آٹھویں قسط
15
عباس کے نہیں ہے دل و جاں کو اب قرار
خیموں میں پیاسے بچوں کو تکتے ہیں بار بار
کہنے لگے سکینہ سے تم پر چچا نثار
مل جائے پانی لانے کی مہلت جو ایک بار
لے آؤں گا فرات کو میں خیمہ گاہ میں
کس کی مجال ہے کہ جو آ جائے راہ میں
16
رن کی رضا حسین سے عباس کو ملی
خیام اہلبیت میں تھی ایک بے دلی
چہروں کی یاس دیدنی روتا تھا ہر کوئی
ایسے میں لو سواری علمدار کی چلی
سر پیٹا بیبیوں نے کہ عباس الوداع
روتے ہوئے یہ کہتے تھے بے آس الوداع
جاری ہے













