شدت پسندی کے مہیب سائے کیسے دور ہو نگے ؟‌ ڈاکٹر نگہت نسیم،اشاعت مکرر‎

1
1515

آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ دنیا کے ہر معاشرے میں مذہب اور تہزیب میں شدت پسند افراد ہوتے ہیں لیکن یہ اتنے کم ہوتے ہیں کہ انہیں گنا جا سکتا ہے ۔ یعنی ملین بلین لوگوں میں صرف کچھ سو شدت پسند ہوتے ہیں جو اپنے اصولوں پر زندگی گزارتے ہیں۔ جیسے آج کے ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں کچھ لوگ سیکولر معاشروں میں جہاں شخصی آزادی اپنی انتہا پر ہے، وہاں بھی سختی سے اپنے شدت پسندانہ خیالات پر کاربند ہیں۔
پھر پاکستان اور ایسے ملک جہاں مذہبی شدت پسندی ہے ان میں کیا فرق ہے ؟؟
فرق یہ ہے کہ وہ ریاست اور نظام سے متصادم نہیں بلکہ وہ اپنے مذہبی مقامات تک ہی محدود رہتے ہیں۔
تشویش ناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ شدت پسند عناصر ریاست اور نظام پر اثر انداز ہو کر پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیں اور معاشرے میں اپنے وجود سے متعلق ایک خوف اور دہشت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔

شدت پسندی کے عوامل؛

1۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت سے ہی مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ تقسیم سے قبل اور دوران تقسیم کے سارے فسادات کے پس منظر میں قومی یا نظریاتی اختلافات نہیں بلکہ مذہبی اختلافات تھے ۔ لہذا قومی اور سیکولر ریاست کے تخیل کے مقابلے میں مذہبی حکومت کے تصور نے اکثریت کو اپنے سحر میں جکڑ لیا اور یوں آج تک پاکستان میں اٹھنے والی ہر شدت پسند تحریک اپنے مقاصد کے لیے مذہب کا نام استعمال کرتی ہے تاکہ اکثریت کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ بیرونی طاقتیں بھی پاکستان میں اپنے مقاصد اور اہداف کے لیے مذہب ہی کو آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں، اور ریاست و عوام کے خلاف بر سرِ پیکار قوتوں کی مالی سرپرستی بھی مذہب کے نام پر ہی کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک پوری معیشت وجود میں آچکی ہے۔ اب یہ جنگ محض نظریاتی دائروں کی جنگ نہیں، بلکہ مفادات اور اپنی اپنی بقا کی جنگ بن چکی ہے جس کی اتحادی اور مدمقابل قوتیں قومی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر موجود ہیں۔

2۔ کسی معاشرے کی تعلیمی پالیسی اور اس کو بروئے کار لانے والے اساتذہ نئی نسل کی ذہن سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم پاکستان میں پہلے دن سے ہی کوئی قومی اور انسان دوست تعلیمی پالیسی بنانے سے قاصر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بیک وقت کئی طرح کے نصابِ تعلیم ایک ہی طرح کے نتائج پیدا کرتے رہے ہیں۔ ہمارے اساتذہ اس تعلیمی پالیسی کی چھتری تلے مستقبل سے زیادہ ماضی کو زیادہ زیر بحث لاتے رہے، اور ہندو مسلم اختلافات، فرقہ وارانہ تعصبات اور دنیا پر حکومت کرنے کے خواب نے ایسی جنگجویانہ نفسیات کو جنم دیا جس نے معاشرے میں موجود شدت پسند عناصر کے حق میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔

3۔ ہمارے حکمران اور ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے بہت جارحانہ رہے ہیں۔ اس تعلیمی پالیسی کے زیرِ اثر تیار ہونے والی نسل کو وہ بطور ایندھن استعمال کرتے رہے۔ یوں پاکستان میں شدت پسندی کی فصل پکتی رہی اور اس سے وابستہ عناصر کو بڑھاوا ملتا رہا۔ تنگ نظری، اپنے مذہبی حریفوں سے نفرت، عدم برداشت اور جارحیت ہمارے مزاج کا حصہ بنتی رہی اور ہم دنیا سے کٹتے کٹتے اپنے خول میں بند ہوتے چلے گئے۔ آج بھی ہمارا نصابِ تعلیم رواداری، انسان دوستی اور مسلّمہ انسانی اقدار پر خاموش ہے اور ہم خطے میں امن، سلامتی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ آج بھی ہمارے نصاب کے مضامین اپنی کمزوریوں کو زیر بحث لانے کے بجائے غیر ضروری مواد سے اٹے پڑے ہیں۔

4۔ ہم اپنے نصاب تعلیم کے ذریعے تنگ نظری کا بیج بوتے رہے، جس کا نتیجہ بہرحال تنگ نظری کی فصل کی صورت میں ہی نکلنا تھا۔ آج ہمارا ایسا کوئی قومی ادارہ نہیں بچا جہاں شدت پسندی کسی نہ کسی شکل میں موجود نہ ہو۔ اب شدت پسندی کا یہ زہر ہمارے قومی وجود کی رگ رگ میں سرایت کرچکا ہے۔

5۔ مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے میں ہماری خستہ حال معیشت کا کردار بنیادی ہے جس معاشرے میں غربت کی لکیر (یومیہ آمدن2امریکی ڈالر سے کم) سے نیچے زندگی بسر کرنے والے آبادی کا 28 فیصد ہوں، وہاں نچلے و نچلے متوسط طبقات کے لئے کہاں ممکن ہے کہ وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کے لئے وسائل فراہم کریں؟ اس لئے غریب والدین اپنے بچوں کو روایتی تعلیم (مذہبی تعلیم) دلوانے کی غرض سے دینی مدارس میں داخل کروا دیتے ہیں، جہاں ان بچوں کو کھانا و رہائش مفت فراہم کیا جاتا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ ملک کے اکثر دینی مدارس دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ ملک کے لئے این جی اوز کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ یوں انہیں‌افرادی قوت بہت آسانی سے میسر ہو جاتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے این او سی دینے میں ہونے والی کوتاہی بہت سے ناخوشگوار واقعات کے رونما ہونے کا باعث بن چکی ہے۔

6 پاکستانی تاریخ کا انتہائی درد انگیز باب وہ ہے جب پاکستانی سوسائٹی اوندھے منہ شدت پسندی کے اندھے کنوئیں میں جا گری۔ دو عالمی طاقتوں نے اپنی جنگ لڑنے کے لیے اس خطے کا انتخاب کیا اور دو ہاتھیوں کی لڑائی میں اس خطے کی برداشت اور روادارانہ روایات کو کچل کے رکھ دیا گیا۔یہ جنگ یوں تو روس اور امریکا کی تھی، مگر اس جنگ میں ہم سانجھے دار بن گئے اور ہمارے معاشرے میں موجود شدت پسندی کی تمام نمائندہ قوتیں جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں متحد ہوگئیں۔ یوں پورا ملک شدت پسندوں کی آماجگاہ بن کر رہ گیا۔۔ مقامی اور بین الاقوامی شدت پسندی کے پاکستان میں اس اجتماع نے مذہبی رواداری کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر اسے دفنا دیا۔

7۔ اس سارے تناظر میں ریاستی مخصوص ذہنیت نے انتہا پسند اور شدت پسند طبقے کو اپنے مقاصد کے حصول میں معاون سمجھتے ہوئے اہم ریاستی اور سیکیورٹی اداروں تک رسائی فراہم کر کے انہیں اپنا شریکِ کار بنا لیا۔ شدت پسندوں اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں پر ایوانوں کے دروازے وا ہونے کے نتیجے میں انتظامیہ، فوج، سول اور سیاسی جماعتوں سمیت ملک کے اہم ترین اداروں میں مذہبی شدت پسند اور انتہا پسند در آئے۔ یوں‌ایک عالمی طاقت نے دوسری عالمی طاقت کے خلاف لڑنے کو مقدس فریضے کا نام دیا۔ یہی کچھ پاکستان میں ہوا کہ شدت پسند عناصر کو معاشرے کی مختلف پرتوں سے تعاون حاصل ہوتا رہا اور قومی عمارت کی بنیادوں میں شدت پسندی کا پانی رستے رستے ہمارے قومی وجود کی بنیادیں کھوکھلی ہو گئیں۔

8۔ پاکستان میں شدت پسندی کے جڑ پکڑنے کی ایک بڑی وجہ اہلِ علم اور دانشوروں کی طرف سے بوجوہ اس کو فکری اور نظریاتی سطح پر بطور ایک علمی اور فکری چیلنج کے قبول نہ کرنا بھی ہے کیونکہ افغان جنگ کے دوران ایسے دانشوروں کی حوصلہ شکنی کی گئی جنہوں نے پاکستان کی مقتدرہ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اس کے برعکس ایسے رسائل و جرائد جاری ہونے لگے جن کے سرورق کلاشنکوف، مشین گنوں اور جدید اسلحے کی تصویروں سے مزین ہوتے تھے۔ ان رسالوں اور جرائد میں چھپنے والے مواد نے سسپنس میں جاسوسی رسائل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

9۔ آج کے بعض مقبول کالم نگار جو آج دہشت گردی کے خلاف بڑی بڑی باتیں کرتے نہیں تھکتے، وہ بھی لنگر لنگوٹ کر اس ریاستی پالیسی کی حمایت کرتے رہے ہیں ۔

10۔ ۔شدت پسندی کی اس فضا کو پرواں چڑھانے اور پاکستانی معاشرے کو انتہا پسندی کے جہنم میں دھکیلنے میں سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا پورا پورا حصہ ڈالا، جو آج دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑا کریڈٹ لینے کے لیے تیار رہتی ہیں۔

11۔ شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی میں ہماری سیاسی اور نام نہاد جمہوری حکومتیں ہمیشہ ہی تذبذب کا شکار رہی ہیں کیونکہ کسی نہ کسی طرح ان کے مفادات اس طبقے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں، مثلاً ووٹ بینک اور اپنی مقبولیت برقرار رکھنا وغیرہ وغیرہ۔

شدت پسندی کے نتائج :

ناانصافی، معاشی محرومیاں، بے روزگاری، طبقاتی معاشرہ، طاقت کا جبر، ذات پات کا نظام، مذہبی گروہ بندی کا وجود، دہشت گردوں کے خلاف عدالتوں سے مؤثر فیصلوں کا نہ آنا وغیرہ وغیرہ ۔

شدت پسندی کا سد باب کیسے ممکن ہو گا ؟
حکمرانوں کو کچھ ناگزیر فیصلے کرنے ہونگے ۔۔۔

1۔ تعلیمی نصاب کو بہتر بنانا
2۔ قومی بیانیے کی تبدیلی اور ہر طرح‌ کے مذہب کو شامل تقریر کرنے سے اجتناب کرنا
3۔ خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر ملکی و قومی مفاد کے زیرِ تحت تعمیر کرنا
4۔ ریاستی اداروں کو آئین پاکستان کے تحت اپنے مقاصد تک محدود رکھنے اور اس حوالے سے جوابدہی کیلئے اقدامات ہونے چاہئیں۔ خصوصاً انتظامی مشینری اور پولیس کو ہر طرح کی سیاسی مداخلت اور دباؤ سے آزاد کر کے مطلوبہ نتائج کی فراہمی کا ذمہ دار بنایا جائے۔
5۔ قانون کی شفافیت اور بالا دستی اور وقت پر بلا امتیاز ہر فرد کوانصاف مہیا کرنا
6.مثبت سرگرِمیوں کے مواقع پیدا کئے جائیں . اور حوصلہ افزائی کی جائے . ذہنی نشونما میں خارجی ماحول کا بہت دخل ہے اس کے لئے اجتماعی طور پر ماحول کو بہتر بنایا جائے . فن اور آرٹ کی قدر کی جائے اور اسے قومی سطح پر پذیرائی ملنی چاہیئے ۔
7. بحثیت فرد اپنی زمیداریوں پہچاننا اور ایمانداری سے ایک روادار بہتر معاشرت کی تشکیل میں حصہ لینا۔

اگر یہ سب نہ کیا گیا تو جنگ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ ہوگی نہ کہ شدت پسندی کے خلاف۔ کیونکہ اگر آج ہم نے یہ جنگ نہ کی تو سماج میں گہرائیوں تک موجود منفی ذہنیت ہتھیار اٹھائے ہوئے کہیں نہ کہیں سے سر اٹھاتے رہیں گے اور مستقل اضطراب ک اباعث‌رہیں گے ۔۔۔۔۔۔

آج پاکستانیوں کو سوچنا ہو گا کہ کیا چند ہزار افراد کو شکست دینا مکمل فتح کہلائی جا سکتی ہے ۔۔۔ ؟‌

ڈاکٹر نگہت نسیم
( دیگرمضامین اور احباب کے رائے سے استفادہ)

SHARE

1 COMMENT

  1. ایک شاندار مضمون۔ آج اندازہ ھوا ھے کہ ڈاکٹر نگہت نسیم نہ صرف اپنے شعبے یعنی نفسیات کے موضوع پر اتھارٹی ہیں بلکہ ملکی و غیر ملکی سیاسی ، فوجی و سماجی میکانیات پر بھی گہرے ادراک کی حامل ہیں۔ ایک لاجواب و چشم کشا مضمون۔ ہر فکر مند پاکستانی کے ضمیر کی آواز اس مضمون کت متن سے سنی جا سکتی ہے۔ سلامتی ھو!!!

LEAVE A REPLY