انتخابات 2018 کے 95 فیصد فارم 45 دستخط شدہ نہیں تھے، فافن

0
38

انتخابی فارم 45 کے پہلے مکمل آڈٹ میں یہ بات سامنےآئی ہے کہ انتخابی نتائج مرتب کرنے والے 78 ہزار 4 سو 67 فارمز میں سے 95 فیصد فارم سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس اور امیدواروں سے دستخط شدہ نہیں تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ آڈٹ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے کروایا تھا، جو انتخابی عمل میں اصلاحات کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے۔

آڈٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ قومی اسمبلی کے 48 حلقوں میں کوئی ایک فارم ایسا نہیں تھا جس پر پولنگ ایجنٹس کے دستخط موجود ہوں اور مزید 23 حلقوں سے اعداد و شمار حاصل ہونے کے بعد یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے 272 حلقوں میں 270 حلقوں میں انتخابات ہوئے جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی ) نے سرکاری ویب سائٹ پر249 حلقوں کے نتائج فراہم کیے۔

فافن کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں غیر دستخط شدہ فارم 45 کا تناسب سے سے زیادہ 98 فیصد تھا جہاں 2 ہزار 4 سو 37 میں سے محض 49 فارمز پر دستخط کیے گئے تھے، سندھ میں یہ شرح 97 فیصد رہی اور 17 ہزار 4 سو 93 فارمز میں سے صرف 5 سو 73 فارمز پر دستخط کیے گئے تھے۔

خیبر پختونخوا میں غیر دستخط شدہ فارمز کا تناسب 95 رہا اور 13 ہزار 7 سو 90 فارمز میں سے 6 سو 34 پر دستخط کیے گئے جبکہ پنجاب میں غیر دستخط شدہ فارمز کی شرح 94 فیصد رہی اور 43 ہزار 9 سو 71 فارمرز میں سے 2 ہزار 7 سو 5 دستخط شدہ تھے۔

دوسری جانب دستخط شدہ فارمز کی سب سے بہتر تعداد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دیکھنے میں آئی جہاں 7 سو 86 میں سے ایک سو 95 فارمز یعنی تقریباً 25 فیصد دستخط شدہ تھے۔

اس طرح مجموعی طور پر 78 ہزار 4سو67 فارمز میں سے صرف 4 ہزار ایک سو 56 فامرز پر پولنگ ایجنٹس کے دستخط موجود تھے۔

واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ برائے سال 2017 کے تحت ہر پولنگ اسٹیشن پر موجود پریزائڈنگ افسر کا یہ فرض ہے کہ کہ وہ فارم 45 اور 46 حاصل کر کے اس پر نتائج مرتب کرتے وقت پولنگ اسٹیشن میں موجود پولنگ ایجنٹس کے دستخط کروائے۔

اور اگر کوئی پولنگ ایجنٹ دستخط کرنے سے انکار کردے تو یہ پریزائیڈنگ افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ فارم پر اس حوالے سے نوٹ درج کرے۔

اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فافن کے نمائندے مدثر رضوی کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی سیاسی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے پریزائیڈنگ افسر نے دستخط کے لیے فارم 45 فراہم نہیں کیے تو اسے اپنا دعویٰ شواہد کے ساتھ الیکشن ٹریبونل میں پیش کرنا ہوگا۔

اس اعتبار سے اگر 2018 کے عام انتخابات دیکھے جائیں تو سیاسی جماعتوں کو 70 ہزار سے زائد کیسز میں اس پر عمل کرنا ہوگا جو ناممکن ہے کیوں کہ اس حوالے سےموجود قانون کمزور ہے۔

دوسری جانب جب اس بارے میں الیکشن کمیشن کا موقف حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فافن کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ای سی پی جلد اس حوالے سے معتبر اعداد و شمار جاری کرے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY