کاش مسلمان ہر دن ” انسانیت ڈے ” کی بنیاد رکھتا ۔ تحریر ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

1
428

تیرہ دسمر کو عید میلادلانبی تھا ۔۔ ہر طرف جشن تھا ۔۔ جلوس تھا کہ چکوال میں جلس کے شرکاء نے فرقہ احمدیہ کی مسجد کو آگ لگا دی جو یقیننا قابل مذمت بات تھی ۔ اس پر میں فیس بک جیسے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے اپنی انسان دوستی کو آگے بڑھانے کے واسطے ایک پوسٹ لکھی جو کچھ یوں تھی ۔۔

“ دنیا کی بڑھتی ہوئی بدصورتی سے تنگ آ کر یونائیٹڈ نیشن نے 19 اگست 2009 کو پہلا

” International Humanity Day “

کا آغاز کیا ۔
پاکستانیوں کو 1978 سے 1988 کے ضیائی دور سے مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے یرغمال بنانا شروع کر رکھا ہے ہے۔ تقریبا اسی وقت سے پاکستان سے humanity (انسانیت ) کی ہجرت کا آغاز ہوا اور انتہا یہ ہے کہ آج کل ” نبی جی ” کے کھاتے میں اپنی ہر شیطانی حرکت ڈال دیتے ہیں ۔
نبی پاک کا کوئی فرمان کسی مستند اور متفقہ بتا دیجئے جس میں اقلیتوں کے گھروں ، عبادت گاہوں کو جلانے ، انہیں دھتکارنے اورایذا دینے کو کہا گیا ۔۔ حالانکہ اگراقلیتوں سے کوئی غلطی سرزد بھی ہوئی تو حضور پاک نے صرف اس جگہ سے کوچ کر جانے کو کہا ۔۔۔
کیا ستم ہے کہ آپس کا اخلاق اب مذہب کی قید میں رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش مسلمان ہر دن ” انسانیت ڈے ” کی بنیاد رکھتا “
۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد کیا ہوا ہوگا ۔۔ آپ کو محترم صفدر ہمدانی کے اس تبصرے سے سمجھ آ جائے گا ۔۔ انہوں نے احباب کے تیز ترش جملوں کا جواب دیتے ہوئے لکھا “
احمدیت اور انسانیت میں فرق کیجئے۔ ہم مین سے کسی نے بھی احمدیت کی حمایت نہیں کی ہم نے انسانیت کی بات کی ہے۔ آپ سمیت کسی کو نہ یہ حق حاصل ہے اور نہ کسی دینی قانون نے یہ اجازت دی ہے کہ آپ صرف اس لیئے کسی کو قتل کر دیں، انکی عبادت گاہ کو آگ لگا دین کہ آپ انکو اپنی طرح کا مسلمان نہین سمجھتے۔ کون بہتر مسلمان ہے اور کون کملہ گو ہونے کے باوجود حقیقت میں مسلمان ہے بھی یا نہین یہ صرف اللہ پاک جانتا ہے۔ آپکو محمد کی شفاعت نصیب ہو گیا یا نہیں اسکا فیصلہ بھی آپکو نہیں کرنا اللہ ، اسکے رسول اور آل رسول نے کرنا ہے “

پھر بات مذید بگڑ گئی اور ایک انسانیت اور حق بات دو فرقوں میں بٹ گئی ۔۔ جو حمایت کریں تو بھی احمدیت کے حمایتی کافر کہلائے ۔ اور دوسری طرف وہ تھے جو خود کو رسول پاک کی شفاعت کے حقدار سمجھنے والے تھے ۔۔ آخر مجھے اپنا موقف ایکبار پھر دہرانا پڑا ۔۔ میں نے لکھا ۔۔

“ دنیا میں سات اعشاریہ پانچ بلین لوگ رہتے ہیں جن میں ایک اعشاریہ چھ بلین مسلمان ہیں جو عیسائیوں کے بعد یعنی 2۔2 بلین کے بعد ہے اور ایک اعشاریہ صفر آٹھ بلین ہندو ہیں جبکہ 13 فیصد لوگ اللہ پاک کو سرے سے مانتے ہی نہین ۔۔۔ اور 23 فیصد مسلمانوں میں سے بڑھتا ہوا ATHEISM یہ بتانے کو کافی ہے ہمیں مذہب پیارا ہے دین نہیں ۔ دیں ہمیں انسانیت سکھاتا ہے ۔۔ ایک دوسرے کو مذہب سے بالاتر ہو کر سوچنا سکھاتا ہے ۔۔ جو انسانیت کا ماننے والا ہے وہی محمد صلی اللہ۔والہ وسلم کی تعلیمات کا وارث ہے ۔

مکہ مکرمہ جب جنگ کے فتح ہوا تو فتح مبین کہلاتی ۔۔ اس مکہ میں یہودی بھی تھے ۔۔ عیسائی بھی تھے اور ہندو بھی ۔۔۔ اور آج کا مکہ ہے جہاں امریکی تو رہ سکتا ہے لیکن ایک عام عیسائی نہیں ۔ ۔

۔ مذہب آپ کی پہچان نہیں ہے مسلمانوں ۔۔۔ ہماری پہچان ہمارا دین اسلام ہے ۔۔۔ مذہب اور مسلک تو رستے ہیں ۔۔ اگر آپ لوگ راستوں میں رہنا چاہتے ہیں رہیئے ۔۔۔ میں اس معاملے میں انسانیت کی داعی ہوں اور اسی تعلیمات کی جس رسول پاک اور ان کی آل مبارک تھی ۔۔۔

محترم صفدر ہمدانی میں آپ سے شرمندہ ہوں آپ کو میری پوسٹ پر دلی تکلیف پہنچی ۔۔پر آپ ہی تو کہتے ہیں فیس بک نیٹ ہائیڈ پارک ہے ۔۔جس کا جو دل چاہے بول جائے ۔۔ پر جو لوگ نظریاتی ہوتے ہیں انہیں ایسی تکلیفوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔

رہی بات میری تو مجھے اپنا مشن عزیز تر ہے ۔۔ میں مولا حسین کی ماننے والی ہوں مظلوم کی داد رسی اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کو خود پر فرض جانتی ہوں ۔۔ اس لیئے کہ کربلا میں مولا حسین کے ساتھ عیسائی بھی تھے ۔۔ ہندو بھی ۔۔۔ پر انہیں شہید مسلمانوں نے ہی کیا تھا ۔۔۔ احمدی کیا ہیں کیا نہیں ہیں مجھے اس سے کچھ نہیں لینا دینا ۔۔۔۔ میرے پاس جب وہ دوا لینے آئیں گے میں اپنی کوشش میں بڑھ کر ان کی صحت کے لیئے کوشش کرونگی ۔۔۔ انہیں بے جا تکلیف پہنچائی جائے گی میں اس کی مذمت کرونگی ۔۔ یہی سلوک میں عیسائیوں کے ساتھ اور ہندون یہودیوں ۔۔ حتی کے اپنے بدترین دشمن کے ساتھ بھی کرونگی ۔۔۔ اس لئے کہ مجھے اللہ پاک کی ہر مخلوق سے پیار ہے ۔۔ مجھے ان سے امید ہے وہ ضرور ایک روز میرے خدا اور اس کے رسول جو جو رحمۃالعالمین ہیں انہین پہچان لیں گے ۔۔۔

کچھ تو سوچئے وہ جو رحمت لقب پانے والے بھلا کیسے کسی کی برا کہہ سکتے تھے یا انہیں آخری نبی نا ماننے پر مار دیتے کا حکم دیتے یا خود مار دیتے ۔۔۔

آخری بات یہ کہنی ہے کہ عالم اسلام میں امن احمدیوں کو ختم کر دینے سے یا شعیوں کی نسل کشی سے یا وہابیوں کے لیئے زمین تنگ کرنے سے ہر گز نہین آئے گا ۔۔۔ عالم اسلام میں امن چین سکوں مسلکی عینک کے بغیر دین اسلام کے مطالعے سے آئے گا اور سنی سنائی باتوں اور تبصروں سے دور ہونا ہوگا ۔۔ خود سے سوچنا ہوگا کیا میرے نبی ایسا کر سکتے تھے یا نہیں ۔۔۔

دوستو ۔۔ میرے عزیزو نئی سوچ کے لیئے پرانی سوچوں کو ختم کرنا پڑتا ہے ۔۔ “

لیکن عزیز دوستو ۔۔ بات پھر بھی ختم نا ہو سکی ۔۔ اور تنازعہ بڑھتے ہوئے حلب کے جاں بلب مسلمانوں تک آ پہنچا کہ سنیوں کو شعیہ مار رہے ہیں ۔۔ چلیئے اگر یہ سچ بھی ہےتو سیریا کے پناہ گزینوں کو مسلمان میں سب سے امیر چھ ممالک ( سعودی عرب ، قطر ، بحرین ، کویت ، عرب امارات ، دبئی ) نے اپنے ہی سنی بھائیوں کو پناہ دینے سے کیوں انکار کیا ۔۔ ؟ پر اس بحث کے بعد بھی میری بات کسی تک ن اپہنچی کہ آدمی اور انسان میں فرق ہے ۔۔ انسان پہلے پیدا ہوا بعد میں دین مذہب کی مالا پہنائی گئی ۔۔ تب بھی کچھ نا بن پڑا تو میرے کہنے کے باوجود کے اس پوسٹ پر مذید تبصرے نہیں ہونگے پھر بھی تبصرہ نگاروں نے دہائی مچائی رکھی اور اپنے فتوں سے حمایتی تبصرہ نگاروں کو دین کی اصلاح کرنے کی نوید سنا دی اور تجدید ایمان کو کہا گیا ۔۔ مجھے لکھنا ہی پڑا ۔۔

میں نے جب یہ لکھ دیا تھا کہ مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا تو آپ سب کو میری بات کا احترام کرنا چاہیئے تھا ۔۔۔۔۔میں اس پوسٹ پر مذید کوئی تبصرہ نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے یہ گفتگو نا تو فساد پھیلانے کے لیئے کی تھی اور نا احمدیت کی مخالف یا حمایت میں اور نا ہی کسی قسم کے فتوے بازی کے لیئے لگائی تھی ۔ اب تک کے تمام تبصروں کے بعد ہر تبصرہ نگار کی سوچ اور فکر سامنے آ چکی ہے تو ایک ہی لکیر کو بار بار کیوں پیٹ رہے ہیں ۔

مجھ سمیت آپ سب میں نا تو کوئی عالم کی تعریف پر پورا اترتا ہے اور نا ہی ہمارا دینی علم کامل ہونے کے قریب تر ہے ۔ نا ہی ہمارا ان تمام باتوں کا مکمل مطالعہ ہے جن پر ہم گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے ہیں یہ جانے بغیر کہ ہم میں سے کون کتنا پڑھا لکھا ، صائب الرائے اور بات کا بہتر تجزیہ کرنے والا ہے ۔ کیا ستم ہے کہ ہم صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں اور صرف ایک دوسرے کی دل آزاری کر رہے ہیں ۔

مجھے بھی علم ہے کہ تبصروں میں اسی فیصد مواد حضرت علامہ گوگل کا ہی عطا کردہ ہے ۔ کیا کریں کہ یہ گوگل بھی کافروں ہی کی ایجاد ہے ۔ ہم ایسی چیز تو کیا ایجاد کرتے ہمیں تو ان کافروں کی ایجاد کا استعمال بھی صحیح طرح کرنا نہیں آیا ۔۔ ہم مجموعی طور ناشکرے اور احسان نا ماننے والوں میں سے ہیں ۔ جنہوں نے اپنے رسول کا ، ان کی آل کا ، ان کے با وفا اصحاب کا اور ان کی راہ پر چلنے والوں کا احسان نا مانا تو وہ اور کس کا احسان مانیں گے ۔

مجھ جیسی سوچ کے حامل لوگ جو نا سنی ہے نا شعیہ نا بریلوی اور نا ہی کسی اور قسم کے مسلک سے تعلق اور نا ہی کسی منفی اثرات کے حامل ہیں ۔ ہائے چودہ سو سال سے ہمیں مل کر رہنا ہی نہیں آیا ۔ ادھر اللہ کے رسول کی آنکھیں بند ہوئیں ادھر مسلمانوں میں تقسیم کا عمل ایساشروع ہوا کہ آج تک رکنے میں نہیں آرہا ۔ اس سے کون انکار کرے گا کہ پاکستان کی دیواریں کافر کافر فلاں کافر کے نعروں سے بھری پڑی ہیں ۔ آپ میں سے کون انکار کرے گا جنہیں کوئیٹہ میں بسوں سے اتار کر بے دردی سے ہلاک کیا گیا وہ کلمہ گومسلمان تھے اور انہیں گولیاں مارنے والے بھی مسلمان ہی تھے ۔۔ اور یہ سلسلہ کربلا کے میدان سے جا ملتا ہے ۔ مجھے کبھی کبھی نہیں بلکہ تاریخ اسلام کے ان ابواب کو پڑھتے ہوئے ہر وقت کی شرمسار رہتی ہے کیونکہ ان ابواب کو ہم اپنی تاریخ سے نہیں نکال سکتے ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کیا کربلا کاواقعہ بھی یہودیوں کی سازش تھی ۔۔ ؟ اس میدان میں موجود کسی ایک کافر کا نام بتا دیں تو میں بتانے والے کے ہاتھ پر بعیت کر لوں ۔

قران میں ایک بار نہیں درجنوں بار یہ بات عام آدمی کے لیئے بھی اور اپنے نبیوں ٰ کے لیئے بھی آئی ہے کہ تم میں سے بعض کو بعض پر فوقیت ہے ۔۔۔۔ ۔ لیکن اس فوقیت کے پیمانے مختلف مقامات پر مختلف ہیں ۔ حضرت عمر فاروق رض سمیت اسلام کے لیئے ایک لمحے کے لیئے بھی خدمت کرنے والے پر میرے ماں باپ نثار اور ایسی خدمات اللہ کے حبیب کے ہر باوفاصحابی نے اپنے اپنے وقت میں اپنے اپنے طور پر انجام دیں ہیں ۔
کیا یہ عدل کا تقاضا نہیں ہوگا کہ آج جس بلب کے نیچے ہم اور ہمارے بچے کتابیں پڑھتے ہیں ۔۔ آج جن بیماریوں کے لیئے ہسپتالوں میں ہم جوٹیسٹ کروانے جاتے ہیں ۔۔۔ جن طبی مشینوں کو استعمال کرتے ہیں ہیں ۔۔ جہاز پر حج زیارت عمرے کے لیئے جاتے ، ہروقت ٹرینوں میں شہر در شہر سفر کرتے ہیں ۔۔ پولیوجیسے موضی مرض کے خاتمے کے لئے قطرے پلائے جاتے ہیں ۔۔ دلا کے آپریشن کا آسان تر طریقہ جات ۔۔کینسر کا علاج دریافت ہونے کو ہے اور ایسے ہی انسانیت کی فلاح و بقا کے لیئے کام کرنے والوں کی بھی تعریف کریں اور ان کے احسانمند رہیں نا کہ انہیں کافر کہہ کر ان کے کام کو رد کر دیں ۔

میں بار بار لکھ کر تھک چکی ہوں لیکن جب تک سانس ہے لکھتی رہونگی کہ اللہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ وہ ان جہانوں اور کائیناتوں کا بھی خدا ہے جوآپ کی آنے والی ستر نسلوں کے گمان میں نہیں ہوگا ۔۔ اسی طرح اللہ کے حبیب بھی صرف مسلمانوں کے نہیں ہیں بلکہ ان تمام کائیناتوں میں بسنے والے انسانوں اور زی روح کے بھی نبی ہیں اس لیئے انہیں رحمت العالمین کہا گیا ہے ۔ یہ ان کے لیئے بھی رحمت ہیں جنہیں آپ کافر کہتے ہیں ۔ میں ایسے اسلام کو نہیں مانتی جو جانوروں کے حقوق کے تحفظ پر تو درس دیتا ہو لیکن انسان کی عزت و تکریم سے عاری ہو ۔۔۔

نہیں ۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔ایسا نہیں ہے ۔۔ تو ثابت ہوا یہ مسلہ اسلام کا نہیں بلکہ مسلمان کا ہے ۔۔

میں نے بلکل شروع میں یہ کہہ دیاتھا کہ احمدیت پر بات نہیں کرنی بلکہ ہمیں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی بات کرنی ہے ۔۔ زرا سوچیں جو آپ کسی کی عبادت گاہ کو جلائیں گے تو کیا وہ آپ کی عبادت گاہ کوچھوڑ دے گا ۔۔ نہپیں نا ۔۔ تو قران کی آیت صحیح ہوگئی نا کہ“ کسی کے جھوٹے خدا کو برا نا کہو کہ کہیں وہ تمہارے سچے خدا کو برا ناکہہ دیں “ ۔۔۔

میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے پر میرے ہاتھ لرز رہے ہیں ۔۔ میری زبان میں میں لکنت آرہی ہے ۔۔ میری نبضیں رک رہی ہیں ۔۔ میری بازو شل ہو رہے ہیں ۔۔ میرے ہونٹ نیلے ہو رہے ہیں ۔ کانوں میں سیٹیاں بج رہی ہیں ۔۔ ہائے میں کتنی بدقسمت ہوں کہ میں جس دین میں ہوں اس دین کو اللہ نے خود دمیرے لیئے پسند کیا لیکن میرے ارد گرد کے لوگ اللہ کے اس فیصلے کو ماننے کی بجائے میرا فیصلہ خو دکر رہے ہیں کہ “ میں مسلمان ہوں کہ نہیں ۔۔“ ۔۔

یاد رکھئے مجھے آپ کی سند کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔ مجھے کسی کی طرف سے کسی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ میں اس ماں سے جنمی ہوں جس نے مجھے انسان ہونا سکھایا ۔۔انسانیت کی اساس اپنے عمل سے سمجھائی ۔۔ جس نے مجھے آل رسول کی محبت عطا کی ۔۔ ہر دین سے محبت کا درس دیا۔۔ حتی کہ مجھے دشمن کی عزت کرنے کا درس دیا ۔۔

میری تعلیم نے ، میرے مطالعے نے ، اپنے سے زیادہ باعمل لوگوں کی صحبت نے اور طالب علم ہونے کے فخر نے میری سوچ کو ساکت نہیں ہونے دیا بلکہ زہنی سفر کی راہیں متعین کیں ۔۔ میری سوچ نے مجھے یہ یقین دیا کہ جو بات میری دانست میں درست ہو اور معیار رسول پر پوری اترتی ہو تو میں اس کی حفاظت میں سیسسہ پلائی دیوار بن جاتی ہوں ۔۔ مجھے اپنی اس تفصیلی فکری گفتگو کے بعد آپ میں سے کسی کے جوابی تبصرے کی کوئی ضررورت نہیں ہے کیونکہ مجھے یقین ہو چلا ہے کہ تا حشر مسلمان اقوام ہر دن تو کیا کسی بھی ” انسانیت ڈے ” کی بنیاد نہیں رکھ سکتیں ۔۔۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. باجی اصل بات ہی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ
    یاد رکھئے مجھے آپ کی سند کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔ مجھے کسی کی طرف سے کسی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے
    ہم سب یہ کہتے ہیں ، مگر پھر دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیں کیا سمجھتا ہے ، اور جب پتہ چلتا ہے کہ وہ خود وڈا مسلمان اور ہمیں وڈا کافر سمجھتا ہے تو سب سے پہلے ہم اُسے کوستے ہیں جو ہمیں کافر کہتا ہے ، پھر خود کو کوستے ہیں کہ ہمیں پتہ ہوتا کہ دوسرے نے ہمیں کافر کیوں کہا ۔ ۔ ۔
    یہ جو دوسرے ہوتے ہیں نا وہ ہی اصل مسلہ ہیں ۔ ۔ ۔ اور دوسروں کے لیے ہم مسلہ ہیں ۔ ۔ ۔ اور سب سے بڑا مسلہ ہم مسلمان ہیں دُنیا کا ، کیونکہ ہمارا فتنہ مال ہے ۔ ۔۔ اور دوسروں کے پاس مال بہت ہے اور اللہ کی دی ہوئی عقل بھی بہت ہے ۔ ۔ ۔ انہیں ہماری کمزوری کا پتہ ہے ۔ ۔ ۔ زر زن زمین ۔ ۔ ۔ اور دوسروں کے پاس یہ سب کچھ وافر مقدار میں ہے اور ہمارے ایمان اتنے زبردست ہیں کہ بس انکے سامنے ڈھیر ہو جاتے ہیں !!!
    مجھے آج تک پتہ نہیں چلا کہ ۔ ۔ ۔ نبی ﷺ نے یہ کیوں کہا
    کہ اُس وقت تک ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک میں تمہیں دُنیا کے ہر رشتے سے زیادہ عزیز نہ ہو جاوٗں
    احمدیوں کا ہم سے جھگڑا کیا ہے ؟ محمد خاتم النبین ، اور اگر احمدی مسلمان اتنے اچھے مسلمان ہیں تو انہیں مغرب اور اسلام دشمن لوگ کیوں ہر سہولت میسر کرتے ہیں ؟

    مسلمانوں کو روز آزمایا جاتا ہے ، کبھی شعیہ سُنی کہ کر کبھی عربی عجمی کہ کر کبھی وہابی حنفی کہ کر ۔ ۔ ۔ اور ہمیں آزمانے والے کوئی اور نہیں اپنے ہی ہیں وہ ایک چائے کے کپ سے لیکر حاکم بننے تک کی رشوت وصول کرتے ہیں

    خداوندا! یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
    کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

    تو باجی ہمیں سند چاہیے کہ ہم وڈے مسلمان ہیں ، باقی ہم جو کریں وہ سب جائز ہے ، اسلام تو ہماری ڈھال ہے ۔ ۔۔

LEAVE A REPLY