چارہ گر روز سناتا ہے وہی اک روداد،جعفر رضوی

0
816

اہل پاکستان کی خدمت میں ایک بار پھر ۔۔۔!

ایک کے بعد نیا ایک تماشا ہے یہاں
روز استاد ! نیا ایک تماشا ہے یہاں

وہ رہائی تھی مصیبت ، یہ سزا ہے افتاد
اور یہ افتاد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں

ایک قیدی تھا ، تماشا تھی رہائی اُس کی
اب اک آزاد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں

جب سے صیاد نے زندان کا در کھول دیا
تب سے صیاد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں

چارہ گر روز سناتا ہے وہی اک روداد
اور وہ روداد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں

راہنمائی کی لئے شرط ہیں شجرہ و نسب؟؟؟
ذاتِ اجداد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں

لاپتہ ہیں ، کئی مقتول ،کئی نامعلوم
ذکرِ افراد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں

پائنچہ ایسا ہو، ڈاڑھی کی تراش ایسی ہو
یہ نجس ، سعد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں

میں تماشا تھا ، سخن بھی تھا تماشے جیسا
اب تری داد ، نیا ایک تماشا ہے یہاں

جعفر رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY