شہادت سکینہ بنت الحسین کے چند بند

رُخ چوم کے سجاد یہ کہنے لگے ہمشیر
کچھ غم نہ کرؤ ہاتھ میں اللہ کے ہے تقدیر
زنداں کی اسیری کبھی دکھلائے گی تاثیر
چاہا جو خدا نے تو یہ کٹ جائے گی زنجیر
جائیں گے مدینے نہ یوں گھبراؤ سکینہ
میں صدقے مری گود میں آ جاؤ سکینہ

یہ سُن کے سکینہ کی بگڑنے لگی حالت
دَم گھُٹنے لگا سینے میں بے چین طبیعت
رونے لگی یہ دیکھ کے اللہ کی مشیعت
کہنے لگیں بھائی سے نہیں جسم میں طاقت
یہ کہتے ہی بس مر گئی حساس سکینہ
پیاسی ہی تری رہ گئی ہائے پیاس سکینہ

زنداں میں تھا اک شور بپا ہائے سکینہ
سر پیٹ کے زینب نے کہا ہائے سکینہ
دی خُلد سے زہرا نے صدا ہائے سکینہ
تھی سینہ زناں بادِ صبا ہائے سکینہ
میت پہ یوں ماں پیٹتی بے آس کی آئی
دریا سے صدا رونے کی عباس کی آئی

ایک قیدی نے زندان میں پھر قبر کو کھودا
بچی کا وہ ماتم تھا قیامت ہوئی برپا
زینب کو یہ صدمہ بھی ہے قسمت نے دکھایا
سجاد نے کہہ کے یاعلی لاشہ اٹھایا
روتے ہوئے سجاد کو سرور نظر آئے
دو ہاتھ کٹے قبر کے باہر نظر آئے

ناگاہ صدا آئی مرے قافلہ سالار
آیا ہے جنازے پہ سکینہ کے علمدار
پیاسی نے چچا کہہ کے صدا دی مجھے ہر بار
ہمراہ مرے زہرا و حیدر بھی ہیں تیار
ورثۂ شہنشاہِ مدینہ مجھے دے دو
سجاد یہ اب لاشِ سکینہ مجھے دے دو

صفدر نہیں اب تاب لکھوں دفن کا منظر
ماں سکتے میں خاموش ہے زینب ہے کھُلے سر
اک درد کی تصویر ہے شبیر کی خواہر
ہیں جن و ملک نوحہ کُناں چُپ ہیں پیمبر
اب اوڑھ کے سو چادرِ تطہیر سکینہ
مل جائے گا اب سینۂ شبیر سکینہ

SHARE

LEAVE A REPLY