ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
افسانوں کے مجموعہ “ٹوٹی ہوئی سڑک” سے پہلے بھی محمد جمیل اختر صاحب کے لکھے افسانے ہر فورم پر باقاعدگی سے پڑھے اور دل سے سراہے ہیں۔
محمد جمیل اختر وہ مصنف ہیں جو نوجوانی میں ہی بہت گہرا مشاہدہ رکھتے ہیں۔۔ “ہندسوں میں بٹی ہوئی زندگی” ان کا دوسرا مجموعہ بھی اب افسانہ پڑھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔۔
کتاب ” ٹوٹی ہوئی سڑک ” جو کچھ عرصہ قبل مجھے موصول ہوئی تھی ۔ مگر یہ نسخہ دیگر کتابوں
کے ہمراہ کچھ ایسا سنبھال کر رکھا کہ کئی ماہ یا شاید ایک سال کا عرصہ ہی بیت گیا ہو نظروں سے اوجھل رہا اور جب یہ کتاب دوبارہ مجھے دستیاب ہوئی ہے ۔ تو مکمل کئے بنا اسے چھوڑنا ممکن نہ ہوا۔
ان افسانوں نے اپنے اندر موجود کہانیوں کے رنگوں کو معاشرے میں بسنے والے طبقات اور ان میں جنم لیتے اور روزانہ کی بنیاد پر دم توڑتے نظاروں کو مجسم کردیا ۔۔غیر ممکن ہے کہ انہیں پڑھتے ہوئے قاری ان تمام کہانیوں کو اپنے گرد سانس لیتا ہوا محسوس نہ کرے ۔۔
جمیل اختر طبقاتی تفریق پر بہت عمدگی سے لکھتے ہیں وہ کسی بھی معمولی اور غیر اہم نکتے کو اہم بنانا جانتے ہیں
اور یہی کہانی کار کی خوبی سمجھی جاتی ہے۔
کہ اپنے اسلوب سے قاری کے ذہن کو بیدار رکھے۔
“ٹوٹی ہوئی سڑک” وہ عنوان ہے کہ جس کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی وہ مخدوش راستہ ہے جس پر رک رک کے دنیا میں آنے والا اپنی حیات کی مسافرت کو جاری رکھتا ہے. اور اسی افراتفری میں رواں دواں معاشرت میں ہمیں بے ترتیب سانس لیتے ہوئے کچھ ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو کسی محاذ پر جتے اپنی سانسوں کو بحال رکھنے پر کوشاں ہیں.
بظاہر جنہیں دیکھتے ہوئے ہم عجلت سے گزر جاتے ہیں. بس کہیں کوئی ایک پل ایسا ضرور آتا ہے جو دوڑتے قدموں اور اچٹتی نظروں میں ٹھہر جاتا ہے۔۔
اور اس کی مثال جمیل اختر کی کہانی جس میں ٹرین میں سفر کرتے ہوئے ایک شخص کا احوال ہے کہ جب سالہا سال بعد وہ ایک مانوس اسٹیشن پر اترتا ہے اور ٹی سٹال پر اپنے پچھلے دوست کی خبر پوچھتا ہے. اور جلد ٹرین کی واپسی پر اس میں دوبارہ سوار ہوجاتا ہے. اس سے پہلے کہ اس دوست سے ملاقات کر سکے.
جمیل اختر بہت منجھے ہوئے کہانی کار ہیں انہیں کہانی کی بناوٹ میں مہارت حاصل ہے۔ وہ قاری کو کسی ایسے موڑ تک ضرور لے آتے ہیں جو اس کی آنکھوں کو کسی آئینے کی طرح اپنا شفاف عکس دکھا سکے ۔ اور ماضی میں نظر انداز کئے لمحوں کو اس عکس میں روشن کردے۔ ۔۔۔ وہ راست بیانیے اور علامت دونوں ہی میں افسانوں کو برتنا جانتے ہیں ۔۔۔
جمیل اختر مختصر وقت ، کم سے کم سطور میں بہت کچھ کہہ جانے کا فن جانتے ہیں. چاہے وہ ریلوے اسٹیشن پر اپنے دوستوں کو ڈھونڈتا ہوا کوئی دوست ہو. چاہے ٹک ٹک کرتی وقت کی گھڑی کسی ایسے لمحے پر رک جائے کہ جب آنکھوں کے سامنے گزشتہ منظر ابھرنے لگیں یا ایٹوموسو جیسے کسی خوف کا تذکرہ ہو چاہے وہ نہ بھولنے والی کچھ آنکھیں ہوں. یا اداس ماسی نیک بخت ہو . یا یہ نعرہ لگانے والا کہ میں پاگل نہیں ہوں. یا کوئی ایسی شکایت کہ کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ۔۔ کہانی سنانے والے کی کہانی در کہانی کہتی ہوئی ایک الجھی ہوئی کہانی ہو اور کبھی غالب آشفته سرسے شکایت ہو. جو کہیں وہ مل جائے. اور پھر وہی ٹوٹی سڑک.۔
ٹوٹی ہوئی سڑک کہ جو بار بار راہ میں ملاقات کرنے والے لڑکھڑاتے قدموں پر سفر کو جاری رکھنے والے کرداروں کی کہانی جو کچھ کہنے کی اجازت چاہتے ہوں ۔۔
کہیں کہیں ان میں شامل وہ ٹکٹ چیکر بھی ہوسکتا ہے جو ایک کے بعد دوسرے دوسرے کے بعد تیسرے مسافر کی جیب سے برآمد ہونے والے ٹکٹ کا منتظر کھڑا ہو. اور اپنی شخصیت کو اپنی ذمہ داری میں ضم کرچکا ہو۔۔یا بوڑھا اور جنٹلمین میں انجانا خوف
جو مستقبل کے لئے دیکھے جانے والے خوابوں میں بھی خوف کو جگاتا ہوا محسوس ہونے لگے۔۔ دنیا سے بیزار شخص کا آخری کونے میں سکون تلاشنا ہو جو شاید اپنی ذاتی دنیا کو تلف کرنے کے بعد میسر آجائے. یا کوئی ایسی شام ہو جس کو دھند نے گھیرا ہو اور اس میں روشنی کی کسی معدوم ہوتی کرن کے ابھرنے کی امید ہمت دلاتی رہے. چاہے استاد جی ہوں جو زندگی کے سبق دہراتے آخری سانس تک سینہ سپر رہتے ہوں .
نسلوں کو اپنے ہاتھوں جوان کرنے والے جب انکی نادانیوں پر قربان ہوجائیں تو کس طرح ہاتھوں میں پستول کے بجائے کشکول جگہ بنالیتے ہیں ۔۔
. جمیل اختر کی مختصر کہانیاں قاری کے ذہن پر تادیر اپنا اثر رکھتی ہیں۔۔
جمیل اختر اظہار کے لئے دقیق الفاظ کا استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی عمیق فلسفوں کا سہارا لیتے ہیں. وہ صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ لوگوں میں لوگوں کی طرح جینا کس طرح ممکن بنایا جا سکتا ہےوہ چھپے ہوئے جذبات جن کا اظہار زبان سے آسان نہ ہو وہ ان کے کردار اپنے مکالموں میں بیان کرتے نظر آتے ہیں.
غرض یہ کہ بنی نوعِ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ جن نفسیاتی، اخلاقی اور داخلی مسائل کا شکار ہے ۔وہ سادہ زندگی اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو وقت دے کر یقینا” دور کیئے جاسکتے ہیں ۔
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے عمران شمشاد صاحب کی نظم ذہن میں تازہ ہوگئی جو محمد جمیل اختر صاحب کی نذر کرتی ہوں ۔۔
سڑک ۔۔
سڑک مسافت کی عجلتوں میں
گھرے ہوئے سب مسافروں کو
بہ غور فرصت سے دیکھتی ہے
کسی کے چہرے پہ سرخ وحشت چمک رہی ہے
کسی کے چہرے سے زرد حیرت چھلک رہی ہے
کسی کی آنکھیں ہری بھری ہیں
کبیر حد سے ابھر رہا ہے
صغیر قد سے گزر رہا ہے
کسی کا ٹائر کسی کے پہیے کو کھا رہا ہے
کسی کا جوتا کسی کی چپل چبا رہا ہے
کسی کے پیروں میں آ رہا ہے کسی کا بچہ
کسی کا بچہ کسی کے شانے پہ جا رہا ہے
کوئی ٹھکانے پہ کوئی کھانے پہ جا رہا ہے
حبیب دست رقیب تھامے غریب خانے پہ جا رہا ہے
امیر پنجرہ بنا رہا ہے
غلام کرتب دکھا رہا ۔۔
روما رضوی













