نام اک ذہن پہ اترا ہے، حسین ابن علی۔۔۔۔از۔۔۔۔ صفدر ھمدانی

نم اک ذہن پہ اترا ہے، حسین ابن علی
دل میں مجلس تری برپا ہے حسین ابن علی

یہ جو دنیا کے سمندر ہیں رواں صدیوں سے
ہر سمندر تجھے روتا ہے حسین ابن علی

یوں تو لکھنے کے لیئے لفظ شہادت ہے فقط
اور اس لفظ کا چہرہ ہے حسین ابن علی

سچ تو یہ ہے کہ ہر اک عہد کا ہر ایک یزید
ذکر سےتیرے ہی ڈرتا ہے حسین ابن علی

نور اک اترا مری سوچ کے ویرانے میں
لکھنے سے پہلے جو سوچا ہے حسین ابن علی

ہے یقیں کوئی بلا آ نہیں سکتی ہے یہاں
گھر کے دروازے پہ لکھا ہے حسین ابن علی

SHARE

LEAVE A REPLY