انہیں ؑ پہلی فضیلت تو یہ حاصل تھی کہ وہ حضور ﷺ کے نواسے، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بیٹے تھے اور ان دوناموں میں سے ایک نام کے حامل بھی تھے جو بعض روایات کے مطابق حضرت جبر ئیل ؑ جنت سے ایک سبز کپڑے پر دو نام تحیریر تھے لیکر آئے تھے۔ جن میں پہلا نام حضرت امام حسن ؑکا اور دوسرا نام حضرت امام حسین ؑ کا تھا اور یہ دونوں نام عرب میں اس سے پہلے مستعمل نہیں تھے جبکہ حسین معنی کے اعتبار سے تما میت کو ظاہر کر تا ہے اور اردو میں اس کا کوئی متبا دل لفظ نہیں لہذا مرکب شکل میں ہی استعمال ہو تا اور جس لفظ کے ساتھ حسن لگا دیا جا ئے مثلا ً حسن تقریر، تحریر، اور تدبیر وغیرہ اور حسین اس کی نہا یت ہے(البتہ انگریزی میں اس کا متبا دل ً ایکسیلنس ً ہے جو کہ انتہا ئی درجہ کو ظاہر کرتا) ہے۔ اوران ؑکو بھی اپنی گھٹی میں حضور ﷺ کی زبان مبا رک چوسنے کا شرف حا صل ہو ا تھا۔ ان کا عقیقہ بھی حضور ﷺنے کیا اور انؑ کے سر کے بال بھی اپنے دست مبا رک سے اتا رے۔ اور علی کرم اللہ وجہہ وہ تھے جن کی پرورش حضور ﷺ نے فرما ئی لہذا ان کا شیر خوارگی میں گھٹی پلانے سے لیکر، کندھے پر ڈال کر ڈکار دلا نے تک انکے سب امور انجام دیئے۔اور ان کی والدہ حضرت فا طمہ سلام اللہ علیہا وہ پہلی بچی تھیں جن کو لوگوں نے نماز کی حالت میں حضور ﷺکی پشت پر سوار دیکھا۔ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ بچپن سے لیکر حضورﷺ کے آخری دم تک ہی نہیں بلکہ تمام رسومات ِتہجیز و تکفین تک ہر جگہ نظر آئے۔ جبکہ حسین ؑکی والدہ محترمہ کا عالم یہ تھا کہ بچوں کوبھو کا رکھتیں اور جو کچھ کہیں سے آتا وہ خیرات کر دیتیں۔یہ بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مرضی کے بغیر ناممکن تھا۔ مختصر یہ ہے کہ یہ دونوں ہی حضور ﷺ کے تقویٰ اور سنت پر عامل تھے لہذا دنیا کے لیئے نمونہ بھی۔جب تک اسلام کو اقتدار نہیں ملا تھا اس وقت تک کوئی مسئلہ نہیں تھا، کیونکہ اس دور میں تقوے کو سرا ہا جا تا تھا۔ لیکن اس کے بعد انکا وہی حد سے بڑھا ہواتقو یٰ خود ان کے لیئے ایک مشکل بن گیا؟۔ جب وہ یمن کی طرف بھیجے گیئے جہاں انہوں ؓنے اپنے کر دار سے یمن کو متا ثر کیا اور وہ را غب بہ اسلام ہوا۔ تو مسا ئل پیدا ہونا شروع ہو ئے کیونکہ ان کا تقویٰ انہیں کچھ باتوں سے روکتا تھا، اور انہوں نے اس حد تک احتیاط بر تی کہ بیت المال کے جانوروں پرسواری کر نے سے لوگوں کو روکدیا، پھر ان کے خلاف شکا یات شروع ہو ئیں،پہلی شکایت حضور ﷺکی خدمت ِ اقدس میں حضرت عبد اللہؓ بن بریدہ نے پیش کر نا چاہی تو حضور ﷺ نے فرما یا کہ“ اے عبد اللہ! اپنے بھا ئی کی برائی سے رک جا، وہ تم میں سب سے زیا دہ خدا سے ڈرنے والا ہے۔ اور یہ ہی الفاظ حضور ﷺ نے اس وقت دہرا ئے،جبکہ دو دن کے مارکوں کے بعد خیبر فتح نہیں ہو سکا، تب فر مایا کہ“ کل میں اس کو پرچم دونگا جو خدا اور رسول ﷺ کو سب سے زیادہ چاہتا ہے اور جس کو خدا اور اس کا رسول ﷺ سب سے زیا دہ چاہتے ہیں۔ اور دورِ یمن سے ہی متعلق ایک روایت حضرت سعد ؓ بن مالک بن شہی سے بھی ہے کہ میں نے جب شکا یت کر نا چاہی اور ابھی میں گفتگو کے وسط میں ہی تھا کہ حضور ﷺ نے میری ران پر ہاتھ ما رکر فرما یا “ اے عمرو ؓ اپنے بھا ئی علی ؓکے متعلق با تیں کرنے سے رک جا! خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ کے راستہ میں بہت اچھا ہے“ ایسی ہی ایک روایت عمرو ؓ بن شاس اسلمی ؓنے بیان کی ہے کہ میں جب مدینہ پہنچا تو مجھؑ سے بغض تھا، میں نے ہر محفل میں ان کی شکا یت کی کہ مجھے بیت المال کے گھوڑے پر علیؓ نے سوار نہیں ہو نے دیا۔ پھر جب میں مسجد نبو ی میں پہنچا تو حضور ﷺکے روبرو پیش ہوا حضور ﷺ کی نگا ہوں میں اجنبیت سی پا ئی! جب قریب جا کر بیٹھ گیا تو حضور ﷺ نے فرما یا کہ“ اے عمروؓ بن شاس تونے مجھے بہت اذیت پہنچا ئی ہے“تو میں نے کہا کہ حضور ﷺ میں اور آپ کو اذیت پہنچا ؤں نگا؟ انا للہ وانا علیہ راجعون ہ حضور ﷺ نے فرما یا“ جس نے علی ؓکو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی“ پھرجب وہ یمن سے تشریف لے آئے حج الوداع میں شرکت کے لیئے تو ان کے نا ئب نے کیتان کے تھان بیت المال سے لیکر فوجیوں کی وردیاں بنوا دیں اور مکہ کی طرف لیکر چلا کہ حضور ﷺ دیکھ خوش ہو نگے؟ مگر جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے وہ وردیاں اترواکر بیت المال میں جمع کرا دیں۔ یہ ہی وہ موقع تھا جہاں اچانک خم ِ غدیر کے مقام پر رک کر حضور ﷺ نے نہ صرف انکے منا قب خود بیان فرمائے۔ بلکہ دو ٹوک الفاظ میں سب پروا ضح بھی کر دیا کہ“ جنکا مولیٰ میں ﷺ ہو ں انکا علیؓ مولیٰ ہے “یہاں مولیٰ کے معنوں پر اختلاف ہے کیونکہ یہ کثیر المعنی لفظ ہے اس لیئے کہ عربی لغت میں اس کے معنی رب (مالک)،منعم،محب، ناصر، حلیف، عبد، غلام، برادر ِ نسبتی اور چچا زاد وغیرہ ہیں۔ جبکہ حدیث پر اختلاف نہیں؟ ان میں سے پہلے دو تو اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیئے مخصوص ہیں، لہذا محب کو لے لیتے ہیں جس کے معنی دوست کے ہیں اور فا رسی اور اردو دونوں میں“محب ِ من“دوست کے لیئے عام طور پر استعمال ہو تا ہے اور کوئی ایسا مسلمانو ں میں بد بخت ہی ہو سکتا ہے کہ جو کہے میں حضور ﷺ کو دوست نہیں رکھتا کیونکہ حضور ﷺکی حدیث ہے کہ جو اللہ اور مجھ سے سب سے زیادہ محبت نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے؟ جب حضرت عمر ؓ نے مزیدوضا حت چا ہی کہ کیا حضور ﷺ اپنے نفس سے بھی زیادہ؟ جواب میں فر مایا“ ہاں“
لہذا ہم اس لفظ کو صرف دوست کے معنوں میں لیتے ہیں، اور اس کا مفہوم یہ سمجھتے ہیں کہ جو مجھے ﷺ دوست رکھے وہ علی ؓ کو بھی دوست رکھے تومیرے خیال میں اس میں کسی کو کو ئی اعتراض نہیں ہو سکتا؟ کیونکہ اس کو مزید تقویت دوسری حدیث سے ملتی ہے کہ“ مومن“ ( نوٹ۔قر آن نے ہرصاحب ِ ایمان کو مومن کہاہے) علی ؓ سے محبت رکھتا اور منا فق علی ؓ سے بغض رکھتا ہے“ جبکہ یہاں پھر خم ِ غدیر میں حضور ﷺنے ان تمام احادیث کا اعادہ فرما یا جو وہ پہلے فرما چکے تھے۔ صرف اضافہ، یہ ایک حدیث تھی اور وہ یہ تھی کہ“ میں اپنی عترت کو تم پر نگرا ں چھوڑے جا رہا ہو تاوقتیکہ یہ مجھ سے حوضِ کوثر پر آکر نہ ملیں کہ دیکھوں تم ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہو “اس حدیث پر بھی کوئی اختلاف نہیں ہے، اختلاف ہے تو عترت پر اس کے بجا ئے کچھ لوگ کہتے ہیں اہلِ بیت فرمایا تھا؟ چلیئے ہم ان ہی معنو ں کو تسلیم کر لیتے ہیں؟ اب میں پو چھنا چاہونگا کہ علی،فاطمہ،حسن اور حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کیا اہل ِ بیت میں بھی شامل نہیں ہیں؟کیا حضور ﷺنے بار بار اس کا زبانی اور عملی ثبوت نہیں دیا کیا کہ فرمایا“ حسن اور حسین مجھ سے ہیں میں حسن حسین ہو ں، فاطمہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے جو اسے تکلیف پہنچا ئے اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا پہنچا ئی۔ بقیہ اگلے شمارے میں)













