۔۔۔ 2017 بیت گیا 2018 کا نیا نویلا سورج طلوع ہوئے بھی اب تو دس دن گزر چکے ( حیران مت ہوں جب میں یہ کالم لکھنے بیٹھا تو تاریخ دس جنوری ہے )سارے بنک اور بڑے چھوٹے ادارے اپنے گذشتہ سال کے حساب کتاب کر چکے نئے سال کے ہدف طے ہو گئے مارا ماری زوروشور سے جاری ہے۔ بہت دنوں سے سن رہا تھا کہ چک بیلی خان روڈ پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ بنفس نفیس تو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا کہ آج کل طبیعت کچھ بہتر نہیں ہے چنانچہ اپنے ڈرون کیمرے کی خدمات سے استفادہ کی ٹھانی ۔ ملگجے سے اندھیرے میں منظر کچھ واضح نہیں ہے مگر روڈ پر کام کے آثار دکھائی ضرور دیتے ہیں آج نہیں تو کل کام پایہ تکمیل تک پہنچ ہی جائے گا میری دلچسپی کا سامان تو لوسر موڑ سے دائیں جانب لگے گندگی کے وہ بلند و بالا ڈھیر ہیں جنہیں آپ بلا مبالغہ چھوٹے چھوٹے پہاڑ بھی کہہ سکتے ہیں راولپنڈی شہر کا سارا گند یہاں اکٹھا کیا جاتا ہے ۔انہی گندگی کے پہاڑوں میں سے سب سے بلند پہاڑ پر آلتی پالتی مارے بیٹھا کریہہ صورت ابلیس میری توجہ کا مرکز ہے اس کے سامنے گند سے لتھڑے ہوئے اس کے چانٹے چیلے دو زانوں بیٹھے اپنے مہاگرو کی جانب متوجہ تھے لائیٹ کافی کم تھی ڈرون کیمرے کی لائیٹ آن کرنے کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا بس چندہ ماموں کی مدھم سی روشنی پر اکتفا کرنا پڑا۔ خبیسوں کی صورتیں واضح نہیں تھیں مگر واضح ہوتیں بھی تو کون سا میرے دل میں گھر کر جاتیں میں نے اپنی تمام توجہ ان کی گفتگو پر مرکوز رکھی خلاصہ کلام آپ کے لئے پیش خدمت ہے ۔
ابلیس ملعون کا دربار جاری ہے سارے دس نمبری اکٹھے ہیں تاریخ بھی دس ہے گذشتہ سال کی کارکردگی کی فائلیں پیش کی جا رہی ہیں ایک مکروہ صورت چیلا اٹھتا ہے کورنش بجا لاتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے ۔ مہاگرو میری گذشتہ سال کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے برا تو یہ ہوا کہ ہمارا قائد کلبھوشن جادیو پکڑا گیا مگر پھر بھی ہم نے اس کے دئے گئے تمام اہداف حاصل کر لئے گذشتہ سال ہم نے بلوچستان اور سندھ کو ہدف بنانا تھا پورے سال کے لئے چھ ہدف مقرر ہوئے تھے چھ کے چھ اہداف ہم نے حاصل کر لئے ان اہداف میں زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا آ ئیندہ کے لئے احکامات صادر فرمائے جائیں ۔ ابلیس ملعون قہقہہ لگا کر کہتا ہے ابلیس خوش ہوا شاباش تم نے ابلیس کا صحیح چیلا ہونے کا ثبوت دیا کلبھوشن جادیو کی جگہ جلد نئی قیادت کا انتظام کر دیا جائے گا اس دوران تم اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ آرام کرو۔
پہلے کے داد سمیٹ کر بیٹھتے ہی ایک دونوں ٹانگوں سے معذور اچک اچک کے بتانے لگا مہا گرو سرکار آپ کے اس نا چیز غلام کو حکومت وقت نے خود موقع فراہم کر دیا حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم کرتے ہوئے ختم نبوت کے حلف نامہ کے الفاظ میں ردوبدل نے نا چیز کو وہ موقع فراہم کر دیا جس کا برسوں سے انتظار تھا بس پھر نا چیز نے پورے ملک میں وہ افراتفری مچائی کہ داستان سرکار تک پہنچ چکی ہو گی ایسا جھٹکا لگا حکومت وقت کو کہ اب تک سنبھل نہیں پا رہی آپ کے اس چیلے کی پوری کوشش ہو گی کہ مذہبی جماعتوں کو آپس میں ملنے نہ دے اسی تفرقہ بازی میں ہماری کامیابی کا راز پوشیدہ ہے سرکار ۔ ابلیس ملعون نے پھر ایک قہقہہ بلند کیا اور بولا شاباش اپنی کارروائیوں میں اور تیزی لاو اس لئے کہ دنیا کے نقشے پر یہ واحد ملک ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے اس ملک میں امن اور خوشحالی ہماری سب سے بڑی ناکامیوں میں لکھی جائے گی اور یہ مجھے کسی صورت قبول نہیں ۔
تیسرا بد صورت ترین چیلا اپنی ٹیڑھی ٹانگوں پر کھڑے ہونے کی جستجو کرتے ہوئے گویا ہوا سرکار کا اقبال بلند ہو آپ کے فرمان کے مطابق میرا نشانہ اس ملک کا گیم چینجر منصوبہ پاک چائنہ کوریڈور ہے یہ عوامی حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے جس کو ناکام بنانے کے لئے مجھے سب سے زیادہ تگ و دو کرنی پڑ رہی ہے پہلے تو میں نے دو صوبوں کو اس کی مخالفت پر آمادہ رکھا مگر پتا نہیں یہ پاکستانی کس مٹی سے بنے ہوئے ہیں ملکی مفاد میں ایک دوسرے کے ازلی دشمن بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں مگر میں بھی تو مہا گرو کا چیلا ہوں جب میں نے دیکھا کہ پوری قوم اس منصوبے کے لئے اکٹھی ہو چکی ہے تو پھر میں نے اپنے چیلے ڈونلڈ ٹرمپ کی خدمات حاصل کر لیں اس سے ایک تو پاکستان کی امداد بند کروا دی اور دوسرے ایسی دھمکیاں دلوائیں کہ اب پاکستانیوں کو اپنے ملک کی حفاظت کے لالے پڑے ہوئے ہیں مہا گرو سرکار آپ کا یہ چیلا اس ملک کو کبھی بھی اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا موقع نہیں دے گا بس آپ سرکار کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رہنا چاہیے ۔ ابلیس ملعون نے پھر ایک قہقہہ بلند کیا اور بولا شاباش چیلے تم جیسے چیلے ہیں جنہوں نے میرا نام روشن رکھا ہوا ہے ۔
کالا کلوٹا سا ایک چیلا اٹھا اور مہا گرو کو خوب مسکا لگانے کے بعد اپنی کارگزاری پیش کرتے ہوئے بولا سرکار آپ کے اس ہونہار چیلے نے ایسا داو کھیلا ہے کہ آج اس ملک کی ہر جماعت عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہو گئی ہے ایک نے دوسرے پر دوسرے نے تیسرے پر اور تیسرے نے پہلے پر کیس کر رکھے ہیں کوئی بھی اپنی صفائی پیش نہیں کر رہا ایک سے پوچھو تو وہ دوسرے کو کرپشن کا بادشاہ قرار دیتا ہے دوسرا پہلے کو منی لانڈرنگ کا شہنشاہ کہتے نہیں تھکتا یوں اب اس ملک کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہی سرکار یہ خود ہی ایک دوسرے کو نوچ نوچ کے کھاتے رہیں گے یہ تو کیا اب یہ مقدمہ بازی ان کی آئیندہ آنے والی نسلوں تک چلتی رہے گی اس طرح یہ اپنے اپنے مقدموں میں الجھے رہیں گے تو ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے وقت کہاں سے نکالیں گے اور اگر ملک کے لئے وقت نہیں نکال سکیں گے تو عوام بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر سڑکوں پہ نکلنے پر مجبور ہو جاہیں گے یوں ملک میں افراتفری کا ہمارا منصوبہ خود بخود رو بہ عمل ہو جائے گا۔ ابلیس ملعون نے ایک طویل قہقہہ لگایا اور بولا واہ اب تو میرے چیلے بہت سمجھدار ہوتے جا رہے ہیں اسی طرح کام کرتے رہے تو راج ہمارا ہی ہو گا ۔
اب اگلے شیطان کی باری تھی یہ کافی ہٹا کٹا بد ہیبت سا چیلا تھا اپنی طرف سے کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے اپنی کارگزاری بتانے لگا سرکار میری ڈیوٹی تو بہت ہی آسان ہے بس جب موقع ملتا ہے میاں کے موبائل فون کی طرف بیوی کی توجہ مرکوز کروا دیتا ہوں باقی کام موبائل فون میں محفوظ میسجز اور واٹس ایپ میں موجود تصویریں خود کر دیتی ہیں ہر مہینے ستر اسی طلاقیں کروا ہی دیتا ہوں مگر سرکار اب یہ کام مجھے بور سا لگنے لگا ہے اگر مناسب سمجھیں تو کوئی اور ڈیوٹی لگا دیں ابلیس ملعون نے قہقہہ لگا کر کہا ارے بے وقوف جس کام کو تو آسان سمجھ رہا ہے یہی تو سب سے مشکل کام ہے اس ملک کی عورتیں بہت وفا شعار ہیں اپنے مرد کے بارے میں کچھ بھی سننے کو تیار نہیں اگر تو اس کے باوجود میاں بیوی کے درمیان نفاق ڈالنے میں کامیاب ہو رہا ہے تو یہ تیری بہت بڑی کامیابی ہے جاری رکھ اس سے بڑھ کر اور کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا کہ دو جڑے ہوئے دلوں کو توڑ دیا جائے پیار کرنے والوں میں نفرت پیدا کر دی جائے شاباش میں تیری کارکردگی سے بہت خوش ہوا ۔
ایک کونے میں بیٹھا دبلا پتلا چیلا اٹھنے کی کوشش کرتا اور پھر بیٹھ جاتا ابلیس کی نظر اس پر پڑ گئی انگلی کے اشارے سے اسے اٹھاتے ہوئے بولا تو کیوں چھپ کے بیٹھا ہے کھڑے ہو کر اپنی کارگزاری پیش کر ۔ وہ اٹھا اور ہچکچاتےہوئے گویا ہوا سرکار مجھ سے کوئی بہت بڑا کارنامہ سر انجام نہیں پایا ہاں البتہ گذشتہ تقریبا پورا سال میں نے شہر قصور میں گزارا پہلے تو میں نے ایک گروہ تشکیل دیا جو چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کیا کرتا اور ان کی وڈیو فلمیں بنا کے بیچا کرتا تھا پھر میں نے تین چار جوان تیار کیئے جو پانچ پانچ سات سات سال کی بچیوں کو اغوا کرتے اور ان کے ساتھ بدفعلی کے بعد انہیں قتل کر کے کوڑے کے ڈھیروں پر پھینک دیتے ہمارا آخری کیس آج یعنی دس جنوری کو قصور کی سات سالہ بچی زینب والا ہے اس کی لاش اب تک مل چکی ہو گی ۔ ابلیس ملعون نے یہ سنا تو چوکڑی سے یکدم اچک کے اپنی دونوں ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا اور دبلے پتلے چیلے کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور اسے گلے سےلگا لیا پھر لگاتار اس کا منہ چومتے ہوئے بولا ۔ تو نے تو کمال کر دیا ایک سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور پھر اس کا قتل واہ ارے واہ ۔ تو صحیح معنوں میں میرا نام روشن کر رہا ہے بلکہ تو تو مجھ ابلیس کا بھی باپ نکلا ۔ آ جا آ جا بیٹھ جا میری سیٹ پر آج سے تو گرو اور ہم سب تیرے چیلے۔بس اس کے بعد مجھ میں کچھ اور سننے کی ہمت نہیں رہی میں نے ڈرون کیمرہ واپس موڑ لیا اور کمبل میں منہ دے کر ساری رات روتا رہا ۔۔۔
طارق بٹ













