اس کتاب کے مرتب جناب ارشد ملک ہیں جنھوں نے اپنے ادبی ذوق کا ثبوت دیتے ہوئے چند پائے کے افسانہ نگاروں کے منتخب افسانوں کو کتابوں کی صورت ڈھالا ہے۔ ایک نئے یا عام قاری کے لیے یہ بہترین کتب ثابت ہو سکتی ہیں۔
گو پریم چند کے افسانوں کا بہترین انتخاب کرنا مشکل ہے، زیر بحث کتاب میں پریم چند کے 13 منتخب افسانے ہیں جو انسانی معاشرے کے اجتماعی اور انفرادی دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرتے محسوس ہوں گے۔
طوالت کے پیش نظر پریم چند کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ پریم چند 31 جولائی 1831 کو ایک گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔پندرہ سال کی عمر میں شادی ہوئی۔ نوکری کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔اسی دوران آپ میں لکھنے کا شوق پیدا ہوا جو آگے چل کر آپ کی وجہ شہرت بنا۔اپ گھریلو ذمہ داری کے ساتھ ساتھ نوکری اور اپنے ادبی ذوق کو ساتھ لیکر چلے۔ بہت سے ادبی جریدوں کی صدارت کی۔ اپ کی تحاریر میں سیاسی تنقید کا اثر نمایاں ہونے لگا۔1936 تک آپ کی شہرت پورے ہندوستان میں پھیل چکی تھی۔اپ 8 اکتوبر 1936 کو جہان فانی سے رخصت ہوئے۔
آپ کے افسانے بیک وقت اپنے دور کی معاشی، معاشرتی، سیاسی تقسیم، ان کے امیر و غریب پر پڑتے اثرات کے ساتھ ساتھ ہر سطح پر ہوتے استحصال کا شکار ہونے والے طبقات کے عکاس ہیں۔ پریم چند نے اپنے افسانوں میں جہاں نہ صرف بیرونی عوامل کے انسانی زندگی پہ اثرات کو بیان کیا ، وہاں انفرادی سوچ، بغاوت اور عمل کو بھی بڑی خوبصورتی سے پیش کیا۔ مثلا اس کتاب میں شامل آپ کے افسانے بڑے گھر کی بیٹی، عید گاہ، سوا سیر گیہوں، پوس کی رات،دو بیل،زاد راہ معاشی، طبقاتی اور سیاسی استحصال کا گہرا رنگ لئے ہیں۔
” میں اس کھیت کا لگان نہ دوں گی۔کہے دیتی ہوں، جینے کے لئے کھیتی کرتے ہیں، مرنے کے لیے نہیں۔” پوس کی رات۔
پنڈت:” سود میں تو تم ہمارے یہاں کام کرو گے۔جب سبھیتا ہو تب اصل بھی دے دینا۔سچ تو یہ ہے کہ اب تم کسی دوسری جگہ کام پر نہیں جا سکتے جب تک میرے روپے نہ چکا دو۔” سوا سیر گیہوں
شاردا پرشاد:” انساں کی قیمت روپیہ پیسہ نہیں ہوتا۔۔۔۔تھوڑی تھوڑی مزدوری لیکر، بھوکے ننگے رہ کر ،صبح سے شام تک محنت شاقہ کر کے وہ آپ کوکس قدر فائدہ پہنچاتے ہیں۔۔مگر اس کے عوض آپ انھیں کیا دیتے ہیں؟” انسان کی قیمت
موتی:” جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گے۔
ہیرا:” اس کی مجھے پرواہ نہیں یوں بھی تو مرنا ہے۔ذرا سوچو اگر دیوار گر جاتی تو کتنی جانیں بچانے جاتیں۔ اتنے بھائی یہاں بند ہیں کسی کے جسم میں جان نہیں۔دو چار دن یہی حال رہا تو سب مر جائیں گے۔” دو بیل
اسی طرح آپ نے افسانوں کفن، صلہ ماتم، حج اکبر،نئی بیوی، بوڑھی کاکی، چوری انسانی نفسیات کی انفرادیت کو اس بھی خوبصورتی سے پرویا ہے جو کسی مذہب، معاشرت اور ثقافت کے تابع نہیں ہوتے۔۔۔
“ہائے میں کتنی بے رحم ہوں۔جس کی بدولت ہزاروں روپے اٹھائے اسے اس تقریب میں پیٹ بھر کر کھانا بھی نہ دے سکی۔” بوڑھی کاکی۔
لالہ جی: ” بڑھاپا میرے پاس آئے تو اس کے منہ پر سیاہی لگا کر گدھے پر الٹا سوار کر کے شہر بدر کر دوں۔۔۔جوانی کا عمر سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا مذہب کا اخلاق سے،روپے کا ایمانداری سی،حسن کا آرائش سے۔” نئی بیوی
” ناصح کی زبان اسی وقت چلتی ہے جب تک وہ عشق کے کرشموں سے رہتا ہے۔آزمائش کے بیچ میں آ کر ضبط اور حلم رخصت ہو جاتے ہیں۔” بڑے گھر کی بیٹی
” مس لیلا میرے ساتھ بڑے تپاک سے پیش آتی اور مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میں حضرت مسیح کی پناہ میں آجاوں تو اسے مجھے اپنی شوہری میں قبول کرنے سے انکار نہ ہوگا۔وہ شیلے، بائرن اور کیٹس کی عاشق تھی اور میرا مزاج بالکل اس کے ہم رنگ تھا۔” صلہ ماتم
” کوئی ہلکا سا کپھن لیں گے۔۔رات کو کپھن دیکھتا ہی کون ہے۔۔
کیا برا رواج ہے،جیتے جی تن ڈھانپنے چیتھڑا نہ ملے اسے مرنے کے بعد نیا کپھن چاہیے۔۔۔
جو لوگ وہاں(قیامت کے دن ) ہم سے پوچھے گی کہ تم نے ہم کو کپھن کیوں نہیں دیا تو کیا کہو گے؟
کہیں گے تمہارا سر۔۔” کفن
پریم چند کے افسانوں کی خوبصورتی یہ ہے کہ افسانوں کے کرداروں کے ذریعے آپ اپنے دور کے ہر طرح کے مسائل،ظلم، جبر اور زیادتی کو قاری کے سامنے لاتے ہیں اور ان کے شعور کی بتدریج پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔













