رکی کو امریکی دھمکیوں کے باوجود روسی ساختہ دفاعی نظام ایس-400 کی پہلی کھیپ موصول ہوگئی جس کے بعد واشنگٹن سے کشیدگی اور پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ترکی کے وزیر دفاع نے بتایا کہ ایس -400 فضائی دفاعی نظام کی پہلی کھیپ انقرہ کے شمال مغرب میں واقع میورتد ملٹری ایئربیس پہنچادی گئی ہے۔
ترک وزیر دفاع نے سرکاری خبر رساں ادارے ‘انادولو’ ایجنسی کو بتایا کہ ’آج 3 کارگو طیارے پہنچے ہیں‘، انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند دنوں میں مزید کھیپ موصول ہوگی۔
اس حوالے سے ترک نشریاتی اداروں نے روسی ایئر فورس کے کارگو طیاروں اے این-124 کے ایئربیس پر آف لوڈ ہونے کی فوٹیج بھی جاری کی۔
روس کی ‘طاس’ نیوز ایجنسی کے مطابق ملٹری ذرائع نے بتایا کہ ترکی کو ایس -400 دفاعی نظام کی دوسری کھیپ بذریعہ جہاز جلد موصول ہوگی اور 120 میزائلوں پر مشتمل تیسری کھیپ بحری جہاز کے ذریعے گرمیوں کے اختتام میں بھیجی جائے گی۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 20 ترک اہلکاروں نے مئی ۔ جون میں روس سے تربیت حاصل کی اور مزید 80 ترک اہلکار ایس -400 دفاعی نظام کا استعمال سیکھنے کے لیے تربیت حاصل کریں گے۔
اس حوالے سے امریکا کے قائم مقام سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ اس مسئلے پر واشنگٹن کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے انقرہ پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے اور روس کا دفاعی سازو سامان نیٹو کے دفاعی نظام کے مقابلے پر پورا نہیں اترتا۔
مارک ایسپر نے کہا کہ ہم ترکی کو ایس-400 میزائل موصول ہونے سے آگاہ ہیں اور ایف-35 سے متعلق ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا، اس حوالے سے ترک ہم منصب سے بات چیت کروں گا۔
خیال رہے کہ جون میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ امریکا کی دھمکیوں کے باوجود وہ روس کے ساتھ ایس-400 میزائل کے معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔












