قسط باسٹھ
امام حسین علیہ السلام کے تمام اصحاب
عزیز و اقارب درجہ شہادت پر فائز ہو گئے
میدان کرب و بلا میں
امام حسین علیہ السلام کی ذات تنہا رہ گئی
کوئی بھی یاور، ناصر و مددگار باقی نہ رہا
اس وقت
زمانے کے شہنشاہ نے استغاثہ کیا
امام حسین علیہ السلام کا استغاثہ بلند کرنے کا مقصد
کسی دنیا دارسے مدد طلب کرنا نہیں تھا
بلکہ
کریم و رؤف امام عالی مقام کا
حالت غربت میں بھی
کرامت بخشش کا در کھلا تھا
اور
لوگوں کو صدا دے رہے تھے
کہ
کوئی ہے
جو
اپنے مقدر کو مثل حر بدلنا چاہتا ہے
جو
اس سفینہ نجات پر سوار ہونا چاہتا ہے
جواپنا خون
راہ خدا میں دے کر
حیات جاوداں حاصل کرنا چاہتا ہے
ھل من ناصر ینصرنا ؟
ھل من ذاب یذب عن حرم رسول اللہ ؟
ھل من موحد یخاف اللہ فینا ؟
ھل من مغیث یرجوا اللہ باغاثتنا ؟
ھل من معین یرجوا ما عند اللہ فی اعانتنا ؟
نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
میدان کربلا کے
تپتے صحرا میں ، اصحاب و عزیز و اقارب کی لاشوں کے درمیان کھڑے
کہہ رہے تھے
ہے کوئی جو حرم رسول کا دفاع کرے ؟
ہے کوئی خدا پرست کہ ہمارے بارے میں خدا سے ڈرے ؟
ہے کوئی داد رس
کہ خدا سے صلہ کی امید میں ہماری مدد کرے ؟
ہے کوئی مددگار
جو اس امید پر ہمارا ساتھ دے
کہ
ہم خدا کے حضور اس کی مدد (شفاعت) کریں؟
مخدرات عصمت نے
امام ع کی صدائے استغاثہ سنی تو صدائے گریہ بلند کی
جناب ام رباب سلام اللہ علہیا کا کہنا ہے
کہ
چھ ماہ کے معصوم علی اصغر علیہ السلام کے کانوں میں
جب یہ صدائے استغاثہ پہنچی
تو معصوم علی اصغر نے
تڑپ کر خود کو گہوارے سے نیچے گرا لیا

امام حسین علیہ السلام آخری رخصت کوخیام کی طرف تشریف لائے
چھ ماہ کے جناب علی اصغر علیہ السلام
بھوک و پیاس کی وجہ سے مادر گرامی کے دودھ کا چشمہ بند ہو چکا تھا
اور ۔۔۔ معصوم شہزادے مسلسل گریہ کر رہے تھے
امام حسین علیہ السلام نے
اپنی بہن
جناب عقیلہ بنی ہاشم زینب سلام اللہ علیہا سےفر مایا
میرا کمسن بچہ لائیے
تاکہ
میں اس سے وداع کر سکوں
آپ عالی مقام ع جناب علی اصغر ع کو شدت دھوپ سے بچانے کے لیئے
اپنی عبا کے دامن میں لے کر خیمے سے باہر آئے
آپ نے لشکر یزید سے فرمایا
میرے اور تمہارے درمیان
خدا کی کتاب اور میرے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکمات ہیں
اے لوگو!
تم میرے خون کو کس طرح حلال سمجھتے ہو؟
کیا میں تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بیٹا نہیں ہوں؟
کیا تم لوگوں تک میرے نانا کا فرمان نہیں پہنچا
کہ
آپ ص نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فر مایا تھا
کہ یہ جوانان جنت کے سردار ہیں
بھرے مدینہ سے
رسول خداصلی اللہ علیہ والہ وسلم
جن ہستیوں کو مباہلہ کے لیے لے کر گئے تھے
ان میں “میں “ ، امام حسین علیہ السلام بھی تھے
اگر تم لوگوں کو
میری باتوں کا یقین نہیں آتا
تو
جابر، زید بن ارقم اور ابو سعید خدری سے پوچھ لو
یہ تو اس وقت حیات تھے اور گواہ تھے
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
خدایا!
ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما
کہ
جہنوں نے
ہمیں اس لئے بلایا
ہم ان کی مدد کریں اور وہ ہمارا ساتھ دیں گے
لیکن اب یہ سب مکر گئے ہیں
اور بدلے میں
ہمیں قتل کر رہے ہیں
امام حسین علیہ السلام نے
جناب علی اصغرع
جو پیاس کی شدت اور گرمی کی حدت سے رو رہے تھے
انہیں اپنے ہاتھوں پر بلند کیا
اور فرمایا
کیا تم نہیں دیکھ رہے
کہ
یہ بچہ
پیاس کی شدت سے کس طرح تڑپ رہا ہے
اسے پانی دے دو
لشکر اشقیاء کے بعض افراد ایک دوسرے کو سر زنش کرنے لگے
اور ۔۔ کہنے لگے
کہ
کیا ہو جائے گا
اگر ہم اس بچے کو دو بوند پانی دے دیں؟
جاری ہے













