صفدر جی دیوار سے ہی سر پھوڑتے ہیں

0
898

ذہن کی بات کو دل سے جب ہم سوچتے ہیں
اپنے دل کو اکثر ہم خود توڑتے ہیں

ریت کو پانی ماننے والے چہرے کیوں
صحرا میں پانی کی خاطر دوڑتے ہیں

عشق،محبت،پیار حقیقت ہے یارو
خواب کی جانب رُخ انکا کیوں موڑتے ہیں

جن رشتوں کا کوئی نام نہیں ہوتا
آخر کیوں ہم ایسے رشتے جوڑتے ہیں

تیری پکار پہ چُپ جو رہے وہ مجرم ہے
اس قصے کو آج یہیں پہ چھوڑتے ہیں

یافت کا نام محبت ہے نایافت نہیں
سُکھ پہ دُکھ کی چادر کو کیوں اوڑھتے ہیں

دیواروں سے باتیں کرنے والے لوگ
صفدر جی دیوار سے ہی سر پھوڑتے ہیں

صفدر ھمٰدانی

SHARE

LEAVE A REPLY