سحر نسیم سحر,، لاہور
ولادتِ باسعادت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — اندھیروں میں طلوع ہونے والا نور
دنیا کی تاریخ میں بے شمار انسان پیدا ہوئے، بادشاہ آئے اور چلے گئے، سلطنتیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں، بڑے بڑے فاتحین نے دنیا کے نقشے بدلنے کی کوشش کی، مگر تاریخِ انسانی میں ایک ایسی ولادت بھی ہوئی جس نے صرف ایک خطے، ایک قوم یا ایک زمانے کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تقدیر بدل دی۔ یہ ولادت حضرت محمد مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ، رحمت للعالمین، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت تھی۔
وہ صبح کتنی مبارک ہوگی جب مکہ مکرمہ کی سرزمین پر وہ عظیم ہستی دنیا میں تشریف لائی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا کہ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی آمد محض ایک بچے کی پیدائش نہ تھی بلکہ انسانیت کے لیے ہدایت کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔
آپ ﷺ کی ولادت سے قبل عرب معاشرہ جاہلیت کے ایک ایسے دور سے گزر رہا تھا جہاں اخلاقی، معاشرتی اور مذہبی اقدار بری طرح زوال پذیر ہو چکی تھیں۔ خانۂ کعبہ، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توحید کی یادگار تھا، اس کے گرد بے شمار بت رکھے جا چکے تھے۔ لوگ اللہ تعالیٰ کو ماننے کے باوجود بتوں کو اپنا وسیلہ اور معبود بناتے تھے۔ قبائلی عصبیت اس قدر شدید تھی کہ معمولی باتوں پر برسوں جنگیں جاری رہتی تھیں۔ طاقتور کمزور کو دبا دیتا، یتیم اور بے سہارا انسان اپنے حقوق سے محروم رہتا اور معاشرے میں عورت کو وہ مقام حاصل نہ تھا جو اسے اسلام نے عطا کیا۔
یہ وہ ماحول تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمانا تھا۔
آپ ﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب اور حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر ہوئی۔ آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والدِ محترم دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی پرورش کا ایسا انتظام فرمایا جس میں ابتدا ہی سے یہ پیغام نمایاں تھا کہ آپ کا سہارا دنیاوی طاقت نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی ذات ہے۔
آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت نے مکہ کی فضا کو ایک ایسی ہستی سے روشن کیا جس کے کردار کی روشنی بعد میں پوری دنیا تک پہنچی۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر مرحلہ انسانیت کے لیے سبق بن گیا۔ بچپن میں امانت و صداقت، جوانی میں پاکیزگی اور کردار کی بلندی، اور نبوت کے بعد صبر، عدل، رحمت اور قربانی کی وہ مثالیں قائم ہوئیں جن کی نظیر انسانی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔
آپ ﷺ کو نبوت عطا ہونے سے پہلے بھی اہلِ مکہ آپ کو الصادق اور الامین کے القاب سے یاد کرتے تھے۔ دشمن بھی آپ کی سچائی اور امانت داری سے انکار نہیں کر سکتے تھے۔ یہ اس بات کی روشن دلیل تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جس ہستی کو اپنی آخری رسالت کے لیے منتخب فرمایا، اس کا کردار اعلانِ نبوت سے پہلے ہی پاکیزگی اور صداقت کی گواہی دے رہا تھا۔
پھر وہ وقت آیا جب آپ ﷺ پر غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی۔ یہی وہ موقع تھا جب حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی تسلی فرمائی اور آپ کو اللہ کی مدد اور حفاظت کی امید دلائی۔ بعد ازاں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی نبوت پر سب سے پہلے ایمان لانے والی شخصیت بنیں۔
اسی سلسلے میں حضرت ورقہ بن نوفل کا ذکر بھی تاریخ و سیرت میں ملتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضرت ورقہ بن نوفل کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے وحی کی کیفیت سن کر بتایا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا، اور آپ ﷺ اللہ کے نبی ہیں۔ اس طرح ورقہ بن نوفل نے آپ ﷺ کی نبوت کی علامات کو سابقہ آسمانی تعلیمات کے حوالے سے پہچانا۔
یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت ثابت کرنے کے لیے ایسی روایات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی ضرورت نہیں جن کی تاریخی حیثیت واضح نہ ہو۔ آپ ﷺ کی سب سے بڑی نشانی قرآنِ کریم ہے، آپ ﷺ کا پاکیزہ کردار ہے، آپ ﷺ کی تعلیمات ہیں اور وہ عظیم انقلاب ہے جو آپ ﷺ نے ایک بکھرے ہوئے معاشرے میں برپا کیا۔
آپ ﷺ نے انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کا راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی امیر کو غریب پر محض نسل یا دولت کی بنیاد پر فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت کا اصل معیار تقویٰ ہے۔
آپ ﷺ نے یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا، غلاموں کے حقوق کی بات کی، عورت کو عزت اور وراثت کا حق دیا، پڑوسی کے حقوق بیان کیے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا اور دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے بدلہ لینے کے بجائے معافی کو ترجیح دی اور فتح کے موقع پر بھی اپنے بدترین دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان فرما کر دنیا کو بتا دیا کہ حقیقی فاتح وہ ہے جو دلوں کو فتح کرے۔
آج جب دنیا ایک مرتبہ پھر نفرت، تعصب، ظلم، مادہ پرستی اور اخلاقی بے راہ روی کے مسائل سے دوچار ہے، ہمیں ولادتِ باسعادتِ رسول اکرم ﷺ کا پیغام صرف محفلوں اور نعروں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے کردار میں محمد ﷺ کی تعلیمات کی جھلک پیدا کریں۔
اگر ہم سچ بولیں، وعدہ پورا کریں، والدین کا احترام کریں، پڑوسی کا خیال رکھیں، کمزور پر ظلم نہ کریں، یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں، اپنے معاملات میں دیانت داری اختیار کریں اور دوسروں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں تو یہی محبتِ رسول ﷺ کا عملی اظہار ہے۔
رسول اللہ ﷺ اس دنیا میں رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی ولادت نے انسانیت کو ایک ایسا پیغام دیا جس کی روشنی قیامت تک باقی رہے گی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرت کو صرف سنیں نہیں بلکہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
آئیے اس مبارک موقع پر عہد کریں کہ ہم حضور اکرم ﷺ کی محبت کو اپنے دل میں زندہ رکھیں گے، آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کریں گے اور آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کو اپنے معاشرے میں عام کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین۔
صلّی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہٖ محمدٍ وآلہٖ وصحبہٖ وسلّم۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں
سحر نسیم سحر، لاہور
رمضان المبارک صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن دونوں کو سنوارنے کے لیے عطا کیا گیا ہے۔ یہ تزکیۂ نفس، اصلاحِ کردار، عبادت، ذکر و اذکار، صبر و شکر اور خدمتِ خلق کا مہینہ ہے۔ عام طور پر ہم روزے کو صرف سحری سے افطار تک کھانے پینے سے رک جانے تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ روزہ دراصل ایک ہمہ جہت تربیت ہے جو انسان کو مکمل طور پر بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا کہ روزے تم پر اس لیے فرض کیے گئے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ کا مطلب صرف ظاہری پرہیزگاری نہیں بلکہ دل کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان ہر لمحہ اپنے رب کی رضا کو مقدم رکھے۔ رمضان اسی کیفیت کو پیدا کرنے کی عملی مشق ہے۔ جب ایک شخص تنہائی میں بھی پانی کا ایک گھونٹ نہیں پیتا تو وہ دراصل اپنے اندر اللہ کی موجودگی کا احساس تازہ کر رہا ہوتا ہے۔
یہ مہینہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بھوک اور پیاس کو برداشت کر کے ہم ان لوگوں کا احساس کریں جو سال بھر فاقہ کشی کا شکار رہتے ہیں۔ لیکن رمضان کا پیغام اس سے بھی وسیع ہے۔ یہ صرف احساس تک محدود نہیں بلکہ عمل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر ہم واقعی روزے کی روح کو سمجھ لیں تو ہمارے اندر دوسروں کے لیے درد، ہمدردی اور ایثار پیدا ہونا چاہیے۔
رمضان عبادت کا مہینہ ہے۔ نمازوں کی پابندی، تراویح کا اہتمام، تلاوتِ قرآن، درود و سلام، استغفار اور دعا—یہ سب اس مہینے کی روح ہیں۔ لیکن عبادت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیاوی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں۔ اسلام رہبانیت کا دین نہیں ہے۔ ہمیں اپنے گھر کے حالات بھی دیکھنے ہیں، اپنے کاروبار اور ملازمت کی ذمہ داریاں بھی پوری کرنی ہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان اپنے روزمرہ کے کاموں کو بھی عبادت کا رنگ دے دے۔
اگر ایک تاجر ایمانداری سے کاروبار کرے، ملازمین کے حقوق ادا کرے، ناپ تول میں کمی نہ کرے اور گاہک سے حسنِ سلوک کرے تو اس کا یہ عمل بھی عبادت بن جاتا ہے۔ اگر ایک ملازم دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دے اور وقت کی پابندی کرے تو وہ بھی ثواب کما رہا ہوتا ہے۔ اگر ایک خاتونِ خانہ صبر و محبت کے ساتھ گھر سنبھالے اور اہلِ خانہ کی خدمت کرے تو وہ بھی عبادت کے درجے میں آتا ہے۔
رمضان ہمیں توازن کا درس دیتا ہے۔ نہ تو ہم دنیا میں اس قدر کھو جائیں کہ آخرت بھول جائیں، اور نہ ہی ایسا ہو کہ دنیاوی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہو جائیں۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی میں ہے۔ قرآنِ کریم کی یہ دعا اسی توازن کی عکاسی کرتی ہے: “ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ”۔
اس مہینے میں ذکر و اذکار کی خاص اہمیت ہے۔ صبح و شام کے اذکار، تسبیحات، درود شریف اور استغفار دل کو جِلا بخشتے ہیں۔ جب زبان اللہ کے ذکر سے تر رہتی ہے تو دل میں سکون اترتا ہے۔ جدید دور کی بھاگ دوڑ، ذہنی دباؤ اور بے چینی کا بہترین علاج یہی ہے کہ انسان کچھ لمحے اپنے رب کے حضور جھک جائے۔ سجدے میں گر کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرے۔
رمضان دراصل خود احتسابی کا مہینہ ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ پچھلے گیارہ مہینے ہم نے کیسے گزارے؟ کیا ہم نے کسی کا دل دکھایا؟ کیا ہم نے کسی کا حق مارا؟ کیا ہماری زبان سے کسی کی عزت مجروح ہوئی؟ اگر ایسا ہے تو رمضان بہترین موقع ہے توبہ کا، معافی مانگنے کا اور خود کو بدلنے کا۔
اس مہینے میں سخاوت اور فیاضی کی مثالیں قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صدقہ و خیرات، زکوٰۃ، فطرانہ—یہ سب معاشرے میں معاشی توازن پیدا کرنے کے ذرائع ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، نیکی صرف مالی مدد تک محدود نہیں۔ ایک مسکراہٹ بھی صدقہ ہے، کسی کو راستہ بتانا بھی نیکی ہے، کسی دکھی دل کو تسلی دینا بھی عبادت ہے۔
ہمیں اپنے اردگرد نظر دوڑانی چاہیے۔ شاید ہمارے محلے میں کوئی بیوہ ہو جو سفید پوشی میں زندگی گزار رہی ہو۔ شاید کوئی طالب علم فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو۔ شاید کوئی مریض دوا نہ خرید پا رہا ہو۔ رمضان ہمیں متحرک کرتا ہے کہ ہم ان ضرورت مندوں تک پہنچیں، ان کی مدد کریں، ان کے لیے آسانی کا سبب بنیں۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے گھر کے حالات پر نظر رکھیں۔ بعض لوگ رمضان میں اس قدر عبادات میں مشغول ہو جاتے ہیں کہ اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام ہمیں اعتدال کا درس دیتا ہے۔ گھر والوں کے حقوق ادا کرنا بھی عبادت ہے۔ بچوں کی تربیت کرنا، والدین کی خدمت کرنا، شریکِ حیات کا خیال رکھنا—یہ سب دین کا حصہ ہیں۔
کاروباری حضرات کے لیے رمضان امتحان کا مہینہ بھی ہے۔ بدقسمتی سے بعض لوگ اس مہینے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز فائدہ اٹھانا عام ہو جاتا ہے۔ حالانکہ رمضان کا اصل پیغام تو یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، نہ کہ مشکلات میں اضافہ کریں۔ اگر ایک تاجر اس مہینے میں قیمتیں کم کر دے یا منافع محدود کر دے تو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔
رمضان ہمیں صبر سکھاتا ہے۔ بھوک، پیاس، تھکن اور گرمی برداشت کر کے ہم اپنے نفس کو قابو میں لاتے ہیں۔ لیکن اصل صبر یہ ہے کہ ہم اپنے غصے کو بھی کنٹرول کریں۔ روزہ دار کے لیے ہدایت ہے کہ اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہے: “میں روزہ دار ہوں۔” یعنی روزہ ہمیں اخلاقی بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔
ہمیں اپنی زبان کی بھی حفاظت کرنی ہے۔ غیبت، بہتان، جھوٹ اور فضول گفتگو سے بچنا ہے۔ اگر ہم سارا دن بھوکے پیاسے رہیں اور افطار کے بعد دوسروں کی برائیاں شروع کر دیں تو روزے کی روح مجروح ہو جاتی ہے۔ اسی طرح آنکھوں، کانوں اور دل کو بھی گناہوں سے بچانا ہے۔
رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔ اسی مہینے میں قرآن نازل ہوا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مہینے میں تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کریں۔ صرف پڑھنا ہی نہیں بلکہ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کریں۔ اگر ہم ہر دن تھوڑا سا بھی قرآن کا ترجمہ پڑھ لیں اور اس کے پیغام پر غور کریں تو ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔
یہ مہینہ اجتماعی خیر کا بھی درس دیتا ہے۔ افطار پارٹیز اور دعوتوں میں اسراف سے بچنا چاہیے۔ سادگی اختیار کرنی چاہیے۔ جو پیسہ فضول خرچی میں لگتا ہے، وہ کسی مستحق کی مدد میں لگایا جا سکتا ہے۔ رمضان ہمیں احساس دلاتا ہے کہ اصل خوشی دوسروں کو خوش کرنے میں ہے۔
روحانیت کے ساتھ ساتھ جسمانی نظم و ضبط بھی رمضان کا حصہ ہے۔ سحری اور افطار میں اعتدال ضروری ہے۔ زیادہ کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور عبادت میں سستی کا باعث بنتا ہے۔ ہمیں اپنے جسم کو بھی اللہ کی امانت سمجھنا چاہیے۔
رمضان ہمیں اجتماعی وحدت کا احساس بھی دلاتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی وقت میں روزہ رکھتے ہیں، ایک ہی رب کے حضور جھکتے ہیں، ایک ہی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں امتِ مسلمہ کی وحدت کی یاد دلاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپس کے اختلافات کو کم کریں اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔
یہ مہینہ دعا کا بھی مہینہ ہے۔ افطار کے وقت کی دعا قبول ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے لیے، اپنے اہلِ خانہ کے لیے، اپنے ملک کے لیے اور پوری امت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ خصوصی طور پر ان مظلوم مسلمانوں کے لیے جو دنیا کے مختلف خطوں میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رمضان ہمیں وقتی تبدیلی نہیں بلکہ مستقل انقلاب کی دعوت دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عبادات اور نیکیاں عید کے بعد بھی جاری رہیں گی؟ اگر رمضان کے بعد بھی ہماری نمازیں باقاعدہ رہیں، ہماری زبان صاف رہے، ہمارا دل نرم رہے اور ہمارا کردار بہتر ہو جائے تو سمجھیں کہ ہم نے رمضان کا حق ادا کر دیا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ رمضان المبارک صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ مکمل تربیتی کورس ہے۔ یہ ہمیں اللہ سے جوڑتا ہے، انسانوں سے محبت سکھاتا ہے، ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے اور نیکی کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمیں اپنے گھر کے حالات بھی دیکھنے ہیں، اپنے کاروبار کو بھی سنبھالنا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں تک ممکن ہو نیکی کرنی ہے، عبادت کرنی ہے اور لوگوں کی مدد کرنی ہے۔
اگر ہم اس مہینے کو شعور اور اخلاص کے ساتھ گزار لیں تو یہ ہماری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم رمضان کی حقیقی روح کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور اسے اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لیں۔ آمین۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
حسن کیا ہے؟
سحر نسیم سحر، لاہور
خوبصورتی ، جو آنکھ سے نہیں، دل سے دیکھی جاتی ہے
حسن نہ تو گورے چٹے سفید رنگ میں ہے اور نہ ہی نازک اندامی میں۔ حسن اس میں بھی نہیں کہ ہرنی جیسی آنکھیں ہوں، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ ہوں یا چاند جیسا چہرہ ہو۔ اگر خوبصورتی صرف انہی پیمانوں پر پرکھی جاتی تو دنیا میں شاید چند چہروں کے سوا کوئی خوبصورت نہ کہلاتا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حسن دراصل دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے، بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہے کہ حسن دل کی کیفیت کا نام ہے۔ وہی چہرہ جو کسی کے لیے عام سا ہوتا ہے، کسی اور کے لیے پوری کائنات سے بڑھ کر بن جاتا ہے۔ حسن کسی کی شکل میں نہیں، محبوب کی آنکھ میں نظر آتا ہے۔
حسن کا سماجی تصور
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں خوبصورتی کو مخصوص سانچوں میں قید کر دیا گیا ہے۔ میڈیا، اشتہارات، ڈرامے، فلمیں—سب ایک خاص معیار پیش کرتے ہیں: سفید رنگ، متناسب خدوخال، دبلا پتلا جسم، مخصوص لباس اور مخصوص انداز۔ اس مصنوعی معیار نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ اگر آپ ان پیمانوں پر پورے نہیں اترتے تو آپ خوبصورت نہیں ہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ بے شمار لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہو گئے۔ رنگ گورا کرنے والی کریمیں، وزن کم کرنے کے غیر ضروری طریقے، پلاسٹک سرجری کا بڑھتا رجحان—یہ سب اسی غلط فہمی کی پیداوار ہیں کہ حسن کسی ظاہری پیمانے کا محتاج ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے ہر انسان کو منفرد بنایا ہے۔ اگر سب چہرے ایک جیسے ہوتے تو شاید حسن کی کوئی اہمیت ہی نہ رہتی۔
حسن کا اصل سرچشمہ
حقیقی خوبصورتی دراصل انسان کے باطن سے پھوٹتی ہے۔ نرم لہجہ، خلوص بھری مسکراہٹ، درد مند دل، سچی آنکھیں، ہمدردی اور اخلاق—یہ وہ عناصر ہیں جو چہرے کو روشن کر دیتے ہیں۔ ایک بدصورت سمجھا جانے والا چہرہ بھی اگر محبت، وفا اور سچائی سے بھرپور ہو تو وہ دیکھنے والے کے دل میں جگہ بنا لیتا ہے۔
کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ بعض چہرے بظاہر عام ہوتے ہیں مگر ان میں ایک کشش ہوتی ہے؟ وہ کشش نہ تو میک اپ سے آتی ہے اور نہ ہی قیمتی لباس سے۔ وہ کشش کردار کی روشنی ہوتی ہے۔ جب انسان کے اندر سچائی اور نیکی کی شمع جل رہی ہو تو اس کا نور چہرے سے جھلکنے لگتا ہے۔
محبت اور حسن کا رشتہ
محبت حسن کو نئی آنکھ عطا کرتی ہے۔ جب دل میں کسی کے لیے سچی محبت ہو تو اس کے چہرے کی ہر ادا خوبصورت لگتی ہے۔ اس کی ہنسی، اس کی خاموشی، اس کی سادگی—سب کچھ دل کو بھاتا ہے۔ وہی چہرہ جو دوسروں کے لیے عام سا ہو، عاشق کی نگاہ میں چاند سے بڑھ کر ہو جاتا ہے۔
محبت دراصل ایک عدسہ ہے جو چیزوں کو بدل دیتا ہے۔ یہ ظاہری خامیوں کو نظر انداز کر دیتی ہے اور خوبیوں کو نمایاں کر دیتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ حسن محبوب کی آنکھ میں ہوتا ہے۔ جب کوئی ہمیں چاہتا ہے تو ہمیں خود اپنی ذات میں ایک نئی خوبصورتی محسوس ہونے لگتی ہے۔
باطنی حسن کی طاقت
باطنی حسن وقتی نہیں ہوتا۔ ظاہری خوبصورتی وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہے۔ جوانی ڈھلتی ہے، چہرے پر جھریاں آتی ہیں، رنگ بدلتا ہے، مگر اخلاق اور کردار کی خوبصورتی عمر کے ساتھ مزید نکھر جاتی ہے۔ ایک بوڑھی ماں کا چہرہ، جس پر وقت کے نشان ثبت ہوں، اپنے بچوں کی نظر میں دنیا کا حسین ترین چہرہ ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس میں محبت، قربانی اور شفقت کی داستان لکھی ہوتی ہے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ بظاہر بہت حسین ہوتے ہیں مگر ان کے رویے سخت اور دل تنگ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ظاہری خوبصورتی جلد ہی اپنی کشش کھو دیتی ہے۔ اس کے برعکس، ایک عام صورت والا شخص اگر خوش اخلاق اور مہربان ہو تو ہر دل عزیز بن جاتا ہے۔
خود اعتمادی اور خوبصورتی
خوبصورتی کا ایک اہم پہلو خود اعتمادی بھی ہے۔ جو شخص اپنی ذات کو قبول کر لیتا ہے، اپنی خامیوں سمیت خود سے محبت کرتا ہے، اس کی شخصیت میں ایک وقار آ جاتا ہے۔ وہ کسی معیار پر پورا اترنے کے لیے خود کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنی انفرادیت کو اپناتا ہے۔
جب انسان خود کو قبول کر لیتا ہے تو اس کی آنکھوں میں اعتماد کی چمک آ جاتی ہے۔ یہی چمک اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔ دراصل حسن کا تعلق احساس سے ہے۔ جو خود کو خوبصورت سمجھتا ہے، وہ دوسروں کی نظر میں بھی پرکشش لگنے لگتا ہے۔
معاشرے کی ذمہ داری
ہمیں بطور معاشرہ خوبصورتی کے تصور کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ رنگ، قد، جسمانی ساخت یا ظاہری خدوخال انسان کی قدر کا معیار نہیں ہوتے۔ اصل قدر اس کے اخلاق، علم اور کردار میں ہے۔
اگر ہم اپنے گھروں میں بیٹیوں کو یہ باور کرائیں کہ ان کی خوبصورتی ان کے دل کی نرمی اور ذہن کی روشنی میں ہے، تو وہ کبھی احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوں گی۔ اگر بیٹوں کو یہ سکھایا جائے کہ عورت کا حسن صرف اس کے چہرے میں نہیں بلکہ اس کی شخصیت میں ہے، تو معاشرہ زیادہ باوقار ہو جائے گا۔
فطرت کا حسن اور انسانی حسن
قدرت نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ حسن تنوع میں ہے۔ کسی کو گلاب پسند ہے، کسی کو چنبیلی، کسی کو سورج مکھی۔ ہر پھول کی اپنی خوبصورتی ہے۔ اگر سب پھول ایک جیسے ہوتے تو باغ کی رونق ختم ہو جاتی۔
اسی طرح انسانوں میں بھی تنوع حسن کو جنم دیتا ہے۔ کوئی سانولا ہے، کوئی گورا، کوئی لمبا، کوئی پست قد—مگر ہر ایک اپنے انداز میں مکمل ہے۔ فطرت نے کسی کو بھی بے کار یا بے حسن نہیں بنایا۔
آنکھ کا زاویہ بدلنے کی ضرورت
اصل مسئلہ آنکھ کا زاویہ ہے۔ اگر ہم ہر چیز کو تنقیدی نظر سے دیکھیں گے تو ہمیں خامیاں ہی نظر آئیں گی۔ اگر محبت اور قبولیت کی نظر سے دیکھیں گے تو ہر چہرہ خوبصورت لگے گا۔
ہمیں اپنی آنکھوں کو تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ خوبی تلاش کریں، خامی نہیں۔ جب ہم کسی کے دل کی نیکی دیکھنے لگیں گے تو ہمیں اس کا چہرہ بھی روشن نظر آئے گا۔
نتیجہ: حسن دل کی کیفیت ہے
خوبصورتی کوئی جامد تصور نہیں، یہ ایک احساس ہے۔ یہ دل کی آنکھ سے دیکھی جاتی ہے۔ یہ محبت کے آئینے میں چمکتی ہے۔ یہ کردار کے نور سے نکھرتی ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم حسن کو ظاہری سانچوں سے آزاد کریں۔ ہم اپنے بچوں، اپنے معاشرے اور خود اپنی ذات کو یہ سکھائیں کہ اصل خوبصورتی اندر کی روشنی میں ہے۔ وہی چہرہ کسی کے لیے عام ہوتا ہے اور وہی چہرہ کسی کے لیے کائنات بن جاتا ہے۔
کیونکہ سچ تو یہی ہے کہ
حسن کسی کی شکل میں نہیں، محبوب کی آنکھ میں نظر آتا ہے۔
اور جب آنکھ محبت سے بھر جائے تو دنیا کا ہر چہرہ خوبصورت ہو جاتا ہے
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ
سحر نسیم سحر ، لاہور
اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت انسانی تاریخ کا سب سے عظیم اور مبارک واقعہ ہے۔ اسی نسبت سے عالمِ اسلام میں ہر سال 12 ربیع الاول کو حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک خوشی کا دن نہیں بلکہ رحمت، ہدایت اور انسانیت کے لیے نئی زندگی کی نوید کا دن ہے۔
میلاد کا مطلب ہے ولادت۔ میلاد النبی ﷺ سے مراد نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کو یاد کرنا، اس پر خوشی منانا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اس نے ہمیں ایسا نبی عطا فرمایا جو ہادیِ برحق، رہنما اور آخری رسول ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
“قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا”
(یونس: 58)
یعنی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہونا چاہیے۔ علماء نے فرمایا کہ اس آیت میں اللہ کا فضل قرآن اور اللہ کی رحمت نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت 12 ربیع الاول 571ء کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ اسی دن بعض روایات کے مطابق آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں وصال بھی فرمایا۔ اس دن کی اہمیت اسی لیے اور بھی بڑھ گئی کہ یہ ولادت اور وصال دونوں کا دن ہے۔
مسلمان صدیوں سے اس دن کو عقیدت و محبت کے ساتھ مناتے آئے ہیں۔ ابتدا میں میلاد کی محافل درود و سلام، تلاوتِ قرآن، نعت خوانی اور نبی ﷺ کے حالات و سیرت بیان کرنے پر مشتمل ہوتی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں اس دن کو مزید شان و شوکت سے منایا جانے لگا۔
اظہارِ محبتِ رسول ﷺ: مسلمان اپنی خوشی اور عقیدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
شکرگزاری: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر ادا کیا جاتا ہے کہ اس نے ہمیں سیدالانبیاء ﷺ عطا فرمائے۔
سیرتِ نبوی ﷺ کی ترویج: جلسے، جلوس اور محافل کے ذریعے سیرت کی تعلیم عام کی جاتی ہے۔
اجتماعی یکجہتی: مسلمانوں میں اتحاد و بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔
نیکی کی دعوت: میلاد کی محافل اصلاحِ احوال اور خیر کے پیغام کا ذریعہ بنتی ہیں۔
میلاد النبی ﷺ محض چراغاں یا ظاہری اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ روحانی طور پر دلوں کو منور کرنے کا ذریعہ ہے۔
درود و سلام کی کثرت سے دلوں میں نورِ ایمان بڑھتا ہے۔
سیرت کے بیان سے کردار سازی ہوتی ہے۔
صدقہ و خیرات سے محتاجوں کے دل خوش ہوتے ہیں۔
ذکرِ رسول ﷺ سے دل کو سکون اور زبان کو مٹھاس ملتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ دن بہت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔
12 ربیع الاول کو قومی سطح پر عام تعطیل ہوتی ہے۔
شہروں، گلیوں اور بازاروں کو سبز جھنڈوں، برقی قمقموں اور بینرز سے سجایا جاتا ہے۔
مساجد میں محافلِ میلاد منعقد ہوتی ہیں۔
جلوس نکالے جاتے ہیں جن میں نعت خوانی، درود و سلام اور ذکرِ نبی ﷺ کیا جاتا ہے۔
سرکاری و نجی ادارے جلسے اور کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں۔
سعودی عرب میں اگرچہ بڑے پیمانے پر عوامی تقریبات نہیں ہوتیں مگر گھرانوں اور محافل میں ذکرِ میلاد ہوتا ہے۔
ترکی، مصر، شام، برصغیر، افریقہ اور دیگر مسلم ممالک میں یہ دن بہت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔
ایمانی کیفیت میں اضافہ: حضور ﷺ کی یاد سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔
اخلاقی اصلاح: سیرت کا مطالعہ اور اس پر عمل اخلاق سنوارتا ہے۔
سماجی ہم آہنگی: میلاد کی محافل میں سب شریک ہوتے ہیں، جس سے اتحاد بڑھتا ہے۔
دعوت و تبلیغ: غیر مسلم بھی میلاد کی تقریبات دیکھ کر اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوتے ہیں۔
اصل مقصد صرف میلاد منانا نہیں بلکہ نبی ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرنا ہے۔
نبی ﷺ کی زندگی سادگی، محبت، انصاف اور رحمت کا پیکر تھی۔
ہمیں چاہیے کہ عید میلاد النبی ﷺ مناتے وقت صرف خوشی کا اظہار نہ کریں بلکہ عہد کریں کہ اپنی زندگی کو بھی حضور ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالیں۔
ل
آج کے دور میں جب مسلمان انتشار، نفرت اور مسائل کا شکار ہیں، میلاد النبی ﷺ ہمیں اتحاد اور امن کا درس دیتا ہے۔
حضور ﷺ نے دشمنوں کو بھی معاف کر کے انسانیت کے لیے مثال قائم کی۔
اگر ہم ان کی تعلیمات پر عمل کریں تو دنیا میں امن و سکون قائم ہو سکتا ہے۔
نوجوان نسل کو میلاد کے ذریعے سیرت سے جوڑنا وقت کی ضرورت۔
بعض اوقات میلاد کی تقریبات میں محض ظاہری نمود و نمائش پر زور دیا جاتا ہے اور اصل مقصد یعنی سیرتِ رسول ﷺ پر عمل کو بھلا دیا جاتا ہے۔ یہ درست نہیں۔
میلاد کا اصل مقصد سیرت اپنانا ہے، نہ کہ محض شور شرابا۔
جلوس یا چراغاں کے بجائے تعلیم، فلاحی کام اور سیرت کی تبلیغ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ دراصل خوشی کا دن ہے جس میں مسلمان اپنے نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی مناتے ہیں۔ یہ دن ہمیں محبت، اتحاد، خدمتِ انسانیت اور سیرتِ رسول ﷺ پر عمل کی یاد دہانی کرواتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن کو محض رسمی تقریبات تک محدود نہ کریں بلکہ اپنی زندگیوں کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا نمونہ بنائیں۔ یہی حقیقی میلاد ہے اور یہی اللہ و رسول ﷺ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کالم۔ آپ بھی ذرا سوچیے؟
سحر نسیم سحر ، لاہور
,”””” ادبی محفلیں۔”“”””
آج کے دور میں لوگ ادب سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ کتابوں کو پڑھنا لائبریری جانا یا پھر شاعری کی محفلوں کو سجانا تقریبا بہت کم ہو گیا ہے۔ ہمارے بچوں میں احساس ادب پیدا کرنا اب ہمارے بڑوں کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی ادبی محفلیں منعقد کریں جہاں پر ہمیں ادب کو سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملے۔ انہی سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تخلیق کار انٹرنیشنل کی طرف سے ادبی محفل منعقد کی گئی۔ جو کہ ادب کو سراہنے کے لیے ایک بہت اچھی کوشش ہے ۔ تخلیق کار انٹرنیشنل ان ادبی محفل کو گاہے بگاہے سجاتے رہیں گے۔
اسی سلسلے میں تخلیق کار انٹرنیشنل نے لیڈیز کلب جناح باغ لاہور میں تخلیق کار انٹر نیشنل وومن چپٹر اور لیڈیز کلب کے اشتراک سے خواتین کا بھر پور اور خوب صورت مشاعرے کا انعقاد ہوا جس میں لاہور اور دوسرے شہروں سے خواتین شاعرات نے شرکت کی صدارتی ایوارڈ یافتہ ادیبہ محترمہ مسرت کلانچوی نے صدارت کے فرائض انجام دیئے عائشہ اسلم ملک مہمان خصوصی عنبرین فاروق صدر لیڈیز کلب محترمہ پروین خان صاحبہ صدر لیڈیز کلب اور محترمہ آمنہ شہزاد مہمان خصوصی تھے تخلیق کار انٹر نیشنل کے عہدے داران میں ڈاکٹر نگہت خورشید چیر پرسن محترمہ صفیہ اسحاق سرپرست آعلیٰ روبینہ شاہین صدر اور نظامت کار سیکرٹری وفا آذر منتظم آعلیٰ نازیہ بٹ تھیں
شاعرات میں کنول بہزاد شاہین اشرف فرح خان ڈاکٹر عابدہ بتول گل صنوبر نجمہ شاہین محترمہ شمیم عارف شبنم شاہین سیالکوٹ عروج درانی سحر نسیم سحر ثمینہ حیدر ناہید باجوہ پروفیسر اسما ء حسن کے نام شامل ہیں
تقریب کے اختتام پہ ایک پرتکلف عشائیے کا انتظام تھا۔ ہم تخلیق کار انٹرنیشنل کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ایک ادبی محفل قائم کی۔ اس وقت معاشرے میں نفسا نفسی اور بے چینی کا عنصر پروان چڑھ رہا ہے۔ اسی بوجل پن کو دور کرنے کے لیے اگر ایسی ادبی محفلیں قائم کی جائیں تو ہم لوگ ذہنی طور پر پرسکون اور بہتر محسوس کریں گے۔ ہم محترمہ زیب النسا زیبی کے احسان مند ہیں کہ وہ ادب کی اعلی خدمات کر رہی ہیں۔اور لوگوں کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہیں جن پر آ کر وہ اپنے ادبی سفر کا آغاز کر سکیں اور اپنے اندر کی ادبی صلاحیتوں کو باہر لا سکیں۔ ان ادبی محفلوں کے انعقاد کا سارا انتظام ارحم روحان صاحب سنبھالتے ہیں اس کے لیے ہم ان کے بھی ممنون ہیں۔
سب آنے والی معزز خواتین کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر ہماری محفل کو چار چاند لگائے۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
المیہ ہمارے معاشرے کا
از قلم۔ سحر نسیم سحر، لاہور
ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ اگر بیٹے بڑے ہوں اور ان کی شادیاں کر دی جائیں تو چھوٹی بیٹیاں یا پھر غیر شادی شدہ بیٹیاں نہ تو بھابیوں سے برداشت ہوتی ہیں اور نہ ہی بھائیوں سے اور پھر آئے دن لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اس میں نہ تو بیٹیوں کا قصور ہوتا ہے اور نہ ہی بھابیوں کا، قصور تو سارا قسمت کا ہوتا ہے. کچھ جگہ پہ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ نندیں بھی آنے والی بھابھی کو برداشت نہیں کرتیں اور آئے دن لڑائی جھگڑا مار کٹائی اکثر گھروں میں شروع ہو جاتی ہے۔ جس وجہ سے گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے نہ صرف گھر کا بلکہ محلے میں یا علاقے میں ان لوگوں کو لوگ اچھی نظر سے نہیں دیکھتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ انتہائی لڑاکا اور بدتمیز لوگ ہیں، اس لیے ان سے دوری ہی اچھی۔ ایک مشہور قول ہے۔ ” تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے”. اب ایسا بھی ہوتا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے بھی بجائے جا سکتی ہے، دوسرے کا ہاتھ زبردستی اپنے ہاتھ پر مار کر۔ دوسرے لوگوں کو دکھانے کے لیے کہ لڑائی دونوں طرف سے ہو رہی ہے جب کہ قصور کسی ایک کا ہوتا ہے اور دوسرا تو بیچارہ بعض اوقات پس رہا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمارے متوسط طبقے کے گھروں میں اکثر نند بھابھی، دیور بھابھی یا پھر ساس بہو کی لڑائیاں عام ہیں۔ ہمیں زیادہ تر کوشش کرنی چاہیے کہ پہلے اپنی بیٹیوں کی شادیاں کریں اور پھر اپنے بیٹوں کی تاکہ اس مسئلے سے کسی حد تک بچا جا سکے۔ بہنیں اپنے بھائیوں کو بڑے پیار اور محبت سے پالتی ہیں اور آنے والیاں سمجھتی ہیں کہ ہمارے شوہر صرف ہمارے ہیں۔ اب ان کا اپنے ماں باپ بہن بھائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بہنیں سمجھتی ہیں کہ بھائی صرف ہمارے ہیں اور بھابیاں پرائی ہیں۔ اس سارے معاملے میں اگر دیکھا جائے تو مرد پیس کر رہ جاتا ہے نہ تو وہ اپنے سگے رشتے نبھا پاتا ہے اور نہ ہی سسرالی رشتہ داروں کے، اگر بیوی کی مانے تو ماں ناراض اور اگر ماں کی مانے تو بیوی ناراض، جائے تو جائے کہاں کریے تو کریے کیا.؟ ان سب لڑائیوں سے بچنے کے لیے بس ایک یہی حل نکلتا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں جتنی کہ ہم سب کو دیتے ہیں تاکہ کوئی بھی ناراض نہ ہو۔ اس سب میں اکثر اوقات ہم اپنا غصہ اپنی بیوی پر نکالتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے بہن بھائی اپنی بھابی کی عزت نہیں کرتے۔ اس سب کی وجہ سے گھر کے حالات خراب ہو جاتے ہیں اور پھر خود بخود ہی آپس کی لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد اور ہمارے جاننے والوں میں بہت سے ایسے گھر ہیں جہاں پر ایسے حالات ہوتے ہیں۔ ہم لوگ زیادہ تر ان کی لڑائیوں سے لطف بھی اٹھا رہے ہوتے ہیں اور دل میں اندر ہی اندر اپنے رشتہ داروں کی بے بسی پر مذاق بھی اڑا رہے ہوتے ہیں۔ اپنے گھر کو اپنے رشتوں کو سنبھالئے لوگوں میں مذاق مت بنیں۔ اپنے گھر کو عزت دیں اگر آپ اپنے گھر کی عزت کریں گے تو لوگ خود بخود آپ کی عزت کریں گے۔ اور انہی رشتہ داروں میں آپ کا مقام اونچا ہوگا۔ آپ کے گھر میں سکون ہوگا تو آپ کی زندگی میں سکون ہوگا آپ کو اپنا گھر جنت کا نمونہ لگے گا۔ وہی گھر جو آپ کو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے وہی آپ کو اچھا لگے گا۔ اللہ ہم سب کے گھروں میں سکون خوشی اور اتفاق سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
محرم الحرام
از قلم ۔ سحر نسیم سحر
ہم امت محمدیہ ہیں اسی بات پر ہمیں فخر ہونا چاہیے لیکن ہم لوگ فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہر فرقہ اپنے دوسرے فرقے کے خلاف ہی بات کرتا ہے۔ اسلام تو ہمیں محبت پیار یکانگت اور ایک دوسرے کے احساس کا درس دیتا ہے۔ اسلام میں تو کہیں بھی نہیں لکھا کہ یہ شیعہ ہے یہ سنی ہے یہ وہابی بل کہ یہ کہا گیا ہے کہ تم سب مسلمان ہو۔ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت سے رہو مگر اپ سب لوگ فرقوں میں بٹ گئے ہیں اور کوئی بھی کسی کی قدر یا اہمیت کو برداشت نہیں کرتا۔ اسی طرح محرم میں سب کہتے ہیں کہ یہ دن تو اہل تشیع کے ہیں اور ہم اہل تشیع نہیں ہیں کہاں لکھا ہے کہ محرم صرف شیعوں کا دن ہے؟ یہ دن تو ہم سب مسلمانوں کا ہے کیونکہ حضرت علی رحمت اللہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے داماد بھی ہیں۔ اور انہی کی وجہ سے آج اسلام سے زندہ ہے۔ ہم سب یہ نہیں دیکھتے کہ کربلا میں امام حسین اور حسن کے ساتھ کیا ہوا کیا ہوا کیا انہوں نے اپنے بچوں کی اور اور اپنے رشتہ داروں کی سب کی جانوں کا نظرانہ پیش کیا کس لیے اسی اسلام کو بچانے کے لیے جو ان کے نانا کا تھا۔ اگر تب وہ اسلام کو بچانے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے نہ دیتے تو کیا آج اسلام زندہ ہوتا؟ پھر یہ کیسے کہہ دیتے ہیں کیا حضرت امام حسن اور حسین صرف شیعوں کے ہیں ہمارے مسلمانوں کے نہیں ہیں وہ مسلمان تھے انہی کی وجہ سے اسلام بچا اور انہی کی وجہ سے آج ہماری نسلیں اسلام پر قائم ہیں۔ مذہب کو تفرقوں میں مت ڈالو اپنے مذہب کو سمجھو اور اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دو کہ محرم الحرام مسلمانوں کا دن ہے سوگ کا دن ہے۔اس کو کسی ایک کے ساتھ منسوب مت کرو۔ ہم سب مسلمان ہیں ہم سب کا فرض ہے کہ اس دن کی توقیر کریں اور کربلا کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کریں۔ اگر آپ لوگ اپنے اسلاف کی عزت اور توقیر نہیں کریں گے تو کل کو کس منہ سے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے پیش ہوں گے۔
محرم الحرام ہم سب کے لیے ہے اس دن کو خوشیاں منانا یا پھر دوسروں کے نام سے منسوب کرنا شرم کی بات ہے بلکہ یہ تو مسلمانوں کا ہم سب کا دن ہے ہم سب کو اس کی عزت کرنی چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات ایک ذرا سی
ازقلم۔ سحر نسیم سحر
آج کے دور میں ہر کسی کی یہ خواہش ہے کہ ہم کسی اچھی جگہ جہاں امیر لوگ رہتے ہوں یا پھر کالونی میں اپنا گھر بنائیں۔ وہاں کا ماحول بے شک بہت اچھا ہوتا ہے لیکن سب لوگ اجنبیوں کی طرح رہتے ہیں۔ ایسے ہی رہتے ہیں جیسے کسی کو جانتے ہی نہ ہوں اور نہ کسی سے کوئی سلام دعا اور نہ ہی کوئی تعلق بناتے ہیں۔ بس اگر کبھی گلی میں ملاقات ہو جائے تو سلام دعا کر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کو نہ تو کسی کے دکھ درد میں شریک ہونا آتا ہے اور نہ ہی کسی غمی خوشی میں بس اپنا گھر اور اپنا آپ کیونکہ ان کی دنیا صرف انہی تک محدود ہوتی ہے۔ جب ہم محلوں میں رہتے ہیں تو سب ایک دوسرے کے ساتھ ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ جب کوئی بیمار ہو تو سب لوگ اس کا حال چال پوچھنے آتے ہیں اور دو گھڑی اس کے پاس بیٹھ کر اس کا دل بھی بہلاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا اچھی بات ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا غمی خوشی میں شریک ہونا اور گھل مل کر رہنا چاہیے۔ جب ہم کسی اعلی کالونیوں میں چلے جاتے ہیں تو یہ سب کچھ وہاں نہیں ہوتا بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھر کے اندر کوئی کتنا بھی بیمار لاچار یا مجبور ہو ساتھ والے گھر کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ والے گھر میں کیا ہو رہا ہے۔ وہاں لوگ اس قدر مصروف زندگی گزارتے ہیں کہ اپنے آپ کے علاوہ ان لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ویسے یہ ان کا قصور نہیں ہے کیونکہ وہ ایک بہت مصروف زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ وہاں کے رہن سہن کے مطابق ان کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے کیونکہ ان کے پاس تو اپنے گھر والوں کو دینے کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ جب ان کے پاس اپنے گھر والوں کے لیے وقت نہیں ہے تو وہ کسی کو کیا وقت دیں گے۔ ہم لوگ خود بھی کسی کی زندگی میں دخل اندازی دینا پسند نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی زندگی میں کسی کو داخل کرنا پسند کرتے ہیں تو پھر ظاہری سی بات ہے کہ کوئی بھی ہمارے ساتھ کیوں اچھا رہے گا جبکہ ہم خود کسی کے ساتھ اچھے نہیں رہتے۔ میری آپ سب سے نہایت ادب کے ساتھ درخواست ہے کہ ہمیں اس ماحول کو ختم کر کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے رویے اور اچھے اخلاق کے ساتھ رہنے کا ارادہ کرنا چاہیے۔ جہاں تک ہو سکے اپنے ارد گرد دیکھیں کہ کوئی آپ کی توجہ کا حقدار تو نہیں کسی کو آپ کی ضرورت تو نہیں کوئی تنہائی کا شکار تو نہیں اگر ایسا ہے تو برائے مہربانی اس کو تھوڑا وقت دیجیے خیال کیجیے۔
یہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم انہیں بتائیں ہماری روایات کیا ہیں۔ ہماری اقدار کیا ہیں اور ہمارا اسلامی معاشرہ ہمیں کیا تعلیم دیتا ہے۔ ہمارا اسلامی معاشرہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مساوات کا درس دیتا ہے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شامل ہونے کا درس دیتا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق اور اچھے معاملات کا درس دیتا ہے مگر کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہم لوگوں نے اپنی اسلامی روایات کو بھلا کر مغرب کی روایات کو اپنا لیا ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا درس دیتا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور ہم پر اپنا فضل کیا ورنہ ہمارے اعمالِ ایسے نہیں ہیں کہ ہم پکے اور سچے مسلمان بن سکیں۔
ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہیں ایک دوسرے کا خیال رکھیں بہت شکریہ مہربانی۔
………………….
گاڑی چلاتے وقت موبائل کا استعمال
از قلم۔ سحر نسیم سحر
شہر ۔ لاہور
ایک عام سی بات ہے کہ سب کو پتہ ہے گاڑی چلاتے وقت موبائل استعمال کرنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے کیا موبائل اس قدر اہم ہو گیا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ اپنی پرواہ نہ کریں لیکن ان لوگوں کی تو کریں جو سڑک پر جا رہے ہیں یا اپنے گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ آپ لوگ اکثر دیکھتے ہوں گے کہ لوگ آج کل گاڑی چلاتے وقت بھی ویڈیو کال کر رہے ہوتے ہیں اور ان کا دھیان سارے کا سارا اپنی موبائل کی سکرین پر ہوتا ہے۔ سڑک پر کیا ہو رہا ہے کون کہاں جا رہا ہے اور وہ خود کس رخ پر اپنی گاڑی کو لے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ اپنی گاڑی کو کسی دوسری طرف موڑ بھی رہیں ہوں تو بھی دھیان نہیں دیتے اور اس قدر اندھے طریقے سے گاڑیاں چلاتے ہیں کہ آنے والے یا جانے والے کتنا بھی اپنے آپ کو بچائیں مگر یہ لوگ کوئی نہ کوئی حادثہ کر ہی دیتے ہیں۔ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ ایسا اکثر امیر لوگوں کے بچے کرتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ہمارا پاکستان میں کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیوںکہ ان کے والدین ایک اچھی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا پھر ان کے تعلقات کسی نہ کسی وزیر مشیر یا پھر کسی اعلی عہدے کے عہدے داران سے ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر جگہ جگہ سائن بورڈ لگے ہوئے ہیں کہ گاڑی چلاتے وقت موبائل کا استعمال منع ہے۔ میں نے تو یہاں تک دیکھا کہ ٹریفک پولیس والے بھی کھڑے ہوتے ہیں مگر لوگ پھر بھی اپنا موبائل استعمال کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ اب یہ ساری ذمہ داری ٹریفک پولیس یا انتظامیہ کی تو نہیں ہے۔ ہماری اپنی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ ہم خود اپنے آپ کو بھی بچائیں اور دوسروں کو بھی بچائیں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ کچھ فرائض والدین کے بھی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو تاکید کریں جب وہ اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی لے کر باہر جائیں تو موبائل کا استعمال نہ کریں یہ صرف ان کے اپنے بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ دوسرے بچوں کی حفاظت کے لیے بھی ضروری ہے۔ آج کل نہ تو والدین کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سمجھائیں اور نہ ہی بچے والدین کی سنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز حادثے ہوتے ہیں اور ہسپتالوں میں بے شمار ایسے افراد کو لایا جاتا ہے جو ٹریفک حادثے میں بری طرح زخمی ہوئے ہوتے ہیں۔ اور حادثہ کرنے والا وہ شخص جو اپنے موبائل میں مگن تھا یا تو وہ موقع واردات سے بھاگ جاتا ہے یا پھر کچھ دے دلا کر چھوٹ جاتا ہے۔ زخمی ہونے والا انسان بیچارہ کئی دن تک ہسپتال میں پڑا رہتا ہے یا اپنے گھر تکلیف سے کراہتا رہتا ہے۔
یہ سب کچھ صرف ایک موبائل کے ناجائز استعمال سے ہو رہا ہے۔ ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہیں تاکہ ہم اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھ سکیں۔ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ ایک ٹریفک اشارہ توڑنے پر جب ای چالان ہوتا ہے تو کیا موبائل استعمال کرنے والے کو ای چالان نہیں کیا جا سکتا؟ وہ بھی تو کیمروں میں نظر آتے ہیں اگر ہم اس طرح کا کوئی طریقہ کار بنا دیں تو شاید بہت سے والدین اپنے بچوں کی تکلیف سے بچ سکیں اور بہت سی جانیں بچائی جا سکیں۔ یہ سارا کچھ کرنے کے لیے ایک نظام بنانا پڑے گا اور پھر اس پر عمل کروانا پڑے گا اپنے ملک کی بقا کے لیے اپنے بچوں کی بقا کے لیے ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔
سوچیے اور تجاویز دیجیے بہت شکریہ مہربانی
…………………………
ویلنٹائن ڈے
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت کیا ہے اور اس کو کیوں منایا جاتا ہے کیا اس سے منانا چاہیے ویسے اگر ویلنٹائن ڈے کی تاریخ جاننا چاہیں تو اس میں یہ پتہ چلتا ہے کہ انسائیکلوپیڈیا اف برطانیہ کے مطابق اس دن کا تعلق بت پرست رومیو کے ایک دیوتا کی مشرکانہ تہوار سے ہے جو کہ فروری کے وسط میں منایا جاتا تھا۔اس کے مطابق کنواری لڑکیاں پیار محبت کے خط لکھ کر ایک بڑے سے گلدان میں ڈال دیتی اور نوجوان لڑکے اس گلدان میں سے خط نکالتے اور جس لڑکی کے نام وہ خود ہوتا وہ اسی لڑکی کے ساتھ ملتے جلتے شادی کرنے کے لیے تاکہ شادی سے پہلے ہم اہنگی پیدا ہو سکے
اور پھر وہ اگلے سال فروری تک اپس میں ملتے چوری چھپے۔یہ ایک پرانی روایت ہے ایک اور پرانی روایت کے مطابق
عیسائی دور کی بات ہے جب لوگ بت پرست تھے اس وقت لوگوں میں عیسائیت تیزی سے پھیل رہی تھی کیونکہ اس دور میں بادشاہ روم کلوڈیس کی جانب سے شادی پر پابندی تھی اس لیے لوگ شادی نہیں کر سکتے تھے اور وہ اس رسم کو فروری کے مڈ میں مناتے اور اگر اپس میں ملتے رہتے ہیں عیسائی پادریوں کا جب روم میں انا جانا ہو گیا تو اسی دوران ایک عیسائی پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا اس نے عیسائیت کی تعلیم دینا شروع کر دی اور لوگوں کو شادی کی طرف راغب کرنا شروع کر دیا لیکن بادشاہ روم نے شادی پر پابندی اس لیے لگائی تھی کیونکہ شادی شدہ مرد جنگوں پر جانے سے انکار کرتے تھے اس لیے بادشاہ نے پابندی لگا دی تھی لیکن ویلنٹائن عیسائی پادری جو کہ تبلیغ کر رہا تھا شادی کے لیے لوگوں کو راغب کر رہا تھا بادشاہ کو اس کا پتہ چل گیا بادشاہ نے اسے گرفتار کرنے کا حکم دیا اور اسے قید میں ڈال دیا کہ اس کو تہوار سے ایک دن قبل قتل کیا جائے گا یعنی سولی چڑھایا جائے گا قید کے دوران ویلنٹائن کی ملاقات جیلر کی بیٹی سے ہوئی اور دونوں کو اپس میں محبت ہو گئی جب یہ بات مشہور ہوئی تو بادشاہ نے ویلنٹائن کو اپنے دربار میں بلا کر کہا کہ وہ اپنے سچے خدائے برتر کی عبادت چھوڑ کر ہمارے جھوٹے بتوں کی پرستش کرے مگر عیسائی پادری ویلنٹائن نے اس بات سے انکار کر دیا اور اپنے مذہب پر ڈٹا رہا یہاں تک کہ موت کو گلے لگا لیا یہ بات تیسری صدی عیسوی کی ہے تو اس طرح ویلنٹائن پادری کو 14 فروری کو سولی پر لٹکایا گیا
عیسائیت میں اس دن کو منانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا اس لیے شادی کو ترغیب دی گئی۔مگر ہم مسلمان اس کو بڑے شوق سے مناتے ہیں یہ سوچے بنا کہ یہ ایک قبیح فعل ہے مگر اج وہ وقت ہے کہ ہر بندہ گلاب کا پھول لے کر کسی نہ کسی لڑکی کو دینے کے لیے تیار ہے یہ سوچے بنا کہ کیا ایسا ہی گلاب کا پھول میری بہن کو بھی کوئی دے سکتا ہے ہم ایسے مسلمان ہیں کہ جو اپنے مذہب کو چھوڑ کر اس طرح کی فرسودہ روایات کو اپنا رہی ہیں ہمارا مذہب ہمیں صاف ستھری زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے اور ہم اس کے برعکس ایک ادھوری اور بھٹکی ہوئی روایات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم مسلمان بھی ہیں ہمارے بھی گھر میں لڑکیاں ہیں ایک دن کی محبت کل کو بہت بڑی بھول بن جاتی ہے اور ایسی محبت کا انجام نفرت اور دشمنی پر ختم ہوتا ہے اور پھر پتہ لگتا ہے کہ کسی نے غیرت کے نام پر اپنی بہن کو تمہارا ہی ہے مگر اس لڑکے کو بھی مار دیا کیا ائے دن یہ خبریں ہم اخباروں کی سرخیوں میں نہیں پڑھتے ہم اس پر دھیان کیوں نہیں دیتے
پھر بات وہیں ا جاتی ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کو اپنے اقتدار ہی نہیں سمجھائیں گے تو وہ کیسے سمجھیں گے ہماری مائیں اپنے بچوں کو اپنا مذہب اپنے اسلامی اقدار اور روایات سے اگاہ کریں ان کو بتائیں کہ اسلام ایک بہت خوبصورت مذہب ہے اور اس میں ایسی واحیات رسوم کی پیروی کرنا جائز نہیں
سحر نسیم سحر
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال۔
ڈاکٹر علامہ اقبال کے ابا و اجداد کشمیر سے ا کر سیالکوٹ میں اباد ہوئے جو سپرگوٹ کے برہمن اج سے ڈھائی سو سال پہلے مسلمان ہو گئے تھے ڈاکٹر محمد علامہ اقبال اسی خاندان کے چشم و چراغ تھے ڈاکٹر اقبال کے والد شیخ نور محمد بہت نیک اور اللہ والے بزرگ تھے سیالکوٹ میں ایک چھوٹا سا کاروبار تھا وہ سارے شہر میں نیکی اور پرہیزگاری کی وجہ سے ہردل عزیز تھے ان کے دو بیٹے تھے عطا محمد اور محمد اقبال جو اگے چل کر ایشیا کے سب سے بڑے شاعر علامہ محمد اقبال بنے علامہ اقبال نان نومبر 1877 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے شیخ نور احمد نے اپنے بچوں کو اردو فارسی اور انگریزی تعلیم دلوائی شیخ عطا محمد جو اپنے بھائی سے 14 برس بھری بڑے تھے۔
علامہ اقبال اب اسکول میں ہی پڑھتے تھے۔کہ ان کی طبیعت کے اصلی جوہر سامنے انے لگے مولانا روم کے اشعار علامہ اقبال کو بہت پسند تھے پرائمری مڈل اور انٹر کے امتحانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی بلکہ وظائف بھی پائے پھر سیالکوٹ کے کالج میں داخل ہوئے مولوی میر حسن سے عربی اور فارسی پڑھنے لگے ایف اے کا امتحان پاس کر کے لاہور ائے اور گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے لاہور میں مشاعرے بھی ہوتے تھے علامہ اقبال نے ان مشاعروں میں حصہ لینا شروع کر دیا اہستہ اہستہ سب کی نظروں میں انے لگے اور 22 سال کی عمر میں لاہور کے ایک مشاعرے میں انہوں نے ایک غزل پڑھی جب علامہ اقبال نے یہ شعر پڑھا
موتی سمجھ کے شان کریمی چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے
تو مرزا ارشد تڑپ کر اٹھے اور کہنے لگے میاں صاحبزادے سبحان اللہ اس عمر میں یہ شعر علامہ اقبال بی اے میں کامیاب ہوئے تو عربی اور انگریزی میں اول انے پر انہیں سونے کے دو تغمے ملے جس زمانے میں وہ کالج میں پڑھتے تھے ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی تھی 1899 انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں نالہ یتیم کے عنوان سے ایک درد انگیز نظم پڑی جس کو سن کر لوگوں کے دل بے چین ہو گئے علامہ اقبال ان دنوں صبح اٹھ کر نماز پڑھتے اور پھر اونچی اواز میں قران شریف پڑھتے تھے پھر ورزش کرتے ہیں ایک دفعہ تو پورے دو ماہ تہجد کی نماز بھی ادا کی 1905 میں علامہ اقبال یورپ روانہ ہو گئے ہیں اور کیمرج یونیورسٹی میں داخل ہو کر فلسفہ کی تعلیم حاصل کی اپ نے ایران کے فلسفہ کے متعلق ایک کتاب لکھی جس میں جرمنی کی یونیورسٹی نے اپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی یورپ والوں کی تہذیب میں انہیں خوبیاں بھی نظر ائیں اور خامیاں بھی ان کی ظاہری چکا چوند کو اپ نے کھوکھلا پایا ولایت سے واپس ا کر انہوں نے بہت سی نظمیں لکھیں پھر اردو میں دوبارہ شعر کہے ان کا کہنا تھا کہ فارسی میں شعر کہنا بہت موضوع ہے علامہ اقبال نے بہت سی نظمیں لکھیں لیکن شکوہ کو بہت زیادہ اہمیت ملی علامہ اقبال نے ڈھائی سال ملازمت کرنے کے بعد استیفہ دے دیا تھا کیونکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار زیادہ ازادی سے نہیں کر پا رہے تھے اب انہوں نے وکالت کی طرف زیادہ توجہ دینا شروع کر دی تھی علامہ اقبال کےاشعار قران شریف کی سچی تعلیم کے علم بردار ہیں وہ کہتے تھے دل سے ڈر خوف بالکل نکال دو اپنے اپ کو پہچانو دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے لیے ہے لہروں سے لڑو چٹانوں سے ٹکراؤ کیونکہ زندگی پھولوں کی راہ گزر نہیں ہے بلکہ میدان جنگ ہے
1926 میں لاہور کے ہلکا سے کونسل کی ممبری کے لیے کھڑے ہوئے اور کامیاب ہوئے 1928 میں انہیں مدارس میں درد دینے لگے اور پھر اپ میسور اور حیدراباد چلے گئے 1930 میں مسلمانوں کی انجمن مسلم لیگ نے الہ اباد میں سالانہ جلسہ کیا اور علامہ اقبال اس جلسے کے صدر چنیں گے حکومت ہند نے ان کو۔ سر۔ کا خطاب دیا لیکن قوم نے ان کو۔ علامہ اقبال کہا۔ ایک دن دلی میں وائس رائے سے ملاقات ہوئی اس نے اپ کو دعوت دوسرے دن کھانے کے لیے دی اپ نے اپنی مصروفیت کی وجہ سے انکار کر دیا تو اس نے اسی دن دعوت کر ڈالی علامہ اقبال شروع میں شلوار اور کرتا پہنتے تھے سر پر سفید ٹوپی پہنتے تھے لیکن ولایت سے انے کے بعد شلوار قمیض کے ساتھ فراک کوٹ پہنتے تھے علامہ اقبال کو کچھ عرصے سے درد گردہ رہنے لگا تھا اور 1924 میں عید کی نماز پڑھنے کے بعد گرم دودھ میں سویاں ڈال کر کھانے سے اواز بیٹھ گئی تھی جو کسی بھی دعا سے ٹھیک نہ ہو سکی اخر کار اپ کو عدالت جانا بند کرنا پڑا نواب صاحب بھوپال نے اپ کی مالی مدد کرنے کے لیے 500 روپے کا مہانہ وظیفہ مقرر کر دیا جو ان کی وفات تک جاری رہا 1935 میں علامہ اقبال کی بیگم کا انتقال ہو گیا اپ نے یہ صدمہ اپنے دل کو لگا لیا اور بیمار رہنے لگے ایک دن وصیحت لکھ کر رجسٹرار کو بھجوا دی وفات سے سال پہلے اپ کی انکھوں میں سفید موتیا اتر ایا تھا ان کو معلوم ہو چکا تھا کہ اب وقت قریب ہے 1937 میں اپ نے یہ رباعی کہی
سر ودرفتہ باز آید کہ نہ آید
نسیمے از حجاز آید کہ آید
1937 میں اپ کی طبیعت بہت ناساز ہو گئی دل بھی کمزور ہو گیا تھا سانس بھی پھولنے لگا تھا اپ کے بڑے بھائی نے تسلی کے الفاظ کہے تو اپ نے فرمایا۔۔۔ بھائی میں مسلمان ہوں موت سے نہیں ڈرتا۔۔۔۔ پھر اپ نے یہ شعر پڑھا
نشان مرد مومن با تو گویم
چو ں مرگ امد تبسم برلب اوست
وفات سے تین چار روز قبل بلغم میں خون انے لگا ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ دل کی طرف جانے والے رگ کے پھٹ جانے کا اندیشہ ہے اخر کار 21 اپریل 1978 کو اپ کا انتقال ہو گیا وفات کے وقت اپ کی عمر 65 سال سے اوپر تھی اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
انا للہ وانا علیہ راجعون
۔۔۔۔۔۔۔۔ سحر نسیم سحر ۔۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اولڈ ایج ہوم
حدیث شریف ہے۔۔۔ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔۔۔
ایک اور جگہ ہے۔۔۔ جب تمہارے ماں باپ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کرو۔۔
ماں باپ مل کر دس بچوں کو پالتے ہیں مگر دس بچے مل کر ایک ماں باپ کو نہیں پال سکتے ماں باپ اپنے بچوں کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی ضرورتوں تک کو بھلا دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد نہ صرف کسی چیز کو ترسے اور نہ ہی اپنے دوستوں اور ہم عمر بچوں میں احساس کمتری کا شکار ہوں اپنی اولاد کی اچھی پرورش کے لیے دن رات کام کرتے ہیں اور اپنے اولاد کی فرمائشیں پوری کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں ماں باپ اپنی اولاد کو کیوں پالتے ہیں یا پھر اللہ سے اولاد ہی کیوں مانگتے ہیں اس لیے نہ کہ ان کی اولاد ان کو بڑھاپے میں سنبھالے گی اور ان کا سہارا بنے گی مگر یہ ضروری تو نہیں کہ ہر اولاد اپنے ماں باپ کی تابعدار ہو اور ان کا سہارا بنے کچھ اولادیں اتنی نافرمان ہوتے ہیں کہ اپنے والدین کو ذرا ذرا سی بات پر ڈانٹتی ہیں بلکہ مارتی بھی ہیں اور گالی گلوچ بھی کرتی ہیں اور کچھ تو اتنی نافرمان اور جہنمی اولاد ہوتی ہے کہ اپنے ہی ماں باپ کو قتل تک کر ڈالتی ہیں ایسے واقعات ائے دن سننے کو ملتے ہیں یہ قرب قیامت کی نشانیاں ہیں
اور کچھ ایسے بھی بچے ہوتے ہیں جن کو اپنے ماں باپ کے کھانسنے کی اواز بری لگتی ہے اور وہ کہتے ہیں یہ کیا ہر وقت ہنستے رہتے ہیں ہمیں چین سے سونے بھی نہیں دیتے ہر وقت ان کی دوائی ختم ہوئی ہوتی ہے اتنی مہنگی دعائیں کہاں سے لائیں پھر ہمارے گھروں میں ان بوڑھے ماں باپ کے لیے کمرہ بھی نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ بے حس اور نافرمان اولاد اسی طرح کے بہانے بنا کر اپنے والدین کو اولڈ ایج ہوم چھوڑ جاتی ہے بن سوچے کہ کبھی ان لوگوں نے بھی بوڑھے ہونا ہے ہم لوگوں سے سنتے تھے کہ یورپ میں لوگ اپنے بڑوں کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ اتے ہیں مگر اب تو پاکستان میں بھی لوگ اپنے بزرگوں کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ اتے ہیں اس نفسا نفسی کے دور میں اگر کسی کی اہمیت ہے تو وہ صرف دھن دولت کی ہے مال و زر کی ہے دولت کی ریل پیل نے انسانوں کو انسانوں سے اتنا دور کر دیا ہے
اللہ کی عبادت کے بعد اللہ نے اگر کسی چیز کا حکم دیا ہے تو وہ ہے والدین سے حسن سلوک اور نیک برتاؤ کا جیسے کہ قران پاک میں ہے۔۔۔۔۔ہم نے ادمی کو اپنے ماں باپ سے بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے۔۔۔
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک ادمی ایا اور اپ سلام سے عرض کی دنیا میں میرے حسن سلوک کے مستق کون لوگ ہیں اپ سلام نے فرمایا۔۔۔۔۔تیری ماں۔۔اس نے پھر عرض کی۔۔ پھر کون۔۔ اپ سلام نے فرمایا۔۔۔ تیری ماں۔۔اس نے پھر عرض کی۔۔پھر کون۔۔۔اپ سلام نے فرمایا۔۔ تیری ماں۔ اس نے پھر عرض کی پھر کون۔۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوتھی مرتبہ ۔۔۔۔ تیرا باپ ۔۔ صحیح البخاری
گویا مسلم سوسائٹی میں اولڈ ایج ہوم مغربی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی مرہون منت ہے 1882میں کلکتہ میں پہلی مرتبہ نادار اور بے یار و مددگار بزرگوں کے لیے ایک ہاسٹل کا انتظام کیا گیا لیکن باقاعدہ طور پر 1911 میں بادشاہ راجہ ورما کی سرپرستی میں ایک اولڈ ایج ہوم بنایا گیا جو اسی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ایک عرصہ تک اولڈ ایج ہوم مسلمانوں سے خالی تھے یہاں پر دوسرے مذہب کے لوگ رہتے تھے مگر ہائے افسوس کہ اب مسلمان بھی بڑی تعداد میں اولڈ ایج ہوم میں پائے جاتے ہیں
اولڈ ایج ہوم کھولنے والوں کی کوئی خطا نہیں ہے بلکہ مجرم تو وہ لوگ ہیں جو اپنے پیاروں اپنے بزرگوں کو یہاں چھوڑ جاتے ہیں اور اولڈ ایج ہوم کھولنے والوں کے لیے تو تعریف ہونی چاہیے کہ ان لوگوں نے ان بوڑھے اور نادار لوگوں کی مصیبت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے رہنے کا انتظام کیا اگر ہم غور کریں تو یہ سب اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہے کیونکہ ہمارے والدین اپنے بچوں کو دنیا میں کامیابی دلانے کے لیے بے شمار تعلیمات دلواتے ہیں حتی کہ اپنے زیور اور اپنے گھر بیچ کر بھی ان کو باہر پڑنے بھیج دیتے ہیں مگر اسلامی تعلیمات سے ان کو دور رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے اپنے والدین کی قدر و قیمت کھو دیتے ہیں اسی کے نتیجے میں اولڈ ایج ہوں قائم ہوتے ہیں اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اپنے والدین کی تابعداری کرنے کی توفیق دے امین ثم امین
۔۔۔۔۔۔ سحر نسیم سحر۔۔ ۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مسلمان اور مومن میں فرق
الحمدللہ ہم نے مسلمان گھرانے میں انکھ کھولی تو ہم مسلمان ہو گئے کیا یہ کافی ہے مسلمان ہونے کے لیے
اللہ تبارک و تعالی نے سورہ حجرات میں فرمایا کہ یہ جو اعراب نے کہا ہے جو مدینے کے ارد گرد ابادی میں بدو رہتے تھے دیہاتی لوگ جنہیں قران مجید کی زبان میں اور اس وقت کے عرب کے معاشرے میں اعراب کہا جاتا تھا جو ائے کلمہ پڑھا اور اسلام قبول کیا انہوں نے کہا کہ ،،،،،،ہم مومن ہو گئے،،،،،
وہ سمجھے کہ ہم نے کلمہ پڑھا دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور اپنی سمجھ کے مطابق ہم مومن ہو گئے نماز پڑھنے لگے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے روزے رکھنے لگے اور جو اسلام کے اعمال اسلام کے معاملات تھے اس پر عمل کرنے لگے تو انہوں نے کہا کہ ہم مومن ہو گئے ہمیں ایمان نصیب ہو گیا اس پر اللہ تبارک و تعالی نے سورہ حجرات میں فرمایا،،،،،،اے میرے حبیب ان کے خیالات کی اصلاح فرما دیں ترجمہ۔۔۔تم مومن نہیں ہوئے۔۔۔
گویا کہ کلمہ پڑھنے سے کوئی مومن نہیں ہو جاتا یعنی تم صاحب ایمان نہیں ہوئے بلکہ تم مسلمان ہوئے ہو یہاں قران پاک میں فرق بتایا گیا ہے کہ اسلام میں اور مومن میں کیا فرق ہے اسی لیے ہم جہاں رہتے ہیں وہاں زیادہ تر لوگ مسلمان ہی ہیں مومن نہیں ہیں ہماری سوسائٹی زیادہ تر امت مسلمہ ہے امت مومنہ نہیں اس دور میں زیادہ تر مسلمانوں کا دور ہے مومنوں کا نہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم مسلمان ہیں تو پھر مومن کیوں نہیں تو مومن کون ہے مومن ہونے کے لیے کیا کرنا چاہیے تو سورۃ حجرات میں فرمایا گیا ترجمہ۔۔۔اسلام جسموں پر اتا ہے اور ایمان دلوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔
جسم جب اطاعت گزار ہو جاتا ہے سر جھک جاتا ہے اللہ کے حضور اور بندہ ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرنے لگتا ہے تو کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم صرف جسموں سے ہی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اور ہمارے دل اللہ کے حضور نہیں جھکے ہوتے یعنی ہم نماز تو ادا کر رہے ہوتے ہیں مگر دل کہیں اور ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے جسموں میں تو اسلام ہے مگر دلوں میں ایمان نہیں ہے اور جب تک دلوں میں ایمان نہ ائے تب تک ہم مومن نہیں ہو سکتے
اج کل تو یہ حال ہے کہ ہم لوگ نماز بھی دکھاوے کی ادا کرتے ہیں تاکہ لوگ ہمیں نمازی کہیں صدقہ خیرات کرتے ہیں تو دکھا کر کرتے ہیں تاکہ لوگ ہماری واہ واہ کریں حج اور عمرہ کرتے ہیں تو وہ بھی دکھاوے گا تاکہ لوگ ہمیں حاجی صاحب کہیں ہم اللہ کے ڈر سے نیکیوں کی طرف رغبت نہیں کرتے بلکہ ہم لوگوں کو دکھانے کے لیے یہ سارا کچھ کرتے ہیں اصل مومن تو وہ ہے جو نہ کسی دوسرے انسان کا دل دکھائے نہ کسی کا مال کھائے نہ سود کھائے اور نہ ہی بےجا منافہ کمائی اور اللہ کی مخلوق کے لیے اسانیاں پیدا کرے اور خود کو مومن کہلانے کا دکھاوا کرنے کی بجائے خود اپنے اپ کو اس طرح کا بنائیں کہ دل سے نماز روزہ حج عمرہ ادا کرے اور غریبوں کی اس طرح مدد کرے کہ ان کی اس سے نفس مجروح نہ ہو ایک دوسرے کے ساتھ منافقت دھوکہ دہی نہ کرے نیکیوں کو کمانے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اسے غصے نہ بتانا پڑے کہ میں مسلمان ہوں بلکہ اس کے قول و فعل اور چہرے کے نور ہی سے سب کو پتہ چلے کہ یہ سچا اور پکا مومن ہے
مگر اج کے دور میں یہ سب کہاں اگر ہمارے دل اللہ کے حضور جھک جائیں تو کیا ہی بات ہے پھر تو کایا ہی پلٹ جائے دل جھک جائے تو انداز زندگی ہی بدل جائے اگر دل اللہ کے حضور جھک جائے تو اخلاق ہی بدل جائے اور جب دلوں میں ایمان داخل ہو جائے تو پھر تم مومن ہو ورنہ صرف مسلمان ہو
صرف کلمہ پڑھ لینے اور نماز ادا کرنے سے تم مومن نہیں بن سکتے جب تک کہ تمہارے دل میں ایمان نہ داخل ہو جائے
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو سچا اور پکا مومن بنائے اور اخرت میں ہمیں شرمندہ ہونے سے بچائے امین
الحمدللہ ہم نے مسلمان گھرانے میں انکھ کھولی اسی لیے اج ہم مسلمان ہیں کیا یہ کافی ہے مسلمان ہونے کے لیے۔اللہ تبارک و تعالی سورہ حجرات میں فرماتے ہیں کہ یہ اراب نے کہا کہ یہ جو مدینہ کے ارد گرد ابادی بدو رہتے تھے دیہاتی لوگ جنہیں قران مجید کی زبان میں اور اس وقت کے عرب کے معاشرے میں ارام کہا جاتا تھا وہ ائے کلمہ پڑھا اسلام قبول کیا انہوں نے کہا قران مجید ان کا کہنا یوں بیان کر رہا ہے
ترجمہ۔ ۔۔۔۔ کہ ہم مومن ہو گئے ہیں۔۔۔
انہوں نے کلمہ پڑھا دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں ان کو اتنی سمجھ تھی انہوں نے سمجھا کہ ہم مومن ہو گئے نماز پڑھنے لگے حسد محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے اور روزے رکھنے لگے اور جو اسلام کے اعمال اسلام کے معاملات تھے اس پر عمل پیرا ہونے لگے تو انہوں نے کہا کہ ہم مومن ہو گئے ہیں ہمیں ایمان نصیب ہو گیا ہے اس پر اللہ تبارک و تعالی نے سورہ حجرات میں فرمایا کہ اے میرے حبیب ان لوگوں کی اصلاح کر دے
ترجمہ۔۔۔۔۔ تم مومن نہیں ہوئے۔۔۔
گویا کہ کلمہ پڑھنے سے کوئی مومن نہیں ہو جاتا یعنی تم صاحب ایمان نہیں ہوئے بلکہ تم مسلمان ہوئے ہو یہاں قران مجید نے فرق بتایا کہ اسلام میں مومن میں اور اسلام میں کیا فرق ہے اس لیے ہم جہاں رہتے ہیں وہاں زیادہ تر لوگ مسلمان ہوتے ہیں مومن نہیں ہوتے ہماری سوسائٹیز زیادہ تر امت مسلمہ ہے امت مومنہ نہیں ہے اس دور میں زیادہ تر مسلمانوں کا دور ہے مومنوں کا نہیں ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم مسلمان ہیں تو پھر مومن کیوں نہیں ہیں تو اس پر سورۃ حجرات کا ترجمہ ہے
ترجمہ۔ اسلام جسموں پر اتا ہے اور ایمان دلوں میں ہوتا ہے۔۔۔
جسم جب اطاعت گزار ہو جاتے ہیں سر جھک جاتے ہیں اللہ کے حضور اور بندے ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرنے لگے تو کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم صرف جسم و ہی سے نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اور ہمارے دل اللہ کے حضور نہیں جھکے ہوتے یعنی ہم نماز تو ادا کر رہے ہوتے ہیں مگر ہمارے دل کہیں اور ہوتے ہیں اگر دل اللہ کے حضور جھک جائے تو پھر تو کایا ہی پلٹ جائے اگر دل جھک جائے تو انداز زندگی ہی بدل جائے اگر دل اللہ کے اگے چپ جائے تو اخلاق ہی بدل جائے جب دلوں میں ایمان داخل ہو جاتا ہے تو پھر تم مومن ہو جاتے ہو ورنہ تم صرف مسلمان ہو
اور اج کل تو یہ حال ہے کہ مسجدوں میں لوگ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں عمرہ حج بھی کرتے ہیں صرف لوگوں کو یہ دکھانے کے لیے کہ ہم پکے مسلمان ہیں ہر بندہ حاجی ہے پکا مسلمان ہے یہ صرف کہلانے کے لیے وہ ہر حد تک جاتے ہیں لیکن مسلمان کے بجائے مومن ہونے کے لیے یہ صورتیں ضروری نہیں مومن تو وہ ہے جو اللہ کے ڈر سے نیکیوں کی طرف ائے کسی دوسرے انسان کا دل نہ دکھائے کسی کی جان و مال کو نقصان نہ پہنچائے سود نہ کھائے بےجم منافع نہ کمائی اور اللہ کی مخلوق کے لیے اسانیاں پیدا کرے اور خود کو مومن کہلانے کے لیے دکھاوے کی نمازیں نہ پڑھے عمرے حج روزے نہ کرے بلکہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے دل سے نماز روزہ حج عمرہ ادا کرے سوکات ادا کرے اور اگر غریبوں کو دے تو ان کی اس طرح سے مدد کریں کہ غریبوں کی عزت نفس مجروح نہ ہو ایک دوسرے کے ساتھ منافقت دھوکہ دہی نہ کرے بلکہ نیکیوں کو کمانے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرے صدقہ و خیرات کرے اور کسی کو خود سے نہ بتائے کہ میں مسلمان ہوں بلکہ اس کے قول اور فعل میں اور چہرے سے نور ہی سے سب کو پتہ چلے کہ یہ سچا اور پکا مسلمان اور مومن ہے
مگر اج کے دور میں یہ سب کہاں ہم سب کو تو دکھاوا چاہیے ہم سب کو تو واہ واہ چاہیے ہم سب کو تو جھوٹی شان شوکت اور عزت چاہیے ہمارے دلوں میں کچھ ہوتا ہے زبانوں پہ کچھ ہوتا ہے ہمارے دلوں میں نفرت بغض کی نہ اور لوگوں پہ موٹے میٹھے بول اور اگلے کی تعریف ہم ایسے کرتے ہیں جیسے وہ واقعی بہت اچھا ہے مگر جب وہ اٹھ کر جاتا ہے تو ہم اسی کی بدخوئی کرتے ہیں کیا یہ ہے مسلمان نہیں
مسلمان تو وہ ہے جس کے دل میں ایمان داخل ہو جائے صرف کلمہ پڑھنے سے مسلمان نہیں بنتے دلوں میں ایمان کے داخل ہونے کے بعد ہم مومن بنتے ہیں صرف کلمہ پڑھنے سے ہم مسلمان ہی بنتے ہیں مومن نہیں اگر اپ کے دل میں ایمان ہے تو اپ مومن ہو ورنہ اپ مسلمان ہو میری اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں پکا اور سچا مسلمان ہونے کی توفیق عطا فرمائے اللہ ہمارے دلوں سے نفرت بغض کینہ فرقہ واریت سب ختم کر کے ہمیں یگانگت کا پیروکار بنائیں ہمیں اپنے مذہب پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے قول و فعل کو ایک ہونے کی توفیق عطا فرمائے امین ثم امین
سحر نسیم سحر
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
حسد کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث شریف ہے۔
ترجمہ۔۔۔۔ تم آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے حسد کیا کرو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو اور نہ ایک دوسرے سے قطع تعلقی کرو اور اے اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن کر زندگی گزارو۔۔۔۔۔۔
حسد یہ ہے کہ یہ چیز میرے پاس کیوں نہیں ہے اس کے پاس کیوں ہے۔حسد نیکیوں کو ایسے ہی کھا جاتا ہے جیسے سوکھی لکڑیوں کو اگ حسد ایک تباہ کن بیماری ہے اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں ہماری زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کیسے اپنی زندگی کو گزاریں
ہمارے نبی کریم اور اللہ نے ہمیں ہدایت اور میانہ روی پر چلنے کے احکامات دیے ہیں اور بتایا ہے کہ لوگوں سے کیسے معاملات کریں اور اخلاقی اعتبار سے کیسا رہنا چاہیے غرض یہ کہ معاشرتی اخلاق اور تہذیب اسلام ہی کا حصہ ہے اور اگر مقابلے بھی کرنا ہے تو تقوی کی بنیاد پر کرو کہ یہ بندہ اتنا نیک ہے تو مجھے اس سے زیادہ نیکیاں کمانی چاہیے مسابقت کرنا چاہتے ہو تو وہ بھی نیکی کی بنیاد پر کرو ایک دوسرے سے اگے بڑھنے کی کوشش کرو نیک بننے کی کوشش کرو
کبھی بھی کسی کی چیز کو دیکھ کر حسد میں مبتلا مت ہو اللہ کی رضا ہے وہ جو تمہیں چاہے دے اللہ دے کر بھی آزماتا ہے اور نہ دے کر بھی اللہ نے کسی کو بے شمار دولت دی تو کسی کو صحت تندرستی سے نوازا کسی کو اولاد جیسی انمول نعمت دی تو کسی کو نہ دے کر ازمایا اللہ جس کو چاہتا ہے جو چاہتا ہے نوازتا ہے انسانوں کو ایک دوسرے سے حسد نہیں کرنا چاہیے حسد نہ صرف انسان کو تباہ و برباد کرتا ہے بلکہ اسے بہت سی بیماریوں میں جکڑ لیتا ہے بے جا حسد کرنے سے انسان ڈپریشن سٹریس اور دماغی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اس لیے حسد کرنے سے اپ خود ہی اپنے اپ کو کمزور کر لیتا ہے
حسد کی پہچان یہ ہے
جو شخص اپ سے حسد کرتا ہے وہ اپ کو دیکھ کر کبھی خوش نہیں ہوگا اور نہ ہی اپ سے بلند اواز میں سلام کرے گا اگر سلام کرے گا تو بہت ہلکی سی اواز میں اور نہ ہی وہ شخص اپ کو توجہ دے گا بلکہ کسی دوسرے کی طرف توجہ رکھے گا اور اپ سے ایسا رویہ رکھے گا جیسے وہ اپ کو جانتا ہی نہیں اور اپ کی بات کو جان بوجھ کر اہمیت نہیں دے گا اور اپ کی بات کو اور اپ کی ذات کو اپنے اوپر ایک بوجھ سمجھے گا اور حسد کی یہ تمنا ہوگی کہ ہر بات پر اپ سے مخالفت کرے
حاسد کے حسد سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپ اسے زیادہ سے زیادہ اہمیت دیں اس کی عزت کریں اور اسے مختلف تحفے تحائف دیں تاکہ وہ اپ سے خوش ہو اور اپنی کامیابی کو لوگوں کے سامنے بڑھا چڑھا کر پیش مت کیا کریں اس سے بھی لوگوں کے دلوں میں حسد پیدا ہو جاتا ہے
حسد اور رشک میں بس تھوڑا سا ہی فرق ہے حسد یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس یہ چیز کیوں ہے میرے پاس کیوں نہیں
رشک۔۔۔۔۔۔۔ رشک میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس یہ چیز ہے اللہ اس میں برکت دے اور مجھے بھی دے
حسد پر ایک عجیب سی کہانی ہے ملاحظہ کریں
ایک ادمی جو بہت غریب تھا وہ جنگل میں گیا اور اللہ کی عبادت کرنا شروع کر دے کہ شاید اسی طرح میرے غربت دور ہو جائے اب وہ ہر رات دن اللہ کی عبادت میں لگا رہتا اللہ نے بھی اس کے لیے کھانے کا ایک سریہ پیدا کر دیا غیب سے ایک ہانڈی اتی اور اس میں اس کے کھانے کے لیے بے شمار لوازمات ہوتے ہیں وہ انہیں نکالتا اور کھا لیتا ایک دن ایک راہ گر کا وہاں سے گزر ہوا اس نے اس درویش سے پوچھا کہ تم اس جنگل میں بیٹھے ہوئے ہو تو تمہیں رزق کہاں سے اتا ہے درویش نے بتایا کہ اللہ کی طرف سے ایک ہانڈی میں سے جو میں چاہتا ہوں وہ مجھے مل جاتا ہے وہ ادمی یہ سن کر بہت حیران ہوا اور اس نے بھی اللہ کی عبادت شروع کر دی ایک دن ایک جن حاضر ہوا اور اس سے پوچھا بتاؤ کیا چاہتے ہو اس ادمی نے کہا کہ جنگل میں درویش کے پاس ایک ہانڈی ہے اس میں سے وہ جو چاہے مرغ مسلم ہر طرح کا لذیذ کھانا نکالتا ہے اور کھا لیتا ہے تو جن نے پوچھا کیا اپ کو بھی ایسی ہانڈی لا دوں اس ادمی نے کہا نہیں
مجھے وہ ہانڈی نہیں چاہیے بلکہ تم اس درویش کی ہانڈی بھی توڑ دو
یہ ہے حسد کی ایک سادہ سی مثال کہ نہ وہ چیز اس کے پاس رہے اور نہ میرے پاس
اللہ ہم سب کو حسد کے شر سے بچائے
امین ثم امین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سحر نسیم سحر۔ ۔۔ ۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
حضرت رابعہ بصری
نبی کریم کی سنت پر احسن طریقے سے عمل کرنا اور اپنی زندگی احسن طریقے سےشریعت پر گزارنے والوں کو اولیاء کرام کہا جاتا ہے۔
انہی برگزیدہ اور نیک لوگوں میں رابعہ بصری کا شمار ہوتا ہے۔
سن 95 ہجری کی ایک بابرکت رات وہ شہر بصری کے علاقےکے ایک نیک سیرت انسان اسماعیل کے گھر پیدا ہوئیں۔اسماعیل کے گھر پہلے ہی تین بیٹیاں تھیں اور یہ ان کی چوتھی بیٹی تھی۔ان کا نام رابعہ رکھا گیا۔حضرت رابعہ بصری کا شمار ان پاک ہسیوں میں ہوتا ہے جن کی زندگی ابتدا سے ہی انتہائی درویشی اور بے نیازی کی مثال ہے۔حضرت رابعہ بصری ایک انتہائی غریب خاندان میں پیدا ہوئی بدحالی کا یہ عالم تھا کہ گھر میں چراغ تک نہ تھا حضرت رابعہ بصری کی ماں نے اپنے شوہر سے کہا کہ جاؤ ہمسائے کے گھر سے تیل مانگ کر لے اؤ وہ گئے اور ہمسائے کے گھر کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر واپس ا گئے اور ا کر کہا کہ سامنے والوں نے دروازہ نہیں کھولا کیونکہ وہ عہد کر چکے تھے کہ میں خدا کے علاوہ کسی سے نہیں مانگوں گا
رابعہ بصری نے جب ہوش سنبھالا تو والد محترم وفات پا چکے تھے اور قحط سالی کی وجہ سے اپ کی تینوں بہنیں بھی اپ سے جدا ہو کر نہ جانے کہاں مقیم ہو گئی اور اپ بھی کسی طرف کو چل دی وہاں پر ایک ظالم بندے نے اپ کو پکڑ کر قید کر لیا اور زبردستی اپنی کنیز بنا لیا کچھ دنوں کے بعد اس نے اپ کو فروخت کر دیا اپ کا مالک ایک انتہائی سخت گیر اتا تھا جس نے اپ پر بے حد سختی کی اور اپ سے بے انتہا کام لیتا اور ارام کے لیے تھوڑا سا بھی وقت نہ دیتا رابعہ بصری نہایت نیک اور پارسا تھی اور کسی غیر محرم کے سامنے جانے سے کتراتی تھی ایک بار اپ بازار سے گزر رہی تھی کہ ایک نامحرم کو دیکھ کر اتنا گھبرا گئی کہ گر پڑے اور ہاتھ ٹوٹ گیا پریشانی میں اپنے اللہ سے دعا کی اے اللہ میں تیری بارگاہ میں دیر سے اتی ہوں اب تو میرا ہاتھ بھی ٹوٹ گیا ہے غیب سے ندا ائی کہ اے رابعہ پریشان نہ ہو اللہ تمہیں عزت مرتبہ نوازنے والا ہے ایسا مرتبہ کہ فرشتے بھی تجھ پر رشک کریں گے اپ کا معمول تھا کہ دن بھر روزہ رکھتی اور شب بھر عبادت کرتی ایک رات رابعہ بصری رات کو اپنے اللہ سے لو لگائے بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی اے اللہ میں دیر سے اتی ہوں کیونکہ میرا مالک مجھ سے بہت کام لیتا ہے اس لیے اللہ مجھے معاف فرما دینا رابعہ بصری کے مالک نے جب یہ سنا تو اللہ کے ڈر سے اپ کو ازاد کر دیا اور کہا کہ میری خواہش ہے اپ میرے گھر پر ہی قیام فرمائیں اور اپنی خدمت کا موقع دیں اپ حسن بصری کے واعظ میں بھی شرکت کرتی تھی اپ نے علوم ظاہری حاصل کرنے کے لیے کوفہ کا رخت سفر باندھا جو اس وقت کا سب سے سب سے بڑا علمی مرکز تھا۔سب سے پہلے اپ نے قران پاک حفظ کیا اس کے بعد درویشی اور حدیث کی تعلیم حاصل کی۔اپ کا واعظ سن کر بڑے بڑے محدث حیران ہو جاتے اپ کی محفل میں بڑے بڑے علماء اور صوفیا کرام حاضر ہوتے تھے جن میں سر فہرست امام صوفیا سوری ہے امیر المومنین فی الحدیث کہا جاتا ہے۔حسرت رابعہ بہت کم بولتی اگر کوئی سوال پوچھتا تو مختصر جواب دیتی ہر بات میں قرانی ایات کا حوالہ دیتی تھی اور لوگوں کو بتایا کرتی تھی کہ انسان جو بولتا ہے وہ فرشتے لکھتے ہیں اس لیے میں کوئی ایسی بات نہیں بولتی جو قران و حدیث کے خلاف ہو ایک دفعہ لوگوں نے پوچھا کہ اپ نکاح کیوں نہیں کرتی تو حضرت رابعہ بصری نے فرمایا کہ مجھے تین باتوں کا اندیشہ ہے اگر ان تین میں سے مجھے نجات مل جائے تو میں نکاح کر لوں گی پہلی بات
کیا مرتے وقت میں اپنا ایمان سلامت لے جاؤں گی کہ نہیں
دوسری بات
میرا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کہ بائیں ہاتھ میں۔
تیسری بات قیامت کے دن بہت سے لوگوں کو دائیں طرف سے جنت میں لے جایا جائے گا اور کچھ لوگوں کو بائیں طرف سے جنت میں لے جایا جائے گا تم مجھے کس طرف سے جنت میں لے جایا جائے گا
لوگوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ان باتوں کے کیا جواب ہیں حضرت رابعہ بصری نے فرمایا کہ جس عورت کو اتنے سارے غم ہوں وہ شوہر کی خواہش کیسے کر سکتی ہے ان کا دل ہر وقت خوف الہی سے معمور رہتا تھا
حضرت رابعہ بصری کو دنیا سے گئے ہوئے 1200 سال ہو گئے ہیں مگر ان کا نام اج بھی زندہ ہے وہ اپنی پاکیزہ سیرت اور زاہدہ طبیعت کی وجہ سے جانی جاتی ہیں اللہ ان پر اپنا کرم اور فضل فرمائے
امین
سحر نسیم سحر۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پاکستان میں بے انتہا غربت ہے اور تعلیم کی کمی بھی بہت ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے مین وجہ غربت ہے کیونکہ ہمارے لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہے اور نہ ہی وسائل ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکیں پاکستان کے عوام کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوا کر انہیں اچھا شہری بنا سکیں اور اوپر سے ہمارا نظام تعلیم اتنا مہنگا کر دیا گیا ہے کہ متوسط طبقے کے لوگ بھی اپنے بچوں کو گھر بٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں اول تو سکول فی سی بہت ہیں اوپر سے ایک کتابوں کاپیوں اور اسٹیشنری کا سامان اتنا مہنگا کر دیا گیا کہ غریب ان کو افورڈ ہی نہیں کر پا رہا عالمی بینک کی طرف سے پاکستان میں جو تجزیہ کیا گیا اس کے مطابق 40 فیصد لوگ غربت کی شرح سے نیچے ہیں جس میں نچلی درمیانی امدنی والے غربت کی شرح سے 3.2 امریکی ڈالر یومیہ ہے اور 78 فیصد اوپری درمیانی امدنی والے غربت کی شرح 5.5 امریکی ڈالر یومیہ ہے مالی سال کے لیے استعمال کی گئی ہے 2021 میں حکومت پاکستان نے بتایا پاکستان کی ابادی کا 22 فیصد قومی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے جس کا اندازہ اوپر 30 30 یو ایس ڈالر 28 فی مہینہ ہے 2020 تک پاکستان کا انسانی ترقی کا اشاریہ hdl 0.557 ہے اور 189 ممالک میں سے 154 نمبر پر ہے یمن عرفغانستان کے بعد پاکستان کا انسانی ترقی کا اشاریہ ایشیا میں سب سے کم ہے
اس کی بڑی وجوہات میں سے کچھ وجوہات یہ بھی ہیں
دولت کی تقسیم
غربت کی مقامی تقسیم
ماحولیاتی مسائل
معاشی اور سماجی کمزوری
مناسب حکمرانی کا فقدان
جاگیرداری نظام
عدم مساوات
قدرتی افات
لوگوں میں شعور کی کمی۔ وغیرہ وغیرہ
پاکستان میں تاریخی طور پر غربت دیہاتوں میں زیادہ ہے اور شہروں میں کم کیونکہ دیہاتوں میں ترقی کے مواقع یعنی روزگار کے مواقع بہت کم ہیں نہ تو لوگ اپنا کاروبار زیادہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہاں پر اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ اچھی جاب کر سکیں اس لیے دیہاتوں میں صرف کھیتی باڑی اور اناج ہی کے بارے میں کام کیا جاتا ہے اور لوگ زیادہ تر شہروں میں انے کو ترجیح نہیں دیتے اسی لیے وہ غربت کی لکیر سے بہت نیچے رہ جاتے ہیں
پاکستان کے تعلیمی مسائل
پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے جسے بے شمار تعلیمی مسائل کا سامنا ہے تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی بے شمار کوششوں کے باوجود پاکستان کا ایک بڑا حصہ انپڑھ رہ گیا ہے اور ویسے بھی معیاری تعلیم بھی خراب ہے پاکستان میں سرکاری سکول دور دور ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی بیٹیوں کو سکول نہیں بھیجتے اور پرائیویٹ سکول میں ان کی فیس اتنی زیادہ ہوتی ہے جو وہ افورڈ نہیں کرتے اس لیے پاکستان سکول نہ جانے والے بچوں میں دوسرے نمبر پر ہے
صرف 45 فیصد لڑکیاں پرائمری تک پڑھ پاتی ہیں ثانوی تعلیم تک اس کی تعداد 23 فیصد رہ جاتی ہے اور اعلی تعلیم تک تو شاز و نادر ہی جا پاتی ہیں ویسے بھی پاکستان میں پرائیویٹ سکول کے ٹیچرز زیادہ تر کم پڑھے لکھے رکھے جاتے ہیں تاکہ ان کو سیلری کم دی جا سکے اور پرائیویٹ سکول منافع کما سکے اور انپر ٹیچرز ہمارے بچوں میں ان کی قابلیت کو بڑھانے میں معاون ثابت نہیں ہوتے اس لیے پاکستان میں بچوں کی قدرتی صلاحیتوں کو پہچانا ہی نہیں جاتا اور بچے خاطر خوا ترقی سے محروم رہ جاتے ہیں شہروں میں پھر بھی بچے کچھ حد تک بڑھ جاتے ہیں مگر دیہاتوں کے بچوں کی تو بہت ہی بری حالت ہو جاتی ہے معیار تعلیم کی وجہ سے کیونکہ وہاں تو سرکاری سکولوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور جو ہوتے ہیں وہ بہت دور دور ہوتے ہیں اور ان تک بچوں کا پہنچنا خاص طور پر بچیوں کا پہنچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اس لیے لوگ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں ہی بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں اسی وجہ سے بیٹیاں ان پڑھ رہ جاتی ہیں اور بیٹوں کو پھر بھی کسی حد تک سکول جانے کا موقع مل جاتا ہے اس جدید اور ترقی یافتہ دور میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے کیونکہ اس کے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے بہتر اور اعلی نصاب تعلیم ہی درکار نہیں بہتر ماحول میسر نہیں اور نہ ہی گورنمنٹ کی طرف سے ان کی امداد کی جاتی ہے اور جو پڑھ لکھ جاتے ہیں ان کے پاس نوکری کے چانس ہی نہیں ہوتے اس لیے پاکستان کا زیادہ تر نوجوان طبقہ باہر جانے کو ترجیح دیتا ہے
سحر نسیم سحر
………………………….
چھانگا مانگا جنگل انسانی ہاتھوں سے لگایا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی جنگل ہے جو کہ 1866 میں لگایا گیا ایک روایت کے مطابق چھانگا اور مانگا دو بھائی تھے جو کہ ڈاکو تھے اور وہ ارد گرد کے علاقوں میں چوریاں کرتے اور اس جنگل میں ا کر چھپ جاتے اور یہ جنگل انہی دونوں بھائیوں کے نام پر مشہور ہو گیا چھانگا مانگا جنگل شہر لاہور سے 75 کلومیٹر اور ضلع قصور کی تحصیل چونیا سے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے
اس جنگل کا رقبہ 1250 ایکڑ پر مشتمل ہے یہ جنگل برٹش دور میں لگایا گیا اس وقت ریلوے کے نظام کو چلانے کے لیے کوئلے کی ضرورت ہوتی تھی تو اس لیے انگریزوں نے لکڑی پیدا کرنے کے لیے ایک مصنوعی جنگل لگایا یہاں سے وہ لکڑی لے کر ٹرینوں کے انجن میں استعمال کرتے ہیں اور وہ ٹرین پشاور سے لے کر کراچی تک چلتی تھی اور ان سب میں ایندھن کے طور پر اسی جنگل سے لکڑی لی جاتی تھی
انگریزوں نے برصغیر میں بہت سے پروجیکٹ بنائیں جیسے کہ جنگلات نہری نظام سڑکیں ریلوے بنائے تو انہوں نے اپنے فائدے کے لیے تھے مگر اج ہم لوگ بھی اسی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اسی طرح چھانگا مانگا جنگل بھی انہی کے دور میں لگایا گیا اور پھر اہستہ اہستہ ترقی کرتے اج چھانگا مانگا میں ریسٹ ہاؤس بھی بنایا گیا ہے جھیل بھی ہے اور مختلف ریسٹورنٹ بھی تاکہ انے والے سیاحوں کو دلچسپی پیدا ہو سکے اس جنگل میں نایاب جانور نیل گائے ہینڈ گیدر خنزیر 12 سنگا اڑیال وغیرہ وغیرہ جانور بھی ہیں اور بے شمار پرندے بھی پائے جاتے ہیں
جب برفانی علاقوں میں برف پڑنا شروع ہو جاتی ہے تو بہت سے پرندے اس جنگل کے درختوں پر پناہ لینے کے لیے ا جاتے ہیں یہ جنگل بہت خوبصورت اور حسین ہے یہاں پر بے انتہا قیمتی لکڑی کے کے درخت بھی ہیں جو کہ پاکستان کے لیے فائدے کا باعث ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ربیع الاول کا مبارک مہینہ مسلمانوں کی زندگی میں بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تاریخ پیدائش کے حوالے سے تو اختلاف ہے مگر مہینہ ربیع الاول کا ہی ہے لیکن تاریخ وفات پر سب کا اتفاق ہے کہ اپ سلام 12 ربیع الاول کو اس دنیا فانی سے پردہ فرما گئے کچھ محققین کے مطابق نو ربیع الاول پیدائش کا دن ہے
کیا ہم لوگ صحابہ کرام سے زیادہ اپنے نبی سے محبت کرتے ہیں صحابہ سے زیادہ قدر اور محبت تو ہم کر ہی نہیں سکتے کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی یا دیگر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہا سے زیادہ محبت ہم کر سکتے ہیں کہ اپنے نبی سے نہیں کبھی نہیں۔
جب صحابہ کرام نے عید میلاد النبی نہیں منائی تو پھر ہم کیوں اس دن کو اتنی شان اور اتنی جوش و خروش سے مناتے ہیں اگر دیکھا جائے تو 12 ربیع الاول تو ہمارے نبی کی وفات کا دن ہے تو کیا اس دن اتنے ڈھول تاشے یا اتنی خوشی منانا بنتا ہے اور ویسے بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہہ وسلم نے ہمیں سادگی کا درس دیا ہے کسی بھی طرح فضول خرچی اور اسراف سے منع فرمایا ہے۔
اس دن گلیوں کو سجایا جاتا ہے اور بے شمار پیسے کا ضیا کیا جاتا ہے اور جو سب سے خوبصورت گلی سے جاتا ہے اس کو باقاعدہ انعام دیا جاتا ہے اور یہی چیز ٹی وی چینل پر دکھائی جاتی ہے تو اگلے سال دیکھا دیکھی دوسرے محلے کے لوگ بھی پیسے کا پےجا اسراف کرتے ہیں اور گلیوں کو سجاتے ہیں اور اگر اسی چیز کو ہماری ریاست دیکھے اور منع کرے اگر منع نہ بھی کرے تو کم از کم اس کی پبلسٹی نہ کرے اس کو اتنا ہائی لائٹ نہ کرے تو یہی پیسے کسی غریب بچی کے شادی بیاہ کے کام ا سکتے ہیں کسی غریب کا گھر کا خرچہ چلانے کے کام ا سکتے ہیں اسی پیسوں سے مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈالا جا سکتا ہے کیا یہ بہتر ہے یا وہ پیسہ جو ہم ایک دن کے لیے گلیوں کو سجا کر ضائع کرتے ہیں وہ بہتر ہے ہمارے مذہب میں فضول خرچی اور اسراف سے منع کیا گیا ہے ہم لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ ہمیں اپنے مذہبی دن کو کس طرح سے منانا ہے
حق تو یہ ہے کہ اس دن مسجدوں میں نوافل پڑھے جائیں عبادت کی جائے اور اپنے نبی کے نام پر درود پڑھا جائے۔اور اپنے مذہبی تہوار کو مذہبی انداز میں منایا جائے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سوال۔ 6 ستمبر کو کیا ہوا تھا؟
اج میں نے کچھ لوگوں کا انٹرویو کیا اور مختلف عمر لوگوں سے پوچھا کے ۔
سوال۔ 6 ستمبر کو کیا ہوا تھا؟
کسی نے جواب دیا کہ اس دن قائد اعظم پیدا ہوا تھا۔اور کچھ بچوں نے بتایا کہ اس دن پاکستان بنا تھا۔اور کسی نے کہا کہ سانحہ پشاور بم بلاسٹ ہوا تھا۔الغرض لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ اس تاریخی دن کی اہمیت کیا ہے کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو اپنی تاریخ یاد ہی نہیں اگر انہی نوجوانوں سے فلمی ایکٹریس کا پوچھا جائے تو یہ ہمیں ان کی پوری انفارمیشن دیں گے کہ وہ کس کی بیٹی ہیں کس سے اس کی شادی ہوئی اور اس نے کتنی فلموں میں کام کیا۔
مگر ہماری نوجوان نسل یہ نہیں جانتی کہ ہم پاکستانیوں کی بقا کے لیے کتنے لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی اور کتنے خاندانوں کے چشم و چراغ مٹی تلے جا سوئے اور کن کن لوگوں نے اس ملک کو بنانے کے لیے اس کی بنیادوں میں اپنا خون بہایا اپنے بچوں اپنے ماں باپ اور اپنے پیاروں کو قربان کیا
۔6 ستمبر 1965 او یوم دفاع بھی کہا جاتا ہے۔6 ستمبر 1965 کی صبح تک کسی کو پتہ بھی نہیں تھا کہ اس دن بھارت کی فضا میں اللہ اکبر گونج اٹھے گا یہ دن بہادری اور جرات کا نشان بن جائے گا صبح صبح صدر پاکستان ایوب ریڈیو پاکستان پر خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے ہم وطنوں پاکستان کو اس وقت کڑے وقت کا سامنا ہے بھارت نے لاہور کی طرف سے حملہ کیا ہے۔صدر پاکستان کا یہ خطاب سن کر پاکستانیوں کے دل جوش سے بھر گئے اور سارے پاکستان میں ایک سنسنی پھیل گئی اس وقت پاک فضائیہ کے بہادر پائلٹ ایم ایم عالم نے سرگودھا کے مقام پر ایک ہی منٹ میں بھارت کے پانچ جنگی تھنڈر تیاروں کو دھول چٹا دی اور یہ کارنامہ ورلڈ گینز بک میں بھی ریکارڈ ہے میجر طارق عزیز بھٹی کی قیادت میں فوجیوں نے دشمن کے بھرتے ٹینکوں کے سامنے اپنے جسموں کی فصیل کھڑی کر دی اور اپنے جسموں پر بارود باندھ کر 120 ٹینکوں کو تباہ کر دیا اور لال شاستری ہندو کہ اس خواب کو چکنا چور کر دیا کہ میں لاہور کے جم خانے کی چھت پر بیٹھ کر بغیر ویزے کے ناشتہ کرنا چاہتا ہوں یہ جنگ 17 دن جاری رہی اور بہا رات کے سینکڑوں ٹینکوں اور جنگی جہازوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور بھارت کے پانچ ہزار فوجی جوان واصل جہنم ہوئے۔
۔۔ ۔۔ ہڈیارہ سے لے کر کھیم کرن تک۔۔۔۔
۔۔۔چوانڈا سے لے کر پلواڑے تک ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ بھاگا بارڈر سے لے کر جام نگر تک۔۔۔
۔۔۔۔۔ بی ار بی نہر سے لے کر دیوارکہ کے قلعے تک۔۔۔۔
ہر طرف پاک فوج کی فتح کا پرچم لہرا رہا تھا اور یہ عظیم دن ہمیں اپنے پیاروں کی جرات بہادری کی داستان سنا رہا ہے اور شہیدوں غازیوں اور ہمارے باوجدار کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اج ہم انہی کی وجہ سے ازاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔جو قومیں اپنے شہیدوں کی قدر نہیں کرتی وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرتی اور کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس دن کو جانتی نہیں حق تو یہ بنتا ہے سکولوں میں کالجوں میں ٹی وی پر اس دن کو بڑے اہتمام سے منایا جائے اور اپنے بچوں کو یہ بتایا جائے کہ اس دن کو مناتے کیوں ہیں یہ نہیں کہ بس اس دن کو چھٹی دے دیں اور بچے یہ کہیں کہ اس دن چھٹی ہوتی ہے انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کیوں چھٹی ہوتی ہے اس دن کی قدر کیا ہے اہمیت کیا ہے۔
جب بھی گھیرا تجھے ظلمتوں نے کبھی
مشال جاں لیے ہم مقابل رہے
ہم نے مر کے تجھے سرخرو کر دیا
ہم بھی شہیدوں میں تیرے شامل رہے۔۔
پاکستان زندہ باد
پاک فوج زندہ باد
۔۔۔۔ سحر نسیم سحر۔۔۔
……………………………………..
معاشرے میں***مرد**کی اہمیت
مرد کی مثال۔ٹین کی چھت جیسی ہے۔کہ جب بارش برستی ہے تو اواز پیدا کرتی ہے اسی طرح اگر کوئی چیز اس کے اوپر گرے تو بھی ٹھاہ ٹھاہ کی اوازیں پیدا کرتی ہے۔اور اس کے نیچے بیٹھے لوگ بیزار ہوتے ہیں کہ کیا ہے ہر وقت آواز ہی آواز اف۔۔۔ اسی طرح مرد حالات کی سنگینی گرمی سردی دھوپ اور لوگوں کی جلی کٹی باتیں اور اپنے باس کی ڈانٹ سنتا ہے۔اور اپنے گھر والوں کے لیے تمام سہولیات فراہم کرتا ہے مگر گھر میں موجود بچے بیوی ہر وقت یہ کہتے نظر اتے ہیں کہ کیا مصیبت ہے جب یہ بندہ گھر آ جاتا ہے تو بلا وجہ بولتا رہتا ہے بولتا رہتا ہے۔بیوی الگ ناراض رہتی ہے کہ اس کا شوہر اسے ناجائز بعد میں بات لڑتا جھگڑتا ہے اور ہر وقت کسی نہ کسی بات پر بولتا ہوا نظر اتا ہے۔
عورتیں کبھی مرد کے مسائل سمجھ ہی نہیں سکتی ان کو اسائش اور ارام دینے کے چکر میں مرد بیچارہ پس کر رہ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اج کل ہارٹ اٹیک دیگر بیماریاں مردوں کو زیادہ ہیں کیونکہ سوچ سوچ کر وہ وقت سے پہلے بوڑھے ہو جاتے ہیں اور یہی سوچیں انہیں وقت سے پہلے قبر تک لے جاتی ہیں مردوں کی عمریں اسی وجہ سے کم ہیں اور اس وقت بیوہ عورتوں کی تعداد زیادہ ہے پھر بھی عورتیں اپنے مردوں کی تعریف کی بجائے چغلیاں کرتی نظر اتی ہیں اور اپنے شوہروں سے خوش نہیں ہیں۔
**** ایک روایت ہے کہ جہنم میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی***
اور یہ وہی عورتیں ہوں گی جو اپنے شوہروں کی قدر نہیں کرتی بلا وجہ جھگڑا کرتی ہیں نافرمان عورتیں ہیں چغل خور ہیں اور اپنے شوہروں کی برائی کرنے والی ہیں اور وہ ان کے عیب جو ان میں نہیں بھی ہیں وہ بھی گنواتی ہیں
اگر دیکھا جائے تو مرد بیچارہ دن بھر کام کاج کر کے گھر اتا ہے سکون کی تلاش میں حق تو یہ بنتا ہے کہ اس کی بیوی بن سنور کر اس کا خوش دلی سے استقبال کرے اور اس کے گھر کو جنت کا گہوارہ بنائیں تاکہ وہ کل کے لیے تازہ دم ہو کر دوبارہ کام کر سکے مگر ایسا شاید ہی کسی گھر میں ہوتا ہوگا اللہ کرے اللہ ہماری بہنوں کو توفیق دے کہ وہ اپنے گھر کو جنت کا گہوارہ بنائیں شکریہ
سحر نسیم سحر
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
جہیز ایک لعنت
مثل مشہور ہے۔،*, جس نے بیٹی دے دی اپنے جگر کا ٹکڑا دے دیا اس نے سب کچھ دے دیا*
بیٹی والے اپنے جگر کا ٹکڑا دے دیتے ہیں اور ساتھ میں لاکھوں کا جہیز بھی اور لڑکے والے صرف لڑکا لے کر اور بے شمار لوگوں کا میلہ لے کر لڑکی والوں کے گھر ا جاتے ہیں جس کو بارات کہا جاتا ہے اور پھر ساری عمر کے لیے ایک بے زبان باندی ساتھ لے جاتے ہیں اور بیچاری لڑکی ساری عمر اپنی ساس نندوں کی خدمت کرتی ہے مگر پھر بھی سسرال والوں کے منہ سیدھے نہیں ہوتے بات پہ بات لڑنا جھگڑنا اور اپنی بہو کو جہیز کے طعنے دینا ہمارے معاشرے میں ایک عام سی بات ہے۔حالانکہ ان کی اپنی بھی بیٹیاں ہوتی ہیں مگر پھر بھی لڑکے والے خود کو نا خدا سمجھ بیٹھتے ہیں۔اسی لیے ہمارے معاشرے میں بے شمار لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی رہ جاتی ہیں کیونکہ ان کی ماں باپ کے پاس لاکھوں کا جہیز دینے کے لیے وسائل نہیں ہوتے۔اور اج کے دور میں کوئی بھی جہیز کے بغیر اپنے بیٹے کو بیانے کے لیے تیار نہیں ہے اگر یہ کہا جائے کہ لڑکے والے اپنے لڑکے کی قیمت لگاتے ہیں تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔
اور ویسے بھی لڑکا جیسا بھی ہو کام نہ کرتا ہو واجبی سی شکل صورت ہو مگر لڑکی ان کو حور چاہیے اور انتہائی امیر گھر کی چاہیے جہیز کی خاطر اپنے بیٹے کو کیش کروانے کے لیے بے شمار لڑکیاں دیکھ دیکھ کر ریجیکٹ کرتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں نہ جانے کیوں یہ جہیز کی لعنت ختم ہی نہیں ہو رہی اسی وجہ سے نوجوان نسل بیرا روی کا شکار ہو رہی ہے
*قران پاک میں ہے کہ نکاح کو عام کرو تاکہ زنا اور بے حیائی کی لعنت سے بچا جائے*
ہم سب کا یہ فرض ہے کہ ہم سب مل کر جہیز کے خلاف کوئی مہم چلائیں اور حکومت کو بھی اس بارے میں اقدامات کرنے چاہیے تاکہ غریب ماں باپ اپنے فرض سے فارغ ہو سکیں اور اپنی بیٹیوں کو اپنے گھر میں ودا کر سکیں اور سکون کا سانس لے سکیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ٹک ٹاک اور معاشرے کا بگاڑ
پہلے ہمارے گھروں میں بچیاں کسی کے سامنے انے سے شرماتی تھیں۔اور یہاں تک کہ جب ان کے باپ اور بھائی گھر اتے تو ان کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہیں اتی تھیں۔اور بڑوں کے ساتھ بیٹھنے سے بھی ہچکچاتی تھیں۔ان کے دلوں میں بڑوں کا ادب احترام تھا۔اور اگر وہ کوئی ڈرامہ یا فلم دیکھ رہی ہوتیں تو فورا بند کر دیتں۔
مگر اب یہ حال ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں ہماری بیٹیاں اپنے بڑوں کے سامنے ٹک ٹاک بنا رہی ہیں نہ صرف بنا رہی ہیں بلکہ اپنی ٹک ٹاک میں ناچتی گاتی ٹھمکے لگاتی نظر ارہی ہیں۔اور پھر بڑے مزے سے اپنے باپ بھائی کو دکھاتی ہیں اور وہ بھی بہت خوش ہوتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ میری بیٹی کے اتنے فالوورز ہیں۔
حالانکہ یہ کام پہلے مخصوص طبقے کی عورتوں کا ہوتا تھا ناچنا گانا مردوں کا دل بہلانا۔مگر اب ہماری بے انتہا شریف عورتیں جو کہ نانی دادی کے مرتبے کو پہنچ چکی ہیں وہ بھی ٹک ٹاک میں ناچتی گااتی نظر اتی ہیں۔اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا انتہائی اہم ہو چکا ہے ہماری زندگیوں میں۔اب یہ تو ہم لوگوں پہ ڈیپینڈ کرتا ہے کہ ہم اس کو کیسے استعمال کرتے ہیں غلط یا ٹھیک۔
کیا یہی ہیں وہ ترقی جس کی ہم نے خواب دیکھے تھے۔نہیں یہ تو قیامت کی نشانیاں ہیں کہ گھر گھر میں ناچ گانا ہوگا۔سوچنے کی بات ہے کہ اس سب کو کیسے روکا جائے کیا یہ صرف ہمارے ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دیکھیں میرے خیال میں یہ ہماری ریاست کا بھی فرض ہے کہ اگر ایسی کوئی ایپ ہمارے بچوں کو بگاڑ رہی ہے ان کا مستقبل تباہ کر رہی ہے تو اس کے لیے کوئی سینسر بنایا جائے اور دھیان رکھا جائے کہ ہمارے بچے ترقی کی طرف تو جائیں تباہی کی طرف نہیں اور بچوں کے لیے کوئی ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جس سے وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے ملک و قوم کی ترقی میں کام ائے۔
لکھاری۔۔
سحر نسیم سحر۔۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اللہ کے نزدیک طلاق قبیح ترین فعل ہے
پرانے وقتوں میں ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ جب کسی کو طلاق ہوتی تو لال اندھی چڑھتی تھی۔اور عرش کے کنگرے ہل جاتے تھے کتنے معصوم لوگ تھے حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ا اس وقت زیادہ تر مائیں ان پڑھ تھیں۔مگر وہ اپنے بچوں کی تربیت بہت اچھی طرح کرتی تھیں۔اپنی بیٹیوں کو زندگی کی اونچ نیچ سمجھاتی اور انہیں ہماری روایات اسلامی اقدار اور انسانیت کا درس گھر سے ہی اپنی ماؤں سے ملتا تھا۔جب کہ اس دور میں نہ تو اس قدر سکول تھے نہ کالج اور نہ یونیورسٹیز۔۔مگر ہماری مائیں سمجھدار اور عقلمند تھیں۔
کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ گھرداری کیسے چلانی ہے اور سب کو ساتھ لے کر کیسے چلنا ہے اس دور میں طلاق کی شرح بہت کم تھی رشتوں کا احترام اور تقدس تھا لڑکیوں میں شرم و حیا اور برداشت کا مادہ تھا جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی تو اس کی ماں اسے سمجھا کر بھیجتی کہ بیٹا اپنی ساس کو ماں سمجھنا نند کو بہن سمجھنا۔اور اپنے شوہر کی عزت کرنا اپنے گھر کو بسانا چھوٹی چھوٹی باتیں لے کر جھگڑا نہ کرنے بیٹھ جانا اور نہ ہی چھوٹی چھوٹی باتوں کے ایشو بنانا۔اج کے دور میں جب کہ سکول کالج یونیورسٹیز بے شمار ہیں اور جگہ جگہ پر مدرسے ہیں پڑھنے کے لیے بہت سے مواقع ہیں مگر کیا ہوا اج کے دور میں ہمارے بچے بہت پڑھے لکھے ہیں ہماری مائیں بہت پڑھی لکھی ہیں مگر یہ سب تعلیم یافتہ ہیں ان کے پاس علم کی کمی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اج کے دور کی مائیں اس قدر سوشل ہو گئی ہیں کہ ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔اپنی بچیوں کو سمجھانے کا ان کی تربیت کرنے کا اور انہیں زندگی گزارنے کا طریقہ بتانے کے لیے۔اور ہمارے بچے جو دیکھیں گے وہی کریں گے بیٹا ہمیشہ اپنے باپ کی کاپی کرتا ہے اور بیٹیاں ہمیشہ اپنی ماؤں کو دیکھتی ہیں۔جب ہر وقت گھر میں ماں باپ لڑتے جھگڑتے ہیں اور میاں بیوی ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے قدر نہیں کرتے تو پھر ہم کیسے یہ امید رکھیں کہ ہمارے بچے سیدھے راستے پر چلیں گے اور ایک ائیڈیل لائف گزاریں گے بچے تو وہی کریں گے جو اپنے ماں باپ کو دیکھیں گے یہی وجہ ہے کہ اس دور میں طلاق کی شرح بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ ہم لوگوں میں اتنی برداشت ہی نہیں ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو اگنور کر سکیں۔
بلکہ ہم تو چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں ہر عورت نام نہاد ازادی کے نام پر اپنا گھر برباد کر رہی ہے اور ہمارا معاشرہ بےراہ روی کا شکار ہو رہا ہے۔مگر ہم سب غفلت کی نیند سو رہے ہیں ابھی بھی وقت ہے خدارا اس غفلت کی نیند سے اٹھ جائیں اپنی اقدار کو پہچانیں روایات کو سمجھیں۔اور اپنے انے والی نسلوں کی زندگیوں کو تباہ ہونے سے بچائیں۔اپنی بیٹیوں کی اس نہج پر تربیت کریں کہ وہ اپنی زندگیوں کو خوشگوار بنائیں اور معاشرے کے اس بگاڑ کو روک سکیں۔طلاق بہت بری چیز ہے ازادی کے نام پر یہ ایک دھبہ ہے اور اس دھبے کو مزید بڑھنے سے روکیں یہ سب تبھی ہوگا جب ہماری مائیں اپنی بیٹیوں کو وقت دیں ان کو سمجھا سکیں اور اس نام نہاد ازادی کو حاصل کرنے کے لیے اپنی زندگی تباہ نہ کریں تحمل پیدا کریں بردباری پیدا کریں اپنے رویوں کو بہتر کریں۔
عورت ہی سے تو۔۔۔
حسن ہے زمانے میں۔
جیسے مرد کو مہارت ہے
گھر کو چلانے میں۔
لکھاری۔۔۔۔۔۔۔
سحر نسیم سحر













