جدید لہجے کے سید علی شاذف کی تین غزلیں

2
177

جس قدر عشق میں رہا خدشہ

اس قدر میں نہیں ہوا رسوا

تو کہیں اک ہجوم میں گم تھی

میں بھٹکتا پھرا کہیں تنہا

بس میں وہ پڑھ نہیں سکا تو نے

اپنے لفظوں میں جو نہیں لکھا

تھوڑی بینائی چاہیے تھی مجھے

دیکھ سکتا نہیں تھا اک اندھا

اے خدا تو نے سب دیا مجھ کو

بےحسی کا ہنر نہیں بخشا

اب مجھے اس کا کچھ ملال نہیں

میں نہیں بن سکا ترا بندہ

زندگی اپنی جی علی شاذف

مجھ کو تجھ سے نہیں کوئی شکوہ

(علی شاذف)

دکھ کہیں سر پہ مہر تاباں ہے

دکھ کہیں چاندنی میں پنہاں ہے

ہنسنے والے میں سب سمجھتا ہوں

تیرے چہرے پہ سب نمایاں ہے

یہ شب آخرت مرے دکھ ہیں

یہ مری زندگی کا ساماں ہے

یہ ہیں اجسام درد میں ڈوبے

یہ مری آرزوئے جاناں ہے

نخل سایہ فگن مری منزل

تو نہیں ہے، وہ اک بیاباں ہے

ان کے سینوں سے روشنی ہو گی

ضوفشاں جن میں درد انساں ہے

بے بہا دکھ خرید لو شاذف

اک یہی شے جہاں میں ارزاں ہے

(علی شاذف)

جہنم ہے کہ جنت، مستقل ہے

ترا مطلب قیامت مستقل ہے؟

ارے واعظ! یہ تو کیا کہہ رہا ہے

کہ جینے کی اذیت مستقل ہے

یہ لطف وصل پل دو پل ہے لیکن

وہ ہجراں کی مصیبت مستقل ہے

مقرر ہیں ترے اوقات سجدہ

مگر میری عبادت مستقل ہے

ازل سے میں صفائی دے رہا ہوں

تجھے مجھ سے شکایت مستقل ہے

تری جلوہ نمائ عارضی تھی

تعجب ہے کہ حیرت مستقل ہے

علی شاذف نظام زر رہے گا

تو پھر اپنی بغاوت مستقل ہے

علی شاذف

SHARE

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY