سوزجب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں۔ زرقا مفتی

0
102

سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں

سوچ پہروں میں ہے گو پاؤں میں زنجیر نہیں
بے بسی اپنی مگر لائقِ تشہیر نہیں

دل پہ ناکام امیدوں کے اندھیرے چھائے
بجھ گئی آرزو اور آس کی تنویر نہیں

غمِ فرقت میں تری یاد کے پہرےکے تلے
قیدِ تنہائی سے بڑھ کر کوئی تعزیر نہیں

اک حسیں شہرکو خوابوں سے تھاآباد کیا
اب مرے نام وھاں کوئی بھی جاگیر نہیں

کیوں خطا کار ہوئے جو رہِ اُلفت پہ چلے
کیا محبت سے بڑی دہر میں تقصیر نہیں

بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
موت بیماریء دل کے لئے اکسیر نہیں

ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY