زادِ سفر۔۔تیرہویں اور آخری قسط،مریم عالم

0
590

تیرہویں اور آخری قسط
مطلب آپ کو وہ انوشے پسند تھی… یہ نہیں… کس نے کہا یہ نہیں.. مجھے انوشے ہر حال میں ہر روپ میں پسند ہے.. کیونکہ انوشے جلال میری آخری محبت ہے اس سے پہلے نہ اس کے بعد کوئی اس دل میں آ کر بسا… جب وہ داخل ہو گئی تو دل کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا…. اب آپ سوچ لیں کہ اک فوجی کے ساتھ جس کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کب کہاں دشمن کی کس گولی کا شکار ہو جائے اس کے ساتھ گزارا کر سکتی ہیں…
آپ کے ساتھ گزارا ہوا اک لمہ بھی میرے لئے زندگی گزارنے کے لیے کافی ہے… وہ مسکراتے ہوئے بولی… جب تک زندہ رہوں گا بہت محبت کروں گا… وعدہ کرتا ہوں میری زندگی میں کوئی عورت آپ کی جگہ کبھی نہیں لے سکے گی…
صرف آپ کا ہو کر رہوں گا.. میں اللّٰہ سے دعا کرتا تھا کہ اگر اس دنیا میں آپ مجھے نہ مل سکی تو جنت میں میری حور بس انوشے کو بنانا… وہ اس کی بات سن کر شرما گئی…
جب صبح انوشے کا ناشتہ لے کر سویرا آنا بی اور جلال صاحب آئے تو اس کے چہرے کی خوشی اور آنکھوں کی چمک دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے کہ اللّٰہ نے ان سے اپنی بیٹی کے بارے میں بہت اچھا فیصلہ کروایا…
یا اللّٰہ تیرا شکر ہے… انوشے کیسا لگا سرپرائیز… وہ یوسف کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی… اللّٰہ کا شکر ہے.. سویرا تم واقعی دوست کہلانے کی حق دار ہو تم نے اپنی دوستی کا حق بہت اچھے طریقے سے ادا کیا… اللّٰہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے… آمین
شادی کے پندرہ دن وہ واپس بارڈر پر چلا گیا.. جانے سے پہلے اس نے انوشے سے کہا بے شک میرے والدین اور میری بہن تمہاری ذمہ داری نہیں ہیں یہ لوگ میری ذمہ داری ہیں..
میری غیر موجودگی میں پہلے بھی وہ رہ رہے تھے اب بھی رہ لے لیں گے اور اگر تم میرے والدین کا میری غیر موجودگی میں خیال رکھو گی کچھ حد تک آگر میری ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا لو تو یہ احسان میں ہمیشہ یاد رکھوں گا..
میرے بابا نے اپنی مٹی سے بہت محبت کی میرے بار ہا کہنے کے باوجود انہوں نے گاؤں نہیں چھوڑا کھیتی باڑی ہی کرتے رہے
آپ کی ہر ذمہ داری اپنی ذمہ داری سمجھ کر نبھاؤں گی وہ بس آپ کے والدین نہیں اب میرے بھی والدین ہیں آپ بے فکر رہیں.. اس نے یوسف کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر محبت سے تھپتھپاتے ہوئے بولی……
سویرا کی کینڈا کی اپرول آ گئی تھی اس نے انوشے کو بتانے کے لئے فون کیا وہ اس کے لئے بہت خوش ہوئی اسے بے شمار دعائیں دیں.. ملنے کب آ رہی ہو سویرا بہت جلد….
جلال صاحب اسے ہر ویکنڈ پر اسے ملنے جاتے..اسے خوش دیکھ کر اللّٰہ کا شکر ادا کرتے.. حماد کی بھی آرمی میں ڈاکٹر کے عہدے پر سلیکشن ہو گئی ہے.. جب جلال صاحب نے اسے بتایا تو وہ خوش ہوئی وہ اسے ہمیشہ چھوٹے بھائیوں کی بری ہی ٹریٹ کرتی…
شادی کے چھ سالوں میں اللّٰہ نے اسے دو بیٹیوں سے نوازا تھا.. یوسف کے والدین اس سے بہت خوش تھے… وہ ان کے لئے بہو کم اور بیٹی ذیادہ تھی اس نے بیٹی اور بیٹا دونوں کی ذمہ داریاں پوری کیں..
آج جب وہ آیا تو بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا پہلے سے بکل الگ اس کے چہرے پر اک عجیب سی چمک تھی… انوشے میں چاہتا ہوں کہ میرا بڑا بیٹا محمد علی آرمی میں جائے اور چھوٹے محمد ابراہیم کو تم اپنی مرضی سے جس مرضی شعبے میں لے جانا پتہ نہیں ان کے اس مقام تک پہنچنے میں زندہ رہوں گا یا نہیں لیکن مجھے اس بات کا یقین ہے اور میں مطمئن ہوں کہ مجھے تم کسی جیسی شریک حیات اور مرے بچوں کو تم جیسی ماں ملی
آپ جب بھی آتے ہیں ایسی ہی باتیں کر کے مجھے تکلیف دیتے ہیں ٹھیک ہے ہر بات اور چیز کا وقت مقرر ہے لیکن آپ ایسی بات کر کہ تکلیف مت دیا کریں
وہ ناشتہ کرتے ہوئے مسلسل اسے دیکھ کر تھا اس کی دو دفعہ نظر یوسف کی طرف اٹھی وہ ابھی بھی اس کی طرف متوجہ تھا چائے ڈالتے ہوئے کپ سے چائے باہر گرنے لگی یوسف بیٹا دھیان کدھر ہے.. تو وہ تھوڑا سا شرمندہ سا ہوا… ناشتے کے برتن اٹھانے میں جب صباحت اس کی مدد کر رہی تھی رہنے دو صباحت بیٹا آج آپ کے حصے کا کام میں کروں گا…
آج آپ کی بھابھی کی میں مدد کرتا ہوں.. صباحت کر لے گی پتر تم کبھی کبھی تو آتے ہو.. اماں میرا دل کر رہا ہے بچے سکول جا چکے تھے وہ سب مسکرانے لگے.. یہ کیا حرکت ہے کیپٹن صاحب.. کیا.. اک تو ناشتے کی میز پر آپ نے مجھے شرمندہ کر دیا اور اب یہ سب وہ برتن دھونے میں اس کی مدد کر رہا تھا تو انوشے ناراض ہوئی… بیوی ہو میری اور آپ کی طرف دیکھنے پر مجھ پر پابندی تھوڑی ہے جب تک چاہے دیکھ سکتا ہوں…
چلیں ڈھل گئے برتن اب میں نے کچن صاف کرنا ہے آپ جائیں یہاں سے.. جاؤں سوچ لیں خود بھیج رہی ہو واپس نہیں آؤں گا اک بار چلا گیا.. پھر ڈوھنڈتی رہیں گی.. وہ اس کی بات سن کر تڑپ سی گئی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی آپ کو میری عمر بھی لگ جائے… نہ بابا مجھے میری ہی بہت ہے میں نہیں لیتا آپ کی میں آپ کی بری بہادر نہیں ہوں آپ کے بغیر نہیں رہ سکوں گا…
انوشے اک التجا ہے… وہ سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی… اور پھر بولی حکم کریں… میری ہر ذمہ داری کو بڑے اچھے طریقے سے نبھا رہی ہو بس صباحت کا خیال رکھنا کیونکہ اب اس کا ماسٹر مکمل ہو چکا ہے تو اب میں چاہتا ہوں وہ اپنے گھر کی ہو جائے
کوئی ہے آپ کی نظر میں.. میرا دوست ہے اس کا چھوٹا بھائی ہے اک دو بار ملا ہوں اس سے اچھا ہے.. اک دو بار ملنے سے کسی کا پتہ نہیں چلتا.. بیٹی کا معاملہ ہے ذرا دیکھ بھال کے… وہ اس کی بات سن کر مسکرایا..
میری نظر میں ہے اک لڑکا.. وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا..کون.. حماد اس نے ذہن پر زور ڈالا.. ہاں یاد آیا.. سویرا بھابھی کا بھائی.. جی.. میں اسے کافی عرصے سے جانتی ہوں.. بکل چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے وہ میرے لئے اور میرا خیال ہے کہ وہ صباحت کے لیے بہترین ہے…
وہ اس کی بات کا کوئی جواب دیتا صبیہ بیگم نے آواز دی پتر تمہارا فون بج رہا ہے وہ کچن سے باہر کی طرف بھاگا.. میجر عقیل کا فون تھا سر اس نے مخصوص فوجی انداز میں سلام کیا..
یوسف وزیرستان میں ہنگامی صورت حال ہے اطلاع ملی ہے کہ دہشتگردی کا بہت بڑا منصوبہ ہے.. فورا آنے کا حکم ہے.. جی سر.. وہ جلدی سے پیکنگ کرنے لگآ…انوشے بات سنو وہ اس کی مضطرب آواز سن کر کمرے کی طرف بھاگی کیا ہو یوسف یہ کیا آپ کدھر جا رہے ہیں.. اس نے جب اس کو پیکنگ کرتے ہوئے دیکھا تو پوچھنے لگی…
جانا ہے فون آیا تھا وزیرستان میں ملڑی آپریشن ہے اور اس کی کمانڈ مجھے ملی ہے اس لئے ابھی نکلنا ہے.. اس کا دل دہل سا گیا آپ مت جائیں کسی اور کو کہہ دیں یوسف میرا دل گھبرا رہا ہے.. پلیز مت جائیں…
انوشے آپ میری آخری محبت ہو لیکن آپ جانتی ہو کہ میری پہلی محبت میرا وطن ہے آج اس کو میری ضرورت ہے اس کی مٹی مجھے پکار رہی ہے میں نے کہا تھا کہ میرے فرض کے آڑے نہیں آنا…
ان دونوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں گھر والے پریشان ہو گئے کیونکہ آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا سب آن کے کمرے کی جانب بھاگے.. یوسف پتر سب ٹھیک ہے صبیہ بیگم نے دروازے پر دستک دیتے ہوئے پوچھا..
جی امی سب ٹھیک ہے انوشے کی ڈوبتی ہوئی آواز آئی.. یوسف بیگ کے ساتھ باہر نکلا.. کہیں جا رہے ہو.. احمد خاں نے پوچھا جی بابا اس نے میجر عقیل کے فون کے بارے میں بتایا..
جاؤ بیٹا اور اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑنا اپنے وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دینی جاؤ میرا سر فخر سے بلند کرنا اگر میرے ملک پر کوئی آنچ آئی تو گھر واپس مت آنا..
وہ اپنے باپ کے گلے ملا آپ فکر مت کریں آخری قطرے تک لڑوں گا دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دوں گا.. میرا شیر بیٹا.. جاؤ اللّٰہ تمہارا حامی و ناصر ہو.. انوشے پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی…
انوشے وہاں سے چلی گئی.. ڈبیہ بیگم نے یوسف کو اشارہ کیا کہ اسے ناراض چھوڑ کر مت جائے.. وہ انوشے کے پاس گیا.. اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تم بہت بہادر ہو محبت کرنے والے اور شکر ادا کرنے والے نہ ناراض ہوتے ہیں نہ شکوہ کرتے ہیں.. آپ نے ہی کہا تھا..
آپ میری محبت کی امین ہو اگر واپس نہ لوٹ سکا تو اللّٰہ کے بعد میرا گھر آپ کی ذمہ داری.. اب صرف انوشے ہی نہیں یوسف بن کر بھی جینا ہے آپ صرف اک ماں اور بیٹی نہیں اک باپ اور اک بیٹا بھی ہو.. مبارک ہو پرموشن ہونے جا رہی ہے…. ہاں جب پرموشن ہوتی ہے تو ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں..
مجھے یقین ہے کہ آپ اس عہدے کی ذمہ داریاں بھی سنبھال لیں گی پریشان نہیں ہونا جنت میں میری حور بس آپ ہو گی اللّٰہ سے ایسے مانگا ہے میں نے آپ کو.. چلو اب باہر چلیں سب انتظار کر رہے ہیں..
بچے پوچھیں گے تو کیا کہوں گی میں انہیں.. وہ بچے ہیں وہ بہل جائیں گے جب انہیں سمجھائیں گی تو.. پھر وہ عادی ہو جائیں گے… دروازے سے باہر نکلتے ہوئے اس نے سب کو الوداعی نظروں سے دیکھا اور پھر ہاتھ لہراتا ہوا باہر نکل گیا..
یوسف حالات بہت نازک ہیں اور دہشت گردوں نے بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں انہوں نے بہت سے لوگوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے.. آپ کے ساتھ بیس لوگ ہیں جن کو آپ کمانڈ کریں گے…
باقی بیس لوگ پیچھے مدد کے لیے تیار رہیں گے وہ لوگ زیادہ فاصلے پر نہیں ہوں گے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں آپ فورا رابطہ کریں گے تا کہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچایا جا سکے…
اس سارے معاملے کو میجر عقیل مانیڑ کر رہے تھے… یوسف اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیش قدمی کر رہا تھا.. اس نے ان کو چاروں طرف سے گھیر لیا وہ لوگ تعداد میں چھ تھے یوسف نے انہیں مذاکرات کی پیشکش کی ان کے گرد گھیرا بہت تنگ کر دیا گیا تھا…
دو دن پیش قدمی کرتے گزر گئے تھے.. انوشے کی دو دن سے یوسف سے بات نہیں ہوئی تھی اس کی خیریت کی کوئی اطلاع نہیں تھی اس کا صبر جواب دے رہا تھا.. وہ باراار فون کر رہی تھی…
اس بار اس نے میجر عقیل کو فون کیا انہوں نے اسے تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہے آپ لوگ اس کی کامیابی کے لیے دعا کریں..
سر بارودی سرنگیں بغیر کسی جانی نقصان کے تباہ کر دی گئی ہیں اک جوان زخمی ہے اسے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے سب کچھ انڈر کنٹرول ہے.. جلد ہم سب لوگوں کو بازیاب کروا کر دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا دیں گے… شاباش میرے شیرو.. اگر مزید نفری کی ضرورت ہے تو جوان تیار ہیں…
سر سب کچھ کنٹرول میں ہے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے بس اک آخری ضرب لگانے کی ضرورت ہے ہم لوگ بہت قریب ہیں فتح کے انشاءاللّٰہ..
وہ خود سب سے آگےتھا اپنےجوانوں کیڈھال بنا ہوا تھا… انہوں نے بڑی کامیابی سے سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا یوسف سب لوگوں کو اپنے جوانوں کے ساتھ ملکر بازیاب کروا چکا تھا… واپسی پر وہ سب سے پیچھے تھا.. انہوں نے سب کو مردہ سمجھ لیا تھا…
لیکن ان میں سے اک شدید زخمی تھا لیکن ابھی زندہ تھا.. اس نے پیچھے سے فائرنگ کر دی یوسف کو دو گولیاں لگیں اک کمر میں اور دوسری ٹانگ میں.. جوانوں نے جوابی فائرنگ میں اسے موت کے گھاٹ اتار دیا.. لیکن یوسف شدید زخمی تھا..
سر آپ ٹھیک ہیں وہ تکلیف کے باوجود مسکرا کر بولا I am fine man ….
اس کا خون بہت بہہ چکا تھا….اسے ہسپتال منتقل کردیا گیا گیا.. اس کا آپریشن جاری تھا.. اس کا آپریشن کرنے والوں میں اک حماد بھی تھا… ا…
اس وقت احمد خان کھیتوں میں کام کررہا تھا…ﺟﻮﻻﺋﯽ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ , ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﮔﺮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺒﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﮐﺎﻟﮯ ﺑﺎﺩﻝ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ , ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺴﯽ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ , ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﻭﺯﯾﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﺸﺖ ﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺟﻮﺍﻥ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﺳﻒ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ , ﺑﻮڑھا احمد ﺧﺎﻥ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﮦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ گر ﮔﯿﺎ , ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﯾﻮﺳﻒ زندگی کی بازی ہار گیا انوشے خبر ملتے ہی جلال صاحب کے ساتھ روانہ ہو گئی.اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی سانسیں اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھیں.. حماد آپریشن تھیٹر سے سر جھکائے باہر نکلا اس نے جلال صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا.. انکل اللّٰہ کی یہی مرضی تھی… ہم نے بہت کوشش کی لیکن خون بہت بہی چکا تھا… انوشے تم رؤ گی نہیں تمہیں مضبوط رہنا ہے اس کے کانوں میں یوسف کی آواز نے سر گوشی کی. .. …,یوسف میں اتنی مضبوط نہیں تھی میں تنہا نہیں رہ سکتی تھی آپ کے بغیر وہ ہسپتال کے فرش پر بیٹھ گئی
جلال صاحب اسے سہارا دے کر آپریشن تھیٹر میں لے کر گئے… یوسف اک بار پھر تنہا کر دیا اور اتنی بڑی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی.. میں کیا کروں گی.. میں یوسف نہیں بن سکتی…
اس کی شہادت کی اطلاع گھر پہنچ چکی تھی… سارا گاؤں احمد خان کے گھر تعزیت کرنے پہنچ گیا احمد ﺧﺎﻥ ﮐﺎ ﺟﮕﺮﯼ ﯾﺎﺭ مبارک ﺧﺎﻥ احمد ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻟﮓ ﮐﺮ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﯾﺎ , ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺟﻤﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ” ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ,” ﮨﺎﺋﮯ احمد ﺧﺎﻥ ﺗﯿﺮﺍ ﻣﻘﺪﺭ … ﯾﻮﺳﻒ ﮐﺎ ﺟﺴﺪِ ﺧﺎﮐﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﯾﻮﻧﭧ ﮐﮯ ﺟﻠﻮ ﻣﯿﮟ گاؤں ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﮮ ﻓﻮﺟﯽ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ , ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺁﯾﺎ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﻓﻮﺟﯽ ﺁﻓﯿﺴﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﻗﻮﻣﯽ ﭘﺮﭼﻢ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ , ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﻭﺭﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﭼﺎﺅ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻣﺪﺗﻮﮞ احمد ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﮯ ﺗﮭﮯ , ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﻭﺭﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ احمد ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ
, ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﻭﺭﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﻮﮦِ ﮔﺮﺍﮞ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺿﻌﯿﻒ احمد ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ .ﻣﮕﺮ ﭼﺸﻢِ ﻓﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮈﮬﯿﺮﻭﮞ ﺣﯿﺮﺕ ﺩَﺭ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﮯﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺍﺩﮦ ﻣُﻮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮕﺎ ﺑﺪﻥ ﻟﯿﺌﮯ ﺑﻮﮌﮬﺎ احمد ﺧﺎﻥ مضبوط ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭨﮭﺎ , ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻗﺪ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﭼﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ , ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻣﮕﺮ ﭘﺮﻋﺰﻡ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺠﻤﻊ ﻣﯿﮟ مبارک ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﮬﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺮچم بلند کئے بلند آواز میں کہہ رہا تھا
ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﺸﺖ ﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﺗﻮﮌﺗﯽ ﮨﯿﮟ . ”
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ میجر عقیل ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺭﺩﺍﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ احمدﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﮩﺮِ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﺛﺒﺖ ﮐﯽ !!!…
ﺷﮩﯿﺪ ﯾﻮﺳﻒ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ بہادری ﮐﯽ داستان ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻧﺞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ …
ﻗﺘﻞ ﮔﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﭼُﻦ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻋَﻠﻢ
ﺍﻭﺭ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﻋﺸّﺎﻕ ﮐﮯ ﻗﺎﻓﻠﮯ !….
ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺭﻭﮐﺘﮯ ﺗﮭﮏ ﮐﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﻭﺣﺸﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﺍﻭﯾﮯ … !!(منقول)….
اس کے کانوں میں یوسف کی آواز گونج رہی تھی آنا میں نے آپ کا سر فخر سے بلند کر دیا میں اللّٰہ کے سامنے سرخرو ہو گیا میں نے دشمن کو ناکام کر دیا میں اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑا ابا میں نے مٹی کا قرض ادا کر دیا آنچ نہیں آنے دی اس پر
حماد نے سویرا کو فون کر دیا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ انوشے سے کیسے بات کرے.. اسے اس وقت اس کے پاس ہونا چاہیے تھا وہ چھ سالوں میں بس دو بار آئی تھی.. لیکن اس مشکل وقت میں جب انوشے کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ اس کے ساتھ نہیں تھی…
اس نے ہمت باندھ کر انوشے سے بات کی.. سویرا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی مت رو سویرا شہیدوں کو نہیں روتے وہ تو زندہ ہے بس ہم سے تھوڑا دور چلا گیا ہے اب مجھے تو بس اس کی سونپی گئی امانتوں کی حفاظت کرنی ہے…
اور اس سے ملنے کا انتظار… انوشے تم اتنی مضبوط کب سے ہو گئی… جب سے اک فوجی کی بیوہ بنی ہوں اس کی آنکھوں سے زارو قطار آنسو نکلنے لگے.. سویرا کا دل پھٹ گیا اس کی بات سن کر…
یوسف کی شہادت کے بعد اس نے خود کو سب کے سامنے مضبوط ظاہر کیا لیکن وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکی تھی.. لیکن اسے یوسف کی امانتوں کی حفاظت کے لئے زندہ رہنا تھا… اس کی محبت اس کے خواب.. اس کی ساری چاہتیں جو صرف یوسف کے لئے تھیں اس کے ساتھ ہی دفنا چکی تھی….
انوشے بیٹا آؤ تم میرے ساتھ اسلام آباد چلی چلو ادھر اس کی یادیں وابستہ ہیں.. وہ بے دلی سے مسکرائی.. بابا اس کی یادیں صرف اس مٹی سے نہیں وابستہ اس کی یادیں میری روح سے وابستہ ہیں یہ جگہ چھوڑ کر چلی جاؤں لیکن یہ روح تو جسم کے اندر ہی رہے گی اسے کیسے نکالوں گی.. جلال صاحب سے اپنی عزیز بیٹی کا دکھ دیکھا نہیں جاتا تھا…
آپ ہی بتائیں اک بیٹی کیسے اپنے بوڑھے والدین اور اک بیٹی جیسی بہن کو خود غرض بن کر چل دے اور والدین کو ان کے بیٹے کے بچوں سے دور کردے ایسے تو میں اس مرد مومن کی مجرم بن جاؤں گی.. اور یہاں یوسف بھی تو ہے…
سویرا یوسف کی شہادت کے تقریباً چار ماہ کے بعد آئی.. جب وہ انوشے سے ملی تو وہ انوشے کو سب کے سامنے چٹان کی طرح مضبوط دکھتی تھی جس کے اندر آنسوؤں کا سمندر تھا اس کے گلے لگ کر بہت روئی.. سویرا دیکھو نا یوسف نے میرے ساتھ کیا کیا چلا گیا وہ…
وہ اسے تسلیاں دے دے کر چپ کروانے کی کوشش کرتی رہی بیٹی اسے رونے دو اتنے دن گزر گئے یہ کھل کر نہیں روئی اس کے اندر کا دکھ اگر آنسوؤں کی صورت نہ نکلا تو یہ اندر ہی اندر گھل جائے گی… اس کا دکھ بہت بڑا ہےیوسف کی وفات کو ایک سال گزر گئے اک دن احمد خان نے انوشے کو بلایا اور کہا بیٹی میرے بوڑھے کندھے دو جوان بیٹیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تم شادی کر لو چاہے تو بچے ساتھ لے جانا ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا…
میں تمہاریاور صباحت کی شادی کر کے اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جاؤں تو چین سے مر سکوں گا تمہاری ماں تو ویسے ہی بیٹے کے دکھ سے مک گئی ہے اندر سے.. ابو یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں آپ لوگوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی اور شادی آپ نے کیسے یہ بات سوچ لی میں ساری زندگی یوسف کی بیوہ بن کر گزار دوں گی لیکن کسی دوسرے کا ہاتھ نہیں تھاموں گی…
جلال صاحب کے بے حد اسرا پر وہ یوسف کے والدین کو لے کر انوشے مینشن میں آ گئی جلال صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ ان کی زمینوں کا خیال رکھیں گے ویسے بھی اب وہ کھیتوں پر کام کرنے کے قابل نہیں رہے تھے…
اسلام آباد شفٹ نے کے بعد اسے اپنی روحانی پیشوا باجی فاطمہ سے ملنے کا خیال آیا وہ کافی عرصے سے ان سے نہیں ملی تھی لیکن فون پر ان سے رہنمائی حاصل کرتی رہتی تھی.باجی میری آمائش ابھی کتنی طویل ہے کب تک آخر میری برداشت اب ختم ہو گئی ہے.. نہیں انوشے شکوہ نہیں کرتے ہر مشکل وقت ختم ہو جاتا ہے بس ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے بیٹا ہر مشکل کے بعد آنی ہے یہ رب کا وعدہ ہے یہ زندگی فانی ہے سب نے جانا ہے اللّٰ کے اتنے محبوب پیغمبروں کو آزمائش سے گزارا گیا کسی نے شکائیت نہیں کی صبر سے کام لیا…اللّٰہ تمہیں صبر دے وہ اس مشکل وقت میں بھی تنہا نہیں چھوڑے گا… انہوں نے اسے تسلی دی
حماد اب میں آئی ہوں تو تمہاری شادی کر کے ہی جاؤں گی عائشہ کے سسرال والے بھی اب شادی کا کہہ رہے ہیں اور ثانیہ روز روز اپنا سسرال چھوڑ کر کیسے آئے گی امی ابو اکیلے کیسے رہیں گے.. آپی آپ پریشان مت ہوں میں انہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا..
میں تمہاری ایک نہیں سنوں گی آپی مجھے نہیں کرنی شادی.. وہ انوشے کو بہت چاہتا تھا تب سے جب سے اس کی سویرا سے دوستی ہوئی تھی لیکن وہ احترام میں کبھی کہہ نہیں پایا وہ اس سے تین سال بڑی تھی..
سویرا کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا.. حماد میں نہ بچوں کو چھوڑ کر روز روز کسی دوسرے ملک سے کیسے آؤں تو انہیں ساتھ لے آئیں میری جان ان کی پڑھائی کا حرج ہوتا ہے اور فیصل بہت اچھے ہیں جو مجھے آئے دن اتنی دور سے بیھج دیتے ہیں…
پہلے تو وہ بہت دیر کے بعد آتی تھی لیکن اب کیونکہ ابو کی طعبیت بھی ٹھیک نہیں رہتی تھی. اس لیے وہ سال میں دوسری بار آئی تھی
انوشے نے دفتر دوبارہ جانا شروع کر لیا اس نے پہلے کی طرح جلال صاحب کا سارا بزنس سنبھال لیا وہ بچوں کو بھی وقت دیتی اور سب کا خیال بھی رکھتی مت کیا کرو اتنا کام تھک جاؤ گی …
نہیں تھکتی آنا بی…ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں نا… نہیں آنا بی اللّٰہ اپنے بندے پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا… آپ سب کی مسکراہٹ مجھے تھکنے نہیں دیتی..اس نے اللّٰہ کے رضا کے سامنے صبر کر لیا تھا…
سویرا مجھے تم سے ملنا ہے بہت ضروری بات کرنی ہے.. انوشے سب خیریت ہے نا. ..ہاں سب خیریت ہے …جبوہ آئی تو اس نے سویرا سے حماداور صباحت کے رشتے کی بات کی…
انوشے اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے لیکن وہ مانتا ہی نہیں کہتا ہے نہیں کروں گا شادی.. میں چاہتی ہوں کہ عائشہ کی رخصتی کے ساتھ اس کی بھی شادی ہو جائے اس کے نکاح کو دو سال ہونے والے ہیں اس کے سسرال والے اب رخصتی کا مطالبہ کر رہے ہیں….
اگر تم کہو تو میں بات کروں اس سے میرے بھائیوں کی طرح ہے… ہاں کیوں نہیں تمہاری بہت عزت کرتا ہے کر کہ دیکھ لو بات اگر ماں جائے تو فوراً شادی کر دیں گے…..
حماد کدھر ہو کیو ں انوشے آپ کو کوئی کام ہے ہاں ملنا چاہتی ہوں تم سے میں ابھی حاضر ہو جاتا ہوں کہاں آنا ہے.. تم دفتر آ جاؤ ٹھیک ہے میں خود بھی آپ سے ملنا چاہتا ہوں میں آدھے گھنٹے تک پہنچتا ہوں…
اسلام وعلیکم وہ سلام کرتے ہوئے اس کے آفس میں داخل ہوا ..وعلیکم اسلام آؤ بیٹھو کیا لو گے چائے یا کافی..جو آپ پلا دیں. اچھا حماد تم مجھ سے ملنا چاہے تھے تم نے فون پر کہا تھا.. آپ نے مجھے کیوں بلایا آپ بتائںں. میں پہلے تمہیں سننا سننا چاہوں گی.
آپ میری بات تحمل سے سنیں گی پہلے وعدہ کریں اگر غصہ آیا بھی تو ناراض نہیں ہوں گی. آخر ایسی کیا بات ہے جس کے لیے اتنی تمہید باندھی جا رہی ہے ..وہ.. میں.. اصل میں.. حماد کیا بات ہے میں.. میں سے آگے کچھ نہیں کہو گے وہ باتیہ ہے کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں اور میں کسی کو بتا نہیں پا رہا اچھا اس کا مطلب ہے کہ لڑکی تم نے دیکھ رکھی ہے تو اس میں مشکل کیا ہے سویرا تو اسی لیے پریشان ہے اسے بتاؤ میرا نہیں خیال کہ تمہارے گھر والے کوئی اعتراض کریں گے.. اصل میں پہلے لڑکی کی رضا مندی جاننا چاہتا ہوں. تو بتاؤ نا کوں ہے وہ لڑکی ہم لوگ مل لیں گے
میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں انوشے. حماد کی بات سن کر اس کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا.. دیکھیں میں نے آپ سے وعدہ لیا تھا کہ غصہ نہیں کریں گی.. حماد تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو جی میں جانتا ہوں اور سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں جو بھی کہہ رہا ہوں.حماد ایساکیسے ممکن ہے اور تم یہ بات اچھی طرح جانتے ہو کہ مجھ. پر کتنی ذمہ داریاں ہیں میرے دو بچے ہیں. آپ کی ساری ذمہ داریاں اپنی سمجھ کے نبھاؤں گا کبھی شکائیت کا موقع نہیں دوں گا آزما کے دیکھ لیں مجھے تمہاری اک اک بات پر یقین ہے لیکن میں تم سے تو کیا کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی تم میرے لئے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہو تمہیں یہ بات سچ سمجھ کر کرنے چاہیے تھی
وہ اپنے بچوں کو محبت اور احساس سے گوندھ کر پروان چڑھا رہی تھی..
سویرا کا فون آیا وہ اس سے پوچھ رہی تھی کہ بات ہوئی حماد سے وہ اسے کیا بتاتی کہ اس کی حماد سے کیا بات ہوئی.. انوشے میں واپس جا رہی ہوں اگلے ہفتے پلیز وہ جب بھی آئے اس سے بات کرنا وہ ہمیں کچھ نہیں بتاتا اس کے دل میں کیا ہے ہو سکتا ہے وہ تمہیں بتا دے…
تم چکر لگاؤ نا ابو تمہیں بہت یاد کر رہے تھے.. ہاں کل سنڈے ہے لگاؤں گی چکر.. بچوں کو بھی لے کر آنا کہیں جاتے بھی نہیں ہیں وہ.. بہل جائیں گے.. ہاں ضرور لے کر آؤں گی. خالہ سے ملوانے..
وہ سویرا کی طرف آئی تو حماد نے دروازہ کھولا.. وہ ابھی ادھر ہی تھا باپ کی طعبیت خراب ہونے کی وجہ سے چھٹی پر تھا.. وہ انکل آنٹی کے ساتھ بیٹھ کر کافی دیر باتیں کرتی رہی بچے حماد اور عائشہ کے ساتھ مصروف رہے..
جب وہ جانے لگی تو حماد کی سوالیہ نظروں کی طرف دیکھ کر مضطرب سی ہو گئی.. ماما حماد انکل بہت اچھے ہیں محمد ابراہیم کی بات پر اس نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے مثبت میں سر ہلایا…
ماما کیا ہمارے بابا بھی اتنے ہی اچھے تھے.. محمد علی تھا اس دفعہ سوال کرنے والا. نہیں بیٹا آپ کے بابا حماد انکل کی طرح اچھے نہیں تھے.. کیا مطلب ماما.. بلکہ وہ حماد انکل کیا اس دنیا میں سب سے اچھے تھے وہ آپ لوگوں سے بہت محبت کرتے تھے..
ماما پھر وہ کیوں چلے گئے اللّٰہ کے پاس کیا انہیں ہماری یاد نہیں آتی.. بیٹا جو لوگ بہت اچھے ہوتے ہیں نا اللّٰہ ان کو پاس بلا لیتا ہے تا کہ کوئی انہیں تنگ نہ کرے اللّٰہ ان کے لئے جنت میں بہت خوب صورت گھر بناتا ہے اور جب گھر مکمل ہو جاتا ہے تو اس انسان کو ادھر رہنے کے لیے بلا لیتا ہے.. تو ماما اپنے اس خوبصورت گھر میں ہمیں کیوں نہیں لے گر گئے.. وہ اس کی بات سن کر ڈھل گئی. وہ اس لئے میری جان ابھی آپ کا پرچم نہیں بنا نا جب ہم سب کا پورشن بن جائے گا تو ہم بھی چلے جائیں گے ان کے پاس وہ اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے بولی.

اس کا فن مسلسل بج رہا تھا.. فون کی گھنٹی مسلسل بجنے کی آواز سن کر صباحت نے اس کا کندھا ہلا کر جنجھوڑا وہ مطالعہ میں اس قدر مگن تھی کہ اسے فون کی گھنٹی سنائی ہی نہیں دے رہی تھی.. بھابھی کب سے فون بج رہا ہے. دیکھ لیں کوئی ضروری فون نہ ہو کوئی کب سے کر رہا ہے…
اس نے کتاب بند کرتے ہوئے فون اٹھایا.. حماد کا نمبر تھا.. وہ اس کو جان بوجھ کر اگنور کر رہی تھی کیونکہ وہ اس کی اس بیوقوفانہ بات کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی.. آپ مجھے خان بوجھ کر اگنور کر رہی ہیں نا.. سکرین پر اس کا میسج چمکتا ہوا دکھائی دیا.. وہ بار بار میسج کر رہا تھا…
تم جب اس بار آؤ تو مجھ سے ملنا.. اس نے حماد کے سارے میسجز کے جواب میں اک جوابی میسج کیا… جی ضرور اگلے ہفتے میری پوسٹنگ اسلام آباد ہو رہی ہے میں پہلی ہی فرصت میں آپ سے ملوں گا..
محمد علی بیٹا سکول کا کام کر لو ماما آ کر ناراض ہوں گی صباحت کب سے اسے سکول کا کام کرنے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی.. ارے چھوڑ دو رہنے دو کر لے گا دو دادا کی گود میں جا کر چھپ گیا انہوں نے اس کی حمایت کرتے ہوئے صباحت کو منع کیا
رات کا کھانا کھانے کے بعد صباحت نے انوشے کو بتایا کہ وہ اس کی بات نہیں سنتا آج اس نے سکول کا کام نہیں کیا.. اچھا تم پریشان مت ہو میں دیکھ لیتی ہوں.. وہ دونوں نانا اور دادا کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے. جب انوشے نے دونوں سے کہا کہ دونوں مجھے اپنا اپنا سکول بیگ دکھائیں.. محمد علی نے دادا کی طرف دیکھا.. انہوں نے اسے چپ رہنے کا کہا جیسے آنکھوں سے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہوں کہ کچھ نہیں کہے گی ..
ماما میں نے سکول کا کام نہیں کیا اس نے ماں کو سچ بتاتے ہوئے اعتراف کیا.. انوشے نے بھنویں اوپر اٹھاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا وہ میں نے آپ کے پاس پڑھنا تھا نا اس لیے ابھی تو آپ کے سونے کا وقت بھی ہونے والا ہے چلو میں کمرے میں جا رہی ہوں جلدی سے بیگ لے آؤ
وہ بیگ لے کر انوشے کے پاس آیا وہ زہین بہت تھا انوشے نے اسے جلدی سے سکول کا کام کروا دیا.. سکول کا کام کروانے کے بعد اس نے محمد علی کو اپنی گود میں بٹھایا اسے پیار کیا.. محمد علی میری جان آپ پوپھو کی بات نہیں سنتے انہوں نے آپ سے شکائیت کی ہے..
نہیں تو میں نے خود محسوس کیا ہے آپ کی پوپھو تو بہت اچھی ہیں وہ آپ سے بہت پیار کرتیں ہیں وہ کیوں لگائیں گی شکائیت آپ کی بھلا.. محمد علی بیٹا جانتے ہو کہ آپ کے بابا کتنے بہادر تھے.. وہ آرمی میں کیپٹن تھے دشمن کو انہوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا.. ماما کون تھے دشمن ان کے.. بیٹا جو ہمارے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو وہ ہمارا دشمن ہے..
آپ کے بابا اپنے ملک سے بہت پیار کرتے تھے اور جو بہادر ہوتے ہیں نا اللّٰہ بھی ان سے محبت کرتا ہے. جانتے ہو بہادر کون ہوتے ہیں…کون.. بہادر وہ ہوتے ہیں جو غصہ نہیں کرتے بڑوں کی عزت کرتے ہیں.. جھوٹ نہیں بولتے. اور کسی کی کوئی بات بری لگے تو اسے معاف کر دیتے ہیں..
ماما میں بھی بابا کی طرح بہادر بنوں گا. میں بھی اپنے ملک کے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار دوں گا. اور اپنے ملک کی حفاظت کروں گا. آپ کے بابا بھی چاہتے تھے کہ آپ ان کی طرح بہادر فوجی بنو..
انوشے میں آپ سے ملنے گھر آ جاؤں یا پھر دفتر گھر آنے میں کوئی حرج تو نہیں لیکنبات ایسی ہے کہ گھر میں کھل کر نہیں ہو سکے گی. چلیں ٹھیک ہے میں کل دفتر ملتا ہوں آپ سے. میں انتظار کروں گا..
اسلام وعلیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں ہاں بلکل آؤ ..کیسے ہو حماد میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں اللّٰہ کا شکر ہے میں بھی ٹھیک ہوں.. آپ نے بلایا تھا خیریت جی جی بلکل خیریت ہے. آج اس نے بلیک کی جگہ ڈارک براؤن عطایا پہنا تھا.. اس کا چہرہ تقریباً چھپا ہوا تھا
آپ اس رنگ میں بہت اچھی لگ رہی ہیں. حماد بات اصل میں یہ ہے کہ میں تمہاری بہت عزت کرتی ہوں تم بہت اچھے ہو تمہارے گھر والوں کے تمہیں لے کر بہت ارمان ہیں..
تمہارا خوشیوں پر حق ہے اور میں تمہیں خوشیاں نہیں دے سکتی لیکن میری خوشی تو آپ میں ہے حماد تم جذباتی ہو کر سوچ رہے ہو یہ احساسات وقتی ہیں تم ٹھنڈے اماغ سے سوچو تم میری بات سمجھ جاؤ گے
آپ میری محبت کی تذلیل کر رہی ہیں انوشے اگر میرے احساسات وقتی ہوتے تو میں اتنا لمبا انتظار نہ کرتا آپ کا. حماد مجھے آزمائش میں مت ڈالو وہ غصے میں آٹھ کر جانے لگا تو انوشے نے اسے ڈانٹ کر بیٹھنے کے لیے کہا.
حماد جو محبت کرتے ہیں وہ ضد نہیں کرتے اگر میں تمہارے نصیب میں ہوتی تو مل جاتی تمہیں. جانتے ہو جس انوشے سے تم لوگ پہلی دفعہ ملے تھے اور یہ انوشے جو آج تمہارے سامنے ہے یہ سارا سفر میں نے بھی محبت میں طے کیا اور جانتے ہو مجھے اس راستے کا مسافر بنانے والا کون تھا. کون. کیپٹن یوسف…..
اپنی زندگی کی سب سے بڑی سچائی بتا رہی ہوں تمہیں یہاں تک کہ میرے بابا بھی نہیں جانتے میں یوسف سے بہت محبت کرتی ہوں لیکن میں نے اسے پانے کی کبھی ضد نہیں کی تھی..
اللّٰہ نے اسے میرے لئے اور مجھے اس کے لئے بنایا تھا نا تو دیکھو کوئی رکاوٹ ہی نہیں آئی. میں تمہاری محبت کی تذلیل کیوں کروں گی اک یہی جذبہ تو اس جہاں کی پیدائش کا سبب بنا اللّٰہ نے یہ کائنات اپنے محبوب کے لیے بنائی
دیکھو میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو میں یوسف کی جگہ کبھی کسی کو نہیں دے سکتی. اک بات کرنے لگی ہوں زبردستی کوئی نہیں ہے اگر تمہیں لگے کہ میں درست کہہ رہی ہوں تو ماں لینا نہیں تو تم اپنے فیصلے میں آزاد ہو.
اگر تم مجھ سے زبردستی شادی کر بھی لیتے ہو تو کیا اس میں میری خوشی ہو گی اگر میں خوش نہیں ہوں گی تو تم کیسے خوش رہ سکو گے اور ہم سے جڑے رشتے بھی تو اذیت سے گزریں گے نا..
تم میری بہنوں جیسی نند صباحت سے شادی کر لو تم دونوں بہت خوش رہو گے اک ساتھ وہ بہت اچھی ہیں اور یقین مانو تم کبھی نہیں پچھتاوے کا شکار ہو گے.. حماد اک دم جذباتی ہو کر بولا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا انوشے…
میری باتوں کو ضرور سوچنا حماد زائد تم اپنے لیے بہتر فیصلہ کر سکو. اس نے حماد سے کہا جب وہ اس کے دفتر سے باہر نکل رہا تھا.. کبھی نہیں ملوں گا آپ سے اب وہ جاتے ہوئے غصے سے بول کر گیا لیکن اس کی آواز میں اک درد سا تھا. حماد مجھے معاف کر دینا لیکن یہی سب کے حق میں بہتر ہے…
جب رات کو وہ بستر پر لیٹا تو انوشے کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے اس کی التجا کرتی ہوئی نظریں اسے بے چین کر رہی تھیں.. وہ ساری رات سوچتا رہا لیکن کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا…
وہ صبح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد کافی دیر تک مسجد کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھا رہا اس کی آنکھوں سے اس کی محبت آنسوؤں کی صورت ٹپک رہی تھی. امام صاحب نے اسے جاتے ہوئے کہا بیٹا اگر محبوب نہ مان رہا ہو تو پھر اس کی ہی مان لیتے ہیں اور محبوب کی ماں لینے سے دل کو بڑا سکون ملتا ہے. وہ ان کی بات سن کر چونک گیا..
اللّٰہ نے اسے اپنے بندے کے ذریعے پیغام دیا تھا کہ وہ ضد نہ کرے اور اسے فیصلہ کرنے کے لیے راہ دکھائی تھی. حماد کدھر رہ گئے تھے نماز میں اتنی دیر تو نہیں لگتی بس امام صاحب کے پاس بیٹھ گیا تھا عائشہ کے پوچھنے پر اس نے بتایا.. آج کیا ہسپتال
نہیں جانا امی کے سوال پر وہ ٹٹٹھک گیآ کہ اسے ہہر ہو گئی ہے اس نے جلدیسے وردی پہنی اور چلا گیا ناشتہ تو کر لو حماد عائشہ آوازیں دیتی رہ گئی.پتہ نہیں یہ لڑکا آج کل کہا کہاں غائب رہنے لگا ہے وہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے بولی
امی آپ میری شادی کرنا چاہتی ہیں نا ٹھیک ہے جہاں چاہے کر دیں مجھے کوئی اعتراض نہیں اگر کوئی لڑکی پسند ہے تو بتا دو.. امی نے اس سے پوچھا. نہیں کوئی نہیں ہے آپ اپنی مرضی سے جس سے چاہے کر دیں..
تو پھر میں نے تو لڑکی دیکھ رکھی ہے بس تمہاری رضا مندی کا انتظار تھا. کون سی لڑکی وہی اپنی صباحت.. اس نے سوالیہ نظروں سے ماں کی طرف دیکھا.. وہی انوشے بیٹی کی نند بڑی سعادت مند اور سلجھی ہوئی بچی ہے دیکھی بھالی ہے پڑھی لکھی اور خوبصورت ہے..
جیسے آپ کی مرضی.. وہ کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا.. انوشے بیٹا صباحت کی اب شادی کر دینی چاہیے اگر عمر نکل گئی تو پھر کوئی اچھا رشتہ ملنا مشکل ہو جائے گا صبیہ بیگم نے انوشے سے فکر مندی کا اظہار کیا امی آپ پریشان مت ہوں
اللّٰہ ہماری صباحت کے لیے بہترین کرے گا.وہ تسلی دیتے ہوئے بولی. اتنے میں سویرا کی امی حماد اور ثانیہ کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے السلام وعلیکم کیسی ہو انوشے بیٹی سویرا کی امی نے اسے گلے ملتے ہوئے پوچھا. جی آنٹی اللّٰہ کا شکر ہے.
آئیے نا بیٹھیں آپ لوگ.. وہ انہیں بٹھا کر انا بی کو بلانے چلی گئی. کیسی ہیں بہن اب آپ کی طعبیت ٹھیک رہتی ہیں.. جی حاجی کی دو اتنی اچھی بیٹیاں اتنا خیال رکھتی ہوں وہ بھلا کب تک بیمار رہ سکتا ہے..
انوشے چائے کا کہہ کر واپس آئی انوشے بیٹی آج ہم تمہارے پاس سوالی بن کر آئے ہیں.. اس کا دل زور زور سے ڈھڑکنا شروع ہو گیا کہ کہیں حماد نے کوئی بیوقوفانہ حرکت تو نہیں کر دی.. اس نے سویرا کی امی کی بات سن کر حماد کی طرف دیکھا جو بہت مطمئن لگ رہا تھا اس نے انوشے کی سوالیہ نظروں کا جواب شانے اچکا کر دیا. جی آنٹی آپ کھل کر بات کریں..
تم تو پہلے ہی مجھے سویرا کی طرح عزیز ہو اس لئے بغیر سوچے سمجھے بغیر تم لوگوں سے اجازت لیے آگئے آنٹی کیسی باتیں کر رہی ہیں بیٹی بھی کہتی ہیں اور پرایا کر رہی ہیں آپ کہیں کیا کہنا چاہتی ہیں..
اصل میں ہم لوگ حماد کے لیے آئے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ عائشہ کی رخصتی کے ساتھ اس کی بھی شادی ہو جائے.. اس سلسلے میں میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں بڑی امید لے کر آئے ہیں خالی نہیں جائیں گے..
آپ کی اپنی بیٹی ہے ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے بھلا تو ہم ہاں سمجھیں پھر بھائی احمد اور بھائی جلال نظر نہیں آ رہے ان کے سامنے بات ہو جاتی تو اچھا رہتا بابا ابو کے ساتھ گاؤں گئے ہیں یوسف سے ملنے انوشے نے وضاحت کی..
اللّٰہ اس کے درجات بلند کرے بہت ہی نیک بچہ تھا آمین انا بی بولیں. ابراہیم اور محمد علی بھاگتے ہوئے حماد سے لپٹ گئے حماد انکل کیسے ہیں آپ اس نے بچوں کو پیار کیا. میں ٹھیک ہوں..
آئیں انکل ہمارے ساتھ کھیلیں وہ اس کو لے کر اپنے کمرے میں چلے گئے.اس کے جانے بعد ثانیہ نے ماں کو اشارہ کیا کہ بات آگے بڑھائیں.. چائے پینے کے بعد سویرا کی امی نے پہلی دفعہ صباحت کا نام لے کر رشتے کی بات کی اس سے پہلے وہ پہیلیاں ہی بجھوا رہی تھیں..
صباحت کا نم سن کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی اتنی دیر میں جلال صاحب اور احمد خان بھی آ گئے.آئیے بھائی صاحب بڑے اچھے موقعے پر آئے ہیں آپ لوگ بڑے خوش نظر آ رہے ہیں کوئی ہمیں بھی تو کچھ بتائے. ابو آنٹی ہماری صباحت کے لیے اپنے بیٹے حماد کا رشتہ لے کر آئی ہیں.. اس نے احمد خان کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا ارے یہ تو بہت اچھی بات ہے جلال صاحب نے انوشے کی بات کی تائید کی.
بھائی احمد آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں انا بی نے ان سے پوچھا. نہیں بہن مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے جو ہماری بیٹی کا فیصلہ وہی ہمارا فیصلہ اس نے ہماری بہت خدمت کی اس نے بیٹی ہی نہیں بلکہ بیٹا بن کر دکھایا. یہ جو فیصلہ کرے گی وہ غلط ہو ہی نہیں سکتا
اللّٰہ اسے دونوں جہانوں کی خوشیاں عطا کرے ان کی دعا پر سب نے آمین کہا ارے اب ہماری بیٹی کو بھی تو بلاؤ انوشے نے صباحت سے اس کی رضامندی پوچھ کر ہی ہاں کی تھی وہ اسے لے کر آئی سویرا کی امی نے شگن کے طور پر اسے کچھ پیسے دئیے. حماد بہت شکریہ تم نے میرا بھرم رکھ لیا اللّٰہ تم سے راضی ہو
انوشے جو محبتوں کے امین ہوتے ہیں وہ کبھی محبت کرنے والوں کے درمیان دیوار نہیں بنتے
حماد صباحت کا بہت خیال رکھنا مجھےیقین ہے کہ تم مجھے صباحت کے معاملے میں یوسف کے سامنے شرمندہ نہیں کرو گے. وہ بھی تمہیں خوش رکھے گی آپ فکر مت کریں میں آپ کا سر کسی کے سامنےکبھی جھکنے نہیں دوں گا. اس نے صباحت کی شادی بڑی دھوم دھام سے کی.
وہ اپنے اس فرض سے بڑے اچھے طریقے سے نبرد آزما ہوئی. صباحت کی شادی کے بعد وہ بچوں کو لے کر یوسف کی قبر پر گئی. آج وہ خود کو ہلکا محسوس کر رہی تھی اس نے یوسف کی اک خواہش پوری کر دی تھی..
محمد علی جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا وہ نقوش اور عادات میں یوسف جیسا نکلتا گیا وہی دل موہ لینے والا انداز وہی خوب صورت چہرہ وہی آرمی میں جانے کا جنون. اور محمد ابراہیم انوشے کی ہر بات میں پیروی کرتا ماں اس کی آئیڈیل بن گئی وہ انوشے جیسا بننا چاہتا تھا..
اس نے بچوں کی اچھی پرورش میں وہ سب کیا جو اس کی دسترس میں تھا آج پندرہ سال بعد وہ اک تقریب میں مدعو تھی جس میں اس کے بیٹے محمد علی کو اکیڈمی کا بہترین کیڈٹ قرار دیتے ہوئے sowrd of honor دی گئی اپنے بیٹے کو کامیاب دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خوشی آنسو آ گئے.
وردی میں ملبوس وہ بکل یوسف لگ رہا تھا.. اس نے ان پندرہ سالوں میں زندگی کے بہت اتاؤ چڑھاؤ دیکھے تھے بہت سے پیاروں کو کھویا تھا جن میں آنا بی صبیہ بیگم اور احمد خان..
جلال صاحب صباحت اور حماد تقریب میں اس کے ساتھ تھے حماد نے اپنا وعدہ وفا کیا تھا صباحت اس کے ساتھ بہت خوش تھی..میرا بہادر بیٹا آج آپ نے مجھے اپنے بابا کے سامنے سرخرو کر دیا محمد ابراہیم منہ بسورتے ہوئے کہنے لگا ماما بس بھائی ہی آپ کے بہادر بیٹے ہیں نا اور میں کسی کھاتے میں نہیں آتا آپ تو میری جان ہو.
اب کو آپ کو نانا ابو کا کاروبار اور دادا ابو کی زمینیں سنبھالنی ہیں اب میں تھک گئی ہوں کیا مطلب اب آپ لوگوں کی ماں بوڑھی ہو گئی ہے ارے ماما کیا بات کرتی ہیں آپ تو آج بھی بہت خوبصورت اور جوان ہیں انوشے نے اس کا کان پکڑتے ہوئے اسے پیار سے دیکھا
واپسی پروہ سب یوسف کی قبر پر گئے فاتح خوانی کےبعد محمد ابراہیم نے اس سے کہا چلنے کا کہا آپ لوگ گاڑی کی طرف چلو میں آتی ہوں..
دیکھیں یوسف آج میں نے آپ کی ساری امانتیں آپ کو لوٹا دیں میں نے آپ کی ہر امانت کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کی بس اب میرا حق مجھے اللّٰہ سے دلوا دیں جنت میں اپنی حور بننے کا حق…

SHARE

LEAVE A REPLY