اہل پاکستان کی خدمت میں ایک بار پھر ۔۔۔!
ایک کے بعد نیا ایک تماشا ہے یہاں
روز استاد ! نیا ایک تماشا ہے یہاں
وہ رہائی تھی مصیبت ، یہ سزا ہے افتاد
اور یہ افتاد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں
ایک قیدی تھا ، تماشا تھی رہائی اُس کی
اب اک آزاد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں
جب سے صیاد نے زندان کا در کھول دیا
تب سے صیاد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں
چارہ گر روز سناتا ہے وہی اک روداد
اور وہ روداد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں
راہنمائی کی لئے شرط ہیں شجرہ و نسب؟؟؟
ذاتِ اجداد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں
لاپتہ ہیں ، کئی مقتول ،کئی نامعلوم
ذکرِ افراد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں
پائنچہ ایسا ہو، ڈاڑھی کی تراش ایسی ہو
یہ نجس ، سعد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں
میں تماشا تھا ، سخن بھی تھا تماشے جیسا
اب تری داد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں
جعفر رضوی













