گریٹر مانچسٹر: برطانوی سیاست کا نیا پاور ہاؤس
تحریر: مقدسہ بانو
برطانوی سیاست میں بعض اوقات ایک شہر یا خطہ پورے ملک کی سیاسی سمت متعین کرنے لگتا ہے۔ آج اگر کسی علاقے نے یہ حیثیت حاصل کی ہے تو وہ گریٹر مانچسٹر ہے۔ کبھی لندن کو برطانوی اقتدار کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر گزشتہ چند برسوں میں گریٹر مانچسٹر نے ثابت کیا ہے کہ عوامی اعتماد، مضبوط مقامی قیادت اور مؤثر تنظیمی ڈھانچہ نہ صرف مقامی حکومت کو مستحکم بنا سکتا ہے بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
کیئر سٹارمر کے استعفے کے بعد اینڈی برنہم کا برطانیہ کے وزیرِاعظم کے منصب تک پہنچنا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کے ارتکاز میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ایک ایسا رہنما، جس کی سیاسی شناخت ویسٹ منسٹر سے زیادہ گریٹر مانچسٹر کے عوام کے درمیان بنی، آج ملک کی قیادت کر رہا ہے۔ اس سے یہ حقیقت مزید نمایاں ہوئی ہے کہ برطانیہ میں اب مقامی سیاست محض بلدیاتی معاملات تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی قیادت کی نرسری بن چکی ہے۔
اینڈی برنہم نے بطور میئر گریٹر مانچسٹر جس انداز میں عوامی مسائل کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا، وہ ان کی سب سے بڑی سیاسی طاقت ثابت ہوئی۔ ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ، صحت، معاشی ترقی اور مقامی اختیارات جیسے معاملات پر ان کا واضح اور دوٹوک مؤقف عوام کے اعتماد کا سبب بنا۔ یہی اعتماد بالآخر انہیں ڈاؤننگ اسٹریٹ تک لے گیا۔
اینڈی برنہم کے وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد گریٹر مانچسٹر کے میئر کے انتخاب پر پورے برطانیہ کی نظریں مرکوز تھیں۔ سیاسی مبصرین اسے صرف ایک ضمنی انتخاب نہیں بلکہ لیبر پارٹی کی عوامی مقبولیت کا امتحان قرار دے رہے تھے۔ اس انتخاب نے یہ ثابت کر دیا کہ گریٹر مانچسٹر میں لیبر کی سیاسی بنیادیں اب بھی انتہائی مضبوط ہیں۔
اس کامیابی کے کئی اسباب ہیں۔ ایک جانب لیبر کی مقامی تنظیم نے انتہائی منظم انداز میں انتخابی مہم چلائی، جبکہ دوسری جانب عوام کے ساتھ مسلسل رابطے اور مقامی مسائل پر توجہ نے ووٹرز کے اعتماد کو برقرار رکھا۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ مقامی قیادت نے وہاں کی سیاست کو شخصیات کے بجائے عوامی خدمت سے جوڑ دیا، اور یہی لیبر کی کامیابی کی بنیاد بنی۔
اس پورے انتخاب میں اگر کسی طبقے کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے تو وہ ایشیائی کمیونٹی، بالخصوص پاکستانی و کشمیری نژاد برطانوی شہری ہیں۔ گریٹر مانچسٹر میں آباد پاکستانی کمیونٹی نے گزشتہ کئی برسوں میں نہ صرف معاشی میدان میں اپنی شناخت قائم کی بلکہ سیاسی عمل میں بھی اپنی موجودگی کو مضبوط بنایا ہے۔ آج یہی کمیونٹی انتخابی مہمات کی منصوبہ بندی، ووٹر رجسٹریشن، گھر گھر رابطہ مہم، کمیونٹی تنظیم اور انتخابی رضاکارانہ خدمات میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران نوجوانوں، خواتین اور کمیونٹی رضاکاروں نے جس جذبے کے ساتھ کام کیا، وہ برطانوی جمہوریت میں تارکینِ وطن کی نئی نسل کی سیاسی شعور کا عکاس ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محض ووٹ ڈالنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی برادریوں کو متحرک کیا، لوگوں کو انتخابی عمل میں شریک کیا اور سیاسی شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ لیبر پارٹی کو حالیہ عرصے میں بعض حکومتی پالیسیوں پر شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا رہا۔ ایسے ماحول میں گریٹر مانچسٹر کا انتخاب لیبر کے لیے ایک اہم امتحان تھا۔ اس کامیابی نے یہ ضرور ثابت کیا کہ مضبوط مقامی قیادت، عوامی اعتماد اور منظم تنظیم کسی بھی سیاسی جماعت کو مشکلات سے نکالنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس کامیابی کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما تھے، جن میں مقامی قیادت، انتخابی حکمتِ عملی، امیدوار کی ساکھ اور کارکنوں کی محنت سب شامل ہیں۔
گریٹر مانچسٹر آج صرف ایک انتظامی خطہ نہیں بلکہ برطانوی سیاست کا ایک مؤثر سیاسی مرکز بن چکا ہے۔ یہاں کے انتخابی رجحانات اب قومی سیاست کے لیے اشارے سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس خطے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں، کیونکہ یہاں کی سیاسی فضا اکثر مستقبل کی قومی سیاست کا رخ متعین کرتی ہے۔
پاکستانی اور دیگر ایشیائی برادریوں کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اب صرف ووٹ بینک نہیں رہے بلکہ برطانوی سیاست میں ایک بااثر شراکت دار بن چکے ہیں۔ اگر یہ سیاسی شرکت اسی شعور، اتحاد اور مثبت انداز کے ساتھ جاری رہی تو مستقبل میں پارلیمنٹ، کابینہ اور مقامی حکومتوں میں ان کی نمائندگی مزید مضبوط ہوگی۔
گریٹر مانچسٹر کی حالیہ سیاسی کامیابی دراصل ایک بڑے پیغام کی حامل ہے: عوامی اعتماد طاقتور نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل خدمت، مضبوط تنظیم اور کمیونٹی کے ساتھ زندہ تعلق سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو آج برطانوی سیاست کو گریٹر مانچسٹر سکھا رہا ہے، اور شاید یہی وہ ماڈل ہے جو آنے والے برسوں میں پورے برطانیہ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
تربتِ امام حسینؑ — شفا برکت اور روحانی وابستگی کا سرچشمہ
تحریر: مقدسہ بانو
اسلامی تاریخ میں بعض مقامات شخصیات اور یادگاروں کو اللہ تعالیٰ نے خاص فضیلت اور برکت عطا فرمائی ہے۔ انہی مقدس نشانیوں میں تربتِ امام حسینؑ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ صرف مٹی نہیں بلکہ قربانی ایثار حق پسندی اور دینِ محمدی ﷺ کی بقا کی علامت ہے۔ کربلا کی سرزمین نے اس عظیم ہستی کو اپنے دامن میں جگہ دی جس نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں
“تربت الحسین شفاء من کل داء وامان من کل خوف”
ترجمہ
امام حسینؑ کی تربت ہر بیماری سے شفا اور ہر خوف سے امان ہے۔
یہ شفا صرف جسمانی بیماریوں تک محدود نہیں بلکہ روحانی کمزوری دل کی بے چینی اور انسان کے اندر ایمان و یقین کو مضبوط کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ البتہ حقیقی شفا دینے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور تربتِ حسینؑ اس کے فضل و کرم کا ایک بابرکت وسیلہ ہے۔
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں
“فی طین قبر الحسین علیہ السلام شفاء من کل داء”
ترجمہ
امام حسینؑ کی قبر کی مٹی میں ہر بیماری کے لیے شفا رکھی گئی ہے۔
امام علی رضاؑ فرماتے ہیں
جو شخص امام حسینؑ کے مصائب کو یاد کرے اور ان پر غم کرے قیامت کے دن وہ ہمارے ساتھ ہمارے درجات میں ہوگا۔
کربلا کی خاک ہمیں صبر استقامت حق گوئی عدل اور خدا کی رضا کے لیے ہر قربانی دینے کا سبق دیتی ہے۔ جب ایک مومن تربتِ حسینؑ کو احترام سے دیکھتا ہے تو اسے امام حسینؑ کا عظیم مقصد یاد آتا ہے کہ ظلم کے سامنے سر نہ جھکایا جائے اور حق کی خاطر ہر قربانی پیش کی جائے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ
جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے۔
تربتِ امام حسینؑ ہمیں اہل بیتِ اطہارؑ کی محبت ان کی تعلیمات اور کربلا کے ابدی پیغام سے جوڑتی ہے۔ یہ پیغام صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے حق انصاف انسانیت اور آزادی کا روشن مینار ہے۔
آج بھی اگر انسان کربلا کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نفرت کی جگہ محبت ظلم کی جگہ انصاف اور مایوسی کی جگہ امید پیدا ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیتِ اطہارؑ کی سچی محبت ان کی سیرت پر عمل اور کربلا کے پیغام کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
السلام علی الحسینؑ
وعلی علی بن الحسینؑ
وعلی اولاد الحسینؑ
وعلی اصحاب الحسینؑ
………………………
معصومیت کے محافظ کب جاگیں گے؟
چڑیوں سے کہو شاخِ نشیمن سے نہ اتریں
اس دور کا ہر شخص عقابوں کی طرح ہے
یہ شعر ہمارے معاشرے کے اس خوف، اضطراب اور بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا آج ہر ماں باپ کر رہے ہیں۔ اگرچہ معاشرے کی اکثریت شریف اور قانون پسند لوگوں پر مشتمل ہے، لیکن چند درندہ صفت عناصر نے والدین سے یہ اطمینان چھین لیا ہے کہ ان کے بچے گھر سے نکلیں گے اور محفوظ واپس لوٹ آئیں گے۔
پاکستان میں آئے روز کمسن بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی، اغوا، تشدد اور قتل کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ کبھی قصور کی زینب قوم کو رلاتی ہے، کبھی کسی گھریلو ملازمہ پر ہونے والا ظلم ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے اور کبھی کسی معصوم بچی کی لاش پورے معاشرے سے یہ سوال کرتی ہے کہ آخر اس کا قصور کیا تھا؟
یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستان میں قوانین موجود نہیں۔ زینب الرٹ ایکٹ، چائلڈ پروٹیکشن قوانین، خواتین کے تحفظ کے لیے متعدد قانونی اصلاحات اور سخت سزاؤں کی دفعات پہلے ہی موجود ہیں۔ مسئلہ قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ جب مقدمات برسوں عدالتوں میں زیرِ التوا رہیں، جب متاثرہ خاندان انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھائیں اور جب مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں تو قانون کی موجودگی بھی عوام کو تحفظ کا احساس نہیں دے سکتی۔
آج عوام حکمرانوں، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کو قومی ایمرجنسی کیوں قرار نہیں دیا جاتا؟ ہر سانحے کے بعد بیانات اور مذمتی اعلانات تو سامنے آتے ہیں لیکن مستقل اور مؤثر حکمت عملی کیوں نظر نہیں آتی؟
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں جرائم صرف سزا کی شدت سے نہیں بلکہ سزا کے یقینی ہونے سے کم ہوتے ہیں۔ اگر مجرم کو یقین ہو کہ گرفتاری، شفاف تفتیش، مضبوط استغاثہ اور فوری سزا اس کا مقدر ہوگی تو جرائم میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ لیکن اگر مجرم کو نظام کی کمزوریوں کا علم ہو تو قانون کا خوف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں، فرانزک نظام کو جدید بنایا جائے، پولیس اور استغاثہ کی تربیت بہتر بنائی جائے، سکولوں میں بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور چائلڈ پروٹیکشن اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد اور مالی طور پر مضبوط کیا جائے۔
یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، میڈیا، سماجی کارکن اور منتخب نمائندے سب اس ذمہ داری میں برابر کے شریک ہیں۔ خاموشی مجرم کی طاقت بنتی ہے جبکہ شعور، آگاہی اور اجتماعی آواز مظلوم کا سہارا بنتی ہے۔
پاکستان کے بچے اور بچیاں صرف ہمدردی نہیں مانگتے، وہ تحفظ مانگتے ہیں۔ وہ ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں ان کی معصومیت محفوظ ہو، ان کے خواب سلامت رہیں اور ان کے والدین خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ انہیں مستقبل کی طرف روانہ کر سکیں۔
آج اگر ہم نے اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو کل کوئی اور زینب، کوئی اور فاطمہ اور کوئی اور معصوم بچی ہماری بے حسی کا سوال بن کر سامنے کھڑی ہوگی۔
بانو یہ کیسا عہدِ ستم، کیسا یہ سماج
معصومیت بھی خوف کے سائے میں آ گئی
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
برطانیہ کی سیاست میں ہلچل
مانچسٹر سٹی کونسل کے انتخابی نتائج نے سیاسی منظرنامہ بدل دیا
برطانیہ اس وقت شدید سیاسی بے چینی اور تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ دو برس قبل بھاری اکثریت سے اقتدار میں آنے والی لیبر پارٹی کی حکومت اب عوامی دباؤ، معاشی مشکلات اور مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے اطمینانی کا سامنا کر رہی ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات نے وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر کی قیادت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور ملک کی روایتی دو جماعتی سیاست کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔
ان انتخابات میں سب سے نمایاں پیش رفت ریفارم یو کے پارٹی کی غیر معمولی کامیابی رہی، جس نے شمالی انگلینڈ کے متعدد علاقوں میں حیران کن نتائج حاصل کیے۔ دوسری جانب گرین پارٹی نے نوجوانوں، طلبہ اور ترقی پسند طبقے میں اپنی مقبولیت بڑھائی جبکہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے بھی کئی علاقوں میں اپنی موجودگی مضبوط کی۔
مانچسٹر: لیبر پارٹی کا مضبوط گڑھ کمزور پڑنے لگا
مانچسٹر کو طویل عرصے سے لیبر پارٹی کا مضبوط سیاسی مرکز سمجھا جاتا رہا ہے، مگر حالیہ بلدیاتی انتخابات نے اس تصور کو شدید دھچکا پہنچایا۔ مانچسٹر سٹی کونسل کی بتیس نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں لیبر پارٹی اپنی کئی اہم نشستیں کھو بیٹھی، جبکہ گرین پارٹی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کئی اہم حلقوں میں کامیابی اپنے نام کی۔
انتخابی نتائج کے مطابق:
* لیبر پارٹی کی مجموعی نشستوں میں واضح کمی واقع ہوئی
* گرین پارٹی نے اپنی نمائندگی میں نمایاں اضافہ کیا
* ریفارم یو کے پارٹی پہلی مرتبہ نمایاں قوت کے طور پر ابھری
* لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے بھی اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھی
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ نتائج صرف مقامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی سطح پر عوامی سوچ میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اظہار ہیں۔
کن علاقوں میں حیران کن نتائج سامنے آئے؟
گرین پارٹی نے انکاٹس، رشولم، وِدنگٹن، فالوفیلڈ اور وہالی رینج جیسے علاقوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان حلقوں میں نوجوان ووٹروں، طلبہ اور ماحولیات سے متعلق سوچ رکھنے والے شہریوں نے بھرپور انداز میں گرین پارٹی کا ساتھ دیا۔
دوسری جانب ریفارم یو کے پارٹی نے شہر کے مضافاتی اور مزدور طبقے سے وابستہ علاقوں میں کامیابی حاصل کرکے یہ ثابت کیا کہ عوام روایتی جماعتوں سے مایوس ہو رہے ہیں۔
لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے بھی ڈڈزبری ویسٹ سمیت چند اہم حلقوں میں کامیابی حاصل کی، جسے سیاسی حلقے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
عوامی ناراضی کی وجوہات
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی کئی بڑی وجوہات ہیں:
* مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ
* قومی صحت کے نظام پر بڑھتا دباؤ
* رہائشی بحران اور کرایوں میں اضافہ
* تارکینِ وطن سے متعلق سیاسی تنازعات
* نوجوان نسل میں ماحولیاتی شعور کا بڑھنا
* مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر حکومتی پالیسیوں سے اختلاف
مانچسٹر جیسے تعلیمی اور کثیرالثقافتی شہر میں نوجوان ووٹروں نے بڑی تعداد میں روایتی جماعتوں سے ہٹ کر نئی سیاسی قوتوں کی حمایت کی۔
برطانیہ کی سیاست کس سمت جا رہی ہے؟
حالیہ انتخابات نے واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ اب صرف دو بڑی جماعتوں کی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ ملک میں سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے اور ووٹر نئی قیادت اور متبادل جماعتوں کی تلاش میں دکھائی دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق:
* ریفارم یو کے پارٹی مستقبل میں ایک بڑی قومی قوت بن سکتی ہے
* گرین پارٹی شہری علاقوں میں مزید مضبوط ہوگی
* لیبر پارٹی کو اپنی پالیسیوں پر نظرِثانی کرنا پڑے گی
* کنزرویٹو پارٹی اب بھی اپنی سیاسی سمت متعین کرنے میں مشکلات کا شکار ہے
وزیرِاعظم پر دباؤ میں اضافہ
بلدیاتی انتخابات میں کمزور کارکردگی کے بعد وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا ہے، تاہم لیبر پارٹی کے اندر بھی پالیسیوں اور قیادت کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
مانچسٹر سٹی کونسل کے حالیہ انتخابی نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ عوام روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس دکھائی دیتے ہیں جبکہ نئی جماعتیں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ عام انتخابات میں برطانوی سیاست کا نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔
………………………….
اعزاز، خدمت اور پہچان: او بی ای کی حقیقت اور مانچسٹر کا وقار
برطانیہ میں خدمات کے اعتراف کی ایک طویل اور باوقار روایت موجود ہے، جس کے تحت معاشرے، ریاست اور انسانیت کے لیے نمایاں کردار ادا کرنے والے افراد کو مختلف اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ انہی اعزازات میں ایک اہم نام کا ہے، جس کے تحت مختلف درجات دیے جاتے ہیں، جن میں او بی ای (آفیسر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایمپائر) ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔
یہ اعزازی نظام 1917 میں برطانیہ کے بادشاہ شاہ جارج چہارم نے قائم کیا۔ اس کا پس منظر پہلی عالمی جنگ، یعنی ورلڈ وار ۱ سے جڑا ہوا ہے، جب لاکھوں افراد، بشمول عام شہری، جنگی اور سماجی خدمات میں مصروف تھے۔ اس وقت ضرورت محسوس کی گئی کہ صرف فوجی خدمات ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کی خدمات کو بھی باضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے۔ چنانچہ ایک ایسا نظام تشکیل دیا گیا جو وسیع تر معاشرتی خدمات کو سراہ سکے۔
آرڈر آف دی برٹش ایمپائر کے تحت مختلف درجات دیے جاتے ہیں، جن میں ایم بی ای (ممبر)، او بی ای (آفیسر) اور سی بی ای (کمانڈر) شامل ہیں۔ او بی ای کا درجہ ان افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے شعبے میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں، چاہے وہ تعلیم ہو، صحت، فلاحی کام، سیاست یا کمیونٹی کی بہتری۔ یہ اعزاز نہ صرف فرد کی محنت اور لگن کا اعتراف ہوتا ہے بلکہ اس کے کام کے مثبت اثرات کو بھی قومی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
یہ اعزازات عموماً باوقار تقاریب میں پیش کیے جاتے ہیں، جو تاریخی مقامات جیسے (ونڈسر کیسل) میں منعقد ہوتی ہیں، جہاں شاہی خاندان کے افراد، مثلاً (پرنس ولیم)، یہ اعزازات پیش کرتے ہیں۔ یہ لمحات نہ صرف اعزاز حاصل کرنے والے فرد کے لیے بلکہ اس کے خاندان اور کمیونٹی کے لیے بھی باعثِ فخر ہوتے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ او بی ای جیسے اعزازات کے ساتھ کوئی براہِ راست مالی فائدہ وابستہ نہیں ہوتا۔ یہ دراصل ایک اعزازی پہچان ہے، جس کا مقصد خدمات کا اعتراف کرنا ہے، نہ کہ مالی انعام دینا۔ تاہم، اس کے بالواسطہ اثرات نہایت اہم ہوتے ہیں، جن میں فرد کی سماجی حیثیت میں اضافہ، قومی سطح پر پہچان، اور مزید مواقع تک رسائی شامل ہیں۔ یوں یہ اعزاز ایک فرد کی محنت اور خدمت کو ایک وسیع تر دائرے میں اجاگر کرتا ہے، جو خود کسی بھی مالی فائدے سے بڑھ کر حیثیت رکھتا ہے۔
اگرچہ مانچسٹر یا کسی ایک شہر سے او بی ای حاصل کرنے والوں کی کوئی حتمی تعداد دستیاب نہیں، تاہم یہ حقیقت واضح ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران اس خطے سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد اس اعزاز سے نوازے جا چکے ہیں۔ ہر سال درجنوں افراد کو مختلف اعزازات ملتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مانچسٹر خدمت، جدوجہد اور سماجی بہتری کے جذبے میں ہمیشہ آگے رہا ہے۔
آج کے دور میں ایسے اعزازات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ معاشرتی ترقی صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ افراد کی مسلسل محنت، خلوص اور خدمت سے ممکن ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب شہری مسائل، مثلاً رہائش، تعلیم اور صحت کے چیلنجز درپیش ہوں، ان شعبوں میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہایت ضروری ہے۔
اسی تناظر میں مانچسٹر کی قیادت اور وہاں کی مقامی حکومت کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں، جہاں کمیونٹی کی بہتری، سستے گھروں کی فراہمی اور ایک بہتر شہری ماحول کی تشکیل کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔ یہ اعزاز درحقیقت نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے شہر کی اجتماعی محنت کا اعتراف ہے۔
آخر میں، مانچسٹر کی لیبر لیڈر کو اس باوقار اعزاز کے حصول پر دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا صلہ ہے بلکہ مانچسٹر کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے۔ امید ہے کہ وہ اسی عزم، خلوص اور قیادت کے ساتھ اپنے شہر اور عوام کی خدمت جاری رکھیں گی اور دوسروں کے لیے بھی ایک روشن مثال قائم کریں گی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عید، نمائش اور بے حس معاشرہ
مقدسہ بانو
عید خوشیوں، محبتوں اور باہمی ہمدردی کا پیغام لے کر آتی ہے، مگر آج یہ خوشی ہمارے اجتماعی رویّوں کا ایک کڑوا سچ بھی بے نقاب کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس انسانی معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہم کس اسلام کے پیروکار ہیں؟
رمضان، جو صبر، تقویٰ اور ایثار کا درس دیتا ہے، ہمارے ہاں رفتہ رفتہ ایک سماجی نمائش میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ افطار پارٹیاں، مہنگے ملبوسات، برانڈڈ جوتے اور سوشل میڈیا پر چمکتی تصویریں—یہ سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں مقصد عبادت نہیں بلکہ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنا نظر آتا ہے۔ جھوٹی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے کینہ و بغض اور مصنوعی تعلقات ہماری سماجی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔
عید کی خریداری میں مصروف خواتین و حضرات کے لیے رمضان کا انتظار اب روحانی تیاری نہیں بلکہ تقریبات اور نمائش کا موسم بن چکا ہے۔ ایک دوسرے کو متاثر کرنے کی خواہش نے خلوص کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی وہ روح ہے جس کی تعلیم ہمیں دی گئی تھی؟

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو عبادات کا دکھاوا ہے۔ ہم عمرہ کرتے ہوئے تصاویر بناتے ہیں، خانۂ خدا کے سامنے کھڑے ہو کر بھی فلٹر زدہ حقیقت پیش کرتے ہیں۔ بظاہر عاجزی، مگر باطن میں ریاکاری—یہ تضاد ہمارے اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری طرف عالمِ اسلام کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ کہیں جنگ، کہیں بھوک، کہیں ظلم اپنے عروج پر ہے۔ معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں، خاندان بکھر رہے ہیں، مگر ہم اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ ہماری زبان سے ایک سچا لفظِ افسوس بھی ادا نہیں ہوتا۔ ہم ان سانحات کو محض خبروں کی طرح دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
یہ کیسی عید ہے؟ جب ہمارے اپنے ہی بھائی بہن تکلیف میں ہوں تو کیا ہماری خوشیاں مکمل ہو سکتی ہیں؟ کیا ہم واقعی انسان کہلانے کے مستحق ہیں، اگر ہمارے دل دوسروں کے درد سے خالی ہوں؟
حقیقت یہ ہے کہ عید صرف نئے کپڑوں اور لذیذ کھانوں کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے اندر جھانکنے، اپنے رویّوں کو بدلنے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا موقع ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کو بھی محض دکھاوے کی نذر کر دیا تو یہ ہماری اجتماعی ناکامی ہوگی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ اپنی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹیں، ضرورت مندوں کا خیال رکھیں اور اپنے دلوں میں حقیقی ہمدردی پیدا کریں۔ کیونکہ جب تک ہمارے دل زندہ نہیں ہوں گے، ہماری عید بھی زندہ نہیں ہو سکتی۔
اگر ہم نے اب بھی خود احتسابی نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک ایسے معاشرے کے طور پر یاد رکھیں گی جو بظاہر مذہبی تھا مگر اندر سے کھوکھلا—جہاں عبادات تھیں مگر احساس نہیں، جہاں خوشیاں تھیں مگر انسانیت نہیں۔
………………………..
سڑکوں پر چلتی ثقافت
تحریر: مقدسہ بانو
جب سورج کی کرنیں کسی رنگین ٹرک کے پچھلے حصے پر پڑتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری پاکستانی ثقافت سڑک پر سفر کر رہی ہو۔ شوخ رنگوں، دلکش مناظر، قومی شخصیات کی تصاویر اور محبت بھرے اشعار سے مزین یہ ٹرک دراصل عوامی جذبات کا چلتا پھرتا اظہار ہیں۔ دنیا جسے “ٹرک آرٹ” کے نام سے جانتی ہے، وہ پاکستان کی نرم طاقت اور عوامی تخلیقی شعور کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
تاریخی سفر
ٹرک آرٹ کی ابتدا برصغیر میں برطانوی عہد میں ہوئی جب مال بردار گاڑیوں پر کمپنیوں کے نام اور سادہ نقش و نگار بنائے جاتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ روایت محض شناختی علامت نہ رہی بلکہ تخلیقی اظہار میں ڈھل گئی۔ 1950 اور 1960 کی دہائی میں خصوصاً کراچی، پشاور اور راولپنڈی ٹرک باڈی سازی اور آرائش کے مراکز بن کر ابھرے۔
پشاور اسٹائل میں لکڑی کی کندہ کاری اور آئینوں کی چمک نمایاں ہے، پنجابی انداز میں رومانوی اشعار اور شوخ رنگ غالب ہیں جبکہ سندھی طرز میں اجرک اور روایتی نقش و نگار ثقافتی پہچان کو اجاگر کرتے ہیں۔ یوں ہر علاقہ اپنے ذوق اور تہذیب کو اس فن میں سمو دیتا ہے۔
گمنام فنکاروں کی محنت
ٹرک آرٹ دراصل ان گمنام ہنرمندوں کی محنت کا نتیجہ ہے جو استاد شاگرد کی روایت میں یہ فن سیکھتے ہیں۔ ایک ٹرک کی مکمل آرائش کئی مراحل سے گزرتی ہے: باڈی کی تیاری، بنیادی رنگ، خاکہ سازی، باریک برش سے منظر کشی اور پھر آئینوں و دھاتی سجاوٹ کی تنصیب۔ یہ عمل کئی دنوں بلکہ بعض اوقات ہفتوں پر محیط ہوتا ہے۔
مگر افسوس کہ یہی فنکار معاشی عدم استحکام کا شکار رہتے ہیں۔ مہنگے رنگ اور سامان، کم اجرت اور غیر رسمی مارکیٹ انہیں مشکلات میں رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی ثقافتی شناخت کے ان محافظوں کو وہ مقام دے پائے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں؟
عالمی سطح پر پہچان
پاکستانی ٹرک آرٹ آج سرحدوں سے نکل کر بین الاقوامی نمائشوں تک پہنچ چکا ہے۔ لندن اور نیویارک میں ہونے والی ثقافتی تقریبات میں اس فن کے نمونے پیش کیے گئے، جبکہ فیشن اور انٹیریئر ڈیزائن کی دنیا نے بھی اس سے تحریک لی۔ بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کے لیے یہ آرٹ اپنی مٹی سے جڑے رہنے کی علامت بن گیا ہے۔

سماجی اور فکری پیغام
ٹرک آرٹ صرف رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے۔ اس میں صوفیاء کرام کے مزارات، قدرتی مناظر، مور، پھول، قومی ہیروز اور شاعرانہ جملے شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ جملے طنز و مزاح سے بھرپور ہوتے ہیں تو کبھی نصیحت آمیز۔ یوں یہ فن سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے معاشرے کی سوچ اور احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔
سرپرستی کی ضرورت
اگرچہ ٹرک آرٹ عالمی شناخت حاصل کر چکا ہے، مگر اندرونِ ملک اسے منظم سرپرستی کی ضرورت ہے۔ فنی اداروں، ثقافتی میلوں اور سرکاری پالیسی میں اس فن کو شامل کیا جائے تو نہ صرف ہنرمندوں کو روزگار مل سکتا ہے بلکہ سیاحت کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔
آج جب دنیا ثقافتی ورثے کو اپنی طاقت بنا رہی ہے، پاکستان کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ اپنے عوامی فنون کی قدر کرے۔ ٹرک آرٹ محض سجاوٹ نہیں، یہ ہماری تہذیبی خود اعتمادی کی علامت ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے:
کیا ہم اپنے سڑکوں پر چلتے ان رنگین خوابوں کو محفوظ رکھ سکیں گے، یا یہ بھی وقت کی گرد میں گم ہو جائیں گے؟
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
گورٹن اینڈ ڈینٹن ضمنی انتخاب میں گرین پارٹی کی تاریخی کامیابی، لیبر کو بڑا دھچکا
گورٹن اینڈ ڈینٹن (برطانیہ): حالیہ برسوں کی برطانوی سیاست کے سب سے غیر معمولی انتخابی نتائج میں سے ایک میں گرین پارٹی نے گورٹن اینڈ ڈینٹن کی نشست جیت کر لیبر پارٹی کے تقریباً ایک صدی پر محیط تسلط کا خاتمہ کر دیا۔
یہ نشست لیبر کی 38ویں محفوظ ترین نشست سمجھی جاتی تھی اور تقریباً 100 سال سے مسلسل اس کے پاس تھی۔ تاہم ضمنی انتخاب میں ووٹرز کے رجحان میں ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی، جہاں گرین پارٹی نے 40 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے واضح کامیابی حاصل کی۔
اہم نتائج:
* گرین پارٹی: 40٪ سے زائد ووٹ، کامیاب
* لیبر پارٹی: تاریخی شکست
* کنزرویٹو پارٹی: ضمانت ضبط
* لبرل ڈیموکریٹس: ضمانت ضبط
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ شکست لیبر کی تاریخ کی سات بدترین ضمنی انتخابی شکستوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
2024 کے عام انتخابات کا پس منظر
یاد رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں اسی علاقے (مانچسٹر گورٹن) سے لیبر کو واضح برتری حاصل تھی:
* ووٹ شیئر: 50.8 فیصد
* اکثریت: 13,413 ووٹ
چند ہی برسوں میں اتنی بڑی تبدیلی نے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔
سیاسی اہمیت
* گرین پارٹی کی یہ کامیابی ویسٹ منسٹر کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
* لیبر کے مضبوط قلعے کا خاتمہ قومی سطح پر سیاسی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
* کنزرویٹو اور لبرل ڈیموکریٹس دونوں کا ضمانت نہ بچا پانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ووٹ بڑی حد تک دو بڑی جماعتوں کے درمیان منتقل ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لیبر پارٹی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے گی جبکہ گرین پارٹی اس کامیابی کو آئندہ انتخابات کے لیے بنیاد بنانے کی کوشش کرے گی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
خاک ہونے تک
از قلم :مقدسہ بانو
رات کی خاموشی میں کھڑکی کے پاس بیٹھی وہ دیر تک آسمان کو دیکھتی رہی۔ شہر کی روشنیاں جیسے دور کہیں بجھتی ہوئی امیدوں کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ کچھ محبتیں شور نہیں کرتیں — بس دل کے اندر خاموشی سے گھر بنا لیتی ہیں، اور پھر وہیں عمر گزار دیتی ہیں۔
اس نے تم سے وہ محبت نہیں کی تھی جو کچی عمر کے جوش میں کی جاتی ہے۔ نہ وہ بے صبری تھی، نہ ضد، نہ ہی خوابوں کی اندھی دوڑ۔ اس کی محبت پختہ تھی — ٹھہری ہوئی، سنجیدہ، اور پوری طرح باشعور۔ اس نے تمہیں چاہنے سے پہلے تمہیں سمجھا تھا، اور سمجھنے کے بعد دل کی گہرائی سے اپنا لیا تھا۔
تم اس کے لیے خواہش نہیں، قرار تھے۔ عادت نہیں، عبادت تھے۔
مگر زندگی ہمیشہ چاہتوں کے مطابق راستے نہیں بناتی۔
ایک دن اسے محسوس ہوا کہ تمہاری دنیا میں اس کے لیے وہ جگہ کبھی بنی ہی نہیں جس کی وہ خاموشی سے امید کیے بیٹھی تھی۔ تم قریب ہو کر بھی دور تھے، اور وہ دور رہ کر بھی پوری طرح تمہاری تھی۔ اسی ادھورے پن نے اس کے لہجے میں ایک نرم سی تھکن بھر دی۔
اس رات اس نے پہلی بار خود سے اعتراف کیا —
دل کے کسی گہرے گوشے میں ایک حسرت اب بھی زندہ ہے:
کاش کہ میں اپنائی جاتی…
اس نے آنکھیں بند کیں۔ ایک آنسو بے آواز گال پر بہہ گیا۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی، سمجھدار مسکراہٹ آ گئی — وہی مسکراہٹ جو صرف پختہ محبت کرنے والوں کو آتی ہے۔
وہ آہستہ سے بولی،
“لیکن مجھے اب خاک ہونا ہے…”
یہ ہار نہیں تھی۔ یہ محبت کی آخری شکل تھی — جہاں انسان شکوہ چھوڑ دیتا ہے اور دعا بن جاتا ہے۔
کھڑکی سے آنے والی ٹھنڈی ہوا نے اس کے بکھرے بالوں کو ہلایا۔ اس نے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا، جیسے اپنی محبت کو وہیں امانت رکھ رہی ہو۔
اور پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی —
خاموش، باوقار، اور محبت کو دل میں لیے…
خاک ہونے تک۔
……………………………………
پیپلز پارٹی یوکے میں خواتین کے ساتھ امتیازی رویوں پر تشویش
برطانیہ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی تنظیمی سرگرمیوں کے حوالے سے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ویمن ونگ یوکے سے وابستہ خواتین کارکنان نے اپنے مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر کہا ہے کہ پارٹی کے اندر خواتین کو مساوی مقام اور احترام نہ ملنا ایک سنجیدہ اور توجہ طلب مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق، اگرچہ پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کی برابری اور خواتین کو بااختیار بنانے کی روشن روایت کی دعویدار ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ خواتین کارکنان تنظیمی امور میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں، تقریبات کے انعقاد میں عملی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں اور پارٹی سرگرمیوں کو کامیاب بنانے میں اہم حصہ ڈالتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی محنت اور خدمات کو مناسب پذیرائی نہیں ملتی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی تقریبات میں اکثر خواتین کو اسٹیج پر نمائندگی نہیں دی جاتی اور نہ ہی انہیں وہ تعارف اور پروٹوکول فراہم کیا جاتا ہے جو ان کا حق ہے۔ اگلی نشستوں اور مرکزی میزوں پر عموماً مرد عہدیداران کو جگہ دی جاتی ہے جبکہ خواتین کو پیچھے بٹھایا جاتا ہے، جو صنفی عدم مساوات کی واضح مثال ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ ایسے طرزِ عمل سے نہ صرف ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ نوجوان خواتین کی سیاست میں شمولیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
خواتین کارکنان نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بعض مواقع پر خواتین کی سرگرم شمولیت کو مثبت انداز میں لینے کے بجائے انہیں حاشیے پر ڈال دیا جاتا ہے اور غیر ضروری قیاس آرائیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ خواتین کو محض تصویری نمائندگی یا تعداد پوری کرنے کے لیے استعمال کرنا ان کی صلاحیتوں اور وقار کے منافی ہے اور یہ رویہ پارٹی کی بنیادی جمہوری اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ اور جمہوری معاشرے میں رہتے ہوئے اس قسم کی سوچ کا برقرار رہنا نہایت افسوسناک ہے۔ خواتین نے مطالبہ کیا کہ پارٹی کے اندر واضح صنفی پالیسی مرتب کی جائے، تقریبات میں خواتین کی باقاعدہ نمائندگی یقینی بنائی جائے، اور فیصلہ سازی کے فورمز پر انہیں مؤثر کردار دیا جائے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ صنفی برابری کو صرف نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ مرد عہدیداران اور سینئر قیادت سے اپیل کی گئی کہ وہ خواتین کی شمولیت کو مضبوط بنانے میں اتحادی کردار ادا کریں، نہ کہ غیر محسوس رکاوٹیں کھڑی کریں۔ اس مقصد کے لیے تنظیمی سطح پر تربیتی نشستیں، آگاہی مہمات اور شفاف پروٹوکول متعارف کرانے کی بھی تجویز دی گئی۔
خواتین نے واضح کیا کہ وہ پارٹی کے نظریے اور جمہوری اقدار سے وابستہ ہیں اور مثبت تبدیلی کی خواہاں ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قیادت اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی اور عملی اقدامات کے ذریعے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جائے گا جہاں خواتین کو عزت، وقار اور مساوی شناخت حاصل ہو۔
مشترکہ بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ خواتین کو عزت، وقار اور برابر مواقع دینا کسی احسان کے مترادف نہیں بلکہ ان کا بنیادی جمہوری حق ہے، جسے ہر سطح پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
لفظ، صدا اور یادیں: مانچسٹر کی یادگار ادبی نشست
“لفظ جب صدا کے سنگ یادوں کے دریچوں کو کھولتا ہے، ایسے لمحے ادب میں امر ہوجاتے ہیں۔”
چند روز پہلے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں منعقد ہونے والی یادگار ادبی نشست میں مہمانِ خصوصی کے طور پر معروف صحافی و ادیبہ ماہ پارہ صفدر نے شرکت کی۔ ماہ پارہ صفدر پاکستانی صحافت کی شناسا شخصیت ہیں؛ وہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور بی بی سی اردو کی نیوز کاسٹر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغازلاہور ریڈیو سے 1974سے اور 1977ء میں لاہور کے پی ٹی وی سے کیا اور 1990ء میں بیرونِ ملک جا کر بی بی سی اردو سے وابستہ ہوئیں، جہاں 2014ء تک خبریں پڑھتی رہیں۔ اپنے فکری و ادبی شراکت کے باعث ماہ پارہ صفدر کو ادب و صحافت کے حلقوں میں خصوصی مقام حاصل ہے۔

یہ ادبی محفل معروف شاعرہ، ادیبہ و مترجمہ فائقہ گل کے گھر منعقد ہوئی، جو مانچسٹر میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں سرگرم ہیں۔ اس موقع پر ان کے ہم سفر ہمایوں صاحبزادہ بھی موجود تھے، جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں ثقافتی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے پہل کر رہے ہیں۔ نشست میں دیگر ادبی شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں ہمہ جہت ادبی خدمات کی حامل شاعرہ اسماء اعظم، سماجی رہنما و کالم نگار مقدسہ بانو، کالم نویس محمود اصغر چوہدری اور لندن کی معروف شاعرہ س,سیعدہ کوثر شامل تھیں۔ حاضرین نے اپنی تخلیقات پڑھ کر پیش کیں اور اپنے ادبی تجربات اور مستقبل کی امیدوں پر گرمجوشی سے تبادلہ خیال کیا۔
شام کی چائے معروف سینئر صحافی و کالم نگار محبوب الٰہی بٹ کے گھر پر منعقد ہوئی، جہاں ان کی اہلیہ نے خصوصی طور پر میزبانی کی۔ ناشتہ اور دیگر انتظامات مقدسہ بانو کے صاحبزادے محمد حسنین کی جانب سے کیے گئے، جنہوں نے نہایت خوش اخلاقی اور سلیقے کے ساتھ مہمان نوازی کے تقاضے نبھائے اور حاضرین کے لیے ہر سہولت فراہم کی۔
نشست میں ادبی خزانوں کے تبادلے کے لیے شہزاد مرزا کی جانب سے تحائف پیش کیے گئے، جس سے محفل کی رونق میں اضافہ ہوا۔ رخصتی کے موقع پر تحائف کی پیشکش بھی کی گئی: محترمہ فائقہ گل، مقدسہ بانو، محبوب الٰہی بٹ اور شہزاد مرزا کی جانب سے، جس سے محفل مزید یادگار بن گئی۔
خصوصاً ماہ پارہ صفدر نے مقدسہ بانو کو ایک بیشقیمت ماربل پیس تحفے میں پیش کیا، جو صحن امام حسین علیہ السلام کی خوشبو سے معطر تھا، اور اس نذرانے میں ادب، محبت اور تقدس کا حسین امتزاج نظر آیا۔
آخر میں ماہ پارہ صفدر نے حاضرین کو اپنا ادبی نذرانہ بطور تحفہ پیش کیا اور بھرپور دعاؤں کے ساتھ رخصت لی۔ رخصتی کے لمحے میں محبتوں، نیک تمناؤں اور ادب و فکری احترام کا مظاہرہ ہوا، جس نے اس نشست کو یادگار اور منفرد بنا دیا۔
یوں یہ خوبصورت ملاقات اور ادبی محفل اپنی دل نشیں یادیں چھوڑ گئی، جو شرکاء کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہیں گی۔ اس امید کے ساتھ محفل اختتام پذیر ہوئی کہ آئندہ بھی ایسے مواقع اور نشستیں منعقد ہوتی رہیں گی، جہاں ادب، سماجی رویّوں اور دیگر نازک مگر اہم موضوعات پر سنجیدہ اور بامقصد گفتگو ہوگی، جس سے نہ صرف شرکاء بلکہ پورا ادبی حلقہ مستفید ہوگا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اسلام آباد میں خارجی سوچ کا ظہور
تحریر ،مقدسہ بانو
اسلام آباد میں مسجد کے قریب خودکش دھماکا کوئی سیکیورٹی بریفنگ کا مسئلہ نہیں، یہ ایک فکری فردِ جرم ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں ابہام، مصلحت اور “دونوں طرف” کی زبان ختم ہونی چاہیے۔ جو گروہ مسجد، نماز اور نمازی کو نشانہ بنائے، وہ محض دہشت گرد نہیں — وہ اسلام کے خلاف عملی اعلانِ جنگ ہے۔
یہ کہنا اب بھی کافی نہیں کہ یہ “گمراہ” تھے۔ گمراہی وہاں ہوتی ہے جہاں نیت میں کوئی سچ باقی ہو۔ یہاں تو نیت، ہدف اور طریقہ — تینوں واضح ہیں۔ مسجد کو میدانِ جنگ بنانا، سجدے کو دھماکے سے توڑنا، اور معصوم جانوں کو بارود میں اڑانا کسی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں، یہ ایک کفری کردار کا کھلا اظہار ہے

تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہی سوچ مسجدِ کوفہ میں محراب تک پہنچی تھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت تلوار تھی، آج جیکٹ میں بندھا ہوا بارود ہے۔ علیؑ کے عدل سے نفرت کرنے والی ذہنیت آج بھی زندہ ہے، حسینؑ کے نام پر جان دینے والوں سے نہیں، بلکہ حسینؑ کے راستے پر چلنے والوں سے اس کی دشمنی پرانی ہے۔
سب سے بڑا جرم یہ نہیں کہ خودکش حملہ ہوا — سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ ہم اب بھی زبان تول کر بول رہے ہیں۔ قاتل کو “شدت پسند”، اور مقتول کو “نقصان” کہہ کر خبر ختم کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ سچ یہ ہے:
نمازی کا قاتل مسلمان نہیں ہو سکتا۔
مسجد دشمن گروہ امت کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
اور خودکش دھماکا کسی فقہ، کسی جہاد، کسی تاویل میں نہیں سما سکتا۔
ریاست ہو یا منبر، اب دو ٹوک بات ناگزیر ہے۔ جو گروہ اسلام آباد میں مسجد کے ماحول کو لہو سے رنگے، وہ صرف ریاست کا دشمن نہیں، وہ دین کا بھی دشمن ہے۔ اس پر خاموشی، اس کے ساتھ نرمی، اور اس کے لیے مبہم الفاظ — سب مقتول کے خون میں شراکت کے مترادف ہیں۔خداوندِ کریم ان ظالموں کو نیست و نابود کرے۔ مالک! چودہ معصومینؑ کے صدقے ان شہداء کے درجات بلند فرما، اور ہمیں وہ اخلاقی جرات عطا کر کہ ہم قاتل کو قاتل اور کفری کردار کو کفری کردار کہہ سکیں — بغیر خوف، بغیر مصلحت۔
………………….
استاد اور شاگرد: موجودہ تعلیمی معیار کے تناظر میں
تحریر : مقدسہ بانو
کسی کو استاد بنانے کے لیے صرف اسے استاد کہہ دینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس منصب کے معیار کے مطابق خود کو ڈھالنا بھی پڑتا ہے۔ استاد ہونا ایک اعزاز ضرور ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ ایک کڑی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں، جب تعلیم تیزی سے ایک کاروبار کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، استاد اور شاگرد کا مقدس رشتہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
موجودہ تعلیمی نظام میں ڈگری، گریڈ اور نتائج کو ہی کامیابی کا پیمانہ بنا لیا گیا ہے۔ ایسے میں استاد کا کردار محض نصاب مکمل کرنے اور امتحانی نتائج بہتر بنانے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ حالانکہ ایک حقیقی استاد وہ ہوتا ہے جو شاگرد کے اندر سوچنے، سوال کرنے اور سچ کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ تعلیم کا مقصد صرف روزگار نہیں بلکہ باشعور انسان بنانا بھی ہونا چاہیے، اور یہ کام صرف وہی استاد کر سکتا ہے جو خود اس معیار پر پورا اترتا ہو۔
آج کے تعلیمی ماحول میں ایک اور سنگین مسئلہ استاد کی پیشہ ورانہ تربیت کا فقدان ہے۔ بہت سے اساتذہ جدید تدریسی تقاضوں، نفسیاتی پہلوؤں اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے ناآشنا ہیں۔ نتیجتاً شاگرد کتابی علم تو حاصل کر لیتے ہیں مگر عملی زندگی میں فیصلے کرنے، برداشت اور اخلاقی اقدار سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اس صورتِ حال میں شاگرد کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور فوری معلومات کے اس دور میں شاگرد کی توجہ بکھر چکی ہے۔ احترامِ استاد، صبر اور مستقل مزاجی جیسے اوصاف کم ہوتے جا رہے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر استاد خود کردار، علم اور رویے میں مضبوط ہو تو شاگرد آج بھی سیکھنے پر آمادہ ہوتا ہے۔
ایک اچھا استاد ہر شاگرد کو ایک عدد نہیں بلکہ ایک انسان سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر ذہن ایک جیسا نہیں ہوتا اور ہر طالب علم کو یکساں طریقے سے نہیں پڑھایا جا سکتا۔ موجودہ تعلیمی معیار کا تقاضا یہی ہے کہ استاد محض معلومات منتقل کرنے والا نہیں بلکہ رہنما، مشیر اور کردار ساز بھی ہو۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہے کہ اگر ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو فکری، اخلاقی اور سماجی طور پر مضبوط دیکھنا ہے تو ہمیں استاد کے معیار پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ استاد کو صرف تنخواہ دار ملازم نہیں بلکہ معمارِ قوم سمجھنا ہوگا، اور استاد کو بھی اس اعتماد کا حق ادا کرتے ہوئے خود کو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو استاد اور شاگرد کے رشتے کو دوبارہ مضبوط اور بامقصد بنا سکتا ہے
………………………………..
برطانیہ میں مکمل چاند کے رنگ کیوں مختلف نظر آتے ہیں؟
سائنسی حقائق اور عوامی فہم
مقدسہ بانو
برطانیہ میں مقیم اردو قارئین اکثر یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ مکمل چاند ہر مہینے ایک جیسا دکھائی نہیں دیتا۔ بعض اوقات یہ زردی مائل، کبھی نارنجی اور بعض مواقع پر واضح طور پر سرخی لیے ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان مناظر کو پنک مون، بلڈ مون، سپر مون یا ہارویسٹ مون جیسے نام دیے جاتے ہیں، جس سے عام قاری میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا چاند واقعی اپنا رنگ بدلتا ہے۔
کیا چاند کا رنگ واقعی بدلتا ہے؟
فلکیاتی سائنس کے مطابق چاند اپنی کوئی روشنی پیدا نہیں کرتا بلکہ سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے۔ چنانچہ چاند کے رنگ میں نظر آنے والی تبدیلی دراصل چاند کی سطح میں نہیں بلکہ سورج کی روشنی کے زمین تک پہنچنے کے دوران پیش آنے والے عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے۔
زمینی فضا اور روشنی کا بکھراؤ
جب مکمل چاند افق کے قریب ہوتا ہے تو اس کی روشنی زمین کی فضا میں زیادہ فاصلہ طے کرتی ہے۔ اس عمل کے دوران نیلی روشنی زیادہ بکھر جاتی ہے جبکہ سرخ اور نارنجی طولِ موج باقی رہتی ہیں۔ اسی وجہ سے چاند طلوع یا غروب کے وقت زیادہ زرد یا سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔
برطانیہ کا موسم اور اس کا کردار
برطانیہ کا موسم اس بصری تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں اکثر:
بادل
نمی
دھند
بارش
پائی جاتی ہے، جو روشنی کے بکھراؤ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ خاص طور پر خزاں اور سردیوں میں مکمل چاند زیادہ مدھم یا سرخی مائل نظر آ سکتا ہے۔
شہری آلودگی کا اثر
لندن، مانچسٹر، برمنگھم اور دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک اور صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی بھی چاند کے رنگ کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقوں میں چاند اکثر مختلف رنگ یا کم روشن محسوس ہوتا ہے۔
بلڈ مون: چاند گرہن کا سائنسی پہلو
بلڈ مون دراصل چاند گرہن کے دوران نظر آتا ہے۔ اس وقت زمین سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے، جس کے باعث سورج کی براہِ راست روشنی چاند تک نہیں پہنچتی۔ زمین کی فضا سے چھن کر آنے والی سرخی مائل روشنی چاند پر پڑتی ہے، جس سے وہ سرخ دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل طور پر فطری اور سائنسی مظہر ہے۔
پنک مون اور ہارویسٹ مون: نام یا حقیقت؟
پنک مون اور ہارویسٹ مون سائنسی اصطلاحات نہیں بلکہ تاریخی اور ثقافتی نام ہیں۔
پنک مون بہار کے آغاز کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے
ہارویسٹ مون فصلوں کی کٹائی کے موسم میں نسبتاً روشن چاند کو کہا جاتا ہے
ان ناموں کا چاند کے اصل رنگ سے براہِ راست تعلق نہیں۔
برطانیہ میں مکمل چاند کا مختلف رنگوں میں دکھائی دینا موسم، فضائی کیفیت، آلودگی اور روشنی کے زاویے کا مجموعی اثر ہے۔ ان مظاہر کو سائنسی نقطۂ نظر سے سمجھنا نہ صرف غلط فہمیوں کا ازالہ کرتا ہے بلکہ قدرتی نظام کے بارے مں درست شعور بھی پیدا کرتا ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نو عمری میں اسکرین کا استعمال
تحریر و تحقیق: مقدسہ بانو
طبی تحقیق کی روشنی میں ایک سنجیدہ سوال؟
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو سہولت، رفتار اور رابطے کی نئی جہتیں دی ہیں، مگر اس ترقی کے ساتھ ساتھ بعض ایسے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں جن کا تعلق آنے والی نسل کی ذہنی اور جسمانی صحت سے ہے۔ انہی سوالات میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا نو عمری، خصوصاً نو ماہ کی عمر سے بچوں کو موبائل فون اور ٹیلی ویژن سے روشناس یا عادی بنانا طبی طور پر درست ہے؟
ماہرینِ اطفال اور دماغی نشوونما پر تحقیق کرنے والے اداروں کے مطابق اس سوال کا جواب احتیاط اور سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے۔
طبی سائنس اس بات پر متفق ہے کہ بچے کی زندگی کے ابتدائی دو سال دماغی نشوونما کے لیے سب سے اہم ہوتے ہیں۔ اسی عرصے میں دماغ کے خلیات تیزی سے جڑتے ہیں اور وہ بنیاد رکھتے ہیں جس پر سیکھنے، بولنے، سوچنے اور جذباتی توازن کی صلاحیتیں قائم ہوتی ہیں۔ اس مرحلے پر بچہ اپنے اردگرد کی دنیا کو اسکرین کے ذریعے نہیں بلکہ انسانی رابطے کے ذریعے سمجھتا ہے۔ ماں باپ کی آواز، آنکھوں کا رابطہ، لمس، مسکراہٹ اور ردِعمل وہ عوامل ہیں جو بچے کے دماغ کی فطری تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کے برعکس موبائل فون یا ٹیلی ویژن کی اسکرین بچے کو یک طرفہ معلومات فراہم کرتی ہے، جس میں نہ باہمی گفتگو ہوتی ہے اور نہ جذباتی ردِعمل۔ ماہرین کے مطابق یہی یک طرفہ محرکات بچے کی فطری سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔
نو ماہ کی عمر میں بچہ آوازوں کی نقل کرنا شروع کرتا ہے، چہروں کے تاثرات پہچانتا ہے اور بولنے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے۔ طبی تحقیق بتاتی ہے کہ اس عمر میں اسکرین کے زیادہ یا مستقل استعمال سے *بولنے میں تاخیر* کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ بچہ الفاظ سن تو لیتا ہے مگر مکالمہ سیکھ نہیں پاتا۔ اسی طرح اسکرین پر تیز روشنی اور مسلسل بدلتے مناظر بچے کے دماغ کو غیر فطری انداز میں متحرک کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں آگے چل کر توجہ مرکوز رکھنے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، موبائل اور ٹی وی سے خارج ہونے والی نیلی روشنی دماغ میں نیند پیدا کرنے والے ہارمون میلاٹونن کو متاثر کرتی ہے، جس کے باعث بچے کی نیند بے ترتیب ہونے لگتی ہے۔ نیند کی یہ خرابی نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق ابتدائی عمر میں اسکرین کے عادی بچے سماجی اور جذباتی سطح پر بھی کمزور ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ انسانی چہروں، جذبات اور ردِعمل کو سمجھنے کے مواقع سے محروم رہتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس (AAP) اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کر چکے ہیں۔ ان اداروں کے مطابق دو سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین ٹائم صفر ہونا چاہیے۔ صرف ویڈیو کال کو محدود استثنا دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں حقیقی انسانی رابطہ شامل ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سفارشات کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں بلکہ عالمی تحقیق کا نچوڑ ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں والدین مختلف گھریلو اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اور اسکرین بعض اوقات ایک آسان حل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ بچہ خاموش ہو جاتا ہے، کھانا کھلانا آسان ہو جاتا ہے اور والدین کو وقتی سکون ملتا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وقتی سہولت کو مستقل عادت بنا لینا بچے کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچے کی صحت مند نشوونما کے لیے والدین کا کردار ناقابلِ متبادل ہے۔ بچے سے بات کرنا، لوریاں سنانا، سادہ کھلونوں سے کھیلنے دینا اور آنکھوں میں دیکھ کر مسکرانا وہ قدرتی ذرائع ہیں جو دماغی نشوونما کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر کبھی ناگزیر حالات میں اسکرین دکھانی پڑے تو اس کا دورانیہ چند منٹ تک محدود ہونا چاہیے اور اسے روزمرہ معمول نہیں بنانا چاہیے۔
طبی و سائنسی شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ نو ماہ کی عمر میں بچوں کو موبائل یا ٹی وی کا عادی بنانا مناسب نہیں۔ یہ معاملہ محض ایک گھریلو انتخاب نہیں بلکہ آنے والی نسل کی ذہنی، جذباتی اور سماجی صحت سے جڑا ہوا سوال ہے۔
حوالہ جات
1. World Health Organization (WHO): Guidelines on Physical Activity, Sedentary Behaviour and Sleep for Children Under 5 Years of Age
2. American Academy of Pediatrics (AAP): Media and Young Minds
3. Canadian Paediatric Society: *Screen Time and Young Children
4. JAMA Pediatrics: اسکرین ایکسپوژر اور زبان کی نشوونما سے متعلق تحقیقی مطالعات
5. National Institute of Child Health and Human Development (NICHD)
6. Harvard University – Center on the Developing Child: Brain Architecture
بچپن میں اسکرین سے پرہیز کوئی سختی نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ فیصلہ ہے۔ قوموں کی ذہنی صحت کی بنیاد گود میں رکھی جاتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں مستقبل کی سمت کا تعین ہوتا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سردیوں میں رنگوں کی سرگوشیاں
تحریر :مقدسہ بانو،
برطانیہ کی سردیاں، اپنی دھند اور بارش کے ساتھ، ہر سال ایک خاص رنگین کہانی سناتی ہیں۔ میں جب سڑکوں پر چلتی ہوں، دیکھتی ہوں کہ لوگ کس طرح اپنے لباس اور فیشن کے انتخاب سے سرد موسم کی خاموشی کو توڑتے ہیں۔ یہ رنگ محض زیبائش نہیں، بلکہ مزاج، خوداعتمادی اور خوشی کا بھی اظہار ہیں۔
سردیوں کے رنگ اکثر گہرے اور پُرسکون ہوتے ہیں۔ نیوی بلیو، چارکول، سیاہ اور امبر، موسم کی خاموش فضا میں استحکام پیدا کرتے ہیں۔ میں نے دوستوں اور کولیگز کے لباس میں یہ رنگ اکثر دیکھے ہیں، اور محسوس کیا ہے کہ یہ رنگ نہ صرف سرد موسم سے ہم آہنگ ہوتے ہیں بلکہ ایک نفیس وقار بھی پیدا کرتے ہیں۔ بارشوں اور دھند میں یہ رنگ زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں، اور قدرتی ماحول سے ایک ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔
لیکن صرف گہرے رنگ ہی نہیں، جواہراتی ٹونز بھی سردیوں میں مقبول ہیں۔ Emerald Green، Sapphire Blue اور Bright Red، سرد دنوں میں دیکھنے والے کی آنکھ کو خوش کرتے ہیں اور توانائی بھی بخشتے ہیں۔ میں نے خود محسوس کیا کہ ایک روشن اسکارف، چاہے لباس کتنا ہی سادہ کیوں نہ ہو، پورے انداز کو بدل دیتا ہے اور موسم کی یکسانیت میں زندگی کا لمس شامل کر دیتا ہے۔
گرم، زمینی رنگ بھی برطانوی سردیوں میں اپنی جگہ رکھتے ہیں۔ چاکلیٹ براون، موکا، برگنڈی اور اولیو نہ صرف جسم کو حرارت کا احساس دلاتے ہیں بلکہ ایک پرسکون ماحول تخلیق کرتے ہیں۔ میں نے خود دوستوں کے گھروں میں یہ رنگ محسوس کیے، اور دیکھا کہ یہ سردیوں کی خاموش فضاؤں میں ایک نرم روشنی کی طرح داخل ہوتے ہیں۔
جدید فیشن میں Teal، Powder Pink اور Winter Citrus جیسے روشن رنگ بھی مقبول ہو رہے ہیں۔ میں نے شاپنگ کے دوران نوجوان خواتین کے اسکارف، دستانے اور ٹوپیاں ایسے رنگوں میں دیکھے، جو سردی میں توانائی اور خوشی کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ رنگ محض فیشن نہیں، بلکہ مزاج کا اظہار اور خود اعتمادی کی علامت بھی ہیں۔
اندرونی ڈیزائن میں بھی یہی رجحان ہے۔ دوستوں کے گھروں میں میں نے دیکھا کہ رچ برگنڈی، امیر روبی ریڈ اور زمینی رنگ کے پردے، قالین اور صوفے، موسم کی سردی میں گرمی اور سکون کا احساس دیتے ہیں۔ کچھ گھر مالکان ڈوپامائن ڈیکور کا استعمال کرتے ہیں، یعنی روشن رنگ جمع کر کے ماحول کو خوشگوار بناتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ ایسے گھروں میں داخل ہوتے ہی سرد موسم کی اداسی کم ہو جاتی ہے اور ایک خوشگواری محسوس ہوتی ہے۔
بیوٹی اور فیشن میں بھی رنگوں کی اہمیت واضح ہے۔ ناخنوں میں گہرے لال، چاکلیٹی براون اور نرم نیوڈ رنگ، سردیوں میں نفیس اور پراثر نظر آتے ہیں۔ بالوں کے رنگ، جیسے چیری ریڈ اور امبر ٹونز، سردیوں کی اداسی میں زندگی اور روشنی کی جھلک شامل کرتے ہیں۔ یہ رنگ محض زیبائش نہیں، بلکہ خوداظہاری اور اعتماد کا ذریعہ بھی ہیں۔
برطانیہ کے موسم میں دن چھوٹے اور روشنی کم ہونے کی وجہ سے لوگ قدرتی طور پر گہرے، گرم اور سکون بخش رنگوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ اب بولڈ اور روشن رنگ بھی بڑھتی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، جو خوشی، توانائی اور خود اظہار کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ رنگ صرف بصری حسن نہیں، بلکہ انسان کے جذبات اور سماجی رویوں کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
سردیوں میں رنگوں کا یہ کھیل، فیشن، اندرونی ڈیزائن اور بیوٹی کے شعبوں میں واضح نظر آتا ہے۔ یہ نہ صرف قدرتی ماحول سے ہم آہنگ ہیں بلکہ ہر شخص کی شخصیت، مزاج اور تخلیقی اظہار کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ جب لوگ سردیوں میں یہ رنگ اپناتے ہیں، تو نہ صرف سردی کی سختی میں نرمی آتی ہے بلکہ ایک نفیس، زندگی بخش ماحول بھی تخلیق ہوتا ہے۔
آخر میں، یہ کہنا درست ہوگا کہ برطانیہ میں موسمِ سرما کے رنگ ایک ثقافتی اظہار بن چکے ہیں۔ یہ رنگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی کے ہر لمحے میں روشنی، خوشی اور تاثر چھپا ہوتا ہے، جو دیکھنے، محسوس کرنے اور جینے کی دعوت دیتا ہے۔ سردیوں کی خاموش فضاؤں میں یہ رنگ ہماری دنیا میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور روشنی کی سرگوشیاں لے کر آتے ہیں۔
…………………..
دسمبر کی دعا
دسمبر کی رات تھی۔
ہوا میں ایسی اداسی گھلی ہوئی تھی جو لفظوں سے پہلے دل پر اترتی ہے۔ سردی شیشوں پر دھند بن کر ٹھہری ہوئی تھی اور کمرے کے اندر بخور کی خوشبو کسی خاموش عبادت کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ مدھم روشنی، پرانی موسیقی، اور وقت—سب جیسے آہستہ آہستہ سانس لے رہے ہوں۔
اسی خاموشی میں دعائے کمیل کی آواز ابھری۔
نہ بلند، نہ لرزاں—بس دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی۔
“اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِی تَحْبِسُ الدُّعَاءَ”
(اے اللہ! میرے وہ گناہ بخش دے جو دعا کو روک لیتے ہیں)
یہ الفاظ سن کر دل جیسے اپنے ہی بوجھ سے شرمندہ ہو گیا۔ کتنی ہی دعائیں تھیں جو لبوں تک آ کر واپس لوٹ گئیں، کتنے خواب تھے جو نیتوں کی کمزوری میں کہیں راستے میں بکھر گئے۔
موسیقی کے سُر دعا میں گھلنے لگے۔
سردی اب صرف جسم کی نہ رہی—یہ روح کے کونے کونے تک پہنچ گئی تھی، مگر وہاں جلنے والی شمع بھی یہی دعا تھی۔
“وَ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِی تُنْزِلُ الْبَلَاءَ”
(اور میرے وہ گناہ بھی بخش دے جو مصیبتوں کو نازل کرتے ہیں)
آنکھوں کے پیچھے یادوں کی ایک قطار تھی—وہ فیصلے، وہ خاموشیاں، وہ سمجھوتے جنہوں نے دل کو تھکا دیا تھا۔ دسمبر کی اداس فضا میں یہ اعتراف عجیب سا سکون دے رہا تھا، جیسے بوجھ رکھنے کی اجازت مل گئی ہو۔
بخور کی خوشبو اب سانسوں میں بس چکی تھی۔
ہر سانس کے ساتھ دل نرم ہوتا جا رہا تھا۔
“وَ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ”
(اور میرے وہ گناہ بھی بخش دے جو نعمتوں کو بدل دیتے ہیں)
کیا نعمت صرف خوشی کا نام ہے؟
یا اداسی بھی ایک نعمت ہے—جو انسان کو خود اس کے رب کے سامنے لا کھڑا کرے؟
موسیقی اب پس منظر میں مدھم ہو چکی تھی۔
الفاظ، صرف الفاظ نہ رہے تھے—وہ سجدہ بن گئے تھے۔
“اِلٰهِی وَ رَبِّی مَنْ لِیْ غَيْرُكَ؟”
(اے میرے معبود، اے میرے رب! تیرے سوا میرا ہے ہی کون؟)
یہ سوال نہیں تھا، یہ ایک مان لینا تھا۔
دسمبر کی سرد رات میں، خوابوں کی دوری کے بیچ، اس ایک جملے نے فاصلے سمیٹ دیے۔
وہ مسکرائی۔
اداسی ختم نہیں ہوئی تھی، مگر اب وہ خالی نہیں تھی۔
وہ روحانیت سے بھری ہوئی تھی—ایک ایسی خاموش روشنی جو صرف پروردگار کی یاد سے جلتی ہے۔
اور دسمبر…
اب صرف ایک موسم نہ رہا تھا،
وہ دعا بن گیا تھا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
لیو اِن ریلیشن شپ، پاکستانی معاشرہ اور عورت—تعلق، روایت اور جبر کی تہوں میں چھپا سچ
مقدسہ بانو
پاکستانی معاشرہ اپنی روایات، مذہبی اقدار اور خاندانی نظام کے سبب مضبوط شناخت رکھتا ہے۔ تاہم بدلتے زمانے نے کئی نئی بحثیں جنم دی ہیں، جن میں لیو اِن ریلیشن شپ کا بڑھتا رجحان اہم ترین ہے۔ یہ رجحان اگرچہ عام نہیں، لیکن اس پر اٹھنے والے سوالات وسیع ہیں—خاص طور پر یہ کہ ایسے رشتوں کا زیادہ نشانہ ہمیشہ عورت کیوں بنتی ہے؟ اور آخر شادی جیسے مقدس رشتے کو روایات اور رواج کے نام پر ایسے جکڑ دیا جاتا ہے کہ نوجوان بسا اوقات غیر رسمی تعلقات میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں؟
یہ کالم انہی سوالات کے تحقیقی تجزیے پر مبنی ہے۔
عورت ہی نشانہ کیوں؟ — ایک تاریخی و سماجی حقیقت
پاکستانی معاشرہ صدیوں سے پدر شاہی نظام (Patriarchal Structure) کے تحت پروان چڑھا ہے۔ اس نظام میں:
عورت کو خاندان کی عزت کا محور بنایا گیا
مرد کو فیصلہ ساز اور عورت کو اطاعت گزار سمجھا گیا
تعلقات میں طاقت کا توازن ہمیشہ مرد کے حق میں رہا
اسی لیے جب لیو اِن ریلیشن یا کوئی بھی غیر رسمی تعلق ٹوٹتا ہے، ذمہ داری کا بوجھ عورت ہی پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کی چند بنیادی وجوہات:
1. سماجی بدنامی صرف عورت کے حصے میں آتی ہے
مرد کے غلط فیصلے کو “جوانی کی غلطی” کہہ کر معاف کر دیا جاتا ہے۔
عورت کی ایک غلطی یا کمزوری پوری زندگی کا داغ بنا دی جاتی ہے۔
2. تشدد اور طاقت کا عدم توازن
غیر شادی شدہ تعلقات میں قانونی تحفظ موجود نہیں ہوتا۔
لہٰذا:
تشدد
دباؤ
دھمکی
اور استحصال
کا زیادہ نشانہ عورت ہی بنتی ہے۔
3. شادی کے بغیر تعلق کا سماجی تعصب
عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی “عصمت” اور “عزت” کو برقرار رکھے۔
اگر وہ لیو اِن ریلیشن میں آ جائے تو معاشرہ اسے زیادہ سختی سے جانچتا ہے۔
4. قانونی کمزوریاں
پاکستانی قوانین نکاح کے تحفظ پر تو مضبوط ہیں، مگر غیر رسمی تعلقات میں:
وراثت
کفالت
تحفظ
والدین کی ذمہ داری
گھریلو تشدد کے قوانین
سب غیر واضح ہو جاتے ہیں۔ اس خلا میں سب سے زیادہ نقصان عورت کا ہوتا ہے۔
________________________________________
شادی کو رواج کے نام پر کیوں جکڑ دیا گیا؟
اسلام میں نکاح سادگی، رضا مندی اور دو انسانوں کی برابری پر مبنی معاہدہ ہے۔
مگر سماجی سطح پر نکاح کو:
رسم و رواج
اسراف
خاندانوں کی انا
معاشرتی نمائش
غیر ضروری شرائط
کے ایسے شکنجے میں باندھ دیا گیا کہ اصل روح دھندلا گئی۔
1. شادی کے بڑھتے اخراجات
جہیز، ولیمہ، نئی گاڑی، گھر، بری—
ایسے مطالبات نوجوانوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔
2. خاندان کی غیر ضروری مداخلت
پاکستانی گھروں میں شادی فرد کا نہیں بلکہ پورے خاندان کا پروجیکٹ بن جاتی ہے۔
رضامندی کے بجائے “گھر کی مرضی” چلتی ہے۔
3. پسند کی شادی کا خوف
معاشرے میں پسند کی شادی کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
نتیجہ یہ کہ نوجوان:
بھاگ کر شادی
خفیہ تعلقات
یا لیو اِن ریلیشن
کا انتخاب کرتے ہیں۔
4. اخلاقی تربیت کا خلا
نوجوانوں کو رشتوں، جنسیات، ذمہ داری، اور جذباتی نظم و ضبط کی تربیت نہیں دی جاتی۔
رشتے جذباتی خواہش سے شروع تو ہو جاتے ہیں، مگر انجام ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ٹوٹ جاتے ہیں۔
________________________________________
لیو اِن ریلیشن — بھاگنے کا راستہ یا مسئلے کی نشانی؟
بدلتے دور میں کچھ نوجوان اسے:
آزادی
ذاتی پسند
اور جذباتی سہارا
سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں یہ زیادہ تر ریاستی، معاشرتی اور خاندانی بندشوں سے فرار کا راستہ ہے، نہ کہ کوئی باشعور فیصلہ۔
کیونکہ:
قانونی تحفظ نہیں
معاشرتی قبولیت نہیں
مذہبی حمایت نہیں
طاقت کا توازن برابر نہیں
لہٰذا سب سے زیادہ خطرہ عورت ہی کیلئے پیدا ہوتا ہے۔
________________________________________
کیا یہ سب روکنے کا حل شادی کو آسان بنانا ہے؟
جی ہاں۔ بڑے پیمانے پر تحقیق یہی بتاتی ہے کہ جہاں:
نکاح آسان
خاندان کم مداخلت
رواج سادہ
اور جوڑے آزادانہ فیصلے کے اہل ہوں
وہاں غیر رسمی تعلقات کا رجحان کم ہوتا ہے۔
اسلام نے نکاح کو سادہ رکھا تھا۔
ہم نے اسے مشکل بنا دیا۔
اور مشکل راستے ہمیشہ متبادل دروازے کھولتے ہیں۔
_ مسئلہ لیو اِن ریلیشن نہیں، ہمارے سماجی تضادات ہیں
پاکستان میں لیو اِن ریلیشن ایک علامت ہے، مسئلہ نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ:
شادی مشکل
آزادی محدود
قانون کمزور
ذمہ داریاں غیر واضح
اور رشتوں کا توازن بگڑا ہوا ہے
نتیجہ یہ کہ غلطیاں ہوتی ہیں، اور دباؤ زیادہ ہونے کے باعث عورت ہی قربانی بنتی ہے۔
اگر ہم واقعی معاشرے کو محفوظ، متوازن اور اسلامی اقدار کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں تو:
نکاح آسان کرنا ہوگا
نوجوانوں کو اعتماد دینا ہوگا
عورت کو تحفظ دینا ہوگا
رواج کے نام پر ظلم کو روکنا ہوگا
کیونکہ معاشرہ صرف قانون سے نہیں بدلتا—
سوچ بدلنے سے بدلتا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
نور مقدم کیس، لیو اِن ریلیشن اور قانون — ایک اہم سماجی و قانونی بحث
مقدسہ بانو
نور مقدم قتل کیس کے فیصلے نے جہاں معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، وہیں اس نے ایک بار پھر اس بحث کو بھی جنم دیا کہ پاکستان میں لیو اِن ریلیشن شپ کا بڑھتا ہوا رجحان کیا سماجی بگاڑ یا سنگین جرائم کا محرک بن رہا ہے؟ سپریم کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے حوالے سے اپنے اضافی نوٹ میں لیو اِن ریلیشن شپ کو “معاشرتی بگاڑ” قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ طرزِ زندگی اسلامی تعلیمات کے منافی اور نوجوان نسل کیلئے خطرناک ہے۔
تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا واقعی ایسے تعلقات قتل جیسے سنگین جرائم کو جنم دیتے ہیں یا معاملہ کچھ اور ہے؟
قانونی نقطۂ نظر
پاکستان میں بغیر نکاح کے مرد و عورت کا اکٹھے رہنا نہ تو قانونی حیثیت رکھتا ہے اور نہ ہی سماجی طور پر قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 227 تقاضا کرتا ہے کہ تمام قوانین اسلامی اصولوں کے مطابق ہوں، جبکہ حدود آرڈیننس اور تعزیری قوانین ایسے تعلقات کو واضح طور پر غیر شرعی قرار دیتے ہیں۔
تاہم قانونی ماہرین کے مطابق صرف “ساتھ رہنا” بذاتِ خود قتل یا کسی سنگین جرم کے ساتھ براہِ راست نہیں جڑا جا سکتا۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر کا کہنا ہے کہ:
“قتل ایک مکمل اور واضح جرم ہے۔ اس کا فیصلہ شواہد، نیت اور واقعاتی حقائق پر ہوتا ہے، نہ کہ مقتول اور ملزم کے باہمی تعلق پر۔”
یہ مؤقف اس اصول کو مضبوط بناتا ہے کہ جرم کا ذمہ دار فرد ہوتا ہے، نہ کہ وہ حالات یا طرزِ زندگی جن میں وہ رہ رہا ہو۔
سماجی پس منظر
یہ حقیقت ہے کہ بڑے شہروں میں لیو اِن ریلیشن شپ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جو ایک نئے سماجی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ لیکن کیا اس رجحان کو قتل جیسے واقعات سے جوڑ دینا درست ہے؟
سماجی ماہرین اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات کا تعلق زیادہ تر:
نفسیاتی عدم توازن
غصے اور تشدد کے رجحان
طاقت کے غلط استعمال
اور قانون سے بے خوفی
سے ہوتا ہے، نہ کہ محض تعلق کی نوعیت سے۔
نور مقدم کیس بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ یہاں اصل مسئلہ ملزم کا شدید تشدد اور سفاکیت تھا، نہ کہ وہ رشتہ جس میں دونوں شامل تھے۔
عدلیہ کا موقف
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ مقدمے کے شواہد قتل کے جرم پر مکمل روشنی ڈالتے ہیں۔ جسٹس نجفی کے اضافی نوٹ میں اگرچہ لیو اِن ریلیشن پر اخلاقی پہلو اجاگر کیا گیا، تاہم حتمی قانونی فیصلے کا محور صرف اور صرف جرم کے شواہد ہی رہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ ریاست کا فرض ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت ہے — اس کی ذاتی زندگی یا طرزِ زندگی سے قطع نظر۔
پاکستان میں لیو اِن ریلیشن بلاشبہ نہ اسلامی اقدار سے طابقت رکھتا ہے اور نہ ہی معاشرتی سطح پر اسے قبولیت حاصل ہے۔ مگر اسے قتل جیسے جرائم کے ساتھ براہِ راست جوڑ دینا قانونی، منطقی اور سماجی طور پر درست نہیں۔
نور مقدم کیس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ:
جرم کا تعین تعلقات سے نہیں بلکہ عمل اور نیت سے ہوتا ہے۔
قانون سب کے لیے برابر ہے۔
اخلاقی بحث کو انصاف کے سوال پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔
معاشرہ چاہے جتنی بھی تبدیلیوں سے گزرے، قانون کا دائرہ ہمیشہ واضح رہنا چاہیے—اور اسی واضح دائرے نے اس مقدمے میں ظالم کے لیے سزائے موت اور مظلوم کے لیے انصاف کا راستہ ہموار کیا
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
موجودہ حکومت کا بجٹ — عوامی ریلیف یا نئی سمت کا تعین؟
مقدسہ بانو
برطانیہ میں آج کل ہر گفتگو کا مرکز ایک ہی سوال ہے: کیا موجودہ حکومت کا نیا بجٹ واقعی عوام کے لیے ریلیف لائے گا، یا یہ محض سیاسی بیانیے کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے؟ چانسلر ریچل ریوز نے اس بجٹ کو ایک “منصفانہ راستہ” قرار دیا ہے، جو مہنگائی کے بوجھ سے دبے ہوئے گھرانوں، انتظار گاہوں میں تھکے ماندے مریضوں اور قرض میں جکڑی معیشت کے لیے امید کی کرن سمجھا جا رہا ہے۔ مگر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ آئیے جائزہ لیتے ہیں۔
مہنگائی میں کمی—ایک ضروری قدم
توانائی کے بڑھتے ہوئے بل گزشتہ چند برسوں سے ہر گھر کی کہانی بن چکے تھے۔ اس لیے اپریل 2026 سے اوسط بل میں تقریباً 150 پاؤنڈ کی کمی کا اعلان ایک بڑا فیصلہ ہے۔ یہ وہ ریلیف ہے جس کی عام شہری لمبے عرصے سے منتظر تھے۔
اسی کے ساتھ ’دو بچوں کی حد‘ کا خاتمہ ایک غیر معمولی سماجی اصلاح ہے۔ 4 لاکھ 50 ہزار بچوں کو غربت سے نکالنے کا جو دعویٰ سامنے آیا ہے، وہ نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی ضرورت بھی تھا۔ یہ فیصلہ سماجی انصاف کے باب میں حکومت کے لیے ایک مثبت نشان چھوڑے گا۔
ریل کرایوں کو تین دہائیوں بعد منجمد کرنا اور نسخہ فیس نہ بڑھانا حکومت کے اُن فیصلوں میں شامل ہیں جو براہِ راست عوام کی جیب پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے اقدامات کم از کم اتنا پیغام ضرور دیتے ہیں کہ حکومت معاشرے کے کمزور طبقات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہتی۔
این ایچ ایس—زخم پر مرہم یا صرف پٹی؟
این ایچ ایس کے مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اپائنٹمنٹ کے لیے مہینوں انتظار، اسپتالوں پر بے پناہ دباؤ، اور عملے کی کمی—یہ سب عوامی تکلیف کا حصہ ہیں۔ ایسے میں 250 نئے نیبرہُڈ ہیلتھ سینٹرز قائم کرنے کی تجویز ایک احسن قدم ہے۔
بظاہر یہ منصوبہ ہسپتالوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے گا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ مراکز بروقت مکمل ہوں گے، اور کیا ان کے لیے درکار عملہ اور وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے؟ اگر یہ منصوبہ صحیح سمت میں چلا تو 52 لاکھ اضافی اپائنٹمنٹس کی طرح یہ بھی ایک بڑی تبدیلی لائے گا۔
قومی قرض—آگے سخت فیصلوں کی گنجائش؟
حکومت نے قرض کم کرنے کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔ شرحِ سود میں مسلسل کمی سے مورگیج کی ادائیگیوں میں سہولت پیدا ہوئی ہے، مگر قرض کا بوجھ پھر بھی ایک حقیقت ہے۔
آمدن میں اضافے کے لیے کرایہ آمدن، مہنگی جائیدادوں اور آن لائن جوا بازی پر مزید ٹیکس لگانے کی تجویز بظاہر منصفانہ لگتی ہے—کیونکہ ٹیکس وہیں بڑھایا جا رہا ہے جہاں استطاعت زیادہ ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے فیصلوں کی سیاسی قیمت بھی ہوتی ہے، اور حکومت کو اس کا اندازہ بے شک ہوگا۔
بجٹ کا خلاصہ—امید اور امتحان
اس بجٹ میں عوامی ریلیف کے واضح اشارے موجود ہیں۔ یہ وہ فیصلے نہیں جو کاغذ پر اچھے لگیں بلکہ عملی زندگی میں بھی اثرات ڈال سکتے ہیں۔ مگر معیشت صرف اعلانات سے نہیں بدلتی—عملی نفاذ، وقت اور تسلسل ضروری ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بجٹ حکومت کے لیے ایک سیاسی سرمایہ ثابت ہوتا ہے یا عملی مشکلات میں گھرا ایک نیا امتحان۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے سمت کا تعین ضرور کیا ہے—اب سفر کتنا ہموار رہے گا، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔
…………………….
امیگریشن پالیسی اور شبانہ محمود — جنوبی ایشیائی برادری کے لیے بڑھتی بے یقینی
از مقدسہ بانو
برطانیہ میں امیگریشن پالیسی ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ تازہ ترین بحث کا محور لیبر حکومت کی نمائندہ شبانہ محمود ہیں جنہوں نے امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ اور نظام میں اصلاحات کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں۔ اگرچہ حکومتی نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ اصلاحات نظام کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے ضروری ہیں، مگر پاکستانی اور کشمیری نژاد برطانوی شہریوں میں ان پالیسیوں کے ممکنہ اثرات کو لے کر واضح اضطراب پایا جاتا ہے۔
پناہ گزین کی حیثیت کی ازسرِنو جانچ، مستقل رہائش کے لیے سخت شرائط، اور ویزہ پالیسیوں میں مزید سختی—یہ وہ نکات ہیں جنہوں نے ایک ایسے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جو پہلے ہی سماجی و معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ خاص طور پر وہ خاندان جن کی دہائیوں پر مشتمل برطانوی زندگی اب بھی “عارضی حیثیت” کے قوانین کے رحم و کرم پر ہے۔ ایسے لوگ اپنے مستقبل کے حوالے سے مستقل بے یقینی کا شکار رہتے ہیں، کیونکہ انہیں ہر چند سال بعد اپنی حیثیت ثابت کرنا پڑتی ہے۔
زبان اور سماجی شمولیت کے حوالے سے نئی شرائط بھی خاصی تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستانی و کشمیری برادری میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو محنت کش طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور انگریزی زبان میں مہارت ان کا بنیادی صلاحیت نہیں ہے۔ تاہم ان کا معاشرے میں کردار کسی طور کم اہم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا معیارِ زبان کو انسان کی سماجی قدر کا پیمانہ بنایا جا سکتا ہے؟ اس پر ایک واضح اور سنجیدہ قومی مکالمہ ضروری ہے۔
شبانہ محمود نے ایسے ممالک کے لیے بھی سخت اشارے دیے ہیں جو اپنے شہری واپس لینے میں تعاون نہیں کرتے۔ اس تناظر میں پاکستان اکثر زیرِ بحث رہتا ہے، جس کے باعث برطانوی پاکستانی خاندانوں میں ویزہ پالیسیوں کے مستقبل کے حوالے سے بے چینی بڑھ رہی ہے۔ یہ بے چینی صرف سفری معاملات تک محدود نہیں بلکہ خاندانی رشتوں، کاروباری روابط اور تعلیمی منصوبوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔
تاہم اس صورتِ حال کا ایک دوسرا پہلو بھی موجود ہے۔ امیگریشن نظام میں بے ضابطگیوں اور تاخیر نے برطانوی وسائل پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ پالیسی سخت ہو، لیکن شفافیت پر مبنی ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کمیونٹی کی آواز زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اگر پاکستانی اور کشمیری برادری منظم انداز میں اپنے تحفظات حکومتی اداروں تک پہنچائے تو پالیسی سازی میں توازن لایا جا سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کمیونٹی نمائندگان، کونسلرز، قانونی ماہرین اور سماجی تنظیمیں ایسے مسائل پر مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کوئی بھی قانون تبھی مؤثر ہوتا ہے جب وہ سماجی انصاف کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے۔ اگر قانون کا نفاذ انسانی پہلو کو نظرانداز کر دے تو وہ معاشرتی ہم آہنگی کے بجائے کشیدگی کو بڑھاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ امیگریشن پالیسی صرف سرحدوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانوں کے اعتماد اور ان کی شناخت کا مسئلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پالیسی سخت کرے تو انصاف کے تقاضوں کو بھی ساتھ لے کر چلے، اور برادری کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو مؤثر انداز میں سامنے لائے۔ یہی راستہ ہے جو بے یقینی کو اعتماد میں بدل سکتا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
محفلِ اقبال — ایک تلخ مشاہدہ
از قلم: بانو
گزشتہ شب علامہ محمد اقبال کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے مانچسٹر میں ایک نہایت خوبصورت اور پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ ہال میں اقبال کی شاعری کی خوشبو، مہذب لہجوں کی گونج اور فکر و دانش کی چمک رچی ہوئی تھی۔ معروف مقررین، صاحبِ اسلوب شعراء اور لب و لہجے میں رس گھولتی شاعرات نے طرحی مصرعے پر اپنے کلام سے محفل کو تابندگی بخشی۔
تقریب کی رونق میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب مانچسٹر کے قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل صاحب خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ مانچسٹر سٹی کونسل کے معزز کونسلرز—ربنواز اکبر، احمد علی، مقدسہ بانو، شہباز سرور—اور ایم پی افضل خان کی شرکت نے محفل کو اعتبار اور وقار کے نئے رنگ عطا کیے۔
پروگرام کے اختتام پر چائے اور لوازمات کا عمدہ انتظام تھا۔ قونصل جنرل صاحب نے نہایت خوبصورتی سے کیک کاٹنے کی رسم بھی ادا کی، اور محفل خوش گپیوں اور مسکراہٹوں سے جگمگا رہی تھی۔ میں نے ارادہ کیا کہ چند ممتاز مقررین سے تبادلۂ خیال کروں، جن کے خیالات نے مجھے اس شام خاص طور پر متاثر کیا تھا۔
مگر اچانک سامنے ایک ایسا منظر اُبھرا جس نے میرے تمام تصورات کو جھنجھوڑ دیا۔
وہی حضرات—جو منبر پر علم و شعور کی بلندیوں پر جلوہ گر تھے—کیک پر اس بے تابی سے ٹوٹ پڑے کہ لمحوں میں ساری وقار آفرینی تحلیل ہوتی محسوس ہوئی۔ ان کی آنکھوں میں کھانے کی ایسی ہوس دیکھی کہ دل بےاختیار مکدر ہو گیا۔
میں چند لمحے وہیں ساکت کھڑی رہی۔
دل نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تم فکری بلندیوں کے مینار سمجھتی تھیں؟”
دل چاہا اس منظر کی تصویر محفوظ کر لوں، مگر پھر یہی سوچ کر ہاتھ روک لیا کہ شاید یہ شایانِ ادب نہیں۔ البتہ قلم کو روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
گھر واپسی پر خود کلامی کی کیفیت نے گھیر لیا۔
دل سے وہی دعا نکلی:
یا اللہ! جسے تو علم کی رفعت عطا کرے، اسے پیٹ کی بے صبری اور حرص سے بھی محفوظ رکھ۔ لوگ فکر کے مینار تو کھڑے کر لیتے ہیں، مگر آدابِ زندگی کے امتحان میں پل بھر میں اپنا اصل آشکار کر بیٹھتے ہیں۔
یوں اقبال کی محفل اپنی دلکشی سمیت ایک گہرا سبق دے کر رخصت ہوئی—
کہ انسان کی اصل پہچان اکثرنعمت کے سامنےہی ظاہر ہوتی ہے
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ستائسویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ
⬅آئینی ترمیم کے مسودے میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم تجویز
⬅ترمیم کے ذریعے “فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ” کے قیام کی تجویز
⬅سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی “وفاقی آئینی عدالت” قائم کرنے کی شق
⬅وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا
⬅چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر
⬅وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے
⬅آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے کا اختیار
⬅آئینی عدالت کو آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا دائرہ اختیار
⬅آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی تجویز
⬅آرٹیکل 175 میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترمیم
⬅سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات محدود، نئی عدالت کو منتقل
⬅آرٹیکل 175A میں ججز تقرری کے لیے نیا طریقہ کار تجویز
⬅جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے چیف جسٹس شامل
⬅وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے
⬅آرٹیکل 189 میں ترامیم، آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم
⬅سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان
⬅آرٹیکل 243 میں ترامیم — چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم
⬅آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا اضافی عہدہ دیا گیا
⬅”فیلڈ مارشل” کو قومی ہیرو کا درجہ دینے اور تاحیات مراعات دینے کی تجویز
⬅آرٹیکل 93 میں ترمیم، وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار
⬅آرٹیکل 130 میں ترمیم، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ
⬅آرٹیکل 206 میں ترمیم، سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور
⬅آرٹیکل 209 میں ترمیم، سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط
⬅آرٹیکل 175B سے 175L تک نیا باب شامل — وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات و طریقہ کار
⬅آرٹیکل 176 تا 183 میں ترامیم، سپریم کورٹ کے حوالے سے اصطلاحات کی تبدیلی
⬅آرٹیکل 186 اور 191A حذف کرنے کی تجویز
⬅آئینی عدالت کا ایڈوائزری دائرہ کار بھی متعین کیا جائے گا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ریمیمبرنس سنڈے
وہ مسلمان سپاہی جو تاریخ میں امر ہو گئے
تحریر: مقدسہ بانو
برطانیہ میں ہر سال نومبر کے دوسرے اتوار کو ریمیمبرنس سنڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔
یہ دن اُن لاکھوں سپاہیوں کی یاد میں وقف ہے جنہوں نے دونوں عالمی جنگوں میں اپنی جانیں قربان کیں۔
لال پوپی کے پھول اس یاد کا استعارہ ہیں — خاموشی، عقیدت اور قربانی کی علامت۔

لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان ہیروز میں ایک بڑی تعداد ان مسلمان سپاہیوں کی بھی تھی جو اُس وقت برطانوی ہندوستان کی فوج کا حصہ تھے۔
یہ وہ جوان تھے جو آج کے پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے خطوں سے تعلق رکھتے تھے، اور جنہوں نے 1914 سے 1945 تک یورپ، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور برما کے میدانوں میں بہادری کی وہ داستانیں رقم کیں جن پر آج بھی برطانوی فوج فخر کرتی ہے۔
برطانوی ہندوستان کے مسلمان سپاہی
پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں برطانوی ہندوستان سے تقریباً 13 لاکھ سپاہی شریک ہوئے۔
ان میں سے چار لاکھ کے قریب مسلمان تھے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق ان میں سے 70 ہزار سے زائد سپاہی مختلف محاذوں پر شہید ہوئے۔
یہ وہ دور تھا جب مذہب، نسل یا قومیت سے بالاتر ہو کر سپاہی صرف فرض کے جذبے کے تحت لڑ رہے تھے۔
ان میں سے چند نام ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گئے — وہ مسلمان سپاہی جنہیں دشمن کے سامنے غیر معمولی بہادری پر Victoria Cross (VC) سے نوازا گیا۔
یہ برطانوی سلطنت کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے، جو صرف ان افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے دشمن کے سامنے جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی فوج یا ساتھیوں کو بچانے کے لیے غیر معمولی قربانی دی ہو۔
سپاہی خداداد خان VC (1888–1971)
پہلی جنگِ عظیم کے دوران 129th Duke of Connaught’s Own Baluchis کے سپاہی خداداد خان نے 31 اکتوبر 1914 کو بیلجئیم کے مقام Hollebeke میں اپنی مشین گن ٹیم کے تمام ساتھیوں کے شہید ہونے کے باوجود دشمن پر فائرنگ جاری رکھی۔
شدید زخمی ہونے کے باوجود محاذ نہیں چھوڑا اور دشمن کی پیش قدمی روک دی۔
انہیں اس کارنامے پر برطانوی سلطنت کے پہلے مسلمان سپاہی کے طور پر Victoria Cross دیا گیا۔
خداداد خان کا تعلق ضلع چکوال (پاکستان) سے تھا، اور آج بھی ان کا نام فوجی تاریخ کا فخر ہے۔
صوبیدار میجر میر دست VC (1874–1945)
خیبر کے افریدی قبیلے سے تعلق رکھنے والے میر دست 55th Coke’s Rifles کے بہادر سپاہی تھے۔
26 اپریل 1915 کو بیلجئیم کے مقام Ypres پر جرمن فوج نے زہریلی گیس سے حملہ کیا۔
اس ہولناک منظر میں میر دست نے آٹھ برطانوی اور ہندوستانی افسران کو گیس اور گولیوں کی بارش میں محفوظ مقام تک پہنچایا۔
انہیں بھی Victoria Cross سے نوازا گیا۔
وہ خیبر پختونخوا کے پہلے مسلمان تھے جنہیں یہ اعزاز ملا۔
صوبیدار شاہامد خان VC (1879–1947)
ضلع راولپنڈی کے علاقے ڈوملی سے تعلق رکھنے والے شاہامد خان 89th Punjabis رجمنٹ کے سپاہی تھے۔
1916 میں عراق کے محاذ پر انہوں نے اپنی پوزیشن اکیلے سنبھال کر دشمن کے کئی حملے ناکام بنائے۔
ان کی جرات اور قیادت پر انہیں Victoria Cross دیا گیا۔
ان کا یہ کارنامہ آج بھی برطانوی آرمی میوزیم میں محفوظ ہے۔
نائب صوبیدار عبدالحمید VC (1925–1944)
برما کے محاذ پر لڑنے والے عبدالحمید 9th Jat Regiment میں نائب صوبیدار تھے۔
6 اپریل 1944 کو انہوں نے دشمن کے مورچوں پر دو بار حملہ کیا، زخمی ہونے کے باوجود لڑتے رہے اور بالآخر شہید ہو گئے۔
انہیں بھی Victoria Cross سے نوازا گیا۔
سپاہی فضل دین VC (1921–1945)
پنجاب کے ضلع ہوشیارپور کے رہائشی فضل دین 10th Baluch Regiment کے جوان تھے۔
مارچ 1945 میں برما کے مقام Meiktila پر لڑائی کے دوران انہوں نے دشمن افسر کی تلوار چھین کر اسی کے خلاف استعمال کی۔
شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنی ٹیم کو بچایا، مگر خود جامِ شہادت نوش کیا۔
انہیں بعد از مرگ Victoria Cross دیا گیا۔
نائک علی حیدر VC (1913–1999)
دوسری جنگِ عظیم کے دوران اٹلی کے مقام Senio پر علی حیدر (13th Frontier Force Rifles) نے دشمن کی مشین گن پوزیشن پر اکیلے حملہ کیا۔
انہوں نے کئی جرمن فوجیوں کو ہلاک کیا اور باقی کو پسپا کیا۔
انہیں ان کی شجاعت کے اعتراف میں Victoria Cross دیا گیا۔
علی حیدر بعد میں پاکستان واپس آئے اور طویل زندگی پائی۔
تاریخ کا گمشدہ باب
ان بہادر مسلم سپاہیوں کے نام اکثر عالمی تاریخ میں پس منظر میں چلے جاتے ہیں، مگر ان کی قربانیاں برطانوی سلطنت کی بقا میں مرکزی کردار رکھتی تھیں۔
برطانوی فوج کے ریکارڈ کے مطابق، پہلی جنگِ عظیم میں ہندوستانی فوجی دستوں نے یورپ کے محاذ پر ایک لاکھ سے زائد قیدی بنائے، چار ہزار سے زیادہ افسران ہلاک کیے، اور درجنوں محاذوں پر فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
ریمیمبرنس سنڈے مشترکہ وراثت کی یاد:
آج برطانیہ میں ریمیمبرنس سنڈے کے موقع پر لال پوپی کے پھول سینوں پر سجائے جاتے ہیں،
تو ان میں خداداد خان، میر دست، شاہامد خان، فضل دین، علی حیدر اور دیگر ہزاروں مسلم سپاہیوں کی یاد بھی شامل ہے۔
یہ صرف برطانوی یا مغربی ہیروز کی یاد نہیں — یہ انسانیت، ایمان اور قربانی کی ایک مشترکہ تاریخ ہے۔
تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ ان تمام مسلم شہداء کو یاد رکھا جائے جنہوں نے جنگوں کی ہولناکیوں میں اپنی بہادری سے روشنی پیدا کی۔
ان کے کارنامے اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ ایمان، فرض شناسی اور جرات انسانیت کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
یہی پیغام ریمیمبرنس سنڈے کا اصل مفہوم ہے — یاد رکھنا تاکہ قربانی رائیگاں نہ جائے۔
//////////////////////////////////
ڈیجیٹل دور کے سائے — سوشل میڈیا کے خطرناک رجحانات اور بچوں کا تحفظ
تحریرو تحقیق: مقدسہ بانو
ڈیجیٹل انقلاب نے دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ معلومات کی رسائی لمحوں میں ممکن ہو گئی، مگر اسی سہولت نے ڈیجیٹل دور کے سائے — سوشل میڈیا کے خطرناک رجحانات اور بچوں کا تحفظ ایسا نیا بحران بھی جنم دیا ہے جس نے والدین، تعلیمی اداروں اور حکومتوں کو یکساں طور پر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
برطانوی حکومت نے حالیہ بیان میں سوشل میڈیا پر پھیلتے “خطرناک رجحانات” کو بچوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آن لائن دنیا کے بے قابو اثرات اب بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت پر براہِ راست حملہ آور ہیں۔
اس بحران کے پیشِ نظر برطانیہ نے آن لائن سیفٹی ایکٹ 2023 کے تحت ایسے جامع قوانین نافذ کیے ہیں جن کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس قانون کے مطابق، اوف کام (Ofcom) کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے عملی اقدامات کروائے۔
ان اقدامات میں نمایاں درج ذیل نکات شامل ہیں:
عمر کی تصدیق:
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسا نظام لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے ذریعے صارف کی عمر کی درست تصدیق کے بغیر بالغ یا خطرناک مواد تک رسائی ممکن نہ ہو۔
الگورتھمز کی نگرانی:
ان کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کو اس طرح ترتیب دیں کہ وہ کم عمر صارفین کو ایسا مواد خودکار طور پر تجویز نہ کریں جو ذہنی یا جسمانی نقصان کا باعث بنے۔
رپورٹنگ اور ہٹانے کا نظام:
نقصان دہ یا غیر اخلاقی مواد کے خلاف شکایت موصول ہونے پر فوری کارروائی اور مواد کو ہٹانے کا مؤثر نظام لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ قوانین 25 جولائی 2025 سے نافذ ہوں گے، اور حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ بچوں کے لیے “ایک محفوظ ڈیجیٹل نسل” کی بنیاد رکھی جائے گی۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق، برطانیہ میں آٹھ سے تیرہ سال کی عمر کے تقریباً ساٹھ فیصد بچے روزانہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔
“چلڈرنز کمشنر” کی 2024ء کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہر پانچ میں سے ایک بچہ کسی نہ کسی صورت میں ایسا مواد دیکھ چکا ہے جو احساسِ کمتری، جسمانی شرمندگی، یا خود اذیتی کے رجحان کو ابھارتا ہے۔
مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے الگورتھمز اس نقصان دہ رجحان کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ ایک بار منفی یا حساس مواد دیکھ لے تو پلیٹ فارم خود بخود اسی نوعیت کی مزید ویڈیوز اور تصاویر تجویز کرتا رہتا ہے۔ یہ ایک خطرناک ذہنی دائرہ ہے، جس سے نکلنا بچوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ بحث اب محض اخلاقیات کی نہیں بلکہ قانون اور ذمہ داری کی ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیاں اکثر آزادیِ اظہار کے نام پر اپنے آپ کو جوابدہی سے مستثنیٰ سمجھتی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پلیٹ فارمز پر روزانہ لاکھوں کم عمر صارفین موجود ہوتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر ان کمپنیوں کا منافع انہی صارفین کی سرگرمیوں پر منحصر ہے، تو کیا وہ واقعی بچوں کے تحفظ کو ترجیح دیں گی؟
یہ وہ تضاد ہے جو ڈیجیٹل دنیا کی بنیادوں میں پوشیدہ ہے — منافع اور انسانی تحفظ کے درمیان کشمکش۔
قانون سازی اہم ہے، مگر یہ مسئلہ صرف سرکاری سطح پر حل نہیں ہو سکتا۔ والدین کا کردار اس حوالے سے سب سے بنیادی ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق، اگر والدین بچوں سے ان کے آن لائن تجربات پر کھل کر بات کریں، انہیں اعتماد دیں اور خطرناک مواد کے بارے میں آگاہ کریں، تو نقصان کی شدت نمایاں حد تک کم کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نصاب میں ڈیجیٹل اخلاقیات (Digital Ethics) اور آن لائن سلامتی کے مضامین شامل کریں تاکہ نئی نسل کو سوشل میڈیا کے فوائد کے ساتھ اس کے خطرات کا شعور بھی حاصل ہو۔
حکومتِ برطانیہ کے اقدامات یقینی طور پر درست سمت میں ایک قدم ہیں، مگر یہ مسئلہ کسی ایک قانون سے حل نہیں ہوگا۔
یہ محض ایک قانونی نہیں بلکہ سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔ جب تک معاشرہ اجتماعی طور پر یہ تسلیم نہیں کرتا کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال نسلوں کو ذہنی دباؤ، احساسِ کمتری، اور غیر حقیقی تقابل کے جال میں جکڑ رہا ہے، تب تک کسی قانون کا نفاذ دیرپا اثر پیدا نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا جدید دور کی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے، مگر اس کے خطرناک رجحانات اب ہمیں سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
حکومت کا انتباہ دراصل ایک اجتماعی پیغام ہے — کہ وقت آ گیا ہے ہم اپنی ترجیحات طے کریں۔
کیا ہم اپنی نئی نسل کو ورچوئل دنیا کے اندھیروں میں گم ہونے دیں گے، یا انہیں ایسا شعور دیں گے جو روشنی بن سکے؟
ڈیجیٹل دنیا کا سفر رک نہیں سکتا، مگر اس میں محفوظ رہنے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
………………………………………..
اذنِ مسافر
مقدسہ بانو
انسان محض گوشت اور پوست کا پیکر نہیں، بلکہ وہ مٹی میں چھپی ہوئی روشنی ہے۔ جب یہ روشنی اندر سے بیدار ہوتی ہے تو ایک نادیدہ اشارہ ملتا ہے — ایک آواز جو روح کے گہرے سمندر سے اُبھرتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب بندہ “اذنِ مسافر” پاتا ہے۔
یہ اذن دراصل روحانی بیداری کی علامت ہے۔ وہ لمحہ جب دل کو اطمینان نہیں رہتا، آنکھیں کسی پوشیدہ منزل کو تلاش کرنے لگتی ہیں، اور وجود محسوس کرتا ہے کہ اب سفر شروع ہو گیا ہے۔ یہ سفر کسی سرزمین یا فاصلے کا نہیں — بلکہ اندر کے کعبہ اور دل کی کربلا کا سفر ہے۔
“اذنِ مسافر” کا مطلب ہے: رب کی طرف سے بندے کو اجازت کہ اب وہ اس راستے پر چلے جہاں عشق اور معرفت کی سرحدیں ایک ہو جاتی ہیں۔ صوفیاء اسے “سفرِ باطن” کہتے ہیں — وہ راستہ جو انسان کو ظاہر سے باطن، عقل سے عشق، اور خودی سے فنا تک لے جاتا ہے۔
جب کسی روح کو یہ اذن ملتا ہے تو وہ عام راستوں سے ہٹ کر چلتی ہے۔ دنیاوی شور اسے متاثر نہیں کرتا۔ مٹی، جو کبھی محض جسم کی بنیاد تھی، ایک آئینہ بن جاتی ہے جس میں خالق کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے فنا فی اللہ کا سفر شروع ہوتا ہے — یعنی خود کو مٹا کر حقیقتِ مطلق میں تحلیل ہونا۔
صوفیانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اذنِ مسافر ایک روحانی دعوت ہے۔ یہ دعوت ہر اُس دل کو ملتی ہے جو خالص نیت سے تلاش میں نکلتا ہے۔ مگر یہ اجازت ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی — کیونکہ دل کا کعبہ پہلے پاک ہونا ضروری ہے۔ جو دل نفرت، حسد، یا تکبر سے آلودہ ہو، وہ اس روشنی کو برداشت نہیں کر سکتا۔
یہ اذن عشق کا پہلا دروازہ کھولتا ہے۔ اس دروازے سے گزرنے والا شخص خود کو بدلتا نہیں، بلکہ پہچانتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے:
> “میں وہی نہیں جو دنیا دیکھتی ہے، میں وہ ہوں جسے خالق جانتا ہے۔”
“اذنِ مسافر” اس لمحے کا نام ہے جب تخلیق کار اپنے لفظوں میں خدا کی سانس محسوس کرتا ہے، جب عاشق اپنے سجدے میں کائنات کو جھکتے ہوئے دیکھتا ہے، اور جب انسان اپنے اندر کے اندھیرے سے روشنی کی طرف سفر کرتا ہے۔
آخرِ کار، یہ اذن روح کو اُس مقام تک پہنچا دیتا ہے جہاں سوال مٹ جاتے ہیں، اور صرف ایک صدا باقی رہتی ہے:
> “انا الیہ راجعون” — ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
_________________
تخلیقی صلاحیتوں نے مجھے مِٹی بنا دیا،
روح میری کو اذنِ مسافر بنا دیا۔
خود کو تراشنے میں صدیوں گزر گئے،
خوابوں نے دل کو مقدّر بنا دیا۔
بھٹکتی نہیں یہاں وہاں بڑی علی مزاج ہے،
سر کو جھکا کہ کعبہ میں دل ڈھونڈتی ہے کربلا۔
قدم قدم پہ نور اُترنے لگا بانو،
جب عشق نے درد کو زیور بنا دیا۔
خودی کے آئینے میں جلوہ خدا کا تھا،
ہم نے نظر کو ہی منظر بنا دیا۔
فنا کے رستے پہ جا کے یہ راز کھل گیا،
عشق نے بندے کو رہبر بنا دیا۔
لفظوں کے درمیاں جو خاموشی بولتی رہی،
اس کے خیال کو میں نےمحور بنا دیا۔
………………………………………..
خاموش متاثرین: مرد بھی گھریلو تشدد کا شکار
از مقدسہ بانو
جب گھریلو تشدد کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے خواتین کا خیال آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ خواتین بڑی تعداد میں اس ظلم کا شکار بنتی ہیں، مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ مرد بھی محفوظ نہیں۔ دنیا بھر کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گھریلو تشدد کے ہر تین متاثرین میں سے ایک مرد ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں مرد متاثرین پر بات کرنا تقریباً ممنوع ہے۔
پاکستان میں درست اعداد و شمار کم دستیاب ہیں، مگر چند تحقیقی مطالعات ہمیں ایک جھلک دکھاتے ہیں۔ لاہور اور فیصل آباد میں 2024 کی تحقیق کے مطابق تقریباً 39 فیصد مرد کسی نہ کسی شکل میں گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ کئی مردوں نے بتایا کہ شریکِ حیات نے انہیں جسمانی نقصان پہنچایا یا نفسیاتی و مالی دباؤ میں رکھا۔
کراچی کے ایک مطالعے میں 49 فیصد مردوں نے اعتراف کیا کہ وہ ازدواجی زندگی میں جسمانی تشدد (مارپیٹ، تھپڑ یا گھونسے وغیرہ) کا سامنا کر چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسئلہ ہمارے گھروں میں موجود ہے، لیکن معاشرہ اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
المیہ یہ ہے کہ مرد اگر اپنی اذیت بیان کریں تو اکثر مذاق کا نشانہ بنتے ہیں۔ پولیس اور عدلیہ بھی ایسے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متاثرہ مرد خاموش رہتے ہیں اور اکثر ڈپریشن، تنہائی اور ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بعض تو خودکشی جیسے انتہائی قدم تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔
حکومت اور معاشرہ مل کر اقدامات کریں: مرد متاثرین کے لیے علیحدہ ہیلپ لائنز، شیلٹرز اور قانونی سہولیات فراہم کی جائیں، اور پولیس و عدلیہ کی تربیت کی جائے کہ وہ مرد متاثرین کی شکایات کو بھی برابر اہمیت دیں۔
یاد رکھیں، ظلم کا کوئی صنفی امتیاز نہیں ہوتا۔ ظلم عورت پر ہو یا مرد پر، ظلم ہی کہلاتا ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہے جو ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو۔
حوالہ جات:
1. Reexamining Domestic Violence: A Study on Male Victims in the Context of Pakistani Legislation (2024) – Pakistan Journal of Criminology & Law.
2. Attitudes of Pakistani Men to Domestic Violence: A Study from Karachi – Journal of Men’s Health & Gender, 2005 (Aga Khan University study).
3. ONS, UK Domestic Abuse Statistics (2023-24) – Office for National Statistics, UK
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
حسد، جلن اور احساسِ کمتری – معاشرتی ناسور
تحریر:مقدسہ بانو
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:
الحسدُ شرُّ الأمراض.”
(حسد سب سے بُری بیماری ہے۔)
یہ قول دراصل انسانی نفسیات اور معاشرتی خرابیوں پر ایک مکمل تجزیہ ہے۔ حسد انسان کے دل کو سکون سے محروم کر دیتا ہے اور وہ نہ اپنی خوشیوں میں مطمئن رہتا ہے اور نہ ہی دوسروں کی کامیابی کو دیکھ سکتا ہے۔ یہی کیفیت معاشرے کو اندر سے توڑنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
قرآن کی روشنی میں
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ” (النساء: 54)
یعنی “کیا یہ لوگ دوسروں سے حسد کرتے ہیں اس بات پر کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے؟”
اسی طرح سورۃ الفلق میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی کہ ہم حاسد کے شر سے پناہ مانگیں۔
احادیث کی روشنی میں
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“حسد سے بچو! کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔” (ابو داود)
ایک اور حدیث میں ہے:
“مومن کے دل میں ایمان اور حسد کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔” (نسائی)
معاشرتی اثرات
جب حسد اور جلن کسی فرد یا قوم میں جڑ پکڑ لیں تو وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ کے بجائے دشمن بن جاتے ہیں۔ احساسِ کمتری اس زہر کو مزید گہرا کر دیتا ہے، کیونکہ یہ انسان کو اپنی صلاحیتوں سے ناامید اور دوسروں کی خوشیوں کا دشمن بنا دیتا ہے.
اقوالِ دانش
* امام غزالیؒ فرماتے ہیں: “حاسد دراصل اللہ کے فیصلے پر اعتراض کرتا ہے۔”
* ایک مفکر نے کہا: “حسد سب سے پہلی بیماری تھی جس نے قابیل کو ہابیل کا قاتل بنایا۔”
اس ناسور کا علاج صرف شکر گزاری، قناعت اور ایثار میں ہے۔ عبادت، ذکر اور مثبت سوچ انسان کے دل کو وسعت اور سکون دیتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ کی تقسیم ہی سب سے بڑی حکمت ہے۔
اگر ہم مولا علی علیہ السلام کے فرمان کو اپنے دل پر نقش کر لیں کہ “حاسد کبھی سکون نہیں پاتا”تو ہم نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے معاشرے کو حسد اور جلن کی آگ سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔ محبت، ایثار اور خیر خواہی ہی معاشرتی سکون اور ترقی کی اصل بنیاد ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ہلزبرو لاء: انصاف اور شفافیت کی نئی بنیاد
1989
کے سانحے سے جنم لینے والی جدوجہد
ہلزبرو لاء، جسے باضابطہ طور پر پبلک اتھارٹی (اکاؤنٹیبلٹی) بل کہا جاتا ہے، برطانیہ میں انصاف اور شفافیت کے ایک نئے دور کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ قانون 1989 کے ہلزبرو اسٹیڈیم کے المیے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

ہلزبرو سانحہ: ایک تلخ حقیقت
15 اپریل 1989 کو شیفیلڈ کے ہلزبرو اسٹیڈیم میں فٹبال میچ کے دوران خوفناک بھگدڑ سے 97 لورپول شائقین جاں بحق ہوئے۔
اس کے بعد پولیس اور ریاستی اداروں کی جانب سے حقائق چھپانے اور متاثرین کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوششوں نے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔
2017 میں بشپ جیمز جونز کی رپورٹ “دی پیٹرونائزنگ ڈسپوزیشن آف ان اکاؤنٹیبل پاور” سامنے آئی۔ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ عوامی اداروں پر سچائی بتانے اور متاثرین کے ساتھ انصاف کرنے کی قانونی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
ہلزبرو لاء کی نمایاں خصوصیات
* سرکاری ادارے حقائق چھپانے کے بجائے سچائی بیان کرنے کے پابند ہوں گے۔
* برابر مواقع: متاثرہ خاندانوں کو وہی قانونی سہولتیں دی جائیں گی جو ریاستی اداروں کو حاصل ہیں۔
۔ جوابدہی کا نظام:غلط بیانی یا حقائق چھپانے پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
* ثقافتی تبدیلی:پولیس اور ہیلتھ سروس سمیت تمام عوامی اداروں میں شفافیت کو فروغ دیا جائے گا۔
وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے اعلان کرتے ہوئے کہا:
“ہلزبرو خاندانوں کی جدوجہد نے ہمیں سچائی اور انصاف کی اہمیت یاد دلائی۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ ایسا قانون لاؤں گا جو ریاست کو جوابدہ بنائے، اور آج ہلزبرو لاء اسی وعدے کی تکمیل ہے۔ یہ صرف 97 شہداء کی یادگار نہیں بلکہ برطانیہ میں طاقت اور انصاف کے توازن کی نئی بنیاد ہے۔”
مستقبل کی سمت
ہلزبرو لاء کو صرف ہلزبرو سانحے تک محدود نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ یہ قانون گرینفل ٹاور اور بلڈ اسکینڈل جیسے واقعات کے متاثرین کے لیے بھی انصاف اور سچائی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
یہ قانون متاثرہ خاندانوں کے لیے صرف انصاف کا وعدہ نہیں بلکہ ایک قومی سبق بھی ہے: ریاست کو ہمیشہ عوام کے سامنے جوابدہ رہنا ہوگا۔
ذرائع / Resources
1.Bishop James Jones Report (2017)– The Patronising Disposition of Unaccountable Power
[رپورٹ پڑھیں](https://assets.publishing.service.gov.uk/media/5a82c1cce5274a2e8ab5931d/6_3860_HO_Hillsborough_Report_2017_FINAL_updated.pdf)
2.UK Government Response to Bishop James Jones Report
[حکومت کا ردعمل](https://assets.publishing.service.gov.uk/media/65704de81104cf0013fa75d1/A_Hillsborough_Legacy.pdf)
3. Hillsborough Law Now – Official Campaign Website
[Hillsborough Law Now](https://hillsboroughlawnow.org/)
4. Charter for Families Bereaved Through Public Tragedy
[چارٹر پڑھیں](https://www.policeconduct.gov.uk/publications/charter-families-bereaved-through-public-tragedy)
5. Chief Coroner Response to Bishop James Jones Report
[جواب کورونر](https://www.judiciary.uk/wp-content/uploads/2023/06/Chief-Coroner_Response-to-the-Bishop-James-Jones-report_final_061223_2311-1.pdf
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
لندن میں نفرت انگیز مارچ ، وجوہات، اثرات اور خطرات
تحقیقاتی رپورٹ: مقدسہ بانو
لندن میں حالیہ دنوں ہونے والے بڑے مظاہرے نے معاشرتی و سیاسی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ ٹومی رابنسن کی قیادت میں منعقدہ اس مارچ میں اندازاً 80,000 کے قریب افراد شریک ہوئے۔ شرکاء نے مسلمانوں، پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے خلاف نعرے لگائے، جس کے نتیجے میں شہر کی فضا خوف اور بے اعتمادی سے بھر گئی۔ اسی روز تقریباً 7,000 افراد نے نسل پرستی اور فسطائیت کے خلاف پُرامن احتجاج بھی کیا۔

1. مظاہرے کی تنظیم اور مقاصد
* مظاہرہ “Unite the Kingdom “کے نام سے منظم کیا گیا۔
* قیادت: ٹومی رابنسن، جو دائیں بازو کی سیاست، اینٹی امیگرنٹ تحریکوں اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے مشہور ہیں۔
* بنیادی ایجنڈا: حکومت کی پناہ گزین پالیسیوں کے خلاف احتجاج اور “قومی شناخت” کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں اور پناہ گزینوں کو نشانہ بنانا۔
* شرکاء میں دائیں بازو کی مختلف تنظیموں اور گروہوں کے نمائندے شامل تھے، جن میں کچھ یورپی نیٹ ورکس سے وابستہ کارکن بھی شریک ہوئے۔
2. پولیس اور سیکیورٹی انتظامات
* مظاہرے کے دوران لگ بھگ 2,000 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جنہیں لندن کے علاوہ دیگر اضلاع سے بھی بلایا گیا تھا۔
* پولیس نے مظاہرین اور کاؤنٹر پروٹسٹرز کے درمیان واضح فاصلہ رکھا تاکہ براہِ راست ٹکراؤ سے بچا جا سکے۔
* اس کے باوجود، کئی مقامات پر مظاہرین نے رکاوٹیں توڑنے اور پولیس پر بوتلیں اور فلیئرز پھینکنے کی کوشش کی۔
* نتیجتاً تقریباً 20 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ پولیس مزید افراد کی نشاندہی کر رہی ہے۔
3. قانونی اور عدالتی پہلو
* برطانیہ میں نفرت انگیز تقاریر (Hate Speech) جرم کے زمرے میں آتی ہیں۔
* اگر کسی نے مظاہرے میں براہِ راست تشدد پر اُکسانے یا کسی گروہ کو نشانہ بنانے والے نعرے لگائے تو عدالتی کارروائی ناگزیر ہے۔
* ماضی کے کئی مقدمات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عدالتیں سخت مؤقف اختیار کرتی ہیں، لیکن مؤثر نفاذ ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔
4. متاثرہ کمیونٹیز کا ردعمل
* مسلمان کمیونٹی: مساجد اور مسلم تنظیموں نے کہا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں پر حملہ نہیں بلکہ برطانوی معاشرتی اقدار پر حملہ ہے۔ کئی خاندانوں نے خوف کے باعث اپنی روزمرہ سرگرمیاں محدود کر دیں۔
* پناہ گزین تنظیمیں: انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ ہمیشہ ایک تکثیری اور مہاجر دوست معاشرہ رہا ہے، اور ایسے مظاہرے اس ورثے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
* نسل پرستی مخالف گروہ: “Stand Up to Racism” جیسے نیٹ ورکس نے کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف کھڑا ہونا اب ناگزیر ہے۔
5. سیاسی اثرات
* دائیں بازو کے رہنما اس مظاہرے کو عوامی حمایت میں اضافے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
* انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حزبِ مخالف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کھل کر ایسے مظاہروں کی مذمت کرے۔
* اگر حکومت نے مبہم ردعمل دیا تو اس سے اقلیتوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
6. میڈیا اور بیانیہ
* مرکزی میڈیا نے اس واقعے کو بڑی خبر کے طور پر پیش کیا، مگر پُرامن کاؤنٹر مظاہرے کی کوریج نسبتاً محدود رہی۔
* سوشل میڈیا پر دو انتہائیں سامنے آئیں: ایک طرف نفرت انگیز بیانات کو پذیرائی، اور دوسری طرف انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے سخت مزاحمت۔
7. مستقبل کے خطرات
* ایسے مظاہرے دائیں بازو کے گروہوں کو مزید حوصلہ دے سکتے ہیں۔
* اگر ریاست نے سخت اور شفاف کارروائی نہ کی تو انتہا پسندی عام شہریوں کی زندگی میں مزید سرایت کر سکتی ہے۔
* پولیس اور مقامی اداروں کے لیے یہ ایک مستقل چیلنج ہے کہ آزادیِ اظہار اور نفرت انگیزی کے درمیان واضح لکیر قائم کی جا سکے۔
یہ مظاہرہ واضح کرتا ہے کہ برطانیہ میں سماجی تقسیم کتنی گہری ہو رہی ہے۔ یہ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک بڑے بحران کا اشارہ ہے۔
1. حکومت نفرت انگیز سیاست کے خلاف واضح اور سخت مؤقف اپنائے۔
2. پولیس اور عدلیہ شفاف کارروائی کریں تاکہ عوام کو اعتماد ملے۔
3. میڈیا متوازن رپورٹنگ کرے اور پُرامن آوازوں کو بھی جگہ دے۔
4. مقامی سطح پر کمیونٹیز کے درمیان مکالمہ اور اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔
یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے: کیا برطانیہ اپنی روایتی رواداری اور تکثیریت کو برقرار رکھ پائے گا یا نفرت کی سیاست اس معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دے گی؟
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سیلاب، سیاست اور تشہیر کا المیہ
مقدسہ بانو
آفات اور سیاست کا کھیل
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیلاب یا زلزلہ آیا، قوم مصیبت زدگان کے ساتھ کھڑی رہی۔ مگر ساتھ ہی ایک ایسا رجحان بھی زور پکڑتا رہا ہے جس نے خدمت کو سیاست کی نذر کر دیا ہے۔ امدادی اشیاء پر سیاسی رہنماؤں کی تصاویر اور ہر طرف فوٹو سیشنز کی بھرمار۔ گویا انسانی خدمت نہیں بلکہ تشہیر ہی اصل مقصد ہو۔
متاثرین کو چاہیے ریلیف یا تصاویر؟
آٹے کے تھیلے ہوں یا پینے کا صاف پانی، کمبل ہوں یا ادویات—ہر چیز پر کسی نہ کسی لیڈر کی تصویر چسپاں نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھوک سے بلکتے بچوں اور کھلے آسمان تلے بیٹھے خاندانوں کو تصویر چاہیے یا صرف امداد؟ یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ سیاستدان عوامی خدمت کو بھی اپنی مقبولیت کا ذریعہ بناتے ہیں۔
تشہیر کے منفی اثرات
یہ طرزِ عمل کئی پہلوؤں سے افسوسناک ہے:
سیاسی مفاد پرستی:
خدمت کے جذبے کو بھی ووٹ بینک کی سیاست سے جوڑ دینا۔
وسائل کا ضیاع:
* وہ رقم جو مزید امداد پر خرچ ہونی تھی، اشتہارات اور بینرز پر لگ جاتی ہے۔
متاثرین کی دل آزاری:
بھوکے اور بے گھر عوام کے سامنے مسکراتے چہرے دراصل ان کے دکھوں پر طنز کے مترادف ہیں۔
* قوم میں بداعتمادی:
* عوام کے ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ امداد ٹیکسوں اور عطیات کی ہے یا سیاستدانوں کی ذاتی ملکیت؟
دنیا کا سبق، ہماری کوتاہی
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں امدادی ادارے گمنام سپاہیوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ وہاں کسی وزیر کو چاول کے تھیلے بانٹتے نہیں دیکھا جاتا۔ مگر ہمارے ہاں خدمت بھی کیمرے کے سامنے شرط بن جاتی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جس نے اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کیا ہے۔
کیا ہونا چاہیے؟
وقت آ گیا ہے کہ اس رویے کو ختم کیا جائے:
* ریاست قانون سازی کرے کہ سرکاری یا عوامی فنڈ سے فراہم کی گئی امداد پر کسی بھی رہنما یا جماعت کی تصویر نہ ہو۔
* میڈیا ایسے فوٹو سیشنز کو ’’خبر‘‘ نہ بنائے بلکہ اصل توجہ متاثرین کی مشکلات پر مرکوز رکھے۔
* سیاستدانوں کو خدمت کو عبادت سمجھنا چاہیے، نہ کہ اشتہار۔
آخری بات
سیلاب زدگان کے لیے زیادہ ضروری کیا ہے؟ ان کے اجڑے خوابوں کو دوبارہ بسانا یا کسی رہنما کے کیمرے کے سامنے آنے کی خواہش پوری کرنا؟ اگر ہماری ترجیحات درست نہ ہوئیں تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
برطانوی سیاست میں ایک نئی کہانی
شبانہ محمود کی جدوجہد سے وزارتِ داخلہ تک کا سفر
تحریر: مقدسہ بانو
لندن کی گلیوں میں ایک تاریخی خبر گردش کر رہی ہے: پاکستانی نژاد شبانہ محمود اب برطانیہ کی وزیرِ داخلہ ہیں۔ یہ خبر محض ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ ان خوابوں کی تعبیر ہے جو کبھی ان کے والدین نے ہجرت کے بعد اپنی نئی نسل کے لیے دیکھے تھے۔
شبانہ محمود کا تعلق ایک کشمیری نژاد پاکستانی خاندان سے ہے۔ ان کے والدین بہتر مستقبل کی تلاش میں برطانیہ آئے، اور محنت و جدوجہد سے اپنی زندگی کو استوار کیا۔ ان کے لیے سیاست یا پارلیمنٹ محض خواب جیسی جگہ تھی، مگر یہی خواب انہوں نے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں پروئے۔ شبانہ محمود نے کم عمری سے ہی تعلیم اور محنت کو اپنا ہتھیار بنایا۔
انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی، جہاں وہ اپنی کلاس میں نمایاں رہیں۔ ایک تارکِ وطن بچی کے طور پر اعلیٰ تعلیم تک رسائی خود ایک بڑی کامیابی تھی، مگر شبانہ نے یہیں رکنے کے بجائے سیاست میں قدم رکھا تاکہ اُن طبقات کی آواز بن سکیں جو اکثر نظرانداز ہو جاتے ہیں۔
برمنگھم لیڈی وُڈ سے رکنِ پارلیمنٹ بننے کے بعد وہ ایک سرگرم سیاستدان کے طور پر ابھریں۔ عوامی مسائل پر آواز اٹھانا، انصاف اور برابری کی بات کرنا اور لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم پر مظلوم طبقات کی نمائندگی کرنا ان کے سیاسی کیریئر کا خاصہ رہا۔ وہ نہ صرف ایک وکیل کی نظر سے قانون کو سمجھتی ہیں بلکہ ایک تارکِ وطن کی اولاد کی حیثیت سے عوامی درد کو بھی محسوس کرتی ہیں۔

وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے جب انہیں وزارتِ داخلہ کے منصب کے لیے منتخب کیا تو یہ فیصلہ شبانہ کی شخصیت کی مکمل جھلک دکھاتا ہے: ایک پڑھی لکھی، تجربہ کار اور عوامی مسائل کو جاننے والی قیادت۔ اب وہ امیگریشن پالیسی، پولیس اصلاحات اور قومی سلامتی جیسے بڑے معاملات میں اپنی بصیرت شامل کریں گی۔
یہ تقرری پاکستانی نژاد برطانوی برادری کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ ہزاروں میل دور پاکستان اور کشمیر میں بھی یہ خبر امید کی کرن بن کر پہنچی ہے کہ مغرب میں بسنے والی نئی نسل نہ صرف اپنی شناخت قائم کر رہی ہے بلکہ قیادت کے اعلیٰ مناصب تک بھی پہنچ رہی ہے۔
شبانہ محمود کی کامیابی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ہجرت کے دکھوں اور قربانیوں سے نکلنے والی نسلیں ایک دن تاریخ بدلنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ آج جب وہ برطانیہ کی وزیرِ داخلہ کے طور پر حلف اٹھا رہی ہیں تو یہ لمحہ صرف ان کا نہیں بلکہ ہر اس تارکِ وطن کا لمحہ ہے جس نے کبھی خواب دیکھنے کی ہمت کی تھی
……………………..
باب النصر — قاہرہ کی فتح و کامرانی کا دروازہ
تحریر و تحقیق:مقدسہ بانو
قاہرہ کی تاریخی فضا میں ایک عظیم و شاندار دروازہ آج بھی اپنی شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ دروازہ ہے “باب النصر”، یعنی “فتح و نصرت کا دروازہ”، جسے دیکھ کر فاطمی عہد کے عظیم معماروں کی ہنر مندی اور مصر کی فاتح افواج کی عظمت یاد آتی ہے۔
تاریخی پس منظر
قاہرہ کی بنیاد فاطمی سپہ سالار جوہر الصقلی نے 969ء میں رکھی۔ شہر کی حفاظت کے لیے مضبوط فصیل اور دروازے تعمیر کیے گئے۔ انہی دروازوں میں ایک باب النصر بھی تھا، جو ابتدا میں اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں فاطمی وزیر بدر الجمالی نے 1087ء میں اس دروازے کو پتھر سے دوبارہ تعمیر کروایا اور اس کا نام “باب العز” رکھا۔ لیکن عوامی زبان پر اصل نام یعنی “باب النصر” ہی باقی رہا۔ مصری عوام نے اس نام کو اپنی تاریخ اور جذبۂ فتح سے جوڑ دیا تھا۔
فنِ تعمیر کی جھلکیاں
باب النصر ایک مضبوط قلعہ نما سنگی دروازہ ہے جس کے دونوں اطراف مربع برج کھڑے ہیں۔ ان برجوں پر تلواروں اور ڈھالوں کی نقش و نگاری آج بھی واضح ہے، جو اس وقت کی فوجی عظمت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ دروازے کی محرابی ساخت پر کوفی خط میں فاطمی عہد کے کلمات کندہ ہیں۔ یہاں تک کہ شیعہ طرز کی شہادت بھی موجود ہے،
دروازے کی محراب کے اوپر ایک بڑی پٹی (Frieze) میں کوفی خط میں درج ہے:
“لا إله إلا الله، محمد رسول الله، علي ولي الله”
(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، علیؑ اللہ کے ولی ہیں)
جو اس وقت کی مذہبی و سیاسی شناخت کی عکاس ہے۔
اس دروازے کی ایک اور انفرادیت یہ ہے کہ اس میں گھومتی ہوئی سیڑھیاں (spiral stairs) بنائی گئیں، جو اس دور میں ایک نیا فن تعمیراتی تجربہ تھا۔ یہی نہیں بلکہ ناپولین بوناپارٹ کے مصر پر حملے کے دوران فرانسیسی افواج نے بھی اس دروازے کے شمالی برج پر اپنے کمانڈروں کے نام کندہ کروائے۔
فاتح افواج کا راستہ
مصری تاریخ کے کئی عظیم سلاطین نے اپنی فتوحات کے بعد اسی دروازے سے شہر میں داخل ہوکر اپنی کامیابی کا اعلان کیا۔ ان میں الظاہر بیبرس، المنصور قلاوون، الاشرف خلیل اور الناصر قلاوون جیسے سلاطین شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب بھی دشمنوں کو شکست دی جاتی، فاتح سپاہی قیدیوں کو ساتھ لیے باب النصر کے راستے قاہرہ میں داخل ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ مصری عوام نے “باب النصر” کا نام کبھی نہیں بھلایا۔
آج کا باب النصر
آج بھی یہ دروازہ قاہرہ کے قدیم علاقے شارع الجمالیہ میں موجود ہے۔ قریب ہی باب الفتوح اور باب زویلہ بھی قائم ہیں، لیکن باب النصر اپنی عسکری شان اور تاریخی اہمیت کے سبب منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس دروازے کے اطراف آج بھی پرانی گلیاں اور بازار ہیں جو سیاحوں کو قرون وسطیٰ کے مصر کی یاد دلاتے ہیں۔
ثقافتی اور سیاحتی پہلو
باب النصر نہ صرف ایک تاریخی یادگار ہے بلکہ مصر کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بھی ہے۔ یہ دروازہ آج بھی دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو قاہرہ کی عظمت رفتہ کی سیر کراتا ہے۔ مؤرخین کے نزدیک یہ دروازہ فاطمی فنِ تعمیر اور اسلامی عسکری تاریخ کا نادر نمونہ ہے۔
باب النصر صرف پتھروں کا ایک دروازہ نہیں بلکہ قاہرہ کی فتح، کامیابی اور عوامی طاقت کی علامت ہے۔ صدیوں گزرنے کے باوجود یہ دروازہ اپنی اصل پہچان کے ساتھ ایستادہ ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ تاریخ کبھی مٹتی نہیں، بلکہ اپنی یادگاروں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
حوالہ جات:
* قاہرہ کی سرکاری ویب سائٹ (Cairo.gov.eg)
* وکی پیڈیا: باب النصر، قاہرہ
* Egypt Monuments Authority
* Egyptian Geographic & Cairo Scene
……………………………..
آرٹیفیشل انٹیلیجنس مصنوعی ذہانت۔۔۔ ترقی یا خطرہ؟
تحریر:مقدسہ بانو
دنیا ہمیشہ نئی ایجادات کے سحر میں مبتلا رہی ہے۔ کبھی بھاپ کے انجن نے تہلکہ مچایا، کبھی بجلی نے زندگی بدل ڈالی اور کبھی انٹرنیٹ نے انسانی سوچ کو نئی جہت دی۔ اب ایک اور ایسی ایجاد ہمارے سامنے ہے جس نے نہ صرف سائنسی حلقوں بلکہ پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لیا ہے۔ یہ ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت)۔
یہ اصطلاح پہلی بار 1956ء میں جان مکارتھی نے ڈارٹ ماؤتھ کانفرنس کے دوران استعمال کی۔ مقصد یہ تھا کہ کمپیوٹر کو انسانی دماغ کی طرح سوچنے اور سیکھنے کی صلاحیت دی جائے۔ ابتدا میں یہ ایک سائنسی خواب معلوم ہوتا تھا لیکن آج یہ خواب حقیقت میں بدل چکا ہے۔ روبوٹ، چیٹ بوٹس، ڈیجیٹل اسسٹنٹس، خودکار گاڑیاں اور مشین لرننگ کے سسٹمز۔۔۔ یہ سب اسی خواب کی تعبیر ہیں۔

مثبت پہلو
مصنوعی ذہانت نے زندگی کے ہر شعبے میں سہولتیں پیدا کی ہیں۔
تعلیم میں ورچوئل کلاس رومز، خودکار لرننگ سسٹمز اور طلبہ کی کارکردگی کا جدید تجزیہ شامل ہے۔
صحت کے میدان میں روبوٹک سرجری، بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور مریضوں کی مسلسل نگرانی ممکن ہوئی۔
کاروبار اور معیشت میں کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا تجزیہ نے فیصلے تیز اور مؤثر بنا دیے۔ ای-کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ نے اربوں ڈالر کی نئی معیشت کھڑی کر دی۔
روزمرہ زندگی میں بھی اے آئی کے کارنامے نظر آتے ہیں۔ وائس اسسٹنٹ، خودکار ترجمہ، اور سمارٹ ہوم ٹیکنالوجیز نے سہولت کو ہماری دسترس میں لا کھڑا کیا۔
منفی پہلو
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔
سب سے بڑا خطرہ بے روزگاری کا ہے۔ جب روبوٹ انسانوں کی جگہ لے لیں گے تو لاکھوں لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہو جائیں گے۔
دوسرا بڑا مسئلہ پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کا ہے۔ ہماری ذاتی معلومات مشینوں کے پاس ہیں، جو غلط ہاتھوں میں جا کر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
فیک نیوز اور ڈیپ فیکس کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرتی عدم استحکام کو جنم دے رہا ہے۔ آج سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو چکا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انسانی تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ مشینوں پر انحصار بڑھنے سے حقیقی میل جول اور رشتوں کی قربت کمزور پڑ رہی ہے۔
نتیجہ
یوں لگتا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایک دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف یہ ترقی کی نئی راہیں کھولتی ہے تو دوسری طرف خطرات کی آندھیاں بھی اٹھاتی ہے۔ اگر اسے ذمہ داری اور اخلاقی دائرے میں استعمال کیا جائے تو یہ انسانیت کے لیے رحمت ہے، لیکن اگر اندھا دھند اس پر انحصار کیا گیا تو یہ مصیبت بن سکتی ہے۔
شکریہ
یہ موضوع میرے ذہن میں محترمہ ماہ پارہ صفدر جی کی ایک یوٹیوب وڈیو دیکھنے کے بعد آیا۔ انہوں نے اس اہم اور حساس مسئلے پر سوچنے کی طرف توجہ دلائی۔ اس تحریک پر ان کا تہہ دل سے شکریہ
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جُزدان” ایک فارسی الاصل لفظ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے بٹوہ، پرس یا دستاویز رکھنے والا چھوٹا بیگ۔
اسے عام طور پر پیسے، کارڈز یا کاغذات محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ادبی و ثقافتی استعمال
شاعری میں جُزدان اکثر امانت، راز یا قیمتی چیز کے استعارے کے طور پر آتا ہے:
دل کا جزدان رازِ محبت سے بھرا ہے
بعض ادبی نصوص میں “جزدان” کو حافظِ امانت یا روحانی خزانے کی علامت کے طور پر بھی بیان کیا گیا۔
موجودہ دور میں استعمال
آج کے زمانے میں “جزدان” کا مطلب زیادہ تر پرس یا والٹ لیا جاتا ہے۔
کچھ علاقوں میں یہ لفظ اب بھی قرآنی غلاف یا کپڑے کے بیگ کے لیے رائج ہے
لغوی معنی اور ماخذ
اصل: فارسی زبان سے ماخوذ۔
معنی:
بٹوہ یا پرس
اہم کاغذات، زیورات یا نقدی رکھنے والا چھوٹا بیگ
تاریخی پس منظر
پرانے زمانے میں جُزدان کپڑے، چمڑے یا ریشم سے تیار ہوتا تھا۔
قرآنِ پاک یا دعا کی کتاب کو محفوظ رکھنے کے لیے خوبصورت کڑھائی والے جزدان عام تھے۔
دستاویزات اور قیمتی چیزیں بھی اسی میں رکھی جاتی تھیں
جزدان — یادوں اور امانتوں کا محافظ
جزدان… ایک ایسا لفظ جو سننے میں ہی نرمی، حفاظت اور نزاکت کی خوشبو بکھیر دیتا ہے۔ فارسی کے اس چھوٹے سے لفظ میں صدیوں کی کہانیاں بند ہیں۔ کبھی یہ ریشمی کڑھائی والا غلاف تھا جس میں قرآنِ پاک کو ادب سے سنبھالا جاتا، کبھی یہ چھوٹا سا چمڑے کا بٹوہ تھا جس میں کسی مسافر کی زندگی بھر کی کمائی محفوظ ہوتی۔
زمانہ بدلا، رنگ اور شکلیں بدل گئیں، مگر جزدان کا کام آج بھی وہی ہے — امانت کو حفاظت دینا۔ چاہے وہ نوٹوں کا پلندہ ہو یا محبت سے لکھا ایک خط، چاہے شناختی کارڈ ہو یا پرانی یادوں کی کوئی تصویر — جزدان سب کو اپنے اندر چھپا لیتا ہے۔
ادب میں جزدان صرف ایک چیز رکھنے والا بیگ نہیں، بلکہ رازوں کا ساتھی اور خوابوں کا محافظ ہے۔ جیسے دل اپنے جذبات کو چھپا کر رکھتا ہے، ویسے ہی جزدان بھی خاموشی سے اپنے اندر دنیا بھر کی کہانیاں سمیٹ لیتا ہے۔
شاید اسی لیے ہر شخص کا جزدان، اس کی زندگی کی ایک خاموش ڈائری بھی ہے۔
“جزدان ”
میرے دل کا جزدان
وقت کے نرم ہاتھوں سے سلا ہوا،
صدیوں کی امانتوں سے بھرا ہوا ہے۔
اس میں وہ سکے ہیں—
محبت کے،
جو زنگ آلود ضرور ہیں
مگر دھڑکن کی مدھم گونج
ابھی باقی ہے۔
ایک گوشے میں خواب ہیں،
دھاگے میں بندھے،
ایسے نازک
کہ میں نے کبھی
ان کی گرہ کھولنے کی ہمت نہ کی۔
چند زرد کاغذ بھی ہیں،
ادھورے خط
جن کے حروف
بارش کے لمس سے دھل کر
خاموش ہو گئے،
مگر خوشبو ابھی تک
لفظوں میں بسی ہے۔
ایک خفیہ خانہ ہے—
جہاں یادیں سو رہی ہیں،
ہنسی کے چھوٹے موتی،
آنسوؤں کے قطرے،
اور لمس کی وہ گرمی
جو وقت کی گرد سے بھی
مدھم نہیں ہوئی۔
میرے دل کا جزدان
کسی خزانے سے کم نہیں،
اور میں—
اس کی اکلوتی محافظ،
رازوں کی امین،
وقت کی مسافر،
جو ہر کہانی کو
خاموشی میں سنبھالے رکھتی ہوں۔ بانو
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ضیاء الحق کا دور: آمریت کی تاریک ترین رات
مقدسہ بانو

ضیاء الحق کا دور: آمریت کی تاریک ترین رات
مقدسہ بانو
پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے کئی باب لکھے گئے ہیں، مگر جنرل ضیاء الحق کا دور ان سب میں سب سے سیاہ اور طویل باب ہے۔ یہ وہ دور تھا جب عوام کی رائے، سیاست کی روح اور آزادیٔ اظہار کو بیڑیوں میں جکڑ دیا گیا۔ قوم سے کیے گئے وعدے جھوٹ ثابت ہوئے اور جمہوریت کے چراغ کو بجھا کر خوف و جبر کی راجدھانی قائم کی گئی۔
نوّے دن کا وعدہ، گیارہ برس کی قید
جنرل ضیاء نے 1977ء میں اقتدار پر قبضہ کرتے وقت بڑے فخر سے اعلان کیا کہ نوّے دن کے اندر انتخابات ہوں گے۔ لیکن یہ نوّے دن گیارہ برس کی قید میں بدل گئے۔ اقتدار کی ہوس نے وعدے کو نگل لیا اور عوام کو یہ سبق دیا گیا کہ طاقتور کی زبان، آئین اور قانون سے بالاتر ہے۔
سیاست اور صحافت کا قتل
اس دور میں اختلاف رائے غداری سمجھا گیا۔ سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارے گئے، جیلوں میں ڈالا گیا اور عوامی آواز کو دبایا گیا۔ اخبارات پر ایسی سنسرشپ مسلط کی گئی کہ حقائق کے بجائے صرف دربار کے قصیدے چھپتے۔ وہ قلم جو حق لکھنے کے لیے اٹھے، ٹوٹ گئے۔ یہ آمریت کا وہ زہر تھا جس نے جمہوری معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔
مذہب بطور ہتھیار
ضیاء الحق نے اسلام کے مقدس نام کو اپنے اقتدار کی حفاظت کے لیے استعمال کیا۔ حدود آرڈیننس اور دیگر اقدامات کے ذریعے معاشرے پر ایسا نظام مسلط کیا گیا جس نے انصاف کے بجائے خوف کو جنم دیا۔ مذہب کے تقدس کو سیاسی ڈھال بنانا ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا آج تک پاکستانی معاشرہ بھگت رہا ہے۔
افغان جہاد کا خونی تحفہ
افغانستان کی جنگ میں امریکہ کا آلہ کار بننے کے بدلے پاکستان کو ڈالر اور اسلحہ تو ملا، مگر اس کے ساتھ کلاشنکوف، ہیروئن اور دہشت گردی کا تحفہ بھی آیا۔ ضیاء کی پالیسیوں نے پاکستان کی گلیوں کو خون میں نہلا دیا اور آج بھی ہم اسی آگ کے شعلوں میں جل رہے ہیں۔
ضیاء کا انجام اور قوم کے لیے سبق
ضیاء الحق کی زندگی ایک فضائی حادثے میں ختم ہوئی، مگر ان کی آمریت کے اثرات آج بھی زندہ ہیں۔ اداروں کا بگاڑ، انتہاپسندی کا عفریت اور جمہوریت پر عدم اعتماد—یہ سب ان کے دور کی یادگار ہیں۔ ان کی موت نے ثابت کیا کہ آمریت کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اس کا انجام عبرت ہی ہوتا ہے۔
ضیاء الحق کا دور آمریت کی ایک ایسی داستان ہے جو ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ قوموں کی اصل ترقی طاقت کے بل پر نہیں بلکہ عوامی رائے اور جمہوری اقدار پر ہے۔ یہ سیاہ رات ہمیں ہمیشہ خبردار کرتی رہے گی کہ جب تک ہم آمریت کے خلاف کھڑے نہ ہوں، ہمارے خواب بار بار لٹتے رہیں گے
سیاست اور صحافت کا قتل
اس دور میں اختلاف رائے غداری سمجھا گیا۔ سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارے گئے، جیلوں میں ڈالا گیا اور عوامی آواز کو دبایا گیا۔ اخبارات پر ایسی سنسرشپ مسلط کی گئی کہ حقائق کے بجائے صرف دربار کے قصیدے چھپتے۔ وہ قلم جو حق لکھنے کے لیے اٹھے، ٹوٹ گئے۔ یہ آمریت کا وہ زہر تھا جس نے جمہوری معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔
مذہب بطور ہتھیار
ضیاء الحق نے اسلام کے مقدس نام کو اپنے اقتدار کی حفاظت کے لیے استعمال کیا۔ حدود آرڈیننس اور دیگر اقدامات کے ذریعے معاشرے پر ایسا نظام مسلط کیا گیا جس نے انصاف کے بجائے خوف کو جنم دیا۔ مذہب کے تقدس کو سیاسی ڈھال بنانا ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا آج تک پاکستانی معاشرہ بھگت رہا ہے۔
افغان جہاد کا خونی تحفہ
افغانستان کی جنگ میں امریکہ کا آلہ کار بننے کے بدلے پاکستان کو ڈالر اور اسلحہ تو ملا، مگر اس کے ساتھ کلاشنکوف، ہیروئن اور دہشت گردی کا تحفہ بھی آیا۔ ضیاء کی پالیسیوں نے پاکستان کی گلیوں کو خون میں نہلا دیا اور آج بھی ہم اسی آگ کے شعلوں میں جل رہے ہیں۔
ضیاء کا انجام اور قوم کے لیے سبق
ضیاء الحق کی زندگی ایک فضائی حادثے میں ختم ہوئی، مگر ان کی آمریت کے اثرات آج بھی زندہ ہیں۔ اداروں کا بگاڑ، انتہاپسندی کا عفریت اور جمہوریت پر عدم اعتماد—یہ سب ان کے دور کی یادگار ہیں۔ ان کی موت نے ثابت کیا کہ آمریت کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اس کا انجام عبرت ہی ہوتا ہے۔
ضیاء الحق کا دور آمریت کی ایک ایسی داستان ہے جو ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ قوموں کی اصل ترقی طاقت کے بل پر نہیں بلکہ عوامی رائے اور جمہوری اقدار پر ہے۔ یہ سیاہ رات ہمیں ہمیشہ خبردار کرتی رہے گی کہ جب تک ہم آمریت کے خلاف کھڑے نہ ہوں، ہمارے خواب بار بار لٹتے رہیں گے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مانچسٹر کری مائل پر یومِ آزادی: خوشی یا ہلڑ بازی؟
تحریر مقدسہ بانو
کل شب برطانیہ کے شہر مانچسٹر کی مشہور ولمزلو روڈ کری مائل پر پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر ایسا منظر دیکھنے کو ملا، جس نے خوشی کے اس دن کے اصل مقصد اور جذبے کو دھندلا کر رکھ دیا۔ سبز ہلالی پرچموں کی بہار، گاڑیوں پر جھنڈیاں، نوجوانوں کے چہروں پر سبز و سفید رنگ، فضا میں پاکستان زندہ باد کے نعرے — یہ سب دیکھ کر دل فخر سے بھر آتا تھا۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک ایسا شور و غوغا، بے ہنگم ہلڑ بازی اور غیر مناسب رویے بھی سامنے آئے کہ ایک باشعور شہری کا دل مایوسی سے بھر گیا۔
شور، دھواں اور خطرناک حرکات
شام ڈھلتے ہی گاڑیوں کے انجن گرجنے لگے، ایگزاسٹ سے دھواں فضا کو بوجھل کرنے لگا، اور کان پھاڑنے والے ہارن و موسیقی نے ماحول کو ایک تہذیبی جشن کی بجائے کسی اسٹریٹ ریس کا منظر دے دیا۔ موٹر سائیکلوں پر نوجوان خطرناک اسٹنٹس اور ون ویلنگ کرتے دیکھے گئے۔ کئی گاڑیاں بے قابو انداز میں دوڑتی ہوئیں نہ صرف اپنے سوار بلکہ پیدل چلنے والوں اور بچوں کے لیے بھی خطرہ بن رہی تھیں۔
کری مائل کے ریستورانوں اور دکانوں کے باہر کھڑے بزرگ شہری اور خاندان یہ سب دیکھ کر پریشان تھے۔ بچے شور اور دھویں سے متاثر ہو رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے خوشی منانے کے نام پر ایک اجتماعی نظم و ضبط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہوں۔
ہم کیا پیغام دے رہے ہیں؟
ایک مسلمان اور باشعور تارکِ وطن کی حیثیت سے یہ سوال ناگزیر ہے کہ ہم ان حرکتوں سے برطانیہ میں دیگر اقوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا ہم یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستانی خوشی منانے کے لیے قانون شکنی، شور شرابہ اور عوامی پریشانی کو جائز سمجھتے ہیں؟ یہ طرزِ عمل نہ تو اسلام کی تعلیمات سے میل کھاتا ہے، نہ ہی ایک مہذب قوم کی پہچان سے۔
ہم سات سمندر پار کیوں آئے تھے؟ کیا ہم یہاں اسی لیے آئے تھے کہ اپنے وطن کے قومی دن کو ایسی حرکات سے بدنام کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم یہاں ایک بہتر مستقبل، معیاری تعلیم، محفوظ ماحول اور ترقی کے مواقع کے لیے آئے ہیں۔ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو مہذب، باعزت اور ذمہ دار شہری دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے انہیں یہ سکھا دیا کہ جشن کا مطلب قانون شکنی اور ہنگامہ آرائی ہے، تو ہم اپنی ہی محنت اور خوابوں پر پانی پھیر دیں گے۔
اصل نقصان کس کا؟
اس طرح کی بد نظمی نہ صرف وہاں موجود عوام کے سکون کو برباد کرتی ہے بلکہ پاکستانی کمیونٹی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ مقامی میڈیا میں اس طرح کی منفی کوریج ہمارے بارے میں غلط تاثر پھیلاتی ہے، جس کا بوجھ پوری کمیونٹی کو اٹھانا پڑتا ہے۔
حل اور ذمہ داری
خوشی منانا ہمارا حق ہے، مگر خوشی کا طریقہ ہی ہمارے مہذب ہونے کا ثبوت ہے۔
* ٹریفک اور عوامی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے مخصوص مقامات پر تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔
* گاڑیوں کے شور، خطرناک ڈرائیونگ اور دھواں چھوڑنے کے بجائے سبز پرچم، روشنیوں اور ثقافتی پروگراموں سے ماحول کو خوشگوار بنایا جائے۔
نوجوانوں کو سمجھایا جائے کہ آزادی کی اصل روح قانون کی پاسداری، نظم و ضبط، اور دوسروں کے احترام میں ہے۔
آخری سوال
سوچیے، اگر آج قائداعظم یا تحریکِ پاکستان کے مجاہدین ہمارے جشن کا یہ منظر دیکھتے تو کیا وہ خوش ہوتے یا شرمندہ؟
یومِ آزادی کا مقصد محض شور نہیں، بلکہ اپنی شناخت کو شائستگی، تہذیب اور فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر ہم واقعی آزادی کی قدر جانتے ہیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت بھی کرنا ہوگا۔
…………………………
مشیِ اربعین — قدم قدم پر وفا کی گواہی
تحریر: بانو
اربعینِ حسینیؑ کا دن، اسلامی تاریخ کا وہ لمحہ ہے جسے کوئی زمانہ، کوئی حکومت، اور کوئی طاقت فراموش نہیں کر سکی۔ یہ دن فقط شہادتِ حسینؑ کے چالیسویں کا حساب نہیں، بلکہ ایک روحانی بیداری، فکری پیغام اور قلبی سفر کی علامت ہے۔ اور اسی عظمت کا مظہر ہے مشیِ اربعین — وہ پیدل سفر جو نجف اشرف سے کربلا تک طے کیا جاتا ہے، لیکن اس کے قدموں کی گونج اب صرف عراق تک محدود نہیں، بلکہ پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔
مشیِ اربعین کا تاریخی آغاز
مشیِ اربعین کی جڑیں 61 ہجری میں اس وقت پیوست ہوئیں جب نواسۂ رسولؐ، امام حسینؑ کی شہادت کے بعد حضرت امام زین العابدینؑ اور حضرت زینبؑ قافلۂ اسیری کے ساتھ کربلا واپس تشریف لائے۔ اسی وقت حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ، جو رسول اللہؐ کے صحابی تھے، مدینہ سے پیدل سفر کر کے زیارتِ حسینؑ کے لیے کربلا پہنچے۔ یہ واقعہ تاریخ میں مشیِ اربعین کی پہلی بنیاد کہلاتا ہے۔
یہ وہ سفر تھا جو کسی حکومتی دعوت، کسی مادی مفاد یا رسم کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ خالص عشق، شعور اور فریضۂ وفا سے لبریز تھا۔
صدیوں کا جبر، مگر سفر نہ رکا
اس کے بعد کے ادوار میں زیارتِ حسینؑ کو دبانے کی مختلف کوششیں کی گئیں:
عباسی و اموی ادوار: زائرین پر پابندیاں، محصول، اور خوف کا ماحول
عثمانی خلافت: کبھی اجازت، کبھی سختی
بعثی حکومت (صدام حسین): مشیِ اربعین مکمل طور پر ممنوع، زائرین پر حملے اور قید
2003 کے بعد: مشی کو نئی روح ملی، اور عوام نے گلی گلی، قریہ قریہ یہ صدا بلند کی: لبیک یا حسینؑ
یہی وہ لمحہ تھا جب مشی محض ایک مذہبی سفر نہ رہا، بلکہ ایک عالمی انسانی مظہر میں تبدیل ہونے لگا۔
اعداد و شمار کی روشنی میں مشی کی وسعت
ابتدا میں مشی خفیہ انداز میں چند ہزار افراد تک محدود تھی۔ لیکن پچھلی دو دہائیوں میں اس کی وسعت نے دنیا کو حیران کر دیا:
2003: اندازاً 20 لاکھ زائرین
2010: 1 کروڑ سے زائد
2014: 1 کروڑ 70 لاکھ
2019: 2 کروڑ
2024: 2 کروڑ 50 لاکھ (ریکارڈ حاضری)

زائرین نہ صرف عراق و ایران سے بلکہ پاکستان، بھارت، افغانستان، لبنان، یمن، بحرین، نائجیریا، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، آسٹریلیا، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دنیا کے درجنوں ممالک سے آتے ہیں۔
مشیِ اربعین — مذہبی اجتماع یا عالمی تحریک؟
آج مشیِ اربعین فقط زیارت کا سفر نہیں، بلکہ ایک اجتماعی، فکری، سیاسی اور اخلاقی درس ہے۔
بین المذاہب وحدت:
مشی میں صرف شیعہ نہیں، سنی، عیسائی، صابئی، حتیٰ کہ بے دین افراد بھی شریک ہوتے ہیں۔ امام حسینؑ اب امت نہیں، انسانیت کے امام بن چکے ہیں۔
عالمی خدمت کا مظاہرہ:
لاکھوں موکب بغیر کسی ریاستی تعاون کے خدمات فراہم کرتے ہیں — کھانا، پانی، طبی امداد، آرام، لباس، حتیٰ کہ بعض جگہوں پر حجامت اور پاؤں دھونے تک کی خدمات۔
امن و انصاف کا پیغام:
مشی اس جدید دنیا کو یہ بتاتی ہے کہ مذہب صرف فتوے اور اختلاف کا نام نہیں — بلکہ انسانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے، اگر حسینؑ کو مرکز بنایا جائے۔
سیاست و استکبار کی نفی:
مشی میں کوئی سیاسی نعرہ نہیں لگتا، مگر یہ خود ایک خاموش اعلان ہے کہ ظلم کے خلاف قیام حسینؑ کا پیغام ہر دور کے یزید کے خلاف اٹھے گا۔
میری نظر میں مشیِ اربعین…
میں مشی کو ایک مؤمنہ، ایک حساس انسان، ایک مشاہدہ کرنے والی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔ یہ راستہ صرف قدموں سے نہیں، ضمیر سے طے ہوتا ہے۔
یہ وہ درسگاہ ہے جہاں زبان بند، مگر قلب بولتا ہے۔
جہاں دنیا کی زبانیں مختلف، مگر پیغام ایک ہے:
“ہم حسینؑ کے ساتھ ہیں — ہر ظلم کے خلاف، ہر مظلوم کے ساتھ”
مشیِ اربعین، وقت کی سب سے بڑی پرامن تحریک ہے — جس کا نہ کوئی صدر ہے، نہ وزیر، نہ بانی، نہ محافظ۔
اس کا محافظ خود حسینؑ ہے، اور اس کا جذبہ خود فاطمہؑ کے آنسو۔
یہ کالم فقط ایک بیان نہیں، ایک التجا ہے — کہ دنیا کربلا کے فلسفے کو سمجھے، حسینؑ کو مذہب کے قید خانے سے نکال کر انسانیت کے افق پر رکھے، اور مشیِ اربعین جیسے عظیم مظاہر کو فقط “زیارت” نہ سمجھے، بلکہ ایک مسلسل “پیغام” جانے۔
📌 مشیِ اربعین وہ سفر ہے جو ظاہراً نجف سے کربلا تک ہے — مگر حقیقتاً، یہ سفر دل سے خدا تک ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستانی ثقافتی اقدار: ہم بڑوں کو خالہ، پھوپھو، آنٹی اور انکل کیوں کہتے ہیں؟
تحریر: مقدسہ بانو
پاکستانی گھروں میں ادب سکھایا نہیں جاتا، جیا جاتا ہے۔ اسی ادب کا ایک خوبصورت پہلو یہ ہے کہ ہم اپنے بڑوں کو نام سے نہیں پکارتے۔ بچوں اور نوجوانوں کی زبان سے خالہ، پھوپھو، آنٹی، انکل، بھائی اور باجی جیسے القابات محبت سے ادا ہوتے ہیں۔
مغرب میں پلا بڑھا کوئی شخص اس روایت کو عجیب سمجھ سکتا ہے، مگر ہمارے لیے یہ تہذیب، ورثے اور تعلق کی ایک جیتی جاگتی علامت ہے۔
الفاظ سے بڑھ کر ادب
پاکستانی معاشرہ ادب کو بنیادی قدر مانتا ہے۔ بڑوں کو نام سے پکارنا بے تکلفی بلکہ بعض اوقات بے ادبی سمجھا جاتا ہے۔ “جب محلے کے بچے مجھے خالہ کہہ کر بلاتے ہیں تو دل خوش ہو جاتا ہے، حالانکہ ہمارا کوئی رشتہ نہیں”۔ یہ کہتی ہیں محترمہ شکیلہ خان، وہلی رینج، مانچسٹر کی رہائشی۔

محلہ ہی خاندان
ہمارے رواج میں محلے دار، دوست، حتیٰ کہ جاننے والے بھی خاندان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کسی کو پھوپھو یا ماموں کہنا صرف ایک لقب دینا نہیں بلکہ اسے زندگی میں ایک رشتہ دار کا مقام دینا ہے۔
دیار غیر میں روایت کا تسلسل
یہ عادت بیرون ملک پاکستانیوں میں بھی زندہ رہتی ہے۔ چاہے مانچسٹر ہو، لندن، ٹورنٹو یا نیویارک، آنٹی اور انکل کہہ کر پکارنا ثقافتی پہچان کو زندہ رکھتا ہے۔ انگلینڈ میں بچوں کی زبان سے یہ الفاظ سن کر پاکستان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
محبت اور حفاظت کا رشتہ
کسی کو باجی یا بھائی کہنا محض ادب نہیں بلکہ محبت، اعتماد اور تعلق کی علامت ہے۔ یہ ایک ایسا سماجی دائرہ بناتا ہے جس میں ہر فرد دوسرے کا خیال رکھتا ہے۔
آج کے دور میں اس کی اہمیت
آج جب دنیا تیزی سے انفرادیت کی طرف بڑھ رہی ہے، یہ روایت ہمیں تعلق، ادب اور رشتوں کی خوبصورتی یاد دلاتی ہے۔
یقیناً بڑوں کو خالہ، پھوپھو، آنٹی یا انکل کہنا صرف ایک لفظ نہیں، یہ محبت، ثقافت اور اتحاد کا وہ پل ہے جو نسلوں کو جوڑتا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بھارت انگلینڈ میچ سے پاکستانی تماشائی کو باہر نکالنے کے واقعے پر لنکا شائر نے معافی مانگ لی
مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ اسٹیڈیم سے پاکستانی تماشائی کو باہر نکالنے پر انگلش کاؤنٹی کرکٹ کلب لنکا شائر نے معافی مانگ لی۔
چند روز قبل بھارت انگلینڈ ٹیسٹ میچ کے دوران ایک مداح کوپاکستانی ٹیم کی ٹی شرٹ پہننے پرگراؤنڈ سے نکال دیا گیا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لنکا شائر نے اولڈ ٹریفورڈ اسٹیڈیم سے پاکستانی تماشائی کے اخراج کے بعد پیش آنے والی ’کسی بھی پریشانی اور جرم کی وجہ سے‘ معافی مانگ لی ہے۔
اس حوالے سے شائق فاروق نذر نے کہا تھا کہ میں میچ دیکھ رہا تھا، سکیورٹی والوں نے پاکستانی شرٹ ڈھانپنے کو کہا، سکیورٹی والوں نے بولا شرٹ تبدیل کر لو یا گراؤنڈ سے چلے جاؤ۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پی سی بی کا ای سی بی کو خط: اولڈ ٹریفورڈ میں پاکستانی مداح کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر وضاحت طلب
مقدسہبانو/مانچسٹر (خصوصی رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو باضابطہ خط لکھ کر مانچسٹر میں بھارت اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میچ کے دوران ایک پاکستانی مداح کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی نژاد شائقِ کرکٹ فاروق نذر پانچویں دن اولڈ ٹریفورڈ میں پاکستان کی سبز جرسی پہن کر موجود تھے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ان سے جرسی ڈھانپنے کا مطالبہ کیا۔ اہلکاروں کا مؤقف تھا کہ میچ میں صرف شریک ٹیموں (بھارت یا انگلینڈ) کی جرسی کی اجازت ہے۔ فاروق نذر نے مطالبے کی تحریری وضاحت طلب کی مگر کوئی باضابطہ پالیسی پیش نہ کی گئی۔ بعد ازاں ایک خاتون پولیس افسر بھی موقع پر پہنچیں، تاہم مداح نے اپنی جرسی تبدیل یا ڈھانپنے سے انکار کرتے ہوئے اسٹیڈیم چھوڑ دیا۔

فاروق نذر نے اس اقدام کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے ای سی بی اور مقامی حکام کو باضابطہ شکایت درج کرائی۔ انہوں نے کہا کہ قریب موجود بھارتی شائقین نے ان کی جرسی پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور وہ صرف کرکٹ کی محبت میں میچ دیکھنے آئے تھے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وسیع تنقید کا سبب بنا۔ متعدد صارفین نے اسے غیر ضروری اور امتیازی اقدام قرار دیا۔ لانکا شائر کرکٹ کلب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی اندرونی تحقیقات کر رہا ہے۔
پی سی بی نے ای سی بی سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا آئی سی سی، ای سی بی یا اولڈ ٹریفورڈ کی کسی پالیسی میں ایسی ہدایت موجود ہے جو غیر شریک ٹیم کی جرسی پہننے پر پابندی عائد کرتی ہو۔
ای سی بی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مدارس کی دیواروں کے اندر دفن صدائیں: تشدد، اخلاقی بحران اور سماجی خاموشی”
تحریر و تحقیق
مقدسہ بانو
پاکستان کے مدارس ایک مقدس تصور کے تحت چلتے ہیں، مگر یہ تقدس بچوں کے لیے خوف اور درد کا سامان بن چکا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، سوات میں ایک نان رجسٹرڈ مدرسے کے سربراہ سمیت 10 افراد کو ایک بچے کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جبکہ 2 دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے
اس سے چند روز قبل پشاور کے قریب ایک طالب علم فرحان کو 3 اساتذہ نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جو ہسپتال لے جانے پر دم توڑ گیا۔
. ملک بھر میں بچوں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے اعداد و شمار
* 2024 کے پہلے نصف سال میں 1,630 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 862 جنسی تشدد، 668 اغواء، 82 گمشدگی، 18 نابالغ شادیاں اور 48 پورنوگرافی کے واقعات شامل ہیں۔
* 2023 میں ہر 2 گھنٹے بعد ایک بچہ جنسی استحصال کا نشانہ بنتا رہا، کل 2,227 واقعات رپورٹ ہوئے، 54٪ متاثرین لڑکیاں تھیں، اور تقریباً 92٪ ملزمان واقفِ کار تھے۔
* 2022 میں تقریباً 4,253 جنسی تشدد کے کیسز سامنے آئے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 33٪ زیادہ تھے۔
. مدارس میں روایت سے تجاوز: استحصال کی متواتر داستانیں
* بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، مدارس میں بچوں کے ساتھ جنسی اور جسمانی تشدد ایک ادارہ جاتی مسئلہ بن چکا ہے۔
* لاہور کے ایک مشہور کیس میں ایک مذہبی استاد کی اپنے شاگرد کے ساتھ ویڈیو منظر عام پر آئی، جس نے مذہبی اداروں پر سوال اٹھا دیا۔
* اکثر طلبہ خوف اور دباؤ کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں اور مقدمات میں انصاف نہیں ملتا۔
. قصور کا المیہ: قانون اور معاشرت کی شکست
قصور میں 2006 سے 2014 تک تقریباً 280 سے 300 بچوں کی جنسی ویڈیوز بنائی گئیں۔ پولیس، مقامی سیاسی شخصیات اور بعض مذہبی شخصیات نے کیسز دبانے کی کوشش کی، مگر بڑے احتجاج کے باوجود انصاف ادھورا رہا۔
. مدارس:
حکومت کی نظر بندی میں نہ آنے والا علاقہ
* پاکستان میں 22,000 رجسٹرڈ مدارس ہیں، اور اس کے علاوہ ہزاروں غیر رجسٹرڈ ہیں جہاں کوئی نگرانی نہیں ہوتی۔
* صرف 10 سال میں 359 مدارس سے وابستہ جنسی زیادتی کے کیسز سامنے آئے—یہ صرف برف کی تہہ کا اوپر کا حصہ تھا۔
سماجی ڈھانچہ بھی جرم کا حصہ
* والدین بچوں کی شکایت پر اعتماد نہیں کرتے اور اکثر “خاندان کی عزت” کے نام پر خاموش رہتے ہیں۔
* مذہبی قیادت اکثر خاموش رہتی ہے۔
* عدالتیں سست روی کا شکار ہیں اور انصاف کی شرح 2٪ سے بھی کم ہے۔
. حل کے راستے
ریگولیٹری نظام:
ہر مدرسہ رجسٹرڈ ہو، سالانہ آڈٹ اور نگرانی ہو
اساتذہ کی جانچ:
پسِ منظر چیک اور نفسیاتی ٹیسٹ
والدین کی تعلیم:
بچوں کی شکایت سنجیدگی سے لینا
. بچوں کی آگاہی:
حفاظتی تعلیم اور سیفٹی ورکشاپس |
.سخت قانون سازی
فوری اور شفاف سزائیں، سمجھوتے کی اجازت نہ ہو
حالیہ کیسز رپورٹ
* سوات:نابینا بچے کو قاری کے تشدد سے جان گنوانی پڑی۔
* صوابی: 6 سالہ بچہ دیر سے آنے پر شدید مار کا شکار۔
* مظفرگڑھ: 11 سالہ بچے سے مدرسے میں بدفعلی۔
یہ محض چند مثالیں ہیں—حقیقت میں یہ ایک سلسلہ وار سانحہ ہے جو سالہا سال سے چل رہا ہے۔
. NGO رپورٹس کا جائزہ
(i) Sahil – Cruel Numbers سیریز
* 2023: 4,213 کیسز (روزانہ تقریباً 11 بچے متاثر)
* 53٪ لڑکیاں، 47٪ لڑکے
* 2,021 جنسی زیادتی، 1,833 اغوا، 61 زیادتی کے بعد قتل
* 91٪ کیسز پولیس میں رپورٹ
* 2024: 3,364 کیسز (روزانہ تقریباً 9 بچے متاثر)
* 1,828 جنسی زیادتی، 1,204 اغوا، 45 نابالغ شادی
* صوبائی تقسیم: پنجاب 78٪، سندھ 12٪، KP 4٪
* 2022: 4,253 کیسز (33٪ اضافہ 2021 کے مقابلے میں)
* 55٪ لڑکیاں، 45٪ لڑکے
* 55 کیسز مدارس سے تعلق رکھتے تھے
(ii) SPARC – Society for the Protection of the Rights of the Child
* والدین عزتِ نفس اور سماجی دباؤ میں بچے کی بات رد کر دیتے ہیں۔
* استاد کو سوال سے بالاتر مانا جاتا ہے۔
* نتیجہ: مجرم آزاد، بچے عمر بھر کے صدمے میں۔
یہ کیسز محض ایک دو واقعات نہیں، یہ پورے معاشرتی نظام کی ناکامی ہیں۔ NGO رپورٹس واضح بتا رہی ہیں کہ حالات خطرناک حد تک خراب ہو چکے ہیں۔
نتیجہ
یہ مسائل صرف چند مدارس یا چند افراد کا قصہ نہیں؛ بلکہ یہ ایک معاشرتی بیماری ہے جو خاموشی، خوف اور مذہبی تقدس کے نام پر معصوم بچوں کی زندگیاں برباد کر رہی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی خاموشی نہ توڑی تو آنے والی نسلیں بھی انہی درندہ صفت ہاتھوں کا شکار ہوں گی
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ندا سے نادِ علی تک کا سفر
(تحریر و تحقیق) مقدسہ بانو
انسان ہمیشہ مشکل وقت میں کسی سہارا ڈھونڈتا ہے، کسی ندا (پکار) کے جواب کا منتظر رہتا ہے جو اسے حوصلہ دے، اس کے دل کو سکون دے اور اسے مشکلات سے نکالے۔ شیعہ عقیدے میں ایک ایسی ہی ندا، جس نے نہ جانے کتنے دلوں کو سکون بخشا اور کتنے ہی کٹھن راستوں پر چلنے والوں کی رہنمائی کی، وہ ہے:
«نادِ علیؑ مظہر العجائب»
ندا کیا ہے؟
ندا دراصل دل کی وہ پکار ہے جو انسان کسی تکلیف، آزمائش یا خوف کے لمحے میں بلند کرتا ہے۔ ہر انسان کی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ مشکل کے وقت کسی کو پکارتا ہے۔ کبھی ماں کو، کبھی دوست کو، کبھی کسی بزرگ کو۔ لیکن جب ہر در بند ہو جائیں، تب ایک ندا ہے جو یقین کے ساتھ کی جائے تو دل مطمئن ہو جاتا ہے۔
* نادِ علیؑ: ایک روحانی سہارا
شیعہ عقیدے کے مطابق امام علیؑ نہ صرف دنیوی معاملات میں مظلوموں کے مددگار ہیں بلکہ روحانی طور پر بھی اللہ کے ولی ہونے کے ناطے مشکلات کو آسان بنانے والے اور معجزات کے مظہر ہیں۔ اسی عقیدے کا عکس یہ مشہور دعا ہے:
نادِ علیًّا مظہر العجائب
تجدہ عونًا لک فی النوائب
کلّ ھمّ و غمّ سینجلی
بولایتک یا علی یا علی یا علی
(پکارو علی کو جو عجائبات کے مظہر ہیں، تمہیں مصیبتوں میں مددگار پاؤ گے۔ ہر فکر اور غم دور ہو جائے گا، علیؑ کی ولایت کے وسیلے سے۔)
* تاریخی پس منظر
تاریخ میں کئی مواقع ایسے ملتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ نے علیؑ کو مشکل ترین مواقع پر پکارا۔ خیبر کے دروازے پر، جب ہر صحابی ناکام ہوا تو نبی نے فرمایا:
کل میں اس جھنڈے کو اس کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ شیعہ مکتب میں امام علیؑ کو مشکلات کا دروازہ کھولنے والا سمجھا جاتا ہے۔
*روحانی تجربہ
نادِ علیؑ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ ہے۔ ہزاروں عقیدت مند روزمرہ زندگی کی مشکلات میں، امتحانات میں، خوف اور غم کے لمحوں میں یہ کلمات دہراتے ہیں اور خود کو ایک مضبوط حصار میں محسوس کرتے ہیں۔
* علیؑ کی ولایت پر یقین
نادِ علیؑ دراصل علیؑ کی ولایت پر یقین اور اللہ کی طرف سے انہیں عطا کی گئی مددگار اور مشکل کشا صفات کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ شیعہ عقیدے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اللہ کی توفیق سے علیؑ ہر غم کے در کو کھولنے والے ہیں۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مشکلوں سے نجات کے لیے ہمیشہ کسی ندا کی ضرورت رہتی ہے۔ شیعہ مکتبِ فکر میں یہ ندا علیؑ کے نام کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب کوئی مشکل آئے تو دل سے بے اختیار یہی صدا نکلتی ہے:
یا علی مدد!
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
میں تنہا کیوں تھی؟
از: مقدسہ بانو
کبھی کسی نے باپ سے نہیں پوچھا کہ بیٹی کو روٹھنے پر کس نے مجبور کیا؟
کبھی کسی نے بھائی سے نہیں پوچھا کہ بہن کے اعتبار کو کس نے توڑا؟
ہم عورت سے سوال تو کرتے ہیں، محبت نہیں دیتے!
وہ ایک خوبصورت عورت تھی۔
خوددار، پڑھ لکھی، مشہور۔
وہ جو ہر محفل میں توجہ کا مرکز بنتی تھی، وہ جو اسٹیج پر کھڑی ہو کر عورتوں کے حق کی بات کرتی تھی، وہ جس کے ہزاروں فالوورز تھے، وہ اپنے ہی کمرے میں مہینوں خاموش پڑی رہی۔
کوئی اس کے در پر نہیں آیا۔
کوئی اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھنے نہیں آیا۔
اور جب پولیس نے اس کے والد کو فون کیا تو بس اتنا جواب آیا:
“ہم بہت پہلے اس سے ناطہ توڑ چکے۔”
یہ جواب صرف اس ایک عورت کے لیے نہیں تھا۔
یہ جواب اس معاشرے کی ہر بیٹی کے لیے ہے جو گھر کی چار دیواری سے نکلتی ہے۔
ہمیں لگتا ہے کہ عورت جو بھی کرے وہی قصوروار ہے۔
اگر بیٹی روٹھ جائے تو بے ادب۔
اگر بیٹی اکیلی رہنے لگے تو باغی۔
اگر بیٹی خودمختار ہو جائے تو بدکردار۔
ہمیں یہ سوچنے کی فرصت ہی کہاں کہ آخر اس نے روٹھنا کیوں سیکھا؟
اس نے تنہا رہنا کیوں چُنا؟
اس نے باپ کے در کو چھوڑ کر دنیا کا در کیوں کھٹکھٹایا؟
یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرہ عورت کی خودمختاری کو رشتہ داریوں، محبتوں اور روایات سے جدا کر کے ایک ادھوری، تنہا اور کھوکھلی تصویر پیش کرتا ہے۔
فیمینزم کے نعرے تو بلند کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں عورت کو گھر کی محبت، بھائی کی غیرت، باپ کی شفقت سے محروم کیا جاتا ہے۔
وہ خوددار عورت، جو رشتوں کے ریشمی بندھن توڑ کر اپنی راہ بنانا چاہتی ہے، آخرکار تنہائی کے صحرا میں لاوارث پڑی رہ جاتی ہے۔
پاکستان میں عورت کی زندگی کے ہر شعبے میں حقوق پامال ہوتے ہیں۔
زبردستی شادی، جائیداد سے محرومی، تعلیم اور روزگار سے محروم کرنا، یہ سب اس کی طاقت کو چھیننے کی سازشیں ہیں۔
معاشرتی رسم و رواج اور “غیرت” کے نام پر عورت پر ظلم معمول بن چکا ہے۔
اگر وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، تو اسے بدنام کیا جاتا ہے، خاندان سے بیزار کر دیا جاتا ہے، اور تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ معاشرہ بیٹی کو باغی، بہن کو بدکردار اور بیوی کو بے وفا کہتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لہجے، ہمارے رویے، ہماری بے حسی ہی اسے روٹھا دیتی ہے۔
باپ، بھائی، شوہر کا ظاہری تعلق ہوتا ہے، مگر محبت اور عزت کا رشتہ بھی لازم ہے، ورنہ یہ رشتے زنجیروں میں بدل جاتے ہیں جو عورت کو جکڑ کر تنہائی کے اندھیرے میں دھکیل دیتے ہیں۔
آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں،
اپنی بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کو سمجھیں، سنیں اور ان کا ساتھ دیں۔
انہیں بوجھ نہ سمجھیں، بلکہ اپنی عزت اور فخر سمجھیں۔
ورنہ کل پھر کسی تنہا عورت کی لاش تعفن دیتی ہوئی دیواروں سے سوال کرے گی:
“میں تنہا کیوں تھی؟”
یہ دردناک حقیقت صرف حمیرا اصغر کی نہیں، بلکہ ان لاکھوں عورتوں کی داستان ہے جو پاکستان کے سماجی جبر، گھریلو ظلم اور معاشرتی ناانصافیوں کا شکار ہیں۔
آئیں، ہم سب مل کر اس ستم ظریف رویے کو بدلنے کی کوشش کریں، عورت کو اس کے حقوق اور تحفظ کے ساتھ وہ مقام دیں جس کی وہ مستحق ہے۔
صرف الفاظ نہیں، عمل کی ضرورت ہے۔ کیونکہ عورت کی خودمختاری، عزت اور حفاظت ہی حقیقی ترقی کی بنیاد ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
علمدارِ کربلا… وفا کی وہ شمع جو آج بھی روشن ہے
بانو
تاریخِ انسانیت کی کتاب میں بعض کردار ایسے ہیں جن کے ذکر سے دل جھک جاتے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ انہی کرداروں میں ایک درخشاں نام ’’حضرت عباسؑ بن علیؑ‘‘ کا ہے، جنہیں دنیا ’’علمدارِ کربلا‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔
حضرت عباسؑ ۴ شعبان ۲۶ ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئے۔ آپؑ حضرت علیؑ کے فرزند اور امام حسینؑ کے بھائی تھے۔ آپؑ کے نام کے ساتھ ’’قمر بنی ہاشم‘‘ (ہاشمی قبیلے کے چاند) کا لقب بچپن ہی سے زبان زدِ عام تھا۔ بچپن سے جوانی تک آپؑ نے شجاعت، علم، حلم اور وفا کی ایسی تربیت پائی کہ کربلا کے میدان میں آپؑ امام حسینؑ کے سب سے بڑے سہارے بن کر ابھرے۔

کربلا کی جنگ میں آپؑ کی عمر قریباً ۳۴ برس تھی۔ عاشورا کے دن جب امام حسینؑ کے ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہو گئے تو حضرت عباسؑ نے امامؑ سے میدان میں جانے کی اجازت چاہی۔ امامؑ نے فرمایا: ’’عباسؑ! تم میرے لشکر کے علمدار ہو۔‘‘ اس ایک جملے میں حضرت عباسؑ کے مقام کا تعین ہو گیا۔
مورخین لکھتے ہیں کہ عاشورا کے دن جب خیموں میں بچوں کی پیاس شدت اختیار کر گئی تو حضرت عباسؑ نے امامؑ سے اجازت لے کر فرات کی طرف پیش قدمی کی۔ دشمن نے راستہ روکا، لیکن آپؑ نے ایک ایک کر کے سب کو پیچھے ہٹا دیا۔ دریا تک پہنچ کر مشک بھر لی۔ ہاتھ پانی میں ڈالا اور پھر یاد آیا کہ امامؑ اور معصوم بچے پیاسے ہیں۔ آپؑ نے پانی نہ پیا اور مشک لے کر واپس لوٹنے لگے۔
راستے میں دشمن نے گھیر کر آپؑ کے بازو قلم کر دیے، نیزہ مارا، تیروں کی بارش کی، یہاں تک کہ آپؑ زمین پر گرے اور آواز دی:
’’بھیا حسینؑ! السلام علیک یا ابا عبداللہؑ۔‘‘
امام حسینؑ بھائی کے لاشے تک پہنچے اور فرمایا:
’’عباسؑ! آج میری کمر ٹوٹ گئی۔‘‘
یہ جملہ حضرت عباسؑ کی قربانی کا سب سے بڑا اعتراف ہے۔
حضرت عباسؑ کا مقام محض ایک مجاہد کا نہیں بلکہ ایک روحانی پیشوا کا بھی ہے۔ زیارتِ ناحیہ مقدسہ میں امام زمانہؑ فرماتے ہیں:
’’سلام ہو آپؑ پر اے اللہ کے نیک بندے اور رسولؐ کے فرمانبردار۔‘‘
شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عباسؑ ’’باب الحوائج‘‘ ہیں یعنی حاجتوں کے دروازے۔ جو کوئی ان کے در پر آ کر دعا مانگتا ہے، اللہ اسے رد نہیں کرتا۔ اسی لیے کربلا میں آپؑ کی قبر کے سامنے زائرین اپنی زندگی کے دکھ سناتے ہیں اور سکون پاتے ہیں۔
روحانیت کے اس پہلو کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جانیں: حضرت عباسؑ کی قربانی ذاتی خواہشات سے بلند ہو کر خالصتاً اللہ اور امام کے لیے تھی۔ یہی اخلاص انہیں روحانیت کے اس اعلیٰ مقام تک لے گیا۔
کربلا میں حضرت عباسؑ کا کردار ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ہم ہر سال علم اٹھا کر ماتم کرتے ہیں، نوحے پڑھتے ہیں، مرثیے لکھتے ہیں۔ مگر کیا ہم نے اپنی زندگی میں وفا اور قربانی کی وہ مثال قائم کی؟ کیا ہم نے اپنی خواہشات کو امام وقتؑ کے حکم پر قربان کیا؟ کیا ہم نے مظلوم کا ساتھ دیا اور ظالم کے سامنے ڈٹ گئے؟
یہ سوچنے کا مقام ہے کہ آج اگر امام مہدیؑ ہمیں پکاریں تو کیا ہم حضرت عباسؑ کی طرح لبیک کہنے کے لیے تیار ہیں؟ یا دنیاوی مفاد، خوف اور غفلت ہمیں روک دے گی؟
حضرت عباسؑ کی قربانی ہمیں پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنے امام کے سچے سپاہی بنیں، اپنی خواہشات کی زنجیروں کو توڑیں اور دین کے علم کو تھامے رہیں چاہے اس کے لیے کٹنا ہی کیوں نہ پڑے۔
حضرت عباسؑ آج بھی کربلا کی زمین پر وفا کی شمع بن کر روشن ہیں۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم اس شمع سے روشنی لیں یا اندھیروں میں بھٹکتے رہیں۔ اگر ہم نے اپنی زندگی میں حضرت عباسؑ کی سیرت کو اپنا لیا تو یقیناً ہم امام حسینؑ کے قافلے کے راہی بن سکیں گے۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر علمدارِ کربلا کے سامنے صرف شرمندگی ہی ہمارا مقدر ہو گی۔
آیئے ہم زبان سے نہیں، دل سے یہ عہد کریں کہ علمدارِ کربلا کے نقش قدم پر چلیں گے، وفا اور ایثار کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں گے۔
بانو
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستانی اور کشمیری عوام اس مشکل وقت میں یکجان و متحد ہیں۔
اوورسیزپاکستانی و کشمیری۔
فرحت کاظمی۔ راچڈیل برطانیہ
راچڈیل برطانیہ میں کمیونٹی کی آوازاور خیالات کو میڈیا کے زریعے ساری دنیا میں پہنچانے کے لئیے معروف صحافی اور سول سوسائٹی ایکٹوسٹ اعتزاز عاصم نے برطانیہ کے مایہ ناز صحافی اور اینکر پرسن اعجاز فضل کی میزبانی میں ایک عوامی فورم کا انعقاد کیا جس میں خاص طور پر سیز فائر لائن پر مقیم خاندانوں کے اوورسیز افراد ، سیاسی و سماجی اور فلاحی و مذہبی شخصیات سے ایک طویل مکالمے کے زریعے ان کے تاثرات ،خدشات اور تجاویز کس پاکستانی نیوزچینل کے پروگرام کے لئیے ریکارڈ کیا گیا۔ نامور صحافی و ایکٹوسٹ سید فرحت کاظمی، دبنگ صحافی
نعیم چوہان، پروفیسر افتخار احمد، سیاسی و کاروباری شخصیت چوہدری خالد ہنجرا۔ ڈسٹرکٹ کونسلر جاوید اقبال ، قاری محمد عباس، معروف صحافی عارف پندھیر ، سوشل میڈیا بلاگرمعصوم نقوی، کامران مجید ،میاں اعظم، صغیر احمد راجہ ،پروفیسر ڈاکٹر تیمور شفیق، پروفیسر عبدالرحیم ،محمد عبدالرشید اور دیگر افراد نے پاکستان کی بھارتی جارحیت کے خلاف دفاعی کارروائی میں کامیابی اور سیز فائر پر اظہار اطمینان کیا اور پاک فضایہ کے مشاق پائلٹوں کی شاندار مہارت و جرات پر مبارکباد او تشکر کا اظہار کیا۔

اس بات پر زور بھی دیا کہ پاکستان کی حکومت کو اب اپنے معاشی اور جمہوری معاملات کو فوری طور پر درست سمت پر لانے کی اشد ضرورت ہے اور سیاسی اسیروں اور جماعتوں کے ساتھ بھی اسی طرح معاملہ فہمی اور وسیع تر قومی مفاد میں اتفاق و اتحاد کو فروغ دینا چاہئیے ۔ ساتھ ہی ساتھ مسئلہ کشمیر کو اولیت دے کر اور سیز فائر لاین پر مسلسل گولا باری سے متاثر افراد کی فوری امداد اور عالمی سطح پر ان حالات کو اجاگر کر کے کشمیر کو عالمی سٹیج پر نمایاں کیا جائے تاکہ اس کے حل کی صورت نکلے۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
طلباء میں صنفی تعصب: ایک تہائی اساتذہ کی گواہی ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ
بی بی سی رپورٹ کے مطابق
تحریر و تحقیق ,,مقدسہ بانو

برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں حالیہ رپورٹوں کے مطابق ایک تہائی اساتذہ نے بتایا ہے کہ اُنہوں نے اپنے طلباء میں خواتین کے خلاف نفرت، تعصب یا بدسلوکی کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ رپورٹ صرف ایک عددی اشارہ نہیں، بلکہ ہماری نئی نسل کی ذہنی ساخت اور معاشرتی رویوں کی ایک خطرناک تصویر پیش کرتی ہے۔
صنفی تعصب کیا ہے؟
صنفی تعصب، جسے انگریزی میں Misogyny کہا جاتا ہے، خواتین کے خلاف نفرت یا منفی رویے کو کہتے ہیں۔ اس میں طنز، مذاق، جنسی ہراسانی، برتری کا اظہار، یا عورتوں کی صلاحیتوں کو کمتر سمجھنا شامل ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارے جہاں علم، برداشت اور شعور کو فروغ دیا جانا چاہیے، وہاں اگر ایسی سوچ جنم لے رہی ہو تو یہ بہت تشویشناک بات ہے۔
اساتذہ کی گواہیاں کیوں اہم ہیں؟
اساتذہ نہ صرف تعلیمی رہنما ہوتے ہیں بلکہ وہ طلباء کے روزمرہ رویوں کے عینی شاہد بھی ہوتے ہیں۔ جب ایک تہائی اساتذہ یہ بیان دیں کہ وہ کلاس رومز میں صنفی تعصب کا مشاہدہ کر چکے ہیں، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ محض انفرادی نوعیت کا نہیں، بلکہ ایک اجتماعی، نظامی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا کا کردار
ماہرین تعلیم اور سماجی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سوشل میڈیا پر بعض افراد یا گروہوں کی جانب سے عورتوں کے خلاف اشتعال انگیز مواد اور بیانات نئی نسل کے ذہنوں پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ بعض مشہور مگر متنازع شخصیات، جو خواتین کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پھیلاتی ہیں، نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
یہ رجحان کیوں خطرناک ہے؟
اگر لڑکوں کو بچپن یا نوجوانی میں یہ سکھایا جائے کہ عورت مرد سے کمتر ہے، تو مستقبل میں وہ شوہر، باپ، یا پیشہ ورانہ کردار میں عورتوں کے ساتھ برابر سلوک کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ یہ رویے صرف خواتین کے لیے نہیں، پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں۔
کیا کرنا ہوگا؟
نصاب میں تبدیلی: اسکول کے نصاب میں صنفی مساوات، احترام، اور خواتین کی خدمات پر مبنی مضامین شامل کیے جائیں۔
اساتذہ کی تربیت: اساتذہ کو تربیت دی جائے کہ وہ صنفی تعصب کو پہچان سکیں اور مؤثر طریقے سے اس کا تدارک کریں۔
والدین کا کردار: گھریلو تربیت میں لڑکوں کو عورتوں کا احترام سکھایا جائے۔ ماں، بہن، بیوی یا بیٹی – ہر رشتے میں عورت ایک مکمل انسان ہے، کمتر نہیں۔
سوشل میڈیا پر قابو: بچوں اور نوجوانوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھی جائے اور ایسے پلیٹ فارمز کی نشاندہی کی جائے جہاں نفرت انگیز مواد پھیلایا جاتا ہے۔
طلباء میں صنفی تعصب صرف خواتین کے مستقبل کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پورے معاشرے کی سوچ، توازن اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو متاثر کرتا ہے۔ ہمیں آج ہی اقدام کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں ایک مہذب، مساوی اور بااحترام معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں
………………………………………………………
پریس رپورٹ
چڑہوئی، آزاد کشمیر – 23 مارچ 2025
چڑہوئی کے نواحی گاؤں براٹلہ میں دن دہاڑے ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا، جہاں علی رضا ولد علی اکبر شاہ کو معمولی تلخ کلامی کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق علی رضا کی احتشام ولد فلک حسین سے معمولی بات پر تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد احتشام نے علی رضا کو اپنے گھر بلا لیا۔ وہاں مبینہ طور پر اسے ڈنڈوں، مکوں اور لاتوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وحشیانہ تشدد کے بعد علی رضا کو مبینہ طور پر پانی میں کچھ پلا کر زہر دیا گیا، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
واقعے کے فوراً بعد مقتول کی لاش کو چڑہوئی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی معائنے کے بعد اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے کوٹلی بھیج دیا گیا۔
واقعے کے خلاف اہلِ علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک کے تقدس اور انسانی جان کی حرمت کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک معصوم سولہ سالہ نوجوان کی جان لے لی گئی، جو ناقابلِ برداشت ہے۔
متاثرہ خاندان نے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یہ واقعہ علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور قانون کی بے حرمتی کا افسوسناک مظہر ہے، جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ عوام نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرارِ واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةَ”
تحریر و تحقیق مقدسہ بانو
1. تعارف اور پسِ منظر
“فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةَ” (ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا) وہ تاریخی جملہ ہے جو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ نے اپنی شہادت کے وقت فرمایا۔
یہ الفاظ 19 رمضان 40 ہجری کو اس وقت ادا ہوئے جب عبدالرحمٰن ابنِ ملجم مرادی (لعنت اللہ علیہ) نے مسجدِ کوفہ میں نمازِ فجر کے دوران آپؑ پر زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے حملہ کیا۔
امام علیؑ نے ضرب لگنے کے بعد فرمایا:
“بِسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلّۃِ رَسُولِ اللّٰہِ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةَ”
(اللہ کے نام سے، اللہ ہی کے بھروسے اور رسول اللہﷺ کی ملت پر۔ ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا)

حوالہ:
شیخ مفید، الإرشاد، جلد 1، صفحہ 11
2. جملے کا لغوی اور معنوی مفہوم
لفظ “فُزْتُ” عربی زبان میں کامیابی اور کامرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
امام علیؑ نے یہ جملہ شہادت کے وقت ادا فرمایا، جو بظاہر دنیاوی اعتبار سے موت کا اعلان تھا، مگر حقیقت میں یہ ابدی کامیابی کا اعلان تھا۔
آپؑ نے دنیاوی رنج و غم سے نجات پاتے ہوئے اللہ کی رضا کو پا لیا، جو حقیقی کامیابی تھی۔
حوالہ:
شیخ صدوق، الأمالی، مجلس 30، حدیث 5
3. امام علیؑ کے الفاظ میں کامیابی کا فلسفہ
امام علیؑ کے نزدیک کامیابی کا مطلب دنیاوی فتوحات نہیں بلکہ اللہ کی رضا، حق پر ثابت قدمی اور شہادت میں پوشیدہ تھا۔
آپؑ نے اپنی ساری زندگی عدل و انصاف، حق گوئی اور اللہ کی بندگی میں بسر کی۔
جب ابنِ ملجم نے امامؑ پر وار کیا، تو آپؑ نے درد یا شکایت کا اظہار کرنے کے بجائے اپنی شہادت کو کامیابی قرار دیا۔
یہ جملہ بتاتا ہے کہ:
حقیقی کامیابی دنیاوی جاہ و حشمت میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔
شہادت مؤمن کے لیے کامیابی کا بلند ترین مقام ہے۔
حوالہ:
علامہ مجلسی، بحار الأنوار، جلد 42، صفحہ 282
4. روحانی اور عرفانی پہلو
امام علیؑ کے اس جملے میں عرفان اور روحانیت کا عمیق پیغام ہے۔
آپؑ نے زندگی بھر حق و صداقت کا علم بلند رکھا اور دنیاوی مشکلات کو برداشت کیا، مگر کبھی حق سے پیچھے نہ ہٹے۔
شہادت کو امامؑ نے دنیاوی شکست نہیں بلکہ کامیابی سمجھا، کیونکہ وہ اللہ کی راہ میں دی گئی سب سے بڑی قربانی تھی۔
آپؑ نے یہ جملہ ادا کر کے ثابت کر دیا کہ:
حق کے راستے میں جان دینا سب سے بڑی کامیابی ہے۔
شہادت مومن کے لیے اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔
حوالہ:
شیخ عباس قمی، نفس المهموم، صفحہ 105
5. ادبی اور معنوی اثرات
یہ جملہ بعد کے ادوار میں مؤمنین اور شعرا کے لیے صبر، ایثار اور قربانی کا استعارہ بن گیا۔
شیعی خطبات، منقبتوں اور مرثیوں میں یہ الفاظ کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
یہ جملہ مؤمن کو یاد دلاتا ہے کہ:
دنیاوی مصائب وقتی ہیں، اصل کامیابی اللہ کی رضا ہے۔
شہادت عین کامیابی ہے، کیونکہ وہ اللہ کے حضور کامیاب ہو کر پہنچنے کا وسیلہ ہے۔
حوالہ:
علامہ مجلسی، بحار الأنوار، جلد 42، صفحہ 282
“فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةَ” صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک کامل فلسفہ ہے جو مؤمن کے لیے کامیابی کی حقیقی تعریف بیان کرتا ہے۔
امام علیؑ نے ان الفاظ کے ذریعے دنیا کو یہ درس دیا کہ:
شہادت اللہ کی قربت اور حقیقی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
دنیاوی ناکامی درحقیقت آخرت میں کامیابی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
یہ جملہ آج بھی مسلمانوں کے لیے صبر، استقامت اور اللہ کی رضا کے حصول کی علامت ہے۔
…………………………………..
حضرت خدیجہؑ: عظیم ماں، عظیم بیوی، عظیم قربانی
✍ مقدسہ بانو
اسلام کی تاریخ میں ایسی ہستیاں کم ہی ملتی ہیں جنہوں نے اپنی جان، مال اور عزت سب کچھ دین کی راہ میں قربان کر دیا۔ ایسی ہی ایک عظیم ہستی حضرت خدیجہؑ ہیں، جو نہ صرف رسول اللہؐ کی سب سے وفادار شریکِ حیات تھیں بلکہ اسلام کی پہلی سپورٹر بھی۔
تاریخ کی سب سے کامیاب تاجر خاتون
آج کی دنیا میں خواتین کی خودمختاری اور کاروباری میدان میں کامیابی کی بات کی جائے، تو حضرت خدیجہؑ اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ وہ عرب کی سب سے مالدار خاتون تھیں، مگر ان کی دولت کے ساتھ ان کا اخلاق اور دیانت بھی بے مثال تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں “طاہرہ” (پاک دامن) کا لقب ملا۔
علامہ اقبالؒ نے حضرت خدیجہؑ کی عظمت کو یوں خراجِ عقیدت پیش کیا:
یہ فیضِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

رسول اللہؐ کی سب سے بڑی طاقت
جب رسول اللہؐ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور وہ گھبرا کر گھر آئے، تو سب سے پہلے حضرت خدیجہؑ نے انہیں تسلی دی اور فرمایا:
“اللہ آپؐ کو ہرگز رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپؐ یتیموں کا سہارا بنتے ہیں، غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور سچائی کے ساتھ جیتے ہیں۔”
یہ الفاظ صرف دلاسہ نہیں تھے، بلکہ حضرت خدیجہؑ کا اپنے شوہر پر غیر متزلزل ایمان تھا۔
معروف شاعر سید رضا جواد نقوی حضرت خدیجہؑ کی محبت و وفا کو یوں بیان کرتے ہیں:
ہے جو ہر دور میں عظمت کی نشانی خدیجہؑ
رحمتِ حق کی ہے پہلی ترجمانی خدیجہؑ
اسلام کی پہلی مسلمان
یہ اعزاز بھی حضرت خدیجہؑ کو حاصل ہے کہ وہ اسلام قبول کرنے والی سب سے پہلی خاتون تھیں۔ جب قریش کے سردار مخالفت کر رہے تھے، تو حضرت خدیجہؑ نے اپنی دولت اور محبت سے رسول اللہؐ کا ساتھ دیا۔
مشہور شاعر حفیظ تائب نے آپؑ کے ایمان و قربانی پر کہا:
خدیجہؑ ہے اسلام کا استحکام
خدیجہؑ ہے ایثار کا اک پیام
تین سالہ بائیکاٹ اور قربانی کی انتہا
جب کفار نے مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ کیا اور انہیں شعب ابی طالب میں قید کر دیا، تو حضرت خدیجہؑ نے اپنی تمام دولت اسلام کے لیے خرچ کر دی۔ بھوک اور پیاس کی شدت نے انہیں بہت کمزور کر دیا، مگر انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی شکوہ نہ کیا۔
شاعر محسن نقوی نے حضرت خدیجہؑ کے صبر و قربانی کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا:
صبر کی وہ چٹان تھی خدیجہؑ
وفا کی پہچان تھی خدیجہؑ
غم کا سال اور وفات
یہی تکلیفیں حضرت خدیجہؑ کو بیمار کر گئیں، اور 10 رمضان 10 نبوی کو وہ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ رسول اللہؐ نے اس سال کو “عام الحزن” (غم کا سال) قرار دیا کیونکہ اسی سال حضرت ابوطالبؑ کا انتقال بھی ہوا تھا۔
علامہ شبیر حسن شاہ نے حضرت خدیجہؑ کی وفات کے وقت کے لمحات کو یوں قلمبند کیا:
جب نبیؐ کی آنکھ سے آنسو رواں تھے اے خدیجہؑ
آسماں بھی رو رہا تھا مہرباں تھی اے خدیجہؑ
حضرت خدیجہؑ جنت کی ان چار عظیم خواتین میں شامل ہیں جنہیں سرداری عطا کی گئی:
1. حضرت فاطمہؑ
2. حضرت مریمؑ
3. حضرت آسیہؑ
4. حضرت خدیجہؑ
یہی نہیں، حضرت خدیجہؑ وہ عظیم ماں ہیں جن کے بطن سے سیدہ فاطمہؑ زہرا پیدا ہوئیں، جو نسلِ امامت کی ماں بنیں۔
آج ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
حضرت خدیجہؑ ہمیں سکھاتی ہیں کہ عورت کی اصل طاقت اس کی دولت نہیں، بلکہ اس کا کردار، ایثار اور قربانی ہے۔ آج، جب 10 رمضان آتا ہے، تو ہمیں چاہیے کہ ان کی سیرت کو یاد کریں اور ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔
یہ صرف ایک تاریخ کا باب نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے ایک سبق ہے:
محبت ہو، تو حضرت خدیجہؑ جیسی
قربانی ہو، تو حضرت خدیجہؑ جیسی
……………………………………
برطانیہ میں مسلم خواتین کا معاشرتی اور سیاسی میدان میں نمایاں کردار
از مقدسہ بانو
دنیا بھر میں 8 مارچ کو یومِ خواتین منایا جاتا ہے، جو خواتین کے حقوق، ان کے مسائل اور ان کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ جب ہم مسلم خواتین کی بات کرتے ہیں تو عام طور پر روایتی تصورات کے زیرِ اثر انہیں ایک محدود کردار میں دیکھا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خاص طور پر برطانیہ میں مسلم خواتین نے نہ صرف معاشرتی بلکہ سیاسی میدان میں بھی اپنی پہچان قائم کی ہے۔ انہوں نے مشکلات اور تعصبات کے باوجود ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں اور ایک متحرک کردار ادا کر رہی ہیں۔
برطانیہ میں مسلم خواتین کا معاشرتی کردار
برطانوی معاشرے میں مسلم خواتین کئی میدانوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہی ہیں، چاہے وہ تعلیم ہو، معیشت ہو، فلاحی کام ہوں یا فنونِ لطیفہ۔ وہ روایتی دقیانوسی تصورات کو توڑ کر ایک نئی پہچان بنا رہی ہیں۔
1. تعلیم اور تحقیق میں نمایاں خدمات
برطانوی یونیورسٹیوں میں مسلم خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ ڈاکٹر، سائنسدان، پروفیسرز اور محققین کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ آکسفورڈ، کیمبرج اور دیگر نامور تعلیمی اداروں میں مسلم خواتین اسکالرشپس حاصل کر کے تحقیق کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
2. معیشت اور کاروبار میں مسلم خواتین کی شمولیت
برطانیہ میں کئی مسلم خواتین کامیاب کاروباری شخصیات کے طور پر بھی ابھر رہی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کر رہی ہیں بلکہ نئی کاروباری راہیں متعارف کرا رہی ہیں۔ حلال فوڈ انڈسٹری، اسلامی فیشن، بیوٹی پروڈکٹس، اور آن لائن بزنس میں ان کی موجودگی نمایاں ہے۔
3. فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ
مسلم خواتین برطانیہ میں فلاحی کاموں میں بھی متحرک ہیں۔ وہ بے گھر افراد، گھریلو تشدد کا شکار خواتین اور کمزور طبقات کے لیے فلاحی ادارے چلا رہی ہیں۔ کئی مسلم خواتین چیریٹی آرگنائزیشنز کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کر رہی ہیں اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔

برطانیہ میں مسلم خواتین کا سیاسی کردار
برطانوی سیاست میں مسلم خواتین کی شمولیت ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ماضی میں یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ حجاب پہننے والی خواتین پارلیمنٹ میں نظر آئیں گی، لیکن آج وہ نہ صرف انتخاب لڑ رہی ہیں بلکہ پارلیمنٹ میں قانون سازی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
1. برطانوی پارلیمنٹ میں مسلم خواتین
گزشتہ برسوں میں برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کئی مسلم خواتین نے اپنی جگہ بنائی ہے، جن میں نصرت غنی، زارا سلطانہ اور شبانہ محمود شامل ہیں۔ یہ خواتین نہ صرف اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کر رہی ہیں بلکہ مسلم کمیونٹی کے مسائل کو بھی اجاگر کر رہی ہیں۔
2. مقامی سیاست اور سماجی قیادت
پارلیمنٹ کے علاوہ کئی مسلم خواتین مقامی کونسلز میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ تعلیم، صحت، امیگریشن اور خواتین کے حقوق جیسے مسائل پر کام کر رہی ہیں اور اپنی برادری کی بہتری کے لیے پالیسی سازی میں حصہ لے رہی ہیں۔مانچسٹر سٹی کونسل میں مسلم کونسلرز کی نمایاں موجودگی اور کارکردگی شہر کی ترقی اور کمیونٹی کی نمائندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کونسلرز میں سے چند نمایاں شخصیات اور ان کی خدمات درج ذیل ہیں:
کونسلر یاسمین ڈار: پاکستانی نژاد یاسمین ڈار 2014 سے مانچسٹر سٹی کونسل کی رکن ہیں۔ 2022-2023 میں، وہ بلامقابلہ ڈپٹی لارڈ میئر منتخب ہوئیں، اور 2023 میں مانچسٹر کی پہلی مسلمان خاتون لارڈ میئر بنیں۔ ان کا تعلق ضلع جہلم کے بلال ٹاؤن سے ہے، اور وہ معروف عالم دین صوفی محمد اسلم کی بھتیجی ہیں۔
کونسلر مقدسہ بانو: مقدسہ بانو جہلم سے تعلق رکھنے والی , ویلی رینج وارڈ سے لیبر پارٹی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے 2024 کے انتخابات میں 2,084 ووٹ حاصل کیے اور مسلسل دوسری مرتبہ کونسلر منتخب ہوئیں۔ مقدسہ بانو مانچسٹر کی پہلی صحافی خاتون کونسلر بھی ہیں۔
دیگر مسلمان کونسلرز میں شازیہ بٹ,عظمیٰ جعفری ,غزالہ صادق ,عافیہ،
ایشا ممتاز ,عذرا علی, نسرین کے نام قابل زکر ہیں ۔
ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مانچسٹر سٹی کونسل میں مسلمان خواتین نہ صرف سیاسی میدان میں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں، جو مقامی کمیونٹی کی ترقی اور بہتری میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
3. مسلم خواتین اور سماجی تحریکیں
مسلم خواتین نے برطانیہ میں انسانی حقوق، اسلاموفوبیا کے خلاف مہمات اور اقلیتی حقوق کے لیے بھی جدوجہد کی ہے۔ وہ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور مسلم کمیونٹی کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتوں کے لیے بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔
چیلنجز اور مواقع
اگرچہ برطانیہ میں مسلم خواتین نے نمایاں ترقی کی ہے، لیکن انہیں کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ اسلاموفوبیا، حجاب کے خلاف تعصبات، اور امتیازی سلوک جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ تاہم، ان تمام رکاوٹوں کے باوجود وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور برطانوی معاشرے میں اپنی جگہ مضبوط کر رہی ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ برطانیہ میں مسلم خواتین ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہیں۔ وہ نہ صرف خود کو بااختیار بنا رہی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کر رہی ہیں۔ یومِ خواتین کے موقع پر ہمیں ان کی جدوجہد اور کامیابیوں کو سراہنا چاہیے اور مزید مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ مزید آگے بڑھ سکیں۔
کیا ہم اس سماجی اور سیاسی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زبان اور رویے: الفاظ جو ہمیں بدلنے کی ضرورت ہے
از مقدسہ بانو
الفاظ محض آوازیں نہیں، بلکہ وہ خیالات اور رویوں کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ایک مہذب اور باشعور معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں بول چال میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو کسی کے لیے توہین آمیز یا تکلیف دہ نہ ہوں۔ اکثر ہم اپنی روزمرہ کی گفتگو میں ایسے الفاظ برتتے ہیں جو کسی مخصوص طبقے، برادری یا افراد کے لیے ناپسندیدہ ہوتے ہیں، لیکن ہمیں ان کے اثرات کا اندازہ نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ زبان میں تبدیلی آتی ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم بھی اپنی گفتگو میں غیر ضروری منفی اور توہین آمیز الفاظ کو ترک کریں اور ان کے متبادل اپنائیں۔
معذوری اور ذہنی صحت سے متعلق الفاظ
ہمارے ہاں “معذور” یا “لنگڑا” جیسے الفاظ عام استعمال کیے جاتے ہیں، جو بعض افراد کے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ آج دنیا بھر میں “خصوصی افراد” یا “مخصوص صلاحیتوں کے حامل افراد” جیسے الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی کو کم تر نہ سمجھا جائے۔ اسی طرح، ذہنی صحت کے مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے ہمیں “پاگل”، “مجنون” اور “دیوانہ” جیسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ذہنی صحت ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، اور ایسے الفاظ اس سے جڑے افراد کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
نسلی، لسانی اور ثقافتی الفاظ
ہماری گفتگو میں بعض ایسے الفاظ بھی شامل ہیں جو کسی نسل، زبان یا ثقافت کو کم تر ثابت کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر “گنوار” یا “جنگلی” کہنا کسی کے پس منظر کی تضحیک کرنا ہے۔ اسی طرح، بعض تاریخی اصطلاحات جیسے “کالا” یا “گورا” تعصب کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ایک باشعور معاشرہ ہر فرد کو اس کی شناخت کے ساتھ قبول کرتا ہے، اس لیے ہمیں زیادہ مہذب الفاظ کا انتخاب کرنا چاہیے۔
صنف (جینڈر) سے متعلق الفاظ
اکثر ہماری زبان میں صنفی تعصب کی جھلک نظر آتی ہے، جیسے “مرد بنو”، “لڑکیوں کی طرح مت رو” یا “یہ مردوں کا کام ہے” جیسے جملے۔ یہ الفاظ نہ صرف دقیانوسی خیالات کو فروغ دیتے ہیں بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ آج دنیا میں صنفی مساوات پر زور دیا جا رہا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ ہم “مضبوط بنو” یا “خوداعتماد بنو” جیسے الفاظ استعمال کریں تاکہ کسی بھی صنف کو کم تر محسوس نہ کرایا جائے۔
تشدد اور جارحیت پر مبنی الفاظ
بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو غیر ارادی طور پر تشدد کو فروغ دیتے ہیں، جیسے “اس کو مار دو” (بطور تعریف)، “یہ تو قتل ہو گیا” (کسی نقصان کے لیے) یا “خودکشی کرنے کا دل کر رہا ہے” (مایوسی ظاہر کرنے کے لیے)۔ ایسے الفاظ ذہنی صحت کے مسائل کو معمولی بنا سکتے ہیں یا جارحانہ رویے کو عام کر سکتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہم ان کی جگہ زیادہ مثبت اور حقیقت پسندانہ الفاظ استعمال کریں۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
زبان کی تطہیر ایک دن میں ممکن نہیں، لیکن اگر ہم شعوری طور پر اپنے الفاظ پر غور کرنا شروع کریں، تو تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہمیں دوسروں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنی گفتگو کو زیادہ شائستہ اور مہذب بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی گفتگو کو مصنوعی بنا لیں، بلکہ یہ کہ ہم غیر ضروری طور پر کسی کی دل آزاری نہ کریں۔
دنیا بدل رہی ہے، اور ہمیں بھی اپنی زبان اور رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔ جو معاشرے اپنے الفاظ میں مہذب ہوتے ہیں، وہی حقیقی معنوں میں ترقی کرتے ہیں۔ کیا ہم اس تبدیلی کے لیے تیار ہیں؟
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سال نو اور نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں کا واویلا
جیسے ہی نیا سال قریب آتا ہے، دنیا بھر میں لوگ اپنی خوشیوں کے اظہار کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ نئے سال کا استقبال کرنے کا مقصد صرف ایک خوبصورت آغاز کی امید ہوتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا ہے جو ہر خوشی کے موقع پر تنقید کا طوفان برپا کر دیتا ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر یہ نام نہاد مذہبی ٹھیکیدار اپنے بیانات اور فتوے لے کر آ دھمکتے ہیں اور نئے سال کی تقریبات کو حرام قرار دینا ان کا خاص مشغلہ بن چکا ہے۔
یہ لوگ ہر مثبت بات میں منفی پہلو نکالنے میں ماہر ہیں۔ نئے سال کا جشن ہو یا کسی کا اپنی زندگی کے ایک نئے باب کی شروعات پر خوشی کا اظہار، یہ ہمیشہ ایسی سرگرمیوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ کرسمس یا دیگر بین الاقوامی تہواروں پر ان کی یہی روش جاری رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ صرف خوشی کے مواقع تک محدود ہے، جہاں لوگوں کو سکون اور خوشی نصیب ہو سکتی ہے، وہیں یہ فتویٰ بازی شروع کر دیتے ہیں۔
مدارس کے جرائم اور ان کی خاموشی
یہی افراد معاشرتی برائیوں جیسے بچوں کے ساتھ زیادتی، مدارس میں ہونے والے غیر اخلاقی واقعات، کرپشن، یا دیگر سنگین مسائل پر مکمل خاموش رہتے ہیں۔ مدارس میں جو کچھ ہوتا ہے، اس پر نہ تو کوئی فتویٰ آتا ہے اور نہ ہی ان نام نہاد علماء کی زبان کھلتی ہے۔ یہ لوگ صرف خوشیوں کے مواقع پر “حرام حرام” کے نعرے لگا کر اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر واویلا اور تضادات
سوشل میڈیا ان کے لیے ایک آسان پلیٹ فارم بن گیا ہے، جہاں یہ بیٹھ کر اپنے نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ ان کے فتوے اور اعتراضات اسلامی تعلیمات کے بجائے ذاتی خیالات اور مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ خود تضادات کا شکار ہیں:
– ان کے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات گریگورین کیلنڈر کے مطابق ہوتی ہیں۔
– قبروں پر تاریخ وفات انگریزی کیلنڈر کے مطابق درج ہوتی ہے۔
– روزمرہ زندگی میں ہر چیز مغربی نظام کے تحت چلتی ہے، مگر جب خوشی منانے کی بات ہو، تو انہیں اسلامی تاریخیں یاد آ جاتی ہیں۔
نام نہاد مذہبی اخلاقیات
یہ لوگ اسلامی تعلیمات کے نام پر صرف اپنے ایجنڈے کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ حقیقی اسلامی اصول خوشی، رواداری اور امید پر مبنی ہیں۔ اسلام تو خوشی منانے سے منع نہیں کرتا، بلکہ ان حدود کا تعین کرتا ہے جن میں خوشی کا اظہار کیا جا سکے۔ یہ ٹھیکیدار اپنے فتوے دے کر معاشرے کو تقسیم کرنے اور ہر مثبت سرگرمی کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
معاشرے کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ ان نام نہاد علماء کی بے جا فتوے بازی اور تنقید کو نظر انداز کرے اور اپنی زندگی کو مثبت انداز میں آگے بڑھائے۔ خوشی کے مواقع کو دل سے منائیں، کیونکہ یہ زندگی کا ایک خوبصورت پہلو ہے۔ ان لوگوں کی سرزنش صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوام ان کے منفی رویے کو مسترد کر دے اور معاشرے میں مثبت اور تعمیری رویوں کو فروغ دے۔
نئے سال کا جشن منانا حرام نہیں، بلکہ ایک بہتر اور خوشحال زندگی کی امید کا اظہار ہے۔ معاشرے میں ایسے عناصر کو جگہ نہ دیں جو ہر خوشی کو گناہ کا رنگ دینے کی کوشش کریں۔ ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات کو اس کی اصل روح کے مطابق سمجھیں اور خوشیوں کو اپنائیں، کیونکہ یہی ہمیں زندگی گزارنے کا حوصلہ اور ہمت دیتے ہیں۔
سال نو: خوشی، امید اور مثبت تبدیلی کا پیغام
جب نیا سال آتا ہے تو یہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں، اور مستقبل کے لیے نئے عزم اور ارادے کریں۔ یہ وقت ہے اپنی زندگی میں خوشی، امن اور محبت کو پروان چڑھانے کا، اور پرانی رنجشوں کو ختم کرکے ایک نئی شروعات کا۔
نئے سال کے آغاز پر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی ایک خوبصورت تحفہ ہے، اور ہر دن ایک نیا موقع ہے اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کا۔ اس سال ہمیں چاہیے کہ:
– اپنی ذات کو بہتر بنانے کے لیے محنت کریں۔
– دوسروں کے لیے خوشی اور محبت کے پیغامبر بنیں۔
– مثبت سوچ کو فروغ دیں اور مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔
– دوسروں کی مدد کریں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کے لیے زندگی آسان بنائیں۔
میری طرف سے خوبصورت دعا
پیارے قارئین، میری طرف سے آپ سب کو نئے سال کی بہت سی دعائیں اور نیک تمنائیں۔ دعا ہے کہ یہ سال آپ کے لیے خوشیوں، کامیابیوں اور محبت سے بھرپور ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کے دل کی ہر جائز دعا قبول کرے، آپ کی زندگی کو آسانیوں سے بھر دے، اور آپ کو وہ سب عطا کرے جس کی آپ خواہش رکھتے ہیں۔
یہ نیا سال امیدوں، محبتوں اور کامیابیوں کا سال ہو۔ ہر دن ایک نئی روشنی اور نئی خوشی لے کر آئے، اور آپ کا ہر خواب حقیقت میں تبدیل ہو۔ آمین۔
سال نو کو مثبت ارادوں، امیدوں اور دعاؤں کے ساتھ خوش آمدید کہیں۔ یہ سال آپ کی زندگی میں خوشیوں کے ان گنت رنگ بکھیرے، آپ کی راہوں میں کامیابیاں ہوں اور آپ کا دل سکون اور اطمینان سے بھر جائے۔ نئے سال کو اپنے لیے، اپنے پیاروں کے لیے، اور پوری دنیا کے لیے خوشیوں کا ذریعہ بنائیں۔ سال نو مبارک ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی 17ویں برسی کی تقریب – عقیدت و اتحاد کا مظہر

مانچسٹر، 27 دسمبر 2024: پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ کے زیر اہتمام محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی 17ویں برسی کی تقریب مانچسٹر کے پاکستان کمیونٹی سینٹر لانگ سائیٹ میں انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس پروقار تقریب میں پارٹی قیادت، رہنماؤں، اور کارکنان نے بھرپور شرکت کی، جہاں محترمہ بے نظیر بھٹو کی جمہوری جدوجہد، قربانیوں، اور عوامی خدمات کو یاد کیا گیا اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
تقریب کے میزبان پیپلز پارٹی برطانیہ کے مرکزی سینئر نائب صدر خواجہ کلیم الرحمٰن تھے، جنہوں نے اپنے افتتاحی خطاب میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی عوامی خدمات، جمہوری جدوجہد، اور اصولی سیاست کو خراج تحسین پیش کیا۔
تقریب سے پیپلز پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں نے خطاب کیا، جنہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قربانیوں کو یاد کیا اور پارٹی کے مشن کو آگے بڑھانے پر زور دیا:
محسن باری (مرکزی صدر)
انہوں نے محترمہ کے مشن کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی جمہوریت کی بحالی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔
اظہر اقبال بڑھالوی(مرکزی سیکرٹری جنرل)
انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جمہوریت کی علامت کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔
ندیم قیصر (مرکزی نائب صدر):
ندیم قیصر نے محترمہ کو شاعری کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا۔ ان کے جذباتی اشعار نے محترمہ کی قربانیوں اور قیادت کو بے مثال انداز میں اجاگر کیا۔
کونسلر مقدسہ بانو (مرکزی سیکرٹری جنرل، خواتین ونگ):
کونسلر مقدسہ بانو نے اپنے خطاب میں کہا: “ہم کربلا والوں کے قبیلے سے ہیں، شہادت ہماری گھٹی میں ڈالی گئی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے تنظیم سازی پر زور دیتے ہوئے پارٹی قیادت سے تنظیمی ڈھانچے پر نظرثانی کی درخواست بھی کی۔
راجہ غضنفر خالق (سابق لارڈ میئر بریڈفورڈ)
انہوں نے کہا کہ محترمہ کی قربانیاں پاکستان کے لیے ایک مشعل راہ ہیں اور ان جیسا رہنما صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔
عتیق صابر مغل (پیپلز پارٹی برطانیہ کے رہنما)
انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو متحد ہو کر محترمہ کے مشن کو آگے بڑھانا ہوگا۔
قاری عباس(صدر مذہبی امور)
انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت کو دینی اور اخلاقی اقدار کا نمونہ قرار دیتے ہوئے خصوصی دعا کرائی۔
تقریب کے اختتام پر خواجہ صالح کلیم کو گریٹر مانچسٹر کا صدر نامزد کیا گیا۔ شرکاء نے انہیں مبارکباد پیش کی اور پھولوں کے ہار پہنائے۔ اپنی تقریر میں خواجہ صالح کلیم نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو دیانتداری اور لگن کے ساتھ نبھائیں گے۔
تقریب میں شرکاء کی بڑی تعداد اور ان کا جوش و جذبہ دیکھنے کے لائق تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا، اور شرکاء نے ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔ اختتام پر دعائے مغفرت کی گئی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔
یہ تقریب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قربانیوں کو یاد کرنے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تنظیم سازی کے لیے اتحاد کا مظہر ثابت ہوئی۔
رپورٹ: مقدسہ بانو
…………………………………
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور عالمِ انسانیت کے لیے پیغامِ محبت
تحریر مقدسہ بانو
حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جنہیں دنیا حضرت مسیح کے نام سے جانتی ہے، اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک ہیں جنہیں اللہ نے بنی اسرائیل کی رہنمائی کے لیے بھیجا۔ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ نہایت تفصیل اور معجزانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے، جو اللہ کی قدرت کا ایک بے مثال مظہر ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا معجزہ:
قرآن مجید سورہ مریم میں بیان کرتا ہے:
> “جب فرشتے نے کہا: اے مریم! اللہ تمہیں اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے، جس کا نام مسیح، عیسیٰ ابن مریم ہوگا، جو دنیا اور آخرت میں وجیہ ہوگا اور اللہ کے مقربین میں سے ہوگا۔” (سورہ آل عمران: 45)
حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے حکم سے بغیر کسی مرد کے واسطے کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنم دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ معجزہ نہ صرف اللہ کی وحدانیت کا اظہار ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ اللہ کسی بھی چیز کو “کُن” کہہ کر وجود میں لا سکتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیغام:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے محبت، امن، اور انسانیت کے لیے ہمدردی کا پیغام دیا۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو توحید کی طرف بلایا اور دنیا کو اللہ کی رحمت کی عظمت سے روشناس کرایا۔ قرآن مجید میں ان کے الفاظ نقل کیے گئے ہیں:
> “اور بے شک اللہ میرا رب اور تمہارا رب ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔” (سورہ مریم: 36)
عالمی بھائی چارے کا پیغام:
کرسمس کے موقع پر، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی یادگار ہے، دنیا بھر میں محبت اور امن کا پیغام پھیلایا جاتا ہے۔ مسلمان بھی اس موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کے ایک عظیم پیغمبر کے طور پر یاد کرتے ہیں اور ان کی تعلیمات کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ موقع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تمام انبیاء کا پیغام مشترکہ ہے: امن، محبت، اور اللہ کی بندگی۔
مسلمانوں کے لیے ایک سبق:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مصیبتوں اور آزمائشوں کے باوجود حق کے راستے پر قائم رہنا چاہیے۔ ان کی حیات طیبہ کا مطالعہ ہمیں انسانیت کی خدمت اور سچائی کے لیے قربانی کا درس دیتا ہے۔
کرسمس کی مبارکباد:
کرسمس کے موقع پر مسلمانوں کو دنیا کے تمام مذاہب اور قوموں کے ساتھ محبت اور احترام کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ قرآن مجید ہمیں سکھاتا ہے:
> “تم سب انسانوں کو ایک ہی جان سے پیدا کیا گیا ہے۔” (سورہ النساء: 1)
لہٰذا، عالمی سطح پر بھائی چارے اور محبت کے فروغ کے لیے مسلمانوں کو کرسمس کے موقع پر اپنے مسیحی بھائیوں کو مبارکباد پیش کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ امن و محبت کا پیغام بانٹنا چاہیے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر امن کے فروغ اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے قیام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ ہمیں اللہ کی قدرت اور ان کی تعلیمات محبت و امن کا درس دیتی ہیں۔ یہ موقع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تمام انبیاء کا مشن انسانیت کو یکجا کرنا اور اللہ کی طرف بلانا تھا۔ آج کے دور میں، جب دنیا تقسیم کا شکار ہے، ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے امن، محبت، اور بھائی چارے کا پیغام عام کرنا چاہیے
…………………………………………..
گولی کیوں چلائی؟ کیا یہ سوال پہلے کبھی اٹھایا گیا؟
تحرير مقدسہ بانو
پاکستان میں حالیہ دنوں میں “گولی کیوں چلائی؟” کے نعرے کے تحت ایک مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں ایک خاص واقعے کو بنیاد بنا کر مظلومیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ نعرہ صرف ایک مخصوص وقت اور واقعے کے لیے کیوں استعمال کیا جا رہا ہے؟ کیا ماضی کے مظلوموں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟
پاڑا چنار، سانحہ اے پی ایس، اور دیگر مظالم پر خاموشی کیوں؟
پاڑا چنار میں چھ ماہ کے شیر خوار بچے کو گولی مار دی گئی۔ کیا اس وقت کسی نے “گولی کیوں چلائی؟” کا نعرہ بلند کیا؟ سانحہ اے پی ایس (پشاور اسکول حملہ) میں 132 بچوں کو سفاکیت سے قتل کر دیا گیا۔ اس وقت کیوں ایسا سوال اٹھایا نہیں گیا؟
کیا مظلوموں کی جان کی اہمیت نظریاتی، سیاسی، یا جغرافیائی تقسیم کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے؟
پاکستان میں انسانی جانوں کا زیاں: اعداد و شمار
پاکستان میں گزشتہ دہائی کے دوران دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نتیجے میں ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔ کچھ اہم اعداد و شمار:
-2001 سے 2023 تک: دہشت گردی کے مختلف واقعات میں تقریباً 83,000 افراد جاں بحق ہوئے۔
– پاڑا چنار (2017): ایک ہی سانحے میں ل75 سے زائد* افراد شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
– سانحہ اے پی ایس (2014)132 بچے سفاکی سے قتل کیے گئے۔
-بلوچستان اور فاٹا کے علاقے: مسلسل حملوں میں بے شمار بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
عوام کی بے حسی اور دوہرے معیار
یہ سوال عوام کے لیے ہے:
– کیا صرف سوشل میڈیا پر مہم چلانا اور مخصوص واقعات پر احتجاج کرنا کافی ہے؟
– کیا مظلوموں کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے سب مظالم کے خلاف یکساں آواز بلند کرنا ضروری نہیں؟
– کیا ہمیں شرم نہیں آتی کہ ہم مظلوم کی حمایت بھی اپنی پسند اور مفادات کے تحت کرتے ہیں؟
“گولی کیوں چلائی؟” کا نعرہ صرف ایک طبقے کے لیے کیوں؟
یہ نعرہ چلانے والوں سے سوال ہے:
– جب پاڑا چنار کے معصوم قتل کیے گئے، اس وقت کہاں تھے یہ نعرے؟
– جب اے پی ایس کے بچوں کی لاشیں دفنائی گئیں، اس وقت کیوں خاموشی تھی؟
– کیا انسانی جان کی قیمت اس کے مذہب، مسلک، یا قومیت کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے؟
عوام کو شرم کیوں نہیں آتی؟
پاکستانی عوام کی بے حسی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
– ہم وقتی جذبات کے تحت احتجاج کرتے ہیں، لیکن ماضی کے مظلوموں کو بھول جاتے ہیں۔
– ہم اپنی سیاسی وابستگیوں کو انصاف اور انسانیت پر ترجیح دیتے ہیں۔
– کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ ہم مظلوموں کے حق کے لیے بھی فرقہ واریت اور سیاست کی نظر سے سوچتے ہیں؟
اگر “گولی کیوں چلائی؟” کا نعرہ انصاف کی علامت بننا ہے، تو اسے ہر مظلوم کے لیے بلند کرنا ہوگا، چاہے وہ پاڑا چنار ہو، اے پی ایس ہو، یا کسی اور جگہ کا واقعہ۔ جب تک ہم اپنے دوہرے معیار ختم نہیں کریں گے اور ہر ظلم کے خلاف یکساں آواز نہیں اٹھائیں گے، پاکستان میں حقیقی انصاف کا قیام ممکن نہیں۔
اب وقت ہے کہ عوام شرم کریں اور مظلوموں کے لیے بلا تفریق انصاف کا مطالبہ کریں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
خودپسندی: ایک ذہنی مرض اور سوشل میڈیا کے اثرات
تحریر و تحقیق: مقدسہ بانو
خودپسندی ایک پیچیدہ نفسیاتی کیفیت ہے، جس میں فرد اپنی ذات کے ساتھ غیر معمولی محبت، خود پرستی، اور برتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی بلکہ اس کے سماجی تعلقات اور رویے پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ جدید دور میں سوشل میڈیا نے خودپسندی کے رجحان کو مزید بڑھاوا دیا ہے، جس نے انسانی رویوں میں کئی مثبت اور منفی تبدیلیاں کی ہیں۔
خودپسندی:
علامات اور وجوہات
خودپسندی کا شکار افراد میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
علامات
-خود کو برتر سمجھنا:
خودپسند افراد اپنی حیثیت اور صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
-تعریف کی طلب:
– وہ مسلسل دوسروں کی تعریف اور توجہ کے طلبگار ہوتے ہیں۔
– احساس برتری: –
– دوسروں کے مسائل اور جذبات کو نظرانداز کر کے اپنی ضروریات کو فوقیت دیتے ہیں۔
– تنقید کی عدم برداشت: –
کسی بھی قسم کی تنقید پر جذباتی اور شدید ردعمل دیتے ہیں۔
– خود غرضی:
– – دوسروں کے جذبات یا رائے کی پرواہ کیے بغیر اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
وجوہات
خودپسندی کی وجوہات میں ماحولیاتی، نفسیاتی، اور جینیاتی عوامل شامل ہو سکتے ہیں:
-بچپن کے تجربات:
ضرورت سے زیادہ تعریف یا تنقید، اور والدین کا غیر متوازن رویہ۔
-ذہنی اور جذباتی نظراندازی:
بچپن میں محبت یا توجہ کی کمی۔
-معاشرتی دباؤ: سماجی توقعات اور کامیابی کے غیر حقیقی معیار بھی اس رویے کو بڑھا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور خودپسندی کا تعلق
جدید دور میں سوشل میڈیا خودپسندی کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
خود نمائی کا پلیٹ فارم
سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں لوگ اپنی زندگی کے خوش کن لمحات، کامیابیاں، اور اپنی بہترین شکل میں پیش کیے گئے لمحات شیئر کرتے ہیں۔ اس عمل سے وہ اپنی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، جو اکثر خودپسندی کی ایک شکل اختیار کر لیتا ہے۔
توجہ اور تعریف کی طلب
لائکس، کمنٹس، اور شیئرز کی صورت میں تعریف کا حصول سوشل میڈیا پر ایک عام رویہ بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف خودپسندی کو فروغ دیتا ہے بلکہ فرد کے ذہنی سکون کو بھی متاثر کرتا ہے، خاص طور پر اگر توقع کے مطابق توجہ نہ ملے۔
مقابلے کا ماحول
سوشل میڈیا پر دوسروں کی کامیابیوں اور مثالی زندگی کو دیکھ کر لوگ اپنی زندگی کو کمتر محسوس کرتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے مصنوعی یا مبالغہ آمیز رویے اپناتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے منفی اثرات
ذہنی دباؤ
– مسلسل توجہ اور منظوری حاصل کرنے کی کوشش ذہنی دباؤ، اضطراب، اور خود اعتمادی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
2. مصنوعی زندگی کی تشکیل
– سوشل میڈیا پر لوگ اپنی زندگی کو زیادہ شاندار اور خوشحال دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتی ہے۔
حقیقی تعلقات کی کمزوری
– سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے سے حقیقی زندگی کے تعلقات متاثر ہوتے ہیں، اور افراد ایک دوسرے کے جذبات کو نظرانداز کرنے لگتے ہیں۔
خودپسندی اور سوشل میڈیا کے مشترکہ اثرات
سوشل میڈیا اور خودپسندی ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ خودپسند افراد سوشل میڈیا پر اپنی برتری جتانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کے مصنوعی ماحول کی وجہ سے مزید افراد خودپسندی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
حل اور تجاویز
خودپسندی کو کم کرنے اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
خود آگاہی
– اپنی ذات کو پہچانیں اور اپنی کمزوریوں کو تسلیم کریں۔ اپنی خوبیوں کو حقیقی انداز میں پیش کریں۔
ڈیجیٹل ڈیٹاکس
– سوشل میڈیا پر گزارے گئے وقت کو محدود کریں اور حقیقی زندگی کے تعلقات اور سرگرمیوں کو ترجیح دیں۔
معنی خیز تعلقات
– دوسروں کے جذبات اور احساسات کو اہمیت دیں، اور اپنے رویے میں عاجزی اور ہمدردی پیدا کریں۔
ماہرین سے مدد
– اگر خودپسندی کی علامات شدید ہوں تو ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔ سائیکو تھراپی اور مشاورت سے رویے میں تبدیلی ممکن ہے۔
نتیجہ
خودپسندی ایک نفسیاتی مسئلہ ہے، جو فرد کی ذات اور سماجی تعلقات پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رویے کو مزید پیچیدہ اور عام بنا دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو متوازن انداز میں استعمال کریں، حقیقت پسند بنیں، اور دوسروں کے جذبات کا احترام کریں۔ اس طرح ہم ایک مثبت اور متوازن زندگی گزار سکتے ہیں، جہاں خود پسندی کے بجائے عاجزی اور ہمدردی کو فروغ ملے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پیسے پھینک، تماشہ دیکھ (تفصیلی فیچر رپورٹ مقدسہ بانو)
گزشتہ شب مانچسٹر کے ایک معروف ہال میں کمیونٹی کی خدمات کے اعتراف میں ایک رنگا رنگ اور پُرتعیش تقریب منعقد کی گئی۔ اس ایوارڈ تقریب میں مقامی معززین، مئیرز، لارڈ مئیرز، کونسلرز، اور پاکستانی قونصل جنرل نے شرکت کی، جبکہ معروف گلوکاروں نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ یہ ایک شاندار موقع تھا، لیکن تقریب کے دوران پیش آنے والے کچھ پہلوؤں نے تقریب کی چمک کو ماند کر دیا۔
تقریب کا آغاز: نیکی کا اثر، مگر ترتیب کی کمی
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت خوانی سے ہوا، جس سے ماحول روحانی اور دلکش ہو گیا۔ اس کے بعد پاکستان اور برطانیہ کے قومی ترانے بجائے گئے، جس سے حب الوطنی کا خوبصورت مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ تقریب کی ابتداء منظم اور باوقار انداز میں ہوئی، لیکن جیسے ہی ایوارڈز کی تقسیم کا مرحلہ شروع ہوا، تقریب کا توازن بگڑنے لگا۔
ایوارڈز کی تقسیم: “جس کی لاٹھی، اس کی بھینس”
ایوارڈز کی تقسیم اس تقریب کا سب سے متنازعہ پہلو ثابت ہوئی۔ جہاں چند حقیقی طور پر قابل اور خدمت گزار افراد کو ان کی محنت اور کمیونٹی کی خدمت کے اعتراف میں ایوارڈز سے نوازا گیا، وہیں ایسے ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے جو محض تعلقات یا مالی معاونت کی بنیاد پر دیے گئے۔
یہ واضح تھا کہ ایوارڈز کی تقسیم میں شفافیت کا فقدان تھا۔ مالی تعاون کرنے والے افراد کو ایوارڈز دینا، یا ایسے افراد کو نوازا جانا جن کا کمیونٹی سروس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، تقریب کی ساکھ پر سوالیہ نشان تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک حیران کن بات یہ بھی سامنے آئی کہ خود ساختہ صحافیوں کو بھی ایوارڈز سے نوازا گیا، جو اس بات کا عکاس تھا کہ یہ ایوارڈز زیادہ تر ذاتی تعلقات یا مالی فائدے کی بنیاد پر تقسیم کیے جا رہے تھے۔
صوتی نظام: سامعین کے صبر کا امتحان
تقریب کے دوران ناقص صوتی نظام بار بار خلل ڈال رہا تھا۔ سپیکرز کی غیر ہموار آوازوں اور کمپئیر کی غیر ضروری چیخ و پکار نے شرکاء کی برداشت کا سخت امتحان لیا۔ سامعین بارہا ان مسائل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے رہے، لیکن منتظمین ان خامیوں کو دور کرنے میں ناکام رہے۔
مالی معاونت اور معیار کی کشمکش
یہ تقریب اس وقت مزید متنازع ہوئی جب یہ بات سامنے آئی کہ مالی تعاون کے بدلے ایوارڈز دیے جا رہے ہیں۔ یہ طریقہ کار تقریب کے معیار اور اس کے اصل مقصد کو بری طرح متاثر کر رہا تھا۔ ایسے واقعات سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ایوارڈز کے لیے میرٹ کی کوئی حیثیت نہیں، اور صرف مالی مدد یا تعلقات کی بنیاد پر کسی کو بھی نوازا جا سکتا ہے۔
“پیسے پھینک، تماشہ دیکھ”: ایک موزوں جملہ
تقریب کے عمومی رویے اور ماحول کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تقریب “پیسے پھینک، تماشہ دیکھ” کی عملی مثال تھی۔ جہاں تعلقات اور مالی تعاون کی بنیاد پر لوگوں کو خوش کیا جا رہا تھا، وہیں حقیقی خدمات انجام دینے والے کئی افراد کو نظر انداز کیا گیا۔ یہ صورتحال مایوس کن اور کمیونٹی کے لیے نقصان دہ ہے۔
تجاویز:
کامیابی کی کنجی
شفافیت یقینی بنائی جائے:
ایوارڈز کی تقسیم کے لیے ایک غیر جانبدار اور معروضی پینل تشکیل دیا جائے تاکہ صرف مستحق افراد کو ایوارڈز مل سکیں۔
پیشہ ورانہ انتظام:
صوتی نظام اور انتظامی امور کو بہتر بنایا جائے تاکہ سامعین کو ایک مثبت تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
مالی تعاون اور ایوارڈز کی علیحدگی:
مالی تعاون کو تقریب کا حصہ تو بنایا جائے، لیکن اسے ایوارڈز کی تقسیم کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے۔
حقیقی خدمات کا اعتراف:
صرف ان افراد کو نوازا جائے جنہوں نے واقعی کمیونٹی کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہوں، تاکہ ایوارڈز کی ساکھ برقرار رہے۔
اختتامیہ:
یہ تقریب بظاہر ایک شاندار موقع تھا، لیکن انتظامی خامیوں، ناقص صوتی نظام، اور ایوارڈز کی غیر شفاف تقسیم نے اس کے معیار کو شدید متاثر کیا۔ “جس کی لاٹھی، اس کی بھینس” اور “پیسے پھینک، تماشہ دیکھ” جیسے جملے اس تقریب کی عکاسی کے لیے کافی ہیں۔ اگر ان مسائل پر قابو پایا جائے تو مستقبل میں ایسی تقریبات کمیونٹی کے لیے واقعی ایک مثبت اور بامقصد تجربہ بن سکتی ہیں۔
…………………………….
معاشرتی بےحسی تحریر مقدسہ بانو
معاشرہ اپنے تضادات اور منافقتوں کے حوالے سے نہ صرف پیچیدہ بلکہ کئی حوالوں سے المیہ بھی ہے۔ یہ معاشرہ رشتوں کی اہمیت، محبت اور احترام کو ایک طرف بلند مقام دیتا ہے، تو دوسری طرف انہی رشتوں کو ذاتی مفادات، حسد، اور معاشرتی دباؤ کے تحت پامال کر دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں، جہاں خیالات اور جذبات کا بے لگام اظہار ہوتا ہے، ان رشتوں کی ناقدری اور ان پر کیچڑ اچھالنے کا رجحان روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
پھوپھو اور ماموں کے رشتے کی مثال:
پھوپھو، جو عموماً والد کی بہن ہوتی ہیں، ہمارے معاشرے میں اکثر تنقید کا نشانہ بنتی ہیں۔ ان کے متعلق یہ تصور پایا جاتا ہے کہ وہ “فساد” پھیلانے والی یا حسد کرنے والی ہوتی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہو سکتی ہے۔ وہی پھوپھو اکثر اپنی جائیداد یا حق والدین یا بھائیوں کے حق میں قربان کر چکی ہوتی ہیں، لیکن ان کی قربانی کو نظرانداز کر کے انہیں صرف ایک منفی کردار میں پیش کیا جاتا ہے۔
دوسری طرف، ماموں، جو ماں کا بھائی ہوتا ہے، کو ایک بے حد پیارا اور عزیز رشتہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہی ماموں، کئی دفعہ ماں کے حقوق غضب کر کے بیٹھا ہوتا ہے، پھر بھی معاشرہ اسے “چندا ماموں” کے نام سے محبت دیتا ہے۔ یہ منافقت ہمارے معاشرتی رویے کی ایک واضح مثال ہے۔
سوشل میڈیا پر رشتوں کی پامالی:
سوشل میڈیا آج کل خیالات کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے، لیکن اس کا استعمال اکثر منفی انداز میں کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا کو اپنی مایوسی، غصے اور ذاتی مسائل کا میدان جنگ بنا لیا ہے۔ خصوصاً رشتوں کی توہین اور کردار کشی ایک عام بات بن گئی ہے۔ پھوپھو اور ماموں جیسے پاکیزہ رشتے ان حملوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی ذاتی ناکامیوں یا خاندانی تنازعات کی وجہ سے ان رشتوں کو عمومی طور پر بدنام کرنے لگتے ہیں۔
رشتوں کی اصل خوبصورتی:
رشتے اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہیں، جن کا مقصد محبت، ہمدردی اور سپورٹ فراہم کرنا ہے۔ پھوپھو، ماموں، خالہ اور دیگر رشتے اپنی ذات میں کسی خزانے سے کم نہیں۔ ان کا اصل مقصد خاندان کے اندر محبت اور یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ لیکن اگر ہم ان رشتوں کو ذاتی عناد، حسد اور دوسروں کی باتوں کی بنیاد پر بدنام کریں گے، تو نہ صرف ہم ان کی قدر کھو دیں گے، بلکہ اپنی آئندہ نسلوں کو بھی ان سے محروم کر دیں گے۔
دوغلہ پن کے اثرات:
دوغلہ رویہ معاشرتی بگاڑ کی بڑی وجہ ہے۔ ہم ایک طرف رشتوں کو خوبصورت مانتے ہیں، دوسری طرف اپنی روزمرہ کی گفتگو اور رویوں سے ان کی بے قدری کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی رشتے کو تنقید کا نشانہ بناتے وقت ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری باتیں کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویوں پر غور کریں اور سوشل میڈیا پر منفی رویے اپنانے کے بجائے رشتوں کی عزت اور ان کی خوبصورتی کو اجاگر کریں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ رشتے ہمارے اخلاقی اور معاشرتی وجود کا حصہ ہیں، اور ان کا احترام ہی ہمیں ایک مضبوط اور مہذب معاشرہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
دنیا میں فتوے اتنے جاری ہو رہے ہیں کہ کبھی کبھار دل چاہتا ہے ایک “فتویٰ ایپ” بنائی جائے۔ ایک کلک کرو، اور اپنی زندگی کے ہر سوال کا فوری جواب لو۔ شیخ عاصم الحکیم کے حالیہ فتوے، جس میں غیر مسلم ممالک کی شہریت کو حرام قرار دیا گیا ہے، نے میرے اندر کھلبلی مچا دی ہے قلم پھر اٹھانا پڑا اس دعا کہ ساتھ کہ،
“یا اللہ! اب تو خیمے میں رہنا ہی نصیب ہے، کیونکہ شہریت لینا بھی حرام ہے!”
فتویٰ ایک سنجیدہ چیز ہے، لیکن جب یہ عملی حالات سے کٹ کر ہو، تو مزاح کا سبب بن جاتا ہے۔ کیا کوئی عالم ہمیں یہ بھی بتائے گا کہ جب ہم اپنے ملک میں بنیادی سہولتوں سے محروم ہوں، تب کیا کریں؟ شاید ایک نیا فتویٰ آ جائے: “مشکل حالات میں صبر کرنا واجب ہے، لیکن ہنسنا مکروہ ہے!
مسئلہ فتوے کا نہیں، بلکہ اس کی لاگوئیّت کا ہے۔ آپ کا فتویٰ کتنا ہی مذہبی ہو، اگر یہ زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا، تو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اور ہاں، اگر اگلے فتوے میں “مزاحیہ کالم لکھنے” کو بھی مکروہ قرار دیا جائے، تو میں پہلے ہی معذرت پیش کرتی ہوں !
شیخ عاصم الحکیم کا حالیہ فتویٰ، جس میں مسلمانوں کے لیے غیر مسلم ممالک کی شہریت کو حرام قرار دیا گیا ہے، نے نہ صرف سنجیدہ مباحث کو جنم دیا ہے بلکہ مزاح کا ایک دروازہ بھی کھول دیا ہے۔ یہ فتویٰ اصولی طور پر مسلمانوں کو اسلامی اقدار اور شناخت کی حفاظت کی ترغیب دیتا ہے، لیکن عملی طور پر اس کے کئی پہلو ایسے ہیں جو مزاحیہ حالات اور سوالات پیدا کرتے ہیں۔
فتویٰ اور زمینی حقائق کا تضاد
یہ فتویٰ شاید اس نکتے کو نظر انداز کرتا ہے کہ دنیا کے لاکھوں مسلمان غیر مسلم ممالک میں بہتر زندگی کی تلاش میں مقیم ہیں۔ وہ جنگ، غربت اور بدامنی سے تنگ آ کر ان ممالک کی شہریت لیتے ہیں، جہاں انہیں تحفظ اور مواقع میسر ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ فتویٰ ان کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔
سوچیے، اگر کوئی طالب علم اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جاتا ہے اور وہاں نوکری کی پیشکش ملتی ہے، تو کیا وہ یہ کہے گا:
“معاف کیجیے گا، یہ نوکری حرام ہے کیونکہ اس کے ساتھ شہریت کی پیشکش بھی ہے!”
یا اگر کوئی شام کا مہاجر غیر مسلم ملک میں پناہ لے اور فتوے کی خبر سنے تو سوچے گا:
“پناہ لینا ٹھیک تھا، لیکن شہریت لینا اب گناہ بن گیا؟”
اگر فتوے کو سنجیدگی سے لاگو کیا جائے، تو کئی مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایک نوجوان نے مذاق میں کہا:
“اگر شہریت حرام ہے، تو ان کے موبائل، فلمیں اور چاکلیٹ بھی تو غیر مسلم ہیں۔ کیا وہ بھی حرام ہو گئے؟”
ایک اور نے کہا:
“تو بھائی، کیا اب ہمیں انٹرنیٹ بند کر کے خط و کتابت پر واپس جانا ہو گا؟ کیونکہ انٹرنیٹ بھی تو غیر مسلم ممالک کی ایجاد ہے!”
غیر مسلم ممالک کی خدمات کا انکار؟
یہ فتویٰ اس حقیقت کو بھی نظرانداز کرتا ہے کہ غیر مسلم ممالک کی ایجادات اور خدمات آج مسلمانوں کی زندگی کا حصہ ہیں۔ موبائل، دوائیں، تعلیمی ادارے، اور جدید ٹیکنالوجی انہی ممالک کی دین ہیں۔ کیا ان خدمات سے فائدہ اٹھانا بھی حرام ہو جائے گا؟ اگر شہریت حرام ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ باقی چیزوں کا کیا؟
فتویٰ پر عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر لوگوں نے فتوے کے خلاف دلچسپ تبصرے کیے: –
“کیا غیر مسلم ملک کی بنی ہوئی چیزیں استعمال کرنا بھی اب ممنوع ہو جائے گا؟
“مولانا صاحب، اگر شہریت حرام ہے تو کیا ان کے بنائے ہوائی جہاز پر سفر بھی مکروہ ہے؟”
فتویٰ اگرچہ سنجیدہ مذہبی معاملہ ہے، لیکن جب یہ زمینی حقائق اور موجودہ حالات سے مطابقت نہ رکھتا ہو، تو اس پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔ عوام اس سے نہ صرف الجھن کا شکار ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات مزاح کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
اعتدال کی ضرورت
شیخ عاصم الحکیم کے فتوے کا مقصد شاید مسلمانوں کو اسلامی تشخص کے تحفظ کی ترغیب دینا تھا، لیکن اس کے اطلاق میں حقیقت پسندی کی کمی نظر آتی ہے۔ آج کے دور میں، جہاں مسلمان دنیا بھر میں تعلیم، روزگار، اور امن کی تلاش میں نکلتے ہیں، ایسے فتووں کو مزید متوازن اور عملی بنانے کی ضرورت ہے۔
علما کے لیے ضروری ہے کہ وہ فتوے جاری کرتے وقت زمینی حقائق اور مسلمانوں کے حقیقی مسائل کو بھی مدنظر رکھیں۔ فتوے کا مقصد آسانی پیدا کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ لوگوں کے لیے مزید مشکلات یا مزاحیہ حالات پیدا کرنا۔ کیونکہ آج کے دور میں، جہاں ہر بات پر سوال اٹھتا ہے، ایک غیر متوازن فتویٰ خود اپنی سنجیدگی کھو بیٹھتا ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام: خصوصاً پاراچنار کے حالیہ واقعات اور حکومت کی خاموشی
پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی تاریخ طویل اور تکلیف دہ ہے، اور حالیہ دنوں میں پاراچنار میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام نے اس زخم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ سانحہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست کی ناکامی اور بے حسی کا واضح ثبوت بھی ہے۔
پاراچنار کا حالیہ واقعہ
پاراچنار، جو قبائلی علاقے کرم کا مرکز ہے، ایک عرصے سے فرقہ وارانہ تشدد کا شکار ہے۔ حالیہ دنوں میں شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، جن میں نہتے شہری، بچے، اور خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ حملے دہشتگرد تنظیموں کی طرف سے کیے گئے، جو بغیر کسی خوف کے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں عام شہری کس قدر غیر محفوظ ہیں۔
حکومتی کردار: مجرمانہ خاموشی
حکومت پاکستان کا کردار اس مسئلے میں نہایت مایوس کن رہا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے، لیکن بارہا دیکھا گیا ہے کہ پاراچنار اور دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے حملوں پر یا تو خاموشی اختیار کی جاتی ہے یا رسمی مذمتی بیانات دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے۔
سیکیورٹی کی ناکامی:
حکومت اور سیکورٹی ادارے، جو دہشتگردوں کے خاتمے کے دعوے کرتے ہیں، پاراچنار جیسے حساس علاقوں میں ناکام نظر آتے ہیں۔
مذاکرات یا کارروائی؟:
دہشتگرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کے بجائے اکثر مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، جو ظالموں کو مزید شہہ دیتی ہے۔
فرقہ وارانہ تعصب:
ریاستی مشینری کی خاموشی اور بعض اوقات تعصب پر مبنی رویہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
شیعہ کمیونٹی کا ردعمل اور مطالبات
شیعہ کمیونٹی بارہا پرامن احتجاج کے ذریعے اپنی فریاد ریاست تک پہنچانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ ان کے مطالبات درج ذیل ہیں:
دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی: پاراچنار اور دیگر علاقوں میں دہشتگرد تنظیموں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔
سیکیورٹی کی فراہمی: حکومت پاراچنار جیسے حساس علاقوں میں شہریوں کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کرے۔
مجرمانہ خاموشی ختم کی جائے:
حکومت کو شیعہ مسلمانوں کے قتل پر واضح اور ٹھوس موقف اپنانا ہوگا۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بحالی: تعلیمی اور سماجی سطح پر ایسی پالیسیاں اپنائی جائیں جو فرقہ وارانہ نفرت کو ختم کریں۔
عالمی برادری کی توجہ کی ضرورت
پاراچنار میں ہونے والے مظالم پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کو اقوام متحدہ اور دیگر اداروں میں اجاگر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
پاراچنار کے حالیہ واقعات ایک ایسا المیہ ہیں جو صرف شیعہ کمیونٹی کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ اگر حکومت نے اپنی روش نہ بدلی اور دہشتگردوں کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے تو نہ صرف معصوم جانیں ضائع ہوتی رہیں گی بلکہ ریاست کی ساکھ بھی مزید متاثر ہوگی۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومت محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے اور ملک کو ہر قسم کی فرقہ واریت سے پاک کرے، تاکہ پاکستان ایک محفوظ اور پرامن ریاست بن سکے۔
نوحۂ پاراچنارکے چھ ماہ کے شہید کے نام
ظلم کے داغ دل پہ سجائے گئے،
معصوموں کے چراغ بجھائے گئے،
یہ زخم ہیں جو کبھی نہ مٹائے گئے،
نہ بھولیں گے ہم، نہ بھولیں گے ہم۔
ماں کی گود میں تھا جو ہنستا رہا،
فرش پہ خون اپنا جو بہتا رہا،
چہرۂ گل پہ درد کا نقش رہا،
نہ بھولیں گے ہم، نہ بھولیں گے ہم۔
چاہتوں کے چراغوں کو تاریک کیا،
زندگی کے ہر خواب کو پامال کیا،
ان گناہوں کا انصاف کب ہوگا؟
نہ بھولیں گے ہم، نہ بھولیں گے ہم۔
شہر کا شہر ماتم میں ڈوبا رہا،
ہر دل میں تھا غم کا سمندر بہا،
ربِ کریم سے بس ایک ہی التجا،
نہ بھولیں گے ہم، نہ بھولیں گے ہم۔
مقدسہ بانو
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستان میں فضائی آلودگی اور سموگ کے مسائل کئی برسوں سے بڑھتے جا رہے ہیں، خصوصاً لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں، جہاں فضائی معیار خطرناک حد تک گرا ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جو نہ صرف شہریوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ ملک کی معیشت اور ماحولیات پر بھی منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ سموگ کی شدت اور اس کے تدارک کے لیے حکومتی اقدامات پر غور کرنا ضروری ہے تاکہ اس کے مستقل حل کے لیے مناسب حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
سموگ کا سبب کیا ہے؟
سموگ ایک ایسی حالت ہے جہاں دھند اور دھویں کی آلودہ جھرمٹ فضاء میں موجود ہوتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ کھیتوں میں فصلوں کو جلانا ہے، جس سے دھواں اور دیگر آلودہ ذرات فضاء میں گھل جاتے ہیں۔ دوسری جانب، بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد اور صنعتی آلودگی بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خاص طور پر لاہور جیسے شہر میں جہاں ٹریفک کی بھیڑ اور آلودہ گاڑیاں اس مسئلے کو مزید بڑھاتی ہیں۔
سموگ کی صحت پر اثرات:
سموگ کا سب سے برا اثر انسانی صحت پر پڑتا ہے۔ آلودہ ہوا سانس کی بیماریوں، دمہ، برونکائٹس، اور دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، سموگ آنکھوں میں جلن، خارش اور دیگر تکالیف پیدا کرتا ہے۔ کئی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ سموگ کی شدت میں اضافے سے اموات کی شرح بھی بڑھتی ہے، خاص طور پر بزرگ افراد اور بچوں میں۔
حکومتی اقدامات اور ان کی کامیابی:
پاکستان کی حکومت نے سموگ کے تدارک کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ پنجاب حکومت نے کھیتوں میں فصلوں کو جلانے پر پابندی عائد کی ہے اور فضائی آلودگی کی نگرانی کے لیے جدید سسٹمز متعارف کرائے ہیں۔ حکومت نے سموگ کے خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی کی مہم بھی چلائی ہے تاکہ لوگ سموگ کے اثرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
اس کے باوجود، ان اقدامات کی کامیابی محدود رہی ہے۔ فصلوں کی آگ جلانے پر پابندی لگانے کے باوجود کسانوں کو متبادل طریقے فراہم کرنے میں ناکامی ہوئی ہے، اور بعض علاقوں میں اب بھی فصلیں جلائی جا رہی ہیں۔ اسی طرح، آلودہ گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور ان کے معائنے کے باوجود، گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے فضائی آلودگی میں کمی نہیں آ رہی۔
عوامی آگاہی اور ذمہ داریاں،
حکومت کے اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر آگاہی کا فقدان بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر لوگوں کو سموگ کے نقصانات کے بارے میں آگاہ نہیں کیا جائے گا اور انہیں اس کے تدارک کے لیے فعال طور پر شامل نہیں کیا جائے گا، تو یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ سموگ کے اثرات سے بچاؤ کے لیے لوگوں کو انفرادی سطح پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جیسے کہ گھر کے اندر رہنا، ماسک پہننا، اور آلودہ علاقوں میں سفر سے گریز کرنا۔
سموگ کے مسئلے کا حل صرف حکومت کی طرف سے اقدامات پر نہیں، بلکہ ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں عوام، حکومت، اور ماہرین کی شراکت داری ہو۔ سب سے پہلے حکومت کو کسانوں کے لیے متبادل زرعی طریقے فراہم کرنے چاہیے تاکہ فصلوں کو جلانے کا عمل ختم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، صنعتی فضلہ کے نکاس کے بہتر طریقے اپنانے ہوں گے اور آلودہ گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں گے۔
پاکستان میں سموگ ایک سنگین ماحولیاتی بحران بن چکا ہے جس کا اثر عوامی صحت، معیشت اور ماحولیات پر پڑ رہا ہے۔ اس مسئلے کا حل فوری اور طویل المدتی حکمت عملی کا متقاضی ہے۔ حکومت کو اپنی پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانے اور عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس مسئلے کے حل میں حصہ ڈالنا ہوگا تاکہ ہم ایک صاف، صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کر سکیں۔













