حُسین شناسی کا سفر۔16۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
849

سولہویں قسط

امام حسین (ع) نے فرمایا
“بس یہ وہی مقام ہے
جہاں بابا جان نے صفین کے سفر میں خواب دیکھا تھا
یعنی یہ وہ جگہ ہے ۔۔ جہاں ہمارا خون بہے گا
محرم کے دوسرے دن
جب امام حسین نینوا میں پہنچے
عبید اللہ بن زیاد نے حر بن یزید تمیمی کو خط بھیجا
اس خط میں مذکور تھا
کہ ۔۔
“ امام حسین کو بیابان صحرا میں پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کرو“
حر بن یزید تمیمی نے امام حسین(ع) کو اس خط سے آگاہ کیا
امام حسین(ع) نے کہا
“ ہمیں کچھ اور آگے جانے کی مہلت دو
تا کہ ہم غاضریہ میں پہنچ جائیں “
حر بن یزید تمیمی نے کہا
“ یہ ممکن نہیں ہے
بحکم حاکم
آپ کو اسی بیابان و صحرا میں پڑاؤ ڈالنا ہو گا “
بعد ازاں
امام حسین علیہ السلام نے
سب سے پہلے
بنی اسد کے قبیلے کے سرکردہ افراد کو بلایا
اور ۔۔ زمین کربلا
خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا
پھر ۔۔
ساٹھ درہم میں زمین کو خرید لیا
اور بنی اسد کے قبیلے سے وعدہ لیا
یہ زمین ان کو ہبہ کر دی جائے گی
اس شرط پر ۔۔۔ کہ
وہ
زائرین کو
امام حسین علیہ السلام کی قبر کی طرف راہنمائی کریں گے
اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ تین دن تک ان کی مہمان نوازی کریں گے

یوں ۔
نینوا کے علاقے کربلا میں خیمے لگ گئے
زمین کربلا کی خریداری
کیا یہ بات ثابت نہیں کرتی
کہ ۔۔۔
امام حسین علیہ السلام
کسی غاصب زمین پر دفن ہونا نہیں چاہتے تھے
جبکہ
امام حسین علیہ السلام کے ایک ساتھی نے
مشورہ بھی دیا تھا
کہ
وہ حر پر حملہ کریں
اور ۔۔ اقرار کے قلعے والے گاؤں چلے جائیں
پر ۔۔ امام عالی مقام نے انکار کر دیا
اور کہا
“ وہ دشمنی شروع کرنا نہیں چاہتے “
ادھر اہلبیت نبوی صلہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غریب الوطن قافلہ
نینوا کے چٹیل گرم میدان میں پڑا تھا
دوسری طرف کوفے میں
عمر بن سعد
رے کا حاکم بناکر
دیالمہ کی سرکوبی پر مامور کیا گیا تھا
اور وہ فوجیں لیکر حرام اعین تک پہنچ چکا تھا
کہ
اسی دوران
امام حسین علیہ لسلام کے مقابلہ کے لئے
ایک ایسے شخص کی ضرورت پیش آئی
جو ان سے مقابلہ کرسکے
ابن زیاد نے
ابن سعد کو
رے کی حکومت کا لالچ دے کر بلا بھیجا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY