لعلکم تتقون ۔ از۔ عزیز بلگامی

0
229

لفظ’’ تقویٰ‘‘ قر آن شریف یعنی کلام ربانی کی عربیئمبین کا ایک معروف لفظ ہے،جو اللہ کی طرف سے عرش اعظم سے حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا۔یہ لفظ اِس قدر معروف ہے کہ،کسی بھی زبان کا بولنے والا عامی ہو کہ عالم،غیر دانا ہو کہ دانشور ہر کوئی اِسے اپنی دینی گفتگو میں کم و بیش ضرور اِستعمال کرتا ہے۔لیکن کون۔۔۔کس قدر اِس کو سمجھتا ہے ، یہ ایک الگ بحث ہے۔قرآن شریف میں یہ لفظ مختلف مقامات پر مختلف انداز میں استعمال ہوا ہے۔ اگر ہم پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ قرآن شریف عربی زبان میں ہی کیوں نازل کیا گیاتو عر بی لفظ ’’تقویٰ‘‘ کے لفظ کو سمجھنے میں مزید آسانی ہوگی اور اِ س کی حقیقت زیادہ نکھر کر سامنے آئے گی۔
یہ سوال کہ قرآن زبانِ عربی میں ہی کیوں نازل کیا گیا،در آں حال یہ کہ جس زمانے میں اس کا نزول عمل میں آیاتھا اس میں سینکڑوں مشہور، مستعمل اور اپنی وراثت کے اعتبار سے مالدار زبانیں موجودتھیں جو اپنے اپنے دور کی شاندار تہذیبوں کی سرپرستی و پشتیبانی کے ساتھ کھڑی تھیں۔!! مثلاً مصر کی’’ قبطی زبان‘‘Coptic Language ہی کو لیجیے، زبان کے ماہرین کہتے ہیں کہ مصر میں زبانوں کی تاریخ۳۲۰۰ قبل مسیح تک پیچھے چلی جاتی ہے، جو انسانی تاریخ کا کوئی معمولی وقفہ نہیں ہے۔ اِس دوران چھبیسویں صدی قبل مسیح کی’’مصری آرکائیک‘‘زبانیں، بائیسویں صدی قبل مسیح کی’’ قدیم مصری‘‘ زبانیں،سترویں صدی قبل مسیح کی ’’متوسط دور کی مصری‘‘ زبانیں،ساتویں صدی قبل مسیح کے آخری دور کی زبانیں، قبطی زبان یاCopticزبان کا پس منظر بنیں،جو پہلی عیسوی صدی میں اُبھری تھی ۔ اور یہی وہ زبان ہے جو ’’ عربی وحیئ اِلٰہی ‘‘ سے پانچ سو سال پہلے ہی اِس طویل تاریخی پس منظر کے ساتھ پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ اِس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ اپنی تاریخی وراثت کے اعتبار سے کس قدر مالدار زبان رہی ہوگی۔
اسی طرح ایران یا فارس کی فارسی زبان کو دیکھئے۔ اِس کا پس منظر بھی کچھ ایسا ہی رہا ہے۔وح�ئ اِلٰہی کے عربی میں نزول کے اطراف فارسی زبان کی شان بھی کچھ معمولی شان نہیں تھی۔یہ بھی پروٹو ایرانی دور کا پس منظر اپنے ساتھ رکھنے والی زبان تھی جو پندرہویں صدی قبل مسیح تک پیچھے جاتی ہے۔لسانی ماہرین نے اِس پس منظر کو دو ادوار میں تقسیم کیا ہے ،پہلادور، پانچویں صدی قبل مسیح کی’’ قدیم فارسی ‘‘کادور،اور دوسرا دور، تیسری صدی قبل مسیح کی ’’متوسط فارسی‘‘کا دور۔ جدید فارسی کا آغاز آٹھویں صدی عیسوی سے ہوتا ہے، جس سے تعرض اِس کی شانِ جدیدیت کے باوجود یہاں ضرور ی نہیں،کیوں کہ ہم قرآن کے نزول کے زمانے کے لسانی پس منظر کی بات کر رہے ہیں۔پہلے دو ادوار کے بعد ایرانی سرحدوں میں بولی جانے والی شاندار زبان کے اِس مالدار پس منظر کے زمانے میں قرآن کا عربی زبان میں نازل کیا جانا قابلِ غور ہے۔
اِدھرہندوستان میں بھی ایک سے زیادہ زبانیں ،جیسے سنسکرت، پراکرت اور پالی زبانیں موجود تھیں۔ یوروپ میں بھی عظیم روما کی لاطینی اور بازنطینی زبانیں اپنی شان و شوکت کے ساتھ اپنی عظمت کی بلندی پر تھیں۔ماہرین کی محنت شاقہ کے نتیجے میں قدیم زبانوں کی تاریخی تفصیلات کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔لیکن مضمون کی تنگ دامانی اِس کی اِجازت نہیں دیتی۔ تاہم اِتنی تفصیل یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ عربی زبانوں کے علاوہ بھی کئی زبانیں اپنی ادبی خزانوں اور اپنی مالدار روایتوں کے ساتھ نزولِ وحی کے زمانے میں موجود تھیں، لیکن اللہ نے اپنی ہی تخلیق کردہ اِن عظیم زبانوں کو چھوڑ کر اپنے کلام کودنیا کے غیر آباد و غیر معروف صحرائی جزیرہ کی زبان عربی میں نازل کیا۔سوال یہ ہے کہ آخر کیا بات ہے کہ عربی زبان کو ہی وقت کی دیگر زندہ زبانوں پر رب ذوالجلال نے فوقیت دی ؟ یہ اور ایسے بہت سے سوالات متقاضی ہیں اِس بات کے کہ انسانی تاریخ کے ساتھ ، اِنسانی زبانوں اور مختلف اِنسانی تہذیبوں کے عروج و زوال کی تاریخ کو مدّ نظر رکھا جائے ۔نیز ہر دور کے لسانی ماہرین کے فراہم کردہ تحقیقی مواد کو اِس کے واضح فہم کے ساتھ سامنے رکھا جائے۔لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا ، یہ موضوع وسیع بھی ہے اور دقیق بھی اور محض ایک مضمون میں اِسے سمیٹنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔تاہم اِس سلسلے میں چند سطروں میں ہم اِشارے دیتے چلے جائیں گے ،جو مزید تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے کام آسکتے ہیں۔
۱)۔۔۔یہ بات سب جانتے ہیں کہ طوفانِ نوح علیہ السلام کے بعد ایک کشتی میں سوارچند نفوس پر مشتمل جو بچی کھچی نسل آدم ؑ تھی ،اُسی کے یہ چند افراد تھے جن کی نسلیں اِتنی بڑی تعداد میں سطحِ زمین پر پھیلیں۔ اس لحاظ سے حضرت نوح ؑ کو آدم ؑ ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ حقیقت شد و مد کے ساتھ تسلیم کی جاتی ہے کہ حضرت نوح ؑ کے چار بیٹوں سے دُنیا میں چار بڑی نسلیں اوراِن سے وابستہ، لسانی نوعیتوں کے اعتبار سے مختلف زبانیں عالمِ وجود میں آئیں اور ترقی کی راہ پر چل پڑیں۔دنیا میں چار زبانیں قدیم ترین مانی جاتی ہیں۔:۱)عبرانی (ہبریو) جو مشرق وسطیٰ میں پروان چڑھی۔۲)سنسکرت جس نے ہندوستان میں اپنا ڈیرہ جمایا۔۳) لاطینی Latinزبان جس نے یوروپ کو اپنا مسکن بنایااور۴) شنٹو زبان جس نے تبت کو اپنا مرکز بنایا۔یہی چار زبانیں دُنیا کی دیگر تمام زبانوں کی مائیں کہلاتی ہیں۔
۲)۔۔۔عبرانی زبان، جس میں حضرت موسیٰ ؑ پر توراۃ شریف نازل کی گئی، اُس سے مشرقی وسطیٰ میں ۲۶ زبانیں وجود میں آئیں،جیسے خود عربی، آرامی، امہاری ، سریانی، کلدانی، اشوری، کنعانی، فنیقی، عقادی، فنیسی، موآبی ، امورائی، نبطی وغیرہ وغیرہ۔سنسکرت سے ہندوستان کی وہ سب زبانیں نکلیں ، جن کی بنیاد پر گزشتہ صدی میںیہاں کی ریاستوں کی تنظیم عمل میں آئی۔جیسے مرہٹی زبان بولنے والوں کے لیے مہاراشٹرا، تلگوزبان بولنے والوں کے لیے آندھرا، ملیالم بولنے والوں کے لیے کیرالہ، وغیرہ۔اِسی طرح یورپ کے مختلف ممالک میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں ، جیسے انگریزی، جرمن،فرانسیسی،
وغیرہ ۔۔۔تو یہ سب لاطینی زبان کے بطن سے پیدا ہوئیں اور شنٹو نے چینی، کوریائی، جاپانی، فلپائینی، تھائی،کشمیری ، جیسی زبانوں کو جنم دیا۔
۳)۔۔۔ امتدادِ زمانہ کے ساتھ اِن میں سے اب کچھ ناپید بھی ہیں اور بعض دیگر زبانیں لائبریریوں اور یونیورسٹیوں کی زینت بن کے رہ گئی ہیں۔اپنی موجودہ لکھاوٹ یا حروف کے ڈیزائن میں یہ زبانیں آج بھی وہی ہیں جو کبھی اپنی مادری زبان کے اسٹائل میں رائج تھیں۔لیکن ہر قدیم زبان پر دنیا کی جدّت پسندانہ طبیعت کا گہرا اثر رہا ہے۔اور ہر نئے اور بدلتے دور کے تقاضوں کی وجہ سے اِن میں کئی طرح کی تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔ کبھی لکھاوٹ اور رسم الخط بدلی تو ، کبھی گرامر کے اُصول بدلے، کبھی اِن کے بعض الفاظ متروک ہوئے تو جدید دور کے تقاضوں نے اِن کے دامن میں نئے الفاظ بھی ڈال دیے۔یہی سبب بنتا ہے اِس حقیقت کا کہ کسی زبان کی کوئی اعلیٰ تحریری کوشش پچاس سالوں میں ہی اپنی ادبی چاشنی کے ساتھ اپنی عوامی کشش بھی کھوتی رہی ہے۔
۴)۔۔۔ اِس قسم کی تمام زبانوں کے مقابلے میں حیرت انگیز طور پر عربی زبان نے خود اپنی مالداری اور اثر آفرینی پر کسی قسم کی آنچ آنے نہیں دی اوریہی زبان وحی الٰہی کے لیے اللہ نے منتخب فرمائی ، جس پر وقت کے گزرنے اور حالات کے بدلنے کا کوئی اثر نہیں ہوا، نہ اِس کی اثر آفرینی میں فرق آیا ، نہ اِس کے ادب پارے کبھی از کارِ رفتہ قرار دئے جاسکے۔چنانچہ اِس حقیقت کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ قرآن شریف کی عربی چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اُسی طرح متاثر کن ہے ، جس طرح دورِ رسالت میں اثر انگیز رہی۔مضامین و منظومات کی شکل میں موجود نثر و نظم کے زبانِ عربی کے ادبی شہ پارے اپنے الفاظ ومعانی ، اپنے معیار و اسلوب کے اعتبار سے آج بھی وہی ہیں جو حسنِ بیان اور حسنِ تاثیر کے ساتھ صدیوں قبل تھے، لیکن قرآن کی چاشنی اور اثر آفرینی تو اِ س سے بھی آگے کی بات ہے، اور ہر لمحہ اِس کی تازگی کا باعث بنتی رہتی ہے۔اِس کی دو وجوہات ہیں:
*۔۔۔ایک تو یہ کہ قرآن شریف کی زبان صرف عربی نہیں بلکہ ’’عرب�ئ مبین ‘‘ ہے اور اپنے دامن میں اِنسانی ہدایت کا اِلٰہی موضوع رکھتی ہے۔ اور
*۔۔۔ دوسر ی وجہ یہ کہ خودقرآن کی عربی زبان زمینی عربی نہیں بلکہ یہ اپنے منبع Originکے لحاظ سے آسمان سے نازل شدہ ہے۔
۵)۔۔۔ صرف عربی زبان کو دیکھیں تو یہ ایک ایسی انفرادیت کی حامل زبان ہے جو دنیا کی کسی زبان میں نہیں پائی جاتی۔اور وہ انفرادیت یہ ہے کہ اس کا ہرفعل عموماًتین حرفی ہوتا ہے، جسے اِصطلاحاً’’مادہ‘‘ یا Root wordبھی کہتے ہیں۔کچھ استثنائی روٹ الفاظ دو حرفی اورچارحرفی بھی ہیں، لیکن اِن کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے۔ عام طور پر روٹ الفاظ تین حرفی ہی ہیں۔اِس اُصول سے یہ زبان کبھی اِنحراف نہیں کرتی۔ آج بھی اس اصول میں تبدیلی نہیں آئی نہ کبھی آئے گی۔کوئی لفظ چاہے دس حرفی یا بیس حرفی ہی کیوں نہ ہو،اِس کا مادہ تین حرفی ہی رہے گا۔اور اِس سے نکلنے والے سارے الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ معنوی طور پر مربوط ہوں گے۔ جدید ماہرین لسانیات عربی کی اسی خوبی کے پیش نظر غیرعربی احباب کے لیے عربی سیکھنے سیکھانے کے نہایت ہی آسان فارمولے پیش کرنے کے قابل ہو سکے ہیں۔
۶)۔۔۔انہی تین حرفی مادہ یا روٹ لفظ سے چھبیس یا اس سے بھی زیادہ الفاظ بنتے ہیں جن کے درمیان میں روٹ لفظ لازماً موجود ہوگا جو اس کے معنی طے کرے گا۔دنیا میں عربی زبان ہی ایک ایسی زبان ہے جس میں رُوٹ الفاظ کی تعداد بھی بیحد کم ہے،جو دو ہزار سے متجاوز نہیں۔ اِس لیے اِن کاذہن نشین کرنا کسی بھی عربی یا غیر عربی طالب علم کے لیے کچھ مشکل نہیں ۔جیسے: ف ر ق ۔۔۔ ع ق ل ۔۔۔ ع ل م ۔۔۔ د ع ا ۔۔۔ م ا ل ۔۔۔ س ج د ۔۔۔ ج ر م ۔۔۔ م ک ن ۔۔۔ ش ک ر ۔۔۔ ن ظ ر ۔۔۔ ب د ل ۔۔۔ ح س ن ۔۔۔ ص ب ح۔۔۔وغیرہ۔
۷)۔۔۔اِن ہی روٹ الفاظ کی اِبتدا میں، آخر میں یا درمیان میں کچھ دوسرے حروف کی شمولیت کے ساتھ اس کی Grammerکا شعور حاصل کرنا اِس قدر آسان ہے کہ تھوڑی سی توجہ اور محنت سے ایک طالب علم اِس زبان کو سیکھ اور سمجھ سکتا ہے۔اِتنی آسان کہ اِسے سائنسی فارمولے کی طرح سیکھا اور سکھایا جاسکتاہے،یہاں تک کہ عربی زبان کے طلباء کو ایک مرحلے میں آکر ڈکشنری میں ہر لفظ کے معنی تلاش کرتے رہنے کی حاجت باقی نہیں رہتی اور Scientific اُصولوں بلکہ محض اپنی عقلِ عام Common sense سے وہ کسی لفظ کے معنی معلوم کر سکتا ہے۔ اُسے اگر مذکورہ ۲۰۰۰ روٹ الفاظ ذہن نشین ہو جائیں تو بلا مبالغہ وہ ہزاروں الفاظ کے معنی سے واقف ہو سکتا ہے۔
۸)۔۔۔ یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ بر صغیر ہند وپاک کی پوری آبادی عام طور سے بلا تفریق مذہب و ملت، عربی کے پچاس فیصد الفاظ اپنی زبانوں میں استعمال کرتی ہے، اوردلچسپ بات یہ کہ لاشعوری طور پر ایسا کرتی ہے۔اِسی لاشعوریت کے سبب اُسے پتہ نہیں چلتاکہ یہ الفاظ عربی کے ہیں اور ایک مخصوص ترکیب کے تحت وجو د میں آئے ہوئے ہیں ۔ ہمارے وطن میں ہندی، مرہٹی، گجراتی، بنگالی، پنجابی اور پوربی زبانوں میں غیر محسوس طور پر عربی کے الفاظ ہماری واقفیت کے بغیر مستعمل ہیں۔ ہو سکتا ہے ہمارے دعویٰ کو مبالغے پر محمول کیا جائے،تاہم مثالوں کے پیش کیے جانے کے بعد ایسی کسی مبالغہ آرائی کا اِمکان باقی نہیں رہے گا۔ لہٰذاچند چونکا دینے والے الفاظ ملاحظہ ہوں، جو اصلاً عربی الفاظ ہیں جو ہماری زبانوں میں کثرت سے مستعمل ہیں: کرسی، قمیص ، جیب، کف، عینک، نظر، کتاب ، دماغ، عقل ، جسم ، بدن، روح، فہم، علم، ایمان، کفر، کلمہ، دعا، حج، زکوٰۃ، دنیا، آخرت، جنت ، جہنم، اللہ، رب، دار، نفع، نقصان، ظلم، موت، وفات، حیات، عذاب، ثواب ، حق، ہدایت، شیطان، انسان، مرض، شفاء ،تجارت، نور، نکاح، طلاق، وصیت، فساد، مال، طاقت، قوت ، قتل، شہید، مقام، نعمت، رحمت، غافل، فرقہ، جماعت، عزت، ذلت، فتنہ، فساد، لباس، سلام، عہد، وعدہ، اکبر، غالب، جرم، سوال، جواب، محبت، ضعیفی، قصہ، بیان، وعظ، حق، مکان، معافی، باقی، اول، آخر، امانت، خیانت، شکر، ملاقات، اِنتظار ، تبدیل، بدلہ، محسن، احسان، مقام، صبح ، وغیرہ وغیرہ۔یہ اورایسے اور بھی کئی ا لفاظ نہ صرف عربی زبان کے ہیں، بلکہ قرآن شریف میں مستعمل بھی ہیں۔
۹)۔۔۔پھر انسان نے یہ بھی دریافت کر لیاکہ عربی میں اور خصوصاً قرآنی عربی میں کوئی بھی’’ لفظِ اِسم‘‘ Noun Word، روٹ لفظ کے بغیر نہیں بنتا۔ جیسے، قتل سے قاتل۔۔۔کتبسے کاتب۔۔۔ حفظسے حافظ وغیرہ ۔ اور اسی اصول پر فعل Verb، فاعلSubject اور مفعولObjectبنتے چلے جائیں گے۔جیسے قتل۔۔۔ قاتل۔۔۔ مقتول، وجد۔۔۔ واجد۔۔۔ موجود، شہد۔۔۔ شاہد۔۔۔ مشہود، حمد۔۔۔ حامد۔۔۔ محمود وغیرہ۔ اور یہ اصول کبھی بدلتے نہیں۔ چنانچہ کمپیوٹر کے دور میں صرف ایک کلک کے ساتھ سینکڑوں الفاظ کا فعل سے فاعل یا مفعول بنایا جانا ناممکن نہیں رہا اور اِن میں سے ہر ایک لفظ کے آخر میں صرف’’ ۃ‘‘کے لگنے سے تمام اسم ،مذکر سے مؤنث میں تبدیل ہوجائیں گے۔یہ تو خیر زبان کی منفرد خوبیاں ہیں ،لیکن، اللہ کے کلام کی اِلٰہی عربی کی خوبیاں تو زبان عربی کی مذکورہ خوبیوں سے کہیں زیادہ اعلیٰ و ارفع ہیں۔
۱۰)۔۔۔ اگر عام قسم کی کسی نارمل سی کتاب کی طرح ’’کتاب اللہ‘‘ کو پڑھا جائے تو اِس کے مضامین ایک اخبار کے مضامین کی طرح سامنے آتے چلے جائیں گے۔اخبار بینی کے لیے کہاں کب کئی سارے علوم کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ ہاں، اسے اگر اِس کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ پیش کرنا ہو تو دیگر علوم کی ضرورت لازمی طور پر درپیش ہوگی یا اگرمتن میں ایک آدھ جملہ یا کسی ذیلی مضمون کا اضافہ پیش نظر ہو تو اتنی مہارت یا اِس قدر علوم کافی ہوں گے جو عام طور پر کسی اخبار کے ایڈیٹر کی مہارت یا معلومات ہوتی ہیں۔جہاں تک قرآن شریف ، اِس کی زبانِ عربی اور اِس کے مطالعے کی بات ہے تو، ایک قاری کواِتنا ہی تو کرناہوتا ہے کہ اِس کے معنی سمجھے جائیں اوراِس میں پیش کردہ احکامات و ممنوعاتِ زندگی سے واقفیت حاصل کی جائے۔کتاب اللہ میں (نعوذ با اللہ)قاری کو ایسی کوئی حرکت تو کرنی نہیں ہوتی ہے کہ اِس میں جملہ بڑھایا جائے ، یا کسی اخبار کو ایڈٹ یا مرتب کرنے جیسا کوئی کام کیا جائے۔ اسے تو بس،نازل شدہ آیات اور اِن میں بیان کردہ مضامین کو سمجھنا ہوتاہے۔گویا اسے کوئی اخبار لکھنا نہیں ہوتا بلکہ اخبار میں آئی ہوئی خبر کوبس پڑھنا اور سمجھنا ہوتاہے۔۔۔!! کیا اس کے لئے نارمل سی جانکاری کافی نہیں ہوجائے گی !!! سچی بات تو یہ ہے کہ حصولِ زبانِ عربی کے سلسلے کی یہ ساری باتیں اکاڈمکAcademicقسم کی ہیں ہی نہیں کہ خوبصورت الفاظ و تراکیب کا سہارا لے کر عمداً اِسے مشکل ترین اوراجنبی زبان بنا کر رکھا جائے اور کتاب اللہ کو خود اِس کے ماننے والوں کے لیے ایک معمہ بنا دیاجائے ، در آں حال یہ کہ اِن کی نوے فی صد سے زیادہ آبادی اِس کو براہِ راست سمجھنے سے صدیوں تک محروم رہ جائے اور پھر بھی قر آن کے لائے ہوئے دین پر قائم رہے۔! اِ س کے برعکس وسطی ہندوستان میں کیے جانے والے تجربات بتا تے ہیں اور کوئی بھی شخص ان کابراہِ راست خود مشاہدہ کر سکتا ہے کہ بلامبالغہ ہزاروں کی تعداد میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، بودھ اور جین حضرات نے، جو مختلف ہندوستانی زبانوں جیسے بنگالی، گجراتی، مراٹھی، تمل، ہندی، پنجابی اور مارواڑی زبان میں گفتگو کرتے ہیں، ایک نہایت ہی قلیل مدت میں عربی زبان سیکھی اور مہاراشٹر(ا انڈیا) کی یونیورسٹیوں سے، خصوصاً ناگپور اور ناسک یونیورسٹیوں سے بنیادی عربی زبان کی مہارت کے امتحانات پاس بھی کر لیے، جواِس زبان کے سہل ترین ہونے کے حیرت انگیز مظاہر ہیں۔شاید یہ وجوہ اور ہماری نظروں سے اوجھل ایسی دیگر بیسیوں وجوہات ہوسکتی ہیں، جن کی بنا پر رب السموات والارض نے اس زبان کو اپنے آخری کلامِ ہدایت کے لیے منتخب فرمایا۔کسی دانشور نے کیا خوب فرمایا ہے کہ رب تعالیٰ نے صحرائے عرب میں صرف اور صرف اپنی کتاب کی خاطر عربی زبان ، اس کا پس منظر، اس کے استعمال کرنے والوں کی طرزِ زندگی اور وہاں کے لوگوں کی بود وباش اور موسم کے منصوبے کوسینکڑوں سال کے ایک پروسیس Process کے ذریعہ تیار فرمایا۔
اِس طویل تمہید کو دیکھ کر کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم اپنے موضو ع سے ہٹ گئے ہیں۔ اِس طویل پس منظر کامقصد صرف یہ ہے کہ لفظ’’ تقویٰ‘‘ کی گہرائی اور گیرائی اور معانی و مفاہیم کو ہم ایک نیے رُخ سے سمجھ سکیں اور پھر اس پر عمل پیرا ہو جائیں۔قرآن شریف کے ہر لفظ کی طرح لفظ’’ تقوی‘‘ بھی اپنے روٹ لفظ ’و ق ی‘ کے بطن سے نکلا ہوالفظ ہے۔لفظ ’’تقوی‘‘ یا’’متقین‘‘ ٹھیٹ قرآنی الفاظ ہیں۔ ماہرین لغت نے لفظ’’ تقوی‘‘ کے جو معنی بیان کئے ہیں، وہ ذیل میں درج ہیں۔لیکن محققین اور علماء اور ماہرینِ لغت کو کبھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان کی لغت اور اِن کے علم لسانیات کی پابندی اللہ تعالی پر ہر گز لازم نہیں۔
لفظ’’ تقویٰ‘‘ کے معنی و مفہوم میں ہمیں لغات میں یہ الفاظ ملتے ہیں:’’ بچنا، پرہیزگاری اختیارکرنا،ڈرنا، محتاط رہنا ،اپنے آپ کو بچانا‘‘ وغیرہ،جو بجائے خود غلط نہیں۔تاہم یہ بات ہمیشہ ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ کسی بھی زبان کی کسی بھی لغت میں ایک لفظ کے معنی اور مترادفات ضرور بیان ہوتے ہیں۔لیکن ماہرین کے نزدیک جب یہ اپنے سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان ہوتے ہیں تو یہ ہمیشہ بے جان ہو کر رہ جاتے ہیں ۔کسی جملے میں یا جس مقام پر یہ جملہ آیا ہوا ہو، وہاں یہ الفاظ وارد ہوئے ہوں تو وہ ٹھیک مصنف کے منشائے مضمون کے مطابق ہی ہوں گے، نہ کہ موجودہ لغت میں بیان کردہ معانی کے مطابق۔لہٰذا لفظ’’تقوی‘‘ (و ق ی) جب قرآن شریف میں تقریباً ۲۵۸ مقامات پر اِستعمال ہواہے تو،ظاہر ہے اپنے اپنے سیاق و سباق کے درمیان اپنے اپنے منفرد انداز و معانی میں ہی اِستعمال ہوا ہوگا۔ مثلاً، سورۃ البقرہ( ۲) کی آیت(۱۸۳) میں روزوں کے تعلق سے جو احکامات آئے ہیں،اِن کے درمیان اِس لفظ کا وارد ہونا اپنے اندر ایک انتہائی اہم مضمون رکھتا ہے۔اِنشاء اللہ ہم اِس مضمون میں اِس کے معنی اور اِس میں پنہاں پیغام پر خصوصی توجہ دیں گے ، نیز روزوں سے اِس کے مخصوص تعلق سے ہدایت کی روشنی حاصل کریں گے۔ آیت کی ترجمانی کچھ اِس طرح ہوگی:’’اے ایمان (کا دعویٰ کرنے) والو! تم پر صیام(روزے) فرض کردئے گئے ،جس طرح تمہارے پیش روؤں پر فرض کئے گئے تھے، اِس لئے کہ تم میں تقوی (یعنی گناہوں سے بچنے کا سلیقہ) آسکے ۔‘‘
ذیل میں ہم پوری سادگی کے ساتھ اس لفظ پر غور کریں گے،اور کیوں نہیں ، جب خود اللہ نے اپنے کلام میں اپنے جملہ احکامات انتہائی سادگی کے ساتھ بیان فرما دئے ہیں اور اُس نے اپنی کتاب کی کسی بھی آیت کے فہم کوکسی مخصوص فرد کی تفسیر یا تفصیل کا محتاج نہیں رکھا ہے۔کوئی بھی آیت یا کوئی بھی حکم ایسا نہیں جسے معمہ قرار دیا جائے۔خود ہم بھی یہاں اِس لفظ کی نہ تفسیرکر رہے ہیں اورنہ ہم اِس کی صلاحیت رکھنے کے دعوی دار ہیں۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اپنے قارئین کو سوچ اور غور و فکر کا ایک زاویہ Angle فراہم کریں۔تاکہ آیت سے ہی کسی لفظ کے سلسلے میں ہدایت کی روشنی ملے ۔کسی لفظ کے آگے پیچھے کیا باتیں ہیں جس میں اِس کا اِستعمال ہوا اور وہ پیغامات کیا ہیں ،جو ہمارے سامنے کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور زندگی کو ایک مقصد عطا کر جاتے ہیں،یہ امر پیش نظر ہونا چاہیے ، جیسے یہی لفظ دیکھیں ،’’تقویٰ‘‘۔۔۔ جسے روزوں کے پس منظر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ہماری یہ کوشش ہے کہ مروجہ مفاہیم و تراجم کے لفظ یا تفصیل سے تعرض کئے بغیر وہ زاویۂ تدبر پیش کریں جو کتاب اللہ کے عطا کردہ شعورسے ہمیں میسر آتا ہے۔ہم تقویٰ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اور اپنے زاویۂ فکر کو پیش کرتے ہوئے معترف ہیں کہ ہم کسی قسم کی فلسفیانہ مو شگافی نہیں کر سکتے بلکہ ہم سادہ سی مثالوں کے ذریعہ سے ہی اپنے مدعا کو پیش کرنے کی کوشش کریں گے اور قارئین کو’’تقویٰ‘‘کے سلسلے میں اُسAngleسے متعارف کرائیں گے ،جس کا تذکرہ گزشتہ سطور میں آچکا ہے۔
لفظ’’ تقوی ‘‘ اور روزوں کے احکامات کے مابین جو مناسبت ہے اُسے سمجھنے کے لیے ہمیں اُس معصوم روزہ دار بچے کے طرز عمل پر ایک نظرِ غائر ڈالنی ہوگی جو روزوں کے دنوں میں ظہر یا عصر کی نماز ادا کرنے کے لیے وضو کا قصد کرتا ہے۔یہ ایک عام مشاہدہ اور روزمرہ کا ایک عام منظر ہے کہ شدید گرمیوں کے زمانے میں بھی وضو کے دوران یہ روزہ دار بچہ اپنے منہ میں پانی تو ضرور لیتا ہے، تاکہ وضو کی شرائط سے عہدہ برآ ہوسکے، لیکن ایک بوند بھی اپنے حلق کے نیچے اُترنے نہیں دیتا۔آخر کیوں؟حالانکہ حلق کے نیچے اُترنے نہ اُترنے کی کیفیت کو چھپانے کے لیے اُسے تنہائی کی ضرورت بھی نہیں ۔ بھیڑکے درمیان بھی وہ اپنے گلے سے پانی کے چند قطرے اُتارنا چاہے توضروراُتار سکتا ہے، کیوں کہ اِس کے منہ میں ہونے والی ہلچل کو دیکھنے پربھیڑ کوقدرت حاصل نہیں ہوتی۔آخروہ کیا شئے ہے جو قدرت کے باوجود ایک معصوم روزہ دار کو باوجود احساسِ پیاس کے، پانی کو حلق سے اُتارنے سے روک دیتی ہے؟
’’تقویٰ‘‘کے لیے لغت میں موجود الفاظ میں بیان کیا جائے تو دراصل گناہ سے بچنے کا یہ طرز عمل’’ تقویٰ‘‘ سے ہی عبارت ہے،یہی تقویٰ ہے جو اُسے اُس کے رب سے’’ خوف دلاتا ‘‘ ہے، اُسے اپنے رب سے کئے گئے ’’ عہد کا پاس و لحاظ‘‘ کراتا ہے،اُسے اِس قیمتی’’ نیکی‘‘ کا خوگر بنا تا ہے اور بالآخر اُسے ’’درسِ شرافت‘‘ عطا کر جاتا ہے۔ اسے اِس بات کا پتہ ہونے کے باوجود کہ پانی کے چند قطرات کے حلق سے اُتر جانے کی خبر تنہائی تو کجا، بھیڑ میں بھی کسی کو نہیں ہو سکے گی،وہ خود کو اِس سوچ کے لیے تیار کر لیتا ہے کہ کسی کو پتہ چلے کہ نہ چلے، کسی کو معلوم ہوکہ نہ ہو، اللہ اِس کو ضرور دیکھ رہا ہے ۔ بس یہی احساس اُسے روک دیتا ہے اور وہ اپنے رب کے خوف سے شدید گرمیوں کی پیاس میں بھی چند قطرات سے پرہیز کرجاتا ہے اور اصلاً اسی کیفیت کو تقویٰ کہتے ہیں جو اسے جنت نعیم میں داخلہ دلا سکتا ہے ۔اپنی آخری کتاب کی سورۂ النازعات(۷۹) کی آیت(۴۰تا۴۱) میں رب تعالیٰ نے فرمایا : ’’اورجو (کل آنے والے قیامت کے دن) اپنے رب کے سامنے کھڑا رہ کر(اپنے ہر عمل کا) حساب دینے سے (آج اس دنیا میں)لرزتا رہے گااور اپنے من کو من مانی کرنے سے روک لے گا، تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہوگا۔‘‘
اِنسان گناہ اسی وقت کرتا ہے جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اُسے کوئی دیکھ نہیں رہا ہے، احتیاط کے لئے وہ اِدھراُدھر نظریں بھی دوڑا لیتا ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ کہیں کسی کی نظراِس کے کارِ گناہ پر تو مرکوز نہیں ۔اندھیری شب کی چادر میں چھپ کر گناہ وہ اِسی لئے تو کرتا ہے کہ رات اُس کی غلط کاریوں پر اندھیروں کے پردے ڈال دیتی ہے ۔ لیکن روزوں کے ذریعہ حاصل کردہ تقویٰ میں یہ قوت ہے کہ وہ اِسے تاریکی میں بھی گناہ کرنے سے روک سکے۔ وہ روزوں کے ذریعہ اِس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ رب تعالیٰ جو ساری کائنات کا نور ہے ،اُ س کے لئے شب کی تاریکی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس کا یہ احساس روزوں ہی کے ادا کردہ تقویٰ کی بدولت پختہ تر ہوگا کہ شش جہات سے اُس کا رب اُس کے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے میں وہ تقویٰ کی روش کو اُسی طرح برقرار رکھ سکے گا۔اور یہی تقویٰ ہے جو ’’لعلکم تتقون‘‘کی دین ہے۔یہ نکتہ نظروں سے کبھی اوجھل نہیں ہونا چاہیے کہ تقویٰ کے ضمن میں اِختیار کی جانے والی یہ روش کسی بیرونی قوت یاکسی قانون کے نفاذ کی رہینِ منت نہیں ہوتی، نہ کسی قانون کے دباؤ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بلکہ تقویٰ ایک اندرونی کیفیت کا نام ہے، چاہے کوئی قانون اِس کے نفاذ کے لیے موجود ہو کہ نہ ہو۔دوسرے الفاظ میں تقوی وہ احساس ہے جو گناہ و عصیان کے کھلے ماحول میں مکمل شخصی آزادی کے باوجودانسان کو گناہ سے بچانے والا Self Imposedقانون ہے، جسے نہ کوئی پولس درکار ہے نہ کوئی حکمران۔ کوئی حکومت ، کوئی قرارداد،یا احکام کے نفاذ کا کوئی بھی متشددانہ رویہ اِس کی عظمت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔’’لعلکم تتقون‘‘ کا پیغام زندگی کے دیگر شعبوں میں اُسی طرح برمحل Relevent ہے،جس طرح روزوں میں برمحل ہے، کہ زور زبردستی سے احکام کے نفاذ میں تشدد کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے ’خوف خدا‘ کا نسخہ ہی زیادہ کارآمد اور دیرپا ہے۔ انبیاء علیھم السلام نے اپنی اپنی قوموں پر اسی ڈوز کو استعمال کیا اور قلیل سے وقت میں عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ دنیا کی اصلاح کے لئے انبیاء کرام نے فرد کی ذات پر توجہ دی اور خصوصاً اس کے ’قلب‘ پر محنت کی۔اُنہوں نے اصلاحِ معاشرہ کی کوئی تحریک نہیں چلائی ، نہ ہی نظام میں تبدیلی کی ویسی کوئی کوشش فرمائی، جیسی آج کل جاری ہیں جو بالآخر ناکامی پر منتج ہو رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فردکے قلب پرہی محنت اصل ہے ، تاکہ ایسے افراد پر مشتمل خاندان اور سوسائٹیز معرضِ وجود میں آئیں جو اِنسانیت کی اصل خادم بن سکیں اور پھر نسلیں یا جغرافیائی سطح پر علاقے کے علاقے، اِسی محنت کی بنیاد پر فتح ہوتے چلے جائیں۔حقیقتاً ایک فرد کی اصلاح سے ہی پوری سوسائٹی کی اصلاح ممکن ہے ۔
ہمارے ملک ہندوستان کی مثال لیجئے جہاں گناہ اور اس کی ترغیب دلانے والی ہر شئے آسانی سے دستیاب ہے۔قدم قدم پر لائسنس یافتہ میخانے Bars موجود ہیں۔شراب کے بعض برانڈ Brands توچائے سے بھی زیادہ سستے ہیں۔شراب پینے سے روکنے والے نہ جانے آج تک کتنے Legislations وجود میں لائے جاچکے ہوں گے۔ لیکن کوئی قانون، کوئی زور ، کوئی زبردستی شرابیوں کو شراب سے باز نہیں رکھ سکی ہے۔اگر کوئی شئے باز رکھ سکتی ہے تو وہ وہی’’ تقویٰ‘‘ ہے جو ایک انسان میں روزوں کے ذریعہ یہ شعور پیدا کرتاہے کہ وہ In-Camera ہے۔وہ ہر وقت زیر نگرانیUnderwatchہے اور خود اس کے جسمانی اعضاء بھی اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے ہمہ دم تیار ہیں،تقویٰ کی کیفیت پیدا کرنے والی اسی مشق کا نام’’ روزہ ‘‘ہے۔کوئی قانون نہیں۔۔۔بلکہ’’ تقویٰ‘‘ ہی اُس کی زبان سے یہ بات کہلوا سکتا ہے کہ’’ مجھے میرے رب کی خاطر شراب نوشی نہیں کرنی ہے۔ مجھے رب کی سزا سے ڈر لگتا ہے۔‘‘اس میں کسی قانون، کوئی عوام یا پولیس کا کسی قسم کے عمل دخل کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ ایک فضول سا دعویٰ ہے کہ اگر شہر بھر کے شراب خانے بند ہوجائیں ، تب میں اپنے آپ پر روک لگاسکوں گا۔نہ جانے کیوں بعض دین دار قسم کے لوگ بار بار اِس بات پر زور دیتے رہتے ہیں کہ جب قانون نافذ ہوگا توگناہوں کا ہر سلسلہ بند ہو جائے گا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ فرد میں تقویٰ آجائے گا تو سب کچھ بند ہوجائے گا۔
قرآن کی مذکورہ آیت کی رُو سے ’’ تقویٰ ‘‘ کی یہ یک ماہیPractice ، سال کے بقیہ مہینوں میں ایک انسان کوگناہوں سے بچنے کی گویا ’’بیٹری‘‘
Battery فراہم کر تی ہے، جسے وہ ہر سال ایک مہینے کے روزوں کے ذریعہ Re-Charge کر لیتاہے۔ قانونی قوت نافذہ یا زور زبردستی کی حکمتِ عملی سے کبھی نفوسِ اِنسانی کے کردار میں تبدیلی ممکن نہیں ،نہ اِسے اِس نوع کی ترکیبوں سے راہِ تقویٰ پر ڈالا جا سکتا ہے۔صرف روزہ ہی ایک ایسی مشق ہے جواسے ’’لعلکم تتقون‘‘کی منزل سے ہمکنار کرسکتی ہے۔
تقویٰ کی زندگی گزارنے کے لیے کیا ہمارے لیے’’لعلکم تتقون‘‘ کا یہ پیغام کافی نہیں،کہ ہم نظاموں کو بدلنے جیسے جوئے شیرلانے والے کاموں میں دلچسپی لیتے رہتے ہیں اور صدیوں تک ان ہی سرگرمیوں میں خود کو مصروف عمل ر کھتے ہیں اور مسلسل ناکامیوں پر ناکامیاں اُٹھاتے رہتے ہیں ، پھر بھی اپنے طرزِ عمل پر ہمیں کبھی نظر ثانی کی توفیق نہیں ہوتی۔۔۔!!!

LEAVE A REPLY