لزت عورت کی ہو یا کھانے کی..فائزہ عباس

0
1899

پتہ ہے… لزت جتنی بڑھا لی جائے بڑھتی….چلی جاتی ہے… اب یہ لزت عورت کی ہو یا کھانے کی… یا پھر کسی اور چیز کی…. انسان بھی لزت ہوتے ہیں…ضرورت تو ایک میں بھی ہوری ہو سکتی ہے… پر جب بات ضرورت سے بڑھ جائے تو پھر اطمینان نہیں ملتا …

… قسمت سے زیادہ…. اج کے لوگ خوف کے تابع ہیں…. اور اس سے بڑھکر حالات و واقات سے خوزدہ ڈرے سہمے الجھے… بے منزل لوگ…
جو گھوم کر بس اسی چھتری کے نیچے ا بیٹھتے ہین کہ جہاں نہ منزل ہوتی ہے… نہ سایا…

خوفزدگی کا جو بھی نام رکھ لیں… قسمت، حالات، ترجیھات،.کامیابی.. یاکچھ بھی… بہر حال ہوتا وہ چھن جانے کا خوف ہی ہے…

انسان… مرنے سے بچنے کی کوشش میں نہ جانے کب کے مرچکے ہوتے ہیں… حتی کہ انہیں خود بھی اپنے انتقال کا علم نہیں ہوتا اور جسموں کا بوجھ اٹھایے اٹھایے یہ تھکے ہارے… بے سدھ… گرے پڑے وجود جو دوسروں کے ہاتھ سے کھاتے… اوروں کے کان سے سنتے… غیروں کی زبان بولتے… اور مستعار عمل کرتے وجود کو زندی سمجھتے ہین… جبکہ زندگی ان کی اس جہالت پر ہنستی یے…. بلکہ ہنستے ہنستے وہ کہتی ہے کہ اے بےوقعتانسان تو نے خود کو بیچا بھی تو کتنا معمولی بیچا…. جا اب رو اپنی موت ہر… کہ زندگی جینے کا ہنر سیکھتے اس سے بہت پہلے تم خود کا سودا کرنے والے وہ سوداگر ہوکہ جس نے نقصان کے بدلے نقصان کیا…. اور وہ بھی ہمیشگی کا نقصان…
سیکھ چکے ہوتے… اپنا نقصان کرتے مگر ہمیشگی کی جیت خرید چکے ہوتے…

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY