حُسین شناسی کا سفر۔49۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
700

قسط انچاس

امام حسین علیہ السلام جانتے تھے
ظہر کا وقت ہو چلا ہے
اور ۔۔۔۔۔
جنگ بندی کی درخواست رد ہو چکی ہے
اب ۔۔۔ نماز خوف ادا کرنے کا وقت ہے
ایسی نماز
جو
میدان جنگ میں
خوف اور استقرار میں ادا کی جاتی ہے
وہ یہ بھی جانتے تھے
کہ
اگر خوف میں استقرار ممکن ہے
تو
نماز ایسے ہوگی
جیسے
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ادا كى تھی
صحابی رسول
جابر بن عبداللہ
نماز خوف کی بابت یوں بتایا کرتے تھے
ہم نے
دو صفيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پيچھے بنائيں
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تكبير تحريمہ كہى
اور ہم سب نے بھى تكبير تحريمہ كہى
پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ركوع كيا
اور ہم سب نے بھى ركوع كيا
پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ركوع سے سر اٹھايا
تو ہم سب نے بھى ركوع سے سر اٹھا ليا
پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم
اور
آپ كے ساتھ پہلى صف والوں نے سجدہ كيا
ليكن
پچھلى صف والے دشمن كے سامنے كھڑے رہے
اور جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سجدہ مكمل كر ليا
تو
آپ كے ساتھ والى صف كے لوگ كھڑے ہو گئے
اور
پچھلى صف والے لوگ سجدہ ميں چلے گئے
اور سجدہ مكمل كر كے كھڑے ہوگئے
تو
پچھلى صف والے آگے
اور
اگلى صف والے پچھلى صف ميں چلے گئے
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ركوع كيا
اور
ہم سب نے بھى ركوع كيا
اور
جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سر اٹھايا
تو
ہم سب نے بھى ركوع سے سر اٹھا ليا
پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم
اور
آپ كے ساتھ والى صف
جو پہلى ركعت ميں پيچھے تھى نے سجدہ كيا
اور
پچھلى صف دشمن كے سامنے كھڑى رہى
اور
جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم
اور ان كے ساتھ والى صف نے سجدہ مكمل كيا
تو
پچھلى صف نے سجدہ كيا
پھر
رسول كريم صلى اللہ عليہ نے سلام پھيرا تو ہم سب نے بھى سلام پھير ليا
حدیث‌ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے
حضر کی حالت میں چار رکعتیں فرض ہیں
سفر کی حالت میں دو رکعتیں‌ فرض‌ ہیں
خوف کی حالت میں ایک رکعت فرض ہے
لیکن
اگر خوف اس سے بھى زيادہ شديد ہو
يعنى اتنا شديد ہو
كہ
نہ استقرار ممكن ہو
اور نہ ہى صف بنائى جاسكتى ہو
تو اس صورت ميں
جس طرح بھى ممكن ہو نماز ادا كر لی جائے
چاہے پيدل يا سوارى پر
سورہ بقرہ کی آیت نمبر 239 میں ہے
“خوف کی حالت ہو
تو
خواہ پیدل ہو
خواہ سوار ہو
جس طرح ممکن ہو
نماز پڑھو
اور جب امن میسر آجائے
تو
اللہ کو اُس طریقے سے یاد کرو
جو اُس نے تمہیں سکھایا
جس سے تم پہلے نا واقف تھے”
امام حسین علیہ السلام نے
ظہر کی نماز کے لئے
نماز خوف
پڑھانے کے لئے
صفیں ترتیب دینے کا حکم دیا
بحکم امام وقت
زہیر بن قین اور سعید بن عبد اللہ
امام حسین علیہ السلام
اور
نمازیوں کو تیر و سنان سے بچانے کے لیے
ان کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے
یوں
امام حسین علیہ السلام نے آدھے اصحاب کے ساتھ
نماز خوف پڑھی اور آدھے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے
جب
امام حسین علیہ السلام نے
نماز شروع کی
تو
دشمن نے تیر برسانا شروع کر دیے
سعید بن عبداللہ حنفی
امام حسین علیہ السلام کے بلکل سامنے کھڑے ہوئے تھے

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY