نعت خوانی ہر دور میں محبوب کارِ مدحتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہا ہے ۔۔شاعری بصورت قوالی ، تحت اللفظ یا خوش الحان افراد نے اپنے اپنے انداز سے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح سے اپنی زندگیوں کو آراستہ کیا ہے۔۔ قومی سطح پر بھی ایسی محافل کا انعقاد برسہا برس سے عوام الناس کے لئے کیا جاتا ہے خواہ وہ اجتماعات کی صورت ہو یا نشریاتی رابطوں پر ان مخصوص ایام میں نشر کیئے جائیں۔۔
ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلیویژن بھی ہر سال ماہ ربیع الاول میں خواتین کے لئے میلاد کی محافل قومی سطح پر منعقد کرواتا ہے ِان میلادالنبی میں شریک خواتین نعت خواں پورے سال کسی نا کسی حوالے سے ٹی وی پروگرامز میں بھی نظر آتی ہیں۔۔ کبھی فاطمہ ثریا بجیا اور منیبہ شیخ صاحبہ بھی ان میں میلادوں میں نظر آتی تھیں ۔۔خدا غریق رحمت فرمائے ۔۔ کتنی ہی پرسوز آوازیں ہمارے درمیان نہیں رہیں ۔ مگر یہ نامِ نامی ایسا ہے کہ چودہ سو برس سے دلوں کو سکون عطا کرتا ہے اور اس کے مدحت سرائی کرنے والے دنیا و آخرت کے لئے ِاسے زاد راہ سمجھتے ہیں ۔۔

ہماری آج کی مہمان بھی قاریہ نعت خواں ۔۔ٹی وی و ریڈیو پاکستان کراچی کی جانی پہچانی آواز پروفیسر شیرین شہزاد صاحبہ ہیں جو بحثیت مقررہ،
ماہرِ تعلیم
و ذاکرہِ اہلیبت کراچی و اور بین الاقوامی فورمز پر جانی پہچانی جاتی ہیں۔
80 کی دہائی میں ریڈیو پاکستان کراچی اور پاکستان ٹیلی وژن کراچی کے ساتھ ان کا گہرا تعلق رہا ہے انہوں نے خواتین کی پیشہ ورانہ رہنمائی یعنی women empowerment کے لئے ٹی وی پروگرامز کیئے
تعلیم کے بیشمار پروجیکٹس پر بھی کام کر چکی ہیں۔۔
رعنا لیاقت علی خان کالج آف ہوم اکنامکس کراچی سے تعلیم مکمل کی ۔۔ایم ایس سی میں صوبے بھر میں پوزیشن حاصل کی بطور استاد اپنی ہی یونیورسٹی میں تدریسی فرائض سے آغاز کیا ۔۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بطور استاد فرائض انجام دیتی رہیں پھر نیشنل فوڈز لیڈیز کلب کے حوالے سے بھی بیشمار سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔۔
محترمہ شیرین صاحبہ دور طالب علمی میں بھی بین الکلیاتی مقابلہء حسن قرات اور نعت خوانی میں
بے شمار اعزازات و انعامات حاصل کر چکی ہیں۔۔ عالمی اخبار کے لئے آج ان سے ملاقات و گفتگو پیش قارئین ہے۔
آپ نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالا جس کے لئے ممنون ہوں ۔۔
سوالات کا آغاز کرتے ہیں

سوال_
آپ نے نعت خوانی
کا آغاز کس عمر سے سے کیا؟
اور کیا بات تھی جس نے آپ کو اس کی جانب متوجہ کیا ؟
جواب _ شکریہ روما ! آپ کو یہ ایک عام جواب لگے گا مگر حقیقت یہی ہے کہ نعت خوانی کا آغاز بچپن سے ہی کیا
مجھے اب تک وہ وقت یاد ہے کہ پرائمری اسکول کے میلاد میں جب پہلی مرتبہ نعت
پڑھی تھی۔۔ساتھ ہی بتاتی چلوں کہ روایتی گھروں کی طرح ہمارے
گھر کا ماحول بھی ایسا تھا کہ جہاں مذہبی سرگرمیاں سارا سال جاری رہتی تھیں ۔۔تو تلاوتِ کلام پاک و نعت خوانی ، احادیث اور ذکر آل محمد ص کو بہت اہمیت دی جاتی تھی..
میں نے اپنی بڑی بہن کوکب رضوی کو بھی بچپن سے آنکھ کھولی تو بحثیت قاریہ و نعت خوان مقبول دیکھا ۔۔
ان کو
ہی دیکھ کر مجھے بھی شوق ہوا کہ میں ان کی طرح نعت خوانی کروں
پرائمری اسکول میں پہلی بار نعت پڑھی جسے جونیر، سنئیر ساری طالبات نے بہت پسند کیا سب کی توجہ حاصل ہوئی
ہیڈ مسٹریس صاحبہ اور دیگر اساتذہ نے بھی خوب تعریف کی تو اور حوصلہ بڑھا پھر تو بزرگوں نے بھی
رہنمائی کی اور یہ سلسلہ جاری ہوگیا ۔۔

سوال _ آپ کی آواز اور سُر کی سمجھ قابلِ ذکر ہے نعت خوانی کے بجائے گائیکی کو کیوں نہ اپنایا ؟

جواب _
اول تو نعت خوانی
اور قرآن کی تلاوت میرا ذاتی
شوق رہا ہے
دوسری اہم بات یہ تھی کہ گھر کے بزرگوں اور اساتذہ کی یہ خاص نصیحت تھی
کہ اپنی آواز یا اپنی اچھائیوں یا اپنی صلاحیتوں کا استعمال ہمیشہ نیک کاموں کے لیے کرنا ۔۔
یقین جانیئے کہ کئی بار تو مواقع بھی میسر آئے کہ گائیکی کے فن میں جاؤں یا گلوکاری کروں مگر اسکول میں
میری اردو کی استاد پروفیسر مریم خان تھیں
جو یہ بات کہتی تھیں کہ تم اس آواز کو ہمیشہ تلاوت اور نعت خوانی کے لئے ہی مخصوص رکھو
اور میں نے بھی اسی میں خیر و برکت محسوس کی ۔ ویسے میں یہ ضرور کہوں گی کہ مجھے اس فن میں
حوصلہ افزائی ملی تو سب سے زیادہ اپنے اساتذہ سے ملی ہے اور ان کی نصیحتوں پر عمل کرنے کا مجھے ہمیشہ خاطر خواہ نتیجہ بھی نظر آیا ہے۔۔

سوال _ آپ کے پڑھنے کو کب پہلی بار سراہا گیا ؟

جیسے کہ پہلے تزکرہ کیا کہ اسکول کے دور ہی میں بہت سراہا گیا۔۔
جونیر اسکول کے زمانے میں قاری وحید ظفر قاسمی صاحب کی مشہور نعت بہت پسند آئی
الصبح بادمی طلعتہ جو
عربی نعت تھی اسے ازبر کیا مکمل توجہ سے اسے سیکھا
گورمنٹ گرلز پائلٹ سکول میں
نعتیہ مقابلوں اور میلاد میں یہی نعت پڑھی اور یہ اتنی مقبول ہوئی کہ اسکول کی طالبات بھی مجھے دیکھتے ہی پہچان جاتی تھیں اور
بار بار سننے کی فرمائش کرتیں کہ جو نعت آپ نے پڑھی وہ ہمیں بہت ہی پسند ہے آپ کی
کی آواز خوبصورت ہے۔۔
اسکول کی پرنسپل اور اساتذہ بھی ہمیشہ مقابلوں میں بھیجنے کے لئے میرا نام منتخب کرتے
نتیجہ یہ ہوا کہ نعت خوانی میری شناخت بن گئی
اساتذہ کا مشورہ بھی یہی تھا کہ آواز صرف انہی اصناف کے لئے مخصوص رکھو۔۔
بس اساتذہ
کی شاباش اور طالبات نے سراہا تو مجھے بہت حوصلہ افزائی ملی ۔ اور الحمدللہ زمانہ طالبعلمی سے مقابلوں میں اول دوئم انعامات حاصل ہوتے رہے۔۔ اسی سبب ایک ذمہ داری سی محسوس ہوئی کہ اس صلاحیت کی اب لاج رکھی جائے۔۔۔اور حقیقت یہی ہے کہ نامی گرامی شخصیات سے اسی نسبت سے متعارف ہوئی بیشمار اعزازات ہر دور میں بین الاقوامی اور صوبائی سطح پر حاصل ہوئے ۔۔کالج کا پہلا سال تھا اور اس وقت کی خاتون اول بیگم نصرت بھٹو پروگرام کی مہمان خصوصی تھیں ۔۔ انہوں نے پروگرام ختم ہوتے مجھے بلایا اور بہت محبت سے پیش آئیں ۔ اعزاز سے نوازا ۔ سندھ کے وزراء اعلی۔۔ جید علما اور صاحبان علم سے اسی نعت خوانی سے وابستگی کے سبب مجھے بہت محبت ملی ۔۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس ذکر سے رفعتیں حاصل ہوتی ہیں ۔۔

سوال _ نعت کی مقبولیت میں اچھا کلام ، اچھی آواز یا اچھی طرز کیا چیز نعت کو زیادہ موثر بناتی ہے ؟

جواب _نعت کی مقبولیت کی وجہ دراصل تو رسول مقبول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت کا اظہار ان کی تعریف اور ان کے فضائل کا بیان ہے۔۔ ان ہستیوں سے عشق رکھنے والے اگر خلوص نیت سے کسی کلام کو پڑھیں تو اور بھی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے ۔
یعنی جس کلام میں بھی حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعریف بیان کی جائے گی تو وہ کلام پسند کیا جائے گا مگر اچھی آواز اور اچھی دھن یعنی طرز
اس کلام کو چار چاند لگا دیتے ہیں ۔
میں نے ہمیشہ نعت پڑھتے ہوئے ان تینوں چیزوں کو ہی ذہن میں رکھا ہے
سب سے پہلے کلام کا انتخاب
پھر دھن یا طرز کا دھیمے سروں میں بنانا اور تیسرے نمبر پر خوبصورت آواز یا خوش الحان ہونا اس کی کامیابی کی دلیل بن جاتے ہیں۔
اور مزید یہ کہ اسے خالص جذبے اور لگن کے ساتھ پڑھا جائے ۔
اور جب ذہن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہو تو تاثیر خداوندعالم ضرور دیتا ہے تاریخ اسلام شاہد ہے کہ نعت دشمنان نبی کریم ص کے خلاف ایک ہتھیار ہے ۔۔ جس قدر دنیا بھر میں مسلمانوں میں رسول کریم کی ذات گرامی کی جانب الفت و حساسیت پائی جاتی ہے اس قدر ہی نعت و مدحت سرائی یا منقبت و قصیدہ نویسی میں محنت و لگن کی ضرورت ہے
بقول کسی مصنف
“نعت نگاری دراصل پیغمبر اکرم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لسانی جہاد کا ایک حصہ ہے، دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ شعراء نبی کریم ﷺ کے حسب ونسب، کرداروصفات، توصیف وستائش، شجاعت وسخاوت، دیانت وامانت، صداقت وعدالت، جود وسخا، فضل وعطا، علم وحلم، نجات وشرافت، اخوت محبت، رحمت وشفاعت، محبت وشفقت، جمالِ ظاہری، حسن باطنی میں دنیاوی رہنماؤں پر فضیلت بیان فرماتے ہیں” یہ ہر دور میں شعراء کی محبوب صنف رہی ہے ۔۔
سوال _محافل میں پڑھنے کے لئے کن مخصوص شعرا کا کلام منتخب کرتی ہیں؟

جواب _ ویسے تو بہت شعرائے کرام ہیں جن کا کلام مجھے پسند ہے
مگر خاص
کر خالد محمود صاحب، اقبال عظیم صاحب ، صبیح رحمانی صاحب ، زاہد فتح پوری صاحب ، اختر ہاشمی صاحب ، حفیظ تائب، احمد ندیم قاسمی
اور محشر لکھنوی صاحب کا کلام اکثر منتخب کرتی ہوں۔۔

خالد محمود صاحب کی نعت۔۔

در سرکار سے ربط اپنا بڑھاؤ تو سہی۔۔
کام بگڑے ہوئے بن جائیں گے آؤ تو سہی ۔۔
ہر ترقی کی ضمانت ہے وسیلہ ان کا ۔۔
اس وسیلے کو ذرا کام میں لاو تو سہی ۔۔

یہ اشعار جنہیں پڑھتے ہوئے میں آغاز کرتی ہوں۔۔
محشر لکھنوی صاحب کا کلام ہے

اے خدا عشق کا عرفان کہاں سے لاؤں۔۔
جو تیری حمد کی ہو شان کہاں سے لاوں ۔۔
ذکر مولا کے سبب لوگ مجھے جانتے ہیں ۔۔
اس سے بہتر کوئی پہچان کہاں سے لاوں

اور
غور تو کر سرکار کی تجھ پر کتنی خاص عنایت ہے ۔۔
کوثر تو ہے ان کا ثنا خواں یہ معمولی بات نہیں ۔۔
کوثر بریلوی

کالج کے زمانے میں بین الکلیاتی مقابلہ نعت خوانی میں ہمیشہ اس کلام کو پڑھتی تھی۔۔
مجھے ان پر اول و دوئم انعامات لازمی ملا کرتے تھے اور حاضرین و جج صاحبان سے بھی نعت کے پڑھنے کی بے حد تعریف سننے میں آتی تھی۔

حقیقت میں وہ لطفِ زندگی پایا نہیں کرتے..
جو یاد مصطفى سے دل کو بہلایا نہیں کرتے..
یہ دربار محمد ہے یہاں اپنوں کا کیا کہنا ۔۔
یہاں سے ہاتھ خالی غیر بھی جایا نہیں کرتے۔۔۔
جناب حامد لکھنوی کی نعت ہے
یہ نعت بھی کچھ ایسی ہے جو بہت ہی کیفیت میں لے جاتی ہے۔۔
اقبال عظیم صاحب کی نعتیں بھی ہمیشہ دل پر اثر کرتی ہیں
میری پسندیدہ نعتوں میں سے ہیں محافل میں لازمی پڑھتی ہوں۔۔
مگر اس بات سے انکار نہیں کہ سامعین کے مطابق کلام کا انتخاب بھی ایک ہنر ہے ۔ بعض اوقات کسی ایسے ادارے میں تقریب ہوتی ہے کہ جب رسول کریم کی سیرت کے کسی خاص پہلو پر اشعار منتخب کرتی ہوں ۔۔تاکہ سامعین ان اخلاقی موضاعات پر بھی رہنمائی حاصل کریں۔۔
بعض اوقات جو بات آپ تقریر میں نہیں کہہ سکتے وہ محض چند سطور کی شاعری میں عوام تک بآسانی پہنچائی جاسکتی ہے ۔۔

سوال _کیا بناء تربیت کے بھی نعت خوانی کی جاسکتی ہے؟

میں سمجھتی ہوں کہ ہر علم تعلیم و تربیت اور مشق کے بغیر نامکمل ہے ۔۔
استاد ہی کی رہنمائی سے الفاظ کی ادائیگی کلام کا انتخاب کرنا نعتیہ کلام کی دھن ترتیب دینے میں احترام کا عنصر سیکھا جاسکتا ہے ۔۔
اس کے علاوہ نعت خوانی کے آداب کا آنا بھی ضروری ہے نشست و برخاست آغاز و اختتام ہر ایک کی اہمیت اپنی جگہ ہے جو کسی استاد کی رہنمائی کے بغیر سیکھنا ممکن نہیں ۔۔
پھر ذاتی شوق بھی صلاحیتوں کو مہمیز کرتا ہے انداز میں نکھار خود بخود پیدا ہوتا چلا جاتا ہے
پھر پڑھنے والا کسی کلام کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو اتنی ہی زیادہ تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔۔جو سامعین کے دلوں پر بھی اثر کرتی ہے ۔۔بعض اوقات تو ایسا
محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے
ہماری اپنی فکر کی عکاسی کر دی ہے
آپ اس شعر کو ہی دیکھیے ۔۔

جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی میری اوقات نہ تھی
یہ تو کرم ہے ان کا ورنہ مجھ میں تو ایسی بات نہیں ۔۔

لگتا ہے کہ یہ شعر میرے جذبات کی مکمل عکاسی کر رہا ہے۔۔
مجھے فخر ہے کہ کلام الہی کی تلاوت اور نعت رسول مقبول میری پہچان بنی ہے جبکہ پیشے کے اعتبار سے میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہی ہوں میں نے فوڈ اینڈ نیوٹریشن/ غذا و غذائیت میں ماسٹرز کیا لیکن شوق اور لگن جس نے مجھے نعت خوانی
کی جانب متوجہ کیا وہ ہی میری شہرت کا سبب بنی۔۔
اور میں اس معاملے میں خوش نصیب ہوں کہ میری اپنی بیٹیوں کی بھی آواز اچھی ہے اور اپنی والدہ کو سن سن کے انہیں بھی قرآت و نعت پڑھنے کا شوق پیدا ہوا ہے اور میں یہی کہوں گی کہ بچپن سے جس طرح میں نے اپنی بڑی بہن کو دیکھتے ہوئے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیکھا ۔۔ میری بیٹیاں بھی مجھ سے سیکھ رہی ہیں اور امید قوی ہے کہ وہ بھی مستقبل میں اچھی نعت خواں ثابت ہوں گی۔۔

سوال _ نعت پڑھتے ہوئے کن کیفیات کو محسوس کرتی ہیں؟
جواب _نعت خوانی کرتے ہوئے پڑھنے والا جس کیفیت سے گزرتا ہے
یہ کیفیات بیان نہیں کی جاسکتیں۔۔
اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں آپ حاضر ہیں ۔۔ان کے روضہ اقدس پر جانے کی آرزو پوری ہو رہی ہے ۔۔ یا آپ اپنے دل کا احوال ان کے حضور بیان کر رہے ہیں ۔۔۔۔

ایسے ہی تلاوت کے دوران سورہ رحمن کی جب اس آیت پر پہنچتی ہوں کہ
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

” تم اپنی رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے”
تو یہی خیال آتا ہے کہ واقعی اللہ کی لاتعداد نعمتوں میں ایک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اقدس ہے اور ان سے نعت خوانی کے ذریعے وابستگی بھی ایک نعمت ہے جس کا شمار اور بیان کرنا ممکن نہیں
پروردگار عالم کی بیشمار نعمتیں ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بھی اس دنیا پر ایک نعمتِ ابدی کی صورت ہی نازل کی گئی ہے اور ان کی نعت خوانی کرنا کسی بھی انسان کے لئے کہ جس کے اندر یہ صلاحیت موجود ہو کسی توفیق یا نعمت سے کم نہیں ہے۔۔
نعت میں سیرت النبی کا تذکرہ ان کے رحم و کرم ان کی عطا کی بات دلوں کو بہت سکون بخشتی ہے ۔۔سوال
کن نعت خواں خواتین و حضرات نے سب سے زیادہ متاثر کیا ؟

جواب _ ہماری طالب علمی کا زمانہ تھا تو ام حبیبہ اور منیبہ شیخ صاحبہ کی نعتیں بہت مقبول تھیں جنہیں ہم بھی بہت توجہ اور دل سے سنا کرتے تھے۔۔ جناب منظور الکونین ، جناب مہدی ظہیر اور اعظم چشتی صاحبان کی آوازیں و انداز بہت مقبول تھا اور اس قدر منفرد کہ اب تک ان جیسے پڑھنے والے نظر نہیں آتے۔۔
جناب خورشید احمد صاحب کی نعتیں بہت سنیں اور ان کے انداز کو کئی جگہ اپنایا بھی ۔۔پھر پی ٹی وی کے میلاد و نعتیہ مقابلوں میں اکثر ان محترم نعت خوانوں کے ہمراہ خود بھی منصفین کے فرائض انجام دیئے اور ان سے بھی مراسم رہے جو بہت خوشی اور فخر کا باعث بنے۔۔
9_ نعت خوانی کے علاوہ آپکے دیگر کیا مشاغل و مصروفیات ہیں ؟
جواب –
نعت خوانی میرا شوق ہے لیکن پیشے کے اعتبار سے میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوں
37سال درس و تدریس کے فرائض انجام دیے
پرنسپل کے عہدے سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے میں نے اپنی زندگی بھر پور طریقہ سے گزاری میرے شوہر سید شہزاد حیدر بھی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر تھے ان کا تعلق بھی ہمیشہ درس وتدریس سے رہا آج سے دس سال پہلے جب میرے بچے بہت چھوٹے تھے اس وقت جہان فانی سے کوچ کر گئے۔۔ مگر خدا کا احسان ہے کہ رسول اکرم کی نعت خوانی نے مجھے ہمیشہ حوصلہ دیا تازہ دم رکھا ان سہاروں کی بدولت زندگی بہت خوبصورت محسوس ہوتی ہے رب کا شکر اور احسان ہے کہ میرے تین بچے ہیں جو بہت محنتی ہیں ۔۔
بڑا بیٹا مکینیکل انجینئر ہے بیٹی نے ایم بی اے کیا ہے اور تیسری بیٹی ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں جب تک میرے شوہر زندہ تھے ہمارا گھر خوشیوں کا گہوارہ تھا ۔
ان کے جانے کے بعد آپ میری اولاد ہیں میری توجہ کا مرکز ہے۔ ساتھ ہی میرے ذاتی شوق جاری ہے
نعت خوانی کے لئے مطالعہ ضرور کرتی ہوں ۔
کچھ اخبارات کے لئے آرٹیکلز و مضامین لکھنا
سماجی موضوعات پر کتابوں کا مطالعہ
اور مذہبی محافل میں جانا مجھے پسند ہے
مجھے مطالعے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے
نیوٹریشن یعنی غذائیت، بچوں کی نگہداشت چائلڈ ڈویلپمنٹ میرے آرٹیکلز و مضامین کے موضوعات رہے ہیں۔۔ بحیثیت سبجیکٹ ایکسپرٹ کے ٹیچرز گائیڈ بھی تحریر کرتی رہی ہوں
انہی موضوعات پر ریڈیو پاکستان کراچی پاکستان ٹیلی ویژن۔۔ اے آر وائی
ہوم اور مختلف چینلز پر بھی پروگرام کیے ہیں
انجمن اور گھر داری اور ہماری غذا کے عنوان سے سیریز پیش کی ہیں۔۔
تعلیمی اداروں میں اکثر نعت خوانی کے مقابلوں میں بحیثیت جج اور مہمان خصوصی شرکت کرتی رہی ہوں۔۔

سوال_
نعت خوانی کی محافل فی الوقت کم ہوتی جارہی ہیں ان کی کیا وجہ محسوس کرتے ہیں ؟

جواب _
میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے دور میں اور موجودہ دور میں بڑا واضح فرق ہے۔۔ یو ٹیوب ، چوبیس گھنٹے کی ٹی وی نشریات اور ڈھیر سارے ٹی وی چینلز نے اب ان محافل میں کمی کردی ہے ۔۔جبکہ میں سمجھتی ہوں کہ ان محافل میں شرکت آپ کی روحانی تربیت کرتی ہے ۔۔ سیرت النبی کو سمجھنا اور نماز باجماعت کی طرح عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان بیٹھ کر ان کے ذکر کو سننا الگ ہی تجربہ ہوتا ہے ۔۔
اس جانب متوجہ ہونا بھی اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمت ہے اور خوش نصیبی کی نشانی ہے جس کو رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ہو وہ میرے لئے خوش قسمت ترین انسان ہے جو اس ذات گرامی اور ان کی سیرت سے وابستہ ہو جائے
تو پھر ہمیں کیا کمی رہے گی ۔۔
اب تعلیمی اداروں کا کام ہے نعت خوانی کے فن کو فروغ دیا جائے نعت پڑھنا ہی فن نہیں ہے بلکہ اس کی اہمیت بتائی جائے یہ بڑوں کا کام ہے آنے والی نسلوں کو اس فن سے بھرپور روشناس کرایا جائے اس فن کو پیشہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ کار منبر کے طور پر اپنانا چاہیے رسول ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں ان کی تعلیمات کے بارے میں بتانا چاہیئے تاکہ تعصبات کو ختم کیا جاسکے اور محبت، امن ، خوش خلقی ۔۔ اور احسان و رواداری جیسے جذبوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کے ساتھ عام کرنا چاہیئے ۔۔
سوال_ کیا نعت خوانی کسی صورت تبلیغ کا حصہ سمجھی جاسکتی ہے؟

جواب _
بیشک لیا جاسکتا ہے ۔۔یہ اللہ اور اس کے رسول تک پہنچنے کا ذریعہ ہے
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو سمجھ لیں تو اپنی زندگیوں میں سکون اور خوشحالی کو لانا ناممکن نہیں یہ ذکر دلوں کو سکون بخشتا ہے اور
دلوں کی کجی کو دور کرتا ہے
ان کے اخلاق اور اسوہ سے آگاہ کرتا ہے ۔۔جب ہمارے لئے آلِ رسولﷺ کی ہستیاں رہنمائی کے لئے موجود ہیں تو ہم ان کی زندگی سے کچھ کیوں نہیں حاصل کرتے؟ یہ ہماری کوتاہی ہے اور معاشرے میں بے چینی کا یہی سب سے بڑا سبب ہے کہ ہم ان کی تعلیمات سے بے بہرہ ہوئے جارہے ہیں ۔

سوال_
نو وارد نعت خوانوں کی رہنمائی کرنا کس حد تک ضروری سمجھتی ہیں؟ اور کیا خاص ہدایت کرتی ہیں

جواب _
نو عمر نعت خوانوں کی رہنمائی میں سب سے اہم
منتخب کیا جانے والا کلام ہے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ تاکہ آپ جو نعتیہ کلام پڑھ رہے ہیں اس کی مجسم شکل بھی سیرت کے مطالعہ سے زہنوں میں زندہ رکھیں ۔۔ ان کی شان کے مطابق الفاظ کا انتخاب کریں ان کے احترام میں کوئی کمی نہ آئے ۔
میں پھر کہوں گی کہ مطالعہ اشد ضروری ہے
دوسری بات یہ کہ کوئی بھی حمد و نعت پڑھتے ہوئے خود اپنے دل سے اس تعریف و توصیف کا معترف ہونا بھی ضروری ہے۔۔
احترام اور تقدس کے لئے اپنے اساتذہ کی ہدایت پر ضرور دھیان دیں ۔۔ باوضو ہوں تو بہترین عمل ہے ۔۔دنیاوی نفع نقصان کو ذہن میں نہ رکھیں بس عاقبت کے سنورنے کا خیال رکھیں
بے جا سُر و آواز کے اتار چڑھاو سے گائیکی کی صورت نہ اختیار کریں۔۔ اکثر یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ نعت خوان فلمی گانوں کی دھنوں یا قوالی کے سے انداز میں نعت خوانی کرتے ہیں یہ ایسا کرنا درست نہیں نعت خوانی کے تقدس کو ذہن میں رکھنا انتہائی ضروری ہے
نعت پڑھنا متبرک عمل ہے یوں سمجھیں کہ آپ ان کے سامنے کھڑے ہوکر ان کے بارے میں جو جانتے ہیں بیان کر رہے ہیں۔۔
عام طالبعلم جو محض دنیاوی علوم کو اہمیت دیتے ہیں
ان کے لئے ان علوم کے ساتھ قرآن پڑھنا اچھے لحن میں نعت خوانی پڑھنا یہ بھی اہم ہے اسے اپنی زندگی میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔۔

سوال_
اپنے سننے والوں کے لئے کیا پیغام دیں گی ؟۔۔

میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اچھے اساتذہ نے رہنمائی کی
میری کامیابیوں پہ وہ حوصلہ افزائی
کرتے تھے اور خامیاں دور کرنے کے لئے تنقید کہ میں مزید کامیابیوں کے لیے اور محنت کیا کرتی تھی
میرے شفیق استاد سوز جہاں پوری جو خود بھی شاعر اور حافظ قرآن تھے۔۔ نعت خوانی کے حوالے سے وہ اور ان کی اہلیہ بیگم شاہ جہاں سوز ہمیشہ میری رہنمائی کرتے خود میرے استاد محترم گاہے گاہے اور شعرا کے کلام سے بھی آشنا کرتے تھے۔۔
میرے کالج کی پرنسپل ڈاکٹر زاہدہ امجد علی جو خود پروفیسر بھی تھیں اور ایجوکیشن پڑھاتی تھی انہوں نے ہمیشہ
تعلیم کے ساتھ ساتھ
ان سرگرمیوں اور اعزازات حاصل کرنے پر بھی مجھے بہت سراہا
مختلف مقابلوں میں بھیجنے کے لیے ہمیشہ میری بہت حوصلہ افزائی کیا کرتی تھی۔۔ اس لئے اساتذہ کی تنقید سے نہ گھبرائیں اس عمل کو زندگی میں اہمیت دیں باقی اللہ تعالٰی خیر وبرکت عطا کرنے والا ہے ۔۔ اور تمام سامعین جو اب تک مجھے سنتے رہے اور سراہتے رہے ان ہی کی دعائیں، محبت اور توجہ ہے جس نے زندگی میں کامیابیاں عطا کیں ہیں ۔۔آپ سب سلامت رہیں ۔۔
یہ تھیں عالمی اخبار کی روما رضوی کے ساتھ محترمہ شیرین شہزاد ۔۔ انشا اللہ اس برس بھی ربیع الاول کے مبارک مہینے میں آپ انہیں پی ٹی وی اور مختلف ٹی چینلز میں میلاد النبی میں دیکھ سکیں گے یہ وہ ستارے ہیں جو اب بھی اپنی رواداری کو قائم رکھتے ہوئے بھرپور آب و تاب سے جگمگا رہے ہیں ۔۔

روما_رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY