وزیر اعظم پاکستان اور بھارتی تاجر سجن جندال کے درمیان ہونے والی غیر اعلانیہ ملاقات نے مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاست دانوں اور تجزیہ نگاروں کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ ملاقات مستقبل قریب میں پاک-بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کا سبب بن سکتی ہے۔

سجن جندال بھارتی بزنس گروپ ’جے ایس ڈبلیو‘ کے مالک ہیں اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی ہیں جبکہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ بھی ان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔

کچھ تجربہ کاروں کا ماننا ہے کہ سجن جندال کا یہ دورہ پس پردہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کا حصہ ہوسکتا ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ سجن جندال بھارتی سویلین اور انٹیلی جنس ایجنسی کے علم میں لائے بغیر پاکستان کا دورہ کریں۔

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے سجن جندال کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دورے پس پردہ سفارتکاری کا حصہ ہوتے ہیں، انہوں کہا کہ اس کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔

خورشید قصوری نے یہاں تک کہا کہ ‘بیک چینل رابطوں کی وجہ سے بہرتین نتائج بھی حاصل ہوتے ہیں’۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں جمعرات (27 اپریل) کے روز سجن جندال کی ملاقات کی خبریں گرم تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق سجن جندال کے ساتھ ان کا وفد اسلام آباد کے بے نظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پہنچا تو وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز اور مریم نواز کے داماد راحیل منیر نے ان کا استقبال کیا۔

بعد ازاں وزیراعظم مری میں گورنمنٹ ہاؤس پہنچے اور سجن جندال سے ملاقات کی، اس موقع ہر سیکیورٹی کے سخت انظامات کیے گئے تھے

تاہم ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز نے بتایا کہ ’سجن جندال وزیراعظم کے پرانے دوست ہیں اور ان کی وزیراعظم سے ملاقات خفیہ نہیں، اس لیے اس بات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیئے۔‘

دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے سجن جندال کے دورہ پاکستان اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو خفیہ رکھنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھارتی تاجر کی وزیراعظم سے ملاقات کے خلاف سندھ اور پنجاب اسمبلیوں میں قراردادیں جمع کروا دیں۔

پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی وفد نے نواز شریف کو مری میں مودی کا پیغام پہنچایا، پاکستانی عوام کو اس ملاقات کے اغراض و مقاصد سے آگاہ نہیں کیا گیا جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سندھ اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے رکن خرم شیر زمان نے مذمتی قرارداد جمع کرائی، جس میں کہا گیا کہ دشمن ملک کے تاجر سے وزیراعظم کی ملاقات باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔

واضح رہے کہ سجن جندال اسٹیل، توانائی اور سیمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں کاروبار کرتے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY