وہ تاجر بے ایمان ہے جھوٹے خواب بیچتا ہے
ساتھ انکے جھوٹی تعبیروں کی کتاب بیچتا ہے
رہتے ہیں سارے نابینا اب اس بستی میں
جہاں بینائی کا لالچ دیکر وہ عذاب بیچتا ہے
بدل دیگا حالات تمھارے یہ چورن بھی لے لو تم
جاہلوں کے ہاتھوں کتنی چیزیں وہ نایاب بیچتا ہے
بنا دیا فقیر جس نے اسی کو اپنا بادشاہ کہتے ہیں
عجب رعایا ہے جانتی ہے کہ وہ خانہ خراب بیچتا ہے
حضرت ناصح بھی وہاں اندھوں میں کانا راجا ہے
منبر پر وہ بھی اپنا کھوٹا مال و اسباب بیچتا ہے
وہ تاجر بے ایمان ہے جھوٹے خواب بیچتا ہے
ساتھ انکے جھوٹی تعبیروں کی کتاب بیچتا ہے
ارحم علیم













