا ہے وہ تھوڑے کئے پر زیادہ اجر دیتا ہے .ا س کی نافرمانی اس
لیے نہیں ہوتی کہ وہ دب گیا ہے اور نہ اس کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے اس نے پیغمبروں کو بطور تفریح نہیں بھیجا اور بندوں کے لیے کتابیں بے فائدہ نہیں اتاری ہیں اور نہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو بیکار پیدا کیا ہے .یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے .جنہوں نے کفر اختیار کیا آتش جہنم کے عذاب سے
حکمت کی بات جہاں کہیں ہو ,اسے حاصل کرو ,کیونکہ حکمت منافق کے سینہ میں بھی ہوتی ہے .لیکن جب تک اس (کی زبان)سے نکل کر مومن کے سینہ میں پہنچ کر دوسر ی حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی تڑپتی رہتی ہے .
حکمت مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے اسے حاصل کرو ,اگرچہ منافق سے لینا پڑے .
ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے ,جو اس شخص میں ہے
تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے. کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنگاؤں تو وہ اسی قابل ہوں گی .تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خو ف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے و ہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں ,اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے.اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے ,یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں .
ایک شخص نے آپ کی بہت زیادہ تعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عقیدت و ارادت نہ رکھتا تھا ,تو آپ نے فرمایا جو تمہاری زبان ہر ہے میں اس سے کم ہوں اور جو تمہارے دل میں ہے اس سے زیادہ ہوں.
تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے .
بوڑھے کی رائے مجھے جوان کی ہمت سے زیادہ پسند ہے (ایک روایت میں یوں ہے کہ بوڑھے کی رائے مجھے جوان کے خطرہ میں ڈٹے رہنے سے زیادہ پسند ہے )
اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جو توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے
ابو جعفر محمد ابن علی الباقر علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا .
جس نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا ,تو اللہ اس کے اور لوگوں کے معاملات سلجھائے رکھے گا اور جس نے اپنی آخرت کو سنوار لیا .تو خدا اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور جو خود اپنے کو وعظ و پند کرلے ,تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی.
پورا عالم و دانا وہ ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایو س او ر اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے ,اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے .
یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں۔لہٰذا (جب ایسا ہوتو)ان کے لیے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔
وہ علم بہت بے قدروقیمت ہے جو زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو.
آپ سے دریافت کیا گیا کہ نیکی کیاچیز ہے توآپ نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تمہارے مال و اولاد میں فراوانی ہوجائے۔بلکہ خوبی یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ اور حلم بڑا ہو، اور تم اپنے پروردگار کی عباد ت پر ناز کرسکو اب اگر اچھا کام کرو۔تو اللہ کا شکر بجالاؤ، اور اگر کسی برائی کا ارتکاب کرو۔تو توبہ و استغفار کرو، اور دنیا میں صرف دو شخصوں کے لیے بھلائی ہے۔ایک و ہ جو گناہ کرے تو توبہ سے سے اس کی تلافی کرے اور دوسرا وہ جو نیک کام میں تیز گام ہو.
جو عمل تقوی ٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جاسکتا، اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑ اکیونکر ہوسکتا ہے ؟
انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کازیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی)ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔(پھرفرمایا)حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔
ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نماز شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے توآپ نے فرمایا یقین کی حالت میں سونا شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو,صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔
»«
کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبرو آپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی، تو فرمایا۔اے اللہ! تومجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، اور ان لوگوں سے زیادہ اپنے نفس کومیں پہچانتا ہوں۔اے خدا جو ان لوگوں کاخیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور انکو بخش دے جن کا انہیں علم نہیں.
حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر پائدار نہیں ہوتی۔اسے چھوٹا سمجھاجائے تاکہ وہ بڑی قرار پائے اسے چھپایا جائے تاکہ وہ خود بخود ظاہر ہو، اور اس میں جلدی کی جائے تاکہ وہ خوش گوار ہوں۔
لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں وہی بارگاہوں میں مقرب ہوگا جو لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا ہو, اور وہی خوش مذاق سمجھا جائے گا, جو فاسق و فاجر ہو اور انصا ف پسند کو کمزور و ناتواں سمجھا جائے گا صدقہ کو لوگ خسارہ اور صلہ رحمی کو احسان سمجھیں گے اور عبادت لوگوں پر تفو ق جتلانے کے لیے ہوگی۔ایسے زمانہ میں حکومت کا دارومدار عورتوں کے مشورے، نو خیز لڑکوں کی کار فرمائی اور خواجہ سراؤں کی تدبیر و رائے پر ہوگا.
آپ کے جسم پر ایک بوسیدہ اور پیوند دار جامہ دیکھا گیا تو آپ سے اس کے بارے میں کہاگیا، آپ نے فرمایا !اس سے دل متواضع اور نفس رام ہوتا ہے اور مومن اس کی تاسی کرتے ہیں۔دنیا اورآخرت آپس میں دو ناساز گار دشمن اور دو جدا جدا راستے ہیں۔چنانچہ جو دنیا کو چاہے گا اور اس سے دل لگائے گا۔وہ دونوں بمنزلہ مشرق و مغرب کے ہیں اور ان دونوں سمتوں کے درمیان چلنے والا جب بھی ایک سے قریب ہوگا تو دوسرے سے دور ہونا پڑے گا۔پھر ان دونوں کا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا دو سوتوں کاہوتا ہے۔
نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھاکہ وہ فرش خواب سے اٹھے ایک نظر ستاروں پر ڈالی اور پھر فرمایا اے نوف !سوتے ہو یا جاگ رہے ہو ؟میں نے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السّلام جاگ رہا ہوں۔فرمایا ! اے نوف!
خوشانصیب ان کے کہ جنہوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا، اور ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ رہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو فرش، مٹی کو بستر اور پانی کو شربت خوش گوار قرار دیا۔قرآن کو سینے سے لگایا اور دعا کو سپر بنایا. پھر حضرت مسیح کی طرح دامن جھاڑ کر دنیا سے الگ ہوگئے.
اے نوف ! داؤد علیہ السلام رات کے ایسے ہی حصہ میں اٹھے اور فرمایا کہ یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں بندہ جو بھی دعا مانگے مستجاب ہوگی سوا اس شخص کے جو سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا، یا لوگوں کی برائیاں کرنے والا، یا ( کسی ظالم حکومت کی) پولیس میں ہو یا سارنگی یا ڈھول تاشہ بجانے والا ہو.
اللہ نے چند فرائض تم پرعائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔اورتمہارے حدود کار مقرر کر دیئے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو.اس نے چند چیز وں سے تمہیں منع کیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ کرو، اور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا، انہیں بھولے سے نہیں چھوڑ دیا.لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو.
جو لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھالیتے ہیں تو خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کردیتا ہے۔
اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں کردیاگیا ہے اور وہ دل ہے جس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں اور اس کے برخلاف بھی صفتیں پائی جاتی ہیں اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر تی ہے اور اگر طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ وبرباد کردیتی ہے۔اگر ناامیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں اور اگر غضب اس پر طاری ہوتا ہے تو غم و غصہ شدت اختیار کرلیتا ہے اور اگر خوش و خوشنود ہوتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتاہے اور اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتاہے تو فکر و اندیشہ دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے۔اگر امن امان کا دور دورہ ہوتا ہے تو غفلت اس پر قبضہ کرلیتی ہے اور اگر مال دولتمند ی اسے سرکش بنادیتی ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قرار ی اسے رسوا کر دیتی ہے۔اور اگر فقر و فاقہ کی تکلیف میں مبتلا ہو۔تو مصیبت و ابتلاء اسے جکڑلیتی ہے اور اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے۔ ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی اور اگر شکم پری بڑھ جاتی ہے تو یہ شکم پری اس کے لیے کرب و اذیت کا باعث ہوتی ہے کوتاہی اس کے لیے نقصان رساں اور حد سے زیادتی اس کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔
ہم (اہلبیت )ہی وہ نقطہ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آکر ملنا ہے اور آگے بڑھ جانے والے کو اس کی طرف پلٹ کر آنا ہے۔
حکم خدا کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جو (حق معاملہ میں) نرمی نہ برتے عجز و کمزوری کا اظہار نہ کرے اور حرص و طمع کے پیچھے نہ لگ جائے۔
ہل ابن حنیف انصار ی حضرت کو سب لوگو ں میں زیادہ عزیز تھے یہ جب آپ کے ہمراہ صفین سے پلٹ کر کوفہ پہنچے تو انتقال فرماگئے جس پر حضرت نے فرمایا.
اگر پہاڑبھی مجھے دوست رکھے گا تووہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔
جو ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہناچاہیے۔
عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی وشرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں
جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سؤِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا واہل دنیا پر شر و فساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنے کو ) خطرے میں ڈالا.
امیر المومنین علیہ السلام سےسوال کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے ؟ تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ ا س کا حال کیا ہوگا جسے زندگی موت کی طرف لیے جارہی ہو، اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے۔
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے ہیں اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔
میرے بارے میں دو قسم کے لوگ تباہ و برباد ہوئے۔ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جو عداوت رکھے۔
موقع کو ہاتھ سے جانے دینا رنج و اندوہ کا باعث ہوتا ہے۔
دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے، فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔
حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ)بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں، ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اور بنی عبد شمس دور اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیزوں کی پوری روک تھا م کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم )توجو ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں، اور موت آنے پر جان دیتے ہیں۔ بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبد شمس )گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بدصورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں۔
ان دونوں قسم کے عملوں میں کتنا فرق ہے ایک وہ عمل جس کی لذت مٹ جائے لیکن اس کا وبال رہ جائے اور ایک وہ جس کی سختی ختم ہوجائے لیکن اس کا اجر وثواب باقی رہے .
آنحضرت امیر المومنین ایک جنازہ کے پیچھے جارہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی جس پر آپ نے فرمایا.
گویا اس دنیا میں موت ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے او رگویا یہ حق (موت )دوسروں ہی پر لاز م ہے اور گویا جن مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں ,وہ مسافر ہیں جو عنقریب ہماری طرف پلٹ آئیں گے .ادھر ہم انہیں قبروں میں اتارتے ہیں ادھر ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں گویا ان کے بعد ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں .پھر یہ کہ ہم نے ہر پندو نصیحت کرنے والے کو وہ مرد ہو یا عور ت بھلا دیا ہے اور ہر آفت کا نشانہ بن گئے ہیں .
خوشانصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیا ر کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اورخصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہو امال خداکی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا ,مردم آزادی سے کنارہ کش رہا ,سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا .
سید رضی کہتے ہیں .
کہ کچھ لو گوں نے اس کلام کو اور اس سے پہلے کلام کو رسول خدا،اکرم پیام بر اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے .
عورت کا غیر ت کر نا کفر ہے ,اور مرد کا غیور ہونا ایمان ہے .
میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کر تا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی .اسلام سر تسلیم خم کر نا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجاآوری ہے اور فرض کی بجاآوری عمل ہے .
مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے ,ا س کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اورآخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہوگا ,اور مجھے تعجب ہوتا ہے .متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا ,او ر کل کو مردا ر ہوگا .اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اورپھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے .اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھاءے جانے سے انکار کرتاہے اور تعجب ہے ا س پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے .
جو عمل میں کوتاہی کرتا ہے ,وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں .
شروع سردی میں سردی سے احتیاط کرو اور آخر میں اس کاخیر مقدم کر و ,کیونکہ سردی جسموں میں وہی کرتی ہے ,جو وہ درختو ںمیں کرتی ہے کہ ابتدائ میں درختوں کو جھلس دیتی ہے ,اور انتہا میں سرسبز و شاداب کرتی ہے.
اللہ کی عظمت کا احساس تمہاری نظروں میں کائنات کو حقیر و پست کردے.
صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ سے باہر قبرستان پر نظر پڑی تو فرمایا:
اے وحشت افزا گھروں ,اجڑے مکانوں اور اندھیری قبروں کے رہنے والو!اے خاک نشینو !اے عالم غربت کے ساکنوں اے تنہائی اور الجھن میں بسر کرنے والو !تم تیز رو ہو جو ہم سے آگے بڑھ گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پر چل کر تم سے ملا چاہتے ہیں .اب صورت یہ ہے کہ گھروں میں دوسرے بس گئے ہیں بیویوں سے اوروں نے نکاح کر لیے ہیں اور تمہار ا مال و اسباب تقسیم ہوچکا ہے یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے .اب تمہارے یہاں کی کیا خبر ہے.
(پھر حضرت اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا)اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دی جائے .تو یہ تمہیں بتائیں گے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے .
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
باتیں کہنے کی
اکمل سید لندن
سخنان طلایی بہ مناسبت آمدن بہ کعبہ
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام
کسے را میسرنہ ایں شد سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت ۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ,تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا .اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا اس لیے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
اے علی علیہ السّلام ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا.
وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے جو تمہیں خود پسند بنا دے.
انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جتنی مروت اور جوانمردی ہوگی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ,اور جتنی حمیت و خودداری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جتنی غیرت ہوگی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی .
کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے اور دور اندیشی فکر و تدبر کو کام میں لانے سے اور تدبر بھیدوں کو چھپاکر رکھنے سے .
بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے کے حملہ سے ڈرتے رہو .
لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں ,جو کہ ان کو سدھائے گا ,اس کی طرف جھکیں گے .
جب تک تمہارے نصیب یاور ہیں تمہارے عیب ڈھکے ہوئے ہیں.
معاف کر نا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزادینے پر قادر ہو.
سخاوت وہ ہے جو بن مانگے ہو ,اور مانگے سے دینا یا شرم ہے یا بدگوئی سے بچنا .
عقل سے بڑھ کر کوئی ثروت نہیں اور جہالت سے بڑھ کر کوئی بے مائیگی نہیں .ادب سے بڑھ کر کوئی میراث نہیں اور مشورہ سے زیادہ کوئی چیز معین و مددگار نہیں .
صبر دو طرح کا ہوتاہے ایک ناگوار باتوں پر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر.
دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس
قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا.
مال نفسانی خواہشوں کا سر چشمہ ہے .
جو (برے اعمال سے )خوف دلائے وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے
زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے .
عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے .
جب تم پرسلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقہ سے جواب دو .اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ چڑھ کر بدلہ دو ,اگرچہ اس صورت میں بھی فضیلت پہل کرنے والے ہی کی ہوگی .
سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پرد بال ہوتا ہے .
دنیا والے ایسے سواروں کے مانند ہیں جو سو رہے ہیں اور سفر جاری ہے .
دوستوں کو کھو دینا غریب الوطنی ہے .
مطلب کا ہاتھ سے چلا جانا اہل کے آگے ہاتھ پھیلانے سے آسان ہے .
نااہل کے سامنے حاجت پیش کرنے سے جو شرمندگی حاصل ہوتی ہے وہ محرومی کے اندوہ سے کہیں زیادہ روحانی اذیت کا باعث ہوتی ہے .اس لیے کے مقصد سے محرومی کو برداشت کیا جاسکتا ہے .مگر ایک دنی و فر و مایہ کی زیر باری ناقابل برداشت ہوتی ہے .چنانچہ ہر باحمیت انسان نا اہل کے ممنون احسان ہونے سے اپنی حرمان نصیبی کو ترجیح دے گا ,اور کسی پست و دنی کے آگے دست سوال دراز کرنا گوارا نہ کرے گا .
تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں کیونکہ خالی ہاتھ پھیرنا تو اس سے بھی گری ہوئی بات ہے .
فت فقر کا زیور ہے اور شکر دولت مندی کی زینت ہے .
اگر حسب منشا تمہارا کام نہ بن سکے تو پھر جس حالت میں ہو مگن رہو .
جاہل کو نہ پاؤ گے مگر یا حد سے آگے بڑھا ہو ,اور یا اس سے بہت پیچھے .
جب عقل بڑھتی ہے ,تو باتیں کم ہو جاتی ہیں .
زمانہ جسموں کو کہنہ و بوسیدہ اور آرزوؤں کو دور کرتا ہے .جو زمانہ سے کچھ پا لیتا ہے .وہ بھی رنج سہتا ہے اور جو کھو دیتا ہے وہ تو دکھ جھیلتا ہی ہے .
جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے اور زبان سے درس اخلا ق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے .اورجو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کرلے ,وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے .
انسان کی ہر سانس ایک قدم ہے جو اسے موت کی طرف بڑھائے لیے جارہا ہے.
جوچیز شمار میں آئے اسے ختم ہونا چاہیے اور جسے آنا چاہیے ,وہ آکر رہے گا .
جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے توآغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے .
جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا ,تو انہوں نے کہاکہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی .تو
آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اورغم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے .
اے دنیا ! اے دنیا دور ہو مجھ سے .کیامیرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے .تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے)بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے ,جاکسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے .میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں .تیری زندگی تھوڑی , تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے افسوس زادِ راہ تھوڑا , راستہ طویل سفر دور دراز اور منزل سخت ہے .
ایک شخص نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ہمارا اہل شام سے لڑنے کے لیے جانا قضا و قدر سے تھا؟ تو آپ نے ایک طویل جواب دیا .جس کا ایک منتخب حصہ یہ ہے .
خدا تم پر رحم کرے شاید تم نے حتمی و لازمی قضاء و قدر سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں )اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ ثواب کا کوئی سوال پیدا ہوتا نہ عذاب کا نہ وعدے کے کچھ معنی رہتے نہ وعید کے .خدا وند عالم نے تو بندوں کو خود مختار بناکر مامو ر کیا ہے اور (عذاب سے )ڈراتے ہوئے نہی کی ہے۔ اُس نے سہل و آسان تکلیف دی ہے اور دشواریوں سے بچائے رکھا ہے وہ تھوڑے کئے پر زیادہ اجر دیتا ہے .ا س کی نافرمانی اس
لیے نہیں ہوتی کہ وہ دب گیا ہے اور نہ اس کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے اس نے پیغمبروں کو بطور تفریح نہیں بھیجا اور بندوں کے لیے کتابیں بے فائدہ نہیں اتاری ہیں اور نہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو بیکار پیدا کیا ہے .یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے .جنہوں نے کفر اختیار کیا آتش جہنم کے عذاب سے
حکمت کی بات جہاں کہیں ہو ,اسے حاصل کرو ,کیونکہ حکمت منافق کے سینہ میں بھی ہوتی ہے .لیکن جب تک اس (کی زبان)سے نکل کر مومن کے سینہ میں پہنچ کر دوسر ی حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی تڑپتی رہتی ہے .
حکمت مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے اسے حاصل کرو ,اگرچہ منافق سے لینا پڑے .
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساربان چوہے اور ہمارے عبادت خانے
انتخاب اکمل سید لندن
ایک آدمی نے اپنے اونٹ کی رسی اس کی گردن کے گرد لپیٹی اور چرنے کے لئے اُسے جنگل کی طرف ہنکا دیا۔ اونٹ جنگل میں پہنچ کر ہری بھری جھاڑیوں اور درختوں سے پیٹ پوجا میں مصروف ہو گیا۔ اس دوران اس کی نکیل کی رسی ڈھیلی پڑتے پڑتے کھل گئی۔ اب رسی کا ایک سرا نکیل سے بندھا تھا جبکہ دوسرا زمین پر رینگ رہا تھا۔
ایک جنگلی چوہے نے یہ منظر دیکھا تو اسے ساربانی کے شوق نے آ لیا۔ جب اونٹ نے سیر ہوکر واپس گھر کی راہ لی تو چوہے نے بھاگ کر زمین کو چھوتی اس کی رسی پکڑی اور اونٹ کے آگے چلنا شروع کر دیا۔
اونٹ غصہ کرنے کی بجائے چوہے کی اس حرکت سے محظوظ ہوا اور خاموشی سے گردن جھکا کر اس کے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔
اونٹ کے اس شریفانہ رویے نے چوہے کے شوق ساربانی کو تقویت دی اور وہ دل ہی دل میں حقیقی ساربان بن بیٹھا۔
چلتے چلتے راستے میں دریا آ گیا۔ ’’ساربان‘‘ نے رک کر اونٹ کی طرف دیکھا۔ اونٹ نے کہا کہ آگے بڑھو۔
چوہا ڈر کر بولا کہ آگے پانی کی لہریں ہیں، جو مجھے بہا کر کہیں سے کہیں لے جائیں گی۔
اونٹ مسکرا دیا اور اسے نکیل کی رسی کے ذریعے اپنی کوہان پر چڑھ آنے کے لئے کہا۔
چوہا جھٹ سے اس پر سوار ہو گیا اور اونٹ دریا پار کرنے لگا۔
چوہے نے اس کا حوصلہ بلند رکھنے کے لئے حدی خوانی شروع کردی اور یوں اب وہ ’’ساربان‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’حدی خوان‘‘ بھی بن گیا۔ وہ شتر سواری سے بھرپور لطف اٹھا رہا تھا اور اونٹ کی کوہان کی بلندی سے اسے دریا کی مچھلیاں حقیر نظر آ رہی تھیں۔
آخر دریا کا پاٹ ختم ہوگیا ۔اونٹ نے خشکی پر قدم رکھا تو چوہا فوراً نیچے اترا اور لپک کر دوبارہ نکیل کی رسی تھامنا چاہی۔
اونٹ نے اچانک سر بلند کر لیا اور رسی چوہے کی دسترس سے باہر ہو گئی۔ تب اونٹ نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ تم جیسے ایک ہزار چوہے بھی ہوں تو میں ان تمام ’’ساربانوں‘‘ کو ایک ہی ہلے میں دریا پار کر ا سکتا ہوں
چوہا کھسیانہ ہو گیا۔ تاہم اس کے سر سے ساربانی اور رہنمائی کا خناس نہیں نکل رہا تھا۔ اس نے اونٹ کی خوشامد شروع کر دی لیکن اونٹ نے اسے ڈانٹ کر کہا کہ رہنمائی صرف انسانوں کو جچتی ہے، چوہوں کو نہیں۔
چوہوں کی اس اجتماعی توہین پر چوہا آگ بگولا ہو گیا اور پھٹ پڑا کہ تم نے ایک ساربان اور حدی خوان کو چوہا کہا؟ کیا تم میری طاقت سے آشنا نہیں؟
اونٹ نے قہقہہ لگا کر کہا ’’ا ے میرے سابق ساربان اور سابق حدی خوان! وہ محض ایک دل لگی تھی کہ تم نے مختصر وقت کے لئے یہ دونوں مزے لوٹے۔ اب تمہارے اور میرے گھر کے درمیان دریا کا لمبا پاٹ ہے ‘‘چوہا ساربانی سے کم منصب پر راضی نہیں تھا مگر اونٹ نے اسے واپس اپنے گھر اور اپنی اوقات کی طرف پلٹ جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دریا میں پانی تھوڑا ہے مگر تمہارے لئے منزلوں اونچا۔ پس جاؤ کسی کشتی میں جا چھپو تاکہ گھر پہنچ سکو۔
اب چوہے کے پاس یہ معقول مشورہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، وہ مایوسی سے واپس جانے والی ایک کشتی میں جا کر چھپ گیا۔
اونٹ نے دور دریا میں جاتی کشتی کو دیکھ کر دعا مانگی کہ وہ خیریت سے کنارے پر پہنچ جائے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ چوہا اپنی عادت سے مجبور ہو کر کشتی کے پیندے میں سوراخ کرنے سے باز نہیں آئے گا۔
🔘 چونکہ ہم اکیسویں صدی میں بھی تاریخ کی بجائے پرانے قصے کہانیوں ہی سے سبق حاصل کرنے پر بضد ہیں، لہذا اس کہانی سے یہ سبق لیتے ہیں کہ لندن کے کچھ مذہبی اداروں کے سربراہ بھی اسی چوہے کی مانند ہیں جو سارباں تو بنے ہوئے ہین مگر ونٹ کی گردن کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہین رکھتے ۔۔۔۔اونٹوں کو اپنے سر بلند رکھنے چاہئیں تاکہ کوئی چوہا ان کی نکیل تک نہ پہنچ سکے۔ چوہوں کو مذاق یا مجبوری کی بنا پر بھی ہر گز ساربان یا حدی خوان جیسے عہدے نہیں دینے چاہئیں، ورنہ وہ سچ مچ کے رہنما بن بیٹھتے ہیں اور اپنی بد خصلتوں کے طفیل خود اونٹوں کے لئے بھی رسوائی کا ساماں کرتے ہیں۔ انہیں ایک دفعہ شتر سواری کا چسکا پڑ جائے تو پھر انہیں اتارنا نا ممکن حد تک مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے منصب صرف سلجھے ہوئے اور سنجیدہ انسانوں کے متقاضی ہیں۔ چوہوں کو قابو میں رکھنے کے لئے چھوٹی عبادت گاہوں جیسی کشتیوں کو بحری جہازوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ چھوٹی کشتیوں میں دو چار چوہے بھی گھس جائیں تو ان کے لکڑی کے پیندوں میں سوراخ کر کے اسے ڈبو دیتے ہیں۔ ادھر لاکھوں چوہے بحری جہازوں میں
پیدا ہوتے ہیں اور پلتے بڑھتے ہیں، مگرجہازوں کے آہنی پیندوں کی وجہ سے ان میں چھید نہیں کر سکتے۔ نیز بحری جہازوں میں مخصوص وقت کے بعد زہریلا اسپرے بھی کیا جاتا ہے، جس سے چوہے تلف ہو جاتے ہیں۔ پس چھوٹی کشتیوں کو بھی اپنے پیندے اور دیواریں آہنی بنا لینی چاہئیں اور بوقت ضرورت ان میں زہریلا اسپرے بھی کرنا چاہئے۔ اس سے ایک تو چوہے کشتیوں میں سوراخ نہیں کر سکیں گے اور دوسرے باہر سے بھی کشتیوں میں نہ آ سکیں گے، نیزجو آ گئے ہیں وہ اسپرے سے تلف ہو جائیں گے۔
🌹 تحریر پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور تاکہ ایسے نام نہاد چوہوں سے بچا جا سکے کریں…..شکریہ اکمل سید لندن عید مبارک
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
دیوار میں در خبر کہ علیؑ آئے تھے
۱۳رجب المرجب حضرت علی علیہ السلام کی ولادت با سعادت
اکمل سید لندن ۔۔۔۔۔ اس تحریر کو مختلف کتب اور انٹرنیٹ سے لکھنے میں مدد لی گئی ہے
مکہ سن تیس عام الفیل کوتیرہ رجب کا سورج اس اندھی دُنیا کے لئے جو روشنی لے کر طلوع ہوا اس کی مثال اس دُنیا میں نہیں ملتی میری مراد حضرت ابطالب اور فاطمہ بنت اسد کے گھر کے اُس چشم و چراغ کی ہے جو اس عالم کا بہتریں انسان اشجاع عرب ، شہر علم ہمدرد رہبر اور عالم اسلام کا مدگار ہے۔جس کی تفصیل آپ اس حقیر کی چند سطور میں زیب نظر فرمائیں گے۔۔۔۔۔۔
13 رجب سن تیس عام الفیل کو رسول اکرم ؐؐؐ کے چچازاد بھائی داماد اور جانشین حضرت علی علیہ السّلام کی خانۂ کعبہ میں ولادت باسعادت ہوئی ۔ آپ کے والد ابو طالب علیہ السّلام اور ماں فاطمہ بنتِ اسد علیہا السلام کو جو خوشی ہونی چاہیے تھی وہ تو ہوئی ہی مگر سب سے زیادہ رسول الله اس بچے کو دیکھ کر خوش ہوئے ۔ شاید بچے کے خد وخال سے اسی وقت یہ اندازہ ہوتا تھا کہ یہ آئندہ چل کر رسول کاقوتِ بازواور دستِ راست ثابت ہوگا ۔ آپ کی والدۂ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت اسد اوروالد گرامی کا نام ابوطالب تھا ۔حضرت علی (ع) نے بچپن سے ہی رسول اکرم (ص) کی آغوش میں پرورش پائي ۔سنہ 2 ھ میں دختر رسول (ص) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔شب ہجرت بستر رسول (ص) پر سوکرنبی اکرم کی جان بچائي اور مدینے میں بھی غزوۂ تبوک کےعلاوہ رسول اکرم (ص) کی تمام غزوات میں حضرت علی (ع) شریک تھے اور ہر مرحلے میں آپ (ص) کے یار و مدد گار تھے۔حضرت علی (ع) انتہائي شجاع اور بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نرم دل اور لطیف طبیعت کے مالک تھے ۔آپ جس طرح محاذ جنگ پردشمنوں سےمردانہ وارمقابلہ کرتے تھے اسی طرح اسلامی معاشرے میں بھی کسی ناجائز عمل کو برداشت نہیں کرتے تھے ۔آپ اسلامی حق و انصاف کےحقیقی علمبردار تھے ۔آپ اطاعت اور بندگي خدا اس طرح انجام دیتے تھے کہ عبادت کے وقت دنیا کی خبر نہیں رہتی تھی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلالت میں اس طرح کھوجایا کرتے تھے گویا آپ زمین پرنہ ہوں بلکہ عالم ملکوت میں سیرکررہے ہوں ۔حضرت علی (ع) کے یوم ولادت کی مناسبت سے آپ کا ایک زرین قول پیش خدمت ہے ۔آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ اس طرح پیش آؤ کہ اگر مرجاؤ تو تم پرلوگ روئیں اور اگر زندہ رہو تو تمہارے ساتھ نیکی کریں
حضرت علی (ع) : شیعوں کے پہلے امام ،اسم گرامی : علی (ع)،لقب : امیر المومنین، کنیت : ابو الحسن
والد کا نام : عمران ( ابو طالب )، والدہ کا نام : فاطمہ بنت اسد، تاریخ ولادت : ۱۳/ رجب ۳۰ ء عام الفیل
جائے ولادت : مکّہ معظمہ خدا کے گھر میں ( خانہ کعبہ کے اندر )، مدّت امامت : ۳۰ / سال
عمر مبارک : تریسٹھ (۶۳) سال، تاریخ شہادت : ۲۱/ رمضان المبارک ۴۰ھء مسجد کوفہ میںشہاد ت کا سبب : عبد الرحمن بن ملجم کی زہر آلودہ ضربت کا اثر ، روضہٴ اقدس : عراق ( نجف اشرف)
اولاد کی تعداد : ۱۸/ بیٹے ، ۱۸/ بیٹیاں جن کے اسم گرامی درج ذیل ہیں۔۔۔۔۔
بیٹوں کے نام : (۱) امام حسن مجتبیٰ (ع) (۲) امام حسین (ع)(۳) محمد حنفیہ (۴) عباس اکبر (۵) عبد اللہ اکبر (۶) جعفر اکبر (۷) عثمان (۸) محمد اصغر (۹) عبد اللہ اصغر (۱۰) عبد اللہ مکنی بابی علی (۱۱) عون (۱۲) یحییٰ (۱۳) محمد اوسط (۱۴) عثمان اصغر (۱۵) عباس اصغر (۱۶) جعفر اصغر(۱۷) عمر اکبر (۱۸) عمر اصغر۔
بیٹیوں کے نام : (۱) زینب کبریٰ (۲) زینب صغریٰ بہ نام ام کلثوم (۳) رملہ کبریٰ (۴) ام الحسن (۵) نفیسہ (۶) رقیہ صغریٰ (۷) رملہ صغریٰ (۸) رقیہ کبریٰ (۹) میمونہ (۱۰) زینب صغریٰ (۱۱) ام ّ ہانی (۱۲) فاطمہ صغریٰ (۱۳) امامہ (۱۴) خدیجہ صغریٰ (۱۵) امّ کلثوم (۱۶) ام ّ سلمہ (۱۷) حمامہ (۱۸) اُم کرام ۔
بیویاں : ۱۲فاطمہ زہرا اور جناب اُم مادر عباس علیہ السلام زیادہ معروف ہیں ۔۔۔
آپ کی انگشتری کے نگینے کا نقش: الملک للّہ الوٰحد القھّار
حضرت علی علیہ السّلام کی پرورش براہِ راست حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے ذریعے ہوئی۔ آپ نے انتہائی محبت اور توجہ سے اپنا پورا وقت اس چھوٹے بھائی کی علمی اور اخلاقی تربیت میں صرف کیا۔ ذاتی جوہر اور پھر رسول جیسے بلند مربیّ کافیض تربیت، چنانچہ علی دس ہی برس کے سن میں ایسے تھے کہ پیغمبر کے دعوائے رسالت کرنے پر ان کے سب سے پہلے پیرو بلکہ ان کے دعوے کے گواہ قرار پائے ۔
زمانہ مصائب
پیغمبر کا دعوائے رسالت کرنا تھا کہ ہر ہرذرہ رسول کادشمن نظر آنے لگا ۔ وہی لوگ جو کل تک آپ کی سچائی اورامانتداری کا دم بھرتے تھے آج آپ کو ( معاذ الله) دیوانہ, جادو گر اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگے, راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے , پتھر مارے جاتے اور سر پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا تھا۔ اس سخت وقت میں رسول کا ہر مصیبت میں شریک صرف ایک بچّہ تھا, وہی علی جس نے بھائی کاساتہ دینے میں کبھی ہمت نہیں ہاری , برابرمحبت ووفاداری کادم بھرتے رہے , ہر ہربات میں رسول کے سینہ سپر رہے , یہاں تک کہ وہ وقت بھی آیا جب مخالف گروہ نے انتہائی سختی کے ساتہ یہ طے کرلیا کہ پیغمبر کااور ان کے تمام گھرانے والوں کا بائیکاٹ کیا جائے , حالات اتنے خراب تھے کہ جانوں کے لالے پڑ گئے تھے ۔ ابو طالب علیہ السّلام نے حضرت محمد مصطفےٰ سمیت اپنے تمام ساتھیوں کو ایک پہاڑ کے دامن میں قلعہ میں محفوظ کردیا , تین برس تک یہ قید وبند کی زندگی بسر کرنا پڑی ۔ اس میں ہر شب یہ اندیشہ تھا کہ کہیں دشمن شب خون نہ مار دے ۔ اس لئے ابو طالب علیہ السّلام نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ وہ رات بھر رسول کو ایک بستر پر نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ جعفر(ع) کو رسول کے بستر پر اور رسول کو عقیل (ع)کے بستر پر اور پھر رسول کو جعفر(ع)کے بستر پرلٹا دیتے تھے اورپھر رسول کو علی علیہ السّلام کے بستر پر۔ مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن رسول کے بستر کاپتہ لگا کر حملہ کرنا چاہے تو میرا کوئی بھی بیٹا قتل ہوجائے مگر رسول کا بال بیکانہ ہو۔ اس طرح علی بچپن ہی سے فدا کاری اور جان نثاری کے سبق کو عملی طور پر دہراتے رہے۔
اس کے بعد وہ وقت آیا کہ ابو طالب علیہ السّلام کی وفات ہوگئی جس سے اس جاں نثار چچا کی وفات سے پیغمبر کا دل ٹوٹ گیا اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کاارادہ کرلیا جس پر دشمنوں نے ارادہ کیا کہ ایک رات جمع ہو کر پیغمبر کے گھر کو گھیر لیں اور حضرت کو شہید کرڈالیں , حضرت کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اپنے جاں نثار بھائی علی کو بلا کر اس واقعہ کی اطلاع دی اور فرمایا کہ میری جان کی حفاظت یوں ہوسکتی ہے کہ تم آج کی رات میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سو جاؤ اور میں مخفی طور پر مکہ سے روانہ ہوجاؤں ۔ کوئی دوسرا ہوتاتو یہ پیغام سنتے ہی اس کا دل دہل جاتا , مگر علی نے یہ سن کر کہ میرے ذریعہ رسول کی جان کی حفاظت ہوگی خدا کاشکر ادا کیا اور بہت خوش ہوئے کہ مجھے رسول کافدیہ قرار دیا جارہا ہے , یہی ہوا کہ رسالت مآب شب کے وقت مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے اور علی علیہ السّلام رسول کے بستر پر سوگئے , چاروں طرف خون کے پیاسے دشمن تلواریں کھینچے نیزے لئے ہوئے مکان کوگھیرے ہوئے تھے ۔ بس اس بات کی دیر تھی کہ ذرا صبح ہو او رسب کے سب گھر میں گھس کر رسالت ماب کو شہید کر ڈالیں ۔ علی علیہ السّلام اطمینان کے ساتہ بستر پرآرام کرتے رہے اور ذرا بھی اپنی جان کاخیال نہ کیا دشمنوں کو صبح کے وقت معلوم ہوا کہ محمد تو رات ہی چلے گئے تھے۔
ماہ رجب ، شعبان اور ماہ رمضان کی تیرھویں شب میں دو رکعت نماز مستحب ہے کہ اس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ یٰسین، سورہ ملک اور سورہ توحید پڑھے چودھویں شب میں چار رکعت نماز دو دو رکعت کر کے اسیطرح پڑھے اور پندرھویں شب میں چھ رکعت نماز دو دو کرکے اسی طرح سے پڑھے امام جعفر صادق -کا ارشاد ہے کہ اس طریقے سے یہ تین نمازیں بجالانے والا ان تینوں مہینوں کی تمام فضیلتیں حاصل کرے گا اور سوائے شرک کے اس کے سبھی گناہ معاف ہو جائینگے ۔
تیرھویں رجب کا دن
یہ ایام بیض کا پہلا دن ہے اس دن اور اسکے بعد کے دو دنوں میں روزہ رکھنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے، اگر کوئی شخص عمل ام داؤد بجالانا چاہتا ہے تو اس کیلئے 13 رجب کا روزہ رکھنا ضروری ہے
امام علی علیہ السلام وہ بلند مقام شخصیت ھیں جنھوں نے نور وحی کو اپنی آنکھوں سے مشاھدہ فرمایا اس لئے تو رسول ختمی مرتبت نے فرمایا تھا، اے علی جو میں دیکھتا ھوں وہ آپ بھی دیکھتے ھیں جو میں سنتا ھوں وہ آپ بھی سنتے ھیں۔
امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ھیں:
”وَ لَقَدْ کَانَ یُجَاوُرِ فِي کُلّ سَنَةٍ بِحْرَاءَ فَاٴرَاہُ وَلَا یَراہُ غَیرِي، وَلَمْ یَجْمَعْ بَیْتٌ وَاحِدٌ یَومَئِذٍ فِي إلاسُلَامِ غَیْرَ رَسُولَ الله (ص)، وَ خَدِیْجَةَ وَ اٴنَا ثَالِثُہُمَا“۔
”امام فرماتے ھیں رسول خدا ؐھر سال کچھ عرصہ غار حرا میں جایا کرتے تھے، میں ان کو دیکھتا تھا میرے علاوہ کوئی انھیں نھیں دیکھتا تھا، اُس زمانہ میں واحد گھر جس میں رسول خدا (ص)اور جناب خدیجہ اور تیسر ا میں تھا کوئی اور گھر میں نھیں تھا“۔
ایک اور فرمان امیر المومنین ہے کہ :
”اٴرَیٰ نُورَ الْوَحْيِ وَ الرِّسَالَةَ، وَ اٴشُمُّ رِیْحَ النَّبُوَةِ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشِّیْطَانِ حِیْنَ نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللهِ مَا ہَذِہِ الرَّنَّةُ، فَقَالَ (ص) ہٰذَا الشِّیْطَانُ قَدْ اٴیِسْ مِنْ عِبَادَتِہِ، إنَّکَ تَسْمَعُ مَا اٴَسْمَعُ وَ تَریٰ مَا اٴَریٰ إلاَّ اٴنَّکَ لَسْتَ بِنَبِیٍ وَ لَکِنَّکَ لَوَزِیرٌ وَ اٴنَّکَ لَعَلیٰ خَیْرٍ“۔
”میں نے نور وحی اور نور رسالت کو دیکھا، رسول خدا (ص) کی دلپذیر خوشبو کو سونگھتا تھا، میں نے نزول وحی کے وقت شیطان کے رونے کی آواز کو سنا، اور میں نے رسول اکرم (ص) سے پوچھا: یا رسول اللہ یہ کس کے رونے کی آواز ھے تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا: ی ہ شیطان رو رھا ھے چونکہ وہ آج سے اپنی عبادت سے مایوس ھوگیا ھے، اس کے بعد رسول (ص)نے فرمایا: یا علی جو میں سنتا ھوں آپ بھی سنتے ھیں، اور جو میں دیکھتا ھوں ، آپ بھی دیکھتے ھیں مگر آپ نبی نھیں ھیں، بلکہ میرے وزیر اور جانشین ھیں، اور آپ خیر پر ھیں“۔
ھم تمام امت اسلام کو چیلنج کرکے کہہ سکتے ھیں کہ آؤ ، رسول اسلام کے بعد کوئی ایسی شخصیت دکھاؤ جس کے بارے میں خود رسول اکرم (ص) نے فرمایا ھو کہ آپ میرے جانشین اور وزیر ھیں، جو میں سنتا ھوں وہ آپ بھی سنتے ھیں جو میں دیکھتا ھوں وہ آپ بھی دیکھتے ھیں، یہ فخر صرف اور صرف علی بن ابی طالب علیہ السلام کو حاصل ھے، لیکن دنیائے اسلام آج تک پریشان ھے کہ رسول اکرم (ص) کا حقیقی جانشین کون تھا، پس ھم یہ جملہ کہنے پر مجبور ھوجاتے ھیں کہ علی علیہ السلام کل بھی مظلوم تھے اور آج بھی مظلوم ھیں۔
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ھیں:
”اَللّٰہُمَّ اِنّي اٴوَّلَ مَنْ اٴَنَابَ وَ سَمِعَ وَ اٴجَابَ لَمْ یَسْبِقْنِی إلاَّ رَسول
الله بالصَّلاة“۔
”میں وہ سب سے پھلا شخص ھوں جس نے رسول اکرم (ص) کی طرف رجحان پیدا کیا اور اُن کی دعوت کو سنااور قبول کیا، میں سب سے پھلا نماز گزار ھوں، رسول(ص) کے علاوہ کوئی شخص ”مجھ سے پھلا نمازی نھیں ھے“ اور مجھ سے سابق نھیں ھے۔
امام علی علیہ السلام خطبہ نمبر ۱۹۷ میں ارشاد فر ماتے ھیں:
”وَ لَقَدْ عَلِمَ المُسْتَحْفِظُونَ مِنْ اٴصْحَابِ مُحَمَّدٍ(ص) اٴَنِّی لَمْ اَرُدُّ عَلیٰ الله وَ لَا عَلیٰ رَسُولِہِ سَاعَةً قَطُّ، وَ لَقَدْ وَاسَیْتُہُ بِنَفْسِي فِي المَوَاطِنِ الَّتِي تَنْکُصُ فِیْہَا الاٴبْطَالُ وَ تَتَاٴخَّرُ فِیْہَا الاٴقْدَامُ، نَجْدَةً اٴکْرَمَنِي الله بِہَا“۔
”اصحاب محمد میں سے صاحبان اسرار جانتے ھیں کہ میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا و رسول (ص) کی مخالفت نھیں کی، بلکہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مشکل مقامات پر ان کی نصرت کی جھاں بڑے بڑے سورما بھاگ جاتے تھے، اور اُن کے قدم لڑکھڑا جاتے تھے، خدا نے اس شجاعت و دلیری کے ذریعہ میری لاج رکھی ”اور میں نے پیامبر کا دفاع کیا“۔
قارئین کرام!یہ وہ خصوصیات اور خوبیاں ھیں جو فقط امام عالی مقام کا طرہ امتیاز تھیں کوئی با شعور انسان اس حقیقت کا انکار نھیں کرسکتا، لیکن وہ لوگ جن کے دلوں پر مھریں لگ چکی ھیں وہ کبھی حقیقت کو بیان نھیں کرسکتے اور نہ اس کو ہضم کرسکتے ھیں۔
امام علی علیہ اسلام کی علمی شخصیت پر گفتگو کرنے کی اس طالب علم میں تو ہمت نہیں ہے ایک جگہ اور ملتا ہے کہ اس کرہ ارض کے تمام درخت قلم اور سمندر روشنائی بن جائیں تو بھی اس موضوع کا احاطہ نا ممکن ہےمگر رسول اعظم پیغمبر عظیم الشان اسلام کا ارشاد گرامی ھے کہ ”میں علم کا شھر ھوں اور علی اس کا دروازہ“ ، جن افراد کو شھر علم تک پہنچنا ھے ان کو دو دفعہ علی (ع) کا محتاج ھونا ضروری ھے
۔ایک دفعہ جاتے ھوئے اور دوسری مرتبہ واپس آتے ھوئے، امام علیہ السلام نہج البلاغہ میں اپنی علمی شخصیت کو یوں بیان کرتے ھیں:
فَاٴسْاٴلُوْنِي قَبْلَ اٴنْ تَفْقِدُوْنِي فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ لَاتَسْاٴلُوْنِي عَنْ شَيٍ فِیْمَا بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ السَّاعَةِ وَ لَا عَنْ فِیٴةٍ تَہْدِي مِاَئةً وَ تُضِلُّ مِاَئةً إلاَّ اٴَنْبَاتُکُمْ بِنَاعِقَہَا وَ قَائِدَہَا وَ سَائِقِہَا“
”مجھ سے بوچھ لو قبل اس کے کہ میں تمھارے درمیان نہ رھوں، مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ھے، ممکن نھیں ھے کہ تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمھیں جواب نہ دے سکوں، میں آج سے قیامت تک کے واقعات کی خبر دے سکتا ھوں، ایک گروہ جو سو بندوں کو ھدایت کرتا ہ ے یا سو بندوں کو گمراہ کرتا ھے وہ بھی بتا سکتا ھوں، اُن کے ھانکنے والے ان کے رہبروں اور ان کے سربراھوں کے بارے میں مطلع کرسکتاھوں“۔
یہ کلمات امام علی علیہ السلام کے علم کی ایک جھلک ھے، اور شاھد ھے کہ کائنات میں آپ جیسا عالم نہ تھا نہ ھوگا، اور یہ آپ کی اولویت پر واضح دلیل ھے۔
عدالت کے اعتبار سے امیر المومنین امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ھیں:
”وَ الله لَقَدْ رَاٴئتُ عَقِیْلاً وَ قَدْ اٴمْلَقَ حَتیّٰ اَسْتَمَاحَنِي مِن بُرِّکُمْ صَاعاً وَ رَائتُ صِبْیَانَہُ شُعْثَ الشُّعُوْرِ غَبِرَ الاٴلْوَانِ مِنْ فَقْرِہِمْ کَاٴنَّمَا سوِّدَتْ وُجُوْہُہُمْ بِالْعَظْمِ وَ عَاوَدَنِي مُوٴَکِّداً“۔
”خدا کی قسم میں نے دیکھا کہ میرا بھائی عقیل تنگ دست ہے، اور اُس نے مجھ سے درخواست بھی کی کہ بیت المال سے کچھ وظیفہ بڑھادیں اور میں نے ان کے بچوں کو دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے اُن کے بال اور رنگ متغیر ھوچکا تھا، عقیل نے بار بار اصرار بھی کیا۔۔۔ تاکہ میں عدالت سے ھاتھ اٹھالوں، لیکن میں نے لوھے کی گرم سلاخ کو عقیل کی طرف بڑھایا، عقیل چونکے، اے بھائی مجھے آگ سے جلانا چاہتے ھو تو میں نے کھا: اے عقیل تم دنیا کی آگ میں جلنا پسند نھیں کرتے لیکن مجھے جہنم کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ھو جو زیادہ سخت ھے“۔
اسے عدالت محوری کہاجاتا ھے کہ سگے بھائی کو جو تنگدست بھی ھے بیت المال سے زیادہ دینا گوارہ نھیں کیا جاتا۔
امام علی علیہ السلام کے زھد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ کو خبر دی گئی کہ عثمان بن حنیف جو بصرہ کا گورنر تھا وہ کسی ایسی دعوت میں اور ایسی محفل میں شامل ھوئے ھیں جھاں سب اُمراء شریک تھے، اس میں غریب نہ تھے، تو امام علی علیہ السلام نے اس کے پاس ایک خط لکھا اورآگاہ کرتے ھوئے فرمایا:
”اَلاَ وَ إنَّ لِکُلِّ مَامُوْمٍ اِمَاماً یَقْتَدِي بِہِ۔۔۔ اِلاَّ وَ اِنَّ اِمَامَکُمْ قَدْ اِکْتَفیٰ مِنْ دُنْیَاہُ بِطِمْرَیْہِ وَمِنْ طَعْمِہِ بِقُرْصَیْہِ“۔
”اے حنیف کے بیٹے!“ آگاہ رھو کہ ھر ماموم کے لئے ایک امام ھوتا ھے جس کی وہ پیروی کرتا ھے اور اس کے علم کے نور سے روشنی حاصل کرتا ھے، کیا تمھیں نھیں معلوم آپ کا امام دنیا سے دو پُرانے کپڑے پہن کر اور دو خشک روٹیاں کھا کر گزر بسر کرتا ھے، (اور تم ایسی دعوت میں شریک ھوتے ھو)
امام علی علیہ السلام محتاج اور نیازمند لوگوں کے ساتھ ھمدردی فرماتے تھے، چنانچہ آپ ھی کا فرمان ھے:
”اَ اٴَقْنَعَ مِنْ نَفْسِي بِاٴنْ یُقَالُ ہَذَا اٴمِیْرُ الْمُوْمِنِیْنَ وَ لَا اُشَارِکْہُم فِي مَکَارِہِ الدَّہْرِ“۔
”کیا میں اس بات پر اپنے نفس کو قانع کرلوں کہ مجھے امیر المومنین کھا جائے، جبکہ ان کی مشکلات اور تلخیوں کے ساتھ شریک نہ ھوں، بلکہ میں مشکلات میں ان کے لئے نمونہ بنوں گا، میں ”علی“ لذیذ غذا کھانے کے لئے پیدا نھیں ھوا ھوں جیسا کہ حیوانات کا پورا ھم و غم چارہ اور گھاس ھوتا ھے۔
امام علی علیہ السلام مقصد خلقت کو درد بانٹنے اور ھمدردی انسانیت کے اندر پیادہ کرتے ھوئے نظر آتے ھیں، یعنی انسان کو عیش و عشرت کے لئے خلق نھیں کیا گیا ھے، بلکہ انسانیت کی ھمدردی کے لئے خلق کیا گیا ھے، یھی تو انسانیت کا امتیاز ھے۔
حضرت علی (ع)اور حق محوری امام علیہ السلام حق پرست، حق جو، حق دوست اور حق گو تھے، جیسا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: ”علی مع الحق، و الحق مع علی“، علی حق کے ساتھ ھیں اور حق علی (ع)کے ساتھ ھے، امام علیہ السلام کو پورا جھاد حق کے قیام کے لئے تھا، چنانچہ آپ نہج البلاغہ میں فرماتے ھیں:
”وَ الله لَہِیَ اٴحَبُّ إلَیَّ مِنْ إمْرَ تِکُمْ إلاَّ اٴَنْ اٴُقِیْمَ حَقّاً اٴوْ اٴَدْفَعَ بَاطِلاً“۔
”قسم بہ خدا! میرے اس جوتے کی قیمت تم پر حکومت کرنے سے زیادہ ھے مگر یہ کہ اس کے ذریعہ سے حق کو قائم کرسکوں اور باطل کو مٹا سکوں“۔
اس کے بعد اسی خطبہ میں ارشاد فرماتے ھیں:
”فَلا نْقَبَنَّ الْبَاطِلَ حَتّیٰ یَخْرُجُ الْحَقُّ مِنْ جَنْبِہِ“۔
”میں باطل کو شگافتہ کرنا چاہتا ھوں تاکہ حق کو اس کے پھلو سے نکال لوں“۔
قارئین کرام! ان جملوں کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی حق دوستی اور حق محوری روشن ہوجاتی ہے۔
! پیغمبر اکرم ؐکی پوری زندگی میں علی علیہ السلام آپ کے محافظ اور جانثار کے طور پر آپ کی حفاظت میں مشغول رھے ھر میدان میں آپ کی آواز پر لبیک کہتے رھے یھاں تک رحلت کے موقع پر جب سب حضرات آپ کا جنازہ چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ میں چلے گئے لیکن وارث رسول غسل و کفن میں مصروف رھا، ان روشن دلیلوں کے باوجود جو آپ کے وارث رسول ھونے میں شک کرے وہ شخص اپنی قسمت پر گریہ کرے، امام علی علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں یہ چند معروضات تھیں ، اختصار کو مد نظر رکھتے ھوئے اسی پر اکتفاء کیا جاتا ھے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
………………,,,,,,,,,
ولادتِ امام محمد تقی الجوادعلیہ السلام
(195ہجری 12 اپریل 811عیسوی)
انتخاب اکمل سید لندن
تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ امام محمد تقی الجواد علیہ السلام سنہ 195ہجری کو مدینۃ النبی، یثرب|مدینہ طیّبہ میں پیدا ہوئے ہیں لیکن یوم ولادت پر اختلاف ہے۔ محدث کلینی اپنی کتاب الکافی میں، شیخ مفید الارشاد میں شہید ثانی الدروس میں اور متعدد دیگر اکابرین کا کہنا ہے کہ امام جواد علیہ السلام رمضان المبارک سنہ 195 میں پیدا ہوئے ہیں لیکن انھوں نے آپ کا روز ولادت متعین نہیں کیا ہے؛ تاہم بعض کا کہنا ہے کہ آپ 19 رمضان سنہ 195 کی شب کو متولد ہوئے ہیں اور بعض دیگر کے مطابق آپ 15 رمضان کو پیدا ہوئے ہیں۔ شیخ طوسی مصباح المتہجد میں لکھتے ہیں کہ امام جواد علیہ السلام 10 رجب المرجب کےروز پیدا ہوئے ہیں۔
آج کی رات بھیک اور عقیدت کی رات ہے
موضوع ملا امام تقیؑ وقت کی ضرورت ہے
ایں شب مرتضیٰ کے ہونٹوں پر پھر سے مسکراہٹ آگئی
یہ امامتؑ کی خاص آیت کا نزولِ وقت ہے
امام رضا کی بہن حکیمہ بنت امام موسی کاظم(ع) سے مروی ہے کہ جب امام علی رضا علیہ السلام کی زوجہ معظمہ خیزران کے ہاں بچے کی پیدائش کا وقت آن پہنچا ہے آپ بھی تیاری کریں؛ چنانچہ میں جناب خیزران اور دائی کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئی۔ درد زہ شروع ہوتے ہی چراغ بجھ گیا۔ میں فکرمند ہوئی تاہم کچھ لمحوں بعد امام جواد علیہ السلام نے چودھویں کے چاند کی مانند طلوع کیا جبکہ ایک پتلے کپڑے نے آپ کا جسم ڈھانپا ہوا تھا، ایسا نور آپ کے جسم اطہر سے ساطع ہورہا تھا کہ پورا کمرہ روشن ہوگیا۔ میں نے نومولود کو اٹھا کر اپنے دامن پر رکھا اور وہ پتلا سا کپڑا اس کے جسم سے الگ کیا۔ اسی وقت دروازہ کھل گیا اور امام علی رضا علیہ السلام داخل ہوئے طفل کو مجھ سے لے گہوارے میں لٹایا اور مجھ سے فرمایا: اے حکیمہ! گہوارے کا خیال رکھیں۔ تین دن گذرنے کے بعد حضرت جواد علیہ السلام نے اپنی مبارک آنکھیں آسمانی کی طرف کھول دیں۔ پھر دائیں اور بائیں نظر دوڑا دی اور فرمایا:
“أشهَدُ ان لا اله الا اله وأشهد أنّ محمداً رسول الله”۔ (ترجمہ: گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہيں ہے اللہ کے سوا اور محمد(ص) اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں۔
میں ہراساں ہوکر امام رضا(ع) کی خدمت میں پہنچی اور عرض کیا: میں نے اس طفل کی طرف سے اس طرح کے حیرت انگیز عمل کا مشاہدہ کیا! امام(ع) نے فرمایا: آپ نے کون سی حیرت انگیز چیز دیکھی ہے؟ میں نے جو کچھ میں نے سنا تھا آپ(ع) کو کہہ سنایا۔ امام(ع) نے فرمایا آپ جو حیرت انگيز چیزیں اس طفل کی طرف سے دیکھیں گی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو آپ نے سنا۔
آج دسویں ہے رجب آئے کہاں ہے نوروز
مسندِ احمدؐ مرسل کا نواں ہے نوروز
بڑھ کے آگے جو بہ حیرت نگراں ہے نوروز
بعد دو روز کے اِک اور بھی ہاں ہے نوروز
آج یہ دھوم مچی ہےکہ تقیؑ آتے ہیں
کل پکارے گا یہ کعبہ کہ علی آتے ہیں
آپ کی کنیت ابو جعفر اور لقب جواد اور ابن الرضا ہے۔ آپؑ کو جواد لقب ملنے کہ وجہ آپؑ کی بکثرت بخشش و عطا ہے۔ آپؑ نے دوران خلافت مامون عباسی اور معتصم عباسی 17 سال امامت کے فرائض انجام دیے
بچپن میں امامت ملنے کی وجہ سے امام رضاؑ کے بعض اصحاب آپ کی امامت کے سلسلے میں شک و تردید کا شکار ہوئے۔ امام رضاؑ کے بعض اصحاب عبدالله بن موسی کی امامت کے قائل ہوئے جبکہ بعض دیگر احمد بن موسی شاہچراغ کو امام ماننے لگے۔ بعض نے واقفیہ کا راستہ اختیار کیا۔ البتہ اکثریت نے آپؑ کی امامت کو قبول کیا۔
عمر نو سسال کی ہے اور نہیں علم کی حد
کیوں نہ یکتائے جہاں ہوں کہ یہ ہیں نورِ احد
باپ اور باپ کے جد اُن کے بھی جد اُنکے بھی جد
سب ہیں منصوص منَ اللہ امام میں سند
جداعلی وہ علی جس کا ہے بوتا بھی علیؑ
خود محمدؐ ہیں علیؑ باپ ہیں بیٹا بھی علیؑ
آپ کا سلسلہ نسب 6 واسطوں سے شیعوں کے پہلے امام، امام علی بن ابی طالب تک پہچتا ہے۔ آپ کے والد امام علی رضاؑ شیعوں کے آٹھویں امام ہیں۔
آپ کی والدہ ایک کنیز تھیں جن کا نام سبیکہ نوبیہ تھا۔
آپؑ کی کنیت ابو جعفر و ابو علی ہے۔منابع حدیث میں آپؑ کو ابو جعفر ثانی کہا جاتا ہے۔
تا کہ اسم کےلحاظ سے ابو جعفر اول امام محمد باقرؑ سے مشتبہ نہ ہو۔جواد اور ابن الرضا آپؑ کے مشہور القاب میں شمار ہوتے ہیں۔جبکہ تقی، زکی، قانع، رضی، مختار، متوکل،مرتضی اور منتجَب آپؑ کے دوسرے القب ہیں۔
کتاب کافی کی روایت کےمطابق امام محمد تقیؑ کی ولادت سےقبل واقفی مذہب کے بعض افراد امام رضاؑ کے ہاں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے آپؑ کی امامت میں شک و تردید کرنے لگے۔یہی سبب ہے کہ جس وقت امام محمد تقیؑ کی ولادت ہوئی امام رضاؑ نے انہیں شیعوں کے لئے با برکت مولود قرار دیا۔ان کی ولادت کے باجود بھی بعض واقفیہ نے امام رضاؑ سے ان کے انتساب کا انکار کیا۔ وہ کہتے تھے کہ امام محمد تقیؑ شکل و صورت کے اعتبار سے اپنے والد امام رضاؑ سے شباہت نہیں رکھتے۔ یہاں تک کہ قیافہ شناس افراد کو بلایا گیا۔ ان کے کہنے سے آپ کو امام رضاؑ کا فرزند مانا گیا۔ آپ کی زندگی کے بارے میں تاریخی مصادر میں چندان معلومات ذکر نہیں ہوئے ہیں۔اس کا سبب عباسی حکومت کی طرف سے سیاسی طور پر نظر بندی، تقیہ اور آپ کی کم عمری بتایا گیا ہے۔آپ مدینہ میں قیام پذیر تھے۔
آپ نے ایک بار اپنے والد سے ملاقات کے لئے خراسان کا سفر کیا اور امامت کے بعد کئی بار آپ کو عباسی خلفاء کی طرف سے بغداد طلب کیا گیا۔
سنہ 202ھ یا 215ھ میں امام محمد تقی کی شادی مامون عباسی کی دختر ام فضل سے ہوئی۔ بعض مآخذ میں احتمال ظاہر کیا گیا ہے کہ امام محمد تقیؑ کی اپنے پدر امام رضاؑ سے خراسان میں ملاقات کے دوران مامون نے اپنی بیٹی کی شادی امام جوادؑ سے کرادی ہے۔اہل سنت مورخ ابن کثیر((701-774ھ)) کے مطابق امام محمد تقیؑ کے ساتھ مامون کی بیٹی کا خطبۂ نکاح حضرت امام رضاؑ کی حیات میں پڑھا گیا لیکن شادی اور رخصتی سنہ 215 ہجری میں عراق کے شہر تکریت میں ہوئی۔
تاریخی منابع کے مطابق یہ شادی مامون کی درخواست پر ہوئی۔ مامون کا مقصد یہ تھا کہ اس شادی کے نتیجے میں وہ پیغمبر اکرم (ص) و امام علی (ع) کی نسل سے پیدا ہونے والے بچے کا نانا قرار پائے گا۔ کتاب الارشاد میں شیخ مفید کے نقل کے مطابھ، مامون نے امام محمد تقیؑ کے علم و فضل، دانش و حکمت، ادب و کمال اور امامؑ کی کم سنی کے باوجود بے مثال عقل کو دیکھ کر اپنی بیٹی کا عقد امام سے کیا۔لیکن بعض محققین جیسے رسول جعفریان (پیدائش: 1343ہجری شمسی) کا ماننا ہے کہ مامون نے سیاسی مقصد کے حصول کے لیے یہ شادی کرادی تھی۔ منجملہ اس کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے ذریعہ امامؑ اور شیعوں سے ان کے رابطے پر نظر رکھنا چاہتا تھا۔ یا خود کو علویوں کا چاہنے والا پیش کرے تاکہ وہ اس کے خلاف قیام نہ کریں۔شیخ مفید کے نقل کے مطابق مامون کے قریبی بعض عباسیوں نے اس شادی پر اعتراض کیا۔ ان کے اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ انہیں ڈر محسوس ہوا کہ کہیں حکومت، عباسیوں کے ہاتھ سے نکل کر علویوں کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ امامؑ نے اس ام الفضل کا حق مہر حضرت زہراءؑ کے حق مہر یعنی 500 درہم رکھا۔ ام الفضل سے امامؑ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
امام محمد تقیؑ کی دوسری زوجہ سمانہ مغربیہ تھیںوہ ایک کینز تھیں جنہیں خود امام کے حکم سے خریدی گئی تھی۔امام کی تمام اولاد اسی زوجہ سے ہوئیں۔
امام محمد تقیؑ کا وکالتی نظام کے تحت خط و کتابت کے ذریعے لوگوں سے رابطہ رہتا تھا۔ آپؑ کے دور امامت میں اہل حدیث، زیدیہ، واقفیہ اور غلات جیسے فرقے بہت سرگرم تھے اسی وجہ سے آپ اپنے ماننے والوں کو ان مذاہب کے باطل عقائد سے آگاہ کرتے، ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع کرتے اور غالیوں پر لعن کرتے تھے۔
امام جوادؑ کے دوسرے مکاتب فکر کے علماء اور دانشوروں کے ساتھ کلامی مناظرے جیسے شیخین (ابو بکر و عمر) کی خلافت کا مسئلہ، کےعلاوہ فقہی مناظرے ہوئے؛ جیسے چور کا ہاتھ کاٹنا اور احکام حج وغیر۔ امام محمد تقیؑ سے صرف 250 احادیث نقل ہوئی ہیں۔ نقل حدیث کی قلت کہ یہ وجہ بتائی گئی ہےکہ اولا امام کم عمری میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے ثانیا آپؑ کو اپنے ہم عصر خلفا نے اپنے تحت نظر رکھا۔ آپؑ سے روایت نقل کرنے والے راویوں اور اصحاب کی تعداد 115 سے 193 بتائی گئی ہے۔ احمد بن ابینصر بزنطی، صفوان بن یحیی اور عبد العظیم حسنی آپؑ کے اصحاب مہیں شمار ہوتے ہیں۔ شیعہ کتبمیں آپؑ سےمنسوب کچھ کرامات کا تذکرہ ملتا ہے جن میں ولادت کے فورا بعد بات کرنا، طی الارض، مریضوں کو شفا دینا اور استجابت دعا شامل ہیں۔ اہل سنت کے علما بھی امام جوادؑ کے علمی اور روحانی مقام و مرتبے کے معترف ہیں لہذا وہ لوگ بھی آپؑ کی تعریف و تمجید اور احترام کرتے ہیں۔
۔ اکثر منابع تاریخی کے مطابق امام محمد تقیؑ سنہ 220ہجری ماہ ذی القعدہ کی آخری تاریخ کو 25 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ شیعہ ائمہؑ میں آپ جوان ترین امام ہیں جنہیں شہید کیے گئے۔ آپؑ کو کاظمین میں اپنے جد امجد امام موسی کاظمؑ کے جوار میں مقبرہ قریش میں دفن کیا گیا۔
آخر میں حضرت نسیم امرہوی نے کچھ اس طرح سے رجب کی دسویں تاریخ کو امام کو خراج تحسین پیش کیا کچھ انتخاب پیش خدمت ہے ۔۔۔۔
جن کو بچپن میں ملی علم کی مسند وہ تقی
باقرِ علم ہیں جن کےجدِ امجد وہ تقی
گھر میں حیدر کے جو ہیں نائب احمدؐ وہ تقی
کہہ گئے اَوسَطُنا جن کو محمد وہ تقی
گر لقب پوچھو تو جوّاد ہیں اور قانع
گھر لٹا دیتے ہیں اِسراف بھی مانع ہیں
نسیم امرہوی
جاری ہے
…………………………………..
أَلسَّلامُ عَلَی الرَّضیعِ الصَّغیرِ
انتخاب اکمل سید لندن ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔اس تحریر کو لکھنےکرنے کے لئے انٹر نیٹ اور قبلہ حافظ کفیت حسین کی کتاب سے استفاد کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ولادت باسعادت ، باب الحوائج مولأ علي أصغر(ع) مبارک ہو
رباب امرؤ القیس بن عدی کی بیٹی سُکَینہ اور عبداللّہ۔ رباب کربلا میں موجود تھیں اور اسیر ہو کر شام تک گئیں۔ اکثر کتابوں میں عبد اللہ کو شہادت کے وقت شیرخوار نقل کیا گیا ہے۔آج کل شیعہ انھیں علی اصغرؑ کے نام سے جانتے ہیں۔
نصرت دین خدا کرنے کو اصغرؑ آگئے
خانۂ شبیرؑ میں تصویر حیدرؑ آگئے
عاشورا کے دن میں دُنیا میں جابجا جھولے نکالے جا رہے ہیں۔ شبیہ جھولے کی نکالی جارہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ یاد کرلیں کہ ایک شیر خوار بچہ بھی تھا جس کا جھولا خالی ہوگیا تھا۔ امام حسین علیہ السلام کے اِن بچوں پر پانی بند ہوگیا۔ کچھ کوزوں میں پانی جو تھا، وہ بڑے آدمیوں نے یعنی جوانوں اور بوڑھوں نے ساتویں تاریخ کی شام ہی سے پینا چھوڑ دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ پانی بند ہوگیا ہے۔ جو کچھ پانی ہے، اگر وہ بچوں کیلئے رہ جائے تو اچھا ہے۔ ہم اگر پئیں گے تو یہ ختم ہوجائے گا اور بچے تڑپنے لگیں گے۔چنانچہ بچوں کیلئے کچھ آٹھویں تک ہوگیا تھا، کیوں؟ اس لئے کہ امام حسین کے ساتھ بہت بڑا قافلہ تھا۔لیکن اکثر کتابوں میں لکھا ہے کہ ساتویں تاریخ سے امام حسین اور اُن کے قافلہ پر پانی بند کردیا گیا تھا۔
آپ نے ساتویں کی شام، لوگوں سے کہا کہ بھائیو! چلے جاؤ، دیکھو اب مصیبتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ اب پانی بند ہوگیا ہے۔ تم ان تکالیف کو برداشت نہ کرسکو گے۔ تمہارے ساتھ بال بچے ہیں۔ ان کو لے کر نکل جاؤ، کچھ لوگ نکل گئے۔
آٹھویں تاریخ آئی تو رات کو پھر آپ نے جمع کیا اور فرمایا: ہاں! اگر تم جاؤ گے تو یہ لوگ اور خوش ہوجائیں گے کہ تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔حضور! شب ِ عاشور بھی کچھ لوگ نکلے ہیں جب امام حسین نے خیمے میں چراغ گل کردیا ہے۔
جنابِ سکینہ سے روایت ہے کہ میں پھوپھی کی گود میں تھی اور میں یہ کہہ رہی تھی کہ پھوپھی جان! میں پیاس سے مر جاؤں گی تو میری پھوپھی جان کبھی اس خیمے میں لے جاتی تھیں، کبھی اُس خیمے میں جاتی تھیں تو اس وقت ہم ایک ایسے خیمے میں تھے کہ جہاں سے پدرِ بزرگوار کی آواز آرہی تھی۔ آپ لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ دیکھو! تمہیں یہ خیال ہوگا کہ میرے نانا تم سے ناراض ہوجائیں گے۔ میں نانا سے کہہ دوں گا کہ میں نے خود بھیجا تھا۔ چنانچہ جنابِ سکینہ کہتی ہیں
کہ اس تاریکی میں لوگ خیمے سے نکلنا شروع ہوگئے اور میں نے اپنی پھوپھی سے کہا کہ پھوپھی جان! کیا میرے بابا تنہا رہ جائیں گے تو گویا اس شب تک آپ نے رخصت کیا ہے۔ اس کے بعد پھر بھی عاشور کی شب چوراسی بیبیاں تھیں تو اتنے لوگ ساتھ تھے۔ پانی تو ساتویں محرم سے ختم ہوگیا تھا۔جب نویں تاریخ آئی تو بچے العطش العطش کہتے ہوئے ادھر اُدھر پھر رہے تھے۔ مگر مجھے حیرت ہے کہ میں نے جنابِ سکینہ کے متعلق دیکھا ہے کتابوں میں کہ کبھی کبھی دروازہ پر آکر کہتی تھیں کہ بابا! پیاس نے مار ڈالا ہے۔ کبھی یہ آواز دیتی تھیں، چچا! میں پیاس سے مرجاؤں گی۔مگر میں نے آج تک نہ دیکھا کہ کسی امام کے صحابی کے کسی بچے نے آواز دی ہو۔ دراصل اپنے بچوں کو مائیں چھوڑتی نہ تھیں کہ کسی خیمے پر جائیں یا کسی دروازے پر جائیں،کیوں، اس لئے کہ حسین ان کی آواز سن لیں گے تو انہیں تکلیف ہوگی۔
ساتویں تاریخ جو فوجیں آئیں کچھ اور زیادہ تو انہوں نے یہ کام کیا کہ اپنے گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے ادھر سے اُدھر چلے گئے اور اُدھر سے اِدھر آگئے۔ زمین جو ہلنے لگی تو بیبیوں کے دل دہل گئے۔ اس فکر کی وجہ سے اور اس خوف کی وجہ سے علی اصغر کی والدہ کا دودھ خشک ہوگیا۔ امتحان تھا ناں!امتحان تھا کہ انتہائے مظلومیت بھی دیکھ لو اور انتہائے ظلم بھی دیکھ لو۔
بچہ گہوارہ میں پڑا ہوا ہے۔ ہونٹ خشک ہوچکے ہیں مگر رونے کی آواز نہیں۔ چودہ دن کا تھا جب مدینہ سے روانہ ہوئے ہیں۔آج چھ مہینے کا ہوا ہے۔ پیاس کی شدت سے آنکھوں میں حلقے پڑ چکے ہیں۔ ہونٹ خشک ہیں مگریہ بچہ روتا نہیں۔ کبھی پھوپھی کو دیکھ لیتا ہے، کبھی ماں قریب آتی ہے تو اس کو نگاہ بھر کر دیکھ لیتا ہے۔ بہنیں آتی ہیں تو ان کو دیکھتا ہے یعنی زبان نہیں کہ کہے کہ پیاسا ہوں اور روتا نہیں،اس لئے کہ غالباً خبر ہے اسے کہ سب ہی پیاسے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کے اصحاب جارہے ہیں۔ عورتیں اپنے بیٹوں کو سنوار سنوار کر بھیج رہی ہیں کہ جاؤ! آج قربانی کا دن ہے۔حسین پر قربان ہوجاؤ۔ جنابِ رباب جن کا بچہ ہے یہ جس کا نام ہے علی اصغر ۔ کبھی بچے کی طرف دیکھ کر کچھ سوچتی ہیں اور کبھی گود میں لے کر اِدھر اُدھر ٹہلتی ہیں۔ جنابِ رباب نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جنابِ زینب نے اپنے بچوں کو کس طرح میدان میں بھیجا اور اُن کی لاشیں آئیں۔جنابِ رباب نے یہ بھی دیکھاکہ کس طرح سے قاسم کی لاش خیمے میں آئی۔
یہ سب ہوچکا ہے۔ امام حسین علیہ السلام علی اکبر کی لاش لے آئے ہیں، حتیٰ کہ جنابِ عباس علیہ السلام کی لاش کو دریا کے کنارے چھوڑ آئے ہیں اور اب کوئی نہ رہا۔ جب کوئی نہ رہا تو میدان میں آئے اور فرماتے ہیں : کوفے اور شام کے رہنے والو! اب میرا کوئی نہیں رہا۔ اب میں اتنا زخمی ہوچکا ہوں کہ زندہ نہ رہوں گا۔ ارے تھوڑا سا پانی پلادو۔ اِن لوگوں کے جو جو جوابات تھے، وہ آپ سے کیا عرض کروں! ایک مرتبہ یہ آواز دیتے ہیں اور اِتمامِ حجت کررہے ہیں۔عاشور کے دن یہ آواز آپ نے دو تین مرتبہ دی ہے:”ھَلْ مِنْ نَاصِرٍ یَنْصُرُنَا،ھَلْ مِنْ مُغِیْثٍ یُغِیْثُنَا”۔”کوئی مددگار ہے جو اس وقت میری مدد کو آئے، کوئی فریاد رسی کرنے والا ہے جو اس وقت میری فریاد رسی کرے”۔
یہ آواز جو دی تو ادھر سے تو کسی نے آواز نہ دی، کسی نے لبیک نہ کہا، البتہ خیموں کی طرف سے بیبیوں کے رونے اور شیون و فریاد کی آواز پہنچی۔ آپ اس طرف متوجہ ہوئے۔ جوں جوں خیمے کی جانب بڑھتے جاتے ہیں، بیبیوں کے گریہ و بکا کی آوازیں بلند ہوتی جاتی ہیں۔ آخر جلدی جلدی جنابِ زینب کے خیمے پر پہنچے، آواز دی:بہن! میں ابھی زندہ ہوں۔ ارے تمہارے رونے سے یہ لوگ خوش ہورہے ہیں۔ تمہاری آوازیں بلند نہ ہوں جب تک میں زندہ ہوں۔ جنابِ زینب نے بھائی کی آواز سنی تو ایک مرتبہ دروازے پر آکر کہتی ہیں: بھیا! ذرا اندر تو آئیے۔ کیا قیامت ہوگئی۔ اندر گئے، فرمایا کیا ہے؟ عرض کرتی ہیں: بھیا! نہیں معلوم آپ کی اس فریاد میں کیا اثر تھا کہ علی اصغر نے جھولے میں تڑپنا شروع کردیا اور پھر اس کے بعد اتنا تڑپے کہ جھولے سے گرگئے۔ میں نے گود میں اُٹھایا، قرار نہیں آتا۔ ماں گود میں لیتی ہے تو چپ نہیں ہوتے۔ بہنیں لیتی ہیں تو خاموش نہیں ہوتے۔ یہ حالت دیکھ کر بیبیوں میں کہرام برپا ہوگیا ہے۔
ہاں بہن میں سمجھ گیا۔ ان کو تو میں لایا تھا اور سوچ سمجھ کر لایا تھا۔ اچھا تو بہن! میں ایسا کرتا ہوں کہ ان کو لئے جاتا ہوں۔ پانی مانگوں گا۔ جنابِ علی اصغر کی خاموش ماں، کبھی بچے کو دیکھتی ہیں، کبھی حسین کو دیکھتی ہیں۔
علی اصغر کو مجھے دے دو، میں لئے جارہا ہوں۔جب حسین کے ہاتھوں پر آئے علی اصغر اور آپ دروازے کی طرف چلے تو ابھی تک مادرِ علی اصغر خاموش کھڑی تھیں۔
جب حسین جانے لگے تو ایک مرتبہ تیزی سے بڑھیں اور سامنے آکر عرض کیا: میرے آقا! ذرا میرے بچے کو مجھے دے دیجئے۔ امام حسین نے ماں کی گود میں دے دیا۔ بیبیاں یہ سمجھیں کہ پیار کرنے کیلئے شاید لے رہی ہیں۔ لیکن کیا کیا جنابِ رباب نے! گود میں لیتے ہی اپنے خیمے کی طرف چلیں۔ اپنے خیمے میں داخل ہوئیں۔ وہاں پہنچ کر صندوق کھولا،اس میں سے علی اصغر کا نیا کرتہ نکالا ۔ جسم پر جو کرتہ تھا،اُسے اتارا، نیا کرتہ پہنایا، آنکھوں میں سرمہ لگایا اور بالوں میں کنگھی کی۔ آخر میں آستین کچھ اوپر کی طرف اُلٹائے اور فرماتی ہیں: بیٹا! جو خیمے سے گیا، واپس نہیں آیا۔ اب تم جارہے ہو، واپس نہیں آؤ گے۔بیٹا اگر تیر لگ جائے تو رونا نہیں۔ اس کے بعد بچے کو لاکر امام حسین سے عرض کیا:آقا! یہ میرا تحفہ ہے، اس کو قبول کریں۔ یہ میری طرف سے قربانی ہے۔امام حسین آئے میدان میں۔ بچے کیلئے پانی مانگا، کسی نے نہ دیا۔ فرماتے ہیں: بیٹا! تم حسین کے بیٹے ہو، میری روحانیت میں شریک ہو۔ بیٹا! میرے کہنے سے پانی نہیں دیتے۔ بیٹا! ذرا تم ہی مانگ لو۔ اِس بچے نے کیا کیا؟ اپنی سوکھی زبان نکالی اور ہونٹوں کے اوپر پھیرنی شروع کردی۔
حالت یہ ہوئی کہ یزیدی فوج کے لوگ منہ پھیر کر رونے لگے۔ ابن سعد گھبرا گیا اور اُس نے حرملہ سے کہا: حرملہ جلدی کر۔ اُس نے ایک تیر جوڑا۔ تمام کتابوں میں ہے کہ وہ تین بھال کا تھا۔ لوہے کی بھالیں ، ننھا سا گلا، حسین کے بازو سے گلا ملا ہوا ہے۔ اِدھر سے تیر آیا۔ کیا عرض کروں! کیا ہوا؟ ایک مرتبہ بچہ اُچھلااور تیر حسین کے بازو میں پیوست ہوگیا۔ امام حسین علیہ السلام نے تیر جو کھینچا اولاد والو! تیر جو کھینچا تو علی اصغر کا گلا بھی تیر کے ساتھ چلا آیا۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: بیٹا علی اصغر ! ب تمہارے گلے سے تیر کھینچتا ہوں، اس کے بعد علی اصغر کے گلے سے تیر کھینچا۔ علی اصغر مسکرائے۔ مطلب یہ تھا، بابا! اماں کو سلام کہہ دیجئے گا کہ تیرا بیٹا رویا نہیں ہے۔
نام کتاب: روایات عزا
مصنف: علامہ حافظ کفایت حسین نور اللہ مرقدہ
جاری ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اس تحریر کو لکھنے میں انٹر نیٹ اور دیگر وسائل بروکار لائے گئے ہیں۔۔۔
پانچ رجب المرجب ۔۔۔۔
سیرت امام حضرت محمد تقی الہادی علیہ السلام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد معاشرے کی ہدایت و راہنمائی کی ذمہ داری ائمہ طاہرین علیہم السلام پر عائد کی گئی ہے چنانچہ ائمہ علیہم السلام نے اپنے اپنے عصری حالات کے پیش نظر یہ ذمہ داری بطور احسن نبھا دی اور اصل و خالص محمدی اسلام کی ترویج میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہيں کیا۔ ائمہ علیہم السلام کی ذمہ داری تھی کہ لوگوں کے عقائد کو انحرافات اور ضلالتوں سے باز رکھیں اور حقیقی اسلام کو واضح کریں چنانچہ امام علی النقی الہادی علیہ السلام کو بھی اپنے زمانے میں مختلف قسم کے انحرافات کا سامنا کرنا پڑا اور انحرافات اور گمراہیوں کا مقابلہ کیا۔ آپ (ع) کے زمانے میں رائج انحرافات کی جڑیں گذشتہ ادوار میں پیوست تھیں جن کی بنیادیں ان لوگوں نے رکھی تھیں جو یا تو انسان کو مجبور محض سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ انسان اپنے افعال میں مختار نہیں ہے اور وہ عقل کو معطل کئے ہوئے تھے اور ذاتی حسن و قبح کے منکر تھے اور کہہ رہے تھے کہ کوئی چیز بھی بذات خود اچھی یا بری نہيں ہے اور ان کا عقیدہ تھا کہ خدا سے (معاذاللہ) اگر کوئی برا فعل بھی سرزد ہوجائے تو درست ہے اور اس فعل کو برا فعل نہیں کہا جاسکے گا۔ ان لوگوں کے ہاں جنگ جمل اور جنگ جمل کے دونوں فریق برحق تھے یا دوسری طرف سے وہ لوگ تھے جنہوں نے انسان کو مختار کل قرار دیا اور معاذاللہ خدا کے ہاتھ باندھ لئے۔ یا وہ لوگ جنہوں نے دین کو خرافات سے بھر دیا اور امام ہادی علیہ السلام کے دور میں یہ سارے مسائل موجود تھے اور شیعیان اہل بیت (ع) کو بھی ان مسائل کا سامنا تھا جیسا کہ موجودہ زمانہ میں ہے ۔چنانچہ امام علیہ السلام نے ان تمام مسائل کا مقابلہ کیا اور ہر موقع و مناسبت سے لوگوں کے عقائد کی اصلاح کا اہتمام کیا۔
آپ سن و سال کے پانچویں برس میں تھے جب آپ کے والد بزرگوار امام رضاعلیہ السلام سلطنت عباسیہ کے ولی عہد ہو گئے اس کا مطلب و معنی یہ ہے کہ سن تمیز پر پہنچنے کے بعد ہی آپ نے آنکھ کھول کر وہ ماحول دیکھا جس میں اگر چاہا جاتا تو عیش و آرام میں کوئی کمی نہ رہتی مال و دولت قدموں کو چوم رہی تھی اور تزک و احتشام آنکھوں کے سامنے تھا پھر باپ سے جدائی بھی تھی کیونکہ امام رضاعلیہ السلام خراسان میںرہائش پذیر تھے اور احباب ومتعلقین تمام مدینہ منورہ میں تھے۔ اور پھر آپ آٹھویں ہی برس میں تھے کہ امام علی ابن موسیٰ رضاعلیہ اسلام نے دنیا ہی سےشہادت فرمائی۔
یہ وہ منزل ہے کہ جہاں ہمارے تاریخی کارخانہ تحلیل و توجیہہ کی تمام دوربینیں بیکار ہو جاتی ہیں۔ کسی دینوی مکتب اور درسگاہ میں تو نہ ان کے آباؤاجداد کبھی گئے نہ یہ جاتے نظر آتے ہیں۔ ہاں ایک معصوم کے لئے معصوم بزرگوں کی تعلیم و تربیت ناقابل انکار ہے مگر یہاں معصوم باپ سے چار پانچ برس کی عمر میں جدائی ہو گئی۔ ایک توارثِ صفات رہ جاتا ہے مگر ہر ایک جانتا ہے کہ اس سے صلاحیت کا حصول ہوتا ہے۔ فعلیت کے لئے پھر اسباب ظاہری کی ضرورت ہے۔ مگر یہ تاریخی واقعہ ہے کہ امام محمد تقی(ع) نے بچپن کی جتنی منزلیں اس کے بعد طے کیں وہ ابھی شباب کی سرحد تک بھی نہ تھیں کہ آپ کی سیرت بلند کی مثالیں اور علمی کمال کی تجلیاں دنیا کی آنکھوں کے سامنے آگئیں۔ یہاں تک کہ امام رضا(ع) کی وفات کے بعد ہی شاہی دربار میں اکابر علمائے وقت سے مباحثہ ہوا تو سب کو آپ کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا۔
اب یہ واقعہ کوئی صرف اعتقادی چیز بھی نہیں ہے بلکہ مسلم الثبوت طور پر تاریخ کا ایک جز ہے یہاں تک کہ اس مناظرہ کے بعد اسی محفل میں مامون نے اپنی لڑکی ام الفضل کو آپ کے حبالہ عقد میں دیا۔
یہ دُنیاوی سیاست مملکت کا ایک نئی قسم کا سنہرا جال تھا جس میں امام محمد تقی الہادی علیہ السلام کی کمسنی کو دیکھتے ہوئے خلیفہ وقت کامیابی کی پوری توقع ہو سکتی تھی۔
رسالہ ”نویں امام“ (شائع کردہ امامیہ مشن) میںدرج ہے۔
”بنی اُمیہ کے بادشاہوں کو آلِ رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا جتنا ان کے صفات سے۔ وہ ہمیشہ اس کے درپے رہتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ہے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلہ میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ہوا ہے یہ کسی طرح ٹوٹ جائے اسی کے لئے وہ گھبرا گھبرا کر مختلف تدبیریں کرتے تھے۔ امام حسین شہید کربلا سید الشہد علیہ السلام سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اور پھر امام موسیٰالر ضا علیہ السلام کو ولی عہد بنانا اسی کا دوسرا طریقہ
کی ایک چال تھی،، ظاہری شکل میں ایک کا انداز معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادت مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں کی ایک ہی تھی۔ جس طرح امام حسین علیہ السلام نے بعیت نہ کی تو وہ شہید کر ڈالے گئے اسی طرح امام موسیٰ الرضا علیہ السلام ولی عہد ہونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ نہ چل سکے تو آپ کی شمع حیات کو زہر کے ذریعہ سے ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا گیا۔
اب مامون کے اس نقطہٴ نظر سے یہ موقع انتہائی قیمتی تھا کہ امام موسی الرضاعلیہ السلام کا جانشین آٹھ نو برس کا ایک بچہ ہے جو تین چاربرس پہلے ہی باپ سے الگ کیا جا چکا تھا۔ حکومت وقت کی سیاسی سوجھ بوجھ کہہ رہی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقہ پر لانا نہایت آسان ہے جو ایک غلاظت بھری سوچ تھی اور اس کے بعد وہ مرکز جو حکومت وقت کے خلاف ساکن اور خاموش مگر انتہائی خطرناک قایم ہے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔ جو ایک ناممکن کوشش تھی اور مامون اس میں بری طرح ناکام رہا ۔۔۔اور اسے منہ کی کھانی پڑی۔۔۔۔
مامون امام رضاعلیہ السلام کی ولی عہدی کی مہم میں اپنی ناکامی کومایوسی کا سبب تصور نہیں کرتا تھا اس لئے کہ امام رضاعلیہ اللام کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوئی تو یہ ضروری نہیں کہ امام محمد تقی الہادی علیہ السلام آٹھ برس کے سن و سال میں خاندان شہنشاہی کا جز بنا لئے جائیں تو وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر برقرار رہیں۔
ان لوگوں کے جو ان خاص اور چنے ہوئے افراد کے خداداد کمالات کو جانتے تھے اس وقت کا ہر شخص یقیناً مامون کا ہم خیال ہو تھا۔ مگر حضرت امام محمد تقی الہادی علیہ السلام نے اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ آل محمد کی تمام ہستیاں عا م جذبات کی سطح سے بالاتر ہیں اور یہ بھی اسی قدرتی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں جن کے افراد ہمیشہ معراج انسانیت کی نشاندہی کرتے آئے ہیں آپ نے شادی کے بعد محل شاہی میں قیام سے انکار فرمایا اور بغداد میں جب تک قیام رہا آپ ایک علیحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام پذیر ہوئے او رپھر ایک سال کے بعد ہی مامون سے حجاز واپس لے جانے کی اجازت لے لی۔ اور مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے اور اس کے بعد حضرت کا کاشانہ گھرکی ملکہ کے دینوی شاہزادی ہونے کے باوجود بیت الشرف امامت ہی رہا۔
ان کا دولت کدہ دنیاوی قصر نہ بن سکا۔ ڈیوڑھی کا وہی انداز رہا جو اس کے پہلے تھا۔ نہ پہرے دار اورنہ کوئی خاص روک ٹوک۔ نہ تزک نہ احتشام۔ نہ اوقات ملاقات کی حدبندی۔ نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤ میں کوئی فرق۔ زیادہ تر نشست مسجد نبوی میں رہتی تھی جہاں مسلمان حضرت کے وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ راویان حدیث احادیت دریافت کرتے تھے۔ طالب علم مسائل پوچھتے تھے اور علمی مشکلات کو حل کرتے تھے۔ غربا و مساکین کی تربیت اور طعام و قیام کا انتظام یہ سب رعونت و شاہی سیاست کی شکست کا نتیجہ تھا کہ آخر آپ کی حیات مبارکہ کو بھی زہر سے اسی طرح خاتمہ کیا گیا جس طرح آل محمد علیہ السلام کے باقی بزرگوں کا اس سے پہلے کیا جاتا رہا تھا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
امام نہم علی نقی علیہ السلام کی حیات مبارکہ اور معجزات اور شہادت
اسم مبارک: علی
القابات: النجیب، المرتضی، الهادی، النقی، العالم، الفقیه، الآمین، المومن، الناصح، المفتاح
کنیت: ابوالحسن
والد بزرگوار: حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
والدہ گرامی: جناب سمانہ خاتون
تاریخ ولادت:15 ذی الحج 212 ھجری
جائے ولادت: مدینہ
تاریخ شھادت: 3 رجب 254 ھجری
روضہ مطہر: سامراء (عراق)
آپ (ع) کی عمر ابھی چھ سال پانچ مہینے تھی کہ ستمگر عباسی ملوکیت نے آپ کے والد کو ایام شباب میں ہی شہید کر دیا اور آپ (ع) نے بھی اپنے والد حضرت امام محمد تقی الجواد ع کی طرح چھوٹی عمر 22 ھجری میں میں امامت کا عہدہ سنبھالا تھا۔امام محمد تقی علیہ السلام کی شھادت کے بعد آپ مسند امامت پر جلوہ افروز ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمر آٹھ سال تھی، آپ نے 33 سال امامت کی، 41 سال اور چند مہینے اس دنیا میں زندہ رہے۔
ولادت مدینہ منورہ کے قریب ایک گاؤں بنام ” صریا ” میں ہوئی، جسے امام موسی کاظم (ع) نے آباد کیا اور کئ سالوں تک آپ کی اولاد کا وطن رہا تھا۔ حضرت امام علی النقی (ع) جو کہ ہادی اور نقی کے لقب سے معروف ہیں 3 رجب اور دوسری قول کے مطابق 25 جمادی الثانی کو سامرا میں شہید کیے گئے، حضرت امام علی النقی (ع) کا دور امامت، عباسی خلفاء معتصم ، واثق، متوکل ، منتصر ، مستعین ، اور معتز کے ہمعصر تھے۔ حضرت امام علی النقی (ع) کے ساتھ عباسی خلفا کا سلوک مختلف تھا، بعض نے امام کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو کسی نے حسب معمول برا ، البتہ سب کے سب خلافت کو غصب کرنے اور امامت کو چھیننے میں متفق اور ہم عقیدہ تھے، جن میں سے متوکل عباسی اہل بیت کی نسبت دشمنی رکھنے میں زیادہ مشہور تھا اور اس نے خاندان رسالت کو آزار و اذیت پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی ، یہاں تک کہ اماموں کی قبروں کو مسمار کیا ، خاص طور پر قبر مطہر سید الشہداء حضرت امام حسین (ع) اور اس کے اطراف کے تمام گھروں کو مسمار کر کے اور وہاں کھیتی باڑی کرنے کا حکم دیا۔ متوکل نے حضرت امام نقی (ع) کو سن 243 ہجری میں مدینہ منورہ سے سامرا بلایا ۔ عباسی خلفا میں سے صرف منتصر باللہ نے اپنے مختصر دور خلافت میں خاندان امامت و رسالت کے ساتھ قدرے نیک سلوک کیا۔ حضرت امام علی النقی (ع) کو سامرا ” عباسیوں کے دار الخلافہ” میں 11 سال ایک فوجی چھاونی میں قید رکھا ، اس دوران مکمل طور پر لوگوں کو اپنے امام کے ملاقات سے محروم رکھا گیا۔ آخر کار 3 رجب اور دوسری روایت کے مطابق 25 جمادی الثانی سن 254 ہجری کو معتز عباسی خلیفہ نے اپنے بھائی معتمد عباسی کے ہاتھوں زہر دے کر آپ کو شہید کر دیا۔
امام ہادی علیہ السلام کے امامت کے دور میں جو عباسی خلفاء گذرے ہیں اُن کے نام یہ ہیں :
1۔ معتصم ( مامون کا بھائی ) 217 سے 227 ھ تک
2۔ واثق ( معتصم کا بیٹا ) 227 سے 232 ھ تک
3۔ متوکل ( واثق کا بھائی ) 232 سے 248 ھ تک
4۔ منتصر ( متوکل کا بیٹا ) 6 ماہ
5۔ مستعین ( منتصر کا چچا زاد ) 248 سے 252 ھ تک
6۔ معتز ( متوکل کا دوسرا بیٹا ) 252 سے 255 ھ تک
سبط بن جوزی نے تذکرہ الخواص میں لکھا ہے کہ امام ع 20 سال اور 9 مہینے سامرا کی فوجی چھاؤنی میں نظر بند رہے۔ آپ کی شہادت بھی عباسی ملوکیت کے ہاتھوں رجب المرجب سن 254 ہجری کے ابتدائی ایام میں ہوئی۔
غاصب ظالم اور ستمگر خلفاء کے خلاف نوز چشمان رسالت کی مسلسل جنگ شیعت کی تاریخ کے لئے فخر آمیز ہے۔ ظالموں کے خلاف قیام، ظالموں اور جابروں سے عدل و انصاف کا مطالبہ خلفاء کے مزاج پر بہت گراں گزرتا تھا۔ غاصب خلفاء یہ بات جانتے تھے کہ شیعوں کے امام علیہ السلام عوام کی ہدایت، اثبات حق اور مظلوموں کی طرفداری سے ایک لحظہ بھی غافل نہیں رہتے تھے، مسلسل ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے اور عوام کے حقوق کی حفاظت کرتے اور اس راہ میں ثابت قدم رہتے ہیں، اسی بنا پر خلفاء کو ہمیشہ اپنے سروں پر خطرات منڈلاتے نظر آتے تھے۔ہمارے تمام آئمہ علیہم السلام صرف امت کے رہنما اور احکام قرآنی کے بیان کرنے والے نہیں تھے بلکہ شیعہ معارف کے مطابق امام علیہ السلام زمین پر اللہ کا نور، مخلوقات عالم پر اللہ کی حجت کاملہ، حیات کائنات کا محور، خالقِ اور مخلوق کے درمیان واسطہ فیض، روحانی کمالات کا آئنیہ نور، انسانی فضائل کا اعلٰی نمونہ، تمام اچھائیوں اور نیکیوں کا مجموعہ، علم اور قدرت خدا کا مظہر، بندگان خدا رسیدہ کا اعلٰی شاہکار، ہر طرح کے سہو و نسیاں سے پاک و صاف، رموز زمین، اسرار غیب، اور فرشتگان الٰہی کے راز داں، جن کی ولایت انبیاء و مرسلین سے بالا تر، جن کی حقیقت ان کے علاوہ کسی اور کے لئے قابل درک نہیں ہے، یہ پرودگار عالم کا خاص عطیہ ہے۔
جس سے صرف حضرت محمد و آل محمد علیہم السلام سے مخصوص رکھا، طمع کرنے والے کا یہاں گزارا نہیں ہے۔ آسمان امامت کے دسویں آفتاب، ہمارے مولی، ہمارے ولی و سرپرست حضرت امام ابو الحسن علی نقی علیہ السلام نے ہم شیعوں پر یہ احسان غظیم فرمایا کہ، زیارت جامعہ کبیرہ کی شکل میں معرفت امام علیہ السلام کا لامحدود اور پیش قیمت خزانہ ہمیں عطاء فرمایا۔ معارف خداوندی کے چمن کھلائے، اور علم و دانش کے گوہر روشن کئے اور اپنے دوستوں کو ان کی عقل و فہم کے مطابق رموز امامت سے روشناس کرایا ہے۔ حکمت الٰہی کے ایک گوشہ کی نقاب کشائی کی ہے۔ ہماری جانیں قربان ہوں اس خاک پاک پر جہاں امام علیہ السلام مدفون ہیں کہ ہمیں عظمت الٰہی سے آگاہ کیا اور تشنگان معرفت کو آب کوثر سے سیراب فرمایا۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے ایک دوست کی درخواست پر زیارت جامعہ کبیرہ اِسے تعلیم کی تھی کہ اس طرح آئمہ علیہم السلام کی زیارت کیا کرو۔
شیخ سلیمان بلخی کا شمار اہل سنت کے بڑے علماء میں ہوتا ہے۔ اپنی کتاب “ینابیع” میں لکھتے ہیں کہ متوکل کے حکم پر تین دن سے درندے متوکل کے محل میں لائے گئے، اسی وقت متوکل نے امام علی نقی علیہ السلام کو اپنے ہاں بلایا، جب آپ محل میں داخل ہوئے اس نے محل کا دروازہ بند کر دیا، درندے امام علیہ السلام کے گرد گھومنے لگے، امام علیہ السلام اپنی آستین سے درندوں کو پیار کر رہے تھے۔ اس کے بعد امام علیہ السلام اوپر متوکل کے پاس تشریف لے گئے۔ کچھ دیر گفتگو کرتے رہے
جب نیچے پہنچے تو پھر درندے آپ کے گرد گھومنے لگے یہاں تک کہ امام علیہ السلام محل سے باہر تشریف لے گئے متوکل نے امام علیہ السلام کو قیمتی تحفہ بھیجا۔ لوگوں نے متوکل سے کہا، تم نے دیکھا یہ درندے امام علیہ السلام کے ساتھ کیسے پیش آئے، تم بھی اسی طرح کرو، متوکل نے کہا تم لوگ مجھے قتل کرانا چاہتے ہو اور فورا حکم دیا کہ اس واقعہ کی خبر کسی اور کو نہ ہونے پائے۔
اسی طرح ثقافتی اور تبلیغی کام انجام دینے میں آپ آزاد نہیں تھے، لیکن آپ نے اسی ماحول میں اعتقادی اعتراض کے جوابات بھی دئیے ، حدیثی اور فقھی میدان میں کام انجام دیا اور بہت سے شاگردوں کی تربیت فرمائی ، فقھی مشکلات کا حل اور سوالات کے جوابات آپ کے علم و دانش پر بہترین گواہ ہیں۔
ایک عیسائی زنا کار جو کہ حد جاری ہونے سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا ، کے متعلق امام ہادی (ع) کا فقھی فتوی اور یحیی بن اکثم اور دوسرے درباری فقہاء کے نظریات کی مخالفت میں امام ہادی (ع) کا فتوی بہت اہم ہے۔
ابو ہاشم جعفری کہتا ہے کہ ایک مرتبہ کافی زیادہ تنگ دست ہوگیا، امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا اور اجازت حاصل کر کے بیٹھ گیا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا، اے ابو ہاشم خدا نے تمہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں اس کا شکر ادا کیا کرئو… میں خاموش ہو گیا، سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا جواب دوں، امام علیہ السلام نے خود فرمایا! خدا نے تم کو ایمان عطا کیا ہے جس سے تمہارے بدن کو آتش جہنم سے آزاد کیا، خدا نے تم کو صحت دی تاکہ اس کی اطاعت کر سکو، خدا نے تم کو قناعت عطاء کی تاکہ اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کر سکو، اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا، میں نے یہ باتیں اس لئے شروع کیں کیونکہ تم اس ذات کا شکوہ کرنے
والے تھے جس نے تم کو اتنی ساری نعمتیں عطاء کی ہیں… میں نے سو دینار کے لئے کہہ دیا ہے وہ لے کر جانا۔
اشتر علوی کہتا ہے میں اپنے والد کے ہمراہ متوکل کے یہاں تھا، اس وقت وہاں خاندان آل ابو طالب، آل عباس اور آل جعفر
کے افراد موجود تھے، اتنے میں امام علی نقی علیہ السلام تشریف لائے، وہ تمام لوگ جو اس وقت وہاں موجود تھے سب امام علیہ السلام کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ حضرت گھر چلے گئے، وہاں لوگ ایک دوسرے کو یہ کہہ رہے تھے کہ ہم ان کا احترام کیوں کریں۔ نہ ہم سے زیادہ بزرگ ہیں اور نہ ان کی عمر ہم سے زیادہ ہے۔ خدا کی قسم ہم انکے احترام میں ہر گز کھڑے نہیں ہوں گے۔ ابو ہاشم جعفری جو اس وقت وہاں موجود تھے ان سب سے کہنے لگے جب تم لوگ انہیں دیکھو گے ان کے احترام کرنے پر مجبور ہوگئے، اتنے میں امام ہادی علیہ السلام متوکل کے گھر سے تشریف لائے جیسے ہی لوگوں کی نگاہ امام علیہ السلام پر پڑی، سب احترام میں کھڑے ہو گئے۔ ابو ہاشم نے کہا، ابھی تم لوگ کیا کہہ رہے تھے کہ ہر گز ان کا احترام نہیں کریں گے…؟ کہنے لگے، ہم اپنے آپ پر قابو نہ پا سکے ہمیں بے اختیار ان کے احترام میں کھڑا ہونا پڑا۔
ایک اور نہایت شدید روحانی تکلیف جو امام (ع) کو اس دور میں پہنچی وہ متوکل کے احکام تشدّد تھے جو نجف اور کربلا کے زائرین کے خلاف اس نے جاری کیے۔ اس نے یہ حکم تمام قلم رو حکومت میں جاری کر دیا کہ کوئی شخص جناب امیر (ع) اور امام حسین (ع) کے روضوں کی زیارت کو نہ جائے۔ جو بھی اس حکم کی مخالفت کرے گا اس کا خون حلال سمجھا جائے گا-
اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے حکم دیا کہ نجف اور کربلا کی عمارتیں بالکل گرا کر زمین کے برابر کر دی جائیں تمام مقبرے کھود ڈالے جائیں اور قبر امام حسین (ع) کے گرد و پیش کی تمام زمین پر کھیت بو دیئے جائیں۔ یہ ناممکن تھا کہ زیارت کے امتناعی احکام پر اہل بیت رسول کے جان نثار آسانی کے ساتھ عمل کرنے کے لیے تیار ہو جاتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس سلسلہ میں ہزاروں بے گناہوں کی لاشیں خاک و خون میں تڑپتی ہوئی نظر آئیں۔ کیا اس میں شک ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقتول کا صدمہ امام (ع) کے دل پر اتنا ہی ہوا تھا جتنا کسی اپنے ایک عزیز کے بے گناہ کے قتل کیے جانے کا حضرت (ع) کو ہو سکتا تھا۔
پھر آپ تشدّد کے ایک ایسے ماحول میں قید کر کے رکھے گئے تھے کہ آپ وقت کی مناسبت کے لحاظ سے ان لوگوں تک کچھ مخصوص ہدایات بھی نہیں پہنچا سکتے تھے جو ان کے لیے صحیح فرائض شرعیہ کے ذیل میں اس وقت ضروری ہوں۔ یہ اندوہناک صورتِ حال ایک دو برس نہیں بلکہ متوکل کی زندگی کے آخری وقت تک برابر قائم رہی۔
علاوہ از ایں متوکل کے دربار میں حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب (ع) کی نقلیں کی جاتی تھی اور ان پر خود متوکل اور تمام اہل دربار میں زور زور سے ہنستے تھے اور مذاق اڑاتے تھے۔
یہ ایسا اہانت آمیز منظر تھا کہ ایک مرتبہ خود متوکل کے بیٹے سے رہا نہ گیا۔ اس نے متوکل سے کہا کہ خیر آپ اپنی زبان سے حضرت علی (ع) کے بارے میں کچھ الفاظ استعمال کریں مگر جب آپ اپنے کو ان کا عزیز قرار دیتے ہیں تو ان کم بختوں کی زبان سے حضرت علی (ع) کے خلاف ایسی باتوں کو کیونکر گوارا کرتے ہیں اس پر بجائے کچھ اثر لینے کے متوکل نے اپنے بیٹے کا فحش آمیز تمسخر کیا اور دو شعر نظم کر کے گانے والوں کو دئیے جس میں خود اس کے فرزند کے لیے مادرانہ گالی موجود تھی۔ گویّے ان شعروں کو گاتے تھے اور متوکل قہقے لگاتا تھا۔
اسی دور کا ایک واقعہ بھی کچھ کم قابل افسوس نھیں ہے ۔ ابن السکیت بغدادی علم نحو و لغت کے امام مانے جاتے تھے اور متوکل نے اپنے دو بیٹوں کی تعلیم کے لیے انھیں مقرر کیا تھا۔ ایک دن متوکل نے ان سے پوچھا کہ تمھیں میرے ان دونوں بیٹوں سے زیادہ محبت ہے یا حسن و حسین سے ؟ ابن السکیت محبت اہل بیت (ع) رکھتے تھے۔ اس سوال کو سن کر بیتاب ہو گئے اور انھوں نے متوکل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے دھڑک کہہ دیا کہ حسن و حسین (ع) کا کیا ذکر، مجھے تو علی کے غلام قنبر کے ساتھ ان دونوں سے کہیں زیادہ محبت ہے۔ اس جواب کا سننا تھا کہ متوکل غصّے سے بیخود ہو گیا اور حکم دیا کہ ابن السکیت کی زبان گدی سے کہینچ لی جائے۔ یہی ہوا اور اس طرح یہ آل رسول کے فدائی درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔
ان واقعات کا براہ راست جسمانی طور پر حضرت امام علی نقی (ع) سے تو نہ تھا مگر بخدا ان کی ہر ہر بات ایک تلوار کی دہار تھی جو گلے پر نہیں دل پر چلا کرتی تھی۔ متوکل کا ظالمانہ رویّہ ایسا تھا جس سے کوئی بھی دور یا نزدیک کا شخص اس سے خوش یا مطمئن نہیں تھا۔ حد یہ ہے کہ اس کی اولاد تک اس کی جانی دشمن ہو گئی تھی، چنانچہ اسی کے بیٹے منتصر نے اس کے بڑے مخصوص غلام باغر رومی کو ملا کر خود متوکل ہی کی تلوار سے عین اس کی خواب گاہ میں اس کو قتل کرا دیا۔ جس کے بعد خلائق کو اس ظالم انسان سے نجات ملی اور منتصر کی خلافت کا اعلان ہو گیا۔
منتصر نے تخت حکومت پر بیٹھتے ہی اپنے باپ کے متشدانہ احکام کو فوری منسوخ کر دیا۔ نجف اور کربلا زیارت کے لیے عام اجازت دے دی اور ان مقدس روضوں کی کسی حد تک تعمیر کرا دی۔ امام علی نقی (ع) کے ساتھ بھی اس نے کسی خاص تشدد کا مظاہرہ نہیں کیا مگر منتصر کی عمر طولانی نہیں ہوئی۔ وہ چھ مہینوں کے بعد دنیا سے اٹھ گیا منتصر کے بعد مستعین کی طرف سے امام ع کے خلاف کسی خاص بدسلوکی کا برتاؤ نظر نہیں آتا۔
امام نے چونکہ مکان بنا کر مستقل قیام اختیار فرما لیا تھا اس لیے یا تو خود آپ ہی نے مناسب نہ سمجھا یا پھر ان بادشاہوں کی طرف سے آپ کے مدینہ واپس جانے کو پسند نہیں کیا گیا ہو گا۔ بہر حال جو بھی وجہ ہو آپ قیام کا سامرا ہی میں رہا۔ اتنے عرصے تک حکومت کی طرف سے مزاحمت نہ ہونے کی وجھ سے علوم اہلبیت (ع) کے طلب گار ذرا اطمینان کے ساتھ کثیر تعداد میں آپ سے استفادہ کے لیے جمع ہونے لگے جس کی وجہ سے مستعین کے بعد معتز کو پھر آپ سے پر خاش پیدا ہوئی اور اس نے آپ کی زندگی ہی کا خاتمہ کر دیا۔ آخر کار 3 رجب اور دوسری روایت کے مطابق 25 جمادی الثانی سن 254 ہجری کو معتز عباسی خلیفہ نے اپنے بھائی معتمد عباسی کے ہاتھوں زہر دے کر آپ کو شہید کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ :
1۔ رھبران معصوم علیہم السلام 252
2۔ احقاق الحق ج 12 ص 451
3۔ بحارالانوار ج 50 ص 136
…………………….
گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خداوندعالم اپنے بندوں سے دوستی کا اظہار کرتا ہے اور بندوں کو اپنی ذات سے محبت کرانے کےلئے نعمتوں سے مالامال کردیتا ہے بیشک پروردگار عالم دلوں پر نعمت اس لئے نازل کرتاہے کہ خداوندعالم نے جن پر نعمت نازل کی ہے وہ الله کو دوست رکھیں ۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے دعائے سحر میں آیا ہے :
<تَتَحَبَّبُ اِلَیْنَابِالنِّعَمِ وَنُعَارِضُکَ بِالذُّنُوْبِ خَیْرُکَ اِلَیْنَانَازِلٌ وَشَرُنَا اِلَیْکَ صَاعِدٌ وَلَمْ یَزَلْ وَلَایَزَالُ مَلَکٌ کَرِیْمٌ یَاْتِیْکَ عَنَّابِعَمَلٍ قَبِیْحٍ فَلَا یَمْنَعُکَ ذٰلِکَ مِنْ اَنْ تَحُوْطَنَابِرَحْمَتِکَ وَتَتَفَضَّلْ
عَلَیْنَابِآلَائِکَ فَسُبْحَانَکَ مَااَحْلَمَکَ وَاَعْظَمَکَ وَاَکْرَمَکَ مُبْدِئاًوَمُعِیْد اً>(۱)
”تو نعمتیں دے کرہم سے محبت کرتا ہے اور ہم گناہ کر کے اس کا مقابلہ کرتے ہیں تیراخیربرابر ہما ری طرف آرہا ہے اور ہما راشر برابر تیری طرف جارہا ہے فرشتہ برابر تیری بارگاہ میں ہماری بد اعمالیوں کادفتر لے کر حاضر ہوتاہے لیکن اس کے باوجود تیری نعمتوں میںکمی نہیں اتی اورتو برابر فضل و کرم کر رہاہے تو پاک پاکیزہ ہے تو تجھ جیسا حلیم عظیم اور کریم کون ہے ابتدا اور انتہا میں تیرے نام پاکیزہ ہیں “
الله کا اپنے بندے پر نعمت فضل ،بھلائی عفواور ستر (عیب پوشی)نازل کرنے اور بندہ کی طرف سے الله کی طرف سے جوبرائی اور شر صعود کرتا ہے ان دونوںکے درمیان مقائسہ سے اس بات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)بحارالانوار جلد ۹۸ صفحہ ۸۵ ۔
کا پتہ چلتا ہے کہ بندہ اپنے مولا سے شرمندہ ہے ،وہ الله کی طرف سے اس محبت اور دوستی کا روگردانی اور دشمنی کے ذریعہ جواب دیتا ہے ۔
انسان کتنا شقی اور بدبخت ہے کہ الله کی محبت اوردوستی کا جواب ردگردانی اور دشمنی سے دیتا ہے ۔
امام زمانہ حضرت حجة علیہ السلام کے دعاء افتتاح میں ان کلمات کے سلسلہ میں غوروفکر کریں
<اِنَّکَ تَدْعُوْنِیْ فَاٴُوَلِّيْ عَنْکَ وَتَتَحَبَّبُ اِلَيَّ فَاَتَبَغَّضُ اِلَیْکَ،وَتَتَوَدَّدُاِلَيَّ فَلاَاَقْبَلُ مِنْکَ،کَانَّ لِیَ التَّطَوُّلَ عَلَیْکَ،فَلَمْ یَمْنَعُکَ ذٰلِکَ مِنَ الرَّحْمَةِلِي وَ الاِحْسَانِ اِلَيَّ وَالتُّفَضُّلِ عَليَّ >(۱)
”اے پروردگار بیشک تو نے مجھ کو دعوت دی اور میں نے تجھ سے رو گر دانی کی اور تونے محبت کی اور میں نے تجھ سے بغض و عناد رکھا اور تومیرے ساتھ دو ستی کرتا ہے تو میں اس کو قبول نہیں کرتا ہوں گویا کہ میرا تیرے اوپر حق ہے اور اس کے باوجود اس نے تجھ کو میرے اوپر احسا ن کر نے اور فضل کر نے سے نہیں رو کا “
<خیرک الینانازل وشَرُّنَااِلَیْکَ صَاعِدٌ>(۲)
”تیراخیربرابر ہما ری طرف آرہا ہے اور ہما راشر برابر تیری طرف جارہا ہے“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رجب میں اللہ سے محبت اور دعائیں
بیشک الله اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہے ،ان کو رزق دیتا ہے ،ان کو کپڑا پہناتا ہے ، ان کو بے انتہا مال ودولت عطا کرتا ہے ،ان کو معاف کرتا ہے ،ان کی توبہ قبول کرتا ہے ،ان کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے ،ان کو توفیق عطا کرتا ہے ،ان کو اپنے صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے ،ان کو اپنی رعایاکا ولی بنا تا ہے اور ان پر فضیلت دیتا ہے ،ان سے برائی اور شر کو دور کرتا ہے یہ سب محبت کی نشانیاں ہیں
الله کی بندوں کےلئے یہ محبت ہے کہ وہ ان (بندوں)سے محبت کرتا ہے اور ان کو اپنی محبت کا رزق عطا کرتا ہے ۔محبت کا یہ حکم بڑا عجیب و غریب ہے بیشک محبت کا دینے والا وہ خداہے جو اپنے بندوں سے محبت سے ملاقات کرتا ہے ان کو جذبہ عطا کرتا ہے پھر اس جذبہ کے ذریعہ ان کو مجذوب کرتا ہے ۔
ہم یہ مشاہدہ کرچکے ہیں کہ ماثورہ روایات اور دعاؤں میں اس مطلب کی طرف متعدد مرتبہ ارشارہ کیاگیاہے
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بارہویں مناجات میں فرماتے ہیں :
<اِلٰھِي فَاجْعَلْنَامِنَ الَّذِیْنَ تَرَسَّخَتْ اَشْجَا رُالشَّوْقِ اِلَیْکَ فِيْ حَدَائِقِ صُدُوْرِھِمْ وَاَخَذَتْ لَوْعَتُ مُحَبّّتِکَ بِمَجَامِعِ قُلُوْبِھِم>
”خدا یا !ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جن کے دلوں کے باغات میںتیرے شوق کے درخت راسخ ہو گئے ہیں اور تیری محبت کے سوز وگدازنے جن کے دلوں پرقبضہ کر لیا ہے
چودھویں مناجات میں آیا ہے :<اَسْاٴَلُکَ اَنْ تَجْعَلَ عَلَیْنَاوَاقِیَةًتُنْجِیْنَا مِنَ الْھَلَکٰاتِ،وَتُجَنِّبُنَامِنَ الْآفٰاتِ،وَ تُکِنُّنَامِنْ دَواھِي الْمُصیبٰاتِ،وَاَنْ تُنْزِلَ عَلَیْنٰامِنْ سَکینَتِکَ،وَاَنْ تُغَشِّيَ وُجُوھَنٰابِاَنْوٰارِمَحَبَّتِکَ،وَاَنْ تُوٴوِیَنٰااِلٰی شَدیدِرُکْنِکَ،وَاَنْ تَحْوِیَنٰافَي اَکْنٰافِ ِعصْمَتِکَ،بِرَاٴفَتِکَ وَرَحْمَتِکَ یٰااَرْحَمَ الرّٰاحِمیْنَ>
” ہمارے لئے وہ تحفظ قراردےدے جو ہمیں ہلاکتوں سے بچا لے اور آفتوں سے محفوظ کرکے مصیبتوں سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ ہم پر اپنا سکون نازل کردے اور ہمارے
چہروں پر اپنی محبت کی تابانیوں کا غلبہ کردے۔ ہم کو اپنے مستحکم رکن کی پناہ میں لے لے اور ہم کو اپنی مہربانیوںکی عصمت کے زیرسایہ محفوظ بنادے“
پندرھویں مناجات (زاہدین )میں آیا ہے :
<اِلٰھِي فَزَھِّد ْنٰافیھٰاوَسَلِّمْنٰافیھٰا،وَ سَلِّمْنٰامِنْھٰابِتَوْفیقِکَ وَ عِصْمَتِکَ،وَاْنزَعْ عَنّٰاجَلاٰبیبَ مُخٰالَفَتِکَ،وَتَولَّ اُمُورَنٰا بِحُسْنِ کِفٰایَتِکَ،وَاَجْمِلْ صِلٰاتِنٰامِنْ فَیْضِ مَوٰاھِبِکَ،وَاَغْرِسْفِيْ اَفْئِدَتِنٰااَشْجٰارَمَحَبَّتِکَ وَاَتْمِمْ لَنٰااَنْوٰارَمَعْرِفَتِکَ،وَاَذِقْنٰاحَلٰاوَةَعَفْوِکَ وَلَذَّةَمَغْفِرَتِکَ،وَاَقْرِرْاَعْیُنَنٰایَوْمَ لِقٰائِکَ بِرُوْٴیَتِکَ،وَاَخْرِجْ حُبَّ الدُّنْیٰامِنْ قُلوُبِنٰاکَمٰافَعَلْتَ بِالصّٰالِحینَ مِنْ صَفْوَتِکَ،وَالْاَبْرٰارِمِنْ خٰاصَّتِکَ بِرَحْمَتِکَ یٰااَرْحَمَ الرّٰاحِمینَ>
”خدا یا ہم کو اس دنیامیں زہد عطا فرما اور اس کے شرسے محفوظ فرما اپنی توفیق اور عصمت کے ذریعہ ہم سے اپنی مخالفت کے لباس اتر وادے اور ہمارے امور کا تو ہی ذمہ دار بن کر ان کی بہترین کفایت فرمااپنی وسیع رحمت سے مزید عطافرمااور اپنے بہترین عطایا سے ہمارے ساتھ اچھے اچھے برتاٴو کرنا اور ہمارے دلوں میں اشجار محبت بٹھا دے اور ہمارے لئے انوار معرفت کو مکمل کردے اور ہمیں اپنی معافی کی حلاوت عطا فرمااور ہمیں مغفرت کی لذت سے آشنابنا دے ہماری آنکھوں کوروز قیامت اپنے دیدار سے ٹھنڈاکر دےنا اور ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال دےنا جیسے تونے اپنے نیک اور منتخب اورتمام مخلوقات میں نیک کردار لوگوں کے ساتھ سلوک کیا ہے اور اپنی رحمت کے سہارے اے ارحم الراحمین “
آخر میں ہم اس مطلب کی تکمیل کےلئے سید ابن طاوؤس کی نقل کی ہوئی روز عرفہ پڑھی جانے والی امام حسین علیہ السلام کی دعا نقل کررہے ہیں :
<کیف یستدل علیک بماھو فی وجودہ مفتقر الیک اَیَکُوْنُ لِغَیْرِکَ مِنَ الظُّہُوْرِمَالَیْسَ لَکَ حَتیّٰ یَکُوْنَ ھُوَالْمُظْھِرَلَکَ مَتیٰ غِبْتَ حَتّیٰ تَحْتَاجَ اِلیٰ دَلِیْلٍ یَدُلُّ عَلَیْکَ وَمَتیٰ بَعُدَتْ حَتیّٰ تَکُوْنَ الآثَارُھِیٍ الَّتِیْ تُوْصِلُ اِلَیْکَ عَمِیَتْ عَیْنٌ لَاتَرَاکَ عَلَیْھَارَقِیْباًوَخَسِرَتْ صَفْقَتُہُ عَبْدٍ لَمْ تَجْعَلْ لَّہُ مِنْ حُبِّکَ نَصِیْبا۔۔۔فَاھْدِنِیْ بِنُوْرِکَ اِلَیْکَ،وَاَقِمْنِیْ بِصِدْقِ الْعُبُوْدِیَّةِ بَیْنَ یَدَیْکَ ۔۔۔وَصُنَّیْ بِسِتْرِکَ الْمَصُوْنِ ۔۔۔وَاسْلُکْ بِیْ مَسْلَکَ اَھْلَ الْجَذْبِ،اِلٰھِیْ اَغْنِنِیْ بِتَدْبِیْرِکَ لِیْ عَنْ تَدْبِیْرِیْ،وَبِاِخْتِیَارِکَ عَنْ اِخْتِیَارِیْ وَاَوْقِفْنِیْ عَنْ مَرَاکِزِ اِضْطِرَارِیْ ۔۔۔اٴَنْتَ الَّذِیْ اَشْرَقَتَ الْاَنْوَارَ فِیْ قُلُوْبِ اٴَوْلِیَائِکَ حَتّٰی عَرَفُوْکَ وَوَحَّدُوْکَ ۔وَاَنْتَ الَّذِیْ اٴَزَلْتَ الْاَغْیَارَعَنْ قُلُوْبِ اَحِبَّائِکَ حَتّیٰ لَمْ یُحِبُّواسِوَاکَ وَلَمْ یَلْجَوٴُااِلیٰ غَیْرِکَ اَنْتَ الْمُوْنِسُ لَھُمْ حَیْثُ اَوْحَشْتَھُمُ الْعَوَالِمُ وَاَنْتَ الَّذِیْ ھَدَیْتَھُمْ حَیْثُ اِسْتِبَانَتْ لَھُمُ الْمَعَالِمُ ۔مَاذَاوَجَدَمَنْ فَقَدَکَ ؟وَمَاالَّذِیْ فَقَدَ مَنْ وَجَدَکْ ؟لَقَدْ خَابَ مَنْ رَضِیَ دُوْنَکَ بَدَلاً،وَلَقَدْخَسِرَمَنْ بَغیٰ عَنْکَ مُتَحَوِّلاً کَیْفَ یُرْجیٰ سِوَاکَ وَاَنْتَ مَاقَطَعْتَ الْاِحْسَانَ؟وَکَیْفَ یُطْلَبُ مِنْ غَیْرِکَ وَاَنْتَ مَابَدَّلْتَ عَادَةَ الْاِمْتِنَانِ ؟یَامَنْ اَذَاقَ اَحِبَّائَہُ حَلَاوَةَ الْمُوَانَسَةَ فَقَامُوْابَیْنَ یَدَیْہِ مُتَمَلِّقِیْنَ وَیَامَنْ اَلْبَسَ اَوْلِیَائَہُ مَلَبَسَ ھَیْبَتِہِ فَقَامُوْابَیْنَ یَدَیْہِ مُسْتَغْفِرِیْنَ ۔۔۔اِلٰھِیْ اَطْلُبْنِیْ بِرَحْمَتِکَ حَتّیٰ اَصِلَ اِلَیْکَ،وَاجْذُبْنِیْ بِمَنِّکَ حَتّیٰ اَقْبَلَ عَلَیْکَ >(۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)بحارالانوار ج۹۸ص۲۲۶۔
”میں ان چیز وںکو کس طرح راہنمابناوٴںجو خود ہی اپنے جود میںتیری محتاج ہیں کیا تیرے کسی شی ٴ کوتجھ سے بھی زیادہ ظہورحاصل ہے کہ وہ دلیل بن کر تجھ کو ظاہر کرسکے تو کب ہم سے غائب رہا ہے کہ تیرے لٴے کسی دلیل اور راہنمائی کی ضرورت ہو ،اور کب ہم سے دور رہا ہے کہ آثار تیری بارگاہ تک پہنچا نے کا ذریعہ بنیں وہ آنکھیں اندھی ہیں جو تجھے اپنا نگراں نہیںسمجھ رہی ہیں اور وہ بندہ اپنے معاملات ِحیات میں سخت خسارہ میں ہے جسے تیری محبت کاکوئی حصہ نہیں ملا ۔۔۔تو اپنی طرف اپنے نور سے میری ہدایت فرما، اور مجھ کو اپنی سچی بندگی کے ساتھ اپنی بارگاہ میںحاضری کی سعادت کرامت فرما ۔۔۔اور اپنے محفوظ پردوں سے میری حفاظت فرما ۔۔۔اور جذب و کشش رکھنے والوں کے مسلک پر چلنے کی توفیق عطا فرما اپنی تدبیر کے ذریعہ مجھے میری تدبیر سے بے نیاز کردے اوراپنے اختیار کے ذریعہ میرے اختیار اورانتخاب سے مستغنی بنا دے اوراضطرارواضطراب کے مواقع کی اطلاع اورآگاہی عطافرما۔۔۔تو ہی وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں میں انوارالوہیت کی روشنی پیدا کر دی تووہ تجھے پہچان گئے اور تیری وحدانیت کا اقرار کرنے لگے اور توہی وہ ہے جس نے اپنے محبوں کے دلوں سے اغیار کو نکال کرباہرکردیا تواب تیرے علا وہ کسی کے چاہنے والے نہیں ہیں، اور کسی کی پناہ نہیں مانگتے تو نے اس وقت ان کا سمان فراہم کیاجب سارے عالم سبب وحشت بنے ہو ئے تھے اور تو نے ان کی اس طرح ہدایت کی کہ سارے راستے روشن ہو گئے پروردگارجس نے تجھ کو کھو دیا اس نے کیاپایا؟اور جس نے تجھ کو پالیا اس نے کیا کھویا؟جو تیرے بدل پر راضی ہوگیاوہ نا مراد ہوگیا،اور جس نے تجھ سے رو گردانی کی وہ گھاٹے میں رہا ،تیرے علاوہ غیرسے امید کیوں کی جائے جبکہ تونے احسان کاسلسلہ روکانہیں اور تیرے علاوہ دوسرے سے مانگا ہی کیوں جا ئے جبکہ تیرے فضل و کرم کی عادت میں فرق نہیں ایا ہے وہ پرور دگارجس نے اپنے دو ستوں کو انس و محبت کی حلاوت کا مزہ چکھا دیاہے تو اس کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے اولیاء کو ہیبت کا لباس پہنا دیاہے تو اس کے سامنے استغفار کرنے کے لئے استادہ ہیں۔۔۔میرے معبود مجھ کو اپنی رحمت سے طلب کر لے تا کہ میں تیری بارگاہ تک پہونچ جا ؤں اور مجھے اپنے احسان کے سہارے اپنی طرف کھینچ لے تا کہ میں تیری طرف متوجہ ہوجاؤں “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
………………………….
دوسری قسط
سولہ رجب
امیرالمؤمنین(ع) کی ولادت کے 3 دن بعد سیدہ فاطمہ بنت اسد(س) کا کعبہ سے باہر آنا (23 سال قبل از ہجرت بمطابق 14 اکتوبر 599عیسوی یا 22 سال قبل از ہجرت بمطابق 4 اکتوبر 600عیسوی)۔(10 یا 9 سال قبل از بعثت)۔
سترہ رجب
ماُمون کا انتقال (218ہجری بمطابق 12 اگست 833عیسوی)
اٹھارہ رجب
رسول اللہ(ص) کے فرزند ابراہیم بن محمد(ص) کی (10ہجری 23 اکتوبر 631عیسوی)
یزیدی خلافت کا پہلا دن (60ہجری)
ولادتِ آیت اللہ ملامحمد اشرفی مازندرانی (1220ہجری بمطابق 12 اکتوبر 1805عیسوی)
انیس رجب
وفاتِ آیت اللہ شیخ مجتبی حاج آخوند(1422ہجری بمطابق 7 اکتوبر 2001عیسوی)۔
وفاتِ آیت اللہ شیخ محمد خالصی زادہ(1383ہجری بمطابق 6 دسمبر 1963عیسوی)
بائیس رجب
جنگ خیبر میں ابوبکر بن ابی قحافہ کا میدان جنگ سے فرار ہوجانا (7ہجری 28 نومبر 628عیسوی)
حاکم نیشابوری: حدیث 4338|42: سلمہ بن عمرو بن اکوع کی روایت “بعث رسول الله (صلى الله عليه وآله) ابا بكر رضى الله عنه إلى بعض حصون خيبر فقاتل وجهد ولم يكن فتح”۔ * هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه *
(ترجمہ: رسول اللہ(ص) نے ابوبکر کو خیبر کے بعض قلعے فتح کرنے کی غرض سے روانہ کیا، پس وہ لڑے اور کوشش کی مگر قلعے کو فتح نہ کرسکے!)۔ ٭ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر صحیحین نے اسے اپنے ہاں نقل کرنا مناسب نہيں سمجھا ہے)!!
حدیث 4338أ/42أ _ ابو لیلی کی روایت: عن ابى ليلى عن علي انه قال يا ابا ليلى اما كنت معنا بخيبر قال بلى والله كنت معكم قال فان رسول الله صلى الله عليه وآله بعث ابا بكر إلى خيبر فسار بالناس وانهزم حتى رجع * هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه* (ترجمہ: علی(ع) نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا: اے ابو لیلی! کیا تم خیبر میں ہمارے ساتھ نہ تھے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! اور علی(ع) نے کہا: رسول اللہ(ص) نے ابوبکر کو خیبر فتح کرنے کے لئے روانہ کیا اور وہ لوگوں کو لے کر گئے اور شکست کھاگئے حتی کہ پلٹ کر واپس آئے)۔ ٭ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر صحیحین نے اسے اپنے ہاں نقل کرنا مناسب نہيں سمجھا ہے!!
حدیث 4339|43: عبداللہ بن بریدہ کی روایت: “(حد)ثنا عبد الله بن بريدة عن ابيه رضى الله عنهما ۔۔۔ وان ابا بكر رضى الله عنه اخذ رأية رسول الله صلى الله عليه وآله ثم نهض فقتل قتالا شديدا ثم رجع”۔ هذا حديث صحيح الاسناد . لم يخرجاه *
(ترجمہ: عبد اللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے: ۔۔۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کا پرچم سنبھالا اور شدت کے ساتھ لڑے اور پھر واپس پلٹ کر آئے)۔ ٭یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ مگر صحیحین نے اسے اپنے ہاں نقل کرنا مناسب نہيں سمجھا ہے!!۔[20]
وفاتِ آیت اللہ سید محمدحسین فضل اللہ (1431 ہجری بمطابق 4 جولائی 2010 عیسوی)۔
وفاتِ آیت اللہ سید جلال الدین طاہری اصفہانی (1434ہجری قمری بمطابق یکم جون 2013 عیسوی)
تئیس رجب
مدائن میں امام حسن مجتبی علیہ السلام پر حملہ (41ہجری بمطابق 25 نومبر 661عیسوی)
امام موسی کاظم علیہ السلام کا ہارون کے حکم پر مسموم ہوجانا (183ہجری بمطابق 3 ستمبر 799ہجری)
جنگ خیبر میں عمر بن خطاب کا میدان جنگ سے فرار ہوجانا (7ہجری بمطابق 29 نومبر 628عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ سید حسین کوہ کمرہ ای (1299ہجری قمری بمطابق 10 جون 1882عیمسوی)۔
چوبیس رجب
فتحِ خیبر بدست امیرالمومنین(ع)(7ہجری بمطابق 30 نومبر 628عیسوی)
جعفر طیار(ع) کی حبشہ سے واپسی (7ہجری بمطابق 30 نومبر 628 عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ سید محمدمہدی بحرالعلوم(1212ہجری بمطابق 12 جنوری 1798عیسوی)
پچیس رجب
شہادتِ امام موسی کاظم علیہ السلام (183ہجری بمطابق 5 ستمبر 799عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ شیخ عباس علی اسلامی (1406ہجری بمطابق 5 اپریل 1986عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ ملامحمدجواد صافی گلپایگانی(1378ہجری بمطابق 4 فروری 1959عیسوی)
شہادتِ آیت اللہ شیخ مہدی شاہ آبادی (1404ہجری بمطابق 26 اپریل 1984عیسوی)
چھبیس رجب
وفاتِ حضرت ابوطالب(ع) (10 بعد از بعثت بمطابق یکم اپریل 618 یا 21 مارچ 619عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ محمدباقر فِشارَکی (1314ہجری بمطابق 31 دسمبر 1896عیسوی)
وفاتِ علامہ محمد تقی جعفری (1419ہجری بمطابق 16 نومبر 1998 عیسوی)
ستائیس رجب
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثتِ (40 سال بعد از عام الفیل بمطابق 9 جولائی 609 عیسوی یا 28 جون 610عیسوی)
اٹھائیس رجب
امام حسین علیہ السلام کی مدینہ سے مکہ روانگی (60ہجری بمطابق 7 مئی 680ہجری)
تاریخ اسلام کی پہلی نماز 27 رجب کو بعثت نبی(ع) کے بعد 28 رجب کو آپ نے نماز ادا کی اور امیرالمؤمنین علی(ع) اس نماز میں شریک ہوئے۔ (چالیس سال بعد از عام الفیل بمطابق 10 جولائی 609 یا 29 جون 610عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ سید محمدکاظم یزدی(صاحب عروہ الوثقی) (1337ہجری بمطابق 29 اپریل 1919 عیسوی)
انتیس رجب
حنفی فقہی مکتب کے امام ابو حنیفہ کی وفات بغداد (150ہجری بمطابق 3 ستمبر 767عیسوی)
شافعی مذہب کے امام ابو عبداللہ محمد بن ادریس شافعی کی وفات مصر (204ہجری بمطابق 23 جنوری 820عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ سید محمدہادی میلانی(1395ہجری بمطابق 7 اگست 1975عیسوی)
حوالہ جات
مصباح كفعمى، ج 2 ص 599 . زاد المعاد، ص 20. مصباح المتهجد شيخ طوسى: ص 737. فيض العلام: ص 294. مناقب ابن شهر آشوب: ج 4 ص 227. اعلام الورى: ج 1 ص 498 . مسار الشيعة: ص 33. قلائد النحور: ج رجب، ص 4 . بحار الانوار: ج 46 ص 212۔
مناقب آل ابی طالب، ابن شهر آشوب: ج 4 ص 227
طبرسی ، اعلام الوری ، الطبعة الثالثه ، دارالکتب الاسلامیه ، ص 355 ؛ شیخ مفید ، الارشاد ، قم ، مکتبه بصیرتی ، ص 327 ۔
شیخ عباس قمی، وقایع الایام، ص 282۔
بحار الانوار، ج 50، ص 206۔ منتخب التواریخ، ص 705۔ منتهی الامال، ج2، ص 258۔
سورہ ہود (11) آیت 65۔ ترجمہ: علی نقی نقوی (نقن)۔
محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج 50، ص 147، شماره 32۔
الطبرسی، إعلام الورى بأعلام الهدى ج1، ص546. تاریخ ابو الفداء ج2 ص 14۔معجم الرجال الحدیث 20؛ اعیان الشیعه، ج 10، ص 306۔
معالی السبطین، ج 1، ص 423۔
محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج 45، ص 66۔
اولین دانشگاه و آخرین پیامبر، شهید پاک نژاد، ج 2، ص 4۔
محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج 50، ص 1 تا 14۔
ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب(ع)، ج4 ص394۔
أنساب الاشراف (احمد بن يحيي بلاذري)، ج 2، ص 180۔
الأخبار الطوال (دينوري)، ص 152؛ انساب الاشراف، ج 2، ص 182؛ تاريخ اليعقوبي، ج 2، ص 184۔ الارشاد، ص 249۔
محمد باقر مجلسی، بحارالانوار، ج 35، ص7۔ حاکم نیشابوری، مستدرک علی الصحیحین۔
الشيخ المفيد، أبي عبد الله محمد بن محمد بن النعمان العكبري البغدادي (متوفاي413هـ)، الإرشاد في معرفة حجج الله علي العباد، ج1، ص5، تحقيق: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لتحقيق التراث، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع – بيروت، الطبعة: الثانية، 1414هـ – 1993 عیسوی۔
النيسابوري ، محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم (متوفاي405 هـ) ، المستدرك على الصحيحين ، ج 3 ، ص 550 ، تحقيق : مصطفى عبد القادر عطا ، ناشر : دار الكتب العلمية – بيروت ، الطبعة : الأولى ، 1411هـ – 1990عیسوی۔
دهلوي ، شاه ولى الله مشهور به محدث هند (متوفاي 1180هـ) ، إزالة الخفاء عن خلافة الخلفاء ، ج 4 ، باب : اما مآثر اميرالمؤمنين وامام اشجعين اسد الله الغالب علي بن ابي طالب رضي الله عنه، تصحيح و مراجعه: سيد جمال الدين هروى۔
المستدرك على الصحيحين للإمام الحافظ ابي عبداللہ محمد بن عبداللہ الحاکم النیسابوری، دراسۃ وتحقيق مصطفي عبد القادر عطاء، الجزء الثالث، منشورات محمد علی بیضون للنشر کتب السنۃ والجماعۃ دارالکتب العلمیۃ، بیروت لبنان۔ الجزء الثالث ص39۔۔۔ بإشراف د . يوسف عبد الرحمن المرعشلي الجزء الثالث دار المعرفة بيروت – لبنان۔ج3 ص37۔ یہ حدیث اسی صورت میں مستدرک علی االصحیحین میں موجود ہے اور انھوں نے اس حدیث کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے لیکن کہا ہے کہ بخاری اور مسلم نے اس کو نقل نہيں کیا ہے۔ ذہبی نے تلخیص المستدرک میں اس حدیث کو “فرار أبى بکر و عمر يوم الخیبر” کے عنوان کے تحت نقل کیا ہے۔ دیگر مآخذ و مصادر کچھ یوں ہیں: ترجمة الامام على بن أبى طالب من تاریخ دمشق لابن عساکر ج 1 / 169 ح 233 و 234 و 235 و 236 و 240 و 241 و 247 و 261 و 262 ط 1، مناقب على بن أبى طالب لابن المغازلى ص 181 ح 217 ط 1، خصائص أمیر المؤمنین للنسائی ص 52 و 53، أسد الغابة ج 4 / 21، مسند أحمد ج 6 / 353، البدایة والنهایة ج 4 / 186، الغدیر ج 1 / 38، مجمع الزوائد ج 9 /
122 و 124، مصنف ابن أبى شیبة ج 6 / 154، الصحیح من سیرة النبی الاعظم ج 3 / 282، تذکرة الخواص، مسند البزاز ج 1، الکامل لابن الاثیر ج 2 / 149۔ ۔
لغت رجب سب میں عربی-اردو کے معنی اور تراجم
اصلی الفاظ معنیٰ
رَجَبُ [عام] [اسم] قمری س کا ساتواں مہینہ اور یہ أشهر حرم میں ہے کہاوت ہے: عش رجبا ترعجبا یعنی تم رجب بعد رجب جیو یا پورے سال جیو
رُجْبُ [عام] [اسم] سینہ کی طرف پسلی کا سراج ج: أرجاب
رَجَبَ ( ن ) رَجْباً ورُجُوباً [عام] [فعل] گھبرانا، شرمانا رجب منه بھی کہتے ہیں
رَجَبَ فُلاناً رَجْباً [عام] [فعل] کسی سے ڈرنا، مرعوب ہونا (2) تعظیم کرنا
رَجَبَ العُودُ [عام] [فعل] شاخ کا تنہا نکلنا
اصلی الفاظ معنیٰ
رَجَبَ فُلاناً بقولٍ سَيِئًّ [عام] [فعل] کسی پر بری تہمت لگانا
أَرْجَبَ فُلاناً [عام] [فعل] رجب
رَجَبَ رَجُلُ [عام] [فعل] ماہ رجب میں کسی بت کے پاس جانور ذبح کرنا ( یہ زمانئہ جاہلیت کی عبادت تھی )
رَجَبَ الانْسانَ وغَيرَه [عام] [فعل] بہت بڑا سمجھنا، تعظیم کرنا
رَجَبَ النَّخْلَةَ [عام] [فعل] کھجور کے درخت کو سہارا دینے کے لئے ٹیکن کھڑی کرنا یا پایہ بنانا یا کھجور کے خوشوں کو پتوں سے باندھنا تاکہ وہ ہوا سے منتشر نہ ہوں حدیث سقیفہ میں ہے: أنا جذيلها محكك وعذيقها مرجب جذيل جذل کی تصغیر بمعنی تنہ اور عذیق عذق کی تصغیر ہے بمعنی کھجور
مرجّب [عام] [اسم] وہ کھجور کا درخت جس کے نیچے ٹیک لگائی گئی ہو میں اس کا وہ تنہ ہوں جس سے اونٹ کمر کھجاتے ہیں اور وہ کھجور ہوں جس کے نیچے ٹیک لگی ہوئی ہے یعنی میں مدد کرنے کے قابل ہوں (2) کھجور کے درخت کے چاروں طرف حفاظت کیلئے کانٹے لگانا
رَجَبَ الكَرْمَ [عام] [فعل] انگور کی بیل کی شاخوں کو ہموار کرکے اپنی اپنی جگہ پر رکھنا
أَرْجَابُ [عام] [اسم] انتڑیاں اس کا واحد نہیں بقول بعض رجب يا رجب هے
رَاجِبَةُ [عام] [اسم] رواجب کا مفرد: انگلیوں کے جوڑ
رَجَبَانِ [عام] [اسم] رجب وشعبان کے دو مہینے
اصلی الفاظ معنیٰ
رُجْبَةُ [عام] [اسم] کھجور کے درخت کو سہارا دینے کی ٹیکن لکڑی یا ستون (2) شکار کرنے کی مچان یا اونچی عمارت ج: رجب
رَجَبِيَّةُ [عام] [اسم] ماہ رجب میں بتوں کے نام ذبح کیا جانے وا جانور ( زمانئہ جاہلیت میں ) (2) ماہ رجب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ کی زیارت
وَجَبَتْ فُلَانٌ وُجُوباً ومَرْجِباً [عام] [فعل] مرنا
طَلَقُ اليَدَيْن، رَجْبُ البَاع، بَسِيْطُ الكَفّ. [عام] [اسم] فراخ دست
مشتقات و تحليل الرُّجْب
الرُّجْب : كلمة أصلها الاسم (رُجْبٌ) في صورة مفرد مذكر وجذرها (رجب) وجذعها (رجب) وتحليلها (ال رجب)
متعلقہ الفاظ
مرجّب أَرْجَابُ رَاجِبَةُ رَجَبُ رَجَبَانِ رُجْبَةُ رَجَبِيَّةُ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قسط اول ماہ رجب۔۔۔۔۔۔۔اکمل سیّد
رجب المرجب کے اہم تاریخ وار واقعات
سالِ ہجری کا ساتواں قمری مہینہ ج اپنی فضیلت اور عباادت کی بنا پر و مبارک سمجھا جاتا ہے اور اس ما ہ مبارک میں جہاد حرام ہے، جمادی الثانیہ کے بعد اور شعبان سے پہلے کا مہینہ، اس مہینے کی تیرہویں کو امیر المومنین وصی رسول امام اوال حضرت علی ابن ابی طالبب علیہ اللام پیدا ہوئے، اسی مہینے کی بائیسویں کو حضرت امام جعفر سے منسوب کُونڈوں کی نذر و فاتحہ ہوتی ہے، نیز ستائیسویں رات کو آنحضرتؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم معراج کے لئے تشریف لے گئے 28 رجب المرجب کو حضرت امام حسین ابن علی علیہ اللام نے مدنیہ ے جانب کربلا سفر اختیار کیا ۔۔۔
ا س ماہ کی تواریخ میں اہم واقعات قارئین کی نظر ثانی کے لئے یہ بات یاد رہے کہ اس مضمون کو تیار کرنے میں انٹرنیت اور دیگر وسائل سے مدد لی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔راقعم اکمل سیّد
یکم رجب
ولادتِ امام محمد باقر(ع) (57ہجری بمطابق 13 مئی 677 عیسوی)
امام محمد باقر علیہ السلام جمعہ یکم رجب سنہ 57 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئے؛[1] گوکہ آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے اور کہا گیا ہے کہ آپ کا یوم ولادت 3 یا 6 صفر المظفر یا 5 یا 22 رجب المرجب ہے۔ آپ کا نام مبارک محمد، کنیت ابو جعفر اور القاب میں باقرالعلوم، الشاكر لله، ہادى، امين شامل ہیں۔ آپ کا ایک لقب “شبیہ” ہے جس کی وجہ رسول اللہ(ص) سے آپ کی شباہت ہے۔[2]
وفاتِ آیت اللہ آقا حسین خوانساری (سنہ 1099ہجری بمطابق 2 مئی 1688عیسوی)
دو رجب
امام علی نقی الہادی(ع) کی ولادت (212ہجری بمطابق یکم اکتوبر 827عیسوی)
امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت سنہ 212ہجری میں واقع ہونے کے بارے اتفاق ہے لیکن آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے۔ ولادت کو بعض مورخین نے 15 ذی الحجہ اور بعض نے دوم یا پنجم رجب بتائي ہے۔[3] بعض روایات کے مطابق آپ کا یوم ولادت 15 ذوالحجۃ الحرام سنہ 212 ہجری ہے۔[4]امام علی نقی الہادی علیہ السلام امام محمد تقی الجواد علیہ السلام کے فرزند ارجمند اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے والد ہیں۔
وفاتِ آیت اللہ سید جواد خامنہ ای (رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے والد ماجد) (1407ہجری بمطابق 3 مارچ 1987عیسوی)
تین رجب
شہادت امام علی نقی الہادی(ع) (254ہجری بمطابق 2 جولائی 868عیسوی)
اس میں اختلاف نہيں ہے کہ امام علی نقی الہادی علیہ السلام کا سالہ شہادت سنہ 254 ہجری ہے لیکن تاریخ ولادت کی طرح آپ کی تاریخ شہادت میں بھی مؤرخین نے اختلاف کیا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ آپ دوشنبہ (سوموار) 3 رجب کو اور بعض نے کہا ہے کہ 26 جمادی الثانی کو شہید ہوئے ہیں۔ آپ اپنی 34 سالہ عہد امامت میں عباسی حکمرانوں “مأمون و معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین اور معتز کے ہم عصر تھے۔ معتز کے حکم پر معتمد عباسی نے آپ کو مسموم کرکے شہید کیا [جبکہ امام حسن عسکری(ع) کا قاتل بھی معتمد ہی ہے]۔ معتمد نے معتز کے حکم پر امام ہادی علیہ السلام کو شہید کیا اور امام حسن عسکری علیہ السلام کو معتمد عباسی نے اپنے دور حکومت میں شہید کیا اور یوں شاید معتمد خلافت اسلام کے دعویداروں میں واحد حکمران ہے جس کے کھاتے میں دو ائمہ اہل بیت رسول(ص) کا قتل درج ہوا ہے گوکہ بعض نے کہا ہے کہ [[امام ہادی علیہ السلام کا قاتل متوکل عباسی تھا۔ [5]
تاہم متوکل کے ہاتھوں امام(ع) کی شہادت کی روایت اس روایت سے ـ جس میں مذکورہ واقعہ امام ہادی(ع) کے معجزات میں شمار ہوتا ہے ـ متصادم ہے: متوکل نے اپنے وزیر سے کہا کہ والیوں کے اجلاس کے دن امام ہادی(ع) کو پائے پیادہ اس کے پاس لایا جائے۔ وزیر نے کہا: اس سے آپ کو نقصان ہوگا لہذا اس کام کو بھول جائیں۔ یا پھر حکم دیں کہ دوسرے والی اور امراء بھی پیدل آپ کی طرف آئیں۔ متوکل مان گیا۔ امام جب دربار میں پہنچے تو موسم گرم ہونے کی وجہ پسینے میں شرابور تھے۔ عباسی دربار کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ “میں نے امام(ع) کو محل کی دہلیز میں بٹھایا اور آپ کا چہرہ مبارک تولئے سے خشک کرکے عرض کیا کہ اپنے چچا زاد بھائی متوکل نے سب کو پیدل آنے کا کہا تھا لہذا اس سے ناراض نہ ہوں۔ امام ہادی علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: “تَمَتَّعُواْ فِي دَارِكُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ”(ترجمہ:اپنے گھروں میں بس اب تین دن تک مزے اڑالو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہے)۔[6] میں نے اپنے ایک شیعہ دوست کو ماجرا سنایا تو اس نے کہا: اگر امام ہادی(ع) نے یہ بات کہی ہے تو متوکل تین دن یا مرے گا یا قتل ہوگا چنانچہ اپنا سازوسامان دربار سے نکال دو۔ مجھے یقین نہ آیا لیکن دور اندیشی میں کوئی نقصان بھی نہ تھا چنانچہ میں نے میں اپنا سب کچھ اپنے گھر منتقل کیا اور تین دن بعد رات کے وقت مارا گیا اور میرا سرمایہ بچ گیا اور میں امام ہادی(ع) کی خدمت میں پہنچا اور آپ کی ولایت صادقہ کو تسلیم کرکے شیعیان اہل بیت(ع) میں سے ہوگیا۔[7]
وفات آیت اللہ سید محمدعزالدین حسینی زنجانی (1434ہجری بمطابق 13 مئی 2013عیسوی)
چار رجب
وفاتِ آیت اللہ سید محسن امین عاملی(1371ہجری بمطابق 30 مارچ 1952عیسوی)
وفاتِ فقيہ، محدث و حكيم جليل آیت اللہ ملاعلی علیاری کی (1327ہجری بمطابق 22 جولائی 1909عیسوی)
وفاتِ شیخ الاشراق شہاب الدین سہروردی(587ہجری بمطابق 4 اگست 1191عیسوی)
پانچ رجب
ابويوسف، يعقوب بن اسحق الدورقي، المعروف ابن سكيت نحوي کی شہادت (244ہجری بمطابق 21 اکتوبر 858عیسوی)
ابويوسف، يعقوب بن اسحق الدورقي، المعروف ابن سكيت نحوي عربی ادب و لغت کے اکابرین میں سے ہیں جو بقولے سنہ 186 ہجری میں ایران کے جنوبی صوبے خوزستان کی بستی الدورق [[موجودہ شہر شادگان) میں پیدا ہوئے۔ امام محمد تقی الجواد علیہ السلام اور امام علی النقی الہادی علیہ السلام کے محضر سے فیضیاب ہوئے اور سیرت نگاروں کے نزدیک ممدوح ٹہرے۔ ابن سکیت عربی شعر و ادب اور لغت و نحو کے استاد کامل تھے اور النحوی کے لقب سے مشہور تھے۔ ان کی تالیفات میں “تهذيب الألفاظ” اور “اصلاح المنطق” قابل ذکر ہیں۔ آپ کے والد کو سکیت کہا گیا کیونکہ وہ کم گو تھے۔ متوکل عباسی کے بیٹوں المعتز اور المؤید کے استاد تھے۔ ایک دن اہل بیت رسول(ص) کے ہٹ دھرم دشمن متوکل عباسی نے پوچھا: “تمہارے نزدیک میرے یہ دو بیٹے معتز اور مؤید بہتر ہیں یا حسن و حسین فرزندان علی بن ابی طالب؟ ابن سکیت متوکل کے بےجا سوال اور اپنے بیٹوں کا حسنین کریمین(ع) سے قیاس کرنے کی وجہ سے غضبناک ہوئے اور اس طاغی اور سرکش حکمران کے سامنے خاموشی کو جائز نہ سمجھتے ہوئے کہا: “خدا کی قسم! علی بن ابی طالب(ع) کا غلام قنبر تجھ سے اور تیرے ان بیٹوں سے بہتر اور میرے نزدیک پسندیدہ تر ہے”۔متوکل عباسی اپنے بیٹوں کے استاد سے ایسے جواب کی توقع نہ تھی چنانچہ اس نے اپنے ترک نژاد گماشتوں سے کہا کہ ان کی زبان گدی سے کھنچوا لی اور انھوں نے حب اہل بیت(ع) میں جام شہادت نوش کیا۔[8]
چھ رجب
وفاتِ آیت اللہ شیخ حسین تقوی اشتہاردی(1421ق بمطابق 5 اکتوبر 2000عیسوی)
سات رجب
وفاتِ آیت اللہ نورالدین عراقی(1341ہجری 23 فروری 1923عیسوی)
آٹھ رجب
شہادت آیت اللہ سید عبداللہ بہبہانی(1328ق بمطابق 16 جولائی 1910عیسوی)
ولادت شیخ حر عاملی(1033ہجری بمطابق 26 اپریل 1624عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ عبدالکریم حق شناس (1428ہجری بمطابق 23 جولائی 2007عیسوی)
نو رجب
ولادت با سعادت حضرت علی اصغر(ع) (60ہجری بمطابق 18 اپریل 680عیسوی)
عبداللہ بن حسین(ع) المعروف عبداللہ بن حسین|علی الأصغر (ع) تیسرے شیعہ امام حضرت امام حسین علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے کا نام ہے جن کی والدہ رباب بن إمرئُ القیس ہیں۔ علی اصغر یا عبداللہ رضیع (شیرخوار 9 رجب المرجب سنہ 60 ہجری کو (امام حسین(ع) کی مکہ کی طرف عزیمت سے کچھ ہی روز قبل مدینہ میں پیدا ہوئے اور ٹھیک چہ مہینوں کی عمر میں 10 محرم الحرام سنہ 61 ہجری کو حرملہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ علی اصغر ان چند بزرگوں میں سے ایک ہیں جنہيں باب الحوائج کا لقب عطا ہوا ہے۔ زیارت ناحیہ میں امام مہدی علیہ السلام نے انہیں اس عبارت سے سلام دیا ہے: “أَلسَّلامُ عَلَی الرَّضیـعِ الصَّغیرِ”(ترجمہ: سلام ہو چھوٹے شیرخوار پر)۔[9] لیکن کتب “المزار میں[10] محمد بن مشہدی و اقبال الاعمال سید بن طاؤس میں[11] امام زمانہ سے منسوب زیارت ناحیہ میں یہ عبارت نقل ہوئی ہے: “السلام على عبد الله بن الحسين الطفل الرضيع، المرمي الصريع، المتشحط دما، المصعد دمه في السماء، المذبوح بالسهم في حجر أبيه، لعن الله راميه حرملة بن كاهل الاسدي وذوية۔۔۔”(ترجمہ: سلام ہو حسین(ع) کے بیٹے عبداللہ پر، وہ شیرخوار طفل جو تیر کا نشانہ بنا اور زمین پر گرا اور اپنے خون میں تڑپا اور اس کا خون آسمان کی طرف چلا گیا اور اپنے باپ کی آغوش میں تیر کے ذریعے ذبح ہوا۔ خداوند متعال لعنت کرے اس پر تیر چلانے والے اور اس کو پژمردہ کرنے والے حرملہ بن کاہل اسدی پر۔
دس رجب
ولادتِ امام محمد تقی الجواد(ع) (195ہجری 12 اپریل 811عیسوی)
تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ امام محمد تقی الجواد علیہ السلام سنہ 195ہجری کو مدینۃ النبی، یثرب|مدینہ طیّبہ میں پیدا ہوئے ہیں لیکن یوم ولادت پر اختلاف ہے۔ محدث کلینی اپنی کتاب الکافی میں، شیخ مفید الارشاد میں شہید ثانی الدروس میں اور متعدد دیگر اکابرین کا کہنا ہے کہ امام جواد علیہ السلام رمضان المبارک سنہ 195 میں پیدا ہوئے ہیں لیکن انھوں نے آپ کا روز ولادت متعین نہیں کیا ہے؛ تاہم بعض کا کہنا ہے کہ آپ 19 رمضان سنہ 195 کی شب کو متولد ہوئے ہیں اور بعض دیگر کے مطابق آپ 15 رمضان کو پیدا ہوئے ہیں۔ شیخ طوسی مصباح المتہجد میں لکھتے ہیں کہ امام جواد علیہ السلام 10 رجب کے دن کو پیدا ہوئے ہیں۔[12]
پیدائش کی کیفیت
امام رضا کی بہن حکیمہ بنت امام موسی کاظم(ع) سے مروی ہے کہ جب امام علی رضا علیہ السلام کی زوجہ معظمہ خیزران کے ہاں بچے کی پیدائش کا وقت آن پہنچا ہے آپ بھی تیاری کریں؛ چنانچہ میں جناب خیزران اور دائی کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئی۔ درد زہ شروع ہوتے ہی چراغ بجھ گیا۔ میں فکرمند ہوئی تاہم کچھ لمحوں بعد امام جواد علیہ السلام نے چودھویں کے چاند کی مانند طلوع کیا جبکہ ایک پتلے کپڑے نے آپ کا جسم ڈھانپا ہوا تھا، ایسا نور آپ کے جسم اطہر سے ساطع ہورہا تھا کہ پورا کمرہ روشن ہوگیا۔ میں نے نومولود کو اٹھا کر اپنے دامن پر رکھا اور وہ پتلا سا کپڑا اس کے جسم سے الگ کیا۔ اسی وقت دروازہ کھل گیا اور امام علی رضا علیہ السلام داخل ہوئے طفل کو مجھ سے لے گہوارے میں لٹایا اور مجھ سے فرمایا: اے حکیمہ! گہوارے کا خیال رکھیں۔ تین دن گذرنے کے بعد حضرت جواد علیہ السلام نے اپنی مبارک آنکھیں آسمانی کی طرف کھول دیں۔ پھر دائیں اور بائیں نظر دوڑا دی اور فرمایا: “أشهَدُ ان لا اله الا اله وأشهد أنّ محمداً رسول الله”۔ (ترجمہ: گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہيں ہے اللہ کے سوا اور محمد(ص) اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں۔ میں ہراساں ہوکر امام رضا(ع) کی خدمت میں پہنچی اور عرض کیا: میں نے اس طفل کی طرف سے اس طرح کے حیرت انگیز عمل کا مشاہدہ کیا! امام(ع) نے فرمایا: آپ نے کون سی حیرت انگیز چیز دیکھی ہے؟ میں نے جو کچھ میں نے سنا تھا آپ(ع) کو کہہ سنایا۔ امام(ع) نے فرمایا آپ جو حیرت انگيز چیزیں اس طفل کی طرف سے دیکھیں گی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو آپ نے سنا۔[13]
بارہ رجب
معاویہ بن ابی سفیان کا انتقال (60ہجری بمطابق 21 اپریل 680عیسوی)
امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی کوفہ آمد (36ہجری بمطابق 7 جنوری 657عیسوی)
جنگ جمل کے بعد علی علیہ السلام فاتحانہ انداز سے بصرہ میں داخل ہوا اور عائشہ اور طلحہ و زبیر کے شکست خوردہ اسیروں اور زخمیوں کو معاف کیا۔ اہلیان بصرہ نے اپنے بعض افراد کی طرف سے باغیوں کی حمایت کے حوالے سے ندامت اور شرمندگی ظاہر کرتے ہوئے ایک بار امیرالمؤمنین(ع) کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ چند روز بصرہ میں ٹہرے اور زخمیوں کا مداوا کیا اور بیت المال کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا اور عبداللہ بن عباس کو بصرہ کے والی کے طور پر متعین کرکے خود کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔[14] آپ 12 رجب المرجب سنہ 36 ہجری کو کوفہ پہنچے۔ کوفہ والوں نے شایان شان طریقے سے آپ کا استقبال کیا اور درخواست کی کہ کوفہ کے سرکاری محل دارالامارہ میں اتریں۔ مگر آپ نے سرکاری محل کے بجائے کھلی فضا میں اترنے کو ترجیح دی اور پھر کوفہ کی مسجد اعظم پہنچے اور دو رکعت نماز بجالانے کے بعد شہر کے باشندوں کو ایک خطبہ دیا؛ اور حمد باری تعالی اور محمد(ص) و آل محمد پر درود سلام کے بعد فرمایا:
“فالحمد لله الذي نصر وليه، وخذل عدوه، وأعز الصادق المحق، وأذل الكاذب المبطل. عليكم – يا أهل هذا المصر – بتقوى الله وطاعة من أطاع الله من أهل بيت نبيكم، الذين هم أولى بطاعتكم من المنتحلين المدعين القائلين: إلينا إلينا، يتفضلون بفضلنا، ويجاحدونا أمرنا، وينازعونا حقنا ويدفعونا عنه، وقد ذاقوا وبال ما اجترحوا، فسوف يلقون غيا. وقد قعد عن نصرتي منكم رجال، وانا عليهم عاتب زار فاهجروهم وأسمعوهم ما يكرهون حتى يعتبونا ونرى منهم ما نحب”۔
ترجمہ: تمام تعریقیں اللہ کے لئے جس نے اپنے دوستوں کو نصرت عطا کی اور اپنے دشمنوں کو مقہور و شرمندہ کیا۔ خدا شکر ہے جس نے سچے حقدار کو عزت دی اور جھوٹے اور عہد شکن کو خوار و ذلیل کیا، اے اس شہر کے باسیو! تمہیں تقوائے الہی کی تلقین کرتا ہوں اور یہ کہ پیروی کرو اپنے پیغمبر(ص) کے خاندان سے ایسے شخص کی جو خدا کا مطیع و فرمانبردار ہے، وہ خاندان اہل بیت) جو تمام باطل گو دعویداروں سے زيادہ، اطاعت و فرمانبرداری کے لائق ہیں، ان دعویداروں سے جو فرمانروائی کو اپنے تک محدود کرتے ہیں اور اس کا جھوٹا دعوی کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنی طرف بلاتے ہیں اور کہتے ہیں “ہماری طرف آؤ، ہماری طرف آؤ، اور ہماری برتی اور فضیلت کے ذریعے اپنے لئے فضیلت کے قائل ہوجاتے ہیں (یعنی ہمارے لئے مختص فضائل کے ذریعے اپنے لئے ہمارے اوپر برتری اور فضیلت کے قائل ہوجاتے ہیں) اور ساتھ ہی ہماری حکومت اور ہماری ولایت اور امامت کا انکار کرتے ہیں اور ہمارے حقوق کو پامال کرتے ہیں اور ہمیں اپنے حق کے استعمال سے منع کرتے ہیں۔ بےشک انھوں نے بدسلوکی اور بدکراری کا کڑوا پانی چکھ لیا اور بہت جلد اس سے بھی زیادہ برے انجام کا (دوزخ اور آخرت میں) سامنا کریں گے، بےشک تم سے بھی بعض لوگوں نے ہماری مدد و حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا اور یوں ہمارے دشمنون کو تقویت پہنچائی؛ میں ان کے کردار پر غضبناک ہوں اور ان سے خوشنود نہيں ہوں؛ چنانچہ ان سے دوری کرو اور جو کچھ انہیں پسند نہيں انہیں سنا دو تا کہ ہمیں خوشنود کریں اور وہ وہی کچھ کر دکھائیں جن کی ہمیں ان سے توقع ہے۔[15]
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے کوفہ آتے ہی اس شہر کو عالم اس دن کی اسلامی مملکت کا دارالخلافہ قرار دیا۔
وفاتِ آیت اللہ شیخ جعفر کاشف الغطاء (1228ہجری 11 جولائی 1813عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ شیخ مرتضی چہرگانی انزابی(1381ہجری قمری بمطابق 20 دسمبر 1961عیسوی)
تیرہ رجب
ولادتِ امیرالمؤمنین علی(ع) (23 سال قبل از ہجرت بمطابق 11 اکتوبر 599عیسوی یا 22 سال قبل از ہجرت بمطابق یکم اکتوبر 600عیسوی)۔(10 یا 9 سال قبل از بعثت)۔
امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام بروز جمعہ 13 رجب المرجب سنہ 30 بعد از عام الفیل کو شہر مکہ میں واقع خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے چونکہ روایات کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ عام الفیل میں ہی پیدا ہوئے ہیں اور وصال کے وقت آپ کی عمر مبارک 63 برس تھی، اور مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ(ص) کا سال ولادت سنہ 569 یا 570 عیسوی ہے اور یہ کہ امام علی علیہ السلام عام الفیل کے تیس برس بعد پیدا ہوئے ہیں چنانچہ کہا جاسکتا ہے امیرالمؤمنین(ع) سنہ 599 یا 600 عیسوی میں پیدا ہوئے ہیں۔ مسجد الحرام اور خانہ کعبہ میں آپ کی ولادت کا واقعہ شیعہ اور سنی کے ہاں تسلیم شدہ امر ہے۔
اہل سنت کے ہاں لائق مدح و تعریف عالم حاکم نیشابوری نے لکھا ہے: متواتر روایات سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم(س) نے علی بن ابی طالب(ع) کو کعبہ کے اندر جنم دیا ہے۔ ۔[16]
بہ کعبہ ولادت
شیخ مفید کی روایت:
“وُلِدَ بمكةَ في البيت الحرام يومَ الجمعةِ الثالث عشر من رجب سنة ثلاثين مِن عامِ الفيل، وَلَم يُولَد قَبلَهُ وَلا بَعدَهُ مولودٌ في بيت الله تعالى سواهُ إكراماً من الله تعالى لَهُ بُذلكَ وإجلالاً لِمَحَلِّهِ فِي التَعظيمِ”۔
ترجمہ: حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام جمعہ 13 رجب المرجب 30 سال بعد از عام الفیل مکہ معظمہ میں واقع خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ نہ آپ سے قبل نہ ہی آپ کے بعد کوئی کعبہ میں متولد نہيں ہوا تھا۔ خانہ کعبہ میں علی علیہ السلام کی ولادت وہ عظیم شرف و فضیلت ہے جو اللہ تعالی نے آپ کے مقام و مرتبے کی تکریم کی خاطر آپ سے مختص کی ہے۔[17]
حاكم نيشابوري (وفات 405هـ) کی روایت:
“فقد تواترت الأخبار أن فاطمة بنت أسد ولدت أمير المؤمنين علي بن أبي طالب كرم الله وجهه في جوف الكعبة”۔
ترجمہ: اس سلسلے مین احادیث و روایات متواتر ہیں کہ فاطمہ بنت اسد نے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کعبہ کے اندر جنم دیا ہے۔[18]
شاہ ولي اللہ دہلوي (متوفی 1176هـ) کی رائے:
و از مناقب وي رضي الله عنه كه در حين ولادت او ظاهر شد يكي آن است كه در جوف كعبه معظمه تولد يافت”۔
ترجمہ: اور آپ رضی اللہ عنہ کے مناقب میں سے ایک منقبت ـ جو آپ کی پیدائش کے وقت ظاہر ہوئی ـ یہ کہ آپ کعبۂ معظمہ میں پیدا ہوئے۔[19]
خاندان آپ عبد مناف ابوطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے فرزند ہیں اور آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد بنت ہاشم بن عبد مناف ہیں اور اس لحاظ سے آپ بنو ہاشم کے پہلے فرد ہیں والد اور والدہ ـ دونوں ـ کی جانب سے ہاشمی ہیں۔
ولادت آیت اللہ عبدالکریم موسوی اردبیلی (1344ہجری قمری بمطابق 27 جنوری 1926 عیسوی)
وفاتِ آیت اللہ شیخ فضل اللہ نوری (1327ہجری قمری بمطابق 31 جولائی 1909 عیسوی)
چودہ رجب
امام حسن عسکری علیہ السلام کے قاتل عباسی بادشاہ معتمد عباسی کا انتقال (ع)(279ہجری بمطابق 14 اکتوبر 892عیسوی)
پندرہ رجب














