چراغ سمجھوتے کا بجھ نہ جائے۔تسنیم عابدی

0
1218

چراغ کی لو بھڑک رہی تھی
دیا
توانائی کھو چکا تھا
ستارے
آسمان سے
پلکو ں پہ آگئے تھے
وہ اعتماد کا ماہِ کامل
ہلال میں پھر بدل گیا تھا
مگر
اماوس کی رات کے خوف سے
میں نے حالات سے سمجھوتا کا کر لیا تھا
چراغِ مصلحت میں سمجھوتے کا تیل ڈالے
خانہ جنگی کا باب پڑھ رہی تھی
خانہ جنگی !!!
خانہ جنگی تو خود کو کمزور کرکے
دشمن کو قوی بنانے کی ایک خوبصورت چال ٹھہری
ذہین دشمن
میں کھوکھلی ہو چکی ہوں
سو میں ہتھیار ڈالتی ہوں
صبح وہ
میری مجبوریوں کی لاش پہ
جشنِ فتح منا سکے گا

تسنیم عابدی

SHARE

LEAVE A REPLY