جب سے میں نے دیگر ادیان کا مطالعہ شروع کیا ہے مجھے اسلام کی عظمت پر رشک آنے لگا اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہونے لگا ۔ اور یوں یہ حقیقیت ہے کہ اللہ پاک نے لاتعداد صحیفوں کا نچوڑ اپنی آخری الہامی کتابوں میں جمع کر دیا اور پھر ان الہامی کتابوں کا سارا علم ، فکر اور عمل اپنی آخری کتاب کلام اللہ میں محفوظ کر کے اپنے اس حبیب پہ نازل کیا جس کے لئے کلام پاک میں ارشاد ہوا “ اے میرے حبیب تم اس وقت بھی تھے جب آدم مٹی اور پانی کی کیفیت کے درمیان تھا “ یعنی ابھی آدم کا خمیر بھی نہیں گوندا گیا تھا ۔
میں اکثر سوچتی ہوں کہ وہ بڑے بڑے محقیقین جو کلمہ گو تو نہیں ہیں لیکن انہوں نے اسلام پر تحقیق برسوں کی اور متعدد کتابیں شائع کیں۔ اسلام سے ان کی رغبت کی وجہ آخر کیا تھی ؟ ۔ میرا خیال مجھے جواب دیتا ہے کہ فقط اور فقط انسانیت اور احترام انسانیت ہے ۔ میں نے بہت سوچ سمجھ کر آدمیت کی جگہ انسانیت کا لفظ استعمال کیا ہے کہ ہماری مسلمانوں کی ایک غالب اکثریت آدمیت اور انسانیت کے فرق سے نابلد ہے ۔ میں کسی طویل بحث میں جائے بغیر ایک فقرے میں عام آدمی کے لئے اس فرق کو واضح کر دیتی ہوں تاکہ اگلی بات کہنے میں آسانی رہے ۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ آدمیت ایک بے جان جسم ہے اور انسانیت اس میں وہ روح ہے جو اسے متحرک ، فعال اور مفکر بناتی ہے ۔ بس اسی بنیاد پر غیر کلمہ گو اس دین مبین کی تلاش کی طرف راغب ہوئے۔
میں مانتی ہوں ان میں سے کچھ لکھنے والے ایسے بھی ہیں جنہوں نے دین اسلام اور اس کی طویل تاریخ کے ایسے گوشے بھی اجاگر کیئے ہیں جن پر ہمارے اپنے محقیقین کی بھی شاید نظر نہیں گئی ہے یا سوچتے سمجھتے ہوئے ہم نے ایسے گوشوں کو اجاگر نہیں کیا ہے ۔ میں اس کی تفصیل میں زیادہ اس لیئے نہیں جاؤنگی کہ آج بھی ہمارے مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت چونکہ اندھے مقلدین کے زمرے میں آتی ہے ۔ اس لیئے شاید وہ میرے خیالات کو حسب دستور کافرانہ کہیں گے اور مجھے واجب القتل قرار دیں گے لیکن میں کیا کروں کہ اللہ پاک قران میں خود حکم دیتا ہے کہ تحقیق کرو ، غور کرو، فکر کرو، اور کوئی بات بلا تحقیق نہ کرو۔
یہ قدرے طویل تمہید مجھے اس لیئے کرنا پڑی کہ میں گزشتہ ایک عرصے سے سوشل میڈیا ، خاص طور پر ٹیوٹر اور فیس بک پر کتنے ہی ایسے لوگوں کو نا چاہنے کے باوجود بھی پڑھ رہی ہوں جو میرے نزدیک صرف اور صرف اس لیئے مسلمان ہیں کہ انہوں نے ایک مسلمان ماں کے بطن سے جنم لیا ہے ۔ ان میں کئی ایسے بھی ہیں جن کی پانچ دس نسلیں مسلمان ہوئی ہیں ، لیکن بنیادی دینی علم حاصل کیئے بغیر یہ اسلام جیسے آخری اور اللہ کے محبوب ترین دین پر ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے نعوذ باللہ قران ان کے سامنے نازل ہوا ہو ، اللہ کے رسول کی ساری باتیں انہوں نے خود سنی ہوں ، اور دین کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینے کا اختیار کسی غیبی طاقت نے عطا کیا ہو ۔
میرا ہمیشہ سے یہ ایمان رہا ہے کہ عمل ہی وہ کسوٹی ہے جس پر آپ اپنے علم ، شعور ، فکر اور رائے کی قوت کو پرکھ سکتے ہیں ۔ یقین کیجئے ۔۔۔ آج بھی ہزاروں ایسے مسائل ہیں جن کے حل کے لئے عقل کے استعمال کی ضرورت ہے ۔ وہی عقل جسے قران نے ہر دور کا امام قرار دیا ہے ۔۔ اور عقل کا امام علم قرار پایا۔ اور علم کا بنیادی مطلب شناسائی اور آشنائی ہے کسی بڑی یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ۔ کسی پھول کی ایک پتی یا کسی درخت کے ایک پتے کی ماہیت اور اس کے پیدا ہونے سے لے فنا ہونے تک کے عمل کو جاننا علم ہے ۔ لیکن عام مسلمان کا مسلہ یہ ہے کہ جزو کو جانے بغیر کل پر اپنی رائے کو ناصرف صادر کرتا ہے بلکہ اسے حتمی بھی جانتا ہے ۔
جن سوشل میڈیا کا میں نے زکر کیا ان میں بّعض لوگ میرے ذاتی جاننے والے بھی ہیں اور میں کسی حد تک ان کے علم و عمل سے واقف بھی ہوں لیکن دوسرے کی بات کو رد کرنے کی ان کی عادت ، قوت ، اور بیماری کو دیکھ دیکھ کر مجھے خود پر غصہ اور ان پر رحم آتا ہے ۔ کاش وہ اسلام کا بنیادی مطالعہ کر سکتے اور یہ جانتے کہ اسلام دلیل کا سبق دیتا ہے ، دوسرے کی بات سننے کی تلقین کرتا ہے ، اپنی بات تحمل سے کہنے کا درس دیتا ہے اور دوسرے کی درست بات کو تسلیم کرنا ہی اسلام کا شیوہ ہے ۔ ہم کیسے منہ پھاڑ کے ایک سانس میں سارے مغرب کو کافر کہہ دیتے ہیں ۔ اگر میں یہاں کے تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کو ملنے والی مراعات ، ان ملکوں میں بیروزگار مسلمانوں کو دی جانے والی آسانیوں کا اور بزرگ لوگو ں کو ملنے والی سہولتوں کا زکر کروں تو آپ میرے دعوے کی تحقیق کئے بغیر اگلے ہی لمحے میں مجھے اسلام دشمن ، مغرب زدہ اور کافر قرار دے دیں گے ۔
میری آج کی گفتگو کا یہی کلیدی جملہ اور کلیدی فکر ہے کہ میں تسلیم کرتی ہوں حضرت عمر رض نے اپنے زمانے میں بوڑھے لوگوں کی اعانت کا نظام متعارف کروایا تھا اور مدینہ لکھی ہوئی تاریخ کے مطابق روئے زمین کی شاید پہلی فلاحی ریاست تھی لیکن یہ بے عمل مسلمان کیا مجھے بتائے گا کہ یہ سب کچھ کہاں دفن ہو گیا ۔ اور وہ ملک جو نہ تو اسلام کے نام پر بنے اور نہ یہ نعرہ لگا کہ “ جاپان کا مطلب کیا “ انہوں نے اسلام کی ساری مثبت باتیں اور سارے زریں اصول کیوں اور کیسے اپنا لیئے ۔ اور وہ کلمہ گو نہ ہونے کے باوجود ہمارے ایک دینی عالم سے بھی زیادہ باعمل انسان بن کر معاشرے کے سامنے آئے ۔ میرا جی تو چاہتا ہے کہ اس موضوع پر سلسہ وار تحریر لکھوں کہ اسلام اور مسلمان میں کیا فرق ہے لیکن آج کی گفتگو اس ایک فقرے پر ختم کرتی ہوں اور آپ سب کو دعوت فکر دیتی ہوں کہ میرے نزدیک اسلام کے اصول پر عمل کرنے والا مسلمان ہے چاہے وہ کلمہ گو ہو یا نہیں اور جو کلمہ گو ہے اس پر ایک ہزار فیصد زیادہ زمہ داری ہے کہ وہ خود کو باعمل مسلمان بنائے ۔۔
بقول باب العلم مولا علی علیہ السلام کے “ تم کو کسی کو بتانے کی ضرورت نہ پڑے کہ تم مسلمان ہو بلکہ وہ تمہیں تمہارے عمل سے پہچان کر خود اعتراف کرے کہ تم مسلمان ہو۔
دعوت فکر آپ سب کے لئے !
دین کی ساری فضیلت علم ہے یا پھر عمل
اور خدا کی بھی اطاعت علم ہے یا پھر عمل
میں نے نگہت زندگی سے اک یہی پایا ہے راز
میرے آقا کی شفاعت علم ہے یا پھر عمل
ڈاکٹر نگہت نسیم













