جس قدر عشق میں رہا خدشہ
اس قدر میں نہیں ہوا رسوا
تو کہیں اک ہجوم میں گم تھی
میں بھٹکتا پھرا کہیں تنہا
بس میں وہ پڑھ نہیں سکا تو نے
اپنے لفظوں میں جو نہیں لکھا
تھوڑی بینائی چاہیے تھی مجھے
دیکھ سکتا نہیں تھا اک اندھا
اے خدا تو نے سب دیا مجھ کو
بےحسی کا ہنر نہیں بخشا
اب مجھے اس کا کچھ ملال نہیں
میں نہیں بن سکا ترا بندہ
زندگی اپنی جی علی شاذف
مجھ کو تجھ سے نہیں کوئی شکوہ
(علی شاذف)
دکھ کہیں سر پہ مہر تاباں ہے
دکھ کہیں چاندنی میں پنہاں ہے
ہنسنے والے میں سب سمجھتا ہوں
تیرے چہرے پہ سب نمایاں ہے
یہ شب آخرت مرے دکھ ہیں
یہ مری زندگی کا ساماں ہے
یہ ہیں اجسام درد میں ڈوبے
یہ مری آرزوئے جاناں ہے
نخل سایہ فگن مری منزل
تو نہیں ہے، وہ اک بیاباں ہے
ان کے سینوں سے روشنی ہو گی
ضوفشاں جن میں درد انساں ہے
بے بہا دکھ خرید لو شاذف
اک یہی شے جہاں میں ارزاں ہے
(علی شاذف)
جہنم ہے کہ جنت، مستقل ہے
ترا مطلب قیامت مستقل ہے؟
ارے واعظ! یہ تو کیا کہہ رہا ہے
کہ جینے کی اذیت مستقل ہے
یہ لطف وصل پل دو پل ہے لیکن
وہ ہجراں کی مصیبت مستقل ہے
مقرر ہیں ترے اوقات سجدہ
مگر میری عبادت مستقل ہے
ازل سے میں صفائی دے رہا ہوں
تجھے مجھ سے شکایت مستقل ہے
تری جلوہ نمائ عارضی تھی
تعجب ہے کہ حیرت مستقل ہے
علی شاذف نظام زر رہے گا
تو پھر اپنی بغاوت مستقل ہے
علی شاذف














ZABADAST. AM PROUD OF YOU DR. SHAZIF. LONG LIVE…MY DEAREST SON.
آپ خوش بخت ہیں خاتون جنت نے آپ کو ایسا تخلیق کار بیٹا دیا۔ در باب العلم کا غلام