درد دیتے ہیں جو شاہین دوائی کی جگہ۔شاہین اشرف علی

0
221

یہ وطیرہ رہا ہر دور میں صحراؤں کا
کچھ خیال انکو زرا ہوتا نہیں چھاؤں کا

اعتراض اسکو نہیں رقص پہ میرے لیکن
جرم یہ نکلا ہے اس بار مرے پاؤں کا

منتظر تھا وہ مرا پتلی سی پگڈنڈی پر
ایک منظر ہے کہ بھولا ہی نہیں گاؤں کا

ہم تو اس عہد جہالت میں کہتے ہیں غزل
اب کہیں ذکر نہیں ہوتا ہے داناؤں کا

درد دیتے ہیں جو شاہین دوائی کی جگہ
ذکر اب کیسے کریں ایسے مسیحاؤں کا

شاہین اشرف علی

SHARE

LEAVE A REPLY