گذشتہ کچھ عرصے سے موسمیاتی تبدیلیوں نے پوری دنیا کو متفکر کر دیا ہے ایسی ایسی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں جو ہماری سوچ سے باہر تھیں وہ علاقے جہاں برسوں آسمان سے پانی کی ایک بوند نہیں برسا کرتی تھی اب وہاں بارش کھل کے برس رہی ہے اور وہ علاقے جو بارشوں کے حوالے سے خوش قسمت کہلاتے تھے ان سے ابر رحمت ناراض دکھائی دیتا ہے ان موسمیاتی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ ان تبدیلیوں کا سبب حضرت انسان ہے جس کی بے احتیاطی کے باعث فضا میں بے پناہ آلودگی موسموں کے تغیر و تبدل کا باعث بن رہی ہے-
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں اپنے اردگرد
نظر دوڑا کر دیکھ لیں خواہ آپ دیہات میں بستے ہوں یا شہر میں آسمان کی طرف نظر ڈالیں تو آپ کی نگاہ صاف ستھرا آسمان دیکھنے سے قاصر ہو گی اگر یوں کہا جائے کہ آپ کی نگاہ آسمان کی ابتدائی سطح کو واضح دیکھنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گی تو بے جا نہ ہوگا کہ فضا میں موجود آلودگی آپ کی نگاہ اور آسمان کے درمیان ایک دیوار کی صورت موجود رہتی ہے سوائے ان دنوں کے جب تازہ تازہ بارش نے فضا کو دھو رکھا ہوتا ہے یہی کیفیت زمین کی ہے کہ کبھی شہروں کے باسی پختہ فرشوں، پختہ گلیوں اور پختہ سڑکوں کی وجہ سے ننگی زمین دیکھنے سے محروم رہتے تھے مگر اب یہ بیماری دیہات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے دیہات میں بھی اب کچے گھر ، کچے صحن ، کچی گلیاں اور کچی سڑکیں شاذ ہی دیکھنے کو دستیاب ہیں ہاں اتنی سہولت ضرور میسر ہے کہ اگر آپ نے زمین دیکھنی ہو تو کھیتوں کا رخ کیا جا سکتا ہے-
فضائی اور زمینی آلودگی کے ساتھ ساتھ صوتی آلودگی نے بھی ہماری سماعتوں کو از حد متاثر کیا ہے طبلہ اور ہارمونیم قابل برداشت تھا مگر جب سے پاپولر میوزک عام ہوا ہے بہت سارے احباب سماعتوں سے محروم ہو چکے ہیں – تربیت کے فقدان کی وجہ سے پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بھی صوتی آلودگی میں بھر پور کردار ادا کر رہی ہے نہ اسکول دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی اسپتال کو اہمیت دی جاتی ہے جہاں دل چاہتا ہے ہارن پہ ہتھیلی رکھ کے ہمارے ڈرائیور حضرات اسی ہارن کی لے پہ تھرکتے رہتے ہیں اور جن کی سماعتوں کو یہ صوتی آلودگی متاثر کر رہی ہوتی ہے وہ بے چارے کڑتے رہتے ہیں کہ تو تکار اور لڑائی جھگڑا شریفوں کا شیوہ نہیں ہوا کرتا مزید سہولت گلی محلوں میں ہونے والی شادیاں بہم پہنچا دیتی ہیں کہ گردونواح کے چار چار محلے اور ارد گرد کے چار چار گاوں کے بسنے والے بھی بغیر اطلاع کے آگاہ ہو جاتے ہیں کہ فلاں محلے یا گاوں کے فلاں صاحب کے بیٹے کی فلاں تاریخ کو شادی ہے جب تک یہ شادی ہو نہیں جاتی تب تک دن رات آپ مفت میں چنگھاڑ میوزک سنتے رہیئے اور سر دھنتے رہیئے –
اگر آپ مذکورہ بالا تمام آلودگیوں سے محفوظ ہیں تو انتہائی خوش قسمت انسان ہیں مگر پھر بھی آپ کو احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے اس لئے کہ آپ اتنے بھی خوش نصیب نہیں ہو سکتے کہ آپ کے گھر میں ٹیلی ویژن نہ ہو اگر یہ آلہ آپ کے گھر میں موجود ہے تو پھر بھی آپ کو از حد احتیاطی تدابیر برتنے کی ضرورت پڑے گی بغیر کسی پرہیز کے آپ ڈرامے اور کارٹون دن رات دیکھنا چائیں تو کوئی پابندی نہیں بلا خوف دیکھتے رہیئے ہاں البتہ کبھی غلطی سے بھی آپ نے کوئی نیوز چینل ٹیون نہیں کرنا وہ بھی خاص طور پر شام سات سے رات بارہ بجے اگر آپ نے ایک بار کوئی بھی نیوز چینل دیکھ لیا تو بالکل اسی طرح عادی ہو جائیں گے جیسے چرس یا ہیروئن پینے والا ایک کش لگانے کے بعد پھر بار بار کش لگائے چلا جاتا ہے-
بدقسمتی سے آپ نے نئی نویلی خبر کی جستجو میں نیوز چینل ٹیون کر لیا ہے اب آپ کی ذہنی آسودگی کو آلودگی میں تبدیل ہونے سے سوائے ریموٹ کے کوئی بھی نہیں بچا سکتا ٹیلی ویژن کی لش لش کرتی اسکرین پر کوئی نہ کوئی فواد چودھری، فیاض الحسن چوہان ، مراد سعید ، شیخ رشید ، رانا ثناء اللہ، عابد شیر علی ،میاں جاوید لطیف، طلال چودھری یا پھر حافظ حمد اللہ ضرور موجود ہو گا اگر ان محترم ہستیوں کے خیالات عالیہ سے آپ محروم بھی رہے تو چینل بدلتے رہیں کہیں نہ کہیں آپ کو مبشر لقمان ، ڈاکٹر فضا ، ڈاکٹر دانش یا پھر کوئی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جیسا ضرور مل جائے گا جو اپنے زریں خیالات اور شگفتہ گفتار سے آپ کو ذہنی آلودگی سے مالا مال کر دے گا – احتیاط یہاں بھی لازم ہے کہ ٹیلی ویژن پر کرنٹ افیئرز کے پروگرام دیکھتے ہوئے اپنے دس سال سے کم عمر بچوں کو اپنے آپ اور ٹیلی ویژن سے کوسوں دور رکھیں ورنہ ان کے نوخیز ذہن اگر اس عمر میں ذہنی آلودگی کا شکار ہو گئے تو پھر آپ ان کی اور اپنی ذہنی آسودگی کا تا دیر تصور بھی مت کیجیئے گا-
اس امر سے قطعا انکار نہیں کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنی ہے اور فضائی و زمینی آلودگی کو پھلنے پھولنے کا موقع ہر گز نہیں دینا کہ اپنے مستقبل کو ایک صاف ستھرا ماحول دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے مگر سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں جس مستقبل کے ہاتھ میں پاک وطن کی باگ ڈور آنی ہے ان کی تربیت اگر مذکورہ بالا محترم شخصیات کی آلودہ سوچ اور الفاظ کے ذریعے ہوئی تو چند سال بعد ہم کیسا پاک وطن دیکھ رہے ہوں گے-
ماضی قریب کا جائزہ لے لیں کہ گھر میں اگر بڑوں کے درمیان کسی معاملے میں تو تکار ہو جایا کرتی تھی تو اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ یہ تو تکار بچے نہ سن پائیں گلی محلے ،اسکولوں اور کھیل کے میدانوں میں بھی بزرگ خصوصا اس بات پر گہری اور کڑی نظر رکھتے تھے کہ چلتے پھرتے یا کھیلتے کودتے اگر نوجوان آپس میں الجھ بیٹھیں تو بات ہاتھا پائی اور گالم گلوچ تک نہ پہنچے ایسی لڑائیوں کے ذکر اذکار گھروں میں کرنے کی بھی شدید ممانعت ہوتی تھی مگر آج گھر گھر میں ذہنی آلودگی کا وافر سامان موجود ہے جس کی وجہ سے ذہنی آسودگی ہم سے روٹھ چکی ہے…!













