ذہن کی بات کو دل سے جب ہم سوچتے ہیں
اپنے دل کو اکثر ہم خود توڑتے ہیں
ریت کو پانی ماننے والے چہرے کیوں
صحرا میں پانی کی خاطر دوڑتے ہیں
عشق،محبت،پیار حقیقت ہے یارو
خواب کی جانب رُخ انکا کیوں موڑتے ہیں
جن رشتوں کا کوئی نام نہیں ہوتا
آخر کیوں ہم ایسے رشتے جوڑتے ہیں
تیری پکار پہ چُپ جو رہے وہ مجرم ہے
اس قصے کو آج یہیں پہ چھوڑتے ہیں
یافت کا نام محبت ہے نایافت نہیں
سُکھ پہ دُکھ کی چادر کو کیوں اوڑھتے ہیں
دیواروں سے باتیں کرنے والے لوگ
صفدر جی دیوار سے ہی سر پھوڑتے ہیں
صفدر ھمٰدانی













