یہ وطیرہ رہا ہر دور میں صحراؤں کا
کچھ خیال انکو زرا ہوتا نہیں چھاؤں کا
اعتراض اسکو نہیں رقص پہ میرے لیکن
جرم یہ نکلا ہے اس بار مرے پاؤں کا
منتظر تھا وہ مرا پتلی سی پگڈنڈی پر
ایک منظر ہے کہ بھولا ہی نہیں گاؤں کا
ہم تو اس عہد جہالت میں کہتے ہیں غزل
اب کہیں ذکر نہیں ہوتا ہے داناؤں کا
درد دیتے ہیں جو شاہین دوائی کی جگہ
ذکر اب کیسے کریں ایسے مسیحاؤں کا
شاہین اشرف علی













