کیوں نہ دل! بزم میں اک حشر اُٹھایا جائے

جو ہیں بے ہوش اُنہیں ہوش میں لایا جائے

وقت ہے لطفِ جنوں خوب اُٹھا یا جائے

پارشِ سنگ میں جی بھر کے نہایا جائے

جھانکنے والے نگاہوں کے دریچے میں بتا

دلِ گُم گشتہ کا کیا کھوج لگایا جائے

شوق کی پیاس بھجانے کے لئے لازم ہے

دل کے ہر گوشے کو مے خانہ بنایا جائے

اور چمکے کی تری بزم کی قسمت ساقی

میرے ساغر میں اگر زہر ملایا جائے

جن کے جاتے ہی اُجالے بھی گئے محفل سے

پھر اُنہی شعلہ نواؤں کو بُلایا جائے

پھر کوئی بادہ ء اُلفت سے بھرے روح کے جام

پھر کوئی جشن محبت کا منایا جائے

فتح عالم سے کہیں بڑھ کے مزہ ہے اس میں

روتے بچوں کو ذرا دیر ہنسایا جائے

وہ جو لاشوں پہ سیاست کو ہنر جانتے ہیں

ایسے زندوں کا بھی کچھ سوگ منایا جائے

سر جھکانے سے ضیا لاکھ گنا بہتر ہے

عظمتِ حق کے لئے سر کو اُٹھایا جائے

SHARE

LEAVE A REPLY