میرا زمانہ میری کہانی ماہ پارہ کی زبانی
کہانی ایک استعارہ ہے ہ کہ واقعات کا حسن و جمال معراج کو چھو کر ایک کہانی کی صورت زندہ رہتی ہے اور زمانہ اِسے یاد رکھتا ہے۔ کتاب کی ورق گردانی ایک جانی پہچانی مشق ہے جسے ہماری عادت سے وسیلہ بنا کر دلچپسی کا خمیر اُٹھایا اور ہم نشہ میں مُبتلا ہو کر رہ گئے میرا زمانہ میری کہانی طویل مختصر افسانہ ہے کہ اسے پڑھنا کھوئے ہوئوں کی جستجو سے تعبیر کیا جائے گا ۔ ماہپارہ صفدر یہ کہانی سُنا کر اِمر ہو گئیں اس لئے کہ زمانہ بڑئے شوق سے سُن رہا تھا
ہماری دُعا ہے کہ وہ جاگتی رہیں اور کہانی در کہانی گوش گزار کرتی رہیں محترم سید حسن عباس زیدی آج زندہ ہوتے تو اپنی اس بیٹی کی پیشانی چومتے وہ اکثر میرے گھرآتے گھنٹوں باتیں کرتے چھو بیٹیوں کی تعلیم اور پرورش ایک نہج پر کی مگر نتائج مختلف نکلے ان میں یہ مماثلت پائی گئی کہ سبھی اعلی تعلیم کے زیوروں سے لدی پھدی اور سبھی اپنے اپنے گھر کی ہو گئیں ۔ شعبہ تعلیم سے خودد بھی وابستہ رہے اور ان سب کی تعلیم کا مرکز و محور بھی علم و ہنر قرار پایا
بقول ! صاحب علم:
ہم قدر دانِ علم و ہُنر ہیں خدا گواہ
دولت کے ڈھیر خاک ہیں اپنی نگاہ میں
سید حسن عباس زیدی کو شعر و ادب سے شغف تھا اس لئے گھر میں اکثر ہی موضوع پیش نظر رہا ۔ ماہ پارہ نے شعبہ اطلاعات ضرور اختیار کیا لیکن شعر و ادب سے دور نہیں رہیں۔ بے پناہ مصروفیات سے وقت نکل کر شاعری سے دِل پہلانے کا سامان کیااور ان کی والدہ سیدہ شمس الزہرہ میں ایسے ہُنر دیکھنے کو ملے کہ ہاید و شاید انہوں نے بیٹیوں کی تعلیم جس ذوق و شوق سے مکمل کرنے کی ٹھانی اتنا کہہ دینا بہت ہے کہ گھر کے برتن بیچ دئیے۔
تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کی خاطر جتن کرنے پڑے مگر کبھی ماتھے پر بل نہ آئے ماہ پارہ کے والدِ گرامی ہیڈماسٹر رہے، سائیکل چلایا، سادہ لباس کو زیب تن کیا محدود آمدنی میں گھر کے اخراجات پورے کئے۔ وہ خوشاب میں رہے مگر سرگودھا آئے کہ بچیوں کی تعلیم کا مسٔلہ در پیش تھا۔ کرائے کے مکان میں رہے ، محترمہ سیدہ شمس الزہرہ مجلسی خاتون تھیں۔ رُعب و دبدبہ اور خواتین میں مرکزی حیثیت کہ سرگودھا میں مجالس پڑھنے کے مواقع میسر آئے وہ یوں بھی روایتی انداز حیات سے کنارہ کش رہیں ، سیاست میں بڑھ چڑھ کر حوصلہ لیا تفصیل سے قطع وہ سیاسی جلسوں میں پُر جوش تقریر کر کے سامعین کا لہو گرماتی رہیں۔ ماہ پارہ اپنی والدہ سے متعلق بتا رہی ہیں کہ:
’’ میری ماں نے اپنی کمی اور اپنی محرومی کو مشعل راہ بناتے ہوئے فیصلہ کیا کہ میری بیٹیاں رواجوں کی صلیب نہیں اُٹھائیں گی، وہ تعلیم حاصل کریں گی اور اس کے لئے سیاہ برقعوں میں نہیں سیرتِ کردار اوڑھ کر گھروں سے باہر نکلیں گی ، اپنی تعلیم کے لئے اپنے روزگار کے لئے اپنی ہر بات زندگی کے لئے کسی کی محتاج نہیں ہوں گی۔‘‘
ماہ پارہ کی تربیت میں ان کی والدہ کا ہاتھ ہے جس کا وہ کئی بار مختلف مقامات کا ذکر کرتے ہوئے اپنی کہانی آگے بڑھا رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ عورت کو محض صنفِ نازک یا جسم نہیں بلکہ ایک انسان کا درجہ دینے کے لئے سماجی رویوں میں ایسی سوچ بوئی جائے جس میں عورت کی عزت صرف ایک ماں بیٹی بہن یا کمزور سمجھ کر ہی نہیں اپنے جیسا ایک انسان سمجھ کر بھی کیجئے۔ ماہ پارہ کی یادداشت مثالی اور اندازِ اظہار منفرد کہ انہیں اپنےکالج کی اساتذہ کے نام ان کا لباس رُعب اور گفتگو سبھی کچھ یاد ہے کہ وہ ان کا ذکر اس طرح کرتی ہیں کہ جیسے یہ کل کی بات ہے ،
در اصل کہانی کار اپنے سامعین تک تمام جزئیات اور ہر واقعہ کی تفصیل بیان کرنے میں دل جس پررکھتا ہے اس لئے فنکارانہ اظہار لازمی ہے ۔ ماہ پارہ نے جہاں اپنے خاندان کے افراد کو متعارف کرانا ضروری سمجھا وہاں نامور شخصیات کے احوال ان کے زبانی سنوائے۔ یہ کارِ ہُنر جہاں یادداشت پر بھروسہ کرنے کا حاصل ہے وہاں ان صفوں پر اس لئے لکھا کہ اگر کچھ مہربان ساتھ نہ دیتے تو راہ کی دھند اتنی آسانی سے نہ چھنٹتی ۔ ماہ پارہ نے گھر کے افراد کا ذکر کرتے ہوئے اپنی پانچ بہنوں کی کار گزاری پر تفصیل سے روشنی ڈالی انہیں اپنی بہنوں اور ان کو شوہروں پر اتنا یقین ہے کہ بقول ماہپارہ صفدر میں آنکھیں بند کر کے کوئی بھی بہنونی کے نام اختیار نامہ لکھ دیتی ہوں ۔ وہ ایک طرف دُنیا جہاں میں پھرتی ہیں مگر دوسری طرف انہیں حقیقی طمانیتِ قلب اپنے گھر میں مِلی وہ سرگودھا میں اپنا بچپن گزار رہی تھیں۔ انہیں 65 کی پاک بھارت جنگ یاد ہے جسے آج بھی وہ بھلا نہ پائیں کہ بھارت کے طیارے ائیرپورٹ پر برابر حملے کرتے گھر میں خندق کھودی گئی اُنہیں جنگ کی تفصیلات بتانے کے ساتھ اب انکشاف کرنا ضروری تھا کہ ہم نے جس کامیابی کے شادیانے بجائے زمینی صورتِ حال اس سے مختلف تھی ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی
تاریخ کا یہ ایک ایسا المیہ تھا جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا تھا مگر تاریخ کا اس سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ قیادت کرنے والوں کا کیونکہ کوئی ذاتی نقصان نہیں ہوتا اس لئے وہ یہ غلطیاں بار بار کرتے ہیں اور پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے۔
ووائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا!
کاروان کے دِل سے احساِسِ زیاں جاتا رہا
ایک بات غور طلب ہے کہ بظاہر کہنے کو یہ کہانی ماہ پارہ صفدر کی ہے لیکن حقیقت میں یہ سر زمین پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات ہیں جو کہانی کہلائے۔ مشرقی پاکستان میں رونما ہونے والے حالات کا بیان کہ جہاں بنگالی عوامی پاکستان کی فوج سے لڑ رہے تھے ماہ پارہ نے آنکھوں دیکھا منظر نامہ تو پیش نہیں کیا مگر جس ژرف نگاہی سے جزئیات نگاری سے کام لیا۔ اس میں ہمار کاظمی خاندان کے کیپٹن ناصر مرحوم اور کیپٹن مجاہد کی شہادت کی خبر اور لاش نہ ملنے کا احوال بتایا۔ وہ درد ناک قصہ بھلائی نہیں بھولتا ۔ گوجرانوالہ ان کے گھر شوکت لاج تعزیت کے لئے جانا اور مجاہد کی شہادت پر سورہ فاتحہ پڑھنا معمول بن چکا تھا۔ سولہ دسمبر ۱۹۷۱ کو یہ سانحہ پیش آیا کہ ملک کے جس کا نصف حصہ کٹ کر ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا۔ ماہپارہ ایک تاریخ دان بن کے قارئیں کے سامنے
آئیں اور ہمارے شاعروں نے اس عظیم سانحہ پر خون کے آنسو بہائے۔ ایک شاعر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم ایک لاکھ تھے ہم نے تو سر جھکا ڈالا۔۔۔۔۔۔حسینؑ تیرے بہتر سروں پہ لاکھ سلام ۔۔۔۔۔۔
ماہ پارہ صفدر ملکی حالات پر روشنی ڈال کر بھی اپنی کہانی سے وابستہ رہیں ۔ ایک بار پھر اپنے والد گرامی اور اماں جان کا تزکرہ کرتی دکھائی دیں۔ ان کے والد نے عمر بھر علم و ادب اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ انتہائی شریف النفس کم سخن اور درد مند انسان تھے۔ کوئی بیٹا نہیں تھا مگر اپنے دامادوں کو بیٹوں کی طرح جانا۔ ان کے سرمایۂ شاعری میں منقبت ، سلام رُباعی کے علاوہ غالباً ایک مرثیہ ہے ۔ کاش وہ تخلیقات سنبھال کر رکھتے، اشاعت ہوئی تو میں نے بھی ان کی کتاب پر تجزیاتی مضمون تحریر کیا۔ ڈاکٹر صفدر حسین زیدی ڈی پی آئی سے بھی ملاقات رہی وہ ہر اعتبار سے کم گو رہ کر دوسروں کو سنتے، یہاں تک کہ ماہ پارہ کی والدہ کو مکمل اختیار سونپ کو خوش رہے ۔ وہ بہت قناعت پسند صابر و شاکر اور کیا کچھ تھے لیکن ان کی زوجہ محترمہ سیدہ شمس الزہرہ جو خود اعلی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہی تھیں انہیں نے اپنی اس کمی کو اپنی بیٹیوں کی ذات میں پورا کیا۔
قیصر بارہوی کا ذکر بڑئےاحترام سے کیا۔ ماہ پارہ نے بتایا کہ ان کے مرثیے ہماری والدہ کو بہت پسند تھے وہ مجالس میں پڑھا کرتیں۔
قیصر بارہوی کی مرثیہ نگاری کے فن کے بغیر اُردو مرثیےکی تاریخ نا مکمل
رہے گی۔ قیصر بارہوی کی گولڈن جوبلی حلقۂ شعرائے اہل بیت کے زِیر اہتمام منائی گئی۔ احباب نے ان سے محبت کا عملی ثبوت پیش کیا ۔ آواری ہوٹل میں تقریب منعقد ہوئی تحفے پیش کئے گئے عظیم مرثیے منفرد مرثیے قصائد اور غزل کا مجموعہ امتزاج شائع ہوا ۔ ان کے اعزاز میں میونسپل ہال میں کل پاکستان مشاعرہ نعقاد پذیر ہوا ۔ یہ بتانا ضروری نہیں کہ بحیثیت سیکرٹری جنرل شعرائے اہل بیت یہ انتظام و انصرام اس خاکسار نے انجام دیا۔۔۔۔
ماہ پارہ صفدر کا ’’ میرا زمانہ میری کہانی ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے محترمہ سّلمیٰ اعوان نے کیا منفرد جملہ تخلیق کیا۔۔۔۔’’ لہجے کا اُتار چڑھائو تلفظ ادائیگی اس پر ستم من موہنی سی صورت ماہ پارہ زیدی پر بڑا رشک آیا خبریں پڑھنا میرا بھی خواب تھا مگر سب خواب کہاں پورے ہوتے ہیں؟ ماہ پارہ سے محبت ہو گئی تھی۔ اسے دیکھنا اسے سُننا اور اس سراہنا مجھے ہمیشہ بہت اچھا لگتا تھا۔۔۔۔۔ اس مختصر جملے میں اظہار محبت اپنی جگہ مگر ایک سفر نامہ نگار کی زبانی ماہ پارہ کی زندگی کے سفر میں ہم جہت منظر نامہ ایک ایسی تاریخ کا ورق یا آئینہ ہے جس میں وہ عہد جبر بھی کہ
برسوں کی خاموشی ٹوٹی تو کیا ٹوٹی کہ ایک عہد رقم کر دیا بقول شاعر:
چہر ے ہر جبر کی تاریخ کا آئینہ ہیں
بے صدا عکس بھی دیتے ہیں صدائیں کیا کیا
ایک مطلق العنان نام نہاد مردِ حق جنرل ضیاء الحق کے احکامات صادر ہوئے اور اس کے بعد وہ رزق ہوا ہو گئے۔ اسی نازک اور پُر خطر زمانے میں ایک سیّد زادی نے ریڈیو اور پھر ٹی وی پر خبریں پڑھنے کا آغاز کیا۔ یہ مرحلہ عبور ہوا شادی خانہ آبادی اور مصطفےٰ علی ہمدانی کی بہو بننے کا اعزاز مِلا ۔ راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی کی الگ کہانی ہے ۔ راحت کاظمی ہمارے ماموں وضاحت حسین کاظمی کے صاحبزادے لڑکپن میں میرے پاس گھنٹوں بیٹھا کرتے ۔۔۔ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات ، آثار بتا رہے تھے کہ آئندہ اپنی ذہانت اور فطانت سے کام لے کر سول سروس میں کامیاب ہوں گے مگر مزاج تمثیل میں اور فلم میں اداکاری کے جوہر دکھانے پر مائل ہوا۔ ملازمت کوٹھوکر ماری اور وہ کر دکھایا کہ بایدوشاید ماہ پارہ صفدر کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’ ٹی وی کے انتظامی عہدوں کو الگ کر دیئجے مگر نیوز یا پروگرام اینکر یا اداکاری ایسا پرفیشن ہے جس مین مسلسل کنواں کھود کر پانی پینا ہوتا ہے۔ مری والدہ کا فیصلہ میرے لئے ایک بہترین فیصلہ ثابت ہوا
جس نے میری شخصیت کی تعمیر میں انتہائی اہم کردار ادا کیا مجھے بھی ٹی وی پر خبروں کی پیش کاری چھوڑے ہوئے تیس برس ہونے کو آئے مگر میں شہرت محبت اور عزت کی کہکشاں آج بھی اپنے چاروں طرف محسوس کرتی ہوں۔ ماہ پارہ نے جو دیکھا اور جتنا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہ سب
’’ میرا زمانہ میری کہانی ‘‘ میں بیان کیا مثلاً یہ کہ نجی چینلز پر اب سینیٔر خواتین بہت کم نظر آتی ہیں بلکہ یوں لگتا ہے کہ ماضی کے بر عکس خبریں پڑھنے کے لئے معتبر شخصیت نہیں بلکہ نو عمر ہونا شرط اوّل ہے۔ کچھ نیوز کاسٹرز اور پوگرام اینکر خواتین کی سج دھج اور ہیر سٹائل دیکھ کر کبھی کبھی یُوں لگتا ہے جیسے خواتین کسی مقابلۂ حُسن میں شرکت کے لئے آئی ہوئی ہوں۔۔۔
ماہ پارہ نے آپ بیتی اور جگ بیتی کا حسین امتزاج قارئین کی نذر کیا ہے ۔۔پاکستان میں سیاست مارشل لاء جہاد کے نام پر ملک میں بادِ سموم کی آمد اور وطن کی ہوائوں کو الوداع کہنے کا دن آ پہنچا ۔ دیس سے پردیس ہوا تو سبھی منظر بدل گئے اور بہت کچھ کیثر ثقافت حقائق ہمارے سامنے رکھے، آپ پڑھتے جائیں اور ماہ پارہ کی یادوں سے لُطف اُٹھائیں
ہمیں تو جی سپنے ہی بیچنے ہیں اس برس بھی اور اگلے برس بھی ہمیں تو جی یہ بھی پتہ نہیں پڑتا کب دن ڈوبا اور کب رات ہوئی‘‘ ۔۔۔۔ مگر یہ رات ہر اس جگہ چھائی ہے جہاں سماجی انصاف کی جگہ استحصال پایا گیا ۔۔۔۔ماہ پارہ نے مختصر شاعری کا ذکر کیا۔۔ کاش وہ شعر گوئی کا سلسلہ بحال رکھتیں ، اپنے والدِ گرامی سید حسن عباس زیدی اور شوہر صفدر ہمدانی کے نقش قدم پر کامزن رہتیں ، یہ مشورہ اس لئے دینے کا خیال آیا کہ وہ ایسا شعر کہہ سکتی ہیں کہ جسے پڑھ کر آنکھیں نمناک ہو گئیں اور معاشرے کی زبوں حالی پر رونا آیا۔۔۔۔۔
لپٹ کے شب کو رو رہے تھے اپنے آنسووں سے ہم
سمجھ سکے جو یہ زباں نہ ایسے ہم زباں مِلے
ورق تمام ہوا دل کی بات دل میں رہ گئی۔۔۔۔۔












