حُسین شناسی کا سفر۔69۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
706

قسط 69

روز عاشور
نماز عصر تک
احباب و انصار و ایل بیت کے بچوں اور جوانوں کے بعد
ابا عبداللہ امام حسین علیہ السلام شہید ہو ئے تھے
امام عالی مقام ع کی شہادت کے بعد
کوفیوں کی ایک جماعت نے
امام عالی مقام کے بدن سے لباس لوٹ لیا
ان کی انگلی کو کاٹ کر انگوٹھی اتار لی
اس کے بعد
امام حسین علیہ السلام کے عام اموال کا لوٹا جانا شروع ہوا
سورج غروب ہونے کے قریب تھا
سر اقدس امام حسین ع کو خولی کے ہمراہ
اسی رات
ابن زیاد کو پیش کرنے کے لئے کوفہ روانہ کر دیا گیا
اس کے بعد
عمر ابن سعد کے حکم پر
امام عالی مقام اور ان کے رفقاء کی لاشوں پر کی لاش پر گھوڑے دوڑا دئیے گئے
اسلامی تاریخ کا
دردناک طویل ترین دن آخری لمحوں پر تھا
عمر ابن سعد نے
نماز مغرب کی جماعت کا حکم دیا
سنان بن انس نے
کوفیوں کے درمیان کھڑے ہو کر
بڑی نخوت اور مسرت سے کہا
میرے گھوڑے کی اسفار اور رکابیں سونے کی بناو
کیونکہ
میں نے ان کے
بہترین مردوں کو قتل کیا ہے “
ہائے کربلا کی تاریخ
حق وباطل کے خونیں معرکے کا ایک الم ناک نقشہ ہے
فسق و فجور اور رشد ہدایت کی جنگ کا ایک غم ناک خاکہ ہے
شہید کربلا امام حسین ع مقام فقر (رضا ) تھا
جہاں بڑے بڑے نبی و اولیاء اللہ بھی ڈگمگاتے ہیں
یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا فیصلہ ہے
کہ
انسان کو بھوک، خوف، مال، ثمرات کی کمی سے آزمایا جاتا ہے
کہ
دیکھا جائے
کہ
انسان اپنے مالک حقیقی کی رضا پر راضی رہتا ہے یا نہیں
لیکن تاریخ عالم نے دیکھا
کہ
امام حسین علیہ السلام نے اس مقام پر بھی صبر و رضا کا دامن نہیں چھوڑا
اور جابر و ظالم کے سامنے اپنی گردن نہ جھکائی
بلکہ صبر کے اس پہاڑ نے
اپنے نانا محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کے دین کو سنبھال کر رکھا
قران میں لکھا ہے
حضرت ابراہیم ع ہاتھ میں چھری لے کر
اپنے بیٹے اسماعیل ع کو ذبح کرنے کیلئے لیکر چلے
یہ سنت ابراہیمی ع کا ظاہری پہلو تھا
جبکہ
حضرت ابراہیم ع نے خواب دیکھا تھا
کہ
وہ راہ خدا میں اپنے بیٹے اسماعیل ع کو ذبح کر رہے ہیں

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY