قسط 77
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد
حضرت زینب س نے
حسینی پیغام کو دنیا والوں تک پہنچانا
ایک دینی و الہی فریضہ تصور کیا
اور اپنی خداداد فصاحت و بلاغت اور بے نظیر شجاعت و شہامت کے ذریعے
ظلم و ستم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی
حضرت زینب (س) نے اپنی پاک و پاکیزہ زندگی کے دوران
اہل بیت پیغمبر کے حقوق کا دفاع کیا
اور کبھی اس بات کی اجازت نہ دی
کہ
دشمن، واقعہ کربلا سے ذاتی فائدہ اٹھا سکے
جناب زینب س کے خطبوں کی فصاحت وبلاغت اور انداز بیاں نے
لوگوں کو
آپ کے بابا علی مرتضی علیہ السلام ی یاد یں تازہ کردیں تھیں
عرب کے مشہور ومعروف ادیب جاحظ نے لکھا ہے
کہ
جنہوں نے جناب زینب کے خطبوں اورتقریروں کو سنا تھا
وہ کہتے ہیں
کہ
میں حسین ابن علی کی شہادت کے بعد
کوفہ میں داخل ہوا
اس وقت زینب بنت علی س خطبہ دے رہی تھیں
ہم نے
آج تک
اسیری کی حالت میں
کسی بھی خاتون کو ان سے زیادہ فصیح و بلیغ خطبہ پیش کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا
ایسا لگ رہا تھا
جیسے علی ع خطبہ دے رہے ہوں
عظیم عالمہ غیر معلمہ ، سفیر کربلا سیدہ زینب سلام اللہ علہیا نے
ایسے سخت اور کٹھن حالات میں
جس فصیح و بلیغ انداز میں
دنیا کی کم مائیگی اور بے ثباتی کو بیان کیا
طاقت و قوت اور اقتدار کے نشے میں بد مست فرعونوں کو
ان حقیقت یاد دلائی
بلاشبہ ۔۔۔ آپ کی قوتِ ایمانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں
اسیران کربلا
شمر اور طارق بن مُحَفِّز سمیت ایک گروہ کی معیت میں شام روانہ ہوئے تھے
نیزوں پر شہیدان کربلا کے سر بلند تھے
ابو خلیق سے جب مختار ثقفی نے پوچھا !
اے ملعون
میدان کربلا میں تیرا دل میرے آقا امام حسین ع پر نہیں دکھا ؟
اس نے کہا
ہاں !
ایک موقع ایسا آیا
کہ
میں نے خدا سے اپنی موت مانگی
تاکہ
امام عالی مقام کی یہ حالت نہ دیکھ سکوں
جناب مختار نے پوچھا
کہ
وہ کونسی حالت تھی؟
اس ملعون نے
جناب علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ بیان کیا
اور
امام مظلوم کے بچے کو دفن کرنے کا تذکرہ بھی کیا
پھر کہتا ہے
کہ
ان ظالموں نے اس بچے کے بدن کو پھر بھی سلامت نہ چھوڑا
گیارہ محرم کو
جب تمام شہداء کے سر فخر و مباہات کے اظہار کے لئے نیزون پر بلند کئے گئے
اور انعام کے حصول کے لئے
ابن زیاد کے پاس لائے گئے
تو
ابو ایوب غنوی جو بیلداروں کا سرکردہ تھا
اس کو
شہداء میں سے ایک کا سر نہ ملا
تو
اس نے بیلداروں کو حکم دیا
کہ
زمین کربلا کو کھودو اور اس بچے کی لاش تلاش کرو
جب لاش جناب علی اصغر علیہ السلام برآمد ہوئی
تو
ان ظالموں نے سر کو کاٹا اور نیزے پہ سوار کر کے کوفہ لےآئے
اب کوفے سے شام جا رہے تھے
ابن اعثم اور خوارزمی کے بقول
عبیدالل بن زیاد کے سپاہی
اسیران کربلا کو
کوفہ سے شام تک پوشش و پردے کے بغیر محملوں پر
اس طرح
شہر شہر لے کر گئے
جس طرح
ترک و دیلم کے کافر قیدیوں کو لے جاتے تھے
امام سجاد علی بن حسین ع کو
ایک لاغر و نحیف اونٹ پر اس حال میں سوار کیا گیا
کہ
امام حسین ع کا سر نیزے پر
قیدی عورتیں ان کے پیچھے اور نیزے بردار ان کے اطراف میں موجود تھے
اگر
امام سجاد ع کی آنکھ سے آنسو جاری ہوتا
تو
وہ ان کو تکلیف دیتے
یہاں تک
کہ
اسی حالت میں وہ شام میں داخل ہوئے
یکم صفر کا دن طلوع ہو چکا تھا
جاری ہے













