کنیز نور علی کی چار نظمیں

0
27

موتیا کھلنے کو ہے ۔۔
اور گرمی سر پہ ہے۔۔۔
میں تمھاری راہ تکتا ہوں
تم جو کبھی نہیں آؤ گی۔۔۔۔
تم جو مجھے جانتی ہی نہیں ۔۔۔
کیا تم یہ جانتی ہو کہ
میں تمھیں سوچتا ہوں۔۔

تمھارا خیال میرے اندر سے ہو کر گزرتا ہے ۔۔۔

اور اکثر ٹھہر جاتا ہے ۔۔۔۔۔

لیکن تم پھر بھی نہیں آؤ گی ۔۔

کیونکہ تم نہیں جانتی
میں نے تمھیں کتنا چاھا اور سوچا ہے

اگر ایک عورت جان جائے کہ وہ چاھی گئی ہے

اسے سوچا گیا ہے
تو پھر اس کا رہنا مشکل ہوتا ہے

اور آنا آسان

وہ مشکلوں سے نکل کر
چلی آتی ہے

کیا تم میری چاہت کو جان جاؤ گی
تو چلی آؤ گی

یا اس زندگی میں مجھے تمھارا تخیل ہی ملے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یسے دور کہیں کچھ ہو

اور
تم سمجھ نا پاؤ
کہ
دھواں ہے یا دھند ہے ۔۔۔

جیسے کوئی سایا لہرائے اور

تم جان نا پاؤ کہ

تنہا کوئی تڑپ رہا ہے
یا
دو سائے
وصل میں گم
ایک میں سمٹ آئے ہیں

یا جیسے

اک ماں روئے اور

تم جان نا پاؤ کہ

کس بچے کی ہوک لگی ہے

وہ جو پردیس میں جی رہا ہے

یا وہ جو دور کسی کے آنگن میں رخصت کر کے بھیج دی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے دشمن
میں تجھے دعا دیتی ہوں
کہ خدا تمھیں بیٹے دے ….
اور وہ ایسی عورتیں بیاہ کر لائیں …
جو تمھارے خاندان کو پارہ پارہ کر دیں ….
اور تمھارے پورے وجود کو …
ایک دسترخوان پر جمع نا ہونے دیں …..

تم بھی جانتے ہو کہ ….
عورت اگر اچھی نا ہو تو …
گھر برباد ہو جاتے ہیں ….
تاوقتیکہ …
مرد صاحب علم ہو …..
یا عورت کا نیک ہونا …
گھر بناتا ہے
یا مرد کا عالم ہونا ….
اور مجھے …
تمھارے ٹھکانے میں
یہی کجیاں دِکھ رہی ہیں ….

اور میری دعا ہے کہ …
خدا مجھے بیٹیاں دے …
تاکہ تم ہنس سکو ….
اور اپنی عاقبت سے غافل ہو جاؤ …
اور میں اپنی لڑکیوں کو
وہ رموز بتا کر بھیجوں….
جو سنوار دیتے ہیں …..
دل کو …
گھر کو …
روح کو ….
اور وہ مضبوط مردوں کے ہمراہ ….
جب مجھ سے ملنے آئیں تو….
تمھارا کمتر غرور …
ملیا میٹ ہو جائے …..
لیکن تم اسے تب بھی …
چھپاتے پھرو گے …
میں جانتی ہوں……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے اونچی آواز سے مت ڈرایا کر

تو کیا چاھتی ہے

یہ تلخ آوازوں سے ڈر کر غلط فیصلے کرنے والا بنے؟

اسے خوف سے نا بلد رکھ

.کم از کم تو اسے خوف نا سکھا
کہ
اپنے حصے کا خوف ہر انسان وقت کے ساتھ پا لیتا ہے .
لیکن
جو ماں کی گود سے خوف لے کر اٹھتے ہیں
اور
….جو خوف ہمراہ رکھ کر گھر کی دہلیز چھوڑتے

……وہ سکھ کی وادیوں میں بھی دکھی رہتے ہیں
رنج ان کا دوست ہوتا ہے
اور اداسی رفیق
انھیں خوشی بھی خوش نہیں کر پاتی
یہ تاعمر دوسروں کی چہرے، آوازیں اور روئیے جانچتا رہے گا
اور اداس رہے گا۔۔۔۔
اے ماں
تو اسے خوف کے سہارے مت پال۔۔۔۔

کنیزنور علی

SHARE

LEAVE A REPLY