اُردو کی اشاعتی و ادبی دُنیا کی ایک تاریخی شخصیت (89سالہ)شاہد علی خاں جو ایک مدت تک ملک کے مشہور و مؤقر اشاعتی ادارے ’مکتبۂ جامعہ‘ کے روح رواں تھے، آج صبح انتقال کر گئے۔
شاہد علی خاں مشہور مردم خیز سرزمین فرخ آباد (اترپردیش)میں13 فروری1932 کو پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے علمی و ادبی دُنیا میں ایک بھرپور زندگی گزاری وہ ایک طویل مدت ’ مکتبہ جامعہ‘ (ممبئی شاخ) کے نگراں رہے یہ وہی زمانہ ہے جب جگر مراد آبادی اور اُن کے روایتی تغزل آمیز شعری رویے کی دھوم تھی تو دوسری طرف ترقی پسند تحریک ، زندگی کی تلخی و سختی کو بھی شعروادب میں منتقلی پر زور لگا رہی تھی۔ سجاد ظہیر ، فیض احمد فیض، علی سردار جعفری، ڈاکٹر ظ انصاری، اختر الایمان ، کیفی اعظمی، ساحرلدھیانوی اور انہیں جیسے بہت سے قلم کار اس تحریک کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
ممبئی میں وہ زمانہ اُردو شعرو ادب اور شعرا وادبا کا سیمیں دور تھا۔ ممبئی میں مکتبہ جامعہ کی شاخ اور شاہد علی خاں بھی اس دور کو ، اس زمانے کے قلم کاروں کو ایک طرح کی قوت پہنچا رہے تھے۔ 1970 سے قبل کا یہ تاریخی دَور مکتبہ جامعہ(ممبئی) اور شاہد علی خاں کے کرداراور ان کے افعال سے مجلّا رہا ہے۔ مکتبہ جامعہ(ممبئی) کی وہ چھوٹی سی دُکان اپنے اندر کیسی نقرئی یادیں اور رُوپہلی باتیں چھپائے ہوئے ہے، اس کا آخری شاہد ہی نہیں بلکہ اس کا محرک بھی اب وقت کے تغیر کے ساتھ رُخصت ہو گیا۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ شاعر و ادیب نہیں تھے بیشک ان کے نام کے ساتھ شعر و ادب کا کوئی لاحقہ تو نہیں لگا مگر وہ ہم جیسےنام نہاد شاعر و ادیب سے کہیں بلند اور کہیں گہرے شخص تھے ان کے ہاں شعرو ادب کا جو بھی حاصل و مطلوب ہو سکتا ہے وہ سب اپنی خوبی و محاسن کے ساتھ موجود ہی نہیں متحرک بھی تھا۔ وہ ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر محمدمجیب( شیخ الجامعہ اسلامیہ ۔ دہلی) جیسے بیشمار اکابر کی آنکھیں دیکھے ہوئے تھے ، سچ تو یہ ہے کہ شاہد علی خاں کی شخصی وجود کو متشکل کرنے والے جو انھیں میسر ہوئے وہ ہمارے دور کے بڑے بڑے اشخاص کو نصیب نہیں ہوئے، اکثر لوگوں کو بہت اچھی غذا تو مل جاتی ہے مگر ان کے ہاں قوت ِہضم کے نہ ہونے سے سب فضلہ بن جا تی ہے مگر شاہد علی خاں اُن خو ش بختوں میں شمار کیے جائیں گے کہ جنہوں نے میسر سے اپنا کردار ِ تشخص بنایا اور اپنے اکابر و اسلاف کی طرح وہ کسی بھی قسم کے ’احساسِ علم ‘ کے فتنے سے بھی بچے رہے۔
وہ حصول ِشہرت کی طلب سے بھی محفوظ رہے مگر انھیں جہاں شہرت و ناموَری ملنی چاہیے وہ وہاں معتبرو معزَز رہے یہ وصف اپنے آپ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ممبئی سے لےکر دہلی تک وہ کون( سنجیدہ) لکھنے پڑھنے والا ہوگا جو شاہد علی خاں کے کردار سے نا واقف ہو بلکہ ہم نے تو دیکھا ہے کہ ہمارے دَور کے ممتاز اہل ِعلم و قلم’صحبت ِشاہد‘کے خواہاں رہے۔ اکثر لوگوں کو شہرت تو مل جاتی ہے جسے وقار و احترام کہتے ہیں وہ ہر دور میں کم کم اشخاص کو نصیب ہوتا ہے شاہد علی خاں اُنہیں خال خال شخصیات میں شمار کیے جائیں گے۔
شاہد علی خاں پر ایک کتاب(2017 میں ) اُردو کے معروف اسکالر نصیر الدین ازہر نے مرتب کی تھی جس میں اُردو کے اکثر ممتاز اہل ِعلم و قلم نے اُن کے کردار و عمل پر خوب خوب روشنی ڈالی ہے۔
مگر اُن کے کردار کی جو گواہی ان کے ماتحت کام کرنے والوں نے دِی وہ بھی بہت اہم ہے، جو باتیں ہم نے مکتبہ جامعہ ( دہلی ۔ ممبئی) کے دیرینہ کارِندے کلیم الدین سے شاہد علی خاں کے بارے میں سنی ہیں وہ مثالی ہیں ہمارے ہاں بڑے عہدے پراپنی تگ و دو ےلوگ پہنچ تو جاتے ہیں اور پھر دُنیا بھر میں ان کی شہرت کا ڈنکا بھی بجایا جاتا ہے مگر جب وہ اس عہدے سے دست بردار ہو جاتے ہیں تو ان کے ماتحت کام کرنے والے اُن کے حق میں جو ’ کلمات‘ ادا کر تے ہیں وہی اُن کی مقبولیت یا اُن کی فرعونیت کی سند ہوتے ہیں۔ کلیم الدین جو، اب خود مکتبہ جامعہ کی ملازمت سے ریٹائر ہوچکے ہیں وہ غائبانہ ٔ شاہد میں ان کانام جس ا حترام سے لیتے تھے وہ شاہد علی خاں کے اصل کردار کا بیّن ثبوت بن گیا۔
شاہد علی خاں جو مکتبۂ جامعہ کے مشہور ِ زمانہ مجلے’’ کتاب نما‘‘ کے بھی ایک مدت تک نگراں رہے جب وہ اس ادارے سے ریٹائر ہوئے تو اس امر سے ان کی ادب دوستی واضح ہے کہ انہوں نے پیرانہ سا لی کے باوجود کتاب اور’ کتاب نما‘ سے سے ذہنی طور پر وابستگی کو اپنے سے جدا نہیں ہونے دِیا اور نہ صرف باقاعدہ ’ نئی کتاب‘ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا بلکہ ’ نئی کتاب‘ ہی کے نام سے ایک مجلہ بھی جاری کیا۔ جس میںشمس الرحمان فاروقی جیسے ممتاز تر شخص کی شمولیت بھی ایک اہم بات تھی۔ اس کے جتنے شمارے نکلے وہ اپنے آپ میں ایک اہمیت اور امتیاز کے حامل ہیں جس میں شاہد علی خاں کی ’ ادب دوستی‘ سانس لے رہی ہے۔
شمس الرحمان فاروقی کی یہ شہادت بھی یہاں درج ہوا چاہتی ہے:
’’ ایک بڑی بات یہ تھی کہ شاہد علی خاں کے زمانۂ اہتمام میں مکتبہ جامعہ اپنے مصنفوں کو رائلٹی ادا کرتا تھا اور ان کی تصنیفات کی فروخت کا پوراحساب رکھتا تھا۔ مَیں نے اُردو کے کسی پبلیشر کو معاملات اور واجبات کی ادائیگی میں شاہد علی خاں جیسا مستعد نہ دیکھا ۔‘‘
اسی مضمون میں فاروقی نے شاہد علی خاں کے حسنِ قناعت کو بھی جلوہ بنا دِیا ہے جو دورِ حاضر کے لکھنے پڑھنے والوں کے لیے ایک سبق سےکم نہیں۔ فاروقی کے لفظ ہیں :
’’ مکتبہ جامعہ کو شاہد علی خاں نے اپنی زندگی کے بہترین زمانے بے تکلف نذر کیے۔ انھیں کسی ستائش یا خاص توقیر کی ضرورت تھی نہ تمنا، تنخواہ اُن کی بہت کم تھی، خدا جانے وہ کس طرح گزارا کرتے تھے، بچوں کو تعلیم بھی اچھی دِلائی،انھیں مہذب بھی بنایا، بیوی کی دیکھ بھال مقدور سے بڑھ کر کی۔خاص کر مرحومہ کی آخری بیماری کےزمانے میں شاہد علی خاں نے زوجہ کی خدمت اور علاج کا حق بہتوں سے بڑھ کر اداکیا اور جب انھیں (زوجہ کو) اللہ نے اپنے پاس بلا لیا تو شاکر و صابر ہوکر شاہد صاحب اپنے کام میں مصروف ہوگئے، مَیں تعزیت کے لیے گیا تو انھوں نے اس واقعۂ فاجعہ کا ذکر بھی نہ کیا۔ میں نے بات چھیڑی تو اس د لدوز سانحے کے بارے میں بھی اپنے معمول کے مطابق ٹھہر ٹھہر کر متین انداز میں گفتگو کرتے رہے۔‘‘
بڑھتی ہوئی عمر اور عمر کے وہ مسائل جو اکثر لوگوں کو پیش آتے ہیں ان کے باوجود شاہد علی خاں علم و ادب کے تئیں متحرک رہے باقاعدہ انہوں نے اوکھلا میں’ نئی کتاب‘ کی دُکان کھولی اور ایک نظم کے ساتھ وہ وہاں مستعد رہے جس کے گواہ ہم بھی ہیں۔
شاہد علی خاں عمر کے آخری حصے میں ثقلِ سماعت کے شکار تو ہوئے مگر علم و ادب سے دلچسپی اور اہل ِعلم کی دوستی ان پر کبھی گراں نہیں ہو سکی بلکہ ارزاں رہی ہمارا خیال ہے کہ اُن کا یہ وصف ہی اُن کی بھر پور’ زندگی‘ کا سبب بھی بنا رہا۔ کہتے ہیں کہ علم کسی کو محروم نہیں رکھتا وہ اپنے طور پر اپنے انداز سے اپنے طالب کو نوازتا بھی ہے شاہد علی خاں کی پوری زندگی اس کی شاہد و و مشہود ہے۔
اس وقت جانے والوں کا جیسے ایک قافلہ ہے چہار طرف گردِ ملال اُڑ رہی ہے ایسے میں شاہد علی خاں کی رُخصتی ہم جیسوں ہی نہیں بلکہ زبان و ادب کے اصل چاہنے والوں کے لیے یقیناً ایک سانحہ ہے جبکہ روز آنے والی سناؤنی نے ہماری نفسیات کو بھی متاثر کر رکھا ہے، بسا اوقات خیال ہوتا ہے کہ جیسے ہماری حس ہی انتقال کر گئی ہے مگر شاہد علی خاں کی رِحلت کی خبر نے کچھ دیر ہی کے لیے سہی ہمیں پھر سے حساس بنا دیا۔ مرنا تو ہر زندہ کو ہے مگر وہ لوگ جو اپنے کردار و عمل سے اپنی زندگی بناتے ہیں ان کا رخصت ہونا بھی ’ زندگی‘ کا ایک مظہر بن جاتا ہے۔ سچ ہے شاہد علی خاں اصل میں ’’شاہد و مشہود‘‘ ہی تھے۔ خدا کرے کہ وہ اپنے رب کے ہاں بھی اپنے اسی وصف سے جانے پہچانے جائیں ۔(آمین)













